Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واحد ٹی 20 میچ: آسٹریلیا نے پاکستان کو3 وکٹ سے شکست دیدی

    واحد ٹی 20 میچ: آسٹریلیا نے پاکستان کو3 وکٹ سے شکست دیدی

    لاہور:قذافی اسٹیڈیم لاہور آج پھر ایک بار اہل لاہورکےلیے تفریح کا سامان بننے جارہا ہے،آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس جیت کر پہلے خود فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان نے واحد ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کو جیت کیلئے 163 رنز کا ہدف دے دی تھا۔جس کے جواب میں آسٹریلیا نے پاکستان کو واحد ٹی 20 میچ میں3 وکٹ سے شکست دے دی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے ٹی 20 میچ میں آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر قومی ٹیم کے قائد بابر اعظم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    آسٹریلیا اننگز

    163 رنز کا ہدف مہمان ٹیم نے7 وکٹ کے نقصان پر آخری اوور میں حاصل کرلیا، اوپنر ٹریوس ہیڈ 26، جوش انگلس 24، مارنس لبوشین 2، مارکس سٹوئنس 23 اور کیمرون گرین 2 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، کپتان ایرون فنچ نے سب سے زیادہ 55 رنز کی اننگز کھیلی اور شاہین آفریدی کی گیند پر باؤنڈری پر کیچ دے بیٹھے، شان ایبٹ صفر پر شاہین آفریدی کی گیند پر ہی کلین بولڈ ہوگئے۔

    شاہینوں کی جانب سے عثمان قادر ، شاہین شاہ آفریدی، محمد وسیم جونیئر نے 2،2 ، حارث رؤف نے ایک وکٹ اپنے نام کی۔

    آسٹریلیا نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، قومی ٹیم نے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر162 رنز بنائے، کپتان بابر اعظم 66 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹاس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ون ڈے سیریز جیتنے والی ٹیم کے ارکان کو برقرار رکھا گیا ہے۔

    پاکستان کی اننگز

    پاکستان ٹیم کی بیٹنگ کا آغاز اچھا رہا، اوپنرز محمد رضوان اور کپتان بابر اعظم کے درمیان 67 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر رضوان 23 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ نئے آنے والے بیٹر فخر زمان کوئی رنز بنائے بغیر پویلین لوٹے۔

    تاہم اس دوران بابر اعظم نے دلکش اسٹروک لگائے اور نصف سنچری اسکور کی لیکن وہ بھی 46 گیندوں پر 66 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    اس کے علاوہ خوشدل شاہ نے24 اور افتخار احمد 13 رنز بناسکے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے نتھن الیس نے 4 شکار کیے جبکہ کمیرون گرین نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

    پاکستانی ٹیم میں کپتان بابراعظم، محمد رضوان، فخر زمان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علی، محمد وسیم، حسن علی، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور عثمان قادر شامل ہیں۔

    آسٹریلیا کی ٹیم میں کپتان ایرون فنچ، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلس ، مارنس لبوشین، مارکس اسٹونس، کیمرون گرین، بین میکڈرموٹ، سین ایبٹ، بین ڈارشوئس، ناتھن الیس اور ایڈم زمپا شامل ہیں۔

    خیال رہے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشل میچز کھیلے جاچکے ہیں جس میں پاکستان 12 اور آسٹریلیا کو 10 میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی جب کہ 2 میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

     

     

    آخری بار دونوں ٹیمیں متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل ہوئے تھے جہاں آسٹریلیا نے پاکستان کو 5 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا اور پھر فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار ٹی ٹوئنٹی چیمپئن بن گیا تھا۔

    واضح رہے آسٹریلیا کے تاریخی دورہ پاکستان میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے ابتدائی دونوں میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے تھے تاہم لاہور میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی تھی جب کہ قومی ٹیم کو پہلے ون ڈے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم اگلے دونوں میچز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے کر ایک روزہ سیریز اپنے نام کرلی تھی۔

  • لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    برطانیہ میں لائبریری کو ایک قدیم "لاطینی” کتاب 50 برس بعد واپس مل گئی-

    باغی ٹی وی : کتابوں کے شوقین افراد لائبریریوں میں جاکر مطالعہ کرتے ہیں علاوہ وہاں سے کتاب ایشو کرا کے گھر بھی لے جاتے ہیں، جو ایک خاص مدت کے لیے ہی دی جاتی ہے۔اس کے بعد جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے تاہم برطانیہ میں اس کے طرعکس ایک عجیب و غریب کہانی سامنے آئی ہے-

    عقابوں کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس وی آئی پی اسپتال

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں ایک نامعلوم شخص نے یونیورسٹی کالج لندن کی لائبریری کو 50 برس کے بعد ڈاک کے ذریعے کتاب واپس بھجوائی، اور ساتھ ایک خط بھی بھیجا۔


    جسے لائبریری کے آفیشل آکاونٹ پر شئیر کیا گیا ہے، شہری نے خط میں لکھا ہے کہ ’ڈیئر لائبریرین، یہ کتاب 50 برس تک واپس نہیں کی گئی مہربانی فرما کر اسے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا، کیونکہ اب یہ نوادرات میں شامل ہو چکی ہے۔

    لائبریری کے مطابق ’10 پینس فی دن کے حساب سے اس کتاب پر ایک ہزار 254 برطانوی پاؤنڈز جرمانہ بنتا ہے۔

    بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ کتاب ایک ڈرامے ’کیورولس‘ کا 1875 کا ایڈیشن ہے جسے 1974 کے موسم گرما میں یونیورسٹی کالج لندن لائبریری کو واپس کیا جانا تھا۔

    لائبریرین سوزین ٹراؤ نے گھر سے 18 ماہ کام کرنے کے بعد لائبریری واپس آنے پر یہ کتاب دریافت کی، جسے گمنام طور پر واپس پوسٹ کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی میز پر بہت سی کتابیں ملی ہیں جن میں کوئی نوٹ نہیں ہے کہ یہ بتانے کے لیے کہ وہ کون ہیں یا انہیں کیوں بھیجی گئی ہیں۔

    یہ کتاب پانچویں صدی کی ایک مزاحیہ کہانی پر مشتمل ہے اور اس میں ایک جادوگر کی کہانی ہے جو اپنی وراثت کے ایک غریب آدمی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے لائبریری میں اس کے اور بھی کئی ایڈیشن موجود تھے، لیکن واپس کی گئی کتاب اصل 1875 کے ایڈیشن کی ہارڈ کاپی تھی۔

    یونانی اور لاطینی شعبے کے سربراہ پروفیسر گیسین مانوالڈ نے کہا: "”یہ حیرت انگیز ہے کہ UCL لائبریری کے ایک سابق صارف کی طرف سے اتنی وفاداری دیکھ کر کہ انہوں نے تقریباً 50 سال بعد ایک کتاب واپس لوٹائی-

  • مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر: کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش

    سری نگر:کشمیریوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر اظہار تشویش غیر قانونی طور پر بھارت کےزیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوںکی منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے تاکہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیاجاسکے ۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارتی افواج مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اورنہتے کشمیریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ جعلی مقابلوں کے دوران شہید کررہی ہیں تاکہ انہیں اپنی حق پر مبنی تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرنے پر مجبور کیا جاسکے ۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے ۔حریت ترجمان نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ قتل عام ، گرفتاریوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء سید بشیر اندرابی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل پر زوردیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیاکہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن و سلامتی قائم نہیں کوہوسکتی۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں خصوصا نوجوانوں کا مسلسل قتل عام جاری ہے اور بھارت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیریوںکی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بشیر اندرابی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی ضد اورہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی ہے جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرایا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

  • روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بےدخلی پرمودی حکومت پرشدید تنقید

    سرینگر: بین الاقوامی تنظیموں کی روہنگیائی مسلمانوں کی جبری بے دخلی پر مودی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق بھارت اوراسکےغیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سےروہنگیا مسلمان مہاجرین کی جبری بے دخلی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بدترین خلاف ورزی ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسانی حقوق کی متعدد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کی گرفتاریوں اورجبری بے دخلی کو بی جے پی حکومت کے مسلم مہاجرین کے خلاف کریک ڈائون کا حصہ قراردیا ہے۔حال ہی میں، بھارتی پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع رام بن میں 25 روہنگیا مسلمانوں کو گرفتارکیاتھا۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روہنگیا خواتین کی ملک بدری اور جموں میں روہنگیا مہاجرین کی گرفتاریوں پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مودی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میں ہندوتوا گروپوں کے پرتشدد حملوں کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سخت نگرانی، جبری گرفتاریوں اورتفتیش کے علاوہ باربار پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیاجاتا ہے ۔ہندوتوا گروپ بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی جاری مہم کے دوران جموں میں روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    انسانی حقو ق کی ایک اور بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کی پالیسی سے اس کا مسلمانوں کے ساتھ تعصب ظاہر ہوتا ہے ۔

  • یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    اسلام آباد:دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے یہود مخالف لیکچرز کو بنیاد بناکر پاکستان کے معروف اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کا یوٹیوب چینل بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً 3 ملین (30 لاکھ ) کے قریب تھی اور پوری دنیا سے لاکھوں لوگ ان کے لیکچرز سے مستفید ہوتے اور انھیں سراہتے تھے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا۔

    رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ٹیکساس میں یہودی عبادت خانے کو یرغمال بنانے والا پاکستانی نژاد برطانوی ملک فیصل اکرام ڈاکٹر اسرار کے لیکچرز سے متاثر تھا۔

    یوٹیوب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے دو چینلز کو نفرت انگیز اور تشدد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بند کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیا کہا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا-

    امیر شجاع الدین شیخ کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    واضح رہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد ایک پاکستانی معروف اسلامی محقق تھے، جو پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکا میں اپنا دائرہ اثر رکھتے تھے۔ وہ تنظیم اسلامی کے بانی تھے، جو پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔

    گوگل پر جاری وکیپیڈیا کے مطابق ڈاکٹراسرار 26 اپریل، 1932ء کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں سے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔

    مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیےعالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ…

    ڈاکٹر اسرار احمد نے کبھی بھی تشدد کی تبلیغ نہیں کی، وہ ہمیشہ اپنے سننے اور پڑھنے والوں کو دینی و دنیاوی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی ترغیب دیتے تھے انھیں نہ صرف تاریخ پر مکمل عبور حاصل تھا بلکہ وہ حالات حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی بصیرت سے آنے والے وقت کا درست نقشہ پیش کرتے تھے۔

    انھوں نے اپنے ویڈیو لیکچرز میں یہود کی مکمل تاریخ، ان کی چالبازیاں اور ان کے مستقبل کے ممکنہ عزائم بڑی تفصیل سے بیان کر رکھے ہیں۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے ایک پارٹنر آصف حمید کے مطابق ڈاکٹر اسرار کی یہ تقاریر اب کی تو نہیں ہیں، وہ کئی سال پرانی ہیں۔ وہ قرآن و احادیث کی روشنی میں بات کرتے تھے۔ قرآن میں جو یہودیوں کا ذکر ہے اس کا حوالہ دیتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو بھڑکانے کی بات نہیں کی۔ ہمارے احتجاج بھی پرامن ہی ہوتے ہیں۔ تنظیم اسلامی قانون کو ہاتھ میں لینے کے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی تصانیف میں لفوظات ڈاکٹر اسرار احمد، اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور، نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر، حقیقت و اقسام شرک، قرآن کے ہم پر پانچ حقوق، اسلام اور پاکستان، علامہ اقبال اور ہم، استحکام پاکستان، مسلمان امتوں کا ماضی, حال اور مستقبل، پاکستانی کی سیاست کا پہلا عوامی و ہنگامی دور شامل ہیں-

    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

    امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

  • چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    لاس اینجلس: زمین پر لائی گئی، چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق چاند کی مٹی کا یہ نمونہ نیل آرمسٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کے روز اس وقت جمع کیا تھا کہ جب اس نے چاند پر پہلا قدم رکھا۔ اس لحاظ سے یہ چاند کی مٹی کا تاریخی نمونہ بھی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ’’بونہیمز‘‘ (Bonhams) نامی بین الاقوامی نیلام گھر کا دعویٰ ہے کہ یہ چاند کی مٹی کا وہ واحد نمونہ بھی ہے جسے قانونی طور پر نیلام کیا جاسکتا ہے کیونکہ چاند کی مٹی کے وہ تمام نمونے جو امریکی خلاء نورد آج تک زمین پر لائے گئے ہیں، انہیں امریکی ریاست اور عوام کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے یعنی ان کی نجی طور پر خرید و فروخت یا نیلامی نہیں کی جاسکتی۔

    البتہ یہ نمونہ اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ 1969 میں زمین پر لائے جانے کے کچھ سال بعد یہ غائب ہوگیا اور کچھ نامعلوم ہاتھوں سے ہوتا ہوا میکس ایری نامی ایک شخص تک پہنچ گیا وہ ایک نجی خلائی عجائب گھر کا شریک بانی بھی تھا لیکن 2002 میں اسے چوری شدہ نوادرات خریدنے اور بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور اس کے پاس موجود تمام اشیاء سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    2015 میں جب یہ چیزیں سرکاری طور پر نیلام کی گئیں تو ان میں چاند کی مٹی کا نمونہ بھی شامل تھا جسے اس کی موجودہ مالکن نینسی لی کارسن نے صرف 995 ڈالر میں وہاں سے خرید لیا اس کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کےلیے نینسی نے یہ نمونہ ’’ناسا‘‘ کو بھجوا دیا، اور ناسا نے یہ کہہ کر اس نمونے کو واپس کرنے سے انکار کردیا کہ یہ ’’امریکی عوام کی ملکیت‘‘ ہے۔

    اس پر نینسی نے ناسا کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نینسی نے یہ نمونہ مکمل طور پر قانونی طریقے سے، اور ’’نیک نیتی کے ساتھ‘‘ خریدا ہے، لہٰذا یہ ان ہی کی ذاتی ملکیت قرار دیا جاتا ہے اپنی اسی غیرمعمولی خاصیت کے باعث، چاند کی مٹی کا یہ نمونہ بہت مہنگے داموں نیلام ہونے کی توقع ہے۔

    بونہیمز کے مطابق، مٹی کے اس نمونے کی نیلامی 13 اپریل 2022 کے روز، امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگی جبکہ بولی کا آغاز 8 لاکھ ڈالر سے کیا جائے گا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے 9 فیصد سے زائد حصص خرید لیے۔

    باغی ٹی وی : ” سی بی ایس نیوز” کے مطابق ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں، انہوں نے گزشتہ ماہ آزادانہ اظہار رائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔

    انہوں نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ "آزادی تقریر ایک فعال جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ٹوئٹر اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے؟”

    ایک اور ٹویٹ میں، مسک نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے لیے "سنجیدہ سوچ” دے رہے ہیں۔

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    گزشتہ ماہ بھی،ایلون مسک نے ایک وفاقی جج سے کہا کہ وہ سیکیورٹیز ریگولیٹرز کی جانب سے پیشی کو کالعدم قرار دے اور 2018 کے عدالتی معاہدے کو ختم کرے جس میں مسک کو ٹوئٹر پر اپنی پوسٹس کو پہلے سے منظور کروانا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے۔

    امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹرز کے حصص خریدنے کی خبر سامنے آنے کے بعد پیر کو ٹوئٹر کے شیئرز کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ، ٹوئٹر کا اسٹاک پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 26 فیصد بڑھ کر 49.50 ڈالر تک پہنچ گیا پچھلے سال کے مقابلے حصص میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔

    جیک ڈورسی نے گزشتہ سال نومبر میں سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ٹویٹر میں مسک کا حصہ ڈورسی کے سائز سے چار گنا زیادہ ہے، جس نے کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی اور مسک کے آنے تک سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر تھا۔

    "مسک کی اصل سرمایہ کاری اس کی دولت کا ایک بہت ہی چھوٹا فیصد ہے، اور ایک مکمل خریداری کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئے بلو مبر گ بلینیئر انڈیکس کے مطابق، مسک دنیا کا امیر ترین شخص ہے، جس کی دولت 273 بلین ڈالر ہے۔

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    بیوروکریسی اور حالات حاضرہ، ابھرتے ہوئے نوجوان کالم نگار کی ایک اور شاندار کاوش

    آئینہ از عادل عباس چیمہ

    (بیوروکریسی اور حالات حاضرہ)
    کافی کچھ ریسرچ کرنے اور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بیورو کا مطلب محکمہ یا ڈیپارٹمنٹ، کریسی کا مطب ہے راج،یعنی سرکاری محکموں کا راج، محکمے جیسا کہ محکمہ پولیس، محکمہ ریونیو، محکمہ واپڈا، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم وغیرہ، محکمہ کوئی بھی ہو یہ کوئی طلسماتی چیز نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعہ ہوتا ہے ان لوگوں کا جنہیں ہم افسر کہتے ہیں اور انکی افسرشاہی کے تمام تر اخراجات ہمارے دئیے ہوئے ٹیکس سے پورے ہوتے ہیں ، ان افسروں کوعوام نے چنا تو نہیں ہوتا مگر سرکاری کاغذوں میں انہیں عوام کا خادم ہی بتایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں یہ عوام کو نہیں بلکہ اپنے سے اوپر والے افسر کو جوابدہ ہوتے ہیں اسی طرح اوپر جاتے جاتے صرف ایک افسر رہ جاتا ہے جسے سیکرٹری کہتے ہیں ہر محکمہ کا سربراہ ایک سیکرٹری ہوتا ہے پھر تمام سیکرٹری مل کر ایک چیف سیکرٹری کے ماتحت ہوتے ہیں یہاں تک یہ سول بیورو کریسی کہلاتی ہے۔

    بیوروکریسی ریاست کے تین بنیادی ستون میں سے ایک ہے۔ عام تصوراور تاثریہ ہے کہ بیوروکریسی آئین اوردستور میںطے کردہ ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے پالیسی اور قوانین کے دیانت دارانہ نفاذ کے بجائے حکمرانوں کا دست و بازو بن کر رہ گئی ہے۔
    کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بیوروکریسی میں ایسی کوئی اصلاحات ہوں جن سے انکی ‘چودھراہٹ’کو خطرہ لاحق ہوجائے۔
    ملک کی ترقی اور جمہوری استحکام کیلئے بیوروکریسی کے طرز عمل کی جامع اصلاح اب وقت کی ضرورت بن گئی ہے۔ افسران کے انتخاب اور تربیت سے لے کر اس کے تمام مراحل اور پورے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کے سیاسی گٹھ جوڑ کو بھی ختم کیا جانا چاہیے۔ تب ہی جا کر بیوروکریسی کے ’ استحصال کا ایجنٹ ‘ والا کردار ختم ہوگا۔

    اس وقت میں اپنی لاڈلی بیورو کریسی کے شکوے نہیں کرنا چاہتا عرض یہ کرنی ہے کہ ریاست کے اس نہایت اہم ستون کو مضبوط کرنے کی کوشش بہت ضروری ہے کہ اسے ہی عملاً ملک چلانا ہے اور نئی حکومت کی پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہے۔ مگر اب تو اس شعبے میں خرابیاں اتنی بڑھ گئی ہیںاور حالات نے بڑھا دی ہیں کہ اس کو درست کون کرے، کیا اس کو خراب کرنے والے اس کو درست کریں گے مگرکسی نہ کسی کو آغاز تو کرنا ہو گا۔

    یقینا اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں مگروہ اجتماعی سوچ اور رویے میں تحلیل ہو کر رہ جا تے ہیں۔ کام نہ کرنے کیلئے قانون، نظام، سیاسی مداخلت، عدالتی رکاوٹوں اور اختیار نہ ہونے جیسے بہانے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی افسر دیانتداری اور لگن سے کام کرنا چاہتے تو اُس کے لیے 24 گھنٹے بھی کم ہیں اور آج کے دور میں بھی چند افسروں نے دیانت، اخلاص اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کیا ہے۔ اگر کسی ضلع کا DCO یا DPO کام کر نا چاہے تو حاصل اختیارات اور موجودہ سیاسی ماحول کے اندر رہ کر بھی وہ اپنے ضلع کو ایک مثالی ضلع بنا سکتا ہے۔ کوئی پالیسی یا اقدام اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک افسر شاہی اُس میں اخلاص کے ساتھ شامل نہ ہو۔ خود احتسابی کا نظام عملاً ختم ہو چُکا ہے۔ قوانین اور ضابطوں کو کام نہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ آسانیاں پیدا کرنے کیلئے۔ ہماری افسرشاہی کی مجموعی سوچ آج بھی نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے۔

  • تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    تیسرا ون ڈے: پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز جیت لی

    لاہور: ون ڈے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جواب میں پاکستان نے 211 رنز کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر 38 ویں اوورز میں پورا کرلیا۔

    قومی ٹیم کی فاسٹ باؤلرز کی زبردست باؤلنگ کے آگے آسٹریلوی ٹیم نے گرین شرٹس کو 211 رنز کا ہدف دیدیا۔ وسیم جونیئر اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے۔

    قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے تیسرے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    آسٹریلیا کی بیٹنگ

    کینگروز کی ٹیم کی طرف سے اننگز کا آغاز ٹریوس ہیڈ اور ایرون فنچ نے کیا، دونوں بیٹرز کو حارث رؤف نے اپنے پہلے ہی میں پویلین بھیج دیا۔ دونوں بیٹرز کھاتہ نہ کھول سکے۔

    اس دوران مارنس لبوشین 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، حارث رؤف نے وکٹ حاصل کی۔ بین مک ڈرموٹ 36، سٹونز 19 رنز بنا کر کریز چھوڑ گئے، محمد وسیم اور زاہد محمود نے وکٹ حاصل کی۔

    اس دوران ایلکس کیری اور کیمرون گرین نے مزاحمتی اننگز کھیلی اور سکور کو آگے بڑھایا۔ تاہم 61 گیندوں پر 56 رنز بنا کر کیری افتخار احمد کا نشانہ بن گئے، گرین کو محمد وسیم نے بولڈ کیا، بہرن ڈروف اور ایلس کی باری بھی بالترتیب 2.2 پر ختم ہوئی۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 42 ویں اوورز میں 210 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ محمد وسیم اور حارث رؤف نے 3.3 شکار کیے، شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں دو وکٹیں آئیں۔

    پاکستانی سکواڈ

    بابر اعظم، فخر زمان، امام الحق، محمد رضوان، افتخار احمد، آصف علی، خوشدل شاہ، شاہین شاہ آفریدی، محمد وسیم جونیئر، حارث رؤف اور زاہد محمود

    آسٹریلوی سکواڈ

    فنچ، ٹریوس ہیڈ، بین میک ڈرمٹ، مارنس لبوشین، مارکس سٹوئنس، کیمرون گرین، ایلکس کیری، شان ایبٹ، نیتھن ایلس، ایڈم زمپا اور جیسن بہرن ڈروف