Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    مفادات کے لئے حکمرانی کیوں؟ تحریر. تیمور خٹک

    جب بھی کسی جماعت کی حکومت آتی ہے وہ دوسری جماعت کیلئے ایک نئی اور لمبی فہرست بنا لیتی ہے کہ اس کو کس کس طرح اور کہاں کہاں سے ڈسنا ہے کہ وہ دوبارہ برسرِ اقتدار میں نہ آسکیں اور ہم ہی ہمیشہ کیلئے اس آرام دہ سلطنت کی کرسی پر بیٹھے رہیں جس کرسی کو ہمارے خلفاء راشدین نے اپنے لیے بوجھ اور ذمہ داری سمجھا۔ آج کے حکمران جیسے ہی اقتدار میں آتے یا اقتدار پہ قابض ہونے کے قریب ہوتے ہیں تو پہلے سے ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے ہیں کہ فلاں کو نہیں چھوڑے گے فلاں نے یہ کیا تھا تو اس کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے رکھیں گے ایسے جملے ہر جماعت اپنے اقتدار میں آنے سے پہلے یا اقتدار میں دہراتی ہے اور اسی طرح ان جماعتوں کے چاہنے والوں پر بھی قربان جاؤں جب ان کے نظریات کے حامی کوئی جماعت آتی ہے تو ان کو بڑی خوشی ہوتی کہ اب بڑا مزہ آئے گا اب انکی خیر نہیں ہے پچھلے تمام بدلے اب ان سے لیں گے وغیرہ وغیرہ

    افسوس ان جماعتوں اور ان کے حامی خیالات چاہنے والوں پر، آج اگر وطن عزیز کی نازک حالت کو اگر دیکھا جائے جس میں ہمیں دوست ممالک سے پیسے مانگنے پڑتے ہیں، آئی ایم ایف سے قرضے لینے پڑتے ہیں، ہر دوسری چیز امپورٹ کرنی پڑتی ہے ایسی کوئی چیز اس پیارے وطن عزیز میں نہیں بنائی جاتی جس سے ہمارے خزانے کو سہارا ملا، ہمارا وطن پاکستان ایک زراعتی خطہ جس سے ہم اپنی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کی بھی ضروریات پوری کر سکتے ہیں لیکن بصد افسوس کہ ہم زراعتی خطہ ہونے کے باوجود ہم گندم دھاگہ، چینی، تیل اور دالیں و سبزیاں سمیت چیزوں کو امپورٹ کرتے ہیں اور ان جملہ تمام مسائل کے باوجود ہمارے حکمران ایک دوسرے کے مدمقابل ہے اور ایک دوسرے پر غداری اور طرح طرح کے فتوؤں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، وطن عزیز میں جنگل کا قانون سا ماحول بنا دیا گیا ہے جس میں بغیر کسی تعارف و تحقیق کے کسی پر بھی کوئی فرد جرم ڈال کر اس کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے صرف و صرف اپنی ذاتی انا اور بقا کی خاطر کسی انسانیات کی پرواہ کیے بغیر اس کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے 25 مئی کو جو ہوا تھا جس میں سفید پوش گھروں کی دیواریں پھلانگی گئی، لوگوں کو بغیر کسی تحقیق کے مارا پیٹا گیا اور ان کو صرف اس بنیاد پر ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کا تعلق کسی دوسری جماعت سے تھا اور آج پھر تمام تر وطن عزیز کے مسائل کے باوجود صرف و صرف ایک دوسرے کو نشانہ بنا کر دھمکیاں دی جا رہی ہے کہ فلاں پنجاب میں گھسے گا تو فوراً پکڑا جائے گا تو فلاں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوگا تو وہ کسی جرم میں شامل ہوجائے گا، شہباز گل کا بیان ہماری دفاع کے بارے میں بالکل سو فیصد غلط ہے اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا اس کو جس طرح پکڑا گیا کیا یہ کسی آئینی معاشرے میں ایسا ہوتا ہے؟ ایسے لگتا ہے ہم کسی جنگل میں رہ رہیں جس میں جس کا جی چاہتا ہے وہ دوسرے کو نوچ لیتا ہے اور اپنی بھوک کو میٹا لیتا ہے، نہ کسی کو آئین کی فکر نہ کسی قانون کی بس سب ہی اپنے آپ کو آئین اور قانون سمجھتے ہیں اور قانون کو ہاتھ میں لیے ہر بندہ اپنے اختیار میں اسکی دھجیاں اڑا رہا ہے۔

  • امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رگوں کا مخصوص نظام اگر غیر فعال ہو جائے تو ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور اس سے ملحقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر مرض قابو میں نہ رہے تو ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف اور سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    جریدے سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کی ہیں جن کے مطابق رگوں کا نظام غیر فعال ہونے سے ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں بعدازاں ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے سبب دیگر مختلف سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرِ میڈیسین پروفیسر تھامس جے بیٹسن نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سفید چربی اور ورم خون کی شریانوں کو غیر فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریض قلب، بینائی اور گردوں کے امراض کا سامنا کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درحقیقت خون کی رگیں اور شریانیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

    ذیابیطس کو خون کی شریانوں پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جسم میں براؤن فیٹ کے ذخیرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے اور توانائی کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اس تحقیق کے دوران ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے گئے جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں انسولین کی حساسیت اس وقت بڑھی جب خون کی شریانوں کا وزن کم ہوا اس کے نتیجے میں ان چوہوں میں براؤن فیٹ کی مقدار بڑھ گئی اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہو گیا۔

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں انسولین خون کی شریانوں کو خلیات بھیجنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اس کی مدد سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے براؤن فیٹ کے خلیات بنتے ہیں اس کے مقابلے میں انسولین کی مزاحمت پر یہ عمل الٹا ہو جاتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کے باعث دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    محققین نے کہا ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ذیابیطس سے دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے مگر نتائج سے یہ عمل الٹا محسوس ہوتا ہے مزید تحقیق سے ذیابیطس کے نئے طریقہ علاج کو دریافت کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    حال ہی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی شہر لاس اینجلس میں یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کی ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے –

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں کچن کے سامان اور کھانے کی پیکجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں۔

    تحقیق کے دوران محققین نے 50 لوگوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن میں جگر کا کینسر ظاہر ہوا جبکہ دیگر 50 افراد میں نہیں ہوا، کینسر کے مریضوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا جنہیں کبھی بیماری نہیں ہوئی تھی، ان لوگوں کے خون میں کئی قسم کے کیمیکل پائے گئے جنہیں کینسر ہو گیا۔

    محققین کو یہ بات بھی پتہ چلی کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

    یو ایس سی ٹیم نے پایا کہ PFOS جگر میں گلوکوز میٹابولزم، بائل ایسڈ میٹابولزم اور امینو ایسڈ کو تبدیل کرتا ہے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح سے منسلک ہے زیادہ تر سنگین تخمینے 2030 تک تقریباً تین میں سے ایک امریکی کو اس حالت میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

    ای پی اے نے جون میں ان کیمیکلز کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔ اس نے گھریلو سامان میں ہمیشہ کے لیے کیمیکلز کی قابل قبول سطح کو تیزی سے کم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    نئی رہنمائی کے مطابق، EPA اب پی ایف او اے کے 0.004 حصے فی ٹریلین (ppt) اور PFOS کے 0.02 ppt سے زیادہ پینے کے پانی کی سفارش نہیں کرتا ہے پچھلی رہنمائی میں پی پی ٹی کی زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ رقم 70 تھی، جو امریکہ کی اعلیٰ ماحولیاتی ایجنسی کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

    EPA کے ایڈمنسٹریٹر مائیکل ریگن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘PFAS آلودگی کے فرنٹ لائنز پرموجود لوگ بہت طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ EPA ان کیمیکلز کو ماحول میں داخل ہونے سے روکنے اور متعلقہ خاندانوں کو اس وسیع چیلنج سے بچانے میں مدد کے لیے حکومت کے ایک مکمل طریقہ کار کے حصے کے طور پر جارحانہ کارروائی کر رہا ہے۔’

    ماہرین طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ کیمیکل بہت سی گھریلو مصنوعات پر موجود تھے، لیکن ان کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک کہ وہ قابل قبول سطح سے نیچے تھےEPA اب کہتا ہے کہ پچھلی قابل قبول سطحیں بہت زیادہ تھیں، اور ان میں نمایاں کمی آئی-

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی  امان اچ رکھے

    آ میڈا بھٹو بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے

    مجھے شروع سے ناول پڑھنا بے حد پسند تھا کیونکہ میری دلچسپی محض قصہ کہانیوں تک محدود تھی لیکن پھر مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کتابیں تو ویسے بھی پڑھتی ہیں لیکن آپ کی سوچ صرف فروئی قصہ کہانیوں تک ہی محدود ہے لہذا آپ سیاست کو پڑھیں اسکے جواب میں میں نے انہیں کہا "آپ مجھے کچھ ایسی کتابیں بھجوا سکتے جو کسی دلچسپ اور بہادر انسان کے بارے میں لکھی گئیں ہوں” پس انہوں نے مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں لکھی گئی متعدد کتابیں بھیج دیں، یقین مانیں یہ کتابیں اتنی دلچسپ تھی کہ ان کے سحر میں میں ڈوبتی چلی گئی اور یوں مجھے سیاست کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا ہوگئی بہرحال آج میں قارئین کی نظر ذولفقارعلی بھٹو کا ایک دلچسپ واقعہ پیش کرنا چاہتی ہوں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی اور اس وقت کے ممبر قومی اسمبلی قیوم نظامی اپنی کتاب "جو دیکھا جو سنا” میں الطاف حسین قریشی کی زبانی غریبوں اور بے بس لوگوں سے بھٹو کی محبت کا ایک واقعہ جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے بیان کرتے ہیں.
    یہ تقریبا 1975 کے موسم سرما کی بات ہے، جب وفاقی حکومت کے ایک آفیسر الطاف حسین اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔

    جس بنگلے میں الطاف کو ٹھہرایا گیا تھا اس کے ساتھ والا بنگلہ کمشنر ہاؤس تھا، الطاف روزانہ صبح سویرے مختلف علاقوں کے دورے پر نکل جایا کرتے تھے اور شام کو واپس آجاتے لیکن ایک شام جب وہ رہایش گاہ پر واپس آیا اور رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے سے بنگلہ کے گیٹ تک چہل قدمی کر رہے تھے تو رات نو بجے کے قریب ہوٹر کی آواز سنی، چوکیدار سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وزیراعظم بھٹو دورے پر آج ہی آئے ہیں اور وہ کمشنر ہاؤس میں قیام پذیر ہیں لہذا اس وقت وہ کسی سرکاری عشائیہ سے واپس آ رہے ہیں۔

    1044277

    الطاف حسین کہتے ہیں کہ: میں گیٹ پر کھڑا ہوگیا اور چند لمحوں میں وزیراعظم کی گاڑی گیٹ کے قریب پہنچ گئی چونکہ گاڑی کو ساتھ والے گیٹ کے اندر جانا تھا اس لیے اس کی رفتار بھی بہت کم تھی لہذا گاڑی جب میرے قریب سے گزری تو میں نے ویسے ہی ہاتھ ہلا دیا حالانکہ یہ جانتے ہوئے کہ اتنا اندھیرا ہے بھلا اس میں وزیراعظم مجھ پر کہاں توجہ دیں گے لیکن مجھے حیرت تب ہوئی جب وہ گاڑی گیٹ پر ہی رک گئی اور ان کا ملٹری سیکرٹری گاڑی سے اتر کر میری طرف قدم اٹھانے لگا۔

    الطاف حسین مزید کہتے ہیں کہ: میرے قریب ٹہرے جونیئر افسر یہ دیکھ کر خوف زدہ ہوگئے اور بھاگ کر اندر چلے گئے بہرحال ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اور پوچھا "آپ الطاف قریشی ہیں؟” میرے اقرار پر کہنے لگا "آپ کو وزیراعظم صاحب بلا رہے ہیں ” لہذا میں ان کے ساتھ گاڑی کے پاس گیا تو ڈرائیور نے پچھلا دروازہ کھولا اور کہا "آو بیٹھو ” مجھے بھٹو صاحب کی آواز آئی لہذا میں سلام کرکے بیٹھ گیا۔

    گاڑی کمشنر ہاوس میں داخل ہوئی بھٹو نیچے اترے اور مجھے ساتھ لے کر کمرے میں چلے گئے، اور بیٹھتے ہی پوچھا "یہاں کیسے؟” میں نے بتایا تو پوچھا "کیا دیکھا؟” میں نے جوابا عرض کیا "غربت، افلاس اور انتظامیہ کی بے حسی ” کچھ لمحے وہ مجھے گھورتے رہے اور پھر سب کو کمرے سے باہر نکال کر مجھے کہنے لگے صبح پونے آٹھ بجے آ جاو اور ہم آٹھ بجے یہاں سے نکلیں گے اور تم جہاں چاہو مجھے لے کر جاؤ اور وہ سب کچھ دکھاؤلیکن کسی سے یہ بات مت کرنا تاکہ کسی کو اس پروگرام کا علم نہ ہو، میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

    الطاف قریشی کے مطابق: میں نے بھٹو سے پوچھا اندھیرے میں آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟ جبکہ ہمیں ملے ہوئے دو سال ہو گئے تو بھٹو کہنے لگے کہ اوے تو تو مجھے جانتا ہے نا کے میں اپنے ساتھیوں کو قبر کے اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں۔ اور پھر کہا چل اب جاؤ صبح سویر آ جانا اور کسی کو علم نہیں ہونا چاہئے. میں جی سر کہتے ہوئے بھٹو صاحب سے ہاتھ ملا کر باہر آ نا چاہا تو بھٹو صاحب نے ملٹری سیکرٹری سے اس دوران کہا کہ یہ الطاف صبح پونے آٹھ بجے آئے گا اور ہم ناشتہ ایک ساتھ کریں گے۔ میں باہر نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ میں بہت اہم آدمی ہو چکا ہوں کیونکہ ہر کوئی مجھ سے پوچھنے لگا وزیر اعظم سے کیا باتیں ہوئیں؟ نصراللہ خٹک اس وقت وزیر اعلی سرحد تھے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ بس یونہی میری اور میرے بچوں کی خیر خیریت پوچھ رہے تھے وہ مطمئن نہ ہوئے، لیکن میں جان چھڑا کر ساتھ والی کوٹھی میں آ گیا جہاں میرا قیام تھا۔

    الطاف کے مطابق: اگلے دن میں پونے آٹھ بجے کمشنر ہاؤس ڈیرہ پہنچ گیا، وہاں بھٹو نے مجھے اندر بلوایا وہاں وزیر اعلی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے تمام بڑے بڑے انتظامی افسر موجود تھے، بھٹو نے ساتھ بٹھا کر ناشتہ کیا ان کا ناشتہ جوس کا ایک گلاس، آدھا انڈہ اور ایک سلائس کے ساتھ کپ چائے تھا۔

    سوا آٹھ بجے اٹھے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس وہ ہمیں لے کر باہر نکلے اور ایک بڑی جیپ میں پیچھے بیٹھ گئے۔مجھے ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دیا اور انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ صرف اور صرف میری یعنی الطاف حسین کی ہدایت پر عمل کرے اور اسی طرف جائے جس طرف میں جانے کو کہوں جبکہ سکواڈ کو بھول جائے۔ لہذا میں نے سوچ کر فیصلہ کیا اور یوں ہم ٹانک کی طرف روانہ ہوگئے اب تو مجھے معلوم نہیں لیکن سن 1975 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک تقریبا کوئی پانچ یا سات میل دور سڑک کے دونوں طرف ایسے ریتلے میدان جیسے کوئی صحرا ہو ۔

    الطاف حسین کہتے ہیں: میں نے دیکھا شہر سے تقریبا پندرہ میل دور داہنے ہاتھ، ریتلے میدان میں ایک جھونپڑی نظردکھائی دی لہذا میں نے گاڑی رکوائی اور پھر ہم سب نیچے اترے اور ریت میں چلتے ہوئے اس جھونپڑی کی طرف روانہ ہوگئے، آگے آگے بھٹو ان سے دو قدم پیچھے میں اور پھر باقی لوگ تھے۔

    ہم جھونپڑی کے باہر پہنچے تو وہاں ریت پر لکڑیاں جلائے اوپر ٹین کا بڑا سا توا رکھے ایک بوڑھی خاتون روٹیاں پکا رہی تھی اس نے اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشانی میں چلا اٹھی ، میں نے آگے بڑھ کر اسے بتایا کہ اماں ” وزیراعظم آئے ہیں ” اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے پھر کہا کہ اماں ” بادشاہ بھٹو آئے ہیں "اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا کہ کون آیا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا کہ” اماں! بادشاہ بھٹو آئے ہیں”وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور بھٹو صاحب نے آگے بڑھ کر اس میلی کچیلی اماں کو گلے لگا لیا۔

    الطاف کہتے ہیں کہ: میں نے وزیر اعظم بھٹو کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، آ میڈا "بادشاہ رب تیکوں اپڑی امان اچ رکھے ” (اردو ترجمہ: آو میرے بادشاہ رب آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) اس نے ڈیرے وال یا سرائیکی زبان میں کہا۔

    بھٹو نے آس پاس دیکھا اور اماں سے سرائیکی زبان میں کہا "اماں بکھ لگی ہے،” روٹی ڈے سیں ؟ ( ماں بھوک لگی ہے، روٹی دوگی؟) اس نے جواب دیا: "ہا میڈا سائیں میڈا پتر ” ( جی ہاں میرا بیٹا) پھر اماں روتے ہوئے بھاگ کر اندر گئی اور میلی کچیلی چٹائی لائی اور وزیر اعظم بھٹو کو ریت پر بیٹھنے کو کہہ کردوبارہ اندر گئی اور ایک کالی سلور کی دیگچی اٹھا لائی اور اسے چولہے پر رکھ دیا، پھر سلور کی ہی پیالی میں ساگ نما چیز ڈالی اور "میڈے کول ایہو کجھ ہے سائیں” (میرے پاس یہی کچھ ہے) کہتے ہوئے چنگیر میں پڑی روٹی اور وہ سالن بھٹو کے آگے رکھ دیا۔

    بھٹو نے اماں سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون رہتا ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو اور بارہ سالہ پوتا رہتا ہے، بیٹا مزدوری کرنے ڈیرے گیا ہوا ہے، بہو پانی لینے چارکوسوں دور گئی ہوئی اور پوتا ایندھن کے لیے لکڑیاں چننے گیا ہوا۔

    بھٹو صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالا تو ان کے آنسو نکل آئے سرکاری فوٹوگرافر تصویر لینے لگا تو وزیر اعظم نے کہا ” اگر اس روٹی میں ملی ہوئی ریت کی تصویر آ سکتی ہے تو میری تصویر کھینچو”۔ انہوں نے چار پانچ نوالے لیے اور پھر گھور کر نصراللہ خٹک اور دوسرے وزراء سمیت سرکاری افسروں کو انتہائی درشتی سے کہا ” آو ذرا کھا کر دکھاؤ یہ روٹی اور پھر کہا "میرے لوگوں کو روٹی نہیں ملتی اور ملتی ہے تو صرف ریت والی لہذا تم شرم کرو، خدا کا خوف کرو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟ ظالموں کچھ تو حیا کرو، جو آتا ہے خود کھا جاتے ہو، ارے کھاؤ لیکن کچھ تو ان کو بھی دو۔

    بھٹو صاحب نے اس اماں کوایک بار پھر گلے لگایا، جیب میں جو کچھ تھا نکال کر اسے یہ کہہ کر دے دیا کہ اپنے پوتے کو میری طرف سے دے دینا اور اسے سکول بھیجو تاکہ وہ ایک دن بڑا آدمی بنے، پھر وزیر اعلی کو کچھ ہدایات دیں اور ہم لوگ وہاں سے واپس چل دیئے۔

    امید ہے کہ قارئین کو بھٹو کی ایک بوڑھی ماں سے ملاقات کی یہ مختصر کہانی پسند آئی ہوگی لہذا آج بھی ہمیں ایک ایسے رہنماء کی ضرورت ہے جو غریب اور عام عوام سے دکھاوے کی ہمدردی نہ رکھتا ہو بلکہ دل سے صرف اور صرف عام عوام سے مخلص ہو.

  • دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک ایسا پرندہ دریافت ہوا ہے جس کے زہریلے ہونے کی سائنسی تصدیق ہوچکی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاپوا نیوگنی اور انڈونیشیا جزائر پر عام پائے جانے والے پرندے کا پورا نام ’ہوڈڈ پیٹوہوئی‘ ہے جو واحد زہریلا پرندہ قرار پایا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1990 میں اس کا زہریلا پن سامنے آیا تھا۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    پرندوں کے ایک ماہر، جیک ڈمبیشر بحرالکاہل کے جزائر میں تحقیق پر تھے کہ انہوں نے کچھ پرندوں کو پکڑنے کے لیے جال لگایا تو اس میں پیٹوہوئی بھی گرفت میں آگیا پرندے نے ان کی انگلی پر کاٹ لیا جیک نے اپنی زخمی انگلی کو سکون دینے کے لیے منہ میں ڈالی تو ان کی زبان اور ہونٹ کی حس ختم ہوگئی اور انگلی بھی سن ہوگئی یہ کیفیت کئی گھںٹے تک جاری رہی۔

    جیک کو خیال آیا کہ یہ سب پرندے کی وجہ سے ہوا ہے اور انہوں نے پرندے کا ایک پر توڑ کر منہ میں رکھا تو درد اور سُن ہونے کا عمل لوٹ آیا جیک کو خیال آیا کہ شاید انہوں نے پرندوں کی دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت کرلیا ہے-

    بعد ازاں سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو سب نے پرندے کو چھونے پر تکلیف اور جلن کا احساس کیا۔ مقامی افراد سے پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ’کچرا پرندہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا گوشت بھی بدبو بھرا ہوتا ہے۔

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    اس کے بعد سائنسی تجزیہ کیا گیا تو پیٹوہوئی کے پروں سے زہر دریافت ہوا اس میں بیٹراکوٹوکسن (بی ٹی ایکس) نامی نیوروٹاکسن دریافت ہوا جو اعصاب میں سوڈیم آئن کے بہاؤ کو روکتا ہے یہاں تک کہ بی ٹی ایکس دل کی دھڑکن روک کر موت کی وجہ بن سکتا ہےاس کے بعد پیٹوہوئی کی جلد میں بھی زہر کی ہلکی مقدار دریافت ہوئی لیکن اس کا خود پرندے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    یہ پرندے ایک طرح کے زہریلے بھنورے کھاتے ہیں اور وہیں سے زہر ان تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس پرندے کو زہر سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا تاہم خیال ہے کہ اس طرح پرندہ کیڑے مکوڑوں اور جووں سے دور رہتا ہے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

  • جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    شیخ رشید راولپنڈی کی سیاست کی رونق ہیں لال حویلی سے کئی مرد و زن نے سیاست سیکھی ہے 1980 کے دور سے شروع ہوجاؤں تو کئی راولپنڈی کے سیاسی چہرے میرے سامنے آجاتے ہیں لال حویلی لال حویلی نہیں سیاسی مکتب گاہ کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاک فوج اور عدلیہ کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ان کے اس بیان سے سیاسی جماعتوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے۔ پاک فوج اور اس سے جڑے قومی سلامتی کے ادارے اور عدلیہ متنازع نہیں سیاستدان متنازع ہورہے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ کی حمایت ریاست کی حمایت ہے قومی خود مختاری وطن عزیز کی سالمیت کی حمایت ہے۔ قوم اپنے جوانوں کو کیسے بھلا سکتی ہے جو اپنے گھروں سے دور ہمارے گھروں کے راستے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے کرتے ان کا راستہ روکتے روکتے رزق خاک ہوگئے۔ یہ جوان قوم کا غرور ہیں اپنے اداروں پر قوم غرور کرتی ہے۔

    ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے انہیں جانیں نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں بیان کرنا چاہیں تو ان کے لئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کررہی ہیں قوم کو نفسانفسی میں ڈال کر ملکی اداروں کے خلاف سازش کررہی ہیں انہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس منصوبے میں کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ کئی افراد شامل ہوگئے ہیں۔ منصوبہ ساز یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ پاکستان نہ تو عراق ہے نہ لیبیا نہ شام نہ افغانستان ملک کے بعض سیاستدانوں کا گورکھ دھندہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تاہم جن کو آتا ہے انہیں خوب آتا ہے ایک طرف مکار اور چالاک دشمن نے اپنے تمام محاذ وطن عزیز کے خلاف کھول رکھے ہیں دوسری طرف اندرون ملک میں انتشار کی سیاست کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہ وش کریں خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جارہے ہیں۔

    سیاستدان جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ملکی اداروں ملکی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ اور کمزور کرنے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس جشن آزادی پر عہد کریں کہ وطن عزیز کو معاشی دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    تیسری وآخری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    واضح رہے کہ مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔افغانستان پر حملے کے وقت مبینہ طور پر بہت سے القاعدہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں شروع میں ہی داخل ہونے سے روکا جاتا کیونکہ پھر انہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرناپڑا، جس کی زد میں سویلین عوام بھی آئے۔ ان آپریشنز کا سلسلہ 2004میں شمالی وزیرستان سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نمودار ہونے والے نئے چیلنج نے ان آپریشنز کو سوات، دیر اور بونیر تک پھیلادیا۔ اس جنگ نے پاکستان کے پرامن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کیا ۔جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بیگناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور مردوخواتین اپاہج ہوئے۔جنرل مشرف کے حکم پر 26اگست 2006کوڈیرہ بگٹی میں ایک غار پر میزائل حملے میں اکبر بگٹی کو ماردیاگیا۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سربراہ نے طلبہ کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر ابھارا تھا اور اس کا سد باب لازمی تھی لیکن پہلے تو لال مسجد میں اسلحہ بھرا جاتا رہا اور یہ سکیورٹی کی سطح پر بڑی ناکامی ہی تھی کہ اس مدرسے میں اتنا اسلحہ جمع کر لیا گیا کہ کئی دن تک فوج کا آپریشن جاری رہا تب جا کر لال مسجد clear ہو سکی۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعےحل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور لال مسجد میں اسلحے کو بلا روک ٹوک جمع ہونے دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مغرب کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔ 28جولائی 2007 کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں150 افرادکو موت کی نیند سلادیاگیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ)سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی محترمہ بے نظیربھٹو دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔27دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آبادجا رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراََ بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ ان کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
    2018کے عام انتخابات میں سابق کرکٹرعمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اس طرح 17اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 10 اپریل 2022 تک بطور وزیراعظم رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے عدم اعتمادکی کامیابی پرعمران خان کووزیراعظم ہائوس سے نکلناپڑا ۔ درحقیقت دو دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر میں انہوں نے لچک دکھانے، عہد کی پاسداری کرنے یا اصولوں کی پیروی کرنے کے فن کو کبھی نہیں سیکھا۔ وہ عمدگی کے ساتھ اکسانے والے، مقبول بیانئے کو قائم کرنے اور عوام کے خوابوں کی پہچان رکھنے کے ماہر تو رہے تاہم ان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہ تھی۔ 2018 میں ان کی اقتدار میں آمد کرپشن، نوجوانوں میں بیروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دنوں میں معیشت کی بحالی کے بلند بانگ وعدوں سے مامور تھی۔ بدقسمتی سے ناقص حکمرانی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔
    آخر کارعمران خان کو اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ وہ معاشی چیلنجزکا مقابلہ نہ کرسکے ،عوام کو مہنگائی کے سونامی کے سپردکردیا،ہوشربامہنگائی نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل دیا، اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے رہے۔عمران خان حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ، داخلی و بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں اور آئی ایم ایف کے معاشی بیل آٹ پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ۔ آخر میں اپنی حکومت کے خلاف خاص کر گنجان آباد اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں پائی جانے والی ناراضگی کا رخ موڑنے کے لیے عمران خان نے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی بائیڈن حکومت نے ملک میں انتقال اقتدار کے لیے پاکستان کی حزب اختلاف سے مل کر سازش کی ہے اورنیاپاکستان بنانے کیلئے اورنعرے کااضافہ کیا”کیاہم غلام ہیں۔۔؟”عوام کواس نعرے سے مسلسل بیوقوف بنارہاہے جبکہ درپردہ امریکہ سے اپنے معاملات طے کررہاہے رواں ماہ جس کی جھلک خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمود خان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعلی محمود خان نے امریکی سفیر کو صوبے کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں کے پی حکومت سے تعاون اور اشتراک پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔محمود خان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس ملاقات سے قبل امریکی سفیر نے محکمہ صحت کے پی کو یو ایس ایڈ کے تحت 36ہیلتھ وہیکلز حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ وہیکلز فراہمی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان نے امریکی سفیرسے گاڑیاں لیکر عمران کے بیانیہ کیاہم امریکہ کے غلام ہیں کواُڑاکررکھ دیاہے ۔اس ملاقات نے رجیم چینج کے غبارے سے بھی ہوانکال دی ہے۔عمران خان ہروقت اپنے مخالفین کوچورچورکہنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسی چورچورکے شورمیں الیکشن کمیشن کاممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ بھی آگیا ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوچکاہے، پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014میں دائر کیاتھا،الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ برس بعد سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے 21جون کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے جبکہ 8 اکانٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکانٹس پوشیدہ رکھے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط ڈکلیئریشن جمع کرایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکائونٹس چھپائے، بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے،13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008سے 2013تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے جبکہ ان کے پاس فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔
    اب وفاق میں سابقہ اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کی حکومت ہے جس کے وزیراعظم میاں محمدشہباشریف ہیں جوابھی تک عوام کوکچھ ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ضروریات زندگی کی تمام اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہرہوچکے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی،گھی ،دالیں ،سبزیاں،آٹااورادویات اتنامہنگی ہوچکی ہیں کہ دیہاڑی دارمزدورسے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیاگیاہے۔1947سے 2022تک اس مملکت پاکستان کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے گئے۔ کرپشن دھونس دھاندلی اوربے ایمانی نے قائداعظم کے پاکستان کی معیشت کوتباہ و بربادکردیا ہے ،ایوب خان کے دورمیں 20گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں لیکن اب ان کی تعداد22ہوچکی ہے،ان کرپٹ خاندانوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اتنامقروض ہوچکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،پاکستان پر جتنابھی قرض ہے وہ کسی عام پاکستانی نے نہیں لیااورنہ ہی کوئی کرپشن کی ہے اورنہ ہی قرض لی گئی رقم عام پاکستانی پر خرچ کی گئی ، قرض لی گئی تمام رقوم یہ22خاندان مختلف حیلوں بہانوں سے ہڑپ کرتے آرہے ہیں ۔یہ سب ڈاکولٹیرے حکمران جنہوں نے پاکستان کی ہرایک چیز بیچ کھائی ہے ،ان لوگوں کی دولت میں روزبروزاضافہ ہورہالیکن میراملک پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ میں دبتاجارہاہے ،یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جن کے بارے میں میرے قائد حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاتھاکہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔(ختم شد)

  • کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ہوائی کے شہر موناکیہ میں نصب جیمنی نارتھ دوربین نے ایسی دو کہکشاؤں کی تصویر جاری کی ہے جو ایک دوسرے سے جڑنے کے عمل سے گزر رہی ہیں اور ایک کائناتی تتلی کا گمان دیتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :ہوائی میں جیمنی نارتھ دوربین کے ماہرین فلکیات نے ایک شاندار تصویر جاری کی ہے جس میں دو سرپل کہکشائیں آپس میں ٹکرانے اور ضم ہونے کے عمل میں دکھاتی ہیں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو کہکشائیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں –

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آپس میں ٹکرانے والی کہکشائیں NGC 4568 اور NGC 4567 جنہیں تتلی کہکشائیں بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی دوہری شکل کی وجہ سے ان کے تعامل کا سبب بنتا ہے کنیا کے جھرمٹ میں زمین سے 60 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور ارد گرد ایک بالکل نئی بیضوی کہکشاں بنائیں گی۔ 500 ملین سال، NOIRLab کے ایک بیان کے مطابق، جو Gemini North telescope کو چلاتا ہے۔

    نئی تصویر سائنسدانوں کو ایک ‘چپکے سے پیش نظارہ’ دیتی ہے کہ تقریبا 5 بلین سالوں میں کیا ہوگا جب ہماری کہکشاں، آکاشگنگا، اپنے قریبی بڑے پڑوسی، اینڈرومیڈا کہکشاں سے ٹکرائے گی۔ یہ تصادم ہر کہکشاں کو ایک بڑا میک اوور دے گا، اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر سورج اور نظام شمسی کو نتیجے میں آنے والی کہکشاں کے ایک مختلف خطے میں اڑائے گا۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ سالوں میں یہ آپس میں ضم ہوجائیں گی یہ دونوں کہکشائیں 50 کروڑ سال میں اپنے کائناتی نظام کو مکمل کرکے ایک ہی کہکشاں کی شکل اختیار کر لیں گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کہکشاں کی اس جوڑی کا دوسرا نام تتلی کہکشائیں بھی رکھا گیا ہے، سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی وجہ سے ان دونوں کہکشاوں نے ابھی آپس میں ٹکرانا شروع کردیا ہے۔

    اس ابتدائی مرحلے میں دونوں کہکشاؤں کا مرکز اس وقت 20,000 نوری سال کے فاصلے پرہے اور ہر کہکشاں نے اپنی پن وہیل کی شکل برقرار رکھی ہوئی ہے-

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    11 اگست 2022 جمعرات کو اس سال کا بڑا چاند ’سپرمون‘ آخری بار دیکھا جا سکے گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نےکہا ہے کہ رواں سال کے آخری سُپر مون کا ظاہری حجم تقریبا 8 اوراوسط روشنی 16 فیصد زیادہ ہوگی-

    امسال ریکارڈ کیا گیا جولائی اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا،اقوام متحدہ

    سپرمون آج بروز جمعرات 11 اگست کو سورج غروب ہوتے ہی جنوب مشرق کے افق پر چمکتا ہوا نظر آئے گا بظاہر زحل سیارے سے دائیں جانب واقع ہو گا اس کا رخ آدھی رات کے بعد جنوب کی طرف ہوگا اور آسمان پر انتہائی بلندی تک پہنچا ہوا ہوگا بعد ازاں جمعے کی صبح 12 اگست کو مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجکر 35 منٹ پر مکمل ہو جائے گا اس وقت سورج کی طرف سے یہ 180 ڈگری کے زاویے پر ہوگا۔

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    انہوں نے بتایا کہ آنے والی راتوں کے دوران چاند ہر روز تقریبا ایک گھنٹے تاخیر سے نمودار ہوگا اور کچھ روز بعد صرف صبح سویرے اسے دیکھا جا سکے گا۔ جمعرات کو بڑا چاند اس سال چوتھی اور آخری بار نظر آئے گا۔

    واضح رہے کہ ’سپر مون‘ مکمل چاند کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند کے مرکز اور زمین کے مرکز کے درمیان 362146 کلو میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ.سابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کیایاد رہے کہ عمران خان کے دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفو لیب بذات خود ایک ادارہ ہے جو فیک خبروں کے نیٹ ورک کو ایکسپوز کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر2019 میں ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ریسرچ گروپ ‘ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا.