Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ،پاکستان ہاکی ٹیم کا کیمپ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ،پاکستان ہاکی ٹیم کا کیمپ جاری

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پنجاب کے درمیان معاہدہ
    معاہدے کے تحت پنجاب کے 15 کرکٹ گراؤنڈز کے انتظامی امور پی سی بی سنبھالے گا،معاہدے سے صوبہ پنجاب میں گراس روٹ کرکٹ کو فروغ ملے گا، پی سی بی کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کے تعاون پر ان کے شکرگزار ہیں، پی سی بی لوکل گورنمنٹ کے تعاون سے ملک بھر میں کرکٹ کے فروغ کے لئے پرعزم ہے.

    پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کا کامیاب انعقاد پی سی بی اور حکومت پنجاب کے مضبوط تعلقات کی تازہ مثال ہے
    ایڈیشنل چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل سینٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے فرسٹ بورڈ کے سربراہ بھی ہیں
    سینٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن اب تک پنجاب میں کلب کرکٹ کی سطح پر متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کرچکا ہے.

    دوسری طرف پاکستان ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں جاری کیمپ میں شرکت کیلئے لاہور پہنچ گئے.قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین کی زیر نگرانی نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں کیمپ جاری ہے اس موقع پر گول کیپر، کوچ باب ویلڈیف, فزیکل انسٹرکٹر ڈینیئر بیری ,کوچ اولمپیئن سمیر حسین کے علاوہ دیگر آفیشلز و کھلاڑیوں نے بھی کیمپ میں حصہ لیا.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ 2022 کا افتتاح کیا۔زیر اعلی نے ہاکی سے گیند کو شارٹ لگا کر ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز کیا اور ہاکی لیگ کی ٹرافی کی رونمائی کی۔ وزیراعلی حمزہ شہباز نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ کے ٹرائل میں 1100 کھلاڑیوں نے شرکت کی اور 180 کھلاڑی میرٹ پر منتخب ہوئے۔امید ہے کہ اس ینگ ٹیلنٹ ہی میں سے کھلاڑی قومی ہاکی ٹیم کا حصہ بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انڈر 13 ہاکی لیگ کی ٹیلنٹ ہنٹ سکیم کو پنجاب سپورٹس بورڈ کے سالانہ کیلنڈر میں شامل کر دیا گیا ہے اور ہر سال منعقد ہونے والے اس ہاکی لیگ کا یہ سلسلہ پورے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔

  • پشاور زلمی یوکے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز کا سلسلہ جاری

    پشاور زلمی یوکے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز کا سلسلہ جاری

    پشاور زلمی یوکے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز کا سلسلہ جاری ہے ، نیوکاسل، گلاسگو ،برمنگھم اور لٹن کے بعد ویلز میں بھی ٹرائلز کا انعقاد کیا گیا ۔پشاور زلمی کے صدر انضمام الحق اور ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے ٹرائلز لیے ،اگلے مرحلے میں لندن اور بریڈفورڈ میں ٹرائلز ہوں گے ۔

    یوکے کے بعد پشاور زلمی یورپ میں بھی ٹیلنٹ ہنٹ کریگا ،یوکے اور برطانیہ میں ٹرائلز کے بعد پشاور زلمی اوورسیزٹیم بنائی جائے گی ۔ پشاور زلمی اوور سیز ٹیم رواں سال پشاور میں کون بنے گا کے پی کا چیمپن ایونٹ میں ان ایکشن ہوگی.

    پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے کہا کہ برطانیہ ، یورپ اور دنیا بھر میں گلوبل زلمی کے پلیٹ فارم کے اندر پچیس سے زائد زلمی کلبز موجود ہے ، ان کلبز اور ممالک میں چھپا ٹیلنٹ تلاش کریں گے، محمد اکرم نے کہا کہ برطانیہ کے بعد یورپ میں بھی ٹرائلز لیے جائیں گے، محمد اکرم نے مزید بتایا کہ ٹرائلز کے بعد پشاور زلمی اووسیز ٹیم کا انتخاب کیا جائیگا ، پشاور زلمی اوورسیز ٹیم رواں سال کون بنے گا کے پی کا چیمپین ٹورنامنٹ میں ان ایکشن ہوگی ، ٹاپ پرفارمرز کو آئندہ سال پی ایس ایل آٹھ میں پشاور زلمی اسکواڈ میں شامل کریں گے

  • برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب

    لاہور:برہان وانی کا یومِ شہادت:شہدائے کشمیرکی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، برہان وانی کی شہادت 8 جولائی کوہوئی اس دن کی مناسبت سے برہان وانی کی شہادت کے نمایاں پہلوکچھ اس طرح ہیں

    ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت پسندرہنما برہان وانی کی شہادت کو 6 سال گزر چکے۔
    ۔ برہان وانی کا یومِ شہادت بھارت سے آزادی اور حقِ خود ارادیت کیلئے مزاحمت کے عہد کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
    ۔ برہانی وانی کو جموں و کشمیر میں ہندوستانی فورسز نے8جولائی2016کو شہید کیا۔
    ۔ صرف 15سال کی عمر میں ہندوستانی فوجیوں کے خلاف آواز اُٹھانے والے برہان وانی ایک ہونہار طالب علم تھے۔
    ۔ خالد وانی کی شہادت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی برہان وانی نے بھارتی سامراج کے خلاف مزاحمت کی تحریک کو مشکل ترین حالات میں منظم کیا۔
    ۔ کشمیری نوجوانوں کے نزدیک برہان وانی ایک دَلیر حریت پسند اور ہیرو تھے۔
    ۔ برہان وانی نے وادی کشمیر کے جنگلوں، پہاڑوں اور بیابان علاقوں میں رہ کر مشکل ترین حالات میں بھارتی ا فواج کو کئی برس تک تگنی کا ناچ نچوایا۔
    ۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے حریت پسند رہنما برہان وانی کی کسی بھی قسم کی اطلاع دینے والے کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
    ۔ برہان وانی نے بھارتی دہشت اور وحشت کے سامنے آکر نہ صرف ان کو للکارا بلکہ پوری دُنیا کے سامنے بھارتی افواج کے جنگی جرائم کو بے نقاب بھی کیا۔
    ۔ برہان وانی کو بھارتی فوجیوں نے اس لیے شہید کیا کیونکہ وہ اپنی قوم اور لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے۔
    ۔ برہان وانی کو کشمیر کی نئی مسلح تحریک کا ‘پوسٹر بوائے’ بھی کہا جاتا ہے
    ۔ 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جسے دبانے کے لیے سرکاری کارروائیوں میں درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
    ۔ امریکہ میں مقیم معروف کشمیری آرکیٹیکٹ ٹونی اشائی نے برہان وانی کیلئے لکھا کہ”میں انھیں نہیں جانتا لیکن میں نے سنا ہے کہ سب کشمیری ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں“۔
    ۔ اسوا شاہ نے برہان وانی کی نماز جنازہ کی تصویر شیئر کی اور لکھا ”دو لاکھ افراد ان کے جنازے میں شامل ہوئے اور لاکھوں کشمیریوں نے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی۔ وہ کشمیر کا بیٹا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے۔ وہ ہمارا برہان ہے۔“
    ۔ برہان وانی کی جرات و بہادری کو کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
    ۔ کشمیر کی تاریخ میں برہان وانی کو جرات اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون گرفتار
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ میں اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ نے ریڈ کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹریشن کے نام پر خواتین سے رقم بٹورنے والی خاتون کو موقع پر گرفتارکروا دیا ہے۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ احمد نوید بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ کوٹ چھٹہ کی بھٹہ کالونی میں ایک خاتون بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رجسٹریشن کے نام سے300 روپے فی کس بٹور رہی ہے جس پر ہم نے بسپ ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر خاتون کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ہے،ملزمہ سے خواتین کے شناختی کارڈز بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔دوسری طرف پولیس نے مقدمہ درج کرکے خاتون سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔

  • عمران ریاض خان صحافی  یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    عمران ریاض خان صحافی یا فراڈ، سب سچ سامنے آ گیا

    کُچھ انسان اپنی شیطانی صفات اور دوسروں پر غلبہ پانے کی شدید خواہش کو اپنی شعلہ بیانی کے پیچھے چُھپانے کا فن جانتے ہیں۔ عمران ریاض خان ایک ایسا ہی شخص ہے۔ غُربت اور آواہ پن کی آغوش سے جنم لینے والی لالچ کا پیکر ہے

    عمران ریاض کا باپ ریاض خان ٹریکٹر مکینک تھا ۲۰۰۹ میں پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں سفارش سے دوبارہ ملازمت حاصل کی۔ سارا بچپن اور جوانی غربت اور شیطانی خیالات میں گزرا۔ عمران ریاض آج سات زاتی لگژری گاڑیوں کا مالک، ڈیفینس لاہور کے قریب زاتی گھر، کئ پلاٹ، چکوال میں ڈیم کنارے چار سو کنال پر مُحیط فارم ہاؤس، ایک پُر تعیش زندگی گزار رہا ہے۔

    ۲۰۰۸ میں عارضی رپورٹر بھرتی ہوا، سیاسی بیٹ ملی ، تعلقات بنے ٹوٹی موٹر سائیکل سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے دھندے میں ہاتھ ڈالا۔ ٹاؤٹی کی گاہک ڈھونڈے تو چار پیسے بنے۔ صحافت سے پہلے عملی زندگی کا آغاز کار چوری کے بادشاہ گینگ میں شمولیت سے کیا۔ ۲۰۰۸-۱۰ تک لاہور میں یہ گینگ بُہت فعال تھا جو بعد میں سی سی پی او شفیق گُجر کی کوششوں سے ختم ہوا آج اسکی زاتی گاڑیوں کے فلیٹ میں مرسڈیز بینز ، ویگو ، ہای لکس، رییوو ، سوک اور سٹی شامل ہیں۔

    مہنگے اور غیر قانونی شکار نے موصوف کو گیلا تیتر کے عوامی لقب سے نوازا۔ ۲۰۲۰ میں چکوال کی حسین وادیوں میں تین سو نایاب تیتر شکار کرنے کے بعد بے رحمی سے گاڑی میں لاد کر جاتے ہوے ایک تصویر نے عمران کے اس روپ سے عوام کو آشنا کیا۔ ایاز امیر صاحب ماحولیات کے بُہت بڑے چیمپین ہیں لیکن اس بے رحمانہ شکار پر کبھی آواز نہ نکلی۔

    ناجائز قبضوں ، جھگڑے والی زمینوں کے سودوں میں بھی عمران ریاض نے خوب مال کمایا۔ ۲۰۱۸ میں مُخالف پارٹی کی فائرنگ کی ایف آئ آر ۳۶۹/۱۸ تھانہ ٹاون شپ آج بھی اسکی گواہی دے رہی ہے۔ ۲۰۲۰ میں youtube channel میں جھوٹی سچی باتوں اور جعلی شعلہ بیانی سے شہرت ملی ورنہ شہر میں عمران کی آبرو کیا ہے سب جانتے ہیں۔ ۲۰۲۱ میں دھرابی ڈیم چکوال میں عمران ریاض کے والد نے چار مشکوک کمپنیوں کی مدد سے چار کروڑ بایس لاکھ کا ماہی بانی کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ اس ٹھیکے کی انکوئری اینٹی کرپشن اتھارٹی پنجاب کر رہی ہے۔

    عمران ریاض کے مالیاتی گوشوارے ہوش رُبا داستان سُناتے ہیں۔ چند ہی سالوں اثاثوں اور دولت کی ریل پیل ! ۲۰۲۰-۲۱ میں کُل آمدنی دس کروڑ چھبیس لاکھ اٹھاسی ہزار جس میں سے أٹھ کروڑ ستاسی لاکھ غیر مُلکی آمدن۔ صرف ایک سال میں آمدن میں نو کروڑ کا اضافہ۔

    بنک سے ڈھائی کروڑ کا قرضہ لیا پلاٹ لیا جبکہ اسی سال تین کروڑ کا نامعلوم گفٹ دیا !

    دو پلاٹ ملت سوسائٹی میں تین کروڑ پچیس لاکھ خریدے جبکہ اُس سال کُل آمدن ایک کروڑ تیس لاکھ رہی۔

    ایف بی آر گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لے کر اس نتیجے پہ پہنچی کہ تین کروڑ بیس لاکھ کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

    عمران ریاض کی ذندگی اس معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کی زندہ مثال ہے۔ سفارش تعلق اور بدمعاشی سے کیسے طاقت اور دولت کو گھر کی باندی بنایا جاسکتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لاکھوں چاہنے والوں کا آئیڈیل ایک فراڈ اور رانگ نمبر ہے۔

    زرا سوچئے !

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران ریاض خان، قانون کی دھجیاں اڑانے لگے، اسلحہ سے لیس، محافظوں کی فوج،پولیس نے اسلحہ سے پاک مہم کے تحت اسلحہ لائسنس معطل کرنے کی درخواست کی، اٹھارہ لائسنس جو لاہور میں تھے، باقی چکوال مین انکے فارم ہاؤس اور پنڈی میں تھے، عمران ریاض سوشل میڈیا پر عوام کو قانون کی پاسدراری کا درس دیتے ہیں تا ہم اسلحہ کا اتنی بڑی تعداد پر اب انہیں خود تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515879″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515878″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515877″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515876″ /]

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”515875″ /]

  • اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
    کسی موبائل ایپ کو اپنے فون میں انسٹال کرتے وقت کچھ system approvals دینا لازم ہوجاتے ہیں جن کے بغیر ایپ کام نہیں کرتی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ اپنا ڈیٹا کسی بھی انجان شخص یا کمپنی کے سپرد کر دیتے ہیں۔

    آپکے MailBox میں ہزاروں emails ایسے آتے ہیں جن میں کسی بھی ویب سائٹ کے لنکس دئیے گئے ہوتے ہیں، جن پر کلک کے بعد آپکی موبائل فون یا کمپیوٹر کسی سرور سے لنکڈ ہوجاتا ہے اور آپکا ڈیٹا ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔

    ایسے ہی کئی طریقے آپکے ڈیٹا کو ہیکرز کا آسان شکار بنا دیتے ہیں اور آپ انجانے میں اپنی حساس معلومات تک کھو دیتے ہیں۔موبائل فون پرائیویسی کے متعلق بڑھتے خدشات کے باعث تمام صارفین سیکورٹی کے بارے میں کافی محتاط رہتے ہیں تاہم موبائل فون انٹرنیٹ سے connected ہوتے ہی ایسے تمام حملوں کا شکار بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنے موبائل کو ایسے حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
    بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے پیش نظر حکومتی اداروں اور سافٹ وئیر کمپنیوں نے اپنی پالیسیوں کو گاہے بگاہے تبدیل کیا ہے اور پہلے سے زیادہ محفوظ بنایا ہے تاہم ہر صارف کیلئے اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

    1۔ ہمیشہ پلے سٹور اور ایپ سٹور کی ویریفائڈ ایپس ہی انسٹال کریں۔

    2۔ ای۔ میل، ٹیکسٹ میسج یا سوشل میڈیا پر کسی بھی لنک کو کھولنے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ یہ لنک آپکو محفوظ سائٹ تک ہی لے کر جائے گا۔

    3۔ موبائل فون کا سیکورٹی ساوفٹ وئیر آپ ڈیٹ رکھیں۔

    4۔ موبائل پورٹس استعمال کے بعد کھلے نہ رکھیں، موبائل پورٹس میں وائی فائی، بلو ٹوتھ، NFC، شامل ہیں۔ ان کا استعمال کے بغیر آن رہنا ہیکرز کے حملے کو مزید آسان بنا دیتا ہے۔

    5۔ کسی بھی ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر اپنا ڈیٹا دیتے وقت اس بات کی تصدیق کر لیں کہ یہ ایک مستند ویب سائٹ ہے اور آپکا ڈیٹا محفوظ رہے گا۔

    6۔ کریڈٹ کارڈ اور دیگر حساس معلومات استعمال کے بعد ڈیلٹ کر دیں۔

  • بھارت میں  4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    بھارت میں ایک خاتون کے ہاں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے گاؤں شاہ باد میں ایک خاتون نے 4 ہاتھوں اور 4 پیروں والی بچی کو جنم دیا بچی پیٹ سے جڑے دو اضافی ہاتھ اور دو اضافی پیر کے ساتھ پیدا ہوئی ہے جس سے اسپتال کے عملے سمیت خاندان کے افراد ششدر رہ گئے اور بچی کو قدرت کا معجزہ قرار دیا بچی ملک کے شمال میں واقع ہردوئی میں ہفتے کے آخر میں پیدا ہوئی-

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

    بچی کا وزن پیدائش کے وقت 6.5 پونڈ تھا، کی پیدائش بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ریاست اتر پردیش کے شاہ آباد کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ہوئی۔

    تصاویر اور ویڈیوز میں بچے کو دکھایا گیا ہے کہ اس کے پیٹ کے ساتھ بازوؤں اور ٹانگوں کا ایک اضافی جوڑا جڑا ہوا ہے، جس میں پولیمیلیا کا امکان ہے، یہ پیدائشی نقص ہے جس کے نتیجے میں اعضاء کی تعداد معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اضافی اعضا کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی اور اس کی ماں دونوں صحت مند ہیں بچی کو علاج کے لیے لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے-

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ز نے کہا کہ بچی کی اضافی اعضا کے ساتھ پیدائش در اصل جڑواں بچوں کی پیدائش کا کیس لگتا ہے کیونکہ دوسرے بچے کا سر بچی کے معدے سے جڑا ہوا ہے جو ابھی بننا باقی ہے۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    ماں نے کہا کہ ہفتے کے روز دردِ زہ کا سامنا کرنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، اور اس کے فوراً بعد ہی اس نے جنم دیا۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بچے کی پیدائش کی خبر پورے علاقے میں پھیلنے کے بعد بچے کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم ہو گیا، اس بچے کو "قدرت کا معجزہ” قرار دیا گیا۔

    دوسروں نے مشورہ دیا ہے کہ بچہ لکشمی کا اوتار ہو سکتا ہے، دولت، خوش قسمتی، طاقت، خوبصورتی، زرخیزی اور خوشحالی کی ہندو دیوی۔ اس سال کے شروع میں، چار بازوؤں اور ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک اور بچے کو مقامی لوگوں نے بت بنایا تھا جو اس بچے کو خدا کا اوتار مانتے تھے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

  • کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

     

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا۔ پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہے۔ آپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

     

     

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھے۔ اس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔

    دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نے کئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

    ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔

  • یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    یہ ہے بنی گالا کے گینگ کی اصل کہانی ۔ تحریر: نوید شیخ

    اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی بہت سی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پی ٹی آئی کی باقیوں کی نسبت کچھ چینخیں زیادہ نکل رہی ہیں ۔ کیونکہ جو اسکینڈل بشری بی بی یا فرح گوگی یا عثمان بزدار کے زبان زد عام ہیں ۔ اس نے عمران خان کے صادق وامین ہونے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ جب سے گینگ آف بنی گالا سامنے آیا ہے ۔ ان کی وردات اور دیہاڑیاں سامنے آئی ہیں ۔ ماضی کے مسٹر ٹین پرسنٹ ، سسلین مافیا اور گاڈ فادر بہت چھوٹے لگنے لگے ہیں ۔ ‏عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کو اینٹی کرپشن پنجاب نے سرکاری منصوبوں میں رشوت لینے کے الزام میں طلب کر لیا گیا ہے۔بشریٰ بی بی کے بھائی کو سرکاری زمین پرقبضےکے الزام میں اینٹی کرپشن نے طلب کرلیا

    اینٹی کرپشن کی عثمان بزدار کے ماموں کیخلاف تحقیقات

    فرح گوگی کو 10 ایکڑ پلاٹ کی غیرقانونی الاٹمنٹ، 2 افراد گرفتار

    عثمان بزدار کے چار بھائیوں نے اینٹی کرپشن عدالت سے عبوری ضمانت کرالی

    ۔ اب اس کا حل تحریک انصاف نے یہ نکالا ہے کہ سوشل میڈیا اتنا گند اچھالا جائے ۔ مخالفین سمیت کسی ادارے کو نہ چھوڑا جائے ۔ اس کا ایک ثبوت تو ہم بشری بی بی اور ڈاکٹر ارسلان کی لیک آڈیو میں سن ہی چکے ہیں ۔ کہ غداری کا تمغہ بانٹو ۔۔۔ ۔ عمران خان اس ہی فارمولے پر لگے ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا کی مدد سے منٹوں میں سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا بن جائے ۔ مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلنا ۔ کیونکہ ایسے ہی آڈیوز یا ویڈیو منظر عام پر آتی رہیں تو ان کا دفاع ممکن نہیں ہے ۔ اس بشری بی بی والے ایپی سوڈ میں بھی غور کریں تو پہلے کہا گیا کہ یہ فیک ہے ۔ پھر شیریں مزاری نے پوری پریس کانفرنس کرڈالی کہ کسی کا فون ٹیپ کرنا جرم ہے خاص طور پر وزیر اعظم کا ۔ اس سے ایک چیز تو ثابت ہوگئی ہے کہ یہ آڈیو اصلی ہے ۔ اور جو چیزیں مستقبل قریب میں منظر عام پر آنے والی ہیں وہ بھی اوریجنل ہی ہوں گی ۔ پر کیوںکہ دھندہ ہے اب چاہے یہ گندا ہی ہو۔ یہ گینگ ایسے ہی چلتا تو رہے گا ۔ کم ازکم اپنی اپنی جان بچانے کے لیے بشری بی بی ، عثمان بزدار ، فرح گجر اور احسن جمیل کے ایک دوسرے کے ہمدرد ہی رہیں ۔ سب سے بڑھ کر اس گینگ کے سربراہ عمران خان عزت و شہرت کیا ان چیلوں کی جان بچانے کی خاطر پوری پارٹی بھی قربان کرسکتے ہیں ۔

    کیونکہ لالچ ، ہوس ، حرص جب دماغ پر سوار ہوجائیں ، تو کچھ بھی ممکن ہے ؟؟؟

    ۔ اسی لیے یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا رہا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کیوں کی ؟؟؟ کیونکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں یہ بات بہت ہی انہونی معلوم ہوتی ہے کہ ایک عورت جس کے بچے جوان اور وہ اپنے شوہر سے خوش اسلوبی سے طلاق لے اور پھر کسی دوسرے بندے سے شادی کر لے ۔ پر اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔

    ۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ء
    کو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

    ۔ پھر آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ بشریٰ مانیکا نے خاور فرید کو بتایا .مجھے بشارت ہوئی ہے کہ تم خاوند سے طلاق لے کر عمران خان کے ساتھ شادی کر لو۔ شادی کے بعد عمران خان کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ یہ وزیراعظم بن جائیں گے اور پاکستان کا سنہرا دور شروع ہو جائے گا اورخاوند نے پاکستان کے سنہرے دور کےلئے اپنی 30 سالہ رفاقت توڑ دی۔ ۔ پھر وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ خاور فرید مانیکا کا بھی فرمانا ہے کہ ہماری طلاق کی وجہ ناچاقی نہیں تھی کوئی روحانی ایشو تھا۔ ہم اس اعتراف کو خواب یا بشارت کی تصدیق سمجھ سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان نے کیا ترقی کرنی تھی ۔ مانیکا خاندان ، گجر خاندان اور بزدار خاندان کی تمام محرومیاں دور ہوگئی ہیں اور اب عمران خان کا اصل خاندان یہ ہی بشری ، فرح ، بزدار ، گجر اور مانیکا گینگ ہی ہے ۔ کیونکہ آج تک عمران خان نے اپنی علیمہ باجی کو ڈیفنڈ نہیں کیا مگر فرح گجر پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ اور بشری بی بی کی خاطر تو پورا ایک قانون لانے کو تلے بیٹھے تھے ۔ کہ کوئی ان کے بارے بات نہ کرسکے ۔

  • سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    سیاست میں نظریات دفن ہو چکے،تجزیہ، شہزاد قریشی

    گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مجھے پتہ ہے کس طرح یہ سازش ہوئی کون کون سازش میں ملوث ہے ۔ مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو سب کو بے نقاب کر دے گی۔ دیوار سے لگایا تو سب بتا دوں گا۔ خان صاحب شاید کسی آنے والے انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں تادم تحریر وہ ڈراتے ہیں لیکن وہ کس کو ڈرا رہے ہیں یہ پتہ نہیں چل سکا۔ ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی کو دیکھ کر کوئی انقلابی دور دور تک نظر نہیں آتا خان صاحب کے ارد گرد بھی ایسے ہی لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو انقلابی نہیں۔ عمران خان ملک کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں بھٹو کے عدالتی قتل سے لے کر نوازشریف کی وزارت عظمیٰ تک سفرنامے کا مطالعہ کریں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں غور و فکر کریں اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی کریں۔ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتے رہیں۔ صاف و شفاف الیکشن کی صدائیں لگاتے رہیں۔ عوام کے دکھوں کا ذکر کرتے رہا کریں ہر الیکشن میں یہی عوام لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ملکی سیاست میں نظریات دفن ہو چکے نظریاتی سیاست کرنے والے سیاستدان فانی دنیا سے رخصت ہو گئے یقین نہیں آتا تو بھٹو کا عدالتی قتل جو ایک زخم، خلش اور درد بن کر عوام کے دلوں اور دماغوں میں اتر گیا تھا

    پیپلزپارٹی کی رگوں میں طویل عرصے تک دوڑتا رہا آج بھٹو کی میراث پر قابض پارٹی کی قیادت اس سے کسی خاندانی رشتے کی دعویدار تو ہو سکتی ہے بھٹو کی تصویر چھاپ کر اور بھٹو خاندان کی قربانی کے مرثیے پڑھ کر مفادات دولت و طاقت کی اندھی ہوس کے بازار میں بھٹو کے نام کو نیلام کیا جا رہا ہے۔ بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدترین دشمنوں نے بھی کرپشن کا الزام لگانے کی کبھی جرات نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو تین بار اقتدار سے الگ کر دیا گیا خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا طیارہ اغوا اور نہ جانے کون کون سے مقدمات بنائے گئے۔ نوازشریف کی آنکھوں کے سامنے بیٹی کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی کو نااہل کر دیا گیا آج بھی نوازشریف لندن میں اپنے بیٹوں کے پاس ہیں جس طرح بھٹو پر جب زوال آیا تو بڑے بڑے نامور سیاستدانوں نے پذیری ٹولے کی طرح آنکھیں پھیر لیں بھٹو کو اکیلا چھوڑ دیا اسی طرح نوازشریف کی جماعت میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں۔ عمران خان ملکی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں پارلیمنٹ ہائوس کا رخ کریں اپوزیشن کریں اقتدار کے مزے وہ لوٹ چکے اب اپوزیشن کا کردار ادا کریں کے پی کے آزاد کشمیر کے دورے کریں۔ ملک میں معاشی بحران ہے قرضوں پر چل رہا ہے کبھی کبھی آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف بیان دیا کریں۔