Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    لاہور: غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کی ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اپنے غصے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ کی شان ،خوش طبعیت کے مالک محمد رضوان نے مزید کیا کہا سنتے ہیں ان کی زبانی ،پی ایس ایل 7 کے دوران محمد رضوان اپنے ٹھنڈے مزاج اور ہر وقت مسکراتے رہنے کے سبب خاصے مقبول ہوئے جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی نظر آئیں۔

    پی ایس ایل کے فائنل میں لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے رضوان کا کہنا تھا کہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    رضوان نے کہا میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی پر غصہ نہ کروں کیوں کہ ہم سب انسان ہیں اسی لیے ہر انسان سے غلطی ہوتی رہتی ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے جس سے ٹیم یا قوم کا نقصان ہوتا دیکھوں تو غصہ بھی کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ سامنےوالا بھی میری طرح انسان ہے لہٰذا کوشش کرتا ہوں خود کو ٹھنڈا رکھوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل میں جتنے بھی کپتان آئے ان کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ایونٹ کے انعقاد سے ہر کھلاڑی کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی   :   مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی : مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی سفاکوں نے 1990 کے اوائل سے ہی یہاں کی سرزمین کو انسانی خون سے نہلایا ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی شروع کی گی تحریک آزادی کو کمزوراور ختم کرنے کی کوشش میں بھارتی سفاکوں نے اجتماعی قتل عام کے درجنوں واقعات دہرائے،پھر قاتل اور سفاک اہلکاروں کو یہاں نافذ بدنامہ زمانہ قوانین کی استثناء کی اڑ میں انصاف کے کٹہرے میں بھی نہیں لایا جاسکا،اجتماعی قتل عام کے ان سانحات میں زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگربھی شامل ہیں جہاں1990ء میں آج ہی کے دن سیتا کے پجاریوں اور وردی میں ملبوس دہشت گرد بھارتی فوجیوں نے 50سے زائد کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلادیا۔

    32 برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی شہدا کے متاثرین اب بھی انصاف کے حصول کے منتظر ہیں،یکم مارچ 1990ء میں زکورہ کراسنگ اور ٹینگ پورہ سرینگر اجتماعی قتل عام کی یادیں اہل کشمیر کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگر جیسے انسانی قتل عام کے سانحات نے بھارتی فوجیوں کا سفاک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔بھارتی سفاک صرف زکورہ اور ٹینگ پورہ تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ایک کے بعد ایک اجتماعی قتل عام کے سانحات دہرائے،مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ بن چکا ہے اور بھارتی فوجی گزشتہ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں۔

    گزشتہ 33 برسوں میں 95,970 سے زائد کشمیری بھارتی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو مجرمانہ خاموشی ترک کرکے بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کی نسل کشی کا نوٹس لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل کو زکوہ اور ٹینگ پورہ اجتماعی قتل عام اور دیگر سانحات میں ملوث بھارتی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کرکے انہیں انصاف کے کٹہروں میں کھڑا کرنا چاہیے۔

    اہل کشمیرعظیم اور لازوال قربانیوں سے مزین تحریک آزادی کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ ماہ فروری میں بھی8کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے،جن میں سے 3 نوجوانوں کو فرضی مقابلے میں شہید کیا گیا۔کشمیری عوام شہدا کے مشن کو ہر حال میںمنطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کیلئے بہایا جانے والا شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گااور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے

  • سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    پستول یا چاقو دکھا کر لوگوں کو لوٹنے والے ڈاکو تو دیکھے ہیں اورآئے روز ایسی وارداتوں کے بارے میں سنتے بھی ہیں لیکن بھارت میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جس میں پولیس کو ایک ایسی خاتون ڈاکو کی تلاش ہے جو لوگوں کو سانپ کے خوف سے لوٹتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تامل ناڈو کی پولیس کو ایک ایسی خاتون کی ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جو لوگوں کو سانپ دکھا کر لوٹتی ہےپولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد سانپ سے ڈرا کر شہریوں کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی خاتون کو پکڑنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

    پولیس کے مطابق کسی شہری کی جانب سے خاتون کے خلاف تاحال مقدمہ درج نہیں کروایا گیا ہے وائرل ویڈیوز دیکھ کر اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ خاتون خانہ بدوش ہے جو سانپ دکھا کر لوگوں سے لوٹ مار کرتی ہے تاہم حکومت نے وائرل ویڈیوز کو سامنے رکھتے ہوئے خاتون کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    امریکامیں تمغہ بہادری پانےوالےپاکستانی نژادشخص کوکارچھیننےکی واردات میں مزاحمت پرراہزانوں نےقتل…

    ایک شہری نے پولیس کوبتایا کہ ایک خاتون اس کے گھر آئی اور اس سے کپڑے مانگے جب انہوں نے کپڑے دینے سے انکار کردیا تو خاتون نے سانپ باہر چھوڑنے کی دھمکی دی۔

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

  • کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے اسٹریٹ کرائمز میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پچھلے کئی ماہ میں یے اضافہ کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ زندگی اور قیمتی اشیاء کی حفاظت کے حوالے سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنیادی وجوہات تک پہنچنے کے لیے آپ کو ماہر معاشیات یا فلسفی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی رواں ماہ ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے جرائم جیل کے اندر سے آپریٹ ہو رہے ہیں. یہ کرنے والے اور اِنکی سرپرستی کرنے والے اس قدر مضبوط ہوگئے ہیں کہ انکو جیل کے اندر سے ایسے کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہں آرہی ہے۔اور کئی واقعات میں خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد ملوث پائے گئے ہیں. جو عام شہریوں نے پکڑنے کے بعد پولیس کے حوالے کیے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کے پاس کوئی فوری حل نہں نظر آتا.

    چند روز قبل اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر کلفٹن کے نواحی علاقے میں دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات میں اس وقت اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھا جب وہ بینک سے 70 لاکھ روپے سے زائد نکال کر جا رہا تھا۔ ڈاکوؤں نے مزاحمت کی تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کراچی میں جان کی قیمت اب ایک موبائل فون کی قیمت جتنی رہ گئی ہے کیوں کے چھینے والے افراد مزاحمت کرنے والوں کو ایک گولی سے اِنکی جان کا خاتمہ کر دیتے ہیں.

    اسی دن ایک نوبیاہتا نوجوان کو ایک اور پوش علاقے میں اس کی رہائش گاہ پر اس کی والدہ، بہن اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ملک کے معاشی حب میں تقریباً آئے روز ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ معمولی مزاحمت پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ شہری اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ معمولی رقم بھی لے جانے سے ڈرتے ہیں۔ATM سے پیسے نکالتے ڈرتے ہیں کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے۔تو ایسے میں اگر گورنمنٹ ہر شخص کو بینکنگ کے طرف لا نا چاہتی ہے تو اس سے پہلے گورنمنٹ کو حالات سازگار بنانا ہونگے.

    ان جرائم کے بڑھنے کی سب سے بنیادی وجہ ان جرائم کو کنٹرول نہ کرنا ہے جب تک ان کا صحیح طرح سد باب نہں کیا جائے گا اس میں اضافہ ہوتا رہے ہے اور باقی ساری وجوہات جن کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کم ہوتے روزگار کے مواقع کے مجموعی اثرات جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف میں ظاہر ہو رہے ہیں، بشمول لوٹ مار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 کے پہلے آٹھ مہینوں میں شہر میں اسٹریٹ کرائم کے تقریباً پچاس ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں زیادہ تر اغوا برائے تاوان، قتل، گاڑیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ موبائل فون چھیننے کے واقعات تھے ۔ اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے ہوتے ہوئے ان واقعات کا کوئی صحیح سد باب نہں ہو رہا تو جرائم پیشہ لوگ اور مضبوط ہوجاتے ہیں. مجرم دن دیہاڑے دکانداروں عام شہریوں کو کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے تاجر اورہر عام شخص اپنی جانوں اور قیمتی چیزوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔

    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک کو معاشی وسعت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیمار معیشت کو صحت کی طرف واپس لانا ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ حقیقت کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر وزیر تعلیم سعید غنی نے کئی موقعوں پر سنگین جرائم کی صورتحال کو تسلیم کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے موجودہ نظام میں کمزوری ہے جس کے باعث حالات دن بہ دن بد تر ہو رہے ہیں. ان حالات سے قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کی حکومت کی اہلیت پر لوگوں کے گھٹتے ہوئے اعتماد کو فروغ مل رہا ہے.حکومت کو جلد سے جلد عملی طور پے ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے میدان میں آنا ہوگا ورنہ صورتحال اس سے زیادہ کہیں اور بد تر ہوجائے گی۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    لاہور :ملتان سلطانز کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا قرار دیا گیا ہے۔پی سی بی ایوارڈز میں سب سے قیمتی کرکٹر اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے محمد رضوان کو ٹورنامنٹ کے 13 میچز میں 546 رنز بنانے پر پلیئر آف دا ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے47 چوکے اور 9 چھکے جڑنےسمیت 7 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ اس دوران انہوں نے وکٹوں کے پیچھے بھی 9 شکار کیے۔

    لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو بالترتیب ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹر اور بہترین باؤلر قرار دیا گیا ہے۔ فخر زمان نے ٹورنامنٹ میں 153 کے اسٹرائیک ریٹ سے 588 رنز اسکور کیے۔ شادب خان نے 6.47 کے اکانومی ریٹ سے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 19 وکٹیں حاصل کیں۔

    خوشدل شاہ کو ٹورنامنٹ کا بہترین آلراؤنڈراوربہترین فیلڈر قرار دیا گیا۔ انہوں نے ایونٹ میں 153 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 16 وکٹیں بھی حاصل کیں۔لاہور قلندرز کے زمان خان کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایمرجنگ کرکٹر قرار دیا گیا ۔ پہلی مرتبہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شرکت کرنے والے زمان خان نے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 18 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس دوران امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایوارڈ راشد ریاض جبکہ اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ ملتان سلطانز کو دیا گیا۔امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل کے علاوہ تمام ایوارڈز کمنٹری پینل میں شامل ارکان کی جانب سے دئیے گئے ہیں۔

    ایوارڈز:
    پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    پارک ویو سٹی امپائرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل7– راشد ریاض (3.5 ملین روپے)
    ٹک ٹاک بیٹرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7- فخر زمان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    جے ڈاٹ باؤلرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل – شاداب خان (اسلام آباد یونائیٹڈ) (3.5 ملین روپے)
    جوبلی انشورنس وکٹ کیپرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    اوساکا بیٹریز فیلڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    برائٹو پینٹس آل راؤنڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    زیک آئل ایمرجنگ کرکٹر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 – زمان خان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    گولوٹلو سپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ – ملتان سلطانز (3.5 ملین روپے)

  • لاہور قلندرز کی کامیابی  کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور:لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا ،اطلاعات کے مطاابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار لاہور قلندرز کی فتح پر بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔

    اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پاکستان سپر لیگ سیون فائنل جیتنے پر لاہور قلندرز کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرکے فتح اپنے نام کی، محمد حفیظ، بروک اور ویزے نے شاندار بلے بازی کرکے لاہور قلندرز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کی زبردست کپتانی اورعمدہ باولنگ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔عثمان بزدار نے کہا کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، شائقین کرکٹ نے فائنل کو خوب انجوائے کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ آج پر امن اور کھیلوں سے محبت کرنے والے پاکستان کی فتح ہوئی ہے،لاہورمیں ہونے والے پی ایس ایل کے فائنل کو یادگار میچ کے طو رپر یاد رکھاجائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    لاہور قلندرز کے 181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ملتان سلطانز کی ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنزبناکر آؤٹ ہوگئی، خوشدل شاہ 32 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    قلندرز نے محمد حفیظ کی ذمہ درانہ اور اختتامی اوورز میں بروک اور ویزے کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 180 رنز بنائے، حفیظ 46 گیندوں پر 69 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور قلندرز کی اننگز

    لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا صرف 25 رنز کے مجموعی اسکور پر ٹاپ 3 بیٹرز پویلین لوٹ گئے، ان فارم فخر زمان3، عبداللہ شفیق 14 اور ذیشان اشرف 7 رنز بناسکے۔

    3 وکٹیں گرنے کے بعد حفیظ اور کامران غلام کے درمیان 54 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تاہم 79 رنز کے مجموعی اسکور پر کامران 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے تاہم دوسری جانب سے حفیظ نے ذمہ درانہ اننگز کھیلی لیکن وہ بھی 46 گیندوں پر 69 رنز بناسکے۔

    اس کے علاوہ اختتامی اوورز میں ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت قلندرز نے مقررہ اوورز میں180 رنز بنائے۔

    ہیری بروک نے22 گیندوں پر41 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ڈیوڈ ویزا نے8 گیندوں پر 28 رنز بنائے۔

    سلطانز کی جانب سے آصف آفریدی نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈیوڈ ولی اور شاہنواز دھانی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    ملتان سلطانز کی اننگز

    181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سلطانز کے بیٹرز جم کر نہ کھیل سکے اور یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے گئے۔اوپنرز شان مسعود اور کپتان رضوان اس بار اپنی ٹیم کو کامیابی نہ دلواسکے،شان 19 جبکہ رضوان 14 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے علاوہ رائیلی روسو 15، امیر عظمت6 اور آصف آفریدی ایک رنز بناکر پویلین لوٹے،ایک وقت پر ٹم ڈیوڈ اور خوشدل کے درمیان51 رنزکی شراکت داری قائم ہوئی لیکن وہ بھی سلطانز کو کامیابی نہ دلواسکی۔

    ٹم ڈیوڈ 27 جبکہ خوشدل شاہ 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے یوں پوری ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ محمد حفیظ اور زمان خان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    ٹاس سے قبل قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئر مین پی سی بی رمیز راجا نے ایونٹ کے بہترین انعقاد پر سکیورٹی اداروں سمیت تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

  • اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    بھوپال: بھارت میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والا مزدور راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک معاشی حالات سے پریشان مزدور کو ہیرا مل گیا ہیرے کو نیلامی کے لیے شہر پنا میں پیش کیا گیا جہاں 87 دیگر ہیرے بھی فروخت کے لیے موجود تھے یہ نیلامی 24 اور 25 فروری کو ایم پی کے ‘ہیروں کے شہر’ پنا میں ہوئی، جو ریاستی دارالحکومت بھوپال سے 380 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ہیروں کے شوقین ایک شخص نے بھٹے کے مزدور کو ملنے والے ہیرے کو ایک کروڑ 62 لاکھ میں خرید لیا ہیروں کی نیلامی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے ٹیکس وغیرہ کاٹ کر بقیہ رقم مزدور کو دے دی جائے گی۔

    بھوپال سے 380 کلومیٹر دور شہر پنا کو ہیروں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں ہیرے مدفن ہیں اور شہریوں کو ملتے بھی رہتے ہیں اسی شہر میں ہیروں کی سب سے بڑی نیلامی بھی ہوتی ہے۔

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    شہر پنا کے ضلعی کلکٹر سنجے کمار مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ دو روزہ نیلامی کے صرف پہلے دن ہی مجموعی طور پر 82.45 قیراط کے 36 ہیرے فروخت ہوئے جن میں مزدور کو ملنے والا ایک ہیرا بھی شامل ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ نیلامی کے دوران، ₹ 1.62 کروڑ کی سب سے زیادہ قیمت 26.11 قیراط کے ہیرے سے حاصل ہوئی، جو 21 فروری کو یہاں کی ایک کان سے ملا تھا۔

    اس قیمتی پتھر کی نیلامی 3 لاکھ روپے فی قیراط سے شروع ہوئی اور 6.22 لاکھ روپے فی قیراط تک چلی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ پنا میں اتنا بڑا ہیرا کافی عرصے کے بعد ملا ہے۔

  • پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    لاہور:پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام ،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز کا کہنا ہے کہ خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 24 سال کے طویل عرصے بعد آج صبح اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی تھی جہاں سے ٹیم کو سخت سکیورٹی میں ہوٹل لے جایا گیا۔آسٹریلوی کھلاڑی دو روز تک بائیو سکیور ببل میں رہیں گے اور پھر تمام کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے جس کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں میں حصہ لے سکیں گے۔

    آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات تھے لیکن کرکٹ آسٹریلیا نے یقین دلایا کہ انہیں بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    پیٹ کمنز کا مزید کہنا تھا کہ میں خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمارا بہت اچھا خیال رکھا جا رہا ہے، جب ہم پہنچے تو بہت زیادہ سکیورٹی موجود تھی، ہمیں جہاز سے اتارنے کے بعد سیدھا ہوٹل پہنچایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بہترین سکیورٹی انتظامات کے باعث ہمیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور تمام کھلاڑیوں کی پوری توجہ کرکٹ پر ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پہنچنے والے کھلاڑیوں میں کپتان پیٹ کمنز کے علاوہ اسٹیو اسمتھ، مارنس لبوشین، جوش ہیزل ووڈ، مچل مارش، عثمان خواجہ، ناتھن لیون، مچل اسٹارک اور دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔

    آسٹریلین ٹیم دو روز بائیو سکیور ببل میں رہے گی اور دو روز بعد کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے۔

    کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے اور دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 4 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا

  • سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:     پتے لگ جان گے

    سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا: پتے لگ جان گے

    لاہور: سلطانز یا قلندرز: پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:پتے لگ جان گے ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کا چیمپئن کون ہو گا، فیصلے کا دن آ گیا۔ ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں ٹائٹل مقابلے میں آج مدمقابل ہوں گی، کپتان محمد رضوان اور شاہین آفریدی نے جیت پر نظریں جما لیں۔

    زندہ دلان کے شہر میں کرکٹ کی زندہ دلی کا آج فیصلہ کن دن ہے، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز آمنے سامنے ہو رہے ہیں، ٹائٹل کی جنگ قذافی سٹیڈیم کے تاریخی میدان میں شام ساڑھے سات بجے شروع ہو گی۔ فاتح ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے، رنر اپ کو تین کروڑ بیس لاکھ روپے انعامی رقم دی جائے گی.

    گذشتہ روز آرام کے دن بھی ٹیمیں فُل ایکشن میں رہیں، نیٹ پریکٹس، بیٹنگ، بولنگ کے سیشن کئے گئے۔ چھوٹے فارمیٹ کے بڑے مقابلے میں زورکا جوڑ ہو گا، رش بھی کھڑکی توڑ ہو گا۔

    چھکے چوکے اور وکٹیں دیکھنے کے لیے پرستار، انتظار میں بے قرار ہیں۔ لاہور قلندرز کو میزبان ہونے کا مان ہے تو ملتان سلطانز بھی گذشتہ سال کی چمپئن ہے۔ رواں سیزن میں دونوں ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں، لاہور کی ٹیم ایک بار فاتح رہی، آخری پانچ میچز میں سے چار بار ملتان سلطانز ہی جیتے۔ آج فتح پانے کے لیے کپتان رضوان اور شاہین خان پرعزم ہیں تو پرستار بھی پرجوش ہیں ۔

    یاد رہے کہ آج فائنل میں جیتنے والے کو ملنے والے انعام پر بھی بحث چل پڑی ہے اور کہا جارہاہے کہ جو پی ایس ایل کے پچھلے 6 ایڈیشنز تک لیگ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو 5 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس بار انعامی رقم میں 3 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس بار جیتنے والی ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے جب کہ رنرز اپ ٹیم کو 3کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

  • کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    غریبوں کے بچے خواب دیکھنے کی بجائے زندہ رہنے کے لئے مزدوری کررہے ہیں اور پیسے اور وسائل پر چند فیصد لوگ برا جمان ہیں اور اس کے برعکس غریب دیہاڑی کے لئے ترس رہا ہے
    حقیقت یہی ہے پاکستان میں سرمایہ داروں نے حکمرانوں نے جم کے ترقی کی.
    ترقی تو وہ ہوتی ہے جس میں عوام کو سہولیات میسر ہوں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو.
    پر
    جہاں کچرے سے کاغذ چن کے انکو بیچ کر بھوک مٹائی جائے وہاں ترقی نہیں ہوتی.
    میں روز صبح کام پر جاتے ہوئے دو معصوم بچوں کو دیکھتی ہوں جن کے نازک کندھوں پر پرانا تھیلا لٹکا ہوتا ہے
    معمول کے مطابق جب میں بس سٹاپ پر پہنچی تو پتا چلا کہ گاڑی لیٹ ہے اس لئے میں پیدل چلنے لگی تو وہی بچے میرے سامنے تھے جن کو میں روز دیکھتی تھی
    ان میں سے ایک بچہ لگ بھگ 7 سال کا تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چن رہا تھا اور اسکا وہ معصوم چھوٹا بھائی بھی اپنے کام میں ماہر لگ رہا تھا.
    میں ان کے قریب گئی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس معصوم کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے اور اس سردی میں بنا جوتوں کے وہ کچرے میں سے کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے تھیلے میں جمع کر رہے تھے, میں نے اس چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ میں لے آئی تو اس کا 7 سالہ بھائی کسی محافظ کی طرح میرے پاس آیا اپنے بھائی کا ہاتھ چھڑایا اور چل نکلا
    میں نے کہا بیٹا اس کے جوتے کہاں ہیں ؟
    تو اس نے نفی میں سر کو ہلا کے جواب دے دیا
    آپ کا نام کیا ہے پر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے چل پڑا

    وہاں کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ ادھر پاس ہی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں باپ دیہاڑی لگاتا ہے اور یہ بچے ہر روز کاغذ چنتے ہیں پھر کباڑ میں فروخت کرکے جو پیسے ملتے ہیں گھر لے جاتے ہیں.
    یہ سن کر میں تیز قدموں سے ان کے پاس پہنچ گئی جو سڑک کے کنارے ایک کوڑے دان کے پاس کھڑے تھے پر کوڑے دان ان کے قد سے بڑا تھا
    میں نے بڑے بچے کو پیار سے کہا بیٹا آپکے بڑے بہن بھائی ہیں تو پھر اس نے نفی میں سر ہلایا
    کتنے پیسے اس ردی کے مل جاتے ہیں میں نے اس کے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا 50 روپے.
    میں نے 100 روپے کا نوٹ اس بچے کو دکھاتے ہوئے کہا یہ آپ کی کمائی, اب آپ گھر جائیں ٹھنڈ بہت ہے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پیسے لے لیے.

    یہ بچے جب بڑے ہونگے تو ان کو اپنا بچپن یاد ہوگا ؟
    کیا ان بچوں کی پسند نا پسند نہیں ؟
    کیا ان کے خواب نہیں ؟
    بالکل ہیں اور ہونگے کیونکہ والدین کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے ایک قابل اور کامیاب انسان بنیں مگر اپنی غربت کے ہاتھوں وہ اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں. کئی ایک ایسے ہیں جو خود مشکل سے گزر بسر کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں مگر ڈگری پاس ہونے کے باوجود اس کو کہیں اچھی نوکری نہیں ملتی.
    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کو ملی جو ایم ایس سی ریاضی ہے پر دو وقت کی روٹی کے لئے خاکروب کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوگیا ہے. تین سال مسلسل نوکری کی تلاش کے باوجود اسے مایوسی ہوئی اور مایوس ہونے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں خاکروب کی نوکری کرلی وہ بھی صرف ڈیلی ویجز پر.
    ملک میں اب بھی کئی لوگ جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف کئی کنال پر مشتمل محلوں میں کچھ خاندان بستے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟
    معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھتا جارہا ہے مسلسل مہنگائی نے ناصرف غریب کی کمر توڑی ہے بلکہ امیر اور غریب کے اس فرق کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے .
    @Rehna_7