Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟

    چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
    انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔

    چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
    یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔

    چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
    یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔

    اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔

    ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔

    جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔

    اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
    "کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے”

  • پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف

    وکرانت گپتا اور بہت سے بھارتی یو ٹیوبرز نے محمد رضوان کے ایک بیان کو بہت پسند کیا۔۔۔رضوان نے کہا تھا کہ۔۔!

    ” اللہ محنت اور ایمانداری کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہمیں فتح دے دیں۔۔۔اگر حریف ٹیم ہم سے زیادہ محنت کرے گی تو وہ فتح پائے گی۔۔۔”

    اپنے دین کی اس سے خوبصورت خدمت نہیں ہوسکتی کہ آپ اپنے خالق کو "انصاف کرنے والا” قرار دیں۔۔۔اس ایک جملے میں دین اسلام کی روح ہے۔۔۔۔

    ایک صاحب محمد رضوان کے شدید ناقد ہیں۔ انکی تنقید مجھے ہمیشہ غیر منطقی لگی۔۔ یوں لگا جیسے رضوان سے کھیل کی بجائے کوئی ذاتی مسئلہ ہو۔۔۔پھر وہ کھل ہی گئے۔۔۔۔فرما ہی دیا کہ مسئلہ رضوان کے دین پسند ہونے سے ہے۔۔۔۔کرکٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے موصوف کو رضوان کے "مولانا پن” پر اعتراض ہے۔۔۔اور یہ صرف ایک شخص کی رائے نہیں اور بھی لوگ ایسے اعتراضات رکھتے ہیں۔۔۔

    رضوان اگر کرتا شلوار, سر پر ہیلمنٹ کی بجائے سفید ٹوپی اور ہاتھ میں بلے اور ستانے کی جگہ تسبیح تھامے کھیلنے آتے ہیں تو مسئلہ سمجھ بھی آتا۔۔۔یا میچ روک کر رضوان گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو اکھٹا کر کے صحیح احادیث سناتے تو بھی اعتراض درست ہوتا۔۔۔

    عین آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہوئے انکے دین پسند ہونے پر اعتراض ہے کہ اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں,نماز کیوں پڑھتے ہیں۔۔خواتین سے فاصلہ کیوں رکھتے ہیں۔۔۔یہ ہی اعتراضات ہیں نا اس کے علاوہ کیا ہیں۔۔؟

    اگر کوئی شخصیت عوامی مقام پر شراب نوشی یا دیگر اخلاق باختہ حرکات کرتی نظر آ جائے تو یہی طبقہ اسے ذاتی چوائس کا نام دیتا ہے۔۔معاشرے کو گھٹن زدہ قرار دیتا ہے۔۔۔۔شخصی آزادی کی بات ہوتی ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی معاملہ دین سے جڑتا ہے شخصی آزادی ہوا ہو جاتی ہے حالانکہ دینی معاملات صرف شخصی نہیں اجتماعی بھی ہیں۔۔۔

    شخصی آزادی اچھی سوچ ہے لیکن پھر سب کو بلاتفریق یہ آزادی دیں۔۔۔

  • کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .

    لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.

    مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.

    مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.

  • تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی

    ٹرانسجنڈرز بل پر اپنی گزشتہ گزارشات کے تسلسل میں اور اس سلسلے سیاسی نیم ملاؤں فتویٰ بازی اور سیکولر دیسی لبرلوں کے نیم حکیمانہ نظریات کے تناظر میں مزید کچھ وضاحت پیش خدمات ہے- ٹرانسجنڈرز کے معاملے کو حسب روایت ہمارے وہ نیم حکیم اور نیم خواندہ قسم کے "سیکولر ترقی پسند” پیچیدہ بنا رہے ہیں جو الحاد اور کافرانہ لادینیت کو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے سیکولر ترقی پسندی کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر اپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک ایجنڈے کہ تحت مذہب بیزاری کو انسانیت دوستی کا لبادہ پہناتے ہیں باوجودیکہ اب تو ساینسدانوں میں بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مذھب اور سانس ایک دوسرے کی زد نہیں بلکہ دو مختلف میدان ہیں- سائنس کے میدان کے صائب اہل فکر معاشرتی اقدار اور سماجی علوم کے معاملات میں سائنس کو بنیاد بنا کر فطرت کے خلاف جنگ کو کبھی ترقی پسندانہ سوچ نہیں کہتے ہیں – جو لوگ قران پر ایمان رکھتے ہیں انکےلئے تو یہ مسلہ بہت سادہ ہے کہ الله سبحانہ تعالہ فرماتے ہیں:

    وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ- (الذاريات – 49)
    اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو!

    وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۗ (الروم آية ۲۱)
    اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی نفس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی

    سیدھی سی بات ہے کہ سیکولر انسانی تاریخ اور تمام آسمانی کتابیں انسان میں صرف دو جنسوں یعنی مرد اور عورت کے وجود کی تصدیق کرتی ہے- انسانی اور مذہبی تاریخ میں تمام احکامات، اخلاقی ضابطے اور قوانین بھی دو جنسوں اور اصناف یعنی مرد اور عورت یا نراور مادہ کے تقسیم پر مبنی ہے- لہٰذا تیسری جنس اور صنف فطری قوانین کے مطابق بھی خلاف معمول معذوری یا بیماری کا مظہر ہے- اب یہ معذوری طبعی یا حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل بھی ہوسکتی ہے جس میں کسی انسان کے ایکس اور وائی کروسوم یا جنسی غدود میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے اس میں دونوں جنسوں کے اعضاء یا خصوصیات ظاہر ہوجاتی ہے اور نفسیاتی بھی جس میں کسی ایک صنف یا جینڈر میں میں پیدا ہونے والا فرد بشمول ہم جنس پرستی کے دوسرے صنف میں پیدا ہونے والے افراد کی طرح کا جنسی میلان رکھتا ہے- پہلی قسم جنکو جدید طبی اصطلاح میں ِانٹرسیکس یا بین صنفی ہجڑا اور اسلامی فق کی زبان میں خنثی کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کسی بھی معذور کی طرح انسانی اور اسلامی اخلاقیات کے تحت طبی علاج اور معاشرے کے سہارے کے مستحق ہوتے ہیں اور اس علاج میں جنسی اعضاء کی جراحی یا سرجری بھی شامل ہے- میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک بھی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی خنثی کے مردانہ اور زنانہ دونوں اعضاء موثر ہو اسلئے سرجری کے عمل سے ایسے کئی کیسز میں مریض کے موثر جنسی اعضاء رئیسہ کو بحال کرکے انکے اصلی جنس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے- دوسری قسم جنکا مسلہ نفسیاتی اور اسلام سمیت اکثر مذہب اور روایتی اقدار کے تحت اخلاقی ہے اپنے اعلانیہ جنسی رحجانات کے لحاظ سے کئی صورتوں پر مشتمل ہے جنکیلئیے ماڈرن مغربی یا سیکولر معاشروں میں ہومو سکچول (ہم جنس پرست) ، گے، لزبین اور بائیسکچول جیسے اصطلاحات ہوتے ہیں اور جنھیں اجتماعی طور پر LGBT طبقہ کہا جاتا ہے- اسلامی فقہ میں اس طبقے کو عمومی طور پر مخنث کہا جاتا ہے اور اسلامی نظام عدل صرف انکے غیر فطری احساسات یا رحجانات کو یا محض کسی کے مخنث ہونے کو جرم قرار دیکرانکےلئے کوئی سزا تو تجویز نہیں کرتا لیکن مغربی سیکولر معاشرے کے اقدار کے برعکس اس طبقے کے جنسی ذوق کیلئے معاشرتی اقدار اور قوانین کو بدلنے کی جازت نہیں دیتا- اس میں ان طبقے کے غیر فطری شادیوں کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے قدرتی غدود یا فطری جنسی اعضاء میں تبدیلی پر پابندی بھی شامل ہے-

    مغربی لادین سیکولر قوانین میں اخلاقیات سے مذہبی اور فطری اقدار کی مکمل جدائی کے باعث پیدائشی صنف یا جینڈر اور اپنے ذاتی رحجان یا ذوق کے تحت اختیار کے گیے شعوری سکس یا جنس کو دو مختلف چیزیں قرار دی گئی ہے جبکہ اسلامی قوانین اور اقدار اس طرح کے کسی مصنوعی خود ساختہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے جسکا اثر کسی فرد کی ذاتی جنسی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان کا ادارہ اور معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے- پاکستان میں ٹراسنجینڈر بل کو ڈرافٹ کرنے والوں یا تو مسلے کو نوعیت کے متعلق اپنی کم علمی یا جہالت یا پھر کسی ایجنڈے کے تحت اس دونوں متنوع طبقات کو ٹرانسجنڈر کے عمومی اصطلاح کے تحت ایک ہی قانون میں خصوصی حقوق دیے ہیں جس سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے نشان دہی پر بوجوہ شدید قسم کے اعتراضات اور رد عمل آیا ہے جس میں ظاہر ہے سینیٹر صاحب کا مواقف اصولی طور پر درست ہے- مجوزہ بل پر اعتراض کی وجوہات میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کی خلافورزی کے علاوہ ایک جائز اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستانی جیسے معاشروں مذہب کے علاوہ بھی غیر مسلم اور سخت مذہبی رحجانات نہ رکھنے والے افراد اور طبقات کے بھی کچھ حساس معاشرتی روایات ہوتے ہیں- معاشرے کے عمومی اقدار کے خلاف رحجانات یا جنسی زوق رکھنے والوں کی طرف سے بل کے تحت بنے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے ایسے افراد کا اپنی خود ساختہ جنسی شناخت کے تحت معاشرتی میل جول شدید قسم کی معاشرتی پیچیدگیوں اور متشدد جرائم کا باعث سکتی ہے- اسلئے سیکولر معاشروں میں بھی عمومی معاشرتی اقدار کے خلاف ایسے متنازعہ قوانین سے اجتناب کیا جاتا ہے- جہاں تک اسلامی فقہ کی بات ہے تو نیم خواندہ دیسی لبرلوں اور سرخوں کے عمومی تاثر کے برعکس باقی پوسٹ ماڈرن معاشرتی اور قانونی مسائل کی طرح اس معاملے میں بھی اسلامی تعلیمات بانجھ نہیں ہیں- رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بھی تیسری جنس موجود تھی جنکا ذکر بخاری اور ابو داوود کے روایات میں ملتا ہے- بعض کے نام بھی ملتے تھے جیسے کہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے، پورے شہری وں انسانی حقوق رکھتے تھے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ ان کے کچھ طبقات کی سماجی اقدار کے خلاف حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ معاشرتی پابندیاں لگا دی گئی تھی- اسی طرح روایتی اسلامی اصول قانون میں مخنث، خنثی اور ہم جنس پرست کے تین مختلف صورتوں واضح فرق اور متعلقہ احکام آج کے پوسٹ ماڈرن معاشرتی جنسی مسائل میں بھی اسلامی فقۂ کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں– اس طرح اگر انسانی حقوق کے نام پر قانون الہی کو کسی طبقے کے ذوق یا نفسیاتی عوارض کی خاطر بدلنے کا اختیار معاشرے اور ریاست کو دے دیا جاے تو پھر تو بچوں کے جنسی زیادتی کرنیوالے اور جنسی یا نفسیاتی تسکین کیلئے کئی اور قسم کے "غیر روایتی” اعمال کو بھی جائز قرار دیکر قانونی تحفظ دیا جاسکے گا جن میں کئی سیکولر اور مکمل لادین معاشروں کے معیار پر بھی بدترین جرائم ہیں-

  • پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف

    آخری میچ پر ایک رائے ہے کہ پاکستان اچھا نہیں کھیلا لہذا اس جیت کو جیت نہ سمجھا جائے۔۔۔کل پہلی اننگز پر میری بھی یہ رائے ہے کہ بیٹنگ آرڈر کو درست استعمال نہیں کیا گیا۔۔

    پچ قدرے سلو تھی, انگلستانی بالرز نے باؤلنگ بھی بہت اچھی کی,ریورس سوئنگ کا بھی استعمال کیا۔۔لیکن اس کے باوجود ٹیم منیجمنٹ نے دو غلطیاں کیں۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر آصف علی یا محمد نواز کو استعمال کرنا چاہیے تھا۔۔۔آصف علی کا دوسرا اچھا استعمال بھی ضائع کیا جب خوشدل کی جگہ انکو بھیجا جا سکتا تھا۔۔۔۔

    سلو پچ پر بال کو ٹائم کرنے والے بلے باز مشکلات کا شکار رہتے ہیں لہذا دوسرے اینڈ سے پاور کا استعمال کرنے والے بلے بازوں سے لگاتار چانس لیا جاتا تاکہ چار پانچ وکٹس گر بھی جاتی تو شاید بیس سے تیس رنز زیادہ بن جاتے۔۔۔
    نوجوان بالرز کا لائن لینتھ سے زیادہ رفتار پر فوکس, آخری اوورز میں ورائیٹی سے بال نہ کرانا نیز ہر میچ میں ایک اہم ڈراپ کیچ بھی ٹیم پاکستان کا سر درد ہے۔۔۔

    لیکن ان غلطیوں کے باوجود کچھ مثبت فیکٹر بھی سامنے آئے۔۔ورلڈکپ سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کونسا کھلاڑی کتنا موثر ہے۔۔۔یہ سیریز کبینیشن طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ہمیں اچھا ٹیم کمبینیشن مل گیا تو یہ ہی اس سیریز کا نتیجہ ہو گا۔۔۔ نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز اور ورلڈکپ پریکٹس میچز کمبینیشن کو کنڈیشن سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کریں گے۔۔۔۔

    افتخار احمد نے پریشر صورتحال میں اچھی باؤلنگ کرا کر ثابت کیا کہ افتخار ایک سمارٹ بالر ہے ۔۔ایشیا کپ فائنل میں بھی افتخار نے اچھی باؤلنگ کی تھی۔۔۔محمد نواز کو استعمال نہ کرنا بہرحال غلط فیصلہ تھا۔۔۔دونوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔اور کل یہ ایک اچھا آپشن ملا ہے۔۔۔۔

    حارث رؤف نے ثابت کیا کہ ایک دلیر بالر خراب بال یا اچھی بال پر باؤنڈی کھا کر ہتھیار نہیں پھینکتا ہے۔۔۔بیشک دو رنز رہ جائیں فائیٹ ضرور کرنی چاہیے۔۔بلے باز چڑھائی کرے تو ذہانت سے ہرایا جا سکتا ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی اور محمد حسنین کے سیکھنے کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے۔۔۔نسیم شاہ کو بھی جہاں سوئنگ نہ ملے مشکلات شکار رہتے ہیں۔۔ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں ایک اچھے بالر کو ہر طرح کی ورائیٹی درکار ہے تاکہ اسکی کمزوری حریف کی طاقت نہ بن سکے۔۔۔

    بابر اعظم کے لیے یہ سبق ہے کہ کرکٹ کو ناک سیدھ میں چلانے کی بجائے بعض دفعہ دلیری سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔۔۔پہلی اننگز میں بیٹنگ آرڈر کی جو غلطی کی فیلڈ میں وہ نہیں دہرائی۔۔۔افتخار اور نواز نے اچھی باؤلنگ کی تو عثمان قادر کی بجائے دونوں کے ساتھ کنٹینیو کیا۔۔

    ماضی میں پاکستانی بالرز فلیٹ پچز پر رنز روکتے رہے ہیں۔۔۔کرکٹ کا حسن اسی میں ہے کہ مقابلے کا توازن جاری رہے۔۔۔فلیٹ پچز پر ٹاس جیتو میچ جیتو تھیوری ناکام ہونی چاہیے۔۔۔فیلڈنگ ٹیم کو کم رنز پر بھی جان لڑانی چاہیے اور کل کی فتح اس حوالے سے مورال بلند کرے گی۔۔۔

  • مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.

    دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.

    پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.

    کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.

    کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.

    پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.

    پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.

    ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.

    ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.

    اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.

    اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.

    بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.

    زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.

    ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.

    زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.

    آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.

    کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.

    (مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)

  • ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔

    پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔

    ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔

    ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-

    ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔

    اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔

    میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔

  • اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کسی بھی معاشرے کے لیے ہمہ وقت ایک مفکر، ایک مصلح، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، مخلص دوست، روحانی باپ اور پیشوا ہوتا ہے. اُستاد اپنا تن، من، دھن اپنے شاگردوں کی زندگیوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں لگا دیتا ہے اور وہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتا ہے. ایک اچھا اور بہترین اُستاد ایک مکمل معاشرے کو سنوارنے میں اور اس کے مستقبل کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. پڑھانا نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ وحدہ لم یزل کی طرف سے اُستاد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے. اُستاد چنیدہ ہوتا ہے اور چنیدہ لوگوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہوتی ہیں.

    نبی آخر الزماں خاتم النبیین جنابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس بات پر فخر کیا تھا کہ انھیں معلم بنا کر بھیجا گیا اور آپ ص نے جس طرح اصحابِ صفہ کی تربیت کی اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی. بات یہ ہے کہ معلم اور متعلم کا رشتہ بہت منفرد اور بے غرض ہوتا ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا اُستاد یہ کام کر رہا ہے؟ کیا آج کا اُستاد بچوں کی اخلاقی تربیت کر رہا ہے؟ عصرِ حاضر کا معلم بچوں کو وہ دے رہا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے؟ کیا ہماری موجودہ نوجوان نسل مستقبل کے لئے کارآمد ثابت ہو گی؟ کیا معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات میں اُستاد کا ہاتھ بھی ہے؟ اور کیا بچوں کی اخلاقیات میں خامیاں اساتذہ کی وجہ سے ہیں؟

    یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوال ہمارے ذہن میں اُبھرتے ہیں اور ہم اُن کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اُس کبوتر کی طرح لا پروا ہوئیے بیٹھے ہیں جو بلی کے آنے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے. موجود حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی یہی بات کہہ رہا ہے کہ بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی. گھر والے دھیان نہیں دیتے. اُستاد اب پہلے جیسے نہیں رہے. بچوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں اور وہ ہاتھوں سے نکل رہے ہیں. والدین کی نہیں مانتے، بڑوں کا احترام نہیں کرتے. جو بات کرے اسے آگے سے غیر مہذب انداز سے پیش آتے ہیں. بچے روحانی طور پر کمزور ہو رہے ہیں.
    جس کو دیکھو وہ اُستاد سے بچوں کے متعلق شکایت کر رہا ہے. لوگوں کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا عصرِ حاضر میں اُستاد کو وہ مقام و مرتبہ مل رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟

    بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے کہ اسے ماں سے ہی تربیت نہیں مل رہی. ماں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے موبائل پر لگی ہوتی ہے. بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس پر انفرادی توجہ کرنے کی بجائے اسے موبائل تھما دیا جاتا ہے یا ٹی وی پر عجیب و غریب (poems) نظمیں اور کارٹون لگا دیے جاتے ہیں. وہ توجہ چاہتا ہے اور گھر سے اسے موبائل مل جاتا ہے. باپ کام کاج سے واپس آتا ہے تو بچے کو وقت دینے کی بجائے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بچہ موبائل اور اس کے متعلقات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے اور یوں اُس کو سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ اُستاد توجہ نہیں دیتے. بچے کی عادات پہلے ہی بگڑ چکی ہوتی ہیں اور سکول میں آ کر اسے ہر رنگ کے بچے مل جاتے ہیں اور یوں اس کی اچھی بری عادات کو ہوا ملتی ہے. اُستاد کو تدریس کے علاوہ اور بہت ساری پیچیدہ ذمہ داریوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی نوکری کو بچانے کے پے در پے ہی رہتا ہے. اُستاد صرف ایک کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے تدریس. جب معاشرہ معلم سے وہ کام ہی نہیں لے رہا جس کے لیے وہ آیا ہے تو پھر معلم معاشرے کو وہ کیوں کر دے سکتا ہے معاشرہ جس کا متمنی ہے؟

    سزا و جزا کا تصور ختم کر کے بچوں کو دلیر اور استاد کو کمزور بنا دیا گیا ہے. بچہ گھر سے نکل کر جہاں مرضی جائے، قصور استاد کا ہے. اس کی پڑھائی اچھی نہیں، قصور استاد کا، اس کا نتیجہ اچھا نہیں، قصور استاد کا، وہ غیر حاضر ہے، قصور استاد کا، وہ بدتمیر ہے قصور استاد کا،وہ بد اخلاق ہے قصور استاد کا.

    تو بات یہ کہ ہم اگر یونہی چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے تو ہماری آنے والی نسل نا صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ جسمانی و روحانی لحاظ سے بھی لاغر و ضعیف ہو جائے گی اور ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہیں گے. اچانک ہی یہ سب نہیں ہو جاتا بگاڑ اور سنوار میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے.

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    پرانے زخم مندمل ہوتے وقت لگتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام ایمانداری سے کرے اور ہر ایک کو وہی کام کرنے دیا جائے جو کام وہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ہم اپنے معاشرے کو تمام طرح کی غیر اخلاقی روایات سے محفوظ بنا سکیں

  • اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    ان دنوں وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب لندن میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے بڑے بھائی اور قائد جناب نواز شریف صاحب کے ساتھ نومبر میں ہونے والی متوقع تعیناتی کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں وہیں وہ محترم جناب اسحاق ڈار صاحب کی پاکستان واپسی، سینٹ کا حلف اٹھانے اور اس کے بعد وزیر خزانہ تعیناتی کے بارے میں بھی مشورہ کر رہے ہیں ۔

    بظاہر اسحاق ڈار صاحب کی واپسی کی وجہ مفتاح اسماعیل صاحب کی وزیر خزانہ کے طور پر عوامی غیر مقبولیت، غم و غصہ اور ناکامی ہے لیکن پاکستانی سیاست شطرنج کے کھیل کی طرح ہے جس میں پیادے بادشاہ کو بچانے کے لئے خود کو قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس قربانی پر بادشاہ ان کا شکرگزار نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے ۔

    شہباز شریف صاحب کے سامنے حکومت سنبھالتے ہی دو چیلنج تھے ایک نواز شریف اور اسحاق ڈار کی ملک میں باعزت واپسی کی راہ ہموار کرنا اور دوسرا چیلنج خراب معاشی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے انتہائی سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے لیکن ان کے اثرات پاکستان مسلم لیگ پر نہ آنے دینا ۔

    معیشت کو قابو کرنے کے لئے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ وہ اسحاق ڈار صاحب سے معیشت کو چلانے کے حوالے سے راہنمائی لیں گے لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد یہ خبریں اڑائی گئیں کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار میں اختلافات ہو گئے ہیں اور مفتاح اسماعیل صاحب اپنی مرضی کے مطابق معاشی منصوبے بنا کر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔

    اس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور عوامی رائے مسلم لیگ کے انتہائی مخالف ہو گئی تیل بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے بےپناہ اضافے کی وجہ سے لوگ عمران خان کے دور میں ہونے والی مہنگائی کو بھول گئے اور مسلم لیگ کے موجودہ دور سے بہتر پی ٹی آئی کے دور حکومت کو کہنے لگے ۔

    ایسے عالم میں ایک مخصوص طبقے نے لوگوں کو اسحاق ڈار فارمولے کی طرف متوجہ کیا کہ وہ جیسے بھی ہو مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھتے تھے جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہتا تھا لیکن پہلے پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ساتھ ان کے فارمولے سے اختلاف کیا اور ڈالر پر سے چیک ختم کر کے اسے بے لگام کر دیا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے بھی اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں اور تجربے سے اختلاف رائے کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دوبارہ سے مہنگائی کا طوفان آ گیا ۔

    مسلم لیگ کی حکومت نے پہلے مفتاح اسماعیل کے ذریعے سخت معاشی فیصلے کئے جن کی وجہ سے وہ بطور وزیر خزانہ عوام میں غیر مقبول ہو گئے اور اب جب ان فیصلوں کے ثمرات ملنے کا وقت آ رہا ہے تو وہ بطور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو واپس لا رہے ہیں تا کہ ان ثمرات کا کریڈٹ اسحاق ڈار کو ملے اور انہیں دوبارہ عوامی مقبولیت حاصل ہو جائے اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہو جائے اس طرح مسلم لیگ کی حکومت نے معیشت کی بحالی کا اپنا ہدف بھی حاصل کر لیا اور اسحاق ڈار کی پاکستان میں باعزت واپسی کا ہدف بھی حاصل کر لیا ۔

    شہباز شریف نے پنجاب میں اپنے دور حکومت کے دوران ریکارڈ وقت میں بےشمار ترقیاتی منصوبے مکمل کر کے عوام میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی تھی اکثریت کا خیال تھا کہ 2013 میں وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت بننے کی وجہ پنجاب میں شہباز شریف کے ترقیاتی کام اور مقبولیت تھی اور ان کا خیال تھا کہ اگر شہباز شریف کو وفاق میں موقع دیا گیا تو وہ پورے ملک میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام کرائیں گے ۔

    جبکہ نواز شریف کے بارے میں رائے عامہ یہ تھی کہ وہ چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کی نہیں سنتے اور ان کی عوامی غیر مقبولیت کی وجہ ان قریبی ساتھیوں کے غلط مشورے ہیں اور اگر شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کام نہ کرتے تو پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد مسلم لیگ دوبارہ حکومت میں نہیں آ سکتی تھی اس کے علاوہ ان کی مقتدرہ سے ہمیشہ لڑائی ہوتی ہے جبکہ شہباز شریف مقتدرہ کے لئے قابل قبول ہیں ۔

    مخلوط حکومت بننے کے بعد شہباز شریف کی کارکردگی دیکھ کر لوگوں کی ان کے متعلق خوش فہمیاں دور ہو گئیں ہیں جتنی تیزی سے ان کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے لوگوں نے انہیں اللہ کا عذاب کہنا شروع کر دیا ہے جو کہ بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مسلط ہوا ہے، ابھی حالیہ بیرونی دوروں کے دوران شہباز شریف صاحب کی دوسرے ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران حواس باختگی پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ان کی حرکات دیکھ کر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی سطح کے لیڈر ہیں یا کسی گلی محلے کے ۔

    اب ان کے حامی سر عام کہتے ہیں کہ شہباز شریف صوبائی لیڈر ہیں اور نواز شریف وفاقی اور بین الاقوامی لیڈر، اس لئے اب وہ وقت دور نہیں رہا جب نواز شریف کو ملک میں واپس بلانے کے لئے آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی اور اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف کی بھی الیکشن سے پہلے وطن واپسی ہو جائے گی یعنی شہباز شریف صاحب اپنے دونوں چیلنج پورے کر لیں گے ۔

    آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کا دارومدار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے اس وقت معیشت کی بحالی کے لئے جتنے مشکل فیصلے کرنے تھے وہ مفتاح اسماعیل کے ذریعے کر لئے گئے ہیں اب اگر اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ بن کر ڈالر کی قیمت کو قابو کر لیا اور اسے انتہائی کم سے کم سطح تک لانے میں کامیاب ہو گئے تو لوگ سب بھول کر اسحاق ڈار اور مسلم لیگ کے گیت گانے لگ جائیں گے اور مہنگائی قابو کرنے کے لئے اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیاب کرانے کی ہرممکن کوشش کریں گے اور اگر اسحاق ڈار ایسا نہ کر سکے تو پھر اگلے الیکشن میں عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولے گا ۔

  • مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار  — اعجازالحق عثمانی

    مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی

    کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔

    گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

    گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    ؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں

    ؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
    عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے

    ؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
    وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

    ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    کلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔