Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟

    بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟
    صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خآن نے عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرام پلس کہا اور صوبہ پنجاب کو ایک ایسے انسان کے حوالے کر دیا جس کو صرف فائلیں پڑھنے پڑھانے کے لیے بھی ملازم چاہیے تھا، انتہائی کمزور انتظامییہ اور کمزور ریاستی رٹ نے صوبہ بھر کی عوام کو ہر وقت اضطراب میں رکھا حتی کہ عمران ریاض خان جیسے پرو پی ٹی آئی صحافیوں نے بھی مختلف موقعوں پرعثمان بزدار کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جس میں مانیکا خآندان کے کرتوت شامل تھے لیکن عمران خان اپنی ضد پر قائم رہے اور یوں آہستہ آہستہ عمران خان کے اتحادی ساتھ چھوڑنے لگے جس کے نتیجے میں پنجاب بھی نون لیگ عمران خان سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    پنجاب میں ضمنی الیکشن کی آمد آمد ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں تو دوسری طرف تحریک لبیک اچھا خآصآ ووٹ بینک لینے والی ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات میں سیٹیں نکالنا مشکل ہو چکا ہے تو اب کھل کر آئی ایس آئی کے آفیسرز پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے اگر واقعی کوئی ثبوت ہیں تو عدالت جائیں اور کیس کریں لیکن اس طرح اپنے اداروں پر الزامات لگانا وہ بھی ثبوتوں کے بغیر سمجھ سے باہر ہے۔

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    پنجاب کی ناراض عوام کے غصے کو چھپانے کے لیے پی ٹی آئی لیڈران اداروں کے خلاف مہم چلا کراپنی نااہلی کو چھپانا چاہتے ہیں لیکن عوام سمجھ چکی ہے کہ کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپ کر اداروں پر حملے کرنے والوں کے پاس ادنی سا بھی ثبوت ہوتا تو عدالت پہنچ چکے ہوتے۔ کب تک پاکستان میں ایسے چلتا رہے گا کہ جب تک حکومت نہ ملے دھاندلی اور مل جائے تو ادارے اچھے، عمران خان جو یوٹرن خان بھی ہیں ،اپنے مفادات کے لئے ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانا چاہتے ہیں، عمران خان صاحب ملک ہے تو آپ ہین، خدارا ہوش کریں، ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے قبل اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی پارٹی کے اندر جھاڑو پھیریں، لوٹوں کو ملا کر حکومت بنائی تھی وہ لوٹے چلے گئے تو اس میں اداروں کا کیا قصورہے، اسوقت لوٹے نہ لیتے اپنی پارٹی میں اور سادہ اکثریت نہیں تھی تو حکومت نہ بناتے

  • پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کی نازک صورتحال اور ہماری ذمہ داری،تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام سنتے آئے اور اب شیر آیا شیر آیا کے مصداق ملک واقعی اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ایک ہم اور ہمارے حکمرانوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی عملی اقدامات اٹھائے؟ کیا حکمرانوں ، اعلیٰ بیورو کریسی کے افسران، اعلیٰ اور نچلے درجے کے پولیس افسران ، سول انتظامیہ کے افسران ، ریونیو کے افسران، نے کرپشن سے توبہ کر لی؟ کیا ملک کی بڑی مچھیلوں نے رضاکارانہ طور پر زیادہ ٹیکس دینے کا اظہار کیا؟ کیا ملک میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران نے اپنی ضرورت سے زیادہ تنخواہ کم لینے کے جذبے کا اظہار کیا؟ کیا ہم نے گھاس کھا کر وطن کی آن بچانے کا عہد کیا؟

    ان تمام سوالات کا جواب اگر نہیں میں ہے تو ہم جس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ایک بھیانک انجام ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2013ء کے عرصے میں جب یورپ میں معاشی بحران آیا تو جرمنی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کو درخواست کی کہ ان پر ٹیکس زیادہ لگایا جائے حال ہی میں کینیڈا میں ایک شعبے کے ملازمین نے حکومت سے استدعا کی کہ ان کی تنخواہیں ان کی ضروریات سے زیادہ ہیں کم کی جائیں آج ملک میں کروڑوں کے پلاٹس، لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے موجود ہیں اعلیٰ انتظامی اور تکنیکی پوسٹوں پر سفارشی بنیادوں پر تعینات کئے جا رہے ہیں وزارتوں اسمبلیوں میں اور تکنیکی شعبوں میں محکمہ انکم ٹیکس و مالیات میں کرپٹ رشتہ داروں کو کھپایا جاتا ہے اور رونا رو رہے ہیں کہ ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کبیرہ گناہوں سے توبہ کریں اعلیٰ سیاستدانوں ، حکمرانوں ، مقتدر عہدوں پر فائز افسران سے لے کر تمام دفاتر میں براجمان چھوٹے بڑے ملازمین تک اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاکر حلف برداریاں آن ریکارڈ کریں کہ وہ بابائے قوم کے اقوال کے مطابق حقیقی طور پر ملک و قوم سے وفادار رہیں گے اور کوئی کرپشن ، اقربا پروری، سفارش نہیں کریں گے اور اس کے بعد آئی ایس آئی اور آئی بی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے تمام وزراء، مشیران، سول و ملٹری افسران کی کڑی نگرانی کی جائے اور ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے کے مرتکب عہدیداروں کے لئے سخت سزائیں دی جائیں ایسا نظام لایا جائے تاکہ کوئی بھی پاکستان کے ستقبل سے کیلنے کا تصور بھی نہ کر سکے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں اس کارخیر میں سب کا کردار ہے۔

  • وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل ہے۔چیمبر آف کامرس

    ڈیرہ غازیخان ۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈی جی خان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ، نیپرا کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کومسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دے دیا ،بجلی پٹرول اور LPGکی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان، ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کر نے کا اعلیٰ حکام سے مطالبہ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ تفصیلات کے مطابق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈیرہ غازیخان کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اجلاس صدر چیمبرڈاکٹر محمد شفیق خان کی زیرِصدارت منعقد ہوا جس میں سینئرنائب سردار شہباز علی خان نصوحہ ، نائب صدرسردار خلیل احمد خان علیانی سابق صدور خواجہ محمد یونس ،سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ، سابق سینئر نائب صدور محمد لطیف خان پتافی ،شیخ محمد طارق اسماعیل قریشی ، شیخ محمد زاہد نظام ، سابق نائب صدر مرزا محمد ظفر اقبال ممبران ایگزیکٹوکمیٹی ،سینئر ممبران چیمبر، سیکریٹری جنرل چیمبر محمد مجاہدملک کے علاوہ دیگر ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے نمائندگان اور مرکزی انجمن تاجران کے سٹی اور ضلعی عہدیدارن و صدور نے شرکت کی اجلاس میں گذشتہ روز حکومت کی طرف سے نیپرا کے ذریعے بجلی اورپٹرول کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں اور عوام کیلئے زہرقاتل قرار دیتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،اجلاس میں ممبر ایگزیکٹو کمیٹی عبدالکریم خان کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرا چیمبر آف کامرس کی توسط سے حکومت پاکستان،وزیراعظم پاکستان اورFBRکے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازیخان میں FBRاپنا RTOآفس قائم کرے جہاں FBRبڑی کمپنیوںاور بڑے اداروں کو درپیش مسائل حل کرے ان بڑے اداروں کے انکم ٹیکس کے گوشوارے ،ان کے ری فنڈ کے کیس دیگر اپیل کی سماعت اور فیصلے کرنے کیلئے فی الفور اپنا RTOآفس ڈیرہ غازیخان میں قائم کرے کیونکہ یہاں کی کاروباری برادری اور بڑی کمپنیوں اور اداروں کو ملتان جانا پڑتا ہے جس سے ان کا ایک تو وقت کا ضیا ع ہو تا ہے اور مزید کئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے ڈیرہ غازیخان میںRTO قائم ہونے سے ہماری آمدنی کا ٹیکس جو ایف بی آر ملتان میں جمع ہوتا ہے اس کا شماربھی ڈیرہ غازیخان میں ہو گا اور اس سے جو سہولیات اور مراعات حاصل ہوں گی ان کا ریلیف بھی ڈیرہ غازیخان کے تاجروں اور بڑی کمپنیوں کوحاصل ہوگااس سے ان کو وقتی پریشانیوں سے نجات مل جائے گی اور اس سے علاقے کی عوام کو فائدہ حاصل ہوگا۔ نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ڈیرہ غازیخان کلکٹر کسٹم کا آفس بھی ڈیرہ غازیخان میں قائم کیا جائے کیونکہ ڈیرہ غازیخان بلوچستان کے بارڈر پر واقع ہے یہاں سے غیرملکی گاڑیو ں کا گزر اور دیگر مصنوعات کا بھی گز ر ہوتا ہے اگر یہاں کلکٹر آفس قائم کیا جائے اس ملک کی کسٹم آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہواور لوگوں کو ملتان کی بجائے ڈیرہ غازیخان میں یہ سہولیات میسر آئیں گی اس پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پاکستان ، وزیراعظم پاکستان اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈیر ہ غازیخان میں ایف بی آر کا آر ٹی او آفس اور کلکٹر کسٹم کا آفس فوری طور پر قائم کیا جائے ۔اجلاس میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آفس کی قطعہ اراضی کے لئے صدر چیمبر ڈاکٹر محمد شفیق خان پتافی نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیایہ کمیٹی سردار ذوالفقار علی خان نصوحہ سابق صدر و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹیز کی قیادت میں باہمی مشاورت سے کام کرے گی اس کمیٹی کاکام چیمبر آفس کی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے پرائیویٹ رقبہ کی شہر کے اندر یا شہرکے قریب ترین مقامات پر نشاندہی کرے گی اوراس کی قیمت کے بارے میں رپورٹ مرتب کرے گی جس کی روشنی میں ایگزیکٹو کمیٹی اپنی اگلی میٹنگ میں رقبہ کی خریداری کے لئے فیصلہ کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرے گی اجلاس میں ڈیرہ غازیخان میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے بارے میں غور کیا گیا ڈیرہ غازیخان میں چیمبر کی طرف سے ٹیکس فری انڈسٹریل زون اور انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کے بارے میں حکومت سے مطالبہ کیا کیونکہ کو ئٹہ روڈپر حکومت پنجاب کا وسیع رقبہ موجود ہے اور پچھلے دور حکومت میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کیلئے رقبہ ڈکلیئراور مختص کیاجاچکاتھا اس پر کام شروع کیا جائے حکومت وہاں انڈسٹری کے قیام کیلئے خصوصی مراعات اعلان کرے اور کم از کم دس سال کیلئے ٹیکس ہالیڈے کا علان کرے ۔اجلاس کے آخر میں چیمبر کی رکنیت کیلئے موصول ہونے والی نئی دس ممبر شپ درخواستوں کی منظور ی بھی دی گئی جوکہ چیمبر کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر لحاظ سے مکمل تھیںاجلاس میں تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی گئی اور یکم جولائی سے کاروبارکی بندش کے اوقات کار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    ایشیا کپ 2023 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کیلئے ایک خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کو ساؤتھ ایشین گیمز 2023 کی میزبانی مل گئی۔اس حوالے سے آنے والے سال کے آخری مہینوں اكتوبر اور نومبر میں مختلف شہروں میں ایونٹ کا انعقاد کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ ورچوئل اجلاس میں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کو دینے کا اصولی فیصلہ ساؤتھ ایشیا اولمپک کمیٹی نے کر لیا ہے۔

    اس حوالے سے ایک اور اہم خبر سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ ٹورنامنٹ کے میچز کے لیے کچھ شہروں کو بطور وینیو منظور کر لیا گیا ہے۔ ان شہروں میں اسلام آباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور ان تمام شہروں کو ٹورنامنٹ کیلئے بطور وینیو شامل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس یونٹ میم صرف ایک ہی کھیل نہیں کھیلا جائے گا۔ بلکے کھیلوں کا باقاعدہ طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔ اور 20 سے زیادہ کھیلوں کا انعقاد کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    گوگل نےہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے صارفین کو پیغام دیا ہے کہ وہ گوگل چیٹ پرمنتقل ہوجائیں –

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ہینگ آؤٹس سروس کو نومبر میں ریٹائر کردیا جائے گا ہینگ آؤٹس موبائل ایپ استعمال کرنے والے افراد سے چیٹ ایپ پر سوئچ کرنے کا کہا جائے گا۔

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    کمپنی نے بتایا کہ اسی طرح ویب براؤزر پر جی میل کے ذریعے ہینگ آؤٹس استعمال کرنے والے افراد کو جولائی میں چیٹ پر اپ گریڈ کردیا جائے گا صارفین کا چیٹ ڈیٹا خودکار طور پر ہینگ آؤٹس سے گوگل چیٹ پر منتقل ہوجائے گا۔

    کمپنی نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا ایکسپورٹ ٹول گوگل ٹیک آؤٹ کو استعمال کرکے ہینگ آؤٹس سے اپنا ڈیٹا نومبر سے قبل ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

    واضح رہے کہ گوگل ہینگ آؤٹس کو 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا جو اس وقت گوگل پلس کے اندر چیٹ پلیٹ فارم تھا بعد ازاں گوگل نے اس پلیٹ فارم کو دیگر سروسز جیسے جی میل کا حصہ بنا دیا تھا۔

    2017 میں گوگل چیٹ کو متعارف کرایا گیا جو کاروباری صارفین کے لیے میسجنگ ٹول تھا گوگل کی جانب سے ہینگ آؤٹس سے چیٹ پر لوگوں کو منتقل کرنے کی وجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین بھی ہیں۔

    امریکا اور یورپی یونین قوانین کے مطابق گوگل چیٹ میں صارفین کو نقصان دہ لنکس سے زیادہ ٹھوس تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ 2 کی بجائے ایک سروس پر کام کرنا بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    اردن کی عقبہ بندرگاہ میں زہریلی گیس کا سلنڈرپھٹنے سے 13 افراد ہلاک ،200 سے زائد زخمی

  • الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر کا دورہ پاکستان اور بھارتی ردعمل

    الہان ​​عمر ایک امریکی سیاست دان ہیں جو 2019 سے مینیسوٹا کے 5 ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس نے 20-24 اپریل 2022 کو پاکستان کا پہلا دورہ کیا اور پاکستانی سیاست دان/قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ثقافتی شہر لاہور کا دورہ کیا اور آزاد جموں و کشمیر کا بھی دورہ کیا۔ کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے جو جنوبی ایشیا کے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ رہا ہے جس کی وجہ سے 1947 میں برطانوی سلطنت سے آزادی کے بعد سے وہ تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔تاہم، کانگریس کی خواتین کے آزاد جموں و کشمیر کے دورے کی بھارتی حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی کیونکہ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر امریکہ کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔لہذا، الہان ​​ایک امریکی خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں جو انسانی حقوق پر مرکوز ہے۔ یہ اسے کشمیر کے اس خطے میں لے آیا ہے جہاں بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کی دلچسپی ریاست کے زیر اہتمام اسلام فوبک تشدد اور استثنیٰ پر اس کے اعتراض سے پیدا ہوتی ہے۔

    کشمیر پر ان کا موقف
    اس کے بعد، کشمیر کے اپنے دورے پر، انہوں نے کہا کہ وہ امریکی کانگریس اور بائیڈن انتظامیہ کو مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نہیں مانتی کہ کشمیر کے بارے میں اس حد تک بات کی جا رہی ہے جس کی اسے کانگریس سے ضرورت ہے بلکہ انتظامیہ کے ساتھ بھی”۔پاکستان کے دارالحکومت میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے کشمیر کے سوال پر کہا کہ ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کو دیکھنے کے لیے خارجہ امور کی کمیٹی (کانگریس) میں سماعت کی۔ اس سے قبل، اپریل 2022 میں، اس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرنے میں امریکی حکومت کی پر سوال اٹھایا تھا۔کانگریس میں اور پھر ٹویٹر پر انہوں نے کہا کہ مودی انتظامیہ کو ہمارے کچھ کہنے کے لیے ہندوستان میں مسلمان ہونے کے عمل کو کتنا جرم قرار دینا ہے۔ مودی انتظامیہ اپنی مسلم اقلیتوں کے خلاف جو کارروائی کر رہی ہے اس پر ظاہری تنقید کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی بھرپور حمایت کی ہے اور اکثر اپنی رائے کو ٹویٹ کیا ہے۔ 2019 میں مودی کے ذریعہ کشمیر کے الحاق کے بعد، عمر نے مواصلات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق، جمہوری اصولوں اور مذہبی آزادی کا احترام؛ اور کشمیر میں کشیدگی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو زمین پر کیا ہو رہا ہے اس کی مکمل دستاویز کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ڈیموکریٹ رہنما اسلامو فوبیا کے خلاف بھی بولتے ہیں اور شدت پسند گروپوں کا اکثر نشانہ بنتے ہیں۔

    کشمیر تک رسائی: پاکستان پالیسی بمقابلہ انڈیا پالیسی
    پاکستان بین الاقوامی اور غیر جانبدار مبصرین کو آزاد کشمیر اور کنٹرول لائن کا دورہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور انہیں باقاعدگی سے سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ سرحد کے اس طرف کشمیری کتنے پرامن طریقے سے رہ رہے ہیں۔لہٰذا کانگریس خواتین کا آزاد کشمیر کا دورہ پاکستان کی اس شفاف اور واضح پالیسی کا حصہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور جس نے یہ ظاہر کیا کہ کشمیری کس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔دوسری طرف، بھارت نے بین الاقوامی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی سختی سے اجازت نہیں دی۔ اس نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ اور غیر ملکی میڈیا کے افراد کو کشمیر میں کنٹرول لائن کے بھارتی حصے کا دورہ کرنے سے منع کیا ہے۔ ماضی میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کو مقبوضہ کا دورہ کرنے سے بھی منع کیا ہے۔غیر ملکی کا مقبوضہ کشمیر کا آخری ہائی پروفائل دورہ 2019 میں تھا، وہ بھی یورپی پارلیمنٹ کے انتہائی دائیں بازو کے اراکین نے جو اپنے انتہا پسندانہ خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ ساتھ حریفوں کے لیے انسانی حقوق کو اعلیٰ ترجیح دیتا ہے۔ لیکن بھارت اقلیتوں اور خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے امریکہ کا ناقابل اعتبار پارٹنر ثابت ہو رہا ہے۔امریکی حکام کے لیے اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کرنا اب ممکن نہیں۔ سکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن نے اپریل کے اوائل میں ہندوستان کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا، "ہم ہندوستان میں کچھ حالیہ پیش رفتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن میں بعض حکومتوں، پولیس اور قیدیوں کے اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔بھارت کو طویل عرصے سے اپنے علاقے میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا ہے، لیکن نئی دہلی ہمیشہ اس کی تردید کی ہے

    دورے پر ہندوستان کا ردعمل
    لہٰذا، بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے الہان ​​عمر کے دورہ آزاد کشمیر کے بعد کے خلاف استعمال کی گئی غیر سفارتی زبان نے اس حقیقت پر مزید مہر ثبت کر دی ہے کہ بھارت امریکہ کا ناقابلِ بھروسہ ساتھی ہے۔ امریکہ کا سٹریٹجک پارٹنر ہونے کے باوجود بھارت امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن کے خلاف غیر سفارتی زبان استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ان کے آزاد کشمیر کے دورے پر تبصرہ کیا۔ ’’میں صرف اتنا کہوں کہ اگر ایسا سیاستدان گھر میں اپنی تنگ نظر سیاست کرنا چاہے تو یہ اس کا کاروبار ہے۔‘‘ . الہان ​​عمر کے خلاف بھی ایسا ہی مشاہدہ کیا گیا۔ الہان ​​عمر کے خلاف غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے بھارت نے ایک بار پھر تسلیم کر لیا ہے کہ وہ امریکہ کا ناقابل اعتماد اتحادی ہے جو اسے کسی بھی غیر متوقع لمحے میں شرمندہ کر سکتا ہے۔

    آگے بڑھنے کا راستہ
    آزاد کشمیر تک غیر ملکیوں کی آسان رسائی کشمیر کی پاکستانی جانب پرامن صورتحال کا ثبوت ہے۔ جبکہ ہندوستان کا غیر ملکی عہدیدار کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار دنیا سے اپنے مظالم اور طاقت کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش ہے۔ بھارت کو امریکی کانگریس کی خاتون رکن کا پاکستان کے آزاد کشمیر کے دورے کو حقیقت پسندانہ انداز میں لینا چاہیے اور تنقید کرنے کے بجائے غیر جانبدار غیر ملکیوں کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی دعوت دینی چاہیے۔ دنیا سے حقائق چھپانے سے تنازع حل نہیں ہو سکتا، بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے اختلافات کو حل کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

  • جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب

    ڈیرہ غازی خان۔گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ کسی معاشرے کی ترقی میں اعلی تعلیم کا کردار مسلمہ ہے، جامعات کو انڈسٹریز، کامرس، آئی ٹی اور ای مارکیٹنگ کی ذمہ داریوں کے احساس کو سمجھتے ہوئے عملی فیلڈ میں آنا ہوگا، تعلیم کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے.وفاق اورپنجاب حکومت اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے بھرپور وسائل فراہم کررہی ہے .فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو کامیابیاں سمیٹنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،طلبہ کے چمکتے چہرے اس بات کے عکاس ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک و قوم کا نام روشن کرینگے۔
    باغی ٹی وی۔ گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری زندگیوں میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے جن کا احسان اتارا نہیں جا سکتا،اعلی تعلیم میں بہترین صلاحیتیوں کو غازی یونیورسٹی بروئے کار لا رہی ہے، اساتذہ طلبہ کو مل جل کر کام کرنا سکھائیں کیونکہ دنیا میں اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے،طلبائوطالبات سافٹ ڈیجیٹل فیلڈز میں نام پیدا کریں، انہوں نے کہاکہ ہم سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں،مل جل کر کام کرنے والی قومیں ہی دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں ، خوشی ہے کہ غازی یونیورسٹی اکیڈمک کیلنڈر بنانے والی پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے، انہوں نے کہاکہ جدید علوم کے احیاء کے ساتھ جامعات میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے بھی کام کرنا ہوگا،طلبائوطالبات جو کام کریں اچھے طریقے سے کریں، ہمارا آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہئے .وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازیخان پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ غازی یونیورسٹی کے کانووکیشن کا مقصد پاس آوٹ طلبائو طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، یونیورسٹی میںطلبہ کو تعلیم حصول کے بعد درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ای روزگار کی ٹریننگ بھی دی گئی ہے،جدید ٹیکنالوجی سے متعلقہ ڈپارٹمنٹس کا قیام میری اولین ترجیح رہی ہے،طلبہ وطالبات تعلیم حصول کے بعد ملک و قوم کی ترقی کیلئے صلاحیتیں بروئے کار لائیں.غازی یونیورسٹی کے پہلے کانووکیشن میں تین ہزار سے زائد طلبائو طالبات کو میڈلز اور ڈگریاں دی گئیں. قبل ازیںگورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے باقاعدہ کانووکیشن کے انعقاد کی اجازت دی اور یونیورسٹی کے پوزیشن ہولڈرطلبائو طالبات اور اساتذہ میں میڈلز تقسیم کیے۔

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)