Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — جویریہ اشرف

    پاکستان اس سال 75 سال کا ہو گیا ہے۔سمجھیں بچپن سے نکل کر لڑکپن میں داخل ہو رہا ہے۔بچپن کسی کا بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔بہت سی غلطیاں، کوتاہیاں اور بہت سی ٹھوکریں کھا کر ہی بچپن سے کچھ سیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں بسنے والے پاکستان پر تنقید کے ایسے نشتر برساتے ہیں کہ منٹوں میں اسے لہو لہان کر دیتے ہیں لیکن وہ یہ کرتے ہوئے ایک بار بھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔ہم کبھی نہیں سوچتے کہ ہم نے اس بچے کے ساتھ جو اتنی مشکلوں سے گزر کر سانسوں کو بحال رکھنے کی جد وجہد میں ہے، ہم نے اسے کب کب اور کہاں کہاں آکسیجن مہیا کی یا ہمیشہ اس کی آکسیجن چھیننے کا سبب ہی بنے۔ یہ بحث لمبی ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا۔آج اگر ہم 1947 کو پیدا ہونے والے اس بچے کاآج 2022 تک موازنہ کریں تو ہماری آنکھیں کبھی اس کی تکالیف دیکھ کر بھر آئیں گی، کبھی اس کی کامیابیاں دیکھ کر لب مسکرا اٹھیں گے۔کبھی ہمیں اس کی بیبسی پہ غصہ آئے گا تو کبھی اس کی ہمت پہ رشک۔

    آخر،

    ٖؔ اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
    ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا

    1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارہ ہونا تھا۔ بٹوارہ ہوا لیکن پاکستان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو ایک سوتیلے بیٹے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔سارا حصہ اپنے پاس رکھ کر بچا کھچا دے کر جان چھڑوانے کی کوشش اور یہ ہی پاکستان کے ساتھ بھی ہوا۔تقسیم چاہے بینک میں پڑے پیسوں کی ہو یاں پھر فوجی دستوں کی، ہر جگہ سے اس نا مولود کو محروم رکھا گیا۔مگر عزم جواں تھا، ہمت تازہ تھی۔ سو راہ جنوں کے مسافر چلتے رہے اور بالآخر یہ کہنے میں کامیاب ٹہرے۔
    کہ
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں

    آج پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بھی۔ایشیا کی دوسری اور مسلم ممالک کی واحد ایٹمی قوت یہ ارض وطن ہی ہے۔اس وقت اگر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں 174 یونیورسٹیز قائم ہو چکی ہیں۔پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 464 کارخانے کام کر رہے ہیں۔ 1201بڑے ہسپتال موجود ہیں۔یہ تعداد اس سے کء گنا زیادہ ہو سکتی تھی اگر اس ارض پاک کو دوسروں کی جنگ میں نہ جھونکا جاتا۔

    2011 کے بعد جب پاکستان میں دہشت گردی کی لہر اٹھی تو زندگی جیسے مفلوج ہو گئی تھی۔ہر شخص ہر لمحے موت کو ہاتھ پر رکھ کر چلتا تھا کہ نا جانے کب کوئی جنت کا طلبگار آئے اور اس زندگی کا چراغ بجھا جائے۔پچھلے دس 11 سالوں میں پاکستان نے اس دہشت گردی کے ناسور کو مٹانے کے لئے 67.93 بلین ڈالرز یعنی کے 5037 بلین روپے خرچ کر چکا ہے۔۔ان پیسوں سے کئی کارخانے، ہسپتال، اور یونیورسٹیز بن سکتی تھیں۔

    مگر افسوس یہ فراموش کر دیا گیا کہ،

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    مزید برآں اس جوان ہوتے بچے کو روانی کے ساتھ قدم نہ اٹھانے دینے کی دوسری بڑی وجہ کرپشن ہے۔کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو ایسے کھوکھلا کیا ہے جیسے دیمک خشک لکڑی کو کرتی ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرپشن صرف وہی ہے جو یہ بڑے بڑے سیاست دان کرتے ہیں؟؟

    نہیں کرپشن وہ بھی ہے جو ہم سب روز کرتے ہیں۔ریڑھی والے سے لے کر بڑی ملز والوں تک۔ ہم سب نے ملکر اس ملک کو کمزور کیا ہے۔جب ہم ایک معمولی سا کام نکلوانے کے لئے کسی دفتر میں کسی آفس میں پانچ سو سے ہزار تک کا نوٹ چپکے سے کسی کلرک یا منشی کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، تو وہ بھی کرپشن ہے۔ کیونکہ ہم کسی اور کا حق اور وقت اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔جب ایک چھوٹی سی دکان چلانے والا دس روپے کے لئے ترازو کا پلڑا ہلکا کرتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہے۔جب ایک ریڑھی والا نیچے خراب پھل ڈال کر اوپر اوپر اچھے پھل ڈال دیتا ہے تو وہ بھی کرپشن ہی کر رہا ہوتا ہے۔

    حالانکہ

    ”اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

    مگر ہم قول و فعل کے تضاد کے مارے اپنا مذہبی اصول ہی بھول چکے ہیں۔

    19مگر غور کیا جائے تو 1947 سے 2022 تک کا پاکستان بہترین نا سہی لیکن بہتر ضرور ہے۔اسے بہترین ہم نے بنانا تھا لیکن ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں نے جو کبھی ہم نے دوسروں کی جنگ میں کود کر کیں۔کبھی اپنی منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری نا کرنے دے کر اور کبھی کرپشن کو صرف سیاست دانوں تک محدود کر کے ہم نے اس ملک کو بہترین بننے سے روکے رکھا لیکن الزام ہمیشہ ہم نے ”پاکستان ” کو دیا۔

    حالانکہ ان حالات کے ذمہ دار ہم تھے۔ وہ ہے نا کہ

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    اس مملکت خداداد کے قیام میں ہزاروں قربانیاں دی گئیں۔ کتنے سہاگ اجڑے، کتنی عزتیں پامال ہوئیں اور بیحساب لہو شہادت کے جام میں پیش کیا گیا۔ اپنی الگ حیثیت کے لیے آزاد وطن پانے کا ایمان کامل ان سب وجودوں میں وجود تھا۔ تبھی وہ سب لا الہ الا اللہ کا علم تھامے اپنا سب کچھ فدا کرنے پہ راضی تھے۔

    آج پھر سے یہ قوم اس ایمان سے خالی ہے جس نے اسے پاکستان کی صورت اک وجود بخشا تھا۔

    مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم اک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اک دوسرے کو آگے بڑھنے کی طاقت اور حوصلہ دیں تاکہ جب یہ پاکستان پروان چڑھے تو ہمیں موردالزام نا ٹہرایا جا سکے۔ہم اس کے سامنے سر جھکا کے نہیں بلکہ سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔

    کیونکہ،

    جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
    جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
    وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے
    مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

  • باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    باغی تحریری مقابلہ – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — نوریہ مدثر

    آج سے پچھتر سال پہلے مسلمانانِ ہند نے ہندو اور برطانوی سامراج سے جو جنگ لڑی تھی ، وہ صرف اک خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے جداگانہ تشخص کے بقا کے لیے تھی ۔

    اور اس جنگ کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جب مسلمان کو ”مسلا” کہا گیا تھا۔ اپنے الگ وجود الگ نظریے کا ادراک کرنے کے بعد ہی اک منزل اک نشاں کی جانب چلتے وہ راہ ِجنوں کے مسافر اپنا مقصد پانے کے لیے پریقیں تھے۔

    اور 75 سال پہلے یہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ مگر آج 75 سال بعد کے حالات دیکھ کر بے ساختہ فیضؔ کا کہا یاد آتا ہے کہ،

    یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    کیونکہ آج 75 سالہ مملکت خداداد پھر سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ مگر کیا یہ جنگ پہلے دن سے ہی ہمارا مقدر تھی؟

    یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق کھنگالنا ہوں گے۔ گذشتہ سالوں میں اس ارض پاک کے ساتھ برتا جانے والا احوال دیکھنا ہو گا تبھی ہم کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔ میری دانست میں یہ 75 سال مختلف ادوار جیسے تربیتی ،تخریبی، تعمیری ،تعبیری کے تناظر میں دیکھے جائیں تو صورت حال واضح ہو سکتی ہے کہ ہم آج کس مقام پہ موجود ہیں۔

    ﴿ تعبیری دور ﴾
    1947 ء سے 1967 ء

    یہ بیس سالہ دور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے تعبیری اہداف قائم کرنے کا دور تھا۔

    آزادی کے ابتدائی بیس سال وہ سال تھے جب عزم جواں تھا۔ ہمت تازہ تھی اور جنوں لہو کے ہر قطرے میں موجزن تھا۔کیونکہ نوزائیدہ ریاست کو کئی محاذوں کا سامنا کرنا تھا۔ سو انہی مقاصد کے حصول کے لیے 1949 میں ”قرارداد مقاصد ” منظور کی گئی جس کے مطابق پاکستان کا آئینی ڈھانچہ یورپی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت اور نظریات پہ مبنی ہونا طے تھا۔

    چونکہ ابھی تربیتی دور کا آغاز تھا سو ہر سال اک نیا سنگ میل عبور ہوتا گیا۔

    آنکھوں کی چمک ہر گام بڑھتی گئی۔ اور تب تب جنون نظر آتا گیا جب جب نعرہِ پاکستان بلند کیا گیا۔

    پھر چاہے وہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہو یا قومی ترانے کی منظوری، معاشی ترقی کے ضامن اسٹیٹ بینک کا قیام (1948) ہو یا ملک مقدم کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنا مقصود ہو۔یا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اوول کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف پہلی فتح ہو یا دہائیوں تک فضاؤں پہ راج کرتی پاکستان ائیر لائنز کا قیام (1955)۔

    یا ہاکی ٹیم کا اولمپکس میں جیتا پہلا گولڈ میڈل، (1960)،یا سوئی کے مقام پہ گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت(1952)۔

    سبھی سنگ میل اسی پیام کا عملی ثبوت تھے کہ ،
    تجھ سے ہے میری تمناوئں کی دنیا پُرنور
    عزم میرا ہے قوی ، میرے ارادے ہیں غیور
    میری ہستی میں انا ہے، مری مستی میں شعور
    جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن
    اے میرے پیارے وطن

    اگرچہ اس بیس سالہ عرصے میں سیاسی ایوانوں میں مارشل لاء (1958) اور اسمبلیوں کی تحلیل (1953) کی گونج بھی گونجتی رہی۔ مگر حالات بہتر سے بہتری کی طرف ہی گامزن تھے۔

    اور سب سے بڑی کامیابی 1965 کی وہ جنگ تھی، جو بزدل دشمن نے اس سوچ کے تحت چھیڑی تھی کہ یہ گرتا لڑکھڑاتا ملک کیونکر اپنا دفاع کر سکے گا۔ مگر عظیم قوم نے غیور افواج کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست فاش دی۔ تب ہر پاکستانی کے لب پہ اک ہی نغمہ تھا کہ

    ؂ میری زمیں میرا آخری حوالہ ہے
    سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے

    ﴿تربیتی دور ﴾
    1967 سے 1987

    یہ دور جہاں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم رہا۔ وہیں یہ ماہ و سال سازشی عناصر کی رچائی چالوں کے زد میں بھی رہے۔
    گویا تعمیری و تخریبی دونوں حالات مل کے اعصابی تربیت کرتے رہے۔

    کھیل کے میدان میں اس بیس سالہ عرصے میں سبز پرچم کبھی جہانگیر خان اور کبھی جان شیر خان کے دم سے لہلہاتا رہا۔مگر اصل مزہ اس جیت کا تھا جو ہاکی ٹیم نے ازلی دشمن کو ایشین گیم (1970) میں دی تھی۔

    مگر افسوس پاکستان اس دشمن کو سیاسی محاذ پہ نہ ہرا سکا۔ اور اس دشمن نے پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کو مزید ہوا دیتے 1971 میں مشرقی پاکستان پہ حملہ کر دیا۔ آہ! اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو کے پاکستان کو اپنے اک حصے سے محروم ہونا پڑا۔

    تب پھر سے سہاگ اجڑے، عزتیں پامال ہوئیں، لہو بہا۔ مگر اک الگ نظریے کے لیے نہیں۔ بلکہ ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے۔
    اس روز شہداء پاکستان فریاد کرتے رہ گئے کہ

    ؂ رشتہ دیوار و در تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
    مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

    پاکستان قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے ۔ سو اک سانحے سے گزر کے بھی زخمی دل زخمی روح لیے سفر پھر سے شروع ہوا۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے (1974) ملکی ترقی پہ توجہ مرکوز کی گئی۔ معاشی ترقی کی ضامن پاکستان سٹیل ملز نے کام کرنا شروع کیا(1981)۔

    اور اگلے ہی برس ہاکی ورلڈ کپ میں شاندار فتح نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا (1982)۔ اور سب سے بڑھ کے دفاعی استحکام کے لیے عبدالقدیر قدیر خان سائنس لیبارٹریز قائم کی گئی (1976)۔اور ڈاکٹر عبدالسلام (1979) پہلا نوبل پرائز جیتنے میں کامیاب ٹہرے۔
    گویا پاکستانی عوام سمجھ گئے ہوں،

    ؂ موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
    گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

    ﴿تعمیری دور ﴾
    1987 سے 2007

    یہ ماہ و سال بھلے ہی معاشی و دفاعی شعبے میں کئی انقلاب برپا کر گئے۔مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔

    کبھی سمبلیوں کی تحلیل (1988) نے تعمیری اہداف سے دور کیا تو کبھی ایمرجنسی (2007) کے شکنجے نے ملکی حالات پہ خاصا اثر ڈالا۔
    مگر اس سارے دورانیے میں بھی عزم بلند رہا اور اسی عزم سے تعمیری اہداف طے ہوتے رہے پھر چاہے وہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت (1992) ہو، یا میانداد کے چھکے سے دشمن کے چھکے چھڑوانے والی شارجہ کی فتح (1999)، یا جہانگیر خان کا مسلسل دسیوں بار سکواش اوپن چیمپئین شپ جیتنا ہو (1991)۔

    مگر اس بیس سالہ عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایٹمی طاقت (1998) کا مالک بننا تھا۔ گویا

    ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں نہیں آئی

    ﴿ تخریب سے تعمیر تک ﴾
    2007 سے 2022

    2012 کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

    اگرچہ ان پندرہ سالوں میں پاکستان کو سیاسی استحکام بھی نصیب ہوا ہے مگر ملک و قوم نے تخریبی اور تعمیری دونوں حالات سہے ہیں۔
    کیونکہ گذشتہ سالوں میں دہشت گردی کی نذر ہزاروں جانیں ہوئیں ہیں ۔ مسجد، مزار، چرچ، پارک، تھانہ، بازار، سکول۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں خون کے چھیننے نہ پڑے ہوں۔ اس دہشت گردی سے ملکی سکون تو متاثر ہوا ہی مگر ،

    اس دورانیے کا سب سے تکلیف دو پہلو پاکستان کو عالمی سطح پہ تنہا کرنا تھا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پہ ہوئے حملے نے پاکستان پہ نہ صرف کرکٹ کے دروازے اک دہائی تک بند رکھے۔ بلکہ سیاحتی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔

    مگر سلام ہو ہماری افواج پاکستان کو۔

    جنہوں نے آپریشن راہِ راست (2009)، راہِ نجات، اور حالیہ(2021) رد الفساد سے تخریبی قوتوں کا خاتمہ کیا ہے۔

    پاک وطن سے شرپسندوں کا نشان مٹاتے شہادت کی منزل پاتے غیور کیپٹن بلال ظفر (2009) سے لے کر عزم تعمیر لیے جامِ شہادت نوش

    کرنے والے لیفٹینینٹٹ جنرل(2022) سرفراز علی تک، سبھی شہداء ہمارا فخر ہیں۔ کیونکہ یہ امن انہی کی دی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ورنہ کہاں وہ دور جب عالمی تنہائی کے مارے ملک میں زمباوے جیسی ٹیم بھی آنے سے انکاری تھی اور کہاں یہ دور کہ زمباوے سے لے کر آسٹریلین ٹیم (2022) بھی پاکستان آ کے پاکستانی زمیں پہ کھیل چکی ہے۔

    اور تو اور پاکستان سپر لیگ کے 7 سیزن بھی ہو چکے۔

    مگر حالیہ او آئی سی کانفرنس(2022) کا پاکستان میں انعقاد سب سے اہم سنگ میل ہے۔

    بلاشبہ پاک فوج اور عوام دونوں ہی قابل تحسین ہیں جنہوں نے تخریب سے تعمیر کا سفر طے کر کے اک مثال قائم کی ہے۔ مگر یاد رہے،

    ؂ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    آج 75 سالہ پاکستان صرف اور صرف اپنی قوم کے ساتھ کا ممتنی ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی ہاتھ کی ضرورت نہیں بلکہ عزم و ہمت سے سرشار اک دل اک جاں لیے اک قوم درکار ہے۔ سو ہمیں وطن عزیز کی پچھترویں سالگرہ پہ بحیثیت پاکستانی اپنا احتساب کرنے اور قبلہ درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوچنے کی ضرورت ہے کہ

    جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے وہ عہد کیا ہم نبھارہے ہیں
    وطن کی راہوں میں ہم وفا کے گلاب کتنے کھلارہے ہیں
    یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر ہمارے گھر کو جلارہے ہیں
    چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے

  • ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سان فرانسسكو: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کےنتیجےمیں بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے کم لاگت والا اور مؤثر نیا لیزر علاج دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کے نتیجے میں بینائی سے محروم مریضوں کے علاج پر تحقیق کرنے والے ایک نئے کلینیکل ٹرائل نے لیزر علاج کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے، جو مریضوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے بہترین آپشن پیش کرتا ہے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تاہم فی الحال ڈائیبیٹک میکیولر اوئیڈِما(ڈی ایم او) میں مبتلا افراد کو متعدد علاج میسر ہیں جن میں دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کےانجیکشنز شامل ہیں۔

    اس وقت ذیابیطس میکیولر اوئیڈِما (DMO) والے لوگوں کو علاج کے کئی اختیارات پیش کیے جاتے ہیں، بشمول دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کے انجیکشن۔ ڈی ایم او ذیا بیطس کےمریضوں کی بینائی کو پیش آنے والا سب سے عام مسئلہ ہے جس میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔

    ڈی ایم او تب ہوتا ہے جب ریٹینا میں موجود خون کی رگیں رسنے لگتی ہیں اور بالکل سامنے کا منظر دکھانے والے حصے ’میکیولا‘ پر مواد جمع ہوجاتا ہے۔رگوں کا رسنا تب شروع ہوتا ہےجب بلند بلڈ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    ڈی ایم او کی شدت کا تعین اکثر میکولا کی موٹائی کی پیمائش کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو بدلے میں پیش کردہ علاج کا تعین کرے گا۔ زیادہ شدید DMO والے مریضوں (400 مائیکرون یا اس سے زیادہ موٹائی کے ساتھ) کا علاج آنکھوں میں انجیکشن لگا کر کیا جاتا ہے، جسے asanti-VEGFs کہا جاتا ہے۔

    ہلکے DMO والے مریضوں (400 مائیکرون سے کم موٹائی کے ساتھ) کا علاج میکولر لیز سے کیا جا سکتا ہے، جو معیاری تھریشولڈ لیزر یا سب تھریشولڈ مائکرو پلس لیزر ہو سکتا ہے۔ سابقہ ​​ریٹنا پر جلن یا داغ پیدا کرتا ہے۔ مؤخر الذکر، جو کہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ریٹینا پر جلنے یا داغ یا کسی بھی قسم کی نظر آنے والی تبدیلی یا نشان چھوڑے بغیر کام کرتی ہے۔

    اوپھتھیمولوجی نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب تھریش ہولڈ مائیکرو پلس لیزر مریض کی بینائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر تھی۔ اس لیزر سے ریٹینا پر جلن بھی نہیں ہوتی ہے۔

    اس لیزرعلاج کےلیے متواتر کلینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہےاور اس کی قیمت آنکھوں میں لگائےجانے والے انجیکشنز کی نسبت بہت کم ہے۔ ان انجیکشنز کی قیمت لیزر علاج سے دس گُنا زیادہ ہے۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

  • نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار


    ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔

    اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔


    ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔


    اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔

    چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اس وقت وطن عزیز کی بدنصیب عوام ایک طرف سیلابی ریلوں میں بہہ رہی ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے سیلاب میں عوام چلا اٹھے ہیں۔ مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے عوام کی روح اور جسموں پر زخم لگا رہے ہیں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی۔ موجودہ پی ڈی ایم کی حکوت نے اس کو اذیت ناک بنا دیا ہے ۔اگر پچھلی حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس کا سارا وقت کرپشن ڈھونڈنے میں لگا رہا اب پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کو ناک آئوٹ کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ معیشت کس طرح بحال کی جائے عوام کے دکھوں کا مداوا کس طرح ہوگا اس پر توجہ اور غور و فکر کرنا سیاستدانوں نے چھوڑ ہی دیا ہے ۔

    سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو مستحکم کرنے ،پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی۔ جمہور کے مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے بالخصوص ملک کے وزرائے اعظموں کو عبرت کا نشان بنانا شروع کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیشہ ہی ملک کے وزرائے اعظم عبرت کا نشان بنتے رہے۔ بھٹو اور اس کے خاندان کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے بینظیر بھٹو کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دیا گیا نوازشریف کو خاندان سمیت جلاوطن اور بھارت کا یار قرار دیا گیا اور اب اس ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ عمران خان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا کیا۔ یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں ایک دوسرے کو غدار اور سکیورٹی رسک قرار دینے والے سیاستدانوں نے اب ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے کہ ایک جماعت کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

    دوسری طرف میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے جو سیاستدان ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشتگرد قرار دیتے ہیں وہ آزاد میڈیا کے دوست ہو نہیں سکتے۔ میڈیا قومی فریضہ ادا کرے تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہمیشہ قومی سلامتی، جمہوری اداروں کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل کے لئے پارلیمنٹ سے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ آزاد عدلیہ آزاد میڈیا قوم کی امید ہیں ۔ سوال یہ ے کہ اگر یہ امید بھی ختم ہو گئی تو اس بدنصیب عوام کا کیا ہوگا۔ جس کو دال، روٹی، بجلی گیس جیسے بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اور سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے ساتھ اور جمہور کے ساتھ مذاق کرنے کے بجائے جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جمہوری اداروں کو بچانے ، ملک کی بقا و سالمیت کی فکر کرنے عوام کی زندگیوں کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

  • مٹی کیا ہے؟ .  تحریر : کامران واحد

    مٹی کیا ہے؟ . تحریر : کامران واحد

    کیا یہ بنی نوعِ انسان کے وجود کا عنصرِ اعظم ہے؟
    کیا یہ نباتات کی افزائش کا محرکِ اعلیٰ ہے ؟
    کیا یہ فرشِ زمین کی تہوں میں موجود بنیادی مرکب ہے؟
    کیا یہ ریگزاروں کا جلتا ہوا جسم ہے؟
    اور کیا یہ شہرِ خموشاں میں مردہ اجسام کی شکست و ریخت کا اصل ذمہ دار ہے؟
    جی نہیں مٹی کے معانی اس سے کہیں بلند تر ہیں
    مٹی محبت کا پہلا آئینہ ہے۔ ہمارے اور ہمارے اردگرد کے ہر قسم کے اجمالی وجود کا آئینہ، جو انسانی عکس کو سنبھالے ہوئے ہے۔

    تو جب انسان اپنی مٹی سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس دعویٰ کا اصل کیا ہے؟
    اس کا اصل اپنے مٹی سے گندھے وجود کو کسی مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنے محیط کی مٹی میں ضم کر دینا ہے۔
    اور اس کی سب سے بہترین شکل مٹی کے خالق اور وطن کی خاطر اپنے جسم وجان قربان کرنا ہے۔
    وہ انسان عظیم ہیں جو اس مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے پر مصر ہیں۔
    وہ بھی جو دن رات اپنی تمام تر قوتیں اور محنتیں اپنے مٹی کی محبت میں خرچ کر رہے ہیں اور وہ بھی جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔
    ہم مٹی ہیں اور ہمارے وطن کی عظیم مٹی میں بے شمار شہداء کی مٹی ضم ہے۔
    ان سرپھروں کی مٹی جو اپنی جوانیاں اس مٹی کی حفاظت میں لٹادیتے ہیں۔
    ان مٹی سے بنے انسانوں کو مٹی اپنے سر کا تاج سمجھتی ہے اور اپنے اوپر ان کی نقل و حرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہے۔

    مگر افسوس یہ ہے کہ اسی مٹی کا احسانِ وجود اٹھانے والے کچھ مٹی سے بنے لوگ، ان جوانیاں لٹانے والوں کی توھین اور استہزاء میں سرگرمِ عمل ہیں-
    ایسے لوگ ضمیر فروش بھی ہیں اور احسان فراموش بھی۔
    بھلا اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور ضمیر فروشی کیا ہوسکتی ہے کہ اسی مٹی سے بنے انسان کو اپنے وطن کی مٹی کی تزئین اور ارتقاء سے بیر ہوجائے۔
    آخر کون لوگ ہیں یہ۔ ان کی پہچان کیا ہے۔
    ان کی سب سے بڑی پہچان ان کے سینوں میں موجود مٹی کا بغض ہے جو ان کے مٹی سے بنے ہونٹوں سے زہر کی طرح اگلتا ہے۔
    اے مٹی کے بنے انسانو! مٹی کے ان دشمنوں کو پہچانو۔ وگرنہ شہرِ خموشاں کی مٹی اپنا قرض سود سمیت وصول کرنے کو تیار ہے۔

  • ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    انعام یافتہ ترک کیمیا دان کے مطابق، حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک منفرد مالیکیول استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : عزیز سنجار کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے کینسر کے علاج کے لیے ایک منفرد ای ڈی یو (EdU) نامی مالیکیول کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے میں انہوں نے بتایا ہے کہ 2008ء سے مالیکیولر حیاتیات میں استعمال ہونے والے ای ڈی یو (EdU) مالیکیول کا شمار مقبول ترین مالیکیولز میں کیا جاتا ہے۔

    نوبل انعام یافتہ سائنسدان سنجار نے کہا کہ میں نے 10 سال تک ڈی این اے میکانزم پر کام کیا، جس کی وجہ سے مجھے یہ انعام ملا۔

    انہوں نے تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری میں اس تحقیق پر کام شروع کیا، صرف 1 ماہ کے بعد فروری میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ای ڈی یو مالیکیول دماغ میں موجود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔

    ترک سائنسداں عزیز سنجار نے تمام ضروری معائنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے دماغ کے کینسر کے خلاف پیش قدمی کر لی ہے تحقیق سے یہ دریافت ہوا ہے کہ ای ڈی یو دماغ کی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک مؤثر انتخاب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ای ڈی یو کینسر کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باوجود خون کو دماغ تک رسائی دے سکتا ہے جو کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی موجودہ بیشتر ادویات سے بھی ممکن نہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تحقیق نے دریافت کیا کہ خون دماغی رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ای ڈی یو "دماغ کے رسولیوں کے علاج کے لیے ایک امید افزا آپشن” ہے۔

    زیادہ تر ادویات خون سے دماغ تک نہیں جا سکتیں۔ مثال کے طور پر، کیمیکل سسپلٹین، جو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دماغ کی خرابیوں کے علاج کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ یہ ای ڈی یو بغیر کسی مشکل کے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔

    دریافتوں کو انسانوں پر آزمانے سے پہلے چوہوں کو استعمال کیا جائے گا۔

    سنجار کے مطابق، چوہوں پر تحقیق میں دو سال لگیں گے۔ سنجار نے کینسر کے مریضوں کو بتایا کہ وہ فی الحال یقین رکھتے ہیں کہ انسانی ادویات میں صرف 3 فیصد دریافتیں ہی کارگر ثابت ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ امید رکھیں اور اس وقت دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں،” میرا پیغام ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ سے تعلق رکھنے والے کیمیائی سائنسداں عزیز سنجار ترکیہ ہی میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا ہے انہوں نے ڈی این اے میکانزم پر 10 سال تک کام کیا ہے، ڈی این اے میکانزم کے شعبے میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2015ء میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

  • تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کلائمٹ چینج سے خود امراض کی شدت اور انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی نے 200 سے زیادہ متعدی امراض اور درجنوں غیر منتقلی حالات، جیسے زہریلے سانپ کے کاٹنے کو بڑھا دیا ہے۔ آب و ہوا کے خطرات لوگوں اور بیماری پیدا کرنے والے جانداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، جس سے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کچھ حالات کو مزید سنگین بھی بنا سکتی ہے اور متاثر کر سکتی ہے کہ لوگ انفیکشن سے کتنی اچھی طرح لڑتے ہیں۔

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    جامعہ ہوائی کے ڈیٹا سائنٹسٹ کیمیلو مورا نے بتایا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے نہ صرف دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں بلکہ ہم انسان ان سے لڑنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں کئی ایک موسمیاتی شدتوں سے جراثیم کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور ان کا انسانی حملہ شدید ہوسکتا ہے بلکہ ہو بھی رہا ہے۔

    اس تحقیق میں کل 77 ہزار تحقیقی مقالوں، رپورٹ اور کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں موسم اور انفیکشن امراض کے درمیان تعلق موجود تھا گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ رہی ہے ان تبدیلیوں سے نصف سے زائد امراض انسانوں کو قدرے شدت سے بیمار کرسکتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی اور بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں سے پیدا ہونے والے دس خطرات بڑی موسمیاتی تبدیلیوں میں تپش، ہوا میں نمی، سیلاب، خشک سالی، طوفان، جنگلات کی آگ، گرمی کی لہر اور دیگر محرکات شامل کئے ہیں ان میں بیکٹیریا، وائرس، جانوروں، فنگس اور پودوں کے ذریعے پھیلنے والے یا متحرک ہونے والے انفیکشن شامل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ تمام کیفیات جراثیم اور انسان کے درمیان رابطہ بڑھا رہی ہیں اور انسان بیمار ہو رہا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    کیمیلو مورا، یونیورسٹی آف ہوائی کے مانووا میں ڈیٹا سائنسدان، اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کے ثبوت کے لیے لٹریچر کا جائزہ لیا کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی ڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سطح سمندر میں اضافہ اور خشک سالی نے تمام دستاویزی متعدی بیماریوں کو متاثر کیا ہے

    ماہرین نے کہا ہے کہ خود انسان کے پاس بھی اس فوری تبدیلی سے نمٹنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ گہرائی میں دیکھنے پر ایک تو موسم جراثیم یعنی بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کے لیے طویل عرصے کے لیے موافق ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی افزائش کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ وائرس اور جراثیم کا وار سخت و شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    گرمی بڑھنے سے مچھروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور نتیجے میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر بارش اور طوفان کا پانی ہفتوں ایک جگہ موجود رہتا ہے جو جراثیم کے لیے ایک موزوں جگہ بن جاتا ہے اور اس طرح کئی طرح کے بخار، ویسٹ نائل فیور اور لیشمینیا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    رپورٹ کے مطابق فصل اور اجناس میں غذائیت کم ہونے سے خود انسان کا امنیاتی نظام بھی کمزور ہورہا ہے جس سے ہم طرح طرح کی بیماریوں کا ترنوالہ بن سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے تناظر میں انسانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

    شارلٹس وِل میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے ایک وبائی امراض کے ماہر جوش کولسٹن کا کہنا ہے کہ "بنیادی طور پر تمام آب و ہوا کے اثرات اور تمام متعدی پیتھوجینز کو ایک کاغذ میں دیکھنا انتہائی پرجوش ہے وہ بہت اچھی طرح سے معلومات کی ایک بہت بڑی مقدار کی ترکیب کرتے ہیں۔

    مورا کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ان بہت سے طریقوں کی پیمائش کرتا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی انسانی بیماریوں کو متاثر کرتی ہے۔ "ہم اپنی باقی زندگی کے لیے اس سنگین خطرے کے سائے میں رہیں گے-

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

  • سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    یورپی خلائی ایجنسی سرخ سیارے مریخ پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ بنایا ہے جو مستقبل کے مشن کے لیے خلانوردوں کی آبی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس اہم کام سے ہم نہ صرف پانی سے لبالب بھرے مریخی ماضی کو سمجھ سکیں گے بلکہ انسانی مشن بھیجنےکےموزوں مقامات کا اندازہ لگانےمیں بھی مدد مل سکےگی پانی کا یہ تفصیلی نقشہ یورپی خلائی ایجنسی کےمارس ایکس ایکسپریس، ناسا کے مارس ریکونیسنس آربیٹر اور دیگر مشنز کی تحقیقات سے بنایا گیا ہے-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    بنیادی طور پر یہ ایک ایسا نقشہ ہے جن میں ایسی معدنیات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی کسی بھی حالت میں موجود ہوسکتا ہے۔ یہاں کے خدوخال ماضی میں بہنے والے پانی نے تراشے ہیں اور گارے کے علاوہ نمکیات بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

    جب پانی پتھروں اور چٹانوں پر بہتا ہے تو مختلف قسم کی چکنی مٹی یا گارے وجود میں آتے ہیں۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو اسمیکٹائٹ اور ورمی کیولائٹ بنتا ہےاور پتھر اپنےخواص برقرار رکھتا ہے جب پانی زیادہ ہو تو وہ چٹانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات المونیئم سے بھرپور معدن مثلاًکاؤلن وجود میں آتی ہے۔

    ماہرین نے دس سال میں مریخ پر لگ بھگ ایک ہزار ایسے مقامت دریافت کیے ہیں جبکہ لاکھوں مقامات ایسے ہیں جہاں ہم سیارے کا قدیم ماضی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانی نے سیارہ مریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن آیا مریخ پر پانی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اب بھی معلوم کرنا باقی ہے اور نیا مریخی نقشہ اس میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف اقسام کی چکنی مٹی، گارے اور ان پر موجود نمکیات ہماری توقعات سے زائد ہیں۔ اس سے خود مریخ کی معدن کا نقشہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس تحقیق میں موجود سینئیر محقق جان کارٹر کے مطابق "اس کام نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب آپ قدیم خطوں کا تفصیل سے مطالعہ کر رہے ہیں، تو ان معدنیات کو نہ دیکھنا دراصل ایک عجیب بات ہے،-

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے یہ ایک مثالی تبدیلی ہے۔ آبی معدنیات کی چھوٹی تعداد سے جو ہم پہلے جانتے تھے کہ موجود ہیں، یہ ممکن تھا کہ پانی اپنی حد اور مدت میں محدود ہو۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی نے کرہ ارض کے چاروں طرف ارضیات کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

    اب، بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پانی مستقل تھا یا مختصر، زیادہ شدید اقساط تک محدود تھا۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کیا گیا ہے، نئے نتائج یقینی طور پر محققین کو جواب حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

    جان کارٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہم نے اجتماعی طور پر مریخ کو زیادہ آسان بنا دیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ سیاروں کے سائنس دانوں نے یہ سوچنے کا رجحان رکھا ہے کہ مریخ پر صرف چند قسم کے مٹی کے معدنیات اس کے گیلے دور میں پیدا ہوئے تھے، پھر جیسے جیسے پانی آہستہ آہستہ خشک ہوتا گیا، پورے سیارے میں نمکیات پیدا ہوتے گئے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    یہ نیا نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ مریخ کے بہت سے نمکیات شاید مٹی کے مقابلے میں بعد میں بنتے ہیں، نقشہ بہت سی مستثنیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں نمکیات اور مٹی کا گہرا اختلاط ہوتا ہے، اور کچھ نمکیات جو کچھ مٹی سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے اس دریافت پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں جس کی تیاری میں یورپی خلائی ایجنسی، جاپانی خلائی ایجنسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایئروناٹیکل سائنس کے ماہرین شامل ہیں اس تحقیق سے مستقبل کے مریخی منصوبوں اور مریخ نوردوں کو مناسب جگہ اتارنے میں بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے پانی سے بغیر پانی تک ارتقاء اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہم نے سوچا تھا، پانی صرف راتوں رات نہیں رکا۔ ہم ارضیاتی سیاق و سباق کا ایک بہت بڑا تنوع دیکھتے ہیں، تاکہ کوئی بھی عمل یا سادہ ٹائم لائن مریخ کی معدنیات کے ارتقاء کی وضاحت نہ کر سکے۔ یہ ہمارے مطالعے کا پہلا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ زمین پر زندگی کے عمل کو خارج کرتے ہیں تو، مریخ ارضیاتی ترتیبات میں معدنیات کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ زمین کرتی ہے۔

    جان کارٹر نے مزید کہا کہ دوسرے الفاظ میں، ہم جتنا قریب سے دیکھتے ہیں، مریخ کا ماضی اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں