تحریر: رانا شہباز نثار
آج میں سوشل میڈیا پر ایران کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں ایک ماں کو اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف ملتا ہے تو میں نے معاشرتی انصاف کے بارے لکھنے کا ارادہ کیا۔ انصاف ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے اور جس معاشرے کی بنیاد ہی مضبوط نہ ہو تو وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور پاکستان میں انصاف کا نظام دوسرے ممالک سے بہت پیچھے سمجھا جاتا ہے جس میں ہماری عدلیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے انصاف فراہم کرنا صرف عدلیہ کا ہی کام نہیں بلکہ اس میں عدلیہ کے علاوہ دیگر ادارے جیسے پولیس، پراسکیوشن، وکلا برادری، جیل خانہ جات اور عوام الناس بھی شامل ہیں، وہ لوگ جن کا عدالتوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے وہ بخوبی واقف ہوں گے کہ ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں حالات و واقعات دیکھ کر پارٹیوں کو سن کر انصاف فراہم نہیں کرتیں بلکہ وہ تفتیش افسران کی رپورٹ، شہادتوں، وکلاء کی بحث اور سیاسی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیتے ہیں۔ انصاف کے معاملے میں سب سے پہلے ہمارا ناقص تفتیشی نظام رکاوٹ بنتا ہے جس میں طاقتوروں کو کنٹرول حاصل ہے اگر معاشرے میں انصاف قائم کرنا ہے تو ہمیں امیر، غریب، طاقتور اور کمزور کا تصور ختم کرنا ہو گا ہر انسان کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ہماری عدلیہ کو بھی انصاف کے لئے یکساں نظام بنانا ہو گا۔ میں نےایسے بہت سے کیسز پڑھے ہیں جن کے فیصلے 22، 22 یا 30، 30 سال بعد ہوئے۔ بعض ایسے بھی کیسز سامنے آئے جن میں ملزم نے 8, 10 سال جیل میں گزارے اور بعد میں اسے بے گناہ ڈکلیئر کر کے با عزت بری کا لفظ استعمال کرکے بری کر دیا گیا اس میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملزم بے گناہ تھا تو اس کی زندگی کا وہ عرصہ جو اس نے جیل میں گزارا اس کا زمہ دار کون ہے کیا عام عوام کے زندگی کا یہ وقت کوئی اہمیت نہیں رکھتا اسکی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ اور مجھے سب سے زیادہ دکھ ان الفاظ پر ہوا کہ اسے بے گناہ ثابت ہونے پر باعزت بری کر دیا گیا اس میں مجھے باعزت کے لفظ کی کوئی سمجھ نہیں آئی کہ دس سال قید کی مصیبتیں اٹھائیں اور معاشرے میں اس کی شہرت، عزت خراب ہوئی اس کو آپ با عزت بری کا نام دے رہے ہیں افسوس ہے اس نظام پر جس میں عام اور غریب بے گناہ کو 8, 10 سال جیل میں رکھ کر باعزت بری کیا جاتا ہے اور امیر اور طاقتور سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھی ہمارے اوپر حکمرانی کر رہے ہوتے ہیں کہاں کا انصاف ہے یہ کہ عام آدمی کا کیس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پڑا رہتا ہے اور امیر اور طاقتور کو 2, 4 دن میں انصاف بھی فراہم کر دیا جاتا ہے کاش کہ امیر اور غریب کے کیس کے فیصلے میں ایک ہی طریقہ کار اور وقت مقرر کیا جائے جس سے کسی غریب کو اپنی غربت کا احساس اور امیر کو اپنی امیری پر ناز نہ ہو بلکہ ہر انسان جرم کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے کہ کہ میں اگر کسی غریب کے ساتھ ذیادتی کروں گا تو ہمارا نظام اسے انصاف فراہم کر دے گا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں نظام اس کے برعکس ہے امیر اور طاقتور ظلم وزیادتی کرنے کے بعد بھی دندناتا پھرتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے جیسے ایران کی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک مجرم کو عام جگہ یا کسی چوک میں لا کر اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالا جا چکا ہے اور ایک جج مقتول کی ماں سے کئی بار منتیں کر رہا ہوتا ہے لیکن اس نے معاف نہیں کیا اور سزا پر عملدرآمد کر دیا گیا. مقتولہ کی والدہ نے قاتل کے پاؤں کے نیچے سے کرسی کھینچ لی۔……….بے اسی طرح اگر کسی طاقتور جس کو یہ ڈر ہو کہ کل ان کو پھانسی نہ ہو جائے وہ کبھی بھی کسی سے ظلم وزیادتی نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ججوں کے لئیے بھی عبرت ہے۔۔۔۔۔۔اس کو کہتے ہیں انصاف۔۔۔۔۔اس کو کہتے ہیں عدل اس کو کہتے ہیں غیرت ۔۔ایک ماں کو انصاف ملا اب بھی وقت ہے اس زمین سے ظالم قاتل اور غاصب کو پاک کریں وگرنہ جانا اس زمین کے اندر ہی ہے ۔۔۔ ہر انسان کو پتہ ہو کی یہ یہاں کا انصاف ہے وہاں کا عذاب الگ۔اگر قاتلوں کو پھانسی نہیں دیں گے عذاب شدید سے شدید تر ہوتا جائے گا۔
Category: بلاگ
-

انصاف کا پیمانہ
-

لطیفے سن کر روبوٹ بھی ہنسنے لگا
روبوٹ کی انسان کے ساتھ مشابہت کو بڑھانے کے لیے اب اسے لطیفوں پر ہنسنا بھی سِکھا دیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کےمحققین روبوٹس کو لطیفےسن کر اُنہیں سمجھنے اور ان پر بالکل ایک انسان کی طرح ردِعمل دینے کے بارے میں تربیت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر رہےہیں اس تربیت کےدوران روبوٹس کو زور سے ہنسنے اور چیخیں مارنے کے درمیان فرق بھی سمجھایا جائے گا۔
ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی
محققین نے فرنٹیئرز ان روبوٹکس اینڈ اے آئی نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایریکا نامی ایک روبوٹ کے ساتھ گفتگو کو مزید دوستانہ بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔
کیوٹو یونیورسٹی کے انٹیلی جنس سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوجی انوئی کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمدردی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہونے والی بات چیت کے اہم کاموں میں سے ایک ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بلا شبہ گفتگو کا مطلب صرف کسی بات کا جواب دینا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی مختلف عوامل شامل ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایک ربوٹ لوگوں کے ساتھ ان کی خوشیاں بانٹ کر ہمدردی کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔
محققین روبوٹ کو یہ سکھانے کے لیے کہ اسے کب ہنسنا ہے، کیسے ہنسنا ہے اور کس طرح کی ہنسی سب سے بہترین ہے، مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد لے رہے ہیں۔
پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا
اس تجربے کو آزمانے کے لیے محققین نے اپنے تیار کردہ روبوٹ ایریکا کی لوگوں کے ساتھ 2 سے 3 منٹ کی گفتگو بھی کروائی جس میں ایریکا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو صحیح سے ہنسنا سکھانے کے لیے ابھی اس تجربے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر انوئی نےکہاکہ روبوٹس کا اصل میں ایک الگ کردار ہونا چاہیے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گفتگو کے رویے، جیسے کہ ہنسنے، نظریں دیکھنے، اشاروں اور بولنے کے انداز سے یہ ظاہر کر سکتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کوئی آسان مسئلہ ہے، اور اس میں 10 سے 20 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے جب تک کہ ہم آخر کار روبوٹ کے ساتھ آرام سے بات چیت کر سکیں جیسا کہ ہم کسی دوست کے ساتھ کرتے ہیں۔
بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا
-

غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس
غازی یونیورسٹی،سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرے۔طلباء کی پریس کانفرنس
اگر غازی یونیورسٹی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سٹوڈنٹس کی فیس معاف کرتی ہے تو ہم تمام سٹوڈنٹس اپنے متاثرین سٹوڈنٹس کیلئے 10 لاکھ روپے اکٹھے کرکے دیں گے.
باغی ٹی وی :ڈیرہ غازیخان پریس کلب میں غازی یونیورسٹی کے طلباء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ کہ حالہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ضلع ڈیرہ غازی کوہ سلیمان ریجن اور ضلع راجن پور کے سٹوڈنٹس شدید متاترہوئےہیں ایک سروے کےمطابق ان علاقوں کے کم از کم 70فیصد سٹوڈنٹس مثاترہوئے جس میں ان کو مال مویشی مکانات فصلوں کی صورت میں کافی نقصانات ہواسٹوڈنٹس نے پریس کانفرنس کےذریعے مطالبہ کیاوائس چانسلر اور انتظامیہ سے کہ متاثرہ سٹوڈنٹس کی فیس کو معاف کیاجائے تاکہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اگرہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے تو ہم پرامن احتجاج کاحق رکھتے ہیں انتظامیہ کی جانب سٹوڈنٹس کو کہاجارہے ہے ہم ہر ڈپارٹ سے دس طلبہ کو ریلف دیں گے لہزا ہم اس فیصلے کو مسترد کرتےہوئے ساٹھ سے سترفیصد تک سٹوڈنٹس فیس معافی کامطالبہ کرتے ہیں.طلباء نے کہا
-

طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
طارق محمود باجوہ ایک عوامی لیڈر
باغی ٹی وی : صفدر آباد (رانا شہباز نثار) سابقہ MPA طارق محمود باجوہ جو کہ پچھلے دور میں صفدر آباد ،سانگلہ ہل،شاہکوٹ اور ضلع ننکانہ صاحب کے مضبوط سیاسی لیڈر لیڈر ثابت حہوئے جو کہ دو مرتبہ ایک دفعہ ن لیگ کے نشان پر اور ایک دفعہ خرگوش کے نشان پر ایم پی اے منتخب ہوئے اور اپنے تمام شہروں جن میں صفدر آباد،سانگہ ہل، شاہکوٹ سے چیئرمین میونسپل کمیٹی اور ضلعی چیئرمین ننکانہ صاحب بھی اپنے منتخب کروائے اور 2018 کے الیکشن میں NA118 سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور ن لیگ کے امیدوار برجیس طاہر کے71891ووٹ کے مقابلے میں 68995 ووٹ حاصل کئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدوار 66994 ووٹ لے سکے۔ طارق محمود باجوہ صاحب نے رواں ماہ ہی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جن کی شمولیت نے علاقائی سیاست کا رخ ہی تبدیل کر دیا اور جہاں پر طارق محمود باجوہ کی شمولیت سے ضلع ننکانہ صاحب میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط ہوئی ساتھ ہی حلقہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر مقابلہ بھی شروع ہو گیا اور پی ٹی آئی پارٹی بھی تقسیم ہو گئی تھی لیکن طارق محمود باجوہ صاحب نے کہا ہے کہ پارٹی جوائن کرنے کا مطلب پارٹی کے فیصلے پر سر جھکانا ہے ٹکٹ نہ ملی تو انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا، پی ٹی آئی کے تمام دھڑوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں سب مل کر عمران خان کے ہاتھ مضبوط کریں، آپسی اختلاف کا کوئی فائدہ نہیں، وہ سانگلہ ہل میں اپنے ڈیرے پر صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے.
میں یہاں پر بتاتا چلوں کہ طارق باجوہ اپنے حلقہ کی عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور ان کو ملنے کے لیے کسی ٹاؤٹ یا ٹائم لینے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی ان عام آدمی بھی ڈائریکٹ جا کر مل لیتا ہے اور اپنا کام کروا لیتا ہے اور شاید اسی وجہ سے حلقہ کی عوام نے 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے بھاری اکثریت میں ووٹ دے کر ثابت کر دیا کہ باجوہ صاحب کو کسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ پارٹیوں کو باجوہ صاحب کی ضرورت ہے اور پی ٹی آئی میں شمولیت سے ننکانہ صاحب سے پی ٹی آئی کی جیت یقینی ہو گئی ہے اور جہاں تک پارٹی ٹکٹ کے لئے اختلافات کی فضاء پیدا ہو رہی تھی تو باجوہ صاحب کے ٹکٹ کے حوالے سے اس بیان پر پارٹی میں اختلاف بھی ختم ہو جائیں گے۔ -

عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان
عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان
تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
کلمہ طیبہ کے نام پربننے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے وجود کے پہلے30 سال تک انتہائی گھمبیر مسائل کا شکار رہی جہاں ایک طرف بنگلہ دیش کی صورت میں ملک دولخت ہوگیا تو دوسری جانب قادیانی / احمدی جماعت کی وجہ سے ختم نبوت ﷺ جیسے عظیم عقیدہ پر مسلمانان پاکستان کی ناختم ہونے والی بے چینی۔مملکت میں آئے روز فسادات، قتل و غارت جیسے واقعات ہوئے۔ حد تو یہ تھی کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی پیروی کرنے کی پاداش میں اسلامی ریاست پاکستان میں خود صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ہی قید و بند کی صعوبیتں برداشت کرنا پڑیں۔ یہاں تک کہ جیدء علماء کرام کو پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔بالآخر ماہ ستمبر 1974 میں پارلیمنٹ کی جانب سے آئین پاکستان میں متفقہ طور پر ترمیم کرکے اس مسئلے کو ابدی طورپر حل کردیا گیا۔ پاکستان میں عقیدہ نبوت ﷺ اور تحریک ختم نبوت ﷺ پر بہت کچھ لکھا گیابہت کچھ سنایا گیا۔ بندہ ناچیز اپنی اس تحریر میں ریاست پاکستان کے آئین و قانون کی روشنی میں ختم نبوت ﷺ پر چند معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔پاکستان کے تمام مسلمانوں کے لئے آئین و قانون میں درج ان معلومات بارے آگاہی بہت ضروری ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل1 (1) کے مطابق: مملکت پاکستان اک جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 کے مطابق: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 (a) کے مطابق: قراد داد مقاصد 1949 کو آئین پاکستان کا preamble یعنی تمہیدبنا دیا گیا۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (a) کے مطابق: مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”مسلما ن“ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدت و توحیدقادر مطلق اللہ تبارک تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہواور ایک نبی یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہواور نہ اسے مانتا ہوجس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (b) کے مطابق:غیر مسلم کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”غیر مسلم“ سے ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ،بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخصی یا کوئی بہائی، اور کسی درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
آئین پاکستان میں ختم نبوت ﷺ اور مسلمان کی واضح تعریف کے بعد کس بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کی روک تھام کے لئے مجموعہ تعریزات پاکستان یعنی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 میں 1984 میں ایک آرڈیننس کے تحت ترمیم کی گئی۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (1) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ کہتے ہیں یا کسی دوسرے نام سے جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے درج ذیل افعال کرے:
(الف) حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی بھی شخص کو ”امیر المومنین”، ”خلیفۃ المومنین”، خلیفۃ المسلمین”، ”صحابی” یا ”رضی اللہ عنہ ” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے علاوہ کسی ذات کو ”ام المومنین” کے طور پر منسوب یا یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان ”اہل بیت” کے کسی فرد کے علاوہ کسی بھی فرد کو ”اہل بیت” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
)د) اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد” کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
درج بالا جرائم کی صورت میں اس شخص کو قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (2) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ”احمدی” یا کسی اور نام سے پکارتا ہے) جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں۔ اسے دونوں میں سے کسی ایک صورت میں قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (C) کے مطابق:قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ یا کسی اور نام سے پکارتا ہے)، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ خود کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتا ہے یا اس کی تبلیغ کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا تحریری، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی صورت میں کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو پکا سچا مسلمان بنائے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر قائم دائم اور اس عقیدہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین -

دلہہ ایک واری فِر لمبر لے گیا۔۔۔!!!
دلہہ ایک واری فِر لمبر لے گیا۔۔۔!!!
تحریر: شوکت ملک
پاکستان تحریک انصاف کے چکوال سے رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ جو کہ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے کافی مشہور اور اکثر خبروں میں رہتے ہیں، موصوف کا ضلعی افسران سے اکثر مختلف معاملات پر تنازعہ رہتا ہے، کبھی اے سی سے پھڈا تو کبھی ڈی سی اور ڈی پی او سے ان کو مسئلہ رہتا ہے، گزشتہ روز تلہ گنگ پبلک سیکرٹریٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی عہدے داران کی مشاورتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے ڈی پی او چکوال کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ تبدیل نہ ہونے کی صورت میں ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی دے کر خبروں میں ایک بار پھر دبنگ انٹری دی ہے، رکن قومی اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا 25 مئی آزادی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جس طرح ڈی پی او چکوال نے پارٹی بن کر پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداران و کارکنان کی گرفتاریاں عمل میں لاکر ظلم و زیادتیوں کی داستان رقم کی ہے اس کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے، ان کا کہنا تھا کہ 19 ستمبر کو ہونے والے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے چکوال جلسہ سے قبل اگر ڈی پی او چکوال کا تبادلہ نہ کیا گیا تو کارکنان کے ہمراہ ڈی پی او آفس کا گھیراؤ کریں گے، موصوف کا مذکورہ بیان ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے شاید نامناسب ہوگا لیکن اگر مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو ان کا مطالبہ جائز لگتا ہے، ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو موصوف کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی، چکوال میں چوری اور ڈکیتی کی ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، قتل کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا، مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال انتہائی غیر تسلی بخش رہی، ڈی پی او چکوال کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی حلقوں نے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے ڈی پی او چکوال کے تبادلے کی حمایت کر دی ہے، باوثوق ذرائع کے مطابق ڈی پی او چکوال کے تبادلے کی گونج ایوانِ وزیر اعلیٰ تک پہنچ چکی ہے اگلے چند روز میں ڈی پی او چکوال کا تبادلہ متوقع ہے، تاہم ڈی پی او چکوال کے تبادلے کے صورت میں دلہہ ایک واری فِر لمبر لینے میں کامیاب ہو جائے گا-

-

سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف
ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔
بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔
فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔
لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔
سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔
اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔
لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔
یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔
ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔
اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔
اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔
گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔
-

چھٹی حس — عبداللہ سیال
اگلے وقتوں میں کہیں کوئی "چھٹی حس” رہتی تھی. وہ وہاں زمانے کے طور طریقوں سے قدم قدم پر ٹکر لیتی تھی. مثلا صنفِ نازک ہونے کے باوجود وہ ایک بات کو سترہ جملوں میں بولنے کے بجائے اشاروں کنایوں سے کام لیا کرتی تھی. عقل کا سہارا تھی. نوجوان عقل چونکہ بالغ نہیں تھی، اسی لیے "چھٹی حس” سے کتراتی تھی، البتہ بوڑھی عقل "چھٹی حس” سے وقتاً فوقتاً کام لیتی رہتی تھی.
ایک بار ایک آدمی، جس کے دماغ میں عقل طفلی نے بسیرا کر رکھا تھا، کا ایک جنگل سے گزر ہوا. اچانک رات کے سناٹے میں کچھ عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں. "چھٹی حس” جو اب تک بے ہوش تھی، فوراً ہوش میں آئی، اردگرد بھاگنے لگی اور واپس آکر عقل طفلی کو کسی اجنبی شہنشاہِ جنگل کی متوقع آمد سے آگاہ کیا مگر عقل طفلی تو ٹھہری عقل کی دشمن… اس نے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹانگوں کو مذکورہ سمت چلنے کی ہدایت کر دی. اب شیر تو بیٹھا ہی اسی تاک میں تھا کہ یہ قدم بڑھائے اور میں اس کی بوٹی بوٹی کا مزہ لوں. چنانچہ چند قدم بڑھتے ہی شیر اور آدمی آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی ماسیوں کا حال احوال بوچھنے کی ناکام کوشش کرنے لگے. ایک بار پھر "چھٹی حس” چلائی، "بھائی مانا کہ تیرے رشتے دار عجیب ہیں مگر یہ تیرا خالہ زاد نہیں ہے. یہ شیر ہے شیر. اس سے بچ…”
عقل َطفلی مگر کہاں ماننے والی تھی… سو زبان کو حکم دیا کہ "یہ شیر ہے تو میں سوا شیر ہوں. یہ سوا شیر ہے تو میں ساڑھے شیر ہوں.” بولے. زبان نے حکم کی تعمیل کی ہی تھی کہ شیر پورا منہ کھول کر دھاڑا. آدمی کا آدھ پاؤ کے بقدر دل حلق میں آکر اچھلنے لگا. یوں عقل طفلی کو خطرے کا احساس ہوا اور وہ "چھٹی حس” کو مدد کیلئے پکارنے لگی مگر اب اس کا کام تو ختم ہوچکا تھا. خیر "چھٹی حس” کو عقل طفلی پر رحم آیا اور وہ راہ فرار سوچنے لگی. شیر نے بوریت بھری جمائی لی. اس کو یقین تھا کہ اب تو چاہے لڑکیاں پانچ منٹ میں میک اپ کرلیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے، وہ اس آدمی کی ہڈیوں سے یخنی بنا کر مردانہ کمزوری کا علاج کر ہی لے گا. (اس بات کا غالب امکان ہے کہ شیر کو یہ مشورہ شیروں کی بستی میں مقیم "چھٹی حس” نے دیا ہو.)انسانی "چھٹی حس” کیلئے اتنی مہلت کافی تھی. اس نے فٹافٹ آدمی کے کانوں میں سرگوشی کی، "ہوسکتا ہے یہ شیر غیرت مند ہو، اس کو غیرت دلا کر دیکھو، جان بچ سکتی ہے.”
عقل طفلی نے فوراً قوت گویائی سے کام لیتے ہوا کہا…
"جنگل کے بادشاہ ہوکر بھی ننگے پھرتے ہو. ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ جو ستر کو بمع چند کمزوریاں ظاہر کرے.”
بس بادشاہ صاحب "چھٹی حس” کی چالاکی کی تاب نہ لا سکے اور قبل اس کے کہ آدھ پاؤ دل کی دھڑکن رکتی، وہاں سے چل دیے.
"چھٹی حس” اپنی چالاکیوں کے باعث بستی میں مشہور ہوگئی. اس کی سہیلیاں اس کی چیلیاں بن گئیں. یوں ہر شخص اپنے تھیلے میں” چھٹی حس” لیے پھرتا اور حسبِ ضرورت مدد لے لیتا.
ایک بار ایک عاشق نے محبوبہ سے کہا، "پہلے کی نسبت اب تم میں وہ خوبصورت دوشیزہ نہیں رہی. جان من اب من سے دو من ہوگئی ہو. غالباً کمر سے کمرہ کہنا غلط نہ ہوگا.”
بس پھر کیا تھا. محبوبہ کے بھاری بھرکم وجود میں آگ بھڑک اٹھی. قبل اس کے کہ وہ عاشق کا سر پھاڑ دیتی، "چھٹی حس” نے تھیلے سے باہر جھانکتے ہوئے عاشق کو اس کی چرب زبانی کا احساس دلایا اور سدباب کا مشورہ دیا. عاشق فوراً رومانوی انداز میں گویا ہوا،
"جان من! ناراض کیوں ہوتی ہو؟ سنو، ماں اپنے بیٹے کو چاند کہتی اور بیٹی کو الف کے اضافے سے چندا کہتی ہے. اسی طرح بیٹے کو اگر قمر کہیں تو بیٹی کو قمرا کہیں گے.اس تناظر میں جب تمہیں کوئی کمرہ (قمرا) کہے تو یقین مانو اس سے مراد چاند ہوتا ہے. یہ تنقید نہیں ہے بلکہ تعریف ہے.”
محبوبہ فوراً بولی، "مگر کمرہ میں ‘ک’ آتا ہے اور قمرا میں ‘ق’.”
"چھٹی حس” کے لیے یہ سوال متوقع تھا. سو جواب یوں بنا…..
"ق سے قینچی بنتی ہے، ک سے کتی بنتی ہے. دونوں کا کام کاٹنا ہوتا ہے. سو دونوں ایک ہی چیز ہیں.” محبوبہ مطمئن ہوگئی اور "چھٹی حس” نے ایک اور عاشق کو ناکام عاشق یعنی انجنئیر بننے سے بچا لیا.
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ "چھٹی حس” نہ صرف مشکلات میں بلکہ موزوں حالات میں بھی مدد کرنے لگی. سردیوں میں کسی غیر محرم کے ہاتھوں آم لینے سے گرمیوں میں اسی غیر محرم سے مالٹے پکڑنے تک، بہار میں اخلاق سے عاری پتوں سے لے کر خزاں میں کاغذی پھولوں کے حصول تک، ہر جگہ "چھٹی حس” مذکورہ شخص کو متنبہ کرتی رہی.
ابتدائے آفرینش سے یہ بات دنیا کے ماتھے پر لکھ دی گئی تھی کہ اس دنیا میں دو چیزیں کبھی نہیں آئیں گی، ایک بھٹو کی موت اور دوسرا "چھٹی حس” کا بڑھاپا. چنانچہ آج بھی "چھٹی حس” جوں کی توں زندہ و جاوید ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے.
ابھی پچھلے دنوں میں اپنے پانچ سالہ بھتیجے کو "ڈاکٹر مار دھاڑ” کے پاس لے گیا. ہرچند کہ میں نے بھتیجے کی "چھٹی حس” کا تھیلا گھر رکھ کے جانا چاہا مگر وہ نہ مانا. خیر ڈاکٹر نے تفصیلی معائنہ کرکے مجھ سے اکیلے میں بات کرنا چاہی. میری "چھٹی حس” نے فوراً میرے بھتیجے میں کسی بچگانہ کمزوری کی موجودگی کا عندیہ دیا.
خیر استفسار پر ڈاکتر مار دھاڑ نے بتایا کہ بھتیجے میں ‘وٹامن پٹائ’ کی کمی ہے. اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو ایک ‘ٹیکۂ چماٹ’ لگایا جائے. گفتگو کے دوران ہی بھتیجا وہیں آ دھمکا اور ہماری اشکال دیکھ کر اس کی "چھٹی حس” نے فوراً اس کو طریقۂ علاج سے آگاہ کیا. صورتحال بھانپتے ہی بچے نے رونے میں عافیت جانی اور اس قدر زور سے چلایا کہ ہسپتال سے ملحقہ قبرستان میں مردے اٹھ کھڑے ہوئے، گویا کہ قیامت آگئی ہو. اس کے علاوہ اس ایٹمی چیخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاروں اطراف میں چار چار کلومیٹر تک بھینسوں کے تھن سوکھ گئے، مجبوراً گوالوں کو خود دودھ دینا پڑا. اگر ان گوالوں نے یہ دودھ چالیس پچاس برس قبل دیا ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کو پینے والے آج سیاستدان ہیں…آج کل یہ پینے والے زنانہ مرد اور مردانہ عورتیں ہیں یعنی ٹک ٹاکرز ہیں.
میری "چھٹی حس” کا چھپکلیوں سے چھتیس کا آکڑا رہا ہے اور چھپکلیوں کا مجھ سے. ہرچند کہ متعدد بار چھپکلیوں کی نسل میں کمی کے واسطے اقدام کرچکا ہوں مگر وہ سب نر تھے. عورت پر ہاتھ اٹھانا ہماری تہذیب کے خلاف ہے لیکن بیوہ چھپکلیاں ہمیشہ مجھ سے بدلہ لینے آجاتی ہیں. یہ تو بھلا ہو میری "چھٹی حس” کا جو اس شر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے.
ایک بار الماری میں ٹنگی شلوار نکال کر پہنی تو "چھٹی حس” نے کسی گڑبڑ کا اشارہ دیا. اچانک شلوار کی لمبائی پر سفر کرتے ہوئے پائنچے سے ایک آدھ پاؤ کی چھپکلی برآمد ہوئی. میرے ذہن میں خوف کے بجائے سوال پیدا ہوا کہ یہ باہر کیوں آگئی ہے؟ "چھٹی حس” نے فوراً جواب پیش کیا، "غالباً چھپکلی کو اس بات کا احساس ہوگیا ہوگا کہ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک شلوار میں دو چھپکلیاں نہیں رہ سکتی…..”
سنا ہے کہ ایک مخصوص شاعرہ نے اپنی نوزائیدہ صنفِ شاعری کے دفاع میں اپنی "چھٹی حس” سے کام لیتے ہوئے اس کو "غزم” قرار دیا ہے. دراصل مجھے نظم و غزل کے اس ملاپ پر کوئی اعتراض نہیں ہے. البتہ میرا مشورہ ہے کہ غزم کی بجائے نظم کے ‘ن’ اور غزل کے ‘زل’ کا ملاپ کروا کر نئی صنفِ شاعری کو "نزل” کا نام دیا جائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ نزل، نزول، انزال ایک ہی شاخ کے الفاظ ہیں. اس لیے جب مخصوص شاعرہ کو "چھٹی حس” کے ذریعے آمد ہوگی اور دو منٹ میں "نزل” تیار ہوجائے گی تو وہ یہ کہہ سکیں گی کہ مجھے ‘سرعت انزال’ ہوتا ہے.
کہتے ہیں ‘حس مزاح’ ہی "چھٹی حس” ہوتی ہے. میں نے بھی اپنی "چھٹی حس” کو اچھی طرح برتا ہے اور اب میری "چھٹی حس” کہہ رہی کہ کوئی بھی حریف میری "چھٹی حس”کو مات نہیں دے سکتا. واللہ اعلم…!
-

پیسوں کے شوقین جن — شہنیلہ بیلگم والا
یہ دونوں واقعات سچے ہیں اور قریبی جاننے والوں کے گھروں میں ہوئے ہیں. یہ دونوں واقعات آج سے تقریباً پندرہ سے بیس سال پہلے پیش آئے تھے.
پہلا واقعہ؛
یہ ایک پاکستانی فیملی ہے جو امارات میں برسوں سے مقیم ہے. صاحب خانہ ایک کامیاب کاروباری ہیں. شدید مصروف رہتے ہیں اور اس لیے گھر اور بچے تقریباً بیگم کی ہی زمہ داری ہیں. بیگم اوسط درجے سے بھی کم پڑھی لکھی ہیں. یہ جس وقت کی بات ہے اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا لیکن کیبل زوروں پر تھا. والدہ کا زیادہ تر وقت کیبل دیکھنے اور فون پہ سہیلیوں اور بہنوں سے لمبی لمبی گفتگو میں صرف ہوتا تھا. بچے پڑھنے میں کافی نالائق تھے. جس کا سدباب ٹیوشن بھیج کر دیا گیا تھا. بچے صبح سات سے رات سات بجے تک گھر سے باہر ہی ہوتے تھے. کچھ عرصہ پہلے خاتون خانہ ایک درس والی باجی سے متاثر ہوگئی تھیں اور ہر منگل کی صبح باقاعدگی سے درس اٹینڈ کرتی تھیں. چونکہ امارات میں چوری چکاری کا مسئلہ نہیں اس لیے بیشتر خواتین کی طرح انہوں نے بھی اپنا زیور گھر پہ ہی رکھا تھا.
ایک دن انہوں نے مجھے کال کی اور پوچھا کہ بھابھی آپ میرے گھر آئی ہوئی ہیں. کیا آپ کو میرے گھر کی دہلیز بھاری لگی ہے؟؟
پہلی بات تو مجھے یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی. لیکن اپنی عقل کے مطابق میں نے کہہ دیا کہ مجھے تو آپ گھر میں کوئی بھاری یا طبیعت مکدر کرنے والی فیلنگز نہیں ہوئیں. میں نے پوچھا کہ خیریت ہے یہ بات آپ کیوں کر رہی ہیں. کہنے لگیں کہ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ میرے پیسے کم ہو رہے ہیں. لیکن رقم اتنی معمولی ہوتی تھی کہ میں ہمیشہ یہی سمجھی کہ مجھ سے گننے میں غلطی ہوئی ہے. لیکن اب معاملہ بڑھ چکا ہے. کبھی پچاس درہم کبھی سو درہم. لیکن چار دن سے میری ایک انگوٹھی نہیں مل رہی. پورا گھر چھان مارا. درس والی باجی سے ذکر کیا تو وہ کہتی ہیں کہ یہ شیطان جنوں کی کارستانی ہے. چونکہ میرا علم اس معاملہ میں صفر ہے تو میں چپکی ہو رہی.دوسرے ہفتے کہنے لگیں کہ بھابھی اب تو بالیاں اور چین بھی غائب ہیں. میں نے اب تک اپنے شوہر سے سب کچھ چھپایا ہوا ہے. کیا کروں انہیں بتا دوں. میں نے کہا آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا.
صاحب خانہ کے علم میں جب بات آئی تو انہوں نے بچوں سے پوچھ گچھ کی جس پہ بچوں کی والدہ شدید ناراض ہوئیں. لیکن اتفاق سے کچھ دنوں بعد والد صاحب نے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو پیزہ ہٹ میں دوستوں کے ساتھ دعوت اڑاتے دیکھ لیا. والد صاحب نے بچوں کے دوستوں پہ ذرا سی سختی کی اور کہا کہ ابھی تمہارے ابو کو فون کرتا ہوں تو پتا چلا کہ یہ سب عیاشی ان کے دو بڑے بیٹے کرواتے ہیں. اکثر ٹیوشن کی چھٹی کر کے وڈیو گیمز کی شاپس، کبھی سینیما اور مختلف ریسٹورنٹس میں دعوتیں اڑائی جاتی ہیں. بچوں کی تسلی بخش مرمت کرنے کے بعد ان کو پاکستان میں کسی کیڈٹ اسکول میں بھیج دیا گیا اور سارا زیور لاکر میں رکھوا دیا گیا.
دوسری کہانی ایک انڈین فیملی کی ہے. یہ ایک جوائنٹ فیملی ہے. جس میں والدہ اپنے دو بیٹوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں. بڑی بہو کی تین اور چھوٹی بہو کی چار بیٹیاں ہیں. ماں اور بیٹوں کو اولاد نرینہ کی شدید خواہش ہے جو پوری نہ ہونے پہ ساری فرسٹریشن بہو اور پوتیوں پہ نکلتی ہے. گھر کا سارا نظام ساس کے ہاتھ میں ہے. بہو اور پوتیوں کو نیچے سپر مارکیٹ جا کر ایک درہم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے. دونوں بہویں صبح سے رات تک کام کرتی رہتی ہیں.
ایک تقریب میں مجھے ان کی ساس ملیں تو کہنے لگیں کہ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں. بہویں اور پوتیاں کہتے ہیں کہ ہمیں اس گھر میں سائے نظر آتے ہیں. دونوں بہویں باری باری بیمار پڑ جاتی ہیں. جب بھی پورے گھر کی صفائی کا پروگرام بنتا ہے تو دونوں کو چکر آنے لگتے ہیں. کبھی کبھی تو دونوں نیند میں سے ڈر کر اٹھ جاتی ہیں. تینوں بڑی پوتیاں بھی کہتی ہیں کہ ہمیں چھوٹے بچے نظر آتے ہیں جو ہمارے گھر کے نہیں. اب تو میرے دوپٹے کے پلو سے پیسے بھی کم ہونے لگے ہیں بلکہ گھر میں تین چار بار چاکلیٹس بھی ملے جن میں نیچے والی سپر مارکیٹ کے اسٹیکر لگے ہوئے تھے. اس لیے ہم دوسری جگہ منتقل ہو رہے ہیں.
پانچ چھ مہینے بعد ملیں تو سخت پریشان تھیں. کہنے لگیں نئے گھر میں جن ساتھ ہی آگئے ہیں. مجھے میری بہویں کہہ رہی ہیں کہ آپ انڈیا میں اپنے پیر صاحب کے پاس چند مہینے رہ کر دعا کر کے آئیں. اسی طرح ان سے نجات ملے گی. میں بھی یہی سوچ رہی ہوں. بیٹا تم بھی میرے لیے دعا کرنا.
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جنوں کی معاملہ فہمی پر دل ہی دل میں داد دی.
-

ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان — سیدرا صدف
انگلستان سے ہوم سیریز اور ورلڈکپ کے لیے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔۔شاہ نواز دھانی, محمد حارث اور فخر زمان کو متبادل کھلاڑیوں جبکہ شان مسعود کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا ہے۔۔شاہین آفریدی کی بھی واپسی ہوئی ہے۔.۔۔باقی اسکوڈ ایشیا کپ والا ہے۔۔
اندازہ ہے کہ فخر زمان زخمی نہیں ہیں۔۔۔دو ہی صورتیں ہیں۔۔۔شاید پی سی بی کی ہمت نہیں ہے انکو ڈراپ کرنے کی لہذا انجری کا بہانہ کر کے متبادل کھلاڑیوں میں رکھا گیا ہے۔۔۔ فخر زمان کو 15 رکنی اسکوڈ میں کسی کو دوبارہ زبردستی زخمی ظاہر کر کے بلا لیا جائے گا۔۔۔
یا ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں غیر تسلسل کارکردگی پر فخر زمان کو جتنا سپورٹ کرنا تھا کر لیا اور ٹیم منیجمنٹ بابر اور رضوان کے پیئر کو نہیں چھیڑنا چاہتی ہے۔۔۔اگر ماضی میں دیکھیں تو ہم نے اسٹار کھلاڑیوں کو خراب پرفارمنس پر ٹیم سے باہر ہوتے دیکھا ہے۔۔بعض کھلاڑی خود بھی کچھ وقت بریک لے لیتے تھے۔۔۔حال ہی میں بیڈ فارم سے دوچار کوہلی نے ذہنی طور پر فریش ہونے کے لیے بریک لی تھی۔۔۔ایسی سپورٹ کم دیکھی گئی ہے کہ کسی فارمیٹ میں کھلاڑی غیر تسلسل کارکردگی پر ڈراپ ہونے کی بجائے نئی پوزیشن پر آئے۔۔پھر دوسری پوزیشن پر بھی غیر تسلسل کارکردگی کے باوجود ناصرف لگاتار کھیلتا رہے بلک فین کلب کی بھرپور سپورٹ دوبارہ پہلی پوزیشن پر بحالی کے لیے بھی میسر ہو۔۔۔
باقی میرے خیال سے محمد حارث کو 15 رکنی اسکوڈ میں شامل کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ورلڈکپ سے پہلے دو سیریز ہیں جس میں دو مختلف کمبینیشن ٹرائی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔پہلا کمبینیشن وہی ہے جو پچھلے لگ بھگ دو سال سے جاری ہے۔۔۔۔جبکہ دوسرے کمبینیشن میں محمد حارث اور بابراعظم بطور اوپنر ٹرائی کیے جا سکتے تھے۔۔۔رضوان اور شان مسعود مڈل آرڈر کا بوجھ اٹھاتے۔۔۔حیدر علی کو بھی انگلستان کے خلاف سیریز میں چانس دینا چاہیے۔۔۔
سلیکٹرز نے آصف , خوشدل اور افتخار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔خوشدل اور آصف کوالٹی اسپنرز کے آگے گلی محلے کے لڑکے لگتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستانی اور آسٹریلین پچز پر اچھا کھیلیں گے۔۔۔
ورلڈکپ کے لیے توقع یہ ہی تھی کہ ایشیا کپ کھیلنے والے زیادہ تر کھلاڑی دوبارہ جگہ بنائیں گے۔۔۔ویسے ورلڈکپ سے عین پہلے زیادہ اکھاڑ پچھاڑ کا بھی فائدہ نہیں ہے۔۔۔