Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں

    از قلم غنی محمود قصوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حدیث کہلاتا ہے اور رب کا فرمان قرآن مجید فرقان حمید دونوں پہ عمل کرنا لازم و ملزوم ہےجب تک قرآن و حدیث دونوں کو نا سمجھا جائے بات کی سمجھ نہیں آئے گی ،مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمزور لوگ دنیاوی اور مدد کرنے والا اخروی فلاح پائے-

    ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پہ عمل کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہےاسی لئے کہا گیا ہے کہ خوب تحقیق کے بعد ہی بات آگے پہنچائی جائےاس وقت ملک پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ سیلاب متاثرین کی مدد میں لگے ہوئے جو کہ اس وقت ہم پر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی فرض عین ہے-

    لوگ کپڑوں،راشن،ادویات اور نقدی کی صورت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اس مدد بارے قرآن مجید فرقان حمید نے ہمیں ایسے حکم جاری کیا ہے

    لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ

    ترجمہ۔۔۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے-

    جبکہ حدیث رسول ہے

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے،صحیح متفق علیہ

    کچھ لوگوں کی طرف سے اس آیت و حدیث کی رو سے لوگوں کو پرانی استعمال شدہ اشیاء سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپنی محبوب اشیاء یعنی نئی اشیاء ہی صدقہ خیرات کی جائیں اور اپنے بھائیوں کیلئے بھی وہی پسند کریں جو آپ خود پسند کرتے ہیں نیز پرانی اور استعمال شدہ اشیاء دینا درست نہیں-

    مجھے ان لوگوں کی نیت پہ شک نہیں وہ اپنی طرف سے بہت اخلاص کی بات کر رہے ہیں مگر میں ان کی خدمت میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان پیش کرتا ہوں عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی ،الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

    ترجمہ۔۔۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں-

    پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا،جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی
    الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي
    پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ، ( ترمذی 3560 )

    اوپر والی آیت و حدیث ہمیں اپنی محبوب ترین چیز ( نئی غیر استعمال شدہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہے اور اپنی پسند اپنے بھائی کیلئے پسند کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ دوسری حدیث رسول ہمیں پرانی استعمال شدہ چیزیں صدقہ خیرات کی تلقین کر رہی ہے-

    اب غور کریں تو پتہ چلے گا کہ جو صاحب ثروت مالدار لوگ ہیں وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلی معیاری اور قیمتی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور وہی چیز دوسروں کیلئے پسند کریں جو خود کرتے ہیں جبکہ دوسری حدیث رسول مالی کمزوروں کو تلقین کر رہی ہے کہ اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی صدقہ خیرات کی جائیں تاکہ ان سے بھی کم مالی حیثیت اور افت زدہ لوگ وہ چیزیں استعمال کریں،ہمیں ایسی باتوں کی سمجھ تبھی آتی ہے جب قران و حدیث دونوں کو پڑھا سمجھا جائے

    اس وقت سیلاب زدگان کو کپڑوں و بستر کی سخت ضرورت ہے ہمیں چائیے کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ان کو نئی اشیاء بھی صدقہ کریں اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کو اپنی استعمال شدہ پرانی چیزیں بھی صدقہ خیرات کریں تاکہ وہ مصیبت کے مارے لوگ اپنی ضرروت پوری کر سکیں

    سیلاب زدگان کی مدد اس وقت ہر صاحب ثروت پر فرض ہے کیونکہ یہ ہم سب کا قومی و اسلامی فریضہ ہےخداراہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں بہت سی مذہبی جماعتیں ان تک سامان پہنچا رہی ہیں –

    اگر ہم خود جا سکتے ہیں تو اجتماعی شکل میں خود جا کر مدد کریں بصورت دیگر ان مذہبی جماعتوں کے توسط سے لازمی مدد کیجئے
    اللہ تعالی ہم سے راضی ہو اور سیلاب زدگان کی مدد کے عیوض ہمیں اچھا صلہ عطا فرمائے آمین

  • 22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک رکازی (فاسل) دانت کی مدد سے کروڑوں سال قبل معدوم ہوجانے والے ایک ممالیے کی شناخت کرلی ہے اس نئی دریافت کو محققین نے "بہت اہم” قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : منگل کے روز جرنل آف اناٹومی میں شائع ہونے والی تحقیق میں برازیل اور برطانوی سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس ایک چوہے جیسا جانور تھا جس کی لمبائی 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک ہوتی تھی اور اس کے دانتوں کے دو سیٹ تھے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

    یہ تحقیق برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں قائم فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرینڈے ڈو سُل کی رہنمائی میں کی گئی جس میں نیچرل ہسٹری میوزیم اور کنگز کالج لندن کے سائنس دانوں نے شرکت کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹا ممالیہ اسی دور میں موجود تھا جب سب سے قدیم ڈائنو سار زندہ تھے اور یہ دریافت موجودہ دور کے ممالیوں کے ارتقائی عمل پر روشنی ڈالتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس جانور کی باقیات 22 کروڑ 50 لاکھ سال پُرانی ہیں۔البتہ آج تک کسی بھی باقیات میں مملیائی غدود باقی نہیں رہے ہیں۔ اسی وجہ سےاس تحقیق میں سائنس دانوں کو دانتوں اور ہڈیوں جیسے سخت ٹشوؤں پر انحصار کرنا پڑا۔

    تحقیق کی سینئر مصنفہ ڈاکٹر مارتھا رِکٹر کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ 54 لاکھ 20 ہزار سال پُرانی یہ باقیات، ریکارڈ میں مملیوں کی سب سے قدیم باقیات ہیں جو اس دور کی ماحولیات کے اور مملیوں کے ارتقاء کے حوالے سے معلومات فراہم کر رہی ہیں۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    ڈاکٹر مارتھا کے مطابق برازیلو ڈون کواڈراینگُلرِس کو پہلے ایک "جدید رینگنے والا جانور” سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے دانتوں کا معائنہ "یقینی طور پر” ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ممالیہ ہے۔

    اگر آپ رینگنے والے جانوروں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے زندگی بھر بہت سے مختلف متبادل دانت ہوتے ہیں لیکن ممالیہ جانوروں کے صرف دو ہی ہوتے ہیں۔ اول، دودھ کے دانت اور پھر دوسرا دانت جو اصل سیٹ کی جگہ لے لیتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیم اس منصوبے پر پانچ سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی تھی اور اس نے اپنی دریافت کو "بہت اہم” قرار دیا رکٹر نے کہا کہ نتائج نے "اس دور کے ماحولیاتی منظرنامے اور جدید ممالیوں کے ارتقاء کے بارے میں ہماری سمجھ میں مدد کی۔

    کنگز کالج لندن میں ارتقائی ڈینٹوسکیلیٹل بائیولوجی کے مصنف اور پروفیسر مویا میرڈیتھ اسمتھ نے ریلیز میں کہا کہ ہمارا مقالہ اس بحث کی سطح کو بڑھاتا ہے کہ ممالیہ کی تعریف کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ فوسل ریکارڈ میں پیدا ہونے کا بہت پرانا وقت تھا۔ پہلے سے جانا جاتا تھا-

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

  • پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا  دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کےمختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا دلکش نظارہ

    پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دیکھا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسٹار لنک سیٹلائٹ کا نظارہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف حصوں میں اسٹار لنک سیٹلائٹ دیکھی گئی جسے شہریوں نے کیمرے میں قید بھی کیا۔


    اسٹار لنک سیٹلائٹ اسپیس ایکس کا پراجیکٹ ہے، اسٹار لنک دنیا بھر میں بنا کسی تعطل کے تیز ترین انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے اور اسٹار لنک ابھی 40 ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔
    https://twitter.com/DulithHerath/status/1567836094892482560?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA
    https://twitter.com/AlySyyed/status/1568054722262597632?s=20&t=oSGC2NKGTQls0TfJdV4kmA

    اسٹار لنک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس کا مقصد ‘دنیا کے جدید ترین براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم کو تعینات کرنا’ ہے اس میں 40،000 سے زیادہ سیٹلائٹس کے ‘میگا کنسٹرلیشن’ کو مدار میں ڈالنا شامل ہے۔

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    سٹار لنک (Star Link) کیا ہے؟

    ایک بہت بڑے پروجیکٹ کا آغاز سپیس ایکس کمپنی نے 2015 ءمیں کیاجسے ’’سٹار لنک‘‘کانام دیا گیا جس کا بنیادی مقصد سستے اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت پوری دنیا کے صارفین تک پہنچانا ہے-

    ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 59فیصد صارفین ہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی تیز سپیڈکے بھی خواہشمند ہیں گو کہ انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئےموجودہ دورمیں کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے 1600 سیٹلائٹس 550کلو میٹر پر جبکہ 2800سیٹلائٹس 1150 کلو میٹرز کی بلندی پر ایک مقررہ مدار میں سفر کریں گی- پروجیکٹ نومبر 2027ء میں مکمل ہو گا-

    ہارپ ٹیکنالوجی اور موسم!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    قبل ازیں تجرباتی طور پر دو ٹیسٹ سیٹلائٹس فروری 2018ء میں خلا میں بھیجی گئی اور دوسری 24مئی 2019ءکو لانچ ہوئی جس میں 60 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا گیا جو ایک لائن میں سفر کرتےاور حسین نظارہ پیش کرتے دکھائی دئیے جسے’’سٹار لنک ٹرین‘‘ کا نام دیا گیا تھا-

    سپیس ایکس سٹار لنک ’’Low earth orbit ‘‘سیٹلائٹ ہیں جو زمین کے قریب ہوتے ہیں یہ ساکن اور حرکت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں زمین کےقریب ہونےکی وجہ سےرابطہ کرنےکیلئے کم لیٹنسی استعمال کریں گےجو 25 یا 35 ملی سیکنڈہونے کی وجہ سےان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے-

    سٹار لنک فاسٹر لیزرٹرانسمیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں 40ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دیکھاسکےگا-سپیس ایکس نے پچھلے سالوں کی نسبت 500 سیٹلائیٹ زمینی مدار میں لانچ کی ہیں جو کہ لو ارتھ آربٹ سے انٹر نیٹ مہیا کریں گی جس کی سپیڈ تقریباً 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عام صارف کی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہو گا-

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    اسٹار لنک اسپیس ایکس کا پروجیکٹ ہے اسپیس ایکس ایک امریکن کمپنی ہےجو حکومت کو اپنے فالکن9 اور فالکن ہیوے راکٹ کے ذریعے کمرشل سروسز مہیا کرتی ہےاسپیس ایکس باقاعدہ خلا میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پرسامان لےجاتی ہےاس کمپنی کےبانی اورچیف ایگزیکٹو ایلن مسک(Elon Musk) نے اس کمپنی کی بنیاد 2003 ءمیں رکھی اور اس کا مقصد خلائی ٹرانسپورٹ سروس کے اخراجات میں کمی کرنا اور مریخ پر آباد کاری کرناتھا- سپیس ایکس وہ پہلی نجی کمپنی ہے جس نے خلا میں متعدد راکٹ بھیجے ہیں اسپیس ایکس کمپنی عام انسانوں کوخلاء میں لے جانے کے لیے ایک بڑا خلائی جہاز بھی بنا رہی ہے جسے ’’سٹارشپ‘‘کا نام دیا گیا ہے-

  • آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    آواز سے کورونا وائرس کی شناخت کرنے والی سمارٹ ایپ

    ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ:انسانی آواز سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا وہ کورونا وبا سے متاثر ہے یا تندرست ہے-

    باغی ٹی وی : یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی کی بین الاقوامی کانگریس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے اب صرف ایک ایپ کے ذریعے صرف انسان کی آواز سے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کاشکار ہے یا نہیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    یہ ایپ کسی بھی موبائل فون میں انسٹال کی جاسکتی ہے اور اس میں ممکنہ مریض کو کچھ بولنا ہوتا ہے جس کے بعد آواز کے نمونے ایک ڈیٹابیس سے ملائے جاتے ہیں اور اس بنا پر الگورتھم اپنی تشخیص بتاتا ہے-

    ابتدائی تجربے کے لئے 4 ہزار 5 سو 36 تندرست اور کووڈ کے شکارافراد سے رابطہ کیا گیا اوران سے کل 893 آوازیں ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں سے 308 افراد پہلے ہی کووڈ کے شکار تھے اور ان کے ٹیسٹ پوزیٹو تھے ان سب کے موبائل پر ایپ انسٹال کی گئی اور اپنی سانس کی آواز اور کچھ گفتگو ریکارڈ کرنے کو کہا گیا۔

    پھر ان سے کہا گیا کہ وہ تین مرتبہ کھانسیں اور اس کی آواز ریکارڈ کریں، اس کے بعد کہا گیا کہ وہ پھیپھڑے بھرکر سانس لیں اور تین سے پانچ مرتبہ منہ سے سانس خارج کرکے اس کی آواز ریکارڈ کریں۔ آخر میں اسکرین پر لکھے ایک جملے کو تین مرتبہ پڑھنے کو کہا گیا پھر ان آوازوں کا تجزیہ کیا گیا تو سافٹ ویئر نے نہایت کامیابی سے مریضوں کی شناخت کی-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    یہ ماڈل ڈاکٹر وفاالجباوی اور ان کے ساتھیوں نےتیار کیا ہے ٹیم کے مطابق، یہ اے آئی ماڈل اتنا مؤثر ہے کہ اس کی تشخیص ہوبہو لیٹرل فلو یا فوری اینٹی جن ٹیسٹ جیسی ہی ہے اور کئی معاملات میں تو اس سے بہتر ہے اس اسمارٹ فون ایپ کو دور دراز ایسے غریب ممالک میں استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں پی سی آر کے مہنگے ٹیسٹ اور عملہ دستیاب نہیں ہیں۔

    ڈاکٹر وفاالجباوی نے اس اسمارٹ فون ایپ کو ماسٹریخٹ یونیورسٹی میں تیار کیا ہے اور ابتدائی تجربات میں89 فیصد درستگی کے ساتھ کورونا کے کیسز کے نتائج معلوم کیے گئے ہیں جبکہ لیٹرل فلو ٹیسٹ کی افادیت مختلف برانڈ کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے، بالخصوص کسی طرح کی ظاہری علامت والے مریض کا یہ ٹیسٹ ناکام بھی ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ہرکوئی نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ہزاروں میل دور بیٹھے مریض کا ورچول ٹیسٹ بھی اس سے ممکن ہے اور آبادی کی بڑی تعداد کو پرکھا جاسکتا ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا وبا کے حملے کے بعد چونکہ پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اور یوں آواز میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی
    تبدیلی آ گئی سے لے کر انقلاب آرہا ہے تک قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو کون سمجھائے تبدیلی قربانی مانگتی ہے اور سیاست میں ہمیشہ قربانی عوام نے دی ہے ۔ بلاشبہ اس وقت عمران خان نوجوانوں میں مقبول ہیں بہت ہی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور عمران خان اپنے آپ کو سقراط پیش کرنے کی ناکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے آ پکو عصر حاضر کا سقراط سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سقراط نے مشروب اجل کیوں پیا تھا؟ وہ بے گناہ تھا مگر مشروب اجل کو منہ سے لگا لینے کا مقصد اس وقت کے عدالتی فیصلے کو قبول اور سرخم تسلیم کرنے کا مقصد ایک ادارے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا تھا۔ مگر ہمارے آج کے سقراط جلسوں، چوراہوں، گلی محلوں میں اپنے اداروں پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ وہ پاک فوج ہو، عدلیہ ہو یا پھر صحافی، صحافیوں کو بھرے جلسے میں لفافہ صحافی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    کیا اسے قومی فریضہ کہا جاتا ہے ؟ کسی محب وطن پاکستانی کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے جلسوں میں پکارا جاتا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا بھرا جا رہا ہے؟ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیا یہ نوجوان نسل کی تربیت ہو رہی ہے؟ہم ایک ایٹمی ملک بھی ہیں اور بہادر قوم بھی اور ہماری فوجی طاقت ملک کے دفاع اور قوم کے دفاع سب کچھ لٹا سکتی ہے کیا ہماری فوج یا بہادر قوم کسی میرجعفر یا میر صادق کو برداشت کر سکتی ہے؟ جو اس ملک و قوم کے لئے خطرہ ہو ہیں ایسا ہرگز نہیں۔

    ملک میں انقلاب کے دلفریب نعرے لگائے جا رہے ہیں کیا انقلاب کی حقیقت جانتے ہیں انقلاب کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ ہر چند کے موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی لیکن ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میر جعفر یا میر صادق ہیں یا انہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جائے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، میر جعفر میر صادق، دہشت گرد، ملک کے لئے اگر ایک دوسرے کو خطرہ قرار دیتے رہے تو پھر اس ملک کی عوام اور جمہوریت کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں ہم اگر مقروض اور بدحال ہیں تو ہماری بدحالی بدانتظامی کی وجہ سے ہے ۔ اگر سیاستدانوں نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں پھر ہمیں بدل دیا جائے گا ابھی بھی وقت اس وطن عزیز کی اور قوم کی خاطر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی خاطر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کی خاطر، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی خاطر اپنے آپ کو بدل لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    ارد گرد ممالک کی پالیسیاں بدل رہی ہیں ہم ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشت گرد قرار دے کر کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟

  • زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زومبی حقیقت یا فکشن!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اکثر آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں زومبی دیکھے ہونگے۔ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ زومبی دراصل چلتی پھرتی گلی سڑی لاشیں ہوتی ہیں جو کسی وائرس کے پھیلاؤ سے، یا کسی اور زومبی کے کسی نارمل انسان کو کاٹنے سے بن جاتے ہیں۔ زومبیوں میں سوچنے سمجھنے یا ماحول کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔ اّن میں صرف ایک ہی صلاحیت ہوتی ہے۔ بندہ یا گوشت کھانا۔ زومبی کا تصور انسانی تہذیبوں میں کب آیا اور یہ فلموں میں کب نمودار ہوئے؟ پہلے یہ جانتے ہیں۔

    آثارِ قدیمہ کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قدیم یونانیوں میں زومبی یعنی مرنے کے بعد دوبارہ چلنے پھرنے والے مردوں کا خوف موجود تھا۔ اّنہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کئی علاقوں سے ایسی قبریں ملی ہیں جن میں ڈھانچوں کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھے جاتے تھے۔ غالباً اس خیال سے کہ مردے دوبارہ سے چلنا شروع نہ ہو جائیں۔

    ماضی قریب میں دیکھیں تو شاید ستروییں صدی میں زومبی سے متعلق لوک داستانیں شمالی امریکہ کے ملک ہائیٹی میں ملتی ہیں۔ جہاں گنے کی کاشت کے لئے افریقہ سے غلام لائے جاتے۔ ان داستانوں میں زومبی ایک طرح سے ان غلاموں کی مشکل زندگی یا مر کر کی آزاد ہونے کی تشبیہ کے طور پر استعمال ہوتی۔

    مغربی افریقہ ، برازیل اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ‘ووڈو” مذہب کے ماننے والوں میں بھی زومبی کا تصور ہایا جاتا ہے۔ ان میں کچھ کا یہ ماننا ہے کہ اس مذہب کے پیشوا جنہیں "بوکور” کہا جاتا ہے, وہ جڑی بوٹیوں، ہڈیوں اور جانوروں کے گوشت سے ایک سفوف سا تیار کرتے ہیں جس سے انسان زومبی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سفوف کو زومبی پاؤڈر کہتے ہیں۔

    سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ اگر کسی شخص کو ایک خاص طرح کا کیمکل جو شاید زومبی پاؤڈر میں بھی موجود ہو، جسے tetrodotoxin کہتے ہیں۔ اگر اسکی معمولی مقدار دی جائے تو چند ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن سے ںظاہر ایک انسان زومبی سا دکھے یعنی اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو، سانس اُکھڑنا شروع ہو جائے یا وہ کنفوژن کا شکار ہو جائے۔ اس کیمیکل کے زیادہ استعمال سے انسان کوما میں بھی جا سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔

    البتہ جس طرح سے فلموں میں زومبی دکھائے جاتے ہیں انکا سائنس میں کوئی ٹبوت نہیں ۔یہ محض فکشن ہے۔ زومبی کے تصور نے جدید دور میں اُس وقت زور پکڑا جب 1962 میں ایک فلم آئی Night of the Living Dead۔ اس فلم کی مقبولیت کے بعد ہالی وڈ میں اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں جن میں زومبی دکھائے جاتے ہیں۔ ان فلموں میں موجود زومبی چلتی پھرتی لاشیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہیں۔

  • مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔

    سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟

    نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔

    ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔

    مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

    مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔

    دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔

    اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔

    2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔

    2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.