Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    واٹس ایپ نے میسجز کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا

    دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کی سہولت کے لئے مزید نئے فیچر پر کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : میٹا کی زیرملکیت واٹس ایپ دنیا کا مقبول ترین میسنجر ہے جس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہلوت اور فرمائشوں پر آئے دن نت نئے فیچرز متعارف کراتی ہے اور اب اس بار ایپلیکیشن نے اپنے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون (Delete for everyone)’ کے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔


    واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب چیٹ میں بھیجے گئے پیغامات کو ڈیلیٹ کرنے کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے یعنی اب میسجز ڈیلیٹ کرنے کی وقت کی حد 2 دن اور 12 گھنٹے ہوگی، یعنی دو دن بعد بھی آپ بھیجے گئے میسجز ڈیلیٹ کرسکیں گے جبکہ اپ ڈیٹ سے قبل واٹس ایپ کے میسجز میں ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی حد 1 گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تھی –

    رپورٹ کے مطابق یہ اپ ڈیٹ فی الحال کچھ بِیٹا صارفین کے لیے جاری کی گئی ہے، جب کہ آہستہ آہستہ اس فیچر تک تمام صارفین کی رسائی ممکن ہوگی۔


    اس کے علاوہ واٹس ایپ ڈیلیٹ فار ایوری ون فیچر کی مزید بہتری کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو مستقبل میں گروپس میں کسی بھی پیغام کو حذف کرنے کے اہل ہوں گے۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں گروپس چیٹ کے حوالے سے چند نئے فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے ان فیچرز سے واٹس ایپ میں کسی گروپ کال کے حوالے سے صارف کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے ان فیچرز کی تفصیلات ایک ٹوئٹ میں شیئر کیں انہوں نے بتایا تھا کہ اب گروپ کال کے دوران اگر کوئی فرد اپنا مائیک میوٹ کرنا بھول جائے تو ہوسٹ یا کال میں شامل کوئی بھی فرد اسے میوٹ کرسکے گا تاکہ بات چیت متاثر نہ ہو۔


    اسی طرح گروپ کال میں اگر کوئی نیا فرد شامل ہوگا تو واٹس ایپ کی جانب سے الرٹ بھیجا جائے گا تاکہ ہر ایک کو اس کا علم ہوسکے ایک گروپ کال میں 32 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اسی طرح کال کے دوران مخصوص افراد کو میسجز بھیجنا بھی اب ممکن ہوگا۔

    ان نئے فیچرز سے واٹس ایپ زوم، گوگل میٹ اور مائیکرو سافٹ ٹیمز کا ایک اچھا متبادل ثابت ہوگا جبکہ قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ اراکین کی تعداد کو 256 سے بڑھا کر 512 کر دیا تھا۔

  • ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے ،دوروزسے ٹریفک بند،گاڑیوں کی لمبی لائنیں ۔
    باغی ٹی وی ۔ہنزہ قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل کو مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے گذشتہ دو روزسے احتجاجی کیمپ لگاکربند کیا ہواہے،جس سے وہاں گئے ہوئے سیاح پھنس گئے ہیں اورانہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ،دو روز سے ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔


    روزگذرنے کے باوجود گلگت بلتستان اورہنزہ انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا،پھنسے ہوئے سیاحوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے فوری طورپرٹریفک بحال کرائی جائے۔

  • چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    آج تک بندروں اور چوہوں کو چیزیں چراتے اور لے کر بھاگتے دیکھا ہے لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جسے دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کیوں کہ اس مرتبہ بندر اور چوہے نہیں بلکہ چیونٹیاں سونے کی چین لے کر فرار ہور ہی ہیں-

    باغی ٹی وی : سونے کی چین کا کو چراتی ہوئی چیونٹوں کے اس قافلے کو عین موقع پر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرلیا جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔


    ویڈیو انڈین فاریسٹ سروس کے ملازم سوسانتا نندا کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ سونے کے چھوٹے اسمگلر، آئی پی سی کے کس سیکشن کے تحت انہیں پکڑا جاسکتا ہے؟-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور دلچسپ کمنٹس کر رہے ہیں-

    قبل ازیں انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں نامعلوم چوہوں کے ایک گروہ نے 5 لاکھ روپے مالیت کا سونا چوری کرلیا تھا تاہم پولیس نے چوری شدہ سونا برآمد کر لیا تھا ممبئی پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ چوہے سونے کے ایک تھیلے کو گھسیٹ کر ایک گٹر میں لے گئے اور ان کی اس حرکت کا راز دو دن بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی چھان بین کے بعد فاش ہوا تھا

    سندری پالنیول نامی خاتون سونے کا ایک تھیلا لے کر بینک کے لاکر میں جمع کرانے جا رہی تھیں۔ اسی تھیلے میں انہوں نے وڈا پاؤ بھی رکھا تھا جو انہوں نے سڑک پر موجود کچھ بھکاریوں کو دینے کا فیصلہ کیا، لیکن غلطی سے کھانے کے بیگ کے ساتھ سونے کے زیورات بھی دے دیئے دو منٹ میں ایک بس آئی اور وہ اس میں سوار ہو گئیں پھر احساس ہوا کہ ان کا پرس نہیں ہے، تب انہیں یاد آیا کہ یہ وڈا پاؤ کے ساتھ چلا گیا ہوگا۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل

    لیکن جب سندری پالنیوال جلدی سے واپس آئیں تو وہ بچے وہاں نہیں تھے تفتیش میں معلوم ہوا تھا کہ بچوں نے وہ بیگ پھینک دیا تھا جسے چوہے موقع ملتے ہی گھسیٹ کر گٹر کے اندر لے گئےپولیس نے بتایا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ چوہے بیگ کو گٹر لائن میں لے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے گٹر کی پوری لائن کو سکین کیا تو وہ پرس گٹر لائن میں پڑا ہوا مل گیا۔

    میکسیکو میں مئیر کی مادہ مگرمچھ سے شادی،تصاویر وائرل

  • ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    شکاگو: سائنس دانوں نے90 فیصد درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی سائنس” کے مطابق امریکا کی شیکاگو یونیورسٹی کے محققین نے یہ ماڈل ماضی کے جرم کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 1000 مربع فٹ کے رقبے میں جرائم کی پیش گوئی کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکا کے آٹھ بڑے شہروں میں آزمائی گئی جن میں شیکاگو، لاس اینجلس اور فلیڈیلفیا شامل ہیں۔

    چینی خلائی جہاز نے پورے مریخ کی تصاویر کھینچ لیں

    مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت میں پیشرفت نے حکومتوں کی دلچسپی کو جنم دیا ہے جو جرائم کی روک تھام کے لیے پیشین گوئی کرنے والی پولیسنگ کے لیے ان ٹولز کو استعمال کرنا چاہیں گی۔ جرم کی پیشن گوئی کی ابتدائی کوششیں متنازعہ رہی ہیں، تاہم، کیونکہ وہ پولیس کے نفاذ میں نظامی تعصبات اور جرائم اور معاشرے کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

    شکاگو یونیورسٹی کے ڈیٹا اور سماجی سائنسدانوں نے ایک نیا الگورتھم تیار کیا ہے جو پرتشدد اور املاک کے جرائم پر عوامی ڈیٹا سے وقت اور جغرافیائی مقامات کے نمونوں کو سیکھ کر جرائم کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ماڈل تقریباً 90% درستگی کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے مستقبل کے جرائم کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    ایک الگ ماڈل میں، تحقیقاتی ٹیم نے واقعات کے بعد گرفتاریوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے اور مختلف سماجی اقتصادی حیثیت کے ساتھ محلوں کے درمیان ان شرحوں کا موازنہ کرکے جرائم کے خلاف پولیس کے ردعمل کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ امیر علاقوں میں جرائم کے نتیجے میں زیادہ گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ پسماندہ علاقوں میں گرفتاریاں کم ہوئیں۔ غریب محلوں میں جرم زیادہ گرفتاریوں کا باعث نہیں بنتا، تاہم، پولیس کے ردعمل اور نفاذ میں تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔

    یونیورسٹی آف شیکاگو کے پروفیسر اِشانو کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے شہری ماحول کا ایک ڈیجیٹل جڑواں بنایا ہے۔ اگر اس میں ماضی میں ہونے والے وقوعات کا ڈیٹا ڈالا جائے تو یہ آپ کو بتادے گا کہ مستبقل میں کیا ہونے جارہا ہے۔ یہ جادوئی نہیں ہے، اس کی حدود ہیں تاہم سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کردی ہے۔

    یہ آلہ 2002 کی فل مائناریٹی رپورٹ میں دِکھائی گئی ایک ٹکنالوجی کی یاد تازہ کرتا ہے، ایسی ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی جاپان میں شہریوں کو ان علاقوں کے متعلق بتانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے جہاں جرائم کا تناسب زیادہ ہے۔

    تازہ ترین تحقیق کی تفصیلات سائنسی جرنل نیچر ہیومن بیہیویئر میں شائع کی گئیں ہیں۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

  • امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    امن مذاکرات کے سامنے ہی آ سکتا ہے

    جنوبی ایشیا آٹھ ریاستوں پر مشتمل ہے جن میں دو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں اور بڑے فریق بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ دو پڑوسی ریاستوں کے درمیان بہت سے مسائل اور وجوہات کی بنا پر کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے اور تنازعہ کشمیر ان میں سے ایک ہے۔یہ تنازعہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تین میں سے دو بڑی جنگوں اور متعدد جھڑپوں کا سبب بنا ہے۔

    خشکی سے گھرا ہوا کشمیر کا علاقہ برصغیر پاک و ہند کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ کشمیر کو دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شمال مشرق میں (چین کے دونوں حصے) سنکیانگ اور تبت کے اویگور خود مختار علاقے سے گھرا ہوا ہے، جنوب میں ہندوستان کی ریاستوں ہماچل پردیش اور پنجاب سے متصل ہے۔ شمال مغرب میں افغانستان اور مغرب میں پاکستان ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقہ بن گیا۔کشمیر کو اپنی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد سے، یہ علاقہ ہندوستان کی ظالم حکمرانی میں جنت کا درجہ کھو چکا ہے۔

    تاریخی طور پر، 27 اکتوبر 1947 کو، ہندوستانی حکومت نے برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کو عملی طور پر مسترد کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ضم کر دیا۔ تقسیم کے فارمولے میں ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ یا تو پاکستان، ہندوستان میں شامل ہو جائیں یا آزاد رہیں۔کشمیری آبادی اور ان کی حقیقی قیادت، مثال کے طور پر سردار محمد ابراہیم خان، موجودہ مذہبی، ثقافتی، اقتصادی اور جغرافیائی لحاظ کے پیش نظر پاکستان سے الحاق کرنا چاہتے تھے۔ تاہم بھارت نے ہندو مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط شدہ الحاق کے کے بہانے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا۔لہٰذا، ہندوستانی فوج کی غیر قانونی مداخلت اور پیش قدمی کو روکنے کے لیے، پاکستان نے بھی کشمیر میں فوجیں بھیجیں اور وسیع علاقے کو آزاد کرایا جسے اب آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1948/1949 میں قراردادیں منظور کیں، جن میں کہا گیا کہ اس کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کا انعقاد کیا جائے تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ حق خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔لیکن بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق دیا گیا تھا۔ بنیادی طور پر بھارت کی کشمیر پالیسی پوری تاریخ میں یکساں رہی۔ تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بینر تلے ہندو قوم پرستوں نے زیادہ بے رحمانہ قتل و غارت کی اور منظم نسل کشی میں ملوث رہے۔تاہم، 5 اگست 2019 کو، مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نہ صرف آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت مقامی مقننہ مالیات، دفاع، خارجہ امور، اور مواصلات کے علاوہ اپنے قوانین بنا سکتی ہے، بلکہ اس نے آرٹیکل 35A کو بھی منسوخ کر دیا۔ ، جس نے قانون ساز اسمبلی کو مستقل رہائشیوں کی تعریف کرنے اور انہیں خصوصی مراعات پیش کرنے کا اختیار دیا جیسے زمین کے خصوصی حقوق۔مودی نے سابقہ ​​ریاست جموں، کشمیر اور لداخ کے تین مختلف ڈویژنوں کو بھی دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔اس کے بعد، ان تبدیلیوں کا ہندوستانیوں نے خیرمقدم کیا جنہوں نے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کے طور پر دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کے ساتھ خصوصی نہیں بلکہ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ تاہم کشمیریوں نے اسے وادی کی آبادی کو مسلم اکثریت سے غیر کشمیری اور غیر مسلم میں تبدیل کرنے کے خطرے کے طور محسوس کیا۔بی جے پی وہیں نہیں رکی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام کی طرف سے شدید ردعمل کا باعث بنے گا، مودی حکومت نے 180,000 تازہ فوجیوں کو کشمیر روانہ کیا۔ یہ فوجی وہاں پہلے سے تعینات 700,000 فوجیوں کے علاوہ تھے۔ کرفیو نافذ کر دیا گیا اور ہر قسم کے مواصلات کا مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا جو 6 ماہ کے وقفے کے بعد جاری رہا اور بعد میں کوویڈ 19 کا بہانہ بنا کر جاری رہا

    مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ اس لیے جنوبی ایشیا کے خطے میں امن و سکون کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اس سے دونوں ریاستوں کے درمیان عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تھے۔ غیر ریاستی عناصر بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دونوں ریاستوں کے درمیان انتشار اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ وہاں کے باشندوں کے درمیان انسانیت سوز مصائب ایک الگ بحث ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔

    تنازعہ نے دونوں ریاستوں کے معاشی وسائل کو ضائع کر دیا ہے جسے غربت کے خاتمے، تعلیم کی بہتری اور افراد کی سماجی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔پاکستان اپنے ہمسایوں سمیت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، پاکستان تمام مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں رہے گا۔ 2 اپریل 2022 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن پر زور دیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے لیکن پاکستان کے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ تمام مسائل کے حل کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعمیری بات چیت اور ترقی پسند مذاکرات خوش آئند اقدامات ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے ساتھ تمام تنازعات بشمول کشمیر کو بات چیت اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے خطے سے آگ کے شعلے دور رہیں‘۔

  • کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا ,تجزیہ ,شہزاد قریشی

    آج سیاست میں ایسے لوگ آگئے ہیں جو بے باک نہیں مُنہ پھٹ ہیں اور سیاسی بدتمیز ہیں جس سے سیاسی زندگی بدصورت ہو گئی ہے۔ ملکی سیاست نظریاتی لوگوں میں رائج رہی جو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے سیاست کرتے رہے جس طرح روز مرہ کھانے پینے کی چیزوں ادویات میں ملاوٹ ہو چکی ہے اسی طرح آج کی سیاست مین بھی ملاوٹ نمایاں نظر آتی ہے اور سیاست میں ملاوٹ جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہے ۔ اور پھر جس ملک میں اقتدار کا نشہ سر چل کر بولے وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون اور آئین کی بالادستی کیسی ۔ قانون کی حکمرانی صر ف نعروں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔ وہاں لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا کاراج ہوتا ہے جس ملک میں بڑے بڑے پراپرٹی ٹائیکتوں حکومتوں کی تبدیلی کے فیصلے کریں سیاسی جماعتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں وہاں جمہوریت کیسی پارلیمنٹ کی بالا دستی کیسی ؟ پھر ایسے میں عوام کی اکثریت صدا بلند کرتی ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ کاروباری فریاد کرتا نظر آتا ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں کاروبار بند ک ارخانے بند ہوتے ہیں دکانوں کے سامنے عوام سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں ۔

    ملک عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج بناد یا گیا مزدور بھوکے مررہے ہیں ۔ بجلی نایاب۔ بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ۔ تخت نشین عوام کا خون چو رہے ہیں آخر یہ ملک میں کیا ہورہا ہے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے حکومت کس کی ہے کون چلا رہا ہے کہاں سے فیصلے ہورہے ہیں۔ آج جو کچھ ملک اور عوام کے ساتھ ہو رہا ہے کیا یہ جمہوریت ہے؟ کیا یہ جمہوریت کے ثمرات ہیں؟ جس ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے سودے بازیاں ہوں وہاں جمہوریت کیسی ؟اقتدار کے سوداگروں نے ملک اور عوام دونوں کو عالمی دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا آج عالمی دنیا میں ہمارے ملک اور ہماری جمہوریت کا مذا ق اڑایا جارہا ہے ۔ صوبہ سندھ مین توبلدیاتی انتخابات نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان ہے جو کچھ بلدیاتی انتخابات میں اور جو نجی ٹیلی ویژن پر دکھایا کیا آمدہ قومی انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے کیا الیکشن کمیشن لااینڈر آرڈر کے ادارے اسی طرح بے بس ہوں گے۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟معیشت کا بحران سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ عوام پر ہر روز مہنگائی کے حملے ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیاں ایک بہت بڑا فریب ہے ۔ آخر کب تک عوام کو فریب دیا جاتا رہے گا۔ کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہا ور ہیرو بن کر مقبول ہونا چاہتا ہے ۔ انہیں عوام کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں۔

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری

    آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری

    آزادی صحافت جمہوریت میں ضروری
    آزادی صحافت کو ایک لبرل اور جمہوری ریاست کا ایک لازمی جزو اور چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے جسے تقریباً تمام آزاد ریاستیں آئینی طور پر تحفظ دیتی ہیں۔جمہوریت کا ایک ستون ہونے کے ناطے، پریس کو منصفانہ، غیر جانبدار ہونا چاہیے اور بغیر کسی خوف کے حقائق فراہم کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، میڈیا کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنے ہی کام کے لیے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں صحافت کی آزادی خراب ہو رہی ہے۔ دنیا کی کچھ بااثر جمہوریتوں میں، لیڈروں نے میڈیا کے شعبے کی آزادی کو سلب کرنے کی ٹھوس کوششوں کی نگرانی کی ہے۔ جمہوری ریاستوں میں آزادی صحافت پر حملہ تشویشناک ہے۔

    بھارت ایک سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کے ناطے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں کا استعمال کر رہا ہے۔ 2019 میں جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختاری کو منسوخ کر دیا، کشمیر کو سخت سیکورٹی اور مواصلاتی لاک ڈاؤن کے تحت اور میڈیا کو بلیک ہول میں ڈالنے کے بعد میڈیا والوں کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم، بھارت کشمیری صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق کو دنیا سے چھپانے کے لیے نشانہ بنا رہا ہے۔ صحافیوں نے طویل عرصے سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مختلف خطرات کا مقابلہ کیا ہے ۔لیکن ایک سال بعد ان کی صورتحال ڈرامائی طور پر بدتر ہو گئی ہے، حکومت کی نئی میڈیا پالیسی نے آزادانہ رپورٹنگ کی مذمت کے لیے پریس کو زیادہ مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، پوچھ گچھ اور تفتیش کی گئی۔

    بھارت میں پریس کی آزادی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے۔بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت کی قیادت میں، 2014 میں جب سے وہ پہلی بار منتخب ہوئے تھے، ہندوستان میں پریس کی آزادی بتدریج ختم ہو گئی ہے۔ مودی کے آٹھ سال بعد آزادی صحافت پر مسلسل حملوں کی وجہ سے ہندوستان کی جمہوریت کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت نے 2020 میں نام نہاد میڈیا پالیسی متعارف کرانے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزاد صحافت کو تقریباً نا ممکن بنا دیا ہے۔لہذا، ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 19(1)(a) کہتا ہے کہ تمام شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے ۔لیکن بھارت میں اظہار رائے کی آزادی مطلق ہے۔ بھارت نہ صرف اپنے آئین بلکہ آزادی اظہار کے بین الاقوامی کنونشنز جیسے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 19 اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 19 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔

    میڈیا کی حفاظت خطرے میں پڑ گئی ہے اور جیسے جیسے آزادی اظہار کی جگہ سکڑ رہی ہے، آن لائن اور روایتی میڈیا دونوں میں، صحافی اس ماحول کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ میڈیا کے خلاف جرائم کے لیے احتساب کا فقدان، مواد کی نگرانی کے لیے قوانین بنانے کے نئے محاذ اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے جارحانہ طریقے خوف اور سنسرشپ کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے اور بھارت میں آزاد میڈیا کو بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ہندوستان پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ملک میں میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے دے کیونکہ جمہوریت صرف آزاد، غیر جانبدار اور آزاد میڈیا سے ہی فروغ ملتا ہے۔

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

  • آزادی صحافت پر حملہ

    آزادی صحافت پر حملہ

    آزادی صحافت پر حملہ

    کشمیری بھارتی جبر کا شکار ہیں جبکہ دنیا خاموش ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ایسے ایسے سانحات ہوئے کہ انسانیت بھی شرما گئی لیکن عالمی ضمیر بیدار نہ ہوسکا۔ اگست 2019 سے مقبوضہ علاقوں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ ہے۔ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور بازار ایک سال سے زائد عرصے سے بند تھے جبکہ ہر طرف کرفیو نافذ تھا۔ شہری بنیادی سہولیات کے لیے سسکیاں لیتے رہے لیکن کوئی نرمی نہیں دکھائی گئی۔ کورونا کی عالمی وبا کے دوران بھی کشمیری ادویات اور ویکسین کے لیے ترستے رہے لیکن مودی سرکار کی بے حسی برقرار رہی۔لاکھوں کشمیری آبادی کے لیے چند وینٹی لیٹر تھے۔ تاہم مودی سرکار کی بربریت کم نہیں ہوئی۔ بھارت کی حکمران فاشسٹ جماعت بی جے پی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہی ہے ۔ مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے خاص طور پر مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اب مقبوضہ کشمیر واحد ریاست ہے جہاں مسلمان اب بھی اکثریت میں ہیں۔فاشسٹ مودی سرکار کے حالیہ اقدام پر نظر ڈالی جائے تو آزادی صحافت پر حملہ ہوا ہے، کشمیر پریس کلب کو بند کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے کلب کو اپنی تحویل میں لے کراس کو تالہ لگا دیا ہے۔ تین بڑے کشمیری اخبارات کے اشتہارات بلاک کر دیے گئے ہیں۔گزشتہ تین سالوں میں درجنوں صحافیوں کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے ہراساں کیا ہے۔ ڈیوٹی کے دوران چھ صحافی جان کی بازی ہار گئے جبکہ چھ میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ کشمیر کے صحافیوں کو ریاستی ایجنسیوں کی طرف سے اکثر سزائیں دی جاتی ہیں اور اس گھناؤنی جبر کی وجہ سے، انہوں نے طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں مختلف خطرات کا مقابلہ کیا اور خود کو متحارب فریقوں کے درمیان پایا۔ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق ہندوستان 142 ویں نمبر پر ہے جب کہ یہ 2016 میں 133 سے مسلسل نیچے آ گیا تھا۔ ہندوستان کو صحافت کے لیے "برے” سمجھے جانے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے اور صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل ہے۔

    ہندوستان کے پڑوسیوں میں، نیپال 106 پر ہے، سری لنکا 127 پر ہے، اور میانمار، فوجی بغاوت سے پہلے 140 پر ہے۔ صحافت کے لیے اور صحافیوں کے لیے خطرناک ممالک میں ہندوستان کو "خراب” قرار دینے کی واحد وجہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی اور ہندوتوا نظریہ ہے جس نے صحافیوں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کیا جو حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انھیں "ملک دشمن” قرار دیتے ہیں۔ یا "مخالف ریاست”۔جس نے اپنا 2021 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس شائع کیا ہے کہ صحافیوں کو "ہر قسم کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بشمول نامہ نگاروں کے خلاف پولیس تشدد، سیاسی کارکنوں کی طرف سے گھات لگانا، اور مجرمانہ گروہوں یا بدعنوان مقامی اہلکاروں کی طرف سے انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ہندوستانی جو ہندوتوا کی حمایت کرتے ہیں، وہ نظریہ جس نے ہندو قوم پرستی کو جنم دیا، عوامی بحث سے ’ملک دشمن‘ سوچ کے تمام مظاہر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس پر ان صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جاتی ہے جو ہندوتوا کے پیروکاروں کو ناراض کرنے والے موضوعات کے بارے میں بولنے یا لکھنے کی ہمت کرتے ہیں اور ان میں متعلقہ صحافیوں کو قتل کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں خاص طور پر اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ہندوستانی حکومت 2020 نے پریس کی آزادی کو دبانے کے لیے کرونا وائرس جیسی وبائی بیماری کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ کشمیر کی صورتحال اب بھی بہت تشویشناک ہے، کیوں کہ صحافیوں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی طرف سے ہراساں کیا جاتا رہا، جو کہ اس کے بقول "مکمل طور پر اورویلین مواد کے ضوابط کی وجہ سے ہے۔کولمبیا جرنلزم ریویو میگزین کے مطابق، بھارتی حکومت نے ٹویٹر سے کہا کہ وہ 2020 میں تقریباً 10,000 ٹویٹس کو ہٹائے جو کہ پچھلے دنوں میں 1200 کے مقابلے میں تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت بھارت اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ مظلوم کشمیریوں کا کوئی سوال نہیں، کوئی سننے والا نہیں۔ ظلم کا یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے۔کشمیریوں کو صرف اس لیے سزا دی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ہر غم اور خوشی میں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اب دنیا کو کشمیریوں کو ان کا حق دینا ہوگا۔ ریفرنڈم کے وعدے کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ متنازعہ نئے شہریت قوانین کی آڑ میں غیر کشمیریوں کو کشمیر ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں۔ متنازعہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنا جنیوا کنونشنز کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے۔مقبوضہ علاقوں میں کرفیو کا نفاذ، انٹرنیٹ، فون، کیبل اور مواصلات کے دیگر ذرائع کو بند کرنا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماورائے عدالت قتل، نوجوانوں کے اغوا اور قتل، لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی اور بوڑھوں کے خلاف تشدد ہندوستانی جمہوریت کا منہ کالا کرنے کے مترادف ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ ہندوتوا اور انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کرنے والی ریاست ہے جہاں اقلیتوں اور مخالفین کی منظم نسل کشی کی جارہی ہے۔ کیا دنیا صرف دکھاوا کر سکتی ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا؟ ڈاکٹر گریگوری سٹینٹن کہتے ہیں کہ 1989 میں روانڈا میں ایسا ہی ہوا تھا۔ نسل کشی جو شروع ہوئی، اور نفرت انگیز تقریریں ہوئیں، یہ سب ابتدائی نشانیاں تھیں، اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، کشمیر میں خونریزی ہو رہی ہے اور بھارتی عزائم اور اقدامات واضح طور پر ہندوتوا نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ امن اور انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس انسانی بحران کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک متحد اور مربوط محاذ قائم کرے۔