Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    حمزہ عباسی کے اس بیان کے بعد میرے ذہن میں فلم کا جو خاکہ بنا ہے وہ کچھ یوں ہے؛

    صبح صبح نور ویلے ہیرو کے کمرے کا سین دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو فجر کی نماز کی تیاری میں مشغول ہے. ہیرو کی گھنی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں. ہیرو نے چٹا سفید جوڑا پایا ہے. مسجد جانے سے پہلے ہیرو سر پہ عمامہ باندھنا ہرگز نہیں بھولا.

    مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب کا بیان سنا جس میں ملک کے بدترین حالات کا زمہ دار فحاشی کو ٹھہرایا گیا تھا. خاص طور پر ان خواتین کو جہنمی قرار دیا گیا تھا جو جینز پہن کر ملک میں سیلاب لانے کی زمہ دار ہیں.

    بیان سننے کے بعد ہیرو وہیں اذکار اور تلاوت میں مشغول ہوگیا اور پھر اشراق کی نماز ادا کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا.

    گھر پہنچ کر والدہ کے ہاتھ کا ناشتہ تناول فرمایا. چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے والدہ نے سارا ناشتہ ٹوپی برقع پہن کر سرو کیا. چونکہ آواز کا بھی پردہ ہوتا ہے اس لیے والدہ نے دعا دینے کے بجائے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا.

    ناشتہ کرنے کے بعد ہیرو اپنے مدرسے روانہ ہوگیا جہاں وہ بچوں کو انتہائی شفقت اور محبت سے قرآن حفظ کرواتا تھا. عصر کی نماز سے فارغ ہو کر ہیرو گھر پہنچا، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی دو بزرگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے. ہیرو جب سلام کر کے ان کے پاس بیٹھا تو پتا چلا کہ قاری عبدالقدوس کی دختر کا رشتہ ہیرو کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے. دونوں گھرانوں کے بزرگوں نے استخارا ادا کر لیا ہے. ہیرو کے گھر کی خواتین بنت عبدالقدوس کو دیکھ آئی ہیں. لیکن چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے ہیروئین کی جھلک بھی نہیں دکھائی جا سکتی. فلم بین قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کو دیکھ کر امیجن کرلیں کہ ان کی بیٹی اور بہن کیسی لگتی ہوگی ( داڑھی ہٹا کر).

    فلم اسلامی ہی سہی لیکن ہیرو کے تو جذبات ہیں. رات عشاء کی نماز کے بعد بیان سننے میں بھی ہیرو کا دل نہیں لگ رہا تھا. بار بار قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے. ہیرو نے ذہن کو بٹانے کے لیے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتب سے ” رفع الیدین حنفی علماء کرام کی نظر میں” پڑھنے کے لیے اٹھا لی. اس کے بعد نیند نہ آنے کی صورت میں ” ٹخنے کھلے رکھنے کی تحدید” بھی پڑھنے کا ارادہ کرلیا کہ نیت کا بھی ثواب ہے.

  • محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    محمد رسول اللہﷺ کی تلواریں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں کئی تلواریں تھیں۔امام سیوطی کہتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس سات تلواریں تھیں۔ابن حجر ہیثمی نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس آٹھ تلواریں تھیں۔ ہر تلوار کا اپنا نام تھا۔ ابن سعد نے سات تلواروں کے نام نقل کئے ہیں۔

    ماثور، ذولفقار، قلعی، بتار، حتف،مخذم، رسوب

    ان میں سے تین تلواریں ۔قلعی، بتار، حتف۔ آپﷺ کو غزوہ بنی قینقاع کے مال غنیمت میں ملی تھیں۔ابن القیم نے نو تلواروں کا ذکر کیا ہے۔یوسف صالحی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس گیارہ تلواریں تھیں۔آج کل نو تلواروں کی رسول اللہﷺ کی طرف نسبت معروف ہے۔ان میں سے آٹھ تلواریں استنبول کے عجائب گھر توپ کاپی میں محفوظ ہیں۔جبکہ ایک تلوار مصر کی ایک مسجد میں ہے

    1- البتار

    البتار رسول اللہﷺ کی معروف تلوار ہے ۔
    البتّار کا معنیٰ السيف القاطع یعنی کاٹ دینے والی تلوار ہے۔
    اس کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے۔ اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے، یہ تلوار نبی ﷺ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی۔

    یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودعلیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔
    اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، ہارون علیہ السلام ، یسع علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ، یحیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔
    آج کل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی میں محفوظ ہے۔

    2- الذوالفقار

    یہ تلوار رسول اللہ ﷺ کو غزوہ بدر میں بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس کو رسول اللہﷺ ہر وقت پاس رکھتے تھے۔عاص بن وائل کی ملکیت میں تھی۔جو غزوہ بدر میں قتل ہوا۔فتح مکہ کے وقت یہ تلوار رسول اللہﷺ کے پاس تھی۔یہ تلوار بعد میں عباسی خلفاء کے پاس رہی۔
    بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تلوار حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی تلوار کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں باقی رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔
    اس تلوار کی کل لمبائی 104 سینٹی میٹر جس میں 15 سینٹی میٹر چوڑا دستہ ہے۔۔۔
    یہ تلوار بھی استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے.

    3- العضب

    (العضب یعنی تیز دھار والی)
    عضب تلوار رسول اللہﷺ کو حضرت سعد بن عبادہ نے تحفے میں دی تھی۔ روایات کے مطابق یہ تلوار غزوہ بدر سے قبل آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی۔
    اور یہی وہ تلوار ہے جو آپﷺ نے غزوہ اُحد میں حضرت ابودجانہ کو عطا کی۔ یہ تلوار مصر کے دار الحکومت قاہرہ کی ایک مسجد جس کا نام مسجد حسین بن علی ہے، میں محفوظ رکھی گئی ہے۔
    آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ ہے۔

    4-الماثور

    یہ تلوار حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر ملی تھی۔
    یہ تلوار ایک اور نام ’ماثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوارآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلوار بمعہ دیگر چند دوسرے جنگی سامان کے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرما دیئے تھے۔
    اس تلوار کا دستہ سونے کا ہے ۔اور اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے

    5- الحتف

    یہ تلوار بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔
    اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے ، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں سے بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آرہی تھی، حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر پہنچی۔
    حتف تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

    6- المخذم

    اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنےآتی ہیں۔
    اول یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اہلِ شام کےساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔
    اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    7- القضیب

    یہ کم چوڑائی والی سلاخ نما تلوار ہے۔ جو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دفاع کی خاطر تو ضرور موجود رہی ہوگی مگر غزوات میں آپ ﷺ نے اس کا استعمال نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
    تلوار پر چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
    اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال کی بنی ہوئی ہے۔
    اورآجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کاپی استنبول‘ میں محفوظ ہے۔

    8- القلعی

    رسول اللہ ﷺ کی ایک تلوار کا نام القلعی تھا، اس قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔
    تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اورتلوار کی خوبصورت میان اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
    یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔

    9- رسوب

    یہ تلوار نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی کنندہ ہے۔
    اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔
    یہ بھی استنبول میں توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

  • باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.

    ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.

    مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

  • صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    لاہور اور کراچی دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہر ہونے کے بغیر بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہیں۔

    وجوہات؟

    نئی ماحول دوست مشینری کی بجائے پرانی فاسل فیول پہ چلنے والی مشینری، اور یہ مشینری بھی موسٹلی ترقی یافتہ ممالک سے سکریپ کے معاہدوں کے بعد یہاں آتی ہے۔

    نئی گاڑیوں کی بجائے پرانے سٹینڈرڈ پہ بنی نئی یا دہائیاں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں جو کہ زہریلی گیسز خارج کرنے کا بہت بڑا سبب ہیں اور ان گاڑیوں کی ہیلتھ فٹنس چیک اپ نا ہونا، آپ لاہور کسی بھی جگہ چلے جائیں اگر آپ کو اپنے سامنے کوئی دھوئیں والی گاڑی یا رکشہ نا ملے تو سمجھ جائیں لاہور نہیں ہیں۔

    بے ہنگم آبادی جس میں سبزہ نا ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے گرد لگے پودے اتنے مفید کبھی نہیں ہو سکتے جتنے گھروں میں یا شہر سے باہر جنگل کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔

    ان سب وجوہات کی بنیادی وجہ پچھلی پوسٹ میں لکھی ہے۔ دہراتا چلوں کہ ہماری حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا چکی ہیں کہ ہم مجبوراً بیس سے تیس سال پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔

    اگر لاہور اور کراچی میں سے اوپر والے دونوں فیکٹرز کو ہٹا کر سستی بجلی پر چلنے والے کارخانے ہوں اور ان کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی ریگولیشن کرکے 2000 سے پرانی تمام گاڑیاں اور تمام سستے موبل آئلز پہ چلنے والے رکشے بند کر دئیے جائیں تو یہ شہر دو سے تین سالوں میں فضائی آلودگی میں نیچے آ جائیں گے۔

    وہیں ان شہروں میں انڈسٹریل ویسٹ کی مینجمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں کے کوالٹی کنٹرول آفیسرز کی سی وی میں ایم ایس انوائرمینٹل انجینرنگ کی ڈگری تو ہے مگر ہر مہینے سٹیل ملز اور پلاسٹک مینوفکرچنگ یونٹس سے آئے چیک ان کو آرام سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ صبح پانچ سے دن کے بارہ تک رنگ روڈ، جی ٹی روڈ اور موٹروے پر حد سے زیادہ سموگ دیکھیں گے جو کہ ان سڑکوں کے اطرف میں موجود کارخانوں کی چمنیوں کی دین ہے۔

    حالانکہ کسی بھی مہذب ملک میں بلکہ ہمارے ملک کے قانون میں بھی ایسے کارخانے یا تو شہر سے باہر لگانے کا حکم ہے یا ان کی چمنیوں سے دھواں نکلنے سے پہلے اس کو فلٹر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    اسی لئے

    آپ کبھی اسلام آباد یا ٹیکسیلا آئیں، اتنی ہیوی انڈسٹری میں نے لاہور نہیں دیکھی جتنی وہاں ہے مگر پالیوشن نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ ریگولیشن اچھی ہو رہی ہے۔

    اس وقت ہمارے ملک میں زیر استعمال مشنری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپ گریڈ کا مطلب یہ نہیں کہ چائینہ یا جرمنی سے متروک انڈسٹریل مشینری لائی جائے بلکہ جدید ماحولیاتی سٹینڈرڈ پر مشینری یہاں بنائی جائے مگر ایسے کاموں پہ ٹیکس اتنے ہیں کہ لوگ سوچنے سے پہلے توبہ پڑھتے ہیں اور پھر دہائیوں پرانی انڈسٹریل اور آٹوموبل مشنری جو کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتی ہے اس کو استعمال کرکے لوگوں کو بیمار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کچھ سال اس آلودگی کی شکایت بھارت نے بھی کی تھی کیونکہ ہمارے ائیر کرنٹ یا پھر ہوائی دباؤ کی وجہ سے یہ آلودگی قریبی بھارتی چہروں کو بھی گندہ کر رہی ہے۔

    مگر

    Zero actions are taken and will be taken.

  • "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    "ہمارے سارے سیاستدان گجنی فلم کے ہیرو ہیں” — اعجازالحق عثمانی

    چوک پر بیٹھا گدا گر، مجھے دیکھتے ہی لنگڑاتے ہوئے میری جانب بڑھا۔ "اللہ کے نام پر دے دو، ٹانگ سے معذور ہوں۔ اللہ آپکو خوش رکھے”۔ گدا گر نے قدرے جذبات سے کہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔ میں نے کہا ٹانگ کو کیا ہوا ہے۔ ماما پھلا بولا! "ہوا کچھ نہیں ، بس سیاست کررہا ہے”۔ سیاست کیا مطلب؟ میں نے حیرانی سے پوچھا ۔ "فراڈ کر رہا ہے۔ یہ معذور کوئی نہیں ہے، مانگنے کے لیے بس معذور بنا ہوا ہے” ۔ ماما پھلا اسے گھورتے ہوئے بولا۔ خیر میں نے اسے پچاس روپے کا نوٹ تھما دیا ۔ اگلے روز اسی معذور گدا گر کی ٹانگ کی بجائے بازو کی معذوری دیکھ کر مجھے اس کی سیاست سمجھ آنے لگی۔

    سیاست کا مطلب فراڈ ہی ہے، گدا گر کے بعد اس مطلب کو ہمارے سیاستدانوں نے بھی درست ثابت کر کے دیکھایا۔گجنی فلم جس کا ہیرو "شارٹ ٹرم میموری لاس” جیسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اور اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ شاید وہ بھارتی فلم پاکستانی سیاستدانوں پر بنائی گئی تھی ۔

    کیونکہ ہر سیاستدان بھول جاتا ہے کہ کل اس نے کیا کہا تھا ؟ عوام سے کیے وعدے تو سیاستدانوں کو کبھی یاد نہیں رہتے۔ اپنی ہی باتوں سے مکر جاتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان تو اپنی باتوں سے اس قدر پھرے کہ مخالفین نے ان کا نام ہی "یو-ٹرن” رکھ دیا۔ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر کہا کرتے تھے کہ جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہے۔ جب اپنی حکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو سارا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈالتے رہے۔

    حکمران جماعت یعنی ن لیگ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ زرداری، جسے لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھیسٹنا تھا ، اب اسی کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹے جارہے ہیں۔ جب تحریک انصاف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اسے عوام کی جیبوں پر ڈاکا کہا گیا۔ اور جب اپنی حکومت آئی تو گجنی فلم کے ہیرو کی طرح یہ بات بھول کر ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو مشکل معاشی فیصلہ کہا۔

    مولانا فضل الرحمان بھی گجنی بننے سے ہرگز پیچھے نہیں رہے۔ حرام اسمبلی کے نعرے شاید "شارٹ ٹرم میموری لاس” کی وجہ سے بھول چکے ہیں، آج کل اسی لیے اسمبلی میں حکمران جماعت کے ساتھ مل کر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

  • کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد

    دنیائے کرکٹ میں ریکارڈ کے انبار لگانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم آج 28 برس کے ہوگئے۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے میلبرن میں کپتانوں کے فوٹوسیشن کی تقریب اور پریس کانفرنس کے موقع پر آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے بابر اعظم کو سالگرہ کا کیک پیش کیا۔


    اس موقع پر بابر اعظم نے مختلف ٹیموں کے کپتانوں کے ہمراہ کیک کاٹا۔ آئی سی سی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی بابر اعظم کی سالگرہ اور کیک کاٹنے کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ بابر اعظم نے دیگر ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار موڈ میں اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا۔

    پاکستان میں ٹوئٹر پر بھی بابر اعظم کی سالگرہ کے حوالے سے ٹرینڈز چل رہے ہیں، جہاں مداح قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دیگر پاکستانی کرکٹرز بھی بابراعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری جانب کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ورلڈ کپ میں بہترین کاکردگی دکھانے کے لیے پر عزم ہیں ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا میں موجود کپتان بابراعظم کا کہنا ہے کہ کوشش ہوتی ہے اچھی کرکٹ کھیلیں اور 100 فیصدکارکردگی دیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پوری امید ہے کہ مڈل آرڈر ورلڈ کپ میں پرفارم کرے گا۔گزشتہ دو میچزمیں مڈل آرڈر نے اچھی کارکردگی دکھائی۔مڈل آرڈر کو ہم بیک کررہے ہیں۔نواز، افتخار اور شاداب مڈل آرڈر میں اچھا کھیل رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فینز پاک بھارت میچ کا انتظار کرتے ہیں، ہم گراونڈ میں محظوظ ہوتے ہیں۔فخر زمان کے آنے سے فرق پڑے گا۔نیوزی لینڈ سیریز جیتنے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے فاسٹ باولر متعارف کرائے ہیں۔ہمارے پاس اچھے فاسٹ باولر ہیں۔شاہین شاہ آفریدی کے ٹیم میں آنے سے فاسٹ باولر اٹیک اور مضبوط ہوگا۔ واضح رہے کہ کپتان بابر اعظم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا کے شہر میلبورن پہنچ چکے ہیں۔

  • ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!

    ضلع تلہ گنگ کا قیام۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    تلہ گنگ ضلع کا قیام جوکہ تلہ گنگ و لاوہ کی عوام کا دیرینہ اور دلی مطالبہ رہا ہے مختلف ادوار میں ضلع بنانے کے وعدے وعید کیے مگر بدقسمتی سے وفا نہ ہوسکے، بالآخر فرزندِ تلہ گنگ ایم پی اے حافظ عمار یاسر نے تلہ گنگ ضلع کا سہرا بھی اپنے سر سجا کر بازی جیت لی، جس پر محسنِ تلہ گنگ چوہدری پرویز الٰہی اور فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ ایم پی حافظ عمار یاسر خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے تلہ گنگ ضلع کی باقاعدہ منظوری اور اعلان کے بعد اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ خوشی سے جھوم اٹھے، ہر طرف جشن کا سماں ہے، لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کررہے ہیں، دوسری جانب ایم پی اے حافظ عمار یاسر کے استقبال کےلیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، شہر بھر میں پوسٹر اور بینرز آویزاں کیے جارہے ہیں، اس موقع پر اہلیانِ تلہ گنگ و لاوہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کا فقید المثال استقبال کریں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ضلع تلہ گنگ کو ایک خودمختار ضلع بنانے اور دیگر انتظامی معاملات کےلیے مزید دلجوئی سے کام کرسکیں، کیونکہ تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دلوانے کے بعد اصل کام تو اب شروع ہوگا جس کے لیے ہم سب کو متحد ہوکر حافظ عمار یاسر کا زور بازو بننا ہوگا تاکہ ہم تلہ گنگ کو جلد از جلد ایک خود مختار ضلع بنانے میں کامیاب ہو سکیں، تلہ گنگ کو ضلع کو درجہ دلوانے کے بعد حافظ عمار یاسر کا نام یقیناً تلہ گنگ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا اور یاد رکھا جائے گا، وہ کام جو بڑے بڑے سردار مل کر نہ کرسکے وہ اکیلے حافظ عمار یاسر نے کر دکھایا جوکہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، حافظ عمار یاسر نے تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دلوا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اپنی دھرتی سے مخلص ہوں اور آپ کی نیت صاف ہو تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی آپ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، میں اس پرمسرت موقع پر حقیقی فرزندِ تلہ گنگ و بانی ضلع تلہ گنگ ایم پی اے حافظ عمار یاسر اور محسنِ تلہ گنگ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نہ صرف شکریہ ادا کرتا ہوں بلکہ دھرتی کے ان مخلص سپوتوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے رب تعالیٰ غازیوں اور شہیدوں کی اس دھرتی کو امن و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ آمین

  • جیمز ویب دوربین  نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب دوربین نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطا بق زمین سے 5000 ہزار نوری سال کے فاصلے موجود ستاروں کے اس جوڑے کو ’وولف-رایٹ 140‘(WR 140) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی ایک نئی تصویر ایک قابل ذکر کائناتی منظر کو ظاہر کرتی ہے: ستاروں کے جوڑے سے کم از کم 17 مرتکز دھول کے حلقے نکلتے ہیں۔ زمین سے صرف 5,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ جوڑی اجتماعی طور پر وولف-رائٹ 140 کے نام سے مشہور ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب بھی یہ دونوں ستارے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو ایک دائرہ بنتا ہے۔ ستارے جو گیس خارج کرتے ہیں وہ آپس میں ٹکراتی ہیں، دوسری گیس کو دباتی ہے اور اس عمل سے گرد پیدا ہوتی ہے اور یوں گرم گرد کے ہالے نما دائرے وجود میں آتے ہیں۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    ستاروں کا مدار ان کو ہر آٹھ سال میں ایک بار ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور درخت کے تنے میں پائے جانے والے چھلوں کی طرح بننے والے غبار کے یہ دائرے اس عمل کے وقوع پزیر ہونے کی تعداد کا تعین کرتے ہیں۔

    نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی NOIRLab کے ایک ماہرِ فلکیات ریان لاؤ کے مطابق جاری کی گئی تصویر میں جاری ستاروں کے گرد و غبار کے پیداواری عمل کا ایک صدی سے زائد کا عرصہ دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کتنی حساسیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل زمینی ٹیلی اسکوپس سے صرف گرد کے دو چھلے دیکھے جا سکتے تھے لیکن اب کم از کم 17 چھلے دیکھے جاسکتے ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!

    ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!

    ہم شرمندہ ہیں۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    گزشتہ دنوں ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ان کے آفس میں گپ شپ ہوئی، منیر احمد اعوان کا تعلق چکوال کی تحصیل کلر کہار کے علاقے بوچھال کلاں (سرکلاں) سے ہے، جوکہ اس وقت کراچی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں اپنے فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہیں، کسی کام سے جانا ہوا تو کہنے لگے بیٹھو بیٹا بہت عرصے بعد اپنے علاقے کے کسی بندے سے ملاقات ہوئی ہے، گپ شپ شروع ہوئی تو علاقائی سیاست کے بارے جاننے لگے، موجودہ سیاسی صورتحال بارے بتایا تو بے ساختہ کہنے لگے بیٹا تلہ گنگ کو تو آپ کے وڈیروں نے گجراتیوں کی رکھیل بنا کے رکھ دیا ہے، یقین کریں ان کی یہ بات سن کر سر شرم سے جھک گیا، کہا سر بلکل آپ درست فرما رہے ایسا ہی ہے، سوائے اس کے بھلا اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔ اب ہم جو کہنا شروع کر دیں کہ ہم کوئی غلام ہیں تو ہاں واقعی ہم غلام ہیں، کیا ہمارے علاقے میں کوئی بھی ایسا سیاسی لیڈر موجود نہ تھا جو علاقے کی باگ ڈور سنبھال سکتا، یا خود ملی بھگت کرکے ہمارے اوپر گجراتیوں کو مسلط کیا گیا ہے اور ہمیں غلام بنانے کی کوشش کی گئی، ہمارے حلقے کے ایم این اے چوہدری سالک حسین صاحب وہ ہیں جوکہ ایم این اے منتخب ہونے کے بعد بمشکل دو یا تین مرتبہ ہی تشریف لائے ہوں گے وہ بھی کسی خاص ایونٹ یا اپنے کسی من پسند شخصیت کی شادی یا فوتگی پر تشریف لائے ہوں گے، حلقے کے 80 فیصد عوام اپنے ایم این اے کے نام سے ہی واقف نہیں ہیں، بہرحال کسی پہ کیا گلہ شاید ہم ہیں ہی اسی قابل اور یہ سب ہمارے اپنوں کا کرتا دھرتا ہے، آج سے کچھ عرصہ پہلے جب سینئر صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر صاحب نے کہا تھا کہ تلہ گنگی کہا کرتے تھے کہ ہم اپنی پگ کسی اور کو نہیں دیں گے آج انہوں نے اپنی پگ گجراتیوں کے قدموں میں رکھ دی ہے، تو اس وقت ہمارے کچھ دوستوں نے بہت غصہ کیا تھا کہ ایاز امیر نے انتہائی لغو بات کی ہے حالانکہ انہوں نے حقیقت پر مبنی سچ بات بیان کی تھی، بدقسمتی سے ہمیں سچ سننے کی عادت ہی نہیں تبھی سچی بات کڑوی لگتی ہے، آج ہمارے حلقہ این اے 65 موجودہ حلقہ 59 کا کوئی والی وارث نہیں، پورا حلقہ مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، ق لیگ ظاہری طور پر تقسیم کے نام پہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے، ایم این اے چوہدری سالک حسین نے حلقے سے بلکل اظہارِ لاتعلقی کردیا ہے، جبکہ دوسرا دھڑا جن کی پی ٹی آئی کے اشتراک سے پنجاب میں حکومت ہے سے تعلق رکھنے والے وزیراعلٰی پنجاب کے قریبی ساتھی ایم پی اے حافظ عمار یاسر لاہور جاکر بیٹھ گئے ہیں موصوف کا دل بھی تلہ گنگ میں اب کم ہی لگتا ہے، انہوں نے عوام کو بیوقوف بنانے کےلیے تلہ گنگ اپنی رہائش گاہ میں ایک سیکرٹریٹ بنا رکھا ہے جہاں پر ان کے بٹھائے گئے نوسرباز جانشین عوام کو ذلیل و رسواء کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے، عوام اپنے مسائل کے حل کےلیے نام نہاد سیکرٹریٹ کے چکر لگا لگا کر خود ہی تنگ آکر گھر بیٹھ جاتے ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں، عملہ نہیں، مشینری نہیں، لوگوں کے گھروں میں پانی، بجلی اور گیس نہیں، روڈز اور گلیاں نہیں مگر کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے، مسائل کے ان انبار میں عوام کو ضلع کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے، اب گجراتی جب چاہیں گے ہمیں ضلع دیں گے ورنہ ان کی مرضی یونہی عوام کو ترساتے رہیں گے ہم کر ہی کیا سکتے ہیں، ہمارے وڈیروں میں اتنی تپڑ نہیں کہ اپنی عوام کے حقوق کےلیے آواز اٹھا سکیں اور اپنا حق لے سکیں ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے پہ لگا ہے عوام جائیں بھاڑ میں، بہرحال عوام تو پھر بھی روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرلیں گے، مگر ہمیں غیروں کے حوالے کرکے غلام بنانے کی جو ناکام کوشش کی گئی ہے، اس پر ہم ہمیشہ شرمندہ رہیں گے، اپنے آپ کو کوستے رہیں گے اور لوگوں کے طعنے سنتے رہیں گے، اب بھی وقت ہے اپنے حق کےلیے اٹھ کھڑے ہوں اور ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر علاقے سے اپنا حقیقی عوام دوست نمائندہ منتخب کرکے اپنی آنے والی نسلوں کو اس غلامی سے بچا لیجئے، تلخ الفاظ کےلیے معذرت خواہ ہوں، اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین