Baaghi TV

Category: بلاگ

  • باباگورونانک دیو جی کے 553 ویں جنم دن کے حوالے سے سالانہ تقریبات 06نومبر سے شروع

    باباگورونانک دیو جی کے 553 ویں جنم دن کے حوالے سے سالانہ تقریبات 06نومبر سے شروع

    باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز) باباگورونانک دیو جی کے 553ویں جنم دن کے حوالے سے سالانہ تقریبات 06نومبر سے شروع ہوکر 09نومبر تک جاری رہے گی جس میں دنیا بھر سے ہزاروںسکھ یاتری شرکت کریں گے، اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سکھ یاتریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور فول پروف سیکورٹی فراہم کرناضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں جس کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنے محکمہ کی جانب سے جامع ایکشن پلان ترتیب دے کرتین یوم کے اندر پیش کریں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس وپلاننگ ننکانہ رانا امجدعلی نے ان خیالات کااظہار بابا گرونانک دیوجی کے 553و ےجنم دن کی تقریبات کے سلسلہ میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ سٹی آصف اقبال،ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن زاہد ہما شاہ ،ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر مسعودبھٹی،انچارج سیکورٹی برانچ ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر کامران واجد،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122اکرم پنوار ،محکمہ سول ڈیفنس ، اوقاف سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی اس موقع پر تمام متعلقہ اداروں کے افسران کی جانب سے اے ڈی سی فنانس ننکانہ کو بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے دوران کیے جانے والے سیکورٹی ودیگر انتظامات بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ رانا امجد علی نے کہا کہ گوردوارہ جنم استھان کے اندر نیشنل بنک،ٹیلی فون،واپڈا،سول ڈیفس،ٹی ایم اے،محکمہ صحت سمیت تمام ضلعی محکمے اپنا اپنا کاﺅنٹر قائم کریں گے تاکہ سکھ یاتریوں کی تمام مشکلات کا موقع پر ہی ازالہ کیا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ تقریبات کے ایام میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مکمل کوریج کے لیے مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے ایام میں صفائی ستھرائی کے لیے سپیشل صفائی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو کہ شہر بھر کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں گی.

  • ڈیرہ غازیخان: واپڈا نے ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردئے

    ڈیرہ غازیخان: واپڈا نے ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردئے

    ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) حکومتی پالیسی کے تحت ڈیرہ غازیخان سرکل کے سیلاب میں ڈوبے 48%فیصد علاقے میں ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردیے گئے۔201بیجز میں دو ماہ کے بجلی کے بل معاف کردیے گئے۔ اگست ستمبر2022کے ایک یونٹ سے لیکر 300یونٹ تک کے گھریلوبجلی کے بل معاف،جوبل اد اکرچکے انہیں اکتوبر کے بلوں میں کریڈٹ مل جائیگا۔ 300یونٹ سے زائد کے بلوں پر LPSبھی معاف کردیاگیا۔یہ بات ایس ای میپکو ڈی جی خان محمدشکیل حسنین نے اپنے دفتر میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی ان کے ہمراہ ڈپٹی کمرشل منیجر محمدحسین قریشی بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایاکہ حالیہ سیلاب سے سرکل کے علاقے فورٹ منرو،وہوا،اور ٹبی قیصرانی 100%فیصد متاثر ہوئے جبکہ کوئٹہ روڈ،شاہ صدر دین،چوٹی،روجھان،داجل شادن لنڈاور تونسہ رورل 50%فیصد سے زیادہ متاثر ہوئے دیگر علاقے 50%فیصد سے کم متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں، اس طرح سرکل ڈی جی خان کے تمام 201بیجز میں 48%فیصد بیجز متاثرہوئے جن کے ماہ اگست اور ستمبر2022کے 300یونٹ تک کے بل معاف کردئیے گئے ہیں۔جبکہ ستمبر کے بل جو 300یونٹ سے زائد کے بل ہیں ان پر FPAلگاہے اس سے کم یونٹ کے استعمال پر FPAنہیں لگایاگیا۔

  • محمد پور دیوان : نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال

    محمد پور دیوان : نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال

    باغی ٹی وی محمد پور دیوان(محمد جنید احمدانی نامہ نگار) نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال
    محمد پور دیوان کے نواحی علاقے نور واہ نزد چک کوڑے والہ کی سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور متعدد دفعہ مقامی نمائندوں کو بھی بتایا گیا کہ یہ سڑک عرصہ دراز سے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث پیدل بھی نہیں چلا جا سکتا اور اس کے علاوہ کسی طبی امداد کے حصول کے لیے ایمبولینس بھی نہیں آ سکتی لیکن کسی بھی سردار کے کان تک جوں نہ رینگی علاقہ مکین منتیں سماجتیں کر کر کے تھک گئے آخر کار انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکھٹا کیا جس میں ایک مخیر حضرات نے کثیر رقم دی اور نام نہ ظاہر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے علاقے کی اس سڑک کا کام شروع کروانے میں ہاتھ بڑاھایا جو کہ کچھ روز تک مکمل ہو جائے گی اور علاقہ مکین مقامی سرادروں سے خفا ہونے کا اظار کر چکے ہیں علاقہ مکینوں نے اے ون ٹی سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس روڈ سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب مقامی سردار یا وڈیرے روڈ تک نہیں بنوا کر دے سکتے تو ہمیں دیگر سہولیات خاک دیتے رہے ہوں گے جبکہ یہ علاقہ محمد پور 1 میں آتا ہے

  • پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھد کھرل)علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے پچھلے 30 سال سے علی پو روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے جس کی وجہ سے اس علاقے کی ترقی رکی ہے علاقہ مکین اپنے حق کے احتجاجی ریلی سید نگر علی پورچھٹہ سے شروع ہو کر حافظ آباد پہنچنے پر فوارہ چوک میں پہنچ کر دھرنا دے دیا مظاہرین کے مطابق علی پور روڈ کیلئے 9 ارب کے فنڈ منظور ہوئے لیکن روٹ ہی تبدیل کر دیا گیا جو ہمیں منظور نہیں 14 فٹ کی بجائے ڈبل روڈ بنایا جائے جس سے علاقہ مکینوں سمیت دیگر شہروں کو بھی فائدہ پہنچے گا حافظ آباد علی پور روڑ کے علاقہ مکینوں کا فوارہ چوک میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کر کے احتجاجی مظاہرہ حکومت مخالف مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور کہا انتظامیہ نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم احتجاجی دھرنا بھی دینگے ہم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہمیں بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ھے آنے والے الیکشن میں عوامی نمائندے کس منہ سے ہم سے ووٹ مانگیں گے ہم چاہتے ہیں منتخب نمائندے ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا بنیادی حق یہ سڑک تعمیر کی جائے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹنٹ کمشنر حافظ آباد مزاکرات کے لیے آئے جسے مظاہرین یہ کہہ کر بھیج دیا ڈی سی حافظ آباد کو بلایا جائے اور رکشے پر علی پور تک سفر کرنا چاہیے

  • پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    پنڈی بھٹیاں:عدم ادائیگی بل سکول کی بجلی کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو پریشانی کاسامنا

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں:(شاھد کھرل) بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول کا میٹر کٹ گیا، طلباء وطالبات کو شدید پریشانی میں مبتلا، سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا سی او ایجوکیشن جاوید اقبال بابر صاحب کو تمام تر صورتحال کے بارے علم ہونےکے باوجود آنکھیں بند کئیے ہوئے ہیں، تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ، بجلی کا بل گزشتہ سات ماہ سے بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے میٹر کٹ گیا، والدین کے مطابق سابقہ ہیڈ مسٹریس میڈیم رضیہ نے مبینہ طور پر فنڈز خوردبرد کئیے فنڈز کا صیح استمال نہ کیا، جسکی وجہ سے بجلی کا میٹر کٹ گیا، سابقہ ریکارڈ کے مطابق سکول ہیڈ میڈیم رضیہ کی تعیناتی 1999 کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول حسن پورہ میں ہوئی مئی 2017 میں مبینہ 14 لاکھ کرپشن ثابت ہوئی، جوکہ چند ماہ تنخواہ میں سے باقاعدہ طور پر کٹوتی بھی ہوتی رہی، ستمبر 2017 میں سفارشات کی بنیاد پر دوبارا بطور ہیڈ سکول کا چارج سنبھالا، والدین کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے دیا جانا والا NSB فنڈز اور سکول سے اکھٹا کیا جانے والا FTF فنڈز بھی کرپشن کی نظر ہو گیا، گزشتہ سات ماہ سے سکول کا بل ادا نہیں کیا گیا، جسکی وجہ سے واپڈا والے بجلی کا میٹر اتار کر لے گئے، یہاں تک کہ صفائی کرنے والوں خواتین کی تین تین ماہ کی تنخواہیں بھی نہیں دی گئی، متعدد پرائیویٹ ٹیچرز کو تقریباً تین ماہ کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جا سکتی، والدین کے مطابق ڈپٹی ڈی او زنانہ کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ سرکاری خزانے کو چونا لگایا جاتا رہا، والدین کا چیف سیکرٹری پنجاب اور کمیشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تر معمالات کی اعلی سطح پر انکوائری کروائی جائے، تاکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے،

  • ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    مملکت خداداد میں موجودہ دور میں کوئی بھی کام سفارش اور رشوت کے بغیر کرانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، دو نمبر کام کےلیے رشوت کا بازار گرم کرنے میں جتنا ہاتھ سرکاری محکموں میں بیٹھے افسران و ملازمان کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا بھی ہے، کیونکہ کسی بھی جائز و ناجائز کام کےلیے رشوت کی آفر سب سے پہلے ہم خود کرتے ہیں اور دیتے ہیں، جس کے باعث یہ ناسور اتنا پھیل چکا ہے کہ اب اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، مگر سرکاری محکموں میں آج بھی کئی ایک ایماندار افسران بیٹھے ہیں جنہوں نے اس ناسور کیخلاف اعلان بغاوت کر رکھا ہے جن میں سے ایک نام انچارج ڈرائیونگ لائسنس ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن برانچ ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا بھی ہے۔
    گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانا ہوا، جہاں پر کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کیخلاف انتہائی بہادری اور جرات مندانہ طریقے سے لڑنے والے انتہائی فرض شناس، ایماندار، خوش اخلاق، خوش لباس، خوش گفتار، خوش شکل ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جن کی ایمانداری اور فرض شناسی کے چرچے گزشتہ کئی ماہ سے سن رکھے تھے، اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنانے کےلیے ڈی ایس پی آفس گیا تو ڈی ایس پی منیر احمد اعوان وہاں پر تشریف فرما اپنے کسی مہمان کو بتا رہے تھے کہ جب میری پوسٹنگ بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ ہوئی مجھے کہا گیا ڈی ایس پی صاحب یہاں لوٹ مار کا بازار اس قدر گرم ہے کہ آپ اس سسٹم کیساتھ نہیں لڑ سکتے، مگر ڈی ایس پی منیر احمد اعوان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا وہ میرا مسئلہ ہے مجھے اچھی طرح معلوم کہ سسٹم کو کیسے رشوت خوری جیسے ناسور سے پاک کرنا ہے اور میری موجودگی میں میرے سٹاف کا کوئی بندہ رشوت لے کر دکھائے میرا کھلا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے پورے سٹاف کو بتایا ہے کہ رشوت کا ایک روپیہ بھی اگر کسی نے لیا یا کسی شہری کیساتھ بدتمیزی کی، مِس بی ہیو کیا تو نہ صرف اس کیخلاف ایف آئی آر درج کروں گا بلکہ اس کو نوکری سے بھی فارغ کراؤں گا چاہیے اس کےلیے مجھے خود کورٹس کے چکر ہی کیوں نہ لگانے پڑیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہاں پوسٹنگ کے بعد بہت سارے لوگوں نے مجھے میرے آفس آ کر بھی آفرز کی اور کہا صاحب چھوڑیں جیسے پہلے سسٹم چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دیجئے مگر میں نے کہا میری موجودگی میں ایسا کوئی سوچے بھی مت، ان کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا سر میں کچھ بات کر سکتا ہوں جس پر انہوں نے کہا بیٹا ضرور بات کریں لیکن پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ سے لائسنس کے سرکاری فیس کے علاوہ کسی نے کوئی پیسے تو نہیں مانگے، میں نے کہا نہیں سر بلکل بھی نہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا اب آپ اپنی بات کیجئے، میں نے اپنا مختصر تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق میڈیا سے ہے ایک ورکنگ جرنلسٹ ہوں اور یہ سن کر ہی یہاں آیا ہوں کہ بلدیہ ٹاؤن برانچ میں ایک ایماندار ڈی ایس پی آیا ہے جوکہ نہ رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کو لینے دیتا ہے، اور واقعی آج خود سارے پراسس سے گزر کر یقین ہوگیا کہ جہاں پر ایک ایک لائسنس کے بطورِ رشوت ہزاروں روپے بٹورے جاتے تھے وہاں پر رشوت کا نام تک موجود نہیں، میں نے کہا سر، سندھ جیسے صوبے میں جہاں کی گورنمنٹ سمیت تمام سرکاری محکمے ہی کرپشن اور رشوت خوری کا گڑھ بنے ہوئے ہیں وہاں پر ایسے ناسور کیخلاف دیدہ دلیری سے لڑنے پر آپ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
    جس پر ان کا کہنا تھا کہ بیٹا اس میں میرا کچھ کمال نہیں بس اللّٰہ پاک کیساتھ ایمان کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نہ صرف خود حرام کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے سے روکتا ہے بلکہ اپنے ماتحت دوسرے لوگوں کو بھی حرام کھانے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی میری سروس کے دوران کسی کی مجال ہے کہ وہ دو نمبر کاموں کے پیسے لے کر خود بھی حرام کھائے اور اپنے بچوں کو بھی کھلائے، کم از کم میرے ہوتے ہوئے ایسا ناممکن ہے، گفتگو کے اختتام پر پوچھنے پر معلوم ہوا ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا تعلق بھی شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال سے ہے۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا اگر منیر احمد اعوان جیسے ایماندار اور فرض شناس آفیسرز کو سرکاری محکموں میں بلا روک ٹوک، بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے کام کرنے دیا جائے اور پروموٹ کیا جائے تو یقیناً ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر ہوگی۔ اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    زمین پر5 سمندر بحر ہند، بحر اوقیانوس، بحر الکاہل، آرکٹک اوشین اور سدرن اوشین (بحر منجمد جنوبی) ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے چھٹے سمندر کو دریافت کیا ہے جو زمین کی سطح سے سیکڑوں کلومیٹر نیچے موجود ہے-

    باغی ٹی وی : زمین کی اندرونی ساخت اورحرکیات کو مینٹل ٹرانزیشن زون اور لوئر مینٹل کے درمیان 660 کلومیٹر کی باؤنڈری سے تشکیل دیا گیا ہے تاہم، اس گہرائی سے قدرتی نمونوں کی کمی کی وجہ سے، اس حد کی نوعیت اس کی ساخت اور اس میں اتار چڑھاؤ کے بہاؤ پر بحث ہوتی رہتی ہے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    660 کلومیٹر کا وقفہ، کثافت اور زلزلہ کی لہر کی رفتار میں اچانک تبدیلیوں کے ذریعے نشان زد کیا گیا، ہمارے سیارے کے عالمی ڈھانچے میں سے ایک ہے جو سطح اور گہرے اندرونی حصوں کے درمیان حرارت اور بڑے پیمانے پر تبادلے کو کنٹرول کرتا ہے۔

    جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے زمین کی اوپری اور نچلی پرت کے درمیان پانی کے بہت بڑے ذخیرے کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیاپانی کا یہ ذخیرہ زمین کی سطح سے 410 سے 660 کلومیٹر گہرائی میں موجود ہوسکتا ہے۔

    اس بات کا انکشاف افریقی ملک بوٹسوانا میں ملنے والے ایک ہیرے پر تحقیق کے دوران ہوا جس کے کیمیائی مجموعے سے عندیہ ملا کہ یہ زمین کی سطح سے 660 کلومیٹر نیچے پانی کے ماحول میں تشکیل پایا قدرتی ہیرے زمین کی سطح سے 150 سے 250 کلومیٹر کی گہرائی میں تشکیل پاتے ہیں مگر کچھ بہت زیادہ گہرائی میں ہوتے ہیں۔

     

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    تحقیق کے مطابق زمین کے اندر چھپا یہ سمندر سطح تک تو نہیں پہنچتا مگر اس میں ایسے منرلز موجود ہیں جو اس خطے کو بہت زیادہ دلدلی بناتے ہیں اس سے فرانس کے 19 ویں صدی کے معروف ناول نگار Jules Verne کے پیش کردہ خیال کو تقویت ملتی ہے کہ زمین کے اندر بھی ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔

    محققین اس سمندر کو دیکھنے یا محسوس کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے مگر انہوں نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی گہرائی میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ہم نےثابت کیا کہ زمین کی گہرائی میں وہ حصہ خشک نہیں بلکہ وہاں بہت زیادہ مقدار میں پانی موجود ہےتو اس جگہ پانی کی کتنی مقدارہوسکتی ہے؟مصدقہ طور پر کچھ کہنا تو ممکن نہیں مگرمحققین کےخیال میں اس حصےمیں زمین کے سمندروں میں موجود پانی سے 6 گنا زیادہ پانی جذب ہوسکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی اوپری اور نچلی تہہ کےدرمیان پانی ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ واقعی ایسا ہے یا نہیں۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے ینگسٹر جانتے ہونگے کہ اکثر شارٹس میں استعمال ہونے والے گانے بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم اوریجنل مکمل گانا سنتے ہیں تو دل گالیاں دینے کو کرتا ہے۔

    بالکل یہی حساب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بڑے پیج کا ایڈمن ایک شارٹ میچ دیکھ لیتا ہے جس میں کوئی پلئیر اچھا کھیل رہا ہے اور پھر کمپین شروع ہو جاتی ہے کہ اس کو کھلاؤ۔

    اور یوں اس کھلاڑی کی بکواس گیم دیکھ کر ہم جیسے شائقین کڑھتے رہتے ہیں۔

    خوشدل شاہ برا کھلاڑی نہیں مگر اس کو ڈومیسٹک اور لیگ میچز کھلانے چاہیں۔ اس غریب نے ایک میچ میں اچھی سینچری بنائی تھی اور شائد ایک ٹورنامنٹ اچھا کھیلا تھا کمپین چلی کہ خوشدل شاہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر یوٹیوبر کرکٹر نے زور دیا ٹیم میں آیا تو پرچی بن گیا۔

    شان مسعود، عزم خان، حیدر علی ان کے بارے میں باقاعدہ کمپینز چلی ہیں کہ یہ مہا توپ کھلاڑی ہیں ان کو کھلائیں مگر ہر بار انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کو کیوں نہیں کھلانا چاہیے ہے۔

    آجکل خیر سے شرجیل خان کا چرچا کسی نے چلوا دیا ہے ساتھ ساتھ عماد وسیم اور شعیب ملک کا بھی کارڈ کھیلا جا رہا ہے حالانکہ یہ پہلے ورلڈکپس میں کیا کر چکے ہیں سب کو معلوم ہے۔ اب اگر ایک ایک ٹورنامنٹ انکا اچھا گزر گیا ہے تو پھر سے ان کو ہم پر لوگ عذاب بنوا کر نازل کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف انڈیا کا سوریا کمار یادو ہے۔ سکائی کو بارہ سال لگے انڈین نیشنل ٹیم میں آنے کے لئے، اس دوران اس نے بہترین فرسٹ کلاس کھیلی، تین سال آئی پی ایل میں پانی پلایا اور پھر موقعہ ملا اور اب جاکر قومی ٹیم کا حصہ بنا ہے اور شروع سے اب تک اس کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔

    یہی حساب حارث رؤف کا ہے حارث نے دو سال باہر بیٹھ کر میچ دیکھے پھر دوبئی لیگ اور پھر لاہور قلندر سے پرفارمنس شروع کی اور اب تک چلتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں باقی ایک ایک ٹورنامنٹ والے کھلاڑی جن میں مجارٹی مڈل آرڈر میں ہے وہ ہمیں ہر میچ میں مایوس اور ذلیل کرتے ہیں جس پر ہر میچ میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ان کے ٹیم میں لانے کے قصوروار وہی ہیں جو آج ان کو پرچی پرچی کہہ رہے ہیں۔

    ابھی ورلڈکپ میں یہی ٹیم ہوگی لیکن میری امید فقط بابر، رضوان، فخر، افتخار، حارث، شاہین اور شاداب سے جڑی ہے باقی پرچیوں کو دیکھنے کا بھی دل نہیں کرے گا نا کرتا ہے۔ وہیں ایک ٹورنامنٹ کے کھلاڑی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والوں کو اتنا ہی کہونگا کہ

    Don’t make one match sensation a super star.

  • یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی، لیکن کب؟؟؟ — سیدرا صدف

    یہ ہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔۔۔لیکن کب؟؟؟ "کب” پر ہی سارا مسئلہ کھڑا ہے۔۔کافی عرصے سے نشان دہی کی جا رہی تھی کہ ہمارا مڈل آرڈر کمزور ہے۔۔۔جو سیریز ہم نے حفیظ اور ملک کے بغیر کھیلیں اس میں دشواری آئی۔۔لہذا بار بار ملک اور حفیظ کی شمولیت ہوتی تھی۔۔ یہاں سے غلطی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔جب دونوں کے متبادل دستیاب نہیں تھے تو انکو لگاتار کھیلایا جاتا اور سیریز یا ٹورنمنٹ کے غیر اہم میچز میں ریسٹ دے کر کسی نئے کھلاڑی کو عین اس نمبر اور رول کے لیے تیار کیا جاتا۔۔

    صورتحال یہ ہے کہ ٹیم میں مڈل آرڈر کا ایک بھی جارحانہ اور سمجھدار بلے باز نہیں ہے۔۔۔اچھا بلے باز ہر نمبر پر کھیل سکتا ہے لیکن ہر کھلاڑی ایڈجسٹ کر لے ضروری نہیں ہے۔۔۔مسئلہ اوپننگ جوڑی کو چھیڑ کر بابر کو ون ڈاؤن کرنے سے بھی حل نہیں ہونا کیونکہ پہلی تین پوزیشنز ٹاپ آرڈر کی ہیں۔۔۔ہمارا اصل سر درد مڈل آرڈر ہے۔۔۔اس سردرد میں کچھ حصہ غیر معیاری سلیکشن,کچھ حصہ کھلاڑیوں کی غیر ذمہ داری, اور باقی حصہ بیٹنگ آرڈر مس منیجمنٹ کا ہے۔۔۔

    انگلستان کی طرف سے ہر میچ میں مڈل آرڈر نے پرفارم کیا۔۔بھارت کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئینٹی میں ساؤتھ افریقین مڈل آرڈر نے بتا دیا رنز کا تعاقب کیسے کیا جاتا ہے۔۔سری لنکا کو ایشین چمئین بنانے میں 50 فیصد حصہ مڈل آرڈر کا رہا۔۔۔سوریا کمار کی مثالیں دی جا رہی ہیں تو سوریا کمار بھی نمبر چار پر آ کر بلے بازی کرتے ہیں۔۔بلکہ سوریا, دنیش کارتک اور پانڈیا تینوں مڈل آرڈر میں پرفارمنسز دے رہے ہیں۔۔

    بابر کی کپتانی کبھی بہترین اور کبھی انتہائی بدترین درمیانی راہ نہیں ہے۔۔۔فائنل کا درجہ لیے میچ میں آؤٹ آف فارم خوشدل کو حیدر کی جگہ لانے کی سوچ سمجھ سے باہر تھی۔۔۔حیدر اور خوشدل دونوں ہی مسلسل ناکام جا رہے تھے لیکن فیصلہ کن میچ میں آپ اسی کھلاڑی کے ساتھ جائیں گے جو پہلے سے کھیل تھا اور آخری میچ میں نسبتاً بہتر کھیلا تھا۔۔

    خوشدل کے لیے پرچی کے نعرے لگے جو کہ تکلیف دہ تھے۔۔۔ہوم کراؤڈ اگر کسی کھلاڑی کے آؤٹ ہونے پر خوشیاں منائے تو وہ زناٹے دار طمانچہ ٹیم منیجمنٹ کے منہہ پر ہے۔۔۔۔قصور ٹیم منیجمنٹ کا ہے جس نے آؤٹ آف فارم ڈراپ کھلاڑی کو فیصلہ کن میچ میں کھیلایا اور پھر 200 کے تعاقب میں نمبر چار پر اتار دیا جبکہ محمد نواز دستیاب تھے۔۔۔

    آصف علی کا ٹیلینٹ دو درجن گیندوں تک محدود ہو گیا ہے۔۔۔آخری اوورز میں باری آئے تو کچھ چھکے لگنے کے چانسز ہیں اگر باری 12ویں اوور تک آ گئی تو میچ کی صورتحال سے قطع نظر وہ اننگز نہیں جما پاتے ہیں حالانکہ وہ بطور "مستند بلے باز” کھیلتے ہیں۔۔
    شان مسعود جس فارم کو لے کر ٹیم میں شامل ہوئے تھے وہ کھو چکی ہے۔۔۔افتخار احمد پر شاید ٹیم منیجمنٹ کی ہدایات کا اثر ہے۔۔شاداب اور نواز کا بیٹنگ میں کیا رول ہے اس کا اللہ کے سوا ٹیم منیجمنٹ کو پتہ ہے۔۔۔۔دونوں کھلاڑیوں کو ٹیم منیجمنٹ ضائع کر رہی ہے۔۔۔۔

    فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ بھی شاہین اور حارث نکال کر تشویشناک ہے۔۔۔شاہین انجری سے واپس آئیں گے ان پر دباؤ ہو گا۔۔نسیم شاہ بھی واپسی کریں گے۔۔۔۔وسیم جونیئر, حسنین اور دھانی وہ اسلحہ ہیں جو ملک اور دشمن کے لیے بیک وقت خطرہ ہے کسی طرف بھی چل سکتے ہیں۔۔

    اگر انہی چراغوں سے روشنی کرنی ہے تو ہر بلے باز کو ایک مستقل نمبر اور رول دیں۔۔۔ٹاپ یا مڈل آرڈر کے مستند بلے باز بہتر کھیلیں تو آخری اوورز میں زیادہ چھکوں کی آس نہیں رہتی ہے۔۔۔ البتہ کسی غیر معمولی صورتحال میں بیٹنگ آرڈر ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔۔

    اس سیریز میں نہ تو کھلاڑی ذمہ داری لینے کے موڈ میں لگے نہ ہی ٹیم منیجمنٹ کا کوئی پلان نظر آیا۔۔۔کسی کھلاڑی نے کوشش نہیں کی کہ مثبت ذہن سے کھیلے اور کسی مسئلے کا حل ثابت ہو۔۔

    نیوزی لینڈ میں شیڈول سیریز کے بعد ورلڈکپ میں جانا ہے۔۔۔اس سیریز میں مسئلے حل نہ ہوئے تو ورلڈکپ میں ہمیں فرشتوں کی مدد درکار ہو گی جو کم از کم ہمیں کیچز ہی پکڑ دیں باقی گزارا ایک دو کھلاڑیوں کے چلنے سے ہو جائے گا۔۔