Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھانَ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور کے احکامات ہوا میں اڑگئے،برف 50 روپے کلو ہوگئی

    روجھان (ضامن حسین بکھر کی رپورٹ )روجھان میں اشیائے خوردونوش کی قمیت عوام کی پہنچ سے دور برف سے لے کر سبزیاں پھل فروٹ سے لے کر بیف، چکن، مٹن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگے دیہاڑی دار مزدوروں کی یومیہ اجرت سے ان کے بچوں کو روٹی میسر نہیں ہے اس مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے مگر گزشتہ روز راجن پور میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو اشیائے خوردونوش کے ریٹس کی چیکنگ اور سرکاری ریٹس کو برقرار رکھنے کے متعلق ہدایات دیں مگر روجھان میں 6 یوم سے صرف برف کی بات کی جائے تو 50 روپے کلو فروخت کی جا رہی ہے


    مگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے آنکھ موندی ہوئی ہیں اور ذمہ داروں کے کانوں میں روئی بھری ہوئی ہے ہر چیز کے ریٹ روجھان میں مقرر کردہ ریٹس کے برعکس ہیں عوام کو سرکاری مقرر کردہ نرخوں پر عوام کو اشیائے خوردونوش میسر نہیں ذمہ دار صرف فرضی طور پر ایک دو دکانوں پر جا کر فوٹو سیشن کے بعد چلے جاتے ہیں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں کوئی چیک ایند بیلنس نہیں ہے عوام کا کو ئی پرسان حال نہیں ہے چھ روز گزرنے کے بعد باوجود پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صرف برف کی قیمتوں اور برف مافیا کے خلاف کارروائی سے قاصر ہے روجھان کے عوامی سماجی دیہی شہری حلقوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر راجن پور، سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

  • چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال – پولو کو کھیلوں کا بادشاہ یا بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ شاہی کھیل صرف شاہی سواری یعنی گھوڑے پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایا گیا جس میں پولو کے شوقین لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور شندور کے سرد ترین موسم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی خصوصی رپورٹ

  • بھارتی سازشیں

    بھارتی سازشیں

    خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے علاقائی استحکام داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بھارت چین اور پاکستان پر قابو پانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سٹریٹجک مقاصد کی تکمیل کے لیے سری لنکا اور بھوٹان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد، ہندوستان اب مالدیپ کی اسٹریٹجک حمایت کے لیے کوشش کر رہا ہے۔چھوٹا جزیرہ ملک مالدیپ چین اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے پاس کچھ اسٹریٹجک راستے ہیں۔خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے کے بدلے، ہندوستان نے اپنی زمینی افواج کو نیپال میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالدیپ کی موجودہ بھارت نواز حکومت وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا نے بھارتی تجویز کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اگر یہ بھارتی تجویز عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور سٹریٹجک مقابلہ شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاقائی امن پر بھی شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے، تو کسی اور خودمختار ملک میں زمینی افواج کی تعیناتی بین الاقوامی معاہدوں، کنونشنز اور علاقائی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    بدقسمتی سے بھارت سٹریٹجک مقابلے کے لیے کھلے عام ایسا کر رہا ہے جس سے علاقائی امن خطرے میں پڑ رہا ہے۔ مالدیپ کی حکومت میں صرف چند لوگ ہی اس قدم کی حمایت کر رہے ہیں۔دوسری جانب قانون سازوں اور عوام کی اکثریت نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہاں تک کہ مالدیپ کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے حال ہی میں بھوٹان حکومت کے ہندوستانی فوج کو فری ہینڈ دینے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین نے بھی اپنی سیاسی واپسی اور ہندوستان کی جانب سے دھمکیوں کے خلاف ناراضگی کا اعلان کیا ہے۔ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک میں بڑھتے ہوئے ہندوستانی اثر کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ملکی سیاست میں دو سابق اعلیٰ سیاست دانوں کی سرگرمی اور بھارتی جارحانہ انداز کے خلاف بیانات نے بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔مالدیپ کے سیاست دانوں کی جانب سے بھارتی اقدام کی مزاحمت کے اعلان نے بھارتی پالیسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جو پہلے ہی بحر ہند میں چین سے مقابلے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

    مودی-شاہ-دوول کی تینوں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دیگر آپشنز بھی تلاش کر رہے ہیں ۔اسی طرح یہ بھی واضح رہے کہ کئی دہائیوں کے قریبی تعلقات کے باوجود مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین بھارت کے ساتھ تمام دفاعی معاہدوں کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے اپنے جزیرے والے ملک میں اپنے فوجی انفراسٹرکچر میں بہت اضافہ کیا ہے جس کی موجودہ حکومت تردید کرتی ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے ہٹائے جانے والے اور زیر حراست رہنے والے سابق صدر کے مطالبات کو مالدیپ کے عوام نے سراہا ۔ان کی ترقی پسند پارٹی کے اجلاسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت ان کی بیانات کی تائید بھی کی۔ لوگ ان کی پارٹی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ممکنہ بھارتی قبضے کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کرے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ مالدیپ کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی فوج کو اس سال کے آخر تک یہاں سے واپس بلا لیا جائے۔ مالدیپ میں ہندوستانی فوج کی موجودگی دیگر طاقتوں کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی ترغیب دے گی۔اسی طرح مالدیپ بحر ہند میں اپنے اہداف کے حصول میں ہندوستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات، جنہیں اب ایک مضبوط سیاسی آواز مل چکی ہے، اس کے مقاصد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ اگر سابق صدر کو اگلے عام انتخابات میں سیاسی کامیابی ملتی ہے تو یہ بھارتی پالیسی سازوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔اب وہ سازگار پالیسیوں اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مالدیپ کے بھارت نواز سیاست دانوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔اپنے پڑوسیوں جیسے نیپال، بھوٹان اور سری لنکا تک پہنچ کر، بھارت کے اقدامات خطے میں اپنے اسٹریٹجک محور کو بڑھانے کے لیے چین کی نام نہاد سٹرنگ آف پرل حکمت عملی کے مترادف ہیں۔ لیکن بھارت کے ارادے گھناؤنے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کسی دوسرے آزاد/خودمختار ملک میں اپنی فوج پر حملہ یا تعینات نہیں کر سکتا۔ جہاں تک چائنیز سٹرنگ آف پرلز کی حکمت عملی کا تعلق ہے، بیجنگ چھوٹی قوموں کو ان کے اقتصادی ماڈل اور ریاستی انفراسٹرکچر کی ترقی میں مدد کر رہا ہے۔ اس نے انہیں معاشی ترقی کے حصول میں مدد فراہم کی اور انہیں معاشی مدد فراہم کی۔حال ہی میں چین نے سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال کی مدد کی۔

    اسی طرح وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے وسیع تر علاقائی تعاون کا خواہاں ہے۔ چین اور پاکستان دونوں نے خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے علاقائی اور غیر علاقائی طاقتوں کو سی پیک کا حصہ بننے کی پیشکش کی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ CPEC کا واحد مقصد وسیع تر اقتصادی انضمام اور علاقائی تعاون ہے۔ہندوستانی معاملے میں چیزیں مختلف ہیں اور چینی ماڈل کے برعکس ہیں۔ ہندوستان چھوٹی قوموں کی اقتصادی ترقی کے خواہاں نہیں ہے۔ وہ خطے میں مواقع کی تلاش میں ہے جو خالصتاً اس کے سٹریٹجک حریف چین اور پاکستان کو روکنے سے متعلق ہیں۔ لہٰذا، بھارتی عزائم پورے علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں اور بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور مغرب روس کو پیشہ ورانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو انہیں بھارتی جارحانہ اسٹریٹجک ڈیزائن کی مذمت بھی کرنی چاہیے۔ بھارتی جارحانہ اقدامات نیپال کی خودمختاری کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو اس بار آگے آنا چاہیے

    تحریر: ملک ابرار

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    بھارت میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں

    ڈیموگرافک ڈیزائن سے لے کر کشمیر فائلز تک
    مقبوضہ جموں و کشمیر کی مذہبی اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کے ہندوستانی بدنیتی پر مبنی عزائم واضح طور پر واضح ہیں کیونکہ ہندوتوا بی جے پی کی حکومت کشمیری پنڈتوں کے خاندانوں کو کافی انعامات دے کر واپس بحال کر رہی ہے۔ آبادکاری کے لیے جارحانہ دباؤ میں، بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ پانچ سالوں میں کشمیری پنڈتوں کی چھ سو سے زائد جائیدادیں بحال کی ہیں۔

    بھارتی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ IIOJK کے لیے 2008 کے پی ایم بحالی پیکج کے تحت کل چھ ہزار سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ تقریباً 5797 پنڈتوں کو روزگار دیا گیا ہے۔آرٹیکل 35A نے خطے میں آبادیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر ریاستوں کے ہندوستانی شہریوں سمیت بیرونی لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پر آباد ہونے اور دعوی کرنے سے روک دیا ۔2011 میں بھارت کی طرف سے کرائی گئی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی کل 12.5 ملین آبادی میں سے مسلمان 68.31 فیصد اور ہندو 28.43 فیصد ہیں۔ بھارت کا تازہ ترین قدم پاکستان کے اس مستقل موقف کی توثیق ہے کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے پیچھے بڑا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنا تھا۔پہلے دن سے، مودی حکومت نے بالآخر مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل کیا کیونکہ مودی حکومت جانتی تھی کہ وہ حق خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے مودی حکومت نے تقریباً 30 لاکھ کشمیری ڈومیسائل بھارتی شہریوں میں تقسیم کیے ہیں۔

    غیر کشمیریوں اور غیر مسلموں کو مقبوضہ علاقے میں لانا اور آباد کرنا۔ ہندو برادری اکثریت میں ہوگی کیونکہ وہ زیادہ سے زیادہ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے میں لا رہے ہیں۔میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے اندر اور بیرون ملک لوگوں کی ذہنیت بدل گئی ہے۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم ’’کشمیر فائلز‘‘ میں اس فلم کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کو بے بس لوگوں کے طور پر دکھایا گیا تھا اور مسلمانوں کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا۔فلم کی حساس سیاسی نوعیت اور حقائق کی غلط بیانی، جان بوجھ کر غلط بیانی کے الزامات کی وجہ سے بی جے پی حکومت پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔ حکام نے کئی بھارتی ریاستوں میں فلم کے داخلے کو ٹیکس فری کر دیا ، پولیس اور دیگر نے دیکھنے کے لیے وقت دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی اور اے ایف پی کی طرف سے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی متعدد ویڈیوز میں سینما گھروں میں لوگوں کو بدلہ لینے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس فلم کو اپنے سیاسی مخالفین اور ناقدین پر تنقید کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والوں نے ہی کشمیر میں ہندوؤں پر ہونے والے تشدد کے بارے میں حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ فلم نے کشمیری ہندو برادری کو بھی تقسیم کر دیا ہے، کمیونٹی کے ارکان نے فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ یہ اصل حقائق کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ من گھڑت ہے۔اس پروپیگنڈہ مہم کو بی جے پی کی مودی سرکار کی حمایت حاصل تھی تاکہ حقائق کو من گھڑت بنایا جا سکے کیونکہ وادی کشمیر میں اب بھی ہزاروں کشمیری خاندان پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

    حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ معروف صحافی رعنا ایوب کو ایئرپورٹ پر روکا گیا اور بعد میں ان کے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت دی گئی، یہ ایک دانستہ کوشش تھی تاکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سچ بولنے والے صحافی بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر سچ نہ بولیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانوں کے بنیادی حقوق سے جڑی ہوئی ہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں جو ہندوستان میں اب نہیں بلکہ برسوں سے سامنے آرہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لیے میڈیا کے ذریعے بھارتی حکومت کے منصوبہ بند پروپیگنڈے اور ان ہتھکنڈوں جا نوٹس لیں جن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی لانا ہے۔ہندوستان اب ایک جمہوری ملک نہیں رہا بلکہ ایک فاشسٹ حکومت ہے جو آر ایس ایس کی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔

  • حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں  ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کامریڈ میدان جمہوریت میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے اور ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ایک معروف قصہ ہے کہ ایک حاجی صاحب کی دکان کے ساتھ والی کامریڈ صاحب کی دکان خوب چلتی تھی سارا دن رش رہتا اور ساتھ کی دکان والا کامریڈ خوب پیسہ کماتا جس سے حاجی صاحب نے بھی شارٹ کٹ مار کر پیسے حاصل کرنے کا سوچا-

    حاجی صاحب نے بات سن رکھی تھی کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے حاجی صاحب نے بھی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن کامریڈ صاحب کی دکان پر گیا اور بولا کامریڈ صاحب سنا ہے پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے اور میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں سو مجھے اپنے گلے تک رسائی دیجئے-

    کامریڈ نے کہا حاجی صاحب سو بار کیجئے ہم بھی دیکھ لیں گے کہ کامیابی کیسے اور کتنے پیسے والے کی ہوتی ہے حاجی صاحب نے ایک چھوٹا سا سکہ جیب سے نکالا اور گلے میں بنے سکے ڈالنے والے سوراخ کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا مگر فضول کوئی ردعمل نا ہوا اور کامریڈ کا کوئی پیسہ حاجی صاحب کے پیسے کو نا چمٹا –

    خیر حاجی صاحب نے ہمت نا ہاری اور دوبارہ عمل شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کا اپنا سکہ بھی سوراخ سے کامریڈ کے گلے میں گر گیا یہ دیکھ کر کامریڈ نے تالی ماری اور بولا واقعی جناب آپ نے سچ ہی سنا تھا کہ پیسے کو پیسہ ہی کھینچتا ہے مبارک ہو آپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے-

    یہ سن کر حاجی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مارے غصے سے چلانے لگے او نامراد غلط تجربہ ہوا ہے میرا تو اپنا بھی چلا گیا اب میں کیا کروں گا میرے پاس تو یہی ایک سکہ تھا جبکہ تمہارا تو گلا پیسوں سے بھرا ہوا ہے-

    اس بات پر کامریڈ مسکرایا اور بولا حاجی صاحب آپ نے دیہان نہیں دیا کہ زیادہ طاقت کم طاقت کو کھا جاتی ہے اسی طرح زیادہ پیسہ کم پیسوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور میرے گلے میں زیادہ پیسے تھے اور آپ کے پاس محض ایک سکہ آپ نے ایک معمولی طاقت سے میری زیادہ طاقت کو کھینچنے کی کوشش کی تھی اور لالچ میں اپنی طاقت بھی ضائع کروالی اب فرمائیں کہ سکون ہے آپ کو تجربے سے-

    کامریڈ حاجی صاحب سے مخاطب ہوا کہ آپ کو چائیے تھا کہ اس بات کو ذہن نشین رکھتے کہ پیسے کو پیسہ اس صورت کھینچتا ہے جب اس کا استعمال کرکے اس سے کاروبار کیا جائے مگر آپ نے لالچ میں آکر غلط رنگ کو اپنایا سو اب آپ اپنی بھی طاقت کھو بیٹھے ہیں-

    قارئین بلکل اسی حاجی صاحب کی طرح ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بہت سے اسلامی نظریات کا نعرہ لگا کر میدان میں أتی ہیں کارکنان بھی بڑے پرجوش ہوتے ہیں کہ چلو کسی نے اسلام کی بات کی سو اس بار ووٹ ان کا پکا لیکن پھر وہی لالچ اور ہوس کہ جلد شہرت، اقتدار اور کرسی حاصل کرنے کیلئے کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہی حاجی صاحب والا طریقہ اپنا کر اپنی طاقت بھی ضائع کر بیٹھتی ہیں-

    ان کا مقصد ہوتا ہے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی تعریفیں کرکے اپنے کارکنان تک اس جماعت کی حمایت کا پیغام پہنچانا اور بالآخر الیکشن کے بعد اپنے کارکنان بھی اس حاجی صاحب کی طرح کامریڈ کی جماعت میں پھینک چھوڑتی ہیں-

    حالانکہ کہ ہونا تو یہ چائیے کہ اپنی سیاست کی جائے اور آہستہ آہستہ اپنے نظریات کو اپنے کارکنان تک پہنچا کر کارکنان کو اس رنگ میں رنگا جائے اور پھر چند سالوں بعد مطلوبہ اقتداری ہدف حاصل کیا جائے مگر جلد بازی و لالچ میں غلط راستے کا انتخاب کرکے وہ جماعتیں آخر ختم ہی ہو جاتی ہیں اور کارکنان پہلے سے بنی بڑی اور مضبوط جماعت کی آواز بن کر اس کی أواز و نظریات کو بول جاتے ہیں-

  • وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

    وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس
    انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورحکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے،گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے، و زیراعلی پنجاب حمزہ شہبازنے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،انہوں مزیدکہا کہ ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کا حقدار ہے، یاد رہے کہ جام پور میں بس کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ،متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں۔
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میںاکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ گئی کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔

  • جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟