حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے
باغی ٹی وی :کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن و چیئرمین لیاقت علی چٹھہ کی زیر صدارت تعلیمی بورڈ کے بی او جی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔سیکرٹری بورڈ حبیب الرحمن گاڈی نے بریفنگ دی. اجلاس میں 18ایجنڈا پوائنٹس پر فیصلے دیئے گئے . چیئرمین و کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے بورڈ میں نئی اصلاحات کردی ہیں۔ضمنی کی بجائے اب سیکنڈ سالانہ امتحان ہوگا جس میں فریش طلباء وطالبات بھی شرکت کرسکیں گے۔نئے تعلیمی سال سے پرائیویٹ طلبہ بھی ریگولر کے ساتھ سال کے شروعات میں داخلہ رجسٹریشن کراسکیں گے۔پہلے پرائیویٹ طلبہ کو صرف امتحانات کے نزدیک رجسٹریشن کی سہولت حاصل تھی۔کمشنرنے پینشنرز کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنے کے فیصلہ کی بھی توثیق کردی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن دستاویزات میں غلط مضمون کے اندراج پر متعلقہ تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹسز جاری کئے جائیں گے۔ مضمون کے اندراج ، کلیریکل سٹاف کی غلطی کا نقصان کسی طالب علم کو نہیں ہونے دینگے۔کمشنر نے کہا کہ طلباء وطالبات کو رجسٹریشن سے قبل مضامین سے متعلق مکمل آگاہی دی جائے۔کمشنر و چیئرمین نے کہا کہ بورڈ میں کسی بھی افسر کو اختیارات کا ناجائز استعمال ہرگز نہیں کرنے دینگے۔مالی بدعنوانی اور فرائض میں غفلت پر سخت کارروائی ہوگی۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن خالد منظور،اے سی جی حیات اختر،ڈائریکٹر کالجز،تعلیمی بورڈ کے دیگر افسران اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین موجود تھے۔

Category: بلاگ
-

اب سپلیمنٹری کی بجائے دو سالانہ امتحان ہوں گے، نئی اصلاحات جاری
-

پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی
اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔
تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔
اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟
-

خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!
خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!
تحریر : شوکت ملک
انسانی فطرت ہے جب ایک انسان بار بار اپنوں سے ہی ڈسا جائے تو اس کا یقین، اعتماد اور بھروسہ بلکل اٹھ جاتا ہے، وہ حقیقت اور سچ کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کچھ ایسا ہی گزشتہ کئی سالوں سے تلہ گنگ کی عوام سے ہوتا آرہا ہے، ڈسنے کا یہ عمل 2013 کے عام انتخابات سے شروع ہوتا ہے جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف انتخابی جلسے سے خطاب کےلیے تلہ گنگ تشریف لاتے ہیں، اور تلہ گنگوی سفید پگ پہن کر بھرے جلسے میں اعلان کرتے ہیں کہ اگر ن لیگ کی حکومت بن گئی تو ہم تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دیں گے، اور ساتھ میں تلہ گنگ کو یونیورسٹی دینے سمیت انڈسٹریل زون کا وعدہ بھی کر ڈالا تھا، 2013ء کا الیکشن ہوا مسلم لیگ ن نہ صرف تلہ گنگ سے بھاری اکثریت سے جیتی بلکہ ملک بھر سے کامیابی سمیٹی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، حکومت میں آکر ن لیگ تلہ گنگ کی عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے کی بجائے اقتدار کے نشے میں مگن رہی، ن لیگ کے اقتدار کے آخری ایام میں عوامی دباؤ پر اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن نے وزیراعظم ہاؤس سے ایک ڈائریکٹو جاری کروا کے عوام کی زبان بند کروا دی مگر وہ ڈائریکٹو محض ایک جلعی کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا، اور اس پہ کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کے بعد وقت گزرا 2018 کا الیکشن ہوا پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، ہمارے حلقہ این اے 65 سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ق لیگ کامیاب ہوگئی مگر انہوں نے اس عمل کو ناقابل عمل قرار دے کر خود کو اس بحث سے ہی علیحدہ کرلیا، پھر ضلع تلہ گنگ کا سہرا اپنے سر سجانے کےلیے پی ٹی آئی رہنما ملک یاسر پتوالی میدان عمل میں آئے انہوں نے ضلع تلہ گنگ کے قیام کےلیے کوششیں شروع کر دی، اور بلآخر وہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرضی ڈائریکٹو جاری کروانے میں کامیاب ہوگئے، اس سلسلے میں تلہ گنگ کی نجی مارکی میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں ان کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر استقبال کیا گیا جوکہ بنتا بھی مگر بدقسمتی سے وہ ڈائریکٹو بھی ایک کورے کاغذ کے سوا کچھ نہ تھا، پھر وقت نے کروٹ لی مبینہ امریکی سازش کے نتیجے میں سیاسی جوڑ توڑ کے بعد وفاق میں ن لیگ کی حکمرانی جبکہ تخت پنجاب چند ماہ ن لیگ کے پاس رہنے کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے کنٹرول میں آگیا، اب کی بار چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی اور جانشین حافظ عمار یاسر ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے محکمہ ریونیو پنجاب کا ایک پرپوزل لیٹر سامنے لے کر آئے ہیں جس کی کریڈبیلٹی اور Authentication پر کئی ایک سوالات تو اپنی جگہ موجود ہیں، اور سابقہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتماد کرنا بھی قدرے مشکل ہے مگر پھر بھی دلی دعا ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح ہمارے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ اور فراڈ نہ ہو بلکہ "خدا کرے اب کی بار سچ ہو” اور تلہ گنگ ضلع کا قیام ہمارا مقدر بنے، ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء ترقی و خوشحالی بھی تلہ گنگ ضلع کے قیام سے جڑی ہے۔ -

ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق
پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔
آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔
اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔
پہلا بیانیہ:
سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟
بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!
ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ
تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔
اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟
اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔
دوسرا بیانیہ:
یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟
پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔
تیسرا بیانیہ:
یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔
آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔
اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟
اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔
اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔
اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔
-

روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر
روجھان کی عوام کودر پیش مسائل، حکومت کی توجہ کے منتظر
تحریر : ضامن حسین بکھر
رودکوہی سیلابی ریلوں کے بعد روجھان میں مختلف کے سنگین مسائل کا شکار ہو گیا ہے ،ان مسائل کے حل کے لئے روجھان کی عوام روجھان کی سیاسی قیادت میر مزاری گروپ کے سرکردہ رہنما چیئرمین الیکٹرک پاور ڈویژن برائے اسٹینڈنگ کمیٹی رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری کی توجہ کی منتظر ہے،رودکوہی کے سیلابی ریلوں کے آنے کے بعد جنم لینے والی موجودہ صورتحال پر راقم الحروف کچھ اہم مسائل پر توجہ دلانا ضروری سمجھاہے.
حالیہ رودکوہی کے سیلابی پانی کی وجہ سے روجھان کی مختلف سڑکوں پر پانی کے اخراج کے لئے اور علاقے اور عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے کٹ لگائے گئے جو روجھان کی سلامتی کے لئے سود مند ثابت ہوئے مگر دوران کٹ چوک ٹاور سہیجہ پھاٹک روڈ پر لگنے والے کٹس میں سے ایک پر ایکسیویٹر کی وجہ سے گیس پائپ لائن بھی کٹ گئی سوئی سدرن گیس کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ گیس پائپ لائن میں کٹ لگنے کی وجہ سے بیسیوں کیوبک فٹ قدرتی گیس کا ضیاع بھی ہوا، سدرن گیس کمپنی کو گیس کی سپلائی بند کرنا پڑ گئی کیونکہ لاکھوں روپے کی گیس ضائع ہورہی تھی اس وقت گیس کی بندش کے باعث روجھان سٹی کے سینکڑوں صارفین کو گیس کی سپلائی معطل ہے، گیس کی عدم سپلائی کے باعث صارفین کو شدید اذیت کا سامنا ہے تعلیمی اداروں میں جانے والے طلباء اور طالبات سرکاری ملازمین، کو سب سے زیادہ گھریلو صارفین کو اذیت و دشواری کا سامنا ہے گیس کی بندش کی وجہ سے سوختہ لکڑی 1300/1400 روپے من اور ایل پی جی گیس 350/400 روپے فی کلوگرام میں بھی دستیاب نہیں ہو پا رہی اس سلسلے میں روجھان کے شہریوں نے (گیس صارفین) نے رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری سے اپیل کی ہے کہ گیس پائپ لائن کو جلد از جلد مرمت کر اکر روجھان شہر کی گیس سپلائیبحال کرائی جائے تاکہ مہنگی لکڑی اور ناپید ایل پی جی گیس کی خریداری کی اذیت سے نجات مل سکے.
روجھان میں رودکوہی سیلابی پانی سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس میں روجھان کے سیلاب زدہ مواضعات میں فصلات، جانی و مالی اور بیش بہا لاکھوں کے قیمتی جانوروں رودکوہی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے ، سینکڑوں گھر منہدم ہوئے درجنوں بستاں صفحہ ہستی سے مٹ گئے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اوراب قسم پرسی کی حالت میں برلب سڑک پڑے ہیں جن کو آج بھی مشکلات کا سامنا ہے ضلعی و تحصیل انتظامیہ ،فلاحی اداروں، مخیر حضرات، ملکی و غیر ملکی عوامی سماجی مذہبی و دیگر انسانی حقوق کے اداروں اور حکومت پنجاب کی جانب سے متاثرین سیلاب کو امداد فراہم کی گی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے بروقت امدادی دی گئی ماسوائے روجھان سٹی کے مستحقین خواتین کے آپ کوبتاتاچلوں کہ روجھان سٹی میں کچی آبادیوں کے ساتھ ساتھ روجھان سٹی بھی مکمل طور پر سیلاب سے متاثرہواہے، سینکڑوں شہریوں نے ہجرت کی جنہیں پاک فوج اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، روجھان مکمل طور پر خالی کرایاگیا،رودکوہی کے سیلاب کے شہر میں داخل ہونے کے خدشات کے پیش نظر مفلس و نادار شہریوں نے قرض حسنہ لے کر بچوں اور اپنی فیملیز کی زندگیاں بچائیں یہ بات اظہر من شمس ہے کہ شہر روجھان کے داخلی اور خارجی راستوں سے رودکوہی کا سیلابی پانی داخل ہوتے ہوتے رہ گیا اگر داخلی اور خارجی راستوں کو مٹی سے بند نہ کیا جاتا تو آج روجھان میں بھی پانی کھڑا ہوتا اسی دوران طوفانی بارشوں اور سیم کی وجہ سے شہر میں کافی سارے مکانات کو مکمل توکہیں جزوی نقصان پہنچا اور متعدد مکانات گر گئے مطلب یہ کہ جہاں روجھان کے مواضعات کچی آبادیوں کو نقصانات اٹھانا پڑے وہاں پر روجھان سٹی میں بھی بے شمار نقصانات ہوئے، شہری آج بھی قرض حسنہ لینے کی وجہ سے مقروض ہیں ،دوسری جانب شہر میں دیہاڑی دار، سفید پوش طبقہ کو بڑی اذیت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے کیونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم کی تحصیل روجھان کے مواضعات کے مستحقین خواتین کو ادائیگی کی گئی مگر روجھان سٹی اور اس کی ملحقہ کچی بستیوں جن کا بہت سارا نقصان ہوا ہے ان شہریوں اور کچی آبادی کے رجسٹرڈ مستحقین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقوم نہ ملنا سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جن کے گھر بار اجڑ گئے جن کی پردہ دار متاثرین خواتین سڑکوں اور بندھوں پر برلب سڑک قسم پرسی کی حالت اور وقت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہیں ان رجسٹرڈ مستحقین متاثرین سیلاب خواتین کو رقوم کی ادائیگی کر کے ان کے آنسو پونچھیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے ان کو رقوم کی ادائیگی کی جائے تاکہ ان کے دکھ کا بھی کچھ مدوا ہو سکے ، عوامی، سماجی، شہری، دیہی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام محترمہ شازیہ مری صاحبہ، رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ روجھان سٹی اور کچی آبادی کے رودکوہی سیلابی پانی سے متاثرین رجسٹرڈ خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کی اور دیگر ذرائع سے ادائیگی کی جائے تاکہ اس ملنے والی رقم سے اپنی ضروریات زندگی کی کچھ اشیاء کی خریداری کر کے اپنے تصرف میں لاسکیں. -

سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے)پیر سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 24 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔سالانہ عرس کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز 23 ستمبر کو جنڈیالہ شیر خان میں ہو گا اور تقریبات 25 ستمبر تک جاری رہیں گی۔

-

ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی
ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی۔
باغی ٹی وی : ایک کار اور وین لیزنگ کمپنی ویناراما کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابقD1 مائیکرو چِپ ایک سیکنڈ میں 362 ہزار ارب آپریشن کر سکتی ہے جبکہ انسان کا دماغ 10 لاکھ ہزار ارب آپریشن فی سیکنڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس مائیکرو چِپ کے کام کرنے کی صلاحیت انسانی دماغ کے36 فی صد ہے۔
بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا
کمپنی نے یہ پیش گوئی ماضی اور موجودہ ٹیسلا چِپس کا تجزیہ کرتے ہوئے کی جس میں کمپنی کو معلوم ہوا کہ مائیکرو چپس کی صلاحیت میں ہر سال 486 فی صد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ویناراما کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی اس سال اپنی نئی D1 چِپ متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ چِپ ڈوجو سُپر کمپیوٹر پلیٹ فارم اور ٹیسلا کےآٹو پائلٹ سیلف ڈرائیونگ سسٹم کا اہم حصہ ہوگی۔
پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا
سائنس دانوں کا کافی عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مصنوعی ذہانت انسانی کی ذہنی صلاحیت سے سبقت لے جائے گی اگرچہ اس حوالے سے متعدد آراء پائی جاتی ہیں کہ ایسا کب ہوگا۔
ویناراما کا کہنا ہے کہ اس بات کو ماننا پاگل پن نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں ہی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی۔ فی الوقت مائیکروچِپس انسانوں کے دماغ کے سِناپسِز(اعصابی خلیوں کے درمیان جوڑ) کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق
-

ضمنی انتاخابات کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی الیکشن میں اعلان کردہ تاریخ کو 12ربیع الاول کے دن آنے پر 16اکتوبر کو الیکشن کرانے کا دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
باغی ٹی وی ،شیخوپورہ(محمدطلال )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے 4 حلقوں میں 9 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا،این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209 خانیوال، پی پی 241 بہاولنگر میں پولنگ 9 اکتوبر کی بجائے 16 اکتوبر کو ہوگی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ تبدیلی عید میلادالنبی کی وجہ سے کی ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق 16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی

-

چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی
چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔ -

فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
تحریر:محمد ریاض
پاپا جی، ہم کون ہیں؟ بیٹا، کیا مطلب؟ پاپا جی ہمار ا کون سا مذہب ہے؟ بیٹا، ہم مسلمان ہیں۔ نہیں پاپا جی ہم کون ہیں؟ مطلب ہم بریلوی ہیں؟دیوبندی ہیں؟ شیعہ ہیں یا پھر وہابی؟بیٹا اس طرح نہیں کہتے، ہم صرف مسلمان ہیں،اگر کوئی آپ سے دوبارہ پوچھے تو آپ نے صرف یہی کہنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اچھا پاپا جی!! ویسے بیٹا آپکو یہ سب کیسے پتا؟ پا پا جی، میری کلاس میں میرا دوست مجھ سے یہ پوچھ رہا تھاکہ آپ لوگ کون ہیں؟بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں شیعہ ہیں یا پھروہابی؟ گزشتہ دنوں درج بالا سوال و جواب کی نشست بندہ ناچیز اور اسکے انگلش میڈیم سکول میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے بیٹے محمد احمد ریاض کے درمیان ہوئی۔ بہرحال اس تحریر میں بندہ ناچیزکا اپنی اُس کیفیت کا یہاں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کہ جس وقت میرا ننھا شہزادہ یہ سوالات پوچھ رہا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ پرستی ہمارے ہاں کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ننھے مُنھے بچے جنہوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ان بچوں کے ابھی کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے کے دن ہیں اور قرآن مجید و فرقان حمید سیکھنے اور اسکے ساتھ ساتھ دین اسلام کی پیاری پیاری باتیں اور دعائیں سیکھنے کے دن ہیں ان ننھے منھے ذہنوں میں یہ فرقہ پرستی کون ڈال رہا ہے؟ اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جا سکتیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست پاکستان میں فرقہ پرستی سے نہ ہی ہماری مساجد و مدارس محفوظ ہیں بلکہ گھر، محلے، بازار، فیکٹریاں، رشتہ داریاں، سول سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بالفاظِ دیگر زندگی کے ہر شعبہ کے افراد اس مسئلے کا شکار ہوچکے ہیں۔ اپنے بیٹے سے اس تکلیف دہ نشست کے بعد میں نے اللہ کریم کا کروڑہاکروڑ شکر ادا کیا کہ اللہ کریم کی ذات نے بہت عرصہ پہلے ہی اِن مسائل سے بالا تر ہوکر ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار کر اتحادِ اُمت کے لئے کام کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، میں تمام مسالک کے ساتھیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ الحمدللہ،میں بہت عرصہ سے مسلمانوں کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کرلیتا ہوں۔ چاہے وہ مسجد بریلوی مکاتبِ فکر کی ہو یا دیوبندی یا پھراہلحدیث۔ ہر مسلک کے امام کے پیچھے نماز ادا کرلیتا ہوں۔الحمدللہ میں اللہ کریم کی ذات پر پختہ ایمان و یقین رکھتے ہوئے نماز ادا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہر مسلمان کے پیچھے میری نماز قبول ہوگی۔ اپنے ننھے شہزادے کیساتھ اس چھوٹی سی گفت وشنید کے بعد میں نے اللہ کریم کا اس بات پر بھی شکر ادا کیا کہ میں نے اسی کی توفیق اور عطا ء سے اپنے ننھے شہزادے کو مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کے مسائل سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے ننھے شہزادے کو اپنے علاقہ کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز کے لئے لیکر چلا جاتا ہوں۔نماز کے لئے جاتے ہوئے میرا بیٹا جس مسجد کی طرف اشارہ کرتا ہے میں اسکو اسی مسجد میں لیکر چلا جاتا ہوں۔کیونکہ جس دن میں نے ننھے شہزادے کو کہا کہ بیٹا اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا تو اس ننھے شہزادے کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات آئیں گے، جیسا کہ پاپا جی اس مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں جانا؟ تو یقینی بات ہے مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ بیٹا اس مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی۔ بیٹے نے پھر اگلا سوال داغ دینا ہے کہ پاپا جی اس مسجد میں ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے بدلے میرے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوگا کہ بیٹا یہ مسجد بریلویوں کی ہے یا پھر دیوبندیوں یا وہابیوں کی ہے۔ ننھے دماغ نے پھر اگلا سوال کرنا ہے کہ پاپا جی یہ بریلوی، دیوبندی اور وہابی کون ہوتے ہیں؟ پھر یقینی بات ہے کہ میرے پاس ہر مسلک کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ ہوگاکہ بچپن ہی میں اس ننھے دماغ میں مسلمانوں کی ہر جماعت کے بارے میں زہرآلود مواد کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے۔میرا ننھا شہزادہ کسی مسجد میں اونچی آواز میں آمین کی آوازیں بھی سنتا ہے تو کسی جگہ پر کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا باآواز بلند ورد بھی سنتا ہے۔کہیں پر سینے پر ہاتھ رکھے اور کہیں پر زیر ناف ہاتھ باندھے، کہیں پر رفع یدین کیساتھ تو کہیں پر بغیر رفع یدین کیساتھ فرزندان توحید کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔یاد رہے مسلمانوں کے درمیان نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی میں اختلاف رائے صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کی بناء پر دشمنی، نفرت، عداوت، دوریاں اور پھر اس سے بڑھ کر قتل و غارت گری جیسے فتنوں کو جنم دیا جائے۔ بندہ نا چیز برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام سے چند ادنیٰ سے سوالات کرنے کی جسارت کرے گا کہ قرآن و احادیث کی کس مقدس کتاب میں بریلوی، دیوبندی یا وہابی مسلک کا ذکر درج ہے؟ کیا دِین اسلام کی تعلیمات ہمیں فرقہ پرستی سے روکتی ہیں یا پھر فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام علماء کرام اپنی تمام تر توانیاں ہمارے ہاں پائی جانے والی خرافات، شرک و بدعات کا قلع قمع کرنے اور غیر مسلم افراد کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے میں صرف کریں ناکہ اپنے اپنے مسالک کے دفاع میں دن رات ایک کردیں۔انتہائی ادب واحترام سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اپنے آپکو مسلمان کہلوانے سے زیادہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کہلوانے میں زیادہ فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کو فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر مسلمان کی حیثیت سے اُمت کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمت، توفیق و استقامت عطا فرمائے اور باہمی محبت و الفت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین