Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    سائنسدانوں نے ماحولیات کے سوال پر دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں-

    باغی ٹی وی: نیوزی لینڈ کے سائنسدانوں کو امید ہے کہ کیمپ بیل جزیرے پر موجود دنیا کا تنہا ترین بوڑھا درخت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سوال کے راز افشا کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    نیوزی لینڈ کے جنوبی سمندر کے ایک جزیرے پر موجود 9 میٹر طویل صنوبر (Sitka Spruce) کا یہ درخت کب لگایا گیا اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اسے 1900 کے قریب لگایا گیا تھا۔

    مستقل طور پر غیر آباد سبانٹرکٹک کیمبل جزیرے کے وسط میں بیٹھا، نو میٹر لمبا سیٹکا سپروس اپنے قریبی ساتھی سے 250 کلومیٹر دور ہے۔ اصل میں، یہ جزیرے پر واحد درخت ہے تاہم، تکنیکی طور پر، یہ تنہا درخت یہاں نہیں ہونا چاہئے اس کا وجود اب موسمیاتی تبدیلی کی زمینی تحقیق کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔

    صنوبر کا یہ درخت دنیا کا تنہا ترین درخت تصور کیا جاتا ہے اور گنیز بک آف رکارڈز میں بھی اسکا نام ’’ریموٹیسٹ ٹری آن دی پلینٹ‘‘ کے طور پر درج ہے اور یہ 222 کلومیٹرز کے دائرے میں موجود واحد درخت ہے۔

    یہ درخت ویسےبھی سائنسدانوں کیلئےدلچسپی کا باعث بن سکتا ہےلیکن جی این ایس سائنس میں ریڈیو کاربن سائنس کےسربراہ ڈاکٹر جوسلن ٹرنبل کا خیال ہےکہ یہ درخت جنوبی سمندر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار جذب کرنے کی مقدار جاننے کیلئے ایک اہم اوزار ثابت ہو سکتا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    جی این ایس سائنس نیوزی لینڈ کے ریڈیو کاربن سائنس لیڈر کے طور پر، ڈاکٹر ٹرن بل انٹارکٹک سائنس پلیٹ فارم کے ایک بڑے تحقیقی پروجیکٹ کی رہنمائی کرتے ہیں، جو کہ حکومت کے تعاون سے چلنے والا ایک تحقیقی پروجیکٹ ہے جس کا مقصد زمین کے نظام پر انٹارکٹیکا کے اثرات کی سمجھ کو بہتر بنانا ہے۔

    ڈاکٹر ٹرن بل اور ان کی ٹیم ریڈیو کاربن کی پیمائش میں مہارت رکھتی ہے تاکہ جنوبی بحر میں جیواشم ایندھن کے CO2 کے اخراج کے ماخذ کی چھان بین کے لیے کاربن سنک کے طور پر اس کے کردار کو سمجھ سکے۔

    ڈاکٹر جوسلن کا کہنا ہے کہ فاسل فیول کے استعمال سے ہم جو کاربان ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اس کا صرف نصف حصہ پیچھے رہ جاتا ہے جبکہ باقی نصف حصہ زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔

    ڈاکٹر جوسلن کا کہنا ہے کہ جنوبی سمندر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی مقدار کے حوالے سے ہونے والی تحقیقوں میں متضاد نتائج سامنے آئے تھے لیکن موجودہ نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے اور ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو کس چیز کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے ڈیٹا جمع کرنے کا سب سے بہترین طریقہ CO2 کنسٹریشن والے ماحول سے ہوا کے سیمپل جمع کرنا ہے یا گہرے سمندر سے پانی کے سیمپل لے کر ان کی کاربن ڈیٹنگ کرنا ہے لیکن آپ ایسی ہوا کا سیمپل نہیں لے سکتے جو 30 سال پہلے تھی کیوںکہ اب اس کا کوئی نام و نشان وہاں باقی نہیں ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس خیال پر کام کرنے کا ارادہ کیا کہ ہم درختوں کی رنگز کا مطالعہ کر سکتے ہیں کیوں کہ درخت نشونما پاکر بڑھتے رہتے ہیں اور ہوا سے جذب کی گئی کاربان ڈائی آکسائیڈ ان کی رنگز میں قید رہ جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں درخت بہت ہی کارگر معلومات کا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن جنوبی سمندر کے پاس درخت بہت ہی نایاب ہیں اور صنوبر کے اس تنہا ترین اور بوڑھے درخت کے حوالے سے ہماری ٹیم کا خیال ہے کہ یہ بہت معلوماتی ڈیٹا مہیا کر سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صنوبر کے درخت خطے میں موجود کسی بھی دوسری چیز کی نسبت تیزی سےنشونما پاتے ہیں اور ان سے ریکارڈ لینا بھی آسان ہوتا ہے کیونکہ ان کی رنگز بڑی ہوتی ہیں اورانہیں الگ کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

  • ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود

    امریکی کمپنی ایپل نے آئی فون 14 کی نمائش کر دی، نئی آئی فون سیریزمیں ایمرجنسی سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن ٹیکنالوجی بھی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے فون کے چار ورژن متعارف کروائے گئے ہیں، آئی فون 14 کے دو سائزز آئی فون 14 اور آئی فون 14 پلس متعارف کرایا گیا ہے، نئے فونز میں سیٹلائٹ کے ذریعے ایمرجنسی کال بھیجنے کی صلاحیت ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    اور اس تقریب کے دوران عالمی وبا کے آغاز کے بعد سےپہلی مرتبہ عام لوگوں کو شریک ہونےکی اجازت تھی ایپل کی جانب سے دی واچ الٹرا کی بھی رونمائی کی گئی تام اس تقریب میں اگلی جنریشن کے آئی فون، گھڑی، اور ایئر پاڈ جیسی مصنوعات پر توجہ مرکوز رہی۔


    بی بی سی کے مطابق فون میں خلا میں موجود سیٹلائٹس سے متعلق معلومات ہوتی ہیں اور ڈیوائس کو ان کی جانب صحیح انداز میں پوائنٹ کرنے کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔

    ٹیکنالوجی تجزیہ کار پاؤلو پیسکاٹور کا کہنا ہےکہ اُن کاماننا ہے کہ یہ جدت ایسے صارفین کے لیے ایک اچھی خبر ہے جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ اب فون بنانے والی کمپنیاں سیٹلائٹ کے استعمال کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں کیونکہ صارفین کے لیے فوری اور مؤثر مواصلاتی نظام اب بھی انتہائی اہم ہے۔

    انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    ایپل کے مطابق آئی فون صارفین نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران تین کھرب سے زیادہ تصاویر بنائی ہیں، تقریب میں آئی فون 14 کے نئے 12 میگاپکسل کیمرے کی بھی رونمائی کی گئی ، کمپنی کا دعوی ہے کہ کیمرہ تیزی سے حرکت کرنے والی چیزوں اور انتہائی کم روشنی میں تصویر بنانے میں گذشتہ فونز سے 49 فیصد بہتر ہے-

    فرنٹ کیمرے میں آٹو فوکس کی آپشن بھی شامل کی گئی ہے جس سے سیلفیز کی کوالٹی بہتر ہو گی، آئی فون 14 کی قیمت امریکہ میں 799 ڈالر جبکہ برطانیہ میں 849 پاؤنڈ ہے آئی فون 14 پرو اور آئی فون 14 پرو میکس کے ڈیزائن میں سب سے بڑی تبدیلی اس کی سکرین کے اوپری حصے میں کی گئی ہے۔

    ہینڈ سیٹ گہرے جامنی رنگ، سیاہ، سلور اور گولڈ میں بھی دستیاب ہے۔ آئی فون 14 پرو کی قیمت امریکہ میں 999 ڈالر جبکہ برطانیہ میں 1099 پاؤنڈ ہے۔

    نتپ فیچر ’ڈائنیمک آئی لینڈ‘ بلیک نوچ کی جگہ لایا گیا ہے جس کے بارے میں اکثر آئی فون صارفین شکایت کر چکے ہیں۔ یہ نوٹیفیکشنز کی بنیاد پر اپنی شکل تبدیل کر دیتا ہے۔ دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ یہ فون ہمیشہ آن رہ سکتا ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • افغان تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ، پاکستانی مداحوں پر کرسیاں پھینکیں

    افغان تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ، پاکستانی مداحوں پر کرسیاں پھینکیں

    ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کی شکست پر افغانستان کے تماشائیوں نے اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کی اور پاکستانی مداحوں پر کرسیاں پھینکیں۔

    پاکستان کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر افغان شائقین کی جانب سے شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کی مبینہ ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں افغان تماشائیوں کی جانب سے کرسیاں پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ویڈیو میں افغانستان کے شائقین پاکستان کرکٹ ٹیم کے مداحوں کے اوپر کرسیاں پھینکتے اور اسے توڑتے نظر آرہے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو ایک وکٹ سے شکست دے دی۔

    قومی ٹیم کو آخری اوور میں 11 رنز درکار تھے تو ایسے میں نسیم شاہ نے فضل حق فاروقی کی ابتدائی دو گیندوں پر چھکے لگا کر قومی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروایا۔

    میچ کے دوران آصف علی اور افغان بولر فرید احمد کے درمیان گرما گرمی بھی ہوگئی تھی تاہم نسیم شاہ نے آخری اوور میں 2 چھکے لگا کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

  • ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ سے کئی سازشی تھیوریوں کے پنپنے اور پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایسا نہیں کہ انٹرنیٹ کے دور سے پہلے کوئی سازشی تھیوری یا غلط اطلاع یا افواہیں نہیں پھیلتی تھیں۔ ایک خاندان کی مثال ہی لے لیجیے۔ گھر میں بھی ساس، نندیں، دیور، بھاوج، سسر، ماموں ، تایا، پھوپھی، خالو، دادا، لکڑ دادا، پر دادا، لکڑ کا بھی لکڑ دادا وغیرہ وغیرہ سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گھریلو افواہوں کی لپیٹ میں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں یا سازشی ذہن رکھتے ہیں۔

    افواہ یا غلط معلومات کا تبادلہ خاندان سے لیکر معاشرے کی ہر اکائی میں ہوتا ہے۔ غاروں میں رہنے والے انسان یا جنگلوں میں جانوروں کا شکار کرتے لوگ سبھی افواہوں کا شکار یا افواہ پھیلانے کا آلہ کار بنتے رہے ہیں۔ اور کوئی بھی افواہ یا غلط معلومات سازشی تھیوری کی بنیاد بن جاتی ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

    یہ ایک دلچسپ انسانی رویہ ہے۔ انسان دراصل کسی کمپیوٹر پروگرام کی طرح من و عن ایک خبر کو یا ایک معلومات کو دوسرے تک نہیں پہنچا پاتے۔ فرض کیجئے میں نے ایک واقعہ دیکھا اور اب جب میں آپکو اسکی تفصیل بتاؤ گا تو آپکا دماغ اسے اپنے مطابق سمجھے یا تصور کرے گا۔ یہاں میں آپکو واقعہ سنانے کے دوران جہاں جہاں آپکی دلچسپی بڑھتی دیکھوں گا وہاں وہاں غیر شعوری طور پر اُس بات کو مزید کھینچوں گا۔ اس میں مزید تفصیل بتانے کی کوشش کرونگا۔ یوں معلومات ہو بہو آپ تک نہیں پہنچے گی۔ اس میں کچھ بدلاؤ آئے گا۔

    بالکل ایسے ہی جب آپ میرا سنایا گیا واقعہ کسی اور کو سنائیں گے تو وہاں آپ اپنے مطابق بات کو تبدیل کر دیں گے۔ ایسا کرتے کرتے اصل بات کا مطلب و معانی بالکل ہی تںدیل ہوتا چلا جائے گا۔ سازشی تھیوریاں کچھ ایسے ہیں پھیلتی ہیں۔ مگر اس میں ایک فرق اور بھی ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ جس بیز پر پہلے سے ہی یقین کیے ہوتے ہیں یہ ساشی تھیوری اسے مزید پختہ کرتی ہے۔ جب وہ تھیوری آپکے کسی یقین کی کسی بھی بات کو دور کی کوڑی لاتے ہوئے بھی کنفرم کر دے تو آپ پکے ہو جاتے ہیں۔ آپ ثبوت نہیں مانگتے۔ آپکے دلائل کا محور کسی کی کہی بات یا کسی کے سنے جملے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ آپ مکمل حقائق نہیں دیکھتے۔

    اب مثال لیتے ہیں ہارپ ٹیکنالوجی کی سازشی تھیوری کی۔ ہمارے ہاں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ ہر وقت ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے اور امریکہ ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس بات کے پیچھے ماضی کے کئی واقعات، امریکہ کے دنیا بھر میں غاصبانہ تسلط اور امریکہ کی خارجہ پالیسیوں سے جڑے ہیں۔

    مزید یہ کہ ہماری اشرافیہ کے لیے یہ آسان ہے کہ وہ امریکہ کو دشمن ثابت کر کے اصل مسائل اور اپنی صدیوں کی نااہلی کا مکمل ملبہ امریکا یا مغربی ممالک پر ڈال دے۔ ایسے میں عام عوام میں آمریکہ کے خلاف بد اعتمادی ایک قابلِ فہم بات ہے۔ تو اب ہم یہ تو سمجھ گئے کہ امریکہ کے خلاف بداعتمادی موجود ہے تو ایسے میں اگر کوئی آپکو آ کر یہ کہے کہ آج پاکستان میں جو سیلاب آئے ہیں یہ سب امریکہ کی سازش ہے تو آپ اسے ماننے میں ذرا بھی تردد نہیں کریں گے بھلے آپکے پاس اسکے ثبوت ہوں یا نہ ہوں۔

    انٹرنیٹ کے آنے سے البتہ یہ ہوا کہ ان سازشی تھیوریوں کو لوگوں نے سائنسی اصطلاحوں سے بھر کر انہیں بظاہر ایسا بنا دیا کہ لوگ ان پر یقین کرنا شروع کر دیں۔ مثال کے طور پر ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق زمین سے اوپر فضا میں 50 سے 1 ہزار کلومیٹر کے فضائی حصے کی تحقیق کے حوالے سے ہے۔ اس فضائی حصے کو آئینوسفیر کہا جاتا ہے۔ اب وہ لوگ جو سائنس سے یا موسموں کی سائنس سے ناواقف ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ زمین پر موسم جنکا تعلق دراصل پانی کے بادلوں سے ہے، یہ بادل کتنے اوپر تک ہوتے ہیں؟ کم سے کم دو کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ تقریباً 7 کلومیٹر اوپر۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کا تعلق بادلوں سے کیسے ہو سکتا ہے جبکہ یہ آئنوسفیر (جو 50 کلومیٹر سے اوپر شروع ہوتی ہے) کے کسی خاص حصے کو ہائی فریکوئنسی ریڈیائی لہروں کے ذریعے متحرک کر کے اسکے اثرات کو سمجھنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اسکا ایک مقصد سورج کی تابکاری شعاعوں کا فضا کے اس حصے پر سثرات کو جاننا ہے اور دوسرا خکا میں سٹللائیٹس کمیونیکشن کے خلل کا اس فضائی حصے میں بدلاؤ سے تعلق سمجھنا ہے۔ اس پراجیکٹ میں ہائی فریکوئنسی ریڈیو اینٹنیا اور ریڈیو رسیور شامل ہیں۔

    ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے تحقیقاتی ادارہ امریکی ریاست الاسکا میں موجود ہے۔ یہ 1993 میں قائم ہوا اور 2015 کے بعد یہ اب الاسکا کی ایک یونیورسٹی کے زیر انتظام ہے۔ اس ادارے کو عام عوام بھی دیکھ سکتی ہے۔ ہارپ ٹیکنالوجی کے حوالے سے سازشوں کے بارے میں اس ادارے کے ماہرین کو علم ہے اور وہ اس حوالے سے شفافیت کا مکمل مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آپ انکی ویب سائٹ پر جا کر ہارپ ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کا ایک قانون ہے کہ غلط انفارمیشن کو غلط ثابت کرنے میں اس اس انفارمیشن کے پھیلانے سے دس گنا زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ایسا ہر سازشی تھیوری کے پھیلاؤ میں ہوتا ہے۔ ماننے والوں کی تعداد، حقیقت جاننے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔۔کیونکہ سمجھنے یا سمجھانے کا عمل وقت کیساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔

    موجودہ سیلاب یا آئندہ آنے والے سیلابوں کا تعلق ہارپ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے جسکی ذمہ داری چین، انڈیا، برطانیہ، روس، امریکہ جیسے بڑے ممالک کے کندھوں پر آتی ہے کیونکہ یہ فضا کو گرین ہاؤس گیسوں سے بھر رہے ہیں۔ جسکی وجہ سے دنیا کا بالعموم اور ہمارے خطے کا بالخصوص درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    وہ عورت میرے سامنے بیٹھی تھی۔ شام کا وقت تھا اور میں اس عورت کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔

    زرد مدہم بلب کی روشنی میں اس کے چہرے پر قبل از وقت نمایاں ہو جانے والی جھریاں مزید نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ نحیف بدن کے ساتھ اس کا ہاتھ تیزی سے سلائی مشین کے ویل کا ہینڈل گھما رہا تھا اور اس عورت کے چھوٹے چھوٹے پانچ بچے صحن میں شرارتیں کرتے پھر رہے تھے۔

    لوگوں کے کپڑے سلائی کرتے کرتے اس عورت کے ہاتھوں کی انگلیوں پر قینچی پکرنے سے چنڈیاں بن چکی تھیں جو اس کے کمزور ہاتھوں پر مزید نمایا ں ہو رہی تھیں۔

    ایک سوٹ کی کتنی سلائی ہے؟ میں نے پوچھا

    60 روپے، اس عورت نے بتایا اور اس کی آنکھوں میں چمک در آئی۔

    میں نے فوراً سے کہا کہ ٹھیک ہے، اگر آج سوٹ دوں تو کب تک مل جائے گا؟

    کل شام تک مل جائے گا، اس عورت نے آس بھری آواز میں کہا۔ گویا 60 روپے کی حقیر رقم اس کا کوئی خواب پورا کرنے والی تھی۔

    میرے ذہن میں لالچ در آیا کہ صرف ایک دن میں سوٹ تیار کرنا اور وہ بھی صرف 60 روپے میں جبکہ پچھلے مہینے میں نے اپنی بیگم کے 2 سوٹ 600 روپے سلائی دے کر سلوائے تھے اور پندرہ دن کے وعدے پر بھی وہ سوٹ مجھے شاید پچیسویں دن ملے تھے۔

    اس عورت کے ہاتھ میں صفائی تو بہت تھی، دل ٹہر سا گیا تھا کہ کام یہیں سے کروانا ہے۔

    بہرحال میں نے ذہن میں سوچا کہ اتنے کم وقت اور اس سے بھی کم دام میں یہ موقع دوبارہ نہیں ملنے والا۔

    وہ عورت ذرا ذرا دیر بعد مشین سے سر اٹھا کر بچوں کو ایک نظر دیکھتی، درمیان میں ایک دفعہ اٹھ کر مٹی کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑیوں والے چولہے پر رکھی ہانڈی میں چمچ ہلایا اور سلگتی لکڑیوں میں سے ایک کو باہر نکال کر پانی سے بجھایا۔ گرم لکڑی پر پانی ڈالنے سے ایک دم شرر شرر کی آواز آئی، میں نے سر اٹھا کر اس طرف دیکھا تو دھوئیں کا ایک مرغولہ تھا جو شور مچاتا اس عورت کے کے بالوں میں سے ہوتا ہوا ہوا میں غائب ہو رہا تھا۔

    دھوئیں کی وجہ سے کھانستے کھانستے، ڈوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کر کے وہ عورت دوبارہ زمین پر مشین کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
    میں نے شاپر سے دو سوٹ نکال کر اس عورت کے سامنے رکھے اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا جس پر ایک ماڈل نے خوبصورت موتیوں کی بُنائی والے گلے کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ تصویر اس عورت کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ گلے کا ڈئیزائن اس آف وائٹ سوٹ پر بنانا ہے اور اس دوسرے فیروزی سوٹ میں شلوار کے پائنچوں پر ڈئیزائن بنانا ہے۔ اس عورت نے گلے کے ڈئیزائن کو دیکھا پھر پائنچوں کے ڈئیزائن کو دیکھا اور کہا کہ 60 روپے سادہ سوٹ کی سلائی ہے، گلے اور پائنچوں کے ڈئیزائن کے پیسے الگ لگیں گے۔

    میں نے کاروباری چال چلتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی تو آپ 60 روپے میں ہی ڈئیزائن کے ساتھ سوٹ بنائیں نا، کام اچھا ہوا تو آگے بھی کپڑے آپ کے پاس ہی آئیں گے پھر کمی بیشی کر لیں گے۔ اس عورت کے چہرے پر انکار واضح تھا مگر اس نے ایک دفعہ پھر بچوں کو دیکھا اور انکار بھرے تاثرات کے ساتھ کہا کہ ٹھیک ہے آپ پرسوں سوٹ لے لیجیے گا۔

    میں نے اپنی پہلی چال کامیاب ہوتے دیکھ کر کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ کل شام تک آج سوٹ تیار کر سکتی ہیں۔

    وہ سادہ سوٹ کی بات تھی، یہ تو دو سوٹ ہیں اور ان میں کام بھی زیادہ ہے۔ اس عورت نے بے بسی سے کہا، گویا اسے مجبوری درپیش نہ ہوتی تو وہ اتنے پیسوں میں کام کو ہاتھ بھی نہ لگاتی۔

    یہ عورت میری ایک پہچان والی خاتون کی دیورانی تھی، سو مجھے میری پہچان والی خاتون نے اس عورت کے تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا۔ لہذا میں جانتا تھا کہ اس وقت عورت کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کام ایک دن میں کر لے گی۔

    میں نے کہا کہ دیکھ لیں پھر، کام آپ کو ریگولر ملتا رہے گا، آپ سوٹ سلائی کریں، میری بیگم کو پسند آئے تو آپ کو مہینے کے دو چار سوٹ تو آرام سے مل جایا کریں گے۔

    اگر میں مہینے میں چار سوٹ بھی سلائی کرواؤں تو یہ 240 روپے بنتے ہیں، میرا بیٹا اس سے زیادہ پیسے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک وقت میں کھانے پر لگا دیتا ہے، جبکہ میرے ایک دن کے سگریٹ اور دوپہر کے کھانے کا خرچ بھی تقریباً اتنا ہی ہے، پھر یہ عورت 240 روپے کے لالچ میں اتنا کام کیوں کرے گی؟؟ ذہن میں آتی ایسی سوچوں کو میں نے اگلے ہی پل جھٹک دیا تھا۔ اس عورت کی مجبوری میں مجھے اپنا فائدہ نظر آیا تو میں نے اس عورت کو دوبارہ مخاطب کیا کہ میں کل شام 7 بجے تک کسی کو پیسے دے کر بھجواؤں گا تو آپ اسے سوٹ دے دیجیے گا۔ اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میں وہاں سے چلا آیا۔

    اگلے روز اپنی بیگم کو ساتھ لے کر میں سوٹ لینے گیا تو میرے جانے تک خدشوں کے برعکس سوٹ بالکل تیار پڑے ہوئے تھے، بیگم نے سوٹ دیکھے تو اسے بھی بے حد پسند آئے، نفاست سے ہوئی سلائی کو دیکھ کر میرا بھی جی خوش ہو گیا، میں اور بیگم تعریف کرتے کرتے رک گئے کہ مبادا وہ عورت اگلے سوٹ پر سلائی زیادہ نہ کر دے۔

    وہ عورت اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کچھ بنانا چاہتی تھی، جب اس خواہش کا اظہار اس نے ہمارے سامنے کیا تو میری اپنے جی میں ہنسی چھوٹ گئی۔

    کیسی بیوقوف عورت تھی کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں، دیواروں سے یاسیت ٹپک رہی ہے، جس کام کے لیے کوئی بھی 1000 روپے دے دے اور مہینہ بھر انتظار کرے، وہ کام اس عورت نے ایک دن اور 60 روپے میں کر دیا تھا اور بچوں کو پڑھانا چاہتی تھی۔

    اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ انکل کو پانی پلاؤ، میں نے مٹی میں کھیلتے بچوں کو دیکھا اور فوراً کہہ دیا کہ کسی صاف بچے کے ہاتھ سے منگوائیں۔

    اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا اور اس کا بیٹا ہاتھ دھو کر پانی لے آیا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی پانی پیا اور بیگم کو اشارہ کیا کہ کہ اٹھو چلیں۔

    بیگم سے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ رک جائیں۔

    بیگم سے باتوں کے درمیان پتا چلا کہ عورت کو کھانے پکانے کا بھی شوق تھا مگر شوق پورا کرنے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے۔ میں اپنی بیگم کی صلاحیتیوں کا اس دن قائل ہو گیا جب بیگم نے اس عورت سے اگلے ایک دن میں 2 مزید سوٹ 120 روپے میں سلائی کروائے ، جبکہ بچے ہوئے کپڑے سے میری بھانجیوں کی 2 فراکیں بھی سل گئیں۔ بیگم نے کھانے کی ایگزیبیشنز سے لائے ہوئے مفت پرموشنل کھانے کی تراکیب والے دو رسالے اس عورت کو سلائی کے پیسوں کے بدلے تھما دئیے ۔ اس عورت نے فوراً اپنی بیٹیوں کو کہا کہ ان میں سے دیکھو کون سی ترکیب ٹھیک لگ رہی ہے، اب جب پیسے آئیں گے تو میں اپنے بچوں کو چیزیں منگوا کر وہ ڈش بنا کر کھلاؤں گی۔

    بچوں نے خوشی سے اچھلتے ہوئے آپس میں بیٹھ کر ترکیبیں ڈسکس کرنا شروع کر دیں اور اچھے کھانے کے خواب بننے لگے۔

    اس عورت نے دوبارہ سر جھکا کر کام کرنا شروع کر دیا۔

    صرف 60 روپے، اپنے 60 روپوں کے لیے باہر اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا اور وہ عورت تیزی سے مشین پر ہاتھ چلا رہی تھی تاکہ ان ترکیبوں کے لیے چیزیں خرید سکے جو اس کے بچوں نے پسند کرنی تھی، میں جانتا تھا کہ ایسے گھروں میں ترکیبیں صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتی ہیں۔

    آج میری بیٹی نے جب پیزے کا من پسند فلیور نہ ملنے پر پورا پیزا دیوار میں دے مارا تو مجھے وہ عورت اور اس کے بچے یاد آ گئے۔

    اس زدر بلب کی روشنی میرے اردگرد پھیلنے لگی اور اس عورت کے جھریوں بھرے کمزور چہرے میں چھپا وہ کرب میرا گلہ دبانے لگا جو میں نے 60 روپوں کے لیے اس کے چہرے پر دیکھا تھا۔ سانس اندر کھنچتے ہوئے مجھے اس عورت کی بجھتی ہوئی سلگتی لکڑی کا دھواں اپنے سینے میں بھرتا محسوس ہوا اور میں زمین پر گرتا چلا گیا۔

  • صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نطر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بِیٹا انفو (WABetaInfo) کے مطابق آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 استعمال کرنے والے صارفین 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    بِیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق آئی فون کے ماڈل 5 اور 5سی کے صارفین اگر اپنے فون پر واٹس ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے فون کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ 24 اکتوبر کے بعد صرف آئی او ایس 12 پر ہی واٹس ایپ میسر ہوگا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے جاری بیان میں ایپل کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بیشتر صارفین کو اس اپ گریڈیشن سے کوئی مسئلہ نہیں گا-

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے 89 فیصد صارفین آئی او ایس 15 استعمال کر رہے ہیں یا اپنے فون کو آئی او ایس 15 پر اپ گریڈ کرلیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب صرف 4 فیصد آئی فون صارفین ہی آئی او ایس 13 یا اس سے پہلے کا ورژن استعمال کررہے ہیں۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    قبل ازیں ویب بیٹا انفو نے اپنی رپورٹ میں واٹس ایپ کے ایک نئے فیچر کے بارے بتایا تھا کہ صارفین ایس ایم ایس کی طرح واٹس ایپ پر بھی خود کو میسجز ارسال کر سکیں گے صارفین کو اپنا نمبر ‘You’ کے نام سے نظر آئے گا جس پر آپ کوئی بھی میسج کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اس نئے فیچر سے صارفین کو چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔صارفین اس کی مدد سے نوٹس کا کام کرسکیں گے اس کام کے لیے پہلے ہی نوٹس کی ایپلیکیشن موجود ہے لیکن صارفین کا زیادہ تر وقت واٹس ایپ پر گزرتا ہے تو اس نئے فیچر سے انہیں ضروری چیزیں یاد رکھنے میں آسانی ہوگی جلد یہ فیچر اینڈرائیڈ ، آئی فون اور ویب کے صارفین کے لیے بیک وقت متعارف کروایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

  • انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    انسٹاگرام پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد

    ڈبلن: آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے میٹا کی ذیلی کمپنی انسٹاگرام پر جنرل ڈیٹا پروٹیکشن قواعد (GDPR) کی خلاف ورزی کرنے پر 40 کروڑ 50 لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے پیر کو کہا کہ اس نے انسٹاگرام پر بچوں کے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ریکارڈ 405 ملین یورو جرمانہ کیا ہے۔

    ڈی پی سی نے 2020 کے آخر میں ان خدشات کے بارے میں ایک تحقیقات کا آغاز کیا کہ فوٹو اور ویڈیو شئیرنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو کیسے ہینڈل کرتا ہے تحقیقات کا مرکز بچوں کے لیے انسٹاگرام پروفائل اور اکاؤنٹ کی ترتیبات کی "مناسبیت” اور فرم کی "بطور کمزور افراد کے ڈیٹا کے تحفظ کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری” پر تھا۔

    یہ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کےتحت منعقد کیا گیا تھا ڈیٹا کے حقوق کے EU چارٹر جو مئی 2018 میں نافذ ہوا تھا GDPR ڈیٹا ریگولیٹرز کو خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے عائد کرنے کا اختیار دیتا ہےچونکہ انسٹاگرام میٹا کی ملکیت ہے جس کا یورپی ہیڈکوارٹر ڈبلن میں ہے، یہ ضابطوں کو نافذ کرنے کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن پر آتا ہے۔

    آئرش کمیشن کی جانب سے جرمانے کی تصدیق کردی گئی لیکن کمیشن مزید کسی قسم کا کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا آئرش کمیشن میں ابھی بھی میٹا کی ذیلی کمپنیوں کے حوالے کم از کم چھ مزید تحقیقات موجود ہیں۔

    کمیشن کی جانب سے انسٹاگرام پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی یعنی بچوں کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر شائع کرنے کی وجہ سے عائد کیا گیا یہ جرمانہ میٹا کی کسی بھی ذیلی کمپنی پر اس سے قبل لگائے جانے والے جرمانے سے زیادہ ہے۔

    میٹا ترجمان کے مطابق یہ تحقیقات پُرانی سیٹنگز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئیں جن کو کمپنی کی جانب سے ایک سال قبل اپ ڈیٹ کردیا گیا تھا اور تب سے اب تک کمپنی نے کئی نئے فیچر متعارف کرائے تاکہ نوعمروں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے اور ان کی معلومات خفیہ رہے۔

    ترجمان نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کا کوئی بھی شخص جب انسٹاگرام میں شامل ہوتا ہےتو ان کا اکاؤنٹ خود بخود پرائیویٹ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ جانتے ہیں،اور بالغ افراد ان نوجوانوں کو پیغام نہیں بھیج سکتے جو ان کو فالو نہیں کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس بات سے متفق نہیں کہ جرمانے کا حساب کیسے لیا گیا اور وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    آئرش ادارے کی جانب سے میٹا کےپلیٹ فارمز پر عائد کیا گیا یہ تیسرا جرمانہ ہے البتہ یہ جرمانہ مالیت کے اعتبار سےاب تک کا دوسرا بڑا جرمانہ ہے سب سے زیادہ جرمانہ 74 کروڑ 60 یوروز کی مالیت کا تھا جو ایمازون پر عائد کیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں پچھلے سال، اس نے واٹس ایپ پر جرمانہ عائد کیا، جو میٹا کی ملکیت ہے، جو ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کو توڑنے پر اس وقت کا ریکارڈ 225 ملین یورو تھا میٹا کو بھی مارچ میں ڈیٹا کی 12 خلاف ورزیوں پر 17 ملین یورو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا-

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • 2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    میری لینڈ: ایک ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک کہکشاں کا عجیب و غریب رویہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے اندر جدید فلکیات کے انتہائی غیرمتوقع وقوعات رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : "سائنس الرٹ” کے مطابق SDSS J1430+2303 نامی کہ ایک بہت بڑے بلیک ہولز کےجوڑے، جس کا مجموعی وزن تقریباً 20 کروڑ سورج کے برابر ہے،کے دونوں بلیک ہولز کا تصادم قریب الوقوع ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    فلکیاتی اصطلاحات میں ’قریب الوقوع‘ اکثر پوری زندگی کا عرصہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ سگنل دیو ہیکل بلیک ہولز سے آئے ہیں تو ان کا تصادم آئندہ تین سالوں میں ہوجائے گا۔

    یہ ممکنہ طور پر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا ایک منفرد منظر کاسب سے بہترین شاٹ ہوسکتا ہے لیکن سائنس دانوں کو ابھی تک علم نہیں کہ J1429+2303 کے مرکز میں کیا ہونے جارہا ہےسائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس عجیب و غریب کہکشاں کو دیکھتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کی حتمی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    بلیک ہولز کے تصادم کی سب سے پہلی نشان دہی 2015 میں کی گئی تھی جس کے بعد فلکیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تب سے اب تک گریویٹیشنل لہروں کی مدد سے کئی بار نشان دہی کی جاچکی ہے جو بڑے بڑے وقوعات کے نتیجے میں زمان و مکان میں سفر کرتی آئیں۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

     

    آج تک، ان میں سے تقریباً تمام انضمام بلیک ہولز کے بائنری جوڑے رہے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر انفرادی ستاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی وجہ ہے LIGO اور Virgo، کشش ثقل کی لہر کے آلات جو پتہ لگانے کے لیے ذمہ دار ہیں، اس بڑے پیمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں کے اپنے مراکز میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں، اور ہم نے نہ صرف کہکشاؤں کے جوڑے اور گروہوں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا ہے، بلکہ ضم ہونے کے بعد کی کہکشاؤں کے مراکز میں مداروں میں ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ ان کا اندازہ ان کہکشاں کےمرکزسے خارج ہونے والی روشنی سے لگایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹائم اسکیل پر جو مدار کی تجویز کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ J1430+2303 کے مرکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلیک ہول بائنری کا نتیجہ ہے-

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ہمارے ارگرد ٹیکنالوجی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ نئے سے نئے معاشرتی حل ٹیکنالوجی کی بدولت سامنے آ رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر نیے نئے سٹارٹ اپ یعنی نوزائیدہ کمپنیاں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں مجھے ہالینڈ جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرے ایک دوست نے ایک کمپنی کھولی ہے۔ کمپنی کا آئیڈیا کیا تھا؟ کھانے پینے کی اشیاء پر بہتر اور تیز تر مارکنگ کرنا۔

    یعنی مارکیٹ میں بیچی جانے والی اشیاء جیسے کہ پانی کی بوتلیں، کین یا دودھ کی پیکنگ پر اُسکی معیاد اور دیگر تفصیلات لیزر کے ذریعے لکھنا۔ اب یہ کام مختلف بڑی بڑی کمپنیاں پہلے سے رائج ٹیکنالوجی کے ذریعے کرتی ہیں مگر اس میں اشیاء کی پیکنگ پر تفصیلات پرنٹ کی جاتی ہے۔ سو اس میں تین مسائل ہیں۔ اول اس میں سیاہی کا استعمال ہوتا ہے، دوسرا پرنٹنگ کا عمل تیز نہیں اور تیسرا سیاہی کے مٹ جانے یا خراب ہونے کی صورت مارکیٹ میں کسی چیز کو قانوناً بیچا نہیں جا سکتا ۔اس مسئلے کا حل اُنہوں نے کیا ڈھونڈا ؟

    جینوا سوئٹزرلینڈ میں سرن کے اندر ہونے والی ایک تحقیق سے ایک ٹیکنالوجی دریافت ہوئی۔ جس میں لیزر کے ذریعے مختلف شکل (گول، تکونی، چکور) اشیاء کو مختلف میٹریل (پلاسٹک، ٹن وغیرہ) سے بنتی ہیں، پر مارکنگ کرنا بے ءد آسان ہو گیا۔ یعنی لیزر کے ذریعے بے حد صاف اور سیاہی کے استعمال کے بغیر کسی طرح کی سطح پر لفظ یا جملے کندہ کیے جا سکتے تھے۔ یہ بے حد صاف اور تیز عمل تھا۔ اس سے چند سیکنڈ میں ہزاروں لفظ بذریعہ لیزر کندہ کیے جا سکتے تھے۔

    اب جب ایک مسئلے کا حل نکل آئے جو پہلے سے موجود حل سے بہتر ہو تو اسکی بنیاد پر ایک سٹارٹ اپ یا کمپنی بنائی جا سکتی ہے۔ جب کوئی ایسا نیا حل مل جائے جس سے ایک وسیع پیمانے پر انڈسٹریوں کو یا معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہو تو باہر کے ممالک میں لوگ حکومت سے تحقیق یا اپنی کمپنی کے قیام کے لیے معاونت طلب کرتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں ان سٹارٹ اپ کی مدد کرنے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ بزنس اور پرائیوٹ سیکٹر سے لوگ ان نئی کمپنیوں میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں۔ یوں سائنس میں ہوئی پیشرفت اور تحقیق پر مبنی ٹیکنالوجی نئی نئی کمپنیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ آج دنیا میں بہت سی کمپنیاں اسکی مثال ہیں۔

    جیسے کہ گوگل، مائکروسافٹ ، فیسبک۔وغیرہ انہی طریقوں اور انہی عوامل سے گزر کر اتنی بڑی بڑی کمپنیاں بن پائیں جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑا ہے۔گویا ٹیکنالوجی، دماغ اور بہتر مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال کی عمر سے کم ہے۔ یہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوان اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور یہ تعداد 2050 تک متواتر بڑھے گی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40 لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کمانے کی عمر میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 9 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت کا پہیہ چلانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اس وقت ملک کو ہر سال کم سے کم مزید 13 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مواقع کیسے پیدا ہونگے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال دی۔ یونیورسٹیوں کو معاشرے کے مسائل کے مطابق سائنس میں تحقیق کر کے، یونیورسٹی کے گریجویٹس کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کر کے کمپنیاں بنانے سے، حکومت کا اس سلسلے میں ان نوزائیدہ کمپنیوں کو بہتر سے بہتر تربیت اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر۔

    پرائیویٹ اور کاروباری شخصیات کو ان کمپنیوں میں پیسہ لگا کر۔۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بہتر پالیساں بنا کر۔ یونیورسٹیوں میں ایسے کلچر کو فروغ دیکر۔ سائنس کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر۔ تعلیمی نصاب میں بہتری لا کر۔ جدید علوم سے واقفیت دلا کر۔ معاشرے اور دنیا کے مسائل کا ادراک حاصل کر کے۔ بہتر کاروباری مواقع پیدا کر کے، بہتر سیکھنے کا ماحول پیدا کر کے۔۔تعمیری سوچ اپنا کر۔ ایک سمت کا تعین کر کے۔

    اگر جلد پالیسی سازوں نے یہ فیصلے نہ کیے تو آبادی کا ٹائم بم تو ویسے ہی پھٹنے کو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہی نوجوان زومبی بن کر اشرافیہ کی موٹی اور سریے سے بھری گردنوں کا پھندہ بن جائیں۔اور پچھلی بے کار ، موٹی توندوں، خالی عقل والی نسل کا قرض چکاتے چکاتے نئی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں۔