باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (شہزاد خان ) پروفیسر شعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی۔
الحمرا آرٹ گیلری لاہور میں پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےعالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے تاریخی ورثہ کے موضوع پر دو روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔پنجاب لیول کی اس نمائش میں جنوبی پنجاب سے ڈیرہ غازی خان کے پروفیسر شعیب رضا نےحصہ لیا ، پنجاب کے خوبصورت ورثہ کے حوالے سے ان کی تین تصاویر کا انتخاب کیا گیا جن میں ایک تصویر ملتان کی تاریخی انگریز دور کی عمارت گھنٹا گھر کی ہے۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد 1884 میں رکھا گیا تھا، یہ عمارت ہر دور میں سیاحوں کے لیے پر کشش رہی ہے اور آج بھی ملتان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح قلعہ ملتان کے ساتھ اس عمارت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں پروفیسر شعیب رضا کی اٹک خورد کے انگریز دور کے ریلوے اسٹیشن کی تصویر پوری نمائش میں خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اس تصویری نمائش میں پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز نے حصہ لیا اور عوام کی خاصی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا، اس نمائش کے انعقاد کا سہرہ پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن عثمان قریشی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز کو موقع دیا کہ وہ اپنی بہترین تصاویر نمائش میں پیش کریں ۔ ایسی تصویری نمائشوں سے پرانے فوٹو گرافرز کی پذیرائی ہوتی ہے اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، پروفیسر شعیب رضا نے کہا کہ ایسی تصویری نمائشیں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونی چاہیئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایسی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور فوٹوگرافی کے آرٹ کوفروغ ملے۔
Category: بلاگ
-

ڈیرہ غازیخان- پروفیسرشعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی
-

کندھ کوٹ : سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی امدادی سرگرمیاں جاری
باغی ٹی وی : کندھکوٹ ( نامہ نگار) سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان علامہ سعد حسین رضوی کی حکم پر تحریک لبیک گمبٹ کے رہنمائوں کی جانب سے پی اے سیکریٹری گمبٹ کے گائوں خانڑ ناریجو اور دیگر گائوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری
تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں گمبٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں میں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستر کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان تعلقہ گمبٹ میں بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک کے سرپرست اعلیٰ علامہ تاج محمّد ضلع امیر قادری برکت علی میمن حفاظ امیر احمد ناریجو نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے رانی پور اور گمبٹ کے مختلف علاقوں میں راشن اور فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے امیر قادری برکت علی میمن نے کہا کہ راشن اور فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر کہانے پینے اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔ -

سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا
ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-
باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔
سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا
— Zach Bowman 🐀 (@zbowman) September 27, 2022
اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔If you do a Google search for “Double Asteroid Redirection Test" right now, the DART spacecraft flies in from the left and knocks the results page askew. 🛰☄️ (H/T to @belliott4488 for the alert) pic.twitter.com/y31Z0ihaH7
— Brian Wolven (@brianwolven) September 27, 2022
ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں
ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا
-

ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
"ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟
چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔
ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔
جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔
اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
"کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے” -

پاکستان میں بھی آر ایس ایس ذہنیت ہے!!! — سیدرا صدف
وکرانت گپتا اور بہت سے بھارتی یو ٹیوبرز نے محمد رضوان کے ایک بیان کو بہت پسند کیا۔۔۔رضوان نے کہا تھا کہ۔۔!
” اللہ محنت اور ایمانداری کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ ہمیں فتح دے دیں۔۔۔اگر حریف ٹیم ہم سے زیادہ محنت کرے گی تو وہ فتح پائے گی۔۔۔”
اپنے دین کی اس سے خوبصورت خدمت نہیں ہوسکتی کہ آپ اپنے خالق کو "انصاف کرنے والا” قرار دیں۔۔۔اس ایک جملے میں دین اسلام کی روح ہے۔۔۔۔
ایک صاحب محمد رضوان کے شدید ناقد ہیں۔ انکی تنقید مجھے ہمیشہ غیر منطقی لگی۔۔ یوں لگا جیسے رضوان سے کھیل کی بجائے کوئی ذاتی مسئلہ ہو۔۔۔پھر وہ کھل ہی گئے۔۔۔۔فرما ہی دیا کہ مسئلہ رضوان کے دین پسند ہونے سے ہے۔۔۔۔کرکٹ سے تعلق ہونے کی وجہ سے موصوف کو رضوان کے "مولانا پن” پر اعتراض ہے۔۔۔اور یہ صرف ایک شخص کی رائے نہیں اور بھی لوگ ایسے اعتراضات رکھتے ہیں۔۔۔
رضوان اگر کرتا شلوار, سر پر ہیلمنٹ کی بجائے سفید ٹوپی اور ہاتھ میں بلے اور ستانے کی جگہ تسبیح تھامے کھیلنے آتے ہیں تو مسئلہ سمجھ بھی آتا۔۔۔یا میچ روک کر رضوان گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو اکھٹا کر کے صحیح احادیث سناتے تو بھی اعتراض درست ہوتا۔۔۔
عین آر ایس ایس ذہنیت رکھتے ہوئے انکے دین پسند ہونے پر اعتراض ہے کہ اللہ کا نام کیوں لیتے ہیں,نماز کیوں پڑھتے ہیں۔۔خواتین سے فاصلہ کیوں رکھتے ہیں۔۔۔یہ ہی اعتراضات ہیں نا اس کے علاوہ کیا ہیں۔۔؟
اگر کوئی شخصیت عوامی مقام پر شراب نوشی یا دیگر اخلاق باختہ حرکات کرتی نظر آ جائے تو یہی طبقہ اسے ذاتی چوائس کا نام دیتا ہے۔۔معاشرے کو گھٹن زدہ قرار دیتا ہے۔۔۔۔شخصی آزادی کی بات ہوتی ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی معاملہ دین سے جڑتا ہے شخصی آزادی ہوا ہو جاتی ہے حالانکہ دینی معاملات صرف شخصی نہیں اجتماعی بھی ہیں۔۔۔
شخصی آزادی اچھی سوچ ہے لیکن پھر سب کو بلاتفریق یہ آزادی دیں۔۔۔
-

کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک
میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .
لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.
مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.
مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.
-

تیسری جنس: کچھ مزید وضاحت — ارشد خان صافی
ٹرانسجنڈرز بل پر اپنی گزشتہ گزارشات کے تسلسل میں اور اس سلسلے سیاسی نیم ملاؤں فتویٰ بازی اور سیکولر دیسی لبرلوں کے نیم حکیمانہ نظریات کے تناظر میں مزید کچھ وضاحت پیش خدمات ہے- ٹرانسجنڈرز کے معاملے کو حسب روایت ہمارے وہ نیم حکیم اور نیم خواندہ قسم کے "سیکولر ترقی پسند” پیچیدہ بنا رہے ہیں جو الحاد اور کافرانہ لادینیت کو یا تو اپنی جہالت کی وجہ سے سیکولر ترقی پسندی کہتے اور سمجھتے ہیں یا پھر اپنے نفسیاتی مسائل کی وجہ سے ایک ایجنڈے کہ تحت مذہب بیزاری کو انسانیت دوستی کا لبادہ پہناتے ہیں باوجودیکہ اب تو ساینسدانوں میں بھی اس بات پر اجماع ہے کہ مذھب اور سانس ایک دوسرے کی زد نہیں بلکہ دو مختلف میدان ہیں- سائنس کے میدان کے صائب اہل فکر معاشرتی اقدار اور سماجی علوم کے معاملات میں سائنس کو بنیاد بنا کر فطرت کے خلاف جنگ کو کبھی ترقی پسندانہ سوچ نہیں کہتے ہیں – جو لوگ قران پر ایمان رکھتے ہیں انکےلئے تو یہ مسلہ بہت سادہ ہے کہ الله سبحانہ تعالہ فرماتے ہیں:
وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ- (الذاريات – 49)
اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو!وَمِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۗ (الروم آية ۲۱)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی نفس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دیسیدھی سی بات ہے کہ سیکولر انسانی تاریخ اور تمام آسمانی کتابیں انسان میں صرف دو جنسوں یعنی مرد اور عورت کے وجود کی تصدیق کرتی ہے- انسانی اور مذہبی تاریخ میں تمام احکامات، اخلاقی ضابطے اور قوانین بھی دو جنسوں اور اصناف یعنی مرد اور عورت یا نراور مادہ کے تقسیم پر مبنی ہے- لہٰذا تیسری جنس اور صنف فطری قوانین کے مطابق بھی خلاف معمول معذوری یا بیماری کا مظہر ہے- اب یہ معذوری طبعی یا حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل بھی ہوسکتی ہے جس میں کسی انسان کے ایکس اور وائی کروسوم یا جنسی غدود میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے اس میں دونوں جنسوں کے اعضاء یا خصوصیات ظاہر ہوجاتی ہے اور نفسیاتی بھی جس میں کسی ایک صنف یا جینڈر میں میں پیدا ہونے والا فرد بشمول ہم جنس پرستی کے دوسرے صنف میں پیدا ہونے والے افراد کی طرح کا جنسی میلان رکھتا ہے- پہلی قسم جنکو جدید طبی اصطلاح میں ِانٹرسیکس یا بین صنفی ہجڑا اور اسلامی فق کی زبان میں خنثی کہا جاتا ہے تو ظاہر ہے کسی بھی معذور کی طرح انسانی اور اسلامی اخلاقیات کے تحت طبی علاج اور معاشرے کے سہارے کے مستحق ہوتے ہیں اور اس علاج میں جنسی اعضاء کی جراحی یا سرجری بھی شامل ہے- میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک بھی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی خنثی کے مردانہ اور زنانہ دونوں اعضاء موثر ہو اسلئے سرجری کے عمل سے ایسے کئی کیسز میں مریض کے موثر جنسی اعضاء رئیسہ کو بحال کرکے انکے اصلی جنس کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے- دوسری قسم جنکا مسلہ نفسیاتی اور اسلام سمیت اکثر مذہب اور روایتی اقدار کے تحت اخلاقی ہے اپنے اعلانیہ جنسی رحجانات کے لحاظ سے کئی صورتوں پر مشتمل ہے جنکیلئیے ماڈرن مغربی یا سیکولر معاشروں میں ہومو سکچول (ہم جنس پرست) ، گے، لزبین اور بائیسکچول جیسے اصطلاحات ہوتے ہیں اور جنھیں اجتماعی طور پر LGBT طبقہ کہا جاتا ہے- اسلامی فقہ میں اس طبقے کو عمومی طور پر مخنث کہا جاتا ہے اور اسلامی نظام عدل صرف انکے غیر فطری احساسات یا رحجانات کو یا محض کسی کے مخنث ہونے کو جرم قرار دیکرانکےلئے کوئی سزا تو تجویز نہیں کرتا لیکن مغربی سیکولر معاشرے کے اقدار کے برعکس اس طبقے کے جنسی ذوق کیلئے معاشرتی اقدار اور قوانین کو بدلنے کی جازت نہیں دیتا- اس میں ان طبقے کے غیر فطری شادیوں کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ سرجری کے ذریعے قدرتی غدود یا فطری جنسی اعضاء میں تبدیلی پر پابندی بھی شامل ہے-
مغربی لادین سیکولر قوانین میں اخلاقیات سے مذہبی اور فطری اقدار کی مکمل جدائی کے باعث پیدائشی صنف یا جینڈر اور اپنے ذاتی رحجان یا ذوق کے تحت اختیار کے گیے شعوری سکس یا جنس کو دو مختلف چیزیں قرار دی گئی ہے جبکہ اسلامی قوانین اور اقدار اس طرح کے کسی مصنوعی خود ساختہ شناخت کو تسلیم نہیں کرتے جسکا اثر کسی فرد کی ذاتی جنسی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان کا ادارہ اور معاشرتی اقدار کو متاثر کرتا ہے- پاکستان میں ٹراسنجینڈر بل کو ڈرافٹ کرنے والوں یا تو مسلے کو نوعیت کے متعلق اپنی کم علمی یا جہالت یا پھر کسی ایجنڈے کے تحت اس دونوں متنوع طبقات کو ٹرانسجنڈر کے عمومی اصطلاح کے تحت ایک ہی قانون میں خصوصی حقوق دیے ہیں جس سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کے نشان دہی پر بوجوہ شدید قسم کے اعتراضات اور رد عمل آیا ہے جس میں ظاہر ہے سینیٹر صاحب کا مواقف اصولی طور پر درست ہے- مجوزہ بل پر اعتراض کی وجوہات میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کی خلافورزی کے علاوہ ایک جائز اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستانی جیسے معاشروں مذہب کے علاوہ بھی غیر مسلم اور سخت مذہبی رحجانات نہ رکھنے والے افراد اور طبقات کے بھی کچھ حساس معاشرتی روایات ہوتے ہیں- معاشرے کے عمومی اقدار کے خلاف رحجانات یا جنسی زوق رکھنے والوں کی طرف سے بل کے تحت بنے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے ایسے افراد کا اپنی خود ساختہ جنسی شناخت کے تحت معاشرتی میل جول شدید قسم کی معاشرتی پیچیدگیوں اور متشدد جرائم کا باعث سکتی ہے- اسلئے سیکولر معاشروں میں بھی عمومی معاشرتی اقدار کے خلاف ایسے متنازعہ قوانین سے اجتناب کیا جاتا ہے- جہاں تک اسلامی فقہ کی بات ہے تو نیم خواندہ دیسی لبرلوں اور سرخوں کے عمومی تاثر کے برعکس باقی پوسٹ ماڈرن معاشرتی اور قانونی مسائل کی طرح اس معاملے میں بھی اسلامی تعلیمات بانجھ نہیں ہیں- رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں بھی تیسری جنس موجود تھی جنکا ذکر بخاری اور ابو داوود کے روایات میں ملتا ہے- بعض کے نام بھی ملتے تھے جیسے کہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور اور یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے، پورے شہری وں انسانی حقوق رکھتے تھے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ ان کے کچھ طبقات کی سماجی اقدار کے خلاف حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف کچھ معاشرتی پابندیاں لگا دی گئی تھی- اسی طرح روایتی اسلامی اصول قانون میں مخنث، خنثی اور ہم جنس پرست کے تین مختلف صورتوں واضح فرق اور متعلقہ احکام آج کے پوسٹ ماڈرن معاشرتی جنسی مسائل میں بھی اسلامی فقۂ کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں– اس طرح اگر انسانی حقوق کے نام پر قانون الہی کو کسی طبقے کے ذوق یا نفسیاتی عوارض کی خاطر بدلنے کا اختیار معاشرے اور ریاست کو دے دیا جاے تو پھر تو بچوں کے جنسی زیادتی کرنیوالے اور جنسی یا نفسیاتی تسکین کیلئے کئی اور قسم کے "غیر روایتی” اعمال کو بھی جائز قرار دیکر قانونی تحفظ دیا جاسکے گا جن میں کئی سیکولر اور مکمل لادین معاشروں کے معیار پر بھی بدترین جرائم ہیں-
-

پاکستان اچھا نہیں کھیلا!!! — سیدرا صدف
آخری میچ پر ایک رائے ہے کہ پاکستان اچھا نہیں کھیلا لہذا اس جیت کو جیت نہ سمجھا جائے۔۔۔کل پہلی اننگز پر میری بھی یہ رائے ہے کہ بیٹنگ آرڈر کو درست استعمال نہیں کیا گیا۔۔
پچ قدرے سلو تھی, انگلستانی بالرز نے باؤلنگ بھی بہت اچھی کی,ریورس سوئنگ کا بھی استعمال کیا۔۔لیکن اس کے باوجود ٹیم منیجمنٹ نے دو غلطیاں کیں۔۔۔ون ڈاؤن پوزیشن پر آصف علی یا محمد نواز کو استعمال کرنا چاہیے تھا۔۔۔آصف علی کا دوسرا اچھا استعمال بھی ضائع کیا جب خوشدل کی جگہ انکو بھیجا جا سکتا تھا۔۔۔۔
سلو پچ پر بال کو ٹائم کرنے والے بلے باز مشکلات کا شکار رہتے ہیں لہذا دوسرے اینڈ سے پاور کا استعمال کرنے والے بلے بازوں سے لگاتار چانس لیا جاتا تاکہ چار پانچ وکٹس گر بھی جاتی تو شاید بیس سے تیس رنز زیادہ بن جاتے۔۔۔
نوجوان بالرز کا لائن لینتھ سے زیادہ رفتار پر فوکس, آخری اوورز میں ورائیٹی سے بال نہ کرانا نیز ہر میچ میں ایک اہم ڈراپ کیچ بھی ٹیم پاکستان کا سر درد ہے۔۔۔لیکن ان غلطیوں کے باوجود کچھ مثبت فیکٹر بھی سامنے آئے۔۔ورلڈکپ سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کونسا کھلاڑی کتنا موثر ہے۔۔۔یہ سیریز کبینیشن طے کرنے کے لیے ضروری ہے۔۔ہمیں اچھا ٹیم کمبینیشن مل گیا تو یہ ہی اس سیریز کا نتیجہ ہو گا۔۔۔ نیوزی لینڈ میں تین ملکی سیریز اور ورلڈکپ پریکٹس میچز کمبینیشن کو کنڈیشن سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کریں گے۔۔۔۔
افتخار احمد نے پریشر صورتحال میں اچھی باؤلنگ کرا کر ثابت کیا کہ افتخار ایک سمارٹ بالر ہے ۔۔ایشیا کپ فائنل میں بھی افتخار نے اچھی باؤلنگ کی تھی۔۔۔محمد نواز کو استعمال نہ کرنا بہرحال غلط فیصلہ تھا۔۔۔دونوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔۔۔اور کل یہ ایک اچھا آپشن ملا ہے۔۔۔۔
حارث رؤف نے ثابت کیا کہ ایک دلیر بالر خراب بال یا اچھی بال پر باؤنڈی کھا کر ہتھیار نہیں پھینکتا ہے۔۔۔بیشک دو رنز رہ جائیں فائیٹ ضرور کرنی چاہیے۔۔بلے باز چڑھائی کرے تو ذہانت سے ہرایا جا سکتا ہے۔۔۔شاہ نواز دھانی اور محمد حسنین کے سیکھنے کے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے۔۔۔نسیم شاہ کو بھی جہاں سوئنگ نہ ملے مشکلات شکار رہتے ہیں۔۔ٹی ٹوئینٹی کرکٹ میں ایک اچھے بالر کو ہر طرح کی ورائیٹی درکار ہے تاکہ اسکی کمزوری حریف کی طاقت نہ بن سکے۔۔۔
بابر اعظم کے لیے یہ سبق ہے کہ کرکٹ کو ناک سیدھ میں چلانے کی بجائے بعض دفعہ دلیری سے فیصلے لینے ہوتے ہیں۔۔۔پہلی اننگز میں بیٹنگ آرڈر کی جو غلطی کی فیلڈ میں وہ نہیں دہرائی۔۔۔افتخار اور نواز نے اچھی باؤلنگ کی تو عثمان قادر کی بجائے دونوں کے ساتھ کنٹینیو کیا۔۔
ماضی میں پاکستانی بالرز فلیٹ پچز پر رنز روکتے رہے ہیں۔۔۔کرکٹ کا حسن اسی میں ہے کہ مقابلے کا توازن جاری رہے۔۔۔فلیٹ پچز پر ٹاس جیتو میچ جیتو تھیوری ناکام ہونی چاہیے۔۔۔فیلڈنگ ٹیم کو کم رنز پر بھی جان لڑانی چاہیے اور کل کی فتح اس حوالے سے مورال بلند کرے گی۔۔۔
-

مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس
اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!
اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.
دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.
پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.
کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.
کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.
پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.
پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.
ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.
ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.
اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.
اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.
بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.
زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.
ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.
زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.
آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.
کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.
(مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)
-

ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو
ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔
پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔
ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔
ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-
ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔
اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔
میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔