Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • 2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    میری لینڈ: ایک ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک کہکشاں کا عجیب و غریب رویہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے اندر جدید فلکیات کے انتہائی غیرمتوقع وقوعات رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : "سائنس الرٹ” کے مطابق SDSS J1430+2303 نامی کہ ایک بہت بڑے بلیک ہولز کےجوڑے، جس کا مجموعی وزن تقریباً 20 کروڑ سورج کے برابر ہے،کے دونوں بلیک ہولز کا تصادم قریب الوقوع ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    فلکیاتی اصطلاحات میں ’قریب الوقوع‘ اکثر پوری زندگی کا عرصہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ سگنل دیو ہیکل بلیک ہولز سے آئے ہیں تو ان کا تصادم آئندہ تین سالوں میں ہوجائے گا۔

    یہ ممکنہ طور پر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا ایک منفرد منظر کاسب سے بہترین شاٹ ہوسکتا ہے لیکن سائنس دانوں کو ابھی تک علم نہیں کہ J1429+2303 کے مرکز میں کیا ہونے جارہا ہےسائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس عجیب و غریب کہکشاں کو دیکھتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کی حتمی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    بلیک ہولز کے تصادم کی سب سے پہلی نشان دہی 2015 میں کی گئی تھی جس کے بعد فلکیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تب سے اب تک گریویٹیشنل لہروں کی مدد سے کئی بار نشان دہی کی جاچکی ہے جو بڑے بڑے وقوعات کے نتیجے میں زمان و مکان میں سفر کرتی آئیں۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

     

    آج تک، ان میں سے تقریباً تمام انضمام بلیک ہولز کے بائنری جوڑے رہے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر انفرادی ستاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی وجہ ہے LIGO اور Virgo، کشش ثقل کی لہر کے آلات جو پتہ لگانے کے لیے ذمہ دار ہیں، اس بڑے پیمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں کے اپنے مراکز میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں، اور ہم نے نہ صرف کہکشاؤں کے جوڑے اور گروہوں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا ہے، بلکہ ضم ہونے کے بعد کی کہکشاؤں کے مراکز میں مداروں میں ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ ان کا اندازہ ان کہکشاں کےمرکزسے خارج ہونے والی روشنی سے لگایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹائم اسکیل پر جو مدار کی تجویز کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ J1430+2303 کے مرکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلیک ہول بائنری کا نتیجہ ہے-

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بے روزگاری، نوجوان اور سائنس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ہمارے ارگرد ٹیکنالوجی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کا استعمال روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے۔ نئے سے نئے معاشرتی حل ٹیکنالوجی کی بدولت سامنے آ رہے ہیں۔ مسائل کے حل پر نیے نئے سٹارٹ اپ یعنی نوزائیدہ کمپنیاں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں مجھے ہالینڈ جانے کا اتفاق ہوا جہاں میرے ایک دوست نے ایک کمپنی کھولی ہے۔ کمپنی کا آئیڈیا کیا تھا؟ کھانے پینے کی اشیاء پر بہتر اور تیز تر مارکنگ کرنا۔

    یعنی مارکیٹ میں بیچی جانے والی اشیاء جیسے کہ پانی کی بوتلیں، کین یا دودھ کی پیکنگ پر اُسکی معیاد اور دیگر تفصیلات لیزر کے ذریعے لکھنا۔ اب یہ کام مختلف بڑی بڑی کمپنیاں پہلے سے رائج ٹیکنالوجی کے ذریعے کرتی ہیں مگر اس میں اشیاء کی پیکنگ پر تفصیلات پرنٹ کی جاتی ہے۔ سو اس میں تین مسائل ہیں۔ اول اس میں سیاہی کا استعمال ہوتا ہے، دوسرا پرنٹنگ کا عمل تیز نہیں اور تیسرا سیاہی کے مٹ جانے یا خراب ہونے کی صورت مارکیٹ میں کسی چیز کو قانوناً بیچا نہیں جا سکتا ۔اس مسئلے کا حل اُنہوں نے کیا ڈھونڈا ؟

    جینوا سوئٹزرلینڈ میں سرن کے اندر ہونے والی ایک تحقیق سے ایک ٹیکنالوجی دریافت ہوئی۔ جس میں لیزر کے ذریعے مختلف شکل (گول، تکونی، چکور) اشیاء کو مختلف میٹریل (پلاسٹک، ٹن وغیرہ) سے بنتی ہیں، پر مارکنگ کرنا بے ءد آسان ہو گیا۔ یعنی لیزر کے ذریعے بے حد صاف اور سیاہی کے استعمال کے بغیر کسی طرح کی سطح پر لفظ یا جملے کندہ کیے جا سکتے تھے۔ یہ بے حد صاف اور تیز عمل تھا۔ اس سے چند سیکنڈ میں ہزاروں لفظ بذریعہ لیزر کندہ کیے جا سکتے تھے۔

    اب جب ایک مسئلے کا حل نکل آئے جو پہلے سے موجود حل سے بہتر ہو تو اسکی بنیاد پر ایک سٹارٹ اپ یا کمپنی بنائی جا سکتی ہے۔ جب کوئی ایسا نیا حل مل جائے جس سے ایک وسیع پیمانے پر انڈسٹریوں کو یا معاشرے کو فائدہ ہو سکتا ہو تو باہر کے ممالک میں لوگ حکومت سے تحقیق یا اپنی کمپنی کے قیام کے لیے معاونت طلب کرتے ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں ان سٹارٹ اپ کی مدد کرنے کے لئے مختلف پروگرامز شروع کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ بزنس اور پرائیوٹ سیکٹر سے لوگ ان نئی کمپنیوں میں پیسہ انوسٹ کرتے ہیں۔ یوں سائنس میں ہوئی پیشرفت اور تحقیق پر مبنی ٹیکنالوجی نئی نئی کمپنیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ آج دنیا میں بہت سی کمپنیاں اسکی مثال ہیں۔

    جیسے کہ گوگل، مائکروسافٹ ، فیسبک۔وغیرہ انہی طریقوں اور انہی عوامل سے گزر کر اتنی بڑی بڑی کمپنیاں بن پائیں جن سے لاکھوں لوگوں کا روزگار جڑا ہے۔گویا ٹیکنالوجی، دماغ اور بہتر مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت 64 فیصد سے زائد آبادی 30 سال کی عمر سے کم ہے۔ یہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اتنے کم عمر نوجوان اتنی زیادہ تعداد میں موجود ہیں اور یہ تعداد 2050 تک متواتر بڑھے گی۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً 40 لاکھ نوجوان ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کمانے کی عمر میں آتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 9 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر معیشت کا پہیہ چلانے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے اس وقت ملک کو ہر سال کم سے کم مزید 13 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مواقع کیسے پیدا ہونگے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے۔ جیسا کہ اوپر کی مثال دی۔ یونیورسٹیوں کو معاشرے کے مسائل کے مطابق سائنس میں تحقیق کر کے، یونیورسٹی کے گریجویٹس کو نئی سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کر کے کمپنیاں بنانے سے، حکومت کا اس سلسلے میں ان نوزائیدہ کمپنیوں کو بہتر سے بہتر تربیت اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر۔

    پرائیویٹ اور کاروباری شخصیات کو ان کمپنیوں میں پیسہ لگا کر۔۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بہتر پالیساں بنا کر۔ یونیورسٹیوں میں ایسے کلچر کو فروغ دیکر۔ سائنس کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر۔ تعلیمی نصاب میں بہتری لا کر۔ جدید علوم سے واقفیت دلا کر۔ معاشرے اور دنیا کے مسائل کا ادراک حاصل کر کے۔ بہتر کاروباری مواقع پیدا کر کے، بہتر سیکھنے کا ماحول پیدا کر کے۔۔تعمیری سوچ اپنا کر۔ ایک سمت کا تعین کر کے۔

    اگر جلد پالیسی سازوں نے یہ فیصلے نہ کیے تو آبادی کا ٹائم بم تو ویسے ہی پھٹنے کو ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہی نوجوان زومبی بن کر اشرافیہ کی موٹی اور سریے سے بھری گردنوں کا پھندہ بن جائیں۔اور پچھلی بے کار ، موٹی توندوں، خالی عقل والی نسل کا قرض چکاتے چکاتے نئی نسلیں بھی تباہ ہو جائیں۔

  • پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک سے ہیرے بنائیں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کیا پلاسٹک سے ہیرے بن سکتے ہیں؟ وہ بھی اصلی ہیرے۔ اُس پلاسٹک سے جو عام پانی یا کولڈ ڈرنک کی بوتلوں میں استعمال ہوتا ہے، جسکا ایک مشکل سا نام ہے مگر اسکا مخفف آسان ہے پی ای ٹی یعنی PET ، مگر ہیرے کیسے ؟

    اسے سمجھنے کے لیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک دراصل ہوتا کیا ہے ۔ پلاسٹک عمومی طور پر تین عناصر کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔۔کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن ۔ ان ایٹموں سے بنے پیچیدہ اور لمبے لمبے مالیکول ایک خاص ترتیب میں پلاسٹک میں زنجیروں کی طرح ایک دوسرے سے آپس میں جکڑے ہوتے ہیں (محض سمجھانے کے لیے)۔ مختلف طرح کے مالیکول اور مختلف قسم کی ترتیب کے کمبینیشن بنائیں ان میں کچھ اور عناصر ڈالیں اور طرح طرح کی خاصیت کے پلاسٹک بنائیں۔ پلاسٹک کی تاریخ دلچسپ ہے مگر اس پر بات پھر کبھی۔

    اب آتے ہیں اس پر کہ ہیرے کیا ہوتے ہیں۔ ہیرے دراصل کاربن کی ہی شکل ہوتے ہیں جس میں کاربن کے ایٹم ایک خاص ترتیب میں آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ کاربن کے ایٹم مختلف طرح سے جڑیں تو انکی ظاہری اور کیمیائی خاصیتیں بدل جاتی ہیں۔ اب تک کاربن کے ایٹم 8 مختلف طرح کی ترتیبوں میں قدرت اور لیبارٹریوں میں جڑے ہوئے پائے گئے ہیں۔ ہر اس طرح کی ترتیب سے پیدا ہونے والی کاربن کی صورت کو ایلوٹروپ کہتے ہیں۔ سو کاربن کا عنصر ہیرے یا ڈائمنڈ کی شکل میں، گرافائٹ کی طرح ، عام کوئلے جیسا(اس میں کاربن ایٹم بے ترتیب ہوتے ہیں)، نینو ٹیوب کیطرح وغیرہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

    سو اب اگر ہم کاربن کے ایٹموں کو لیبارٹری میں ایسے ترتیب دیں جیسے قدرت میں یہ ہیرے کے اندر موجود ہوتے ہیں تو ہم نقلی ہیرے بنا سکتے ہیں۔ قدرت میں پائے جانے والے ہیرے دراصل زمین کے اندر موجود کاربن یا کوئلے پر صدیوں پڑنے والے شدید دباؤ اور درجہ حرارت سے بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی طرح سے نقلی ہیرے بنائے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں میں ایک خاص عمل کے تحت کاربن کے ایٹموں کو بے حد درجہ حرارت (1400 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ) اور دباؤ (5 گیگا پاسکل یعنی زمین پر ہوا کے دباؤ سے تقریباً 49 ہزار گنا زیادہ) کے زیرِ اثر لا کر ہیروں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گویا ہیرے بنانے کے لئے تین اہم چیزیں درکار ہیں۔ کاربن، حرارت اور دباؤ ۔

    اب پلاسٹک میں کاربن تو موجود ہے مگر آکسیجن اور ہائڈروجن سے جڑی ہوئی۔ تو اسے کیسے شدید درجہ حرارت اور شدید دباؤ کے زیر اثر لایا جائے؟ اسکا جواب ہے انتہائی طاقتور لیزر۔ حال ہی میں کیے گئے تجربات جب پلاسٹک کے ٹکڑے پر جرمنی کے روسٹک یونیورسٹی کے محققین نے طاقتور اور انتہائی کم دورانیے کی لیزر پلسس پھینکیں تو ہوا کچھ یوں کہ پلاسٹک کے اُن حصوں پر شدید حرارت اور دباؤ پڑا ۔ اس سے ان میں موجود مالیکیولز کے اندر کاربن آکسیجن اور ہائڈروجن ایٹموں سے الگ ہوئے اور پھر ننھے ننھے ہیروں میں تبدیل ہوتے گئے۔ یہ ہیرے سائز میں نینومیٹر میں تھے یعنی ہائڈروجن ایٹم کے قطر سے تقریباً 20 گنا بڑے۔

    اس تحقیق سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون اور یورینس پر ہیروں کی بارش کیسے ہوتی ہے۔کیونکہ وہاں بھی ہائڈروجن، آکسیجن اور کاربن کے کئی طرح کے کیمیائی مرکبات اُنکی فضا میں موجود ہیں اور وہاں بھی سیاروں کے اندر شدید درجہ حرارت اور دباؤ کاربن کو ہیروں میں بدل سکتا ہے۔

    اوپر کے بیان کردہ تجربات سے بننے والے یہ ننھے منے ہیرے اس عمل سے کیسے نکالے جائیں یہ ابھی معلوم نہیں ۔ مگر نینو ڈائمنڈ کے جدید ٹیکنالوجی میں کئی مصرف ہیں جیسا کہ کوانٹم کمپیوٹر اور کوانٹم کمیونکیشن میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری میں یا نینو بیٹریوں میں۔

    فطرت کے اُصولوں کوجاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ ہر جگہ خود جا کر یا دیدے پھاڑ کر دیکھیں۔ اگر آپ لیبارٹریوں میں بگ بینگ کے حالات پیدا کر سکتے ہیں یا سورج میں ہونے والے کروڑوں میل دور کے فیوژن کے عمل کو زمین پر پیدا کر سکتے ہیں تو آپ فطرت کو یہیں زمین پر بھی جان سکتے ہیں۔ ایک گیند دیوار پر مارنے پر جب واپس آتی ہے تو یہی اایکشن ری ایکشن کا اُصول کائنات کے کسی بھی کونے میں لاگو ہو گا۔ چاند پر بھی، سورج پر بھی، سیاروں پر بھی اور ہم سے لاکھوں نوری سال دور کسی ستارے پر بھی۔

    Reference:

    Z. He et al. Diamond formation kinetics in shock-compressed C-H-O samples recorded by small-angle X-ray scattering and X-ray diffraction. Science Advances. Published online September 2, 2022. doi: 10.1126/sciadv.abo0617.

  • پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پیرس اور بحریہ کا ایفل ٹاور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ایفل ٹاور کا نام لیں تو ذہن میں پیرس آتا ہے۔ جسکے ویسے تو کئی ریپلیکا دنیا بھر میں موجود ہیں مگر مجھے اصلی ٹاور کے علاوہ بحریہ ٹاؤن لاہور کا "ایفل ٹاور” دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔

    اصلی ایفل ٹاور جو پیرس میں واقع ہے، انسانی آرٹ سے زیادہ انجنئیرنگ کا خوبصورت نمونہ ہے۔ اتنا کہ لوگ اسے دیکھنے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ سے زائد افراد اس ٹاور کی "زیارت” کو آتے ہیں۔

    ایفل ٹاور کی تاریخ دلچسپ ہے۔ خوبصورت انجنیرنگ کے اس شاہکار کی اونچائی تقریبا 330 میٹر ہے۔ تقابل میں لاہور کا مینارِ پاکستان تقریباً 70 میٹر ہے۔ مگر ایفل ٹاور کو بنایا کیوں گیا؟

    دراصل اسے 1889 میں پیرس میں ہونے والے ورلڈ فیئر کے لیے تعمیر کیا گیا۔ یہ ورلڈ فئیر 1789 میں آیے انقلاب ِفرانس کےصد سالہ جشن کی خوشی میں تھا۔ ایفل ٹاور جو پیرس کے دل میں دریائے سین کے کنارے ایستادہ ہے، اسے 2 سال کی قلیل مدت میں 1887 سے 1889 میں تعمیر کیا گیا۔ اسکا نام ایفل ٹاور اس لیے ہے کہ اسے فرانس کے ایک سویل انجنئیر الیکسینڈر گستاو ایفل کی کمپنی کے انجینئرز اور آرکیٹکٹس نے بنایا۔ شروع شروع میں جب یہ بنایا گیا تو اسکی فرانس کے کئی مشہور آرٹس اور دانشوروں نے مخالفت کی مگر آج یہ فرانس کی پہچان ہے۔

    اس ٹاور کے تین فلورز ہیں جو سیاحوں کے لئے کھلے ہیں۔ ان پر سیاحوں کے لیے ریستوران بھی موجود ہیں جہاں وہ لذیذ کھانے کھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پیرس کا نظارہ بھی۔ان فلورز پر جانے کے لئے سیڑھیاں بھی ہیں اور ایک لفٹ بھی، جنکا ٹکٹ ہوتا ہے۔ 600 قدم کی سیڑھیاں دوسرے فلور تک جاتی ہیں جبکہ لفٹ تیسرے فلور پر۔ سب سے اوپر کی فلور پر آپکو ٹاور سے مختلف ملکوں کے دارلحکومت کی سمت اور فاصلہ تحریر کی صورت لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاور کی تیسرے فلور تک جانے کا لفٹ کا ٹکٹ تقریباً 25 یورو یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جبکہ سیڑھیوں کے ذریعے دوسرے فلور تک جانے کا ٹکٹ تقریباً سوا چار ہزار روپے ہے۔

    ٹاور سے متصل ایک بہت بڑا پارک ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح اکثر شام کو وقت بتانے آتے ہیں۔ ٹاور پر باقاعدہ لائیٹنگ کا انتظام ہے جس میں کل ملا کر 20 ہزار کے قریب برقی قمقمے اور بلب نصب ہیں۔ جو شام ہوتے ہی اس ٹاور کو روشنی سے سجا دیتا ہے اور دیکھنے والے اسکے حسن سے کھو سے جاتے ہیں۔

    اس ٹاور کو بنانے میں اُس دور میں تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا ہے۔ اسے زنگ سے بچانے کے لیے اس پر تقریباً ہر سات سال بعد رنگ کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اسکا رنگ تبدیل کیا گیا۔ شروع شروع میں جب یہ بنا تو اسکا رنگ سرخی مائل بادامی تھا جبکہ آج اسکا رنگ بادامی سا ہے۔ اسے رنگنے کے لئے 3 ٹن پینٹ استعمال ہوتا ہے جبکہ ٹاور کا کل وزن کل وزن 10 ہزار ٹن سے بھی زائد ہے۔

    بحریہ ٹاؤن لاہور کا ایفل ٹاور 80 میٹر اونچا پے۔اسے 2013 میں بنایا گیا۔ اسکا ٹکٹ شاید ہزار روپے سے کم ہے۔ پاکستان میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سٹارز کے لیے سٹوریز بنانے کے لیے اچھی جگہ ہے۔

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔

  • 1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    1965 کی جنگ چونڈہ کا محاذ اور یوم دفاع منانے کا مقصد — نعمان سلطان

    "چونڈہ” پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ ہے، اس قصبے میں سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب سے ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی۔ اس جنگ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں ٹینک لڑائی میں استعمال ہوئے ہیں، یہ جنگ دونوں ملکوں کے درمیان میں راوی اور پنجاب کے درمیانی علاقے میں لڑی گئی۔

    8 ستمبر کو صبح چھ بجے بھارتی فوج نے کنڑول لائن عبور کرتے ہوئے اور تین کالم بناتے ہوئے پاکستانی سر زمین پر حملہ کر دیا ۔ باجرہ گڑھی، نخنال اور چاروہ کے مقامات سے بھارتی فوج نے ایک آرمڈ اور تین انفنٹری ڈویژنز کی مدد سے حملہ شروع کیا اور 12 کلو میٹر تک بغیر کسی مذاحمت کا سامنا کیے آگے بڑھتی رھی۔

    اس دوران پاک فضائیہ نے ان پر ایک حملہ کیا لیکن ان کا کوئی خاص نقصان نہ کر سکی۔ پاکستان کی فوج نے گڈگور کے پاس بھارتی فوج کا راستہ روکا اور 25 کیلوری کے 15 ٹینک پورے بھارتی ڈویژن کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے۔پہلی ہی مڈ بھیڑ میں بھارتی اپنے 3 ٹینک تباہ کروا کے دفاعی پوزیشن پر چلے گئے تھے۔

    چونڈہ کنٹرول لائن سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 14 ستمبر کو بھارت نےچونڈہ پر حملہ کیا لیکن آٹھ دن کی شدید جنگ کے باوجود چونڈہ فتح نہ کر سکی اور جنگ بندی تک اپنے 150 ٹینک تباہ کروا کر واپس بھارت لوٹ گئی۔ اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

    چونڈہ کے محاذ پر جنرل ٹکا خان نے بھارتی فوج کے مقابلے میں اپنی عسکری قابلیت کے جوہر دکھائے اگر جنگی ساز و سامان کی بنیاد پر فاتح کا فیصلہ ہوتا تو یقیناً یہ جنگ بھارتی فوج با آسانی جیت جاتی، لیکن یہاں پر پاکستانی فوجیوں نے علامہ اقبال کے شعر کی عملی تفسیر پیش کر دی.

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اس محاذ پر جنرل ٹکا خان نے عسکری لحاظ سے وہ حکمت عملی اختیار کی جس کی کامیابی کا دارومدار ان کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور حوصلے پر تھا آپ نے کہا کہ دشمن کے ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں ۔

    اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ جب دشمن کے ٹینک اس جوان کے اوپر سے گزرتے تو بم پھٹنے کی وجہ سے وہ وقتی طور پر ناکارہ ہو جاتے، ایک اچھے کمانڈر کی طرح اس مقصد کے لئے جنرل ٹکا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا۔

    لیکن جذبہ ایمانی سے سرشار آپ کے ماتحتوں نے آپ کو اس عمل سے روک دیا اور خود کو اس مقصد کے لئے پیش کر دیا چنانچہ آپ نے ان میں سے ضرورت کے مطابق جوان منتخب کر کے انہیں اس مشن کی ذمہ داری سونپ دی اور ان جوانوں نے اللہ کے نام پر وطن عزیز کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ۔

    بھارتی فوج جو اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ کثرت عسکری ساز و سامان اور ٹینکوں کی بنیاد پر وہ بآسانی چونڈہ کے محاذ پر فتح حاصل کر لے گی جنرل ٹکا خان کی اس عسکری حکمت عملی کے سامنے بےبس ہو گئی اس کے لاتعداد ٹینک محاذ جنگ پر ناکارہ یا تباہ ہو گئے اور وہ جنگ بندی تک فتح کے خواب ہی دیکھتے رہے۔

    بزدل دشمن نے پاکستانی فوج اور قوم کو سرپرائز دینے کے لئے رات کے اندھیرے میں اچانک اور بلااشتعال جو حملہ کیا اس کا جواب افواج پاکستان نے دن کی روشنی میں ہمت اور بہادری کے ساتھ دے کر دشمن کو دن میں تارے دیکھا دئیے اور ثابت کر دیا کہ جنگیں جذبوں سے لڑی جاتیں ہیں ۔

    1965 کی جنگ میں جہاں ہمیں عسکری طور پر فتح حاصل ہوئی وہیں دنیا کو بھارت کی عسکری طاقت کا بھی معلوم ہو گیا کہ بھارتی صرف گفتار کے غازی ہیں اور میدان جنگ میں یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان کی سرشت میں صرف اور صرف دھوکہ فریب ہے۔
    6 ستمبر کا دن ہم یوم دفاع پاکستان کے طور پر مناتے ہیں تا کہ نئی نسل کو معلوم ہو سکے کہ امن کا راگ الاپنے والا یہ بنیا دھوکے باز ہے اور موقع ملتے ہی یہ پیٹھ پر وار کرتا ہے اور اس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے ان کی لچھے دار باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ۔

    یوم دفاع پاکستان منانے کا مقصد ان لوگوں کے سوالات کا جواب دینا ہے جو پوچھتے ہیں کہ فوج نے ہمارے لئے کیا کیا ہے، یوم دفاع پاکستان منا کر ہم ان لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں کہ آج ہم اس لئے آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں کیونکہ بوقت ضرورت ہماری فوج نے قوم کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ۔

    6 ستمبر کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جب بھی وطن عزیز کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کے خلاف ہر حد تک جائیں گے، اور ہمارے درمیان چاہے جتنے بھی اختلافات ہوں لیکن وطن عزیز کی حفاظت کے لئے ہم اپنے ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر یک جان ہو کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر دشمن پاش پاش ہو جائے گا ۔

    نوٹ:– اس مضمون کے لئے معلومات وکی پیڈیا سے حاصل کی گئیں ہیں ۔ پہلے چار پیراگراف وکی پیڈیا کے ہیں ۔

  • نور الہی عرف دیوا  ،  ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    نور الہی عرف دیوا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    پچھلے زمانے میں روشنی کیلئے چراغ ( اردو میں دیا،پنجابی میں دیوا کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا تھا،جس پہ کئی مثالیں بنی ہوئی ہیں خاص کر ایک مثال بہت مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا، یعنی دوسروں کو روشنی دینا اور خود اس روشنی سے محروم رہنا-

    اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور ان دعووں سے خود بھی محروم رہنا اور دوسروں کو بھی محروم رکھنا یعنی لمبی لمبی چھوڑنا،خیر آپ کو ایک دیوے کی کہانی سناتا ہوں-

    کافی پرانی بات ہے کسی گاؤں میں ایک نور الہی نامی نوجوان رہتا تھا جو سارا دن بڑی لمبی لمبی چھوڑتا اور لوگوں کو نت نئے قصے سناتا تھا تاکہ اس کی واہ واہ اور بلے بلے ہو مگر لوگ تو سب جانتے تھے اور اس کی اسی عادت کے باعث لوگ اسے ،دیوا، کہنے لگے-

    جب بھی وہ بازار سے گزرتا لوگ اوئے دیوے،دیوا آیا جیسے جملے کسنا شروع کر دیتےنور الہی عرف دیوا اپنے بگڑے نام اور تضحیک پر سخت پریشان تھا اس نے سوچا کچھ عرصہ شہر رہا جائے تاکہ اس نام سے جان چھڑوائی جائے-

    نور الہی عرف دیوا شہر پہنچ گیا اور پریشانی کے عالم میں شہر کے میں چوک میں گھوم پھر رہا تھا تانگے گزر رہے تھے مگر نور الہی سارے شور شرابے سے بے فکر سڑک کے وسط میں چلا جا رہا تھا تانگے والے نے آواز دی کہ پیچھے ہٹ جاؤ گزرنے دو-

    نور الہی نے نا سنی تانگے والے نے پھر اسے آواز دی اس نے نا سنی تو پھر تانگے والے نے کہا ،اوئے دیوے پیچھے ہٹ جا اور گزرنے دے،یہ الفاظ نور الہی عرف دیوے کے کانوں میں دھماکہ بن کر لگےاس نے جھٹ سے تانگے والے کا گریبان پکڑا اور بولا سچ سچ بتا میرا نام تجھے کس نے بتا؟-

    تانگے والے نے کہا جناب مجھے نام کس نے بتانا ہے تمہاری حرکتیں ہی دکھائی دے رہی ہیں کہ تم دیوے ہی ہو،خیر نور الہی عرف دیوے کے ساتھ آگے جو ہوا اس کو چھوڑیں اور نور الہی کی جگہ پاکستانی سیاستدانوں کا تصور ذہن میں لائیں کہ کیا یہ سب بھی دیوے نہیں؟

    آئے روز نت نئے دعوے ،نت نئے نعرے مگر عمل زیرو ،چراغ تلے اندھیرا اور نور الہی عرف دیوے کی مثال ان پہ مکمل فٹ ہوتی ہے
    ہمارے یہ دیوے مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر یہ دیوے آتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان مچا کر جاتے ہیں-

    تعلیم کو عام کرنے کا نعرہ لگا کر آتے ہیں اور لوگوں کو تعلیم سے محروم کرکے چلے جاتے ہیں بجلی سستی کرنے کا شور ڈال کر آتے ہیں اور لوگوں کو بے علم کرکے جاتے ہیں ان دیوں کی کرتوتیں ہی ایسی ہیں کہ فوری پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سارے دیوے ہی ہیں-

    ان کے بڑے بڑے نعرے مگر یہ خود بھی ان دعوؤں سے محروم ہیں آپ سیلاب زدہ علاقوں کو ہی دیکھ لیجئے فوری پتہ چلے گا کہ ان کی ساری باتیں چراغ تلے اندھیرا ہی تھا لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور یہ دیوے لمبی لمبی چھوڑتے رہےاللہ ان سے ہمیں محفوظ رکھے آمین-

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    مجھے بستر پر لیٹے ہوئے قریب دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ نا ختم ہونے والے خیالات میں گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ 3 بج چکے ہیں، صبح آٹھ بجے کالج جانا ہے اور ابھی تک میں نہیں سویا یہ سوچتے ہوئے میں، اس کوشش میں لگ پڑتا ہوں کہ اب میرے اور نیند کے درمیان کچھ حائل نہ ہو۔ لیکن اسی لمحے میری نظروں کے سامنے ایک منظر آجاتاہے ۔

    "کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ اور ڈوبنے والے مجھے واضح دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ مجھے بھی کوئی پانی کی طرف زبردستی لے کر جانا چاہ رہا ہے ۔ اچانک میں خود کو پانی کے بالکل پاس پاتا ہوں ۔ ”
    یہ سب دیکھ کر میں بستر سے اٹھ بیٹھتا ہوں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتا ہوں” مجھے بچاؤ "۔

    دادو! امی کو یہ کہتے ہوئے، مجھ پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کر دیتی ہیں کہ "سوئے ہوئے ڈر گیا ہے”۔ حالانکہ میں سویا ہی نہیں تھا ابھی۔ میرے بتانے پر وہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں کہ میں ابھی سویا ہی نہیں تھا ۔ ناجانے کب آنکھ لگی اور میں سو گیا ۔

    اگلے دن دوپہر کے وقت کھیلتے ہوئے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ شاید مجھے کوئی دوست بلا رہا تھا ۔ دیکھنے گیا تو کوئی نظر نہ آیا مگر آوازیں اب بھی آرہی تھیں ۔ کل رات کا واقعہ اور دوپہر کی یہ واردات ۔۔۔۔ اب محلے میں زبان زدِ عام ہونے لگی۔

    معالج کے پاس لے کر جانے کا معاملہ آیا تو بیشتر بزرگوں کی طرف سے یہ کہتے ہوئے رکاوٹ کا سامنا ہوا کہ۔ ” نظر نہیں آرہا یہ بیمار نہیں ہے ، کوئی کلموہی! کسی بابے کے ذریعے کروا رہی ہے”۔

    ہم ایک بابا جی کے پاس گئے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا جیسے ہم کوئی کافر ہوں، اور جیسے ہی میں نے کلمہ پڑھا ۔ بابا جی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی غیر مسلم کو مسلم کر لیا ہو۔

    ماما پھلا اچھا خاصا نفسیاتی بندہ ہے، علم نفسیات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، ساری کہانی اطمینان سے سننے کے بعد بولا! "شیزوفرینیا”( یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شرح مرد و خواتین میں برابر ہے۔ پندرہ برس کے بعد اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جب کے پندرہ سال کے کم عمر افراد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی کئی علامات ہیں ۔ مثلاً کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کا نظر آنا، اکیلے میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ) کے مریض تمہیں تو بس ایک معالج کی ضرورت ہے ۔ اور جن نکالنے والے بابوں کو پورے ہسپتال کی۔

    خیر کہانی کہیں بیچ میں ہی رہ گئی۔ قصہ مختصر کہ جن تو بابا جی بھی نہ نکال پائے ۔ کیونکہ جہالت جیسا جن نکلنے میں صدیاں لگتی ہیں ۔