Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    رواں سال ملک میں جمہوریت کے لئے فیصلہ کن سال ہے اب یہ جمہوریت کے دعویداروں پر ہے کہ وہ کس طرح جمہوریت کی کشتی جو اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے اس کو بچا پائیں گے یا پھر خود اس کشتی کو ڈبو دیں گے یہ جانتے ہوئے کہ ملک غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا ہے اس کے باوجود آج ایک بار پھر جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک پھر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

    جمہوری عمل کا فقدان ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہےملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے سوال ہے کہ ہر بار جمہوریت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے کیوں؟ آج تک جمہوری عمارت مکمل نہیں ہوسکی ا س پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ہر نئے آنے والے نے عوامی حاکمیت کا نعرہ لگایا کسی نے عوام کی دہلیز پر انصاف پہنچانے کا دعویٰ کیا کوئی کشکول توڑنے کی بات کرتا رہا۔ کوئی قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی اسلامی نفاذ کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی غربت مٹائو کا نام دیتا رہا۔ کوئی روٹی کپڑا مکان کا خواب دکھاتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی رہی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے لب و لہجہ تبدیل ہوتے رہے۔ دعوئوں اور وعدوں کی جگہ مجبور یوں، تکبر اور غرور کی حدوں کو عبور کرتے رہے۔

    آج کا منظر نامہ بھی پرانی سیاسی تاریخ کے منظر نامے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی اکثریت آج بھی مستحکم جمہوری نظام کی تلاش میں ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت کا نعرہ غربت مکائو کا نعرہ چند مہینوں میں ہی بے نقاب ہو گیا تمام خواب قوم کی پلکوں سے پھسل کر زمین پر آگرے یوں محسوس ہوتا ہے چہرے بدلے ہیں کچھ نہیں بدلا۔

    عمران خان کے جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، بھوک افلاس عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر کر دی ہے۔ عمران حکومت اگر عوام کو لولی پاپ دیتی رہی تو یہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کا سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔

    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہےاسےراستہ نہیں مل رہامسلم لیگ (ن) کی موجودہ لیڈر شپ ہو یا پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی۔ ملک اور قوم کے مسائل سے نکالنا ان کے بس کی بات نہیں مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے جو محمد شہبازشریف کے پاس وہ تجربہ نہیں جو نوازشریف کے پاس ہےنوازشریف ستمبر میں وطن واپسی کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

  • بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات

    بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل تعینات تفصیل کے بی ایم پی سوار الطاف حسین لنڈ جو کہ دوران سروس فوت ہو گیا تھا محکمانہ قانون کے مطابق کوئی اہلکار دوران سروس جب فوت ہو جاتا ہے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا یا بیٹی کو قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد تعینات کیا جاتا ہے اسی قانون کے تحت فوت ہونیوالے سوار (کانسٹیبل) الطاف حسین لنڈ کی بیٹی شہنیلا الطاف نے اپنے والد کی خالی ہونے والی سیٹ پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کو درخواست گزاری کہ مجھے میرے والد کی جگہ پر میری تعیناتی کے آرڈر کیے جائیں جس پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک نے قانونی پراسیس مکمل کرنے کے بعد اس کی تعیناتی کے آرڈر جاری کر دئیے اس طرح بارڈر ملٹری پولیس کی تاریخ میں پہلی خاتون کانسٹیبل بھرتی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

  • ٹیکسی ڈرائیور کی ایمانداری کی مثال، مہوش تبسم کی آب بیتی

    ٹیکسی ڈرائیور کی ایمانداری کی مثال، مہوش تبسم کی آب بیتی

    انسان دنیا میں کہیں بھی ہو اسکی پہچان اسکے کردار ، اخلاق سے ہوتی ہے، اچھے انسان کو اچھے الفاظ میں ہی یاد رکھا جاتا ہے . اگرمشکل میں ہوں اور پھر کوئی آپ کی مدد کرنے کو آئے جس کا یقین بھی نہ ہو تو جو دلی دعا دل سے نکلتی ہے وہ ہمیشہ قبول ہوتی ہے، میرا تعلق پاکستان سے ہوں اور آسٹریلیا میں مقیم ہوں، آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں میرے ساتھ ایک ناقابل یقین واقعہ پیش آیا ،میں اپنی سوچ کے مطابق سوچ رہی تھی کیونکہ پاکستانیوں کی سوچ اور کام خواہ وہ کہیں بھی چلے جائیں ایک ہی رہتے ہیں،

    ہوا کچھ یوں کہ آج دوپہر مجھے اپنی بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے کرجانا تھا ، جب میں ہسپتال جا رہی تھی تو موسم بہت خراب تھا تیز بارش اور ہوا چل رہی تھی ، میں نے ٹیکسی بُک کروائی ، ٹیکسی ڈرائیور تقریباً پچاس سے پچپن سال کی عمر کے انکل تھے ، بیٹی کو گود میں دیکھ کے وہ بھاگ کے ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر آئے اور میرے لئے ٹیکسی کا درازہ کھولا اور بیٹھنے میں مدد کی ، ویسے یہ یہاں کا کلچر ہے کہ اگر آپ کے ساتھ چھوٹا بچہ ہے تو ٹیکسی ڈرائیور آپکو بیٹھنے میں مدد کرے گا اور اگر آپ کے پاس بچے کی پرام یا بیگ ہے تو وہ خود اسکو ڈگی میں رکھے گا اور اترتے وقت بھی یہ سب کرے گا۔۔

    خیر میں ڈاکٹر کے کلینک پر پہنچی اور پانچ منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں اپنا موبائل تو میں ٹیکسی میں ہی بھول آئی ہوں۔ میں نے کلینک کے اسٹاف اور ڈاکٹر کے ساتھ اپنی پریشانی شئیر کی اورانہیں بتایا کہ میرا موبائل ٹیکسی میں ہی رہ گیا ہے، جس پر ہسپتال کی انتظامیہ بھی پریشان ہو گئی اور میں یوں محسوس کر رہی تھی کہ موبائل میرا نہیں بلکہ ہسپتال انتظامیہ کا کھو گیا ہے کیونکہ وہ بھی انتہائی فکر مند ہو گئے تھے، انہوں نے میرے موبائل پر کالز کیں، موبائل پر بیل جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا، ہسپتال انتظامیہ نے مجھے تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں موبائل واپس مل جائے گا……لیکن…….میں پاکستانی….اور پاکستان میں کیا ہوتا ہے…..اگر کسی کو موبائل غلطی سے بھی کہیں رہ جائے تو پھر کبھی نہیں ملتا….اور میں پاکستانی ہو کر یہی سوچ رہی تھی کہ اب موبائل کا ملنا مشکل ہے،میں انہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک دیکھا ٹیکسی ڈرائیور کرسٹوفر پیٹرک دوبارہ ہسپتال میں آیا اور میرے پاس آ کر پوچھا کہ تم وہی ہو جس کو چھوڑ کر گیا تھا ، میں نے اثبات میں جواب دے دیا تو فوری مجھے اپنا موبائل فون واپس دے دیا

    ٹیکسی ڈرائیور کے اس اقدام سے مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اور ساتھ میں اسکی ایمانداری سے بھی متاثر ہوئی ، جو میں پاکستانی بن کر سوچ رہی تھی ویسا نہیں ہوا بلکہ میری توقعات کے برعکس مجھے میرا ٹیکسی میں رہ جانے والا موبائل مل گیا. میں دعا کرتی ہوں کہ ہماری پاکستانی قوم بھی ایماندار بن جائے، جب ہماری قوم ایماندار بن جائے گی پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہو گا اور اگر قوم ایماندار نہیں بنے گی تو پھر لٹیرے حکمران ہی مسلط ہوتے رہیں گے،ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے،

  • ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    امریکی خلائی ادارہ ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے نیا طاقتور راکٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے نئے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) نامی نیا میگا راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر پہنچایا جارہا ہے یہ راکٹ وہاں سے 29 اگست کو چاند کے مشن پر بھیجا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    پہلے مشن میں انسانوں کو نہیں بھیجا جائے گا مگر مستقبل کے مشنز میں انسانوں کو 5 دہائیوں کے بعد چاند پر بھیجا جائے گا۔


    یہ نیا راکٹ لگ بھگ 100 میٹر لمبا ہے جسے 16 اگست کی شب (مقامی وقت کے مطابق) لانچ پیڈ کی جانب بھیجا گیا جس کو منزل پر پہنچنے کے لیے 11 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    اس راکٹ سے آرٹیمس 1 نامی مشن کو بھیجا جائے گا تاکہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سسٹم کی آزمائش ہوسکے آرٹیمس 1 کے بغیر انسانوں کے اولین مشن میں ناسا کے اورین اسپیس کرافٹ اور یورپین ایجنسی کے سروس موڈیول کو چاند پر بھیجا جائے گا اس مشن میں اون بھرا کھلونا بھی خلاباز کے طور پر سوار ہوگا۔


    ناسا کو توقع ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 2 مشن کو 2024 تک بھیجا جاسکے گا جس میں خلابازوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا اس کے بعد 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کو بھیجا جائے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں یورپین اسپیس ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ شوان دی شیپ (برطانیہ کا ایک معروف ٹی وی کردار) نئے اسپیس لانچ سسٹم کی پہلی پرواز کا حصہ ہوگی، جس سے آرٹیمس پروگرام کا آغاز ہوگا اسی پروگرام کے تحت آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسانوں کی واپسی ہوگی۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے 3 گردوں کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیابی حاصل کی جو انتقال کرجانے والے افراد نے عطیہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کو توقع ہے کہ اس پیشرفت سے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی میں اضافہ ہوسکے گا، بالخصوص ایسے افراد کے لیے جن کے لیے عطیہ کیے گئے گردوں کے میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

    تحقیق میں شامل پروفیسر مائیک نکلسن اور پی ایچ ڈی۔ طالبہ سیرینا میک ملن نے اس مقصد کے لیے normothermic perfusion machine نامی ڈیوائس کو انسانی گردوں سے منسلک کیا تاکہ اس عضو میں آکسیجن ملے خون کی گردش یقینی ہونے سے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ جاسکے۔

    بعد ازاں خون کو ایک انزائمے کے ساتھ خارج کردیا گیا، یہ انزائمے ایک مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتے ہوئے بلڈ گروپ کا تعین کرنے والے عناصر کو ختم کرکے اسے سب سے عام قسم O ٹائپ میں بدل دیتا ہے۔

    A بلڈ گروپ والے شخص کا گردہ B بلڈ گروپ والے شخص میں ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی دوسرے طریقے سے۔ لیکن خون کی قسم کو یونیورسل O میں تبدیل کرنے سے مزید ٹرانسپلانٹ ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ O کسی بھی بلڈ گروپ والے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    میک ملن نے کہا کہ "ہمارے اعتماد میں واقعی اضافہ ہوا جب انزائمے کے استعمال سے گردوں میں خون کے گروپ کا تعین کرنے والے اینٹی جینز بہت تیزی سے ختم ہوگئے اس کے بعد ہم جانتے تھے کہ یہ عمل ممکن ہے اور پھر ہم نے انسانی گردوں پر اس کی آزمائش کی۔

    ملن نے کہا کہ اس مقصد کے لیے B بلڈ گروپ والے انسانی گردوں میں مشین کا استعمال کرتے ہوئےبی گردوں میں انزائمے کو شامل کیا گیا ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں وہ O قسم میں تبدیل ہو گیا-

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    یہ دریافت نسلی اقلیتی گروہوں کے لوگوں کےلیے خاص طور پراثر انداز ہوسکتی ہے جو اکثر کاکیشین مریضوں کے مقابلے میں ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک سال طویل انتظار کرتے ہیں۔

    اقلیتی برادریوں کے لوگوں کے پاس B قسم کا خون ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور ان آبادیوں کی طرف سے عطیہ کرنے کی موجودہ شرح کم ہونے کے باعث گردے کافی نہیں ہوتے کہ عطیہ کئے جا سکیں 2020/21 میں، اعضاء کےکل عطیات کاصرف 9فیصد سیاہ فام اور اقلیتی نسلی عطیہ دہندگان سے آیا جب کہ سیاہ اور اقلیتی نسلی مریض گردے کی پیوند کاری کی انتظار کی فہرست میں 33 فیصد ہیں۔

    اب کیمبرج ٹیم کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہO گروپ میں منتقل کیے جانے والے گردے کسی مریض کے جسم میں کیسے کام کرتے ہیں-

    پرفیوژن مشین انہیں لوگوں میں ٹیسٹ کرنے سے پہلے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ وہ گردے لے سکتے ہیں جو O قسم میں تبدیل ہو چکے ہیں، مختلف خون کی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے مشین کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ گردہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر سکتا ہے، جس میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کو نقل کیا جا سکتا ہے۔

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    ٹرانسپلانٹ سرجری کے پروفیسر نکلسن نے کہا کہ عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کی جانے والی سب سے بڑی پابندیوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ آپ کے خون کے گروپ کے مطابق ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں پر اینٹی جینز اور مارکر موجود ہیں جو A یا B ہو سکتے ہیں۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔

    "بلڈ گروپ کی درجہ بندی کا تعین نسلی بنیادوں پر بھی کیا جاتا ہے اور نسلی اقلیتی گروہوں میں بی قسم کے نایاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےخون کے گروپ کو یونیورسل O قسم میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کے بعد، ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے طریقے طبی ترتیب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر ٹرانسپلانٹیشن تک لے جایا جاتا ہے۔

    کڈنی ریسرچ یو کے میں ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آئسلنگ میک موہن نے کہا،مائیک اور سرینا جو تحقیق کر رہے ہیں وہ ممکنہ طور پر گیم چینج کرنے والی ہے۔ ٹیم نے اتنے کم وقت میں جو پیشرفت کی ہے اسے دیکھنا ناقابل یقین حد تک متاثر کن ہے۔ ، اور ہم اگلے اقدامات دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    میک موہن نے کہا کہ ایک تنظیم کے طور پر، ہم اس تحقیق کو فنڈ دینے کے لیے پرعزم ہیں جو علاج کو تبدیل کرتی ہے اور صحت کی ناہمواریوں سے نمٹتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلوگ ٹرانسپلانٹ کے لیے زیادہ انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کی قسم کے دستیاب اعضاء کے ساتھ میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے امید کی کرن پیش کرتی ہے جو گردے کے انتظار میں ہیں ۔

    خون کی دوسری اقسام کو دوبارہ متعارف کرانے کی جانچ کرنے کے بعد، کیمبرج ٹیم یہ دیکھے گی کہ طبی ترتیب میں اس نقطہ نظر کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں بہت ترقی کر کے وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔

    مائیک اور سرینا کے کام پر مکمل دستاویز آئندہ مہینوں میں برٹش جرنل آف سرجری میں شائع ہوں گے فی الوقت یہ تحقیق کسی جریدے میں شائع نہیں کی گئی-

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

  • واٹس ایپ کی  ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    کیلیفورنیا: دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ صارفین کے لیے ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اینڈرائیڈ کے لیے جاری کی جانے والی واٹس ایپ بِیٹا اپ ڈیٹس میں زیرِ تکمیل ایک ایسا فیچر پیش کیا ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے غلطی سے ڈیلیٹ کیے گئے میسجز دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان


    بعض اوقات صارفین کو میسج سب کے لیے ڈیلیٹ کرنا ہوتا ہے لیکن غلطی سے صرف اپنے لیے ڈیلیٹ کردیتے ہی جو اپنا پیغام غلطی سے ڈیلیٹ کرنے کے بعد واپس حاصل کرسکتےہیں یہ فیچر چند ایسے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو بیٹا ٹیسٹرز ہیں، اس فیچر پر فی الحال تجربہ کیا جارہا ہے اور اسی وجہ سے اب تک دیگر صارفین کی رسائی ممکن نہیں-

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    اب اس فیچر کے تحت اگر آپ نے مذکورہ میسج ڈیلیٹ فار می کردیا تو اچانک آپ کی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن موصول ہوگا جس میں آپ چند سیکنڈوں کی مہلت پر ’اَن ڈُو‘ کا ٹیب استعمال کرتے ہوئے میسج واپس لا سکیں گے اور آپ اسے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون ‘ کر سکیں گے۔

    اس فیچر کے حصول کیلئے پلے اسٹور میں جاکر واٹس ایپ بیٹا ورژن اپ ڈیٹ کریں، اگر اپ ڈیٹ کے باوجود یہ فیچر آپ کے واٹس ایپ پر نہ آئے تو پریشان نہ ہوں واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر آنے والے چند ہفتوں میں عالمی سطح پر متعارف کرادیا جائے گا۔

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

  • زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : دماغ میں کیمیائی عدم توازن اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں یا تو ضرورت سے زیادہ یا ناکافی کیمیائی میسنجر ہوتے ہیں، جنہیں نیورو ٹرانسمیٹر کہتے ہیں نیورو ٹرانسمیٹر قدرتی کیمیکل ہیں جو آپ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کو آسان بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ مثالوں میں نورپائنفرین اور سیرٹونن شامل ہیں۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ دماغی صحت کی حالتیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب، دماغ میں کیمیائی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ مفروضے کو بعض اوقات کیمیائی عدم توازن کا نظریہ یا کیمیائی عدم توازن نظریہ کہا جاتا ہے۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ کیمیائی عدم توازن تھیوری پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ دماغ میں نیوران کے درمیان بات چیت ڈپریشن کے بنیادی عمل میں ایک کردار ادا کر سکتی ہے تاہم، زیادہ تحقیق بتاتی ہے کہ نیورو ٹرانسمیٹر کا عدم توازن ڈپریشن کا سبب نہیں بنتا۔

    امریکی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب دماغ زیادہ دیر تک متحرک رہتا ہے تو ایسی شکل ڈھال لیتا ہے کہ اسے زیادہ محنت کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے گلوٹامیٹ نامی کیمیکل کی گردش متاثر ہوتی ہے، انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور کام کرنے کی تحریک کھو سکتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں ڈاکٹر میتھیاس پیسیگلیون نے مختلف نظریات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھکاوٹ دماغ کی طرف سے پیدا کیا گیا وہم ہے جو کسی بھی شخص کو کام کرنے سے روک کر اطمینان بخش سرگرمیوں کی طرف مائل کرتا ہے۔

    ایک اور نظریے کے مطابق جس طرح سخت مشقت جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے ایسے ہی ضرورت سے زیادہ سوچنا شدید ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے، جس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

    گلوٹامیٹ ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو دماغ میں حوصلہ افزا افعال کو متحرک رکھتا ہے دماغ کے بھرپور طریقے سے کام کرنے کے لیے جسم میں گلوٹامیٹ ہونا ضروری ہے لیکن یہ صحیح وقت اور صحیح ارتکاز میں ہونا چاہیے۔

    اگر جسم میں نیورو ٹرانسمیٹر کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہ نیورو ٹرانسمیٹر پارکنسنز، الزائمر اور ہنٹنگٹن جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکی ریاست یوٹاہ کی ایئر فورس بیس کے قریب ایک جگہ سے 12 ہزار سال پُرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کورنیل ٹری رِنگ لیبارٹری کے محقق تھامس اربن اور ان کے ساتھی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈیرون ڈیوک نے ان نقوش کی نشاندہی چلتی گاڑی میں کی تھامس اربن نے حال ہی میں نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں قدیم انسانوں کے قدموں کے نقوش کا مطالعہ کیا ہے۔

    تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جب میں نے چلتی گاڑی سے ان نقوش کی نشاندہی کی تب مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ انسانوں کے پیروں کے نشان ہیں تاہم، مجھے یہ علم تھا کہ یہ پیروں کے نشانات ہیں کیوںکہ یہ یکساں فاصلے پر متبادل ترتیب کے ساتھ تھے۔

    ایئر فورس کے بیان کے مطابق محققین کی ٹیم کے مدد سے اربن نے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سے پرنٹ ریکارڈ کرنے کے لیے تکنیک کا تعین کیا جس کے بعد مشاہدہ کیے گئے نشانات سے زیادہ نشانات سامنے آئے۔

    بیان میں تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جس طرح وائٹ سینڈز میں نمی کی موجودگی میں نشانات دِکھتے تھے، یہاں بھی ہم نے ریڈار کی مدد سے کئی ناقابلِ دید نقوش کی نشاندہی کی سب ملا کر ٹیم نے بچوں سے لے کر بڑوں تک 88 نقوشِ پا دریافت کیے سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق قدموں کے یہ نشانات 12 ہزار سال پرانے ہیں۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ زمین پر صرف رنگین دھبوں کی طرح نظر آنے اور. چھوٹے پاپ اپس، ان کے ارد گرد یا ان پر گندگی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے درمیان مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ قدموں کے نشانات کی طرح نظر آتے ہیں ۔

    اس دریافت کے بعد کچھ دنوں تک بہت محتاط کھدائی کی گئی تھی جس میں ڈیوک کبھی کبھی اپنے پیٹ پر پڑا رہتا تھا اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اتنا ہی پرانا تھا جتنا کہ ظاہر ہوتا ہے۔

    ڈیوک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو کچھ پایا وہ لوگوں کے ننگے پاؤں تھے جنہوں نے اتھلے پانی میں قدم رکھا تھا جہاں مٹی کی ایک ذیلی تہہ تھی جس لمحے انہوں نے اپنا پاؤں باہر نکالا، اس میں ریت بھر گئی اور اسے بالکل محفوظ کر لیا۔

    نیواڈا میں مقیم فار ویسٹرن اینتھروپولوجیکل ریسرچ گروپ کے ڈیوک، شوشون کے ذریعہ بنائے گئے کیمپ فائر کے شواہد کی تلاش میں اس علاقے میں تھے، جن کی اولاد اب بھی مغربی ریاستہائے متحدہ میں رہتی ہے۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ اس علاقے کو ایک "کھوئے ہوئے نخلستان” کے طور پر کہتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ دلدل کا علاقہ "آج کے بنجرگراؤنڈ سے” بہت مختلف نظر آتا۔

    انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آج ہمیں عظیم سالٹ لیک اور صحرائی مغرب میں پانی کی کمی کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ علاقہ ماضی کی ایک قریبی مثال کے طور پر کام کرتا ہے کہ چیزیں کس طرح اچانک تبدیل ہو سکتی ہیں۔

    تھامس اربن نے کہا کہ یہ شمالی امریکہ کے رہائشی مقامی لوگ ہیں؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتے تھے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ آج بھی رہتے ہیں،میرے لئے ذاتی طور پر، قدموں کے نشانات تلاش کرنا ایک پیشہ ور اعلیٰ مقام رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک بار جب میں نے… محسوس کیا کہ میں انسانی قدموں کے نشان کھود رہا ہوں، مجھے انگلیاں نظر آ رہی ہیں، میں چیز کو بے عیب حالت میں دیکھ رہا ہو. میں اس سے ایک طرح سے حیران رہ گیا،

  • ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    سان فرانسسکو: ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹمز اس وقت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک میں بھی اس ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بدولت ٹیکسٹ کو اس سے وابستہ تصاویر میں بنانے والی تصاویر اور امیج سازی کا تصور عام ہو رہا ہے ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹم میں لوگ اپنی پسند کی تصویر محض لکھ کرتیارکرسکتے ہیں، بس انہیں مطلوبہ تصویر کے لیے درست ٹیکسٹ تحریر کرنا ہوتا ہے جو اے آئی سسٹم فوٹو میں تبدیل کر دیتا ہے۔

    مختصر ویڈیو شئیرنگ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے حال ہی اے آئی گرین اسکرین کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے محض لکھ کر ایک تصویر بنانا ممکن ہے۔

    ’اے آئی گرین اسکرین‘ نامی یہ فلٹر بہت سے ممالک میں دستیاب ہے۔ ٹک ٹاک نے اسے ایک افیکٹ کا نام دیا ہے۔ اپنے نام کی طرح اگرچہ بننے والی تصویر اتنی اچھی تو نہیں ہوتی لیکن ٹک ٹاکر اسے بیک گراؤنڈ کی صورت میں شامل کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ آڈیو ہو یا ویڈیو ہو، اسے دونوں طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کا یہ اے آئی سسٹم دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ اس طرح کے سسٹمز کے مقابلے میں بہت سادہ ہے اور زیادہ پیچیدہ تصاویر تیار نہیں کرسکتا اب بھی یہ گوگل کے ’امیجن‘ متن سے تصویر کاڑھنے والے سافٹ ویئر سے بہت پیچھے ہیں اسی طرح اوپن اے آئی اور ڈیل ای ٹو بھی اس سے آگے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ایبسٹریکٹ آرٹ کے نمونے بناتا ہےاور تصاویر ڈولتی دکھائی دیتی ہیں اس طرح ٹک ٹاک دیکھنے والے گمان کرتا ہے کہ شاید وہ خوابوں کی تصاویر کی طرح کوئی تصویر دیکھ رہا ہے۔

    اس کے مقابلے میں دیگر ماڈل پر اگر آپ خلانورد لکھیں تو یا پانی میں پھول کی خواہش کریں تو وہ حقیقت سے قریب تر تصاویر بناتا ہے لیکن ٹک ٹاک فلٹر میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل تجزیہ نگاروں نے اسے خاص پسند نہیں کیا ہے لیکن ٹک ٹاک کا جنریٹر بہت تیزی سے تصاویر بناتا ہے جس کا اعتراف ماہرین نے بھی کیا ہے۔

    دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی نے اسے خود سادہ رکھا ہے کیونکہ جدید ماڈلز کے لیےزیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے اور لاگت بھی بڑھ جاتی ہے اسی طرح حقیقی نظر آنے والی تصاویر کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے-

    ٹک ٹاک کے اے گرین اسکرین فیچر سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے مین اسٹریم کا حصہ بن رہی ہے جس کو ابھی 2 سال بھی مکمل نہیں ہوئے مگر اب وہ ٹک ٹاک کے ذریعے کروڑوں افراد تک پہنچ گئی ہے۔

  • آزادی پاکستان  ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    آزادی پاکستان ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    خون کی وہ لکیر جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علیحدہ وطن کا نقشہ کھینچا اور جن کے صدقے میں ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جنھوں نے کچھ کھویا ہوتا ہے یا جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کے جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔

    کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہیے کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔

    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

    ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔

    14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے,پورا سال قوم پرستی فرقہ پرستی اور لیڈر پرستی میں بٹے یہ لوگ آزادی کے دن پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑے گلی گلی نعرے لگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے فرض ادا کر دیا ہمارا کام گاڑی بائیک پہ بیٹھ کر محلے کے دو چکر لگانا اور باجے بجانا تھا بس.جبکہ 14 اگست کو سڑکوں پہ ڈھول تھاپ پہ جشن منانے والو کو آزادی کے وقت کی تصویریں دیکھاٸیں تو ان کو پتہ چلے کہ یہ دن ناچنے کا نہیں بلکہ شکرانے کے نوافل ادا کا دن ہے ،وہ آزادی جس کو ہم نے فراموش کر دیا غور سے دیکهیں ہم نے آزادی کیسے حاصل کی تهی.