Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    پاکستانی نوجوان سائنسدان کی سربراہی میں ایک ٹیم کے تیارکردہ سولر سیل نے توانائی کی افادیت کے دو نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے یاسر صدیقی اس وقت جنوبی کوریا کی جامعہ سائنس و ٹیکنالوجی میں کوریا انسٹی ٹیوٹ آف انرجی ریسرچ (کے آئی ای آر) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بطور مرکزی سائنسداں، ایک بالکل نئے سولر سیل کی ڈیزائننگ اور تیاری کا مرکزی کام کیا ہے جسے کاپر انڈیئم سلفو سیلینائیڈ (سی آئی ایس ایس ای) کا نام دیا گیا ہے جس سے دھوپ سے بجلی کی وافر مقدار بنانے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ماحول دوست طریقے سے عالمی تپش (گلوبل وارمنگ) بھی کم کرنا ممکن ہوگا۔

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    یاسر صدیقی نے نجی خبررساں ادارے "ایکسپریس” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سولر سیل کو خاص محلول شامل کرکے مستحکم بنایا گیا ہے اور سیل کا پورا نام کچھ طویل ہے جسے ’سلوشن پروسیسڈ کاپرانڈیئم سلفو سیلینائڈ (سی آئی ایس ایس ای) لوبینڈ گیپ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس نے اسی حالت میں بھی باکفایت بجلی کا ایک ریکارڈ بنایا ہے لیکن جب اس کے اوپر پروسکائٹ کی پتلی تہہ سینڈوچ کی طرح لگائی گئی تو اس نے بھی ایک نیا ریکارڈ بنایا۔

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس

    انہوں نے بتایا کہ کسی سیمی کنڈکٹر سے الیکٹران آزاد کرانے کے لیے جو توانائی درکار ہوتی ہے اسے بینڈ گیپ کہا جاتا ہے، یعنی کسی سیمی کنڈکٹر کا بینڈ گیپ جتنا کم ہوگا اس سے الیکٹران کا بہاؤ اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اتنی ہی بجلی بنے گی۔

    اسٹیو واہ کی بیٹنگ صلاحیتوں سے متاثر اظہر علی پاکستان اور آسٹریلیا کے مقابلوں کی…

    سورج زمین پر حرارت اور توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے نظری طور پر مکمل دھوپ ایک مربع میٹر پر 1360 واٹ کے بقدر توانائی بناسکتی ہیں لیکن شمسی سیل سے اس کی بڑی مقدارٹکرا کر لوٹ جاتی ہے، گزرجاتی ہے یا پھر بجلی میں ڈھل جاتی ہے یوں ہم سورج کی حرارت اور توانائی کی کچھ فیصد مقدار ہی بجلی میں بدل پاتے ہیں اسے عام طور پر سولر سیل کی کفایت یا ایفیشنسی کہا جاتا ہے۔

    تاہم ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ تیار کیا گیا شمسی سیل سینڈوج یا ٹینڈم قسم سے وابستہ ہے اور اس میدان میں سب سے مؤثر ایجاد بھی ہے انقلابی سیل کی تیاری میں تین سال کی محنت شامل ہے ان میں صرف سی آئی ایس ایس سیل کی افادیت 14.4 فیصد ہے جبکہ اسے پروسکائٹ معدن کے ساتھ جوڑا گیا تو اس پروسکائٹ، سی آئی ایس ایس ای سیل نے 23.03 ایفی شنسی کو چھوا جو محلول عمل سے تیار perovskite/CISSe سولر سیل کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔

    پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

    انہوں نے بتایا کہ اسی قسم کے سولر سیل کا پرانا ریکارڈ چینی، امریکی اور آسٹریلوی ماہرین نے بنایا تھا جس کی افادیت 13.5 فیصد تھی ۔ لیکن اس سیل کو بنانے کے لیے ایک خاص بند ماحول درکار ہوتا ہے جسے ’گلووباکس‘ کہتے ہیں اور اس کے اندر نائٹروجن گیس بھری ہوتی ہے نائٹروجن کی وسیع مقدار اور اس کے انتظامات پورے عمل کو بہت مہنگا بناتے ہیں یاسر صدیقی کے مطابق انہوں نے ایک جادوئی جزو کا اضافہ کیا جسے سی آئی ایس ایس ای سولر سیل کو استحکام بخشا اور وہ ایک مالیکیولر روشنائی تھی۔

    ڈاکٹر یاسر صدیقی کے مطابق روایتی سیلیکون سے بنے سولر سیل تمام موسموں میں بھی 20 سے 30 سال تک کارآمد رہتے ہیں اور کسی بھی اچھے سیل میں یہ خواص ہونا ضروری ہیں۔ کے آئی ای آر کا نیا سولر سیل بھی پائیدار قرار پایا ہے میری تجربہ گاہ میں گزشتہ ایک برس سے یہ نیا سولر سیل موجود ہے اور اب تک اس کی افادیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے-

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 5.40 فیصد پر پہنچ گئی

    ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ دونوں ایجادات ’کے آئی ای آرمیں واقع فوٹووولٹائک ٹیسٹ لیبارٹری‘ سے باقاعدہ سرٹفکیٹ حاصل کرچکی ہیں۔ یہ تجربہ گاہ ISO/IEC17025 سرٹیفائڈ ٹیسٹ سینٹر بھی ہے جسے کوریا لیبارٹری ایکریڈیٹیشن اسکیم (کولاس) کی جانب سے مجازادارے کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔

    کولاس نے انٹرنیشنل لیبارٹری ایکریڈیشن کوآپریشن میوچل ریکگنیشن ارینجمنٹ کے معاہدے پر بھی دستخط کئے ہیں۔ ایجاد کی پیٹنٹ جلد ہی فائل کی جائے گی۔ اختراعاتی سولر سیل کی جامع تفصیلات رائل سوسائٹی برائے کیمیا کے جرنل ’انرجی اینڈ اینوائرمنیٹل سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے جس کا 38.532 امپیکٹ فیکٹر اسے دنیا کا ممتاز سائنسی جریدہ بناتا ہے یہ گزشتہ چند برسوں میں کے آئی ای آر سے شائع شدہ سب سے اہم اوربلند اثر والی تحقیق بھی ہے-

    چوتھا چیئرمین واپڈا گولف ٹورنامنٹ ،گورنر پنجاب نے کئے انعامات تقسیم

  • بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    بھارت نے چین کی مزید 54 ایپس کو قومی سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے آغاز سے اب تک بھارت 300 چینی اپیس پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

    باغی ٹی وی :"عالمی خبررساں ادارے الجزیرہ” کے مطابق بھارت کی الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت نے تازہ ترین پابندیوں میں چین کی بڑی ٹیک فرموں جیسے ‘علی بابا’، ‘سویٹ سیلفی ایچ ڈی’، ‘بیوٹی کیمرا’، ‘سیلفی کیمرہ’، ‘گیرینا فری فائر’، ‘الیومیناتے’، ‘ویوا ویڈیو ایڈیٹر’، ‘ٹینسینٹ ایکس ریور’، ‘اونمائیوجی ایرینا’، ‘ایپ لاک’ اور ‘ڈوئل اسپیس لائٹ’ سمیت درجنوں مقبول و معروف ایپس شامل ہیں جو کہ 2020 میں بھارت کی جانب سے پہلے ہی پابندی عائد کردہ ایپس کے دوبارہ برانڈڈ ورژن ہیں۔

    چینی ایپس پر پابندی کے باوجود بھارت چینی کمپنیوں سے چندہ لیتا رہا

    بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ ایپس صارفین کا حساس ڈیٹا جمع کرتی ہیں۔ اور اس ڈیٹا کو دشمن ملک میں واقع سرورز پر منتقل کر کے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

    ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ ایپس فائن لوکیشن (جی پی ایس) تک رسائی حاصل کر کے، کیمرہ/مائیک کے ذریعے جاسوسی اور نگرانی کی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتی ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپس مبینہ طور پر ملک کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ریاست کی سلامتی اور بھارتی دفاع کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

    گزشتہ سال بھارت نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ سمیت 59 ایپلیکیشنز (ایپس) پر مستقل طور پر پابندی عائد کر دی تھی-

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے کمپنیوں سے تفصیلات طلب کی تھیں کہ وہ صارفین کی کیا کیا تفصیلات جمع کرتے ہیں اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    وزارت داخلہ کے ترجمان نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    تازہ ترین اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ہندوستان اور چین ہمالیہ کے ساتھ 3,488 کلومیٹر (2,170 میل) پر جاری تنازع حل نہیں ہوا، 2020 میں ہونے والی خونریز جھڑپ م میں دونوں اطراف کے فوجی ہلاک ہو گئے-

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    چین کے ساتھ لداخ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران انڈین حکومت نے اس فیصلے کو ایمرجینسی حل اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم بتایا تھا دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پر تشدد جھڑپ میں 15 جون کو 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور چین سے سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان میں سخت قوانین بنائے گئے، جن میں ایپس پر پابندی بھی شامل ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، ہندوستان کے آرمی چیف نے حال ہی میں پچھلے مہینے کی طرح چینی جارحیت کے خطرے کا حوالہ دیا۔

    بھارت میں 87 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی تنظیم نو مکمل،نسیم الرحمٰن ناظم منتخب
    اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کی اجتماع ارکان برائے انتخاب ناظم مقام گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اراکین کے علاوہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ کلیم اللہ نے حصوصی شرکت کی
    اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخواہ نے اراکینِ چارسدہ جمعیت سے استصواب رائے کے بعد سیشن 2022-23 کے لیے چارسدہ کالج کے طالب علم نسیم الرحمٰن کو ناظم منتخب کیا اور ان سے اپنے ذمہ داری کا حلف لیا
    اسی طرح ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اراکین سے مشاورت کے بعد فیصل خان کو انچارج شعبہ تنظیم و ترتیب و اہتمام دفتر، محمد اشفاق کو ناظم علاقہ کالجز، ذاکر اللہ کو ناظم علاقہ وسطی، مصباح اللہ کو ناظم علاقہ شمالی، ملک عبید کو ناظم تنگی سرکل جبکہ وحید اللہ کو صدر بزم شاہین مقرر کرکے ان سے ان کی زمہ داریوں کا حلف لیا
    اس موقع پر محمد اشفاق، ذاکر اللہ اور مصباح اللہ پر مشتمل 3 رکنی پلاننگ کمیٹی بنائی گئی جو چارسدہ میں جمیعت کے کام کے وسعت کے حوالے سے احباب اور ماہرین سے ملاقات کریگی
    ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ ضلع چارسدہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کو حقیقی معنوں میں طلباء کا ہراول دستہ بنائیں گے

  • ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    استنبول: تُرک صوبے انطالیہ میں سنگِ مرمر کی کان میں کھدائی کے دوران پتھر کے ایک ٹکڑے پر ’بسم اللہ‘ جیسی عبارت دریافت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق، ماربل کا یہ ٹکڑا 19 کروڑ 50 سال قدیم ہے جس پر نشانات ایسی قدرتی ترتیب اختیار کر گئے ہیں کہ جیسے کسی نے اس پر ’بسم اللہ‘ لکھ دیا ہو-

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    رپورٹ کے مطابق نگِ مرمر کا یہ ٹکڑا چند روز پہلے تاسکیگی قصبے کے قریب سنگِ مرمر کی کان میں کھدائی کرتے دوران مزدوروں نے پہلی بار دریافت کیا تھا جس میں انہیں واضح طور پر ’بسم اللہ‘ کی عبارت دکھائی دی۔

    پتھر کا یہ ٹکڑا فوری طور پر سلیمان دیمیرل یونیورسٹی بھجوا دیا گیا تاکہ اس کا مزید معائنہ کیا جاسکے یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی تصدیق کی کہ سنگِ مرمر کے اس ٹکڑے میں کسی قسم کی جعلسازی نہیں بلکہ اس پر دکھائی دینے والی ’بسم اللہ‘ کی عبارت مکمل قدرتی طور پر نمودار ہوئی ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماربل کا یہ ٹکڑا آج سے 15 کروڑ 90 لاکھ سال پہلے وجود میں آیا تھا اور ’بسم اللہ‘ جیسا نقش بھی اسی دوران پتھر میں بن گیا تھا۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب یہ پتھر اور اس سے ملحقہ چٹانیں وجود میں آرہی تھیں تو انطالیہ کا یہ علاقہ سمندر کی تہہ میں تھا، جبکہ وہ ڈائنوسار کا زمانہ تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

  • حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    حکومت کے چار سال.تحریر و تحقیق ،ارم شہزادی

    جولائی 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو چار سال ہوجائیں گے ان چار سالوں میں تحریک انصاف کی حکومت عام لوگوں کے لیے کیا کرپائی یا کتنی زندگی آسان کر پائی اس کا جائزہ ضروری ہے۔ چالیس سال نواز، زرداری کی حکومت نے کیا اقدامات کیے اور اس حکومت نے کیا اقدامات کیے یہ جاننے کے لیے ان اقدامات کا گزشتہ حکومتوں کے اقدامات سے موازنہ ضروری ہے۔ ہم لوگوں نے عام طور پر یہی دیکھا اور سنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے، ترقی رک گئی ہے اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت نہیں رہی۔پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہےعمران خان جس نے ہالینڈ کی حکومت سے احتجاج کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی نماٸش کو روکا جائے اور رکوایا اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔احتجاج صرف اپنے ملک کی توڑ پھوڑ تک محدود تھا۔عمران خان پہلا وزیر اعظم ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ خودکش دھماکے سب سے پہلے مسلمانوں نے نہیں ہندووں نے شروع کیے ‏اور دہشتگردی کو اسلام سے جوڑنا غلط ہے۔

    عمران خان واحد لیڈر ہے جس نے دنیا کو بتایا کہ اسلام شدت پسند یا لبرل نہیں ایک ہی ہے جو ہمارے نبی محمد ﷺ کا ہے۔
    عمران خان نے دنیا بھر کے فورمز پر جا کے اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھاٸی۔ اور اس کا مؤثر فائدہ بھی ہوا ہے۔ کہ ان ممالک نے آزادی رائے کے نام پر مسلمانوں کے جذبات جو مجروح ہوئے ہیں اسکے پیش نظر آئندہ اس قسم کے اظہار رائے کی ممانعت کی ہے۔

    کرونا کی وجہ سے سری لنکا میں مرنے والے لوگوں کی لاشیں جلائی جارہی تھیں لیکن عمران خان نے جا کر سری لنکا حکومت سے ناصرف بات کی بلکہ مسلمانوں کو دفنانے کی اجازت بھی لے کر دی۔عمران خان واحد حکمران ہے جس نے پوری دنیا کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آذادی اظہار کے پیچھے چھپ کے آپ ہمارے نبی کی گستاخی نہیں کر سکتے۔ آزادی رائے کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان نے سب مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی۔۔ ‏سعودیہ اور ایران جو کہ عرصہ دراز سے ایک دوسرے سے دور اور مخالف تھے ان کی صلح کرانے کی کوشش کی۔انکو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ عمران خان نے فحاشی کے خلاف آواز بلند کی۔

    عمران خان نے ختم نبوت کو بچوں کے سلیبس میں شامل کروایا۔ جس ختم نبوت سے ن لیگ نے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی وہ اب بچوں کے سلیبس میں واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔عمران خان نے رحمت العالمین کانفرنس شروع کرواٸی۔ اس سے پہلے سرکاری سطح پر ایسی تقریبات نہیں ہوتی تھیں۔مدرسے کے بچوں کو بلکل معاشرے سے کٹ کر رکھا جاتا تھا جسکی وجہ سے انکے اندر احساس محرومی تھی عمران خان نے پہلی بار مدرسے کے بچوں کے لیے آواز اٹھاٸی کہ انہیں بھی دنیاوی تعلیم دی جاٸے تاکہ وہ بھی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ عمران خان نے کہا کہ ترقی کرنی ہے تو سیرت نبوی صلی الله عليه والہ وسلم پر عمل کرو اور اس مقصد کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر Phd کرانا شروع کی۔

    عمران خان نے مدینہ کی ریاست بنانے کی بات کی۔ جسکا سب سے زیادہ مذاق بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔ جبکہ بقاء اسی میں ہے کہ وہ تمام اقدامات کیے جائیں جو اسلامی معاشرے کے لیے ضروری ہیں جس کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا ہے۔ اور وہ اقدامات یا راہنما اصول صرف مدینہ کی ریاست سے ہی مل سکتے تھے۔‏پاکستان کو سپر پاور نہیں بلکہ فلاحی ریاست بنانے کی بات کی۔ کیونکہ فلاح ریاست ہی سپر پاور ہوتی ہے۔ مغرب میں سلمان رشدی گستاخ کے بعد ہر کچھ وقت کے بعد گستاخی ہوتی رہی۔ اس کو ہمیشہ کیلیے بند کروانے کیلیے عمران خان نے تمام مسلمان سربراہان کو خط بھیجے کہ آو ملکر یہ معاملہ اٹھائیں۔ ‏تاکہ حل ہو سکے اور ہمیشہ کیلیے یہ گستاخی کا سلسلہ بند ہو سکے۔ 47 سال بعد کامیاب سفارتکاری کے باعث OIC کا کامیاب اجلاس پاکستان میں منعقد کروا دیا جس سے پر دنیا اور عالم اسلام میں پاکستان پر اعتماد مزید بہتر ہوا بھارت کو 27 فروری 2020 کو اپنی پاور دیکھائی اور اس کی غلط فہمی دور کی کہ پاکستان کمزور نہیں ہے بلکہ پرامن ہے لیکن اگر کسی نے آمن خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‏عمران حکومت نے بھارت کو کشمیر پر بھرپور طریقے سے ننگا بھی کیا گیا اور عالمی فورمز پر بھارت کے خلاف لابنگ بھی کروا گئی۔ اس سے پہلے صرف آم کی ٹوکریاں دی جاتی تھیں اور ساڑھیوں کا تبادلہ ہوتا تھا۔ لیکن عمران خان نے بتایا کہ مسلہ کشمیر حل۔کیے بغیر نا تو خطہ میں امن ممکن ہے اور ناہی دوستی۔کئی دہائیوں بعد امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امریکا کو کسی نے ذلیل بھی کیا اور مزید اڈے دینے سے انکار بھی کیاہے تو وہ عمران خان ہے ورنہ اس سے پہلے امریکہ کے لیے پاکستان بلکل امریکہ کی کالونی نظر آتا تھا۔ جب چاہا ڈرون پھینک دیا جب چاہا اندرونی انتشار پھیلا دیا۔ زبانی مذمتی بیان جاری ہوجاتا تھا لیکن عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔وہ صرف عمران خان نے اٹھایا۔‏مزید امریکی جنگ کا حصہ بننے سے بھی انکار کیا اور اسکی سخت مخالفت بھی کی۔امریکا کو اس خطے سے اوٹ بھی کر دیا اور نقصان بھی نہیں ہوا۔بھارت نے اپنے اڈے بنارکھے تھے افغانستان میں جہاں سے براہ راست پاکستان میں دہشتگردی بھی کرواتا تھا اور دہشت گردوں کو کنٹرول بھی کرتا تھا امریکہ کےبعد یہ بھی بھاگ نکلا کیونکہ افغانستان میں زمین تنگ ہو گئی اور اربوں۔ ڈالرز کی انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی۔

    اب بات کرتے ہیں کہ پہلے کون کونسے ادارے خسارے میں تھے جو اب اللہ کے فضل اور عمران خان کی انتھک محنت سے منافع میں آئے ہیں۔تین سال پہلے 20 ارب ڈالر خسارہ تھا آج 1.8 ارب ڈالر سرپلس فارن کرنسی ریزروز کی بات کریں تو تین سال پہلے کل 7 ارب ڈالرز ، جوکہ آج 27.40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ٹیکس کلیکشن کی بات کریں تو تین سال پہلے 3400 ارب روپے، پچھلے سال 4700 ارب تھی جو 2022 کے لئے ہدف 6400 ارب روپےرکھا گیا ہے اور ان شاء اللہ پورا ہوگا یہ حدف بھی۔تین سال پہلے 19.9 ارب ڈالر، آج 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا بدقسمتی دیکھیں بھارت نے ہمارے تمام سندھ طاس معاہدوں میں لیے گئے دریاؤں پر ڈیم بنائے لیکن ہم 51 سال تک اک بھی ڈیم نا بنا سکے ہمارے ڈیم ایوب دور کے ہیں اسکے بعد کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔اب ما شاء اللہ عمران خان کے دور میں 12 ڈیم پر کام شروع ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی مکمل فوکس تھا اس لیے سارے پاکستان کے لیے یکساں نصاب کے اطلاق پر کام کیا۔ پانچویں جماعت تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ناظرہ لازمی قرار دیا چھٹی کلاس سے بارہویں تک بطور سبجیکٹ قرآن پاک کا ترجمہ لازمی قرار ورنہ امتحانات میں کامیابی ناممکن پرائیویٹ سکولز کو بھی اسکا پابند کیا گیا۔ کرونا وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا جہاں ترقی یافتہ ممالک اس کی تباہ کاریوں سے نا بچ سکے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لیکن پاکستان نے جس طرح کرونا وبا کا مقابلہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔جہاں دنیا کی معیشیتیں سکڑ گیں وہیں پاکستان کی معیشیت اقوام متحدہ اور موڈیز کے مطابق 2022 میں ‏پاکستان کی جی ڈی پی 4•4 ہوگی عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستانی معیشیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ حکومت سمبھالتے ہی خزانہ خالی ہونے اور بیرونی قرضوں اور انکے سود کی ادائیگیوں کی وجہ سے 3 سال میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور ملکوں سے 36 ارب ڈالرز قرضہ لیا گیا‏جس میں س 29.75 ارب ڈالر قرضہ واپس بھی کیا گیا ہے۔یعنی پچھلی حکومتوں کے لئے ہوئے قرضوں اور انکے سود کو واپس کرنے کے لئے خزانے میں کچھ نہ ہونے کی وجہ سے مزید قرض لینے پڑے ورنہ ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اس وجہ سے ہمارے ایٹم بم اور سی پیک اور ریکوڈک ذخائر کو ‏شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے انڈسٹری کی وجہ سے معشیت میں 18 فیصد اضافہ جوکہ دس سال بعد ممکن ہوا۔ سیمنٹ کی سیل میں 242 فیصد اضافہ ہوا۔گاڑیوں کی سیل میں 100 فیصد اضافہ ہوا۔موٹر سائیکل کی سیل میں 3 گنا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ٹریکٹر کی سیل میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب پیسہ پاس ہو۔ کسانوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ چاہے منڈیوں تک رسائی ہو یا اجناس کی پوری قیمت لیکن اس حکومت کی وجہ سے کسان کو 1100 ارب روپے اضافی ملے۔( گنے کی قیمت جو 70 سالوں سے 150 سے بڑھ نہ سکی تھی اسے بڑھا کر 280 روپے من کر دیا اور گندم جو 1300 سے اپر نہ جا سکی تھی آج وہ 2000 روپے من سے تجاوز کر چکی ہے یہ قیمتیں غریب کسان کو فائدہ دینے کے لئے بڑھائی گئیں ‏جس سے 1100 ارب روپیہ کسان زمیندار طبقہ کو زیادہ ملا۔

    کسان کو کسان کارڈ جس کے ذریعے سبسیڈیز براہ راست کسان تک پہنچ جائیں گی۔290 ارب روبے 18 سال میں 534 ارب روپے 3 سال میںپہلے صرف 110 ارب روپے، اب 260 ارب روپے۔احساس پروگرام میں 70 لاکھ خاندانوں کو 12000 روپے دئے گئے اور مزید یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ غریب غرباء مزدوروں کے لئے لنگر خانے بناۓ گئے۔ جنکا مذاق بنایا گیا حالانکہ پوچھیں کسی مزدور سے کہ روٹی پر کتنا خرچہ ہوجاتا تھا اسکی بچت کی گئی۔کھانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں فٹ پاتھوں پر شدید سردی اور شدید گرمی میں سونے والے دور دراز سے شہروں سے آئے غریب ‏مزدوروں بچوں اور عورتوں کو تمام تر سہولیات سے آراستہ پناہ گاہیں بنا کر دیں۔تعلیم پر توجہ دی سکول کالجز پر توجہ دی لڑکیوں کے لیے لڑکوں سے زیادہ توجہ دی گئی۔لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لیے برابر (انڈر گریجوایٹس کیلئے)‏ جانشینی سرٹیفیکٹ حاصل کرنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا سالہا سال لگتے تھے اور عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے تھے اب نادرہ سے 15 دن میں حاصل کرسکتے ہیں۔کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت تقریباً40 لاکھ غریب خاندانوں میں، ایک فرد کو بلا سود قرضہ، ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ کی سہولت دی جائے گی۔ انقلابی صحت کارڈ جو کہ متوسط طبقے اور غریب کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اپنا گھر اسکیم میں کرائے کے برابر بنک کو قسط دے کر اپنا گھر بنا سکتے ہیں جس سے کرائے سے بھی بچ جائیں گے اور اضافی بوجھ بھی نہیں پڑےگا۔ سندھ کی 14 ڈسٹرکٹس کیلئے، کراچی میں گرین لائن بس اسٹاپ پروجیکٹ مکمل کئی دہائیوں بعد کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔ کراچی ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ کی ‏تکمیل 50 سال بعد کراچی کے بند نالوں کو قبضہ مافیا سے بازیاب کروا کر انھیں چلا دیا گیا جس سے کراچی میں سیلاب کے خطرات بہت کم ہوگئےبلوچستان کی 9 ڈسٹرکٹس کے لئے،اور گلگت بلتستان کیلئے، 1300 ارب روپیہ مختص کیا ہے۔ایز آف بزنس میں پاکستان دنیا میں 28 درجے اوپر چلا گیا۔اوور سیز پاکستانیوں کے سروے کے مطابق پاکستان پر بزنس کنفیڈنس 108 فیصد بڑھا۔ جلالپور نہر منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں۔ چکوال سے میانوالی موٹروے سیالکوٹ سے جہلم موٹروے ‏لاہور تا ملتان تا سکھر موٹروے کی تکمیل آگے سے ملحقہ حیدرآباد موٹروے پر کام جاری۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن کو میڈیا نہیں دیکھاتا کیونکہ اس میں کہیں بھی میڈیا کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی ہے یہ عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہورہا ہے۔ امید ہے کہ 2023 کے الیکشن میں ان میں سے بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہونگے اور باقی آخری مراحل میں ہونگے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • ویلنٹائن ڈے: اس رومانوی دن کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟؟

    ویلنٹائن ڈے: اس رومانوی دن کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟؟

    ویلنٹائن ڈے ہمیشہ اتنا پیارا نہیں تھا۔ اس کی جنگلی ابتداء اور ارتقاء کے بارے میں جانیں۔
    ویلنٹائن ڈے پر، 14 فروری، دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کو پھول، چاکلیٹ اور نرم محبت کے نوٹ پیش کرتے ہیں۔ جب کہ یہ چھٹی واقعی 19ویں صدی میں سیمنٹ کی گئی تھی، مورخین اس کی جڑیں جنگلی کافروں کی خوشیوں سے جوڑتے ہیں جو خود سینٹ ویلنٹائن کی پیدائش سے پہلے ہیں۔
    ویلنٹائن ڈے کی انوکھی ابتداء، ایک مسیحی تعطیل کے طور پر اس کا عروج اور اب مانوس وی ڈے روایات کے ظہور کے لیے پڑھیں۔
    اپنے ویلنٹائن ڈے کے لیے حکمت عملی بنانے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے، یہاں بہترین ویلنٹائن ڈے چاکلیٹ کے لیے کچھ تجاویز ہیں، تحفے کے خیالات جو بینک کو نہیں توڑیں گے اور ویلنٹائن ڈے پر سنگل رہنے کے لیے ایک رہنما۔
    ویلنٹائن ڈے کی ابتدا
    چھٹی کے بیج جس کو ہم ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانتے ہیں، وہ لوپرکالیا میں بوئے گئے تھے، جو ایک قدیم رومن تہوار جونو، شادی کی رومی دیوی کا احترام کرتا ہے۔
    15 فروری کو منعقد ہونے والے، لوپرکالیا نے کیپٹولین وولف کو بھی اعزاز بخشا، جو کہ ایک افسانوی مخلوق ہے جس نے روم کے جڑواں بانی رومولس اور ریمس کو قیاس کے طور پر دودھ پلایا تھا، جب وہ شیر خوار ہو کر چھوڑے گئے تھے۔ (بھیڑیا کے لیے لاطینی لفظ lupus ہے۔)
    کم از کم چھٹی صدی قبل مسیح میں، لوپرکالیا ایک جنسی طور پر چارج شدہ اور پرتشدد رسم تھی، جس میں کتے اور نر بکروں کی قربانی مردانگی کی علامت کے طور پر شامل تھی۔
    لوپرسی کے نام سے مشہور پادریوں نے قربانی کے چاقو کے خون سے اپنی پیشانیوں کو مسح کیا تھا، اور پھر دودھ میں بھیگی ہوئی اون سے صاف کیا جاتا تھا۔ لوپرسی بعد میں بکرے کی کھال کی پٹیاں کاٹ کر شہر میں برہنہ ہو کر بھاگتے تھے، قریبی خواتین کو خونی کھال سے کوڑے مارتے تھے۔
    پلوٹارک نے اپنی لائف آف سیزر میں لکھا، "بہت سے عہدے کی خواتین بھی جان بوجھ کر ان کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور، اسکول کے بچوں کی طرح، اپنے ہاتھ مارنے کے لیے پیش کرتی ہیں۔” "عقیدہ یہ ہے کہ اس طرح حاملہ کو پیدائش میں مدد ملے گی اور حمل تک بانجھ ہو جائے گی۔”
    Lupercalia کے دوران، مرد ایک جار سے ایک عورت کا نام منتخب کریں گے اور اسے تہوار میں لے جائیں گے۔ کچھ معاملات میں، جوڑے ایک رومانوی بانڈ قائم کریں گے.
    یہ رسم صدیوں تک جاری رہی، یہاں تک کہ روم میں عیسائیت کے عروج کے بعد، پوپ ہلیریئس نے مبینہ طور پر شہنشاہ انتھیمیئس سے 467 عیسوی میں اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
    تقریباً 30 سال بعد، پوپ گیلیسیئس نے 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن کی دعوت کے ذریعے کافر رسم کو بدلنے کی کوشش کی۔
    ویلنٹائن نامی عیسائیوں سے متعلق کئی کہانیاں ہیں جنہیں رومی شہنشاہ کلاڈیئس دوم نے پھانسی دی تھی، لیکن سب سے مشہور تیسری صدی کے ایک شہید کی تھی جو خفیہ طور پر عیسائی جوڑوں سے شادی کرنے اور ستائے ہوئے مومنوں کی مدد کرنے کے جرم میں قید تھی۔
    اس ویلنٹائن کو مبینہ طور پر 14 فروری 289 کو پھانسی دی گئی تھی۔
    ایک ابتدائی بیان میں، مستقبل کے سنت نے اپنے جیلر کی نابینا بیٹی کی بینائی بحال کر دی۔ بعد میں، لیجنڈ نے ایک خط شامل کیا جو اس نے لڑکی کو پھانسی سے پہلے دیا تھا، جس پر مبینہ طور پر "آپ کا ویلنٹائن” پر دستخط کیے گئے تھے۔
    ویلنٹائن ڈے کا ارتقاء
    شادی، محبت اور رومانس کے عناصر جو پہلے ہی Lupercalia کے ساتھ وابستہ ہیں نے اسے سینٹ ویلنٹائن فیسٹ ڈے کے لیے موزوں بنا دیا۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں، لوگوں کا خیال تھا کہ پرندے 14 فروری کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اپنی کتاب پارلیمنٹ آف فولز میں، چوسر نے تصور کیا کہ فطرت کی دیوی نے "سینٹ ویلنٹائنز” کے دن تمام پرندوں کو جوڑ دیا تھا۔
    15ویں صدی تک، یہ دن عدالتی محبت کے ضابطے سے منسلک ہو گیا جو یورپ میں رائج ہو گیا۔
    1400 میں، فرانس کے بادشاہ چارلس VI نے "طاعون کے خاص طور پر گندے مقابلے سے خلفشار کے طور پر” محبت کی عدالت کا چارٹر قائم کیا، آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق۔ اراکین 14 فروری کو پیرس میں عشائیہ کے لیے ملاقات کریں گے — مرد مہمانوں سے ایک حقیقی محبت کا گانا پیش کرنے کی توقع تھی، جس کا فیصلہ نوجوان خواتین کا ایک پینل کرے گا۔
    1600 کی دہائی میں پھولوں، کینڈی اور دلکش نوٹوں (جسے "ویلنٹائن” کہا جاتا ہے) کی اب مانی جانے والی روایات سامنے آئیں۔

  • وہ ممالک جہاں ویلنٹائن ڈے پر پابندی ہے۔

    وہ ممالک جہاں ویلنٹائن ڈے پر پابندی ہے۔

    ویلنٹائن ڈے سال کا ایک ایسا دن ہے جہاں ہمیں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو یہ بتائیں کہ ہم خوبصورت پھولوں اور تحائف کے ذریعے کیسا محسوس کرتے ہیں – جو یقیناً صرف 14 فروری تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
    مختلف مذہبی عقائد کے ساتھ، ان 7 ممالک نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی لگا دی ہے۔
    ملائیشیا
    ملائیشیا کی 61 فیصد آبادی مسلمانوں پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ویلنٹائن ڈے کا تصور اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ 2005 کے بعد سے، اسلامی حکام نے فتویٰ کا مذہبی حکم تشکیل دیا، ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی۔
    2011 میں، اسلامی اخلاقی پولیس (JAIS) نے 80 مسلم جوڑوں کو چھٹی منانے پر گرفتار کیا۔ افسران نے سیلنگور اور کوالالمپور میں متعدد ہوٹلوں پر چھاپے مارے، اینٹی ویلنٹائن ڈے مہم شروع کی اور چھاپے مارے۔
    انڈونیشیا
    اگرچہ ویلنٹائن ڈے بہت سے انڈونیشی باشندے مناتے ہیں، مذہبی حکام اور علما کا مقصد تعطیل پر پابندی لگانا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد مظاہرے ہوئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ویلنٹائن ڈے شادی سے پہلے جنسی تعلقات اور شراب نوشی کو فروغ دیتا ہے، یہ دونوں ہی اسلامی قانون کے سخت خلاف ہیں۔
    اس کے باوجود، ویلنٹائنز دراصل جکارتہ میں مقبول ہے، جہاں کمپنیاں تقریبات کو کمانے کے لیے کوشاں ہیں۔
    ایران
    حالیہ برسوں میں، ایرانی حکام کا مقصد ویلنٹائن کی تقریبات کو روکنا ہے، اس چھٹی کو "زوال پذیر مغربی رواج” قرار دیتے ہیں اور دکانوں اور ریستورانوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ ویلنٹائن ڈے کے تحفے فروخت کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    اس کے باوجود تہران میں متعدد ریستوراں مکمل بک ہو چکے ہیں اور کئی دکانوں پر ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹ فروخت ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ادارے یہ دیکھنے کے لیے تلاشی کا استعمال کرتے ہیں کہ آیا انسپکٹر ویلنٹائن ڈے گشت پر ہیں۔
    ایران
    حالیہ برسوں میں، ایرانی حکام کا مقصد ویلنٹائن کی تقریبات کو روکنا ہے، اس چھٹی کو "زوال پذیر مغربی رواج” قرار دیتے ہیں اور دکانوں اور ریستورانوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر وہ ویلنٹائن ڈے کے تحفے فروخت کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    اس کے باوجود تہران میں متعدد ریستوراں مکمل بک ہو چکے ہیں اور کئی دکانوں پر ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹ فروخت ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ادارے یہ دیکھنے کے لیے تلاشی کا استعمال کرتے ہیں کہ آیا انسپکٹر ویلنٹائن ڈے گشت پر ہیں
    پاکستان
    یہ ملک ویلنٹائن ڈے منانے کے حوالے سے متعدد فسادات کا شکار رہا ہے۔ 2014 میں، پشاور اور پاکستان کی دو یونیورسٹیاں اسلامی قانون کی نظر میں ویلنٹائن ڈے کے نظریے پر ایک دوسرے کے عقائد سے ٹکرا گئیں۔
    طلباء نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں دونوں طرف سے گولیاں چلائی گئیں جس سے تین طلباء زخمی ہوگئے۔
    7 فروری 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ویلنٹائن ڈے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس دن کو مغرب سے ثقافتی درآمد اور "اسلام کی تعلیمات کے خلاف” ہونے کا دعویٰ کیا۔
    سعودی عرب
    سعودی عرب میں عوامی محبت کا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے اس لیے ویلنٹائن ڈے کا تصور اس ملک کے نظریات سے میل نہیں کھاتا۔
    اس چھٹی کو منانا سخت سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ 2014 میں پانچ سعودی شہریوں کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر چھ خواتین کے ساتھ رقص کرتے ہوئے پائے جانے پر 39 سال جیل کی سلاخوں اور ان کے درمیان چھڑی کے 4500 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
    جب کہ آپ کسی بھی دوسرے دن محبت کی تھیم والے تحائف خرید سکتے ہیں، سرخ گلاب اور محبت سے متعلق دیگر اشیا پر ویلنٹائن ڈے پر سختی سے پابندی ہے، بشمول سرخ لباس۔
    روس
    تکنیکی طور پر، روس ایک قسم کا ویلنٹائن ڈے مناتا ہے، لیکن یہ روایتی تہوار سے بہت مختلف ہے۔ 8 مارچ کو، روسی خواتین کا عالمی دن اسی طرح مناتے ہیں جس طرح مغربی ثقافتیں ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں۔
    اس دن ایک دوسرے کو پھول اور چاکلیٹ تحفے میں دینا بہت عام ہے، جیسا کہ شوہروں اور بوائے فرینڈز سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کھانا پکانے اور صفائی ستھرائی کا سارا کام کریں، خواتین کو پورا دن آرام کرنے دیں۔
    ایک سنت کی وجہ سے ویلنٹائن ڈے منانے کے بجائے، روس دنیا بھر کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اور مساوی حقوق کے لیے اپنی خواتین کے لیے محبت کا جشن منانے کا انتخاب کرتا ہے۔

  • پی ایس ایل7:لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    پی ایس ایل7:لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    لاہور:اکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے میچ میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹ سے شکست دے دی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جس کے 20 ویں میچ میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے قائد سرفراز احمد کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    لاہور قلندرز اننگز

    142 رنز کا ہدف لاہور قلندرز کی ٹیم نے باآسانی 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اننگز

    قلندرز کے خلاف میچ کے لئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جیسن روئے اور احسان علی نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم جیسن روئے اور ان کے بعد آنے والے بیٹر جیمز ونس شاہین شاہ آفریدی کا ابتدائی اوور میں ہی شکار بن گئے۔

    گلیڈی ایٹرز نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 141 رنز بنائے، جیسن روئے صفر، احسان علی 8، جیمز ونس صفر، کپتان سرفراز احمد 12، افتخار احمد 52، عمر اکمل 25 اور حسان خان 17 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ سہیل تنویر 7 اور نور احمد 13 سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لاہور قلندرز کی طرف سے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور ڈیوڈ ویزے نے 2،2، حارث رؤف اور راشد خان نے 1،1 کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
    لاہور قلندرز سکواڈ

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: سرفراز احمد (کپتان)، احسن علی، جیسن روئے، جیمز وِنس، افتخار احمد، عمر اکمل، سہیل تنویر، حسان خان، نور احمد، نسیم شاہ، گلام مدثر۔

    لاہور قلندرز: شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروکس، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف، زمان خان

  • پی ایس ایل 7: بابراعظم کی قیادت میں‌ کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور55 رنز سے کامیاب

    پی ایس ایل 7: بابراعظم کی قیادت میں‌ کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور55 رنز سے کامیاب

    لاہور:پی ایس ایل 7: کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور 55 رنز سے کامیاب ،اطلاعات ہیں کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں سیزن کے 19ویں میچ میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو 55 رنز سے شکست دیدی۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلےگئے میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی، پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنائے۔194 رنز کے ہدف کے جواب میں کراچی کنگز 6 وکٹوں کے نقصان پر 138رنز ہی بناسکی۔

    پشاور زلمی کی اننگز میں حضرت اللہ زازئی 52 رنزبناکر نمایاں رہے، ان کے علاوہ محمد حارث نے 49، شعیب ملک نے 31 اور بین کٹنگ نے26 رنزبنائے۔کراچی کنگز کی جانب سےکرس جارڈن نےتین وکٹیں حاصل کیں، محمد نبی،قاسم اکرم اور عمید آصف نےایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    کراچی کنگز کی جانب سےکپتان بابراعظم 59 رنز بناکر نمایاں رہے، جوکلارک 26، محمد نبی 15، شرجیل خان اور کک بین 14 ،14 رنز بناسکے، عامریامین 6 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔زلمی کی جانب سے وہاب ریاض اور سلمان ارشاد نے 2،2 جب کہ محمد عمر اور لیام لیونگسٹن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

    خیال رہےکہ کراچی کنگز کی رواں پی ایس ایل میں یہ مسلسل چھٹی شکست ہے،کراچی کی ٹیم 6 میچز کھیل چکی ہے جس میں سے ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی ہے جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    فوٹو:ناسا
    واضح رہے کہ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی، دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا اصل مشن ابھی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ آزمائشی مرحلے میں اس کے 18 آئینوں کی سیدھ انتہائی احتیاط سے درست کی جارہی۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    اس بارے میں ناسا نے تصویر کے ساتھ ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کھینچنے کا آغاز 2 فروری سے ہوا جبکہ اسے مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ گئے۔

    فوٹو بشکریہ: ناسا
    ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ نے دُبّ اکبر (Ursa Major) کے مطلوبہ علاقے میں 156 مقامات کا مشاہدہ کیا اور تصویریں کھینچیں۔ یہ علاقہ زمین سے دکھائی دینے والے پورے چاند جتنا ہے اس دوران خلائی دوربین کے دس نیئر انفراریڈ کیمروں کی مدد سے اس علاقے کی 1,560 تصویریں کھینچی گئیں جنہیں بعد ازاں آپس میں جوڑ کر 2 ارب پکسل والی ایک بڑی تصویر تیار کی گئی۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    فی الحال ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا ہر آئینہ جداگانہ طور پر کام کررہا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں یہ تمام آئینے ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے ترتیب میں لائے جائیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے آئینے کی طرح کام کرنے لگیں گے۔

    اس دوران ہر مرحلے میں جہاں آئینوں کی ’سیدھ‘ درست کی جائے گی، وہیں آزمائشی تصویریں زمینی مرکز تک نشر کرکے اس دوربین کے مواصلاتی نظام کو بھی جانچا جاتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا


    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…


    ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

    دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔


    خیال رہے کہ واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔