Baaghi TV

Category: بلاگ

  • طبل جنگ بج گیا ، دنیا نئی معاشی بحران کی جانب گامزن،تحریر: نوید شیخ

    طبل جنگ بج گیا ، دنیا نئی معاشی بحران کی جانب گامزن،تحریر: نوید شیخ

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ روس اس وقت دنیا بھر میں talk of town بن چکا ہے ۔ وجہ اس کی یہ نہیں کہ پاکستان اس تنازعہ میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ دورہ شروع ہونے سے صرف ایک دن پہلے ہی حالات اس تیزی سے بدلے ہیں ۔ کہ اب مشرق اور مغرب کی نظریں ہم پر لگ گئی ہیں کہ ہم اس تنازعہ میں کیا موقف اپناتے ہیں۔ کیونکہ اپنی کمزرویوں کے باوجود بہرحال ہم ہیں تو ایک ایٹمی طاقت اور مسلمان دنیا کا ایک اہم ملک ۔

    ۔ اس وقت جہاں روسی صدر پیوٹن نے اپنے پتے شو کروادیے ہیں تو دوسری جانب یوکراین کے وزیر دفاع نے اعلان کردیا ہے کہ جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں سختیاں بھی ہوں گی نقصان بھی ہوگا لیکن ہمیں درد کو برداشت کرتے ہوئے خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہے۔ دراصل انھوں نے طبل جنگ بجا دیا ہے ۔ کیونکہ ان کی انتہائی جذباتی پوسٹ نے سیکیورٹی اہلکاروں کے لہو کو گرما دیا ہے ۔۔ یوں یہ کہنا ہے کہ یوکرائن کے بحران نے ایک نیا رخ اِختیار کرلیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔۔ اب یوکرائنی وزیر دفاع کے بیان کے بعد عین ممکن ہے کہ عمران خان کے دورہ روس کے دوران ہی روس اور یوکرائن کی جنگ چھڑ جائے ۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سفارت کاری اور statesmanship کا بھی امتحان ہے ۔ کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے مفادات میں فیصلہ کیا جائے ۔ کیونکہ پاکستان خود سفارتی محاذ پر بہت سے اہم مسائل کا شکار ہے ۔ جہاں ایک جانب ایف اے ٹی ایف کا معاملہ ہے تو بھارت کی مسلسل جارحیت کا بھی سامنا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا معاملہ بھی آپکے سامنے ہے ۔ پھر ایک جانب امریکہ ہے تو چین کی صورت میں امریکہ کے سامنے خطے میں ایک اور طاقت موجود ہے۔ سی پیک کی شکل میں چین گوادر تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی بدحالی کا بھی براہ راست اثر ہم پر ہے ۔ پھر نیٹو کی شکل میں پورا یورپ اس تنازعہ کا اہم فریق ہے اور سب جانتے ہیں کہ ہماری زیادہ تر ایکسپورٹس کا دارومدار یورپ اور امریکہ کی منڈیاں ہیں ۔ اسکے علاوہ ہم آئی ایم ایف کے چنگل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس سے آزاد ہونا ممکن نہیں دیکھائی دیتا۔ یوں وقت کا تقاضا ہے کہ عمران خان اور ریاست پاکستان کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت صرف اور صرف اپنے مفادات کا سوچے ۔

    ۔ اب دیکھنا ہے عمران خان روس سے کیا لے کر آتے ہیں۔ اور کیا دے کر آتے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب تجزیہ کیا جائے تو یوکرائن روس کے مقابلے میں ایک کمزور بچہ دیکھائی دیتا ہے ۔ پر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کمزور بچے کی پشت پر بہت بڑے بڑے پہلوان کھڑے ہیں ۔ جو نہ اس بچے کو پیچھے ہٹتے دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی گرنے دینا چاہتے ہیں ۔ ۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس فروخت کرنے والا ملک روس ہے۔ اس کے بعد قطر اور ناروے کا نمبر ہے۔ پھر سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والا ملک امریکا ہے۔اس کے بعد روس اور سعودی عرب کا نمبر ہے۔۔ روس یورپ کی پینتیس فیصد گیس ضروریات پوری کرتا ہے۔سب سے بڑا خریدار جرمنی ہے۔اس کے بعد اٹلی ، ترکی ، آسٹریا ، فرانس ، پولینڈ ، ہنگری اور سلواکیہ کا درجہ ہے۔ روسی گیس کے خریداروں میں بلجیئم ، ڈنمارک ، فن لینڈ ، ہالینڈ ، برطانیہ ، یونان ، سوئٹزر لینڈ ، بوسنیا ، کروشیا ، بلغاریہ ، چیک جمہوریہ ، سلووینیا ، سربیا اور رومانیہ بھی شامل ہیں۔یوں صرف گزشتہ سال روس نے چار سو نوے بلین ڈالر کی اشیا دنیا کو فروخت کیں۔ جس میں بڑا حصہ تیل اور گیس کا تھا ۔ ۔ یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ روس یوکرین جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ تو ان دونوں کا تو نقصان جو ہوگا سو ہو گا۔ مگر اس جنگ کے بدلے اگر یورپ اور امریکا روس کا معاشی بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ جس کے واضح اشارے مل رہے ہیں تو پھر روسی تیل، گیس اور غلہ بھی باقی دنیا تک نہیں پہنچتا۔ اور پابندیوں کے بعد جب خام تیل کی قیمیتں مزید اوپر جائیں گی تو سوچئے کہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کا کیا ہوگا جو پہلے ہی تیل ، گیس اور اناج کی بڑھتی قیمتوں کے سبب معاشی طور پر دیوالیہ ہوا پڑا ہے ۔

    ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی صرف خبروں کی بنیاد پر ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت
    97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ عالمی ادارے Fidelity انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ پھر لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔۔ آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔ تو بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔۔ فی الحال روس کے گزشتہ روز کے اعلانات کے درعمل میں برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے اور روس کے پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ توکہا جا رہا ہے کہ امریکا بھی آج کسی وقت روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔۔ پھر امریکا مغربی میڈیا اور خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے روس کو جارح ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ۔ تنازعہ کی جڑ یہ ہے کہ امریکا یوکرین کو نیٹو ممالک کی تنظیم میں شامل کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ اپنے دور مار ایٹمی میزائل یوکرائن کی سر زمین پر نصب کر کے روسی سلامتی کو براہ راست خطرے میں ڈال دے جس کی روس کبھی بھی اجازت نہیں دے گا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکا کی عالمی بالا دستی خطرے میں ہے۔ یاد کریں 15 اگست 2021 کو کابل سے امریکی فوج کے انخلاء پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ امریکا اب عالمی طاقت نہیں رہا۔ روس ، چین اسٹرٹیجک اتحاد بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ۔ ایک وقت تھا کہ امریکی سازشوں نے سویت یونین اور چین میں دشمنی پیدا کر دی تھی ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو امریکا کبھی دنیا کی واحد سپر پاور نہ بن سکتا۔ اس طرح چین کو سوویت یونین سے دور کر کے امریکا نے سوویت یونین کو افغانستان کے پہاڑوں میں گھیر کر آسانی سے شکست دے دی۔

    ۔ اب تو صورتحال بالکل مختلف ہے کہ امریکی اتحادی بھی اسے عالمی طاقت ماننے کے لیے تیار نہیں تو دوسری طرف چین امریکی ماہرین کے مطابق اگلے چند سالوں میں امریکا کی جگہ لیتے ہوئے دنیا کی نمبر ون معاشی طاقت بننے والا ہے۔ دوسری طرف روس ہے جو جنگی میدان میں امریکا کے لیے بڑا خطرہ بننے والا ہے۔ امریکی جریدے scientific american کی رپورٹ کے مطابق مستقبل کی لڑائی میں روس کی نئی صلاحیتوں کو روبوٹک ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنیوالے حملوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ جس میں فضائی اور خلائی حملوں سمیت میزائل شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس کئی اہم جنگی شعبوں میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ۔ بات یہ ہے کہ روس اور چین نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ کس طرح امریکا نے ماضی میں دونوں ملکوں میں اختلافات اور دشمنی پیدا کر کے دنیا پر غلبہ پایا۔۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ امریکا ہر اس ملک کا دشمن ہے جو اس کی عالمی بالا دستی کو چیلنج کر سکتا ہو۔ چاہے وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہو یا عسکری معاشی معاملات میں۔ مگر دیوار پہ لکھا سچ یہ ہے کہ امریکا کی اس طویل بالا دستی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ ۔ اسی طرح حالیہ سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جرمنی کا رویہ امریکہ کے رویے سے مختلف ہے اور جرمنی کے اَہم معاشی مفادات کارفرما ہیں۔ اَمریکہ کے نزدیک روسی صدر پیوٹن کے سیاسی اور معاشی عزائم کو روکنا اولین ترجیح ہے جِس کے لیے مغرب کے سامنے روس کے عزائم کو ایک بڑھتے ہوئے خطرہ کے طور پر پیش کرنا ہے جِس کا اِس وقت سدِباب ناگزیر ہے جبکہ یورپ خاص طور پر جرمنی کو گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گیس درکار ہے۔

    ۔ پھر جرمنی اور روس کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون سے بھی امریکہ، یوکرائن سمیت چند یورپی ممالک ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے خائف ہیں۔ ۔ اسی لیے امریکہ اپنے سٹریٹجک مفادات پر ضرب لگنے کے خطرات کے پیشِ نظر روس اور جرمنی کے مابین ہونے والے گیس منصوبے کو آپریشنل ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ یوکرائن کے موجودہ بحران کے جنم لینے سے بھی پہلے امریکہ نے اس منصوبے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ صدر بائیڈن کی اِنتظامیہ نے مئی 2021 میں دو اَہم پابندیاں ختم کردی تھیں ۔ ۔ اپنی بات میں اس پوائنٹ پر ختم کروں گا کہ چین اور روس کا اسٹرٹیجک اتحاد امریکی عالمی بالا دستی کے لیے موت کا پیامبر ہے۔

  • کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:ترجمان دفتر خارجہ

    کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد:کشمیری کبھی بھی بھارتی قابض افواج کی بربریت کو نہیں بھولیں گے:اطلاعات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کی بربریت کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے

    2020 کے ہولناک دہلی فسادات کی دوسری برسی اور 1991 میں ہندوستان کے غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے کنن اور پوش پورہ دیہات میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی 31 ویں برسی کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فروری 2020 کا دہلی قتل عام ہندوستان کی مسلم کمیونٹی کے خلاف امتیازی سلوک، اور منظم مہم کی ہولناک مثالوں میں سے ایک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امتیازی شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے ’غداروں کو گولی مارو‘ کے بیانات نے انکی نفرت کی گہرائی کو ظاہر کیا، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم مہم شروع کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام اور ان کی املاک، کاروبار اور تاریخی مقامات کی توڑ پھوڑ اور ان کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی گئی، تئیس اور چوبیس فروری 1991 کی بھیانک یاد بھی اتنی ہی خوفناک ہے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کے کنن اور پوش پورہ دیہات میں 40 سے زائد کشمیری خواتین کی بے رحمی سے عصمت دری کی، 31 سالوں سے اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کی اس بربریت کو کبھی نہیں بھولیں گے، پاکستان اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر اسی برس کی خواتین تک کی 100 کے قریب کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کو اکتیس سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرہ خواتین ابھی تک انصاف کی منتظر ہیں جبکہ گھناونے جرم میں ملوث فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11ہزار 2سو 47 خواتین کی عصمت دریعصمت دری اور بے حرمتی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کنن پوش پورہ واقعہ قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں کیے جانے والے جنگی جرائم کا ثبوت ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھارت پر دباوڈالا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ بھارت کو کشمیریوں کے خلاف گھناونے جرائم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

  • پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی       :پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:

    پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی :پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:

    لاہور:پاکستان کس منہ سےآوگےفواد:شرم تم کومگرنہیں آتی:پاکستان کوبدنام کرنےوالےفواد احمد کا دورہ پاکستان:پی سی بی کا امتحان،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آرہی ہے اور اس ٹیم وہ بے وفا پاکستانی بھی شامل ہے جس نےدنیا بھرمیں پاکستان کی بدنامی کرکے پاکستان کی ناک کٹوانے میں اپنا بھرپورحصہ ڈالا

    یاد رہے کہ چند دن پہلے کرکٹ آسٹریلیا نے دورہ پاکستان کے لیے 16 رکنی وائٹ بال اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

    کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق ایرون فنچ اسکواڈ کی قیادت کریں گے،چیئرمین نیشنل سلیکشن پینل جارج بیلی کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستان کے ٹور کے لیے باصلاحیت اور ورسٹائل اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اگلے ورلڈ کپ کے لیے ون ڈے تشکیل دینے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ تین میچز پر مشتمل ایک روزہ میچز کی سیریز راولپنڈی میں کھیلی جائے گی جس میں 29 ، 31 مارچ اور 2 اپریل کو دونوں ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دیں گی۔

    5 اپریل کو واحد ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا، آسٹریلیا نے پاکستان میں تین ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی میچ کھیلنا ہے،آسٹریلیا ٹیسٹ اسکواڈ کی پاکستان آمد 27 فروری کو شیڈولڈ ہے اور وائٹ بال اسکواڈ کے ارکان ٹور کے درمیان میں جوائن کریں گے۔

    دوسری طرف اہل پاکستان نے ایک قابل توجہ سوال پیش کیا ہے کہ آسٹریلیا کی اس ٹیم میں کے پی میں پیدا ہونے والے فواد احمد بھی پاکستان آرہے ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کی شہرت حاصل کرنے کے لیے پاکستان ،اہل پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر سنگین الزامات لگائے تھے ،

    اس وقت اہل پاکستان پوچھ رہے ہیں کہ فواد یہ وہی پاکستان ہے جہاں آپ کے بقول آپ کی جان کوخطرہ تھا تو آج آپ پاکستان کیوں آرہے ہیں ، پاکستان میں وہی لوگ ہیں جو پہلے تھے ، اگر اس وقت آپ کی جان کو خطرات تھے تو آج آپ کی جان کو خطرات نہیں ، ، آخرآپ نے یہ سازش کیوں کھیلی

    یہ بھی یاد رہے کہ فواد احمد نے ہر انڈین چینل پر پاکستان کو ایسا بدنام کیا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، لیکن اب وہ پی ایس ایل کھیل رہے ہیں، شائیقین کرکٹ کہہ رہے ہیں کہ فواد پاک ٹیم کا 50 فیصد حصہ کے پی کے سے ہےپھر آپ کی جان کو خطرہ کیسے نہیں؟

    یاد رہےکہ پاکستان میں پیدا ہونے والے لیگ اسپنر فواد احمد نے آسٹریلیا اور انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے کی غرض سے ایسی کہانیاں گھڑی تھیں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے

    آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کرنے والے احمد نے مختلف میڈیا چینلز بالخصوص بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے پاکستانیوں کی طرف سے شدید دھمکیاں دی گئیں۔

    "انہوں نے مجھے دہشت زدہ کیا، انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ وہ خواتین کو تعلیم دینا پسند نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان پر آسانی سے غلبہ حاصل کر سکیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ فواد احمد نے پاکستان کی بدنامی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ، پاکستانی ہی تھے جنہوں نے صبر کا مطاہرہ کیا اور آج بھی اپنے دیس میں پیدا ہونے والے فواد احمد کا استقبال کرنے کے لیے کھلے دل دے تیار ہیں لیکن لوگ پی سی بی سے پوچھ رہے ہیں‌ کہ فواد سے پوچھیئے ضرور کہ وہ سازشیں کیوں کی گئیں‌

  • کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کرپشن اور پاکستان، تحریر:عبدالوحید

    کسی بھی ترقی یافتہ ممالک میں سیاستدانوں پر جب معمولی کرپشن کے الزامات لگتے ہیں تو فوری مستعفی ہو جاتے ہیں
    مگر یہاں کے سیاست دانوں کی بات ہی کچھ اور ہے ۔اس ملک کے سیاست دان اپنی کرپشن کا کھل کر دفاع کرتے ہیں اور خود کو بہت بڑا فاتح سمجھنے لگ جاتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہوا ۔ کرسٹیان وولف جرمنی کے صدر تھے ۔اور وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ۔اور یہ انکشاف ہوا کہ نجی سفر کے دوران ان کے ہوٹل کا کرایہ ان کے کسی دوست نے ادا کیا تھا جو کہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔اور ساتھ ہی کرسٹیان وولف نے اپنے مکان کے لیے رعایتی شرائط پر قرض لینے کا بھی الزام تھا ۔ ان الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا ۔ کرسٹیان وولف نے سبکی سے بچنے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صدر نے اپنے بیان میں کہا ان واقعات کی وجہ سے مجھ پر عدم اعتماد کا دھچکا لگا ہے اس لیے میں صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔

    ایسے کئی واقعات ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے سربراہان پر لگے اور انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔ لیکن پاکستان میں جس طرح کی لوٹ مار ہورہی ہے اس پر کسی کو شرمندگی تک محسوس نہیں ہوتی ۔ موجودہ دور کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں کے تمام تر بڑے لوگوں پر کرپشن کے الزامات ہیں اور بہت سے لوگوں پر کرپشن ثابت بھی ہوچکی ہے اور اس بنیاد پر انہیں جیل بھی ہو چکی ہے لیکن وہ کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی اور اپنے کرپشن کا بڑھ چڑھ کر دفاع کرتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔

    کرپشن کسی بھی ملک کے لیے ناسور ہوتا ہے جس سے ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب جاتا ہے ۔کرپشن چاہے مالی ہو اخلاقی ہو اس حقیقت سے کون منکر ہوسکتا ہے کہ قومی خزانے کی چوری ملک کی مالی وسائل کی لوٹ مار ایسا ناسور ہے جو ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت پورے معاشرے میں ایک خطر ناک حد تک ناسور سرائیت حاصل کر چکی ہے ۔ پوری قوم رشوت اور مالی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کرتی نظر آتی ہے کرپشن ایک ہمہ جہت سماجی برائی ہے ۔ جب طبقات میں سماجی توازن برقرار نا رہے اور معاشی ناہمواری بڑھتی چلی جائے ۔ تو اعلیٰ اقدار ، سماعت ، مساوات انصاف ،احترام ، آدمیت ،اور انسان دوستی کا فروغ ملنا بند ہو جاتا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافے سے چوری ، قتل ،ڈاکے ،دہشت گردی کے جارحانہ رویوں اور اخلاق سوز سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔معاشرے میں صحت مند مقابلہ کا رحجان کم ہو جاتا ہے ۔ نااہل اور بد دیانت افراد اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور موجودہ حالات میں مصائب کاٹھیں مارتا ہوا سمندر ملک کو چاروں طرف سے گھیرے ہوا ہے ۔ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ جن کا شمار ناممکن کے قریب ہے ۔ جناح کے اس پاک سرزمین کو بد دیانت ، چور ، نااہل اور کرپٹ سیاست دانوں نے گھیر رکھا ہے ۔ ملک کو آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔ اس کرپشن کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے اس ملک میں نئے قوانین متعارف کراۓ جائیں جوکہ انتہائی سخت ہوں اور کرپٹ سیاست دانوں ، بیوروکریسی کو سخت سے سخت سزا دی جائیں تاکہ یہ دوسروں کو معلوم ہوسکے ۔ کرپشن کی سزا موت ہے ۔اس طریقے کرپشن ختم ہوسکتی ہے ۔ اگر اس کرپشن کا کوئی ادراک نہیں کیا گیا تو آئندہ آنے
    والی نسل ان لوگوں کو کھبی معاف نہیں کرے گا ۔
    جو حکمرانی کے تخت پر فائز ہیں اور جو فائز رہے ہوں۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس نے عالمی دنیا کو نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جابرانہ اقدامات کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بے گناہ لوگوں کی تذلیل کے لئے نازیبا زبان کا استعمال اور ناقابل تنسیخ حق،حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک بے سود کوشش ہے جس سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بیان میںکہا گیا کہ لوگوں کے خلاف فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی کے مقدس مقصد کے لئے کشمیریوںکے حوصلے اور بہادری ناقابل تسخیر ہے۔

    بیان میں کہاگیا کہ اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والی شہری آبادی کے خلاف دس لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کی تعیناتی بین الاقوامی قانون اور 1948 میں اقوام متحدہ کے منظور شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جبری گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جیلوں میں ڈالا گیا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کو تباہ کیا گیا ہے اور حریت پسندکشمیریوں کو زیر کرنے کے لیے ایک مطلق العنان حکمرانی اور غیر اعلانیہ مارشل لا ءنافذکیا گیا ہے۔حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ انہیں مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ محصور کشمیریوں سے مل سکیں اورموجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لے سکیں ۔

    دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ دیونیدر سنگھ بہل نے جموں میںجاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی فسطائی حکومت اور آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں سے کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھارت کو ہندو ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہے اور پورے بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک اور دیگر علاقوں میںمسلمان طالبات کے ساتھ بھارتی حکومت اور انتظامیہ کے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی۔

    ادھر بھارتی ریاست پنجاب میں دارالحکومت چندی گڑھ سمیت مختلف شہروں میں قائم یونیورسٹیوں سے منسلک200 سے زیادہ کالجوں نے کشمیری طلباءکے کوائف جمع کرنا شروع کردیے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے بعد اب پنجاب کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباءکو بھارتی حکام اور ایجنسیوں نے اپنی ذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھوئی ہامی نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی پنجاب کے کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباءکوذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کورسز کی تفصیلات کے ساتھ اپنا موجودہ اور مستقل پتہ، سیل نمبراور ای میل وغیرہ فراہم کریں۔جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • پی ایس ایل 7: پلے آف کیلئے میچ آفیشلز کا تقرر:کس کو ملا موقع نام سامنے آگئے

    پی ایس ایل 7: پلے آف کیلئے میچ آفیشلز کا تقرر:کس کو ملا موقع نام سامنے آگئے

    لاہور:پی ایس ایل 7: پلے آف کیلئے میچ آفیشلز کا تقرر:کس کو ملا موقع نام سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے 23 سے 25 فروری تک کھیلے جانے والے پی ایس ایل 7 کے پلے آف مرحلے کے لیے میچ ریفریز اور امپائرز کا تقرر کردیا۔

    23 فروری کو ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کے مابین قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے کوالیفائر میں میچ ریفری کی ذمہ داری روشن ماہنامہ ادا کریں گے، اس دوران علیم ڈار اور رچرڈ ایلنگ ورتھ آن فیلڈ امپائرز جب کہ مائیکل گف اور احسن رضا بالترتیب تیسرے اور چوتھے امپائر ہوں گے۔

    ٹورنامنٹ کا پہلا ایلیمنٹر 24 فروری کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے مابین کھیلا جائے گا، اس میچ میں ریفری کی ذمہ داریاں آئی سی سی کے چیف میچ ریفری رنجن مدوگالے کے سپرد کی گئی ہیں۔

    علیم ڈار اور مائیکل گف آن فیلڈ امپائرز جب کہ رچرڈ ایلنگ ورتھ اور راشد ریاض بالترتیب تیسرے اور چوتھے امپائر ہوں گے۔

    25 فروری کو شیڈول ایلیمنٹر ٹو کے لیے روشن ماہنامہ کو میچ ریفری مقرر کیا گیا ہے، اس دوران رچرڈ ایلنگ ورتھ اور مائیکل گف آن فیلڈ امپائرز کی ذمہ داریاں ادا کریں گے جب کہ علیم ڈار اور آصف یعقوب بالترتیب تیسرے اور چوتھے امپائر ہوں گے۔

    ایونٹ کا فائنل 27 فروری کو کھیلا جائے گا جس کے لیے میچ آفیشلز کا تقرر بعد میں کیا جائے گا۔

  • عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    عالمی سب میرین میں خرابی کے باعث پا کستان میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عالمی سب میرین کیبل میں پاکستانی سمندری حدود سے 400 کلو میٹر کے فاصلے پر کیبل میں فالٹ پایا گیا ہے ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پیر کی شام 6 بجے سے ٹرانس ورلڈ سب میرین کیبل سسٹم میں خرابی کی اطلاعات ہیں فالٹ کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی-

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق ٹرانس ورلڈ کیبل کے صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور کنورشیم انٹرنیٹ سروسز میں خلل کو کم سے کم کرنے کے لیے ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل سے وقتی طور پر بینڈ وتھ کا انتظام کیا جارہا ہے۔

    نہوں نے بتایا کہ کنورشیم کی طرف سمندر میں خراب ہونیوالی انٹر نیٹ کیبل کی لوکیشن کا پتہ چلانے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ جلد سے جلد فالٹ کو دور کرکے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال ہوسکے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی پاکستان میں سب میرین کیبل ایس ایم ڈبلیو 4 میں خرابی ہوئی تھی انٹرنیٹ کیبل میں بحرہند میں ایک مقام پر خرابی پیدا ہوئی تھی انٹرنیٹ کیبل کی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ اسپیڈ میں کمی کا سامنا رہا تھا پی ٹی اے کی جانب سے انٹرنیٹ اسپیڈ کو بہتر رکھنے کے لیے سسٹم میں اضافی ایڈہاک بینڈ وتھ شامل کی گئی تھی۔

  • اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    اذدواجی زندگی میں غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟؟

    کسی رشتے میں جذبات، محبت اور ہم آہنگی کو ایک ایسی اھم چیز سمجھا جاتا ہے، تو غصہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جوڑے اس سوال کے جواب کی تلاش میں رہتے ہیں کہ رشتے میں غصے کو کیسے قابو کیا جائے۔

    غصہ کسی بھی رومانوی شراکت داری کا ایک فطری اور ناگزیر حصہ ہے۔ جب دو لوگ اپنی زندگیوں کو اس قدر گہرے طریقے سے بانٹتے ہیں تو ان میں تصادم اور اختلاف ضرور ہوتا ہے۔ جب اس طرح کے حالات پیدا ہوں تو ‘غصہ میرے رشتے کو خراب کر رہا ہے’ کے خوف سے اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کے ساتھ صحیح طریقے سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔
    شادی یا رشتے میں حل نہ ہونے والا غصہ باہر جانے سے کہیں زیادہ نقصان دہ نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جب آپ کسی رشتے میں غصے پر قابو پانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس پر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے اور اسے ختم نہ ہونے دیا جائے۔ ماہر نفسیات کی ماہرانہ معلومات کے ساتھ، آئیے یہ معلوم کریں کہ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں۔
    اس سے پہلے کہ ہم رشتے میں غصے کی جگہ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آئیے اس بات پر غور کریں کہ غصہ دراصل کیا ہے۔ اس جذبات کو بڑی حد تک ایک منفی احساس کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے جو رومانوی شراکت داری کو تباہ کر سکتا ہے۔ غصے کو بھی اکثر محبت کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ کہ غصہ رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے عام طور پر اس عقیدے میں جڑا ہوا ہے کہ جب آپ کسی سے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں تو آپ ان سے محبت نہیں کر سکتے۔
    حقیقت میں، غصے کے جذبات سے منسلک یہ تمام تصورات غلط ہیں۔ غصہ صرف ایک اور انسانی جذبہ ہے جسے مکمل طور پر ختم یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری نہیں کہ یہ آپ کے رشتے کے لیے تباہی کا باعث بنے، اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کوئی بھی جوڑا زندہ نہیں رہ سکتا۔ جو چیز واقعی اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی رشتے میں حسد یا غصے کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ اس سے مکمل طور پر بچنے کی کوشش کریں۔
    ‘کیا رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے’ کے سوال پر واپس گھومتے ہوئے، نکی بینجمن کہتی ہیں، "جی ہاں، رشتے میں غصہ محسوس کرنا معمول کی بات ہے لیکن یہ کس حد تک مختلف عوامل پر منحصر ہے۔ غصہ، اعتماد میں کمی، واضح مواصلات کی کمی، تفریق یا غیر متوازن طاقت کی حرکیات جیسی وجوہات غصے کے جذبات کی جائز وجوہات ہو سکتی ہیں۔
    اگرچہ یہ عام بات ہے، وجوہات بڑی حد تک آپ کے غصے/جواب کی صداقت کا تعین کرتی ہیں۔ اگر آپ اپنے رشتے میں جلدی ناراض ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اپنا غصہ کھو دیتے ہیں، تو اس میں شامل کسی کے لیے بھی ہموار سفر نہیں ہوگا۔ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نقصان نہ پہنچانے کے لیے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رشتے میں مختصر مزاج پر کیسے قابو پایا جائ