Baaghi TV

Category: بلاگ

  • عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    بغداد: عراق میں 103 سالہ شہری نے خود سے 66 سال چھوٹی خاتون سے شادی کرلی،شادی کی تقریب میں دولہا کے پوتوں اور پڑپوتوں نے بھی شرکت کی-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق دارالحکومت سے 180 کلومیٹر دور جنوبی علاقے کمشنری الدیوانیہ میں جشن کا منظر تھا جس کی وجہ کوئی علاقائی تہوار نہیں بلکہ 103 سالہ شہری کی شادی تھی گاؤں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا اور روایتی گیت گائے جا رہے تھے۔

    کۃ المکرمہ:بھکارن کےپاس1لاکھ17ہزار ریال اورسونےکےزیورات:سعودی جان کرحیران

    گلف ڈیلی نیوزکے مطابق معمر شہری مخلف فرہود المنصوری کی شادی کے یہ انتظامات ان کے پوتوں اور پڑپوتوں نے کیے تھے پانچ روز تک جاری رہنے والی شادی کی تقریب میں قریبی رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


    رپورٹ کے مطابق دلہن کی عمر 37 سال ہے اور وہ بھی شادی شدہ تھی۔شادی کی مرکزی تقریب سے قبل منگنی بھی ہوئی جس میں دولہا دلہن نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں پھر مہندی کی رسم ادا ہوئی اور اہل خانہ نے خوب ہلہ گلہ کیا۔ نکاح اور ولیمے کی تقاریب بھی ہوئیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    معمر شخص کے بیٹے عبدالسلام نے بتایا کہ ’ان کے والد 1919 میں پیدا ہوئے تھے۔ پہلی اہلیہ کا انتقال 1999 میں ہوا تو دوسری شادی کی جن سے بچے بھی ہوئے تاہم جھگڑوں کے باعث یہ شادی ختم ہوگئی جس کے بعد والد صاحب نے تیسری شادی کی خواہش کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انتخاب ایک خوبصورت خاتون پر پڑا، جس کی پیدائش 1985 میں ہوئی، اور اس نے منگنی کر لی، اور اس کے بعد اس کے لیے مہندی کی تقریب منعقد کی گئی اور پھر شادی۔ ان کے باقی نو بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسوں نے اس کی شادی میں شرکت کی۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

  • زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    حال ہی میں سائنسدانوں نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پہلی بار دریافت کیا تھا اور اب مائیکرو پلاسٹک آلودگی پھیپھڑوں کی گہرائی میں پہلی بار دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجئین کے مطابق سائنسی جریدے ’سائنس آف ٹوٹل انوائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلی بار زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی پائی گئی ہے، اس سلسلے میں جتنے نمونے تجزیے کے لیے لیے گئے تھے، تقریباً تمام نمونوں میں یہ ذرات پائے گئے ہوا گزرنے کے راستے انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلے اس کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

    مائیکرو پلاسٹک اس سے پہلے انسانی کیڈور پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے، لیکن یہ پہلی تحقیق ہے جس میں یہ زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں دکھائی دیئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف ہل اور ہل یارک میڈیکل سکول کے محققین نے جن 13 مریضوں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی، لگ بھگ ان سب میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ انسانوں کے لیے اس سے بچنا ممکن نہیں رہا اور صحت کے حوالے سے خدشات بڑٖھ رہے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوران سرجری کے عمل سے گزرنے والے 13 مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کی جانچ پڑتال کی گئی اور 11 میں پلاسٹک ذرات کو دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے فضائی آلودگی، مائیکرو پلاسٹک اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جو ہمیں معلوم ہوئی ہیں ان اقسام کی خصوصیات اور مائیکرو پلاسٹک کی سطح اب صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری میں تجربات کے لیے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

    مائیکرو پلاسٹک کی اقسام اور سطحوں کی کردار سازی اب صحت کے اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری ایکسپوزر تجربات کے لئے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتی ہے۔

    ایسٹ یارکشائر کے کیسل ہل ہسپتال کے سرجنوں نے پھیپھڑوں کے زندہ ٹشو فراہم کیے۔ یہ ٹشو مریضوں پر کیے گئے سرجیکل طریقہ کار سے حاصل کیے گئے تھے جو ابھی تک زندہ تھے، یہ ان کی معمول کی طبی دیکھ بھال کا حصہ تھا۔ اس کے بعد یہ انہیں دیکھنے کے لیے فلٹر کیا گیا کہ ان میں کیا ہے۔.

    جن مائیکرو پلاسٹک کا پتہ چلا ان میں سے 12 اقسام ایسی تھیں جو عام طور پر پیکیجنگ، بوتلوں، کپڑے، رسی اور بہت سے مینوفیکچرنگ کے عمل میں پائی جاتی ہیں خواتین کے مقابلے میں مرد مریضوں میں مائیکرو پلاسٹک کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    تحقیق میں شامل ایک محقق لورا ساڈوفسکی کا کہنا تھا کہ ہمیں پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں سب سے زیادہ ذرات یا اس سائز کے ذرات ملنے کی توقع نہیں تھی۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ پھیپھڑوں کے اوپری حصے میں 11 مائیکرو پلاسٹک، وسطی حصے میں 7 اور پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں 21 مائیکرو پلاسٹک پائے گئے جو ایک غیر متوقع دریافت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا گزرنے راستے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہمیں توقع تھی کہ پھیپھڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں جانے سے پہلے اتنے بڑے ذرات فلٹر ہوجائیں گے یا پھپھڑوں پھنس جائیں گے۔

    مارچ میں محققین نے انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا تھا ان نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ یہ ذرات خون کے ذریعے جسم میں سفر کرسکتے ہیں اور اعضا میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ان ذرات سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تو ابھی معلوم نہیں مگر لیبارٹری تجربات میں ان ذرات سے انسانی خلیات کو نقصان پہنچنا ثابت ہوچکا ہے اسی طرح فضائی آلودگی کے ذرات کے بارے میں پہلے ہی علم ہے کہ وہ جسم میں داخل ہوکر ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتے ہیں۔

    اس سے قبل لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

    2021 میں برازیل میں ہونے والی ایسی ایک تحقیق میں 20 میں سے 13 لاشوں کے نمونوں میں پلاسک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔1998 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی 100 نمونوں میں پلاسٹک اور کاٹن ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2020 میں آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک اور حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون کے سرخ خلیات کی اوپری جھلی سے منسلک ہوکر ممکنہ طور پر آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت کو محدود کرسکتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نیا بھارتی حربہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کشمیری پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پنڈتوں کی بحالی کی آڑ میں وادی کشمیر میں غیر مقامی لوگوں کو بسانے کے لیے الگ کالونیاں تعمیر کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو مقبوضہ وادی میں اپنے مقامات پر واپس جانے کا پوراحق ہے لیکن انہیں بھارتی فوجیوں کے تحفظ میں منتخب بستیوں میں بسانے کا کوئی جواز نہیں ۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بہت سے پنڈت خاندان اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ وادی کشمیر میں خوشی سے رہ رہے ہیںجبکہ مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت پنڈتوں کو الگ کالونیوں میں آباد کرکے مقبوضہ علاقے میں سماجی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی حکومت وادی کشمیر میں پنڈتوں کی آڑ میں ہندو انتہا پسندوں کو بسانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں فوجیوں کو مستقل طور پر آباد کرنے کے لیے فوجی کالونیاں قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے کہ وہ مقبوضہ علاے کی آبادی کو تبدیل نہ کرے لیکن وہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے بھارتی اقدمات کو روکے۔

  • مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    مودی حکومت بھی شیربن گئی:کشمیریوں کوکچلنےکیلیئے ایجنسیوں کوحکم دے دیا:تاریگامی

    کنور: کشمیری سیاست دان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میںسیاسی مخالفین کو ڈرانے اور خاموش کرانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

    محمد یوسف تاریگامی نے جو کہ پارٹی کنونشن میں شرکت کے لیے بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کنور میں ہیں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کا ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے۔

    ان کا یہ تبصرہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو طلب کرنے کے بعد سامنے آیا۔فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور کئی دوسرے لیڈیوں کو بھی بھارتی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے طلب کیا جاچکا ہے۔

    انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ طریقہ ہے جس سے بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں امن بحال کرنے جا ررہی ہے۔ محمد یوسف تاریگامی نے کہ انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ(ای ڈی)، سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور این آئی اے کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں چھاپوں کی کھلی چھٹی دی گئی ہے اور مخالفین پر کالا قانون یو اے پی اے لاگو کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماﺅں کو ڈرانے اور نیچا دکھانے کی کوشش ہے تاہم ہم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہیں گھبرائیں گے۔ محمد یوسف تاریگامی نے مزید کہا کہ بھارت کا کشمیر میں ترقی کا دعویٰ قطعی طور ہر بے بنیا د ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:اگست2019سے ابتک560 سے زائد کشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے:،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019 سے اب تک 560 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 566کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی غیر قانونی حراست کے دوران وفات پا گئے جبکہ بزرگ حریت رہنما، سید علی گیلانی ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران شہید کیا ہے کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے انہیں مجاہدین یا مجاہدکارکن قراردینے کے بعد انہیں قتل کردیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم دوہزار240افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 36خواتین بیوہ اور 85بچے یتیم ہو ئے۔

    رپورٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے کے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں87شہریوں کے قتل کے دعوے کومسترد کردیا گیا۔ بھارتی وزیر نے بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا یہ دعویٰ کیاتھا ۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے پہلے ہزاروں حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، نوجوانوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور ان میں بیشتر اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، غلام احمد گلزار، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، بشیر احمد قریشی، حیات احمد بٹ، عبدالصمد انقلابی، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، سجاد گل اور فہد شاہ شامل ہیں،جنہیں مودی حکومت بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنا رہی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

  • پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یوٹیوب سے مرحوم ڈاکٹراسرار احمد کی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے یوٹیوب چینل کو بلاک کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے یوٹیوب سے کہا کہ ایک ممتاز مسلم اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل کی یکطرفہ بندش آن لائن اظہار رائے کی من مانی حدود کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    پی ٹی اے نے کہا کہ مذکورہ چینل پر ڈاکٹراسرار احمد کی ویڈیوز نشر کی جاتی تھیں جن میں قرآن پاک میں پیش کردہ سماجی و اقتصادی تصورات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی ان ویڈیوز کا مقصد صرف ناظرین کو آگہی فراہم کرنا تھا۔

    دوسری جانب ڈاکٹر اسرار احمد کے یو ٹیوب چینل کی بحالی کے لئے 2500 ہزار ووٹوں پر آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے جس میں اب تک 13 ہزار سے زائد لوگوں نے سائن کئے ہیں اورچینل کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا تھا جن کے مطابق اس چینل پر نشر کی جانے والی ویڈیوز میں ان سے متعلق نفرت انگیز مواد موجود ہوتا تھا۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے تقریباً 30 لاکھ سبسکرائبرز تھے اور ان کے لیکچرز کو مغربی ممالک میں رہنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے سراہا جاتا رہا ہے۔

    عوام ملک کی خودمختاری اورجمہوریت کےمضبوط ترین محافظ ہوتے ہیں ،عمران خان

    ڈاکٹر اسرار احمد کے بیٹے کی جانب سے چلائے جانے والے اس چینل پر مرحوم مذہبی اسکالر کی پرانی تقاریر کی ریکارڈنگ نشر کی جاتی تھی یہ ویڈیوز قرآنی آیات کی روشنی میں دنیا کے خاتمے اور تاریخ میں یہودیوں کے کردار کے بارے میں ان کے خیالات پر مشتمل تھیں۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    رمضان المبارک کا احترام :بلوچستان میں ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی

    ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک شاگرد نے یوٹیوب کے اس اقدام کو مغرب کی جانب سے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا انجینیئر محمد علی مرزا نے اپنے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ اقدام مغرب کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے انہوں نے دوسرے فریق کو سنے بغیر محض یہودی گروپس کی شکایات کے مطابق عمل کیا-

    یوٹیوب کو درج کی گئی شکایات میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی تبلیغ مسلمانوں کے ذریعہ مغرب میں یہودیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔

    لاہورمیں پولیس مقابلہ : 2 ڈاکو ہلاک ، ڈولفن اہلکار اور ایک راہگیر زخمی

  • میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کشمیریوں میں پریشانیاں بڑھنے لگیں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے کہا ہے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ اور غصہ پایا ہے اوروہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن نے اپنے اور میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے ایک بیان میں پیغمبر اسلامﷺ کی پیاری بیٹی خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو وفات کی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حضرت فاطمہ الزہراءرضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور سادگی کے ساتھ گزار کر مسلمانوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔

    بیان میں خاتون جنت کو صدیوں سے خواتین کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ ان کی زندگی تمام مسلمان خواتین ،بیٹیوں، بہنوں اور ماوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انجمن اور میر واعظ نے بیان میں مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ اس راستے پر چلیں جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے لیے منتخب کیا تھا ۔

    انجمن نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میرواعظین کشمیر صدیوں پرانی روایت کے مطابق 3رمضان المبارک کو حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی وفات کی برسی پر تاریخی آستانہ عالیہ نقشبند صاحب میں منعقدہ محفل کے دوران انہیں خراج عقیدت پیش کیا کرتے تھے اور انکی مبارک زندگی پر روشنی ڈالتے تھے لیکن عمر واعظ عمر فاروق گزشتہ تین برس سے مسلسل نظر بندی کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

  • ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کے ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہونے کی تصدیق ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو پراگ اگروال نے کی۔ انہوں نے ٹوئٹ میں ایلون مسک کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد کمپنی کو یقین ہوگیا کہ وہ ان کے لیے فائدہ مند ہیں، اس لیے انہیں بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے


    جس پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹوئٹر میں نمایاں بہتری لانے کے لیے پیراگ اور ٹوئٹر بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہوں!


    ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں گزشتہ ہفتے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں۔

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پر ایک پول میں صارفین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹوئٹر آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے؟‘۔ جس کے جواب میں 70 فیصد افراد کا جواب نفی میں تھا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں ناکامی کی وجہ سے جمہوری قدروں کا ساتھ نہیں دے رہا۔

    ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی تھی ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں-

    القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی نئی ویڈیوجاری،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی مسکان کی تعریف

  • بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    نئی دہلی: بھارت نے چار پاکستانی اور 18 مقامی یو ٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ تین ٹوئٹر، ایک فیس بک اکاؤنٹ اور ایک نیوز ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی بی) نے منگل کو 22 یوٹیوب چینلز کو بلاک کر دیا ہے ان میں 4 پاکستان میں قائم یوٹیوب نیوز چینلز ہیں ان میں دنیا میرے آگے، غلام نبی مدنی، حق ٹی وی، حقیت ٹی وی 2.0 شامل ہیں مذکورہ چینلز پر بھارت کےمتعلق جعلی و جھوٹی خبریں چلانے و پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں دسمبر 2021 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 78 یوٹیوب چینلز اور متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا جاچکا ہے-

    بھارتی وزارت آئی ٹی کے مطابق بلاک کیے جانے والے یوٹیوب چینلز ملک کی سلامتی اور بھارت کے بین الاقوامی تعلقات جیسے حساس امور کے متعلق جھوٹی جعلی و جھوٹی خبریں پھیلانے میں ملوث تھے۔

    دوسری جانب پہلی بار آئی ٹی رولز2021 کے تحت 18 ہندوستانی یوٹیوب نیوز چینلز کو بلاک کیا گیا ہے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    بھارت میں بلاک کیے گئے 18 یوٹیوب چینلز میں اے آر پی نیوز، اے او پی نیوز،ایل ڈی سی نیوز، سرکاری بابو، ایس ایس زون ہندی، اسمارٹ نیوز، نیوز 23 ہندی ،آن لائن خبر، ڈی پی نیوز، پی کے بی نیوز،کسان تک، بورانہ نیوز، سرکاری نیوز اپڈیٹ، بھارت موسم، آر جے زون 6، اکزام رپورٹ، ڈیجی گروکل، دن کی خبریں

    اس کے علاوہ انسٹاگرام اکاؤنٹ، دو ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے تحت دلچسپ بات یہ ہے کہ جن چینلز کو بلاک کیا گیا ہے انہیں 260 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا و سنا جا چکا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ