Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    دوسری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    1970کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں جیتیں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں 81 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑا،اس دوران اقتدارکی رسہ کشی اورسازشیں جاری
    رہیں، انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے،ذوالفقارعلی بھٹونے اُدھرتم اِدھرہم کانعرہ لگایااور 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔جنرل گل حسن کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیا. شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں بند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔بھٹو نے گل حسن کو برخاست کرنے کا حکم اپنے سٹینوگرافر کے بجائے اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ٹائپ کروایا۔ جنرل گل حسن کی برخاستگی کے حکم کے بعد انھوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی ملک غلام مصطفی کھر سے جنرل گل حسن کے ساتھ لاہور جانے کو کہا تاکہ گل حسن سے اس وقت تک کوئی رابطہ نہ ہو جب تک کہ ان کے جانشین کی تقرری کا حکم جاری نہ ہو جائے۔اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممکنہ عہدیداروں کو ایک فرضی اجلاس کے لیے طلب کیا گیا اور انھیں اس وقت تک وہاں رکھا گیا جب تک کہ گل حسن کا استعفی نہیں لے لیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر پولیس تعینات کر دی گئی،گل حسن کے بعد بھٹو نے اپنے قابل اعتماد جنرل ٹکہ خان کو پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔کچھ ہی مہینوں میں بھٹو کا تکبر اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے پارٹی کے سینیئر ساتھیوں کی بھی توہین شروع کر دی۔جب ٹکاخان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو انھوں نے بھٹو کو اپنے جانشین کے لیے ممکنہ سات لوگوں کی فہرست بھجوائی۔اس میں انھوں نے دانستہ طور پر جنرل ضیا الحق کا نام نہیں رکھا کیونکہ انھیں حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ لیکن بھٹو نے انہی کے نام پر مہر ثبت کی۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا ء نے بھٹو کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔1977 میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاج کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان میں کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جو کسی کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوے دن کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیاء کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا ء پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔1985 میں ضیا الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرایا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میںجاں بحق ہو گیا تھا۔ افغان جنگ،افغان مہاجرین، ہیروئن اورکلاشنکوف کلچرجنرل ضیاء الحق کے دئے ہوئے تحفے ہیں جو آج تک پاکستان کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ 1988میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990 میں 20ماہ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹوکی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990 کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئے۔ جسمیں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اوربے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھروزیراعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردارفاروق احمد خان لغاری نے 1996 میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیربھٹونے اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دبا ئو کی وجہ سے ایسانہ کر سکیں ،اس بات کوبے نظیر بھٹو کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیا۔ان کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو امریکی امداد سے پرویزمشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے۔بے نظیر بھٹو نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دے دیں گی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں۔ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیرخان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکا کے حوالے کر دیں گی۔محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کر دیا۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کرسی کے حصول کے لیے امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر بھٹوحکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیااور اس نے ہی ان کو قتل کیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈسکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران آصف زرداری نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا-جبکہ یہ سب الزامات برحق تھے۔۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹرٹین پرسینٹ مشہورہوئے۔ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔، امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف سامنے آگیا،یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔اس کتاب کے مطابق 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے سکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ
    ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔ نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پرٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔نواز شریف کی کئی آف شور کمپنیوںسامنے آئیںجن میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول ، نیلسن ، اور شمروک کینام شامل ہیں، لندن میں پارک لین پر چار عظیم الشان فلیٹ بھی سامنے آئے،1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف واضح اکثریت کے ساتھ تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔03 اپریل 2016کو پانامہ لیکس کے اسکینڈل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم ICIJ نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا ۔ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس ان کی ملکیت ہیں،پانامہ لیکس کے معاملہ پر ملک میں 6ماہ سے زیادہ عرصہ بحرانی کیفیت طاری رہی ، اپوزیشن وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرتی رہی،پانامہ سیکنڈل سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جس پربالآخر سپریم کورٹ نے 01نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر پانامہ کیس کی سماعت شروع کی اور آخر کار 23فروری 2017کوسپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اور پھر 20 اپریل 2017کو اپناتفصیلی فیصلہ سنا یا،اس طرح سپریم کورٹ نے کرپشن ثابت ہونے اوراثاثے چھپانے پروزیراعظم نواز شریف کوتاحیات نااہل قرار دے دیا۔
    کارگل وارنے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات دی جا رہی تھیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999کو نواز شریف نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دورِ اقتدار کا آغاز ہوتا ہے۔
    2001 میں 9/11کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی جنگ میں پاکستانی قوم کو جھونک دیا بلکہ پاکستانی ہوائی اڈے بھی امریکی فوج کے حوالے کر دیے۔ کئی سال پاکستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہااوراب تک مشرف کی چھیڑی ہوئی پرائی جنگ سے نبرد آزما ہے اوراس دوران مشرف نے ایک نعرہ لگایا تھاسب سے پہلے پاکستان ۔
    جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ یہ انکشافات کتاب کے اردو ترجمے میں موجود نہیں اور جنرل مشرف بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی پاکستانی شہری نہیں تھا لیکن عافیہ صدیقی کا کیس ثابت کرتا ہے کہ ان میں پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے(جاری ہے)

  • آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

    جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

    جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

    اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

    مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

    آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

    تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

    جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

    آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

    ۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

    ۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

    ۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

    ۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

    ۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

    ۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

    ۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

    شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

    لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

    ۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

    ۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔

  • افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    افتراک و انتشار مسلم امہ کیلئے لمحہ فکریہ — حاجی فضل محمود انجم

    لوگوں کو مختلف قوموں، ذاتوں اور سیاسی و مذہبی فرقوں میں اسی لیئے تقسيم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ کسی ظلم کے خلاف متحدہ ہو کر آواز نہ اٹھا سکیں.یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے آج پوری دنیا میں مسلمان ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہیں۔دنیا کے جس کونے میں بھی جائیں مسلمان قوم کسی نہ کسی مسلے سے ضرور دوچار ہو گی۔

    اس صورت حال کے پیچھے دوسری وجوہات و عوامل کے ساتھ ساتھ اس قوم کی اپنی بد اعمالیاں بھی شامل ہیں۔تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے مسلم امہ میں اس انتشار و افتراک کا آغاز خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ و تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت سے ہی ہو گیا تھا۔ سیدنا عثمان غنی کو شہید کرنے کی یہ سازش درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اولین اور سب سے عظیم سازش تھی ، یہ سازش دراصل عبداللہ بن سباء اور اس کے منافقین ساتھیوں کی کاروائی تھی جو درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہ تھی بلکہ عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی۔

    آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن مسلمان تفرقہ اور آپس کے انتشار میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ آج تک اس کے گرداب اور چنگل سے نکل نہیں سکے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کا سارا دور بھی نہ صرف اسی طرح کے آپس میں اختلافات ریشہ دوانیوں اور انتشار کی حالت میں گزرا۔بلکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں حتیٰ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاء کے درمیان جنگیں تک لڑی گئیں۔

    اس بناء پر مسلمان کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت پہ متمکن ہونا اور مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان صلح کی خاطر خلافت چھوڑ دینا اور بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی کربلا کے مقام پر شہادت مسلمانوں کے اسی انتشار و افتراک کا نتیجہ تھا۔

    اموی خاندان کے دور خلافت میں حالات پہلے سے بھی زیادہ دگرگوں ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب عباسی خاندان مسند خلافت پر براجمان ہوا تو انکے دور میں اس قوم کی حالت یہ تھی کہ ہر شعبہ زندگی انتشار کا شکار تھا۔اگر صرف بات کریں وارثان محراب و ممبر کی تو ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ دارالحکومت بغداد شہرکا کوئی کونہ یا گوشہ ایسا نہیں تھا جہاں پہ ہر دوسرے دن انکے مسلکی اور دینی مناظرے نہ ہو رہے ہوں۔

    یہ مناظرے بھی کچھ اس طرح کی بحث و تمحیث پر مشتمل تھے کہ سوئی کی ایک نوک پر زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔؟پرندوں میں کوے پر بحث جاری تھی کہ کوا حلال ہے یا حرام ہے۔ایک مسلہ یہ بھی وجہ نزع تھا کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہو- اختلاف اس بات پر تھا کہ بعض کہتے تھے کہ ایک بالشت ہو اس سے کم جائز نہیں اور بعض دیگر لوگ یہ کہتے تھے کہ نہیں ایک بالشت سے کم بھی جائز ہے۔

    یہ مناظرے اسی طرح بڑے زور و شور سے جاری تھے اور یہی وہ وقت تھا کہ جب ہلاکو خان نے اپنی تاتاری افواج کے ہمراہ دارالحکومت بغداد پہ حملہ کیا اور اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔سوئی کی نوک پر فرشتے بٹھانے والے تہ تیغ کر دئیے گئے۔مسواک کی حرمت پر لیکچر دینے والے مٹا دئیے گئے۔کوے کی حلال و حرام پر بحث کرنے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار کچھ اس طرح بنا دیئے گئے کہ جنہیں گننا بھی ممکن نہ تھا۔بعد ازاں مسلمانوں کے سروں کے مینار بنانے والا ہلاکو خان خود بھی تہ تیغ ہوگیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنے سینکڑوں سال بیت گئے لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ نکلی کہ مجال ہے اس قوم کے کسی بھی فرد نے تاریخ سے ایک رتی بھر بھی سبق سیکھا ہو۔

    ہمارے آج بھی بحث و مباحثوں کے عنوانات ویسے ہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے ۔داڑھی کی لمبائی کتنی ہونا ضروری ہے۔؟ شلوار ٹخنوں سے کتنی اونچی یا نیچی ہو۔؟ مردہ قبر میں سن سکتا ہے یا نہیں۔ قبر پہ آنے والے شخص کو قبر میں موجود مردہ پہچانتا ہے یا نہیں۔امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں ۔ایک مسلک کے نزدیک رفع یدین ضروری ہے دوسرا اسے ضروری خیال نہیں کرتا۔کچھ لوگ غم حسین علیہ السلام مناتے ہوۓ ماتم کرتے ہیں دوسرے اس سے منع کرتے ہیں۔ہر مسلک کا داعی صرف اپنے آپ کو جنتی کہتا ہے جبکہ دوسرے کو جنت کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔

    پہلے یہ مناظرے بغداد شہر کے گلی کوچوں میں ہوتے تھے آج کے دور جدید میں یہ مناظرے سوشل میڈیا پر ہوتے ہیں بلکہ گھر گھر ہوتے ہیں۔اپنی نجی محفلوں میں ہوتے ہیں۔جلسوں میں ہوتے ہیں اور مسجدوں کے محراب و منبر پہ ہوتے ہیں۔اب تو ایک چھوٹی سی ڈیوائس نے ہر فرد کو ایک مناظر کی حیثیت دے دی ہے اور وہ اس کا استعمال کر کے جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ اناپ شناپ سوشل میڈیا پہ بکے جا رہا ہے۔

    ابھی کل ہی ایک محترمہ کسی چینل پہ بیٹھ کر ایک مولوی صاحب کے لتے لے رہی تھیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے بہتر حوریں رکھی ہیں اور مرد کی عیاشی کا پورے کا پورا بندوبست کر دیا ہے لیکن عورتوں کیلئے کیا رکھا ہے۔؟ جواب دیا گیا کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ جنت میں جاتی ہے تو وہ ان حوروں کی سردار ہوگی۔

    محترمہ کہتی ہے کہ واہ-! مرد کیلئے بہتر حوریں اور اسکی بیوی کیلئے وہی دنیا والا شوہر جسے شائد وہ دنیا میں دیکھنا بھی پسند نہ کرتی ہو۔ گویا اس قسم کی پریکٹس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صدیوں سے اب بھی جاری ہے اور جدید دور کا ہلاکو خان ایک ایک کر کے ان سب ملکوں ان کے مسلکوں اور فرقوں کو نیست و نابود کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے روک سکیں۔

    جدید دور کے اس ہلاکو خان نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ لیبیا اور عراق کو دبوچا۔افغانستان کو خانہ جنگی میں کچھ اس طرح دھکیلا کہ وہ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔شام اردن اور لبنان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔کشمیریوں کو کچھ اس طرح مارا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لاشیں بھی نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی وہ انہیں گن سکتے ہیں۔فلسطین ان کے اب بھی پنجہ استبداد میں ہے اور وہ انکے ظلم و ستم کے آگے بے بس ہیں اور مرنے کے سوا کوئی چارا نہیں۔مسلمان قوم کے بچے بوڑھے خواتین اور جوانوں کی لاشیں کوے نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہے ہیں۔مسلم امہ انہیں دیکھ رہی ہے لیکن اسے روکنے کی طاقت ان میں نہیں۔

    آج حوا کی بیٹیاں اپنی عصمت چھپانے اور بچانے کیلئے امت کی چادر کا کونہ تلاش کر رہی ہیں لیکن یہ کونہ اسے مل نہیں رہا کیونکہ اب وہ بچا ہی نہیں گویا اب اس قوم میں کوئی محمد بن قاسم نہیں۔کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو ان کی پکار کو سنے اور مدد کو پہنچے ۔

    ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ شائد کوئی معجزہ ہو جائیگا اور ہم بچ جائیں گے۔ہم اب صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم نے کب وقت کے اس ہلاکو خان سے تباہ ہونا ہے۔؟ میرا کہنا یہ ہے کہ انتظار ضرور کرو لیکن یہ یقین کر لینا کہ تباہ کرنے والے نے یہ نہیں دیکھنا کہ تم کس مسلک فرقے یا مذہب سے تعلق رکھتے ہو۔؟ وہ یقینا”یہ نہیں دیکھے گا کہ تم وہابی ہو دیوبندی ہو سنی ہو یا شیعہ ہو ۔وہ یقینا” یہ بھی نہیں دیکھے گا کہ تم اہل تشیع ہو۔اہل حدیث ہو یا اہل سنت ہو۔اس کے نزدیک تم صرف مسلمان ہو یعنی اس کے ازلی دشمن۔اسلئے اب بھی وقت ہے کہ چھوڑو آپس میں الجھنا اور سب ایک ہو جاؤ اس طرح ایک جیسے اللہ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے۔:-

    "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”

    قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بڑی کثرت سے اتحاد کو قائم رکھنے اور اپنے درمیان موجود خلفشار و انتشار سے بچنے کی بار بار ہدائت اور تلقین کی گئی ہے مگر ان سب کے باوجود بھی خلفشار و انتشار اب اتنا عام مرض بن چکا ہے کہ امت مسلمہ کو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے اور علاقائی تعصب اور عصبیت پرستی کے روگ کی بو ہر جگہ محسوس کی جا رہی ہے۔ان حالات میں اب یہ بہت ضروری ہو گیا ہے کہ ہوری امت مسلمہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوۓ اتحاد و اتفاق کی طرف لوٹیں۔ دعا ہے اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائےاور آپس میں اخوت و محبت ہمدردی و خدا ترسی اور ملکی و ملی سیاسی و سماجی اور مسلکی و فروعی اختلافات سے بچائے اور امت واحدہ بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرماے، خدا کرے کہ ہمارا کھویا ہوا شاندار ماضی ہمیں دوبارہ مل جائے اور ہم پھر سے ایک بار سربلندی و سرخروی سے اس دنیا میں جی سکیں اور جب اس دنیا سے جائیں تو اخروی کامیابی بھی حاصل کر سکیں۔میں نے اپنے دلی جذبات ایک کالم کی شکل میں بیان کر کے اپنس فرض ادا کر دیا ہے بقول اقبال:-

    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

  • تُم حق ہو — اسامہ منور

    تُم حق ہو — اسامہ منور

    تم حق کے لئے جب بھی اُٹھو گے، بولو گے، لڑو گے، تب تب لوگ تمھارے دشمن ہوتے چلے جائیں گے. کم لوگ تمھاری تصدیق کریں گے مگر زیادہ تر تمھاری تکذیب کریں گے لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا حق مقدار میں کم ہوتا ہے لیکن معیار میں بہت ہوتا ہے.

    بدر و حنین یاد رکھنا، تمھیں حوصلہ ملے گا. احد کو یاد رکھنا، تمھیں خود کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا، خندق و تبوک تمھارے اندر جوش و ولولہ پیدا کریں گے.

    اور کربلا تمھیں حق اور باطل کے درمیان فرق سکھا دے گا، بس جب کبھی کربلا جیسی نوعیت ہو تو اس صف میں جانا جہاں پر تھوڑے مگر پکے لوگ ہوں گے لیکن اس صف سے بچنا جہاں پر تعداد تو کثیر ہو گی لیکن مفاد پرست زیادہ ہوں گے.

    وہ تُم پر ٹُوٹ پڑیں گے لیکن تمھیں ڈرا نہیں سکیں گے، وہ تُمھیں کاٹ تو دیں گے لیکن مار نہیں سکیں گے وہ اپنی کمزوری کو چھُپانے کے لیے تُمھیں جھوٹا کہیں گے لیکن تُم پریشان مت ہونا، انھیں آنکھیں دکھانا اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح ٹکرا جانا، تُم ہار جاؤ گے تو بھی فتح تمھاری ہو گی اور تم قیامت تک کی نسلوں پر راج کرو گے.

    زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، ہمیں ہر طرح کے مواقع میسر آتے ہیں. تمھیں بھی آزمایا جائے گا. طاقت دے کر، رتبہ دے کر، مال و دولت دے کر اور جاہ و جلال دے کر.

    لیکن یاد رکھنا اپنی طاقت کو حق کے لیے ہی استعمال کرنا،ہمیشہ حق کا ساتھ دینا خواہ سامنے خونی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو. تمھاری امید کبھی نہ ٹوٹنے پائے اور تمھارا جھکاؤ کبھی بھی باطل کی جانب نہیں ہو.

    تم جب تک حق پر رہو گے تمھاری شناخت باقی رہے گی اور تم امر ہو جاؤ گے لیکن باطل کا ساتھ دینے سے تم سب کچھ گنوا بیٹھو گے اور فانی ہو جاؤ گے.

    یزید کو بھی مان تھا، اقتدار کا اسے زعم تھا دولت کا اور غرور تھا کُرسی کا، لیکن تم دیکھ لو، لوگ اسے کن لفظوں میں یاد کرتے ہیں اور کن کن القابات سے نوازتے ہیں.

    رسوائیاں ہمیشہ کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہیں مگر حسین رضی اللہ عنہ کو دنیا قیامت تک ایک بہادر سپہ سالار، ایک طاقت ور بیٹے اور ایک اصول پسند امام کے طور پر جانے گی. یزید تھا جبکہ حسین رہے گا.

    حق اور حسین رضی اللہ عنہ کبھی جدا نہیں ہو سکتے. حق کا ساتھ دینا، لوگ کچھ بھی کہیں، کافر کہیں یا منافق، دائرہ اسلام سے خارج کہیں یا تمھارے کردار پر انگلی اُٹھائیں، کبھی دلبرداشتہ مت ہونا. تُم حسینی ہو، تُم حق ہو اور حق کو کبھی زوال نہیں آتا.

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    آزادی صحافت کا مطلب ذمہ داری صحافت ہے صحافت کو ملی و قومی اقدار کا پابند بنانا اور اس پر سختی سے کاربند رہنا صحافیانہ ذمہ داری کا اولین تقاضا ہے۔ قومی تقاضوں کا سودا کرنا اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا اور اپنے صفحات اور اسکرین پر اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا کسی طور بھی آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    بدقسمتی سے صحافیوں نے قومی فریضہ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر چلنا شروع کر دیا ہے صحافی گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک اور قوم کے مسائل کو پس پشت ڈال کر قصیدے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا یا ماضی میں ہوتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، پاک فوج اور میڈیا ہے جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا کا کوئی ادارہ ہو یا کوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو جاتا ہے یعنی میڈیا نے اپنی حیثیت اور وقار کو خود ہی ختم کر دیا۔ قارئین اور سامعین نہ تو کسی کی تنخواہ دیکھتے ہیں نہ کسی کا عہدہ و الفاظ دیکھتے ہیں اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    آج صحافی گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور صحافی جو ماضی میں قیادت کے فرائض انجام دیتے تھے قومی مسائل اور تحریکوں میں قائدانہ کردار اداکرتے تھے آج گروپوں میں تقسیم ہو کر سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کےقائدین کے فلسفوں پر چل کر اپنا وقار اور عزت دائو پر لگا رہے ہیں۔

    میڈیا بدنام ہو رہا ہے کہ میڈیا یکطرفہ ہو گیا ہےبعض صحافیوں نے تو کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اندھا دھند کام شروع کیا ہے۔ ہمیں اس ملک کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی معاملات اور ریاستی مفادات کو سامنےرکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا۔

    ملک کا سیاسی مستقبل اور ملک کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں کا انتخاب کرنا چھوڑ دیں سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔

    اقتدار اور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا۔ شداد کی جنت نہ رہی ، فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

  • اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    ٹیوبِنگن: ماہرین نے ایک تحقیق میں اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی کا اپنے خیالوں میں کھونا یا ذہن کا ادھر اُدھر بھٹکنا ایک ایسی سرگرمی ہے جس کو کم اہمیت دی جاتی ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کو جتنا کیا جائے اتنا فائدہ مند ہے۔

    جنوبی جرمنی میں قائم یونیورسٹی آف ٹیوبِنگن کے محققین یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ انسان عام طور پر اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے سے جھجھکتا کیوں ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    250 افراد کے گروپ کا مطالعہ کرنے والے نفسیات دانوں نے بےمقصد سوچ بچار کےعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جتنی تحقیق کے شرکاء نےسوچی تھی یہ سرگرمی اس سے زیادہ اطمینان بخش تھی۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق میں تجربوں کے تسلسل سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر لوگوں کو ان کے اذہان بھٹکانے کا موقع دیا جائے تو وہ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں البتہ کچھ لوگ اس فعل کو محنت طلب سرگرمی سمجھتے ہیں۔

    ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اپنے خیالات میں کھو جانے کا عمل مسائل کو حل کرنے، تخلیقی صلاحیت بڑھانے، تصور کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور اپنی اہمیت کے خیال سے آشنا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ ان فوائد کے باوجود اکثر افراد اپنے خیال میں کھونے یا کھڑکی کے باہر کسی چیز کو بےمقصد تکنے کے بجائے اپنی توجہ میں خلل دیئے جانے کو پسند کرتے ہیں اسمارٹ فون اس کی واضح مثال ہے جو اس آزادنہ سوچنے کی عادت کو ختم کر رہا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    تحقیق میں شامل ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خیالات تخلیقی صلاحیتوں کو جنم دیں، تو آپ تھوڑا مختلف انداز اختیار کرنا چاہیں گے اور اس کے بجائے ان خیالات پر توجہ مرکوز کریں گے جو آپ کو متجسس اور دلچسپ معلوم ہوں۔ وہ اس مشق کو "ذہن حیرت انگیز” کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کتاب یا مضمون میں پیش کردہ خیالات کے بارے میں سوچیں جو آپ پڑھ رہے ہیں یا ایک پوڈ کاسٹ جسے آپ نے سنا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر اوران کے ساتھیوں نے پایا کہ لوگ مسائل کےحل کی کوشش سے وقفہ لینےاور دن میں خواب دیکھتے ہوئےایک غیر ضروری کام کرنے کے بعد ان کے مزید تخلیقی حل تلاش کرتے ہیں جب وہ اس وقفے کے دوران دوسری چیزیں کرتےتھے یا تو خاموشی سے بیٹھتے تھے یا کسی مختلف مشکل کام پر توجہ مرکوز کرتے تھے یا جب انہوں نے بالکل بھی وقفہ نہیں لیا تھا، تو مسئلہ حل کرنا زیادہ مشکل تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ’’ذہن کو حیرت میں ڈالنا‘‘ ناول کے ساتھ آنے کا ایک موقع ہوسکتا ہے، مختلف نقطہ نظر جن کے بارے میں آپ نے پہلے سوچا بھی نہیں تھا اگر آپ کا دماغ خراب جگہوں پر جاتا ہے تو ذہن سازی کی کوشش کریں۔

    فٹبال کے حجم کی نئی غیر معمولی جیلی فش دریافت

    اونٹاریو میں کوئنز یونیورسٹی کےماہر نفسیات جوناتھن سمال ووڈ نے کہا، تاہم، کچھ مسائل دن میں خواب دیکھنے کے ذریعے حل نہیں ہوتے ہیں اور آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دن میں خواب دیکھنا آپ کو ان کی طرف واپس لاتا ہے اور آپ پر دباؤ ڈالتا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اس صورت حال میں، ذہن سازی کی مشق کرنا ایک ذہنی حالت جس میں آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں مسلسل چہچہاہٹ پر لگام ڈالنے میں مدد کر سکتی ہے،” ڈاکٹر سکولر نے کہا۔ جیسے ہی آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے خیالات تناؤ یا افسردہ ہو گئے ہیں، توقف کریں اور اپنی توجہ کو موجودہ لمحے کی طرف موڑنے کی کوشش کریں اپنی سانسوں اور ان احساسات کے بارے میں سوچیں جو آپ محسوس کرتے ہیں اس کےبعد، اپنے دن کے خوابوں کو زیادہ مثبت سمت میں ڈھالنا،ایک خوشگوار یادداشت کے بارے میں سوچیں، کہیں، یا ایک ٹی وی شو جو آپ کو تفریح فراہم کرے-

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

  • واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ میں ان فیچرز کا اعلان سی ای او مارک زکربرگ نے ایک فیس بک پوسٹ میں کیا انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ میں پرائیویسی کے نئے فیچرز آ رہے ہیںزکربرگ کا کہنا تھا کہ ہم صارفین کے پیغامات کی حفاظت اور گفتگو کو نجی رکھنے کے لیے نئے طریقےمتعارف کراتے رہیں گے۔

    میٹا کی ذیلی کمپنی واٹس ایپ کے مطابق ان تین نئے پرائیویسی آلات کو پیغامات بھیجتے وقت بطور اضافی حفاظتی جہتوں کے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    زکربرگ کا کہنا تھا کہ نئے پرائیویسی فیچر جو واٹس ایپ میں متعارف کرائے جارہے ہیں ان میں گروپ سے بغیر کسی کے علم میں آئے خارج ہونا،اس چیز کو کنٹرول کرنا کہ کون آپ کو آن لائن دیکھ سکتا ہے کون نہیں اور صرف ایک بار کھلنے والے میسجز کے اسکرین شاٹ نہ لے سکنا شامل ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے اسٹیلتھ موڈ کا فیچر اس ماہ متعارف کرائے گا جس کےبعد صارفین اپنے منتخب شدہ لوگوں کے سامنے ہی آن لائن ظاہر ہوں گے۔

    مارک زکر برگ نے کہا کہ ہم آپ کے پیغامات کی حفاظت کے لیے نئے طریقے بناتے رہیں گے اور انہیں آمنے سامنے گفتگو کی طرح نجی اور محفوظ رکھیں گے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان فیچرز کی تفصیلات بتائی گئیں۔

    ایک فیچر واٹس ایپ گروپس کو خاموشی سے چھوڑ دینے کا ہے ایسا کرنے پر گروپ ایڈمن کو تو ایک الرٹ سے علم ہوجائے گا مگر باقی اراکین کو اس کا علم نہیں ہوگا یہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    دوسرا فیچر بھی صارفین کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا کیونکہ اس سے آپ دیگر کو یہ جاننے سے روک سکتے ہیں کہ آپ آن لائن ہوگئے ہیں اس حوالے سے آپ کو 4 آپشن ایوری ون، مائی کانٹیکٹس، نو باڈی اور My contacts except دستیاب ہوں گے۔

    ابھی جب آپ واٹس ایپ پر آن لائن ہوتے ہیں تو اس کا علم ان سب کو ہوجاتا ہے جو آپ کی پروفائل کو دیکھ سکتے ہیں یہ دونوں فیچرز اسی مہینے کسی وقت صارفین کو دستیاب ہوں گے۔

    تیسرے فیچر میں ایسے میسج کو بھیجا جاتا ہے جو ایک بار دیکھنے کے بعد غائب ہوجاتا ہے، مگر ان میسجز کا اسکرین شاٹ لیا جاسکتا ہے تو اب نئے فیچر سے اسکرین شاٹ کو بلاک کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا