Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان —  حافظ شاہد محمود

    ایفائے عہد اور تکمیل پاکستان — حافظ شاہد محمود

    اوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43)

    ”اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔

    وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔

    کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ایفائے عہد کی اس قدر زیادہ اہمیت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ :

    ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد ٣ : ٣١) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر ٣٩ : ٢٠) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران ٣ : ١٩٤) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم ٣٠ : ٦) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “
    ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج ٢٢ : ٤٧) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “
    (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : ٢ : ٨٠) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “
    ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١١١) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “

    جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔

    عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔

    ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ ٢ : ١٧٧)
    اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔
    بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون ٢٣ : ٨)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    ایک دوسری سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے :

    ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج ٧٠ : ٣٢)
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔

    تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے چنانچہ ارشاد ہوا:
    ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد ١٣ : ٢٠ ، ٢١)

    جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔

    اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔

    سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا :

    ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل ١٦ : ٩١)

    اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔

    سورة انعام میں بھی ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا :

    ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام ٦ : ١٥٢)
    اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔

    صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔

    ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ ٩ : ١)
    اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔

    آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا :

    ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٤)

    مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔

    اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔

    ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ ٩ : ٧)

    مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔

    سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔

    ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : ٥ : ١)

    مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔

    (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ٢ ص ٥٠٥)

    لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ (رض) سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔

    حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے سبحان اللہ۔

    یہاں ہم کچھ اور احادیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں

    (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
    [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]

    ”حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔“

    (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)
    [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]

    ”حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔“

    (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ)[ رواہ احمد ]

    ”حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“

    قرآن مجید کی آیات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وفائے عہد ہی اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے.

    یہ بھی انفرادی اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو اسی کو پوری قوم کی داخلی اور خارجی سیاست کا سنگ بنیاد ٹھہرایا گیا۔ اسلامی اخلاق میں ڈپلومیسی کے نام پر وعدے کی خلاف ورزی اور جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں میں یہ بات عام ہے کہ سیاسی وعدے پورا کرنے کے لیے نہیں ہوتے اور اپنی کہی ہوئی بات سے مکر جانا سیاستدان کا حق ہے۔ لیکن اسلام میں یہ ایک جرم ہے چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے۔ اس لیے جس طرح عہد کی پابندی افراد کے لیے ضروری ٹھہری اسی طرح اسلامی حکومت بھی اس کی پابند رہی اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اسلامی حکومتیں عہد و پیمان کو نبھاتی رہیں۔ تاریخ میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے قیصر سے جنگ بندی کا ایک معاہدہ کیا اور یہ طے کیا گیا کہ فلاں تاریخ تک جنگ بند رہے گی۔ چناچہ جب اس معاہدے کا آخری دن آیا تو آپ (رض) نے آخری دن کا سورج غروب ہوتے ہی اپنی فوجیں اس کی مملکت میں داخل کردیں۔ بظاہر یہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھی کیونکہ معاہدے کی مدت گزر گئی تھی۔ فوجیں فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھیں کہ پیچھے سے سر پٹ دوڑتا ہوا ایک سوار نظر آیا۔ اسے دیکھ کر امیر معاویہ رک گئے۔ جب وہ قریب آیا تو دیکھا کہ ایک مشہور صحابی عمرو بن عبسہ (رض) ہیں جنھوں نے ہاتھ بلند کیا ہو اتھا اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ وفائً لاغدرًا ”وعدہ توڑنا نہیں پورا کرنا ہے۔“

    امیر معاویہ (رض) نے حیران ہو کر پوچھا کہ ”ہم نے کون سا وعدہ توڑا ؟“ انھوں نے بتایا کہ ”معاہدے کی مدت ختم بھی ہوجائے تب بھی حملہ کرنے سے پہلے دشمن کو بتلانا ضروری ہے۔ بیخبر ی میں حملہ کرنا یہ ایک طرح کی وعدہ خلافی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔“ امیر معاویہ نے اسی وقت مفتوحہ علاقے خالی کردیے اور فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ صرف اخلاقی نصیحتیں نہ تھیں ‘ بلکہ اسلامی حکومتوں کے رہنما اصول تھے.

    آج ہمارے وطن عزیز پاکستان کے مسائل کی بڑی وجہ بھی اللہ تعالیٰ سے کئے ہمارے عہد و پیماں ہی ہیں جو پورے کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    پاکستان بنتے وقت ہمارا اللہ رب العزت سے وعدہ تھا اللہ وطن دے ہم لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا وطن بنائیں گے جو اس وقت ہمارے بڑوں نے نعرے کی صورت ہمیں دیا تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر علامہ محمد اقبال تک یہی بات تھی جو اللہ نے ہمیں وطن عزیز پاکستان کی صورت میں عطا فرمایا وہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود اس عہد کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یاد رکھو!

    "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے ”

    اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کو پورا کرنے والا بنائے

  • ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    ماتھا ٹیکنا ایک ہندوانہ رسم — حسام درانی

    الف
    اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیں ہر رگے ہرجائی ہو
    اندر بوٹی مشک جمایا جان پھلاں تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جہس ایہہ بوٹی لائی ہو

    کلام باہو سے تحریر کا آغاز کرنے کا مقصد ایک موضوع کو زیر تحریر لانا تھا، ہم میں سے کتنے ہی اس کلام سے واقف ہیں اور صوفی ازم میں دلچسپی رکھنے والے ان اشعار کے معنی بھی خوب جانتے ہیں۔

    اصل موضوع تو ہے خدا کی واحدنیت کا اعتراف کرنا کسی کو اسکا ہم سر نا ٹھہرانا، اسی کی عبادت اور اسی کو سجدہ کرنا۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اللہ کی پاک ذات کو ایک ماننا اسی کے آگے جھکنا اور ہر مسلمان اپنے تئیں دن بھر میں پانچ نمازوں کے دوران رکوع اور سجود کی حالت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کے سواے رب کی ذات کے کوئی سجدے کے قابل نہیں ہے۔

    راقم نا تو اسلام کا مفکر اور نا ہی کوئی مذہبی ٹھیکدار ہے لیکن کوشش ہمیشہ اسی بات کی ہوتی ہے کے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم کسی بھی چیز کو صاحبان علم و عقل کی باتوں سے پرکھا جاے۔

    پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ جو کے آجکل اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے ہیں، جنہوں نے بہت سے علماء وقت سے تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ہمیشہ خلفہ راشدین کے ادوار کی ہی مثالیں دیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ اس بات کا کھلے عام کہتے ہیں کے حضرت عمر کا دور حکومت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر دیکھا جاے تو عملی طور پر بہت دفعہ ان سے ایسے کام سرزد ہو جاتے ہیں جو کے بعد میں ان کے لیے باعث ندامت ہوتے ہیں۔

    اسی طرح اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دیکھتے ہیں تو بہت سے سیاست دان اورکئی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اسلام کی محترم ہستیوں کو اپنے لیے رول ماڈل کا درجہ دیتے ہیں اور بات بات پر ان کے حوالہ جات دیے جاتے ہیں ، لیکن اس کارساز سیاست میں ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو گراوٹ اور پستی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

    اب اگر انتہائی ماضی قریب کی بات کرتے ہیں تو قارئین نے اپنی آنکھوں، اور کانوں سے ابن عربی سے زیادہ علم کے بارے میں سنا اور اس ہستی کو دیکھا ، اسی طرح ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے لیے دشنام درازی سے لبریز اجتماعات کہیں حضرت عمر پر ہوے مواخذے کا شور ہوتا ہے تو کہیں ناموس رسالت پر سیاست سب کے سامنے ہیں۔

    اگر نیاز ی صاحب کی بات کرتے ہیں تو جیسے ہر انسان کو اپنی زندگی آزادانہ گزارنے کا پورا حق ہے اسی طرح نیازی صاحب بھی پاکستان کے ایک شہری کی طرح یہ حق رکھتے ہیں لیکن بطور ایک کرکٹ اسٹار اور ایک سیاستدان کے تمام لوگوں کی نظر ان پر ایک سپراسٹار والی ہوتی ہے۔ نیازی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائم لائیٹ میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں بھی اس سے جان چھڑوانا ناممکن ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ فورا ہی زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَِعِیْن سے اپنی تقریر کا آغاز کرنے والا (شکریہ پروفیسر رفیق اختر صاحب، کیونکہ انہوں نے کہا تھا کے تقریر ان الفاظ سے شروع کرو) اور اس کے فورا بعد نت نیا میوزک شروع ہو جاتا ہے۔ یاران من نے اسکو قول کیا اور ایک سے بڑھ کر ایک توجیہ دی، لیکن حالیہ ویڈیو میں نیازی صاحب کو سجدہ کرتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے، یار لوگوں نے کہا کے ہو ہی نہین سکتا کے خان سجدہ کرے لیکن جب ویڈیو وائیرل ہوئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔

    نیازی صاحب کی تمامتر سیاست کا مرکز صرف اور صرف وزارت عظمی کی کرسی کا حصول ہے جسکا اعادہ وہ انہوں نے بار ہا کیا، اسی کرسی کے حصول کے لیے تماتر جائز و ناجائز کام کرنے سے بھی نہیں چوکتے، لیکن جہاں کام کرنے کی باری تھی اور پورے پانچ سال تک بلا شرکت غیرے کے مطابق حکومت تھی وہاں کام کیا ہوا اور سارا وقت اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں کی خاک ہی چھانتے رہے بمعہ خلائی مخلوق کو سجدے ۔

    اور اب پانچ سال کے بعد جب تمام جماعتیں اپنے دور حکومت میں کئے گئے کام گنوا رہی ہیں تو نیازی صاحب اپنی پیرنی کا پلو تھامے مزاروں پر سجدے دینے لگ پڑے ہیں ۔ نیازی صاحب کی ان حرکات سے ایک بات یاد آتی ہے ۔

    ” پیر بابا علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر ایک شخص زار و قطار رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔

    کہ

    ” اے پیرا بابا آپ کو تو معلوم ہے میں اکیلا ہوں ، تربور ( شریکے ) زیادہ ہیں۔ جائداد پر انھوں نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔

    آپ ہی اب ساتھ دینا مجھے کم ازکم پانچ بیٹے عطا فرمانا”

    کچھ دیررونے کے بعد خاموش ہوجاتا پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر اسی کرب کے ساتھ دعا مانگنے لگ جاتا ۔

    لیکن دوسری باری میں بیٹوں کی ڈیمانڈ پانچ سے چار پر آگئ۔

    کرتے کراتے آخرکار ایک پر آڑ گیا ۔

    کہ کم ازکم ایک بیٹے کے بغیر تو واپس خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔

    قریب ایک خدا ترس بندہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

    اس سے یہ حالت نہ دیکھی گئی اور پاس آکر پیار سے پوچھا ،

    ” بھائی صاحب آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے ؟”

    وہ سائل غصے میں بولا

    ” شادی کی ہوئی ہوتی تو یہاں پر آتا؟؟؟؟”

    اگر پانچ سال خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھائی ہوتی تو پاکپتن کیا لینے جاتا ۔

    وزیراعظم کی کرسی کیلئے پہلے زندوں کے پاؤں گرتا رہا پھر پیرنی کے آگے اور اب مردوں کو سجدہ کرنے لگا۔

    وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

    ثناء خواں تقدیس نیازی صاحب باہر آئے اور ایسی ایسی توجیہات پیش کیں کہ اللہ کی پناہ۔ لیکن میرے وہ تمام دوست اس بات کو بھول گئے کے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سوائے رب کی ذات کے کسی کے آگے نہیں جھکنا، اور غیر اللہ کے سامنے تو شرک ہے۔ اس معاملے میں راقم کی کم علمی کو دوست احباب نے مختلف مشائخ کے آئمہ کرام کی کتب اور خطبات کے حوالہ جات سے پورا کیا۔

    چند یاران من نے تو جذبات میں یہاں تک کہ دیا کے جب وہ اپنے والد کے مرقد پر جاتے ہیں تو اسے بھی چومتے اور اپنا سر رکھتے ہیں ، یہ سجدہ تعظیمی تھا، کچھ نے کہا کے چوکھٹ چومی تھی ، کچھ نے کہا کے اسکا ایک گھٹنا ہوا میں تھا، الغرض جتنے منہ اتنی باتیں، صرف یہ بتانے کے لیے کے نیازی صاحب نے جو کیا وہ حلال تھا۔

    اگر اس معاملے میں مولانا احمد شاہ نورانی کی بات سنی جاے تو بقول ان کے مزارات پر جا کر سر جھکانا، سجدہ کرنا منع ہے، اگر عبادت کی غرض سے سجدہ یا جھک جانا شرک اور تعظیم کی غرض سے حرام ہے۔ امام احمد رضا رحمتہ اللہ نے قبر پر حاضری کی نسبت جو آداب بتاے ہیں یقینا وہ میرے قارئین کی نگاہوں سے اوجھل نہیں،

    اسی موضوع پر میرے ایک دوست/ بھائی نے پوسٹ کی کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کے کپتان کو پیرنی نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ فورا سجدہ ریز ہو گیا، اب بندہ زوجہ سوئم کے اشارے پر بھی نا چلے۔

    تو جناب یہ تو نیازی صاحب کی بہت پرانی عادت ہے انگلی کے اشارے پر چلنا چاہے بیگم کی انگلی ہو یا ایمپائر کی۔۔۔۔

    لیکن اسلام ان انگلیوں کے اشارے نہیں مانتا، اب چاہے عبادت کے لیے ہو یا تعظیم کے لیے

    سجدہ صرف ایک واحد ذات کے لیے

    سجدہ صرف خدا کے لیے۔

    کرسی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

    وہ سجدے کئے ہیں جو جائز بھی نہی تھے

    جو لوگ کہہ رہے ہیں چوکھٹ کو بوسہ دیا، وہ غور سے دیکھیں کہ خان صاحب چوکھٹ سے پہلے ہی سجدہ ریز ہو گئے، چوکھٹ پر منہ شریف رکھا نہیں، تو کیا وہ زمین چاٹ رہے تھے اور اسے بوسہ دے رہے تھے….

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ ﷺ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا کہ اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ان(یہود ونصاریٰ) کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے۔

    (صحیح البخاری:3454)

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

  • سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    سوال تو ہو گا، ازقلم غنی محمود قصوری

    چند دن قبل سے اب تک سوشل میڈیا پر ایک ہی نام چھایا ہوا ہے جو ہے ،ام حرم عربی میں ام کے مطلب ہیں ماں اور حریم کا مطلب ہے قابل احترام،( خانہ کعبہ کی چار دیواری کو بھی کہتے ہیں) یعنی کہ قابل احترام کی ماں
    آزادی اظہار رائے کا ہر کسی کو قانونی،اخلاقی حق حاصل ہے

    راقم جنوری 2011 سے سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے اور اللہ کو گواہ بنا کر بتا رہا ہے کہ ان 11 سالوں میں ایک ہزار کہ لگ بھگ فیسبک اکاؤنٹس بلاک ہوئے جس کی وجہ تھی لفظ جہاد،حافظ س عید،ل شکر ط یبہ و کشمیر ایک ایک دن میں بعض مرتبہ پانچ پانچ بار اکاؤنٹ اڑے

    خیر جب جب نیا اکاؤنٹ بنایا فیسبک نے نیا اکاؤنٹ بنتے ہی ایک ہی آئی پی ایڈریس ہونے کے باعث گزشتہ فرینڈز کو خود ہی ریکوسٹ بھیجیں ان میں ام حریم بھی شامل ہےام حریم نے 2016 میں فیسبک جوائن کیا اور تاحال ساتھ ایڈ ہے-کئی بار ان سے بحث و مباحثہ بھی ہوا جس میں خاص ٹاپک تھا کسی بھی فرد کی اسقدر چاپلوسی کرنا اور اس سے اتنی امیدیں رکھنا اور منہج سلف سے حکمران کی اسقدر تعریف کرنا جائز ہے کہ ناجائزجی ہاں یہ سب باتیں ام حریم سے ہوتی تھیں وہ اس لئے کہ ام حریم ایک بلا کی یوتھیہ عورت تھی-

    حسب سابق کی طرح اس بار بھی لکھ رہا ہوں کہ جھوٹ بولنے اور لکھنے والے پر اللہ کی لعنت ہوام حریم ایک خاص یوتھئیہ تھی ہاں یہ ایک خاص بات نوٹ کی کہ ام حریم نے کبھی بھی ن لیگ کی حمایت نہیں کی اور نا ہی ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے والی کسی بھی جماعت یا فرد کو سپورٹ کیا- 2018 میں ام حریم عمرہ کرنے گئی تو اس نے عمران خان کے لئے حرم میں دعا کی کہ اللہ تو اس سے اپنے دین کا کام لے کر اسے کامیابی سے ہمکنار فرما جس پر اس نے پوسٹ بھی لگائی تھی ،قابل غور بات ہے کہ ابھی وہی عورت عمران خان کو بری لگی کیونکہ وہ عورت پہلے ایک محب وطن اور موٹیویشنل لکھاری بھی ہے-

    چند روز قبل عمران خان صاحب نے ٹی وی پر خطاب کے دوران ام حریم بارے اظہار نارضگی کیا کیونکہ ام حریم نے گزشتہ دنوں فنانشل ٹائمز کے آرٹیکل کی کاپی کرکے دو ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو ملنے کا تذکرہ کیا تھا اور اپنی وال پر پوسٹ لگائی تھی- حیرت کی بات ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی ام حریم پی ٹی آئی سے برآت کرچکی تھی اور پہلے کی طرح آرٹیکلز لکھ رہی تھی جس کی سمجھ آتی ہے کہ ام حریم ایک محب وطن بھی ہے

    مذید حیرت کی بات یہ کہ اتنے سالوں پی ٹی آئی کے حق میں دن رات ایک کرکے لکھنے والی ام حریم کو کسی نے آج دن تک نا جانا نا پہچانا اور نہ ہی اسکا نام سنا مگر ایک تنقید کرتے ہی عمران خان ٹیلیویژن پر آکر ام حریم کا تذکرہ کر رہا ہے- کمال ہے بھئی یہ تو وہ بات ہوئی کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ یعنی جب تک ام حریم پی ٹی آئی کی سپورٹر رہی تب تک جائز تھا جب اس نے تنقید کی تب ناجائز ہو گیا؟عمران خان کے اس خطاب سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ عمران خان صاحب عوامی مسائل پر بہت دور تک نظر رکھتے ہیں اور خان صاحب کو لمحہ با لمحہ اپڈیٹ کیا جاتا ہے مگر حیرت کی بات ہے جب قوم مہنگائی کی چکی میں پس رہی تھی تب خان صاحب کہاں تھے؟جب قوم نے ڈاکٹر عبد القدیر رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں خان صاحب کی شرکت نا کرنے پر رنج کیا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟ جب واقعہ ساہیوال ہوا تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟جب ڈاکوؤں لٹیروں کے ہاتھوں قوم لٹ رہی تھی اور انصاف کیلئے آوازیں دی جا رہی تھیں تب عمران خان صاحب کہاں تھے؟جب بلیک مارکیٹنگ مافیا اب موجودہ حکومت کی طرح خان صاحب کے دور حکومت میں بھی بے لگام تھا تب خان صاحب کہاں تھے؟کیا خان صاحب بس اپنی تنقید پر ہی قوم سے رابطہ فرماتے ہیں؟خان صاحب پاکستان کی بیٹی ام حریم سوال تو کرے گی –

    یہ تو ایک ام حریم ہے یہاں پوری قوم آپ سے سوال کر رہی ہے کہ خان اپنے دور حکومت کا حساب دیجئے اور بلا وجہ لوگوں کو پٹواری ،جیالہ اور پالشی کہنا بند کیجئے کوئی کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت کے بغیر محب وطن شہری بھی ہو سکتا ہے سو خان صاحب پاس کر یاں برداشت کر-

  • امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    میامی: امریکی ریاست فلوریڈا میں پائتھون کے شکار کا سالانہ ایونٹ کا انعقاد ہوگیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق میامی میں سالانہ ایونٹ کے افتتاح کے موقع پر موجود حکام کے مطابق پائتھون کے شکار کا یہ مقابلہ آفیشلی مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح سے شروع ہوا جو 15 اگست شام 5 بجے تک جاری رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی


    جس میں فلوریڈا کی مرطوب زمین میں 800 سے زیادہ افراد خطرناک برمیز پائتھون کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ آٹھ دنوں تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں سب سے زیادہ سانپ مرنے والوں کو انعام میں ہزاروں ڈالرز ملیں گے۔

    حکام کے مطابق پیشہ ور اور نو آموز شکاریوں میں جو سب سے زیادہ سانپ مارے گاان کے لیے دونوں کیٹیگریوں میں 2500 ڈالرز کا انعام رکھا گیا ہے دونوں کیٹیگریوں کے لیے سب سے لمبے پائتھون کے شکار کے اضافی انعامات بھی ہیں۔

    بھارت: سانپ کے کاٹنے سے دو بھائیوں کی موت

    قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پائتھون مردہ ہو اور اگر سانپ کو وحشی طریقے سے مارا گیا یا مقامی سانپ مارا تو شکاری کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    فلوریڈا کی خاتون اول کیسے ڈی سینٹِس کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اس لیے اہم ہے کہ شکار کئے جانے والے ہر پائتھون کے سبب یہاں کے مقامی پرندوں، میملوں اور ریپٹائلز کا ایک شکاری کم ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق برمیز پائتھون فلوریڈا کا مقامی سانپ نہیں ہے اور اس کی خوراک پرندوں، میملوں اور دیگر رپٹائلز پر مشتمل ہوتی ہے دی نیشن پارک سروس کی رپورٹ کے مطابق ایورگلیڈز میں پہلا برمی ازگر 1979 میں دیکھا گیا تھا، اور 1990 کی دہائی کے دوران ان کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا تھا-

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ سانپ جنوب مشرقی ایشیا کا ہے اور اس کی وجہ سے کئی مقامی نسلوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بوبکیٹس، ہرن، ریکون، خرگوش اور لومڑی جیسے جانوروں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ 10 – 20 فٹ لمبے سانپ شکاریوں کے خطرے کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جنوبی فلوریڈا واٹر مینجمنٹ ڈسٹرکٹ کے ایک رکن رون برجیرون نے کہا کہ یہ سانپ قدرتی فوڈ چین کو تباہ کر رہے ہیں، اور آپ کو صحت مند فوڈ چین کے بغیر صحت مند ماحول نہیں مل سکتا ۔

    واضح رہے کہ سالانہ راؤنڈ اپ 2013 میں شروع ہوا تھا، اور ہر سال سینکڑوں سانپوں کے شکاری دس روزہ ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں 2021 میں فلوریڈا پائیتھن چیلنج نے ایورگلیڈز سے 223 برمی پائتھنز کا شکار کیا تھا جبکہ سال 2000 کے بعد سے ایورگلیڈز کی مرطوب زمین کے ماحول سے 17 ہزار سے زائد پائتھون مارے جاچکےہیں-

    لندن: چڑیا گھر کے پنجرے میں مگرمچھ کی بجائے ہینڈ بیگ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

  • فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان ایٹین کلین نے ساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں فرانسیسی سائنسدان نے ایک تصویر ٹوئٹ کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کائنات کے رازوں کو جاننے کے لیے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے لی گئی ایک ستارے کی تصویر ہے۔

    روسی ہائپر سونک ماہرغداری کے شبہ میں گرفتار


    فرانسیسی سائنسدان نے تصویر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ سورج کے قریب ترین ستارے پراکسیما سینٹوری(Proxima Centauri) کی تصویر ہے جو زمین سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے،روز بروز ایک نئی دنیا آشکار ہوتی ہے-

    سائنسدان کی جانب سے کی گئی اس ٹوئٹ کو ہزاروں صارفین نے ری ٹوئٹ کیا اور تبصرے کیے-

    ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی…

    بعد ازاں ایٹین کلین نے ٹوئٹس کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بظاہر ستارے جیسے دکھنے والی یہ تصویر درحقیقت ایک سیاہ پس منظر میں کافی قریب سے لی گئی ساسیج کے ٹکڑے کی تصویر ہے۔


    انہوں نے کہا کہ یہ ایک مذاق تھا جس پر میں معذرت خواہ ہوں لیکن میرا ساسیج کی تصویر شیئر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایسی تصاویر سے محتاط رہیں جو بظاہر خود بولتی ہیں ضروری نہیں جو چیز کسی اتھارٹی کی جانب سے شیئر کی جائے وہ ہمیشہ صحیح ہو ، ایسی تصاویر کو اپنی عقل و شعور سے پرکھنا سیکھیں۔

    واضح رہے کہ ایٹین کلین فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن میں ریسرچ ڈائریکٹر اور ریڈیو شو پروڈیوسر بھی ہیں۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

  • ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف پوری پاکستانی قوم ایک پیچ پر ہے،حکومت پنجاب کی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر ڈے کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی ڈی سی آفس سے بمبے چوک تک نکالی گئی۔

    ریلی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارجمند شہباز،انفارمیشن آفیسر خالد رسول،شہزادالاسلام،ذوالفقار احمد،اساتذہ،طلبا،تاجروں،سول سوسائٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔شرکا نے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کیخلاف پر شگاف نعرے بھی لگائے جب کہ ریلی میں فضا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی چھین کر پاکستان سے الحاق کریں گے،

    بھارتی مظالم کشمیریوں کو انکے حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتے،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی نے کہا کہ کشمیری پر مظالم سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے،کشمیری خود کو اکیلا نہ سمجھیں،پاکستانی قوم انکے ساتھ ہے،ریلی میں شرکا کی طرف سے کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو سلام بھی پیش کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر کشمیر کی آزادی،پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی کیلئے دعائیں بھی کی گئیں۔

  • "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    "باتیں اور دعوے نہیں کشمیر سے وفا کیجیئے” از قلم محمد عبداللہ

    کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور آرٹیکل 370 کو ختم کیے ہوئے بھارت کو تین سال ہوگئے ہیں لیکن کشمیر آج بھی بھارت کے لیے ویسا ہی ہے جیسا نوے کی دہائی میں تھا، کشمیر میں کوئی چوٹی، کوئی بلڈنگ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جہاں بھارتی ترنگا لہرا سکے.
    کشمیری آج بھی سینہ تان کر کھڑے ہیں. قربانیاں دینے کے باوجود اپنے آپ کو بھارت کا شہری کہنے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہیں، اور قربانیاں بھی ایسی کہ پوری وادی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جہاں کوئی شہید نہ ہوں. وگرنہ تو کیفیت یہ ہے کہ بیٹا ہے تو باپ نہیں ہے. باپ ہے تو بھائی غائب ہے.
    بلکہ بقول احمد بن قاسم پاکستان میں نارمل یہ کہ والدین ہیں بہن بھائی ہیں آپ صبح اٹھتے ہیں ناشتہ کرتے ہیں اور پھر روٹین کے کام کاج میں جاتے ہیں کوئی یونیورسٹی جاتا تو کوئی جاب پر اور کوئی گھر کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے.
    جبکہ کشمیر میں نارمل یہ ہے کہ بیٹا رو رہا ہے کیونکہ اس کا باپ شہید ہے. ماں غمگین ہے کہ لخت جگر انڈیا کی جیل میں ہے، بہن ساکت بیٹھی ہے کہ صبح اس کے بھائی کو بس سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا ہے. صبح اٹھ کر کالج و اسکول اور جاب پر جانے کی فکر نہیں بلکہ نارمل یہ ہے کہ احتجاج ہے، معرکہ ہے، پتھراؤ ہے اور ظلم ہے.
    جو لوگ کشمیر کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ بھارت وہاں پر ہر قسم کے ترقیاتی کام کروانے کو تیار ہے، ہر قسم کی سہولت کشمیریوں دینے کو تیار ہے لیکن کشمیری ہر قسم کے لالچ، ہر قسم کے ظلم اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا پرچم اٹھاتے ہیں اور پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں.
    جبکہ ہم پاکستانیوں کی صورتحال کہ ہم ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا کی پوسٹس کے ساتھ، اخبارات میں اشتہارات دے کر، آدھا گھنٹہ چپ کھڑے ہوکر ، نغمے اور ترانے بنا کر بلکہ اب تو وہ سلسلے بھی گئے اور ساتھ کھڑا ہونے کی باتیں بھی قصہ پارینہ ہوئیں. اب تو باز گشت ہے لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل بارڈر میں بدلنے کی، ادھر تم اور ادھر ہم والے نظریات کی…
    کشمیر کی تقسیم کے فارمولوں کی آوازیں ابھر رہی ہیں لیکن یاد رکھیے گا یہ کشمیر ہے شہداء کا مقدس لہو اس سرزمین پر گرا ہے، ہزاروں ماؤں نے اپنے لخت جگر اس کے لیے قربان کیے ہیں آپ اس مقدس لہو سے غداری کریں گے تو نہ قدرت آپ کو معاف کرے گی اور نہ وہ مائیں جن کے جگرگوشے اس سرزمین پر قربان ہوئے.
    اٹھیے کشمیر سے وفا کیجیئے، تقسیم برصغیر کے اس نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیے اور کشمیریوں کو آزادی دلوائیے دیکھیے اللہ کی رحمتیں آپ کے پاکستان پر کیسے برستیں ہیں اور ظلمتوں کے بادل کیسے چھٹتے ہیں.
    دل جوش میں لا فریاد نہ کر
    تاثیر دکھا تقریر نہ کر
    یا طاقت سے کشمیر چھڑا
    یا آرزو کشمیر نہ کر

  • مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کا مشن خلا میں روانہ

    مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کا مشن خلا میں روانہ

    دنیاکی امیرترین شخصیات میں سے ایک جیف بیزوس کی ملکیتی کمپنی بلیواوریجن نے جمعرات کو چھے افراد پر مشتمل ایک مشن کوخلا میں بھیجا ہے-

    باغی ٹی وی : مشن "این-22” نے امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی صحرا میں بلیواوریجن کے اڈے سے مقامی وقت کےمطابق صبح 8 بج کر 58 منٹ (1358 جی ایم ٹی) کے قریب نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ اڑان بھری ہے مشن کا دورانیہ، لانچ سے لینڈنگ تک: 10 منٹ اور 20 سیکنڈ تھا-

    مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کے مشن نے نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ خلا میں اڑان بھری

    خود مختار اوردوبارہ قابل استعمال خلائی گاڑی نے اپنے عملہ کے کیپسول کو کرمان لائن کے اوپربھیجا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلائی سرحد ہے اوریہ سطح سمندر سے 62 میل (100 کلومیٹر) اوپر ہے۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

    عملہ کے ایک رکن کولائیواسٹریم پر یہ کہتے ہوئے سناجا سکتا تھا کہ میں تیررہا ہوں! پھر کیپسول اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ گیا اور مسافروں نے چند منٹ تک بے وزنی کا تجربہ کیا۔

    نیو شیپرڈ بوسٹر، اپنی آٹھویں فلائٹ مکمل کرتے ہوئے،مسافروں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔

    راکٹ اور کیپسول دونوں الگ الگ بیس پر واپس آئےکیپسول کے سوار بہت بڑے پیراشوٹ کا استعمال کرتے ہوئے زمین پراترے اور انہوں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔

    اس کے عملہ میں مصری انجینئرسارہ صبری اور پرتگالی کاروباری شخصیت ماریو فیریرا شامل تھے۔ وہ زمین سے خلامیں جانے والے دونوں ممالک کے اولین افراد ہیں جبکہ یوٹیوب اسپورٹس اور کامیڈی چینل ڈوڈے پرفیکٹ کے پانچ شریک بانیوں میں سے ایک کوبی کاٹن بھی شامل تھےاس چینل کے پانچ کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

    سکول میں حجاب پر پابندی ،اقوام متحدہ کی فرانس پر تنقید

    بلیواوریجن کی ایک خاتون ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ عملہ کے تمام چھ افراد نے اس خلائی سفر کے لیے رقوم ادا کی تھیں۔البتہ سارہ صبری کی نشست کوغیرمنافع بخش تنظیم خلا برائے انسانیت (اسپیس فارہیومینٹی) کی مالی سرپرستی حاصل تھی۔تاہم بلیواوریجن نے اپنے ٹکٹ کی قیمت کا انکشاف نہیں کیا ہے۔

    اس کی ماضی کی پروازوں میں مشہورشخصیات بہ طور مہمان سوار ہوچکی ہیں اور انھوں نے مفت پرواز کا لطف اٹھایا تھا۔ان میں اسٹار ٹریک کے لیجنڈ ولیم شاٹنر بھی شامل ہیں-

    سائرہ صابری نے اپنی پرواز کو سپانسر کرنے والی تنظیم اسپیس فار ہیومینٹی کو بتایا کہ جب ہم بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کرتے ہیں، ہم ناممکن سمجھی جانے والی چیزوں کو حاصل کرتے ہیں، ہم حدود کو توڑتے ہیں، تاریخ لکھتے ہیں اور مستقبل کے لیے نئے چیلنجز کا تعین کرتے ہیں ۔

    سائرہ نے مزید کہا کہ میں ناقابل یقین حد تک پرجوش ہوں کہ اسپیس فار ہیومینٹی نے مجھے یہ موقع پیش کیا ہے اور مجھے پہلی بار خلا میں مصر کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے میرے آباؤ اجداد نے ہمیشہ بڑے خواب دیکھے ہیں اور ناممکن کو حاصل کیا ہے، اور میں اسے واپس لانے کی امید کرتی ہوں۔ ابھی شروعات ہے۔

    ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے

  • جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    سعودی عرب: ماہرین نے جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتوں کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے ” العربیہ” کے مطابق جمعرات کو سعودی محکمہ ورثہ جات نے جازان شہرسے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتیں کی ہیں-

    یہ نوادرات پیرس ون یونیورسٹی کے تعاون سے ایک مشترکہ سعودی اور فرانسیسی سائنسی ٹیم کے تحقیق اور کھدائی کے کام کے دوران ملیں یہ نوادرات سعودی عرب میں ورثے کے تحفظ کے ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    کھدائی کے نتیجے میں دوسری اور تیسری صدی عیسوی کے متعدد فن تعمیراتی مظاہر،نایاب نوادرات اور نمونے دریافت ہوئے ان نوادرات میں تانبے کے کھوٹ سے بنی تہہ شدہ رومن شیلڈ اور ایک اور قسم کی "لوریکا اسکوماٹا” شامل ہے جو پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک رومن دور میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھی یہ اب تک کی سب سے نایاب ٹکڑوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

    ان دریافتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن مقامات سے یہ ملی ہیں وہاں پر 1400 قبل مسیح انسانی آبادی اور تہذیب موجود تھی۔

    العربیہ نے سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے” کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی رومن سلطنت "جینوس” کی تاریخ میں ایک مشہور رومن شخصیت کے ایک سُلیمانی نوشتہ کی دریافت کے علاوہ ایک چھوٹے مجسمے کا سربھی ملا۔

    ایک سعودی فرانسیسی ٹیم نے 2005ء میں جزیرہ فرسان پر تحقیقی کام کے لیے کھدائی کا دورہ کیا تھا جس نے 2011 میں جزیرے پر سروے کا کام شروع کرنے کے لیے آثار قدیمہ کی اہمیت کے حامل مقامات کی نشاندہی کی تھی۔ 2011-2020 کی مدت کے دوران کی گئی پچھلی دریافتوں کے نتیجے میں بہت سی تعمیراتی اور آثار قدیمہ کی دریافتیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مقامات تقریباً 1400 قبل مسیح کے ہیں۔

    فرسان جزائر کے مقامات پر ہونے والے ان کاموں نے بہت سی آثار قدیمہ کی دریافتوں کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا، اور اہم مقامات کا انکشاف کیا، جو مملکت کے جنوب میں واقع تاریخی بندرگاہوں کے تہذیبی اور بحیرہ احمر کی تجارت کو کنٹرول کرنے میں ان کی اہمیت اور قدیم میری ٹائم کمرشل ٹرانسپورٹ لائنز کے حوالے سے ماضی میں اہم رہ چکے ہیں۔

    آثار قدیمہ کی یہ دریافتیں جزائر فراسان کی ثقافتی گہرائی، اور مملکت کی اہمیت اور مختلف تہذیبوں کے مرکز کے طور پر اس کے تزویراتی محل وقوع کی بھی تصدیق کرتی ہیں۔

    قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی تھی –

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔