Baaghi TV

Category: بلاگ

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔

  • "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    "محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اور کردار سب سے اچھے ہوں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق اور کردار کا بہترین نمونہ تھے۔ وہ نرم مزاج، ہمدرد اور معاشرے میں کسی بھی حیثیت کے باوجود ہر ایک کے لئے ہمیشہ مہربان تھے۔ حتیٰ کہ ان کے دشمن بھی اس کے کردار کی بہت زیادہ باتیں کرتے تھے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “مضبوط وہ نہیں ہے جو اپنی طاقت سے لوگوں پر غالب آجائے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
    (صحیح البخاری ومسلم)

    “اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہے تو اس کا بدلہ احسان سے نہ دو بلکہ اس سے بہتر چیز سے اس کی تلافی کرو۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں۔‘‘
    (بخاری ومسلم)

    “جب دو مسلمان ملیں گے، مصافحہ کریں گے اور ایک دوسرے سے مسکرائیں گے تو اللہ ان دونوں کو معاف کر دے گا۔” ( ترمذی)

    “ایمان میں سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق بہترین ہیں۔” ( ترمذی)

    ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری ومسلم)

    “سب سے پیاری چیزیں جن سے میرا رب اپنی تسبیح کرتا ہے وہ رحم اور شفقت ہے۔” (صحیح البخاری)

    “اپنے بھائی کے لیے تمہاری مسکراہٹ صدقہ ہے۔” (ابو داؤد)

    ان احادیث سے ہم یہ سیکھیں گے کہ اچھے اخلاق ہمارے ایمان کا ایک اہم حصہ ہیں، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور کبھی کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہیے جس نے ہم پر ظلم کیا ہو۔ اس کے بجائے، ہمیں بہت زیادہ مہربان اور معاف کرنے والے بن کر ان کے ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    جب ہم دوسروں سے ملتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مسکراہٹ اور مصافحہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔ شائستگی کا یہ آسان عمل کسی کو قابل قدر اور تعریف کا احساس دلانے میں بہت آگے جا سکتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں، چاہے ہماری سماجی حیثیت یا معاشی صورتحال کچھ بھی ہو۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کا بہترین کردار تھا۔ وہ اپنی شفقت، ہمدردی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش آئے، چاہے ان کی سماجی حیثیت یا مذہب کچھ بھی ہو۔

    حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے فصاحت و بلاغت کے انداز میں بھی مشہور تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کیا اور اس انداز میں بات کی جو سچائی اور مہربان دونوں تھی۔ ان کی تقریریں ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا ہوتی تھیں، بغیر کسی سخت یا جارحانہ انداز کے۔

    مجموعی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور شائستہ انداز نے انہیں اس وقت کے دیگر رہنماؤں سے ممتاز کر دیا۔ اور یہ ان بہت سی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے وہ آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں قابل عزت اور قابل احترام ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ حسن اخلاق صرف شائستہ ہونے کا نام نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے بارے میں فکر مند ہیں اور ان کی ضروریات کو ہم سے پہلے سوچتے ہیں۔ فرمایا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات:

    ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے کپڑے کے ساتھ گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور شائستگی سے کہا، “معاف کیجئے، جناب، لگتا ہے آپ کے کپڑے ٹھیک نہیں ہیں، کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان کو ٹھیک کرنے میں آپ کی مدد کروں؟” وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً توبہ کی اور مسلمان ہو گیا۔

    ایک اور موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور ان کے بالکل سامنے حاجت کی۔اعرابی کی بدتمیزی سے سب کو ناگوار گزرا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسی بات کہنے کے بجائے چھوڑ دوں گا جس سے اللہ ناراض ہو۔

    ایک دفعہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ضرورت ہے اور اس نے کہا کہ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانا چاہیئے. اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اتار کر اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ لے لو اور اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لیے کھانا خریدو۔

    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جنازے کے پاس سے گزر رہے تھے اور آپ نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب آپ کے ساتھیوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “کیا یہ کافی نہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں؟ ہم سب کو اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔”

    ایک دفعہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا چاہیے اور اس آدمی نے کہا کہ اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ نبیؐ نے اپنی قمیص اتار کر اس شخص کو دے دی اور فرمایا کہ اسے بیچ دو اور اس رقم کو اپنی مدد کے لیے استعمال کرو۔

  • ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔

    ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

    شاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
    کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔

    گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
    مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہو

    ہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔

    یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
    تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمن

    خوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
    تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    جڑواں شہروں میں‌ بڑھتے جرائم،ذمہ دارکون؟تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان بطور ریاست حیرت زدہ ہے یہ ملک میں کیا تماشا جاری ہے انتہائی حساس معاملات کو گلیوں‘ چوراہوں‘ جلسے‘ جلوسوں میں زیر بحث لایا جارہا ہے۔ کہانی سلیکٹڈ سے شروع ہو کر امپورٹڈ تک اور اب حساس ترین معاملات کو موضو ع بحث بنا کر کون سی خدمت سرانجام دی جارہی ہے؟ ملکی فضائوں میں سائفر ہی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ عالمی دنیا بھی حیران ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سیاستدانوں کو کیا ہوگیا سیاسی جنگ لڑتے لڑتے حساس معاملات پر لڑنا شروع کردیا۔ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

    مہنگائی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ صحت کے مسائل‘ گندگی کے مسائل و عوامی مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ پنجاب کی عوام پر تو دوہرا عذاب ہے ان کو ڈاکوئوں‘ چوروں‘ رسہ گیروں‘ قبضہ مافیا‘ لینڈ مافیا کے سپرد کردیا گیا ہے۔ مغلیہ دور میں محلوں میں خوشامدی اور مسخرے ہوا کرتے تھے آج کے دور میں سیاستدانوں کی خوشامد اعلیٰ پولیس افسران اور سول انتظامیہ کرتی ہے۔ منافع بخش پوسٹنگ کے لئے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنا‘ صرف سیاستدانوں کی ہاں سے ہاں ملانا ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہر اور راولپنڈی جو حساس ترین شہر ہے جرائم میں اضافہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ پر سوالیہ نشان ہے؟ آئی جی پنجاب بھی بے بس نظر آتے ہیں

    مقتدر حلقے کو اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر فوری نوٹس لینا ہوگا ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ عوام کو جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم تو پولیس اور انتظامیہ کا کام ہوتا ہے لیکن جب پولیس بے بس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بن جائے تو پھر مقتدر حلقوں کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ وطن عزیز کے سیاستدانوں کو سائفر سے فرصت ملے تو خطے کے حالات پر بھی توجہ دیں افغانستان میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کے اثرات اس پورے خطے میں پڑ سکتے ہیں۔ پاک فوج کی ساری توجہ ملکی سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں بالخصوص افغان بارڈر پر ہے ملک میں سیاسی تماشے سے فرصت ملے تو امن و امان کی صورت حال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا -سید منظور گیلانی

    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار
    باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز ) نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کے مشترکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور پاکستان پیپلز موومنٹ کا اجلاس جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ جنت منزل میں ہوا جس کی صدارت چئیرمین این ڈی اے اقبال ڈار اور چئیرمین پی پی ایم سید منظور گیلانی نے کی ملک کی موجودہ صورت حال بجلی مہنگائی ملک کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید منظور گیلانی نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاست کا وقت نہیں ہے ملک کو مضبوط کرنے کا وقت ہے سیاست ستر سال سے کر رہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہے گے لیکن آج ہمیں ایک پاکستانی بن کر ملک کا سوچنا چاہیے یہ ملک ہے تو ہم ہیں ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا اس موقع پر اقبال ڈار نے کہا کہ ملک کی قومی سلامتی سب سے اہم ایشو ہے ہمیں قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کام کرنا چاہیے آپس کی لڑائی میں ملک کا نقصان ہو رہا ہے اس موقع پر وائس چئیرمین شیراز الطاف نے کہا کہ ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں ہم اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود آج بھی عوام کی خدمت بے لوث کر رہے ہیں اور کرتے رہے گے جنت پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل صدام حسین پڈھیار نے کہا ملک میں بجلی کے بلوں نے نہ صرف گھریلوں بلکہ کسانوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے اور غریب عوام کو ریلیف دے اجلاس میں شعیہ پولیٹیکل پارٹی کے سید نو بہار شاہ ,خاکسار تحریک سے ڈاکٹر شجرہ , جمعیت علماء پاکستان ,عوامی فلاحی پارٹی اور استقلال پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی اور آنے والے دنوں میں ملک بھر کے دوروں کو حتمی شکل دی

  • چترال میں دس روزہ  ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    باغی ٹی وی چترال (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر ہوا جس میں 17 پولو ٹیموں نے حصہ لیا فائنل میچ میں چترال پولو ٹیم نے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے دروش پولو ٹیم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کردی۔ بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں تماشائی میدان میں موجود تھے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    صفدرآباد ۔ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے اور این آر او کے متلاشی تھے- رانا وحید احمد خاں

    باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر pp143 رانا وحید احمد خاں کہ حکمران اپنے کیس ختم کروانے کے لیے آئے تھے۔ این آر او کے متلاشی تھے جو انہیں مل گیا عوام مہنگائی سے مر رہی ہے جس کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدامنی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ رانا وحید احمد خاں نے مزید کہا کہ عمران خان نے پہلے بھی کوئی ڈیل نہیں کی اب بھی نہیں کریں گے عمران خان واحد لیڈر ہے جو اپنی قوم کو خود دار اور بااختیار دیکھنا چاہتا ہے۔ عمران خان ہی قوم کی امیدوں کی آخری کرن ہے۔

  • مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    باغی ٹی وی:شیخوپورہ تحصیل مریدکے (محمد طلال سے) ریسکیو 1122 مریدکے میں فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر رانا اعجاز احمد کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔تقریب میں ممبر قومی اسمبلی حلقہ 119 بریگیڈیئر(ر) راحت امان اللہ بھٹی اور ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ 136 خرم اعجاز چٹھہ نے خصوصی شرکت کی اور فائر سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ریسکیو 1122 وزیرِاعلیٰ پنجاب کا ایک عظیم عوامی و فلاحی منصوبہ ہے جو لوگوں کو بہترین خدمات فراہم کرتے ہوئے ان کے جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات کام کر رہاہے اور بروقت ریسپانس کر کے لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریدکے میں ریسکیو 1122 کی پہلے سے موجود عمارت موجودہ وسائل کے مطابق نہ کافی تھی جس سے گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئی عمارت تعمیر ہونے سے ان مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائر سروس کی دستیابی یہاں کی عوام کیلئے بہت بڑی نعمت ہے جس کی مدد سے انڈسٹریل اور گھریلو فائر ایمرجنسی پر قابو پا کراورمدد فراہم کرنے سے قیمتی جانوں و مال کو بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا ہم وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی اور ڈائریکٹر جنرل/سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے مریدکے کی عوام کو فائرسروس کی صورت میں تحفہ دیا۔

  • تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم  "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک بھی "ہوپ گورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے۔ شوکت ملک کو پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں، عامر عقیل، سندس ریاض
    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) نوجوان صحافی شوکت ملک تلہ گنگ کی مؤثر ترین فلاحی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے، اس موقع پر سینئر ممبران عامر عقیل اور سندس ریاض کا بھرپور طریقے سے ویلکم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس طرح کے نامور اور ایکٹیو ممبران ہماری ٹیم کےلیے باعث فخر ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ تلہ گنگ ہوپ گورز فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے دکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ تنظیم میں وسعت کےلیے مزید ممبران کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہر فرد ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بن کر غریب و لاچار اور مستحق لوگوں کےلیے مسیحا کا کردار ادا کر سکتا ہے۔