Baaghi TV

Category: بلاگ

  • میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    میرا لفظ لفظ پریشاں — حافظ گلزارعالم

    پیارے ملک پاکستان کے بیشتر علاقوں میں قیامت صغری کا منظر ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ ایسے اندوہناک مناظر ہیں کہ کلیجہ منہ کو آئے۔ بیٹا باپ کو ڈوبتا ہوا دیکھے اور کچھ کر نہ پائے، باپ بیٹے کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں، ماں بیٹی سے کہے: بیٹی سوتے ہوئے چادر پاس رکھنا، خطرہ ہے سیلابی ریلا آئے اور بہا لے جائے، چادر اپنے سر پر رکھنا۔ اللہ۔ یہ کیسے مناظر ہیں۔ جسے دیکھ کر آسمان بھی رو پڑے۔

    میرا لفظ لفظ پریشاں میں درد لکھوں تو کہاں لکھوں
    میرا قلم ہى نہ رو پڑے میں صبر صبر جہاں لکھوں

    ایک ہی گھرانے کے پانچ افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے مدد کے منتظر ہیں، مگر کوئ پرسان حال نہیں، جو قریب ہیں وہ لاچار ہیں، مدد نہیں کرسکتے، انکی چیخ و پکار سوشل میڈیا کے ذریعے سارے پاکستان میں دیکھی گئ۔ مگر غفلت کی انتہا دیکھئے،مقتدر اداروں کی طرف سے انکی مدد نہ کی گئ، اور ان میں سے چار افراد اس جانکاہ سیلاب کی نذر ہوگئے اور ایک کو بفضل اللہ علاقے کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچایا۔ ایسے بیسوں واقعات ہوئے۔ وہاں مدد کرنے والے افراد نے بتایا کہ ایک ساتھ چھ چھ لاشیں ہمیں سیلاب کے پانی سے ملیں ۔ساٹھ فیصد پاکستان اس سیلابی پانی سے شدید متاثر ہے۔

    میرے محب وطن پاکستانیو! ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم رنگ زبان نسل کی تفریق بھلا کر کھل کر ایسے حالات میں دکھی انسانیت کا سہارا بنے۔ یہ وقت پھر ہم سے یہ تقاضا کررہا ہے کہ ہم ہر ممکن اپنے بھائ بہنوں کی مدد کریں۔ جس صورت میں ممکن ہو پیچھے نہ رہیں ۔

    یہ ہمارے بھائ بہنوں پر ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی میں ہمارا بھی امتحان ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی پچھلی غفلت والی زندگی سے تائب ہوں۔ یہ سیلاب اللہ کی طرف سے وارننگ ہے۔ جو بھی مصیبت آتی ہے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق ہمارے ہی کرتوتوں کے باعث آتی ہے۔ لہذا ہم گڑگڑا کر اللہ سے تمام گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اپنے بے سہارا بھائیوں کے لئے ہر آن دعا کریں۔ اس تکلیف اور مصیبت کو ٹالنے والی اللہ ہی کی ذات ہے۔ ہم اللہ سے دعا کریں۔ وہ دعائیں رد نہیں کرتا۔

    اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ ‌ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 62)

    ترجمہ: بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

    اور ظاہر ہے یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ دعا کے ساتھ ہمت کریں اور اپنے بے یار و مددگار بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کمر بستہ ہوں۔
    اٹھ باندھ کمر کیا دیکھتا ہے
    پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

    ہم اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لئے آپ کے پاس آئی ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنتے رہے اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر ،مطمئن کر کے اسے بھیج دیا۔آپ کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کیلئے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جا نے کیلئے تیا ر ہوں۔

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

    ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے یقینا صدقہ اللہ ربّ العزت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اوربری موت کو دور کرتا ہے۔خود آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو كچھ بھی اپنے پاس ہوتا فقرا ومساكین پر نچھاور كردیتے اور كچھ بھی اپنے پاس نہیں ركھتے۔

    اگر كسی موقع پر آپ كے پاس دینے كے لئے كچھ نہ ہوتا تو آپ مناسب رائے ،اچھے مشورے یا كسی نہ كسی ذریعہ سے سائل كی اس طرح مدد كردیتے كہ اس كے لئے رزق كے دروازے كھل جاتے۔ نبوت سے سرفرازی كے بعد آپ ﷺ كی دلجوئی كے لئےآپ كی شریك زندگی حضرت خدیجہؓ كی زبان مبارك سے نكلے ہوئے الفاظ اسكا بین ثبوت اور شہادت ہیں۔

    آپ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں) مدد کرتے ہیں۔

    اتنا ہی کر لیں کہ جتنا اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے معتبر رفاہی اداروں کے حوالے کریں۔ یہ آپکا دینا آپکے لئے آخرت میں تو ذخیرہ ہے ہی، اس دنیا میں بھی دگنا بلکہ کئ گنا اضافہ کرکے اللہ آپ کو واپس لوٹا دینگے۔ اس کے خزانوں میں کوئ کمی نہیں۔ وہ بس امتحان لینا چاہتا ہے۔

    مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞ (سورۃ نمبر 2 البقرة آیت نمبر 245)

    ترجمہ: کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدرجہا زیادہ ہوجائے ؟ اور اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے، اور وہی وسعت دیتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا۔

  • مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    مسائل کا حل صرف مناسب حکمتِ عملی — نعمان سلطان

    دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفات آتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کی پہلی ترجیح آفت سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کرنا اور متاثرین کی آفت ختم ہونے کے بعد بحالی ہوتی ہے اور دوسری ترجیح آئندہ کے لئے اس موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفت کا سدباب کرنا یا اس کا زور توڑنا ہوتی ہے ۔

    لیکن پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آفت آنے کی صورت میں حکومت اس آفت کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری سے فنڈز اکٹھے کرتی ہے اور مقامی تنظیمیں یا افراد انفرادی طور پر مقامی لوگوں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں جو رفاہی اور مذہبی تنظیمیں یا افراد خوف خدا کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ان پر الزام تراشی میں قطعاً نہیں کر رہا اللہ پاک انہیں جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔

    چین کے بارے میں بچپن میں ایک واقعہ سنا تھا (اگر یہ واقعہ چین یا دنیا میں کہیں پیش نہیں آیا تو اسے میری تجویز سمجھ لینا) کہ وہاں پر سیلاب یا ناگہانی آفت آ گئی تو حکومت نے ملک میں اعلان کرا دیا کہ مخیر حضرات ہمیں بتائیں کہ وہ ایک یا دو مہینے کے لئے کتنے افراد پر مشتمل کنبے کی مہمان نوازی کر سکتے ہیں۔

    مخیر حضرات نے حکومت کے پاس اپنی رجسٹریشن کروا لی اس کے بعد حکومت نے متاثرین کو عارضی ریلیف کیمپ میں ریل کے ٹکٹ اور جس جگہ انہوں نے عارضی طور پر رہنا تھا وہاں کا ایڈریس دیا اور انہیں کہا کہ جب تک ہم یہاں آپ کی بحالی کے انتظامات نہیں کر لیتے آپ اس ایڈریس پر مہمان کے طور پر رہیں ۔

    اس عمل کے حکومت اور متاثرین کو مندرجہ ذیل فائدے ہوئے ۔

    1۔متاثرین کو ان کی عارضی قیام گاہوں پر بھیج کر حکومت نے سیلاب (ناگہانی آفت) کے بعد اس علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور جو پیسہ حکومت نے متاثرین پر لگانا تھا اس سے انفراسٹرکچر کی بحالی کر کے لوگوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کر دیا۔

    2۔ اس کے علاوہ عارضی ریلیف کیمپوں میں ہر شخص کو تمام سہولیات زندگی میسر نہیں ہوتی لیکن ایک کنبے کی ذمہ داری ایک مخیر شخص کے اٹھانے کی وجہ سے ان کو مطلوبہ سہولیات بغیر کسی پریشانی کے حاصل ہونے لگیں۔

    3۔کسی جماعت یا فرد کے انفرادی طور پر فنڈ جمع کرنے پر اس فنڈ کے استعمال میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا تھا جو کہ ہر شخص نے اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق خود خرچ کیا اس وجہ سے فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔

    4۔ متاثرین کے آفت زدہ علاقوں میں رہنے کی وجہ سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ تھا انہیں آفت زدہ علاقوں سے محفوظ علاقوں میں منتقل کر کے اس خدشے کا سدباب ہو گیا۔

    5۔ لوگوں کی ہمدردی متاثرین کے ساتھ عموماً آفت کے وقت تک ہوتی ہے اور آفت کا زور ٹوٹنے کے بعد وہ متاثرین کو بھول جاتے ہیں جبکہ متاثرین کو اصل توجہ کی ضرورت آفت کے بعد ہوتی ہے تو اس طریقہ کار کو استعمال کر کے حکومت نے لوگوں کو خدمت خلق کا موقع بھی دیا جبکہ اصل ضرورت کے وقت متاثرین کی مدد کر کے ان کی دعائیں بھی لیں۔

    6۔ کئی لوگ متاثرہ علاقوں سے اس لئے نقل مکانی نہیں کرتے کہ ان کے پاس متبادل رہائش نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے ان کا جانی و مالی نقصان زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس طریقہ کار میں لوگوں کو بروقت متبادل رہائش اور کھانے کا بندوبست کر کے انکے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکتا ہے ۔

    7۔ ناگہانی آفت کے دوران لوگوں کی جمع پونجی گم، چوری یا ضائع ہو جاتی ہے اور بحالی کے بعد ان کے پاس دوبارہ نظام زندگی چلانے کے لئے کوئی ذریعہ یا رقم نہیں ہوتی جب کہ اس طریقہ کار میں ان کی جمع پونجی محفوظ رہتی ہے جسے وہ بحالی کے بعد استعمال میں لا کر دوبارہ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔

    8۔متاثرین کی امداد ان کی عزت نفس متاثر کئے بغیر ہوتی ہے جبکہ حکومت اور رفاہی تنظیمیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے متاثرین کی امداد کرتے ہوئے تصاویر میڈیا کو فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔

    ملک کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور شاید حکومت چین والی پالیسی نہ اپنا سکے لیکن حکومت پھر بھی مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتی تھی۔

    1۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت حکومت کو یہ معلوم تھا کہ کن کن علاقوں کا سیلاب سے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت بروقت اقدامات اٹھاتی اور متاثرہ علاقوں کے قریب ترین علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں، ہوٹلوں اور جو کھلے میدان ہیں ان میں خیمہ بستیاں لگا کر متاثرین کی رہائش کا انتظام کر دیتی۔

    2۔متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی کا یہ فائدہ ہوتا کہ ابھی امدادی سامان صرف وہاں تک متاثرین کو پہنچ رہا ہے جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں جبکہ جو لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ان تک امدادی سامان نہیں پہنچ پا رہا جبکہ اس صورت میں تمام لوگوں تک امدادی سامان پہنچ سکتا ہے ۔

    3۔ ریلوے کی سفری سہولیات مفت فراہم کر کے یا پبلک ٹرانسپورٹ کو سیلاب ڈیوٹی کے لئے پابند کر کے متاثرین کو ان جگہوں پر بروقت منتقل کرتی۔

    4۔علاقے کے مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں حکومت کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ مل کر ان متاثرین کے کھانے پینے اور ادویات کے انتظامات کریں۔

    5۔ یہاں سے مطمئین ہو کر حکومت اپنے پاس موجود امدادی رقم اور بین الاقوامی برادری کی امداد سے سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر تعمیر کرے۔

    6۔ اگر کوئی تنظیم یا افراد انفرادی طور پر اس کام میں حکومت کی معاونت کرنا چاہیں تو انہیں ان کی استطاعت کے مطابق مخصوص علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو یقیناً متاثرین موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔

    ہر بات یا تجویز میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے، لازمی بات ہے کہ میں عقل کل نہیں لیکن عرض صرف یہ کرنی تھی کہ اگر ایک عام آدمی ان مسائل کے حل کے لئے تجاویز دے سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی اور آفت آنے کے بعد آئندہ وہ آفت دوبارہ نہ آئے یا اس شدت سے نہ آئے ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتی۔

  • سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    سیلاب زدگان کی خدمت میں الخدمت (فاؤنڈیشن) کا کردار — اعجازالحق عثمانی

    ملک پاکستان سیلاب جیسی آفت سے دو چار ہے۔ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے۔ مگر یہ پانی پینے کے لئے نہیں بلکہ زندگیاں چھیننے کے لیے ہے۔بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ،لسبیلہ،نصیر آباد، نوشکی، سندھ میں جامشورو، ، ٹنڈوآدم ،مٹیاری، پنوعاقل،لاڑکانہ ،سانگھڑ سکھر ، ٹھٹھہ،میرپور خاص،سکھر،حیدرآباد اور پنجاب کے علاقے راجن پور، تونسہ شریف، لیاقت پور اور فاضل پور کے دیہات سمیت دیگر کئی علاقے اس وقت سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔لوگوں کے گھر ٹوٹ چکے ہیں۔ جانور بپھرا ہوا پانی بہا کر لے گیا ہے۔ کئی مائیں اپنے لاڈلوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔

    نا جانے اس پانی نے ان کے پیاروں کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ؟۔ انکی نعشوں کو خشک زمیں تک نہ مل پائی۔ ہائے ! کیسا دکھ ہے یہ کہ جنھوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے گھر بنایا تھا۔ مگر ابھی اس گھر میں ایک رات تک نہیں گزاری تھی۔اور اسی گھر کو اپنی آنکھوں کے سامنا سیلاب میں بہتا دیکھنا پڑا۔لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ بے گھر لوگ سڑک کنارے بھوکے بیھٹے ہیں۔ بچے بیمار پڑے ہیں ۔

    اور ایسے میں ان بچوں کی مائیں تو پریشان ہیں ۔مگر ایک اور ماں جسے ریاست کہتے ہیں۔ چپ سادھے بیٹھی ہے۔نا جانے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں یا بے بس ہیں۔ نہ کوئی عمران نظر آرہا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران ۔

    ‏کِتھے نیں عمران وغیرہ
    ڈُب گئے جے انسان وغیرہ

    زرداراں دے شہر وی آئے
    پانی دے طوفان وغیرہ

    شہبازاں نُوں کون جگاوے
    کون کرے اعلان وغیرہ

    نہ لبھیا پرویز الہی
    نہ کوئی عثمان وغیرہ

    مولانا نُوں لبھو آ کے
    چَھڈن کوئی فرمان وغیرہ

    ملک ریاض نُوں میسج بھیجو
    لے کے آوے دان وغیرہ

    ‏شاہ محمود تے پیر گیلانی
    ٹُر گئے نیں گیلان وغیرہ

    این ڈی ایم اے سُتی رہ گئی
    کون بچاندا جان وغیرہ

    موت کلہنی کھو لیندی اے
    ہونٹاں توں مسکان وغیرہ

    کون سنبھالے مجبوراں نوں
    کون کرے احسان وغیرہ

    ہور نہ اُنگل چُک حکیما!
    مارن گے دربان وغیرہ

    مگرایک ایسا ادارہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب متاثرین کی دادرسی کو سب سے پہلے پہنچا ۔ لوگوں کو دلدل سے نکالا۔بیشتر بے گھر متاثرین کو خیمے دیے تاکہ وہ عارضی طور پر اپنے سر چھپا سکیں۔یہ وہ ادارہ ہے۔ جس کا دستور اور منشور دونوں خدمت ہیں۔ آپ متاثرہ علاقوں میں خود جاکر دیکھیں ، مین سٹریم میڈیا دیکھیں یا پھر سوشل میڈیا آپکو ہر جگہ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نظر آئیں گے ۔اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر یہ رضاکار متاثرین کو بچانے میں مصروف عمل ہیں ۔جن علاقوں میں حکومت وقت پہنچ ہی نہیں پائی ۔ان متاثرہ علاقوں کی گلی گلی میں الخدمت کے رضاکار پہنچے ہیں۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان 1990 سے فلاحی کاموں میں مصروف عمل ہے۔ اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ ، تعلیم ، صحت ، یتیموں کی کفالت جیسی دیگر کئی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اور اب الخدمت فاؤنڈیشن لوگوں کا ٹرسٹ اور امید بن چکی ہے۔

    2022 کی اس آفت میں سوشل میڈیا دیکھیں تو کئی لوگ جنہیں ریاست کو مدد کے لیے پکارنے چاہیے۔وہ الخدمت سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اس سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپ سے گزارش ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے ۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو جلد از جلد اس آفت سے نجات دلائے۔ اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے والوں کو اجر عظیم دے۔

  • موجودہ سیلاب یا عذاب  ، ازقلم:غنی محمود قصوری

    موجودہ سیلاب یا عذاب ، ازقلم:غنی محمود قصوری

    موجودہ سیلاب یا عذاب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک محتاط اندازے کے مطابق 14 جون 2022 سے لے کر اب تک ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت سے جانبحق ہونے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 386 مرد،191 عورتیں اور 326 بچے شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 1293 سے تجاوز کر چکی ہے-

    ماہ رمضان بابرکت مہینے سے حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا سلسلہ جاری ہے کسی کو کرسی بچانے کی فکر ہے تو کسی کو کرسی گرانے کی ،ہر ایک کے پاس حکومت گرانے اور بنانے کیلئے ایم پی اے،ایم این اے خریدنے کے پیسے ہیں مگر نہیں تو سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے نہیں-

    دنیا سے اپیلیں کی جا رہی ہیں کہ ہماری مدد کی جائے ہمیں بھیک دی جائے تاکہ کچھ سیلاب متاثرین کو دیا جائے تو باقی اپنی جیبوں میں بھرا جائےتاہم بفضل تعالی غیور پاکستانی اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد میں مصروف ہیں مگر سیاستدانوں کی طرف سے اب بھی کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے اور مملکت پاکستان ایک بار پھر بہت بڑی آفت میں گھرا ہوا ہے-

    گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ ،صوبہ بلوچستان،صوبہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر شدید سیلاب کی لپٹ میں ہیں تقریباً پاکستان کے کل رقبہ کا 60 فیصد سے زائد رقبہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے سب سے زیادہ سندھ و بلوچستان اور خیبرپختونخوا متاثر ہوئے ہیں اس سیلاب کے باعث 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیںاور سیلاب کے باعث 4 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہو گئی اور 7 لاکھ کے قریب گھر،دکانیں،ہوٹلز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں-

    ایک اندازے کے مطابق 10 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت اس وقت مسلط ہے
    اس سے قبل 2010 میں شدید سیلاب آیا تھا جسے اقوام متحدہ کی طرف سے آہستگی سے سونامی میں تبدیل ہونے والا سیلاب قرار دیا تھا
    2010 میں پاکستان کے 78 ضلع متاثر ہوئے تھے جبکہ اس بار 116 ضلع متاثر ہوئے ہیں-

    کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے تو کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث ہےآئیے دیکھتے ہیں قرآن مجید کی رو سے یہ سیلاب کیا ہے اللہ تعالی سورہ المؤمنون میں فرماتے ہیں ” ‏اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے مطابق پانی اُتارا
    پھر اُسے زمین میں ٹھہرا دیا اور یقین رکھو، ہم اُسے غائب کردینے پر بھی قادر ہیں”

    قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ نے پانی برسانے کا علاقہ ٹھیک چنا ہے اور اللہ تعالی اس پانی کو غائب بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اس علاقے کو پانی کی ضرورت تھی مگر ہم نے اس ضرورت کو سمجھا نہیں اور اسے ضائع ہونے دینے کے ساتھ اپنی جانوں و املاک کو تباہ بھی کروایا –

    ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ چولستان کا علاقہ خشک سالی سے بنجر ہو گیا تھا اور بارشوں کیلئے دعائیں کی جا رہی تھیں تب بھی یہی سیاسی بندر بانٹ والا سلسلہ جاری تھا تھا اور اب سیلاب کی تباہ کاریوں کو نظر انداز کرکے کرسی کرسی کا کھیل جاری ہے-

    قیام پاکستان سے لے کر کرسی کی اس چھینا چھینی نے حکمرانوں کو ایسا مصروف کئے رکھا ہے کہ انہیں نا تو ڈیم بنانے کی فرصت ہے اور نا ہی ڈیم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے والوں سیاستدان کے خلاف کاروائی کی ہوگی بھی کیوں آخر بھینس ہی تو بھینس کی بہن ہوتی ہے-

    کل ہی کی تو بات ہے کہ کرونا آیا تھا تو ڈنڈے کے زور پر ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا تھا مگر افسوس کہ ڈنڈے کے زور پر ڈیم نہیں بنوائے جا رہے کرونا ایس او پیز پر سختی کروا کر دنیا سے امداد لینی تھی جبکہ ڈیم بننے سے پاکستان خودکفیل ہو گا اور یوں دنیا کی امداد سے ہم محروم رہیں گے-

    ایک اکیلے کالا باغ ڈیم کے بننے سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو گی اور مچھلی کی پیدوار زیاد ہو سکے گی جبکہ اس ڈیم سے پانی سٹور کرکے سیلاب پر بڑی حد تک قابو کرنے کیساتھ سستی ترین بجلی بھی حاصل ہو سکے گی-

    مگر کیا کریں ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخالفوں کو چپ تو کروانا آتا ہے مگر ملکی مفاد میں مخالفت کرنے والوں کو قابو کرنا نہیں
    شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مانگنے کا چسکا لگ گیا ہے اور اب ہمارا مانگے بنا گزارا نہیں اگر اب بھی ڈیموں بارے نا سوچا گیا تھا مستقبل میں اس سے بھی بڑی تباہی کا خدشہ ہے-

  • دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار

    ریسنگ کار اب دوڑنے کے ساتھ اڑیں گی بھی، دنیا کی پہلی تین پہیوں والی اسپورٹس کار دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : 14 سال کی ترقی کے بعد، دنیا کی پہلی تین پہیوں والی اڑنے والی اسپورٹس کار – سوئچ بلیڈ – کو بالآخر پرواز کی جانچ شروع کرنے کی منظوری مل گئی ہے،گاڑی نے رن وے پر کامیاب آزمائشی مراحل طے کیے۔

    کلینیکل ٹرائل جس میں انسانی جسم کے اندر پہلی بار ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے

    سیمسن اسکائی کی طرف سے تیار کردہ زمین پر پروٹوٹائپ اس کار کی رفتار 125 میل فی گھنٹہ جبکہ فضا میں 200 میل فی گھنٹہ (322 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے ایک DIY کٹ سے تیار کیا گیا ہے لینڈنگ کے ساتھ ہی کار ڈرائیونگ موڈ میں تبدیل ہو کر پروں اور دم کو محفوظ رکھنے کے لیے فولڈ کرلیتی ہے۔

    امریکی سیمسون سکائی کمپنی کی بنائی گئی اس فلائینگ کار کو تیار کرنے میں 14 سال کا وقت لگا جبکہ اس پر 3 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔ کمپنی کے مطابق 52 ممالک کے 21 سو افراد گاڑی کی پہلے سے ہی بکنگ کرا چکے ہیں۔

    زمین پر رہتے ہوئے، سوئچ بلیڈ اسپورٹس کار اپنے تین پہیوں پر اور، صرف 16.8 فٹ (5.1 میٹر) لمبائی اور 6 فٹ (1.8 میٹر) چوڑی پر، گیراج میں تھوڑی سی جگہ گھیرتی ہے-

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    اوریگون میں قائم کمپنی کے مطابق، 52 ممالک اور امریکہ کی تمام 50 ریاستوں کے 2,100 افراد نے گاڑیوں کی ایک کٹ پہلے ہی اس کے لیے بُک کروا رکھی ہے سیمسن اسکائی کہتے ہیں کہ ابتدائی اختیار کرنے والوں میں ناسا کے انجینئر، ایئر لائن پائلٹ، کاروباری وغیرہ شامل ہیں۔

    امریکی فضائی کمپنی FAA کی منظوری نے گزشتہ چند ہفتوں میں 360 نئے ریزرویشنز کو راغب کیا ہے اور یہ قابل ذکر ہے کہ ان میں سے 58 فیصد ابھی تک پائلٹ نہیں ہیں۔

    سڑک پر سوئچ بلیڈ لے جانے کے لیے ڈرائیور کا لائسنس درکار ہوگا، اور اسے اڑانے کے لیے پائلٹ کا لائسنس ضروری ہے، جو کہ کسی سرکاری یا نجی ہوائی اڈے کا ہونا چاہیے یہ عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ (VTOL) گاڑیوں سے مختلف ہے، جو سڑک سے ٹیک آف کر سکتی ہیں۔

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    خریدار کو کٹ خریدنے کے بعد اپنی گاڑی کا 51 فیصد بنانا ہوگا، کیونکہ FAA طیارے کو ‘تجرباتی/ہوم بلٹ’ زمرے میں رکھتا ہے ہر سوئچ بلیڈ کٹ کی لاگت تقریباً$170,000 (£145,000) ہوگی اور اس میں انجن، ٹرانسمیشن، ایویونکس، انٹیریئرز اور سیمسن بلڈر اسسٹ پروگرام تک رسائی شامل ہے۔

    مؤخر الذکر تعمیراتی کام میں مدد حاصل کرنے کے لیے بلڈر کو سیمسن بلڈر اسسٹ سنٹر کا دورہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا۔

    سوئچ بلیڈ کی ڈرائیونگ کی زیادہ سے زیادہ رفتار 125 میل فی گھنٹہ (201 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ ہے، اور سیمسن اسکائی کا دعویٰ ہے کہ یہ ‘ایک اعلیٰ کارکردگی والی اسپورٹس کار کے طور پر سمیٹنے والے منحنی خطوط کے ذریعے چلتی ہے لیکن جب اڑاتی ہے تو یہ 200 میل فی گھنٹہ (305 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 13,000 فٹ (4 کلومیٹر) کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

    یہ 450 میل (724 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کرنے کے قابل بھی ہے اس سے پہلے کہ اس کے 113-لیٹر فیول ٹینک کو ری فلنگ کی ضرورت ہو ایک بار جب یہ زمین پر اترتی ہے، تو یہ تیزی سے واپس ڈرائیونگ موڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے-

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

  • رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    ایک دوسرے سےکوئی تعلق نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہےجس کا جواب سائنسدان ڈھونڈنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاہم اب وہ اس کا ممکنہ جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "سی این این” کے مطابق اسپین کے محققین نے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش کی اور اس کے نتائج جرنل سیل رپورٹس میں شائع ہوئے۔

    چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کو بھی ایک جیسے جڑواں بچوں کے علاوہ انہیں بتانے میں مشکل پیش آئی لیکن اب سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ اتنے مماثل نظر آتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو ڈوپل گینگر کیوں ہو سکتا ہے۔

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ…

    ایک نئی تحقیق کےمطابق، جو لوگ ایک دوسرے سےمشابہت رکھتےہیں، لیکن ان کا براہ راست تعلق نہیں ہےتب بھی ان میں جینیاتی مماثلت پائی جاتی ہے تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رشتے دار نہ ہونے کے باوجود جن افراد کی شکلیں ایک دوسرےسے ملتی ہیں وہ حیران کن طور پر جینیاتی طور پربھی ایک جیسے ہوتے ہیں ایسی جینیاتی مماثلت رکھنےوالےافراد کا وزن، طرز زندگی اورعادات بھی ایک جیسی ہوسکتی ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ جینز بھی ہماری شکل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے سوچا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو کسی شخص کے ڈوپل گینگر کو تخلیق کرتی ہے۔ یہ فطرت ہے یا پرورش؟

    اسپین کے شہربارسلونا میں جوزپ کیریرس لیوکیمیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر مینیل ایسٹیلر نے کہا کہ وہ ماضی میں جڑواں بچوں پر تحقیقی کام کرتے رہے ہیں اوراسی وجہ سے انہیں ایسےافراد میں دلچسپی تھی جو ہم شکل توہوتے ہیں مگرآپس میں رشتے دار نہیں ہوتے اس مقصد کے لیے انہوں نے 32 ہم شکل افراد کی خدمات حاصل کیں اور ایک فوٹو پراجیکٹ شروع کیا۔

    محققین نے ان افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے، زندگی کے بارے میں سوالنامے بھروائے اور چہرے شناخت کرنے والے 3 مختلف پروگرامز کا استعمال بھی کیا۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    نتائج میں دریافت ہوا کہ 16 ہم شکل جوڑوں کا اسکور ہم شکل جڑواں بہن بھائیوں جیسا تھا، یعنی کمپیوٹر سسٹم ان کے چہرے درست شناخت نہیں کرسکا جبکہ ہم شکل افراد کے باقی 16 جوڑے انسانی آنکھ کے لیے تو ایک جیسے تھے مگر کمپیوٹر الگورتھم نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اس کے بعد ڈی این اے کی گہرائی میں جاکر جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ جن افراد کو کمپیوٹر سسٹم پہچان نہیں سکا، ان کے جینز دیگر کے مقابلے میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ ملتے جلتے تھے۔

    محققین نے بتایا کہ ایسے ہم شکل افراد جینیاتی طور پر بھی ایک دوسرے سے بہت زیادہ مماثلت رکھتے تھے، یہی جینز ناک، آنکھوں، منہ، ہونٹوں اور ہڈیوں کی ساخت پر بھی اثرانداز ہوئے البتہ ان افراد کی زیادہ گہرائی میں جاکر جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ کچھ حد تک وہ ایک دوسرے سے مختلف بھی تھے۔

    ماحول اور رویے کسی فرد کے جینز کے افعال میں بھی تبدیلیاں لاتے ہیں اور یہی ان میں بنیادی فرق تھا تحقیق کے نتائج سے چہرے کو شناخت کرنے والے سافٹ وئیر کے محدود ہونے کا عندیہ بھی ملتا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    مجھے فخر ہے، میرا تعلق اس قوم سے ہے. — ثمینہ کوثر

    آج ایک تصویر پر نظر پڑی تو میں ایک دم سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرا تعلق کس قدر خوش نصیب ، بہادر ، نڈر اور مضبوط حوصلوں والی قوم سے ہے ، جس کے جذبوں کو کبھی بھی شکست نہیں دی جاسکتی ، میری قوم کے جذبوں کو کوئی شکست دے بھی نہیں سکتا ۔ یہ وہ قوم ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے زلزلے یا سیلاب کی صورت میں آزمائش آئے تو یہ قوم پھر بھی ثابت قدم رہتی ہے ۔ اگر اس قوم پر اندرونی اور بیرونی طور پر جنگ شروع ہو جائے تو بھی یہ قوم ثابت قدم رہتی ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جہاں مصیبت بعد میں آتی ہے اور لوگ پہلے متحد ہو جاتے ہیں ، لوگ اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کی کوشش کرتے ہیں ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے 2008 ء کے زلزلے میں بھی متحد ہوتے دیکھا تھا ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جسے میں نے ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے ایک بار پھر متحد ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔

    ایمان والوں کی یہ پہچان ہے کہ وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج ایسی ہی ایک تصویر پر نظر پڑی جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ کاغذ اٹھانے والا ایک بچہ ، محنت مزدوری کرنے والا ایک بچہ ، دن رات محنت کرکے اپنے خاندان کی پرورش کرنے والا بچہ ، اپنی دن بھر کی مزدوری سیلاب زدگان کی امداد میں دے رہا تھا ، یہ تصویر دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا اور مجھے اپنی قوم کے ایمان پر رشک آنے لگا کہ جس قوم کے مزدور بچے ایسا مضبوط ایمان لئے پھر رہے ہوں کہ وہ اپنے اوپر دوسرے بہن بھائیوں ، مجبور اور بے بس بہن بھائیوں کو ترجیح دے رہے ہوں یقینا ان لوگوں کا ایمان قابل رشک ہی ہے کیوں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ایمان کامل ہیں ، قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنے ساتھ کچھ اچھے اثرات بھی لے کر آتی ہیں ، جب میری قوم کا شیرازہ بکھر رہا ہو ، جب لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہوں ، جب سیاست دان ایک دوسرے کو نوچ کھانے کو تیار ہوں ، جب پوری قوم ایک دوسرے کے ساتھ حسد ، لالچ اور خود غرضی میں مبتلا ہو ، جب بہن بھائی اور بھائی بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن رہے ہوں ، جب لوگ ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہوں ، تو اس وقت وقت اللہ تعالی ایسی آزمائش میری قوم پر بھیج دیتا ہے اور پھر یہی ایک دوسرے کے جانی دشمن ، ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں ۔ پھر اسی طرح میری قوم کا ہر مزدور ، چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا اپنی دن بھر کی محنت اپنے مجبور ، بے بس اور لاچار مسلمان بھائی کو دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ہاں مجھے فخر ہے میری قوم پر کہ ان کے ایمان اس طرح مضبوط ہیں کہ یہ مدینہ کے انصار کی طرح مہاجرین کو اپنا بھائی بنا لیتے ہیں ، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات سمجھتے ہیں ، خود کچھ کھائیں یا نہ کھائیں اپنے بھائی ، اپنے بے بس مسلمان بھائی کو ضرور دیتے ہیں ، ہاں میں نے ایسی ہی مشکلات اور حادثات میں اپنی قوم کو یکجا ہوتے دیکھا ہے ، ان بکھرے ہوئے ذروں کو مضبوط چٹان بنتے دیکھا ہے ،

    ہاں میں نے مصیبت کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر سوچتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں میں نے مشکل کی ہر گھڑی میں اپنی قوم کو ذات برادری سے باہر ہر ہر انسان کو اپنا سمجھتے ہوئے دیکھا ہے ، ہاں مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کے حوصلوں کو دنیا کی کوئی طاقت کم نہیں کر سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایسی قوم سے ہے جیسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جس کا بچہ بچہ دوسروں کے دکھ درد کا سہارا بننا جانتا ہے ، مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جو مصیبت کی ہر گھڑی میں یکجا ہونا جانتی ہے ۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تھا کہ 2008ء کے زلزلے میں میرے مجبور ، بے بس اور لاچار بہن بھائی جن کے خاندان زلزلے کی نظر ہو گئے ، جن کے گھر بار ختم ہوگئے ، ان آنکھوں نے خود دیکھا کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری ، وہ آگے بڑھے ، اپنے گھر بنائے ، اپنے خاندان بنائے ، یہ لوگ جو سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ، جن کے مویشی تک ختم ہوگئے ، جن کے پیارے سیلاب نے چھین لیے ، سیلاب جن کے گھر بہا کر لے گیا ، جنہوں نے نے اپنی عمر بھر کی کمائی کو ، اپنے پیاروں کو سیلاب کی نظر ہوتے دیکھا ہے ، یہ لوگ بھی ہمت نہیں ہاریں گے ۔ سیلاب چلا جائے گا لیکن ان لوگوں کی ہمتوں کو اور بھی بلند کر جائے گا ، یہ لوگ ہمت ہارنے کی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے ، زندگی کو نئے سرے سے شروع کریں گے ، آگے بڑھیں گے اور پھر ساری دنیا کو بتا دیں گے کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں ۔ ہمارے جذبوں ، ہماری ہمتوں اور ہمارے حوصلوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا کیوں کہ ہم میں وہ لوگ موجود ہیں جو مضبوط ایمان والے ہیں ، جو خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔

  • ایشیا کپ، افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے دی

    ایشیا کپ، افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے دی

    ایشیا کپ 2022 میں گروپ بی کے اہم میچ میں افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے کر گروپ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی۔

    بنگلہ دیش کی جانب سے دیا گیا 128 رنز کا ہدف افغانستان صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں پورا کرلیا۔

    افغان بلے باز نجیب اللّٰہ زادران نے اختتامی اوورز میں مجموعی طور پر چھ چھکے لگا کر ٹیم کو جلد فتح سے ہمکنار کیا۔

    نجیب اللہ نے 17 گیندوں پر 43 جبکہ ابراہیم زادران نے 41 گیندوں پر 42 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلیں۔

    شارجہ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جارہے اس میچ میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    افغانستان کے اسپنرز نے بنگلہ دیش کے بلے بازوں کو جکڑ لیا، جہاں ابتدائی 5 بنگلہ دیشی کھلاڑی متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

    مجیب الرحمان اور راشد خان کی گھومتی گیندوں کے سامنے شکیب الحسن، مشفق الرحیم، انعم الحق، محمد نعیم اور عفیف حسین جیسے تجربہ کار بلے باز بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

    محمود اللّٰہ کے 25 اور مہدی حسن کے 14 رنز کے ساتھ مصدق حسین کی 48 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز ہی بناسکی۔

    افغانستان کی جانب سے مجیب الرحمان اور راشد خان نے 3، 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کا کہنا تھا کہ وکٹ اچھی لگ رہی ہے، وہ اسکور بورڈ پر رنز سجانے کی کوشش کریں گے جو امید کے مطابق افغانستان کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے خلاف اچھی تیاری کی ہوئی ہے، حریف ٹیم بھی اچھا کھیل رہی ہے۔افغانستان کے کپتان محمد نبی نے کہا کہ وکٹ فریش ہے، مٹی بھی فریش ہے۔ تاہم امید ہے کہ ہم انہیں کم سے کم ٹوٹل تک روک پائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح ٹیم نے گزشتہ میچ کھیلا ہے وہ بہترین تھا، ٹیم کے حوصلے بلند ہیں اور آج ٹیم میں کوئی تبدیلی بھی نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ ایشیا کپ میں 6 بہترین ٹیموں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، پاکستان گروپ اے میں بھارت اور ہانگ کانگ کے ساتھ جبکہ گروپ بی میں سری لنکا ،افغانستان اور بنگلادیش کی ٹیمیں شامل ہیں۔دونوں گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں سپر فور مرحلے کیلئے کوالیفائی کریں گی جس کا آغاز 3 ستمبر سے ہوگا۔ سپر فور کی ٹاپ ٹو ٹیموں کے درمیان فائنل 11 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

  • پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کی معاشی آزادی سب سے ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی معیشت اگر آزاد نہ ہو تو پھر اس کی قومی سیاسی و سفارتی آزادی بڑی حد تک بے معنی ہو جاتی ہے۔ آج ملک میں معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اس پر شور و غل بہت ہے لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں 2013ء میں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے حل تلاش کر لیا تھا مگر خفیہ ہاتھوں نے ان کو اپنی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی ملکی معاشی ماہرین کو یاد ہوگا اس سلسلے میں نوازشریف نے معاشی ماہرین کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا تھا جس سے پاکستان آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے جا رہا تھا وہ ایسے اقدامات اٹھانے جا رہے تھے جس کی وجہ سے کشکول اٹھانے کی ضرورت ہی نہ رہتی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی اس سلسلے میں ٹاسک سونپا گیا تھا توانائی کے بحران پر قابو پانے معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پالیسی ترتیب دی جا رہی تھی اور اس بات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بھارت کی طرح پاکستان کو بھی آئی ایم ایف کی ضرورت باقی نہ رہے۔

    نوازحکومت نے حکومتی اخراجات کم کرنے پر زور دیا وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈ کو ختم کردیا گیا کابینہ میں شامل وزراء کے صوابدیدی فنڈ بھی ختم کر دیئے گئے اخراجات میں چالیس فیصد کمی کر دی گئی برآمدات کو بڑھانے پر زور دیا اور درآمدات کو کنٹرول کرنے پر زور دیا ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی تھیں جس سے پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہو مگر اس ملک اور قوم یک بدقسمتی کہہ لیجئے کہ ہمیشہ کی طرح ایک سازش کے ذریعے ان کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا اور آج ہم پھر آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے ہیں قرضہ لے کر ہم ایک دوسرے کو مبارکباد ے رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی کشکول نہ توڑ سکی آج پی ڈی ایم کی حکومت بھی کشکول توڑنے میں ناکام رہی ملکی وسائل سے توجہ ہٹا کر ساری توانائیاں قرض لینے پر لگائی جا رہی ہیں

    ۔ عوام کے مسائل سے کوسوں دور یہ سیاسی بازیگر اقتدار کے حصول کے لئے ایک اندھی اور بے ہودہ لڑائی میں برسرپیکار ہیں۔ ملک و قوم کو مقروض بنا کر یہ کون سی ملکی خدمت سرانجام دے رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ عالمی دنیا پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے دل کھول کر امداد دے رہی ہے امید ہے کہ یہ امداد ان ہاتھوں تک پہنچے گی جن کے گھر بار، مال مویشی اس سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں ۔

  • بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کے نتیجے میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم کافی یا چائے پینے سے آپ کے گلے کے کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے-

    برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10,000 افراد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور تازہ ترین نتائج بتاتے ہیں کہ کوئی شخص گرم مشروبات ترک کر کے اپنے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    یوکے بائیوبینک سے برطانیہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا میں ان لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کے مقابلے زیادہ کافی پیتے ہیں اور ان کے کینسر کے خطرے کو دیکھا۔

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیفن برجیس نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ہم اس جینیاتی اسکور کو جانتے ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافی پینے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ چائے پینے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے۔”

    جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کافی کے استعمال سے غذائی نالی کے علاوہ کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا ہے۔

    کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں مشروبات کےدرجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق میں فن لینڈ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کافی زیادہ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہوتا ہےدرحقیقت لوگ جتنے زیادہ گرم مشروب کو پینا پسند کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ کافی یا چائے زیادہ گرم پیتےہیں ان میں کینسرکا خطرہ 5.5 گنا زیادہ ہوتا ہے جو افراد ہلکی گرم چائے یا کافی پیتے ہیں ان میں 4.1 فیصد اسی طرح جو افراد معتدل حد تک گرم کافی پیتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    ٹیم نے اس بارے میں ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا کہ ایک شخص نے کتنی کافی پیی، اس لیے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا گرم مشروبات کی مقدار زیادہ خطرے سے منسلک ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر میں اضافہ ہونے کے سبب کے اثرات کے ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تحقیق میں گرم مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا، جس کے باعث محققین کا خیال ہے کہ کافی یا چائے کا درجہ حرارت غذائی نالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرم مشروبات غذائی نالی کے کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ چوہوں میں گرمی پانی پینے سے اس کینسر کو دریافت کیا گیا ہے۔

    لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی سے دوسرے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی سب سے زیادہ وضاحت یہ ہے کہ گرم مشروبات کی گرمی گلے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے خطرناک خلیات بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تھرمل انجری سب سے زیادہ قابل فہم مفروضہ ہے، اور یہ اس بات کی وضاحت کرے گا کہ ہم کافی نہ پینے والوں میں بھی اثر کے ثبوت کیوں دیکھ رہے ہیں جن کےبارےمیں ہمارا خیال ہےکہ وہ چائے پینے والے ہوں گے یہ کہنا غیر معقول ہو گا کہ یہ لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ ‘کافی کے بجائے، آپ کو چائے پینی چاہیے اور آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے-

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے برعکس ہے جو ہم اصل میں کہہ رہے ہیں۔ یہ کافی یا کیفین کے بارے میں کسی خاص چیز کے بجائے تھرمل چوٹ لگتی ہےبہت زیادہ درجہ حرارت پر کافی پینے سے گریز کرنا واقعی نتیجہ ہے۔ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں جیسے آپ کے گلے کو یہ نقصان پہنچا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آگاہ ہونا اور ممکنہ طور پر دوبارہ ڈائل کرنے کے قابل ہے۔

    تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ کافی پینے والوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحقیق میں کینسر کی عام شکلوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

    ڈاکٹر برجیس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر کافی پینے والوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کافی کا تعلق کینسر کی زیادہ تر اقسام اور یقینی طور پر کینسر کی سب سے عام شکلوں سے نہیں تھا۔

    ڈاکٹر سوزانا لارسن، کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں مقیم ایک وبائی امراض کے ماہر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا: "ہمارے نتائج اس ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ کافی کا استعمال عام کینسر کے خطرے پر غیر جانبدار اثر ڈالتا ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق