Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا پلاسٹک سے ہیرے بن سکتے ہیں؟ وہ بھی اصلی ہیرے۔ اُس پلاسٹک سے جو عام پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، جسکا ایک مشکل سا نام ہے مگر اسکا مخفف آسان ہے پی ای ٹی یعنی PET ، مگر ہیرے کیسے ؟

    اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک دراصل ہوتا کیا ہے ۔ پلاسٹک عمومی طور پر تین عناصر کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔۔کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن ۔ ان ایٹموں سے بنے پیچیدہ اور لمبے لمبے مالیکول ایک خاص ترتیب میں پلاسٹک میں زنجیروں کی طرح ایک دوسرے سے آپس میں جکڑے ہوتے ہیں (محض سمجھانے کے لیے)۔ مختلف طرح کے مالیکول اور مختلف قسم کی ترتیب کے کمبینیشن بنائیں ان میں کچھ اور عناصر ڈالیں اور طرح طرح کی خاصیت کے پلاسٹک بنائیں۔ پلاسٹک کی تاریخ دلچسپ ہے مگر اس پر بات پھر کبھی۔

    اب آتے ہیں اس پر کہ ہیرے کیا ہوتے ہیں۔ ہیرے دراصل کاربن کی ہی شکل ہوتے ہیں جس میں کاربن کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ کاربن کے ایٹم مختلف طرح سے جڑیں تو انکی ظاہری اور کیمیائی خاصیتیں بدل جاتی ہیں۔ اب تک کاربن کے ایٹم 8 مختلف طرح کی ترتیبوں میں قدرت اور لیبارٹریوں میں جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ ہر اس طرح کی ترتیب سے پیدا ہونے والی کاربن کی صورت کو ایلوٹروپ کہتے ہیں۔ سو کاربن کا عنصر ہیرے یا ڈائمنڈ کی شکل میں، گرافائٹ کی طرح ، عام کوئلے جیسا(اس میں کاربن ایٹم بے ترتیب ہوتے ہیں)، نینو ٹیوب کیطرح وغیرہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

    سو اب اگر ہم کاربن کے ایٹموں کو لیبارٹری میں ایسے ترتیب دیں جیسے قدرت میں یہ ہیرے کے اندر موجود ہوتے ہیں تو ہم نقلی ہیرے بنا سکتے ہیں۔ قدرت میں پائے جانے والے ہیرے دراصل زمین کے اندر موجود کاربن یا کوئلے پر صدیوں پڑنے والے شدید دباؤ اور درجہ حرارت سے بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی طرح سے نقلی ہیرے بنائے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ایک خاص عمل کے تحت کاربن کے ایٹموں کو بے حد درجہ حرارت (1400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ) اور دباؤ (5 گیگا پاسکل یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً 49 ہزار گنا زیادہ) کے زیرِ اثر لا کر ہیروں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گویا ہیرے بنانے کے لئے تین اہم چیزیں درکار ہیں۔ کاربن، حرارت اور دباؤ ۔

    اب پلاسٹک میں کاربن تو موجود ہے مگر آکسیجن اور ہائڈروجن سے جڑی ہوئی۔ تو اسے کیسے شدید درجہ حرارت اور شدید دباؤ کے زیر اثر لایا جائے؟ اسکا جواب ہے انتہائی طاقتور لیزر۔ حال ہی میں کیے گئے تجربات جب پلاسٹک کے ٹکڑے پر جرمنی کے روسٹک یونیورسٹی کے محققین نے طاقتور اور انتہائی کم دورانیے کی لیزر پلسس پھینکیں تو ہوا کچھ یوں کہ پلاسٹک کے اُن حصوں پر شدید حرارت اور دباؤ پڑا ۔ اس سے ان میں موجود مالیکیولز کے اندر کاربن آکسیجن اور ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہوئے اور پھر ننھے ننھے ہیروں میں تبدیل ہوتے گئے۔ یہ ہیرے سائز میں نینومیٹر میں تھے یعنی ہائڈروجن ایٹم کے قطر سے تقریباً 20 گنا بڑے۔

    اس تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون اور یورینس پر ہیروں کی بارش کیسے ہوتی ہے۔کیونکہ وہاں بھی ہائڈروجن، آکسیجن اور کاربن کے کئی طرح کے کیمیائی مرکبات اُنکی فضا میں موجود ہیں اور وہاں بھی سیاروں کے اندر شدید درجہ حرارت اور دباؤ کاربن کو ہیروں میں بدل سکتا ہے۔

    اوپر کے بیان کردہ تجربات سے بننے والے یہ ننھے منے ہیرے اس عمل سے کیسے نکالے جائیں یہ ابھی معلوم نہیں ۔ مگر نینو ڈائمنڈ کے جدید ٹیکنالوجی میں کئی مصرف ہیں جیسا کہ کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم کمیونکیشن میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری میں یا نینو بیٹریوں میں۔

    فطرت کے اُصولوں کوجاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر جگہ خود جا کر یا دیدے پھاڑ کر دیکھیں۔ اگر آپ لیبارٹریوں میں بگ بینگ کے حالات پیدا کر سکتے ہیں یا سورج میں ہونے والے کروڑوں میل دور کے فیوژن کے عمل کو زمین پر پیدا کر سکتے ہیں تو آپ فطرت کو یہیں زمین پر بھی جان سکتے ہیں۔ ایک گیند دیوار پر مارنے پر جب واپس آتی ہے تو یہی اایکشن ری ایکشن کا اُصول کائنات کے کسی بھی کونے میں لاگو ہو گا۔ چاند پر بھی، سورج پر بھی، سیاروں پر بھی اور ہم سے لاکھوں نوری سال دور کسی ستارے پر بھی۔

    Reference:

    Z. He et al. Diamond formation kinetics in shock-compressed C-H-O samples recorded by small-angle X-ray scattering and X-ray diffraction. Science Advances. Published online September 2, 2022. doi: 10.1126/sciadv.abo0617.

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • نور الہی عرف دیوا  ،  ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پچھلے زمانے میں روشنی کیلئے چراغ ( اردو میں دیا،پنجابی میں دیوا کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا تھا،جس پہ کئی مثالیں بنی ہوئی ہیں خاص کر ایک مثال بہت مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا، یعنی دوسروں کو روشنی دینا اور خود اس روشنی سے محروم رہنا-

    اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور ان دعووں سے خود بھی محروم رہنا اور دوسروں کو بھی محروم رکھنا یعنی لمبی لمبی چھوڑنا،خیر آپ کو ایک دیوے کی کہانی سناتا ہوں-

    کافی پرانی بات ہے کسی گاؤں میں ایک نور الہی نامی نوجوان رہتا تھا جو سارا دن بڑی لمبی لمبی چھوڑتا اور لوگوں کو نت نئے قصے سناتا تھا تاکہ اس کی واہ واہ اور بلے بلے ہو مگر لوگ تو سب جانتے تھے اور اس کی اسی عادت کے باعث لوگ اسے ،دیوا، کہنے لگے-

    جب بھی وہ بازار سے گزرتا لوگ اوئے دیوے،دیوا آیا جیسے جملے کسنا شروع کر دیتےنور الہی عرف دیوا اپنے بگڑے نام اور تضحیک پر سخت پریشان تھا اس نے سوچا کچھ عرصہ شہر رہا جائے تاکہ اس نام سے جان چھڑوائی جائے-

    نور الہی عرف دیوا شہر پہنچ گیا اور پریشانی کے عالم میں شہر کے میں چوک میں گھوم پھر رہا تھا تانگے گزر رہے تھے مگر نور الہی سارے شور شرابے سے بے فکر سڑک کے وسط میں چلا جا رہا تھا تانگے والے نے آواز دی کہ پیچھے ہٹ جاؤ گزرنے دو-

    نور الہی نے نا سنی تانگے والے نے پھر اسے آواز دی اس نے نا سنی تو پھر تانگے والے نے کہا ،اوئے دیوے پیچھے ہٹ جا اور گزرنے دے،یہ الفاظ نور الہی عرف دیوے کے کانوں میں دھماکہ بن کر لگےاس نے جھٹ سے تانگے والے کا گریبان پکڑا اور بولا سچ سچ بتا میرا نام تجھے کس نے بتا؟-

    تانگے والے نے کہا جناب مجھے نام کس نے بتانا ہے تمہاری حرکتیں ہی دکھائی دے رہی ہیں کہ تم دیوے ہی ہو،خیر نور الہی عرف دیوے کے ساتھ آگے جو ہوا اس کو چھوڑیں اور نور الہی کی جگہ پاکستانی سیاستدانوں کا تصور ذہن میں لائیں کہ کیا یہ سب بھی دیوے نہیں؟

    آئے روز نت نئے دعوے ،نت نئے نعرے مگر عمل زیرو ،چراغ تلے اندھیرا اور نور الہی عرف دیوے کی مثال ان پہ مکمل فٹ ہوتی ہے
    ہمارے یہ دیوے مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر یہ دیوے آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان مچا کر جاتے ہیں-

    تعلیم کو عام کرنے کا نعرہ لگا کر آتے ہیں اور لوگوں کو تعلیم سے محروم کرکے چلے جاتے ہیں بجلی سستی کرنے کا شور ڈال کر آتے ہیں اور لوگوں کو بے علم کرکے جاتے ہیں ان دیوں کی کرتوتیں ہی ایسی ہیں کہ فوری پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے دیوے ہی ہیں-

    ان کے بڑے بڑے نعرے مگر یہ خود بھی ان دعوؤں سے محروم ہیں آپ سیلاب زدہ علاقوں کو ہی دیکھ لیجئے فوری پتہ چلے گا کہ ان کی ساری باتیں چراغ تلے اندھیرا ہی تھا لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور یہ دیوے لمبی لمبی چھوڑتے رہےاللہ ان سے ہمیں محفوظ رکھے آمین-

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    مجھے بستر پر لیٹے ہوئے قریب دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ نا ختم ہونے والے خیالات میں گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ 3 بج چکے ہیں، صبح آٹھ بجے کالج جانا ہے اور ابھی تک میں نہیں سویا یہ سوچتے ہوئے میں، اس کوشش میں لگ پڑتا ہوں کہ اب میرے اور نیند کے درمیان کچھ حائل نہ ہو۔ لیکن اسی لمحے میری نظروں کے سامنے ایک منظر آجاتاہے ۔

    "کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ اور ڈوبنے والے مجھے واضح دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ مجھے بھی کوئی پانی کی طرف زبردستی لے کر جانا چاہ رہا ہے ۔ اچانک میں خود کو پانی کے بالکل پاس پاتا ہوں ۔ ”
    یہ سب دیکھ کر میں بستر سے اٹھ بیٹھتا ہوں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتا ہوں” مجھے بچاؤ "۔

    دادو! امی کو یہ کہتے ہوئے، مجھ پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کر دیتی ہیں کہ "سوئے ہوئے ڈر گیا ہے”۔ حالانکہ میں سویا ہی نہیں تھا ابھی۔ میرے بتانے پر وہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں کہ میں ابھی سویا ہی نہیں تھا ۔ ناجانے کب آنکھ لگی اور میں سو گیا ۔

    اگلے دن دوپہر کے وقت کھیلتے ہوئے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ شاید مجھے کوئی دوست بلا رہا تھا ۔ دیکھنے گیا تو کوئی نظر نہ آیا مگر آوازیں اب بھی آرہی تھیں ۔ کل رات کا واقعہ اور دوپہر کی یہ واردات ۔۔۔۔ اب محلے میں زبان زدِ عام ہونے لگی۔

    معالج کے پاس لے کر جانے کا معاملہ آیا تو بیشتر بزرگوں کی طرف سے یہ کہتے ہوئے رکاوٹ کا سامنا ہوا کہ۔ ” نظر نہیں آرہا یہ بیمار نہیں ہے ، کوئی کلموہی! کسی بابے کے ذریعے کروا رہی ہے”۔

    ہم ایک بابا جی کے پاس گئے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا جیسے ہم کوئی کافر ہوں، اور جیسے ہی میں نے کلمہ پڑھا ۔ بابا جی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی غیر مسلم کو مسلم کر لیا ہو۔

    ماما پھلا اچھا خاصا نفسیاتی بندہ ہے، علم نفسیات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، ساری کہانی اطمینان سے سننے کے بعد بولا! "شیزوفرینیا”( یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شرح مرد و خواتین میں برابر ہے۔ پندرہ برس کے بعد اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جب کے پندرہ سال کے کم عمر افراد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی کئی علامات ہیں ۔ مثلاً کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کا نظر آنا، اکیلے میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ) کے مریض تمہیں تو بس ایک معالج کی ضرورت ہے ۔ اور جن نکالنے والے بابوں کو پورے ہسپتال کی۔

    خیر کہانی کہیں بیچ میں ہی رہ گئی۔ قصہ مختصر کہ جن تو بابا جی بھی نہ نکال پائے ۔ کیونکہ جہالت جیسا جن نکلنے میں صدیاں لگتی ہیں ۔

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    افواج پاکستان داخلی سلامتی کیلئے دن رات ایک کررہی ہے۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں پاک فوج اور سلامتی کے اداروں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ پاک فوج اور ہمارے قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب جو سراسر جھوٹ پر مبنی کتاب تھی اس کے ذریعے ہماری مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بلاشبہ ملک میں سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے تاہم سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سے الگ ہو کر پاک فوج کو اپنا نشانہ کیوں بناتی ہیں؟ اس کو بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ہوس اقتدار کے لئے ملکی سلامتی کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے یہ بات ہمارے سیاستدانوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست اداروں کے بغیر نہیں چلتی ادارے آئین کے پابند ہوتے ہیں وہ اپنا کردار آئینی طریقے سے ہی ادا کرتے ہیں۔ ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاست اور جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے مورد الزام ریاست کے اہم ترین اداروں کو ٹھہرایا اور جمہور سے اپنی گردن بچالی۔ اس طرح کی گفتگو اور الزامات سیاسی بیان تو ہوسکتے ہیں صداقت کا عنصر موجود نہیں ہوتا۔ سیاستدان اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں ۔ پاک فوج عوام کی ہے اور فوج عوام میں سے ہے اور یہ عوام کے اور ملک کے وفادار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو روایتی سیاست کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ملکی سلامتی اور ملک کے مستقبل کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہئے۔ ملک ایک ایسے خطے میں ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفاد وابستہ ہیں یہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے پاکستان میں کوئی نہ کوئی کھیل جاری رکھتی ہیں ان سازشوں پر پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی گہری نظر ہوتی ہے جس سے وہ عوام کو بھی خبردار کرتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی یا پھر ن لیگ یا مذہبی سیاسی جماعتیں ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر اپنے جلسوں چوراہوں‘ گلی کوچوں‘ سوشل میڈیا پر بے ہودہ بیان بازی سے باز رہیں اور یہ قومی سلامتی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان اداروں کو اپنے آئینی کردار ادا کرنے دیں۔

  • صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ کرونا کے بارے میں تو جانتے ہیں۔ یہ وہ وبا تھی جو انسانوں میں ایک وائرس کے ذریعے پھیلی مگر کیا آپ چینی کے بارے میں جانتے ہیں جو وہ وبا ہے جو صنعتی ترقی سے پھیلی۔

    چینی کی کہانی ہے تو پرانی یعنی تقریباً 25 سو سال پہلے، کی، جب بھارت میں اسے پہلی بار بنایا گیا مگر اسکا دنیا میں اس پیمانے پر استعمال جو آج ہو رہا ہے، تاریخ میں نہیں ملتا۔ چینی اور تمباکو دونوں کی کہانی قدرِ مشترک ہے۔

    ان دونوں کی فصل یعنی گنا اور تمباکو کی کاشت بڑے پیمانے پر لاطینی اور وسطی امریکہ میں ماضی میں افریقہ سے لائے گئے لاکھوں غلاموں سے کرائی جاتی۔ ان دونوں اشیا کو شروع میں صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا۔ دُنیا نے دونوں کے استعمال میں بے پناہ اضافہ سترویں صدی میں وسط میں دیکھا جب اِنہیں صنعتی بنیادوں ہر تیار کیا جانے لگا۔

    چینی ہے تو میٹھی مگر اسکی تاریخ بے حد کڑوی ہے۔

    برازیل اور کیریبین جزائر پر گنے کی فصل اُگانے کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت رہتی۔ اسے پورا کرنے کے لئے 16 ویں صدی سے 19ویں صدی تک افریقہ سے امریکہ کے دونوں براعظموں تک سوا ایک کروڑ انسانوں کو، غلام بنا کر کشتیوں پر لایا گیا۔ یہ سمندری سفر اتنا کٹھن اور طویل ہوتا کہ اس میں 25 فیصد لوگ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے۔ مانا جاتا ہے کہ اس پورے دور میں 10 سے 20 لاکھ لوگوں کی لاشیں سمندر میں پھینکی گئی ہونگی۔ اُس زمانے میں غلامی عام تھی۔ یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ یا ایشیا ان تمام جگہوں پر غلامی کوئی جرم نہیں تھا۔ جدید دنیا سے غلامی کی یہ سفاکانہ روایت باقاعدہ طور پر امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے 1863 میں ختم کروائی جب اُنہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ میں تمام غلاموں کو فوراً آزاد کر دیا جائے۔

    اگر چند صدیاں پیچھے جائیں تو چینی کھانوں میں شاز و نادر ہی استعمال ہوتی مگر آج یہ صورتحال ہے کہ دنیا کی کل استعمال ہونے والی غذائی کیلیوریز میں چینی سے حاصل کردہ کیلوریز کا تناسب 20 فیصد ہیں۔ قیمت کے اعتبار سے گنے کی فصل چاول اور گندم کے بعد دنیا کی تیسری بڑی فصل پے۔

    چینی کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کے باعث سترویں صدی سے اسکا استعمال وبا کی طرح پھیلا۔ اور آج میں سالانہ 180 ملین ٹن سے بھی زائد چینی پیدا ہوتی ہے جس میں پاکستان کا حصہ تقریباً 7 ملین ٹن ہے۔

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق چینی سے منسلک بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کے لیے اس کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اّنکی سفارش کردہ حد کے مطابق: ایک دن میں مرد حضرات کو زیادہ سے زیادہ 36 گرام (9 چینی کے چمچ) جبکہ خواتین کو 24 گرام (6 چینی کے چمچ) چینی استعمال کرنی چاہئیے۔ مگر اس سے جتنی کم استعمال کی جائے، اُتنی ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ 2019 کے اعداو شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ 21.5 کلو چینی "رگڑتا” ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ایک پاکستانی تقریباً 58 گرام (15 چینی کے چنچ) استعمال کرتا ہے۔ گویا یہ صحتمندانہ حد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے!!

    انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص ذیابیطس کا شکار ہے جسکی بڑی وجوہات میں سے ایک چینی کا زائد استعمال بھی بتایا جاتا ہے۔ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں آبادی اور تیار کھانوں کی مصنوعات میں اضافےکے باعث چینی کی کھپت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2023 میں یہ کھپت 2021 -2022 کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد بڑھ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اٹرات سے گزر رہا ہے اور آنے والے سالوں میں زیرِ کاشت رقبے میں کمی اور ہانی کی قلت کے باعث یہاں خوراک کی غیر یقینی صورتحال متوقع ہے۔ اس وقت کاشت ہونے والے گنے کی فصل کا ایک بڑا حصہ چینی کی پیداوار میں استعمال ہو رہا ہے۔ ملک کے کل زیر کاشت رقبے میں 1 ملین ہیکٹرز گنے کی کاشت کے لیے وقف ہے۔جبکہ گنے کی فصل آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 10 فیصد حصہ استعمال کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دیگر فصلیں خاص کر کپاس کی پیداوار کم ہو رہی ہے جسکے باعث کسان زیادہ ہانی استعمال کرنے والی گنے کی فصل لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں فی ایکڑ گنے کی پیداوار بھارت سے بھی کم ہے۔ یہاں ہر ایک ہیکٹر پر اوسط 46 ٹن گنا اُگتا ہے جو دنیا کی اوسط یعنی 60 ٹن فی ہیکٹر سے کافی کم ہے۔ ( ایک ہیکٹر میں 2.41 ایکڑ ہوتے ہیں)۔ گویا ہم کر طرف سے مار کھا رہے ہیں۔

    شوگر مافیہ، زراعت میں کسان دوست پالیسیوں کے فقدان، مہنگی کیڑے مار ادوایات، کھاد کی خراب کوالٹی، ناکافی تربیت اور دیگر ایسے کئی مسائل ہیں جو اس فصل کی پیداوار اور اس سے جڑے معاشی اور معاشرتی نقصانات کو جنم دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ عوام میں چینی کی کھپت کے غیر صحتمندانہ اور غیر ذمہ دارنہ استعمال سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں اربابِ اختیار کو سوچنا ہو گا کہ عوام کی صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور آئندہ آنے والے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

    باہر کے ممالک میں چینی کے غیر ذمہ دارنہ استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے شوگر ٹیکس کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 2016 میں برطانیہ میں ایک بل کے ذریعے شوگر ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا۔ اب تک 50 سے زائد ممالک شوگر ٹیکس کسی نہ کسی صورت عائد کر چکے ہیں۔ جس سے یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام میں چینی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں حالیہ بجٹ میں حکومت نے۔ چینی پر 10 فیصد ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام سے عائد کیا ہے۔ کیا اس سے ملک میں چینی کی کھپت میں کمی آئے گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ آپ فی الحال کم چینی والی چائے پیجئے۔