Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    اس سال 29 جون کو، زمین نے ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا، دن کے دورانیے کی پیمائش کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 29 جون کو زمین کا 24 گھنٹے کا ایک عمومی چکر 1.59 ملی سیکنڈ پہلے مکمل ہواجس کے بعد گھڑیوں اور زمین کے چکر کے درمیان مطابقت رکھنے کے لیے ’لِیپ سیکنڈ‘ کا خیال تقویت پا رہا ہےلیپ سیکنڈ کے تحت بین الاقوامی ایٹمی وقت اور شمسی وقت کے درمیان تفریق کو ایک سیکنڈ کی آہنگی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوگا جب عالمی سطح پر گھڑیوں کو تیز کیا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    یہ بات سائنس دانوں کےعلم میں ہےکہ زمین کی گردش کی رفتار میں کمی آئی ہے پچھلے کچھ سالوں میں ریکارڈز میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس میں چھوٹے دنوں کو زیادہ کثرت سے نوٹ کیا جا رہا ہے 1970 کی دہائی سے اب تک ایٹمی وقت کو درست رکھنے کے لیے 27 بار لیپ سیکنڈز کے استعمال کی ضرورت پیش آئی ہے۔ آخری بار 2016 میں سال کے آخری دن لیپ سیکنڈ کا سہارہ لیا گیا تھا جب ایک سیکنڈ کے لیے گھڑیاں روکی گئیں تھیں تاکہ زمین کے وقت کے ساتھ ہم آہنگی کی جاسکے۔

    لیکن 2020 سے یہ عمل الٹا ہوگیا ہے 29 جون سے قبل مختصر ترین دن 2020 میں 19 جولائی کا تھا جب زمین نے ایک چکر 1.47 ملی سیکنڈز پہلے مکمل کرلیا گیا تھا انسان اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے لیکن یہ سیٹلائٹ اور سمت شناسی کے نظاموں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا زمین کے محور کے گرد چکر میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی ایک وجہ موسم سرما میں شمالی ہیمسفیئر کی پہاڑیوں پر جمع ہونے والی برف بھی ہوسکتی ہے جو گرمیوں پگھل جاتی ہے۔

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    تو کیا دنیا تیز ہو رہی ہے؟ طویل مدت کے دوران – ارضیاتی ٹائم اسکیلز جو ڈائنوسار کے عروج اور زوال کو پلک جھپکتے میں دباتے ہیں – زمین درحقیقت پہلے سے کہیں زیادہ آہستہ گھوم رہی ہے۔ گھڑی کو 1.4 بلین سال پیچھے کریں اور ایک دن 19 گھنٹے سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔ اوسطاً، پھر، زمین کے دن چھوٹے ہونے کی بجائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں، ہر سال ایک سیکنڈ کے تقریباً 74,000ویں حصے سے۔ چاند زیادہ تر اثر کے لئے ذمہ دار ہے: کشش ثقل کی ٹگ سیارے کو تھوڑا سا مسخ کرتی ہے، جو سمندری رگڑ پیدا کرتی ہے جو زمین کی گردش کو مسلسل سست کرتی ہے۔

    گھڑیوں کو سیارے کے چکر کے مطابق رکھنے کے لیے، اقوام متحدہ کی ایک باڈی انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے جون یا دسمبر میں کبھی کبھار لیپ سیکنڈز کا اضافہ کیا ہے پہلا لیپ سیکنڈ 1972 میں شامل کیا گیا تھا۔ اگلا موقع دسمبر 2022 میں ہے، حالانکہ زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے، اس کی ضرورت کا امکان نہیں ہے۔

    اگرچہ زمین طویل مدت میں سست ہو رہی ہے، لیکن مختصر اوقات میں صورتحال مزید خراب ہے۔ زمین کے اندر ایک پگھلا ہوا کور ہے۔ اس کی سطح بدلتے ہوئے براعظموں، پھولتے ہوئے سمندروں اور معدوم ہونے والے گلیشیئرز کا ایک مجموعہ ہے۔ پورا سیارہ گیسوں کے ایک موٹے کمبل میں لپٹا ہوا ہے اور یہ اپنے محور پر گھومتے ہی لرزتا ہے۔ یہ تمام چیزیں زمین کی گردش کو متاثر کرتی ہیں، اسے تیز کرتی ہیں یا اسے سست کرتی ہیں، حالانکہ تبدیلیاں بنیادی طور پر ناقابل تصور ہیں۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ناسا کے مطابق، ال نینو سالوں میں تیز ہوائیں سیارے کی گردش کو کم کر سکتی ہیں، جس سے دن کو ملی سیکنڈ کے ایک حصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، زلزلوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔ 2004 کے زلزلے نے جس نے بحر ہند میں سونامی کو جنم دیا تھا اس نے اتنی چٹان کو منتقل کر دیا کہ دن کی لمبائی تقریباً تین مائیکرو سیکنڈ تک کم ہو گئی۔

    کوئی بھی چیز جو زمین کے مرکز کی طرف بڑے پیمانے پر حرکت کرتی ہے وہ سیارے کی گردش کو تیز کرے گی، جیسا کہ ایک گھومنے والا آئس سکیٹر جب اپنے بازوؤں میں کھینچتا ہے تو اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ارضیاتی سرگرمی جو بڑے پیمانے پر مرکز سے باہر کی طرف دھکیلتی ہے اس کا الٹا اثر پڑے گا اور اس کا گھماؤ سست ہو جائے گا-

    یہ تمام مختلف عمل ایک دن کی طوالت کو متاثر کرنے کے لیے کیسے اکٹھے ہوتے ہیں، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب سائنسدان ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر چھوٹے دنوں کا رجحان طویل عرصے تک جاری رہتا ہے، تو یہ پہلی "منفی لیپ سیکنڈ” کے لیے کالز کا باعث بن سکتا ہے۔ گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کرنے کے بجائے، شہری وقت تیزی سے گھومنے والے سیارے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سیکنڈ چھوڑ دے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اپنے نتائج ہو سکتے ہیں، کم از کم اس بحث کو دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہیے کہ آیا، 5000 سال سے زیادہ کے بعد، سیارے کی حرکت کے ذریعے وقت کی وضاحت ایک ایسا خیال ہے جس کا وقت گزر چکا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

  • عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ملکی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو امریکہ مخالف بیانیہ آزمایا ہوا فارمولا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اسی فارمولے پرعوام سے ووٹ حاصل کرتی رہیں ۔ جب بھی کسی حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو وہ سیاسی جماعت امریکہ اور اسٹیبلشمنت کو نشانے پرلیتی ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی وہی فارمولا اپنایا ۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کا المیہ رہا ہے جب انکے مفادات کی بات آتی ہے تووطن عزیز کے سیاسی ومذہبی اداکار اخلاقی اورجمہوری اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ اس طرز سیاست نے سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ۔ اس کی مثال پیپلزپارٹی کی دی جا سکتی ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک محدود ہو کررہ گئی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چل کر ملک کی مقبول ترین جماعت مسلم لیگ(ن) جس کی آبیاری نواز شریف نے کی تھی بالخصوص پنجاب میں اس جماعت کو شکست دینا ناممکن تھا ۔ شہبازشریف اور اُن کے قریبی چند ساتھیوں کی طرز سیاست کی وجہ سے اس جماعت کو پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کو عارضی فائدے تو مل گئے لیکن ان کی جماعت کو شدید دھچکا لگا ۔

    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آمدہ قومی انتخابات میں پنجاب کو فتح کرنے کے لئے نئی حکمت عملی تیار کرلی اور اس نئی حکمت عملی کے کرداروں میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہی ہیں بلاشبہ چوہدری خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مگر پنجاب کی وزارت اعلی چوہدری پرویز الہی کے پاس ہے جو مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی طور پر اچھا شگون قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ پنجاب کو فتح کرنے کے لیے اور آمدہ قومی انتخابات میں کامیابی کے لئے شہباز شریف اوران کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں کوئی بھی ایسی کرشماتی شخصیت نہیں جو عمران خان کے بیانیے پر حاوی ہو سکے ۔ اگر نواز شریف وطن آتے ہیں تو شاید کوئی اس جماعت کو کامیابی حاصل ہو، مریم نواز نے اس جماعت کی مقبولیت کو بچانے کی بہت کوشش کی اور کررہی ہے تاہم نواز شریف آج بھی پنجاب میں مقبول ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    حکومت پی ڈی ایم کی ہے لیکن معاشی بحران مہنگائی کا ملبہ نواز لیگ پر پڑ رہا ہے اس بحران کو حل کرنے کے لیے نواز شریف کے پاس سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجود تھے مگر شہباز شریف ان کی پاکستان آمد کا راستہ ہموار کرنے میں ناکام رہے ۔ رہی بات عوام کی جس ملک میں سیاسی عدم استحکام ہو وہاں عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

  • اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    عناب: جادوئی دوا

    عناب ایک مشہور پھل ہےجو بیر کی مانند گول ہوتا ہے اس لئے اسے عناب کا بیر کہا جاتا ہے، یہ پھل جب کچا ہوتا ہے تو ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس کا رنگ سرخ اور جامنی ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک لو کیلوری فروٹ ہے جس کا ذائقہ میٹھا اور سیب سے ملتا جلتا ہوتا ہے،

    اچھا عناب سرخ ، گودےوالا ، میٹھا اور اندر سے کیڑے کے بغیر ہوتا ہے۔

    عناب کو چینی کھجور بھی کہا جاتا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے
    لیکن پکانےاورسکھانے سے اس کی
    افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    اس کو بطور میوہ کھایاجاتا ہے۔ عناب کو بطور دوابھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس پھل کا استعمال نیا نہیں بلکہ یہ پھل 4000 سال سے ہربل دوائیں بنانے کے لئے چین میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکانے اور سکھانے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سے شربت عناب بنایا جاتا ہے۔
    عناب ایک ایسی قدرتی خزانوں سے مالا مال جڑی بوٹی ہے جس کے بہت زیادہ فائدے ہیں،
    جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

    خون کی بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے:
    ایسے افراد جو آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور آئرن کے سپلیمنٹ کھاتے ہیں یا خون کی کمی کے باعث تھکان ،ذہنی اور جسمانی کمزوری اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں انھیں اسکا استعمال کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں فاسفورس اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

    جسم سےزہریلےمادوں کو خارج کرتا ہے:
    غیر ضروری مادوں سے پاک کرتا ہے۔

    خون کی حدّت کو کم کرتا ہے:
    جن لوگوں کا خون گرم ہوتا ہے ان کی جلد پر دانے نمودار ہو جاتے ہیں،

    ایسے میں طرح طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے دانے نکلنا بند نہیں ہوتے بلکہ جلد مزید خراب ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں عناب کے دس سے بارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیا جائے تو خون کی گرمی کم ہوتی ہے اور چہرے پر تازگی آتی ہے۔

    چونکہ یہ وٹامن سی ،اے اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ موسمی بخار ،سردی، اور خشک اور بلغمی کھانسی سے بھی بچاتا ہے۔

    یہ گلے کی سوزش کو دور کرتا ہے،زکام کے باعث بیٹھی آواز کو جلد بہتر کرتا ہے۔

    عناب کا قہوہ وزن کم کرنے میں معاون:
    عناب کا جوشاندہ نزلہ اور کھانسی میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    دو گلاس عناب میں دو چمچ عناب،ایک دار چینی کا ٹکڑا، پانچ لونگ ڈال کر جوش دیا جائے اور اوپر سے شہد ڈال کر پیا جائے تواس قہوہ کے استعمال سے موسمی فلو سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے اس کو وزن کم کرنے کے لئےروز رات کے کھانے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پیٹ کے امراض میں مفید:
    قبض اور پیٹ کے دیگر امراض میں یہ پھل انتہائی مفید ہے ۔خشک عناب کا پاؤڈر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور بھوک کھولتا ہے۔

    اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے:
    یہ پھل اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے ایسے افراد جو کسی مستقل پریشانی ،صدمہ یا غم کا شکار ہوں اور ان کے اعصاب کمزور ہو گئے ہوں عناب کے مستقل استعمال سے ان کو فرحت ملے گی۔اس لئے اسے اینٹی ڈیپریسنٹ بھی کہا جاتا ہے۔

  • نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    نیا سال مبارک ہو — حافظ گلزارعالم

    کل یکم محرم الحرام 1444 ھ کا دن تھا۔ ہجری/ قمری اعتبار سے نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے۔ تمام عالم اسلام کو نیا سال بہت مبارک ہو۔ اللہ ہم سب کے لئے اس سال کو رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں والا بنائے اور ہر تکلیف سے محفوظ رکھے آمین

    اس سال کو ہجری سال اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ رضی اللہ عنھم کے مکے سے مدینہ ہجرت کے واقعے سے فرمائ۔واقعہ ہجرت ہی کو اسلامی سال کا سن آغاز منتخب کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے دینی، تاریخی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ اہلِ اسلام کو اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب ان کو مکّی دور کے ابتلاء وآزمائش کی تنگ زندگی سے نجات ملی اور مستحکم وپائیدار اور مضبوط مستقر ملا، اسلام اور اہل اسلام کو پھولنے پھلنے کا موقع ہاتھ آیا اور یہیں سے مسلمانوں نے پوری دنیا کو رشد وہدایت اور توحید کا عالم گیر پیغام دیا اور دنیا کے ایک بڑے حصے تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔

    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ جو بڑی فضیلت والا اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑے المناک واقعات بھی پیش آئے جن میں یکم محرم الحرام 24ھ کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور 10 محرم الحرام 61 ھ کو واقعہ کربلا میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک سانحہ سرفہرست ہے۔

    سال کے اس پہلے مہینے میں ہی اتنے عظیم دردناک واقعات میں بھی بڑی حکمت ہے۔ ہر مسلمان ان عظیم ہستیوں کی قربانیوں کو یاد کرے۔ کہ راہ حق میں انہوں نے ہر تکلیف اور پریشانی کا مقابلہ کیا۔ یہانتک کہ اپنی جانیں بھی قربان کردیں۔ یہ واقعات ہمیں یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان سچا راستہ ، صحیح مقصد، اعلی فکر اپنائے، اور پھر اس مقصد کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردے۔

    اور وہ سچا راستہ صحیح مقصد اعلی فکر ایک مسلمان کی نظر میں یہی ہے کہ وہ اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ جل شانہ کی بندگی میں گزارے۔ اور اس رستے میں اس کی جان بھی جائے تو دریغ نہ کرے۔

    میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
    میں اسی لئے مسلماں، میں اسی لئے نمازی

    اور بقول مرزا غالب

    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    اس سال کے پہلے دن یہ چند کام مفید ثابت ہونگے:

    محاسبہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے ۔

    یوں تو صبح شام ہر ایک کو اپنا محاسبہ کر نا چاہیئے، مگر اس دن بطور خاص ہم یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بے مقصد،فضول زندگی تو نہیں گزار رہے۔ کیا اللہ کے اور اسکے تمام بندوں کے حقوق ہم ادا کررہے ہیں۔ کیا ہم کسی ایسے کام میں تو مبتلا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں، یا جس سے اللہ کے کسی بھی بندے کو ہم سے تکلیف پہنچ رہی ہو؟

    نیت: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ یعنی نیک اعمال کا اجر ہمیں تب ہی ملے گا ،جب ہماری نیتیں درست ہوں۔ لہذا ہر نیک کام کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ میں محض اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ کام کررہا ہوں۔

    نظام الاوقات: سال کے ہرمہینے، ہر ہفتے اور ہر دن کے لئے شیڈول بنائیں۔ اعتدال کے ساتھ اپنے تمام اہم کاموں کو ترتیب دیں۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ مختلف اوقات میں اتنا ہی کام کریں جو آپ بآسانی کرسکیں۔ نیز تفریح، صحت، اہل و عیال کے لئے بھی مناسب وقت ضرور رکھیں۔

    وقت کی قدر بڑی عظیم نعمت ہے۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسکا ہر لمحہ سونے چاندی سے زیادہ قیمتی ہے۔۔ کسی ایک پل میں درست فیصلہ انسان کو فرش سے عرش پر پہنچا سکتا ہے۔۔ اور کبھی اس کے کسی ایک لمحے کی خطا صدیوں لاکھوں انسان بھگتتے ہیں۔۔ ٹیپو سلطان کے مرقد پر رقم رزمی کا یہ شعر اسی بات کو بیان کرتا ہے

    یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
    لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

    افسوس یہ ہے کہ وقت جس قدر قیمتی سرمایہ ہے اتنا ہی اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے اور انتہائ بے دردی سے اس عظیم سرماۓ کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا جاتا۔ اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحة والفراغ”۔۔ صحت اور فراغت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ بہت سارے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑجاتے ہیں۔

    اور فرمایا: "من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ” آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لایعنی اور فضول کاموں کو چھوڑدے۔۔

    الغرض اس دن اللہ تعالی کی عنایت کردہ بے شمار نعمتوں پر شکر کے ساتھ ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس زندگی کے ایک ایک لمحے کی صحیح قدر کرنے کی توفیق دے، کہ

    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے

  • کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    کورونا سے پہلے — اسامہ منور

    ہم سب اپنی روز مزہ کی مصروفیات میں اس قدر گم تھے کہ ہم اپنے گھر والوں کو، دوست احباب کو، رشتہ داروں کو حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی وقت نہیں دے پا رہے تھے. ہم نے اپنی زندگی کو اتنا شدید مصروف کر لیا تھا کہ زندگی خود ہم پر ہنستی تھی اور قہقہے لگا کر ہمارا مذاق اڑاتی تھی. ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں تھا. ہم اتنے مادہ پرست ہو چکے تھے کہ ہم نے ہر وہ چیز، ہر وہ رشتہ، ہر وہ احساس اور ہر وہ بندھن جو ہمیں تقویت دیتا، ہمیں سکون فراہم کرتا اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط بناتا، بھلا دیا.ہم صبح سے شام تک بس اسی تگ و دو میں لگے رہتے کہ کسی طرح ہم اتنی دولت اکٹھی کر لیں جو ہمیں دوسروں کے معاملے میں ممتاز بنا دے اور معاشرے میں ہمارا رتبہ دوسروں سے بلند ہو جائے پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہمارا کردار کیسا ہے اور ہم اخلاقی طور پر کیسے ہیں.

    ہم نے اپنا نام بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا. ہم نے ہر وہ راہ اپنائی جس سے ہمیں احتراز برتنا چاہیے تھا. ہم نے ایسا کوئی بھی فعل نہیں چھوڑا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو اور ہم نے ہر وہ حد پار کی جس سے ہمیں روکا گیا تھا. ہم نے ہمیشہ اپنے آپ کو دیکھا، ہمیشہ دوسروں پر خود کو فوقیت دی. ہم نے اپنی جھوٹی، ادا اور کھوکھلی میں سے ہمیشہ دوسروں کو تکلیف پہنچائی. زندگی گزر رہی تھی. اس نے گزر ہی جانا تھا.

    ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑنا تھا لیکن ہم نے اس بات کی بھی پروا نہیں کی کہ ہم اس فانی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہ سکتے تھے. ہمیں اس چیز کو سمجھنا تھا، ہمیں اپنے آپ کو سمجھانا تھا، ہمیں دل اور دماغ کے مابین چھڑی ان دیکھی جنگ کو افہام و تفہیم سے ختم کرنا تھا. ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا کہ زندگی کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا. ہمیں مشکل میں اوروں کی مدد کرنی تھی کہ جینے کا حسن اسی میں تھا. ہمیں دوسروں کو خود پر فوقیت دینی تھی کہ اسی کا نام زندگی تھا.

    ہمیں حلال کھانا تھا اور اپنی نسلوں کو پاکیزہ بنانا تھا، ہمیں حرام سے بچنا تھا اور اپنی نسلوں کو پاگل ہونے سے بچانا تھا، ہمیں دوسروں کے کام آنا تھا، ہمیں ہمیشہ نیکی کی تلقین کرنی تھی اور برائی سے روکنا تھا کہ یہی ہمارا شیوہ تھا. ہمیں علم حاصل کرنے کے بعد اسے جتانا نہیں تھا، لوگوں کو بتانا نہیں تھا، علم پر اترانا نہیں تھا بلکہ کچھ کر کے دکھانا تھا اور علم کی عملی تصویر بن کر اندھیری دنیا میں روشنی کی شمعیں روشن کرنی تھی.

    ہمیں پیشوا بننا تھا، ہمیں رہبر و راہنما بننا تھا. ہمیں مفلسوں اور ناداروں کا ہمنوا بننا تھا ہمیں اشرف المخلوق ہونے کا حق ادا کرنا تھا ہائے ہائے مگر افسوس……. ہم کن کاموں میں پڑ گئے، ہم کن چکروں میں چکرا گئے، ہم کس جالے میں پھس گئے، ہم کس سحر میں جکڑے گئے. ہم سب کچھ ہی بھول چکے تھے، اخلاقیات بھی تباہ، معاملات بھی تباہ، عبادات بھی تباہ، رسومات بھی تباہ، زیارات بھی تباہ، احکامات بھی تباہ، سب کچھ ہی تو ہم نے تباہ کر دیا وہ بھی اس فانی دنیا کے لئے. اور پھر کورونا آیا… اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ، ہم نے پھر بھی تمسخر اڑایا، اپنے آپ کو سدھارنے کی کوشش تک نہیں کی، اپنے گریبان میں نہیں جھانکا، پھر بھی قصور وار دوسروں کو ہی ٹھہرایا.

    ہماری دھرتی پر اس کا راج ہونے لگا مگر ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آیا. پھر کورونا کی ہولناکیاں آہستہ آہستہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئیں ہم پھر بھی نہیں سدھرے. کورونا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ان دیکھے جییو نے سب کچھ بدل ڈالا. ہمارے معاملات ہماری عبادات ہمارا رہن سہن ہمارے طور طریقے اور کسی حد تک ہماری جھوٹی نکمی دو ٹکے کی انا کو بھی.

    ہم پھر سے اپنوں کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اپنے آپ کو وقت دینے لگے، ہم پھر سے اندر ہی اندر ہی ڈرنے بھی لگے اور اپنی گزشتہ زندگی میں کئے گئے بلنڈروں کو یاد کر کے پیدا کرنے والے سے معافی بھی طلب کرنے لگے. ہمارے میناروں سے راتوں کو اذانیں بھی بلند ہونے لگیں اور مندروں، گرجاگھروں سے حق حق کی صدائیں بھی بلند ہونے لگیں.

    قصہ مختصر ہم لوگ کسی حد تک سدھرنے لگے. یہ وبا زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ اس سے بیشتر بھی بیسیوں وبائیں آ کر جا چکی ہیں مگر ہمیں اس وبا سے حاصل کرنا ان تمام اسباق کو تامرگ دم یاد رکھنا ہے جنھوں نے ہم میں سے کسی ایک کی زندگی کو بھی بدل ڈالا ہے.

    ہمیں کورونا کے بعد کورونا سے پہلی والی زندگی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا ہے اور جیون کی ابتدا ماں کے پیٹ سے کرنی ہے کہ ہم انسان ہیں، اور انسان انسانیت میں ہی اچھے لگتے ہیں.

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    پچھلی چند دہائیوں سے جنسی جرائم کے ارتکاب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنسی جرائم جیسے خطرناک فعل میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے ۔جن کے براہ راست اثرات خواتین اور بچوں پر ہیں ۔معاشرے کے ہر فرد بالخصوص خواتین اور بچوں میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے کہ کسی بھی وقت اُنھیں جنسی حملے کا شکار بنا یا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے ذہن میں ایک خوف طاری رہتا ہے ۔اور اُسے معمول کا جرم ماننے لگے ہیں حلانکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے ۔جسکی زندہ مثال رواں ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں چار سالہ مریم کا قتل ہے ۔پولیس کو معصو م بچی کی گردن کٹی لاش ملی اور وقوعہ کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی جنسی درندے نے یہ حرکت کی ہوگی مگر بعدمیں پولیس کے تفتیش کی بدولت معلوم ہوا کہ قتل کا محرک کچھ اور تھا اور چار سالہ معصوم مریم کا قاتل بچی کا باپ ہی نکلا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ایسے واقعات کو عوام فوراً کسی جنسی حملہ یا جنسی تشدد کے فعل کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں کیوں کہ عوام کے ذہن میں یہ ایک تصور رچ بس چکی ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تشدد ،جنسی حملہ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ۔

    جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو "جانور ” وحشی درندہ "جیسے مقبول عرف سے پکارا جاتا ہے حالانکہ معاملہ کی نوعیت اِس کہیں بڑھ کر ہے لیکن اِس قسم کے واقعات کے تناسب میں بڑھتی ہوئی تعداد اور آئے روز میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وجہ سے ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ تا ثر دیا جاتا ہے کہ دیگر جرائم کی طرح یہ بھی ایک عام جرم ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں سال 2018ء میں 4326سال 2019ء میں 4377سال 2020ء میں 3887اور سال 2021ء میں 1866زنا بالجبر کے مقدمات رجسٹرد ہوئے ۔یہ اعدادو شمار نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کئے گئے اور وزارت انسانی حقوق نے پارلیمنٹ آف پاکستان میں پیش کیے۔ یعنی گزشتہ چار سالوں میں کل ملا کر 14456ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ اُن تمام واقعات کا کل ملا کر نصف حصہ بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں اِس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں ایک خاتون کی مستقبل ، عزت ،غیرت وغیرہ وغیرہ جیسے سوچ ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسگی کے رجسٹر  شدہ واقعات کی تعداد 16153ہے حلانکہ یہ تعداد اُ ن تمام واقعات کا ایک چوتھا ئی حصہ بھی نہیں جو گزشتہ چار سال کے دوران رونما ہو چکے ہیں ۔ بیشتر خواتین اِس قسم کے واقعات معاشرے  میں خاندان کی عزت کی پامالی، معاشی مسائل ، پولیس کا منفی رویہ کی وجہ سے بیان کرنے یا رجسٹر کرنے سے کتراتے ہیں ۔
    کام کی جگہ پر ہراسگی کے روک تھام کے لیے سال 2010ء میں قانون متعارف کرایا گیا اور سال 2020ء میں اسے مزید فعال بنانے کی خاطر ترامیم کی گئی ۔مگر تا حال اس سے کسی قسم کی کامیابی نہ مل سکی جس کی سب سے بڑی وجہ ایسے قوانین کو عام لوگوں سے دور رکھنا ہے۔ قانونی اصطلاحات اتنی پیچیدہ رکھی گئی ہے۔کہ عام خواتین کی سمجھ سے بالاتر ہیں ۔دوسری بڑی وجہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ معاشرے میں بدنامی کاڈر ،پولیس کا خواتین کے ساتھ منفی برتاؤ وغیرہ جیسی وجوہات کی وجہ سے اپنے مسائل کو بیان کرنے سےکتراتی ہیں۔

    ایک جاننے والی خاتون جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں آئے روز ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زبانی فقرہ بازی ،اشارہ بازی سے لےکر بسا اوقات جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔مذکورہ خاتون کا مؤقف تھا کہ اگر یہ واقعہ خاندان کے کسی فرد کو بتاؤں گی تو یا تو وہ کام کرنے سے منع کریں گے یا دفتر کے مرد اہلکاروں سے لڑائی  جھگڑے کی نوبت آسکتی تھی۔ بدیں وجہ اپنے آپ کو یہ مسئلہ بیان کرنے سے روکی مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو پولیس میں شکایت درج کرائی جو بعد میں علاقہ عمائدین کی کوششوں سے صلح کے ذریعے مسئلہ وقتی طور پر ختم ہوا مگر اس کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنی طرف اٹھنے والی تمام نظروں کو مشکوک سمجھتی ہوں۔

    یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔خیرپختونخوا ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ضلع دیر لوئر میں چند ماہ قبل ایک خاتون نے سول جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مقامی پولیس کو دیکر جس پر باقاعدہ سول جج کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر بعد میں مدعیہ اپنی ابتدائی بیان سے مکر کر بیان کیا کہ یہ تو مقامی پولیس نے مجھے ورغلا پھسلا کر جج صاحب کے خؒاف شکایت درج کرانے کا کہا۔یہاں غلطی جس کی بھی ہومگر جھوٹ پر مبنی ایسے الزامات کسی کی بھی پیشہ ورانہ زندگی ،معاشی و معاشرتی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

    زنا بالجبر ،جنسی ہراسانی کے علاوہ ایک اور اخلاقی برائی جو ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے وہ Paedophilia ہے۔یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے کئی وجوہات ہے،جن میں سرفہرست وجہ یہ ہے کہ اس میں مبتلا افراد بچپن میں کسی قسم کے استحصال (خواہ والدین کی توجہ ،اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد،معاشی احساسی کمتری وغیرہ)کا شکار ہوا ہوتاہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کئی مہینوں سے جنسی Fantasy میں رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر  ایسا شخص سراب خیالی میں کسی اداکارہ ،جاننے والی عورت کے ساتھ جنسی عمل کر رہا ہوتا ہے مگر بعد میں وہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کسی کمزور فرد بالخصوص بچہ/بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اس ہیجان میں مبتلا شخص کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے اور تمام مشکلات کا سامنا کرنے کی بناء پر وہ تصور کر لیتا ہے کہ تمام مسائل کا جڑ یہی ایک عمل ہے اور آسانی سے نشانہ بننے والے بچے /بچیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔عام طور پر قریبی رشتہ دار ، ہمسائے  ایسے شخص کی درندگی کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔اور بعض اوقات بچے ڈر کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جو بعد میں معمول بن جاتا ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر بچہ/ بچی اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی ، تشدد کا شکار ہوا ہوتا ہے مگر بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ کم کمیونیکیشن  اور خوف کی وجہ سے ایسے واقعات وہ بیان نہیں کر سکتے ۔خواتین اور بچوں کے علاوہ مرد بھی ایسے ہراسگی ،جنسی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جن کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہو مگر اُسکی تعداد کافی کم ہے۔ یہ عمل عمر، رنگت ،مذہب اور معاشرتی رُتبے کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کے موافق حالات  دیکھے جاتے ہیں۔چلتی شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے اولے موٹروے کیس اس نوعیت کا پہلا وقوعہ تھا مگر اس کے بعد ابھی ابھی ایک خاتون کی چلتی ریل گاڑی میں اجتماعی زیادتی  کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔

    جنسی درندگی کے مجرمان کو عام طور پر "اکیلے پن سے شکار ، دماغی امراض میں مبتلا ،پاگل ،دیوانہ”وغیرہ جیسے ناموں سے منسوب کیا جاتاہے۔حالانکہ یہ بات کسی  حد تک درست ہے مگر رجسٹرشدہ شکایات میں نامزد ملزمان کی ہسٹری اُٹھا کر دیکھی جائے تو تقریباً  تمام افراد ذہنی  طور پر درست ہوتے ہیں اور قبل ازیں  بھی کسی بڑے جرم میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں  ۔ایسے واقعات میں آئے روز اضافے کی وجوہات  میں سب سے بڑی وجہ جسٹس سسٹم کی ناکامی ، قوانین پر من وعن عمل درآمد نہ کرنا ۔سزاؤں کی کمی ،جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی علاج کی عدم فراہمی جیسے اسباب ہیں۔تقریباً 2 سال قبل خیبر پختونخوا میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو ایک ماہ کے اندر عدالت سے ضمانت مل گئی۔جو ہمارے  تفتیش کے معیار اور جسٹس سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے عوام با لخصوص خواتین اور بچوں میں سرکاری  سطح پر منظم آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ سکول ،کالجز ،یونیورسٹیز میں سیمینار منعقد کراکر  خواتین ،بچوں کو یہ باور کرایا جائے  اگر کسی کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بلا جھجک پولیس ،خاندان کے کسی بڑے کو شکایات بیان کر کے کیوں کہ ایسے واقعات کو چھپانا مستقبل میں اُن کی ناکامی کی موجب بن سکتی ہے۔

    پولیس کو تفتیش بہتر بنانے ،عوام  با لحصوص خواتین کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کے لیے جدید خطوط پر استوار  ورکشاپس سرکاری سر پرستی میں منعقد کرائے جائیں ۔حال ہی میں پاس ہونے والے اینٹی ریپ(انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ) ایکٹ 2021 کو پوری طرح نافذ العمل کرنے اور خواتین کے خفاظت کے لیے عملی اقدامات اٹھانا  ناگزیرہے ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئےفرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔قوانین کو عام عوام تک پہنچانے ، عام فہم زبان میں شائع کرنے کے عملی اقدامات اُٹھانا  ضروری ہے ۔والدین اور بچوں کے درمیان دوستا نہ تعلقات ہو جو بلا جھجک والدین کو اپنے مسائل بیان کر سکے ۔بچوں پر نگرانی ، غیر افراد پر اعتماد کو کسی حد تک کم کرکے والدین اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں ۔ایسے مقدمات میں بہتر تفتیش کو یقینی بنانا ۔عدالتوں کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں اور جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی تربیت کرکے ہی ایسے افعال ، جرائم کا خا تمہ ممکن ہے ۔