Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    سوشل میڈیا کو گٹر بنانے والے چوڑے اور احسان فراموش خان!!! — زوہیب علی چوہدری

    عمران خان اور ان کے مداحوں کو ریس میں اکیلے دوڑنے کا شوق ہے وگرنہ جتنی تنقید عمران خان سے پہلے اور دیگر سیاستدانوں اور حکمرانوں پر ہوئی ہے عمران خان پر اس کا عشر عشیر بھی تنقید نہیں ہورہی، لیکن اہلیانِ عمران خان کو درد ذہ سب سے زیادہ ہے۔

    اہلیان عمران خان, میں تو یہی کہوں گا ورنہ ان کو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کس گھٹیا لقب سے یاد کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے اور یہ کہ وہ قطعی پارلیمانی اور صحافتی اقدار کے خلاف ہے جبکہ ہماری تربیت ہمیں اس برے فعل سے ہمیشہ روکتی ہے۔

    جی تو اہلیان عمران خان کو نجانے کیوں یہ خبط سوار ہوگیا ہے دماغ پر کہ خان صاحب کا پسینہ عطر خاص ہے اور خان صاحب دنیا کے ہینڈسم ترین اور معصوم عن الخطاء انسان ہیں, او بھئی نکل آؤ اس سحر سامری سے اور غلو و انتہا پسندی سے بچو ورنہ جب بت پاش پاش ہوتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے کی آواز اور تکلیف تادم مرگ پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    خان صاحب سب کچھ بہت اچھے سے جاننے کا دعوی کرتے ہیں مطلب دنیا کی جس چیز, جس جگہ اور جس شخص کا نام لے لو جھٹ خان صاحب فرماتے پائے جاتے ہیں کہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا لیکن افسوس صد افسوس کہ خان صاحب بنیادی اخلاقی اور تعمیرِ کردار کی بابت کچھ نہیں جانتے اور یہی ان کا مشن ہے کہ قوم کی نوجوان نسل بھی ان اصولوں سے بہرہ ور نہ ہوسکے۔

    کوئی خان صاحب سے جتنا بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر سوال کرلے, اہلیان عمران خان کی دم پر نجانے کہاں سے نادیدہ پاؤں دھرا جاتا ہے کہ پھر گھنٹوں بلکہ دنوں تک سوشل میڈیا پر نحیف سی چیاؤں چیاؤں سننے کو ملتی رہتی ہے اور سوشل میڈیا والز پر آؤ تو لگتا ہے کہ گھر کا فلش اوور ہوگیا ہو اور چہار سو بول و براز پھیلا ہو۔

    چلیں حامد میر, سلیم صافی, غریدہ فاروقی اور ثناء بچہ کی حد تک اہلیان عمران خان کہہ سکتے ہیں کہ یہ بغض عمران میں مبتلا ہیں اور لفافہ لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن مبشر لقمان صاحب پر پی ٹی آئی اپنی گھٹیا کیمپین کو کس طرح جسٹیفائی کرسکتی ہے؟

    2014 کا سارا دھرنا اور اس وقت خان صاحب کو ملی میڈیا ہائپ میں 90% تک مبشر لقمان صاحب کا ہاتھ تھا۔ بہت سے میرے جیسے لوگ تب عمران خان کی طرف راغب ہوئے تو اس میں مبشر لقمان اور اے آر وائے نیوز پر ان کے پروگرام کھرا سچ کا بہت اہم کردار تھا۔۔۔ مطلب خان صاحب کی تمام تر سیاسی جدو جہد کو اگر 2014 سے پہلےاور بعد میں تقسیم کریں تو پہلے کی کارکردگی اور شہرت کے مقابلے میں بعد کی کارکردگی اورشہرت ان کی سیاست میں بہت اہم ہے کیونکہ بعد کی شہرت اور عوامی شعور جس پر خان صاحب کا کلیم ہے کہ وہ انہوں نے دیا سراسر غلط بیانی ہے کیونکہ جتنا ایکسپوز مبشر لقمان صاحب نےن لیگ اورپیپلز پارٹی کو کیا خان صاحب کا کام تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے دیگر صحافیوں کی طرح خان صاحب اور ان کے ہمنوا تب مبشر لقمان صاحب کے بغیر اندھے بہرے اور گونگے تھے کہ جب مبشر لقمان صاحب رات کو سٹوری کرتےتو اگلےدن بشمول خان صاحب پوری پی ٹی آئی قیادت اور سوشل میڈیا وہی سٹوری بیان کرکے مخالفین کو دھول چٹا رہے ہوتے۔

    آج ایک ادھوری وفاقی حکومت گنوا کر خان صاحب دن بھر سڑکوں کی دھول چاٹ کر رات کو "ناراض دوستوں” سے "پیچ اپ” کی سکیمیں بناتے ہیں جبکہ ان کے اہلیان عمران خان سوشل میڈیا پر فی سبیل اللہ "سگِ بنی گالا” کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں اور خان صاحب کی طرح ان کے محسنین اور سابقہ دوستوں کو سوال اور اعتراض کرنے کی پاداش میں ذلیل و رسوا کرنے میں مصروف رہتے ہیں لیکن قوم یاد رکھے کہ جو شخص مطلبی اور خودغرض ہوتا ہے وہ مطلب نکلنے پر یہی کچھ کرتا اور کرواتا ہے حو خان صاحب اور ان کی قوم یوتھ کرتی پھر رہی ہے۔

    خان صاحب آپ پیر کامل بننے کی کوشش میں حد لانگ رہے ہیں یہ مت کریں, ریڈ لائن صرف ایک ہی تھے, ہیں اور تاقیامت رہیں گے اور وہ ہیں آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کی خاطر ماں باپ قربان کرنا اور اولاد سے سرف نظر کرنا فرض کیاگیا ہے بذبان اللہ۔

    خان صاحب اپنے اہلیان کو لگام دیں وگرنہ ڈھول کا پول کھل گیا تو آپ اپنا گریباں چاک کرنے اور عوام میں جاکر سچے ہونے کا دعوی کرنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    اکڑ, غرور اور تکبر خواہ بری شہ پر ہو یا اچھی پر۔۔۔ اللہ کو یہ حرکت سخت ناپسند ہے۔ پوری قوم کو سیرت کےاسباق بعد میں رٹوائیےگا, پہلے اہلیان عمران خان کو اس پر عمل کی تلقین کریں۔

    سوشل میڈیا کو ایک گٹر بنانے میں جتنا کردار پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرز اور ایکٹیوسٹس نے ادا کیا ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔۔۔ اور خود یہ اس گٹر کے اکلوتے مالک اور چوڑے بن کر سارا دن چوڑے والی آکڑ دکھا دکھا کر شرفاء کی پگ اچھالتے رہتے ہیں۔

  • ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ اور تاریخ اسلام — فرقان قریشی

    اکتوبر سنہ 732ء میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا تھا ، شاید آپ میں سے کم ہی لوگ اس واقعے کو جانتے ہوں گے لیکن ایک بدترین شخص نے تاریخ کے اس واقعے کو اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا تھا ۔

    اور آپ کو پتہ ہے کہ اس شخص نے اس واقعے کے مرکزی کردار charles martel کا نام کہاں لکھا تھا ؟

    وہ تو میں آپ کو ابھی بتا دیتا ہوں لیکن یہ وہی چارلز مارٹل ہے جسے تاریخ ’’charles the hammer‘‘ یعنی ’’چارلز ہتھوڑا‘‘ بھی کہتی ہے ، وہی چارلز مارٹل جو اپنے باپ pepin کی اپنی ایک نوکرانی کے ساتھ ناجائز اولاد تھا اور وہی چارلز مارٹل جس نے وقت کی سب سے بڑی ملٹری پاور یعنی مسلمانوں کو ناقابل شکست بیس سال گزارنے کے بعد فرانس کے جنگل میں ہرا دیا تھا اور اموی جنرل عبدالحمٰن الغوفیقی کو مار دیا تھا ۔

    وہی چارلز مارٹل جس کی وجہ سے فرانس اور جرمنی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ لیکن یہ لڑائی طاقت کی لڑائی نہیں تھی ، یہ لڑائی ایکچوئلی صبر کی لڑائی تھی اور اس لڑائی کا نام تھا battle of tours ۔

    چارلز مارٹل مسلم آرمی سے آدھی تعداد کے ساتھ جنگل میں تھا اور صبر سے انتظار کر رہا تھا کہ مسلمان جنگل میں آ کر لڑیں تاکہ مارٹل کو درختوں میں چھپنے کا فائدہ مل سکے اور مسلمان جنگل سے باہر انتظار کر رہے تھے کہ مارٹل باہر آ کر ہم سے لڑے تاکہ ہم اپنی تعداد اور طاقت سے اسے ہرائیں لیکن بالآخر سات دن بعد مسلمانوں کا صبر جواب دے گیا اور وہ جنگل میں داخل ہو گئے ۔ یورپ کے گھنے جنگلات جدھر آرمی کی تعداد کوئی معنے نہیں رکھتی تھی …

    اور مجھے جرمن مؤرخ hans delbruck کے الفاظ یاد ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں battle of tours سے زیادہ اہم اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیوں کہ اس دن اگر چارلز مارٹل ہار جاتا تو آج نہ کوئی holy roman empire ہوتی ، نہ پوپ رہتا اور نہ ہی عیسائیت کیوں کہ پھر اس وقت مسلمانوں کو پورے یورپ پر قبضہ کرنے سے روکنے والی کوئی آرمی اس دنیا نہیں تھی ۔

    انفیکٹ یہ وہ واحد لڑائی تھی جس کے بارے میں ایڈولف ہٹلر نے بھی یہ بات کہی تھی کہ اگر مسلمان وہ لڑائی جیت جاتے تو آج یہ دنیا ایک مسلمان دنیا ہوتی کیوں کہ مسلمان ایک دین لے کر آ رہے تھے ، ایک ایسا دین جو جرمن مزاج کے ساتھ پرفیکٹلی فِٹ بٹھتا ہے اور جرمنز کے لیے عیسائیت سے زیادہ سوٹ ایبل ہے ۔

    لیکن میں نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ چارلز مارٹل کا نام کس نے یاد رکھا ہوا تھا ؟

    تین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ایک شخص نے 74 صفحوں کا ایک مینی فیسٹو لکھا تھا the great replacement اور اس نے یہ مینی فیسٹو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سمیت 30 میڈیا ہاؤسز کو ای میل کیا تھا ، اور ای میل کے بعد اس شخص نے نیوزی لینڈ کرائیسٹ چرچ کی ایک مسجد میں داخل ہو کر 51 نمازیوں کو شہید کر دیا تھا …

    اور اس قتل عام کو کرنے والی بندوق کی نلی پر اس زندیق نے … چارلز مارٹل کا نام لکھا ہوا تھا ، وہی چارلز مارٹل جس نے مسلمانوں کو شاید سب سے گہری چوٹ پہنچائی تھی ۔

    لیکن میں آپ کو یہ سب کیوں بتا رہا ہوں ؟

    اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ randomly نہیں ہو رہا ، یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے واقعے سے جڑا ہوتا ہے یا پھر مستقبل کے کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ ہوتا ہے ۔

    اور میں آپ کو urge کرتا ہوں کہ تاریخ کو بھولیں مت ، ماضی کے واقعات کو یاد رکھیں ، تاکہ مستقبل کے لیے خود کو اور اپنی نسلوں کو تیار رکھ سکیں ۔

  • پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    کالے بھونڈوں اور چھپکلیوں کو بھگانے کےلیے سپرے کر رہا تھا صبح صبح کھڑکی کے پاس ، کہ دفعتاً ٹڈا سا نظر آیا۔ سوچا صحن میں گھاس ہے تو آ گیا ہو گا مگر جب دھیان سے دیکھا تو یہ praying mantis تھا ۔ فوراً سپرے روکا۔ شکر ہے ابھی اس پہ سپرے نہیں ہوا تھا۔ ہتھیلی آگے کی تو یہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا ۔ دوستانہ انداز میں ٹچ کیا اور ہتھیلی آگے کی تو باقی دنیا کی طرح اسے بھی ہماری شرافت پہ یقین آ گیا اور ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا میں موجود سپرے کے ذرات سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

    اسے گلاب کے پودے پہ بٹھایا اور واپس آیا تو دیکھا برآمدے میں پر پھیلائے ،نہایت غصیلے انداز میں ایک اور مینٹس میرا منتظر تھا۔ اپنے ساتھی کو نہ پا کر سخت برہم تھا اور غالباً مجھ پہ شک کر رہا تھا۔ اسے چمکارا ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو آہستہ آہستہ وہ بھی پاس آ گیا۔ اسے بھی وہیں اس کی بیگم پاس گلاب پہ چھوڑا کہ چل کاکا عیاشی کر۔ گلاب کے مخملیں بستر پہ ۔ مگر دونوں شاید آپس میں ناراض تھے۔ منہ بنائے دور دور رہے ذرا سے۔

    سکول کا ٹائم بھی قریب ہی تھا ۔ جانے لگا تو خیال آیا کہ ذرا جوڑے کے "حالات ” بھی دیکھتے جائیں ۔ اگرچہ پرائیویٹ معاملات میں دخل دینا نامناسب بات ہے مگر یہ ہم پاکستانیوں کا پرانا شیوہ۔ آپ نے غلام عباس کا افسانہ ” اوور کوٹ ” تو پڑھ رکھا ہو گا۔ اوور کوٹ والا نوجوان بھرے بازار ، اردگرد کےلوگوں ، اشیاء وغیرہ سے بےنیاز نظر آتا اور کسی پہ نگاہ ِ غلط انداز نہیں ڈالتا مگر اک موٹے پیندے اور لمبے بالوں والی لڑکی اور ساتھی لڑکے کی گفتگو سننا شروع کر دیتا ۔ اور پھر ان کے پیچھے یوں تیزی سے جاتا کہ ٹرک کا پتہ بھی نہیں چلتا اور مر جاتا۔ ویسے نصابی کتب میں یہ مکالمہ نہیں ہے۔ یوں بھی افسانوں کا ختنہ کرنے کے بعد ہی انہیں شامل نصاب کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کا فسانہ دیکھ لیں مولوی ابل والا۔

    بات دور نکل گئی۔ تو میں پھر قریب پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک ہی موجود ۔ تلاش کیا مگر نہ ملا ۔ کمرے میں آ کے کپڑے تبدیل کرنے لگا تو حضرت بائیں کندھے پہ کراماً کاتبین کی طرح موجود۔ لو جی ۔۔۔۔ایہہ تے سچ مچ یاری دے چکراں اچ اے۔ واپس چھوڑا۔ دونوں نمونوں کو ایک پھول پہ بٹھایا بلکہ ان کی پپیاں جپھیاں بھی کروائیں زبردستی ۔ کچھ دیر بعد خدا حافظ کہنے گیا انہیں تو اب دونوں الگ الگ پھولوں پہ تھے۔ ارینج میرج ٹائپ جوڑے کی طرح۔ سخت مایوسی ہوئی۔

    پرئنگ مینٹس کا تعلق حشرات کے mantodea آرڈر سے ہے۔ اب تک اس کے 30 خاندان اور2400 انواع دریافت ہو چکیں ۔ خوراک کے معاملے میں گوشت خور ہیں کٹّر قسم کے ۔ نان ویجیٹیرین ۔ تمام حشرات میں ان کی نظر سب سے تیز ہوتی۔ ماہر شکاری اور نہایت ہمت والے۔ کبھی مقابل سے گھبراتے نہیں ۔ چھوٹے مینڈک ، چھوٹی چھپکلیاں، چھوٹے سانپ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا شکار کرتے اور منٹوں میں کتر ڈالتے انہیں۔ اگلے بازوؤں پہ کانٹے نما سی چیز ہوتی سخت سی۔ شکار کو جکڑ لیتے۔ زندہ جاندار کھاتے ، مردہ نہیں ۔ حشرات میں یہ واحد ہیں جو اپنا سر انسان انسان کی طرح دائیں بائیں گھما سکتے۔ اوسط عمر ایک سال ہوتی۔

    پرندے اور چھپکلیاں ان کا شکار کرتیں ۔ اور بعض اقسام کی بھڑیں بھی ۔ مقابلہ خوب کرتے۔ یوٹیوب پہ سرچ کر سکتے ۔ تکونی سر اور دعا کی طرح اٹھے ہاتھ ہوتے ان کے ۔ یہ کسی چیز کو کاٹ بھی سکتے اور چبا بھی سکتے۔

    ایک اور خاص بات ، کہ اگر مادہ کسی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اپنے مجازی خدا کا سر کھا جاتی ہے۔ یہ عادت ویسے تمام ماداؤں میں مشترکہ ہے ۔۔۔سر کھانے کی ۔ نر ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  • میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟

    مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.

    اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.

    رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟

  • تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے؟ — ضیغم قدیر

    ہفتہ پہلے رمیز راجہ نے بہت اچھی بات کہی تھی کہ انڈیا کی فین بیس بہت اچھی ہے وہ ایشیا کپ سے باہر نکل گئے مگر انہوں نے کوہلی کی سینچری کی خوشی منانا شروع کر دی اور یہاں بابر سینچری کر دے تو اگلا سوال ہوتا ہے کہ سٹرائیک ریٹ 130 کی بجائے 140 کیوں نا تھا؟

    پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سکواڈ پر یہی تنقید جاری تھی جو آجکل جاری ہے۔ ایک تجزیہ نگار صاحب تو ٹی وی پر یہ بھی کہہ چکے تھے کہ محمد وسیم کو سلیکشن وغیرہ نہیں آتی ہے ایسی گھٹیا ٹیم میں نے کبھی نہیں دیکھی۔

    خیر وہ تجزیہ نگار اپنے کیرئر میں کتنے بہترین تھے سب کو علم ہے۔

    مگر پھر ٹیم نے کر دکھایا۔ ان دنوں حارث رؤف پہ کافی تنقید کی جاتی تھی۔ رن مشین اسکا دوسرا نام تھا، حارث کو کھلانا ایک حماقت سمجھا جا رہا تھا اور اب وہی تجزیہ نگار حارث رؤف کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔

    اسی طرح

    تب رضوان پر تنقید جاری تھی، اے آر وائی پہ آصف کے بارے میں تو ڈیزاسٹر مطلب تباہی کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے کہ یہ ٹیم کو تباہ کرے گا مگر یہ جملہ غلط طریقے سے قبول ہوا اور دوسری ٹیمز تباہ ہو گئیں۔

    ٹیم میں موجود افتخار اور خوشدل کو ہٹانے کی کمپین چلی کہ حیدر اور شان کو لاؤ، افتخار بوڑھا ہو گیا ہے حالانکہ افتخار اور شان دونوں ہم عمر ہی ہیں اسکے علاوہ افتخار کی پرفارمنس شان سے ہزار درجے بہترین رہی ہے مگر مسئلہ چونکہ یہ ہے کہ افتخار کی پکچرز سٹیٹس پہ لگانے سے کول نہیں لگتا اس لئے کوئی پیارا کھلاڑی لانا چاہیے۔

    اب جبکہ حیدر اور شان پچھلے آدھ درجن میچوں میں بیس رنز بھی نہیں کراس کر پا رہے ہیں تو بابر اعظم پہ تنقید شروع ہو گئی ہے کہ یہ اچھا کپتان نہیں ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ حالانکہ بابر کی کپتانی میں پاکستان بڑے ٹورنامنٹس بلا خوف و تردد کھیل کر جیتنے کے قریب پہنچا ہے۔

    مگر نہیں بابر چونکہ شوخا نہیں ہے تو اسے ہٹانا چاہیے۔

    اسی طرح رضوان جس کی ایوریج کوہلی سے زیادہ ہے ٹیم میں میچ وننگ شراکت زیادہ ہے اس کیخلاف یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ مذہب کا استعمال کرکے مشہور ہو رہا ہے حالانکہ وہ اسکا ذاتی عقیدہ ہے۔ وہیں کوہلی جس کی ایوریج رضوان سے کم ہے مگر چونکہ سٹرائیک ریٹ اسکا زیادہ ہے تو تنقید ہو رہی ہے کہ میچ وننگ شراکت داری کا کیا کریں جب رضوان کا سٹرائیک ریٹ ہی کم ہے۔

    ہندوستانی جو کہ ایسی لن ترانیاں نہیں کرتے ان کے پاس ایک مضبوط مڈل آرڈر موجود ہے۔ مگر یہاں مڈل آرڈر میں کوئی سیٹ ہوتا ہے تو کمپین چلتی ہے کہ فلاں کا سٹرائیک ریٹ دو سو دس ہے اسے موقع دیں اور اس کھیل تماشے کے بعد مڈل آرڈر پھر حیدر اور شان جیسے کھلاڑیوں کے پاس رہ جاتا ہے۔

    خیر اب بھی دعا یہی ہے کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے، اور امید بھی ہے کہ کرے گی مگر اتنی بری فین بیس دنیا میں کہیں نہیں ہے جتنی ہم پاکستانیوں کی ہے جو کہ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہو سکتے ہیں۔

  • "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ارسلان بیٹا!! مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے” — اعجازالحق عثمانی

    عمران خان جمہوریت کے دعویدار ہیں۔ اور جمہوریت پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے تو الیکشنز کا رونا رو رہے ہیں۔ کہ ہمیں یہ امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔ ایکشنز کروائے جائیں اور جمہوری طریقے سے عوام جسے منتخب کرے ،اسے ہی حکومت ملنی چاہیے۔

    مگر جمہوریت ، جمہوریت کا راگ الاپنے والے عمران خان اور ان کے حامی آزادی اظہار اور پریس کی آزادی جیسی جمہوری اقدار کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔ جو عمران خان کے حق میں بولے وہ صحافی کہلائے اور جس نے زرا سی بھی عمران خان پر تنقید کر دی تو صاحب! وہ لفافی ہوتا ہے۔

    آج کل عمران خان کے حامی ٹوئیٹر پر سیئنر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے خلاف غداری اور لفافی کے ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔میں بھی مبشر لقمان کے تجزیوں اور تبصروں پر اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ مگر اختلاف رائے کا مطلب گالم گلوچ نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو مبشر لقمان یا کسی اور صحافی کی بات اچھی نہیں لگ رہی تو نہ سنیں یا اختلاف کریں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔ اور جمہوریت سب کو اظہار رائے کی آزادی تو ضرور دیتی ہے۔ مگر کسی شہری کی رائے پر اختلاف کی بجائے گالم گلوچ کی ہرگز نہیں۔

    اس میں کوئی شک نہیں عمران خان یو ٹرن لیتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دور میں ان کے وزرا نے دل کھول کر کرپشن بھی کی ہے۔ مبشر لقمان بھی یہی سب چیزیں بتا رہے ہیں۔ بلکہ ثبوت بھی دیکھا رہے ہیں۔فیصل واوڈا کی غیر ملکی شہریت ہو یا خسرو برادران کی کرپشن ، توشہ خانہ یا سابق وزیر اعلی عثمان بزدار گروپ کی کرپشن ، مبشر لقمان ان سب معاملات پر تجزیے اپنے یو ٹیوب چینل پر کر رہے ہیں۔ اور ثبوت بھی دے رہے۔

    اگر ثبوت جھوٹے ہیں تو بھیا! کہو کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے۔ اور ثبوت جھوٹے ثابت کرو۔ معاملہ عدالت لے کر جاؤ۔ مگر یہ تو جھوٹا پن اور کم ظرفی ہے،کہ اپنے سوشل میڈیا کو یہ کہہ کر ٹرینڈز پر لگا دیا جائے کہ "ارسلان بیٹا! غداری سے لنک کر دو”۔ ٹوئیٹر مبشر لقمان کے خلاف ٹوئیٹس سے بھرا پڑا ہے ۔

    مگر مبشر لقمان بولے جا رہا ہے۔ رکنے کا نام تک نہیں لے رہا۔”ارسلان بیٹا مبشر لقمان ہاتھ سے نکل رہا ہے، تم غداری سے لنک نہیں کر پارہے”۔ کہنے کی بجائے مبشر لقمان کو ملک پاکستان نے جو اظہار رائے کی آزادی جیسا حق دیا ہے،اسے قبول کیجیے۔

  • کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    کرپشن ،بدعنوانی، تحریر :ارم شہزادی

    ہمارے زہن میں کرپشن کے معنی صرف وہ لوٹ مار ہے جو سیاست دان، بیوروکریٹ ،ججز، اعلیٰ عہدیداران ،میڈیا ہاوسز بڑے پیمانے پر کرتے ہیں جبکہ کرپشن تو وہ ناسور ہے جو ہماری جڑوں میں بیٹھ گیا ہے اور بدقسمتی سے ہم اسے کرپشن مانتے بھی نہیں ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کرپشن کی یہ قسم سب سے زیادہ بری ہے جو ہم اپنے بچوں کے زہنوں میں ڈال رہے ہیں اور یہی بچے بڑے ہوکر مہا کرپٹ بنیں گے۔ یعنی ہم اپنے لیے خود جہنم کا ایندھن تیار کررہے ہیں۔ کرپشن صرف کروڑوں یا اربوں کی نہیں ہوتی ہر وہ پیسہ بنانے کا زریعہ جو ہمارے قابلیت سے مطابقت نہیں رکھتا وہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ہے۔ کرپشن رشوت کی وہ شکل ہے جس میں رشوت کھانے والا اپنے لاکھوں میں کسی مجبور سے دس ہزار ہتھیا کر ڈال کر تمام پیسہ حرام کرنے والا ہے۔ہم سمجھتے ہیں انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا کروڑوں کی کرپشن کرتا ہے تو صرف وہی کرپشن ہے جب کہ نچلے لیول پے بیٹھا رجسٹرار چند سو بھی کسی غریب سے لینے سے گریز نہیں کرتا ہے لیکن وہ اسے کرپشن نہیں مانتا جبکہ وہ اتنا ہی کرپٹ ہے جتنا کہ کروڑوں لینے والا بس پہنچ پہنچ کی بات ہے۔ دوکاندار مہنگائی کا شور کرتے ہوئے سامان کا نرخ زیادہ لیتا ہے جبکہ ناپ تول میں کمی کرتا ہے، سامان میں ملاوٹ کرتا ہے یہ بھی کرپشن ہے۔ اپنا کام ایمانداری سے نا کرنا لیکن تنخواہ پوری لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ رشوت دے کر نوکری حاصل کرنا اور پھر اس نوکری سے جائز ناجائز زرائع استعمال کرکے پیسہ بنانا یا غریبوں کو لوٹنا یہ بھی کرپشن ہے۔

    کسی کے گھر دیہاڑی پے لگنا اور آدھا دن چائے اور سگریٹ پینے میں ضائع کر کے پیسے پورے لینا یہ بھی کرپشن ہے۔ بچوں کو سکھا کر جھوٹ بول کر والد سے پیسے نکلوانا دہری کرپشن ہے ایک مالی اور اخلاقی۔ مالی کرپشن کا تو حساب ہوگا ہی لیکن اس میں کچھ لوگوں کو رعایت بھی مل جائے گی کہ اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے اور سربراہ اتنے پیسے نہیں دیتا تھا لیکن جھوٹ سکھانے کا گناہ قبر تک ساتھ جائے گا۔ لاکھوں کمانے والے بھی اور کی تلاش میں اور ہزاروں کمانے والے بھی لیکن پوری پھر بھی نہیں پڑ رہی کیونکہ برکت ہی نہیں ہے اور ناجائز طریقے سے کیا گیا اکٹھا پیسہ نا تو سکون دے سکتا ہے اور ن ہی برکت۔ اس کرپشن اور ناجائز زرائع سے کمانے کی ایک وجہ اسائشات کو ضروریات بنالینا بھی ہے۔ دیکھا دیکھا ایک دوسرے سے اگے نکلنے کی دوڑ میں اخلاقیات کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کھانے کی چیز میں ملاوٹ، پینے کی چیزمیں ملاوٹ، پہننے کی چیز، میں ملاوٹ یہاں تک کہ دوائیوں میں ملاوٹ۔ ہر طریقے سے کمانے والے جب کہتے ہیں نا کہ مہنگائی بہت ہے ہورا نہیں ہوتا خرچہ ہاتھ تنگ ہے تو اس کا مطلب واقعی یہ نہیں کہ یہ سب ہے اس کا مطلب یہ کہ کمائی میں برکت نہیں ہے۔ اور جس کمائی میں برکت نا ہو وہ چاہے ہزاروں میں ہو، لاکھوں میں ہو، یا پھر کروڑوں میں انسان رہتا ہمیشہ روتا ہی ہے۔۔ معاشرے کی بدقسمتی دیکھیں کہ ہم پیسوں کی کرپشن پے بات کرتے ہیں لیکن اخلاق کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم نفس کی کرپشن پے بات نہیں کرتے ہم محبت میں دھوکہ دینے والے کی جذباتی کرپشن کی بات نہیں کرتے، ہم رشتوں کے تقدس میں ہونے والی کرپشن کی بات نہیں کرتے ایسے ہی تو نہیں سارا معاشرہ زوال کا شکار۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رزقمیں برکت ہو ہماری نسل پرسکون ہو تو انہیں صرف اسائشات پر نا لگائیں بلکہ انکی اخلاقی تربیت کریں انہیں تھوڑا کھلا دیں سستا پہنا دیں لیکن انکی تربیت اور صحبت خراب نا ہونے دیں کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ حرام رزق پے پلنے والا حلال کام کرے یا آخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ بچوں کو وقت دیں صرف پیسہ نہیں۔ کرپشن کو ایک برائی کے طور پر اپنے بچوں کو پڑھائیں سکھائیں کیونکہ یہ آپ کا صدقہ جاریہ بھی ہیں اور گناہ جاریہ بھی۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ٹیکساس: ارب پتی ایلون مسک نے اپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کمپنیوں کے علاوہ ایک نئے کاروباری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے نئی پرفیوم متعارف کردی ہے پرفیوم ان کے اپنے نام سے لانچ کی گئی ہے،اس بات کی اطلاع ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر دی ہے۔


    ایلون مسک نے اس ضمن میں اپنے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ میرے نام کا آخری حصہ خوشبو سے متعلق ہے مگر اس کے باوجود مجھے اس کاروبار میں آنے میں اتنا لمبا عرصہ لگ گیا۔ متعارف کرائے جانے والے پرفیوم کا نام برنٹ ہیئر رکھا گیا ہے۔


    ایلون مسک نے پرفیموم کی قیمت 100 ڈالر مقرر کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ اب تک 1000 کی تعداد میں پرفیوم فروخت بھی ہو چکے ہیں۔


    ایلون مسک نے صارفین سے اپیل کی کہ براہ کرم میرا پرفیوم خریدیں، تاکہ میں ٹوئٹر خرید سکوں-


    دنیا کے امیر ترین شخص نے ماہ ستمبر میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا ‘ بورنگ کمپنی ایک پرفیوم متعارف کرائے گی۔ جو مردوں کو ہجوم میں کھڑے رہنے میں مدد دے گا۔ ‘ اب منگل کے روز اپنے ٹویٹ میں کہا میرے جیسا نام ہوتے ہوئے خوشبو کے اس کاروبار سے دور رہنما مشکل تھا۔

  • کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    کتوں کا جھنڈ اور شیر کی شان، پی ٹی آئی بمقابلہ مبشر لقمان — زوہیب علی چوہدری

    اگر ہم وسعت نظری اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کرنے کا سہرا باندھیں تو بلا شک و شبہ اس کا سہرا پاکستان مسلم لیگ ن کے سیاستدانوں اور پارٹی ورکرز کو جاتا ہے کیونکہ 1990 سے آج کی تاریخ تک یہ واحد پارٹی تھی جس کے نمائندوں نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری سٹیجز پر ببانگ دہل مخالفیں جس میں پی پی پی سر فہرست تھی اوراب پاکستان تحریکِ انصاف ہے کو خوب لتاڑا اور ان کے خلاف نازیبا اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا

    اب خرابی یہ شروع ہوگئی ہے کہ بات سیاست اور جمہوریت تک رہتی تو کام چل جاتا جیسے گذشتہ تین دھائیوں سے چل رہا تھا لیکن اب تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن سے ایک قدم آگے جاکر پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ سماج اورمعاشرے کو بھی بد تہذیبی اور بدتمیزی کی ذد پر رکھ لیا ہے۔اب صورتِحال یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو آلودہ کیا تھا وہ بھی تحریک انصاف کو دیکھ کر شرمانے اور گھبرانے لگی ہے۔

    عمران خان جو قوم کی تربیت اور شعور و بالیدگی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے خود ان کا عمل انکی بہت سی باتوں کے متضاد ہے، مخالفین کے نام بگاڑنا، تہمتیں اور بہتان تراشی اور ٹپوری لینگویج کا استعمال کرنا انکوذرا بھی معیوب نہیں لگتا لیکن تسبیح ہاتھ میں پکڑے 24 سو گھنٹے غیبتیں اور چغلیاں کرنے کے بعد قوم اور مخالفین کو نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ریاست اور سیرت کی باتیں سنا کر مرعوب کرنے کا فن صرف خان صاحب کے پاس ہی ہے۔

    مسلم لیگ ن نے جس بیہودہ کلچر کی داغ بیل ڈالی تھی تحریکِ انصاف نے اسکو خوب پروان چڑھایا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے سیاستدانوں سے لیکر عام کارکن اور سپورٹر تک ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بڑے کی تمیز اور زبان سے ادب و اداب ختم ہوجائیں تو پھر انسان اور حیوان میں بس نام اور ہیت کا ہی فرق رہ جاتا ہے لیکن خصائل اور فضائل برابر ہوجاتے ہیں۔

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    اس وقت ملک میں انارکی اور کلٹ ازم و فاشسٹ ازم کی واحد نمائندہ جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریکِ انصاف ہے جس کے شر سے نا کوئی سیاستدان، نا کوئی سرکاری نمائندہ اور ادارہ اور نا ہی کوئی صحافی محفوظ ہے۔جو بھی عمران خان یا تحریکِ انصاف پر تنقید کردے، اعتراض کردے یا سوال کرلے تو سمجھو اس نے بھڑوں کے چھتے پر وٹا مار دیا ہے کیونکہ چند منٹوں کے نوٹس پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس سوشل میڈیا سائیٹ پر وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔

    تازہ واردات ان کی یہ ہے کہ پاکستان کے مایہ ناز اور انتہائی کریڈیبل اور نامور اینکر پرسن مبشر لقمان صاحب کو نشانے پر لے آئے ہیں، وجہ؟ وجہ یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب نے ہمیشہ حق اور کھرے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ ۔ ۔ جب تک خان صاحب صحیح ٹریک پر تھے تو مبشر لقمان صاحب سمیت ہر با شعور اور غیرجانبدار صحافی کے سر آنکھوں پر تھے لیکن جب خان صاحب نے بھی ایک مافیا کی بنیاد رکھ دی اور قوم کے بچوں کو سگ بنی گالہ بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک بننے کی کوشش کی تو پھر باقی تو تتر بتر ہوگئے کہ کس کو عزت اور جان پیاری نہیں، البتہ مبشر لقمان صاحب نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا بیشک کوئی کچھ بھی کہتا اور سمجھتا پھرے حق اور سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔

    بس اسی جرم کی پاداش میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس باولے ہوکر ایسے اوٹ پٹانگ ٹرینڈز لا رہے جو کم از کم شعور سے مربوط نہیں۔آج تیسرا دن ہے جب پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس مبشر لقمان صاحب کے خلاف ہر حد کراس کر رہے کیونکہ مبشر لقمان صاحب نے خان صاحب اور انکے ہمنواؤں کے خلاف اپنے چینل کے توسط سے جو نا قابلِ تردید ثبوت دیے ہیں ان سے خان صاحب تو کیا پوری تحریکِ انصاف کو سانپ سونگھ گیا ہے۔۔۔

    اگر مبشر لقمان صاحب جھوٹے ہیں تو تحریکِ انصاف عدالت کا دروازہ کھڑکائے۔۔۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ مبشر لقمان صاحب سچے ہیں اور پی ٹی آئی و سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس جھوٹے ہیں اسی لیے پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسر زاور ایکٹیوسٹس بھرپور اینٹی کیمپین چلا کر چور مچائے شور کی مثال قائم کر رہے ہیں لیکن انکو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے ، مبشر لقمان صاحب ایسے بیہودہ حربوں سے رکنے یا جھکنے والے نہیں۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا انفلوائنسرزاور ایکٹیوسٹس بس انتطار کریں اور اپنی خیر منائیں کیونکہ مبشر لقمان ان کے لیے اکیلے ہی کافی ہیں کہ جھنڈ میں تو کتے آتے ہیں جبکہ شیر ہمیشہ اکیلا ہی آتا ہے!!!

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    لسبیلہ ہیلی حادثہ، پاک فوج کیخلاف مہم میں یوٹیوبر سمیت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی شامل

  • علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اس کائنات میں کھربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔ چونکہ ستارے ہم سے بہت دور ہوتے ہیں یعنی نوری سالوں کے فاصلے پر اس لئے ہمیں یہ بے حد چھوٹے اور صرف رات کے وقت آسمان پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سال میں طے کرے۔ روشنی کی رفتار خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کس قدر تیز رفتار یے اسکا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے قریب 7.5 چکر لگا سکتی ہے۔ تو گویا ایک نوری سال ایک بہت بڑا فاصلہ ہوا جو روشنی ایک سال میں طے کرے۔ کتنا؟ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر۔

    ہماری زمین کے سب سے قریب ستارہ سورج ہے جو زمین سے اوسطاً سال میں 15 کروڑ کلومیٹر دور ہوتا ہے اور سورج سے زمین تک روشنی کو پہنچنے میں تقریباً 8 منث لگتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق پوری زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ستاروں کی کل تعداد محض 5 ہزار کے قریب ہے مگر ان میں سے بھی آپ صرف آدھے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ زمین کے ایک حصے پر رہتے ہیں۔

    سورج کے بعد زمین سے سب سے قریبی ستارہ Proxima Centauri. ہے جو زمین سے تقریبآ 4.3 نوری سال دور ہے۔ اس ستارے کیساتھ دو اور ستارے Alpha Centuari AB ایک دوسرے کے گرد مزے سے گھوم رہے ہیں۔ اس تین ستاروں کے سسٹم کے بعد زمین سے تیسرا قریبی ستارہ Barnanrd’s Star ہے جو کہ تقریباً 6 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

    زمین سے دکھنے والا سب سے روشن ستارہ Sirius ہے۔ یہ سورج سے ماس میں تقریباً 25 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے سے 8.7 نوری سال دور ہے۔

    اب یہ سب جاننے کے بعد آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شبنم کی منگنی ندیم سے کیا Proxima Centuri نے تڑوائی یا کسی کی خالہ زاد سلمی اُس سے اس لئے ناراض ہوئی کہ Barnard صاحب کو سلمی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    یا پھر صبح صبح پھجے کے پائے اور دو گلاس لسی پینے کے بعد پیٹ کے درد کا الزام بے چارے کھربوں کلومیٹر دور Sirius پر لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

    علمِ نجوم دراصل کوئی علم نہیں ۔۔سوائے سورج کے باقی کسی ستارے کا ہماری زندگی پر کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ اثر نہیں۔ اگر پھر بھی آپ بضد ہیں کہ یہ ساری کارستانی ستاروں کی ہے تو پاکستان کے کسی مشہور علمِ نجوم کے "ماہر” سے اچھے سے پیپر پر زائچہ بنوا کر مجھے یہاں پیرس ارسال کر دیجیے، اس پر پکوڑے رکھ کر کھانے کا بے حد مزا آئے گا۔