باغی ٹی وی : شیخوپورہ (محمد طلال سے) صوبائی وزیر قانون پنجاب خرم شہزاد ورک نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادیوں ، فیکٹریوں سے کثیر مقدار میں آلودہ پانی کے اخراج اور زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی جراثیم کش ادویات کے باعث ہونے والی آبی آلودگی ، آبی حیات پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے۔ دریاؤں و قدرتی آبی گذر گاہوں پر بیراجوں اور ان کے کناروں پر بندوں کی تعمیر سے مچھلی کی قدرتی افزائش گاہیں تقریبا معدوم ہوگئی ہیں ، جس سے ان کی قدرتی طور پر ہونے والی افزائش میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ بات شیخوپورہ کے تاریخی و سیاحتی مقام ہرن مینار میں فش سیڈ سٹاکنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ضلع انتظامیہ اور محکمہ ماہی پروری نے آبی حیات کی بقا کے پیش نظر شیخوپورہ کے تاریخی و سیاحتی مقام ہرن مینار میں فش سیڈ سٹاکنگ کا انعقاد کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر قانون پنجاب خرم شہزاد ورک تھے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شیخوپورہ فروا رسول ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر فیصل جاوید ، محکمہ ماہی پروری کے افسران اور فش فارمرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شیخوپورہ فروا رسول نے ہرن مینار میں 10 ہزار سے زائد فش سیڈ سٹاک چھوڑ کر اس مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب سرکاری پیداواری مراکز پر مصنوعی نسل کشی سے حاصل شدہ فش سیڈ سٹاک کی قدرتی پانیوں میں سٹاکنگ پروگرام کے تسلسل کا حصہ ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز فروا رسول نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری آبی حیات کے تحفظ اور اس کی معدوم ہوتی ہوئی نسلوں کی افزائش کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت ماہی پروری کے ذریعے صوبے کی آمدن میں اضافے اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے مچھلی کی صنعت کو ترقی دے رہی ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف سرکاری سطح پر مچھلی کی آفزائش کے لئے ہچری کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ نجی شعبہ کی بھی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ، جس سے نہ صرف مچھلی کی صنعت فروغ پائے گی بلکہ صوبے میں روزگار کے وسیع ذرائع میسر آئیں گے۔
Category: بلاگ
-

شیخوپورہ ـ حافظ آباد روڈ ٹوٹ پھوٹ کاشکار،عام شہریوں سمیت سکول کی طالبات بھی مشکلات کاشکار
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) حکومتیں تو بدلتی رہیں مگر شیخوپورہ سے حافظ آباد روڈ کے حالات نہ بدل سکے،روڈ خراب ہونے کی وجہ سے مقامی اور یہاں سے سفر کرنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ سے حافظ آباد روڈ پر واقع یہ علاقہ زرعی پیداوار کے حوالے سے ملک بھر کے شہروں کی منڈیوں میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے مگر ملحقہ روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے زرعی اجناس دیگر شہروں کی منڈیوں تک لے جانا بھی ایک خواب بن کر رہ چکا ہے،اسی روڈ پر واقع سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی رسائی بھی مشکل ہوچکی ہے دوسری جانب اسی حلقہ سے منتخب ہونے والے ایم پی اے اور ایم این اے بھی خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں علاقہ مکینوں نے وزیراعلی پنجاب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔


-

نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب
ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،اس سے قبل نظام شمسی کے 2 سیارے زحل اور مشتری 2020 میں زمین کے قریب آئے تھے۔
باغی ٹی وی : ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ یعنی مشتری ایک بار پھر زمین کے قریب آرہا ہے،ستمبر کے آخر میں مشتری 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب نظر آئے گا 26 ستمبر کی رات مشتری کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگا۔
نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟
مشتری 26 ستمبر کی پوری رات آسمانوں پر نظر آئے گا جب یہ مخالفت پر پہنچے گاسیارے کی مخالفت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی فلکیاتی شے مشرق میں طلوع ہوتی ہے جب سورج مغرب میں غروب ہوتا ہے اور اس چیز اور سورج کو زمین کے مخالف سمتوں پر رکھتا ہے جیسا کہ ہمارے سیارے سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ مخالفت خاص ہے کیونکہ یہ 70 سالوں میں مشتری کا زمین کے قریب ترین نقطہ نظر ہوگا۔ ایسا سورج کے گرد دو سیاروں کے مدار میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مشتری اور زمین دونوں کامل دائروں میں سورج کے گرد چکر نہیں لگاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیارے سال بھر مختلف فاصلوں پر ایک دوسرے سے گزریں گے۔
بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا
ایسا 70 سال بعد ہورہا ہے، البتہ صرف آنکھ سے یہ نظارہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ مشتری کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی ویسے تو زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں مگر ایک دوسرے کے اتنے قریب نہیں آتے۔
26 ستمبر کی رات مشتری زمین سے 58 کروڑ کلومیٹر دور ہوگا ناسا کے مطابق ایسا نظارہ کبھی کبھار دیکھنے میں آتا ہےس سے قبل اپریل 2022 میں زہرہ اور مشتری کو ایک دوسرے کے قریب آتے دیکھا گیا تھاماہرین کے مطابق اس طرح کا منظر دوبارہ 2039 کے بعد ہی نظر آسکتا ہے۔
100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت
-

شیخوپورہ – روٹی 100گرام 8 روپے اورنان 120گرام 15 روپے ،زیادہ نرخ اور کم وزن پر کارروائی ہوگی۔ڈپٹی کمشنر
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ کے شہریوں کو اشیائے خوردونوش کی سستے داموں فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بھر پور اقدامات جاری۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ روٹی کا وزن 100 گرام اور وزن کے حساب سے قیمت 8 روپے جبکہ نان و خمیری روٹی کا وزن 120 گرام اور وزن کے حساب سے قیمت 15 روپے مقرر کی گئی ہے۔ مقرر کردہ معیار ، وزن اور قیمت پر مکمل چیک اینڈ بیلنس رکھا جا رہا ہے۔ مقرر کردہ قیمت سے زائد اور مقررہ وزن سے کم روٹی ، نان اور خمیری روٹی فروخت کرنے والے نانبائیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بعض علاقوں میں روٹی کے مقرر وزن میں کمی کی جارہی ہے ، جو کہ عوام کے استحصال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تندور مالکان و نان بائیوں نے روٹی کا وزن کم اور نرخوں میں خود ساختہ اضافہ کر رکھا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹسں کو ہدایت کی کہ خود ساختہ اضافہ اور وزن میں کمی کرنے والے تندور مالکان و نان بائیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں تا کہ شہریوں کو سستے داموں معیاری روٹی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ تندور مالکان حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صفائی ستھرائی کا بہترین انتظام کریں تا کہ شہریوں کو صحت مند خوراک میسر ہو اور لوگ بیماریوں سے بچ سکیں۔
-

بڑھتی بے روزگاری اور گھٹتی معیشت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
"بھائی باہر کے ملک کا ویزا لگوا دو!!”
"صاحب نوکری دلوا دو!!”
اس طرح کے کئی جملے میں اور ہم جیسے کئی لوگ جو حالات سے لڑتے اپنی زندگی کے کسی مستحکم مقام پر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اُنکو روز سُننے کو ملتے ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں ، وہاں اس ملک کی پیدائش سے لیکر اب تک غربت اور بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ کیوں ہے؟
بہت سے لوگ آپکو یہ کہیں گے کہ ہمارے سیاستدان نکھٹو ہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کا احساس نہیں وغیرہ وغیرہ مگر کوئی آپکو مکمل حقیقت نہیں بتائے گا۔ ایسے کہ اپ سمجھ سکیں کہ اصل مسائل ہیں کیا۔ معلومات کا مکمل ادراک نہ ہونے پر آپ محض سرسری طور پر مسائل بتاتے ہیں مگر اُنکا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔ سائنس کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپکو مسائل کی جڑ تک لیکر جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کو چند ایکوئیشنز اور نمبرز کی صورت آپ پر واضح کرتی ہے کہ کس جگہ کیا غلط ہے۔ آج دنیا میں بنیادی سائنس کے علاوہ دو اور اہم چیزوں پر زور دیا جاتا ہے۔ معیشت اور امن و استحکام ۔ سائنس کی دنیا کے سب سے بڑے انعام نوبل پرائز آج بنیادی سائنس کے علاوہ معیشت اور امن کے شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔
معاشیات کی سائنس بے حد دلچسپ ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ معاشیات کو اتنا نہیں سمجھتے تھے نہ ہی معیشت اس قدر پیچیدہ تھی۔ آج مگر دُنیا بدل چکی ہے۔ ہمیں سائنس کے ہر اُس شعبے میں بھی ماہرین درکار ہیں جو معاشرے کو ایک الگ زاویے سے پرکھیں۔ یہ سوشل سائنٹسٹ کہلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا کام معاشرے کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ دنیا کی آبادی کے رجحانات کیا ہیں۔ معاشروں کے رویوں کو جانچنا اور ان پر اطلاق شدہ ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں چند گھسے پٹے جملے بول تو دیے جاتے ہیں مگر عوام اور اشرافیہ چونکہ رٹے کی پیدوار تعلیم نظام سے ہو کر آتی ہے، اسلئے سمجھتا کوئی کدو ہے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ "ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے” تو یہ بس کہہ دیتے ہیں۔ علم اس قدر سطحی ہے کہ یہ جملہ کہنے والے کو ٹٹولیں تو سامنے کدو بیٹھا نظر آئے گا۔
پاکستان کی کل آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 22 کروڑ تک ہے۔ اور اب 5 سال مزید گز جانے کے بعد یہ تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو سالانہ 2 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح 1 فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ پاکستان میں بچے خرگوشوں کیطرح پیدا کیے جاتے ہیں۔سننے میں آپکو یہ برا لگے مگر حقیقت یہی ہے۔ نفسیات دیکھیں تو چونکہ ملک میں تفریح کے مواقع کم ہیں تو لوگوں کے پاس "کھابے” کھانے اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ اسکے علاوہ پاکستان میں نظریات کی بھینٹ چڑھی عوام فیملی پلاننگ کو حرام سمجھتی ہے۔ گنگا ہی اُلٹی بہتی ہے۔ جو جتنا غریب ہے اُتنا ہی بڑا بچے پیدا کرنے کی مشین ہے۔ زچہ کو مشین بنا کر رکھ دینے والے معاشرے کا حال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ یہاں ہر 1 ہزار پیدا ہوئے بچوں میں سے 58 بچے پیدائش کے کچھ عرصے بعد مر جاتے ہیں۔ زیادہ نہیں محض 20 سال پیچھے چلے جائیں تو یہ تعداد ہر ایک ہزار میں سے 90 تھی۔ صحت اور تعلیم کی کمی کے باوجود لوگ ہیں کہ بے دھڑک بچوں پر بچے پیدا کیے جا رہے ہیں۔ عقل کی بات کیجئے تو آپ سب کے دشمن ۔ جہالت عام بکتی ہے۔ دماغ خرچ کرنا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے لوگوں کو جاہل رہنے میں مزا آتا ہے۔ کہ شاید یہ بھی تفریح کے مواقع کی کمی کے باعث ایک تفریح بن گئی ہے۔ پر کیا کیجئے۔ مسائل بتاںا بھی ضروری ہیں کہ ہم معاشرے سے کٹ کر بھی تو نہیں رہ سکتے۔
1974 سے 2020 تک یعنی 46 سال کے پاکستان کے بے روزگاری اور معیشت کے اعداد و شمار کو کنگھالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں اضافہ، آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری میں اضافہ آپس میں یوں جڑے ہوئے ہیں جیسے نشے سے اُسکا عادی۔
ان اعداد شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی پی میں تقریباً 0.6 کمی واقع ہوتی ہے۔ گویا 2020 کے جی ڈی پی 267 ارب ڈالر کے حساب سے 1.7 ارب ڈالر کی کمی۔ وجہ؟ جب بے روزگاری بڑھتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ پیسہ جیب سے نکل کر بازار کی ہوا نہیں کھاتا۔ فرض کیجئے ایک ریڑھی والا روز 50 کلو فروٹ بیچتا ہے۔ اور آپ کی جب نوکری ہے تو اپ ہر روز 2 کلو فروٹ خریدتے ہیں۔ اب جب اپکی نوکری نہیں ہو گی تو ریڑھی والے کا دو کلو فروٹ کم ِبِکے گا۔ وہ پہلے جس شخص سے دو کلو فروٹ زیادہ لیتا تھا اب کم لے گا اور اُسکا منافع بھی کم ہو جائے گا۔۔ وہ شخص جو اس ریڑھی والے کو فروٹ بیچتا تھا وہ کاشتکار سے فروٹ کم لے گا وغیرہ وغیرہ، کاشتکار کھاد کم لے گا، کھاد والا فیکٹری سے کھاد کم لے گا، فیکٹری کھاد کم بنائے گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح اپ کے ذریعے معیشت کے اس جال میں جڑا ہے، اُسکی زندگی میں پیسے کی کمی آئے گی۔بالکل ایسے ہی جب مہنگائی بڑھتی ہے اور قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو پوری معیشت میں یہ کمی دکھتی ہے۔ پاکستان میں ایک فیصد مہنگائی بڑھنے سے جی ڈی پی تقریباً 0.4 فیصد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے غیر تعمیری اخراجات سے بھی معیشت پر بے روزگاری اور مہنگائی سے بھی زیادہ بُرا اثر پڑتا ہے ۔ سرکاری عیاشیوں میں محض 1 فیصد اضافے سے جی ڈی بھی کو 0.8 فیصد نقصان پہنچتا ہے یعنی سالانہ 2 ارب ڈالر سے بھی زائد۔ مگر سب سے دلچسپ جو ملک کے مءترم بابوں کی نا اہلی کا کھلا ثبوت ہے وہ ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ وہ یہ مملکتِ خداد میں باہر سے انے والی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ میں ایک فیصد کے اضافے سے معیشت کو اُلٹا 0.7 فیصد نقصان پہنچتا ہے۔ یعنی گنگا اُلٹی نہیں بلکہ بہتی ہی نہیں ہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں معیشت باہر کے آئے پیسے سے مستفید ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کمزور قوانین اور فی البدیہ مشاعرے کی طرح چلتے ملک میں یہ بھی ان دھوپ میں بال سفید کیے پالیسی ساز بابوں کا دیا وبال ہے۔ باہر سے آئی کمپنیاں یہاں کی معاشی پالیسویں اور حکومت سازی ہر اثرانداز ہو کر ملک کی معیشت کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہیں۔ مسئلہ انوسٹمنٹ کا نہیں، ان کمپنیوں کا ملک کے اندرونی معاملات اور قوانین میں مداخلت کا ہے۔
ان تمام مسائل کا ادراک ہونے کے بعد آپ واضح طور پر سمجھ گئے ہونگے کہ پاکستان میں پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ تعمیراتی کاموں کے پراجیکٹس شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ تعمیراتی کام سے مراد محض سڑکیں اور پل بنانا نہیں بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی تعمیری ہوتے کیں جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ملکی جیب میں پچھتر سال سے بڑے سے بڑے ہوتے سوراخ کو بند کرنا ہو گا۔ آبادی پر قابو اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانا ہو گا۔ اور ملک کے اندرونی قوانین اور بین الاقوامی معاشی معاہدوں میں سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ ورنہ وطنِ عزیز کی معیاد ختم ہونے میں دیر نہیں لگنی۔
-

مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو
آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔
تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔
قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔
حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔
بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔
بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔
اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔
خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔
سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔
کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟
-

چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف
چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔
سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔
پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔
چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔
معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔
عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔
"میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”
-

ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر
ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔
بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔
سلام عرض ہے۔
ایک ہماری جنریشن ہے۔
رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔
اور
پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔
افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔
-

پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر
1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔
وجہ؟
اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔
اس میں قصور کس کا تھا؟
اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔
لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔
میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔
اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔
اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔
-

کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں
چوک قریشی ( نامہ نگار ) پریس کلب کرمداد قریشی میں انقلابی سوچ کے حوالے سے نوجوان لیڈر کالم نگار و موٹیویشنل سپیکر محمد شاہد اقبال نے باغی ٹی وی کے نامہ نگار جمشید سہرانی کو انٹرویو دیتے ہوۓ کہا کہ اگر نوجوان زندگی میں کامیاب شخص بننا چاہتے ہیں تو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور اپنے اندر کا خوف ،احساس کمتری کو ختم کر دیں۔اور ہمیشہ بڑا خواب اور بڑی سوچ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اندر مثبت پہلو پر اچھا کردار ادا کریں۔اور مزید ان کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کے اندر مثبت پہلو پر انقلابی سوچ کا جزبہ پیدا کروایا جائے تو ہمارا معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ۔مزید جانتے ہیں جمشید سہرانی کے اس انٹر ویو میں ۔
