Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور

    اُستاد کسی بھی معاشرے کے لیے ہمہ وقت ایک مفکر، ایک مصلح، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، مخلص دوست، روحانی باپ اور پیشوا ہوتا ہے. اُستاد اپنا تن، من، دھن اپنے شاگردوں کی زندگیوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں لگا دیتا ہے اور وہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتا ہے. ایک اچھا اور بہترین اُستاد ایک مکمل معاشرے کو سنوارنے میں اور اس کے مستقبل کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. پڑھانا نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ وحدہ لم یزل کی طرف سے اُستاد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے. اُستاد چنیدہ ہوتا ہے اور چنیدہ لوگوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہوتی ہیں.

    نبی آخر الزماں خاتم النبیین جنابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس بات پر فخر کیا تھا کہ انھیں معلم بنا کر بھیجا گیا اور آپ ص نے جس طرح اصحابِ صفہ کی تربیت کی اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی. بات یہ ہے کہ معلم اور متعلم کا رشتہ بہت منفرد اور بے غرض ہوتا ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا اُستاد یہ کام کر رہا ہے؟ کیا آج کا اُستاد بچوں کی اخلاقی تربیت کر رہا ہے؟ عصرِ حاضر کا معلم بچوں کو وہ دے رہا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے؟ کیا ہماری موجودہ نوجوان نسل مستقبل کے لئے کارآمد ثابت ہو گی؟ کیا معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات میں اُستاد کا ہاتھ بھی ہے؟ اور کیا بچوں کی اخلاقیات میں خامیاں اساتذہ کی وجہ سے ہیں؟

    یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوال ہمارے ذہن میں اُبھرتے ہیں اور ہم اُن کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اُس کبوتر کی طرح لا پروا ہوئیے بیٹھے ہیں جو بلی کے آنے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے. موجود حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی یہی بات کہہ رہا ہے کہ بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی. گھر والے دھیان نہیں دیتے. اُستاد اب پہلے جیسے نہیں رہے. بچوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں اور وہ ہاتھوں سے نکل رہے ہیں. والدین کی نہیں مانتے، بڑوں کا احترام نہیں کرتے. جو بات کرے اسے آگے سے غیر مہذب انداز سے پیش آتے ہیں. بچے روحانی طور پر کمزور ہو رہے ہیں.
    جس کو دیکھو وہ اُستاد سے بچوں کے متعلق شکایت کر رہا ہے. لوگوں کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا عصرِ حاضر میں اُستاد کو وہ مقام و مرتبہ مل رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟

    بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے کہ اسے ماں سے ہی تربیت نہیں مل رہی. ماں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے موبائل پر لگی ہوتی ہے. بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس پر انفرادی توجہ کرنے کی بجائے اسے موبائل تھما دیا جاتا ہے یا ٹی وی پر عجیب و غریب (poems) نظمیں اور کارٹون لگا دیے جاتے ہیں. وہ توجہ چاہتا ہے اور گھر سے اسے موبائل مل جاتا ہے. باپ کام کاج سے واپس آتا ہے تو بچے کو وقت دینے کی بجائے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بچہ موبائل اور اس کے متعلقات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے اور یوں اُس کو سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ اُستاد توجہ نہیں دیتے. بچے کی عادات پہلے ہی بگڑ چکی ہوتی ہیں اور سکول میں آ کر اسے ہر رنگ کے بچے مل جاتے ہیں اور یوں اس کی اچھی بری عادات کو ہوا ملتی ہے. اُستاد کو تدریس کے علاوہ اور بہت ساری پیچیدہ ذمہ داریوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی نوکری کو بچانے کے پے در پے ہی رہتا ہے. اُستاد صرف ایک کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے تدریس. جب معاشرہ معلم سے وہ کام ہی نہیں لے رہا جس کے لیے وہ آیا ہے تو پھر معلم معاشرے کو وہ کیوں کر دے سکتا ہے معاشرہ جس کا متمنی ہے؟

    سزا و جزا کا تصور ختم کر کے بچوں کو دلیر اور استاد کو کمزور بنا دیا گیا ہے. بچہ گھر سے نکل کر جہاں مرضی جائے، قصور استاد کا ہے. اس کی پڑھائی اچھی نہیں، قصور استاد کا، اس کا نتیجہ اچھا نہیں، قصور استاد کا، وہ غیر حاضر ہے، قصور استاد کا، وہ بدتمیر ہے قصور استاد کا،وہ بد اخلاق ہے قصور استاد کا.

    تو بات یہ کہ ہم اگر یونہی چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے تو ہماری آنے والی نسل نا صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ جسمانی و روحانی لحاظ سے بھی لاغر و ضعیف ہو جائے گی اور ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہیں گے. اچانک ہی یہ سب نہیں ہو جاتا بگاڑ اور سنوار میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے.

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    پرانے زخم مندمل ہوتے وقت لگتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام ایمانداری سے کرے اور ہر ایک کو وہی کام کرنے دیا جائے جو کام وہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ہم اپنے معاشرے کو تمام طرح کی غیر اخلاقی روایات سے محفوظ بنا سکیں

  • اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    اسحاق ڈار اور نواز شریف کی پاکستان واپسی!!! — نعمان سلطان

    ان دنوں وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب لندن میں موجود ہیں جہاں وہ اپنے بڑے بھائی اور قائد جناب نواز شریف صاحب کے ساتھ نومبر میں ہونے والی متوقع تعیناتی کے بارے میں صلاح مشورے کر رہے ہیں وہیں وہ محترم جناب اسحاق ڈار صاحب کی پاکستان واپسی، سینٹ کا حلف اٹھانے اور اس کے بعد وزیر خزانہ تعیناتی کے بارے میں بھی مشورہ کر رہے ہیں ۔

    بظاہر اسحاق ڈار صاحب کی واپسی کی وجہ مفتاح اسماعیل صاحب کی وزیر خزانہ کے طور پر عوامی غیر مقبولیت، غم و غصہ اور ناکامی ہے لیکن پاکستانی سیاست شطرنج کے کھیل کی طرح ہے جس میں پیادے بادشاہ کو بچانے کے لئے خود کو قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس قربانی پر بادشاہ ان کا شکرگزار نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے ۔

    شہباز شریف صاحب کے سامنے حکومت سنبھالتے ہی دو چیلنج تھے ایک نواز شریف اور اسحاق ڈار کی ملک میں باعزت واپسی کی راہ ہموار کرنا اور دوسرا چیلنج خراب معاشی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے انتہائی سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے لیکن ان کے اثرات پاکستان مسلم لیگ پر نہ آنے دینا ۔

    معیشت کو قابو کرنے کے لئے مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور بتایا گیا کہ وہ اسحاق ڈار صاحب سے معیشت کو چلانے کے حوالے سے راہنمائی لیں گے لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد یہ خبریں اڑائی گئیں کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار میں اختلافات ہو گئے ہیں اور مفتاح اسماعیل صاحب اپنی مرضی کے مطابق معاشی منصوبے بنا کر ان پر عمل کر رہے ہیں ۔

    اس کے بعد ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا اور عوامی رائے مسلم لیگ کے انتہائی مخالف ہو گئی تیل بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے بےپناہ اضافے کی وجہ سے لوگ عمران خان کے دور میں ہونے والی مہنگائی کو بھول گئے اور مسلم لیگ کے موجودہ دور سے بہتر پی ٹی آئی کے دور حکومت کو کہنے لگے ۔

    ایسے عالم میں ایک مخصوص طبقے نے لوگوں کو اسحاق ڈار فارمولے کی طرف متوجہ کیا کہ وہ جیسے بھی ہو مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھتے تھے جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن بوتل میں بند رہتا تھا لیکن پہلے پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ساتھ ان کے فارمولے سے اختلاف کیا اور ڈالر پر سے چیک ختم کر کے اسے بے لگام کر دیا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اس کے بعد مفتاح اسماعیل نے بھی اسحاق ڈار کی معاشی پالیسیوں اور تجربے سے اختلاف رائے کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دوبارہ سے مہنگائی کا طوفان آ گیا ۔

    مسلم لیگ کی حکومت نے پہلے مفتاح اسماعیل کے ذریعے سخت معاشی فیصلے کئے جن کی وجہ سے وہ بطور وزیر خزانہ عوام میں غیر مقبول ہو گئے اور اب جب ان فیصلوں کے ثمرات ملنے کا وقت آ رہا ہے تو وہ بطور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو واپس لا رہے ہیں تا کہ ان ثمرات کا کریڈٹ اسحاق ڈار کو ملے اور انہیں دوبارہ عوامی مقبولیت حاصل ہو جائے اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہو جائے اس طرح مسلم لیگ کی حکومت نے معیشت کی بحالی کا اپنا ہدف بھی حاصل کر لیا اور اسحاق ڈار کی پاکستان میں باعزت واپسی کا ہدف بھی حاصل کر لیا ۔

    شہباز شریف نے پنجاب میں اپنے دور حکومت کے دوران ریکارڈ وقت میں بےشمار ترقیاتی منصوبے مکمل کر کے عوام میں انتہائی مقبولیت حاصل کر لی تھی اکثریت کا خیال تھا کہ 2013 میں وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت بننے کی وجہ پنجاب میں شہباز شریف کے ترقیاتی کام اور مقبولیت تھی اور ان کا خیال تھا کہ اگر شہباز شریف کو وفاق میں موقع دیا گیا تو وہ پورے ملک میں ترجیحی بنیادوں پر ترقیاتی کام کرائیں گے ۔

    جبکہ نواز شریف کے بارے میں رائے عامہ یہ تھی کہ وہ چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کسی کی نہیں سنتے اور ان کی عوامی غیر مقبولیت کی وجہ ان قریبی ساتھیوں کے غلط مشورے ہیں اور اگر شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کام نہ کرتے تو پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد مسلم لیگ دوبارہ حکومت میں نہیں آ سکتی تھی اس کے علاوہ ان کی مقتدرہ سے ہمیشہ لڑائی ہوتی ہے جبکہ شہباز شریف مقتدرہ کے لئے قابل قبول ہیں ۔

    مخلوط حکومت بننے کے بعد شہباز شریف کی کارکردگی دیکھ کر لوگوں کی ان کے متعلق خوش فہمیاں دور ہو گئیں ہیں جتنی تیزی سے ان کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے لوگوں نے انہیں اللہ کا عذاب کہنا شروع کر دیا ہے جو کہ بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مسلط ہوا ہے، ابھی حالیہ بیرونی دوروں کے دوران شہباز شریف صاحب کی دوسرے ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کے دوران حواس باختگی پر ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے اور ان کی حرکات دیکھ کر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بین الاقوامی سطح کے لیڈر ہیں یا کسی گلی محلے کے ۔

    اب ان کے حامی سر عام کہتے ہیں کہ شہباز شریف صوبائی لیڈر ہیں اور نواز شریف وفاقی اور بین الاقوامی لیڈر، اس لئے اب وہ وقت دور نہیں رہا جب نواز شریف کو ملک میں واپس بلانے کے لئے آوازیں اٹھنا شروع ہو جائیں گی اور اسحاق ڈار کے بعد نواز شریف کی بھی الیکشن سے پہلے وطن واپسی ہو جائے گی یعنی شہباز شریف صاحب اپنے دونوں چیلنج پورے کر لیں گے ۔

    آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کی کامیابی کا دارومدار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے اس وقت معیشت کی بحالی کے لئے جتنے مشکل فیصلے کرنے تھے وہ مفتاح اسماعیل کے ذریعے کر لئے گئے ہیں اب اگر اسحاق ڈار نے وزیر خزانہ بن کر ڈالر کی قیمت کو قابو کر لیا اور اسے انتہائی کم سے کم سطح تک لانے میں کامیاب ہو گئے تو لوگ سب بھول کر اسحاق ڈار اور مسلم لیگ کے گیت گانے لگ جائیں گے اور مہنگائی قابو کرنے کے لئے اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کو کامیاب کرانے کی ہرممکن کوشش کریں گے اور اگر اسحاق ڈار ایسا نہ کر سکے تو پھر اگلے الیکشن میں عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولے گا ۔

  • مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار  — اعجازالحق عثمانی

    مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی

    کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔

    گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

    گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    ؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں

    ؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
    عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے

    ؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
    وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

    ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    کلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔

  • ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان بمعنی پاکستان — علی منورؔ

    ہندستان آغاز سے ہی تہذیب و تمدن کا مسکن رہا ہے۔جہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں وجود میں آئیں، وہیں پہ لوگوں نے بولنا سیکھا۔زبان کے ذریعے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار سیکھا۔ دنیا میں سب سے پہلے زبانوں کے لیے رسم الخط بھی یہیں پہ وجود میں آئے۔ ہندستان لفظ کا اطلاق دراصل جہاں دریائے سندھ کے مشرقی سمت تمام علاقوں پر ہوتا ہے وہیں پہ عربوں نے فارس اور عرب کے مشرقی سمت علاقے کو ہند کا نام دیا۔مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے زیر اثر ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں، مغل مسلمانوں کے پروقار دور میں ہندستان میں موجودہ افغانستان ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال کے کچھ حصے شامل رہے تو انگریز کے دور میں موجودہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش, ہندستان کہلائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ ہندو قوم کی وجہ سے یہ سرزمین ہندستان نہیں کہلائی بلکہ ہندستان کی مناسبت سے یہاں کے لوگوں کو ہندو کہا گیا اور بعد از ایک مخصوص مذہب کے پیروکار ہندو کہلائے۔

    بہرحال یہ بحث الگ اور مستقل موضوع کی متقاضی ہے۔ عموما تقسیم ہند سے قبل کے ملک کو "ہندستان” جب کہ تقسیم کے بعد والے ملک بھارت کو "ہندوستان” کہا جاتا ہے۔ درحقیقت اس سرزمین کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سندھو پکارا گیا مگر جب کم و بیش 600 سال قبل مسیح کے زمانے میں ایرانی شہنشاہ نے سندھو ندی اور آگے کی زمینوں پہ قبضہ کیا تو اس سرزمین کو ہند یا ہندو کہہ کر پکارا، کیونکہ ان کی زبان میں حرف "س” نہیں تھا۔بعض احادیث میں بھی اس سرزمین کا نام "ہند” کے نام سے ہی آیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس پورے خطے کو دریائے سندھ کی مناسبت سے سکندر اعظم کے زمانے تک ایک ہی نام سے پکارا گیا پھر بعد میں آنے والے فاتحین نے اسے اپنی زبانوں کے لحاظ سے سند، ہند، انڈ کہہ کر پکارا، موجودہ لفظ انڈیا اسی سے نکلا ہے۔ س، ہ اور الف کا استعمال اپنی زبانوں کے حروف کے اعتبار سے کیا۔اور یہاں کے لوگ بھی اسی اعتبار سے سندھو، انڈو یا انڈوس اور ہندو کہلائے۔مغلوں کے دور میں جب ایرانی دربار سے رشتہ داریاں عام ہوئیں تو اس ہند کو فارسی لفظ ستان کے ساتھ ملا کر ملک کا نام ہندستان کر دیا گیا جو صدیوں تک چلتا رہا۔

    انگریزوں کے دور میں معاملات کچھ اس طرح خلط ملط ہوئے کہ ہندستان کو انجانے اور غلط فہمیوں کے ساتھ ہندوستان لکھا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سرزمین کو تاریخی کتب میں کبھی بھی ہندوستان نہیں لکھا گیا، بلکہ ہر جگہ اس کا نام ہندستان ہی ہے۔ موجودہ دور میں بہت کم لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس لفظ کی ہئیت کو برقرار اور قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی حیثیت سے بہت سے معاملات اس لفظ کی درستی کے ساتھ جڑے ہیں۔ دنیا بھر میں جب بھی کسی بھی میدان میں تاریخی اعتبار سے کچھ بھی لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو ہندستان لفظ کا اطلاق صرف موجودہ بھارت پر نہیں بلکہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش پر ہوتا ہے۔ جیسے کسی درخت، جانور یا جڑی بوٹیوں کے حوالے سے جب بھی کوئی بات ہندستان کے ساتھ خاص کر کے کہی جاتی تو مراد پورے خطے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف موجودہ بھارت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا ذکر چھیڑا جائے تو موہن جوداڑو اور ہڑپہ کے بنا بات آگے نہیں بڑھ سکتی اور یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب سرزمین ہندستان پر وجود میں آئی، جبکہ یہ دونوں تہذیبیں موجودہ پاکستان میں ہیں۔

    اسی طرح وہ جگہیں جو موجودہ بھارت میں موجود ہیں مگر ان پر لفظ ہندستان بول دیا جائے تو اطلاق پاکستان ، بنگلہ دیش اور موجودہ بھارت پر بھی ہو گا بلکہ بعض معاملات میں تو نیپال اور افغانستان کو بھی شامل کرنے پڑتا ہے کیونکہ بہت سے ادوار میں یہ دونوں ممالک بھی ہندستان میں شامل رہے۔گویا کسی بھی تاریخی معاملے پر حق صرف پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے الگ رہ کر اور دشمنی نبھانے کے باوجود ہر تاریخی چیز پر مشرکہ حق رکھتے ہیں۔

    زمینی حقائق کو سامنے رکھیں تو تقسیم ہند کے بعد صرف لوگ اور زمینیں ہی تقسیم نہیں ہوئیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن اور ثقافت بھی تقسیم ہوئی ۔جہاں کھجور اور اردو مسلمان ٹھہریں وہیں پہ ناریل اور سنسکرت ہندو بن گئیں۔ غرض یہ بٹوارہ کسی ایک چیز کا نہیں تھا ہر ہر چیز بانٹ لی گئی، راتوں رات معیار تبدیل ہوئے اور دونوں ممالک ایک ساتھ الگ الگ راہوں پر نئی دنیا کے سفر میں نکلے۔

    اب دونوں ممالک کو خود طے کرنا تھا کہ وہ دنیا میں اپنا مقام کہاں بناتے ہیں۔مگر افسوس کہ پڑوسی ملک نے اس سفر میں ہمیں کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔بھارت نے اس سفر میں جہاں خود کو آگے پڑھایا وہیں ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی پیچھے دھکیلا۔ کبھی انگریز وائسرائے کے ساتھ مل کر بے ایمانی سے خطے کو اس طرح کاٹا کہ ہماری شہ رگ کشمیر ان کے پنجے میں چلی گئی اور ہم کشمیر کے ساتھ ساتھ اپنے ہی پانی کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ کبھی تقسیم کے محض ایک سال بعد ہی ہماری ایک پوری ریاست حیدرآباد دکن کو عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ہم سے چھین کر کاٹ ڈالا اور ہم ان سے سامنے ممنا بھی نہ سکے۔ بھارت نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ پاکستان کو ہر ممکن دباتے ہوئے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور تو اور خود بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں دراصل ہندو کے تشدد کا ہی تو رد عمل ہیں۔

    پاکستان بھر میں بھارت کی طرف سے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششیش بھی کسی سے ڈھکی چھپیں نہیں۔ سقوط ڈھاکہ کا غم آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں کا درد ہے اور سقوط سرینگر ہماری نیم رضا مندی سے وجود پا رہا ہے، ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت ایک الگ المناک باب ہے۔ ایسے تمام حالات میں ہم پر بحیثیت قوم کچھ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ برا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کا ہم پر قرض ہے۔

    اپنے تاریخی ورثے سے ہاتھ ہٹا لینا صدیوں تک کا وہ نقصان ہے جس کی بھرپائی کبھی ممکن نہیں۔ نوجوان طالب علم نسل کبھی کسی جگہ یہ پڑھ کر احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں کہ فلاں چیز یا جاندار کا مسکن انڈیا ہے، کوئی یہ نہ سوچے کہ شاید بھارت کے پاس کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے پاکستانی محروم ہیں۔ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بات پاک و ہند اور بنگال کے ہر فرد کے ذہن میں راسخ ہو کہ لفظ "ہندستان” یا "انڈیا” سے مراد بھارت نہیں بلکہ 1947 سے قبل والا برصغیر ہے۔

    اقبال کے اشعار "سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا” اور داغ کے اشعار "ہندستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” پورے برصغیر کے لیے تھے۔
    اپنی اصل سے محبت اور وفا داری کا تقاضا ہے کہ اپنے درد کو سینے میں زندہ رکھتے ہوئے اپنے حق کو سب سے مقدم رکھا جائے۔

  • 23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

    ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

    سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔

    انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔

    کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
    کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشی

    اشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔

    ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔

    پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) ہر چار منٹ کے بعد ایک فرد تمباکو کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، ہر روز 1200 سے 1500 نئے بچے تمباکو کا استعمال شروع کرتے ہیں، جبکہ تمباکو کے استعمال کے باعث 610 ارب روپے سالانہ صحت کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور تمباکو کے باعث سالانہ 160000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تمباکو سے بچنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو اس سے بچانے کےلئے انسداد تمباکو قوانین کا اطلاق بہت ضروری ہے اور تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے اس کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیئے، ان خیالات کا اظہار تلہ گنگ میں منعقدہ ایک روزہ آگاہی ورکشاپ بعنوان "ٹوبیکو انڈسٹری مانیٹرنگ اور انسداد تمباکو قوانین” سے کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے کیا، ورکشاپ کا اہتمام سوشل ویلفیئر سوسائٹی (تلہ گنگ) نے کیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طاہر زمان نیازی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک محمد صفدر، تحصیل ڈرگ انسپکٹر صبیح الرحمان، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے سلیم اقبال، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی سے فاروقی ملک، اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی، سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر فیاض احمد گھاڑا نے ورکشاپ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور تلہ گنگ گرد و نواح کے علاقوں میں انسداد تمباکو قوانین کے اطلاق کے بارے میں بریفنگ دی۔ فیاض احمد نے کہا کہ انسداد تمباکو قوانین کی صحیح معنوں میں اطلاق کی ضرورت ہے۔ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد نہیں ہو رہا۔ کھلے سگریٹ سر عام فروخت ہو رہے ہیں، پبلک مقامات پر سائن بورڈ آویزاں نہیں ہیں۔ دوکاندار حضرات بچوں کو بھی تمباکو سے بنی اشیاء فروخت کرتے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کا بیچنا، ذخیرہ کرنا، اس کی تشہیر کرنا قانون کے خلاف ہے لیکن ان قوانین کا خیال نہیں کیا جاتا، فیاض احمد کا کہنا تھا کہ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد کروانے کے لئے پولیس اور سول سوسائٹی کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی اس سلسلے میں آگہی کو پھیلانا ہو گا تاکہ قوانین سے واقفیت کی بناء پر عوام اپنا فرض ادا کریں اور انسداد تمباکو قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ سی ٹی سی پاک کے کمیونیکیشن آفیسر اشفاق احمد نے تمباکو کی نئی مصنوعات جیسے ای سگریٹ، ویپ اور ویلو وغیرہ کے بارے میں شرکاء ورکشاپ کو آگاہ کیا کہ کیسے تمباکو انڈسٹری نئے ہتھکنڈوں سے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی لگنی چاہیئے اور چکوال کو تمباکو سے پاک کرنے کے لئے ضلع اور تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔

  • چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم  اجلاس

    چونیاں ۔ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس

    باغی ٹی وی : چونیاں ۔(نامہ نگار) باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کا گزشتہ روز باڈی بلڈنگ کے حوالے سے اہم اجلاس شیخ محمود سابق مسٹر پاکستان ، ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم کے زیر صدارت منقد ہوا جس میں تحصیل چونیاں۔پتوکی پھول نگر آلہ آباد۔کوٹرادھاکشن سمیت ضلع قصور کے سابقہ مسٹرز نے شرکت ۔ اس میٹنگ میں ضلع قصور کے سینئر باڈی بلڈرز اور ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ابو ہریرہ نے مہمان خصوصی کے طور شرکت کی میٹنگ میں مہمان خصوصی سابق مسٹر قصور ابو ہریرہ نے دسمبر میں ہونے والے سالانہ باڈی بلڈنگ کے مقابلہ کے حوالے سے تمام جم اونر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاں کہ ہم نے سابقہ ڈسٹرکٹ باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کی باڈی کو کچھ غلط پالیسیوں کی بدولت تحلیل کر دیا ہے اب نئی کابینہ 25دسمبر کو ہونے والے مقابلے میں مسٹر قصور کے لے ہنڈا125۔جونیر مسٹر کے لے چائنا 70 اور رنراپ کے لے 10000ہزار نقدی انعامات دے گئی جس کے بعد جیتنے والے لڑکوں کو لاہور اور پنجاب کے مقابلاجات میں قصور باڈی بلڈنگ مکمل سپورٹ کرے گئی انہوں نے کہا اس مرتبہ باڈی بلڈنگ کے کو ایک نئے اور پروفیشنل انداز میں متعارف کروایا جائے گا۔اجلاس میں سابقہ مسٹر پاکستان مسٹر ماسٹر پاکستان امجد علی تبسم۔ سابقہ مسٹر قصور استاد پرویز پتوکی ۔سابقہ جونیئر مسٹر قصور شیخ محمود۔پھول نگر ۔سابقہ مسٹر پنجاب رنراپ پنجاب استاد فیاض احمد دھون چونیاں۔مسٹر قصور ذیشان علی۔جونئیر مسٹر قصور راحیل۔سابق مسٹر قصور استاد بولا ودیگر کلب کوچ و چونیاں پتوکی ۔پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر چونیاں پتوکی پھول نگر باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے صدر استادپرویز۔ چیرمین فیاض دھون۔ بانی امجد علی تبسم شیخ محمود۔صابر علی۔سرفراز۔خرم ندیم اور ارشد منیر نے مہمان خصوصی ابو ہریرہ کو قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن حافظ وارث گروپ سے مکمل الحاق کی یقین دہانی کروائی اور آئندہ 15تاریخ کو قصور میں قصور باڈی بلڈنگ ایسوسی کے اہم اجلاس میں بھر پور شرکت کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا

  • ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!

    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے، آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    اس نفسا نفسی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے دور میں بھی کچھ فرشتہ صفت اللّٰہ پاک کے محبوب بندے ابھی تک دنیا میں موجود ہیں، جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کےلیے بھی جیتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش شکل، خوش لباس، با اخلاق، انسانی خدمت کے جذبے سے لبریز، درد دل رکھنے والی عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت ملک فضل الرحمٰن کی بھی ہے، جوکہ لذیذہ مرغ پلاؤ راولپنڈی و اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو اور ق لیگ کی یوتھ ونگ کے سینئر عہدے دار بھی ہیں، ملک صاحب سے غیبی شناسائی ہے اور وقتاً فوقتاً بذریعہ فون کالز، میسجز ان سے بات ہوتی رہتی ہے، یہ میری بدقسمتی ہے کہ تاحال ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی، موجودہ دور میں پیسہ، مال و دولت تو ہر ایرے غیرے کے پاس موجود ہے مگر میں نے اپنی چند سالہ زندگی میں ملک فضل الرحمٰن جیسی غرور و تکبر سے پاک، عاجزی و انکساری سے بھرپور شخصیت نہیں دیکھی، جوکہ ہر چھوٹے، بڑے، امیر و غریب سے یکساں برتاؤ رکھتے ہوئے خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ ملک صاحب چاہے کورونا جیسی موذی وباء ہو، مری میں بدانتظامی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہو یا سیلاب جیسی ناگہانی آفت ہمہ وقت دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں، شاید یہی صفت ہی اصل میں ان کی کامیابی کی کنجی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو دنیا کی تمام نعمتوں اور آسائشوں سے نواز رکھا ہے۔ جب بھی ملک صاحب سے کسی غریب و لاچار کی مدد کی درخواست کی انہوں نے بلاحیل و حجت دل کھول کر تعاون کیا، شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت علامہ اقبال اپنی نظم "ہمدردی” میں کئی سال پہلے فرما گئے تھے کہ:
    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
    آتے ہیں جو کام دوسروں کے
    دعا ہے اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ملک صاحب کی جان، مال و اولاد، کاروبار اور زندگی میں مزید برکتیں عطاء فرمائے اور یونہی دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

  • محسن انسانیت  ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق

    محسن انسانیت ﷺ کے عطا کردہ انسانی حقوق
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    اگر آپ اقوام متحدہ کے ”انسانی حقوق کا عالمی علامیہ“ اور جمہوری ممالک خصوصا پاکستان کے آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کا مطالعہ کریں تو آپکو انتہائی خوشگوار حیرت محسوس ہوگی کہ زمانہ جدید میں بنیادی انسانی حقوق طے کرتے وقت نبی کریم ﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آپ کی صحبت میں ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے 10 ہجری میں حج اداکیا۔9 ذوالحجہ کو نبی کریم ﷺ نے وادی عرفات میں خطبہ حجتہ الوداع ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ نبی کریم ﷺ کا آخری وعظ تھا۔ درحقیقت 14 صدیاں پہلے یہ خطبہ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی جانب سے بنی نوع انسان کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا اجراء تھا۔ اس عظیم خطبہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ہاں! میں نے آج جاہلیت کے تمام دستوروں کو اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہے۔ اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کی گمراہیاں دور کردیں۔ نسبی فخر مٹا دیئے۔ مومن متقی اور فاجر شقی ہے۔ آج کے بعد عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کسی قسم کی فضلیت نہیں۔ انسان سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدمؑ مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تمام مسلمان ایک ہی برادری ہیں۔ اے لوگو! اپنے غلاموں کا خیال کرو جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ۔ جو خود پہنو وہی انکو پہناؤ۔ جاہلیت کے خون کے دعوے سب کے سب باطل کردئیے گئے۔ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا خون یعنی ربیعہ بن الحارث کے بیٹے کا خون باطل کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود بھی باطل کرتا ہوں۔ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا خون اور تمہارا مال اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں حرام ہے تاآنکہ تم (بروز قیامت) اپنے پروردگار سے جاملو۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ رہا ہوں اگر تم نے اسکو مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے وہ چیز اللہ عزوجل کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ اللہ نے ہر حق دار کو ازروئے قانون وراثت اسکا حق دے دیا۔ اب کسی وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اسکا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ زانی کے لئے پتھر ہے اسکا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے نسب سے ہونے کا دعویٰ کرے اور جو غلام اپنے مولا کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ کی لعنت۔ ہاں عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اسکی اجازت کے بغیر کچھ لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ ادھار واپس دیا جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے اور ہاں! میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ ہاں! مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا ذمہ دار بیٹا اور بیٹے کے جرم کا ذمہ دار باپ نہیں۔ اگر کوئی ناک کٹا حبشی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو اللہ کی کتاب کے مطابق لیکر چلے تو اسکی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔ ہاں! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں قیامت تک پھر کبھی اسکی پرستش نہیں کی جائے گی۔لیکن تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسکی پیروی کروگے اور وہ اس پر خوش ہوگا۔ اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھو۔ مہینے(رمضان) کے روزے رکھا کرو اور میرے احکام کی اطاعت کرو، اللہ کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔مذہب میں غلو اور مبالغے سے بچے رہنا کیونکہ تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئیں۔ خطبہ دینے کے بعد رسول اکرم ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر پوچھا: ”ہاں! کیامیں نے اللہ کا پیغام سنا دیا؟“۔ لوگوں نے جواب دیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہیو۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”تم سے اللہ کے ہاں میری بابت پوچھا جائے گا تم کیا کہوگے؟“۔مسلمانوں نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کیا اسکے بعد آپ ﷺ نے آسمان کی طرف تین دفعہ انگلی اُٹھا کر تین دفعہ کہا کہ ”اے اللہ تو گواہ رہیو“۔ جس روز نبی کریم ﷺ نے عرفات میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا اسی دن اللہ کی طرف سے انہیں وحی کے ذریعے حسب ذیل پیغا م ملا: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کرلیا (پارہ 6، سورۃ المائدہ آیت نمبر 3)“۔ حج ادائیگی کے بعد مدینہ کی طرف لوٹتے وقت آپ ﷺ نے غدیر خم کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے سامنے ایک مختصر سا خطبہ دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ممکن ہے اللہ کا فرشتہ جلد آجائے اور مجھے قبول کرنا پڑے، میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں، ان میں سے ایک تو کتاب اللہ ہے جس کے اندر ہدایت اور روشنی ہے، پس اللہ کی کتاب کومضبوطی سے پکڑو اور اس سے چمٹے رہو۔ دوسری چیزمیرے اہل بیت ہیں۔ اپنے اہل بیت کے بارے میں، میں تم کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔
    نبی کریم ﷺ کی جانب سے عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق روز قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی اور خصوصا مسلمانوں کے لئے ذریعہ نجات ہیں۔ اللہ کریم سب مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر من و عن پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺ پر آپ کی اہل بیت پر اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین پر۔آمین ثم آمین (بحوالہ تاریخ اسلام)