Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی
    ایک طرف ملک بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے اور دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں ہائے اقتدار ہائے اقتدار کا کھیل کھیلنے میں تمام حدوں کو عبور کر گئی ہیں۔ ذرا سوچئے وہ ریاست جس کے قومی خزانے سے اقتدار کے مزے لوٹے ، قومی خزانے سے قرضے لئے پھر اربوں معاف کروائے۔ کرپشن اور کمیشن سے اپنے محل نما گھر تعمیر کئے۔ آج ایک ایٹمی طاقت کی ریاست معاشی بحران انتہائی نازک دور سے گزر رہی تو قرض لینے معاف کرانے ، اقتدار کے مزے لوٹنے والے، وی وی آئی پی پروٹوکول لینے والے۔ ان سیاستدانوں نے ریاست کو معاشی بحران سے نکالنے کے بجائے نجی ٹی وی چینلز پر ٹویٹ کے ذریعے پریس کانفرنسوں کے ذریعے عوام کو تسلی دینے کے بجائے سری لنکا کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔

    اس بیان بازی کو دیکھ کر اگر ملک کے سرحدوں کے محافظ ملکی سلامتی کے محافظ چیف آف آرمی اسٹاف نے قرض کی قسط جلدی جاری کرانے کے لئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے تو اس پر تنقید کرنے والے نوشتہ دیوار پڑھیں۔ کروڑوں ڈالر پارٹی فنڈوں کے سکینڈل اربوں ڈالر کے اثاثے، چھپانے والے سیاسی خود ساختہ لیڈر، کھربوں ڈالر رکھنے والے صنعتکار اور بڑے بڑے تاجر اپنی آنکھیں کھولیں قرض اتارو ملک سنوارو کے حقیقی جذبے کے ساتھ برسرپیکار ہوں اور سٹیٹ بنک کے خزانے کو بھر دیں۔

    وطن بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ایک ایٹمی طاقت ہے وقت آن پہنچا ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ بیرون ملک مقیم ہے یا وطن عزیز میں صاحب استطاعت ہے قومی خزانے میں بے دریغ عطیات جمع کروائے۔ فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ خواہ کسی بھی جماعت نے لی ہو منجمد کر کے قومی خزانے میں شامل کر لی جائے ۔ کرپشن میں ملوث پائی جانیوالی شخصیات سے رقوم وصول کی جائیں اور ان اقدامات کی نگرانی تمام سیاسی جماعتوں کے قابل اعتماد اور ایماندار نمائندوں کی مشترکہ حکومت کے ذریعے کرائی جائے اور کرپشن سے پاک حکومت اور حکومتی مشینری کو بروئے کار لاکر ملکی تعمیر و ترقی کے لئے نئے جذبے کا آغاز کیا جائے آج پاکستان کو بطور ریاست ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن لوگوں کو 1947ء میں ایک الگ اسلامی و فلاحی ریاست کی ضرورت تھی اور انہوں نے بابائے قوم کی آواز پر لبیک کہا قربانیاں دیں آج وطن عزیز کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔

  • حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ اور ریاست مدینہ — حافظ شاہد محمود

    رسول اللہ ﷺ کےصحابی خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم حضرت عمربن الخطاب کاتعلق قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعدی سے تھا جوکہ مکہ کے محلہ شُبیکہ میں آباد تھا۔

    بچپن میں تعلیم حاصل کی جس کی بنا پر شجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی نیز فنِ تقریر وخطابت کوٹ کوٹ کر بھری تھی…اسی لیے قریشِ مکہ نے اپنا سفیر اور امور خارجہ کا مستقل نگران مقرر کیا تھا.

    جب آپ جوان ہووے تو قبیلۂ قریش کے دیگر افراد کی مانند تجارت کو اپنا مشغلہ بنایا فنونِ سپہ گری ، شمشیرزنی ، نیزہ بازی ، تیراندازی ، گھڑسواری ، پہلوانی اورکشتی کے فن میں کمال مہارت حاصل تھی ۔مکہ کے قریب ہرسال عُکاظ کا تاریخی میلے میں قوت بازو کاخوب مظاہرہ کیاکرتے تھے۔

    حضرت عمربن خطاب نے ابتدائی دورمیں دینِ اسلام قبول کیا اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں.

    آپ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے،ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاآپ ہی کی صاحبزادی تھیں.

    قبول اسلام پر بہت سی باتیں مشہور ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں جو چیز سب سے زیادہ قبولیت اسلام کا سبب بنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نام لے کر خصوصی دعا ہی تھی.

    (اَللّھُمَّ أَعِزَّ الاِسلَامَ بِعُمَر بن الخَطَّاب أو بِعَمرو بن ھِشَام) یعنی’’اے اللہ!تودینِ اسلام کوقوت عطاء فرما عمربن خطاب ٗیاعمروبن ہشام کے ذریعے)
    تاریخ گواہ ہے کہ اُس ابتدائی دور میں مکہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کو مشرکین مکہ کے ہاتھوں جن پریشانیوں کا سامنا تھا جناب عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کی وجہ کافی حد کم ہوئیں تھی اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی جس سے نہتے مسلمانوں نہال نظر آرہے تھے کیونکہ وہ بیت اللہ میں سرعام عبادت بھی کرنے لگے تھے.

    مکہ میں اسی طرح وقت گذرتا رہ حتیٰ کہ جب ہجرت کا حکم نازل ہوا توکیفیت یہ تھی کہ تمام مسلمانوں نے خفیہ طور پر مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی،جبکہ حضرت عمر نے جب ہجرت کا ارادہ فرمایا تو واحد شخص تھے جنہوں نے علی الاعلان بیت اللہ کا طواف کیا اور کہا جنہوں نے بچے یتم ، بیویوں کو بیوہ اور والدین کو رولانا ہے تو میرا راستہ روکے کیونکہ میں مدینہ جارہا ہوں سبحان اللہ.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت رکھتے تھے آپ نے ہر موقع پر جناب عمر بن خطاب کو یاد رکھتے کتب احادیث اس بات کی بخوبی گواہ ہیں چنانچہ چند احادیث مناقب حضرت عمر کو دیکھتے ہیں تاکہ ایمان تازہ ہوجائے.

    ٭…اِنَّ اللّہَ تَعَالَیٰ جَعَلَ الحَقَّ عَلَیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَقَلبِہٖ
    ترجمہ:(بے شک اللہ تعالیٰ نے ’’حق ‘‘ کوعمرکی زبان پراوران کے دل میں رکھ دیاہے)

    ٭…لَو کَانَ نَبِيٌّ بَعدِي لَکَانَ عُمَرَ بن الخَطّاب
    ترجمہ:(میرے بعداگرکوئی نبی ہوتا تویقیناوہ عمربن خطاب ہی ہوتے)

    ٭…لَقَد کَانَ فِیمَا قَبلَکُم مِنَ الأُمَمِ ٌ مُحَدَّثُونَ مِن غَیرِ أن یَکُونُوا أنبِیَائَ فَاِن یَکُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَاِنَّہٗ عُمَرُ
    ترجمہ:(تم سے پہلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہواکرتے تھے جواگرچہ نبی تونہیں تھے البتہ ان کے قلب میں [من جانب اللہ] القاء کیاجاتاتھا ، میری امت میں بھی اگرکوئی ایساانسان ہو تو یقینا وہ عمر ہی ہوسکتے ہیں )

    ٭…یَا ابنَ الخَطّابِ! وَالَّذِي نَفسِي بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیطَانُ سَالِکاً فَجّاً اِلَّاسَلَکَ فَجّاً غَیرَکَ
    ترجمہ:(اے ابنِ خطاب! قسم اس اللہ کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،جب کبھی شیطان تمہیں کسی راستے پرچلتاہوا دیکھتا ہے تووہ فوراً [وہ راستہ چھوڑکر]دوسرے راستے پرچلنے لگتاہے)

    رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اپنے جلیل القدرصحابی حضرت عمربن الخطاب کیلئے جومقام ومرتبہ تھا اس کا اندازہ مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی کیاجاسکتا ہے۔

    حضرت عمربن خطاب ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت اورصحبت ومعیت جو مقام حاصل ہوا وہ اپنی مثال آپ تھا.

    آپ ﷺ کے بعدخلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق کے دورِخلافت میں حضرت عمربن خطاب کو انتہائی قریبی اورقابلِ اعتمادساتھی اورخصوصی مشیرکی حیثیت حاصل رہی،حضرت ابوبکرصدیق کوحضرت عمربن خطاب کے مشورے فہم وفراست اور دوراندیشی پرہمیشہ مکمل بھروسہ اوراطمینان رہا۔

    چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق نے اپنے انتقال سے چند روز قبل مہاجرین وانصار میں سے ایک مجلس میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کر دیا ۔ اس پر بعض افراد نے ان کی سختی پر بات کی تو حضرت ابوبکرصدیق نے جواب دیا کہ خلافت کی سختی کی وجہ وہ نرم ہو جائیں گے اس کے بعدمزید فرمایا: اگراللہ نے پوچھا تو یہ جواب دوں گاکہ اپنے بعد ایسے شخص کومسلمانوں کا فرمانروا بنا کر آیا ہوں جو تیرے بندوں میں سب سے بہتر ہے‘‘ ۔

    جس روز حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا انتقال ہوا،اسی روزیعنی ۲۲/جمادیٰ الثانیہ سن ۱۳ہجری بروز پیر مدینہ میں تمام مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطاب کے ہاتھ پربیعت کی۔

    خلافت سنبھالتے ہی حضرت عمربن خطاب نے لوگوں کے سامنے اپنے مختصرخطاب میں کہا:

    ’’لوگو!تمہارے معاملات میرے سپرد ہیں،اس لئے میری تمام سختی اب نرمی میں بدل چکی ہے،جو کوئی امن وامان اور سلامتی کے ساتھ رہنا چاہے،میں اس کیلئے انتہائی نرم ہوں ،البتہ جو لوگ دوسروں پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں ، میری سختی ان کیلئے بدستور قائم رہے گی،اگر کوئی کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی کرے گا تومیں اسے اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک اُس کا ایک رخسار زمین پر ٹکا کر اور دوسرے رخسار پر پاؤں رکھ کر اُس سے مظلوم کاحق وصول نہ کرلوں …اللہ کے بندو!اللہ سے ڈرو، مجھ سے درگذر کر کے میرا ہاتھ بٹاؤ،نیکی کو پھیلانے اور برائی کاراستہ روکنے میں میری مدد کرو، تمہاری جو خدمات اللہ نے میرے سپرد کی ہیں ان کے متعلق مجھے نصیحت کرو،میں تم سے یہ بات کہہ رہا ہوں ، اور تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہوں.‘‘

    یہ ہے اصلی ریاست مدینہ کے حکمران کا قوم سے پہلا خطاب سبحان اللہ.

    حضرت عمر بن الخطاب کا دورِ خلافت دس سال چھ مہینے اور پانچ دن رہا، اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت اقوام عالم تک پھیل چکی تھی…’’قادسیہ ‘‘اور’’یرموک‘‘جیسی تاریخی جنگوں اور قیصر و کسریٰ کی شکست نے تو دنیا کا جغرافیہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔ حضرت عمربن خطاب نے جو علاقے فتح کئے ان کارقبہ ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل سے کچھ زیادہ تھا…ایک لاکھ چھتیس ہزار شہر فتح ہوئے ،جن میں چار ہزار مساجد تعمیر کی گئیں ۔ یوں اہلِ ایمان کوایسی بے مثال اوریادگارعظمت ورِفعت نصیب ہوئی…جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔

    آج کسی حکمران کو اس کے نام نہیں بلکہ کام کی وجہ سے ہی دوام حاصل ہوتا ہے ہم یہاں ان کاموں کا ذکر کریں گے جو ریاست مدینہ کا وصف تھے جن کی وجہ ریاست مدینہ قائم ہوئی تھی ہمیں بھی ایسی ہی ریاست چاہیے جو امیرالمؤمنین حضرت عمربن الخطاب نے قائم کی تھی ریاست مدینہ جن چیزوں پر قائم تھی جو تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے کو ملے مثلاً:

    1… ہجری اسلامی کیلنڈر کا آغاز۔
    2…سرکاری عہدے داروں کاہمیشہ سختی کے ساتھ کڑا محاسبہ۔
    3…بہت سے نئے شہروں کی تعمیر۔
    4…متعدد نئی فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔
    5… دفاع کومضبوط ومؤثربنانے کی غرض سے متعدد نئے قلعے تعمیرکروائے۔
    6…پہلی بار باقاعدہ فوج اور پولیس کا محکمہ قائم کیا گیا۔
    7…سرحدی علاقوں میں گشت کی غرض سے مستقل سرحدی حفاظتی فوج تشکیل دی گئی۔
    8…مستقل فوج تشکیل دی گئی جس میں تیس ہزارگھوڑے تھے۔
    9…فوجیوں کیلئے باقاعدہ وظیفہ اورتنخواہیں مقررکی گئیں ۔
    10…ہرفوجی کیلئے ہرچھ ماہ بعدباقاعدہ چھٹی کی سہولت۔
    11…باقاعدہ بہترین عدالتی نظام۔
    12…بیت المال کا قیام۔
    13…رقبوں اور سڑکوں کی پیمائش۔
    14…مردم شماری کا نظام۔
    15…کاشتکاری کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔
    16…چار ہزار نئی مساجد کی تعمیر ۔
    17…مساجدمیں روشنی کا انتظام کیا گیا۔
    18…اماموں ، مؤذنوں اورخطیبوں کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    19…معلمین اورمدرسین کیلئے باقاعدہ وظائف مقرر کئے گئے۔
    20…نظامِ وقف قائم کیا گیا۔
    21…غلہ واناج ودیگرغذائی اجناس کی حفاظت کی غرض سے بڑے بڑے گودام تیار کئے گئے۔
    22…اسلامی ریاست کا باقاعدہ سکہ جاری کیاگیا۔
    23…انصاف و قانون کا ایسا بول بالا جس کی مثالیں دنیا آج بھی دیتی ہے۔

    یہ تھی مسلمانوں کی ریاست مدینہ.

    اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نقش قدم چلنا چاہیے اسی میں عزت و وقار اور دوام حاصل ہوتا ہے.

    اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے کہ ہم وطن عزیز پاکستان جو مدینہ ثانی ہے کو ریاست مدینہ بنتا دیکھ سکیں آمین یارب العالمین

  • سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

    عام طور پر بارش کو باعثِ رحمت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ہونے سے موسم کافی سہانا ہوجاتا ہے چاہے گرمیاں ہوں یا سردیاں رومانوی شخصیت کے حامل افراد بارش کیلئے دعا ضرور کرتے ہیں، اور اگر آپ گرم علاقے میں رہ رہے ہیں اور اوپر سے موسم بھی گرمیوں کا ہے تو پھر آپ میں سے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ بارش ہوجائے تاکہ کم از کم گرمی کا زور ٹوٹ جائے۔

    بارش کی خواہش محض گرمی بھگانے یا موسم کو سہانا بنانے کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اس کے علاوہ ایسے علاقے جو نہری نہیں اور وہاں کے کسانوں کی فصل اگنے کا انحصار بارش پر ہوتا وہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ بارش ہو تاکہ فصل کاشت کرسکیں۔

    لیکن اگر بارشیں حد سے زیادہ ہونا شروع ہوجائیں اور پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل بھی ہوں تو یہ رحمت پھر زحمت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔


    حالیہ دنوں ہونے والی بارشوں نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچادی ہے اس تباہی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے علی سلمان علوی نے مطالبہ کیا ہے کہ: ‏طوفانی بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں تباہی مچا دی جس میں ڈیرہ غازی خان، اتھل، جھل مگسی اور لسبيلہ شديد تباہی کی زد ميں ہيں.


    انہوں نے مزید کہا: بلوچستان اور پنجاب کے سرائیکی علاقوں ميں ہنگامی بنیادوں پر ہيلی کاپٹرز، کشتیوں اور امدادی سامان کا بندوبست کيا جائے۔
    ایک صارف حسن ریاض کہتے ہیں: امپورٹڈ حکومت اپنے زاتی مفادات میں مصروف عمل ہے جبکہ سیلاب سے بلوچستان ڈوب رہا ہے.


    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ: سیلاب زدگان کیلئے جلد از جلد ریلیف کا بندوبست کیا جائے.

    ایک شہری نزر شاہ نے گھروں کی تباہ شدہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: اپر کوہستان تحصیل داسو اچھار نالہ اور تحصیل کندیا کے دیگر علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس سے متعدد گھر اجڑ گئے جبکہ گاڑیاں اور فصلیں سیلاب کی موجوں کی نظر ہوگئی ہیں.


    ان کا کہنا تھا کہ: عوام شدید مشکلات میں ہیں اور لوگ گھنٹوں پیدل دشوار راستوں پر سفر کرنے پر مجبورلیکن دوسری جانب صوبائی و وفاقی حکومت تماشائی بنائی ہوئی ہے.

    شہری لیاقت بلوچ نے کہا: تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک صوبہ موسلا دھار بارشوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہوگیا تھا اور سیلاب سے لوگ مررہے تھے جبکہ املاک، مال مویشی اور زراعت سب سیلاب کی نظر ہوگئے لیکن ریاست اور اسکی تمام تر مشینری تخت لاہور کو بچانے گئے ہوئے تھے۔
    دوسری جانب جھل مگسی کے ایک سردار جس کا نام میر طارق خان بتایا جارہا ہے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ کسی سیلاب والے پانی کو دیکھ رہے ہیں اور اس موقع پر جب ان سے کچھ افراد ہاتھ ملانا چاہتے ہیں تو وہ انہیں ہاتھ نہیں ملاتا.


    ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے فہمیدہ یوسف نے لکھا: "سردار صاحب! ہاتھ ملانے کے لئے ایک بندہ رکھ لیں بلوچستان کے عام لوگوں کو ویسے بھی آپ سرداروں نے بھیڑ بکریاں سمجھا ہوا ہے”

    ایک صارف نے سوال کیا کہ: "سیلاب نے تباہی مچادی "این ڈی ایم اے” اور "پی ڈی ایم اے” کہاں ہیں؟

  • کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    کون عمر رض اور کونسے عمر رض اور کیسے عمر رض؟ — بلال شوکت آزاد

    آغاز تحریر کروں گا اس دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مفہوم سے جو اسلام کی سربلندی کا اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

    دعائے نبوی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مفہوم!

    "اے رب عمر بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے ایک عمر دیدے۔”

    اور اللہ کو پسند آئے عمر بن خطاب رض اور عمر رض کو پسند آیا رب کی توحید والا دین اور عمر رض بنے توحید اور ختم نبوت کی ڈھال۔

    آج بس عمر رض بن جاؤ۔

    وہی عمر رض

    "جس کو اسلام کی سربلندی کی خاطر امت میں پانے کی دعا نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کی تھی۔”

    وہی عمر رض جس نے بوقت ہجرت للکارا تھا کہ

    "جس کو خواہش ہو کہ اس کی اولاد یتیم اور بیویاں, بیوہ ہوجائیں تو وہ آگے بڑھے اور عمر کا راستہ روکے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی موجودگی پر شیطان کا دم گھٹتا اور جسم خوف سے تھر تھر کانپتا تھا کہ راستہ بدلنے میں عافیت جانے۔”

    وہی عمر رض

    "جو کالی اندھیری راتوں کو بطور خلیفہ وقت مدینے کی گلیوں میں گشت کرتا اور سفید پوش فاقہ کشوں کے رزق کا بندوبست کرتا زمین پر اللہ کی جانب سے مخلوق کی کفالت پر معمور رہتے ہوئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو نبوت پر معبوث ہونے کی بشارت خود آخری نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دی کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔”

    وہی عمر رض

    "جن کے عدل اور انصاف کی یہ مثل تھی کہ ایک منافق مسلمان کی گردن کندھے سے جدا کردی ایک یہودی کے حق میں نبوی ص فیصلے, صدیقی رض فیصلے اور توہین رسالت کے ارتکاب کو پا کر۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی اطاعت میں سیف اللہ خالد بن ولید رض معزول ہوکر مسجد میں ڈانٹ سنتے رہے اور اف تک نہ کی۔”

    وہی عمر رض

    "جس کی ہیبت سے قیصر و کسری کے دربار لرز جاتے تھے۔”

    وہی عمر رض

    "جس نے فتح بیت المقدس کے بعد فلسطین کا سفر ایک خادم اور اونٹ کے ساتھ ایسے شروع کیا کہ سواری کی باری باندھ لی اور جب سواری یروشلم میں داخل ہوئی تو اونٹ کی مہار خلیفہ وقت کے ہاتھ اور خادم اونٹ پر سوار دیکھ کر دشمن محو حیرت ہوگئے۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے قبول اسلام نے ابتدائی مسلمانوں کو بیت اللہ میں بلا خوف وخطر جانے کا راستہ دیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کے پڑھائے ہوئے جنگی, امور حکومت اور شہری نظامت کے اسباق آج جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک کے آئین میں الگ الگ ناموں سے موجود ہے پر ہم اسے "عمر لاء” کے نام سے جانتے ہیں۔”

    وہی عمر رض

    "جو 22 لاکھ مربع میل کا اکلوتا حاکم وقت لیکن 22 بائیس پیوند لگے کرتے میں رہنے والا سادہ اور عاجز حکمران۔”

    وہی عمر رض

    "جس کو بھری محفل میں اضافی کپڑے کا سوال کیا گیا اور اس عمر رض کے ماتھے پر شکن بھی نہ آئی اور جواب دیکر امت کو مطمئن کیا۔”

    وہی عمر رض

    "جس کا ذکر آج بھی شیاطین کی موت کے برابر ہے۔”

    جی ہاں یہ ہے وہ عمر رض اور ایسا تھے وہ عمر رض اور ایسے ہی عمر رض بننا ہے ہمیں۔

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    آئیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں — نعمان علی ہاشم

    فضائل اور مناقب بیان کرنا بہت اچھی بات ہے. مگر کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کے بیان پر ہی اکتفا کر جانا ہرگز کافی نہیں.
    کسی ہستی کے فضائل اور مناقب کا بیان کار ثواب بھی ہو سکتا ہے. مگر آپ اس ہستی کی سیرت سے کچھ سیکھنے سے عاری ہیں تو یقیناً آپ اچھے کردار کے حامل نہیں ہو سکتے.

    ہمارے ہاں سیرت النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا بیان تو ہوتا ہے مگر عمومی رویوں سے اس کا اظہار کرنے سے ہم بطور معاشرہ قاصر ہیں.
    وہ تمام شخصیات جن کو اللہ تعالی نے دنیا میں کوئی نہ کوئی مقام عطا کیا، جن کے فضائل ومناقب آج ہم بیان کرتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام و مرتبہ کیسے عطا کیا؟
    .
    یکم محرم الحرام قریب ہے اور ہر طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے. بلاشبہ ان کا ذکر کرنا اور اچھی نیت کے ساتھ اچھے انداز کے ساتھ ان کا ذکر کرنا باعث اجر و تسکین ہے.

    مگر سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عمر کیسے بنتے ہیں؟

    آج ہم اخلاق و کردار یا اوصاف کے اندر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ان کی تقلید ضرور کر سکتے.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کردار میں جو سب سے بنیادی چیز ہے وہ ڈٹ جانا ہے. آپ کے کردار کے اندر جھول یا نرمی کا کوئی عنصر نہیں. اسلام سے قبل اپنے قبیلے اور علاقے کے تمام تر مفادات کا تحفظ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے علم، حکمت کے ساتھ ساتھ اپنی تلوار کے ذریعے کیا.
    .
    دین اسلام کی حقانیت آشکار ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروق نے اسی جاہ و جلال، بہادری و استقلال کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام کے تمام تر حقوق کا تحفظ کیا.

    اسلام تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے مگر کردار عمر سے یہ بات عیاں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کو غالب کرنے کے لیے آئے تھے.
    .
    آپ اسلام کے آنے سے پہلے بھی اپنے قول و اقرار پر پہرہ دیتے تھے. اور اسلام لانے کے بعد بھی آپ کبھی اپنی بات سے منحرف نہیں ہوئے. دنیا کا مفاد لالچ اور خوف آپ کو کبھی زیر نہیں کر سکا.
    .
    آپ نے اللہ کی عطا کردہ فطرت سلیم کی حفاظت اس قدر عمدہ انداز سے کی کہ آپ کے دماغ کے اندر پیدا ہونے والے خیالات اللہ تعالی نے قرآن بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے.
    .
    جدید فلسفہ میں اقبال جس خودی کی بات کرتے ہیں سیدناعمرفاروق میں وہ خودی بدرجہ اتم موجود تھی.
    .
    تاریخ کا مطالعہ کرنے والے احباب یہ بات جانتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی.
    .
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ کی برکت ہے کہ آج عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انصاف کا معیار مقرر کیا گیا ہے.
    .
    تاریخ انسانی میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے قبل کوئی ایسا حکمران نہیں تھا جس کی سلطنت کے اندر تعلیم، صحت تعمیرات، افوج اور انصاف کے باقاعدہ فعال شعبے موجود ہوں.
    .
    یہ آپ کے کردار کا ہی خاصہ تھا کہ نئے آنے والے مذہب اور تہذیب کو 22 سے 25 سال کے اندر 22 لاکھ مربع میل سے بھی زائد رقبے پر متعارف کروایا.
    .
    سچائی، دیانت، جرات، انصاف، تقویٰ، دردانسانیت اور محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم و دین محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت جیسے اوصاف کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا.

    ہمیں مناقب بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں پر غور کرنا چاہیے جو عمر ابن خطاب کو عظیم مصلح و حکمران عمر فاروق اعظم بناتی ہیں.

    محض قصے بیان کرنے سے بات نہیں بنے گی. وہ تمام اوصاف جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں موجود تھے ان کی تقلید سے ہی بات بنے گی.

    محض غلبے کی باتیں اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کریں گی. اسے غالب کرنے کے لیے عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنا ہوگا.

    اگر سیرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو عملی شکل دینے کے بجائے محض ثواب کی نیت سے بیان کرتے رہیں گے تو یقین کیجئے حالات نہیں بدلیں گے.

  • وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    دنیا عظیم لوگوں سے بھری ہوئی ہے. اور کچھ شخصیات ایسی تھی جو منفی کاموں کی وجہ سے مشہور ہوئیں، ظلم و جبر، فساد فی الارض کی جو نشانی تھیں، وہ صفحہ دنیا پہ آئے لیکن اس زمین پر ایک کلنک کی نشانی بن کر رہ گئے. البتہ بہت ساری شخصیات دنیا اور لوگوں کے لیے سراپا خیر تھے اور دنیا کے نظام کے آئیڈیل کی حیثیت بن گئے. لوگ ان کے دشمن ہونے کے باوجود ان کے دیے ہوئے نظام کے معترف ہی نہیں بلکہ اپنے ملک میں اس کا نفاذ بھی کرتے ہیں.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ بھی ہے. جو زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا وہ اسلام میں بھی اچھا ہوگا. (الحدیث)

    دیکھیے تو کون آرہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری حالت میں آجاتے ہیں کہ کہہں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دیں. فرمایا آنے دو.

    اور پھر ان کا آنا مظلوموں کے لیے سہارا بنے، اسلام کے لیے قوت اور ظالموں کے سامنے مضبوط قلعہ بن گئے. یہ تو وہی عمر ہیں جن کے لیے دعائیں مانگی جارہی تھیں.

    اللھم اھد عمرین، اے اللہ ان دونوں (ابوجہل و عمر رضی اللہ عنہ) میں سے جو محبوب ہے اس کے ذریعے عزت عطا فرما.

    اور پھر جب آئے تو کیا ہی کمال شخصیت بنے. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھتے ہیں: فرمایا عمر کی قمیض اتنی لمبی ہے کہ وہ کھینچ رہے ہیں. تعبیر یہ کی کہ یہ دین میں زیادہ ہونگے.

    رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا خواب دیکھتے ہیں: فرمایا میں دودھ پیتا ہوں اور دودھ کی تری مجھے ناخنوں میں نظر آنے لگتی اور پھر عمر کو دیتا ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تعبیر پوچھتے ہیں فرمایا اس سے مراد علم ہے.

    ان کا آنا یقیناً خیر ہی تھا کیونکہ وہ دین کا قلعہ تھے، وہ علم کے مینار تھے. وہ ایمان و اسلام کے لیے عزت کا سبب تھے اور ہیں. یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کارنامے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ بہترین مشیر ثابت ہوئے. حتی کہ آپ کے ذہن کی باتیں یا مشورے قرآن بن کر نازل ہوئے. آپ اپنی جان مال کے ذریعے سے دین کے لیے قوت بنے. اس کے بعد خلیفہ اول کے دور میں بھی آپ ان کی ہر طرح مدد و تعاون کرتے رہے. صفاتِ باکمال کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ خلافتِ راشدہ کے دورے امیر کے طور پر منتخب کیے گئے.

    یہیں سے آپ کا جوہر کمال کی حد کو پہنچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دلوائے کہ دنیا میں آنے والے بے شمار بادشاہ آپ کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے.

    آپ کے کارناموں کی فہرست خاصی دلچسپ اور دنیا کے ٹھیکیداروں کو چونکا دینے والی بھی ہے.

    آپ نے وہ کام اس وقت سرانجام دیے جب اس کا بڑی بڑی سلطنتوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا. آپ نے فوجی و پولیس کا نظام دیا، مجاہدین کے وظائف مقرر کیے، دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا. اسلامی سرحدات کو توسیع دی. احتساب کا کڑا نظام قائم کیا. اہم چیزوں میں سے ایک "انصاف کی فراہمی” کو یقینی بنایا. چاہے وہ کسی سرکاری شخص سے ہی متعلق کیوں نہ ہو.

    آپ رضی اللہ عنہ گو نا گو خصوصیات کی حامل شخصیت تھیں، جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دین متین کا کام لیا اور پھر ان کی وہ دعا بھی قبول ہوئی.

    اے اللہ مجھے شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شہادت عطا کرنا.

    اللّھم إني أسألك شھادة في سبيلك. آمين

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    مقصد کامیابی کی ضمانت — ام عفاف

    زندگی ایک رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں ان کے لیے یہ دنیا بالکل نئی ہے ان کی آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے اور جو لوگ جوانی کے جوبن پر ہیں ان کے لیے کچھ نیا ہے تو کچھ پرانا. اور وہ لوگ جو اپنی زندگی گزار چکے ہیں ان کے لیے یہ سب کچھ پرانا ہے.

    لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان نے اس دنیا میں کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے کچھ لوگ بغیر مقصد کے زندگی گزارتے ہیں.

    زندگی بہت خوبصورت ہے اگر اس کے اندر کچھ ترتیب لائ جائے کوئی مقصد طے کیا جائے. ہر انسان کی زندگی اس کے ساتھ ہی شروع ہو کر اس کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے. لوگ ہمارے کاموں میں، خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ ہم ان کے درمیان موجود ہیں.

    جیسے ہی زندگی ختم ہوگی سارے کام ختم ہو جائیں گے اور لوگ کچھ دیر سوگ منا کر اپنے کام پر لگ جائیں گے. زندگی کی ڈور کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا نام بھی ختم ہو جاتا ہے.

    اور پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں. سو بار بھلانے پر بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یاد آجاتے ہیں. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک مقصد کے تحت زندگی گزارتے ہیں.

    اور مقصد ہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو مکمل زندگی کا لائحہ عمل دیتا ہے. ایسے لوگ زندگی ایک ترتیب سے گزراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مرحلے کو کامیابی سے طے کرتے ہیں اور کامیابی بھی ان کے قدم چومتی ہے.

    آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہی مثال لے لیں ان کی مکمل زندگی انتھک محنت سے عبارت ہے. انہوں نے مکمل زندگی میں کام کیا اور لوگوں کو کام کام اور بس کام کا سبق دیا.

    وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا ایک مقصد چنا اور اسے لیکر وہ آگے بڑھے. جب انہوں نے یہ مسلمانوں کی آزادی و خود مختاری کو اپنا مقصد بنایا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ بنے اور قوم نے انہیں بابائے قوم کا درجہ دیا.

    دیکھیں اگر آپ کے پاس کوئی مقصد ہوگا تو ہی آپ کی زندگی میں کوئی کارآمد کام ہوگا. اسی وقت آپ اپنی قوم اور ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں. اس لیے آپ اپنی زندگی میں مقصد اور ترتیب کو لازم سمجھیں.

    یاد رکھیں ہمیشہ کام کرنے والے لوگوں کو ہی یاد رکھا جاتا ہے اور وہ کام زیادہ بہتر ہوتا ہے جو ایک مقصد کے ساتھ ہو اسی لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں پھر دیکھیں کامیابیاں کیسے آپ کے قدم چومتی ہیں.