Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ محبت کا مل جانا ہے – لفظی! جب ایک دیوانہ جوڑا، جو ایک لمحے کے لیے بھی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں روک سکتا، جب شادی کا فیصلہ کر لیتا ہے، تو محبت سے زیادہ دلکش کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
    ہاں، یہ سچ ہے کہ محبت کی شادی میں بھی محبت مالی تحفظ، حیثیت، طبقے اور ذات کے حساب سے آتی ہے۔ سماجی جوڑے بہترین انتخاب کرنے کے لیے کافی محتاط ہیں۔ کچھ اور ہیں جو اپنی زندگی کی محبت سے شادی کرنے کے لیے ذات کے خلاف، معاشرے کے خلاف، خاندان کے خلاف جاتے ہیں۔ محبت کی شادی کا تصور یہ ہے کہ آپ اس شخص سے پیار کرتے ہیں اور اس سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ آپ پوری زندگی اس کے ساتھ گزارتے ہیں۔ رومانس ہے، مطابقت ہے اور خالص محبت ہے – ایک ایسی محبت جس کے ساتھ آپ ہاتھ پکڑ کر اپنی پوری زندگی سفر کرنا چاہتے ہیں۔ شادی تک سب کچھ پیارا ہوتا ہے اور پھر جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جدوجہد زرا مشکل ہے کیونکہ آپ کی شادی میں دو پورے خاندان شامل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ الگ رہ رہے ہیں اور اپنا گھر بنالیا ہے تو یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ شوہر کے والد اپنے مالی معاملات پر نظر رکھتے ہیں اور اکثر ان کے مشترکہ اکاؤنٹ سے رقم نکالتے ہیں۔
    محبت کی شادی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دونوں طرف کے والدین اس جوڑے کو اپنی آزاد زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، مداخلت جوڑے کے درمیان جھڑپوں اور جھگڑوں کا باعث بنتی ہے جو پیار کو کم کرنا شروع کر دیتی ہے اور آخر کار حقیقت محبت سے متاثرہ جوڑے کو دھکیل دیتی ہے۔
    محبت کی شادیوں میں توقعات خاندانی طے شدہ شادیوں سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں کیونکہ جوڑے طویل عرصے تک ملتے رہتے ہیں اور پھر اپنی خواہشات اور خواہشات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیے جیسے ہی وہ گرہ مین باندھتے ہیں وہ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اتر جاتے ہیں لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ اسی وقت محبت کو نقصان ہوتا ہے۔ جو کہ آگے جا کر محبت کے خاتمے یا رشتے کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں.

  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنے کراچی کنگزکو23 رنز سےشکست دیکر فتح  اپنے نام کرلی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرزنے کراچی کنگزکو23 رنز سےشکست دیکر فتح اپنے نام کرلی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ 7 کے 28 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو 23 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے پلے آف مرحلے میں رسائی کی امیدیں لگالی ہیں۔

    ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کے بعد پلے آف مرحلےمیں رسائی حاصل کرنے والی تیسری ٹیم پشاو زلمی کی ہے جو 10 پوائنٹس کے ساتھ پلے آف مرحلے میں رسائی حاصل کرچکی ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آبادیونائیٹڈ کی ٹیموں کے پوائنٹس کی تعداد آٹھ آٹھ ہے۔

    167 رنز کے تعاقب میں کراچی کنگز کی ٹیم مقررہ بیس اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز ہی بناسکی ۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خرم شہزاد نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں انگلش کرکٹر جوکلارک نے کپتان بابراعظم کے ہمراہ ذمہ دارنہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 87 رنز کی ابتدائی شراکت قائم کی۔ جوکلارک نے 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 52 رنز کی اننگز کھیلی۔ بابراعظم 36 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور تین چوکے شامل تھے تاہم اس کے بعد کراچی کنگز کا کوئی بھی بیٹر زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکا۔شرجیل خان 16، قاسم اکرم 9، روحیل نذیر 8، عماد وسیم 11 ، لوئس گریگری ایک اور ٹام لیمنبے صفر پر آؤٹ ہوئے۔

    کراچی کنگز کو آخری 12 گیندوں پر جیت کے لیے 37 رنز درکار تھے کہ خرم شہزاد نے دوسری گیند پر چھکا لگنے کے باوجود اوور کی آخری دو گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کرکے میچ کو دلچسپ بنادیا۔اس دوران عماد وسیم کا ایک کیچ ڈراپ ہوا جبکہ ایک مرتبہ وہ نوبال پر کیچ دے بیٹھے تھے۔

    خرم شہزاد نے 22 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں۔ نسیم شاہ نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    اس سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جیسن رائے کی نصف سنچری کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے اوپنر نے 64 گیندوں پر11 چوکوں کی مدد سے 82 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

    جیمز ونس نے 29، ول سمیڈ نے 10 اور عمر اکمل نے 2 رنز اسکور کیےتھے۔ افتخار احمد اور حسان خان بالترتیب 21 اور 3 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لوئس گریگری، عماد وسیم، میر حمزہ اور عثمان شنواری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی

    واضح رہے کہ کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز گروپ میں اپنا آخری میچ کھیل رہے تھے۔

    کراچی پہلے ہی باہر ہوچکا تھا جب کہ کوئٹہ کو پلے آف میں کوالیفائی کرنا کے لیے یہ میچ بھاری مارجن سے جیتنا تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ضروری تھا کہ اسلام آباد آج شام ملتان سلطانز سے ہونے والا میچ ہار جائے۔

  • اہل پاکستان تمہیں مبارک ہو :فواد چوہدری بھی خوش مگرساتھ ہی غمگین ہوگئے

    اہل پاکستان تمہیں مبارک ہو :فواد چوہدری بھی خوش مگرساتھ ہی غمگین ہوگئے

    اسلام آباد:اہل پاکستان تمہیں مبارک ہو :فواد چوہدری بھی خوش مگرساتھ ہی غمگین ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اہل پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک خوشخبری سنائی ہے اور اس خوشخبری کو سُننے کےبعد ہر پاکستانی کا دل بھی باغ باغ ہے،

    وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے پاکستانیوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ کہا ہے پاکستان کو خوشحال دیکھنے والوں‌ کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کی 23 سال بعد ٹیسٹ سیریز ہونے جارہی ہے

    فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جہاں وہ بہت زیادہ اس بات پر خوش ہیں کہ پوری قوم کرکٹ کی اس بحالی کا جشن منا رہی ہےکہ دو دہائیوں بعد پاک آسٹریلیا سیریز پر پوری قوم خوش ہے،وہاں دوسری طرف وہ اس بات پر غمگین بھی ہیں کہ اپوزیشن قوم کی خوشیوں پر ماتم کررہی ہے ان کو پاکستانیوں‌ کی خوشی عزیز نہیں اگر عزیز ہوتی تو کبھی اپوزیشن کھیل پر منفی سیاست نہ کرتے ، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم کی اس خوشی پر اگر کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں تو وہ ہماری چوں چوں کا مربہ اپوزیشن ہے۔

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفین پہلے ٹیسٹ میچ کے وقت راولپنڈی میں اپنا شوکرنا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے اور شریف فیملی کو سیاسی سپورٹ دینے کی غرض سےپیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا تھا کہ تباہی سرکار نے پارلیمان کو متعدد صدارتی آرڈیننس منظور کرنے کے لیے معطل کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے کو ختم کرنے کی کوشش میں حکومت سائبر کرائم قوانین میں ترمیم کیلئے ایک اور صدارتی آرڈیننس کا استعمال کر رہی ہے۔

  • ملتان سلطانز کی مسلسل فتح کا راز کیاہے؟ محمد رضوان کے جاننے والے نے سب کچھ راز بتادیئے

    ملتان سلطانز کی مسلسل فتح کا راز کیاہے؟ محمد رضوان کے جاننے والے نے سب کچھ راز بتادیئے

    لاہور:ملتان سلطانز کی مسلسل فتح کا راز کیاہے؟ محمد رضوان کے جاننے والے نے سب کچھ راز بتادیئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ 7 میں اب تک نمبر ون رہنے والی ٹیم ملتان سلطانز کے آل راؤنڈر خوشدل شاہ نے اپنی ٹیم کی مسلسل جیت کا راز بتایا ہے۔

    ملتان سلطانز کی مسلسل فتوحات کے بارے میں بڑی اہم اور اچھی باتین بتاتے ہوئے خوشدل شاہ کا کہنا تھا کہ کپتان محمد رضوان گراؤنڈ میں سب کو خوش رکھتے ہیں اور نرم لہجے میں سب کو سمجھاتے ہیں۔

    انہوں نے بولنگ میں اعتماد دینے کا کریڈٹ محمد رضوان کو دیا اور کہا کہ پی ایس ایل میں میری بولنگ اچھی جا رہی ہے، محمد رضوان نے بنگلا دیش میں بھی بولنگ کاکہا تھا، پی ایس ایل سے پہلے انہوں نے بنگلا دیش میں کہا تھا کہ اوورز کے لیے تیار رہنا ہے۔

    خوشدل شاہ کہتے ہیں کہ محمد رضوان نے کہا تھا کہ بولنگ کرتے رہا کرو، اس سے تمھیں فائدہ ہو گا۔

    خوشدل کا کہنا تھا کہ میں کیرئیر کے شروع سے ہی بیٹنگ کے ساتھ بولنگ کر رہا ہوں، میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میری بولنگ میں زیادہ سے زیادہ بہتری آئے، بولنگ جتنی بہتر ہوگی میرے کیرئیر میں مزید بہتری آئے گی۔شاہ جی کہتے ہیں کہ میں نیٹ پر زیادہ سے بولنگ کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جب میں بیٹنگ سے فری ہو جاتا ہوں تو دوسرے بیٹرز کو الگ نیٹ پر بولنگ کرتا ہوں۔

    خوشدل شاہ نے بتایا کہ ملتان سلطانز کی گزشتہ برس سے اچھی کارکردگی کی وجہ ٹیم یونٹ بن کر کھیلنا ہے، ٹیم کے مالک اور منیجمنٹ نے ہمیشہ کھلاڑیوں کو اعتماد دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینجمنٹ کھلاڑیوں کو پرسکون رکھتی ہے، ٹیم میں ہر کوئی مثبت رہتا ہے اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتا ہے۔

  • پاکستانی نژاد برطانوی باکسرعامر خان کوکیل بروک نے مُکّے مار مار نڈھال کردیا

    پاکستانی نژاد برطانوی باکسرعامر خان کوکیل بروک نے مُکّے مار مار نڈھال کردیا

    نندن :پاکستانی نژاد برطانوی باکسرعامر خان بالآخرشکست کھا گئے۔کیل بروک نے مُکّے مار مار نڈھال کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی باکسرعامر خان اپنے کیریئر کی اہم ترین فائٹ ہار گئے۔

    ذرائع کے مطابق حریف باکسر کیل بروک نے عامر خان کو ناک آؤٹ کر دیا، ریفری کو 12 راؤنڈز پرمشتمل فائٹ چھٹے ہی راؤنڈ میں ختم کرنا پڑ گئی۔کیل بروک اہم ترین فائٹ میں ابتدا سے ہی حاوی نظر آئے اور مکوں کی بارش کر کے عامرخان کو نڈھال کر دیا۔

    30 ہزار افراد کی گنجائش پر مبنی مانچسٹر ارینا میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد عامر خان کی فائٹ دیکھنے کے لیے موجود تھی۔کیل بروک سے شکست کے بعد پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے خراب کارکردگی پر معذرت کر لی۔

    عامر خان نے اپنے بیان میں کہا کہ شکست پربہت غمزدہ ہوں، جس طرح فائٹ کرنی چاہیے تھی نہیں کر سکا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیل بروک نے اچھی کارکردگی دکھائی، بروک نے وہ سب کیا جس کی ضرورت تھی۔

    باکسر نے کہا کہ میں نے میچ سے پہلے ٹریننگ کے لیے بہت محنت کی لیکن شاید کچھ کمی رہ گئی تھی۔عامرخان نے سپورٹ کے لیے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • جیمزفالکنرنے پاکستان کرکٹ کو داغدار کرنے کی کوشش:یہ رویہ اچھا نہیں :شاہد آفریدی بھی بول اٹھے

    جیمزفالکنرنے پاکستان کرکٹ کو داغدار کرنے کی کوشش:یہ رویہ اچھا نہیں :شاہد آفریدی بھی بول اٹھے

    لاہور:جیمزفالکنرنے پاکستان کرکٹ کو داغدار کرنے کی کوشش:یہ رویہ اچھا نہیں :شاہد آفریدی بھی بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق سابق کپتان شاہد آفریدی نے آسٹریلین کرکٹر جیمز فالکنر کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ جیمز فالکنر نے پاکستان کرکٹ کو داغدار کرنےکی کوشش کی ہے، انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جیمز فالکنر نے پاکستان کی میزبانی اور انتظامات پر بے بنیاد الزامات لگائے، ایچ بی ایل پی ایس ایل نے ہمیشہ کھلاڑیوں کو عزت دی ہے اور ہماری رقم کی ادائیگی میں کبھی تاخیر نہیں ہوئی۔

     

     

    شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ کو داغدار کرنےکی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    خیال رہے کہ 2015 کی آسٹریلوی ورلڈ کپ ونر ٹیم کے رکن رہنے والے جیمز فالکنر نے آج ٹوئٹس کیں جس میں انہوں نے پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ پر بدسلوکی کا الزام عائد کیا اور پی ایس ایل سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی مداحوں سے معذرت کی۔

    جیمز فالکنر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی سی بی معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا, تاہم پی سی بی نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

  • پی ایس ایل 7: لاہور قلندرزکے سامنے اسلام آباد کا اتحاد بھی پارہ پارہ:قلندرزجیت گئے

    پی ایس ایل 7: لاہور قلندرزکے سامنے اسلام آباد کا اتحاد بھی پارہ پارہ:قلندرزجیت گئے

    لاہور: پی ایس ایل 7: لاہور قلندرزکے سامنے اسلام آباد کا اتحاد بھی پارہ پارہ:قلندرزجیت گئے،اطلاعات کے مطابق لاہور میں پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے میں اج کھیلےجانے والے اہم میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام اباد یونائیٹڈ کو شکست دے کر 2 پوائنٹ اور حاصل کرلیے ہیں‌

    لاہور: قلندرز بیٹنگ:

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف لاہور قلندرز کی جانب سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور فل سالٹ نے کیا اور حریف ٹیم کی جانب سے مبصر خان نے پہلا اوور پھینکا۔ لاہور قلندرز کا آغاز اچھا نہ تھا پہلے تین بیٹسمین 12 سکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ فل سالٹ2، کامران غلام 0، محمد حفیظ چار سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم اس دوران فخر زمان نے انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے بروک کے ساتھ مل کر جارحانہ باری کھیلی اور حریف ٹیم کے باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔ دونوں کے درمیان 63 گیندوں پر 101 رنز کی پارٹنر شپ بنی ، فخر زمان 41 گیندوں پر 51 رنز بنا کر رخصت ہوئے۔ سہیل اختر کی باری 15 سکور تک محدود رہی۔

    اس دوران ہیری بروک نے 48 گیندوں پر جارحانہ سنچری بنائی۔ سنچری میں انہوں نے 10 چوکے اور پانچ چھکے لگائے اور 102 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔ لاہور قلندرز نے مقررہ اوورز میں 197 رنز بنائے۔ فہیم اشرف نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

    لاہور قلندرز سکواڈ:

    فخر زمان، سہیل اختر، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیرس بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    اسلام آباد یونائیٹڈ سکواڈ:

    رحمن اللہ گرباز، مبصر خان، دانش عزیز، لیام ڈاؤسن، آصف علی، اعظم خان، فہیم اشرف، مارچنٹ ڈی لنگے، محمد وسیم، وقاص مقصود، ظاہر خان

    ٹاس کے دوران قومی ٹیم اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے فاسٹ باؤلر حسن علی انجرڈ ہوئے جس کے بعد قانون کے تحت حسن علی کی جگہ ڈی لنگے کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

  • پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس،اہم فیصلے

    پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس،اہم فیصلے

    لاہور:پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا،اجلاس کی صدارت پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر میاں عرفان معراج نے کی، اجلاس کے بعد عرفان معراج نے پریس کانفرنس میں تمام لائحہ عمل پیش کیاانکے ہمراہ سیکرٹری ایسوسی ایشن سید محمد کومیل کاظمی،نائب صدر عبدالرحمان وسان،خزانچی عبدالر حمان یوسف بھی تھے۔

    

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بھر سے 16 ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس میں نومنتخب صدر میاں عرفان معراج سمیت دیگر عہدیداران اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اس موقع پر میاں عرفان معراج پاکستان ڈیف کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کرتےہوئے اجلاس میں پاکستان ڈیف کرکٹ کی پروموشن کے لیے ملکی ٹورنامنٹس کے شیڈول کو بھی حتمی شکل دی گئی اورغیر ملکی سیریز کے حوالے سے یقین دہانی کروائی۔اجلاس میں ایسو سی ایشن کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔شامل ایسو سی ایشن راولپنڈی،اسلام آباد،مردان،اٹک،پشاور، لاہور،اوکاڑہ، ساہیوال،بہاولپور، کراچی، حیدر آ باد،گوٹکی،مظفر گڑھ،فیصل آباد،گجرات اور رحیم یار خان نےعرفان معراج پر نہ صرف اعتماد کیا بلکہ ہر سطح پر تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    عرفان معراج نے کہا کہمسرچ میں قومی چیمپیئن شپ منعقد کی جائیگی۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ انکی معاونت کی ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں جبکہ رمیز راجہ نے بھی ہر سطع پر تعاون کا یقین دلایا ہے۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہلے ڈیف الیکشن کروانے پرپی سی بی کےمشکور ہیں ۔مذید کہا کہ ایسو سی ایشن کے پاس فنڈز کی کمی ہے۔اس کے باوجود کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دیا۔

  • جیمزفالکنرآپ ہمارے مہمان:مگرآپ کا رویہ اچھا نہیں :اپنی غلطی تسلیم کریں:پی سی بی نےحقائق پیش کردیئے

    جیمزفالکنرآپ ہمارے مہمان:مگرآپ کا رویہ اچھا نہیں :اپنی غلطی تسلیم کریں:پی سی بی نےحقائق پیش کردیئے

    لاہور: پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیمز فالکنر کے الزامات کی سختی سے تردید

    جیمز فالکنر کی جانب سے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2022 کے دوران عدم ادائیگی سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

    "پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیمز فاکنر کے قابل مذمت رویے سے مایوس ہیں، جو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021کے ابوظہبی مرحلے کابھی حصہ تھے، جہاں شریک دیگر تمام ارکان کے ہمراہ ان کے ساتھ بھی احترام کا رویہ اختیار کیا گیا۔

    "ایچ بی ایل پی ایس ایل کی سات سالہ تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی نے کبھی بھی عدم ادائیگی کی شکایت نہیں کی۔

    "اس کے برعکس تمام کھلاڑیوں نے ہمیشہ پی سی بی کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی 2016 سے ایچ بی ایل پی ایس ایل کا حصہ ہیں۔

    • دسمبر 2021 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے ادائیگی کے لیے اپنے یوکے کے بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کی، جسے نوٹ کرلیا گیا
    • جنوری 2022 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے آسٹریلیا میں موجود ایک آن شور اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کیں۔تاہم جیمز فالکنر کی 70 فیصد ادائیگی یو کے میں ان کے آفشور اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی۔ جیمز فالکنر نے اس منتقلی کی تصدیق کی
    • معاہدے کے مطابق انہیں تمام ادائیگیاں کی جا چکی ہیں
    • بقیہ 30 فیصد ادائیگی ایچ بی ایل پی ایس ایل 2022 کے اختتام کے 40 روز کے اندر کی جانی تھی، تاہم اس پر اب نظر ثانی کی جائے گی
    • یوکے کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کے باوجود جیمز فالکنر کا اصرار تھا کہ انہیں دوبارہ آسٹریلیا کے آن شور اکاؤنٹ میں تمام رقم بھیجی جائے، جس کا مطلب تھا کہ انہیں دو مرتبہ ادائیگی کی جائے
    • انہوں نے رقم منتقل نہ کرنے پر جمعے کے روز ملتان سلطانز کے میچ میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی
    • ایک ذمہ دارانہ ادارے کی حیثیت سے پی سی بی نے جمعہ کی دوپہر کو جیمز فالکنر سے رابطہ کیا۔اس دوران توہین آمیز رویے کے باوجود جیمز فالکنر کو یقین دلایا گیا کہ ان کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گاتاہم انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے ایک اہم میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اترنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی سے انکار کر دیا اور فوری طور پر اپنے سفری انتظامات ترتیب دینے کی ہدایت کردی
    • اس دوران پی سی بی ان کے ایجنٹ کے دوران مسلسل رابطے میں رہا، جو پشیمان اور معذرت خواہ تھے
    • اپنی روانگی سے قبل جیمز فالکنر نے ہفتے کو جان بوجھ کر ہوٹل کی پراپرٹی کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتیجے میں انہیں ہوٹل کا نقصان پورا کرنا پڑا۔ اس کے بعد پی سی بی کو ایمیگریشن حکام سے بھی جیمز فالکنر کے رویے کی شکایات موصول ہوئیں جو وہاں گالم گلوچ کررہے تھے

    اس تناظر میں پی سی بی نے جیمز فالکنر کی سنگین بدتمیزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فرنچائزز کے ساتھ مل کر متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جیمز فالکنر کو مستقبل میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے کسی ایونٹ میں ڈرافٹ کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے آسٹریلوی آل راونڈر جیمز فالکنر کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کی نیت سے آئے تھے مگرپاکستان میں ان کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا وہ نبھایا نہیں گیا ،

    جیمز فالکنرکہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں مدد کرنا چاہتا تھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں تمام پاکستانی فینز سے معذرت خواہ ہوں

    جیمز فالکنرنے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کی جانب سے معاہدہ پورا نہیں کیا گیا، آسٹریلوی آل راؤنڈر جیمز فالکنر نے مزید کرکٹ کھیلنے سے انکار کردیا ہے

  • امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    کیا آپکو معلوم ہے کہ امریکہ کیسے اپنے سے چھوٹے ملکوں اور کمزور قوموں کو سرنگوں رکھنے کے لیے اپنے مالیاتی اداروں کا استعمال کرتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لیے وہ تمام قانونی اور اخلاقی جواز بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنی
    supermacy بارے ہی سوچتا ہے ۔ اس سلسلے میں انسانی کیا ہر قسم کے حقوق کو بھی بھول جاتا ہے ۔

    ۔ ایسی ہی واردات امریکہ نے افغانستان کے حوالے سے ڈالی ہے جس پر افغانی تو امریکہ کو کوس ہی رہے ہیں پر اب دنیا کے بڑے بڑے ممالک امریکہ کو اس بھونڈی حرکت پر خوب لعن طعن بھی کررہے ہیں اور اس کو اسکی اصلیت بھی دیکھا رہے ہیں ۔ آج کا یہ وی لاگ اس ہی بارے میں ہے ۔ ۔ اس وقت دیکھائی یوں دیتا ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان مسلسل ایک Caosکا شکار رہے ہیں حالانکہ پورے افغانستان میں امن آگیا ہے۔ گارنٹی مل چکی ہے کہ ان کی سرزمین کسی کےاور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا ۔ عورتوں سمیت جتنے بھی حقوق کا انھوں نے مطالبہ کیا وہ مان لیے گئے ہیں ۔ مگر پھر بھی ان کے اپنے ہی پیسے ان کو نہیں دیے جا رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت افغانستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی بھوک وننگ کا شکار ہوچکی ہے ۔ اقوام متحدہ بھی اس خدشہ کا اظہار کرچکا ہے کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر انسانی حقوق کے champions کو باقی سب کچھ تو دیکھائی دیتا ہے مگر افغانیوں کی یہ حالت زار دیکھائی نہیں دیتی ۔ لگتا یوں ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کے حالات کبھی ٹھیک نہ ہوں ۔

    ۔ اسی حوالے سے چین نے بڑا ہی تگڑا بیان دیا ہے اور وہ کھل افغان عوام کی حمایت میں بول اٹھا ہے ۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں چین نے امریکہ کو ڈاکو قرار دے دیا ہے ۔ اور شاید کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے ۔ ۔ دراصل چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد سات ارب ڈالر کے فنڈز کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے صدارتی حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد نصف رقم ۔۔۔ ساڑھے تین ارب ڈالر۔۔۔ افغانستان کے عوام کی انسانی مدد جبکہ بقیہ ساڑھے تین ارب ڈالر گیارہ ستمبر کے حملوں کے متاثرین میں تقسیم کرنے کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ صدارتی حکمنامے کے مطابق امریکی انتظامیہ نیویارک کے فیڈرل ریزور میں منجمد افغان اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکے گی اور ان اثاثوں میں ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کی فلاح اور افغانستان کے مستقبل پر خرچ کیے جا سکیں گے۔ مگر یہ باقی ماندہ پیسے خرچ کیے جانے ہیں اس حوالے سے بھی اسٹوری میں twist ہے جو آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔ ۔ فی الحال امریکی پستی کی اس سطح پر آ گئے ہیں کہ کمزوروں کی امانتیں بھی ہڑپ کرنے پر اتر آئے ہیں۔۔ کیونکہ یہ جو پیسہ منجمد ہے وہ بنیادی طور پر ان پیسوں پر مشتمل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر افغان عوام کی مدد کے لیے عطیہ کی گئی تھی۔

    ۔ گذشتہ سال اگست کے مہینے میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بہت سی غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا جن کی مجموعی مالیات دس ارب ڈالر بنتی ہے اور ان میں سے سات ارب ڈالر صرف امریکی شہر نیویارک میں موجود ہیں۔ جبکہ دو ارب ڈالر یورپ اور باقی متحدہ عرب امارت میں بھی منجمد ہیں۔ طالبان نے بارہا امریکہ اور غیر ملکی حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فنڈ جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ وہ افغانستان کی بدحال معیشت کو سہارا دے سکیں اور انسانی بحران سے بچ سکیں۔۔ حقیقت میں یہ جو افغانستان کی امانت چرائی گئی ہے اس کا کوئی بھی شہری ہائی جیکرز میں شامل نہیں تھا۔ پھر افغانستان کی آدھی آبادی نو ستمر کے بعد پیدا ہوئی۔ جن میں سے بہت سے دو وقت کی روٹی کے لیے گردے بیچنے پر مجبور ہیں۔ حالت یہ ہے کہ پورے پورے خاندان زندہ رہنے کے لیے اپنے گردے بیچ رہے ہیں اور یہ امریکی ٹی وی voice of america کی اپنی رپورٹس میں دیکھا جا رہا ہے ۔ مگر کسی امریکی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ۔ ۔ امدادی گروپس اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ قریب 23 ملین افراد کو۔ جو افغانستان کی نصف آبادی بنتی ہے۔ سخت بھوک کا سامنا ہے جبکہ نو ملین یا 90 لاکھ افراد قحط سالی کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگ خوراک خریدنے کے لیے ذاتی اشیا بیچنے، گھر کو گرم رکھنے کے لیے فرنیچر تک جلانے اور یہاں تک کہ پیسوں کے لیے اپنے بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    ۔ پھر طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی زیادہ تر افغان حکومتی اہلکاروں کو دو ماہ سے ان کی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد سے قریب نصف ملین افغان اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ دوسری طرف ملک سے باہر موجود افغانوں کو وطن میں اپنے رشتہ داروں کو رقوم بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی ایک وجہ بینکوں کی طرف سے افغانستان کے ساتھ کاروبار میں ہچکچاہٹ ہے اور ان کو ڈر ہے کہ امریکی پابندیوں کی زد میں نہ آجائیں ۔۔ سچ یہ ہے کہ نو گیارہ کے سب سے زیادہ متاثرین افغانستان میں رہتے ہیں۔ اگر وہ ہرجانہ وصول کرنے کے قابل ہوتے تو آج ہر امریکی اپنے بچے بیچ رہا ہوتا۔ حقائق یہ ہیں کہ نو ستمبر ہائی جیکنگ میں جن افراد نے براہ راست حصہ لیا یا بلاواسطہ مدد کی۔ ان میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔۔ اس پر سوال تو بنتا ہے کہ اگر متاثرین کو ہرجانا دلوانا ہی تھا تو سب سے موزوں ملک سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے امریکہ میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ۔ اس سلسلے میں چینی وزارت خارجہ نے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ افغان عوام کی رضا کے بغیر امریکا نے افغان اثاثوں پر فیصلہ کیا۔ ۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ ترجمان Wang Wen Bin نے کہا کہ امریکی فیصلے سے پھر ثابت ہوا کہ امریکا اپنے دعوؤں کے برعکس کمزوروں کا دفاع نہیں کرتا۔۔ ثابت ہوا امریکا اپنے فیصلے صرف اپنی بالادستی کے لیے کرتا ہے۔ ۔ افغان عوام کے مجرم امریکا کو افغان عوام کی مشکلات بڑھانی نہیں چاہئیں۔ ۔ امریکا کا یہ عمل ڈاکوؤں کے طرز عمل سے مختلف نہیں ہے۔۔ پھر چین نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو افغان عوام کے تمام اثاثے غیر منجمد کرنے چاہئیں اور افغانستان سے یک طرفہ پابندیاں جلد ہٹانی چاہئیں۔ امریکا کو افغانستان میں انسانی بحران کم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ۔ افغانستان کے اثاثوں سے متعلق امریکی فیصلے پر پاکستان بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے ۔ کہ اس سے افغان عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گی ۔ مگر شاید امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا یا پھر ان کی خواہش ہی یہ ہے کہ افغانی بحران کا شکار رہیں ۔ ۔ اس حوالے سے طالبان حکومت نے بھی اس امریکی فیصلہ کو چوری اور اخلاقی انحطاط کی نشانی قرار دیا ہے۔

    ۔ افغانستان کے سابق سیاستدانوں ، عوام ، اکیڈمکس اور دیگر نے بھی اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی بہت سے افغانوں نے لکھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن مشکلات میں گھرے افغان شہریوں کا پیسہ چُرا رہے ہیں اور یہ کہ اس عمل کا امریکا میں دہشت گردی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہے منجمد شدہ اثاثوں کی اس طرح تقسیم افغان معیشت کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔۔ افغان پالیسی کے تجزیہ کار اور محقق محسن امین کا کہنا ہے کہ یہ افغان شہریوں کو ان کی اپنی ہی رقم انسانی مدد کے نام پر دی جانا ہے جبکہ ان کی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔۔ افغان طالبان نے اس حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان کےسات ارب ڈالر کے اثاثے بحال نہ کیے تو امریکا سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کریں گے۔۔ ماضی میں بھی طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا مسائل کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔۔ تاہم امریکی حکومت نے نہ تو اب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی طالبان اور ان کے سینیئر رہنماؤں پر لگی پابندیوں کا خاتمہ کیا ہے، جو القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے تناظر میں لگائی گئی تھیں۔ انہی پابندیوں کے سبب یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ افغانستان میں رقوم منتقل کرنا یا اس کے سے ساتھ کاروبار کرنے سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔۔ امدادی گروپ اور دیگر ادارے بھی امریکی حکومت اور محکمہ خزانہ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ کاروباری افراد اور حکومتوں کو یقین دہانی کے خطوط لکھے کہ اگر وہ افغانستان میں کاروبار کرتے ہیں تو انہیں کسی طرح کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایک جانب اثاثے منجمند ہیں تو دوسری جانب کوئی بھی افغانستان میں investmentکرتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پابندی نہ لگ جائے ۔

    ۔ پھر یہ بھی بہت بڑی دونمبری ہے امریکہ کی جانب سے ۔ کیونکہ نو ستمبر کے متاثرین کو پیسے دینے کے باوجود بھی وہ یہ آدھا پیسہ ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے ۔ کیونکہ متوقع عدالتی فیصلہ میں اگر ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کو دینے کی منظوری دی جاتی ہے تو بھی ساڑھے تین ارب ڈالر امریکہ ہی میں رہیں گے اور دہشت گردی کے متاثرہ امریکی شہریوں کی طرف سے دعوؤں سے مشروط رہیں گے۔ اس حوالے سے امریکہ نے کہا ہےکہ اس حکمنامے سے افغان عوام تک یہ پیسہ پہنچانے کی راہ ہموار کی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ طالبان کے ہاتھ نہ لگے۔ یعنی یہ تمام پیسہ بھی امریکہ کمپنیوں یا این جی اوز کے ذریعے ہی افغان عوام کو دیا جاسکے گا ۔ اب یہ افغانیوں تک پہنچتا ہے کہ نہیں اسکی کوئی گارنٹی نہیں ۔ دیکھا جائے تو جو چین نے امریکہ کے لیے ڈکیٹ کا لفظ استعمال کیا یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ جس ملک پر آپ نے مسلسل بیس سال جنگ مسلط کیے رکھی ۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جان لی ۔ ہر طرح کا اسلحہ وبارود ان پر آزمایا۔ یہاں تک کہ پورے ملک کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ۔ اب اگر آپ اس کو ملنی والی امداد کے پیسے بھی کھا جائیں تو ڈاکو کہنا بھی انتہائی چھوٹا لفظ ہی دیکھائی دیتا ہے ۔