Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شیخوپورہِ  پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا

    شیخوپورہِ پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب کا خواب چکنا چور کردیا سینکڑوں طالبات ٹیچرز کے ناروا سلوک کی وجہ سے گھر بیٹھ گئی ہیں طالبات اور والدین نے پرنسپل اور سٹاف کی سفاکیت کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی وزیراعلی ہمیں انصاف دو ہماری تعلیم میں حرج ہو رہا ہے جب میڈیا نمائندگان نے موصوفہ سے رابط کیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا اساتذہ طالبعلم کے روحانی والدین ہوتےہیں لیکن جب عہدے کا خمار ہو تو وہی شیطانی روپ لے کر بچوں کے مستقبل کےساتھ کھلواڑ پر اتر آتے ہیں ایسا ہی کارنامہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی بدزبان اور انسانیت سے عاری پرنسپل نے درجنوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر طلبہ کی نہم کلاس میں رجسٹریشن کروا کر درجنوں طلبہ کو سکول سے نکال کر ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا موجودہ پرنسپل کے ہوتے بچیوں کی تعداد 900 رہ گئی جبکہ پہلے 1400 کے قریب تھی وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب اور انرولمنٹ ان گورنمنٹ سکولز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں بااثرسیاسی پرنسپل کی گردن میں طاقت کا ایسا سریا پڑا ہے کہ نکالے گئے طلبہ کے والدین نے جب پرنسپل سے نکالنے کی وجہ پوچھی تو موصوفہ دھمکیوں پر اتر آئی سینکڑوں والدین اور طالبات نے پرنسپل کے رویہ اور بچوں کے مستقبل کے خوابوں کو تعبیر ملنے سے پہلے ہی روند دینے والی سفاک پرنسپل کے خلاف احتجاج کرتے ہوِئے وزیراعلی پنجاب وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نہم کلاس میں رجسٹریشن کروائی جائے اور ایسی پرنسپل جو تعلیم دشمن پالیسیاں اپنا رہی ہے اس کو فی الفور نوکری سے برطرف کیا جائے اور عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے کردار سازی ضرور کی جائے

  • خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو .تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو .تجزیہ :شہزاد قریشی

    مہنگائی،بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں اضافہ،ذمہ دار کون،تجزیہ :شہزاد قریشی
    سیاسی گلیاروں میں ان دنوں ہاہا کار مچی ہے۔ دھڑا دھڑ آڈیو اور ویڈیو سامنے آرہی ہیں۔۔ سیاستدان اسے ایک دوسرے کیخلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ اگر عمران خان جذباتی ہیں تو شہبازشریف بھی جذباتی انسان ہیں۔ ایک سابقہ وزیراعظم ہیں اور دوسرے موجودہ وزیراعظم۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ دونوں کی آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ ایک پورے لائو لشکر کے ساتھ مرکز میں حکومت کر رہے ہیں اور دوسرے صوبوں میں حکومت کر رہے ہیں۔ دونوں کو سیاست سے فرصت نہیں ملتی عوام کو چوروں، ڈاکوؤں، منشیات فروشوں، لینڈ مافیا کے سپرد کر گیا ہے۔ مرکز کی پولیس کو پروٹوکول اور عمران کے خلاف مقدمات بنانے کی فرصت نہیں جبکہ پنجاب میں من پسند ،سفارشی پولیس افسران کو تعینات کرنے میں عوام کو وزیراعلیٰ اور ان کے ہمنوا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

    راولپنڈی انتہائی حساس ترین شہر ہے یہ شہر بھی اب محفوظ نہیں دن دہاڑے، ڈکیتی، قبضے، سرعام منشیات فروشی۔ اس حساس ترین شہر کا مقدر بن چکی ہیں۔ انقلابی باتیں کرنا بہت اچھی بات ہے مگر ان باتوں کا عوام کیا کرے اگر قوم سکھ کا سانس نہیں لیتی تو ان انقلابی نعرے اور باتیں کرنے والوں کو اپنے انجام کی خبر ہونی چاہئے۔ پنجاب میں تھانوں کی بولیاں لگ رہی ہیں تجربے کار اور کرائم پر کنٹرول کرنے والوں کو پولیس لائن جبکہ سیاسی پشت پناہی اور ناتجربہ کار لوگوں کو ان کی من مرضی کے تھانوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان ہیروئن اور آئس کے عادی بن رہے ہیں۔ مہنگائی بیروزگاری کی وجہ سے جرائم میں بلاشبہ اضافہ ہو رہا تاہم پولیس کی بھی کوئی ذمہ داری ہے۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں بڑھتے ہوئے سنگین جرائم کو دیکھ کر یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ پنجاب حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ بلاشبہ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا علاج ممکن نہیں یہ مایوسی ہے اور مایوسی گناہ ہے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو روانہ کیا کہ وہ گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے دن رات ایک کریں گزشتہ رات گئے میں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں جاگ رہا ہوں اور کام کر رہا ہوں گزشتہ حکومت نے ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا تھا تھوڑا وقت درکار ہے امید ہے ملک کی معیشت بحال ہو جائے گی قوم مایوس نہ ہو قوم کے بنیادی مسائل اسی وقت حل ہونگے جب معیشت مستحکم ہوگی۔ قارئین خدا کرے ملکی معیشت بحال ہو مایوس چہروں پر رونق دوبارہ آئے عوام سکھ کا سانس لیں۔ عوام کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات زندگی کی خرید و فروخت میں آسانی پیدا ہو۔

  • فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ’اکاؤنٹس سینٹر‘ نامی فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے اور جلد ہی اسے عام صارفین میں بھی متعارف کرایا جا سکے گامذکورہ فیچر کے تحت اب صارفین فیس بک یا پھر انسٹاگرام کی ایپلی کیشن کے ذریعے دونوں ہی سوشل سائٹس کو استعمال کر سکیں گے۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    نئے فیچر کے تحت ابتدائی طور پر صارفین کو کسی بھی ایک ایپلی کیشن پر اپنے تمام اکاؤنٹس کو ایڈ کرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ ایک ہی ایپ پر رہتے ہوئے دونوں ایپس کو استعمال کر سکیں گے۔


    یعنی اگر کوئی فیس بک استعمال کر رہا ہوگا تو وہ اسی پر انسٹاگرام آئکون کو کلک کرکے وہیں پر ہی انسٹاگرام پر جا سکے گا اور وہیں سے وہ پوسٹ بھی کرنے کے اہل ہوگا جب کہ صارف کو ایک ہی ایپلیکیشن پر دونوں ایپس کے نوٹیفکیشن بھی موصول ہوں گے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا…

    نئے فیچر کے تحت صارفین کومزید اکاؤنٹس بنانےکی اجازت بھی ہوگی اورصارفین تمام ہی اکاوٗنٹس کوایک ہی ایپلیکیشن کےذریعے کنٹرول بھی کر سکیں گےعلاوہ ازیں مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو اپنے تمام اکاؤنٹس کی معلومات الگ الگ بھی فراہم کی جائےگی اور صارف اپنی مرضی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرسکیں گے۔

    فیس بک کا مذکورہ فیچر ٹوئٹر کے ’ٹوئٹ ڈیک‘ سے ملتا جلتا ہے، جس کے ذریعے صارفین بیک وقت بہت سارے اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

    9 سالہ طالبہ نے آئی او ایس ایپ تیار کر لی

  • مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    اگر آپ کی بیٹی آپ کو کہتی ہے کہ وہ اپنے فون پہ اپنے کسی مرد ٹیچر سے روزانہ یا ہفتہ وار بات کر رہی ہے تو اس پر نگرانی شروع کریں اور اس مرد ٹیچر کو پہلی فرصت میں بلاک کروائیں.

    ایک استاد کے لئے کسی طالب علم کو متاثر کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اگر یہ کم عمر بچیاں ہوں تو بات بالکل حلوہ بن جاتی ہے موبائل فون آنے کے بعد سے انکے لئے نو عمر بچیاں آسان شکار بن چکی ہیں.

    یہ لوگ آسان شکار کی تلاش میں کم عمر بچیوں سے روابط بنانے سے نہیں جھجکتے حالانکہ ان کی بیٹیوں کی عمریں بھی ان بچیوں جتنی ہی ہوتی ہیں.

    اور مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی بات کر رہا ہوں لیکن،

    پاکستان میں مرد ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو اپنے لئے ایک آسان شکار سمجھ کر انہیں پھنسانے کے چکر میں رہتے ہیں. اور ایسے کئی کیسز میں اپنے سامنے دیکھ چکا ہوں اسلامیات کا ٹیچر، اخلاقیات کا ٹیچر، بائیو کا، فزکس کا غرضیکہ سبجیکٹ کا نام لیں میں کردار بتا دوں کہ فلاں جگہ فلاں ٹیچر کو اپنی فیمیل سٹوڈنٹ سے غلط تعلقات بناتے ہوئے دیکھا ہے.

    ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی حرکت پہ شرمندہ تک نہیں ہوتے ہیں اور پکڑے جانے پہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قصور بچی کا ہے انکا نہیں اور انکے کولیگ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرواتے کیونکہ بعد میں انکے پول بھی وہ شخص کھول سکتا ہے.

    بے غیرتی کی اس کیٹیگری میں عمر کا بھی کوئی پیمانہ نہیں ستر سال کے مذہبی ٹیچر سے لیکر 20-30 سال کے لبرل نوجوان ٹیچر تک سب اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں.

    اس لئے اپنی بچی کے منہ سے اگر آپ کسی مرد ٹیچر کی ضرورت سے زیادہ تعریف سن رہے ہیں، بچی ہر روز اور ہر وقت اسکی تعریف کرتی ہے اور اس کے آپکی بچی پہ احسانات بھی ہو رہے ہیں اور موبائل سے روابط بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ ٹیچر کسی شکار کی تلاش میں ہو سکتا ہے.

    ہمارے معاشرے کا یہ شرمناک پہلو جس دن دیکھا اس دن مجھے حد سے زیادہ افسوس ہوا مگر یہ ایک حقیقت ہے حتیٰ کہ کولیگ ٹیچر بھی جانتے ہیں کہ کس ٹھرکی کی آجکل کس سٹوڈنٹ پہ نظر ہے اور وہ اس کو آفس میں کب بلا رہا ہے.

    ہمارے ہاں اس ٹاپک کو ٹابو سمجھا جاتا ہے اور مائیں بچیوں کو نہیں بتاتی کہ آپ سے کیسی حرکت بیہودہ ہوسکتی ہے اور کیسے اگلے شخص کو لمٹس میں رکھنا چاہیے مگر یہ باتیں بچیوں کو سمجھانا بہت ضروری ہیں اس سے پہلے کہ وہ کسی کا شکار بنیں.

    اس تحریر کا مقصد سب ٹیچرز کو برا بھلا کہنا ہرگز نہیں، ہر مرد ٹیچر ایسا ہو ضروری نہیں، مگر میں نے چند ہی شریف مرد ٹیچر دیکھے ہیں مجارٹی کا سکینڈل ضرور دیکھ رکھا ہے اور یہ باتیں میرے ذاتی مشاہدے کی ہیں سو اس کی بنیاد پہ اپنا مؤقف بتا رہا ہوں۔ آپکا میری رائے سے یا میرا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

  • جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    ‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

    لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

    اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

    ‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

    کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

    ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

    ‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

    ‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

    البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

    سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

    جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

    انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

    اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

    اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

    تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

    پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

    چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

    ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا.

    آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

    نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

    اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

    اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

    بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

    ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

    الحمد للہ رب العالمین ۔

    تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

  • سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے سیکیورٹی نقص کی خود نشاندہی کرتے ہوئے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی ایپلیکیشن میں سیکیورٹی نقص سامنے آیا تھا جس کو دور کر کے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی گئی ہے۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    کمپنی کا کہنا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے گوگل پلے اسٹور یا آئی او ایس اسٹور سے نئی اپ ڈیٹ حاصل کرلیں تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    واٹس ایپ ترجمان کے مطابق نئی اپ ڈیٹ جاری کرنے کے بعد صارفین کے موبائل میں انسٹال سافٹ ویئر (ایپلی کیشن) خود بہ خود اپ ڈیٹ ہوجائے گی تاہم اگر ایسا نہ ہو تو نئی اپ ڈیٹ کو آفیشل اسٹورز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس سے قبل بتایا تھا کہ واٹس ایپ کے سیکیورٹی سسٹم میں ایک کوڈ کے نقص کی وجہ سے ہیکرز میل ویئر، اسپائی ویئر یا اس طرح کے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز کسی بھی صارف کے اسمارٹ فون میں انسٹال کر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ہیکرز ایک کال یا ویڈیو کی مدد سے کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ ہیکر کرسکتے ہیں جو بڑے خطرے کی بات ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    یا د رہے کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نطر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بِیٹا انفو (WABetaInfo) کا کہنا تھا کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 استعمال کرنے والے صارفین 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    آئی فون کے ماڈل 5 اور 5سی کے صارفین اگر اپنے فون پر واٹس ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے فون کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ 24 اکتوبر کے بعد صرف آئی او ایس 12 پر ہی واٹس ایپ میسر ہوگا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے جاری بیان میں ایپل کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بیشتر صارفین کو اس اپ گریڈیشن سے کوئی مسئلہ نہیں گا-

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے 89 فیصد صارفین آئی او ایس 15 استعمال کر رہے ہیں یا اپنے فون کو آئی او ایس 15 پر اپ گریڈ کرلیا ہے اب صرف 4 فیصد آئی فون صارفین ہی آئی او ایس 13 یا اس سے پہلے کا ورژن استعمال کررہے ہیں۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

  • مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مافیا راج ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ بالخصوص روشنیوں کا شہر بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے موت کا شہر بن چکا ہے۔ حکومت پیپلزپارٹی اور اتحادی ایم کیو ایم کی۔ پنجاب کا ہر دوسرا شہر سہراب گوٹھ بن چکا ہے، حکومت ق لیگ اور پی ٹی آئی کی۔ اسلام آباد قبضہ مافیا اور ڈاکوئوں کی زد میں، حکومت پی ڈی ایم کی۔ اسی طرح کی صورتحال دوسرے صوبوں کی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ملک اور قوم کی حفاظت کون کرے گا؟ کھوکھلے نعرے اور دعوے کرنے والے سیاستدانوں کو اس ملک کی سالمیت اور عوام کے مسائل نظر کیوں نہیں آتے؟ آج اسلام آباد اور راولپنڈی دوسرا کراچی بنتا جا رہا ہے لیکن کیا کہا جائے جب پولیس کے اعلیٰ افسران کے یارانےجرائم پیشہ اورمافیا سےہوں اورپشت پناہی سیاستدان کرتےہوں تو پھرملک وقوم کی حفاظت کون کرے گا؟ کراچی میں سیاستدانوں کو جگانے کے لئے اور کتنی لاشیں درکار ہیں؟ اسلام آباد کے شہریوں کو قبضہ مافیا اور ڈاکوئوں سے نجات دلوانے کے لئے اعلیٰ پولیس افسران کو کون سمجھائے گا؟ اسلام آباد پولیس کے دفاتروں میں قبضہ مافیا کا راج ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی تحصیل سہراب گوٹھ بن چکی راولپنڈی شہر منشیات فروشوں اور قبضہ مافیا کے نرغے میں ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پنجاب میں زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز کا دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ سول انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم ہائوس ریاست کا دفتر ہے وہاں سے آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ کیا کوئی ادارہ ہے جو اس ریاست اور عوام کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار اداکرے؟ دنیا تبدیل ہو رہی ہے-

    تیز رفتار دنیا کی اس دوڑ میں ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہم بے گناہ شہریوں کو بچانے، مصائب کے خاتمے، قدرتی آفات اور دیگر انسانی بحرانوں کے خاتمے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ قائد کے پاکستان اور اس بے گناہ عوام سے کیا غلطی ہو گئی جس کی یہ سزا بھگت رہے ہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم جذبات اور احساسات کے قبرستان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکمران اور سیاستدان اور ملک کی رولنگ ایلیٹ بے حس ہو چکی ہے۔ جمہوریت، قانون کی بالادستی، پارلیمنٹ کی بالادستی ، آئین کی حکمرانی، طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگانے والوں سے سوال ہے کہ کیا یہ طرز حکمرانی ہے؟ ایسے طرز حکمرانی کو مافیا راج تو کہا جا سکتا ہے جمہوری دور نہیں۔

  • ڈیرہ غازیخان- پروفیسرشعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی

    ڈیرہ غازیخان- پروفیسرشعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (شہزاد خان ) پروفیسر شعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی۔
    الحمرا آرٹ گیلری لاہور میں پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےعالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے تاریخی ورثہ کے موضوع پر دو روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔پنجاب لیول کی اس نمائش میں جنوبی پنجاب سے ڈیرہ غازی خان کے پروفیسر شعیب رضا نےحصہ لیا ، پنجاب کے خوبصورت ورثہ کے حوالے سے ان کی تین تصاویر کا انتخاب کیا گیا جن میں ایک تصویر ملتان کی تاریخی انگریز دور کی عمارت گھنٹا گھر کی ہے۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد 1884 میں رکھا گیا تھا، یہ عمارت ہر دور میں سیاحوں کے لیے پر کشش رہی ہے اور آج بھی ملتان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح قلعہ ملتان کے ساتھ اس عمارت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں پروفیسر شعیب رضا کی اٹک خورد کے انگریز دور کے ریلوے اسٹیشن کی تصویر پوری نمائش میں خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اس تصویری نمائش میں پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز نے حصہ لیا اور عوام کی خاصی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا، اس نمائش کے انعقاد کا سہرہ پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن عثمان قریشی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز کو موقع دیا کہ وہ اپنی بہترین تصاویر نمائش میں پیش کریں ۔ ایسی تصویری نمائشوں سے پرانے فوٹو گرافرز کی پذیرائی ہوتی ہے اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، پروفیسر شعیب رضا نے کہا کہ ایسی تصویری نمائشیں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونی چاہیئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایسی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور فوٹوگرافی کے آرٹ کوفروغ ملے۔

  • کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری

    کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری

    باغی ٹی وی : کندھکوٹ ( نامہ نگار) سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان علامہ سعد حسین رضوی کی حکم پر تحریک لبیک گمبٹ کے رہنمائوں کی جانب سے پی اے سیکریٹری گمبٹ کے گائوں خانڑ ناریجو اور دیگر گائوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری
    تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں گمبٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں میں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستر کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ میں بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک کے سرپرست اعلیٰ علامہ تاج محمّد ضلع امیر قادری برکت علی میمن حفاظ امیر احمد ناریجو نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رانی پور اور گمبٹ کے مختلف علاقوں میں راشن اور فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے امیر قادری برکت علی میمن نے کہا کہ راشن اور فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر کہانے پینے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-

    باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا


    اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

    نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔


    ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔

    امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں

    ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

    گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا