Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پرائمری اسکول کے ایک کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے اور غلطی کو نہ دہرانے کے وعدے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طالب علم کرسی پر بیٹھی بظاہر ناراض نظر آتی اپنی ٹیچر کو منا رہا ہے اور ٹیچر بار بار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تم ہر بار وعدہ کرتے ہوئے اور پھر کلاس میں وہی کرنے لگتے ہو اب میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
    https://twitter.com/Gulzar_sahab/status/1569327422000230400?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر کے اس طرح کہنے پر بچہ مزید پریشان ہو جاتا ہے اور وہ خفا ٹیچر کو منانے کی کوششیں اور تیز کردیتا ہےکبھی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتا ہے تو کبھی ان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر چہرہ قریب لاتا ہے اور معافی مانگتا ہے وہ ایک موقع پر پیار بھی کرلیتا ہے۔

    بچے کو اتنا لاڈ کرتا دیکھ کر ٹیچر کا دل پگھل جاتا ہے اور وہ بچے سے غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لے کر اسے معاف کردیتی ہیں اور بچہ انھیں پیار کرتا ہے جس کے بعد ٹیچرایک بار پھر غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لیتے ہوئے بچے کو پیار کرتی ہے-


    اکثر صارفین نے بچے اور ٹیچر کے درمیان مضبوط جذباتی رشتے کی تعریف کی تاہم کچھ صارفین اپنے زمانہ طالب علمی میں ایسی ٹیچرز میسر نہ آنے پر آہیں بھرتے نظر آئے جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر مرد ٹیچر اپنی طالبعلم کے ساتھ اس طرح بی ہیو کرتا تو ویڈیو پر ایک مختلف ردعمل دیکھنے کو ملتا اساتذہ کے لیے یہ ایک مختلف قسم کی سنسنی ہے۔
    https://twitter.com/SoniAnkitK95949/status/1569385417971044353?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    https://twitter.com/CaugusteC/status/1569765354448236544?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    جس پر ایک صارف نے کہا کہ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے اس سے قطعی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہےلڑکیوں کے ساتھ ایسا کرنے والے مرد اساتذہ بدتمیز ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسئلہ نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اس طرح کے اساتذہ کہاں تھے؟


    بعض صارفین نے ٹیچر کے اس عمل کو سراہا کہا کہ آپ کو ایک بہت بڑا سلام اور بہت زیادہ احترام محترمہ ایک استاد کا ایسا ہی ہونا چاہیئے بہت قریب آنے والا، پیار کرنے والا، نرم دل، بہت زیادہ صبر کے ساتھ ، بچے اس کے ساتھ بہت آرام سے رہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اسے پیشہ ورانہ مقابلے کے نام پر کھو دیا، امید ہے کہ کچھ دن ہم سب اس طرح کی انسان دوستی اور پیار بھری تعلیم کی طرف لوٹیں گے۔

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

  • چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم حضرت امام حسین ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
    باغی ٹی وی – کندھ کوٹ(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر آفس میں چھلم امام حسین کے انتظامات کا۔ جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس بلوایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی کا کہنا تھا کہ ہمارا ضلع ایک پرامن ضلع ہے۔ محرم الحرام مشترکہ تعاون اور امن سے گزرا جس میں علماء کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر علماء کو مشورہ دیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔آپس میں امن اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر مختلف علماء نے چہلم کے دوران اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ جلوس میں سخت سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا ، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور امن قائم رکھا جائے گا۔ گشت کو شہروں اور دیہاتوں تک بڑھایا جائے گا ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چہلم کے جلوس کے مقررہ راستوں پر صفائی اور لائٹنگ کا انتظام کریں۔ سیپکو حکام کو ہدایت وه چہلم کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکرکے علما ، نے۔ بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    برمنگھم:سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے صرف 100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت کیے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے اپنے سیارےسےنمایاں طور پر بڑے ہیں اور ان میں سے ایک زندگی کے لیے موزوں بھی ہو سکتا ہے جن میں سے ایک کا ماحول ممکنہ طور پرزمین سے مشابہ ہوسکتا ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق، سپر ارتھ نظام شمسی میں ایکسپوپلینیٹ کا ایک منفرد طبقہ ہے جو ہمارے سیارے سے زیادہ بڑے ہیں وہ گیس اور چٹان کے کچھ امتزاج سے بنتے ہیں اور زمین کی کمیت سے 10 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسپوپلینیٹ سروے سیٹلائٹ اوریونیورسٹی آف لیج کی سرچ فارہیبی ایبل سیاروں ایکلیپسنگ الٹراکول اسٹارز (SPECULOS) کے ذریعے دریافت ہونے والی یہ دریافتیں فلکیات اور فلکیاتی طبیعیات کے جریدے میں شائع کی جائیں گی۔

    LP 890-9 ستارے کے گرد دو ایگزو پلینٹ LP 890-9b اور LP 890-9c موجود ہیں جن میں قبل الذکر سیارہ پہلے ناسا کے ٹرازِٹنگ ایگزو پلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے دریافت کیا تھا۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع


    اس سیارے کی درجہ بندی یونیورسٹی آف برمنگھم میں نصب اسپیکیولوس (SPECLOOS) ٹیلی اسکوپ نے کی جس نے بعد ازاں دوسرے سیارے کو دریافت کیا LP 890-9b زمین سے 30 فی صد بڑا سیارہ ہے جس کا رداس 5,200 میل سے زیادہ ہے اور یہ اپنے مرکزی ستارے گرد چکر 2.7 دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔

    تاہم، LP 890-9c زمین سے 40 فی صد بڑا ہے اور اس کے مدار کا دورانیہ قدرے بڑا ہے۔ یہ اپنے مرکزی ستارے کے گرد 8.5 دنوں میں چکر مکمل کرتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کے اور ستارے درمیانہ فاصلہ اس سیارے کو زندگی کے لیے سازگار بناتا ہےاسپیکیولوس ٹیلی اسکوپ کا مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایسے چٹیل سیارے ڈھونڈنا ہے جس کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہو۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسپیکیولوس ٹیم، جس نے دوسرے سیارے کی دریافت میں مدد دی، کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر امورے ٹرائیڈ کا کہنا تھا کہ ہیبیٹیبل زون ایک ایسا خیال ہے جس کے تحت وہ سیارہ جس کے ارضیاتی اور ماحولیاتی صورت زمین کے مشابہ ہوتا ہے اور اس کی سرزمین پر درجہ حرارت پانی کو اربوں سالوں تک مائع حالت میں رہنے دیتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دریافت ہمیں سیارے کے متعلق مزید مشاہدات کرنے کا موقع دیتی ہے کہ آیا اس کا کوئی ماحول ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ زندگی گزارنے کے قابل ہے کہ نہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

  • کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    ہم دور جاہلیت کے مسلمان کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ؟ اس کے لئے ہم سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ دور جاہلیت تھا کیا ؟ دور جاہلیت دین اسلام کے آنے سے پہلے کے دور کو کہا جاتا ہے ۔ اگر ہم اس دور کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں ایک دوسرے کا حق مارنا فخر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ، ان کو اپنے ہاتھوں قتل کر دینا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا ، ماں کو لاوارث سمجھ کر منڈیوں میں بیچ دیا جاتا تھا ۔ جائیداد کی طرح آپس میں تقسیم کیا جاتا تھا ، والدین کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا تھا ۔ غلاموں کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ۔ طاقت ور کمزور کو انسان سمجھنے کو ہی تیار نہیں تھا اگر آج ہم اپنے معاشرے پر روشنی ڈالیں تو دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ دور جاہلیت میں یہی تمام کام کفار ومشرکین کیا کرتے تھے جب کہ آج کے دور میں ہم نام نہاد مسلمان بھی یہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سی ایسی برائیاں نظر آتی ہیں جو دور جاہلیت میں کفار و مشرکین میں موجود تھی ۔

    سب سے پہلے ہم بات کریں گے کہ دور جاہلیت میں بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا جاتا تھا اگر ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے کا ہی واقع ہے کہ ایک آدمی نے اپنی چند دن کی بیٹی کو محض اس لیے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے اسے تو لڑکا چاہیے تھا ۔

    اگر ہم غلاموں اور کمزور افراد کی طرف دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے ہی ہم سب نے ایک واقعہ پڑھا کہ ایک کمزور انسان کے بچے نے ایک طاقتور کے گھر کے باغ سے ایک پھول توڑا تو طاقت ور انسان نے اپنے رشتے داروں کو بلایا اور پھول توڑنے والے بچے کے والد کو مار مار کر لہولہان کردیا کیا اور پھر اس غریب انسان کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے بھی رہے ۔ اگر ہم اسی ایک واقعہ کو دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے دور میں بھی غریب اور کمزور انسان بے بس اور مجبور ہیں اور طاقتور انسان اس کو جیسے مرضی کچھ چبھی کہہ سکتا ہے ۔

    ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک واقعہ واقعہ پیش آیا کہ بہو اور بیٹے نے بوڑھی ماں کو مار کر گھر سے نکال دیا اور بوڑھی ماں روتی ہوئی پولیس اسٹیشن جاپہنچی ، اگر دیکھا جائے تو کیا یہ لوگ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین سے ذرا سا بھی مختلف نہیں ہیں ۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ کافر اور مشرک تھے اور یہ لوگ پیدائشی مسلمان ہیں ۔ جو ہیں تو مسلمان لیکن اسلام کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

    ہمارے معاشرے کا بھی تو یہی عالم ہے کہ اگر کوئی غریب اپنی بیٹی کا رشتہ کسی بدچلن بدکردار کو نہیں دیتا تو اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا جاتا ہے ، اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے ، تاکہ لڑکی اور اس کے گھر والے کہیں بھی جینے کے قابل نہ رہیں ۔ اگر ہم دور جاہلیت کے خاتمے کی بات کریں تو صرف یہی ایک بات تھی کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنایا ، خاص طور پر اسلام کا نظام عدل اور انصاف ۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اسلام کا نظام عدل و انصاف اپنایا تو اچانک سے وہی لوگ جو دنیا کے بدترین لوگ کہلاتے تھے وہی لوگ دنیا کو تعلیمات دینے لگے اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی راہ دکھانے لگے ، وہی لوگ جو جہالت کے سردار کہلاتے تھے ، وہی لوگ دنیا کے راہنما اور رہبر بن گئے اور آج بھی اگر ہم دیکھیں تو ہمیں ان سارے واقعات کے پیچھے صرف ایک ہی بات دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظام عدل و انصاف بری طرح متاثر ہوا ہے ہماری عدالتیں سیاستدانوں کے چکروں میں پڑ کر دن میں دو دو تین تین دفعہ ان کے کیس کی سماعت کرنے کو تیار ہیں لیکن مجبور بے بس غریب انسان جن میں سے اکثریت بے گناہ افراد پر مشتمل ہیں وہ اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں ہی گزار دیتے ہیں ۔ 17 سال 18 سال 21 سال اور اس سے بھی زیادہ عرصہ جیل میں گذارنے کے بعد اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں کہ عدالت انہیں باعزت بری کر دیتی ہے جبکہ دوسری طرف طاقتور انسان اپنی دولت کے گھمنڈ اور اعلی شخصیات سے تعلقات کی بدولت عدل کو خرید لیتا ہے ۔ بیٹیوں کی عزتیں روند ڈالنے والے میرے معاشرے میں بربادی کا سبب بننے والے تو ضمانت لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور غریبوں کو مزید پریشان اور مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے کیسز واپس لے لیں اور بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے وہی جیلوں میں سڑ رہا ہوتا ہے ۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں بھی عدل و انصاف کا نظام بہتر ہوجائے تو آج پھر ہمارا معاشرہ سب سے روشن ہو سکتا ہے ۔ آج بھی ہم دنیا بھر کے رہنما بن سکتے ہیں ۔ یہ عدل ہی تو تھا جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران کے سامنے ایک عام سے شخص کو کھڑا کر دیا کہ بتاؤ عمر آپ نے اپنے حصے کا زیادہ کپڑا کیوں لیا ؟ اور وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطبہ چھوڑ کر پہلے کپڑے کا حساب دینا پڑتا ہے اگر آج ہم ایسا عدل و انصاف پالیں تو آج پھر ہم معزز ہو سکتے ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ان لوگوں نے اسلام کو دل سے تسلیم کیا تھا ، ان لوگوں نے اسلام کے لیے تشدد برداشت کیا تھا ، ظلم سہتے تھے ، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لیے جانیں دی تھیں ، اسی لیے وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے وقف کر گئے اور ہم پیدائشی مسلمان ہیں، نام نہاد مسلمان جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہمارے ہاں تعلیمی نظام بھی ایسا ہے کہ ہم حق اور سچ کو اپنانے کی بجائے صرف مفاد پرست انسان بن چکے ہیں ۔ مظلوم کو حق دینے کی بجائے غرور اور تکبر میں شاید فرعون اور نمرود سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے پاس ان کے جتنے اختیارات نہیں ہیں ورنہ ہم بھی ان سے کسی صورت مختلف نہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی جب غرور و تکبر کو توڑنے پر آتا ہے ہے تو پھر جس دریا کا پانی فرعون کے حکم سے رک جایا کرتا تھا اسی فرعون کو اسی پانی میں غرق کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی دنیا جہان والوں کے لئے نشان عبرت بنائے ، ہمیں اس کے دین کی طرف لوٹ آنا چاہیے ۔ اپنی دینی تعلیمات کو اپنا لینا چاہیے ، یقیناً اسی میں ہماری بھلائی ہے اور اسی طرح ہم دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں

  • سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    ریاض: 63 سالہ ایک سعودی شخص نے 53 شادیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد استحکام اور ذہنی سکون تھا، ذاتی خوشی نہیں۔

    باغی ٹی وی : ” گلف نیوز ” کے مطابق 63 سالہ سعودی شہری ابو عبداللہ جو 53 شادیاں کرنے کے دعویدار ہیں نے کہا ہے کہ پہلی شادی 20 سال کی عمر میں کی تھی اور اب ان کی عمر63 برس ہے –

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    ابو عبداللہ کو صدی کا سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان کہا جا رہا ہے کا کہنا ہے کہ ان کے نکاح میں اب صرف ایک خاتون ہیں۔ آئندہ ایک سے زیادہ شادیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ایم بی سی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عبداللہ نے بتایا کہ وہ خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دوست نے شادیوں کے حوالے سے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی-

    63 سالہ شخص نے بتایا کہ شروع میں ایک سے زیادہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پہلی بیوی سے مطمئن تھا۔ میرے بچے بھی تھے۔ کچھ عرصہ بعد مسائل شروع ہوئے اس وقت میری عمر 23 برس تھی۔ ذہنی آرام و سکون کے لیے دوسری شادی کی اور میں نے اپنی بیوی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    اس نے کہا کہ بعد میں اس کی پہلی اور دوسری بیویوں کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوا، جس نے اسے تیسری اور چوتھی بار دوبارہ شادی کرنے پر اکسایا ابو عبداللہ نے کہا کہ بعد میں اس نے پہلی، دوسری اور تیسری بیویوں کو طلاق دے دی۔

    ابو عبداللہ نے دلیل دی کہ اس کی متعدد شادیوں کی وجہ اس کی ایک ایسی عورت کی تلاش تھی جو اسے خوش کر سکے تاہم ذہنی آرام و سکون کے لیے شادیاں کرتا رہا۔

    تمام بیویوں کے درمیان انصاف سے کام لینے کی کوشش کی تمام شادیاں یکے بعد دیگرے نہیں کیں۔ پہلی شادی کے وقت میری بیوی مجھ سے چھ سال بڑی تھی ایک شادی ایسی بھی رہی جس کا دورانیہ صرف ایک رات تک محدود رہا۔

    ابو عبداللہ نے کہا کہتمام شادیاں روایتی انداز میں کیں میری بیشتر بیگمات سعودی رہیں تاہم غیرملکی خواتین سے شادی مجبوری میں کی کاروبار کی غرض سے بیرون مملکت سفر کے دوران غیرملکی خاتون تین، چار ماہ تک میرے نکاح میں رہتی تھی۔ برائی سے بچنے کے لیے ایسا کرتا تھا میں نے طویل عرصے میں 53 خواتین سے شادی کی-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ہر مرد کی خواہش ہے کہ ایک عورت ہو اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے استحکام کسی نوجوان عورت سے نہیں بلکہ ایک بوڑھی عورت سے ملتا ہے-

    اسلام میں، جو ایک وقت میں چار بیویاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، اگر کوئی مرد اپنی تمام بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، تو اسے ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔

  • ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    محققین کا کہنا ہے کہ جس شہابِ ثاقب نے ڈائنو سار کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا اس کے سبب 2500 کلومیٹر رقبے پر محیط جنگلات آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

    باغی ٹی وی :6.6 کروڑ سال قبل کریٹیسیئس دور کے آخر میں تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا سیارچہ جزیرہ نما یوکاٹین (جو آج کا میکسیکو ہے) سے ٹکرایا تھا اس تصادم کے نتیجے میں ڈائنو سار کے ساتھ زمین پر رہنے والے تقریباً 75 فی صد نباتات اور جانور ختم ہوگئے تھے اس تباہی کا ایک حصہ اس تصادم سے جنگلات میں لگنے والی آگ کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایبرڈین سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی سائنس دان نے تصادم کے وقت کی چٹان کا معائنہ کیا جس سے انہیں معلوم ہوا کہ کچھ آتشزدگیاں سیارچہ ٹکرانے کے چند منٹوں بعد ہی شروع ہوگئی تھیں۔

    پروفیسر بین نیلر کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ آگ تصادم کا براہ راست نتیجہ تھی؟ یا بعد میں لگی تھیں۔ کیوں کہ نباتات تصادم کے بعد ماحول میں اڑنے والے ملبے کی وجہ سے ہونے والے اندھیرے کی وجہ سے تباہ ہوئے تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر ہماری تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ تباہ کن آگ لگنا کیسے اور کب شروع ہوئیں اور ایک صاف مگر خوف ناک تصویر پیش کرتی ہے کہ شہابِ ثاقب کے گرنے کے بعد فوری طور پر کیا ہوا ہوگا۔

    ایک طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ غیر پرندوں کے ڈائنوسار 65 ملین سال پہلے ختم ہو گئے تھے لیکن پال بتاتے ہیں، ‘دنیا بھر میں مٹی کی ان تہوں کی ڈیٹنگ بہت درست ہے – اس کا اندازہ چند ہزار سالوں میں لگایا گیا ہے حالیہ ریڈنگ نے اسے بہتر کیا ہے، اور ڈایناسور کے معدوم ہونے کی تاریخ 66.0 ملین سال پہلے کی ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع