Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔

  • غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    غریب عوام جینے کا حق مانگتی ہے!!! — حاجی فضل محمود انجم

    پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ اضافے کا اعلان کیا ہوا کہ میرے لئے تو کمبختی آ گئی۔وہ یوں کہ رات گئے جونہی حکومت نے پندرہ دنوں بعد پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کیا تو "ماما بلو” جسے مجھ سے ملے ہوۓ کافی عرصہ ہو گیا تھا وہ آن دھمکا اور لگا ہاتھ اٹھا اٹھا کر صلواتیں سنانے-! یہ ہے تمہاری حکومت جس نے اب پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دی ہے۔کیسی ہے یہ حکومت ؟ جو دن کے اوقات میں قیمتیں بڑھانے کی سمری کو مسترد کرتی ہے اور جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔اور لوگ سونے کی کوشش میں ہوتے ہیں تو ایسے میں تم قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیتے ہو تاکہ سوۓ ہوۓ لوگ صبح بیدار ہوں تو ان کو یہ روح فرسا خبر ملے اور ان کے آنے والے پورے دن کا ستیاناس کر دے۔ آخر آپ چاہتے کیا ہیں-؟

    یہی کہ لوگ اب مر جائیں کیونکہ پہلے ہی اتنی مہنگائی ہو چکی ہے کہ اب یہی راستہ ان کے پاس رہ گیا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں۔نہ صرف خود مر جائیں بلکہ اپنی "جیا جنت "کو بھی ساتھ لیکر ملک عدم کو سدھار جائیں۔

    آپ نے حکومت میں آتے وقت دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے تھے۔اب وہ سب دعوے کیا ہوۓ۔؟عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ۔لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ۔عوام کو سہولیات دینے کا دعویٰ۔مہنگائی کو ختم کرنے کا دعویٰ- عوام میں ہائی جانے والی بے چینی کو کم کرنے کا دعویٰ۔ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کا دعویٰ۔صحت اور تعلیم کی سہولیات کو عام کرنے کا دعویٰ۔

    معاشرے میں موجود نا انصافی اور استحصال کو جڑ سے اکھاڑنے کا دعویٰ۔یہ سب دعوے اب کیا ہوۓ۔لوگ تو اب مایوس ہونے لگے ہیں آپ سے بھی اور وہ بھی اتنی جلدی-! ۔لیکن جب کوئی آپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو آپ اس بحران کو سابقہ حکومت کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیتے ہو۔او بھائی-! یہ سابقہ حکومت کا گند تھا تو آپ نے کیوں اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔؟ کیوں ان کی برائیوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا۔؟ چلنے دیتے ان کو اور کچھ عرصہ اپنے ان کرتوتوں کیساتھ۔اگر ملک کی بھلائی اور عوام کی اشک سوئی ہی آپ کا مقصد تھا تو اب وہ مقصد کہاں گیا۔؟

    معلوم ہوا تمہارے پاس کوئی پالیسی کوئی پلان اور کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔ایسا لگتا ہے کہ تم بھی بغیر کسی تیاری کے آۓ ہو ان سابقہ حکمرانوں کی طرح جنہیں حکومت کرنے کا تو کوئی تجربہ ہی نہ تھا سواۓ ملک کو لوٹنے کے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تم صرف نے سابقہ حکمرانوں کے بغض میں اس بھاری پتھر کو چوما ہے۔

    "ماما بلو” اپنی لمبی چوڑی اس تقریر کے بعد جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں نے اسے کہا کہ تمہاری یہ باتیں بلکل سچ ہیں۔ نئی آنے والی موجودہ اتحادی حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے ذریعے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ  دعویٰ کیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح  یہ ہو گی کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جاۓ اور  اس کیساتھ   ساتھ افراط زر میں بڑھتی ہوئی شرح کو کم کیا جاۓ گا مگرحالیہ دو مہینوں میں روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں جو  ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس کیساتھ ساتھ  بجلی اور گیس کے نرخوں میں جو  اضافہ ہوا ہے اس نے  تو عوام کی کمر ہی توڑ کر رکھ  دی ہے بلکہ اس کی چیخیں ہی نکال دیں ہیں-

    اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت بظاہر صرف دعووں پر جی رہی ہے  اور وعدوں پر انحصارکر رہی ہے اور عوام کو سہولت پہنچانے اور مہنگائی ختم کرنے کے یہ دعوے اب دھوکہ سمجھے جانے لگے ہیں کیونکہ اب اس طرف کسی کی بھی کوئی نظر یا توجہ نہیں ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ اس مہنگائی کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جنہیں حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے وہ بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ حکومت اتحادیوں کے رحم و کرم پر ہونے کی وجہ سے کمزور وکٹ پر کھڑی ہے اور انہیں خوش کر کے اور ان کے مفادات پورے کر کے ہی حکومت کی جا سکتی ہے ۔

    اس اتحادی حکومت نے آتے ہی قرضہ لینے کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبے پر صرف پندرہ دنوں کے اندر اندر تیل کی قیمتوں میں چوراسی روپے کا خطیر اور ہوشربا اضافہ کیا تھا جس سے ہر وہ شخص بلبلاء کے رہ گیا جو کما کے کھاتا ہے۔جو مزدور ہے جو دیہاڑی دار ہے۔ جو ٹھیلے والا اور سبزی فروش ہے اور جو پینشنر ہے۔ مہنگائی کی یہ شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں بلکہ اب وہ وقت آ چکا ہے اور کسی بھی وقت یہ لاوا پھٹنے کو ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئے روز بجلی گیس پٹرول سمیت اشیائے خوردونوش میں اضافہ کرکے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

    اگرچہ حکومت کی طرف سے سرکاری یوٹیلیٹی سٹورز  پر  کئی اشیاء کم قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آبادی کے تناسب سے انہتائی کم تعداد پر موجود ان سٹوروں پر ساری اشیائے خردو نوش دستیاب نہیں ہیں اور شومئی قسمت ان یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی لوگ مطمن نہیں ہیں اور اکثر لوگ ان کی انتظامیہ کے بارے میں یہ  شکائیت کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں کہ بعض اشیاء جیسے چینی اور گھی باہر ہی باہر اپنے تعلق داروں یا دوکانداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے اور عوام اس سے محروم ہی رہتی ہے۔

    اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں اور لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے آٹے گھی اور چینی کی تلاش میں جگہ جگہ مارے مارے پھرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔وہ سارا سارا دن ذلیل و خوار ہو کر شام کو بے نیل و مرام اپنے گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

    اس بد نظمی ہی کی وجہ سے آج ہمارا ہر شعبہ زندگی انحطاط کا شکار ہے۔ہر جگہ کوئی نہ کوئی مافیا قبضہ جماۓ بیٹھا ہے۔بلکل اسی طرح سیاست کا شعبہ بھی بد ترین فرعونیت کا شکار ہے۔ ہر ایک خود کو ہی جمہوریت کا ٹھیکیدار اور چیمپین سمجھتا ہے اور کسی دوسرے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔موجودہ سیاسی بحران اس کی بہترین مثال ہے۔ آئین کو ایک کھلونا بنا کے رکھ دیا ہے۔

    بڑے بڑے آئینی عہدیدار ہی آئینی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔اسی لئے ہماری عدلیہ پہ بھی بوجھ بڑھ گیا ہے۔عام لوگوں کے سالہا سال تک فیصلے نہیں ہوتے اور وہ انصاف کیلئے ترستے اور جیلوں میں بند رہتے ہیں دوسری طرف پوری دنیا میں قاعدہ یہ ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جاتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود پہ خرچ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بلکل برعکس ہے۔یہاں غریبوں سے ٹیکس لیا جاتا ہے اور امیروں پہ خرچ کیا جاتا ہے۔غریبوں سے بجلی کے بل اس پہ انواع و اقسام کے اضافی ٹیکس لگا کر لئے جاتے ہیں اور امیروں اور واپڈا اہلکاروں کو بجلی مفت مہیا کی جاتی ہے۔موجودہ ماہ کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ہزاروں روپے ڈال دئے گئے ہیں ۔

    طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پہ کسی قسم کا کوئی تاسف یا پریشانی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے بلوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے جو واپڈا نے غریب عوام پہ ڈھا رکھا ہے ۔ غریبوں کیلئے تیل مہنگا کیا جاتا ہے اور اہل ثروت اور اہل اقتدار کیلئے اس کے مفت کوٹے مقرر ہیں۔حکومت اگر کسی چیز پہ سبسڈی دیتی ہے تو اس سبسڈی کا بہت بڑا حصہ یہ بڑی بڑی توندوں اور پیٹوں والے کھا جاتے ہیں اور غریب بیچارا بھوکا رہ جاتا ہے۔

    ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس نے ملک کو استحکام نصیب نہیں ہونے دیا۔جو بھی حکومت میں آتا ہے وہ فرعون بن بیٹھتا ہے اور دوسرا اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتا ہے ۔پولیس اور انتظامیہ کا مورال ڈاؤن کرنے کیلئے پروگرام بناۓ جاتے ہیں اور انہیں برسر اقتدار آنے کی صورت میں سزا کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ زیادہ دور کی بات نہیں جب نوے کی دہائی میں دو سیاسی پارٹیوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے وہ وہ جتن کئے جو آج بھی ریکارڈ پر ہیں اور یہی کچھ بعد میں آنے والوں نے بھی کیا اور کسی کو کام نہ کرنے دیا بلکہ احتجاج دھرنے اور لانگ مارچ کر کے ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے کے طور پر حکومتیں بر طرف ہوئیں اور ہر برطرفی کے پیچھے جمہوریت کے کسی نہ کسی دعویدار اور ٹھیکیدار کا ہاتھ ہی محسوس کیا گیا۔

    سوال یہ ہے اب شکائیت کس سے کریں کہ کب تک ایسا ہوتا رہیگا اور کب تک عوام مہنگائی نا انصافی اور ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اور کب تک امیر اور غریب کے درمیان موجود یہ تقسیم باقی رہے گی۔؟ دنیا داروں نے تو جینے کا حق ہی چھین لیا۔لہذا اب شکائیت صرف اللہ سے ہے جو قادر مطلق ہے اور پالنے والا ہے سب جہانوں کا۔ اسلئے خدارا سوچو۔سوچو -! اس ملک کی بہتری کیلئے اس کی بقاء اور ترقی کیلئے اس کے استحکام اور حفاظت کیلئے کیونکہ یہ ملک ہی ہے جس کی بناء پر دنیا میں ہماری پہچان ہے۔

  • اداسی محسوس ہو تو  دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    ندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جب آپ اداس محسوس کر رہے ہوں تو سیر کے لیے دریا یا نہر پر چلے جانا آپ کے مزاج کو بہتر کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : 31 اگست 2022 کو پلس ون ( Plos One journal) نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں مزید کہا گیا کہ نہریں اور دریا کی سیر 24 گھنٹے تک آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کنگز کالج لندن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ایسی جگہیں جہاں پانی اور سبزہ زار سمیت جنگلی حیات موجود ہو اس کا ہماری صحت پر صرف سبز ماحول کی نسبت زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں۔

    محققین نے اربن مائنڈ نامی ایک فون ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کی جگہ اور ذہنی صحت کے متعلق اس وقت کے احساسات اکٹھے کیے اس تحقیق میں مجموعی طور پر 299 افراد کے 7,975 جائزے مکمل کیے، جن میں سے 87 افراد ذہنی مسائل میں مبتلا تھے-

    پروفیسر اینڈریا میکلی نے کہا کہ نہروں اور ندیوں میں نہ صرف پانی ہوتا ہے بلکہ درختوں اور پودوں کی بھی کثرت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہےکہ سبزے اور پانی سے جُڑے کئی گُنا فوائد کی وجہ سے یہ ماحول ذہنی صحت کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نہریں اور دریا متعدد جنگلی حیات کا مسکن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جنگلی حیات کے بھی ذہنی صحت پر مثبت اثرات ہوتے ہیں-

    اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق کے نتائج میں ذہنی صحت اور دریاؤں اور نہروں کی سیر کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا۔ تحقیق میں اس ماحول کا دیگر ماحول کی نسبت تحفظ کا احساس اور سماجی شمولیت کے حوالےسے مثبت تجربہ بھی پایا گیا۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    وہ لوگ جنہوں نے آبی ذخائر کے قریب زیادہ وقت گزارا انہوں نے دیگر تمام مقامات کے مقابلے میں حفاظت اور سماجی شمولیت کے جذبات کا اظہار کیا، جیسے گھر کے اندر، باہر شہری ماحول میں، یا پانی سے محروم علاقوں کے قریب۔عمر، جنس، تعلیمی سطح اور دماغی صحت کے مسئلے کی تشخیص سمیت متغیرات پر غور کرنے کے بعد بھی یہ ربط برقرار رہا۔

    مطالعہ میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے سماجی تجویز کردہ پروگراموں میں دریاؤں اور نہروں کے دورے کو شامل کیا جانا چاہیے۔

    میکلی نے مزید کہا، یہ نتائج اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ ہم پانی اور بہبود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ نہروں اور دریاؤں کے دورے سماجی تجویز کردہ اسکیموں کا حصہ بن سکتے ہیں، جو دماغی صحت کی حمایت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    مطالعہ کے نتائج میں نوٹ کیا گیا کہ شہری اور دیہی مناظر کی منصوبہ بندی اور تخلیق کرنے کے لیے جو تمام باشندوں کی ذہنی صحت کو سپورٹ کرتے ہیں، ان ماحولیاتی نظام کے اثرات کے بارے میں زیادہ گہرے علم کی ضرورت ہوگی۔

    شرکاء نے اپنے اسمارٹ فونز پر اربن مائنڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور مخصوص تحقیقی مطالعہ تک رسائی کے لیے پاس کوڈ ‘واٹر’ درج کیا۔ انہیں متعدد اسکرینیں دکھائی گئیں جن میں ان کی باخبر رضامندی کی درخواست کرنے سے پہلے مطالعہ کے اہداف کی تفصیل دی گئی تھی۔

    اس کے بعد، شرکاء کو ایک بنیادی سروے مکمل کرنے کی ضرورت تھی جس میں ان سے ان کی عمر، جنس، نسل، تعلیم کی سطح اور دیگر سماجی-آبادیاتی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

    شرکاء سے 14 دنوں میں، تقریباً 2 منٹ تک جاری رہنے والا ایک مختصر ماحولیاتی لمحاتی جائزہ (EMA) مکمل کرنے کی درخواست کی گئی۔ EMAs کے لیے پش نوٹیفیکیشنز شرکاء کو روزانہ تین بارمختلف وقفوں میں تقسیم کیے گئے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    ہرزلیا: میٹا کی زیرملکیت ایپلیکشن واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : جہاں نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئے ، پرانی نسلوں کو یہ سیکھنا پڑا کہ اس کے مطابق کیسے ڈھالنا ہے۔ ایسی ہی عمر کا ایک گروہ جنریشن X (جو 1965-1980 کے درمیان پیدا ہوا) ہے،جو زندگی میں نسبتاً دیر سے ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ ہوا اور اسے "ڈیجیٹل تارکین وطن” کہا جاتا ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    ریچ مین یونیورسٹی کے محققین کی طرف سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں ڈاکٹر گیلی ایناو، ایڈلسن سکول آف انٹرپرینیورشپ کے محقق اور فیکلٹی ممبر، اور سیمی اوفر سکول آف کمیونیکیشنز کے تال نادیل ہارونی اور پروفیسر یائر گیلی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ہم اپنے تعلقات کو واٹس ایپ کے ذریعے کیسے چلاتے ہیں اور چاہے یہ اس سے ملتا جلتا ہو یا اس سے مختلف جس طرح سے ہم انہیں حقیقی زندگی میں ہینڈل کرتے ہیں۔

    اسکالر جان گوٹ مین، ایک طبی ماہر نفسیات اور ریاضی دان، نے رشتے میں لڑائی کی اہمیت کو تسلیم کیا، اور دعویٰ کیا کہ تنازعات سے نمٹنے کی صلاحیت ہی ایک مستحکم رشتے کی بنیاد ہے۔ اس نے رشتے میں تنازعات کے انتظام کے تین نمونوں کی بھی نشاندہی کی جو اس کے استحکام کی پیش گوئی کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

    جرنل نیو میڈیا اینڈ سوسائٹی میں شائع تحقیق میں ماہرین نے دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ واٹس ایپ جوڑوں کے لیے لڑائی اور صلح کا بہترین مقام ثابت ہوسکتی ہے محققین کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ سے لوگوں کو اپنے شریک حیات کا نکتہ نظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

    محققین نے کہا کہ ایموجیز سے جذبات اور غصے کا اظہار زیادہ بہتر طریقے سے کرنا ممکن ہوتا ہے واٹس ایپ چیٹ رشتے کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہےاس تحقیق میں 35 سے 50 سال کی عمرکے ایسے 18 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی شادی کو 5 سال کا عرصہ ہوچکا تھا۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    اس کے بعد دیکھا گیا کہ جھگڑے کی صورت میں ان جوڑوں کی جانب سے کس طرح کے رویے کا اظہار کیا جاتا ہے جیسے سرد مہری، جذباتی انداز یا دیگر،پھر یہ دیکھا گیا کہ یہی جھگڑا میسجنگ ایپ میں کرنے سے تعلق پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ حقیقی زندگی میں جوڑے جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ سکتے ہیں مگر میسجنگ ایپ پر ایک دوسرے کے پیغامات کو کئی بار پڑھتے ہیں تاکہ نکتہ نظر کو سمجھ سکیں۔

    محققین نے کہا کہ 1960 یا 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد ڈیجیٹل طریقوں کی بجائے براہ راست بات کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، مگر ہم نے دریافت کیا کہ ضروری نہیں یہ خیال واقعی درست ہو۔

    انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ سے زندگی بھر کے اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اضافی پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

  • سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    سیلاب ، بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت،تجزیہ :شہزاد قریشی

    خدا نہ کرے ہم پر قہر نازل ہو قرآن پاک کا مطالعہ کریں جن قوموں پر قہر نازل ہوا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ دنیا بھر میں بارشیں ہوتی ہیں حکومتیں اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی کرتے ہیں حکومتیں، انتظامیہ فلڈ وارننگ پر نظر رکھتی ہیں۔ ایک ایک انسان کی حفاظت کی جاتی ہے انسانوں کو انسان سمجھا جاتا ہے۔ دعائیں دینے والے اور بددعائیں دینے والے حضرات سے معذرت کے ساتھ پاکستان میں یہ آفت کا قہر کیا غریب اور بے بس لاچار عوام پر ہی آتا ہے۔ کیا یہ قہر مخصوص طبقے کے لئے رہ گیا ہے ہر گز نہیں ۔ یہ خدا پاک کا قہر نہیں بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے خدا پاک اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ ان سیلابی ریلوں کو روکا جا سکتا ہے ملک میں ڈیم بنا کر روکا جا سکتا ہے۔

    بھارت نے پانچ ہزار ڈیم بنا دیئے۔ بنگلہ دیش نے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے اور اس طرح کے طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ جنگلات اور پانی دو ایسی قدرتی طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ کے لئے ادارے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے پورا ملک بڑے بڑے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیا وہ جنگلات کاٹ کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹیز بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں پر بحث کی جا رہی ہے جبکہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ گرین ہائوس کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین سامنا کرنیوالے سرفہرست دس ممالک میں ہوتا ہے ۔ کلاڈیا ویب نے لکھا ہے کہ قطب شمالی کے بعد سب سے زیادہ گلیشیرز پاکستان میں پگھل رہے ہیں۔ کلاڈیا ویب نے کہا اس کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں ملک کی سیاسی قیادت، جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں کے ہاتھوں میں ہے کیا کہا جائے جنہوں نے اپنے محل تو محفوظ کر لئے مگر پاکستان جو بائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے اس گھر کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا نہ ڈیم بنانے کی طرف توجہ دی نہ جنگلات کے تحفظ کے لئے کچھ کیا۔

    سیاسی قیادت نے یارانے لینڈ مافیا اور ٹمبر مافیا کے ساتھ ہیں بیورو کریسی اور سول انتظامیہ خاموش تماشائی ہے قانون کی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس وقت ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف غداری اور سازشی اور اب دہشت گردی جیسے الزامات لگا کر ملک و قوم کی کون سی خدمات سرانجام دے رہی ہیں؟ ایک دوسرے کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کو سنوارنے اور عوام کو ایسی آفات سے بچانے کی منصوبہ بندی کون کرے گا؟ ڈیم کون بنائے گا؟ جنگلات کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے۔

  • ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، جس کو زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے بھیجا گیا ہے،رواں ماہ ستمبر میں 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں خلاء میں بھیجا گیا تھا جو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے جا کر ٹکرائے گا۔ یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    جوڈائڈِموس ( Didymos) نامی ایک بڑے سیارچےکےگرد چکر لگاتا ہےناسا کا کہنا ہے کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ڈیمورفوس، ایک اندازے کے مطابق 520 فٹ لمبا سیارچہ ہے جو زمین سے ٹکرانے کی صورت میں کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    نتائج سے قطع نظر، یہ مشن ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کو اہم ڈیٹا فراہم کرے گا کہ اگر کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    قبل ازیں ناسا کے سیاروں کے دفاعی افسر لنڈلی جانسن نے کہا تھا کہ ہم ایسی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتے جہاں ایک سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہو اور پھر اسے اس قسم کی صلاحیت کی جانچ کرنی پڑے۔ ہم دونوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ خلائی جہاز کیسے کام کرتا ہے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا کبھی بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

    دو طا قتورترین ٹیلی اسکوپ سے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی ہے یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    جان ہوپکنزیونیورسٹی سےتعلق رکھنےوالے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانےکےلیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے اسپیس کرافٹ سیارچے سے ستمبر کی 26 تاریخ کو ٹکرائے گا۔

    DART 26 ستمبر کو شام 7:14 بجے خلا میں اپنا 10 ماہ کا سفر مکمل کرے گا۔ ای ٹی ناسا کی لائیو کوریج شام 6 بجے شروع ہوگی۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے قریب کیوں ہوتا ہے ؟ — ثمینہ کوثر

    ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے میرے رب عزوجل میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ : مجھے ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو ۔

    اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے اللہ عزوجل! اگر میں تجھے تلاش کروں، تو تو مجھے کہاں ملے گا ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (میں) ان لوگوں کے پاس ملوں گا، جن کے دل میرے خوف سے شکستہ (ٹوٹے ہوئے ) ہوں۔

    یہ تھیں وہ روایات جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے یا پھر اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا مسکن ٹوٹے ہوئے دلوں کو ہی کیوں بنایا ہے ۔ آخر ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں کیا خوبی ہے کہ اگر ہم اللہ کو تلاش کریں گے تو وہ ہمیں ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں ہی ملے گا ۔ تو آج ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی ان ٹوٹے ہوئے دلوں میں بستا ہے ۔

    دراصل اللہ تعالی ہر پاکیزہ اور صاف ستھرے دل میں رہتا ہے ، جو دل ایمان کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ، اللہ تعالی انہی دلوں میں اپنا بسیرا بنا لیتا ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں کوئی ایسا شخص ، کوئی ایسی چیز ، کوئی ایسی خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم اسی میں کھو جاتے ہیں ، ہم اس چیز میں ، اس انسان ان میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اس چیز ، اس انسان اور اس خواہش کی تمنا اور محبت ہمارے دلوں میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ، جس سے آہستہ آہستہ ہمارے دلوں سے اللہ تعالی کی محبت کم ہونے لگتی ہے اور ہمارے دل آہستہ آہستہ نفاق ، خود غرضی ، ہٹ دھرمی اور منافقت سے بھر جاتے ہیں ۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہم ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ہم اپنی خواہش ، اپنی محبت اور اپنی تمنا کو پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جانے کو تیار ہوتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم اس خواہش ، اس تمنا اور اس محبت کی وجہ سے ریزہ ریزہ کر دیے جاتے ہیں ۔ ہم جن چیزوں کے لئے اللہ تعالی کی نافرمانی شروع کر چکے ہوتے ہیں ، جن کاموں کی وجہ سے گناہوں کی دلدل میں گرتے چلے جارہے ہوتے ہیں ، جس دل میں ہم نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کو بسا لیا ہوتا ہے ، پھر اسی چیز ، اسی محبت ، اسی انسان کے ذریعے ہمارا دل ریزہ ریزہ کیا جاتا ہے ۔ ریزہ ریزہ بھی ایسا کہ اگر ساری کائنات بھی اس ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیاں جمع کرنے کی کوشش کرے کرے تو یہ کسی کے بس کی بات نہیں رہتی اور جب یہ دل ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے تو تب ایک دفعہ پھر سے اس تمناء ، اس خواہش ، اس محبت کے ساتھ ساتھ ہمارے دل سے نفرتیں ، نفاق ، خود غرضی ، جھوٹ ، فریب اور ہوس سب نکل جاتا ہے ۔ جب دل ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں تو یہ تمام برائیوں اور گناہوں سے پاک کر دیے جاتے ہیں ۔ پھر اس کو جوڑنے والا اگر کوئی ہوتا ہے تو صرف ایک اللہ ۔ جب یہ ریزہ ریزہ دل نفرت ، حسد اور لالچ سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالی کو یہ دل پھر سے محبوب ہو جاتا ہے ۔

    وہ دل جس میں ہم نے ایسے شخص کو بسایا تھا جس کی محبت کو ہم نے اللہ تعالی کی محبت سے زیادہ اہمیت دی تھی پھر وہی دل دوبارہ سے ہر غیر کی محبت سے پاک ہو چکا ہوتا ہے اور جب ٹوٹا ہوا دل ہر قسم کے شرک سے پاک ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ سے اسی دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پاکیزہ ٹوٹے ہوئے دل کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے ۔ اسی دل میں اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے اور پھر وہ ٹوٹا ہوا دل بے حد مطمئن اور پرسکون ہو جاتا ہے اور پھر نہ صرف یہ کہ وہ خود سکون میں ہوتا ہے بلکہ اس دنیا جہان میں جتنے بھی بے سکون اللہ سے ملنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو اس ٹوٹے ہوئے دل کا پتہ بتا دیتا ہے اور پھر یہی کہتا ہے کہ مجھے شکستہ دلوں کے پاس ، ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس تلاش کرو میں وہی ملوں گا ۔ بس اتنا یاد رکھیں کہ اگر دل ٹوٹ گیا ہو اور اس کو جوڑنے والا کوئی نظر نہ آ رہا ہو تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ تعالی کی امانت تھی اور اللہ تعالی نے ہی اسے بنایا تھا ، اب پھر سے وہی ایسا کاریگر ہے کہ اس ٹوٹے ہوئے دل کو صرف وہی جوڑ سکتا ہے ۔ یقین جانیں کہ اللہ تعالی اس ٹوٹے ہوئے دل کو اس طرح سے دوبارہ جوڑے گا کہ کہیں کوئی پیوند نظر نہیں آئے گا کہیں کوئی جوڑ نظر نہیں آئے گا ۔ یہاں تک کہ یہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جانے کے بعد بھی کبھی بھی نفرت حسد اور گناہ کی آماجگاہ نہیں بنیں گے لہذا جب بھی دل ٹوٹے تو اسے اس کے اصل مالک کے پاس لے جایا کریں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کا دل نہیں بھی ٹوٹا تو بھی اپنے دل کو حسد ، جھوٹ اور منافقت جیسی بری صفات سے پاک کر لیجئے ۔ اللہ تعالی پھر بھی آپ کے دل کو اپنا مسکن بنا لے گا ۔ یاد رکھیے کہ اپنے دل کو کبھی بھی ایسی تمنا ، خواہش اور محبت میں مبتلا مت کیجئے جس سے اللہ کی ساتھ محبت میں کمی آجائے ۔

  • گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    کوپن ہیگن: ایک نئی تحقیق کے مطابق گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف کی چادر کے سبب سمندر کی سطح میں تقریباً ایک فِٹ تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہونےو الی تحقیق میں بتایا گیا کہ برف کی چادر کا 3.3 فی صد حجم پگھلنے کے سبب موجودہ سطح سمندر تقریباً 11 انچ تک بڑھ سکتی ہے۔

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    تحقیق میں بتایا گیا کہ سمندروں کی سطح میں بلندی کے اسباب میں بڑے پیمانے پر آسمان سے نیچے آنے والا پانی (خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو)، برف کا پہاڑوں سے پھسل کر سمندر میں گِرنا(آئس ڈس چارج) اور برف کا پگھل کر پانی بن جانا شامل ہیں۔

    گرین لینڈ کی برف کی چادر کا پگھلنا موجودہ سطح سمندر میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یہ 1980 کی دہائی میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    جیولوجیکل سروے آف ڈینمارک اینڈ گرین لینڈ کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں محققین کا کہنا تھا کہ اگر پوری دنیا آج فاسل ایندھن جلانا بند کردے تب بھی گرین لینڈ میں 10 ہزار کھرب ٹن برف پگھل جائے گی۔

    محققین نے واضح کیا کہ برف کے پگھلنے کے سبب سطح سمندر میں اضافہ 2100 تک ہوگا۔ اگرچہ تحقیق میں صرف گرین لینڈ کی برف کی چادروں کے متعلق بات کی گئی ہے، اس میں انٹارکٹیکا میں موجود دیگر گلیشیئرز شامل نہیں ہیں۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    صدقۂ جاریہ اور اس کے فوائد —ام عفاف

    ہر انسان کو اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، ہر شے کو فنا ہونے والی ہے لیکن جب انسان اس دنیا سے کوچ کرتا ہے تو خالی ہاتھ ہوتا ہے اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال ہی اس کا سہارا بنتے ہیں. اچھے اور برے اعمال کا دارومدار بھی اس انسان پر ہی ہے کہ اگر نیک اعمال ہونگے تو اس بندے کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گے اگر برے ہونگے تو اس کے لیے بربادی ہے.

    مرنے کے بعد صرف تین چیزیں ہیں جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنتی ہیں.

    1: دعا
    2: اس کی اولاد جو بھی نیک اعمال کرتی ہے اس کا اجر اس مرنے والے کو ملتا ہے.
    3: صدقہ

    جب تک انسان زندہ ہوتا ہے وہ اچھے اور برے اعمال کرتا ہے. اس کے مرنے کے ساتھ ہی اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے. جب تک اس کے اہل وعیال رشتہ دار زندہ رہتے ہیں وہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے. لیکن جو تیسری چیز انسان کر جاتا ہے وہ صدقہ جاریہ ہے. جو ہمیشہ باقی رہتا ہے اور جو انسان کے لیے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہیں.

    1: علم: جو انسان علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچاتا ہے وہ علم آگے بڑھتا رہتا ہے تو مرنے کے بعد اس عالم کو اس کا اجر ملتا رہتا ہے.

    2: وہ کام جو انسان کسی تعمیر کی صورت میں کرے. جس میں سرفہرست مسجد بنوا دینا، جب تک نمازی نماز پڑھیں گے اس انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کا اجر ملتا رہے گا. کوئی فاونڈیشن یا اسپتال بنوادینا جس سے اس بندے کے اجر میں اضافہ ہوتا رہے گا.

    معزز قارئین. لوگ صدقے کو ایک ادنیٰ سی چیز تصور کرتے ہیں. حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صدقے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے. حدیث شریف میں ہے کہ جب بندہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے ایک انسان اپنے گھوڑ یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے.

    بہت سارے لوگ صرف ڈونیشن کرنے کو ہی صدقہ سمجھتے ہیں. حالانکہ انسانیت کی خدمت بھی ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے اگر آپ کی وجہ سے کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو یہ سب سے بڑا صدقہ ہے.

    بہت سارے رہنما اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں ہیں. ان میں سے آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں. ان کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد ملک پاکستان وجود میں آیا. انہوں نے ہی نہیں ان کے ساتھ مل کر کئی لوگوں نے کام کیا کتنے ہی لوگوں نے اپنی زندگیاں گنوائیں اور ہمیں آزاد ملک دے دیا.

    رہتی دنیا تک لوگ ان سب کو دعائیں دیتے رہیں گے لیکن آج بھی ہمارے ملک کو ایسے ہی جانثار لوگوں کی ضرورت ہے. آج ہمارے ملک پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں اس میں کتنے انسان خطرے میں ہیں.

    حالیہ بارشوں کی وجہ سے لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے، کتنے لوگ ہیں جو بےآسرا کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے. اگر ایک فرد بھی کسی انسان کی مدد کرتا ہے تو کتنے ہی افراد مل کر لوگوں کی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں.

    خدمت انسانیت ہی ہے جو ایک انسان کو تمام لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے. بعض اوقات انسان کے پاس ایسا کوئی موقعہ نہیں ہوتا ہے یا انسان کے پاس کوئی ذرائع نہیں ہوتے ہیں کہ انسان کوئی خدمت کا کام سرانجام دے سکے. اسلام میں بھی سب سے زیادہ حقوق العباد کا ذکر ہے. اس لئے اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرسکتے ہیں. اچھا سلوک بھی خدمت انسانیت کے زمرے میں آتا ہے. کسی انسان کے برے وقت میں اس کے ساتھ مسکراہٹ کے ساتھ ملنا بھی صدقہ ہے.

    خدمت انسانیت ہی ایسا جذبہ ہے جس سے ایک انسان کی اچھائی اور برائی کا پتہ چلتا ہے اسی جذبے کے تحت اگر انسان اگر کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اس کے لیے آخرت اور دنیا دونوں سنوار دیتا ہے. اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سب اکٹھے ہوں اور بارشوں اور سیلاب سے متاثر اور تباہ حال لوگوں کے لیے سہارا بنیں. ہم اپنے راشن رقم بستر وغیرہ دے کر ان کی مدد کرسکتے ہیں.

    ذرا ٹھہر کر سوچیں کہ یہ وقت ہم پر بھی آسکتا ہے. یہ صرف ایک نشانی ہے جو اللہ نے ہمیں دکھائی ہے اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے کتنی ہی بڑی عمارتیں اور شہر ہیں جو ایک لمحے میں نیست و نابود ہوسکتے ہیں. لیکن اللہ بہت رحیم ہے ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ ہم سدھر سکیں.

    اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو درست کریں اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ڈوبتے لوگوں کا سہارا بنیں. کیا پتہ اس کارخیر سے اللہ تعالیٰ ہمیں بخش دے اور ان آفتوں کو ٹال دے.

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.