Baaghi TV

Category: بلاگ

  • لاہورٹیسٹ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دیکرسیریز جیت لی

    لاہورٹیسٹ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دیکرسیریز جیت لی

    لاہور:لاہور ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا نے کھیل کے چوتھےروز اپنی دوسری اننگز 227 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کردی تھی جس کے بعد پاکستان کو جیت کیلئے 351 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن قومی ٹیم کھیل کے آخری روز 235 پر ہی ڈھیر ہوگئی۔

    کھیل کے آخری روز پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 73 رنز سے اپنی اننگز کا آغاز کیا لیکن پہلے سیشن میں ہی عبد اللہ شفیق 27 رنز پر پویلین لوٹ گئے جس کے بعد آنے والے اظہر علی بھی زیادہ دیر پچ پر نہ ٹھہر سکے۔

    اظہر علی کو لیون نے 105 کے مجموعے پر صرف 17 رنز پر ہی پویلین روانہ کردیا بعد ازاں امام الحق 70 اور فواد عالم 11 رنز بناکر جب کہ محمد رضوان 0 پر آؤٹ ہوگئے۔

     

    ساجد خان اور بابر اعظم نے رنز کے مجموعے کو آگے بڑھایا لیکن یہ پارٹنر شپ بھی کچھ دیر ہی چل سکی اور بابر اعظم 55 رنز جب کہ ساجد 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے ۔ساجد خان کے بعد آنے والے حسن علی 13 اور شاہین آفریدی ایک رن پر آؤٹ ہوگئے۔

    آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے نسیم شاہ کی وکٹ اڑا کر ٹیم کو فتح دلوائی اور اس طرح آسٹریلیا نے میچ 115 رنز سے جیت لیا۔واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی اور راولپنڈی ٹیسٹ ڈرا ہوگیا تھا۔

  • سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    سرپرائیز کون دے گا، کپتان یا اپوزیشن، تحریر: نوید شیخ

    اوآئی سی کا اجلاس اور یوم پاکستان پریڈ ختم ہوگی تو سیاست کی گاڑی پھر سے چوتھے گیئر میں چلنا شروع ہوجائے گی ۔ بالکل ویسا ہی ہوا ہے ۔

    ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ، عمران خان ، چوہدری نثار ، مریم نواز ، بلاول بھٹو، عثمان بزدار ، آصف زرداری ، فضل الرحمان ، پرویز الہی ، علیم خان ، جہانگیر ترین، جنرل فیض حمید، نواز شریف ، عامر لیاقت ، خالد مقبول صدیقی، جسٹس قاضی فائز عیسی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے منسوب خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں ۔ بھانت بھانت کے تجزیہ اور پیشن گوئیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ ہر کوئی اس وقت جاننا کی تگ ودو میں لگا ہوا ہے کہ ۔ حکومت جا رہی ہے کہ نہیں ۔
    ۔ اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں کہ نہیں ۔۔ منحرف اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہی ہیں کہ نہیں ۔ ۔ قبل ازوقت الیکشن ہورہے ہیں کہ نہیں ۔۔ اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہے کہ نہیں ۔

    ۔ سب سے پہلے فوج کی بات کریں تو آج ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نیوٹرل ہیں ۔ ۔ فوج مداخلت کرے تو بھی نہ کرے تو بھی برا بھلا سننے کو ملتا ہے، نوجوان سوشل میڈیا کی طرف نہ دیکھیں،جو چیزیں آرہی ہیں، وہ حوصلہ افزاءنہیں، یہ بڑی تباہی ہے،ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ آپ آرمی چیف اور پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگائیں بلکہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں، سندھ اور بلوچستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں جو ترقی چاہتے ہیں، بار بار ایک ہی طرح کے لوگوں کو ووٹ دیں گے تو مسائل کس طرح حل ہوں گے؟ ۔ میڈیا کے لوگوں کے استفسار پر ان کاکہناتھاکہ گھبرائیں نہیں، کچھ ایسا نہیں ہوگا جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں ۔ وہ یوم پاکستان کی پریڈ کے اختتام کے موقع پر میڈیا اورسندھ، بلوچستان اور فاٹا کے نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کررہے تھے۔ پھر ڈان نیوز کے مطابق انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آنیوالے دنوں میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگلا آرمی چیف فاٹا اور بلوچستان سے بھی ہو۔

    ۔ آخر میں انھوں نے پھر دہرایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ منتخب نمائندے ہی فیصلہ کریں کہ اس ملک کے لیے کیا بہتر ہے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ تو جو خبر آج انصار عباسی نے دی تھی جس کا صبح سے بہت چرچا چل رہا تھا ۔ اس بیان کے بعد چیزیں بالکل واضح ہوگئی ہیں کہ فوج کسی بھی معاملے میں کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ پھر عمران خان نے خود بھی آج کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یوں اب یہ تمام معاملہ ٹیبل کی بجائے عدالتوں اور سڑکوں پر ہی جاتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پھر جو آج کی دوسری سب سے بڑی خبر سامنے آئی ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کا بیان ہے ۔ جس پر میں اپنے گزشتہ وی لاگ میں تفصیل سے بات کرچکا ہوں مگر اب اس حوالے سے کچھ پیش رفت سامنے آگئی ہے جو آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے ۔۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں چوہدری نثار سے ملاقات کی بات کی تھی لیکن اب رپورٹ ہوگیا ہے کہ چوہدری نثار نے ماضی قریب میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تردید کی ہے ۔ یہ ملاقات کچھ عرصہ پہلے نہیں بلکہ ساڑھے تین سال پہلے ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ وفاق میں ہے نہ کہ پنجاب میں ۔۔۔ یاد رکھیں چوہدری نثار ایم این اے نہیں ہیں ۔ پھر اگر کپتان ان کو لیں گے تو ان کے اپنے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی جانب سے بہت سخت درعمل آنے کی امید ہے ۔ یوں یہ بیل تو مجھے منڈیر چڑھتی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ جہاں اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں ۔ اپنے پچاس کے قریب لوگ منحرف ہوچکے ہیں تو ہر کسی کے زہن میں سوال آرہا ہے کہ کیسے عمران خان کوئی سرپرائز دے دیں گے ۔ استعفی نہیں دیں گے ۔ تو اس حوالے سے اندازہ یہ ہی ہے کہ وہ کوئی سیاسی اور آئینی بحران نہ پیدا کردیں یا پھر وہ اہم تعیناتی کے حوالے سے قبل ازوقت فیصلہ کردیں ۔ میری چڑیل کے مطابق ان دونوں صورتوں میں کپتان کے مخالفوں کی تیاری پوری کر رکھی ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے تو ن لیگ نے سجی دیکھا کر کھبی مار دی ہے ۔ اس سلسلے میں جو لانگ مارچ ن لیگ نے24کو شروع کرنا تھا اور 25کو اسلام آباد پہنچنا تھا ۔ اب وہ 26کو ماڈل ٹاون سے شروع ہوگا اور 27 کو اسلام آباد پہنچے گا ۔ مت بھولیں
    27کو ہی عمران خان دس لاکھ لوگوں کا جلسہ کر رہے ہیں ۔ یوں ایک دو دن میں اسلام آباد نیا battle ground ہوگا ۔ ۔ ساتھ ہی اگر اہم تعیناتی کپتان قبل ازوقت کرتے ہیں تو پھر اینڈ گیم ہے ۔ ۔ شاید اسی لیے اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے ۔ پارٹی کے اندر یہاں تک ڈسکس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان کو تبدیل کرکے اگر حکومت بچائی جا سکتی ہے تو بچا لی جائی ۔ میری چڑیل کے مطابق کچھ اہم تحریک انصاف کے لوگ اس فارمولے پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ یاد ہوتو گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے کراچی سے بانی رکن نجیب ہارون کا بھی مائنس ون پربیان آیا تھا ۔ اگر غور کریں تو یک دم کچھ وزیر اور مشیر منظر سے غائب ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ یہ سوچ اس وقت پی ٹی آئی میں پنپ رہی ہے کہ کم ازکم پارٹی کو تو بچایا جائے ۔ مگر عمران خان کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں اوروہ بھپرے ہوئے شیر بنے ہوئے ہیں اور ایک بھی غلطی کا خمیازہ ملک سمیت سب سے زیادہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت بھگتنا پڑے گا ۔ ۔ یاد رکھیں کبھی بھی ایک منتخب وزیر اعظم شور نہیں مچائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل کیوں ہوگئی ہے ۔ سیاست میں مداخلت کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ ٹیلی فون کالز کیوں بند کر دی گئی ہیں ۔ پر سلیکٹڈ ضرور ایسا ہی کرے گا ۔۔ آپ دیکھیں پوری اپوزیشن اور قوم نیوٹرل ہونے پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو شاباش دے رہی ہے لیکن عمران خان کبھی انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی منت ترلہ کرتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دیتے ہیں کہ میں پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ سرپرائز دوں گا ۔

    ۔ عمران خان کو صرف اس بات پر غصہ ہے کہ وہ آئین پر عمل کیوں کررہے ہیں اور ماضی کی طرح میرے لیے تمام الزامات اپنے سر کیوں نہیں لیتے؟ ۔ اگر یاد ہو تو عمران خان اپنی ہر دوسری تقریر میں ایک چیز ضرور دہراتے ہیں کہ میں نے تو زندگی میں سب کچھ حاصل کر لیا ہے پیسہ شہرت مجھے کیا ضرورت جب چاہوں آرام سے باہر جاکر مزے کی زندگی گزار سکتا ہوں۔ ۔ مگر اب ان کے ایکشن اور اقدامات سے واضح ہو گیا کہ اقتدار اُنہیں ہر شےسے زیادہ عزیز ہے۔ ۔ پھرعمران خان نے جو کہا تھا کہ جانور نیوٹرل ہوتا ہے ۔ اس کا جواب آج بلاول نے دینے کی کوشش کی ہے انکا مالاکنڈ جلسے سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہمارا وزیر عظم جنگل کا قانون چاہتا ہے ، ہمارا وزیر اعظم جانور ہے ۔ ہم کوئی غیر جمہوری طریقہ استعمال نہیں کریں گے،میں گیٹ نمبر چار کو نہیں کھٹکٹاوں گا۔ وزیر اعظم اپنے بچوں کو اردو سکھائیں ۔ سازش سازش کا واویلہ مچانے والے خود ایک سازش ہیں ۔ ۔ دیکھائی یہ رہا ہے کہ کپتان جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔

    ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔ ۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم ایسا نہیں کریں گے ۔ ۔ کیونکہ اس وقت کپتان صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ، ٹائیگروں ۔۔۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ کہانی ختم ہوچکی ہے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:مجاہدین کو پناہ دینے والوں کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی:مسلمانوں کو دھمکیاں

    مقبوضہ کشمیر:مجاہدین کو پناہ دینے والوں کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں گی:مسلمانوں کو دھمکیاں

    سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میںقابض بھارتی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ مجاہدین کو پناہ دینے اور تحریک آزادی کی حمایت کرنے والے لوگوں کی املاک غیر قانونی سرگرمیوں کے کالے قانون ”یو اے پی اے“کے تحت ضبط کر لی جائیں گی۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انتظامیہ نے مجاہدین کو پناہ دینے اور جاری تحریک آزادی کے حوالے سے اجلاسوں کے انعقاد کیلئے استعمال ہونے والے مکانات کو ضبط کرنے کا عمل سرینگر میں شروع کر دیا ہے۔

    سری نگر کے ایس ایس پی راکیش بلوال نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ جن مکانات میں فورسز اور مجاہدین کے درمیان تصادم ہو اور وہ مکانات جہاں عسکریت پسند پناہ لیں ضبط کرلیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ2020-2021 کے دوران سرینگر کے صورہ، پانتھ چوک، بٹ مالو، نوگام اورہروان اس طرح کے ایک درجن سے زیادہ مکانات کی نشاندہی کی گئی ۔

    یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوجی پہلے ہی مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں کے دوران گولہ باری اور بارودی مواد کے ذریعے مکانات اور دیگر املاک کو تباہ کررہے ہیں۔

    ادھر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جموں خطے میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) اور جموںوکشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) کے کئی حاضر اور سابق افسروں کے گھروں سمیت 11 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

    تین حاضر سروس اور متعددریٹائرڈ افسروں کے علاوہ کئی تاجروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔حکام نے بتایا کہ نئی دہلی، چندی گڑھ اور جموں و کشمیر سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی 11 ٹیموں نے بیک وقت چھاپے مارے۔چھاپوں کے دوران کئی دستاویزات اور دیگر اشیاءضبط کر لی گئیں۔

  • پاک آسٹریلیا وائٹ بال سیریز کی ٹکٹوں کی سیل لگ گئی:5 ٹکٹوں پر ایک مفت

    پاک آسٹریلیا وائٹ بال سیریز کی ٹکٹوں کی سیل لگ گئی:5 ٹکٹوں پر ایک مفت

    لاہور:پاک آسٹریلیا وائٹ بال سیریز کی ٹکٹوں کی سیل لگ گئی:5 ٹکٹوں پر ایک مفت،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع ہوگئی ہے۔

    وائٹ بال سیریز میں شامل یہ چار میچز 29 مارچ سے 5 اپریل تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

    ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے ٹکٹ کی قیمت 500 سے 3000 روپے تک مقرر کی گئی ہے۔ دونوں ٹیموں کے مابین واحد ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے ٹکٹ کی قیمت 500 سے 4000 روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

    وائٹ بال سیریز میں شامل تمام میچز کی ٹکٹیں https://pcb.bookme.pk/ پر فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اس کے علاوہ شائقین کرکٹ چاہیں تو اپنے قریبی ایم اینڈ پی اسٹورز سے بھی ان میچز کی ٹکٹیں خرید سکتے ہیں۔

    اس حوالے سے ایزی پیسہ/ جاز کیش/کریڈٹ کارڈ یا این آئی ایف ٹی کے ذریعے ٹکٹ خریدے جاسکتے ہیں۔ٹکٹوں کی خرید و فروخت کے لیے ہیلپ لائن نمبر 03137786888 پربھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

    شائقین کرکٹ ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ 6ٹکٹیں خرید سکتے ہیں تاہم ون ڈے سیریز کےکسی میچ کے پانچ ٹکٹ خریدنے پر انہیں ایک ٹکٹ مفت دیا جائے گا۔

    پی سی بی کی جانب سے یہ پیشکش صرف پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تین ون ڈے میچز کے لیے ہی متعارف کروائی گئی ہے۔

    ہیڈ آف کمرشلز پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) سلمان مسعود کا کہناہے کہ شائقین کرکٹ کی سہولت کے پیشِ نظر پی سی بی نے پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین وائٹ بال سیریز کی ٹکٹوں کی قیمت کو کم رکھا ہے۔ اس کے علاوہ شائقین کرکٹ کو کار پارکنگ سے انکلوژرز تک گولف کارٹس پر مشتمل شٹل سروس کی سہولت بھی فراہم کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے اسٹینڈز میں فلٹر شدہ ٹھنڈے پانی اور پنکھوں کی فراہمی سمیت اسٹیڈیم کے باہر ایک بڑی اسکرین بھی نصب کررکھی ہے جہاں شائقین کرکٹ براہ راست ایکشن ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

    دونوں ٹیموں کے مابین سیریز میں شامل ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ کا حصہ ہیں۔ تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے جبکہ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ مقامی وقت کے مطابق رات 8:30 بجے شروع ہوگا۔

    ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں

    وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز : 3 ہزار روپے فضل محموداور عمران خان انکلوژرز : 2 ہزار روپے

    راجاز اور سعید انور انکلوژرز : ڈیڑھ ہزار روپے عبدالقادر، اے ایچ کاردار، جاوید میانداد اور سرفراز نواز انکلوژرز: ایک ہزار روپے

    حنیف محمد، امتیاز احمد، انضمام الحق، ماجد خان، نذر، قائد، سعید احمداور ظہیر عباس انکلوژرز : پانچ سو روپے

    ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں

    وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز :4 ہزار روپے فضل محموداور عمران خان انکلوژرز : 3 ہزار روپے

    راجاز اور سعید انور انکلوژرز : ڈھائی ہزار روپے عبدالقادر، اے ایچ کاردار، جاوید میانداد اور سرفراز نواز انکلوژرز : ایک ہزار روپے

    حنیف محمد، امتیاز احمد، انضمام الحق، ماجد خان، نذر، قائد، سعید احمداور ظہیر عباس انکلوژرز : پانچ سو روپے

  • ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    سلیکان ویلی: ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائبر سیکیورٹی کے یوٹیوب چینل ’’انفینیٹ لاگنز‘‘ نے اپنی تازہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ’’فشنگ‘‘ (phishing) کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہےیہ ویڈیو سائبر سیکیورٹی ماہرین کےلیے ہے جس میں ’’مسٹر ڈاکس‘‘ (mr.d0x) نامی ایک وائٹ ہیٹ ہیکر کے حوالے سے ’’بِٹ بی‘‘ (BitB) طریقے کی تفصیل بیان کی گئی ہے

    انفینیٹ لاگنز، مسٹر ڈاکس اور آرس ٹیکنیکا پراس بارے میں شائع ہونےوالی ایک خبر کےمطابق اس طریقے کو ’’براؤزر اِن دی براؤزر‘‘ (BitB) کہا جاتا ہے یہ نیا طریقہ اس قدر شاطرانہ ہے کہ ایک سمجھدار اور ہوشیار رہنے والا انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا سکتا ہے ’’بِٹ بی‘‘ کا انحصار ’’تھرڈ پارٹی لاگ اِن‘‘ پر ہے جو آج دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس استعمال کررہی ہیں۔

    تھرڈ پارٹی لاگ اِن میں آپ کو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہونے کےلیے علیحدہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے موجودہ گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ کی تصدیق کرواتے ہوئے اس ویب سائٹ پر لاگ اِن ہوسکتے ہیں۔

    اس مقصد کےلیے ’’او آتھ‘‘ (OAuth) نامی اوپن پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن کےلیے گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ وغیرہ کی خودکار، فوری اور محفوظ تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے (کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی خریدار ادائیگی کا طریقہ منتخب کرتا ہے جیسے پے پال۔)

    ’’بِٹ بی‘‘ طریقے کے تحت ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگویج (HTML) میں کاسکیڈنگ اسٹائل شیٹ (CSS) نامی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے، تھرڈ پارٹی لاگ اِن کےلیے ایک ایسی پاپ ونڈو بنائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصل تصدیقی (آتھورائزیشن) ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے اس ونڈو کی ایڈریس بار میں یو آر ایل بھی بالکل اصل دکھائی دیتا ہے جیسے کہ accounts.google.com وغیرہ ونڈو کی ترتیب اور طرز عمل اصل چیز سے یکساں نظر آتے ہیں۔

    ہینڈل mr.d0x استعمال کرنے والے ایک محقق نے پچھلے ہفتے تکنیک کی وضاحت کی۔ اس کا تصور کے ثبوت کا استحصال ایک ویب صفحہ سے شروع ہوتا ہے جس میں کینوا کی بڑی محنت سے درست جعل سازی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کوئی وزیٹر ایپل، گوگل، یا فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے لاگ ان کرنے کا انتخاب کرتا ہے، جعلی کینوا صفحہ ایک نیا صفحہ کھولتا ہے جو واقف نظر آنے والے OAuth صفحہ کی طرح نظر آتا ہے۔

    یہ نیا صفحہ بھی ایک دھوکہ ہے اس میں وہ تمام گرافکس شامل ہیں جو ایک شخص لاگ ان کرنے کے لیے گوگل کا استعمال کرتے وقت دیکھنے کی توقع کرے گا۔ اس صفحہ میں گوگل کا جائز پتہ بھی ہے جو ایڈریس بار میں ظاہر ہوتا ہے۔ نئی ونڈو براؤزر ونڈو کی طرح برتاؤ کرتی ہے اگر حقیقی Google OAuth سیشن سے منسلک ہو۔

    اگر کوئی ممکنہ شکار جعلی Canva.com صفحہ کھولتا ہے اور گوگل کے ساتھ لاگ ان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو "یہ ایک نئی براؤزر ونڈو کھولے گا اور URL accounts.google.com پر جائے گا،” mr.d0x نے ایک پیغام میں لکھا کہ جعلی کینوا سائٹ "کوئی نئی براؤزر ونڈو نہیں کھولتی ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی نئی براؤزر ونڈو کھولی گئی ہو لیکن یہ صرف HTML/CSS ہے۔ اب وہ جعلی ونڈو URL کو accounts.google.com پر سیٹ کرتی ہے، لیکن یہ ایک وہم ہے۔”

    ایک اچھا خاصا سمجھدار انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اس تھرڈ پارٹی لاگ اِن ونڈو میں اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ لکھ کر اینٹر کردیتا ہے… اور اس طرح وہ لاعلمی میں اپنی اہم ترین معلومات کسی نامعلوم ہیکر کو فراہم کردیتا ہے۔

    ایک ساتھی سیکیورٹی محقق نے اس مظاہرے سے کافی متاثر ہو کر ایک YouTube ویڈیو بنائی جس میں زیادہ واضح طور پر دکھا یا گیا ہے کہ تکنیک کیسی ہے یہ بھی واضح کیا کہ تکنیک کیسے کام کرتی ہے اور اس پر عمل کرنا کتنا آسان ہے۔

    آرس ٹیکنیکا کی متعلقہ پوسٹ میں سیکیورٹی ایڈیٹر ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ کو پہچاننے اور اس سے بچنے کےلیے کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ میں نمودار ہونے والی لاگ اِن ونڈو علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ’’براؤزر کے اندر براؤزر‘‘ ونڈو ہوتی ہے جو بظاہر ایک الگ اور اصلی لاگ اِن ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے یہ لاگ اِن ونڈو اصلی ہے یا نقلی؟ اگر وہ دائیں بائیں حرکت دینے پر اپنی جگہ سے ہل رہی ہے تو وہ جعلی لاگ اِن ونڈو ہے کیونکہ اسے ’سی ایس ایس‘ کی مدد سے ظاہری طور پر ایسی شکل دی گئی ہے۔

    ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ پہچاننے کا جو دوسرا طریقہ بتایا ہے، وہ کچھ مشکل ہے۔

    اس میں آپ کو لاگ اِن ونڈو پر رائٹ کلک کرکے inspect سلیکٹ کرنا ہوگا، جس کے بعد نمودار ہونے والی انسپکشن ونڈو میں لکھی عبارت (ٹیکسٹ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا، جہاں اِن پُٹ کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ محفوظ کرنے کےلیے کسی نامعلوم ویب سائٹ کا ایڈریس درج ہوگا اس طرح آپ کو خود ہی اس جعلی لاگ اِن ونڈو کی حقیقت کا پتا چل جائے گا۔

    ان کے علاوہ، آپ چاہیں تو آزمائش کی غرض سے اس لاگ اِن ونڈو میں غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ اینٹر کیجیے۔ اگر یہ اصلی ہوگی تو غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ کا پیغام دے گی، لیکن جعلی لاگ اِن ونڈو انہیں ’’درست‘‘ کے طور پر قبول کرلے گی۔

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک فشنگ کے بیشتر حملوں کو پہچاننا بہت آسان ہوا کرتا تھا لیکن ’’بِٹ بی‘‘ طریقہ بہت پیچیدہ ہے جس سے بچنے کےلیے صارفین کو تصدیق کے متبادل طریقوں سے بھی باخبر رہنا ہوگا؛ اور اکثر صارفین سہل پسندی میں ایسا نہیں کرتے۔

    مسٹر ڈاکس کے مطابق، فشنگ کا نیا طریقہ اگرچہ کچھ ہفتے پہلے ہمارے علم میں آیا ہے لیکن ہیکرز اسے غالباً 2020 سے استعمال کررہے ہیں-

  • آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین

    سری نگر:آپ واقعی سفیرکشمیرثابت ہوئے:وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں پرکشمیری قوم کا خراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق کل پاکستان میں 48 ویں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان نے جس طرح‌ مسئلہ کشمیر کے حل پرزور دیا کشمیری قوم کا کہنا ہے کہ آج تک پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کشمیر کے لیے اس سے پہلے کسی نے آواز نہ اٹھائی

    اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت سمیت کشمیریوں کی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ مسئلہ کشمیر حل کے بہت قریب ہے ، ادھر پاکستان میں موجود کشمیری قیادت نے بھی وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جس طرح وزیراعظم نے کشمیری قوم کاکیس لڑا ہے اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی

    تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 48ویں اجلاس کی شاندار میزبانی پر پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے مسلم بلاک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے متحد ہو کر کام کرے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجہ فہیم کیانی نے لندن میں جاری ایک بیان میں کہا کہ سربراہی اجلاس کی میزبانی پاکستان پر مسلم دنیا کی قیادت اور عوام کے اعتماد کا ووٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مسلم بلاک کو آئینہ دکھایا ہے کہ وہ کشمیر اور فلسطین کے تنازعات حل کرانے میں ناکام رہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر برس خلیجی ممالک سے صرف ترسیلات زر کی مد میں تقریباً 34 بلین ڈالر کماتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ یہ ممالک بھارت پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں لیکن ان خلیجی مسلمان ملکوں کو بہت کم معلوم ہے کہ بھارت ان کی سرزمین پر کمائی گئی رقم کو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتا ہے جسکا او آئی سی کو اسکا نوٹس لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف تحریک پیش کرنے اور اسے نسل کشی اور جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے کیونکہ اب بیانات اور مذمت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

  • 23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی،   ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت اسلام کا حصہ ہے کیوں کہ اگر وطن پیارا و آزاد ہو گا تو آپ اپنی مذہبی رسومات بآسانی انجام دے سکے گے اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے بصورت دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ شحضی آزادی بھی چھن جاتی ہے یوں تو محض یہ مملکت خداداد پاکستان ہی ہمارا ملک ہے مگر احادیث رسول کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری زمین ہی اللہ کی ہے اور ہم مسلمان اللہ کے خاص بندے اور اس ساری زمین پر حق ہمارا ہے-

    جس کی مثال یہ حدیث ہے

    عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی (مسلم)

    ترجمہ۔۔باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں –

    اسی طرح جب ایک مسلمان آدمی و ملک کو تکلیف پہنچے تو تمام امت کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اس درد کو رفع کرنا اپنی بساط کے مطابق ہر ایک شحض و ملک پر فرض ہے-

    اسلام میں ذمیوں، کافروں کے حقوق بھی احادیث سے ثابت ہیں تاکہ وہ بھی عزت و احترام سے رہ سکیں اور اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ شحضی آزادی بھی برقرار رکھ سکیں مگر افسوس کہ آج کافر ہم امت مسلمہ پر ہاوی ہیں اور ہم پستی کی زندگیاں گزار رہے ہیں-

    نبی کریم کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے-

    ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709)

    ترجمہ۔۔۔ ہجرت کے موقع پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا-

    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ

    اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600)

    ترجمہ ۔۔ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرما دے-

    ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کی بڑی عمدہ مثال ملتی ہے نیز ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن کی توقیر و سلامتی کیلئے ہجرت کی جا سکتی ہے اور کفار کے غلبہ پر ان کا قبضہ ختم کروانے کیلئے جہاد لازمی ہے جیسا کہ نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا مدینہ میں سکونت اختیار کی ایک مضبوط جماعت بنائی اور کفار سے ٹکرا کر اپنے وطن کو فتح کیا انہیں احادیث کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی لڑی تھی اور اسی جذبے کے تحت علامہ اقبال و محمد علی جناح نے آزادی کی یلغار بلند کی تھی اور دو قومی نظریہ پیش کیا تھا

    آج 23 مارچ کا دن ہے 1940 کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا ان کے رحلت کے بعد قائد و رفقاء نے اسے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں دنیا کے سامنے رکھا اور خوب جدوجہد کی اور أخرکار 14 اگست 1947 کو کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک ہمیں ملا اور آج اس کی تقریباً چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہےان شاءاللہ یہ وطن تاقیامت رہے گا مگر سارا عالم کفر اس کو توڑنے کے درپے ہے-

    جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہیں پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے خلاف بھی سارا عالم کفر اکھٹا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودی حملےکے بعد مراکش کے شہررباط میں او آئی سی نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی-

    اس اورگنائزیشن اسلامک کوپریشن ( او آئی سی) 25 ستمبر 1969 کی کانفرنس کو کامیاب کروانے میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ،سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا-

    1974 میں لاہور میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی اور فلسطینی وزیراعظم یاسر عرفات،سعودی عرب کے شاہ فیصل،یوگنڈا سے عیدی امین،تیونس سے بومدین،لیبیا سے معمر قذافی مصر سے انور سادات ،شام سے حافظ الاسد ،بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن ،ترکی سے کورو فخری سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وفد نے شرکت کی تھی-

    اب ایک بار پھر مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے 44 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کچھ کے دیگر اعلی عہدیداران موجود ہیں جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے
    ان شاءاللہ اس کانفرنس میں 23 مارچ 1940 کی طرز پر پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی طرح امت مسلمہ کیلئے نظریات پیش کئے جائینگے جس کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کی اس تنظیم سے زیادہ سے زیادہ امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کا کام لے

    آمین

  • گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    گیم از اوورو…..تحریر: نوید شیخ

    حکومت جا رہی ہے کہ نہیں اس سے ہٹ کر ایک چیز جو کنفرم ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں ۔ حالانکہ بہت سے ستارہ شناس اور علم الاعداد والے اس بات سے متفق نہیں مگر کپتان کے پاس ایسا لگ رہا ہے کہ باولنگ کی تمام ورائٹی ختم ہو چکی ہے ۔ وہ جتنے تجربے اور زور لگا سکتے تھے لگا چکے ہیں ۔ اپوزیشن نے بڑی کامیابی ان کی ہر
    ۔۔ ان سوئنگ ، آؤٹ سوئنگ، ریسورس سوئنگ ، یارکر اور باونسر کا مقابلہ کیا ہے ۔ یوں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے میچ کپتان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ فی الحال بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ کپتان نے جیسے پہلے ایک اہم تعیناتی کے موقع پر مخصوص تاریخ کو ہی یہ کام کرنے کو بہتر سمجھا تھا ۔ اب بھی کچھ کے خیال میں کپتان تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بھی کسی شُب گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    مگر کل جو اہم تعیناتی کے حوالے سے انھوں نے قوم کے سامنے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے ۔ وہ صاف اشارہ ہے کہ کپتان اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ نہ ہی وہ عثمان بزدار کی قربانی دینے کو تیار ہیں نہ ہی وہ سب سے سینئر کو تعینات کرنے کو راضی ہیں ۔ اس سے پہلے ہمارے کپتان جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو بھی اپنے جلسے میں بیان کرچکے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے جو پاک فوج اور اہم عہدوں پر تعینات شخصیات پر پی ٹی آئی کی جانب سے تنقید کی گئی ۔ پھر نیوٹرل ہونے کو گالی بننا ۔ تو یہ تمام چیزیں بہت کچھ بیان کر رہی ہیں کہ موڈ چل کیا رہا ہے ۔ ۔ اس حوالے سے گزشتہ روز مریم نواز نے موقع دیکھ کر اچھی پوائنٹ سکورننگ کر لی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ چاہتے ہیں کوئی آپ کی گنتی پوری کرکے دے، آپ کو اکیلا میدان میں رکھے، میڈیا کو مینج کرے کوئی یہ کرنے پر تیار نہیں تو آپ جانور کہہ رہے ہیں۔ نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے،  یہ تو اچھی بات ہے کوئی آئین کی پاسداری کررہا ہے تو ویلکم کرنا چاہیے۔۔ بہرحال وزیر اعظم کی کرسی میں طاقت تو بہت ہوتی ہے اور اب محسوس یہ ہو رہا ہے کہ وہ اس طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے والے ہیں ۔ بس یہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزرنے کی دیر ہے ۔ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ جس تواترسے ان کے مشیر رنڈی اور دلے لفظ کی تشہیر کر رہے ہیں ۔ پنجابی زبان کو بدنام کررہے ہیں۔ اس سے کپتان کے میرٹ کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا سچاجذبہ اگر اُن میں ہوتا تو اپنے اِس بازاری ترجمان کو فوری طورپر وہ فارغ کردیتے۔ ۔ دراصل کپتان کی غلطیاں اور کوتاہیاں ایک طرف اصل مسئلہ ان کی ضِدوں اور جھوٹی اناؤں کا ہے ۔۔ یہ ضد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انتخابی جلسوں میں الیکشن کمیشن کے روکنے کے باوجود، نوٹس جاری کرنے کے باوجود کپتان شرکت کر رہے ہیں اور پھر جو لب و لہجہ اختیار کیا جا رہا ہے وہ احتجاجی تحریک کا رنگ ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھنا ، اچھا سمجھنا ، باقی سب سے بہتر سمجھنا ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔ جس کا اس وقت یہ حکومت اور حکمران شکار ہیں ۔ کیونکہ تاریخ ہو ، فلسفہ ہو ، آئین ہو ، قانون ہو ، جمہوریت ہو یا مذہب ہو ہر چیز پرجب آپ خود ہی اتھارٹی ہوں تو پھر کسی کا کیا مشورہ سننا یا بات ماننی ۔ یہ ڈکیٹیٹر شپ نہیں تو کیا ہے ۔ بلکہ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں سے لگ رہا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم نہیں کپتان بادشاہ بنے ہوئے ہیں ۔ کون جیتے گا یا کون ہارے گا یہ اللہ بہتر جانتا ہے پر اگر تمام تر حالیہ واقعات کو سامنے رکھ کر سیاسی بھونچال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو مختصراً یہ ہی سمجھ میں آتاہے کہ ہٹ دھرمی جیت رہی ہے۔ جمہوریت ہار رہی ہے۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہوس اقتدار جیت رہی ہے امن، خوشحالی کی خواہش دم توڑ رہی ہے۔ ۔ بہرحال کپتان کا تمام بیانیہ اور تقریریں بحیرہ عرب میں غرق ہوتی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ یہاں سے تڑی لگاتے ہیں آگے سے بھی ویسا ہی ردعمل سامنے آجاتا ہے ۔

    ۔ اس حوالے سے رمیش کمار نے کہا ہے کہ حکومت کی پارٹی میں باغی ارکان کی تعداد 35 ہو چکی جبکہ منحرف ارکان میں سے کوئی بندہ واپس نہیں جائے گا۔ ہم میں سے زیادہ تر سینئیر سیاست دان ہیں کوئی ایسی ویسی صورت حال ہوئی تو نشست سے استعفیٰ دے دیں گے۔۔ احمد حسین ڈیہڑ نے کہا مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگایا گیا میں نے 40کروڑ روپے کی زمین مفت ریسکیو 1122 کو دے دی جبکہ میرے گھر پر غنڈہ بریگیڈ سے حملہ کرایا گیا۔ بات عزت کی ہے،کیا باپ ایسے ہوتے ہیں کہ بیٹی کے گھر میں بندے گھسا دیں۔۔ نور عالم خان نے کہا ہمیں گالیاں دینے کے بعد حکومت کس منہ سے ہماری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، عمران خان اگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے، شیرُو کتے کی نظر سے نہ دیکھتے تو یہ حالات نہ ہوتے۔۔ منحرف اراکین کے درعمل سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بات صرف عزت کی ہے ۔ جو کپتان سے کسی اور کو تو دور کی بات ۔۔۔۔ اپنے ہی ایم این ایز کو نہیں نہیں دی گی ۔ یوں اب وہ بدلہ لینے کے لیے کپتان کی عزت تار تار کرنے پر تلے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ میرے خیال سے حکومت اگر ہوش کے ناخن لے اور شیخ رشید ، فواد چوہدری ، شہباز گل جیسوں کو کچھ عرصے کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں پر یورپ بھیج دے تو معاملات زیادہ آسانی سے حل ہوسکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ چیز واضح ہوگی ہے کہ اب فون کال کسی کو نہیں جائے گی جو کرنا ہو گا کپتان کو اپنے زور باوز پر کرنا ہوگا ۔

    ۔ پھر چوہدری نثار کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک بے پرکی اڑائی گئی تھی کہ وہ پتہ ن ہیں کتنے ایم این ایز اور کتنے ایم پی ایز کے ساتھ 27کو پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلیں گے تو اس حوالے سے ان کی اپنی جماعت کے وفاقی وزیرغلام سرور خان نے کہا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چوہدری نثار علی خان سے متعلق خبریں بلاجواز ہیں ۔ ایسی خبریں بے مقصد اور بے بنیاد ہیں ۔۔ یعنی چوہدری نثار والا فارمولا بھی نہیں لگ رہا ۔ منحرف اراکین کی گھر واپسی بھی نہیں ہو رہی ۔ خرید وفروخت کا کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں لایا جا رہا ۔ اس عدم اعتماد کو بیرونی سازش ثابت کرنے کے تمام فارمولے بھی ناکام ہوچکے ہیں کیونکہ دنیا کیا ہر پاکستانی جانتا ہے کہ چلو بھٹو نے تو ایٹم بم بنایا، اسلامک بلاک بنانے کی کوشش کی ۔ عمران خان نے امریکی مفادات کو کون سی زک پہنچائی ہے جو وہ کپتان کے دشمن ہوجائیں ۔ الٹا اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوا کر ریاست کے پیروں میں بیڑیاں ڈلوادی ہیں ۔ وزیر اعظم کے خلاف جب ان کی جماعت کے ارکان کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کے فیصلے کر رہے ہیں تو پھر پتا نہیں کیوں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ابھی تک تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا یقین کیے بیٹھے ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی پلاننگ سامنے آگئی ہے کہ پہلے وفاق،پھر پنجاب،چیئرمین سینٹ اورآخرمیں خیبر پختونخوا حکومت گرائینگے۔ جبکہ مخبریاں یہ بھی ہیں کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی ہٹایا جائے گا ۔ ۔ پھر چڑیل نے گن کر بتایا ہے کہ ایک بال پر تین وکٹیں گرانے والے کی اپنی پچاس وکٹیں گر چکی ہے۔ جبکہ یہ مزید گرتی جا رہی تھیں ۔ یہ تو دوسری جانب سے کہا گیا کہ بھائی بس ۔۔۔ ہمارے پاس گنجائش ختم ہوچکی ہے کہ اور لوگوں کو اپنی پارٹی میں نہیں رکھ سکتے ۔ ۔ اس لیے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ہی اس وقت کیا جب انھیں یہ پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے اور ان کے ووٹ ڈلوانے میں کامیابی سے ہم کنار ہونگے۔۔ عقل تو یہ ہی کہتی ہے کہ کپتان اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیں۔ لیکن وزیر اعظم اس طرح کا جمہوری روایات اور اقدار کا حامل فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی روش کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ حکومت نے آرٹیکل 63اے کی تشریح پر تکیہ کیا ہوا ہے میری جتنی بھی قانونی ماہرین سے بات ہوئی ہے ان کی رائے میں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ ان کے ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو بطور پارٹی لیڈر یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی بنا پر defection clause لاگو کرنے کے لیے سپیکر کو خط لکھ سکتے ہیں۔ سپیکر اس خط یا یادداشت کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کو ان ارکان کی نااہلی کے ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔

    ۔ اسکے بعد بھی الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس پر کیا فیصلہ دیتا ہے کہ ان ارکان کو نا اہل قرار دیتا ہے یہ ان کو بدستور اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی ہدایت کر تا ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ والے قانونی ماہرین کی شاید سہولت میسر نہیں ہے ۔ اس وقت وہ صرف وہ سننا چاہ رہے ہیں جو ان کے کانوں کو اچھا لگے تو ان کے اردگرد لوگ بھی وہ ہی کچھ بتا یا سنا رہے ہیں کہ جس سے کپتان خوش رہے اور بدلے میں کہے شاباش میرے کھلاڑیوں ۔۔۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ گیم از اور

  • کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    یہ ایک سوال جس کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ موجودہ دور میں زیادہ تو لوگوں کے منفی رویے ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں افسوس اس معاشرے میں بگاڑ اتنا پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے یہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں, انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پر کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہوتو اسکی ویڈیو بنانے کے لئے لوگ رکیں گے ضرور مگر اس کی مدد نہیں کریں گے
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں لوگوں کا وہ ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفاد کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے

    یہ کہانی کچھ پرانی نہیں ہے جب پاکستان میں کارونا کی پہلی لہر آئی تو ہر طرف خوف تھا عالم یہ تھا کہ میں خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی. گیٹ کو باہر سے تالا لگایا ہوا تھا کہ نہ کوئی جائے نہ کوئی آئے پر شوہر نے کام پر جانا تو تھا ہی
    اس لئے روز بحث ہوتی اور مجبوراً ہار مان کر گیٹ کھول دیتی تھی ایک دن ایسا ہوا کہ بیٹے کو کسی کام سے اسٹور تک جانا پڑا تو واپس تھوڑا دیر سے آیا میں پریشان ہوگئی جب واپس آیا تو اس نے بتایا ساتھ گلی میں ایک گھر کے سامنے کوئی بزرگ پڑے ہوئے تھے تو انکل نے ان کو اٹھا کے سامنے کچرے والے پلاٹ میں پھینک دیا ہے پھینک دیا لفظ پر مجھے حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ وہ بزرگ کون ہیں جاکے دیکھنا چاہیے

    میں جب گیٹ سے نکلی تو سامنے گھروں کی عورتیں دروازوں میں کھڑی اسی بزرگ کی طرف دیکھ رہی تھیں, مجھے وہاں جاتے دیکھ کر بولیں باجی کیا کر رہی ہو وہاں نہ جاؤ لگتا ہے یہ کارونا کا مریض ہے اسی لئے کوئی اسے یہاں پھینک گیا ہے… میں نے کہا اگر کارونا بھی ہے اس کو مگر ہے تو ایک انسان ہی ناں مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے مگر انسانیت نہیں مرنی چائیے میں نے وضاحت دی مگر وہ عورتیں اپنا اپنا فلسفہ سنا کے مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہیں میں نے ان کی باتیں ان سنی کرکے اس بزرگ تک پہنچی تو دیکھا وہ لگ بھگ 80 سال کے تھے اور بیماری کی وجہ سے اٹھنے کی ہمت کھو چکے تھے میں نے ان کو ہاتھ سے جیسے پکڑا تو اندازہ ہوگیا کہ ان کو سخت بخار ہو رہا ہے . میرے اٹھانے سے وہ اٹھ نہ پائے اتنے میں میرا بیٹا جو 14 سال کا ہے وہ آگیا میں نے اسے کہا کہ میری مدد کرو اس طرح ایک طرف سے اس نے اور ایک طرف سے میں نے اس بزرگ کو کندھا دیا اور بمشکل گھر تک لے آئی اور یہ منظر وہاں کھڑے مرد حضرات بھی دیکھ رہے تھے ( مگر بےحسی ایسی کہ کوئی مدد کو نہ آیا)

    گھر پہنچا کہ میں اس بزرگ کو صحن میں ہی بستر پر لیٹا دیا اور جلدی سے قہوہ بنا کہ ان کو چمچ سے پلایا ان کے میلے کپڑے پر ان کے چہرے سے وہ کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے جب قہوہ پی چکے تو ان کو پیناڈول ٹیبلٹ دی مگر وہ بخار کی ٹیبلٹ لینے سے انکاری تھے ہمارے اوپر والے پورشن میں ایک کرائے دار فیملی رہتی تھی ان کی ایک عورت چھت سے دیکھ رہی تھی کہنے لگی باجی یہ بخار کی گولی نہیں لے رہے کیا پتا کوئی جاسوس نہ ہو اس کو باہر جا کے چھوڑ کے آؤ میں نے کہا کہ بابا جی کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو سڑک پر چھوڑا جائے میں یہ کہتے ہوئے اصرار کرنے لگی بابا جی یہ دیکھیں یہ کوئی اور ٹیبلٹ نہیں ہے یہ پیناڈول ہے اس سے آپ کا بخار کم ہوگا میرے اصرار پر انھوں نے میرے ہاتھ سے گولی لے کر منہ میں ڈالی مگر کچھ ہی دیر میں نکال لی, تب مجھے اپنے والد صاحب کا خیال آیا کہ وہ بھی ٹیبلٹ کے چار حصے کرکے تب لیتے ہیں میں نے ٹیبلٹ کو چار حصوں میں کرکے بابا جی کو دیا جو انھوں نے آسانی سے کھا لی
    اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں ان سے ان کے متعلق کوئی سوال کرتی اس لئے ان کو آرام کرنے دیا ٹیبلٹ لینے کے بعد وہ سو گئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد انھوں نے آواز دی نسرین کہاں ہو میں پاس گئی ماتھے پہ ہاتھ رکھا اب ان کا بخار اتر چکا تھا میں نے ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے

    تو بولے میرا نام ریاض ہے نسرین کہاں ہے اور ساتھ ہی نسرین کو آوازیں دینے لگے میں نے ان کی جیب کی تلاشی لی کہ شاید کوئی شناخت ملے مگر ایک کاغذ تک ان کی جیب میں سے نہ نکلا تو میری پریشانی بڑھ گئی. اس بزرگ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھوڑی دیر بعد ان کو کھانا کھلایا ان کی حالت کافی سنبھل چکی تھی مگر میں سوچوں میں گم کہ اب کیا کروں پولیس کو بتاؤں یا نہ بتاؤں میں نے ان بزرگ کی موبائل سے تصویر لے کر پہلے ہی سوشل میڈیا واٹس ایپ پر شئیر کردی تھی رات ہونے والی تھی اور میرے شوہر کے آنے کا وقت قریب تھا سوچا جب وہ آجائیں تو پولیس کو بتائیں گے تقریباً شام 8:30 پہ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی میں نے اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے کوئی لڑکا بولا آپ نے سوشل میڈیا پر جو تصویر شئیر کی وہ بزرگ آپ کے گھر میں ہیں اس وقت ؟میں نے کہا جی ہاں میرے گھر پر ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں انکے رشتہ دار ہیں اور صبح سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں

    میں نے پوچھا کہ یہ کہاں کے ہیں تو اس نے بتایا کہ چکوال سے ہیں پر رہتے قاسم مارکیٹ کے پاس ہیں میں نے ان کو گھر کا ایڈریس بتایا اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی فیملی میرے گھر آگئی ساتھ میں ایک عورت بھی تھی میں نے بتایا کہ بابا جی تو کچھ بتا نہیں رہے بس کسی نسرین کو آوازیں دے رہے ہیں تو وہ عورت بولی نسرین میرا نام ہے اور یہ میرے والد ہیں ان کی یاد داشت کھو گئی ہے اسی لئے ان کو میں اپنے پاس لے آئی تھی کہ ان کا علاج ہو سکے اور صبح نماز کے وقت گھر سے بنا بتائے نکل گئے تھے ہم تب سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ،انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور نسرین نے بہت دعائیں دیں اور بابا جی بیٹی کو پہچان کے اس کے ساتھ چلے گئے دوسرے دن وہی عورتیں میرے گھر آئیں کہ باجی آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اس کا اجر آپ کو بہت ملے گا, ان کی باتیں سن کر میرے دماغ میں ان کی کل کی باتیں گونجنے لگیں کہ باجی اس کے پاس نہ جانا یہ کرونا کا مریض لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ

    ان میں سے ایک نے کہا آ پ کو ڈر نہیں لگا کیونکہ آپ تو گیٹ کو باہر سے بھی تالا لگا کر رکھتی ہیں, میں نے کہا ہاں مجھے ڈر لگا تھا ان بزرگ کو دیکھ کر کہ اگر اس بزرگ کی جگہ میرے اپنے والد ہوتے اور وہ اس حالت میں ہوتے تو ان کا ایسے کوئی تماشہ دیکھتا…
    میرے اس جواب پر وہ چپ ہوگئیں.

  • پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف

    اسلام آباد:پاکستان میں انتشارپیدا کرنےکیلئے ہندوتواقوتیں بہت کچھ کرنےجارہی ہیں‌:بھارتی میڈیا کا اعتراف،اطلاعات کے مطابق بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے ہمسایہ ملک پاکستان میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کے لیے پانی کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبی وسائل کو کنٹرول کر کے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور پاکستان کے لیے دانستہ طورپر پانی کی قلت پیدا کرنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اوراس سے پیچھے ہٹنے اور بین الاقوامی معاہدوں کو توڑنے کی کوششیں بھارت کی قومی پالیسی کاحصہ ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر 1960میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت تین مغربی دریائوں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریائوں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا تھا کہ مودی حکومت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے ان تینوں دریائوں کے پانی کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بھارت پہلے ہی ان دریائوں کا تقریبا 94 فیصد پانی استعمال کر رہا ہے اور ان دریائوںکاباقی ماندہ پانی بھی پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی واضح خواہش رکھتی ہے۔ ماضی میں،

    بھارت کے آبی وسائل کے وزیر نتن گڈکری بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ بھارت پانی کاایک قطرہ بھی پاکستان نہ جانے دے اوریہ فیصلے حکومت کواعلی سطح پر لینے ہوں گے۔پانی روکنے کی دھمکیاں کسی بھی ملک خاص طورپر پاکستان کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے دریائوں پر بھارت کی طرف سے متعددڈیم بنائے جانے کی وجہ سے آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ ڈیم دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔