Baaghi TV

Category: بلاگ

  • روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    میسجنگ ایپ ٹیلی گرام نے دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن ایسا پوری دنیا میں نہیں بلکہ صرف روس میں ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام ، واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے روس کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 24 فروری کو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں ٹیلی گرام کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق روس یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد لاکھوں صارفین نے واٹس ایپ کی بجائے ٹیلی گرام استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    میگافون کے مطابق مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں مجموعی میسجنگ ٹریفک میں ٹیلی گرام کا حصہ 43 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گیا ہے جبکہ واٹس ایپ کا حصہ اسی عرصے میں 48 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    اس سے قبل واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کی حمایت کرنے والے روسی شہریوں اور جنگ میں حصہ لینے والے روسی فوجیوں کے خلاف پرتشدد میسجزکی اجازت دے گی۔

    روس انسٹاگرام اور فیس بک کو شدت پسند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر چکا ہے روس کا موقف ہے کہ یوکرین سے جنگ کے معاملے پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا روس مخالف مہم چلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

    فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر…

  • ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    سسلی کے مغربی ساحل پر واقع فونیشین جزیرے کا شہر موتیا طویل عرصے سے آثار قدیمہ کی تحقیق کا مرکز رہا ہے 1920 میں کھدائی کے دورن ایک مصنوعی جھیل دریافت ہوئی تھی جس کے بارے تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل ایک ’مقدس تالاب‘ تھا جسے ڈھائی ہزار سال پہلے ستاروں کی سمتیں اور سیدھ مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی :کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والے ریسرچ جرنل ’’اینٹیکیٹی‘‘ (Antiquity) کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق یہ مصنوعی جھیل (جو نئی تحقیق سے ایک مقدس تالاب ثابت ہوئی ہے) مغربی سسلی کے سان پینتالیو جزیرے پر ’موتیا‘ (Motya) نامی قدیم شہر کا حصہ تھی۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

    ساتویں صدی قبل مسیح تک، یہ بستی وسطی اور مغربی بحیرہ روم میں ایک وسیع تبادلے کے نیٹ ورک کے ساتھ ایک اہم بندرگاہی شہر کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ نتیجے کے طور پر، موتیا جلد ہی شمالی افریقہ کے ساحل پر آبنائے سسلی کے مخالف سمت میں بڑھتی ہوئی طاقت کارتھیج کے ساتھ تصادم میں آگیا۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط کی طرف، جنرل مالکو کی قیادت میں کارتھیجین افواج نے موتیا کو تباہ کر دیا، لیکن شہر کو تیزی سے بحال کر دیا گیا-

    اس وقت شہر کے اندر دیگر یادگار تعمیرات میں دو بڑے مذہبی علاقے شامل تھے، ایک شمال میں اور دوسرا جنوب میں۔ شہر کی دیوار اور دو مذہبی مرکبات کلیدی تعمیر نو کی نمائندگی کرتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ شہر نے کارتھیج کے وسطی بحیرہ روم کے ہم منصب کے طور پر اپنی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔

    چین دنیا کی سب سے بڑی ونڈ ٹربائن کے پروٹوٹائپ کی آزمائشیں اگلے سال شروع کر دے گا

    موتیا آج سے 2,500 سال پہلے کی فونیقی سلطنت کا اہم شہر تھا جو بندرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھادریافت کے تقریباً 100 سال بعد تک سمجھا جاتا رہا کہ یہ ایک مصنوعی جھیل تھی جسے کشتیوں اور چھوٹے جہازوں کی آمد و رفت کےلیے موتیا شہر کی بندرگاہ سے منسلک کیا۔

    دس سال تک جاری رہنے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خیال غلط تھا اور یہ کوئی مصنوعی جھیل بھی نہیں تھی بلکہ اس کے برعکس یہ ایک بڑا اور مقدس تالاب تھا جس میں ’بآل‘ (Ba’al) کہلانے والے ایک دیوتا کا مجسمہ بھی نصب تھا یہ مجسمہ اس تالاب کے بیچوں بیچ ایک چوکور پتھر پر تعمیر کیا گیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مجسمہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگیا لیکن اس کے پیروں کے نشانات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    یہ تالاب موجودہ زمانے میں اولمپکس کے تالاب سے بھی بڑا تھا جسے ایک قریبی چشمے سے پانی فراہم ہوتا تھاتالاب سے نکلنے والی بڑی نالیاں، جنہیں پہلے نہریں سمجھا گیا تھا، نکاسی کےلیے استعمال ہوتی تھیں اور استعمال شدہ پانی کو سمندر تک پہنچاتی تھیں البتہ، ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ اس تالاب کو بطورِ خاص ستاروں کی سمتیں اور ترتیب مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

    سال کی کچھ خاص راتوں میں ستاروں کا ایک جھرمٹ اس تالاب کے تقریباً اوپر (بآل دیوتا کے سر پر) آجاتا تھا جس کا عکس اس کے شفاف پانی میں دیکھا جاسکتا تھا ان تمام دریافتوں کے باوجود، ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ آیا ایسے مواقع پر یہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں یا نہیں۔

    انسانی بالوں سے مضبوط سولر سیلوں کی تیاری

    بالفرض اگر ستاروں کے سیدھ میں آنے پر یہاں کچھ خاص مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں تو ان کی نوعیت کیا تھی؟ یہ جاننے کےلیے اس علاقے میں مزید کھدائی اور تحقیق کی ضرورت ہے یہ اور اس جیسی دیگر تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ستاروں کی سمتوں اور مقامات کی خصوصی اہمیت تھی، جسے ہم نے ابھی دریافت کرنا شروع ہی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہی بات اہرامِ مصر کےلیے بھی کہی جاتی ہے کہ انہیں ستاروں کی سیدھ میں تعمیر کیا گیا تھا البتہ یورپ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

    آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے…

  • یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ  22 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔

    یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ 22 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔

    اسلام آباد ۔ پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اور پاکستان کبڈی فیڈریشن کے تعاون سے یوم پاکستان پوٹھوہار کبڈی کپ ٹورنامنٹ 22 مارچ سے دھمیال سٹیڈیم، راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ فائنل میچ کے مہمان خصوصی پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر و صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی راجہ شاہد اقبال نے پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل محمد سرور رانا نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور ٹورنامنٹ میں چار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں پوٹھوہار ریجن، سنٹرل پنجاب ریجن، ویسٹ پنجاب ریجن اور سائوتھ پنجاب ریجن کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ان ٹیموں میں ملک بھر سے نامور قومی اور انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹورنامنٹ کے لئے سات لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔

    اول آنے والی ٹیم کے لئے تین لاکھ روپے، دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک، ایک لاکھ روپے بطور انعام دیا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 23 مارچ کو سہ پہر تین بجے کھیلا جائے گا۔ جس کےمہمان خصوصی پنجاب کبڈی ایسوسی ایشن کے صدر و صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ ہونگے۔ جو فائنل کے اختتام پر کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں میں انعامات تقسیم کریں گے۔

  • محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش

    لاہور:محمد رضوان ہرفن مولا:ساتھی بھی خوش پاکستان بھی خوش ،اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ بیٹر محمد رضوان اپنی بیٹنگ کی وجہ سے تو دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں، اب وہ ساتھی کرکٹر شاہین شاہ کے لیے حجام بھی بن گئے ہیں۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ نے محمد رضوان سے بال کٹواتے ہوئے اپنی ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ لکھا کہ ایسا کچھ نہیں جو رضوان نہیں کرسکتا۔

    شاہین شاہ کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کمال مہارت سے شاہین شاہ کے بالوں پر قینچی چلا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی ایک کرسی پر بیٹھے ہیں اور محمد رضوان ان کے بال کاٹ رہے ہیں

    فاسٹ بولر شاہین شاہ نے لکھا کہ کراچی ٹیسٹ میں شاندار سنچری اسکور کرنے والے اور میچ بچانے والے محمد رضوان کی صلاحیتوں کی کوئی حد نہیں۔

    شاہین شاہ نے کہا کہ نیا ہیئر کٹ دینے کا شکریہ سُپر مین، آپ نے یہ کر دکھایا۔شاہین شاہ کی اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے فخر زمان نے بھی رضوان سے بکنگ کروالی۔

     

    فخر زمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرلکھا کہ ’یار لڑکے رضوان، میری بھی بُکنگ کرلو۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے کے بعد گزشتہ روز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

    پہلی اننگز میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم، نائب کپتان محمد رضوان اور اوپنر عبداللہ شفیق نے دوسری اننگز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کو بچایا۔

  • بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    اسلام آباد :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فورسز اہلکار بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے انہیں علاقے میں قتل عام کے مکمل اختیارات دے رکھے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب وحشیانہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو نشانہ نہ بناتے ہوں جبکہ اپنے تازہ ترین قتل عام میں انہوں نے ایک ہفتے کے دوران 11 نوجوانوں کو شہید کیا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بیگناہ نوجوانوں کے قتل میں حالیہ تیزی کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کی منظم نسل کشی میں مصروف ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر سے روزانہ قتل، تشدد اور اغوا کی دل دہلا دینے والی خبریں آ رہی ہیں اور یہ علاقہ ایک ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں کے باشندے تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت بیگناہ کشمیریوں کا خون سات دہائیوں سے مسلسل بہارہا ہے اور جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 95ہزار 9سو80 سے زائد کشمیریوںکو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں جبر و استبداد کی بھارتی پالیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے ایک چیلنج ہے جبکہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کا پابند ہے۔

  • اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    اب ایک اور کہے گا، مجھے کیوں نکالا، تحریر: نوید شیخ

    پارٹی شروع ہوگئی ۔۔۔۔ اس وقت جو خبریں چل رہی ہیں اس سے لگ یہ ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا جنازہ تیار ہے اب بس دفنانا باقی ہے ۔ یہ جنازہ نکلتا سندھ ہاوس سے دیکھائی دے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی ایم این ایز اس جنازے کو کندھے دیتے دفنانے جائیں گے ۔

    ۔ کیونکہ صرف ایم این ایز ہی نہیں بلکہ تین وفاقی وزراء کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ بھی ٹوٹ چکے ہیں ۔ یوں ثابت ہوچکا ہے کہ پوری کی پوری پارٹی لوٹا پارٹی تھی ۔ اتنی بڑی تعداد میں تو ن لیگ کے بندے نہیں ٹوٹے جب ان کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے تھا ۔ یوں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جو حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا ہوچکا ہے ۔ ۔ ابھی تک سندھ ہاؤس میں موجود تحریک انصاف کے10 ارکان قومی اسمبلی کے نام سامنے آگئے ہیں ۔ جبکہ یہ تعداد دودرجن سے زائد بتا جا رہی ہے ۔ ۔ میرے خیال سے اس کے بعد پی ٹی آئی کا اتحادیوں سے گلہ کرنا بنتا نہیں ہے کہ وہ حکومت کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کی تو اپنی پوری کی پوری پارٹی میں بھونچال آیا ہوا ہے ۔ ابھی عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت میں ہے ۔ جب یہ حکومت میں نہیں ہوں گے توسوچیں پی ٹی آئی کا کیا حال ہوگا ۔ ۔ پھر جس طرح بلا کسی خوف و خطر یہ ایم این ایز سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح یہ میڈیا کو انٹرویوز دے رہے ہیں ۔ جس طرح کھل کر یہ باتیں کررہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیل اتنی پکی ہوچکی ہے کہ یہ ایم این ایز اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

    ۔ کیونکہ نہ یہ فواد چوہدری اور شیخ رشید کی دھمکیوں سے ڈرے ہیں اور نہ ہی اب حکومت اس قابل رہی ہے کہ ان کو بھلا پھسلا کر واپس پی ٹی آئی کے کیمپ میں لا سکے ۔۔ اب عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان ایم این ایز کو de seatکیا جائے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک تو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا نہیں ۔ کسی ایم این اے نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی نہیں تو سزا کیسے دی جا سکے گی ۔ یعنی کہ صرف ان کا ارادہ تھا تو اس پر سزا دے دی جائے ۔ میرے حساب سے اگر ایسا کوئی فیصلہ حکومت کرتی ہے تو ان کو آئینی اور قانونی لحاظ سے مزید ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    ۔ دوسری جانب شیخ رشید نے بھوکلاہٹ میں سندھ میں گورنر راج لگانے کا مشورہ دے دیا ہے ۔ اب پتہ نہیں شیخ صاحب عمران خان کے خیر خواہ ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ ایسا ہوجاتا ہے تو یہ سیدھا سیدھا خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا ۔ مت بھولیں پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب کرنا ہے اور اس لانگ مارچ میں پیپلزپارٹی بھی شامل ہے ۔ اپوزیشن تو خوش ہوگی کہ اگر عمران خان سندھ میں گورنر راج لگا دیں ۔ ۔ خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سندھ ہاؤس میں موجود ارکان قومی اسمبلی کی فہرست آئی بی کی جانب سے پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے راجہ ریاض، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، نورعالم خان، ریاض مزاری، باسط بخاری، احمد حسن ڈیہڑ، ‏نزہت پٹھان اور وجیہہ اکرم بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں۔۔ اس سے پہلے عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں کچھ ارکان پارلیمنٹ کے مسنگ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ سویلین حساس اداروں کو ارکان پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا کہا گیا ہے۔ عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو سندھ ہاؤس کی بھی سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ۔ اس نئی بنتی صورتحال پر وفاقی وزیر فواد چوہدری ، اسد عمر ، حماد اظہر نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس بھی کی ۔ جس میں فواد چوہدری بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ جہازوں میں بھر کر لوگوں کا لایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ وہ جہانگیر ترین کے جہاز کا ذکر کرنا بھول گئے ۔ وہ نہ اڑتا تو حکومت نہ بنتی ۔ وزراء نے اعلان کردیا ہے کہ ان ایم این ایز کے خلاف
    63Aکے تحت جلد کاروائی کی جائے گی ۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں ۔ ہر حوالے سے ان کی تیاری مکمل ہے ۔ سندھ ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں سندھ ہاؤس کی چار دیواری پر خاردار تارلگانے کا کام جاری ہے۔ سندھ ہاؤس کے تینوں داخلی راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف کے باغی اراکین میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ کیونکہ اب تو جیسے ڈوبتے ہوئے جہاز سے لوگ چھلانگیں لگاتے ہیں وہ وقت آگیا ہے ۔ ان خبروں کے بعد تو کسی کے ذہن میں کوئی شک تھا بھی ۔۔۔ تو دور ہوگیا ہے کہ حکومت نے اب بچنا نہیں ۔

    ۔ میرے خیال سے کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا جو کو اب بھی یقین ہو کہ حکومت بچ جائے گی ۔ عنقریب لگ یوں رہا ہے کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہونے والے ہیں ۔ یوں اب آپ کپتان کے منہ سے سنیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟

  • انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    انسٹاگرام اورفیس بک (میٹا) نے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنالیا-

    باغی ٹی وی : فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اس وقت چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اپنی سروسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ خیال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بھی وہ کئی بار کرچکے ہیں تاہم اب میٹااور انسٹاگرام بھی ٹک ٹاک کا حصہ بن گئے ہیں-

    عالمی خبررسان ادارے کے مطابق ٹک ٹاک پر فیس بک کا اکاؤنٹ ویریفائیڈ ہے جس کے اب تک 23 ہزار سے زیادہ فالورز ہوچکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے حالانکہ اس پر کوئی پوسٹ بھی نہیں کی گئی۔


    فیس بک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ لوگ تنہا کی بجائے اکٹھے زیادہ کام کرسکتے ہیں اس کے ساتھ گوگل پلے اسٹور پر فیس بک ایپ کا لنک دیا گیا ہے۔


    انسٹاگرام نے بھی ٹک ٹاک میں اکاؤنٹ بنایا ہے جس میں ریلز کو پروموٹ کیا جاتا ہے یا اسے استعمال کرنے کی ٹپس شیئر کی جاتی ہیں۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ٹیک کرنچ کے مطابق میٹا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ اصلی ہے ترجمان نے کہا کہ برانڈز متعدد چینلز کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں جو ان کی پراڈکٹس اور سروسز استعمال کرتے ہیں، پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک یا دیگر پر ہمارے برانڈ کی موجودگی کا مقصد بھی یہی ہے۔

    ایسا ممکن ہے کہ فیس بک ٹک ٹاک یا اس کے اشتہاری پلیٹ فارم کو استعمال کرکے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرسکے جو دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورک سے دور ہورہے ہیں 2021 کی آخری سہ ماہی میں پہلی بار فیس بک کو روزانہ اس سروس کو استعمال کرنے والے صارفین کی کمی کا سامنا ہوا تھا۔

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واضح رہے کہ فیس بک اکثرٹک ٹاک ایپ کو اپنا اہم ترین حریف قرار دیتی ہے 2021 کے آخر میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ لوگوں کے پاس متعدد انتخاب ہیں کہ وہ اپنا وقت کیسے گزاریں اور ٹک ٹاک جیسی ایپس بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں ٹک ٹاک پہلے ہی ایک حریف کے طور پر بہت بڑی ہوچکی ہے اور اس کی توسیع بڑے پیمانے پر بہت تیزی سے ہورہی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔


    ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری روز کی سُرخ تحریر،تحریر:زکیہ نیر ذکّی

    میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا ” رحیم یار خان میں تعینات سب انسپکٹر میری روز نے زندگی سے ناطہ توڑنے سے چند لمحات پہلے ان لفظوں میں لپٹی التجا کر کے معاشرے میں موجود عورت کی اصل حیثیت کی پوری داستان سنا ڈالی۔۔اس نے خود تو جیسے تیسے زندگی گزار دی مگر جاتے جاتے بیٹیوں کے مستقبل کے بارے دل میں موجود خوف کو عیاں کر گئی اس ایک جملے میں شکوہ بھی ہے اور وہ درد بھی جس نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔وہ عورت جس نے تعلیم حاصل کی ایک ایسے شعبے کو چنا جس میں مضبوط اعصاب کا ہونا پہلی شرط مانی جاتی ہے مگر نہ جانے ان اعصاب پر کیا کچھ بیتا تھا جس نے برداشت کی ہر حد کو کرچی کرچی کر کہ رکھ دیا جس نے اس سوچ کو ہی اعصاب سے کھینچ اتارا کہ معصوم بیٹیاں ماں بن ادھوری رہ جائیں گی بس سسکتی زندگی کے اس درد سے فرار کی جو راہ چُنی تو وہ محض جیتا جاگتا جہاں ہی چھوڑ جانا ٹھہرا۔۔

    معاملات کی چھان بین ہوگی میرا نہیں خیال کہ ہمارے قوانین میں کوئی ایسا قانون بھی ہے جو خود کشی کے پیچھے کار فرما عوامل اور عناصر تک ہاتھ ڈال سکے۔۔کچھ خبریں یہ بھی ہیں کہ روز میری ڈی پی او رحیم یار خان سے چھٹی کے معاملات پر دل برداشتہ تھیں جبکہ شوہر نے اسی شعبے سے وابستہ ہونے کے باوجود بیوی کے ذہنی تناؤ میں کمی کرنے کے بجائے اس قدر اضافہ کیا کہ اسے چاروں طرف کے در بند دکھائی دینے لگے۔بیوی کے لیے شوہر ہی وہ واحد سہارا ہوتا ہے جس سے دکھ درد میں امیدوں کا ہر دھاگہ بلا تکلف باندھ دیتی ہے جب حالات اس نہج پر لے آئے کہ خوشیوں میں ساتھ نبھانے والے سے اب الجھنوں میں بھی ساتھ مانگا جائے تو سوائے بے رخی اور اجنبیت کے کچھ دکھائی نہ دیا۔۔نہ جانے کتنی راتیں اس امید میں بتا دی گئیں ہونگی کہ صبح ہوتے میرا ہمسفر میری راہیں آسان کرنے کے لیے میرا ہاتھ تھام لے گا مگر دن گزرتے گئے بڑی بیٹی چار سال کی ہوگئی زندگی کھلکھلانے کے بجائے سسکنے لگی تو سب انسپکٹر روز میری نے آزمائش میں مایوسی دینے والے اس رشتے کو الوداع کہہ ڈالا۔۔اور راہ یہ ڈھونڈی کہ شوہر سے علیحدگی لینے کے بجائے اپنے وجود کو اس دنیا سے ہی الگ کر دیا جائے۔۔

    سوچتی ہوں کہ وہ سرخی جس سے الوداعی پیغام لکھ کر چلی گئی وہی لال شوخ رنگ کی سرخی جسکے کھلے رنگ میں نہ جانے کتنے خواب ہونگے کتنی حسیں خواہشات ہونگی ایک ہنستی بستی ازدواجی زندگی جسکی چاہ ہر عورت کے دل پر سجی تحریر ہوتی ہے پھر ان خوابوں کو روندتے مسلتے اور بے توقیر ہوتے دیکھ کر وہ کس قدر ٹوٹی ہوگی۔۔

    ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں بڑھ چڑھ کر خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے پلے کارڈز اٹھائے جاتے ہیں اعدادوشمار کا ایک چارٹ ہر سال پیش کیا جاتا ہے جس میں ان پر تشدد زیادتی انکے حقوق کی سلبی کے کئی واقعات شامل کیے جاتے ہیں ہم اکیسویں صدی میں ہوتے ہوئے بھی چار سال کی اس بچی کا جنازہ اٹھاتے ہیں جس سے چالیس سال کے مرد نے زیادتی کی ہوتی ہے اور پھر اسکی سانسیں روک دینے پر بھی وہ با اختیار نظر آتا ہے ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادیاں یہ وہ پست رسمیں ہیں جو آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں بلا خوف و خطر وڈیروں اور جاگیر داروں کا پسندیدہ کھیل سمجھا جاتا ہے۔۔
    ملک کی آبادی کا اکاون فی صد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ملک کی مجموعی ترقی اور مہنگائی کے اس دور میں اگر پڑھی لکھی عورت شادی کے بعد اپنا کرئیر جاری رکھنا چاہتی ہے تو اکثریت کے لیے یہ جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے بچوں اور سسرال کی زمہ داری شوہر کے فرائض گھر کے کام کاج جیسی رکاوٹوں کو وہ خوشی خوشی عبور کر بھی لے تو اسکے لیے نوکری جاری رکھنا مشکل سے مشکل بنا دیاجاتا ہے۔۔میں کئی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ہر رات شوہر سے جنسی اور جسمانی تشدد بطور سزا اسلیے سہتیں کہ وہ صبح دفتر جاتے ہوئے خود کو مرد سے زیادہ با اختیار اور لائق فائق نہ سمجھ بیٹھیں۔انکے اعتماد کو روندنے کے لیے ہمسفر کہلانے والا مرد ہر حد تک جاکر اسے ذہن نشین کراتا ہے کہ عورت ہو لاکھ پیسہ کما لو یا نام بنا لو مرد کے درجے تک نہیں پہنچ سکتی مرد طاقتور ہے۔۔یہ وہ پست سوچ ہے جسکا سامنا اس دور میں بھی کئی کام کرنے والی خواتین کرتیں ہیں اولاد در بدر نہ ہوجائے،باپ بھائی کی عزت پر آنچ نہ آجائے،اگر پولیس میں شکایت کی تو شوہر جان سے ہی نہ مار دے اور سب سے بڑھ کر طلاق کا خوف کیونکہ ہمارا معاشرہ موت کو طلاق پر ترجیح دیتا ہے یہ وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے وہ تشدد تو برداشت کرتی رہتی ہیں مگر زبان نہیں کھول پاتیں کئی تو ایسی ہیں جو شوہروں کی جانب سے موٹی موٹی گالیاں اور کردار کشی پر بھی خاموش ہوجاتی ہیں۔۔ جو سب سے اہم نقطہ ہے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے اور وہ ہی کمزور خاندانی نظام میں گھسیٹے جانے والے ازدواجی رشتے۔۔رشتے کی نوعیت تو ایک جیسی ہوتی ہے مگر اپنی بیٹی اور دوسرے کی بیٹی کے متعلق ہماری سوچ تقسیم ہوجاتی ہے۔۔ہم اپنی بیٹی کے سکون کے لیے ہر ایک قدم اٹھانے کو تیار ہوتے ہیں داماد سے ہر ایک توقع پر پورا اترنے کا تقاضا کرتے ہیں۔۔بیٹی کے ہنستے بستے گھر کی تمنا ترجیح ہوتی ہے مجال ہے داماد کی جو بیٹی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی لانے کا گناہ گار ہو۔۔مگر بہو جو آپکے خاندان کا فرد بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ آئی اپنی عادتیں اپنی خواہشیں اپنے سارے ارمان بابل کے آنگن کو سونپ آئی۔۔اب یہ ذمہ داری اسکے شوہر سمیت سسرال کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں اسکی آسانی کے لیے اسکا ساتھ دیں اسکی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔۔مگر جب اسے نئے گھر میں اپنائیت کے بجائے اجنبیت، سکون کے بجائے ناچاقی،ساتھ کے بجائے تنہائی اور لاڈ کے بجائے تشدد ملے گا تو وہ ٹوٹے گی بھی اور بکھرے گی بھی۔۔قران بھی شوہر کو عورت کو قوام قرار دیتا ہے مگر جب محافظ اور رکھوالا ہے آپ کو غیر محفوظ ہونے کا احساس دلانے لگے تو پھر وہ عورت کہاں جائے۔۔گھر سے نکلتے سمے اسے کہا جاتا ہے سسرال میں نبھا کرنا اب وہی تمہارا گھر ہے۔۔کتنی عجیب سی بات ہے ناں کہ سرخ آنچل اوڑھ لینے کے بعد وہ بابل کے گھر سے تو عورت پرائی ہوئی تھی مگر پیا گھر میں بھی اسے اپنا نہیں سمجھاجاتا۔۔ تبھی روز میری نے سوچا ہوگا کہ شاید قبر ہی واحد جگہ ہے جو کم از کم اسکی اپنی تو ہوگی۔۔۔۔

    zakiya
    :زکیہ نیر ذکّی

    @NayyarZakia

  • مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف کامیابی پروزیراعظم پاکستان عمران خان کوخراج تحیسن

    مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف کامیابی پروزیراعظم پاکستان عمران خان کوخراج تحیسن

    سرینگر:مقبوضہ کمشیرہائی کورٹ بار کا اسلامو فوبیا کے خلاف وزیراعظم کی کوششوں کوخراج تحسین،اطلاعات کےمطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ جی این شاہین نے 15مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کی کوششوں کوامت کے لیے ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جی این شاہین نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلام فوبیا سے نمٹنے کے لئے 57مسلمان ممالک کے تعاون سے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی تاریخی قرارداد منظور کی اور 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اسلام فوبیا کے خلاف کامیاب جدوجہد کی قیادت کی۔جی این شاہین نے کہا کہ مجھے عمران خان کویہ کہتے ہوئے سن کر خوشی ہوئی کہ میں بھارت کے خلاف نہیں بلکہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک طاقتور آواز بن کر ابھرے ہیں۔

    وزیراعظم کی ان کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ دنیا بھر سے جاری ہے اوراس سلسلے میں عرب دنیا بھی وزیراعظم کوخراج تحیسن پیش کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ عمران خان عالم اسلام کے پہلےلیڈر ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر اسلام ،ختم نبوت اور اسلامی شعائر کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ دفاع کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے