Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    ماہرین نے تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف مینیٹوبا میں کی جانے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹرول یا ڈیزل کے دھوئیں کی وجہ سے جسم میں ایسے پروٹینز کی سطح بلند ہوتی ہےجن کا تعلق امراضِ قلب سے ہے یہ تحقیق مہینے میں 3 مختلف موقعوں پر کی گئی جس میں ڈیزل کی 3 مختلف مقدار والا دھواں استعمال کیا گیا۔

    پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    تحقیق کے لیے ایسے 10 افراد کا انتخاب کیا گیا جو سیگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے، ان 10 افراد میں 5 خواتین اور 5 مرد شامل تھے تمام افراد کو ایک وقت میں 4 گھنٹوں تک مسلسل دھوئیں میں سانس لینے کو کہا گیا تھا لیکن دھوئیں میں وقت گزارنے سے قبل وہ 4 گھنٹے صاف شفاف ہوا میں گزارتے تھے۔

    محققین نےڈیزل کےدھویں سےخواتین اورمردوں دونوں کےخون کےاجزاء میں ہونےوالی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جن کا تعلق سوزش، انفیکشن اور امراضِ قلب سے تھا لیکن خواتین میں ایسے پروٹینز کی سطح میں زیادتی پائی گئی جوکہ شریانوں کو سخت کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف مینیٹوبا کی ایک پروفیسر نیلوفر مُکھرجی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں جوکہ یہ بتاتے ہیں کہ ڈیزل کے دھوئیں کے خواتین پر مختلف قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    اگرچہ اس بات کی تصدیق کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن ماہرِین کے مطابق ایسی صورتحال میں دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس تحقیق کے نتائج بارسلونا میں منعقد ہونے والی یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی انٹرنیشنل کانگریس میں پیش کیے گئے۔

    پچھلے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین میں ان مادوں کے خلاف مدافعتی ردعمل زیادہ ہوتا ہے جو ان کے ایئر ویز کو پریشان کرتے ہیں، جیسے گھریلو دھول مردوں کے مقابلے میں، اس بات کے الگ ثبوت ہیں کہ خواتین سانس کے انفیکشن اور دمہ کا زیادہ شکار نظر آتی ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

  • اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1952 سے لیکر اب تک ستر سال تک تاجِ برطانیہ پر حکومت کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آج سہہ پہر چل بسیں۔ اُنکے دورِ حکومت میں ونسٹ چرچل سمیت 15 وزراء اعظم نے عہدہ سنبھالا۔ اُنکے بعد انکے بڑے بیٹے شہزادہ چالرس اب برطانیہ کی بادشاہت کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ملکہ الزبتھ کے بارے میں چند دلچسپ باتیں:

    1. اُن کے پاس سفر کرنے کے لئے پاسپورٹ نہیں تھا۔ کیونکہ پاسپورٹ کا اجرا کرنے والی اتھارٹی برطانیہ میں وہ خود تھیں۔ وہ بغیر پاسپپورٹ کے ہی سفر کرتیں۔

    2. اُنہوں نے 1945 میں گاڑی چلانا سیکھا۔اُنہیں گاڑی چلانے کے لیے بھی ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ویسے یہ سہولت پاکستان میں بھی موجود ہے۔

    3.دوسری جنگ عظیم کے دوران اُنہوں نے فوجی ٹرک بھی چلائے۔

    4. سڈنی کے اوپرا ہاؤس کا افتتاح بھی 1973 میں اُنہوں نے کیا۔

    5. دوسرے ممالک کے دئے گئے تحفوں کے طور پر وہ لندن کے چڑیا گھر میں ایک ہاتھی، دو کچھوؤں اور ایک جیگوار کی بھی مالک تھیں۔

    6. قانون کے مطابق برطانیہ کے پانیوں میں موجود تمام ویلز اور ڈالفنز کی ملکیت اّنکے پاس تھی۔

    7. 1976 میں اُنہوں نے پہلی رائیل ای میل بھیجی۔ یہ ای میل برطانیہ کے کمیونکیشن کے تحقیق ادارے کے کمپوٹر نیٹ ورک سے بھیجی گئی۔

    8. انگریزی زبان کے علاوہ اُنہیں فرنچ زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

    9۔ اُنہیں ہر سال تقریباً 7 ہزار خطوط دنیا کے مختلف کونوں سے موصول ہوتے جن میں سے اکثر کا وہ یا اُنکی ٹیم جواب بھی دیتی۔

    10. وہ سال میں دو مرتبہ سالگرہ مناتیں۔۔ایک 21 اپریل کو جو اّنکی اصل تاریخ پیدائش تھی اور دوسری سرکاری سالگرہ جسکا انحصار اچھے موسم پر ہوتا۔

    11. ملکہ الزبتھ پاکستان کے دورے پر دو مرتبہ 1961 اور 1997 میں آئیں۔

    اُنکی وفات کے بعد اب اُنہیں تدفین سے پہلے چار دن تک لندن کے ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا جائے گا جہاں عام عوام آ کر اُنہیں دیکھ سکے گی۔ اُنہیں دیکھنے کے لئے متوقع طور پر 10 لاکھ کے قریب لوگ آئیں گے۔ اُنکی تدفین کی تقریب میں دنیا بھر سے اہم رہنما اور قائدین بھی شرکت کریں گے۔

  • للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی موت کے بعد کئی زاویوں سے بات چیت چل رہی ہے. للی بٹ (Lilibet) ، ان کا نک نیم تھا. بہت سے دوستوں نے برطانوی سامراج پر تبرا کیا، جو بنتا بھی ہے کہ سارے سامراج انسانی خون اور ہڈیوں پر استوار ہوتے ہیں. ان کی ذاتی زندگی پر بھی پھبتیاں کسی جارہی ہیں کچھ دوست لیڈی ڈیانا کو ان پر ترجیح دے رہے ہیں. کچھ کو کوہ نور ہیرا یاد آرہا ہے. کچھ اس امر پر پشیماں ہیں کہ وہ کلمہ پڑھے بغیر دنیا سے چلی گئیں. میں چونکہ لیڈرشپ کی سائنس کا طالب علم ہوں تو اسی حوالے سے ان کی زندگی کا جائزہ لوں گا.کہا جاتا ہے کہ طاقت کی سب سے اونچی سیڑھی پر شور موجود نہیں ہوتا. ملکہ اس کا جیتا، جاگتا ثبوت تھیں.

    بہت کم دوستوں نے ملکہ کے اثر اور لیڈرشپ پر بات کی ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ متعلق بات ہے. بی بی سی نے جب سرخی چھاپی کہ "ملکہ کی موت پر تاریخ رک گئی” تو شاید کسی کو مبالغہ لگے مگر برطانیہ اور فرسٹ ورلڈ کی حد تک ایسا ہی ہے. اس امر پر کم غور کیا گیا کہ جب الزبتھ ملکہ بنیں تو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر سورج ڈھل چکا تھا اور دوسری جنگ عظیم میں اس کی ہڈیاں چورا بن چکی تھیں. یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ کی شادی کا لباس بھی کچھ عوامی عطیات جمع کر کے بنایا گیا تھا. للی بٹ نے جو تاج پہنا تھا وہ بہت بھاری اور کئی جگہوں سے چبھنے والا تھا.

    انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک کانسپٹ "سافٹ پاور” ہے کہ جنگی سازوسامان اور فوج کی ہیبت کے علاوہ کس طرح اقوام اپنی زبان، ثقافت اور موسیقی سے دنیا میں اپنا مصالحہ بیچتی ہیں. یاد رہے کہ برطانیہ تقریباً سو سال سے عالمی طاقت کے سٹیج پر اپنی جگہ کھو چکا ہے، تاہم گزشتہ دس برس میں کئی مرتبہ دنیا میں سب سے بڑی سافٹ پاور رہنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے. سچی بات تو یہ ہے کہ اس اعزاز کا ٪80 کریڈٹ ملکہ برطانیہ کو جاتا ہے. کچھ محققین کا خیال ہے کہ برطانوی شاہی خاندان کی موجودگی، ہر برس دس ارب پاؤنڈز کے برابر رقم، سیاحوں، طالب علموں اور دیگر اثر و رسوخ سے برطانوی خزانے میں جانے کا باعث بنتی ہے. یعنی اگر ہاتھی ہے بھی سہی تو سفید ہاتھی نہیں ہے.

    سوشل میڈیا پر مرتب کی گئی ایک فہرست کے حساب سے، ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے 96 سالہ زندگی میں، مندرجہ ذیل تاریخی ساعتوں سے گزریں.

    طاعون سے
    چیچک سے
    دوسری جنگ عظیم کے دوران
    کوریا کے جنگ کے دوران
    ویتنام کی جنگ کے دوران
    لینڈ رورو اور رینج روور کے بننے والے عرصے کے دوران
    کنکورڈ جہاز کے شروع ہونے کے وقت
    کنکورڈ کے خاتمے کے بعد
    جرمنی میں نازی حکومت کے دوران
    برلن کی تباہی کے دوران
    برلن کی تقسیم کے وقت
    برلن کی یکجائی کے وقت
    اسرائیل کی تخلیق کے وقت
    فلسطینیوں کی اُن کے علاقوں سے بے دخلی کے وقت
    1956 میں تین مغربی قوتوں کے مصر پر حملہ کے وقت
    1973 میں ہونے والی جنگ کے دوران
    سرد جنگ کےعرصے میں
    ایران اور عراق کی جنگ کے دوران
    پہلی خلیجی جنگ کے دوران
    صدام حسین کے زوال کےوقت
    سوویٹ یونین کے خاتمے اور ریاستوں کا شیرازہ بکھرنے کےوقت
    برطانیہ کے یورپی یونین شمولیت کے وقت
    برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کےوقت
    اپالو 1 سے 17 کے درمیانی عرصہ کے دوران
    ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے وقت
    15 برطانوی وزرائے اعظم کی حکومتوں کے دوران
    چارلس اور ڈیانا کی ازدواجی زندگی
    چارلس اور کامیلا پارکر
    اینڈریو اور فیرگی
    ہیری اور میگن
    اور انہوں نے اپنے اس وقت میں بھگتا دیے
    15 امریکی صدر
    7 سعودی بادشاہ
    48 اطالوی وزرائے اعظم
    اقوام متحدہ کے 10 سیکریٹری جنرل
    22 عدد پاکستانی وزرائے اعظم
    13 عدد پاکستانی صدور
    تیسری، چوتھی اور پانچویں فرانسیسی ریپبلک
    انٹرنیٹ
    ایپل ٹی وی
    نیٹ فلیکس
    کووڈ 19 ( کورونا وائرس)

    میں سب سے زیادہ متاثر اس امر سے ہوں کہ ملکہ برطانیہ نے انسانی ترقی اور تبدیلی کے سب سے تیز اور تند سالوں میں اپنے آپ کو تبدیل کیے رکھا اور شاہی خاندان جیسے فرسودہ ادارے کو مرنے نہیں دیا. آج بھی برطانیہ میں 65-70 فیصد افراد شاہی خاندان سے محبت کرتے ہیں اور گوروں کی مشہور زمانہ جمہوریت سے محبت اور اختیار سے نفرت کے باوجود اس وقت تاش کے پتوں کے علاوہ برطانوی بادشاہ بھی باقی ہے.

    حال ہی میں نیٹ فیکس پر ڈرامہ "THE CROWN” نے باہر کی دنیا کو شاہی خاندان کے اندر کے مناظر دکھائے اور لوگوں کو نظر آیا کہ شاہی تاج بھی پہننے والے کو کہاں کہاں چبھتا ہے. میں ٹاپ کمپنیوں کے سی ای اوز کو کوچ کرتا ہوں تو انہیں یہ ڈرامہ سیریز دیکھنے کی ترغیب دیتا ہوں، انفلوئنس اور ایگزیکٹو پریزینس کے حوالے سے شاید اس سے بہتر چیز نہیں بنی.

    لیڈرشپ کے طالب علموں کو ایک اور شاندار چیز ضرور دیکھنی چاہیے. برطانوی ملکہ یا بادشاہ ہر منگل کو بکنگھم پیلس میں 6:30 کے آس پاس برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہیں. 2013 میں ویسٹ اینڈ پر "THE AUDIENCE” نام کا ڈرامہ بنا جس میں ہیلن مرن نے ملکہ الزبتھ کا شاندار کردار ادا کیا. انہوں نے اپنے ستر برس کے دوران 14 برطانوی وزراء اعظم سے ملاقاتیں کیں جن میں چرچل سے لے کر بورس جانسن تک شامل تھے. سیاست اور لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے یہ ملاقاتیں اور کاروبار حکومت میں مداخلت کیے بغیر ملکہ کی وزراء اعظم کو ایڈوائس، بیش قیمت اور خاصے کی چیز ہیں.

    گزشتہ دس برس میں ملکہ برطانیہ سے دو مرتبہ شاہی تقریبات میں ملاقاتیں ہوئیں، شہزادہ چارلس، سارہ فرگوسن، شاہزادہ ولیم اور شہزادیوں سے کئی مرتبہ ملاقاتیں رہیں. 2 برس قبل جب میں نے سلیمان رضا کے ساتھ مل کر کووڈ کے دوران پورے برطانیہ میں طبی عملے اور دیگر افراد کو کھانے فراہم کرنے کی مہم "ون ملین میلز” چلائی تو اس کے بعد ملکہ برطانیہ کی طرف سے تعریفی خط موصول ہوا، جسے پا کر میں بہت حیران ہوا تھا کہ میرے خیال میں شاہی خاندان کو اس رضاکارانہ مہم سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی. پچھلے دس سالوں میں، میں یہی دیکھ پایا کہ شاہی خاندان کے اس ادارے کی گوند ملکہ برطانیہ ہی تھیں. شاہ برطانیہ کے طور چارلس یقیناً مؤثر رہیں گے، تاہم اس امر کا خطرہ موجود ہے کہ یونائٹد کنگڈم متحد نہ رہ پائے اور سکاٹ لینڈ اگلے کچھ برسوں میں علیحدہ ملک بن جائے.

    خیر اس وقت برطانیہ میں شدید سوگ کا عالم ہے. بکنگھم پیلس کا چکر لگا ہے تو وہاں کئی گوروں اور گوریوں کو دھاڑیں مار کر روتے دیکھا ہے جو گوروں کے ٹھنڈے پن کو جانتے ہوئے، ایک اجنبی سی ساعت ہے. سب سے خاص بات یہ تھی جب کچھ بزرگ گورے، گوریوں سے بات ہوئی تو اس کا مفہوم یہ بنا کہ، برطانیہ ویسے تو دوسری عالمی جنگ میں ختم ہوگیا تھا، تاہم یہ ملکہ کی برکت تھی کہ وہ اپنے پاؤں پر جم کر کھڑا ہوا، اور پاؤنڈ میں طاقت بھی برقرار رہی. اب یہ بزرگ لوگ آنسوؤں سے پریشان تھے کہ اب ملکہ نہیں رہی تو اس "برکت” کا کیا بنے گا؟ بابت ہوتا ہے کہ پیر صرف دیس میں نہیں ہوتے، یا شاید خدمت کرنے والے کسی بھی دیس میں ہوں، انہیں پیر مان لیا جاتا ہے.

    انسانی نفسیات صدیوں سے شاہوں، بادشاہوں اور شہزادیوں کو پسند کرتی ہے کیونکہ وہ ان کی کہانیوں کے مرکزی کردار ہوتے ہیں، جنہیں شاید جان بوجھ کو ابھارا جاتا ہے. تاہم ایسے غبارے دس بیس برس میں پھٹ جاتے ہیں، اگر کوئین الزبتھ ستر برس کی فرماں روائی میں دنیا کے سب سے بے رحم پریس اور تنقید کا سامنا کرتی ہوئی عزت سے رخصت ہوئی ہے تو اس میں لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے کافی کچھ سیکھنے کو موجود ہے.

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔

  • ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) میں کیا درج ہوتا ہے؟

    اِس کارڈ میں شہری کا نام، پتہ، ولدیت، تاریخ پیدائش اور بائیو میٹرک معلومات کے ساتھ ایک شناختی نمبر شامل ہوتا ہے۔ یہ منفرد نمبر ہر شہری کے لئے الگ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور شہری کو نہیں دیا جاتا۔

    اب چلتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی جانب اور کوشش کرتے ہیں اک چھوٹی سی تاکہ اس مسئلہ کا حل نکل جائے۔

    خانہ بدوش فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد وہ شخص جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہو . انگریزی ادب میں اس کیلئے ” vagrant ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے،
    خانہ بدوشوں کی طرز زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہوتا،

    خانہ بدوش سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے بلکہ جابجا گھومتے پھرتے ہیں

    یہ عموماً شہری علاقوں سے باہر خالی زمینوں اور پلاٹوں پر خیمے اور جھونپڑیاں لگا کر ڈھیرے جما لیتے ہیں۔ کالی رنگت والے خاندانوں کے اکثر افراد منشیات کے عادی پائے گئے ہیں۔ نہ صرف مرد بلکہ ان کی عورتیں حتیٰ کہ کمسن بچے بھی تمباکو نوشی اور چرس وغیرہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ان میں خود محنت مزدوری کر کے بال بچوں کا پیٹ پالنے والے مرد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی جھونپڑیوں میں رہنے والے خانہ بدوش مرد سارا سارا دن خیموں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ ان کی خواتین تو بھیک مانگتی ہیں، اپنا، اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاوند کو بھی پالتی ہیں۔

    ان سب چیزوں کے علاوہ جو توجہ طلب اور بہت ضروری عمل ہے اور سب سے زیادہ تشویشناک بات جو ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، کہاں جاتے ہیں، ان کی کوئی شناخت نہیں، ایسے افراد میں ملک دشمن افراد بھیس بدل کر آرام سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کو اس ایشو پر خصوصی توجہ دینی چاہئیے، ایسے افراد کی شناخت والے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی ہمیں سنگین مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔

  • احسان — عبداللہ سیال

    احسان — عبداللہ سیال

    احسان کو اگر بطور ہم قافیہ انسان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم واضح ہونے میں تمام تر مشکلات زائل ہوجاتی ہیں. یعنی انسان وہ ہے جو احسان کرتا ہے. بالکل اسی طرح احسان کو بطور ہم قافیہ حیوان کے دیکھا جائے تو اس کا مفہوم مزید واضح ہو جاتا ہے. یعنی جو احسان نہیں کرتا، وہ حیوان ہے.

    لفظ احسان کو توڑ کر تفصیل نچوڑی جائے تو اس لفظ کے ہر حرف نے اپنے اندر ایک وسیع معنی سما رکھا ہے.

    ا سے انسانیت
    ح سے حاصل
    س سے سویرا
    ا سے اندھیرا
    ن سے نزول

    تشریح اس کی یوں کرتا ہوں کہ احسان، ایک ایسا عمل جس کی بدولت معاشرے میں ہر انسان کو دوسرے انسان سے سویرے و اندھیرے انسانیت حاصل ہوتی رہے، یوں کہ جیسے صبح و شام معاشرے پر انسانیت کا نزول ہو رہا ہو. انسانیت سے لبریز، اخلاقی اقدار سے بھرپور ایک معاشرہ جہاں انگلی کا زخم پورے جسم کو تھکا دے اور جہاں دل کا گھاؤ آنکھوں کو رلا دے، احسان اور احسان مندی سے ہی وجود میں آسکتا ہے.

    یہی وجہ ہے کہ آفاقی ذریعۂ ہدایت، جو تاقیامت انسانوں کیلئے مشعلِ راہ ہے، میں خالقِ انسان، انسان کو مخاطب کرکے احسان کی تلقین کرتا ہے اور پھر وہ جو محسن ہوں، ان  کو پسندیدگی کی سند بھی تھما دیتا ہے کہ

    "ان اللہ یحب المحسنین.”

    اب جس کو رب العزت کی پسندیدگی چاہیے تو اسے چاہیے کہ احسان کرے اور جو اس پسندیدگی کا پاس رکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ مزید احسان کرے اور امر ہوجائے.

    خود رب العالمین نے احسان کیا جو ڈوبتی کشتئ انسانیت کو پار لگانے کے واسطے اپنے محبوب کو ناخدا بنا کر بھیج دیا.

    اسی مسیحا کے ذریعے انسان کو نیکی کا حکم دیا گیا. بہت سی نیکیوں میں احسان کو سب سے بڑی نیکی مانتا ہوں. اس لیے کہ یہ وہ نیکی ہے جو فرض نہیں تھی. فرض تو فرض ہوتا ہے، فرض ادا کیا تو کیا احسان کیا؟ لیکن اگر بغیر کہے، بنا پوچھے کسی پر احسان کر دیا تو یہ اصل نیکی ہے جو کیے جانے والے شخص کو ہمیشہ اپنے محسن کو یاد رکھنے پر مجبور کردیتی ہے.

    روئے حدیث سے اس بات پر مہر ثبت ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے. چنانچہ توفیق خداوندی سے احسان کرنے والا ہمیشہ ایک درجہ اوپر رہتا ہے اور جس پر احسان کیا جائے، وہ مغلوب ہوتا ہے. یہ امر بھی واقعی ہے کہ مغلوب جو ہوتا ہے، اس کو رہ رہ کر غالب اور کارہائے غالب، جو غالب نے مغلوب کی مدد کیلئے کیے ہوں، یاد آتے ہیں.

    چنانچہ وہ جو احسان کرتے ہیں، اپنے احسانات سمیت ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں اور صفحۂ ہستی پر ان کے ان مٹ نقوش رہ جاتے ہیں.
    لب لباب یہ کہ انسان کو چاہیے حتیٰ المقدور احسان کرتا جائے. نہ احسان کے بدلے احسان قبول کرے نہ احسان کے انکار پر آگ بگولہ ہو، کیونکہ دونوں صورتوں میں وہ درجۂ احسان سے گر جاتا ہے اور کبھی یاد نہیں کیا جاتا.

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پاک افغان کرکٹ میچ — نعمان سلطان

    پرسوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا میچ ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے جیت لیااس میچ میں افغانستان نے ایک ہارے ہوئے میچ کو جس جذبے کے ساتھ کھیلا اور اسے آخر تک لے کر گئے وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔

    جبکہ پاکستان نے ایک ون سائیڈڈ میچ کو جس طرح اپنے لئے مشکل بنایا کہ ایک وقت میں پاکستانی شائقین کرکٹ ذہنی طور پر ہارنے کے لئے تیار ہو گئے وہ پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ کے لئے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

    ویسے حیرانگی کی بات ہے ہمارے پاکستانی کھلاڑی جب غیر ملکی ٹیموں کی کوچنگ کرتے ہیں تو ان کی پرفارمنس میں واضح فرق نظر آتا ہے جیسے ماضی میں ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد اس کی مثال ہیں اور ابھی عمر گل افغانستان کے باؤلنگ کوچ ہیں، اور ان کی کوچنگ کے نتائج اس میچ میں واضح نظر آئے۔

    پرسوں کے میچ میں افغان کھلاڑی کی ساتھ آصف کےساتھ تلخ کلامی اور دھکا دینا بلاشبہ کوئی اچھا واقعہ نہیں ہے لیکن پریشر میچوں میں اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں اور میچ کے بعد کھلاڑی یا ٹیم کے سینئر ان واقعات کو رفع دفع بھی کرا دیتے ہیں۔

    لیکن حیرانگی کی بات افغان کرکٹ شائقین کی طرف سے ہارنے کے بعد اختیار کرنے والا رویہ تھا ویسے عرب تارکینِ وطن کی طرف سے امن و امان خراب کرنے کی کوششوں سے انتہائی سختی سے نبٹتے ہیں اور جن لوگوں نے کل اسٹیڈیم میں بدمعاشی کی وہ ان کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔

    کرکٹ کے میدان میں پاکستان بمقابلہ بھارت اور انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا ایسے مقابلے ہیں جن میں اپنی ٹیم کی فتح شائقین کرکٹ کے لئے ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہےلیکن ان جذبات کی وجہ ماضی کے واقعات ہی۔

    اس کے علاوہ دیگر ٹیموں کے مابین مقابلے شائقین کرکٹ کے لئے کھیل سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے لیکن افغانستان کی کرکٹ ٹیم کا جو رویہ دوران میچ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے وہ دیگر ٹیموں کے ساتھ نہیں ہوتا جو کہ ایک معنی خیز بات ہے

    ہم افغانستان کو برادر اسلامی ملک کہتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی بےبہا قربانیاں ہیں افغان مہاجرین کا بوجھ پاکستان نے اٹھایا ہوا ہے اس کے علاوہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلوانے میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔

    ایسے عالم میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھیل کے مقابلے کو کھیل سے زیادہ جنگ بنانا کیا یہ افغان ٹیم اور شائقین کے اندرونی جذبات ہیں یا اس کے پیچھے آئی سی سی کی پالیسی ہے ۔

    کہ دونوں ٹیموں کے باہمی کرکٹ مقابلوں کو انتہائی جذباتی بنا کر زیادہ سے زیادہ کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر کے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عرب ممالک میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور افغانستان کے تارکین وطن کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور پاکستان اپنے ملکی حالات کی وجہ سے ہوم سیریز مجبوراً یو اے ای میں کراتا ہےاس سوال کا جواب آنے والے وقت میں ہی معلوم ہو گا.