Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی کے تھرڈ ائیر میں جب لیاقت ہال میں کمرہ ملا ہوا تو پتہ چلا کہ کوریڈور میں میرے سامنے والے کمرے میں لاوہ بھائی رہائش پذیر ہیں۔ وہ بہت مہمان نواز اور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم رکن۔ ان کے کمرے میں ساتھی طالب علموں کی ٹریفک سارا دن رات چلتی اور ساتھ ہی کینٹین سے چائے کی سپلائی جاری رہتی۔

    چند دنوں بعد جب تھوڑا تعارف ہوا تو ہم نے لاوہ بھائی سے ڈرتے ڈرتے ان کے سلگتے ہوئے نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو وہ زور دار قہقہہ لگا کر بولے کہ یہ میرے پنڈ کا نام ہے۔ یو ای ٹی میں ایڈمشن ہوا تو میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے دروازے پر عبدالرشید فرام لاوہ لکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، اصل نام کی بجائے ہم مسٹر لاوہ اور پھر لاوہ بھائی مشہور ہو گئے۔ اصل نام کسی کو یاد بھی نہیں(مجھے بھی یاد نہیں)۔لاوہ اس زمانے میں جدید دنیا سے کٹے ایک ایسے گاوں کا بام تھا جس میں کوئی ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں جاتی تھی۔

    لاوہ بھائی کی یاد اتنے عرصے بعد اب اس طرح آئی کہ جب ہم لاوہ ڈیم کی سائٹ دیکھنے 13 ستمبر 2022 کو واقعی واقعی لاوہ جا پہنچے جو کہ ترقی کرتے اب ضلع چکوال کی ایک تحصیل بن چکا ہے۔ یہ قصبہ مغرب میں میانوالی کے بارڈ پر“ ترپی ندی” کے کنارے واقع ہے جس پر گوروں نے موجودہ پاکستان کے علاقے کا شائد سب سے پرانا نمل ڈیم 1913 میں بنایا تھا جو کہ اب مٹی سے بھر چکا ہے۔ اس ڈیم سے میانوالی کے علاقے موسی خیل کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں ۔تاہم لاوہ سے سے 20 کلومیٹر نیچے ہونے کی وجہ سے یہ قصبہ اس پانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم تھا جو اس کے بغل سے ہوکر نمل جھیل کو جاکر بھرتا تھا۔

    لاوہ اب ایک لاکھ آبادی والا قصبہ بن چکا ہے جس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی دیر سے آرہا ہے کیونکہ زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور ترپی ندی بھی سارا سال نہیں چلتی جس سے قصبے کو پمپ کرکے پانی پہنچاتے ہیں۔ندی لاوہ قصبے سے کوئی کم ازکم پچاس فٹ نیچے بہتی ہے اور پی ایچ ای کا پمپ اسٹیشن اس کے کنارے ہے۔

    13 ستمبر کو ہم لمحکمہ آب پاشی کے آفیسر جاوید اقبال صاحب کے ہمراہ دندہ شاہ بلاول کے راستے اوہ پہنچے جہاں یہ میانوالی تلہ گنگ روڈ سے ہٹ کر جنوب میں 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔لاوہ بازار میں مسکراتے چہرے کے ساتھ جناب ظفر علی صاحب نے ہمارا استقبال کیا جو کہ مقامی تعلیمی ادارے کے پرنسپل رو چکے تھے اور کچھ فاصلے پر ہم جناب دوست محمد صاحب کو بھی لے کر آگے بڑھے۔ دوست محمد صاحب حال ہی میں محکمہ مال سے ریٹائر ہوئے ہیں اور لاوہ کی زمینداری سسٹم کو بہت سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ گھمبیر ڈیم کی چک بندی کراچکے ہیں۔

    لاوہ کی واٹر سپلائی ٹینکی سے آگے ہم ترپی ندی میں اتر گئے اور گاڑیاں ندی کے کیچڑ بھرے پتھریلے راستے پر آگے بڑھنے لگیں۔ ایک جگہ راستہ نہ ہونے پر دائیں کنارے کے جنگل میں گھس گئے جس کی گھنی جھاڑیاں اور مٹی اڑاتا راستہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کے “رکھوں” کی یاد تازہ کرنے لگا۔

    چند کلومیٹر آگے چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں لاوہ ڈیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم سائٹ ہر نکل کر اپنے اپنے کام میں جت گئی ۔ پہاڑوں کی جیالوجی چیک ہونے لگی، کچھ انجنئیر دریائی پانی کی پیمائش میں لگ گئے، کسی نے تعمیراتی میٹئیرئل کی تلاش شروع کردی اور کچھ سوشیالوجسٹ ساتھ کی آبادیوں کے سروے پر نکل گئے۔

    میری آنکھیں اپنے گُرو کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں جو مجھے ہر ایسی دوردراز سائٹ پر بہت کچھ سکھا جاتا ہے ۔ تھوڑیسی تلاش کے بعد وہ استاد مجھے بائیں طرف کی پہاڑی پر اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ نظر آگیا ۔ یہ چرواہے کسی بھی سائٹ پر ہمارے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جوکہ علاقے میں لمبے عرصے سے اپنے جانوروں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے سے اس کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت ہائیڈورولجسٹ، جیالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور تاریخ دان ہوتے ہیں۔

    میں بائیں طرف کی پہاڑی چڑھ کرر لال خان تک پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس 20 بکریاں ، 15 بھیڑیں اور 3 عدد گائیں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس وقت بھی اس سائٹ کا سروے ہوا تھا۔ یہاں بورنگ بھی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے تو اس نے کہا کیوں نہیں۔ وہ سارا دن تو انہی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

    لال خان نے مجھے اس علاقے کے لوگوں اور ان کے رسم و رواج ، کیچمنٹ میں موجود درختوں اور جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے وہاں کی وائلڈ لائف بارے بتایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دریا میں کب کب کتنا کتنا پانی آیا۔ اس دوران اس کے ساتھ ہی پاس کے ڈیرے سے اس کا چچا دوست محمد بھی پہنچ چکا تھا ۔ اس عمر رسیدہ شخص سے ہم نے اس کی یاد میں یہاں آنے والے بڑے بڑے پانیوں کے متعلق پوچھا اور جب تک ہماری ٹیمیں کسم مکمل کرتیں ہم ظفر علی ، دوست محمد اور لال خان کے ہمراہ سائٹ کے کونے کھدرے چھانتے رہے۔ بحث چلتی رہی۔ظفر علی صاحب ایک بہت مستعد شخصیت کے مالک تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دوست محمد صاحب ایک سنجیدہ شخص۔

    دوست محمد نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے کی آبادی اعوان قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک ہی دادے کی اولاد ہیں۔ لاوہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ دریا کے کبھی ایک کنارے اور کبھی دوسرے کنارے بار بار آباد ہوتا رہا جس کی تاریخ میں کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔ نیزہ بازی یہاں کا مقبول کھیل ہے اور گھوڑے پالنا ایک شوق۔

    شام ڈھلے جب کام ختم ہوا تو ترپی ندی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمیں بتائے بغیر ہمارے دوستوں نے لاوہ میں ملک اسلم کے ڈیرے پر چائے کے نام پر ہائی ٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم رات گئے واپس کلر کہار میں اپنے کیمپ آفس پہنچے جہاں سے زمینی سروے ٹیم کو اگلے دن لاوہ ڈیم کے سروے پر روانہ کرنا تھا۔

  • سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    سنگین نتائج کی حامل تعلیمی پالیسیاں اور متاثرین — سیدرا صدف

    ایک دوست گورنمنٹ ٹیچر ہیں۔۔کہتیں میں نے اسکول امتحانات کے بعد ہیڈ کو مشورہ دیا تھا کہ نالائق طلبا کو دوبارہ ایک سال نہم میں لگوائیں۔۔۔ہیڈ کا کہنا تھا کہ چونکہ پریشر ہے کہ بچے فیل نہیں کرنے لہذا سبھی بچوں کا داخلہ جائے گا۔۔۔۔سبھی بچوں کا داخلہ بھیج کر جو نتائج آئے اس نے چودہ طبق روشن کر دیے۔۔۔۔ویسے تو پنجاب بھر میں جماعت نہم کے نتائج تشویشناک ہیں۔۔

    پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں مسائل کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔۔ سرکاری اسکولوں میں جہاں کچھ ٹیچرز کی عدم دلچسپی ایک وجہ ہے وہیں بچوں کو ڈھیٹ کرنے والی پالیسیز بھی دوسری وجہ ہے جو اچھے ٹیچرز کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔۔۔۔

    یہ فرض کر لینا کہ دنیا کا ہر بچہ مار سے پڑھے گا ایک حد تھی تو اسکے رد میں ایک بالکل دوسری حد متعارف کرا دی ہے مار نہیں پیار۔۔۔۔عنقریب شاید ایسی پالیسی آئے گی کہ ٹیچرز شاگردوں کو والدین کا درجہ دیں۔۔۔

    بچوں کی ہینڈلنگ ایک قابل ٹیچر کی صلاحیت پر چھوڑنی چاہیے۔۔ٹیچر بہتر جج کر سکتا ہے کہ کونسا بچہ کس انداز سے پڑھے گا۔۔۔۔محکمہ ایجوکیشن پنجاب میں نئی بھرتیوں کے بعد نوجوان اور پڑھا لکھا اسٹاف میسر ہے۔۔۔لیکن نئی بھرتیاں کرنے کے باوجود تعلیم یافتہ اسٹاف روایتی سسٹم کے آگے مجبور ہے۔۔۔

    کیسی بیہودہ لاجک ہے کہ شرح خواندگی بڑھانے کو بچے سر پر سوار کر لیں۔۔۔بچوں کی حاضری پوری کریں۔۔بچہ غیر حاضر ہے تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔جیسے تیسے حلیے میں آئیں آنے دیں۔۔پھر اگر وزٹ پر بچے مکمل وردی میں نہیں تو ٹیچر جواب دے۔۔۔۔بچے فیل نہ کریں۔۔سو فیصد نتیجہ دینے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

    منت ترلہ پروگرام سے تعلیمی انقلاب نہیں آتا ہے۔۔۔حکومت کا کام ایک یونیفارم فلاحی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے کا ہے۔۔۔میڈیا کے ذریعے تعلیم کی اہمیت جیسے پروگرام پیش کیے جائیں لیکن اس کے بعد داخلے کو مشروط کیا جائے ایک یونیفارم سٹینڈرڈ سے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہ ہو۔۔

    جس نے پڑھنا ہے اسے ان شرائط پر ہی پڑھنا ہو گا۔۔۔تعلیم کو مفت کرنا بھی درست پالیسی نہیں ہے۔۔۔سو طرح کے اور خرچے ہوتے سکتے ہیں تو مناسب تعلیمی اخراجات بھی برداشت کرنے چاہیے۔۔۔تعلیم کی اہمیت مفتے کے زور پر سمجھانے کی کوشش بےسود ہے۔۔۔۔جنہیں تعلیم کی اہمیت کی آگاہی ہے انکے نزدیک تعلیم انمول ہے۔۔۔

    بچوں کی باڈی لنگوئج خراب کر دی ہے۔۔۔والدین خصوصاً دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اسکول بھیجنا احسان سمجھتے ہیں۔۔۔ٹیچرز پر دباؤ ہے کہ سو فیصد نتائج دیں۔۔۔یہ دباؤ ناصرف اسکول بلکہ کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی ہے۔۔۔

    جبکہ رزلٹ, نالائق بچوں کو پاس کرنے سے خراب ہوتا ہے۔۔وہ رزلٹ اچھا ہے جو لائق اور نالائق کی تفریق کرے۔۔۔رزلٹ تب خراب ہوتا ہے جب پروفیشنل لائف میں جانے والوں کو انکے ٹیچر یا ادارے کا نام پوچھ کر یہ ریمارکس دیے جائیں کہ بیٹا تمھیں پڑھانے اور پاس کرنے والوں پر چار حروف۔۔

  • گوجرخان : بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار  ملک امریز حیدر کی  برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات

    گوجرخان : بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات

    گوجرخان بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ملک امریز حیدر کی برطانیہ میں مختلف شخصیات سے ملاقات
    گوجرخان( شیخ ساجد قیوم/ نامہ نگار باغی ٹی وی ) خادم اعلی دربار عالیہ کلیام شریف بانی وچیئرمین تحریک صوبہ پوٹھوار ممتاز سماجی شخصیت ملک امریز حیدر گزشتہ دنوں برطانیہ کے دورے پر پہنچ گئے ، ملک امریز حیدر نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گزشتہ دنوں بریڈ فورڈ میں سجادہ نشین کلیام شریف حضرت پیر سائیں شعبان فرید اور دیگر افراد سے ملاقات کی جبکہ وہ اپنے نجی دورے کے دوران پاکستانیوں سے ملاقاتیں کریں گے راولپنڈی کی ممتاز سماجی شخصیت چئیرمین یونین کونسل ملک جہانگیر خان بھی بابائے پوٹھوار ملک امریز حیدر کے ھمراہ تھے

  • جہاد و رباط      ازقلم: غنی محمود قصوری

    جہاد و رباط ازقلم: غنی محمود قصوری

    جہاد و رباط کے چور

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بسا اوقات انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے چوری کرتا ہے چوری کرنا ہر مذہب میں گناہ ہے اور چوری کئی طرح کی ہوتی ہے
    آجکل جہاں جلد امیر ہونے کیلئے شارٹ کٹ طریقے سے چوری ڈکیتی کرکے مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیا جاتا ہے وہاں مذہبی امور میں بھی چوری کرکے دکھلاوے کی کوشش کی جاتی ہےویسے تو مذہبی امور میں کئی طریقوں سے چوریاں کی جاتی ہیں مگر معروف چوری رقم کرنا چاہتا ہوں-

    تمام ارکان اسلام بڑی عزت و تکریم والے ہیں مگر جو عزت و تکریم جہاد و رباط کو ہے اس کی شان ہی الگ ہےاسی شان و شوکت جہاد کے باعث کفار نے بھی لفظ جہاد اور شہادت کا استعمال شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے پیروکار بھی مسلمانوں کی طرح اس عمل کو محبوب ترین جان کر لڑیں اور دفاع مضبوط ہو-

    مثال ہمارے قریب میں واقع دنیا کے سب سے بڑے مشرک ہندو کی ہی لے لیجئے وہ اپنے فوجیوں کو شہید اور کشمیری مجاھدین کو ہلاک لکھتا و پکارتا ہےخیر وہ تو بے دین لوگ ہیں ان سے کیا گلہ شکوہ کرنا-

    بعض اپنے پڑھے لکھے باشعور مسلمان بھی اس چوری میں ملوث ہیں جہاد و رباط کی چوری بہت عام ہو چکی ہے جو کہ دراصل جہاد و رباط میں جان،مال دیئے بغیر دکھلاوے کی شان و شوکت لینے کی کوشش ہے-

    لفظ جہاد کے معنی کوشش کے ہیں یعنی وہ کوشش جو راہ خدا میں مظلومین کی مدد کے لئے کی جائے اور کفار کیساتھ لڑا جائےیہ عمل جہاد اتنا پیارا ہے کہ نبی کریم نے خود کرکے دکھلایا اور حکم دیا جہاد بارے حدیث ہے-

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو-

    (تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں

    رباط کے معنی اسلامی سرحدات پہ پہرا دینا ہے اور یہ انتہائی افضل اور اہم ترین فریضہ ہے رباط بارے حدیث شریف ہے

    سیدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں ایک دِن اور رات سرحدوں پر ڈٹے رہنا ایک ماہ کے قیام و صیام سے زیادہ افضل ہے،اگر کوئی حالت رِباط میں فوت ہو جائے تو وہ جو عمل زندگی میں کرتا تھا وہ اللہ کے ہاں قیامت تک جاری و ساری رہے گااور وہ فتنہ میں مبتلا کرنے والے سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے-

    دونوں احادیث نبویہ ملاحظہ فرمائیں اور دونوں کاموں کا اجرو ثواب ملاحظہ فرمائیں اور یہ بھی غور کریں کہ دونوں کام یا تو ایک مجاھد سر انجام دیتا ہے یا پھر فوجی اب اسی اجرو ثواب کو چرانے اور مجاھدین کی شان و شوکت کو چرانے کی خاطربعض لوگوں نے سیاست اور کھیلوں خاص کر کرکٹ میں جہاد کی آیات کا استعمال شروع کرکے لوگوں کو ورغلانا شروع کر دیا-

    جیسا کہ ایک معروف آیت نصر من اللہ و فتح قریب کو جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے کرکٹ و سیاست پہ فٹ کیا جاتا ہے اور اجرو ثواب چوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

    اب بھلا بندہ ان لوگوں سے پوچھے بھئی ٹھیک ہے یہ کرکٹ تم کافروں کےخلاف بطور کھیل کھیلتےہو مگر کیا اس سے مظلوموں کو انصاف ملتا ہے۔کافروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے لواحقیقن کو انصاف ملتا ہے ایسے ہی ہمارے جمہوری لوگ ہیں جو جہاد کی الف ب سے بھی واقف نہیں مگر دعوے اس جمہوریت سے جہاد کے کرتے ہیں کہ جو خود قرآن و حدیث کی رو سے کفریہ نظام ہے-

    ایسے لوگ ذہن نشین کر لیں جہاد و رباط اور مجاھدین کے لئے رب کی طرف سے نازل ہوئی آیات کو کرکٹ و جمہوریت پہ فٹ کرنا جہاد و رباط کی چوری ہے اور ان آیات کے نزول کے مقصد سے انکار ہے اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ کتے لڑانے والوں،کبوتر بازوں و دیگر کئی قبیح کھیلوں میں جہادی آیات کو بطور فتح استعمال کیا جاتا ہے-

    حالانکہ ایسے کاموں کی اسلام میں سخت ممانعت بھی ہے اللہ تعالی ہم کو جہاد و رباط جیسے عظیم فریضوں کی چوری سے محفوظ فرمائے آمین

  • ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ٹرانس جینڈر ایکٹ، خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تو نام و نشان تک نہیں پایا جاتا،اور جو رویہ بطور معاشرہ ہمارا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے وہ تو پوچھیے ہی مت۔ خواجہ سرا انتہائی قابل رحم جنس اس لیے بھی ہیں۔ کہ ہم نے انھیں ایک الگ جنس تسلیم کرنے پر آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ۔ پیدا ہوتے ہی یہ طبقہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    ہمارے ہاں خواجہ سراؤں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں ہیں ، شاید انہی غلط فہمیوں کو وجہ سے معاشرہ اس تیسری جنس کو قبول نہیں کرتا۔خواجہ سرا ہوتا کیا ہے ؟ اس بات کا جواب سائنسی بنیادوں پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔شناخت کا سب سے زیادہ موثر طریقہ ڈی این اے ہے۔

    ڈی این اے میں موجود "ایکس” اور "وائے” کروموسومز جنسی شناخت کرتے ہیں۔فرٹیلائزیشن سے پہلے صرف "ایکس” کروموسوم ہی پایا جاتا ہے ۔جبکہ سپرم میں یا تو "ایکس” کروموسوم ہوتا ہے، یا پھر "وائے”۔ "ایکس” کروموسوم سے جنم لینے والی جنس لڑکی جبکہ "وائے” کروموسومز کی فرٹیلائزیشن ہو تو پیدا ہونے والی جنس لڑکا ہوگا۔

    لیکن بعض دفعہ کسی لڑکے میں لڑکیوں کی خصوصیات جبکہ لڑکیوں میں لڑکوں کی خصوصیات آجاتی ہیں ۔ظاہری جسمامت لڑکیوں والی ،اور بعض افراد میں خصوصیات لڑکوں والی آجاتی ہیں ۔ ایسی جنس کو خواجہ سرا کہتے ہیں ۔

    2018ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ٹرانس جینڈر ایکٹ پیش ہوتا ہے۔ جس کے تحت ٹرانس جینڈر کو ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی سے تحفظ کی فراہمی اور ان سے بھیک منگوانے پر پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا متعین ہوتی ہے۔یہاں تک تو بات ٹرانس جینڈر طبقے کے حق میں تھی اور ان سارے حقوق کا یہ طبقہ حقدار بھی ہے۔ مگر اس ایکٹ کی چند ایک کلاز ایسی ہیں، جن کے بعد میں تو کم از کم اس کو ایکٹ کو خواجہ سراؤں کے حقوق پر ڈاکا کہوں گا۔

    کیونکہ معاشرے سے اٹھ کر کوئی بھی مرد یا عورت کہے کہ وہ خواجہ سرا ہے تو بغیر کسی طبعی روپوٹس اور تحقیق کے مان لیا جائے تو یہ دراصل خواجہ سرا طبقے کے حق پر ڈاکا ہے۔اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص خود اپنی جنس کا تعین کر سکتا ہے ۔اور بغیر کسی میڈیکل رپورٹ کے، یعنی کوئی بھی شخص نادرا کو درخواست دے کر اپنی جنس مرد سے تبدیل کروا کے عورت یا عورت سے مرد کروا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کو حق ہے کہ وہ خود اپنی جنس کا تعین کریں ۔

    کیونکہ بعض خواجہ سرا بچوں کے جنسی اعضا بچپن سے نہیں پہچانے جاسکتے ۔ بلوغت سے پہلے جنسی غدود فعال نہیں ہوتے اور جنسی ہارمونز کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔اس لیے جسمانی ساخت سے پہچان خاصا پیچیدہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ بچے اپنی جنس کا تعین خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں ۔

    مگر۔۔۔۔۔۔ایسے کھلا کھلم آزادی کہ جس کا جی چاہے اپنی جنس کا تعین خود کرنے بیٹھ جائے ، کسی طور پر بھی بڑی تباہی اور بربادی سے کم نہیں،معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کو لگا کیسے اور کون ڈالے گا جو اس ایکٹ کی آڑ میں، اسے ہم جنس پرستوں کے تحفظ کا قانون بنا لیں گے۔

  • ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک — عبداللہ سیال

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    جس طرح تم نے اپنے براؤزر میں کچھ مخصوص ٹیب چھپا رکھے ہیں
    اسی طرح ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    کل دن کی ہی بات ہے، عجب ہوئی اک واردات یے
    میں گھر سے نکلا ہی تھا کہ ایک ماسک پوش نے میری کنپٹی پر رکھ دی بندوق کی نالی، اور زور زور سے کہنے لگا آج چل جائیو سالی
    کہنے لگا کہ نکالو جو کچھ جیب میں ہے
    میں نے کہا نکال لو جو کچھ جیب میں ہے.
    اس نے میری جیبوں کو ٹٹولا، پھر منہ بنا کر بولا
    تم تو خاطر خواہ امیر لگتے ہو، جیب میں صرف دو والے سکے رکھتے ہو.
    میں نے کہا دل سے امیر ہوں، شکل سے غربت جھلکتی ہے
    ماسک جیسی چیز میرے عیبوں کو ڈھکتی ہے.
    مایوس ہو کر اس ٹریگر جو دبایا، پانی کا اک فوارہ سا باہر نکل آیا
    یعنی اس کمینے نے مجھے پاگل بنایا.
    جی میں آئی کہ ڈاکو کو پہچانا جائے، اس کی ڈکیتیوں کو لگام ڈالا جائے
    یہ سوچ کر میں اسکے پیچھے ہو لیا، من ہی من اپنی بے عزتی پر رو لیا
    تھوڑا آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں
    پانچ چھ لڑکے ماسک پہن کر کھڑے ہیں، سبھی کے ہاتھوں میں پستول اور چھڑے ہیں.
    انہی چھڑوں کے ذریعے وہ دیہاڑی لگاتے ہیں
    اور ماسک پہن کر اپنے عیب چھپاتے ہیں.

    جناب منصف!
    ایک سیاسی جلسی میں ہوا شرکت کا احتمال، پڑھے لکھے افراد تھے وہاں خال خال
    جلسی کے اختتام پر کہا گیا دعا کرائی جائے، دعا کے بعد ایک کپ چائے پلائی جائے
    دعا کیلئے مگر کوئی آگے نہ آسکا، مارے شرم کے ہاتھ اٹھا نہ سکا
    اتنے میں ایک ماسک پوش کھڑا ہوا اور ہوا میں ہاتھ بلند کرکے انتہائی نامناسب انداز میں کہا
    "یا الٰہی! تیری… بارگاہ میں التجا کرتے ہیں.”
    میں نے سوچا یہ کس کی دعا کا اثر اتنا دلخراش ہے
    ماسک اترا تو معلوم پڑا، یہ تو ایک بدمعاش ہے
    وہ بدمعاش جس نے اپنے اثاثے فرام نیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    ماسک کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ نوجوان نسل کو یوں ہوا ہے کہ اب ہالی ووڈ کی فلموں میں اداکاروں نے ماسک پہن رکھے ہیں.
    ماسک پہن کر وہ اپنی ثقافت کا سرعام اظہار کر نہیں سکتے
    اور ہم گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنے سے ڈر نہیں سکتے.

    جناب منصف!
    اک روز میں اور میرا دوست کررہے تھے کچھ مردانہ باتیں…
    باتوں باتوں میں ہماری آواز ہوگئی اس قدر بلند
    کمرے سے باہر تک جانے لگا ہماری باتوں کا گند

    اتنے میں ایک صاحب اندر جھانکنے آگئے، کہنے لگے نوجوان تم تو چھاگئے
    اس عمر میں جب سب کرتے ہیں بچگانہ باتیں، تم کررہے ہو سرعام مردانہ باتیں
    ذرا اپنی پیاری سی صورت تو دکھاؤ، ذرا اپنا یہ ماسک تو اٹھاؤ
    میں ان کی سازش کو سمجھ گیا اور ماسک اتارے بغیر کہا…

    یہ سب راز قدرت نے غیب میں چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    اک روز ہمارا امتحاں ہوا، امتحاں نہیں بلکہ طعنۂ جاں ہوا
    اس روز بھی ماسک نے ہماری کم علمی کو چھپایا، پہلے کا A دوسرے کا D ہر کوئی چلایا
    آج بھی ہمارے کارنامے اس لیب چھپا رکھے ہیں
    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں.

    جناب منصف!
    زمانہ بہت خطرناک ہے. ہر کوئی شاطر ہے، ہر کوئی مکار ہے.
    آج کے انساں نے اپنے اندر کیا کیا مکر و فریب چھپا رکھے ہیں
    یہ تو خدائی ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں

    ماسک نے بڑے بڑوں کے عیب چھپا رکھے ہیں…!

  • قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    فضائی آلودگی؛نقصانات اور حل:

    آب و ہوا ہر جاندار کی زندگی کی ضمانت ہے آلودہ فضائی ماحول انسانوں کے لیے مضرِ صحت ہے ہوا کی آلودگی یعنی گندگی بعض اوقات تو پاک صاف علاقوں میں بھی واقع ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی ہوتی ہے عام طور پر ہر شخص کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی کہ موسم کی تبدیلی خرابئ صحت کا باعث بنتی ہے تبدیلی کے اس مختصر عرصہ میں عموماً نزلہ زکام بخار اور گلا خراب جیسی شکایات ہر دوسرے فرد کو رہتی ہیں، فضائی آلودگی کی دیگر وجوہات میں ٹریفک کا دھواں، بھٹیوں کا دھواں، کارخانوں اور مِلوں کے زہریلے گیس وغیرہ شامل ہیں جو پلاسٹک، کچرا، ربڑ کے ٹائر اور دیگر ضائع مواد جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

    یہ زہریلے گیس قدرتی ہوا میں شامل ہو کر فضاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بس میں ہو تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکس تو مِل مالکان عوام پر لگا ہی چکے ہیں جس میں حکومت برابر کی شریک ہے۔

    ہم ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یہاں مریضوں کی کُل تعداد کا نصف سے زائد حصہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ان شفا خانوں کا مستقل گاہک ہے۔ اصل میں یہ کم علم غریب عوام حسبِ استطاعت اپنی سانس کا ٹیکس ادا کرنے قطاروں میں کھڑے، ویل چیئرز پر بیٹھے یا بے بس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

    فضائی آلودگی کے نقصانات سے حکومتی ادارے اور کارخانے دار لا علم تو نہیں مگر بے پرواہ ضرور ہیں۔ لیکن یاد دہانی عرض کیے دیتا ہوں کہ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق مبینہ طور پر تمام بیماریوں کی بڑی وجہ فضا میں موجود زہریلے ذرات ہوتے ہیں کہ جن سے پھیپھڑوں کے کینسر اور دمے جیسے بڑے امراض سمیت اعصاب کی کمزوری دماغ پر برے اثرات جگر کے فیل ہونے اور چند چھوٹے امراض الٹی آنا، چکر آنا گلا خراب اور خشک کھانسی وغیرہ شامل ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے میری معلومات کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے فضائی آلودگی والے شہروں میں ماہِ اکتوبر اور نومبر میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ان مہینوں میں موسمی تبدیلی تو خرابئ صحت کی بڑی وجہ بنتی ہی ہے مگر فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ان سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں صحت مند افراد کے لیے بھی مضر ثابت ہوتی ہیں اور شہر بھر کے اسپتالوں اور نجی کلینکس پر شہریوں کا جمِ غفیر موجود رہتا ہے ایسے حالات میں بے بس انتظامیہ روز اخبارات میں چند آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کی فوٹو لگا کر عوام الناس کے جذبات کو تسکین پہنچانے کی نیم کامیاب کوشش کرتی ہے مگر کارخانے دار چند روپیوں کے عوض غریب کے سانس پر ٹیکس لگانے کا اجازت نامہ دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر پورا سال آزادی سے انتظامیہ کی سرپرستی میں آلودگی پھیلانے کا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔

    یاد رہے یہ ایسے ملک کی حالت ہے کہ جنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ان کا ملک دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں اول یا دوم رہا ہے، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور بہاولپور وغیرہ پاکستان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو جاتے ہیں کیا خوب ہو کہ قبل از وقت ان معاملات پر ایمرجنسی بنیادوں پر ان مشکلات کے حل کے لیے کام کر لیا جائے .

    چند سرکاری افسر جو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لیے حکومتی حکم ناموں کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے لوگ آج بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اچھے آفیسرز اپنے فرائض پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے وہ مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر جاتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس بھی اگر ایمانداری کے ساتھ پورا سال لوگوں کو ذہریلے دھوئیں کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب جرمانہ کرے اسی طرح دیگر ایسے عوامل جو ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں حکومتی سطح پر اس کی آگاہی مہم پورا سال چلائی جائے اور عوام الناس کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، درخت لگانے کے لیے جا بجا سہولتیں دی جائیں اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو فضائی آلودگی کے شدید ترین نقصانات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے جس میں بہر صورت عوام الناس کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔

  • نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟

    نہم کے نتائج ذمہ دار کون ؟
    تحریر : رانا شہباز نثار
    گذشتہ روز پنجاب میں جماعت نہم کے سالانہ امتحانات کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا جس میں1 لاکھ 48 ہزار طلبہ فیل ہو گئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا فیل ہونا قابل افسوس ہے کہ ہماری انگلی نسل کس طرف جا رہی ہے اس میں کس کا قصور ہے موبائل فون کا بے دریغ استعمال ، کورونا پالیسیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام تباہ، والدین کی طرف سے عدم توجہ یا سکولوں میں اساتذہ کی پڑھانے میں عدم دلچسپی۔ اگر اسی طرح ہمارا نظام رہا تو ہم بہت دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے. بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے اسکی وجہ والدین کا بچوں پر توجہ نہ دینا اور بچوں کی تربیت میں اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ ان کا بچہ کیا کر رہا ہے آج کل بچے کی توجہ پڑھائی سے زیادہ TikTok اور PUBG کی طرف ہے جتنے بھی بچے فیل ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر بہت اچھے ٹک ٹاکر اور PUBG کے پلیئر ہوں گےاور والدین بچوں کو سکول چھوڑ کر ساری ذمہ داری ٹیچرز پر ڈال کر سمجھتے ہیں کہ سکول والے خود ہی بچے کی تربیت کر لیں گے۔
    اس کے علاؤہ ہمارے اس تعلیمی نظام کی تباہی میں حکومت کا کردار بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ حکومت مفت معیاری تعلیم نہیں دے پا رہی اور پرائیوٹ سکول میں علم دیا نہی جاتا بلکہ بیچا جا رہا ہے پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر غریبوں کو لُوٹ رہے ہیں اور اتنی مہنگی تعلیم ہو چکی ہے کہ عام آدمی اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے اسے کسی ورکشاپ یا حجام کی دکان پر رکھوا دیتا ہے کہ کوئی کام سیکھ لے ۔ کورونا وائرس سے جہاں دنیا کی معیشت تباہی ہوئی وہاں سکول بند کرنے سے تعلیمی نظام بھی تباہ ہو گیا بہت سے غریب اور مڈل کلاس طلبہ ایسے ہیں جو کورونا میں سکول چھوڑ کر دوبارہ تعلیم جاری نہیں کر سکے ان میں زیادہ تر بچے گھریلو حالات مہنگائی کی وجہ سے اور تعلیمی اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹلوں وغیرہ میں یا کسی اور کام پر لگ گئے ہیں۔ مجھے اکثر اوقات باہر ہوٹلوں پر کم عمر بچوں سے ملاقات کا موقع ملا اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ بیٹا آپ پڑھتے کیوں نہیں تو ان میں اکثر کا جواب یہی ملتا ہے کہ وہ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن گھریلو حالات کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکے تو وہ کام پر لگ جاتے ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی نظام جو ٹھیک کرنے کے لیے اساتذہ، والدین اور حکومت کو بھی اس کام کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں سے اساتذہ کی سیاسی گروپ بندی ختم کروانی ہو گی اساتذہ کی تعلیمی پراگریس رپورٹ ہر سال کی پبلک کی جانی چاہیے اب جتنے بچے فیل ہوئے ہیں ان میں اساتذہ سے بھی جواب لینا ہو گا کہ اسکی کیا وجہ ہے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی نہیں یا اساتذہ کرام بچوں کی تیاری ٹھیک سے نہیں کروا سکے۔ ہر استاد اپنے مضمون کے بارے میں رپورٹ دے اگر اساتذہ کے خلاف ایکشن نہیں ہو گا تو ہمارا تعلیمی معیار ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ سرکاری ٹیچرز کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ہم یا ہمارے ساتھی کتنی محنت کرتے ہیں بچوں پر۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مانانوالہ ہائی اسکول کے نہم کلاس میں ٹوٹل 393 طلبہ میں سے 54 لڑکے پاس ہوئے اور 339 لڑکے فیل ہوئے اسی طرح گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول میں 329 طالبات میں سے 112 طالبات پاس اور 217 طالبات فیل ہوئیں جو کہ والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے
    اب اگر لاہور بورڈ کے اوور آل رزلٹ کو دیکھا جائے تو 266071 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 260325 طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے 112644 طلبہ پاس ہوئے جو کہ 43.27 فیصد ہے اور اس میں سرکاری اسکولز میں سے 118472 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 115940 طلبہ نے امتحان دیا جس میں سے 42187 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل رزلٹ کا 36.99 فیصد بنتا ہے ۔ پرائیوٹ سکولز میں سے 73048 طلبہ کا داخلہ ہوا اور 72208طلبہ امتحان میں شامل ہوئے جس میں سے 48211 طلبہ پاس ہوئے جو کہ کل 66.77 فیصد بنتا ہے۔
    اس طرح کا رزلٹ اگر ہمارے سرکاری سکولوں میں سے آئے تو یہ لمحہ فکریہ ہوگا پنجاب سرکار کو اس طرف توجہ دینی ہوگی کیونکہ ہماری آبادی زیادہ تر مڈل کلاس طبقہ پر مشتمل ہے اور اتنی مہنگائی میں پرائیویٹ سکولز کے اخراجات برداشت کرنا بہت مشکل ہے تو وہ سرکاری سکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرواتے ہیں سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کی نسبت زیادہ پڑھے لکھے اور قابل ٹیچرز میسر ہیں لیکن اس کے باوجود اتنا گندا رزلٹ آیا اس پر وزارت تعلیم ایکشن لے اور تعلیمی نظام کو درست کرے ۔

  • چونیاں – ملاوٹ شدہ ، دودھ اور دہی کی فروخت دھڑلے سے جاری

    چونیاں – ملاوٹ شدہ ، دودھ اور دہی کی فروخت دھڑلے سے جاری

    باغی ٹی وی : چونیاں(نامہ نگار) گردونواح میں ناقص اجزاء سے ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت عروج پر، دوکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تحصیل انتظامیہ اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مبینہ خاموشی سے شہریوں میں تشویش کی لہر، چونیاں کے مختلف علاقوں چھانگا مانگا، چونیاں، الہ آباد، کنگن پور, تلونڈی و دیگر علاقوں میں دکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے رات و رات امیر بننے کے چکر میں ملاوٹ شدہ کیمیکل پوڈر والا دودھ ڈرموں میں بھر کر شہر لایا جاتا ہے اور مختلف علاقوں محلوں اور گلیوں میں من پسند قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے ملاوٹ شدہ کیمیکل دودھ کو خالص بتا کر من پسند قیمت میں فروخت کیا جاتاہے۔ شہر بھر میں مضر صحت دودھ کی سپلائی جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی ملاوٹ شدہ دودھ کی سپلائی روکنے میں ناکام چونیاں شہر کو ملاوٹ شدہ دودھ سے کب پاک کیا جائے گا۔ اس کا جواب کسی بھی متعلقہ محکمے کے پاس نہیں شہریوں نے ڈی سی قصور فیاض موہل سے اس ناقص دودھ دہی فروخت کرنے والے ان ظالم دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور انتظامیہ سے خاص طور پر ڈی سی قصور سے اپیل کی ہے کہ تحصیل انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی قصور ان ظالم ملاوٹ مافیا کو لگام دلوائیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔