Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    عورت کسی بھی گھر بلکہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کی حامل اور مانندِ ریڑھ ہوتی ہے۔ اگر عورت صحت مند اور تندرست نہ رہے تو گھر کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور اگر عورتیں کسی ایسی موزی و خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو گھر تو گھر معاشرے کا نظام اور توازن بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔

    کیونکہ ایک عورت ایک گھر ایک خاندان پر مشتمل یونٹ کی وہ بنیادی اکائی ہوتی ہے جو کسی جسمانی یا نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجائے تو پورا گھر ایک ایسی افرا تفری اور انتشار سے روبرو ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ایک الگ مسئلہ ہے۔

    اس صورتحال میں گھر اور معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کی صحت کا خیال کرے, اس کو پیش آمدہ صحت کے مسائل سے ناصرف باخبر رہے بلکہ عورت کو ہر دم آگاہی بہم پہنچاتا رہے تاکہ عورت اپنا اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکے۔

    بریسٹ کینسر یا چھاتی کا سرطان بھی ایک ایسی موزی اور خطرناک بیماری ہے جس کا شکار مرد اور عورت دونوں ہوسکتے ہیں لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہورہی ہیں اور ہوتی ہیں۔

    اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص بروقت ہوجائے تو قیمتی جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں, ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ہمارے ہاں ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے لیکن گزشتہ دس پندرہ سالوں سے پاکستان میں اس حوالے شعور و آگاہی پھیلانے کی مہم چلائی جاتی ہے جس کا سہرا بلخصوص پنک ربن Pink Ribbon نامی این جی او کو جاتا ہے جو فی سبیل اللہ اس موذی مرض کے خلاف نا صرف متحرک ہیں بلکہ اس کے تدراک کے لیے عملی کوششوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon پاکستان بھر میں بریسٹ کینسر اویئرنس سیمینارز, کانفرنس اور لیکچرز منعقد کرواتے ہیں اور معاشرے کے باشعور و پڑھے لکھے طبقے کی مدد سے ناخوانداہ افراد کو آگاہی پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

    پنک ربن Pink Ribbon کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے میں 109 خواتین بریسٹ کینسر کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں۔ سالانہ 90,000 نئے چھاتی کے کینسر کے واقعات کے اضافے کے ساتھ سالانہ 40,000 سے زیادہ اموات ایک سنگین تشویش کا معاملہ اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگرچہ، بروقت تشخیص اور مناسب علاج چھاتی کے کینسر کے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو 90 فیصد تک بڑھا سکتا ہے, لیکن اس کے لیے ہمیں کھل کر بریسٹ کینسر پر بات کرنی ہوگی کیونکہ ماہواری اور دیگر خواتین کے نفسیاتی و جسمانی اور معاشرتی مسائل کی طرح اس بیماری پر بات کرنا بھی ہمارے معاشرے میں ایک ٹیبو ہے مطلب لوگ ناک منہ چڑھاتے اور اس مسئلے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

    اسی لیے ملک بھر میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے سے لے کر حکومتوں اور نجی تنظیموں کے ساتھ مؤثر اتحاد قائم کرنے سے لے کر سپریم کورٹ کے ذریعے عدالتی وکالت تک؛ پنک ربن نے کامیابی کے ساتھ ‘چھاتی کے کینسر’ کے ممنوع موضوع کو ایک فعال ‘نیشنل ہیلتھ ایجنڈا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

    دوسری طرف، پنک ربن Pink Ribbon پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر ہسپتال بنا رہے ہیں جو اب تک 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ہسپتال کا مقصد سالانہ 40,000 چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو او پی ڈی، الٹراساؤنڈ، میموگرام، کیموتھراپی، سرجری، اور ان ڈور پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سہولت سمیت عالمی معیار کی تشخیص اور علاج کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    پنک ربن ایک خیراتی ادارہ ہے جو خالصتاً زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی شکل میں عوامی فلاحی کاموں پر منحصر ہے, اس لیے عوام کو جس میڈیم سے بھی بریسٹ کینسر اور پنک ربن کی بابت معلومات ملیں وہ حسب توفیق اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر جثہ ضرور جمع کروائیں۔

    یاد رکھیں یہ مرض زیادہ تر عورتوں کو لاحق ہوتا ہے جو آپ کی ماں, بہن, بیوی اور بیٹی کے روپ میں اس معاشرے میں ہر لمحہ موجود رہتی ہیں اس لیے اس خطرناک اور موذی مرض کی آگاہی لازمی لیں اور اپنے گھر کی عورتوں کو اس بارے میں بتاکر ان کا خوف کم کریں کہ اگر بروقت تشخیص ہوجائے تو سروائیول کے چانسز بہت زیادہ ہیں البتہ دیر ہوجائے یا بلکل معلوم ہی نہ ہو تو پھر اس مرض سے موت ہونا طے امر ہے۔

    یہ بیماری خاموشی سے ہمارے معاشرے میں پھیل اور پھل پھول رہی ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف اس بابت ناقص معلومات یا کم علمی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس بیماری کے پھیلنے اور اس قدر خطرناک ہونے کی اصل وجہ شرمساری اور خاموشی بھی ہے۔

    گھریلو خواتین جن کی آنکھ ایک پدر سری اور توہم پرستی سے لبریز معاشرے میں کھلی ہے وہ نہ تو خود توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے ایسے مسائل کھل کر ڈسکس کرتی ہیں کہ نام نہاد مشرقیت اور خود ساختہ شریعت کا بھاری بھرکم بوجھ پہلے ہی سینے پر ہوتا ہے کہ اگر بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوگئی تو دنیا کیا سوچے گی, میرے گھر کے مرد کیا سوچیں گے وغیرہ وغیرہ اور بیشک ہمارے سماج کی عورتوں کا یہ ڈر خوف اور شرمساری بے جا بھی نہیں کہ ہمارے معاشرےکا مرد عورت کی زیب و زینت کا تو خوب عاشق اور متمنی رہتا ہے لیکن اس کی اسی زیب و زینت کی طبی صحت اور نفسیاتی عوامل سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

    آپ مرد ہیں تو یہ بات سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ٹیبو Taboo خواہ وہ ماہواری کے مسائل پر آگاہی ہو, سیکسشوئیل معاملات پر آگاہی ہو یا پھر سروائیکل و بریسٹ کینسر کی بابت آگاہی ہو کو آپ ہی توڑ سکتے ہیں اگر آپ خود سے ان معاملات پر آگاہی حاصل کریں اور اپنی بیوی کو بتائیں اور سمجھائیں اور وہ پھر آگےآپکی ماں بہن بیٹی اور تمام رشتہ دار خواتین کو آگاہی دے تو آپ صدقہ جاریہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔

    عورتیں خواہ مغرب کی ہوں یا مشرق کی۔ ۔ ۔ جب تک ان کو ان کے باپ, شوہر, بھائی اور بیٹے ہمت, حوصلہ اور اعتماد نہ دیں وہ بیچاریاں اپنی ذات سے متعلق مسائل, امراض اور معاملات میں بھی تذبذب, ڈر, خوف اور شرمساری کا شکار رہ کر موت کو تو گلے لگالیتی ہیں لیکن کسی اپنے یا پرائے سے اس قدر ممنوعہ بنا دیئے گئے معاملات ڈسکس نہیں کرپاتی۔

    آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کا عالمی دن تھا لیکن ہمارے ہاں سوائے پنک ربن Pink Ribbon کے کوئی اس دن کو یاد نہیں کرتا اور نہ ہی خود سے اپنی گھر کی عورت کو اس بابت کچھ پتہ کرنے یا بتانے کا قصد کرتا ہے۔

    بریسٹ کینسر کو مات دینی ہے تو پہلے معاشرتی اور سماجی شرم و حیا کا میکنزم اور ڈیکورم بدلیں ورنہ بریسٹ کینسر اور اس جیسی دیگر موذی بیماریاں آپ کے معاشرے کی عورت کو نگلتی رہیں گی کہ وہ شرم و حیا کا چولا پہنے مرتی مر جائیں گی لیکن اپنی بیماری یا اپنی تکلیف کو راز ہی رکھیں گی, جس سے عورتوں اور مردوں کا تناسب خراب ہوگا اور معاشرہ عدم توازن کی طرف جائے گاکہ

    وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

    بہر کیف آپ کو بریسٹ کینسر سے متعلق جس طرح کی بھی معلومات درکار ہوں آپ بذریعہ انٹرنیٹ پنک ربن کی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا روابط سے حاصل کرسکتے۔ اس پیغام کو آج کے دن بلخصوص اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کی خواتین سے ضرور شیئرکیجیئے تاکہ وہ خود اس مرض کی تشخیص کرنا سیکھ سکیں اور بروقت آگاہی سے موت کے منہ میں جانے سے بچ سکیں۔

  • بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ( ویب ڈیسک) بجلی بلوں میں ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاور سیکٹر سے متعلق نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2022 میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں کیپیسٹی پیمنٹس میں 107 ارب روپے اضافہ ہوا اور 2021-22 میں 721 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کی گئیں جو 21 میں 614 ارب روپے تھیں۔نیپرا رپورٹ کے مطابق 2021-22میں ایل این جی کی قلت کے باعث مہنگے پاور پلانٹس چلائے گئے، ایل این جی کی قلت سے صارفین پر 19 ارب 33کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا، ملک میں بجلی کی طلب کے باوجود بہترین صلاحیت والے پلانٹس نہیں چلائے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گڈو پاور پلانٹ کے ایک یونٹ سے بجلی پیدا نہ کرنے سے 55 ارب روپے کا نقصان ہوا، چھ شوگر ملیں 2 سال سے بجلی کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا کہہ رہی ہیں، بجلی کمپنیاں اپنے علاقوں میں پلانٹس سے سستی بجلی نہیں خرید رہیں۔نیپرا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بجلی بلوں کے ذریعے بھاری ٹیکس لیے جاتے ہیں، وفاقی حکومت نے بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکس اور سرچارج عائد کر رکھے ہیں، بجلی بلوں پر ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے تعلق نہیں، سسٹم کی ناقص کارکردگی کا بوجھ بھی سرچارجز کے ذریعے عوام بھگت رہے ہیں۔
    نیپرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکسز ڈیوٹیز اور سرچارجز سمیت ٹی وی فیس وصولی سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ ادارے خود براہ راست عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے قابل نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن ہر شہری کو بجلی میسر نہیں ہے۔

  • روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    روجھان : گذشتہ 2 سال سے گرلز ہائیر سیکنڈری سکول میں نہ اساتذہ تعینات ہوئے اور نہ ہی کلاسز کا اجراء ،طالبات سراپاء احتجاج

    باغی ٹی وی :روجھان (ضامن حسین بکھر) پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب حکومت کے نعرے دھرے کے دھرے روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان حکومت کی عدم توجہ سے طالبات کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ روجھان میں سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان کی طالبات نے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں کلاسز کی تعلیمی سرگرمیاں جاری نہ ہونے اور تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر طالبات سراپاء احتجاج ۔
    تفصیلات کے مطابق

    روجھان میں عرصہ دو سالوں سے گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں کلاسز کا اجراء نہ ہونے سٹاف کی عدم تعیناتی اور اسکول میں تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی پر آج سن رائز گرلز اکیڈمی روجھان میں پرنسپل اکیڈمی ہذا عبدالرسول مزاری کی قیادت میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول میں سٹاف ٹیچرس کی عدم تعیناتی کلاسز کی عدم آغاز پر طالبات نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان میں عرصہ دو سال سے صرف کاغزی طور پر اسکول کو چلایا جا رہا ہے یہاں پر بچیوں کو پڑھنے کے لئے کوئی سہولیات میسر نہیں ہے روجھان میں کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں جو طالبات کو تعلیمی سہولت میسر کر سکے طالبات نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ روجھان کی طالبات کو گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے اور سٹاف ٹیچرس تک نہیں ہے طالبات کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ پڑھے لکھے پنجاب کا نعرہ لگانے والوں نے روجھان کی طالبات کو تعلیمی سہولیات سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے اور روجھان کی طالبات کا تعلیمی مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریک ہو رہا ہے مگر مجال ہے کہ ایجوکیشن ذمہ داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی طالبات کا کہنا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کی تعلیم روجھان میں اور امتحانی سنٹر بھی روجھان ہی میں قائم کیا جائے احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا تھا کہ روجھان ہی میں ہائیر ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جائے اور طالبات کا کہنا تھا کہ ہم کبھی عمرکوٹ کبھی مٹھن کوٹ اور کبھی راجن پور جا کر عتاب کا شکار ہوتی ہیں طالبات نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے روجھان میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول روجھان میں ٹیچرس کی تعیناتی کلاسز کا آغاز تعلیمی سرگرمیوں اور روجھان ہی میں امتحانی سنٹر قائم کیا جائے تاکہ ہم گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول کے ہوتے ہوئے تعلیم کے حصول کے دربدر جانا پڑتا ہے نہیں تو پڑھے گا پنجاب بڑھے گا پنجاب کا نعرہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اس موقع پر پرنسپل اکیڈمی ہذا نے حکومت اور روجھان سیاسی قیادت کی توجہ تعلیمی نظام کے جانب مبذول کرائی طالبات نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر روجھان میں تعلیم کی عدم سہولیات کے بارے میں نعرے درج تھے ۔

  • ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    باغی ٹی وی : قصبہ سمینہ(جواداکبرنامہ نگار )سیلاب متاثرین کے لیے امتحان کے بعدایک اور امتحان سیلاب جیسی قدرتی آفت میں اپنا جانی ومالی نقصان کے بعد بے حال ہی تھے گورنمنٹ کی طرف سے بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی 25000 روپے کی رقم کے وصول کے لیے متاثرین جن میں شامل بزرگ بیمار اور خواتین جو کہ صبح نماز کے بعد اپنی لائن میں شامل ہو کر شدید گرمی اور حبس برداشت کرتے ہوئے انتظار کرنے لگتے ہیں اور شام گئے تک دھکے کھانے پے مجبور اوپر سے عملہ کا میرٹ کا قتل سب سےپہلے اپنے من پسند سفارشی ٹولہ کو رقم کی ادائیگی اور اس کے ساتھ ساتھ ہر بندے سےایک ہزار سے دو ہزار حرام رشوت بٹورنے لگےاور اس کام کے لیے کچھ اپنے مخصوص ایجنٹ چھوڑ رکھے ہوئے ہیں ،سیلاب متاثرین اور بے نظیر انکم سپورٹ کی اہل خواتین نے انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس مافیاء کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے.

  • کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے  ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    باغی ٹی وی :کوٹ چھٹہ(شعیب خان لنگاہ سے)پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور عوام کو تحفے میں لاشیں دی جارہی ہیں پیپلزپارٹی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی حکومت ، ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں بدل دیا کوئی محلہ گلی ایسی نہیں جہاں سیوریج کا پانی نہ کھڑا ہو سیوریج کے پانی سے کئی کئی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ ڈیرہ غازیخان کے مین روڈز، محلے کی گلیوں میں مین ہول کے ڈھکن نہ ہونے سے کل ماڈل ٹاون کے رہائشی فیاض کے دو جواں سالہ بچے سکول سے واپسی پہ وقار کنٹین کے ساتھ کھلے مین ہول میں جاگرے جس سے امیر حمزہ شہید ہو گیا اور محمد طیب شدید زخمی ہو گیا جسے نشتر ریفر کیا گیا حکومتی بے حسی، اور انتظامیہ کی نااہلی نے پورے شہر کی فضا کو سوگوار کر دیا پاکستان پیپلز پارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے پیپلزپارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی ہم آر پی او، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کرتے ہیں امیرحمزہ کے قتل کی ایف آئی آر، نا اہل ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن پر درج کی جائےان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کےضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پیپلزپارٹی کے ضلعی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی مزید ان کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں جہاں جہاں بھی سیوریج کا مسئلہ ہے اور پورے شہر میں مین ہول کے ڈھکن نہیں ہیں وہ فوری طور پر لگائے جائیں اگر فلفور سیوریج اور ڈھکنوں کا مسلہ حل نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی عوام کی بھلائی کے لیے احتجاج کرے گی اس موقع پر ضلعی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شعیب لنگاہ بھی ہمراہ تھے

  • ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام

    باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان(شہزادخان سے) گورنمنٹ ایسو سی ایٹ کالج (بوائز ) ڈیرہ غازیخان میں پروازِ شاہین پروگرام کے سلسلے میں طلبہ کی علمی و فنی تربیت کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تربیتی نشست کی صدارت پرنسپل کالج ہذا پروفیسر محمد بخش بلوچ نے کی، مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کی ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ تھیں ،مہمان اعزاز ڈاکٹر کاشف فرمان چیئرمین،اور علی رضا خان پروازِ شاہین پروگرام تھے۔تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن اختر ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ کی کالج کے لیے پیش کی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،ڈاکٹر شاہینہ نجیب کھوسہ نے طلبہ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ محنت کی عظمت کو اجا گر کیا جا ئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرز کے پروگرام کو جاری رکھا جا ئے۔انہوں نے کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو پروگرام میں بھرپور دلچسپی لینے پر دادِ تحسین پیش کی ۔ چونکہ یہ نشست طلبہ کی تربیت کے لیے رکھی گئی تھی لہٰذا دلچسپ اور معلومات سے بھرپور لیکچر دیا اور موضوعاتی گفتگو سے طلبہ کے علم میں اضافہ کیا یہ لیکچر خصوصی طور پر طلبہ کی دلچسپی کا مرکز رہا اور طلبہ نے اس سے بھرپور استفادہ کیا

  • سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!

    سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!

    سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!
    تحریر : شوکت ملک
    سوشل میڈیا نے گزشتہ ایک عرصے سے جہاں مختلف امور میں اپنا لوہا منوایا ہے، نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لاکھڑا کیا، علاقائی و ملکی مسائل پر سوشل میڈیا کی آواز نے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اس کے علاوہ دیگر مثبت پہلوؤں کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے کئی ایک ایک منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز اور فینز کا سراب ہے، ہم اپنے ہزاروں لاکھوں میں سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز، فینز کو گویا اپنی فیملی سمجھ کر ان سے ڈھیر ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز اور فینر ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں، جب کبھی آپ پہ مشکل وقت آیا آپ کی فیملی اور چند قریبی مخلص ساتھیوں اور دوستوں کے علاوہ یہ فرینڈز، فالورز اور فینز دور دور تک نظر نہیں آتے، بلکہ آپ کا حال احوال تک پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتے، گزشتہ دونوں ڈینگی فیور کے دوران اس تجربے سے گزرنے کے بعد اس بات کا قوی یقین ہوگیا ہے کہ یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز فینز ایک سراب اور دھوکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو رہیں تو آپ کی بلے بلے واہ واہ اور چند دن غائب ہو جائیں تو کوئی حال احوال پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتا، لہٰذا ان فرینڈز، فالورز اور فینز کو عارضی اور ٹائم پاس ہی کنسڈر کریں اور ان کو اہمیت دینے اور بلاوجہ اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے حقیقی رشتوں، مخلص دوستوں اور اپنی فیملی کو ٹائم دیں ان کی قدر کریں تاکہ مشکل وقت میں آپ کے کام آ سکیں۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اپنے حقیقی رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • زومبیز — ریاض علی خٹک

    زومبیز — ریاض علی خٹک

    سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

    فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

    ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

    اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.

  • "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "ماہِ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ربیع الاوّل ایک ایسا عظیم الشان مہینہ ہے ۔ جس میں تاریکی، روشنی میں بدلی۔اور جہالت ، تہذیب میں تبدیل ہوئی۔ ربیع الاول کی اس قدر فضیلت کی وجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ ہے۔ اسی ماہ یعنی ربیع الاول کی 12 تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی، پیغمبروں کے سردار، جنت کے سردار کے نانا، آقا کائنات، وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کائنات فانی میں بھیج کر نہ صرف مسلمانوں یا انسانوں، بلکہ کائنات کی ہر اک مخلوق پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں پر بے شمار احسانات کیے ۔ ہمارے لیے ماں باپ بنائے۔ رشتے بنائے ۔

    پھر ان رشتوں میں ہمارے لیے پیار و احساس جیسے جذبات پیدا کیے۔ موسم ، رنگ برنگے پھول اور دل کو چھو لینے والی قدرتی حسن سے مالا مال جگہیں بنائیں۔پھر کھانے کے لیے کیا کیا نہ بنایا ۔یہ سب بڑے احسانات ہیں۔ مگر ان سب احسانوں سے اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہمارے درمیان اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجنا ہے۔اس احسان کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

    لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍo (سورۃ آل عمران 3 : 164)

    ترجمہ: "بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہیں میں سے عظمت والا رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے”۔

    بلاشبہ عرب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے گمراہی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چاروں جانب گناہوں اور جہالت کا اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ اچھائی کا ہونا ناممکن سا ہوگیا تھا۔ باپ ، بیٹے کا دشمن تھا۔ اور بیٹیوں کو باپ زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ رشتوں کی تمیز ختم اور خون سفید ہوچکے تھے ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے آکر ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے قابل بنایا۔ جہالت کو تہذیب اور اندھیرے کو روشنی میں ایسے بدلا کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کے بھائی بن گئے ۔ بیوی کو باندھی سمجھنے والے ، اسے نصف ایمان کا درجہ دینے لگے ۔

    بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی بجائے انھیں رحمت سمجھا جانے لگا۔یہ سب کیوں نہ ہوتا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار اور اسوہ اس قدر کامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن بھی آپ کی صداقت اور ایمانتداری کو سلام کرتے تھے ۔

    سلام اے آمنہ کے لال ‘ اے محبوب سبحانی
    سلام اے فخر موجودات ‘ فخر نوعِ انسانی

    سلام! اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
    سلام! اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

    سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
    سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

    ربیع الاول کی آمد سے قبل ہی مسلمان اس کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ربیع الاول کے آغاز سے ہی گھروں، دفاتر اور مساجد میں چراغ کیا جاتا ہے ۔گھر ،گھر ،گلی ،گلی روشن نظر آتی ہے ۔ مگر ربیع الاول میں جس ہستی کی آمد پر ہم خوشیاں مناتے ہیں ۔ کیا اس ہستی کا پیغام ہمیں یاد ہے ؟۔ گھر تو روشن کر لیتے ہیں ۔ مگر دلوں میں نفرتیں، کدورتیں اور بغص ہی رکھتے ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں گھروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم جہالت کے اندھیروں میں پھر سے ڈوبتے جارہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے ماہ ربیع الاول کے پیغام کو فراموش کر کے ، اس ماہِ مبارک میں صرف گھر روشن اور جھنڈیاں لگانے شروع کر دی ہیں۔

    بیشتر لوگ اب بیٹیوں کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھنے لگے ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے کیسز سامنے آتے ہیں کہ بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ یہ سارے واقعات رونما نہ ہوتے ۔اگر ہم نے ربیع الاول اور اس ماہِ مبارک میں پیدا ہونے والی ہستی کے پیغام کو روشن کیا ہوتا۔ اگر ہم نے اپنے گھروں کو روشن کرنے کی بجائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو روشن کیا ہوتا تو آج کا یہ معاشرہ بہت بہتر ہوتا۔

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟