Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    سب سے پہلے تو اپنے تمام تر ریاستی جبر اور حکومت زور کے باوجود محسن بیگ کی آج ضمانت منظور ہوگی ہے ۔ کیونکہ جس طرح پولیس نے میڈیکل رپورٹ تبدیل کی ۔ ڈی وی آر پولیس کی موجودگی میں ایف آئی اے لے گئی، گرفتاری کے بعد بھی بار بار محسن بیگ کے گھر پر جو چھاپے مارے گئے اس کے بعد بھی ضمانت ہوجانا اس چیز کا ثبوت ہے کہ حکومت تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کچھ بھی ثابت نہ کرسکی ۔ میں اس معاملے پر صرف گزشتہ سماعت کا ذکر کروں گا جس میں محسن بیگ کو جب عدالت پیش کیا گیا تو اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ بیگ صاحب آپ کے پاس کوئی ویڈیو ہے عمران خان کی؟ جس کے جواب میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہ ویڈیو تو نہیں ہے صرف اتنا کہوں گا کہ خان تُو تو گیا۔ پاکستانی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا معاملات طے پا گئے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا سوال جو زہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس کے کس سے معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    فی الحال جو دیکھائی دے رہا ہے کہ معاملات طے ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت قطعی طورپرغیر جانبدار یعنی نیوٹرل ہوچکی ہے ۔ جوکہ اپوزیشن کی تیزیوں اور اتحادیوں کے ساتھ میل ملاپ سے بھی دیکھائی دے رہا ہے ۔ امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد مارچ کے دوسرے ہفتے میں پیش ہو جائے۔ گزشتہ رات مونس الہی کی اسد قیصر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے پہلے تو یہ ہی اطلاعات تھیں کہ مسلم لیگ ق اور ترین گروپ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے نہ صرف آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ چوہدری پرویز الٰہی کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کو بھی اس پر جلد آمادہ کر لیا جائے گا۔ آئندہ دو تین دن میں شہباز شریف نے اس حوالے سے جواب بھی دینا تھا۔ مگر جیسے پہلے ایک اہم موقع پر مونس الہی نے تقریر کرکے اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھیرا تھا اب پھر سے انھوں نے اسپیکر اسد قیصر سے کہا ہے کہ سیاسی بات چيت اور مشاورت جاری ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کیا گيا ہے، وہ اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور مکمل احترام کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں مونس الٰہی نے اسد قیصر کو یقین دلایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن سے تعاون کی یقین دہانی کا غلط تاثر دیا جا رہا ہے، اپوزیشن رہنماؤں سے مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کی ملاقاتیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ اس بیان کے بعد جو چیز سمجھ آئی ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن ان کے ساتھ ساتھ اتحادی بھی کچھ کم نہیں وہ بھی کریز کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں ۔ اور ریٹ لگوارہے ہیں کہ کہاں سے بہتر آفر ملتی ہے ۔ اور ڈیل مزید سے مزید بہتر ہوتی ہے تو کرلیا جائے ۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہوچکی ہے تو یہ اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے ۔ مسئلہ صرف ڈیل کا ہے کہ کون کتنی اچھی ڈیل سے اتحادیوں کو نواز سکتا ہے ۔ فی الحال جو اپوزیشن کا پلان ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ پہلے پیپلزپارٹی کو دینے پر مسلم لیگ ن آمادہ تھی لیکن اب پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دی جائے تو وزیراعظم مسلم لیگ سے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف چونکہ پہلے تحریک اعتماد لانے پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے۔ اس لیے ممکنہ طور پر اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی طرف سے ہوسکتا ہے۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا تو طے ہے لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے پر بھی بات چیت ہورہی ہے اور مبینہ طور پر ایسا ہونا بھی نہیں ہے۔

    دوسری طرف مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کا بھی امکان ہے۔ یہ فیصلہ نہایت اہم ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات تحریک عدم اعتماد وغیرہ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ کب ہوگا کیسے ہوگا کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ اتنی رازداری میں نے پہلے نہیں دیکھی ۔ حالانکہ اس بار تو لگتا ہے کہ حکومت کی اپنی ایجنسیاں بھی چوہا رپورٹس نکلوانے میں ناکام ہوگی ہیں ۔ دراصل اس کی وجہ ہے ۔ کہ اپوزیشن آپ میں بھی اور جس سے بھی ملاقات کررہی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر۔۔ کررہی ہے ۔ ٹیکنالوجی جیسے فون ، واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے کہ کہیں کوئی چیز ٹیپ نہ ہوجائے ۔ اس لیے اصل پلان ہے کیا اور یہ کب سامنے آئے گا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے ۔ اب تک جتنی بھی چیزیں سامنے آئی ہیں یہ حالات اور خبروں کو دیکھتے ہوئے تجزیہ ہے یا پھر اندازے جو کہ غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ مگر یہ غلط ہو یا صحیح اپوزیشن کے میل ملاپ نے حکومت کی راتوں کی نیند اڑ کر رکھ دی ہے ۔ کم ازکم اب یہ اپنے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور اتحادیوں کی بات بھی سننے پر مجبور ہوچکی ہے۔ اور ان کے کام کرنے کو بھی راضی دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ یہاں تک کہ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ حکومت ایم کیو ایم کو گورنر سندھ اور مزید ایک وزارت دینے تک کو راضی ہے ۔ ایسی ہی عمران خان صاحب پنجاب میں عثمان بزدار تک کی قربانی دینے کو تیار ہیں ۔ کہ وزارت اعلی پنجاب کا تاج دینے سے ق لیگ راضی ہوتی ہے تو ان کو کرلیا جائے ۔ پر اگر حکومتی اراکین یا اتحادی حکومت سے راضی نہیں ہوپاتے تو ذرائع کے مطابق پلان یہ ہے کہ حکومت کے یہ اراکین اسمبلی اجلاس میں جو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے بلایا جائے گا اس میں اپنے استعفے پیش کریں گے ۔ عین اسی وقت اپوزیشن وزیراعظم سے کہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ پھر وزیراعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا مشکل ہو جائے گا۔ مگر اس فارمولے میں قباحت یہ ہے کہ اسپیکر اسمبلی استعفی کو قبول نہ کرے ۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حکومتی ممبران اس دن غائب ہوجاتے ہیں یعنی اسمبلی پہنچ ہی نہیں پاتے ۔ اور اپوزیشن اتحادیوں کے ساتھ نمبر گیم کو پورا کرکے وار کردے ۔

    مگر اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت یہ سب کچھ کرنے دے گی۔ کیونکہ اجلاس کے بارے میں پہلے سے ہی کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی ہال کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے، اس لیے وہاں اجلاس کا انعقاد مشکل ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ آئینی طور پر اسمبلی کا اجلاس کہیں اور منعقد ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس تحریک کو پیش کرنے کیلئے اجلاس بلانے کی تاریخ مقرر ہونے کے فوری بعد یا اس سے قبل بڑے پیمانے پرگرفتاریاں شروع کردے۔ جن میں بعض اہم شخصیات بھی شامل ہوسکتی ہیں تاکہ عدم اعتماد کی تحریک وغیرہ تک بات ہی نہ پہنچ سکے۔ لیکن اس سے اپوزیشن کو مزید کھیلنے اور حکومت کے کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔۔ یوں اگر حالات کو دیکھا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دنوں نے اپنی تیاری پوری رکھی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن متحرک ہے تو سو ہم بھی نہیں رہے۔ ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ صدر پاکستان کے موخذاے ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد اور دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب کے خلاف عدم اعتماد ایک ساتھ پیش کر دیا گیا تو پھر سب کا جانا طے ہوگا ۔ ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے یا حکومتی جماعت کے اراکین کے استعفے پیش ہو جائیں تو حکومت کے پاس وہ کون سا آپشن ہے جس کی بنا پر وہ تیار ہے ۔ تو وہ آپشن صرف ایک ہی ہے کہ وزیراعظم کو چونکہ پارلیمنٹ کی طرف سے اعتماد حاصل نہیں اس لیے وہ اسمبلی توڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جس کے بارے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے تقریبا تمام ہی جید صحافی رپورٹ کرچکے ہیں کہ کپتان نے چپکے سے دو فائلوں پر دستخط کرواکررکھ لیے ہیں ایک کسی اہم تعیناتی بارے ہے تو دوسری قومی اسمبلی سے متعلق۔۔۔ ۔ پر یاد رکھیں اصل کھیل تو تب شروع ہوگا جب یہ حکومت گھر جائے گی ۔ ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے پوری فلم تو باقی ہے ۔

  • فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    لاہور:فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے ,اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ کے پہلے سپر اسٹار، فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین نے ہال آف فیم کی اعزازی ٹوپی فضل محمود مرحوم کی صاحبزادی شائشہ محمود اور اور اعزازی پلاک ان کے صاحبزادے شہزاد محمود کو دی۔یہ تقریب 25 فروری بروز جمعہ کو شیڈول ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر سے قبل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوئی۔

    فضل محمود پاکستان کے وہ پہلے کرکٹر تھے جنہیں 1955 میں وزڈن کے فائیو کرکٹرز آف دی ایئرز میں شامل کیا گیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے 1954 میں دورہ انگلینڈ میں چار ٹیسٹ میچز میں 20 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سال 1952 میں بھی ان کی شاندار باؤلنگ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے بھارت کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر شکست سے دوچار کیا تھا۔

    پاکستان کی جانب سے 34 ٹیسٹ میچز میں 139 وکٹیں حاصل کرنے والے فضل محمود کوحسن کارکردگی پر 1958 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا ،یہ پاکستان کا سب سے بڑا قومی اعزاز ہے ۔ 2012 میں انہیں ہلال امتیاز (پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ) دیا گیا۔

    فیصل حسنین، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین نے کہا کہ وہ فضل محمود کو باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود مرحوم کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کا کوئی جوڑ نہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد بھارت کی نمائندگی سے دستبردار ہوکر پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کو ترجیح دی۔

    فیصل حسنین نے کہا کہ فضل محمود نےبڑی ٹیموں کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کو دنیائے کرکٹ کے افق پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود کی شخصیت نے پاکستان کی ایک بڑی نسل کو کرکٹ کی طرف راغب کیا، بعدازاں ان نوجوانوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فضل محمود کو ہمیشہ ایک عظیم کھلاڑی کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

    شہزاد محمود، صاحبزادہ فضل محمود:

    فضل محمود مرحوم کے صاحبزادے شہزاد محمود کاکہناہے کہ ان کے والد، فضل محمود پاکستان کرکٹ کے پہلے ہیرو اور حقیقی روشن ستارے تھے۔انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرنے پر ہمیشہ فخر محسوس کیا اوروہ اکثر اپنے کرکٹ کیرئیر کے دنوں کی حسین یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔

    شہزاد محمود کا کہنا ہے کہ فضل محمود نے ریٹائرمنٹ کے بعدبھی پاکستان کرکٹ سے بھرپور وابستگی رکھی۔اپنے اہلخانہ کی طرف سے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشکور ہیں جنہوں نے فضل محمود کو پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کیا۔

  • اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی جہاں پر ان کا مقابلہ ملتان سلطانز کے ساتھ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز کی کپتانی شاہین شاہ آفریدی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی شاداب خان کر رہے تھے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنزسے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ آخری اوور میں 27 رنز اسکور کرنے والے ڈیوڈ ویزے نے اسلام آباد کی اننگزکے آخری اوور میں 8 رنز کا کامیابی سے دفاع کرکے اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    فاتح ٹیم 27 فروری کو ایونٹ کے فائنل میں ملتان سلطانز کے مدمقابل آئے گی۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 162 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ابتدائی چار بیٹرزشاہین شاہ آفریدی اور زمان خان کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے بے بس نظر آئے اور محض 46 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ پال اسٹرلنگ 13، ول جیکس صفر، شاداب خان 14 اور لیام ڈاسن 12 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم اعظم خان نے ایلکس ہیلز کے ہمراہ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتےہوئے 79 رنز کی شراکت قائم کرکے اسلام آبادیونائیٹڈ کی دم توڑتی امیدوں کو روشنی بخشی۔ اعظم خان 28 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایلکس ہیلز 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 2 چوکے شامل تھے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 8 رنز درکار تھے۔پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنانے والے محمد وسیم جونیئر تیسری گیند پر ڈبل لینے کی کوشش کے دوران رن آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹے تو میچ دلچسپ ہوگیا۔نئے آنے والے بیٹر وقاص مقصود بھی پہلی ہی گیندپرمڈ وکٹ باؤنڈری پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ دے بیٹھے۔

    حارث رؤف، زمان خان اور شاہین آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ ڈیوڈ ویزے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    اس سے قبل لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے ان فارم بیٹر فخر زمان ایک کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ دوسرے اوپنر فل سالٹ بھی دو اسکور بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    ایسے میں نوجوان بیٹر عبداللہ شفیق نے لاہور قلندرز کی کمان سنبھالی اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے۔انہوں نے کامران غلام کے ہمراہ 73 رنز کی شراکت قائم کی۔ کامران غلام 30 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    مڈل آرڈر بیٹر محمد حفیظ نے 28 اور سمت پٹیل نے بھی 21 رنزبناکر بیٹنگ لائن کو سہارا دیاتاہم ڈیوڈ ویزے نے اننگز کے آخری اوور میں وقاص مقصود کو ایک چوکا اور 3 چھکے لگا کر ٹیم کا مجموعہ 168 تک پہنچایا۔ وہ 8 گیندوں پر 28 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لیام ڈاسن اور محمد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور وقاص مقصود نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    لاہور قلندرز سکواڈ:

    فخر زمان، عبد اللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ہیری بروک، فل سالٹ، سمٹ پٹیل، ڈیوڈ ویزے، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    اسلام آباد یونایئٹڈ سکواڈ:

    ایلکس ہیلز، وِل جیک، سٹرلنگ، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، محمد وسیم، لیام ڈاؤسن، حسن علی، اطہر محمود، وقاص مقصود

  • دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    یوکراین اور روس کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت پیوٹن نے روسی فوجیوں کو یوکرائن علاقوں میں داخل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ ۔ تو یوکرائن کی سیکیورٹی کونسل نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی یوکرائنی وزیر خارجہ نے یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کو روس کے خلاف اسلحہ کی ترسیل مزید تیز کریں۔ ۔ حالات کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر یوکرائن نے روس میں رہنے والے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور اپنے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ روس نہ جائیں۔۔ یوکرائن کے اردگرد اگر صورتحال کی بات کی جائے تو اسکی سرحد پر جمع روسی فوجیں، ٹینکوں، توپ خانوں، ہوائی جہازوں سے لیس ہیں اور انھیں بحریہ کی مدد بھی حاصل ہے۔۔ یوں یوکرائن کے گرد جمع فوجیوں کی تعداد کے اندازوں میں یوکرینی سرحد، بیلاروس اور مقبوضہ کریمیا میں موجود فوجیوں کے علاوہ نیشنل گارڈز، ملکی گارڈز اور مشرقی یوکرائن میں روسی حمایت یافتہ باغی بھی شامل ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے برطانیہ کے وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ روس کی کل افواج کا 60 فیصد حصہ یوکرائن کی سرحد اور بیلاروس میں موجود ہے۔ یوکرائن کے وزیر دفاع نے ان فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 49 ہزار بتائی ہے۔۔ آپکو یاد ہو تو گذشتہ ہفتے روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس کی کچھ افواج نے جنوبی اور مغربی فوجی اضلاع میں اپنی مشقیں مکمل کر لی ہیں اور وہ اب واپس بیرکوں میں جا رہے ہیں۔ لیکن نیٹو نے کہا ہے کہ اس نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیکھا ہے۔ ۔ پھر سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی یونٹ اب چھوٹے گروپوں میں بٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ سرحد کے قریب جنگلوں میں درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی روسی افواج کو ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو حملے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان سہولیات میں فیلڈ ہسپتال، مرمتی ورکشاپس، اور کیچٹر ہٹانے والا ساز و سامان شامل ہے۔ ۔ پھر روس نے سکندر میزائل راکٹ لانچر اور سپیشل آپریشن فورسز اور ایئر ڈیفنس کے نظام کو بھی تعینات کردیا ہے۔۔ اس کے علاوہ روس پوری دنیا میں، بحراوقیانوس سے لے کر بحرالکاہل تک بحری مشقوں میں مصروف ہے۔ ان مشقوں میں اسکی بحریہ کے چالیس جنگی اور معاون جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ طیارے اور دس ہزار فوجی شامل ہیں۔ جو روسی جنگی جہاز انگلش چینل سے گزرا تھا وہ بھی Black Sea اور Sea of ​​Azu میں موجود ہے۔ یہ جہاز ٹینکوں اور آرمرڈ گاڑیوں کو میدان جنگ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔Black Sea میں موجود نو جنگی جہاز کروز میزائل سے لیس ہیں۔ اس کے چار بحری جہاز جو کروز میزائل سے لیس ہیں وہ Caspian Sea میں موجود ہے۔

    اس تیاری سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روس نے پانی اور خشکی میں حملہ کرنے والے جہازوں کو کریمیا کے مشرق اور مغرب میں تیار کر رکھا ہے۔ یوں روس یوکرائن پر مشرق، شمال اور جنوب سے چڑھائی کرتے ہوئے پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ۔ ۔ مگر کئی فوجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یوکرائن پر بڑے حملے اور اس کے بعد اس پر مکمل یا کچھ حصوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے روس کو اس سے زیادہ فوجیوں کی ضرورت ہو گی جو اس نے اس وقت جمع کر رکھی ہیں۔۔ کیونکہ یوکرائن نے بھی اپنی فوج بنا لی ہے اور اس کے علاوہ روس کو عوام کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔ اسی حوالے سے امریکی فوج کے چیف آف سٹافmark milley کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی تعداد کے پیش نظر صورت حال انتہائی ہولناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور شہری علاقوں کے گلی کوچوں میں لڑائی ہو سکتی ہے۔
    ۔ پھر مغربی ملکوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا لڑاکا دستوں کو یوکرائن بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور روس کی کارروائی کے خلاف صرف اقتصادی پابندیوں ہی کا سہارا لیا جائے گا۔۔ نیٹو ملکوں نے یوکرین کو مدد کا یقین دلایا ہے لیکن وہ صرف فوجی مشیروں، ہتھیاروں اور فوجی ہسپتالوں تک ہی محدود ہے۔ اس وقت پانچ ہزار فوجی بلکان کی ریاستوں اور پولینڈ میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ چار ہزار مزید فوجیوں کو رومانیہ، بلغاریہ، ہنگری اور سلواکیہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔۔ روس کے رہنماؤں کے پاس دوسرے ممکنہ اقدامات میں غالباً یوکرائن کی فضاؤں میں پروازوں پر پابندی، بندرگاہوں کا محاصرہ اور جوہری ہتھیاروں کی ہمسایہ ملک بیلاروس میں تعیناتی شامل بھی ہوسکتے ہیں۔۔ روس یوکرائن پر سائبر حملے بھی کر سکتا ہے۔ یوکرائن کی حکومت کی ویب سائٹ جنوری میں بیٹھ گئی تھی اور فروری کے وسط میں یوکرائن کے دو سب سے بڑے بینک حملوں کی زد میں آئے تھے۔۔ پابندیوں کی بات کی جائے تو اس حوالے سے مغربی ممالک کا شدید ردِ عمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ امریکہ ، یورپ سمیت دیگر اتحادیوں نے پہلے مرحلے میں روس پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں ۔ سب سے بڑی ڈویلپمنٹ اس سلسلے میں یہ ہے کہ جرمنی نے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے ۔ ۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ مالیاتی منڈیوں تک روسی رسائی کو محدود کر دے گا۔۔ پھر ایک بیان میں آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ تمام شراکت داروں سے مل کر روس کیخلاف کھڑے ہوں گے، پابندیوں میں کچھ روسی افراد پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ روس پر سفری اور مالیاتی پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔۔ جبکہ جاپان نے بھی روس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بانڈز کے اجراء پر پابندی اور بعض روسی افراد کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے گا۔۔ تو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل Antonio Guterres نےروس کے حالیہ اقدامات کو یوکرائن کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ ۔ پھر روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے دو روسی بینکوں VEB اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ ۔ پھر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ پابندیاں روس کے یوکرائن پر حملے کی شروعات ہیں، روس سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں لیکن امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو یوکرائن کی حدود کے ہر انچ کا دفاع کریں گے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرائن کا ایک بڑا حصہ الگ کرنے کا اعلان، روسی حملے کا آغاز ہے، اس لیے یوکرائن کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھیں گے۔۔ ساتھ ہی جوبائیڈن نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرائن کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ یعنی ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔

    ۔ پابندیوں کا انتہائی قدم روس کے بینکنگ نظام کو بین الاقوامی Swift ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یورپی معیشتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔۔ دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ روس ابھی بھی مغربی ممالک کے ساتھ ۔۔۔ سفارتی حل ۔۔۔ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ۔ اس تمام بحران نے بھارت کو بھی کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ تاریخی طور پر انڈیا یوکرائن کے معاملے پر ہمیشہ روس کے ساتھ رہا ہے مگر 2014 کے مقابلے میں اب حالات مختلف ہیں۔ کیونکہ لداخ والے معاملے کو ذہن میں رکھیں تو انڈیا کوچین کے مقابلے میں نہ صرف روس کی بلکہ امریکہ اور یورپ کی بھی ضرورت ہے۔ مگر روس اور مغرب کے دیگر ممالک اس وقت یوکرائن کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کسی فریق کی حمایت کر سکتا ہے نہ ہی خاموش تماشائی بنا رہ سکتا ہے۔ کیونکہ ایک جانب بھارت کے معاشی مفادات ہیں تو دوسری جانب فوجی معاملات میں روس پر انحصار ہے۔ ۔ پھر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات 2014 کے مقابلے میں مضبوط ہوئے ہیں۔ اب وہ امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ اس لیے دہلی پر پہلے سے زیادہ دباؤ ہے۔ اس لیے روس یوکرائن کا تنازعہ جیسے جیسے مزید بڑھے گا تو یہ انڈیا کے لیے بہت بری صورتحال ہو گی۔۔ اس وقت بھارت کسی کے حق میں بھی کو ایسا بیان نہیں دے رہا ہے جس سے اس کی غیرجانبداری ثابت ہو۔ یوں انڈیا کواڈ اتحاد کا واحد ملک ہے جو روسی جارحیت کو نظرانداز کر رہا ہے۔۔ دوسری جانب روس پر مغربی پابندیوں کا انڈیا کے فوجی معاہدوں پر سخت اثر ہوگا۔ یاد رکھیں امریکہ نے اب تک روس سے ایس 400 میزائل خریدنے پر انڈیا پر اپنے CAATSA قانون کے تحت پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔۔ دراصل روس کے یوکرائن کے دو خطوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کے بعد اب اس کا اگلا اقدام یورپ کے پورے ۔۔ سکیورٹی ڈھانچے ۔۔۔ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

  • پی ایس ایل7: پشاور زلمی ایونٹ سے باہر، اسلام آباد یونائیٹڈ ایلمینیٹر 2 میں داخل

    پی ایس ایل7: پشاور زلمی ایونٹ سے باہر، اسلام آباد یونائیٹڈ ایلمینیٹر 2 میں داخل

    لاہور: اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو شکست دے کر دوسرے ایلیمنٹر میں جگہ بنالی،اطلاعات کے مطابق ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے پہلے ایلیمنٹر میں اسلام آبادیونائیٹڈ نے ایلکس ہیلز کی شاندار بلے بازی کی بدولت پشاور زلمی کو 5 وکٹوں سے ہرا کرٹورنامنٹ کے دوسرے ایلیمنٹر میں جگہ بنالی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آبادیونائیٹڈ نے 170 رنز کا ہدف تین گیندیں قبل پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اوپنر ایلکس ہیلز نے 62 رنز کی اننگز کھیل کر اسلام آباد یونائیٹڈ کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔ اس دوران انہوں نے ول جیکس اور شاداب خان کے ہمراہ بالترتیب 34 اور 43 رنز کی شراکت قائم کی۔ ول جیکس 11 اور شاداب خان 22 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔49 گیندوں پر مشتمل ایلکس ہیلز کی اننگز میں 3 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔

    آصف علی بھی 7 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایسے میں فہیم اشرف نے اعظم خان کے ہمراہ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پشاور زلمی کے تمام باؤلرز کو آڑھے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا اور پانچویں وکٹ کے لیے 41 رنز کی شراکت قائم کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 10 رنز درکار تھےتاہم بینی ہاؤل نے میچ کے آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر اعظم خان کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکےمیچ کو دلچسپ بنادیا۔ وہ 22 گیندوں پر 28 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔نئے آنے والے بیٹر لیام ڈاسن نے اگلی دو گیندوں پر ایک چھکا اورایک چوکا لگا کر اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔وہ دو گیندوں پر 10 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ فہیم اشرف 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 19 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    سلمان ارشاد نےعمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 31 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کوپویلین کی راہ دکھائی۔خالد عثمان اور بینی ہاؤل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پشاور زلمی نے اوپنر کامران اکمل اور تجربہ کار بیٹر شعیب ملک کی نصف سنچریوں کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز بنائے۔دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 40 رنز کی شراکت قائم کی۔

    کامران اکمل 39 گیندوں پر 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ شعیب ملک نے 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 55 رنز کی اننگز کھیلی۔پشاور زلمی کے تیسرے نمایاں بیٹر حسین طلعت رہے۔ انہوں نے 15 گیندوں پر پانچ چوکے لگا کر 28 رنز بنائے۔

    حسن علی نے 30 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ فہیم اشرف اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ کے لئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ میں کپتان شاداب خان، ایلکس ہیلز، ول جیکس، آصف علی، اعظم خان، لیام ڈاسن، فہیم اشرف، حسن علی، اطہر محمود، زاہد محمود اور وقاص مقصود شامل تھے۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے لئے پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، بینی ہوویل، محمد حارث، شعیب ملک، حیدر علی، حسین طلعت، خالد عثمان، سلمان ارشاد، یاسر خان اور علی ماجد شامل تھے۔

  • اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کی الحسین بن طلال یونیورسٹی اور فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب کے ماہرینِ آثارِقدیمہ پر مشتمل ایک ٹیم نے اردن کے مشرقی صحرا میں قریباً 9000 سال قدیم مزاردریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کےمطابق یہ روایتی کمپلیکس پتھرکےدور کی جگہ کےنزدیک قدیم بڑے ڈھانچوں کےساتھ پایا گیا ہےانھیں’’صحرائی پتنگیں‘‘یا بڑے پیمانے پر’شکاری جال‘ کہا جاتا ہےان کے بارے میں خیال کیاجاتا ہے کہ انھیں جنگلی غزالوں کاشکارکرنےکےلیےاستعمال کیا جاتا تھا اور پھر انھیں یہیں ذبح کیا جاتا تھا اس طرح کے جال پتھرکی دو یا دو سے زیادہ لمبی دیواروں پر مشتمل ہوتے ہیں اورگھیرے دارہوتے ہیں یہ مشرقِ اوسط کے صحراؤں میں بکھرے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    اس منصوبہ کے شریک ڈائریکٹراردنی ماہرآثارقدیمہ وائل ابوعزیزہ نے کہا کہ یہ جگہ منفرد ہے، پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ محفوظ حالت میں ہے یہ 9000 سال پرانی ہے اور سب کچھ قریب قریب اپنی اصل حالت میں برقرار تھا مزار کے اندردو تراشیدہ ایستادہ پتھر تھے ان پر انسانی شکلیں تھیں، ایک کے ساتھ ’’صحرائی پتنگ‘‘کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک مذبح، چولھا، سمندری گولے اورغزال کے جال کا چھوٹا نمونہ بھی تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ نو دریافت مزار اب تک پتھر کے زمانے کی نامعلوم آبادیوں کی علامت ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کے ساتھ ساتھ روحانی ثقافت پرپوری نئی روشنی ڈالتا ہے اس جگہ میں شکاری جالوں کی موجودگی سے پتاچلتا ہے کہ یہاں کے باشندے خصوصی شکاری تھے اور یہ جال اس دورافتادہ علاقے میں ان کی ثقافتی، معاشی اور یہاں تک کہ علامتی زندگی کا مرکزتھے۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے

    برطانیہ:سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی پرتیں نیچے سے تیزی سے پگھل رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق گرین لینڈ کی برفیلی چادروں کا مجموعی رقبہ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے لیکن ان کی گہرائی معلوم کرنا اب بھی ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ماڈلنگ اور نقشہ سازی نہیں کی گئی تھی۔

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    اب جامعہ کیمبرج کے پال کرسٹوفرسن اور ان کے ساتھیوں نے گرین لینڈ کی برف کی جڑوں کا پگھلاؤ معلوم کرنے کا ایک طریقہ وضع کیا ہے یہ دنیا میں برف پرمشتمل دنیا کی دوسری سب سے بڑی برفانی شیٹ بھی ہے سائنسدانوں نے چد ملی میٹر کھدائی کرکے لیزر کی بدولت اس کی گہرائی اور کیفیت معلوم کی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    پال کرسٹوفرسن نے معلوم کیا کہ ایک ایک عمودی رخنے کے بالکل نیچے جو پانی بہہ رہا ہے وہ پرانے تخمینے سے بھی 100 گنا زائد نکلا اور اس کی رفتار براہِ راست دھوپ والی برف سے زیادہ تھی اس کی دو وجوہ ہیں یعنی اول اوپر کا پانی نیچے جمع ہوکر گرم ہوکر مزید برف پگھلا رہا ہے اور دوم ثقلی قوت سے بھی برف گھل رہی ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    اس طرح معلوم ہوا کہ آئس لینڈ کی برفانی شیٹ نیچے سے پگھل رہی ہے ماہرین کے مطابق آئس لینڈ کی برف پگھلنے سے عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا پگھلاؤ ہی سب سے اہم کردار ادا کررہا ہے اسی ماڈل کے تحت جہاں جہاں آئس لینڈ جیسی برفانی پرت ہیں وہاں بھی برف پگھلنے کی رفتار اتنی ہی تیز ہوسکتی ہے اوروہاں پانی جمع ہونے سے پوری آئس شیٹ کا پگھلاؤ تیزی سے بڑھے گا-

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    ٹوکیو: جاپان نے فیول سیل (کیمیائی انرجی کو بجلی میں بدلنے والے سیل) اور ریچارجیبل بیٹریز کی حامل ٹرین متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان ٹائمز کے مطابق ’Hybari‘ نامی ٹرین جے آر ایسٹ، ہٹاچی لمیٹڈ اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مل کر تیار کی ہے۔ جے آر ایسٹ نے اس ہائبرِڈ ٹیکنالوجی کو عمومی استعمال کیلئے 2030 تک لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران کمپنی ٹرین کی ٹیسٹنگ جے آر سورومی اور نامبو کے ریلوے لائن پر کرے گی۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

    ٹرین میں اسٹوریج ٹینک سے ہائی پریشر ہائیڈروجن کو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے تیار کردہ فیول سیل سسٹم میں پمپ کیا جاتا ہے جو ہوا میں آکسیجن سے کیمیائی رد عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے اس کے بعد بجلی ان بیٹریوں کو بھیجی جاتی ہے جنہیں ٹرینوں کے انجنوں کے ذریعے لوکوموشن چلانے کے لیے ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    ٹیسٹ ٹرین کے لیے ترقیاتی لاگت، جو ہائیڈروجن کے فی چارج تقریباً 140 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، کل تقریباً 4 بلین ڈالر ہے جے آر ایسٹ گروپ کے پاس مالی سال 2050 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو مؤثر طریقے سے صفر تک کم کرنے کا ہدف ہے اور امید ہے کہ HYBARI ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے ٹرین فلیٹ کی اوور ہال اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    ہم موجودہ ڈیزل ٹرینوں کو فیول سیل ہائبرڈ ٹرینوں سے تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں،” JR East کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے سربراہ شوچی اویزومی نے کہا۔ Oizumi نے کہا کہ ٹیسٹ رن میں JR East کو آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کا مطالعہ کرنے کی امید ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ ٹرینوں کو کن لائنوں پر متعارف کرایا جائے گا۔

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

  • پی ایس ایل7: لاہور قلندرز کو 28 رنزسے شکست، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز بآسانی فائنل میں پہنچ گئی

    پی ایس ایل7: لاہور قلندرز کو 28 رنزسے شکست، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز بآسانی فائنل میں پہنچ گئی

    لاہور: پی ایس ایل7: لاہور قلندرز کو شکست، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز بآسانی فائنل میں پہنچ گئی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے پلے آف مرحلہ کے پہلے میچ لاہور قلندرز کو 28 رنز سے شکست دیکر دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 جاری ہے، ایونٹ میں آج پلے آف مرحلے کا پہلا میچ لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے مابین کھیلا جارہا ہے، قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے سلطانز کے قائد رضوان کو ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

     

    لاہور قلندرز اننگز

    شاہین الیون 164 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، فخر زمان نے سب سے زیادہ 4 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 45 گیندوں پر 63 رنز کی اننگز کھیلی، عبداللہ شفیق 5، کامران غلام 20، محمد حفیظ صفر، ہیری بروک 13، سمت پٹیل 11 ، فل سالٹ اور شاہین آفریدی 1،1 رن بنا کر پویلین لوٹے۔

    فاتح ٹیم کی جانب سے شاہنواز دھانی نے شاندار باؤلنگ کراتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کا شکار کیا، آصف آفریدی اور خوشدل شاہ نے 1،1 اور آصف آفریدی نے 2 وکٹ حاصل کیں۔
    ملتان سلطانز اننگز

    ملتان سلطانز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں دو وکٹ کے نقصان پر 163 رنز بنائے۔ شان مسعود دو اور عامر عظمت 33 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹے۔

    اس دوران محمد رضوان اور ریلی روسو نے زبردست باری کھیلی۔ دونوں کے درمیان 113 رنز کی پارٹنرشپ بنی۔ دونوں نے بالترتیب 53 اور 65 رنز بنائے۔ محمد حفیظ اور سمت پٹیل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

     

     

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کے لئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، سمت پٹیل، حارث رؤف اور زمان خان شامل تھے۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کے لئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، عامر عظمت، رائیلی روسو، جانسن چارلس، خوشدل شاہ، ڈیوڈ ویلی، آصف آفریدی، رومان رئیس، عمران طاہر اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔