Baaghi TV

Category: بلاگ

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    سیاست نہیں ریاست اہم ہے۔ تجزیہ۔ شہزاد قریشی

    تجزیہ:شہزاد قریشی
    افواج پاکستان داخلی سلامتی کیلئے دن رات ایک کررہی ہے۔ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں پاک فوج اور سلامتی کے اداروں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ پاک فوج اور ہمارے قومی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب جو سراسر جھوٹ پر مبنی کتاب تھی اس کے ذریعے ہماری مسلح افواج اور آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بلاشبہ ملک میں سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے تاہم سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سے الگ ہو کر پاک فوج کو اپنا نشانہ کیوں بناتی ہیں؟ اس کو بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ہوس اقتدار کے لئے ملکی سلامتی کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے یہ بات ہمارے سیاستدانوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ سیاست سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست اداروں کے بغیر نہیں چلتی ادارے آئین کے پابند ہوتے ہیں وہ اپنا کردار آئینی طریقے سے ہی ادا کرتے ہیں۔ ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاست اور جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے مورد الزام ریاست کے اہم ترین اداروں کو ٹھہرایا اور جمہور سے اپنی گردن بچالی۔ اس طرح کی گفتگو اور الزامات سیاسی بیان تو ہوسکتے ہیں صداقت کا عنصر موجود نہیں ہوتا۔ سیاستدان اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں ۔ پاک فوج عوام کی ہے اور فوج عوام میں سے ہے اور یہ عوام کے اور ملک کے وفادار ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو روایتی سیاست کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ملکی سلامتی اور ملک کے مستقبل کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہئے۔ ملک ایک ایسے خطے میں ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفاد وابستہ ہیں یہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لئے پاکستان میں کوئی نہ کوئی کھیل جاری رکھتی ہیں ان سازشوں پر پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی گہری نظر ہوتی ہے جس سے وہ عوام کو بھی خبردار کرتے رہتے ہیں۔ تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی یا پھر ن لیگ یا مذہبی سیاسی جماعتیں ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر اپنے جلسوں چوراہوں‘ گلی کوچوں‘ سوشل میڈیا پر بے ہودہ بیان بازی سے باز رہیں اور یہ قومی سلامتی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان اداروں کو اپنے آئینی کردار ادا کرنے دیں۔

  • صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صنعتی وبا اور چینی ٹیکس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آپ کرونا کے بارے میں تو جانتے ہیں۔ یہ وہ وبا تھی جو انسانوں میں ایک وائرس کے ذریعے پھیلی مگر کیا آپ چینی کے بارے میں جانتے ہیں جو وہ وبا ہے جو صنعتی ترقی سے پھیلی۔

    چینی کی کہانی ہے تو پرانی یعنی تقریباً 25 سو سال پہلے، کی، جب بھارت میں اسے پہلی بار بنایا گیا مگر اسکا دنیا میں اس پیمانے پر استعمال جو آج ہو رہا ہے، تاریخ میں نہیں ملتا۔ چینی اور تمباکو دونوں کی کہانی قدرِ مشترک ہے۔

    ان دونوں کی فصل یعنی گنا اور تمباکو کی کاشت بڑے پیمانے پر لاطینی اور وسطی امریکہ میں ماضی میں افریقہ سے لائے گئے لاکھوں غلاموں سے کرائی جاتی۔ ان دونوں اشیا کو شروع میں صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا۔ دُنیا نے دونوں کے استعمال میں بے پناہ اضافہ سترویں صدی میں وسط میں دیکھا جب اِنہیں صنعتی بنیادوں ہر تیار کیا جانے لگا۔

    چینی ہے تو میٹھی مگر اسکی تاریخ بے حد کڑوی ہے۔

    برازیل اور کیریبین جزائر پر گنے کی فصل اُگانے کے لیے بڑی تعداد میں مزدوروں کی ضرورت رہتی۔ اسے پورا کرنے کے لئے 16 ویں صدی سے 19ویں صدی تک افریقہ سے امریکہ کے دونوں براعظموں تک سوا ایک کروڑ انسانوں کو، غلام بنا کر کشتیوں پر لایا گیا۔ یہ سمندری سفر اتنا کٹھن اور طویل ہوتا کہ اس میں 25 فیصد لوگ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتے۔ مانا جاتا ہے کہ اس پورے دور میں 10 سے 20 لاکھ لوگوں کی لاشیں سمندر میں پھینکی گئی ہونگی۔ اُس زمانے میں غلامی عام تھی۔ یورپ، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ یا ایشیا ان تمام جگہوں پر غلامی کوئی جرم نہیں تھا۔ جدید دنیا سے غلامی کی یہ سفاکانہ روایت باقاعدہ طور پر امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے 1863 میں ختم کروائی جب اُنہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ میں تمام غلاموں کو فوراً آزاد کر دیا جائے۔

    اگر چند صدیاں پیچھے جائیں تو چینی کھانوں میں شاز و نادر ہی استعمال ہوتی مگر آج یہ صورتحال ہے کہ دنیا کی کل استعمال ہونے والی غذائی کیلیوریز میں چینی سے حاصل کردہ کیلوریز کا تناسب 20 فیصد ہیں۔ قیمت کے اعتبار سے گنے کی فصل چاول اور گندم کے بعد دنیا کی تیسری بڑی فصل پے۔

    چینی کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کے باعث سترویں صدی سے اسکا استعمال وبا کی طرح پھیلا۔ اور آج میں سالانہ 180 ملین ٹن سے بھی زائد چینی پیدا ہوتی ہے جس میں پاکستان کا حصہ تقریباً 7 ملین ٹن ہے۔

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق چینی سے منسلک بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کے لیے اس کا استعمال کم سے کم ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے اّنکی سفارش کردہ حد کے مطابق: ایک دن میں مرد حضرات کو زیادہ سے زیادہ 36 گرام (9 چینی کے چمچ) جبکہ خواتین کو 24 گرام (6 چینی کے چمچ) چینی استعمال کرنی چاہئیے۔ مگر اس سے جتنی کم استعمال کی جائے، اُتنی ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ 2019 کے اعداو شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ 21.5 کلو چینی "رگڑتا” ہے۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ایک پاکستانی تقریباً 58 گرام (15 چینی کے چنچ) استعمال کرتا ہے۔ گویا یہ صحتمندانہ حد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے!!

    انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک شخص ذیابیطس کا شکار ہے جسکی بڑی وجوہات میں سے ایک چینی کا زائد استعمال بھی بتایا جاتا ہے۔ خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں آبادی اور تیار کھانوں کی مصنوعات میں اضافےکے باعث چینی کی کھپت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2023 میں یہ کھپت 2021 -2022 کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد بڑھ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اٹرات سے گزر رہا ہے اور آنے والے سالوں میں زیرِ کاشت رقبے میں کمی اور ہانی کی قلت کے باعث یہاں خوراک کی غیر یقینی صورتحال متوقع ہے۔ اس وقت کاشت ہونے والے گنے کی فصل کا ایک بڑا حصہ چینی کی پیداوار میں استعمال ہو رہا ہے۔ ملک کے کل زیر کاشت رقبے میں 1 ملین ہیکٹرز گنے کی کاشت کے لیے وقف ہے۔جبکہ گنے کی فصل آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 10 فیصد حصہ استعمال کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دیگر فصلیں خاص کر کپاس کی پیداوار کم ہو رہی ہے جسکے باعث کسان زیادہ ہانی استعمال کرنے والی گنے کی فصل لگانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں فی ایکڑ گنے کی پیداوار بھارت سے بھی کم ہے۔ یہاں ہر ایک ہیکٹر پر اوسط 46 ٹن گنا اُگتا ہے جو دنیا کی اوسط یعنی 60 ٹن فی ہیکٹر سے کافی کم ہے۔ ( ایک ہیکٹر میں 2.41 ایکڑ ہوتے ہیں)۔ گویا ہم کر طرف سے مار کھا رہے ہیں۔

    شوگر مافیہ، زراعت میں کسان دوست پالیسیوں کے فقدان، مہنگی کیڑے مار ادوایات، کھاد کی خراب کوالٹی، ناکافی تربیت اور دیگر ایسے کئی مسائل ہیں جو اس فصل کی پیداوار اور اس سے جڑے معاشی اور معاشرتی نقصانات کو جنم دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ عوام میں چینی کی کھپت کے غیر صحتمندانہ اور غیر ذمہ دارنہ استعمال سے صورتحال آنے والے دنوں میں مزید ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں اربابِ اختیار کو سوچنا ہو گا کہ عوام کی صحت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور آئندہ آنے والے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

    باہر کے ممالک میں چینی کے غیر ذمہ دارنہ استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے شوگر ٹیکس کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 2016 میں برطانیہ میں ایک بل کے ذریعے شوگر ڈرنکس پر ٹیکس عائد کیا گیا۔ اب تک 50 سے زائد ممالک شوگر ٹیکس کسی نہ کسی صورت عائد کر چکے ہیں۔ جس سے یہ دیکھا گیا ہے کہ عوام میں چینی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان میں حالیہ بجٹ میں حکومت نے۔ چینی پر 10 فیصد ٹیکس "سپر ٹیکس” کے نام سے عائد کیا ہے۔ کیا اس سے ملک میں چینی کی کھپت میں کمی آئے گی؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ آپ فی الحال کم چینی والی چائے پیجئے۔

  • دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا اور مریخ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    دنیا کا سب سے بڑا صحرا کونسا ہے؟

    انٹارکٹیکا !!

    مگر کیوں؟ انٹارکٹیکا میں تو برف ہی برف ہے۔ اور صحراؤں میں تو پانی نہیں ہوتا. یے ناں!! اسے سمجھنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ صحرا دراصل کہتے کسے ہیں۔ صحرا زمین کا ایسا حصہ ہوتا ہے جہاں سارا سال بہت کم بارش ہو اور جہاں جانور، پرندے یا درخت وغیرہ باقی زمینی علاقوں کی نسبت بے حد کم ہوں۔ جہاں دراصل زندہ رہنا محال ہو۔

    انٹارکٹیکا زمین کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ یہاں سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 57 ڈگری سے بھی کم رہتا ہے۔

    لہذا ایسے سرد موسم میں بارش نہیں ہوتی۔ البتہ انٹارکٹیکا چونکہ زمین کے جنوبی قطب پر واقع ہے تو یہاں دو ہی موسم ہوتے ہیں۔۔طویل سردیاں اور طویل گرمیاں۔ ایسے میں گرمیوں میں جب اسکے قریب ساحلی پٹی پر درجہ حرارت صفر سے اوپر جاتا ہے تو کبھی کبھی بارش ہو جاتی ہے ۔ ایسے ہی یہاں برف باری بھی یہاں سال بھر میں بےحد کم ہوتی ہے۔ اور رہی بات جانورں کی تو اسکے اردگرد سمندروں میں کچھ ہی جانور رہتے ہیں جن میں پینگوئین، سیل، وہیل مچھلیاں یا کچھ آبی پرندے شامل ہیں۔ پینگوئین انٹارکٹیکا پر یہاں کے قریب ساحلوں پر جمی برف پر کالونیوں کی صورت رہتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ انٹارکٹیکا پر کام کرنے والے سائنسدان انہیں گن نہیں سکتے لہذا وہ خلا میں سٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے انکے کالونیوں اور تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سفید انٹارکٹیکا پر خلا سے انکی کالونیوں کو ڈھونڈنا آسان ہے۔ وجہ؟ ان کے پاخانے کا رنگ جو سرخی مائل بادامی ہوتا ہے۔ سفید برف پر خلا سے دیکھنے پر اس رنگ کی لکیریں نظر آتی ہیں جن سے انکی کالونیاں با آسانی ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔

    اور رہی بات پودوں کی تو اتنے ٹھنڈے علاقے میں جہاں ہر طرف برف ہی برف ہو کونسا درخت یا ہودا اُگ سکتا ہے؟ البتہ کہیں کہیں پانیوں کے پاس ایلجی یا کائی موجود ہے۔ اسی طرح انٹارکٹیکا کے شمالی علاقے میں قریب بارہ قسم کے پھولدار پودے بھی پائے جاتے ہیں۔اتنی ٹھنڈ میں اور دنیا کے ایک الگ تھلگ سے کونے میں یہ پودے کہاں سے آئے؟ اسکی کہانی کچھ طویل ہے۔ مگر مختصر یہ کہ آج سے قریب 20 کروڑ سال پہلے انٹارکٹیکا ، افریقہ، انڈیا ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکہ یہ سب ایک بڑے سے بر اعظم کا حصہ تھے جسے گونڈوانہ کہتے ہیں۔ زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس جن پر تمام بر اعظم تیر رہے ہیں ، ان پلیٹس کی آہستہ آہستہ حرکت سے یہ بر اعظم ایک دوسرے سے الگ ہوتے گئے اور ان پر موجود پودے بھی انہی کے ساتھ جاتے رہے۔ انٹارکٹیکا، گونڈوانہ سے آہستہ اہستہ جدا ہوتے، کھسکتے ہوئے آج سے تقریباً 7 کروڑ سال پہلے زمین کے شمالی قطب تک آ پہنچا۔

    یہاں سخت موسموں کے باعث بہت سے جاندار وقت کیساتھ ساتھ معدوم ہوتے گئے مگر چند ہی پودوں نے ارتقاء سے گزرتے زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟

    کیونکہ ہمیں انٹارکٹیکا پر اور دنیا کی دوسرے بر اعظموں پر پرانے دور کے ایک جیسے جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو اس کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ زمین کی ٹیکٹانک پلیٹس کی ہونے والی حرکت کی رفتار اور سمت کو جان کر سائنسدان کمپوٹر ماڈلز کے تحت یہ بتا سکتے ہیں کہ ماضی میں یہ تمام برِ اعظم کیسے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔ ویسے تمام برا اعظم اب بی آہستہ اہستہ اہنی موجود جگہیں بدل رہے ہیں اور آج سے 25 کروڑ سال بعد یہ تمام برا اعظم ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔

    انٹارکٹیکا سائنسدانوں کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ یہاں سارا سال، دنیا بھر کے سائنسدان مشکل حالات اور سخت سردی میں رہتے ہوئے سائنسی تجربات اور دریافتیں کرتے رہتے ہیں۔ ناسا بھی انٹارکٹیکا کے موسم اور یہاں ہونے والی تبدیلیوں کو خلا سے مانیٹر کرتا رہتا ہے ۔۔جسکا مقصد دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر جاننا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں برف اگر تیزی سے پگلنا شروع ہو جائے تو پوری دنیا کے سمندروں میں پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہو جائے گی جس سے دنیا کے تمام ساءلی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ ناسا یہاں خلا میں انسانوں کی خوراک کی ضروریات کے حوالے سے بھی تجربات کرتا ہے۔ دراصل خلا میں بھی سورج کی روشنی خلابازوں کے جسم پر نہیں پڑتی اور ہم جانتے ہیں کہ سورج کی روشنی سے وٹامن بنتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے انٹارکٹیکا پر رہنے والے سائنسدان جو طویل عرصہ سورج کی روشنی حاصل نہیں کر پاتے ، اُن پر جسمانی اور نفسیاتی اثرات کو جانا جاتا ہے۔

    مگر سب سے اہم یہ کہ ناسا یہاں کئی ایسے روبوٹس کو بھی ٹیسٹ کرتا ہے جو مریخ پر بھیجے جانے ہوں۔ وجہ یہ کہ انٹارکٹیکا اور مریخ دونوں سرد ہیں اور دونوں صحرا کی طرح خشک ہیں۔

    ایک اور اہم بات، زمین پر گرنے والے شہابیوں کے ٹکڑے انٹارکٹیکا میں بھی گرتے ہیں اور یہاں سائنسدان انکو سفید برف میں آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہاں کے موسم کے باعث قدرے اچھی حالت میں محوفظ رہتے ہیں۔ اس طرح ہم ان شہابیوں کا تجزیہ کر کے نظام شمسی اور زمین کے ماضی کے بارے میں بی بہتر جان سکتے ہیں۔

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سوشل میڈیا کمال کی جگہ ہے یہاں منٹوں میں کوئی ہیرو بن جاتا ہے تو منٹوں میں ولن، ایسے میں جذباتی تبصرے کافی مزے کے ملتے ہیں۔

    ایک بھائی صاحب کہتے ہیں رضوان اگر کھڑا رہتا تو پاکستان میچ ہار جاتا، مگر میں کہتا ہوں اگر رضوان بیٹھ جاتا تو بھی پاکستان ہار جاتا کیونکہ اسکے اکہتر رن صدقے میں نہیں گئے ٹیم کے سکور کارڈ میں گئے ہیں۔

    ایک بھائی بولے سب ٹھیک ہے مگر انگریزی اچھی نہیں تھی، اس پر دل سے صدا آئی کہ پانٹ کے IELTS کے 8 بینڈ اگر کرکٹ میں کام آنا ہوتے تو وہ شاداب کی اردو میں گرامر کی غلطیاں نکال کر چھکا بن جاتے۔ کھلاڑی یہاں اے بی سی سنانے نہیں آئے کھیلنے آئے ہیں انگلش سننی ہے تو فاکس نیوز لگا لیں۔

    ایک اور بھائی نے پچھلے میچ میں مشورہ دیا تھا کہ حارث رؤف جیسا بیکار کھلاڑی ٹیم میں رکھنا فضول ہے۔ اب آج ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر حارث رؤف کو حسن علی کی طرح شادیوں والا ورتاوا(ویٹر) رکھ لیتے تو انڈیا کے رنز کس پھپھی کے پتر نے روکنا تھے؟ تہاڈی؟

    اور تو اور فخر سے کیچ ڈراپ ہوا وہ پچھلی مس فیلڈنگ کی وجہ سے انڈرپریشر ہونے پہ ہوا، بیٹنگ میں خرابی کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ بار بار کیمرہ ہائی لائٹ بہت انڈر پریشر کرتی ہے۔ مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فخر کو ٹیم سے نکالنا چاہیے اچھا انکی مان لیں کیونکہ ان کے پاس بارش میں کینچوے پکڑنے کا عالمی ریکارڈ ہے سو مان لیں بھائی کی۔

    اور تو اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ جیت تو گئے ہیں مگر کیا فائدہ آخری اوور میں آخری گیند تک میچ لیکر گئے تھے، اب مجھے معلوم نہیں کہ بھائی محلے میں گلی ڈنڈے میں کتنی سنچریاں بناتے تھے مگر سوری ٹو سے پائین اگے انڈیا دی ٹیم سی تہاڈی خالہ دا ٹنڈا منڈا نئیں سی۔

    نسیم شاہ پر تبصرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ابھی بچہ ہے اس لئے ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے، چلیں جی باقیوں کی مان رہے تو آپ کی بھی مان لیتے ہیں جب اس کے پوتے کی شادی ہو گی تب اس کو کھیلا لیں گے آپ فکر نا کریں۔ رہی بات نئے ٹیلنٹ کی تو اس کا کیا۔ آپکا مشورہ ہے کہ نئے کھلاڑی میچور ہونے چاہیں تو پھر آئندہ سے کھلاڑیوں کی کرکٹ کی بجائے بچوں کی تعداد دیکھ کر ٹیم بنا لیں گے۔

    اوپر سے یہ وسیم اکرم بھی ٹیم کی کپتی ساس ہے۔ بندہ اس سے پوچھے پائی تم کمنٹری مخالف ٹیم کی طرف سے کیوں کر رہے ہو؟ ساتھ والا کمنٹیٹر کہتا ہے کہ واؤ واٹ آ شاٹ بائی نواز، اب وسیم پائی اس پہ کہتے ہیں کہ اگر لیگ پہ کھیل لیتا تو چھکا تین میٹر لمبا ہو سکتا تھا۔ مجھے تو وسیم پائی بھی مخالفوں کا بندہ لگتا ہے اسکی کمنٹری سن کر بہت غصہ آتا ہے۔ بھائی کبھی ساس نا بننے کی بھی کوشش کر لیا کرو۔

    ٹیم تو جیت گئی مگر آج جو جلن دیکھنے کو ملی اسکا الگ مزہ آ رہا ہے۔ مزید جلن تب ہو گی جب اگلے میچ کا سکواڈ بھی سیم ہی ہوگا۔ ہم تو محض انٹرٹینمنٹ ہی لے سکتے ہیں ہمارے کہنے سے ٹیمز نہیں بدل سکتیں لیکن ہم سب کے فیورٹس الگ الگ ہو سکتے ہیں جیسے اوپر والوں کے ہیں جن پر مذاق کیا ہے۔

  • شارٹیج — ستونت کور

    شارٹیج — ستونت کور

    بیئر، رَم یا متوسط مقدار میں ‘واڈکا’ کو میں ذاتی طور پر نشے میں شمار نہیں کرتی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔مینوں نئیں چڑھدی.

    پر خدا معاف کرے میرے ساتھ ‘نشے’ کا ایک سیریس کیس ہوتے ہوتے رہ گیا !!

    ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ قبل ، معدے کے چند مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو دیگر چند میڈیسنز کے ساتھ ڈاکٹر کے E•••••c نام کا ایک پاؤڈر بھی تجویز کیا جو چھوٹے چھوٹے ساشے کی شکل میں تھا اور اسے پانی میں گھول کر پینا تھا 7 دن ۔۔ اور ڈبے میں تھے بھی سات عدد ساشے !!

    چنانچہ جب پہلا ساشے گھول کر پیا ، بھلے وہ بےذائقہ تھا ، تاہم اس کی ایک ہلکی سی مخصوص خوشبو تھی جو ذائقے کا سا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ پہلے گھونٹ پر ہی مجھے خوشگوار محسوس ہوئی وہ دوا اور میں نے اسے چائے یا کافی کی طرح آرام آرام سے پیا۔۔۔۔اور جب ختم ہوگیا گلاس تو دل ابھی تک بھرا نہیں تھا، جی میں آیا کہ ایک اور ساشے گھول کر پی لوں مگر یہ اوور ڈوز ہو جانی تھی چنانچہ خود کو اس حرکت سے باز رکھا مگر رہ رہ کر اس کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔۔۔ اسی طرح 7 دن بیت گئے ۔۔۔ اور آٹھویں دن مجھے پھر سے اس کی طلب ستانے لگی تو پہلی مرتبہ مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ،

    میں نے گوگل پر اسے سرچ کیا اور تفصیل سے اس دوا کے مندرجات کا مطالعہ کیا۔۔۔لیکن۔۔۔ نہ تو اس میں کوئی نشہ آور شے شامل تھی اور نہ ہی ممکنہ سائیڈ ایفکٹس کی لسٹ میں ایسی کوئی تنبیہ درج تھی۔

    مزید یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا مقصد معدے میں ، مفید بیکٹیریا کی استعداد کار کو بہتر بنانا تھا ۔۔۔

    خیر چند روز شش و پنج میں رہنے کے بعد میں ایک اور ڈبہ خرید لائی اور اب کی بار 2 ، 2 دن کے وقفے سے ایک ایک ساشے پیتی رہی ۔۔۔ چنانچہ کئی دن کام چل گیا !!
    لیکن جب دوسرا ڈبہ بھی ختم ہوگیا مگر اس کی طلب ختم نہ ہوئی ۔۔۔۔ تو اب واضح طور پر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں !

    میں نے اپنے ڈاکٹر تایا زاد سے رابطہ کیا اور بغیر سیاق و سباق سے آگاہ کیے اس سے استفسار کیا کہ کیا فلاں میڈیسن کسی بھی حالت میں ایڈکشن کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔ ؟؟ اس کا جواب بھی یہی تھا کہ ” بالکل بےضرر دوا ہے ایسا کچھ نہیں”.

    میرے ذہن میں یہ خیال یہ بھی لہرایا تھا کہ کہیں میڈیسن ایکسپائرڈ تو نہیں ۔۔۔ مگر دوسری دفعہ خریدنے پر میں نے ایکسپائری ڈیٹ بھی چیک کر چھوٹی تھی جسے ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھے ۔

    تو خیر ۔۔۔ پندرہ بیس دن کے وقفے سے ، جب میںنے تیسری مرتبہ مذکورہ میڈیسن خریدنے کا قصد کیا ، تو معلوم ہوا کہ ” مارکیٹ میں شارٹ ہے ” ۔

    تو قصہ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے وہ میڈیسن دوبارہ کبھی پاورڈ/ساشے کی شکل میں مارکیٹ میں نہیں آئی بلکہ اب اسی نام کا ایک سیرپ ملتا ہے بدمزہ سا ۔

    تو اس طرح یہ ” شارٹیج ” میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور مزید ایک مہینے بعد طلب بھی معدوم ہوتی چلی گئی ۔

    ۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر میرا قیاس یہ ہے کہ یقیناً وہ میڈیسن بےضرر اور محفوظ ہی ہوگی مگر شاید اس مرتبہ اس کی جو کھیپ تیار ہوئی ہو اس میں کوئی ایسا معمولی مسئلہ آگیا ہو کہ جو اس کی اضافی طلب کا باعث بن رہا ہو اور مسئلے کی نشاندہی ہوتے ہی میڈیسن کو مارکیٹ سے اٹھوالیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ یہ میڈیسن اس شکل میں نہیں فروخت کی گئی !!

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • واٹس ایپ نے 23 لاکھ  87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    واٹس ایپ نے 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    کیلیفورنیا: میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے جولائی میں 23 لاکھ 87 ہزار بھارتی اکاؤنٹس بلاک کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاک کیے گئے اکاؤنٹس میں 14 لاکھ 20 ہزار اکاؤنٹس کو کسی صارف کی جانب سے رپورٹ کیے جانے سے قبل ہی بلاک کیا گیا۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    کمپنی نے جمعرات کو کہا کہ متعدد اکاؤنٹس کو کمپنی کے شکایات کے چینل سے شکایات موصول ہونے اور آلات کے ذریعے مشتعل سرگرمیوں کی نشان دہی پر بلاک کیا گیا جولائی کے مہینے میں واٹس ایپ کو 574 شکایتی رپورٹس موصول ہوئیں۔

    میسجنگ پلیٹ فارم، جس کو بھارت سمیت دنیا بھر میں گمراہ کن معلومات کے پھیلنے کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا تھا، کی جانب سے جون کے مہینے میں 22 لاکھ 10 بھارتی اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔

    کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ آئی ٹی رولز 2021 کے مطابق، ہم نے جولائی 2022 کے مہینے کے لیے اپنی رپورٹ شائع کی ہے جیسا کہ تازہ ترین ماہانہ رپورٹ میں دیکھا گیا ہے، واٹس ایپ نے جولائی کے مہینے میں 2.3 ملین سے زیادہ اکاؤنٹس (2,387,000) پر پابندی لگا دی ۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز، 2021 کے رول 4(1)(d) کے مطابق شائع کی گئی، رپورٹ میں بھارت میں صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں واٹس ایپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ڈیٹا موجود ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    اعتراضات شکایات کے طریقہ کار کے ذریعے موصول ہوئے تھے اور قوانین یا اس کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کے لیے اس کی روک تھام اور پتہ لگانے کے طریقوں کے ذریعے کارروائی کی گئی تھی۔ اپ گریڈ شدہ آئی ٹی رولز 2021 کےتحت، بڑے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جن کے 50 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں، کو ماہانہ تعمیل کی رپورٹ شائع کرنی ہوگی۔

    کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ واٹس ایپ ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ میسجنگ سروسز کے درمیان بدعنوانی کو روکنے میں ایک انڈسٹری لیڈر ہے ہمارے پلیٹ فارم پر اپنے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے گزشتہ برسوں میں، ہم نے مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنسدانوں اور ماہرین، اور عمل میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے ۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان