Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    پرتگال : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں جو سبزہ خور سوروپوڈ سے تعلق رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپ میں اب تک پائے جانے والے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں پرتگال کے وسط سے پومبل شہر سے برآمد ہوئی ہیں جس کا قد 12 میٹر اور سر سےدم تک کی لمبائی 25 میٹر تھی یہ جانور پتوں اور سبزے پرگزارہ کرتے تھے اورچاروں پیروں پر چلا کرتے تھے-

    2017 میں ایک شخص کو اپنے پلاٹ پر کئی غیرمعمولی بڑی ہڈیاں دکھائی دیں یہ ہڈیاں تعمیراتی عمل میں ملی برآمد ہوئی تھیں اس کے بعد سائنسدانوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے باقاعدہ تحقیق شروع کی۔

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت


    بعد اگست 2022 میں پرتگالی اور ہسپانوی ماہرین ایک جگہ جمع ہوئے اور یہاں باضابطہ تحقیق کی اس کے بعد وہاں سے سوروپوڈ کی مزید ہڈیاں ملیں جس کے بعد ماہرین نے اسے یورپ سے دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈائنوسار قرار دیا ہے۔

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    تحقیقی ٹیم میں شامل لزبن یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی ماہر حیاتیات ، ایلزبتھ میلافایا نے کہا کہ اس طرح کے آثار کی دریافت عام بات نہیں، کیونکہ اس ڈائنوسار کی پسلیاں اچھی حالت میں ملی ہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس طرح اس کے رکازات دریافت ہوئے ہیں وہ عام حالات میں ممکن نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ جراسک عہد کی یہ دریافت غیرمعمولی ہے۔

    ایک اندازے کےمطابق لگ بھگ 10 سے 16 کروڑ سال قبل سوروپوڈ ڈائنوسار زندہ تھےاور اب تک انہیں سب سے بڑے ڈائنوسار میں شمار کیا جاتا ہے اس کے اعضا مکمل طور پر بن چکے تھے فی الحال اس کے پسلیاں اور گردن کےکئی مہرے دریافت ہوئے ہیں تاہم مزید کھدائی کے بعد کئی اور قیمتی رکازات مل سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پومبل علاقے میں اس سے قبل بھی ڈائنوسار کے آثار ملے ہیں کیونکہ یہاں کروڑوں سال قدیم جراسک پرتیں بہت واضح ہیں۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

  • کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    سائنسدانوں کی جانب سے ایک نئے طریقہ علاج پر کام ہورہا ہے جس کے تحت انسانی جسم میں 5 جگر اگانے کی کوشش کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی:دنیا کے ایسے پہلے کلینیکل ٹرائل میں ایک فرد کےجسم کے اندر ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے جو بعد میں مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جائیں گے۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    آنے والے ہفتوں میں، بوسٹن، میساچ وسٹس میں ایک سائنسدان ایک نئے علاج کا تجربہ کریں گے جو ان کے جسم میں دوسرا جگر پیدا کر سکتا ہے اور یہ صرف آغاز ہے اس کے بعد آنے والے مہینوں میں، مزید ان خوراکوں کی جانچ کریں گے جو ان کے جسم میں چھ جگر اگا سکیں-

    علاج کے پیچھے کمپنی، LyGenesis، ان لوگوں کو جگر کی تباہ کن بیماریوں سے بچانے کی امید رکھتی ہے جو ٹرانسپلانٹ کے اہل نہیں ہیں ماہرین کےخیال میں اس طریقہ علاج سے 6 ‘چھوٹے جگر’ اگائے جاسکتے ہیں اس مقصد کےلیے ڈونر کےجگر کے خلیات کو جگر کے امراض کے شکار مریض کے لمفی نوڈز میں اس توقع کے ساتھ داخل کیا جائے گا کہ نئے عضو اگانے میں کامیابی مل سکے گی۔

    ماہرین نے بتایا کہ اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو مستقبل میں مزید افراد پر اس کے تجربات کیے جائیں گے اور اس طریقہ کار سے تیار ہونےوالےاعضا کواستعمال کرکےمریضوں کی مدد کرنا انقلابی قدم ثابت ہوگا ویسے انسانی جگر میں خود کو نیا بنانےکی زبردست صلاحیت ہوتی ہے مگر کچھ کیسز میں عضو کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہوتی اور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے گر بیماری کی شدت بہت زیادہ ہونے پر مریضوں کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی حالت سرجری کے قابل نہیں ہوتی۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    یہ طریقہ چوہوں، سوروں اور کتوں میں کام کرتا ہے اس سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ انسانی ٹرائل میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے اب معلوم کریں گے کہ آیا یہ لوگوں میں کام کرتا ہے

    ٹرائل میں جگر کے امراض سے بہت زیادہ بیمار 12 افراد کو شامل کیا جائے گا، ایک رضاکار کے جسم میں جگر کے 5 کروڑ خلیات کو داخل کیا جائے گا اور جسم میں جانے کے بعد ان کی تعداد 25 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے جو 5 چھوٹے جگر تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔

    عطیہ دہندگان کے اعضاء کی فراہمی بہت کم ہے، اور عطیہ کیے گئے ان میں سے بہت سے استعمال نہیں کیے جا سکتے ہیں- مثال کے طور پر بعض اوقات ٹشو کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہےنیا طریقہ ان اعضاء کا استعمال کر سکتا ہےجو دوسری صورت میں ضائع کر دیئے جاتے اور محققین کا خیال ہے کہ وہ عطیہ کیے گئے ایک عضو سے تقریباً 75 افراد کا علاج کروا سکتے ہیں۔

    اس ٹرائل کا اختتام 2 سال کے دوران ہوگا اور ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں مگر محققین کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش : سائنسدانوں نے دیو ہیکل سمندری موساسارچھپکلی کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : "جنرل کریٹیسیس ریسرچ ” میں شائع کئے گئے مقالے میں سمندری چھپکلی تھیلاسوٹائٹن ایٹروکس کے متعلق بتایا گیا کہ ان چھپکلیوں کی لمبائی 9 میٹر (30 فٹ) تک تھی –

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    آج کی دور کی اِگوانا اور گوہ اس کی دور کی رشتہ دار ہیں یہ چھپکلی 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل اپنے بڑے جبڑوں کی مدد سے دوسرے سمندری حیوانات کا شکار کرتی تھی۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے محققین سمیت دیگر سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کچھ موساسار مچھلیوں اور اسکوئیڈز جیسے چھوٹے شکار کھاتی تھیں اور دیگر ایمونائٹس اور کلیمس کھاتی تھیں جبکہ نو دریافت شدہ چھپکلی دیگر تمام سمندری ریپٹائلز کا شکار کرتی تھی۔

    تحقیق کے مطابق تھیلا سوٹائٹن اپنے دور کی زبردست شکاری تھی جو خوراک کی زنجیر میں سب سے اوپر ہوتی تھی اس خوراک کی زنجیرمیں سب سے نیچے پلینکٹن ہوتےتھےجن کی غذا سمندر کی گہرائی میں موجود اجزاء سے بھرپور پانی ہوتا تھا۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    چھوٹی مچھلیاں ان پلینکٹن کو کھاتی تھیں اور پھر بڑی مچھلیاں ان چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی تھیں۔ یہ بڑی مچھلیاں پھر موساسارس اور پلیسیو سارس کی غذا بن جاتی تھیں۔

    قبل ازیں سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت ہوئی تھیں بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سےکیےگئےسروے کے دوران یہ باقیات ملی تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں-

    دریں اثنا امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہےاس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا-

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ٹیسلا کی گاڑیاں اسپیس ایکس کے اسٹار لنک کے ساتھ ضم ہو جائیں گی تاکہ مستقبل میں ڈیڈ زونز کو ختم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی : ٹیسلا کمپنی کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف اب ٹیسلا کار کو اپنے اسٹارلنک سیٹلائٹ سےمنسلک کررہےہیں بلکہ دوسری نسل کے اسٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس میں سیل فون روابط کےاینٹینا لگارہے ہیں جو پہلے امریکا میں ٹی موبائل اور پھر دیگر فون نیٹ ورک کمپنیوں کو اس جگہ انٹرنیٹ فراہم کریں گی جہاں سگنل نہیں پہنچتے۔

    ایلون مسک کے اس اعلان کے بعد جب ان سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں ٹیسلا کاروں کو اسٹارلنک سیٹلائٹ سے جوڑنے کا کہا گیا تو انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا تاہم اس وقت ٹیسلا کارامریکی نیٹ ورک اے ٹی اینڈ ٹی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوسکتی ہیں۔


    ایلون مسک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور کہا ہے کہ سیٹلائٹ سے سیلولر نیٹ ورک ممکن ہے ان کا اسٹارلنک نظام اس کا اہل ہوگا کہ وہ دو سے چار میگا بائٹ فی سیکنڈ کا رابطہ فراہم کرسکےاوراسے دائرہ کار میں آنے والے ہر شخص کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    تاہم یہ سروس اتنی مؤثر نہ ہوگی کہ وہ کار سے لائیو اسٹریم ویڈیو انٹرنیٹ پر دکھاسکے لیکن ایلون مسک نے کہا کہ دوردراز علاقوں میں معمولی انٹرنیٹ بھی نہ ہونے سے بہتر ہے۔


    دوسری جانب خود ٹیسلا نے امریکی سیلولر کمپنی کے اشتراک سے اپنی گاڑیوں میں معیاری کنیکٹویٹی فراہم کی ہے جو لائف ٹائم ہے۔ اس کے ساتھ نیوی گیشن اور نقشہ جات یعنی گوگل میپس بھی شامل ہیں۔


    واضح رہے کہ ٹیسلا نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وہ اپنی کاروں کو اسٹارلنک سے منسلک کب کرے گی؟

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    پاکستان کو درپیش سیلاب کی آفت میں متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد!!! —بلال شوکت آزاد

    امت مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے, جب جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اس کی نظیر بارہا دیکھنے کو ملی کہ مسلمان ممالک عمومی و خصوصی مواقع پر ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ نظر آئے خواہ وہ کسی مسلمان ملک کی دگرگوں معاشی و اقتصادی صورتحال ہو, جنگی و عسکری معاملہ ہو یا پھر قدرتی آفات و مصائب کا زمانہ ہو الغرض کسی بھی لحاظ سے خودکفیل اور طاقتور مسلمان ممالک نے امت مسلمہ کے عظیم نظریہ کے جھنڈے تلے ضرورت مند و کمزور مسلمان ملک کی مدد ضرور کی ہے اور جب تک بحالیات کا کام مکمل نہ ہوا پیٹھ نہیں موڑی۔

    بات کریں پاکستان میں پہلے سے جاری معاشی و اقتصادی تنزلی اور سیاسی بحران کے دوران حالیہ مون سون بارشوں اور ریکارڈ سیلاب کی تو اس مصیبت کی گھڑی میں بھی مسلمان ممالک اور عالمی برادری نے پاکستان کو مکمل مدد کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ کئی ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر مدد جمع کرنے اور اسکی ترسیل کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر ذمہ دار متعین کردیے ہیں جو جلد از جلد امداد اور بحالی کے کام کو یقینی بنائیں گے۔

    لیکن متحدہ عرب امارات کی پاکستان اور اسکی عوام سے محبت اپنی مثال آپ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی کہ جب دیگر ممالک سوچ بچار اور تیاری میں مگن ہوتے ہیں یہ مسلمان ملک پاکستان اور اسکی عوام کے دکھ بانٹنے کے لیے پورے وسائل کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود ہوتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات کے شیوخ کا دوسرا اور سرمائی گھر پاکستان ہےتو یہ قطعی غلط بیانی اور مبالغہ نہیں ہوگا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی برادر شپ اور تعلقات کی ایک عظیم تاریخ ہے۔پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دونوں ریاستوں کے باہمی تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کی مشترکہ بنیادوں پر استوار ہیں اور دن بہ دن ان میں گرم جوشی اور محبت کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص معیشت اور تجارت میں قریبی تعاون ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے کہ یہ امداد پاکستان میں معاشی بحرانوں اور بجٹ خسارے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر رہی ہے مطلب جس کی وجہ سے پاکستان بہت دفعہ مشکلات بھرے ادوار سے باہر نکلا ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک خاطر خواہ تعداد بھی موجود ہے جو ملکی ذرمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے اور جنہیں متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے مکمل مدد اور تحفظ دستیاب ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکمران مختلف سماجی اور انسانی شعبوں میں ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کو اپنی تکنیکی اور مالیاتی مہارت اور خدمات فراہم کرنے کے لیے کافی مہربان ہیں۔

    اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات قدرتی آفات کے وقت بے گھر ہونے والی آبادی کو پناہ گاہ، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرکے انسانی امداد میں توسیع کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے گزشتہ دہائیوں کے دوران سیلاب زدگان کو ہمیشہ امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔

    اسی سلسلے کی ایک اور کڑی کے تناظر میں عرب امارات نے دوبارہ پاکستان اور اس کی عوام کو اکیلا نہ چھوڑتے ہوئے حالیہ مون سون اور سیلاب کی مخدوش صورتحال سے دوچار پاکستان کے لیے کل عرب امارات کے صدر جناب شیخ محمد بن زید النہیان کے خصوصی حکم اور ہدایات پر امدادی پیکج کی پہلی پرواز روانہ کی ہے جس میں 3000 ٹن خوراک, طبی سامان اور عارضی پناہ گاہوں کا سامان شامل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی WAM کے مطابق، صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کو فوری امدادی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، جو موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں، زخمیوں اور بے تحاشہ افراد کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا کہ

    "صدر محترم شیخ محمد نے بے گھر افراد کے لیے تمام انسانی امدادی خدمات کی فراہمی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ وہ جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں ان پر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں”۔

    متحدہ عرب امارات کی امدادی امداد میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ تقریباً 3,000 ٹن خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی مدد کا سامان بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "متحدہ عرب امارات کی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی حفاظت اور ان کی خوراک، طبی اور رسد کی ضروریات کو محفوظ بنانے کی کوششوں سے متعلق پاکستانی کیڈرز اور اداروں کو ہر قسم کی انسانی امداد بھی فراہم کریں گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

    "عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔”

    متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ مزید طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متحدہ عرب امارات ہلال احمر اور خلیفہ بن زید فاؤنڈیشن کے جاری امدادی کاموں کا بھی اعتراف کیا۔

    وزیر اعظم شہباز نے امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں حکومت کی کوششوں میں مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کی بروقت مدد پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔

    بیشک متحدہ عرب امارات نے اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں آئے سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ معاشی بحرانوں میں بھی ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کبھی پاکستان کو کسی مصیبت کی گھڑی میں اکیلا و دربدر نہیں چھوڑا کیونکہ نازک وقت میں برادر اور دوست ممالک کی حمایت متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین خلائی راکٹ چاند کیلئے 29 اگست کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیس لانچ سسٹم نامی میگا راکٹ 98 میٹر لمبا، 26 سو ٹن وزنی ہے اور اس مشن کو آرٹیمس 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ لگ بھگ 5 دہائیوں بعد انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے اہم ترین ٹیسٹ ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار


    یہ راکٹ پاکستانی وقت کے مطابق 29 اگست کی شام 5 بج 33 منٹ پر چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا جس میں اورین اسپیس کرافٹ بھی ہوگا راکٹ کو اسی لانچ پیڈ سے روانہ کیا جائے گا جہاں سے نصف صدی قبل چاند پر بھیجے جانے والے اپولو مشنز بھیجے جاتے تھے۔

    ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ اس راکٹ سے اتنی آگ خارج ہوگی جو فلوریڈا کے ساحل پر لاکھوں افراد دیکھ سکیں گے اور ناسا کو امید ہے کہ مشن کی کامیابی سے چاند پر انسانوں کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔


    یہ راکٹ 8 منٹ میں زمین کے نچلے مدار میں پہنچ جائے گا آرٹیمس 1 مشن کا دورانیہ 42 دن یعنی 6 ہفتے ہے اور یہ اس دوران چاند کے دور دراز کے حصے کے اوپر رہے گا۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    اورین اسپیس کرافٹ میں کوئی انسان تو سفر نہیں کرے گا مگر کچھ کھلونے ضرور ہوں گے جن سے ناسا کو جدید اسپیس سوٹ اور ریڈی ایشن لیولز کی جانچ پڑتال کا موقع مل سکے گا اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو ناسا کی جانب سے 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارا جائے گا جن میں پہلی بار ایک خاتون بھی شامل ہوگی۔

    ویسے 2025 کے انسانی مشن سے قبل بھی مئی 2024 میں آرٹیمس 2 کو بھیجا جائے گا اور وہ بھی انسانی عملے پر مشتمل ہوگا، مگر وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔


    آرٹیمس 2 دسمبر 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد پہلا مشن ہوگا جب انسانوں کو زمین کے مدار سے دور بھیجا جائے گا اپولو 17 آخری مشن تھا جب انسانوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 12 انسان وہاں جاچکے ہیں-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ اکتوبر کے وسط میں زمین پر لوٹے گا زمین میں داخل ہوتے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور 2800 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا مقابلہ کرکے یہ ریاست کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں اترے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔

  • چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے

  • ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ میں پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے دوران افغانستان نے سری لنکا کو با آسانی شکست دیدی۔ 105 رنز کا ہدف 11 ویں اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔

    افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے حریف ٹیم سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیسانکا اور کوشل مینڈس نے اننگز کا آغاز کیا۔ آئی لینڈرز کو پہلے ہی اوورز میں دو نقصان اٹھانا پڑ گئے۔ دونوں اوپنرز بالترتیب تین اور دو سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے بعد دیگر کھلاڑی بھی کریز پر زیادہ دیر تک نہ رُک سکے، راجا پاکسے 38 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، اسالانکا 0، گوناتھیکلے 17، ڈی سلوا 2، شناکا 0، کرونارتنے 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، فضل الحق فاروق نے تین شکار کیے، مجیب الرحمان اور محمد نبی نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    افغانستان کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب 11 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔ حضرت اللہ زازائی 28 گیندوں پر 37 رنز ، نجیب اللہ زردان دو رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، رحمن اللہ گرباز 40، ابراہیم زردان 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ہاسا رنگا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔

    یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-

    ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔

    او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔

    زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔

    یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • جی ہمیں رشتہ چاہیے!! — عبدالواسع برکات

    جی ہمیں رشتہ چاہیے!! — عبدالواسع برکات

    پچھلے دنوں بھائی کے لیے ایک گھر رشتہ دیکھنے گئے اچھی اور دینی فیملی تھی بھائی ان کو پسند تھا تو ہمیں انہوں نے لڑکی دکھانے کے لیے گھر بلایا تھا اللہ کی قدرت لڑکی بھی والدہ کو پسند آگئی جب کچھ دن بعد ہم نے مشورہ کرکے ان سے کہا کہ جی بیٹی پسند ہے تو آگے سے ان کا جواب تھا کہ جی ہم کو بھی آپ کی فیملی، لڑکا پسند ہے مگر گھر آپ کا رینٹ پہ ہے ۔ میں نے اپنی طرف سے تھوڑی سی کوشش کی کہ قائل ہو جائیں اور یہ والی بات نکال دیں میں نے ان سے عرض کیا کہ جی میرا بھائی اچھا کماتا ہے لاکھ سے اوپر ماہانہ انکم ہے سوسائٹی میں اچھا گھر ہے آپ کی بیٹی کو خوش رکھے گا عزت و احترام سے زندگی بسر ہو گی ۔

    پھر ایک اور دلیل دے ڈالی کہ دیکھیں آپ کوشش کرکے وہ فیملی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جہاں آپ کی دیگر بے شمار شرائط کے ساتھ یہ اپنے گھر والی شرط بھی پوری ہوتی ہو تو خدانخواستہ کل کو ان کے کاروباری حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ ان کو گھر سیل کرنا پڑتا ہے تو کیا آپ اپنی بیٹی واپس لے آئیں گے کہ جی آپ کا گھر بک گیا ہے اس لیے ہم اپنی بیٹي واپس لے کر جا رہے ہیں ۔

    ان باتوں سے وہ اپنے اس فیصلے سے تھوڑا سا پیچھے ہٹے تو ساتھ ہی نئی شرط آگئی کہ لڑکے کو لڑکی خود اوکے کرے گی یعنی لڑکا لڑکی کے گھر جائے اور لڑکی اس سے بات چیت کرکے پھر فائنل کرے گی کہ اس نے شادی کرنی ہے یا نہیں ۔ یہ سٹوری میں کوئی من گھڑت نہیں سنا رہا بلکہ انتہائی دینی گھرانے کی کہانی سنا رہا ہوں ۔

    یہ آب بیتی سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت چل پڑا ہے اور اس بے راہ روی کی آخر منزل کیا ہو گی ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ رشتے اتنے مشکل ہوتے جا رہے ہیں اعتبار اٹھتے جا رہے ہیں بھروسے ماند پڑتے جا رہے ہیں آخر کیوں جگہ جگہ میرج بیورو سینٹر کھل رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کون سے اعمال کر رہے ہیں ؟

    کیا کبھی ہم میں سے کسی نے غور کیا ؟ یا ایسے اعمال کی روک تھام کے لیے کوئی فورم قائم کیا گیا ؟ یا کسی اصلاحی تنظیم یا ادارے کی طرف سے ایسی ورکشاپس منعقد کی گئیں جس میں اس سارے عمل کی شرعی طور پہ ٹریننگ کروائی جائے کہ ہمارا دین اسلام اس حساس معاملے میں ہماری کیا تربیت کرتا ہے ؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپنے عزیز و اقارب میں رشتہ کرنے سے لوگ کترا رہے ہیں ؟

    میں بہت دور کی کوئی مثال نہیں سناتا گزشتہ چند سالوں کی ایک سنہری مثال سناتا ہوں کہ ہمارے جاننے والوں میں ایک بہت ہی نیک بزرگ تھے جو اب وفات پا چکے ہیں وہ اپنی ہمشیرہ کے گھر گئے اور ان کی بیٹی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ میری ہے ان کی ہمشیرہ نے کہا جی ٹھیک ہے بھائی صاحب یہ آپ کی ہو گئی اس گفتگو کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ دوبارہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ  ہمشیرہ کے گھر پہنچے اور کہا کہ ’’ میری امانت آپ کے پاس تھي میں وہ لینے آگیا ہوں میری امانت دے دو بہن ‘‘! ان کی ہمشیرہ نے کہا جی آپ کی ہی ہے لے جائیں ، وہاں فوری نکاح ہوا اور بیٹی کی رخصتی کردی گئی سبحان اللہ کیا سادگی اور کیا پیار محبت تھی کہ بھائی نے مانگی بہن نے دے دی ۔ نہ کوئی لمبی چوڑی بحث و تکرار اور نہ ہی کوئی لمبی چوڑی ڈیمانڈیں ۔

    آج تو سارا معاملہ ہی الٹ ہو چکا ہے سب سے پہلے تو ہم اپنے قریبی عزیز و اقارب کے گھروں میں دیکھتے ہی نہیں ہیں کہ کوئی ہمارے بیٹے یا ہماری بیٹی کا ہم عمر موجود ہے تو اس کی طرف رشتہ بھیج دیا جائے اور اگر کہیں رشتہ بھیج بھی دیا جائے تو آگے سے ایسے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ بھیجنے والا پچھتاتا ہی ہے کہ میں نے کس وقت یہ رشتہ بھیج دیا نہ ہی بھیجتا ۔

    خاندان میں بیٹیوں کے سروں میں چاندی اتر رہی ہے اور یہ بیٹے والا خاندان سے باہر کوئی امیر کبیر باپ کی لڑکی تلاش کر رہا ہے تاکہ جہیز کے ٹرک اور لمبی چوڑی ڈیمانڈ کی لسٹیں منگوائی جا سکیں خاندان والے تو یہ کام کرنے سے رہے ۔ لالچ اور ہوس نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے یہ رشتہ نہیں کرتے بلکہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا سودا کرتے ہیں یہ رشتہ لینے نہیں جاتے بلکہ بیٹي فار سیل یا بیٹا فار سیل کا اعلان کرتے ہیں اور درمیان میں بیٹھے میرج بیورو والے دلال پوری بروکری کا حق ادا کرتے ہیں ایک دوسرے کے سامنے ایسے بڑھا چڑھا کر جھوٹ بیان کریں گے کہ شادی کے بعد جب سچ کھل کر سامنے آتا ہے تو پھر پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور گھر والے سر پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اب تو کچھ ہو نہیں سکتا جب دولت تو ہمیں مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر ڈرگز لینے والا مل جاتا ، دولت تو مل جاتی ہے مگر بیٹی کو شوہر مار کٹائی کرنے والا ظلم و تشدد کرنے والا ملتا ہے مگر تب باپ دولت کو دیکھ کر کہتا ہے کہ اے کاش کہ میں نے لالچ نہ کیا ہوتا دولت کی ہوس نے اندھا کردیا تھا مگر نکاح کے بعد جب بہت سے راز افشا ہوتے ہیں تو ماں باپ کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔

    کیا اس سے ہزار درجے بہتر یہ بات نہیں تھی کہ اپنے ہی کسی بھانجے یا بھتیجے سے یا کسی قریبی یا دور کے رشتہ دار سے جو کہ دیندار ہو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ہنر مند ہو حق حلال کا روزگار ہو عزت و احترام کرنے والا ہو سلجھا ہوا اس سے بغیر کسی لالچ کے بغیر کسی ڈیمانڈ کے رشتہ کردیا جاتا تو آج ہماری بیٹی خوش ہوتی اپنے گھر میں مسکراتی ہوتی خوشیوں سے کھيلتی ہوتی ۔

    مگر کیا کریں ماں باپ کی ڈیمانڈوں کا جنہوں نے بیٹوں بیٹیوں کے سروں پہ چاندی تو اتار دی ان کو حرام کی طرف مائل تو کردیا ان کو حرام کی دوستیوں کے راستے تو دکھا دئیے مگر اپنی شرائط کو کم نہ کیا اپنی ڈیمانڈوں کو کم نہ کیا یقین جانیں رشتہ کرتے وقت لڑکا لڑکی کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہوتی ان کی یہی ایک ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ ان کا نکاح کردیا جائے اور وہ بھی کسی طرح سے بھي جلد از جلد کیوں کہ وہ بے راہ روی کا شکار نہیں ہونا چاہتے وہ حرام کی طرف نہیں جانا چاہتے وہ موبائل کے راتوں کے پیکجز میں الجھ کر راتوں کا سکون برباد نہیں کرنا چاہتے ، رشتہ کرتے وقت جو کچھ بھی ہوتا ہے ہر قسم کی شرط ہر قسم کی ڈیمانڈ یا تو لڑکا / لڑکی کے والد کی طرف سے ہوتی ہے یا والدہ کی طرف اور اگر کبھي لڑکا لڑکی یہ کہہ بھي ڈالیں کہ آپ یہ شرط کیوں رکھ رہے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے ہی کر رہے ہیں جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی اونچے امیر کبیر گھرانے میں رشتہ کریں تاکہ خاندان والوں میں دھاک بیٹھ جائے کہ عبداللہ نے رشتہ بہت ہی کمال کی جگہ پہ کیا ہے ۔

    حالانکہ انہی امیر کبیر گھروں میں دولت تو ہوتی ہے عیش و عشرت تو ہوتا ہے مگر پیار محبت ، سکون و راحت اخلاص یہ کچھ نہیں ہوتا سب کچھ دکھلاوے کا ہوتا ہے ۔ الا ماشاءاللہ

    تو محترم قارئین میں اپنے قلم کے ذریعے  آپ کا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی کو روک سکیں آنکھوں میں حیا اور دلوں میں نور ایمان چاہتے ہیں تو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے سودے کرنا چھوڑ دیں ، میرج بیورو کی دلالیوں سے نکلیے ، جہیز کی لمبی لمبی لسٹوں کو پھاڑ ڈالیے ، مہنگی اور نہ پوری ہونے والی ڈیمانڈوں کو دیوار پہ دے ماریے ، اور سب سے پہلے دین داری کی بنیاد پر اور اپنے قریبی عزیز و اقارب میں رشتہ تلاش کیجیے اگر ان میں نہ ملے تو پھر خاندان سے باہر بغیر کسی ذات پات کے جھنجٹ میں الجھنے کے دین کی بنیاد پر رشتہ کیجیے مسنون طریقوں کو اپنائیے کم خرچ سادہ بیاہ یہ طریقہ عام کیجیے ! ہم سادہ نکاح کے نام پہ مسجد میں سادہ نکاح کر لیتے ہیں مگر اگلے دن رخصتی مہندی اور بارات رخصتی کے چکروں میں لاکھوں اڑا دیتے ہیں اور پھر کہتے پھرتے ہیں کہ نکاح مسنونہ کیا ہے سادہ نکاح کیا ہے وہ بھی مسجد میں ، ہم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اللہ ہمارے ایک ایک قدم اور ہر ایک عمل کو دیکھنے والا ہے ہمارے دلوں کے رازوں کو جانتا ہے سادہ نکاح میں مہندی ، بارات اور ان کے ساتھ جڑی درجن بھر ہندوؤانہ رسمیں شامل نہیں ہوتیں ۔

    یقین کیجیے!  ہمارے بچوں کی جوانیاں ڈھلتی جا رہی ہیں مگر ہم اپنی شرائط منوانے کے چکروں میں پھنسے ہیں، اپنے بچوں پہ ظلم نہ کیجیے ان کو ڈپریشن کا شکار نہ کیجیے صبر کرکرکے ان کے اعصاب شل ہو چکے ہیں وہ تو شرم و حیا کے ہاتھوں مجبور آپ کو ڈائریکٹ کہہ بھي نہیں سکتے کہ امی جان ابو جان میری شادی کردیجیے ! وہ تو صرف صبر کر سکتے ھیں آپ کی شرائط کے آگے آپ کی ضد کے آگے آپ کے اونچے اونچے کھوکھلے خوابوں کے آگے !