Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شان مسعود نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں نیا ریکارڈ قائم کرکےپاکستان کےنام کردیا

    شان مسعود نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں نیا ریکارڈ قائم کرکےپاکستان کےنام کردیا

    پاکستان کے بیٹر شان مسعود نے کاؤنٹی چیمپئن شپ میں نیا ریکارڈ قائم کردیا،اطلاعات کے مطابق شان مسعود نے ڈربی شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے 239 رنز کی انفرادی اننگز کھیلی۔ شان مسعود نے 239 رنز کی اننگز سسکس کے خلاف ڈربی کے مقام پر کھیلی۔

    شان مسعودکاؤنٹی کرکٹ میں ڈبل سنچری اسکور کرنیوالے پہلے پاکستانی اوپنر بن گئے

    شان مسعود کے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کی یہ سب سے بڑی اننگز تھی۔ اس کے ساتھ ہی شان مسعود کی 239 رنز کی اننگز کاؤنٹی چیمپئن شپ میں کسی بھی پاکستانی کی جانب سے سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔

    ادھرپاکستان کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے کاؤنٹی چیمپئین شپ میں یارکشائر کے لیے اپنے ڈیبیو میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق اس تیز گیند باز نے گلوسٹر کے خلاف پہلے دن 16 اوورز میں 81 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔انہوں نے تین وکٹیں 13 گیندوں کے دوران حاصل کیں جب انہوں نے ریان ہیگنس (6)، ٹام لیس (0) اور میٹ ٹیلر کو (4) پویلین واپس بھیج دیا۔

    یارکشائر کے صدر نے کہا کہ جب آپ کسی ایسے شخص کو سائن کرتے ہیں جو واقعی اچھی رفتار سے بولنگ کرتا ہے تو آپ کے پاس قدرتی اسپیل ہوں گے جہاں وہ شاید کچھ کے لئے جاتا ہے اور جہاں وہ تین یا چار وکٹیں لیتا ہے۔

    گلوسٹر کی ٹیم 277 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یارکشائر نے دن کے اختتام پر بغیر کسی نقصان کے 37 رنز بنائے۔

  • بابر اعظم کو عالمی نمبر ایک بلے باز کے طور پر ایک سال مکمل ہوگیا

    بابر اعظم کو عالمی نمبر ایک بلے باز کے طور پر ایک سال مکمل ہوگیا

    لاہور:قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو ون ڈے میں عالمی نمبر ایک بلے باز کے طور پر ایک سال مکمل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آل فارمیٹ کے کپتان اور ٹاپ بلے باز بابر اعظم نے آج 14 اپریل 2022 کو عالمی نمبر ایک ون ڈے بلے باز کے طور پر ایک سال مکمل کر لیا۔

    اپریل 2021 میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز جیتنے میں اہم کردار ادا کرنے پر بابر اعظم نے 41 ماہ سے پہلی پوزیشن پر براجمان بھارت کے ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔انہوں نے سیریز میں ایک سنچری کی مدد سے مجموعی طور 228 رنز بنائے تھے۔

    بابر نے ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد سے اب تک صرف چھ ون ڈے میچز کھیلے ہیں جن میں تین سنچریز اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 90.3 کی حیران کن اوسط سے 453 رنز بنائے ہیں۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بابر اعظم ون ڈے میں ظہیر عباس (1983-84)، جاوید میانداد (1988-89) اور محمد یوسف (2003) کے بعد ٹاپ رینکنگ حاصل کرنے والے چوتھے پاکستانی بلے باز ہیں۔

    ادھرجنوبی افریقہ کے لیجنڈری فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے بابر اعظم کو موجودہ دور کا بہترین بلے باز قرار دے دیا ہے۔

    جمعرات کی سہہ پہر ڈیل اسٹین نے ٹوئٹر پر سوال و جواب کا سیشن کیا جس میں انہوں نے متعدد مداحوں کے جوابات دیے، جنہوں نے ان سے ہر طرح کے سوالات پوچھے۔ایک سوال جس نے اسٹین کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ تمام فارمیٹس کے بہترین بلے بازوں کے بارے میں تھا۔اس سوال کے جواب میں انہوں نے بابر اعظم کا نام لیا اور کہا کہ وہ بہترین بلے باز ہیں۔

    واضح رہے کہ بابر اعظم کرکٹ کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں جبکہ ان کا نام ہر فہرست میں سر فہرست ہے۔اس سے قبل شین واٹسن نے بھی بابر اعظم کو ٹیسٹ کرکٹ میں اسٹیو اسمتھ، کین ولیمسن اور جو روٹ کے بعد اپنا دوسرا بہترین بلے باز قرار دیا ہے۔

    بابر کی کارکردگی تمام فارمیٹس میں سنسنی خیز رہی ہے اور حال ہی میں ہونے والی آسٹریلوی سیریز میں ان کی کارکردگی نے لیجنڈری بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کو بھی ان کی تعریف کرنے پر مجبور کردیا تھا۔

  • مودی مقبوضہ کشمیرمیں پنڈتوں کو آباد کرنےکےلیے متحرک ہوگیاہے: مشعال ملک

    مودی مقبوضہ کشمیرمیں پنڈتوں کو آباد کرنےکےلیے متحرک ہوگیاہے: مشعال ملک

    اسلام آباد:پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور جیل میں بند کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیری پندٹ برادری کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیںجسکا مقصد کشمیری مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کو آگے بڑھانا ہے جیسا کہ فلم ‘دی کشمیر فائلز’ میں دکھایا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مشال حسین ملک نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ فسطائی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ علاقے کے دورے کے موقع پر24 اپریل کو یوم سیاہ منائیں ۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم کی وجہ سے مقبوضہ جموںوکشمیر لہو لہاں ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کشمیریوں کاپیدائشی حق، حق خود ارادیت دبا رکھا ہے اور اب وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو قلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ۔نہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں وادی میں بدترین انسانی بحران سے بخوبی واقف ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اس بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

  • پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    پاکستان اقوام متحدہ کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا

    اسلام آباد:پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی کا دوبارہ رکن منتخب ہو گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کی غیر سرکاری تنظیموں کی کمیٹی (این جی اوز) کے لیے ساتویں مرتبہ دوبارہ رکن منتخب ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ انتخاب 13 اپریل بروز بدھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں ہوا۔یہ کمیٹی ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو اقوام متحدہ کے کام میں غیر سرکاری تنظیموں کی شرکت کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔

    وزارت خارجہ کے دفتر کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ این جی اوز کی ان درخواستوں پر غور کرتا ہے جو ” ای سو او ایس اور سی“ کو مشاورتی حیثیت اور ایکریڈیٹیشن حاصل کرنا چاہتی ہیں۔کمیٹی میں پاکستان کا انتخاب اقوام متحدہ کے کام میں اس کے کردار اور شراکت میں عالمی برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

    این جی اوز کی کمیٹی کے رکن کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا رہے گا جو دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں ایک متنوع اور فروغ پزیر سول سوسائٹی ہے۔

    ہم نے ہمیشہ کثیرالجہتی بات چیت میں سول سوسائٹی کی مناسب شرکت کے عزم کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس کا مظاہرہ کیا ہے جس کا مقصد انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجوں کا حل تلاش کرنا ہے۔

  • کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کپتان بمقابلہ ریاست، تحریر: نوید شیخ

    کل رات گئے جو عمران خان نے پشاور میں پاور شو کیا ہے کتنی تھی کتنی نہیں تھی اس بحث سے ہٹ کر ایک اچھی تعداد تھی اور بڑا جلسہ تھا اس چیز کو ماننا چاہیے مگر اس میں صوبائی حکومت کے وسائل کا بھی بے دریغ استعمال ہوا ۔ محمود خان خود سارے انتظام وانصرام دیکھتے رہے ۔ ۔ مگر عمران خان نے کچھ باتیں کیں جن کے بارے حقائق جاننا بہت ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی بے غیرت حکومت کو نہیں مانتے، وہ اپنے غیرت مند عوام کو بے غیرتوں کے خلاف کھڑا کریں گے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ اس سلسلے میں کپتان کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کیونکہ فی الحال تو کپتان کے اپنے حواری ملک سے بھاگے ہوئے ہیں بھاگنے کی تیاری میں ہیں ۔ فرخ گجر سے لے کر زلفی بخاری کے کارنامے قوم کو زبانی یاد ہوگئے ہیں ۔ اس سلسلے میں لطفیے تک چلانا شروع گئے ہیں کہ کپتان آخری "گھڑی” تک "ہار” نہیں مانوں گا ۔ اس میں گھڑی محمد بن سلمان والی ہے اور ہار توشہ خانے والا ہے ۔

    پھر کپتان نے کہا کہا کہ جو بھی یہ سوچتا تھا کہ باہر سے امریکہ کی امپورٹڈ حکومت یہ قوم تسلیم کرلے گی تو کو ساری قوم نے سڑکوں پر نکل کر بتایا ہے کہ انہیں امپورٹڈ حکومت منظور نہیں ہے۔۔ مگر اس سلسلے میں حقائق یہ ہیں کہ دنیا تواس حکومت تسلیم کر رہی ہے چین روس ، یورپ اور مشرق وسطی کے بردار اسلامی ممالک سمیت ترکی ہر طرف سے مبارکبادیں آرہی ہیں ۔ سب شہباز شریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور جو گرم جوشی چین دیکھارہا ہے اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے سی پیک کو چلانے میں سریس نہیں تھی ۔ ۔ پھر عمران خان نے شہباز شریف کے خلاف40 ارب روپے کے کرپشن کے کیسز ہیں، ہم اس کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانیں گے۔ ۔ اب یہ بات ہی بچوں والی ہے ۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے ۔ آپ دیکھیں کہ چیئرمین نیب تو انھوں نے ایک ویڈیو جاری کرکے قابو کیا ہوا تھا ۔ نیب میں یہ کچھ ابھی تک ثابت نہیں کرسکے ہیں صرف شہباز شریف نے باقیوں جیسے پیپلز پارٹی والوں کے خلاف بھی ۔ پھر شہباز شریف کے حوالے سے کپتان کو چاہیے کہ وہ شہزاد اکبر کو کٹہرے میں لائیں کیونکہ براڈشیٹ والی مثال ہمارے سامنے ہے کہ قوم کے ٹیکس کا پیسہ بھی ضائع ہوا ۔ الٹا برطانیہ کی عدالتوں سے شہباز شریف کو کلین چیٹ ملی ۔

    ۔ پھر عمران خان نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں چھ کروڑ سمارٹ فون ہیں، ہمارے نوجوانوں کے منہ کوئی بند نہیں کرسکتا، شہباز شریف ہمارے نوجوانوں کے خلاف جو کارروائی کر رہے ہیں، کان کھول کر سن لیں ، جس دن ہم نے کال دے دی تو تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کی کال پریہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے یہ اداروں کے خلاف جو بھونڈی کمپین چلائی جا رہی تھی اس کا قلع قمع ہورہا ہے ۔ جس میں کبھی جنرل مرزا اسلم بیگ کی فیک آڈیو وائرل کرکے اداروں کو بدنام کیا جاتا ہے تو کبھی یہ افواہیں وائرل کی جاتی ہیں کہ جرنیلوں کے درمیان عمران خان کو لے کر اختلافات ہوگئے ہیں ۔ فوج ایک ڈسپلن ادارہ سب ڈسپلن کے پابند ہیں ۔ ایسے پراپیگنڈے کرواکر یہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے ۔ ابھی بھی پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا کے زریعے خوب جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں ۔ جب یہ لوگ پکڑے گئے تو یہ بھی پراپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ ان کی جماعت کے نہیں یہ ٹی ایل پی کے لوگ اداروں نے پکڑے ہیں ۔ جس کی ٹی ایل پی نے سختی سے تردید کی ۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے بارہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ نو ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ اگر عمران خان کو لگتا ہے کہ یہ غلط ہوا ہے تو قانون جنگ لڑیں عدالتیں کھولی ہوئی ہیں ۔

    پھر عمران خان نے نیوکلیئر پروگرام کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلامتی کے اداروں سے سوال پوچھا۔ کہ تمہارا نیوکلیئر پروگرام ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے، تم ان چوروں کے ہاتھوں میں ہماری سالمیت دے رہے ہو، کیا تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے۔۔ تو اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ نیوکلیئر پروگرام کسی ادارے کا نہیں اس ملک وقوم کا ہے ۔ پھر اس نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد بھٹو نے رکھی تھی ۔ جب اس نے کہا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے ۔ جس کی پاداش میں اس کو سولی پر چڑھنا پڑھا تھا ۔ اسکے بعد ضیاالحق اس کو لے کر آگے بڑھے ان کا طیارہ کریش ہوگیا مگر وہ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ اس کے بعد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تھے جس کی پاداش میں ان کو اپنے خاندان سمیت جلاوطنی کاٹنی پڑی ۔ پھر میزائل پروگرام کی بنیاد بے نظیر بھٹو نے رکھی ۔ ساتھ ہی گزشتہ پینتالیس سالوں سے یہ ہی دو جماعتیں اور ادارے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور اس کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں ۔ تو عمران خان کو بتاتا چلوں کہ یہ جھوٹ کسی کو بتائیں یا سمجھائیں ۔ یہ بات کرکے دراصل عمران خان نے اداروں کو ٹینشن دینے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں پیغام جائے کہ پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ۔ یہ اپنی سیاست کی خاطر ملک کے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں ۔

    پھر کپتان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوجاتا ہم نے سڑکوں پر رہنا ہے، ہم ان سے زبردستی الیکشن کرائیں گے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اتنی ہی زور کا الیکشن آیا ہوا تھا تو تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کروادیتے۔ تب تو اپوزیشن کا مطالبہ بھی تھا کہ الیکشن کراو۔ اس وقت آپشن تھی ۔ اب وقت گزر چکا ہے ۔ ۔ پھر عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ججز سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کو عدالتیں لگائی گئیں۔۔ یہ بہت ہی گندی عادت ہے عمران خان کی یہ ہر کسی کو متنازعہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ جب عدالتی احکامات کو نہیں مانیں گے ۔ جب آپ آئین کو توڑیں گے ۔ جب آپ ایک فاشسٹ جماعت کی طرح کہیں گے کہ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرواں گا تو پھر عدالت نے تو اپنے حکم پر عمل درآمد کے لیے کھولنا ہی تھا ۔ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک آئین وقانون کے تحت چلتا ہے ۔ ان کی مرضی منشا اور خواہشات کے تحت نہیں ۔

    پھر کپتان نے سفید جھوٹ بولا کہ مجھے یہ قوم 45 سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون نہیں توڑا، حالانکہ پی ٹی وی حملہ کیس سب کو یاد ہے ۔ بجلی کے بل جو جلائے گئے وہ بھی ہم کو یاد ہے ۔ ۔ عمران خان نے اس بار بڑی غلطی کر دی ہے اور اداروں سمیت ہر کسی سے پنگا لے لیا ہے جس کا خمیازہ ان کو لازمی بھگتنا پڑے گا ۔ اس حوالے سے آنے والے دنوں میں آپ کو بہت کچھ صاف دیکھائی دے گا۔ ۔ کیونکہ عمران خان اپنی سیاست کی خاطر لوگوں کی عزتیں اچھالنے اور ہر طرح کے گھناونا کھیل کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ جو سیاست میں تشدد اور نفرت کابیچ عمران خان بو رہے ہیں اس کا رزلٹ ملے گا ۔ ابھی تو کپتان حملے کر رہے ہیں جب مخالفین کریں گے تو تب پتہ چلے گا کہ کپتان کا عزم کتنا کو پختہ ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    مقبوضہ کشمیر:انسانی حقوق کی تیزی سےبگڑتی ہوئی صورتحال:کشمیریوں پرخوف کےسائے

    اسلام آباد:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے جہاں بھارتی فوجیوں نے لوگوںکی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2019میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی آئین کی دفعہ 370کی منسوخی کے ذریعے علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اور پولیس کے ہاتھوں قتل، جبری گرفتاریاں اور تشدد ایک معمول بن چکاہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 05اگست 2019سے اب تک 570سے زائد افرادکو شہید، 2240سے زائدکو زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیاہے جبکہ بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے پر صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ قابض فوجیوں نے علاقے میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا ۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا استعمال کر رہے ہیں اور حریت رہنمائوں مشتاق الاسلام اور عبدالصمد انقلابی پر حال ہی میں کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا اس کی واضح مثال ہے۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا کہ بی جے پی کی فسطائی بھارتی حکومت رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اپنی جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بارہا خبردارکیاہے۔

    اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کارروائیاں عالمی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ بنانا چاہیے اور کشمیریوں کو بھارتی جارحیت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیے۔

  • شہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے

    شہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے

    لاہورشہبازشریف عمران خان کوبرداشت نہ کرسکے،اطلاعات کے مطابق شہبازشریف کوابھی اقتدار میں آئے چند گھنٹے ہی ہوئے کہ انہون نے پی سی بی کوہدایت کی ہے کہ عمران خان کی تصویر پی سی بی ویب سائٹ سے ہٹا دی جائے

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان زبانی احکامات کے فوری بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے پیٹرن انچیف بن گئے ہیں۔ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر عمران خان کی جگہ شہباز شریف کی تصویر لگادی گئی ہے۔

    کرکٹ بورڈ کے دفتر سے بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی تصویر ہٹادی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق ملک کا موجودہ وزیراعظم بورڈ کا پیٹرن انچیف ہوتا ہے۔یاد رہے کہ شہباز شریف گزشتہ روز ملک کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں۔

    ادھرچیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )رمیز راجہ نے بطور چیئر مین پی سی بی کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے ۔

    نجی ٹی وی "جیو نیوز” کے مطابق چیئر مین پی سی بی رمیز راجہ نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے بطور چیئر مین پی سی بی کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ نئی حکومت کی جانب سے پیغام کے منتظر ہیں ۔

    رپورٹ کے مطابق رمیز راجہ نے استعفیٰ دیا تو نجم سیٹھی کو پی سی بی کے چیئر مین لگانے سے متعلق سوچا جائے گا ۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد متحدہ اپوزیشن کی حمایت سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم فرائض سنبھال لیے ہیں ۔

  • امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی

    موجودہ حالات میں آپ کسی یوتھیئے سے پوچھیں کہ بھئی یہ حظ والی کہانی کیا ہے؟

    تو وہ جواب دے گا کہ حظ امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی ان کو

    دوبارہ پوچھیں بھائی حظ کے اندر لکھا کیا تھا اور حظ کیا امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا وزیراعظم کے نام پر؟

    تو جواب تو جواب ہو گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں بتائیے گا ضروران بےچارے اندھے سیاسی مقلدین کو جو انکا لیڈر بول دے وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے . پٹواری. جیالے وغیرہ ) کے لئے وہ بات معاذاللہ قرآنی حکم اور حدیث کا درجہ رکھتی ہے یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں-

    اور یہ طریقہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہے بشمول پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے یعنی ان کے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو مامے خان 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی ان شاء اللہ کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی چڑھ دوڑیں گے پاکستان پر-

    خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ حظ کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ خظ منٹ آف میٹنگ تھا جو امریکہ کے پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی آفیشل نے باتیں کی تھیں اور ان باتوں کا راوی ہمارا پاکستانی سفیر ہے جو امریکہ میں ہوتا ہے پاکستان کی گورنمنٹ کی طرف سے اور یہ خظ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ سفیر نے مراسلہ لکھا کہ یہ یہ میٹنگ میں باتیں ہوئی ہیں-

    جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو میں شامل ملک ہے اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں کیوں کہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں-

    چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں ناکہ روس ہے اس لئے دورہ نا کیا جائےمگر ہمارا ہیرو خان نیازی کہاں سنتا ہے عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور انکل نیازی نکل پڑا تو اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا

    ہمارے یوتھیئے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی فلاں فلاں او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور حالیہ ایک سے امداد لے کر اپنے ہی بندے اندر کر رہے ہو اور ساتھ قرض بھی لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اس کے غلام نہیں او غلام نہیں تو اپنی ہی مذہبی جماعت کی دلالی تاحال کھانے والوں کرو رہا فوری اپنے جہادی ہے ہمت ایسا کرنے کی ؟-

    اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست چاہے نئی دشمنی پڑ جائے اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہےخیر اسی مدعہ پر آتا ہوں-

    اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں پہلے ہی ہمارے سفیر کو بلا کر سخت الفاظ میں کہا کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ )-

    یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس تو ایسے میں ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں کہ روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ
    جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے-

    روس تو آج بھی بھارت کی حمایت کرتا ہے دفاعی کھلے عام اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے
    سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دیں گے-

    حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں سفیر اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے-

    مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دئیے گئے اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دئیے تھے تحریک عدم اعتماد کے لئے اب حظ جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے-

    خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا حظ آیا ہے اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ بھئی نیازی خان جمہوری رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم باز نہیں آئے تھے دھرنا اسلام آباد میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا تم نے یاد ہے کہ نہیں؟ وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ تو کیا اس وقت تم نے بھی بھارت سے پیسے لے رکھے تھے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لئے؟-

    اب جب وزیراعظم نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے (ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہئے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)-

    تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا نا کہ احتجاجی طور پر کیوں کہ یہ مراسلہ جو آپ کے پاس ہے یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کی دھمکی نہیں ہے لحاظا جوابی کارروائی میں جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا-

    اور پھر امریکی گورنمنٹ کی آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    تو بھائی یہ ہے ساری رام کہانی خط والی ،میری گزارش ہے قوم یوتھ سے خاص کر مقلدین مذہبی قوم یوتھ سے کہ اس سے أگے کچھ ہے تو لاؤ ورنہ فوج پر الزام نا لگاؤ-
    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    #قصوریات

  • پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری

    پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری

    پی سی بی کی طرف سے چار ملکی ٹورنامنٹ کی تجویز:بھارت کی طرف سے سردمہری غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی ) نے ملٹی نیشنل ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے

    تفصیلات کے مطابق رمیز راجہ بھارت، پاکستان، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل چار ملکی ٹورنامنٹ کے انعقاد کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس تجویز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے جاری اجلاس میں پیش کرنے جا رہے ہیں۔

    جمعے کو دبئی میں منعقدہ آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن نے اسی طرح کے ماڈل کی سفارش کی۔

    ہیریسن نے تجویز پیش کی کہ اس طرح کے ملٹی ٹیم ایونٹس کو سائیکلیکل انداز میں منعقد کیا جانا چاہیے فی الحال، آئی سی سی سہ ملکی سیریز کے علاوہ دیگر ایونٹس کی اجازت نہیں دیتا اور تین سے زیادہ ٹیموں کے ٹورنامنٹس کا انتظام خود آئی سی سی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    ای سی بی اور پی سی بی ایک ہی صفحے پر ہیں جبکہ مبینہ طور پر فنانس اور کمرشل افیئرز کمیٹی کے کچھ ممبران کو خدشہ ہے کہ کثیر ملکی ایونٹس کی وجہ سے آئی سی سی ایونٹس کی اہمیت اور آمدنی کم ہو سکتی ہے۔

  • "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    "نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے” تحریر محمد عبداللہ

    نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    عمران خان ایک چھوٹی سی کوشش ضرور تھی لیکن عقیدہ نہیں تھا. عقیدہ اللہ رب العزت کی ذات ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے. وہ ذات اپنے بندوں کا نہ ساتھ چھوڑتی ہے اور نہ مایوس ہونے دیتی ہے. جہاں تک بات عمران خان کی ہے تو دیگر لوگوں کی طرح مجھے بھی عمران خان سے کئی ایک اختلافات تھے، بیڈگورنس، کمزور پلاننگ اور چلے ہوئے کارتوسوں کے ساتھ میدان میں اتر کر سبھی کو ہی للکار دینا یہ سیاسی خودکشی ہی تھی جو خان نے کی اور اس کا نتیجہ بھی توقعات کے مطابق نکلا.
    یار لوگ یا تو اس پورے سسٹم کو سمجھتے نہیں ہیں یا پھر عمران خان کو کچھ زیادہ ہی اوتار سمجھ بیٹھے تو اب رخصت ہوا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے ہیں. ہم نے نہ خان سے زیادہ توقعات باندھی تھی نہ ہم اتنے مایوس ہیں، ہاں دلگرفتہ ضرور ہیں کہ وہ ہوا کا اک تازہ جھونکا ثابت ہوا بھلے افکار سے ہی، اس نے غیرت و قومی حمیت کا درس دیا، سامراج اور یورپ کی ذہنی غلامی سے نکلنے کی ایک کوشش کی جس کا خمیازہ بھگت کر وہ واپس بنی گالا اور اپوزیشن بنچوں پر جاچکا ہے.
    پاکستان کا نظام سیاست چند ایک خاندانوں، اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ اور دیگر کئی فیکٹرز کے چنگل میں اس بری طرح سے جکڑا ہوا ہے کہ جو موجودہ نظام کی بھول بھلیوں سے آکر اس کو بدلنا چاہے گا اس کا حشر عمران خان ہے. آپ اس نظام کو بدلنا چاہتے ہیں افراد سازی کریں، فقط اپنی ہی مضبوط ٹیم تیار کریں، اپنی پلاننگ اول دن سے زمینی حقائق کی بنیاد پر کریں. اقتدار کے لیے کوئی بھی کندھا استعمال کریں گے تو وہ کندھا وقت آنے پر آپ کو جھٹک دے گا.
    ہم امریکہ و روس کے فاتح ضرور ہیں لیکن امریکہ یورپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ہمت و حمیت ہمارے مقتدر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے بھلے ہی ساری عوام "مرگ بہ امریکہ” کے راگ الاپے. یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکنز ادارے اور لابیز دنیا بھر میں حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں اس کے باوجود وہ بھی مات کھاتے ہیں اور کئی بار کھا چکے ہیں.
    اپنے مایوس لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ مایوسی سے نکلیں، نہ یہ دھرتی بانجھ ہوئی ہے اور نہ ہی مملکت خداداد پاکستان کو کچھ ہوا ہے. لاکھوں قربانیوں کے بعد رمضان المبارک میں اللہ رب العزت کے اس تحفے کا مستقبل یہ نہیں ہے کہ فقط خان کی ہار پر آپ مایوس ہوکر بیٹھ جائیں. عمران خان ہرگز بھی آخری امید نہیں تھا، وہ پہلا قطرہ تھا جو آئندہ والوں کی راہیں متعین کرگیا ہے کہ دریا میں اگر مگرمچھوں سے بیر پالنا ہے تو آپ کن چیزوں سے لیس ہونے چاہیں.
    باقی جہاں تک موجودہ سیاسی گدھ ٹولے کی بات ہے تو ان مفاد پرستوں سے کسی کو کوئی امید نہیں ہے یہ گِدھوں کا وہ گروہ ہے جو مردار کھانے کے لیے جمع ہوا ہے کل تک یہ سب ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹ رہے تھے آج اقتدار کے لیے باہم شیر و شکر ہیں. نہ کل یہ عوام اور ریاست پاکستان کے سگے تھے اور نہ ہی آج ان کے دل میں عوام اور ریاست کا درد ہے.
    پاکستان کی قوت آپ سے ہے. قیام پاکستان کی واضح مثال ہمارے سامنے ہے. اس وقت بھی سیاسی وڈیرے، مذہبی وڈیرے اور دیگر عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے خلاف تھے لیکن عام مسلمان جب کھڑا ہوا تھا گوکہ قربانیاں دینی پڑی تھیں لیکن پاکستان ملا تھا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا.
    آج استحکام پاکستان کے لیے بھی آپ کو اٹھنا ہوگا. متحد ہونا ہوگا اور اس گندی سیاست کی بساط لپیٹ کر صاف ستھری انبیاء کرام والی سیاست کو رواج دینا ہوگا. وہ سیاست کہ جس میں خدمت انسانیت ہو، جس میں مظلوم کے ساتھ ظالم کے مقابل کھڑا ہونا ہو، جس میں نیکی کی بنیاد پر تعاون ہو اور جس میں عوام اور ریاست کی خیرخواہی ہو.
    اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

    محمد عبداللہ