Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر

    سرینگر:مودی حکومت متنازعہ فلم ”کشمیرفائلز”کشمیریوں‌ کی جان کوخطرات:فتنہ پیدا ہونے کاڈر،ادھراسی حوالے سے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کہا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کشمیری پنڈتوں کے زخموں اور درد کو سیاسی مقاصد کیلئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر کے انتشار پھیلا رہی ہے۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ مودی حکومت جس طرح جارحانہ انداز میںمتنازہ فلم ”کشمیر فائلز”کو پروموٹ اور کشمیری پنڈتوں کے دکھ اور درد کو ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے اس سے ان کے مذموم عزائم واضح ہوتے ہیں کیونکہ اس سے دو کمیونٹیز کے درمیان دوریاں مزید بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت پنڈتوں کے زخموں پر مرہم لگانے اور دو کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کے بجائے ان کے درمیان دانستہ طورپر دوریاں بڑھا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ بالی ووڈ کے مسلم دشمنی کیلئے مشہور ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کی متنازعہ فلم ”کشمیر فائلز”کے بھارت میں انتخابات سے قبل ہندتوا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جی پی کے دیگر وزرا نے اس فلم کی تعریف کرتے ہوئے عوام کو یہ فلم دیکھنے کی تلقین کی ہے جبکہ ریاست آسام کی حکومت نے سرکاری ملازموں کو فلم دیکھنے کے لیے نصف دن کی تعطیل دینے کا اعلان کیا ہے ۔

    ادھر کشمیری طلبا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متنازعہ فلم دی کشمیر فائلز دکھانے والے مختلف سینما گھروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کئے جانے والے اشتعال انگیز ویڈیو کلپس بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء پر ہندوتو ا دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

    جموں وکشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھوہامی نے جو کہ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دہرادون کالج میں زیر تعلیم ہیں ایک بیان میں کہاہے کہ بھارت میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ پر کسی بھی قسم کے حملے کا ذمہ دار فلم کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری پر عائد ہو گی جو اپنی مسلم دشمنی کیلئے مشہور ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فلم ریلیز ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر بے اعتمادی اور انتشار کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کسی بھی ایسی کوشش کی شدیدمذمت کرتی ہے۔

  • کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    مظفرآباد :کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کیخلاف آج مظفر آباد میں ایک بڑی بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    بڑی تعداد میں مظاہرین نے گریڈ سٹیشن چوک سے سنٹرل پریس کلب بنک روڈ تک مارچ کیا ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں وکشمیر کی بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔

    ریلی کی قیادت پاسبان حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیراحمد غزالی اور چوہدری مشتاق، شوکت جاوید میر اوردیگر نے کی ۔اس موقع پر فلک شگاف بھارت مخالف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔ مقررین نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو قتل کر کے کشمیری مسلمانوں کی منظم نسل کشی کر رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام ،انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اور دیگر مظالم پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔مقررین نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں کھلے عام جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی تک جدوجہد آزادی کشمیر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو انکا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے اور بھارتی ظلم و تشدد بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی شب دیگ اور پی ٹی آئی کے لوٹے ۔۔۔تحریر: نوید شیخ

    سیاسی دیگ اس وقت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چولہے پر چڑھی ہوئی ہے ۔ ہر کوئی اپنی مرضی کے مصالحے اور اشیاء اس میں ڈالتا جا رہا ہے ۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ قورمہ بن رہا ہے ، بریانی پک رہی ہے یا پھر متنجن ۔۔۔

    ۔ اس تمام سیاسی ہلچل میں شہباز شریف نے ایک نیا فارمولہ دے دیا ہے کہ ہمیں پانچ سال کیلئے قومی حکومت بنانی چاہیے مگر قومی حکومت میں پی ٹی آئی شامل نہ ہو۔ پتہ نہیں یہ تمام اپوزیشن کی مشترکہ سوچ ہے یا پھر صرف شہباز شریف کی سوچ ۔۔۔ ۔ بہرحال جب سے ایمپائر نیوٹرل ہوا ہے کپتان کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک ایک کرکے روز کوئی نہ کوئی پیادہ یا تو داغا دے رہا ہے ۔ یا پھر کپتان کو ایک لمبی لسٹ تھما رہا ہے کہ یہ پوری کرو تو ساتھ دوں گا ۔ ۔ مگر کپتان بھی کپتانوں کے کپتان ہیں وہ روز جلسے کررہے ہیں ۔ دھمکیاں اور تڑیاں لگا رہے ہیں ۔ یوں ملکی موسم کے ساتھ سیاسی موسم بھی تیزی سے گرم ہوتا جا رہا ہے ۔

    ۔ تازہ تازہ سوات کے جلسے میں عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر ضمیر خریدنے بیٹھے ہیں۔ اب اتنے وثوق سے جب وہ یہ عوام کے سامنے دعوے کر رہے تھے تو ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایف آئی اے ، نیب ، اینٹی کرپشن یا دیگر اداروں نے بھنگ پی ہوئی ہے جو ان کو نہیں پکڑ پا رہے ہیں ۔ اور کپتان کس بنیاد پر روز کسی نہ کسی کی پگڑی اچھال رہے ہیں اور جب ایسے ہی اشارے یا باتیں ان سے منسوب کی جاتی ہیں یا پھر مخالفین ان کے گھر یا ذاتی زندگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں تو کپتان کے تمام کھلاڑی یوں اچھالنا شروع کر دیتے ہیں جیسے ابلتے ہوئے انڈے اچھلتے ہیں ۔ ۔ دوسرا اگر کپتان کے اردگرد سب ہی بے ضمیر لوگ ہیں جن کی نوٹوں کی بوریاں دیکھ کر رالیں ٹپکنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ تو پھر کپتان نے کون سی ٹیم بنائی ہے اور کپتان کی وہ دور اندیشی کہاں گئی ۔ جو وہ قوم کو بتایا کرتے تھے ۔ کہ ان سے بہتر ٹیم کوئی بنا ہی نہیں سکتا ۔ دراصل جیسا حال کپتان نے ملک کا کیا ہے ویسا ہی حال ان کی اپنی پارٹی کا بھی ہے ۔ اب سے پہلے تو صرف خفیہ کالوں کی کرامات تھیں ۔ جب سے یہ ٹیلی فون نمبر بند ہوئے ہیں ۔ تب سے ہی یہ حالت ہوئی ہے کہ بقول شیخ رشید پانچ سیٹوں والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ پھر کپتان جو کہہ رہے تھے کہ قوم پر لازم ہے کہ برائی کے خلاف کھڑی ہو، الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے؟۔ یہ جو الیکشن کمیشن کو للکار رہے تھے ۔ کوئی ثبوت تو دیں جس پر وہ کاروائی کرسکے ۔ کیا خالی بیانات اور جلسوں میں تقریروں کو ہی ثبوت مان لیا جائے ۔ ۔ پھر اگر وہ سچے ہیں بھی تو سوال یہ ہے کہ کپتان نے پہلے لوٹوں کو پارٹی میں اکٹھا کیوں کیا ۔ اور جب ان کی اصلیت ان کو معلوم ہوگئی ہے تو پھر یہ ایکشن کیوں نہیں لیتے ۔ باتیں کرنا بہت آسان ہے سچ اور حق کے ساتھ کھڑے ہونا اتنا ہی مشکل ہے کیونکہ مسئلہ کرسی کا ہے ۔ کپتان نے کرسی کی خاطر جتنے یوٹرن لیے ۔ تمام دنیا جانتی ہے ۔ اب بھی جتنے جتن کپتان اس کرسی کو بچانے کے لیے کررہے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہوگئے ہیں۔

    ۔ یہ جو کپتان سمیت باقی کھلاڑیوں کو مزاحمتی سیاست کرنے کا بخار چڑھا ہوا ہے تو سچائی میں انکو بتا دوں کہ پی ٹی آئی مزاحمتی جماعت نہیں ہے۔ ذرا تلاش کیجیے، کتنے ایسے ہیں جو جیل جا سکتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے گرفتاریاں برداشت کرسکتے ہیں ۔ عمران خان خود بھی ابھی تک جیل نہیں گئے۔ پھر ان کے ساتھ سیاسی لوگ نہیں ہیں، سب چوری کھانے والے دیہاڑی باز ہیں۔ ان سب نے عمران خان کو تب جوائن کیا تھا جب سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ اگلی باری عمران خان کی ہے۔

    ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی مزاحمتی سیاست نہیں کی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی سیاسی نظریہ ہے۔ اقتدار میں گورا ہو، کالا ہو، داڑھی والا ہو یا کلین شیو ہو، یہ لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ ان کی تربیت ہی ان خطوط پر ہوئی ہے کہ ہمیشہ چڑھتے سورج کو سلام کرنا اور وہ نسل در نسل یہی سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس لیے اقتدار ختم ہونے کے بعد عمران خان کا ساتھ دینا ان کے منشور کے خلاف ہے ۔۔ سچ یہ ہے کہ بیساکھیاں ہٹ گئیں تو اپنے ارکان بھی ریت کے ذروں کی طرح مٹھی سے نکلنے لگے ہیں اور اتحادیوں کی نہ صرف آنکھیں بدل گئیں ہیں بلکہ انھوں نے آنکھیں دکھانا شروع کردیں، پہلے حکومت کا کھل کر ساتھ دینے سے گریز کیا،پھر اپوزیشن سے پینگیں بڑھانے لگے اور اب تو انھوں نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ۔ عمران خان پرلے درجے کے بے اصول ہیں۔ انھوں نے اپنے مفاد اور اقتدار کے لیے قانون، ضابطہ، اقدار، اخلاق اور جمہوری روایات سمیت ہر چیزکو روند ڈالا ہے۔ کپتان تقریروں میں تو پنجابی فلموں والے سلطان راہی بن جاتے ہیں مگر عملی طور پر وہ اپنے مفاد کے لیے جھکنا تو کیا، مکمل طور پر لیٹ جاتے ہیں۔۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ عمران خان صاحب نے اپنے چارسالہ اقتدار میں ملک کی معیشت کوبرباد کردیا ہے۔ بلکہ لوگ چینخ رہے ہیں کہ ستر سالوں میں اس سے بری گورننس نہیں دیکھی۔ پولیس، انتظامیہ، ایف آئی اے، ایف بی آر، نیب اور اینٹی کرپشن کے اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے جس طرح اس دور میں استعمال کیا گیا ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی ۔۔ پھر جتنی کرپشن اس دور میں بڑھی ہے اس سے پہلے ایسی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ کرپشن کے الزامات کی زد میں آنے والے وزیروں اور مشیروں کو جیسے اس دور میں تحفظ دیا گیا کیا کبھی ایسا پہلے ہوا ہے ۔ ۔ میرا سوال ہے کہ مجھے کوئی ایک ادارہ بتا دیں جہاں بغیر رشوت کے آپ کا کام ہوجائے ۔ کپتان نے اپنے ہر دوست کو اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا ۔ اقرباء پروری اور میرٹ کے قتل کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی ۔ ۔ آج اگر عام پاکستانی دو وقت روٹی کھائے تو بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کرسکتا، بل ادا کرے تو دوائیوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتا۔ کسان بے چارے کھاد کی تلاش میں رُل گئے ہیں ۔ مگر آج بھی کپتان زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی جھوٹی کہانیاں سنا رہا تھا ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بڑے بڑے علماء پر مغرب زدہ محمد علی جناح کواس لیے ترجیح دی تھی کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، جو کہا اس پر عمل کر کے دکھایا۔ کپتان کی طرح نہیں جو یوٹرن کو لیڈر کی خوبی سمجھتا ہو۔

    ۔ کپتان کا موجودہ غصہ اُن کے اندرونی اضطراب، گبھراہٹ اور فرسٹریشن کی غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے وزرائے اعظم اقتدار سے محروم ہوئے ہیں ۔ مگر انھوں نے ایک باوقار طریقے سے اقتدار چھوڑا۔ ہاؤس کی اکثریت یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تھی مگر ایک معمولی بات پر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انھیں توہین عدالت پر سزا دے کر معزول کردیا اور وہ کوئی واویلا مچائے بغیر پرائم منسٹر ہاؤس سے باہر آگئے۔۔ نوازشریف کو ایوان کی دوتہائی اکثریت حاصل تھی مگر جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہ میں سپریم کورٹ کے بینچ نے انھیں تاحیات نااہل قراردے دیا، مگر وہ پرسکون رہے۔ نہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے کی کال دی اور نہ ہی اسپیکر کو کوئی غیر آئینی اقدام اُٹھانے پر مجبور کیا، مگر اب تو لگتا ہے کپتان نے حکومت اور اقتدار کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا ہے، سب کو نظر آرہا ہے کہ وہ ایوان کی اکثریت کھو ہوچکے ہیں،زیادہ تر اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اپنے بہت سے ارکان باغی ہوچکے ہیں۔۔ اس صورت میں اُن کے لیے باوقار راستہ یہ تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیتے یا مڈٹرم الیکشن کا اعلان کردیتے۔ اس سے ان کی سیاسی ساکھ اور عزت بچ سکتی تھی مگر لگتا ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کررہے ہیں۔ اپوزیشن اپنا آئینی حق استعمال کررہی ہے مگر پرائم منسٹر غصے اور فرسٹریشن میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیاسی مخالفین کی نقلیں اُتار رہے ہیں اور انھیں توہین آمیز القاب سے نواز رہے ہیں۔

    ۔ عمران خان جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انارکی اور تباہی کاراستہ ہے۔ اس پر چل کر نہ ان کی حکومت بچے گی اور نہ سیاست۔ کیونکہ کپتان کا ماننا ہے کہ ایمپائربغیر نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دوں گا ۔ ۔ عمران خان ہر صورت اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں،اس طرح کا رویہ اور بیانات فاشزم کو پسند کرنے کا اظہار ہے جس کے نتیجہ میں جمہوری نظام کا مستقبل خطرہ میں نظر آرہا ہے۔ ۔ غلطیاں ان کی اپنی ہیں یہ سیاست میں بھی اناڑی ثابت ہوئے ہیں ۔ یہ جو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی ہے اسکا حکومت کو فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔۔ کیونکہ اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا موقع مل گیا ہے۔ اگر قومی اسمبلی کا فوری اجلاس بلا لیا جاتا تو شاید اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں کو منانے کا اتنا وقت نہیں ملتا۔اب ہر گزرتا دن عمران خان کی سیاسی طاقت کو کمزورکر رہا ہے۔۔ اس وقت تمام اشارے عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کی طرف ہی نظر آرہے ہیں۔ باقی وقت بتائے گا کہ کیا وہ کوئی سرپرائز دینے کی پوزیشن میں ہیں کہ نہیں۔

  • ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ ٹورنامنٹ،پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

    ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ ٹورنامنٹ،پاکستان نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

    شارجہ:ٹرائنگولر ٹی 20 بلائنڈ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو8 وکٹوں سےشکست دے دی۔ ٹورنامنٹ کا تیسرا میچ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سکائی لینڈ یونیورسٹی کرکٹ گراؤنڈشارجہ میں کھیلا گیا۔ اس ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کا یہ دوسرا میچ تھا،

    اس سے قبل پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی باؤلرز نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کو آزادانہ سکور کرنے نہیں دیا اور 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 111 رنز تک محدود کر دیا۔ بنگلہ دیش کے کپتان عاشق الرحمان نے 44 گیندوں پر 48 رنز بنائے۔

    پاکستان کی طرف سے مطیع اللہ نے 2 جبکہ محسن خان اور ساجد نواز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔جواب میں پاکستان نے 112 رنز کا ہدف با آسانی 11.5 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ ریاست خان اور بدر منیر نے بالترتیب 36 اور 34 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

    فیصل محمود اور مطیع اللہ 25 اور 4 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔مطیع اللہ کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا.ٹورنامنٹ ڈبل راؤنڈ راونڈ لیگ کی بنیاد پر کھیلا جائے گا اور ہر ٹیم کو ایک دوسرے کے ساتھ دو بار کھیلناہے۔پاکستانی ٹیم آج بدھ کو روایتی حریف بھارت سے پنجہ آزما ہو گی۔

  • سہیل خان پرمیچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد:جرمانے کی وجہ بھی سامنے آگئی

    سہیل خان پرمیچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد:جرمانے کی وجہ بھی سامنے آگئی

    لاہور:پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر سندھ کےفاسٹ باؤلر سہیل خان پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔خیبرپختونخوا کی اننگز کے دوسرے اوور میں سہیل خان کی جانب سے ایل بی ڈبلیو کی اپیل پرامپائر نے ناٹ آؤٹ دیا ، جس پرغیرمناسب رویے کا اظہار کرنے پر فاسٹ باؤلر پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.8 کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

    یہ واقعہ پاکستان کپ میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے مابین ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور میں کھیلے گئے میچ کے دوران پیش آیا۔ سہیل خان نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور میچ ریفری ندیم ارشد کی طرف سے تجویز کردہ سزا کو قبول کیا ہے۔ فاسٹ باؤلر پر چارجز آن فیلڈ امپائرز قیصر وحید اور ناصر حسین نے عائد کیے تھے۔

    دوسری جانب مقررہ وقت سے ایک اوور کم کروانے پر ناردرن کی ٹیم پر بھی جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔ پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 2.22کی خلاف ورزی کرنے پر پلیئنگ الیون میں شامل ناردرن کےکھلاڑیوں کو 10ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ کپتان حیدر علی نےغلطی تسلیم کرتے ہوئے میچ ریفری محمد انیس کی تجویز کردہ سزاکو قبول کیا ہے۔ اس میچ میں ثاقب خان اور عمران جاوید آن فیلڈ امپائرز کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ ناردرن اور سدرن پنجاب کے مابین میچ ہاؤس آف ناردرن اسلام آباد میں کھیلا گیا تھا.

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سرینگر میں 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوانوں کو سرینگر کے علاقہ نوگام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ فوجیوں نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجہ مقامات کی ناکہ بندی کردی اور لوگوں کو گھروںسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی ۔

    آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی ۔ ریلوے حکام نے بانہال سے بارہمولہ تک ریل سروس کو معطل کردیا ہے ادھر ذرائع کے مطابق کپواڑہ میں بھی ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا گیا ہے

    آزاد جموںوکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہاہے کہ عالمی برداری کو بھارتی حکومت کی جارحیت اور اسکے جنگی جنون کے رویے کا نوٹس لینا چاہیے جو جنوب ایشیائی خطے کے امن واستحکام کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آج مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت اپنی فوجی طاقت کا استعمال کرکے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے پر تلا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ آزادجموں وکشمیر کی حکومت نے جو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے ،ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرائی جائے۔

  • حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    حکومت ، اتحادی ، اپوزیشن اور اقتدار کی رسہ کشی، تحریر: نوید شیخ

    ۔ ایک طرف کپتان روز ٹی وی پر آکر اپوزیشن کو للکار رہے ہیں۔ اور اپنے ورکرز کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں جبکہ لگتا یہ ہے کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر 172لوگ پورے ہوتے تو فورااسمبلی کا اجلاس بلا لیتے ۔ اور دس لاکھ لوگ ڈی چوک میں اکٹھے کرنے کا حکم صادر نہ فرماتے۔اب کل جو مولانا نے 23 مارچ کو پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے حالات کسی بھی رخ جا سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپوزیشن اور حکومت دونوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اپنے پلانز کو ملتوی کردیں ۔ مگر یہ ملتوی ہوتے دیکھائی نہیں دیتے ۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ 23مارچ کے بعد سے پورے ملک میں ایک دھما چوکڑی لگنے والے ہے ۔ لگی ہوئی تو ابھی بھی ہے ۔ کیونکہ کپتان کیا ان کے وزیروں کی زبانیں بھی بند نہیں ہورہی ہیں ۔ ان کے منہ سے مسلسل ایسی آگ نکل رہی ہے جس کے شعلوں کی لپیٹ میں پورا کا پورا سسٹم رول بیک ہوسکتا ہے ۔

    ۔ سب سے زیادہ تشویش ناک صورت حال ووٹنگ والے دن اور ووٹنگ کے دوران پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنے ارکان قومی اسمبلی اوراتحادیوں کو پارلیمنٹ ہاوس جانے سے ہر حال میں روکنا ہے جبکہ اپوزیشن کو تحریک انصاف کے باغی ارکان اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کو ہر حال میں پارلیمنٹ ہائوس لانا ہے۔ فی الحال حکومت نے تحریکِ عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کے لئےہر حربہ استعمال کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔ تحریک کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم عمران خان سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں اپوزیشن نے احتجاج کو گلی محلوں تک لے جانے کا پلان کررکھا ہے ۔ اسی طرح تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے بھی تصادم کے غیر معمولی حالات پیدا ہونے کے امکانات ہیں اور ووٹنگ کے بعد بھی غیر متوقع واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔

    ۔ حکومت کا تو دعوی ہے کہ وہ دس لاکھ لوگ لے ہی آئیں گے ۔ مگر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی بات کی جائے تو مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ن لیگ کے قافلےکی قیادت مریم نواز کریں اورلاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچیں۔ جبکہ شہباز شریف اسلام آباد میں لانگ مارچ کے قافلے کا استقبال کریں۔ پھر یہ بھی تجویز ہے کہ جنوبی پنجاب کےکارکنان کولاہور میں جمع ہونےکی کال دی جائے ۔ باقی سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان سے بندوں کو لانے میں بھی مولانا خود بڑے کاریگر ہیں ۔ وہ پہلے بھی تن تنہا بڑے کامیاب دھرنے اسلام آباد میں دے چکے ہیں یوں اگر حکومت دس لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرے گی تو پی ڈی ایم بھی کم تعداد میں بندوں کو اسلام آباد نہیں لائے گی ۔ یوں اگر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ان جلسوں کی کالز واپس نہیں لی جاتیں ۔ تواسلام آباد میں خدشہ ہے کہ وہ نہ ہوجائے جو کسی بھی جمہوریت پسند شخص کا سب سے بڑا ڈر ہوتا ہے ۔

    ۔ پھر آج عمران خان نے اورسیز کنویشن سے خطاب میں بھی ایک بار پھر اپنی طرف سے خوب چوکے چھکے لگائے ہیں ۔ حالانکہ اتحادی اور اسٹیبلشمنٹ دور کی بات ان کے اپنے بھی ان کے ساتھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ بہرحال آج انکا فرمانا تھا کہ آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان اب اکھٹے ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، اگر ان تینوں نے ملک بچانا ہے تو بہتر ہے عمران خان کے ساتھ ڈوب جائیں۔ وہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے قوم کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بھلادیں۔ ن لیگ نے تقریباً 20 سال یہ کہا کہ آصف علی زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین شخص ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا نام ’ڈیزل‘ بھی ن لیگ نے رکھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے ہیں، ان کی عدم اعتماد تو ناکام ہوگی ہی 2023 کے الیکشن سے بھی یہ لوگ گئے۔۔ دوسری جانب وزیروں کو جب اپنی بات بنتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے تو انھوں نے بھی اپنے ٹوکے چھریاں پھر باہر نکال لی ہیں ۔ ۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہے کہ دس لاکھ کے مجمع سے گزر کر عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔۔ تو شیخ رشید کا فرمانا تھا کہ امپائر پاکستان کے ساتھ ہیں اور جنہیں پاکستان کی فکر ہے وہ ان کو سمجھا رہے ہیں کہ اپنے معاملے افہام و تفہیم سے حل کریں۔ اپوزیشن کا اوپر والا خانہ خالی ہے، یہ ساری سامراجی سنڈیاں ڈی چوک میں فارغ ہو جائیں گی۔۔ جبکہ پرویز خٹک نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت الگ الگ نہیں، ان دونوں نے ایک ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ عمران خان بہت زیادہ پراعتماد ہیں، سیاسی جماعتوں کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، جس نے جانا ہے استعفیٰ دے دے، ورنہ اس طرح حلقے کے عوام سے دغا ہوگا۔

    ۔ پھر اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے خودکش بمبار بن کر ملک اور مذہب کے دشمنوں کے بیچ میں جاکر خود کو اڑانے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس سے پہلے وزیر اعظم نے آصف زرداری کو بندوق کے نشانے پر رکھنے کی بات کی تھی۔ اہم منصب پر ہوتے ہوئے ایسے بے مقصد بیانات دینا میری سمجھ سے باہر ہے ۔ پر ایک چیز ہے کہ اس وقت کپتان اور اسکے کھلاڑی شدید گھبرائے ہوئے ہیں ۔ ۔ میں نے گزشتہ دو تین مصروف دن اسلام آباد میں گزرے ہیں جس میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا ۔ یوں میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ کپتان یا ان کے وزیر جو مرضی کہیں مگر اسلام آباد میں خبریں کپتان اور ان کی ٹیم کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔ ۔ اس وقت تمام لوگ عمران خان اور انکی ٹیم سے بدلہ لینے کے لیے اکٹھے ہوچکے ہیں اور اس وقت اپوزیشن جماعتوں سمیت اکثر اتحادی بغیرکسی شرط کے حکومت کا مکو ٹھپانا چاہتے ہیں ۔ وجہ جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب ان چار سالوں میں اتنی زبان درازی ہوئی ہے کہ اب جس جس کو موقع مل رہا ہے وہ اپنا اسکور settleکرنا چاہتا ہے ۔ سب عمران خان اور ان کی ٹیم کو سبق سیکھانا چاہتے ہیں ۔ اب صرف سیاست نہیں ہو رہی ہے معاملہ ذاتیات تک پہنچ چکا ہے کیونکہ عمران خان نے مسلسل اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھا ہے ۔ گرفتاریوں اور پرچوں کے علاوہ بھی ان کے
    followersاپوزیشن والوں کے گھروں تک پہنچے ہیں ۔ یوں جو گند ان چار سالوں میں ڈالا گیا تھا اب اس کا حساب دینے کا وقت قریب دیکھائی دے رہا ہے ۔ کیونکہ کل میں نے مولانا سے ایک سوال کیا کہ اگر عمران خان آپ سے رابطہ کریں تو کوئی بات چیت ہوسکتی ہے معاملات حل ہوسکتے ہیں تو ان کا صاف جواب تھا کوئی چانس ہی نہیں ہے ۔ ۔ یوں جیسے ترین گروپ کو ٹارگٹ کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ اب جب ان کو موقع مل رہا ہے تو یہ بھی کاری ضرب لگانے کو تیار ہیں ۔ جبکہ صرف ترین گروپ ہی نہیں ق لیگ کے اکثریتی اراکین نے بھی عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دینے کی تجویز دے دی ہے ۔ پھر یہ جو سب اتحادی ہیں انھوں نے ایک اور چیز بھی مل کر طے کرلی ہے کہ اپوزیشن کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ اور اگر حکومت کی طرف گئے تو اکٹھے جائیں گے ۔ ۔ ویسے خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت وفد کی آصف زرداری سے ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے تمام نکات پر اتفاق کرلیا ہے ۔ یعنی ان کے بھی معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    ۔ پھر اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کیلئے وزیراعظم کی بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ آپ دیکھیں وہ شخص جو کسی سے تعزیت کرنی ہو تو تب بھی لوگوں کو وزیر اعظم ہاوس بلا کر کیا کرتا تھا ۔ اب پارلیمنٹ لاجز جاکر مدد مانگنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ یوں کپتان جی ڈی اے اور بی اے پی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے خود پارلیمنٹ لاجز گئے ۔ حالانکہ فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر اور ذوالفقار مرزا کے حوالے سے بتا دوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آصف زرداری کے کہنے پر حکومت کے خلاف ووٹ ڈال دیں ۔ مگر اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ کپتان کو مجبورا ان کے در کی خاک بھی چھانی پڑی ہے ۔ جبکہ سنا ہے کہ خالد مگسی نے جواب دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کپتان کی اس confrontationکی سیاست سے متفق نہیں ۔ دیکھا جائے تو تحریک انصاف کا سیاسی بیانیہ دم توڑ چکا ہے ۔۔ میری نظر میں جس طرح عمران خان نے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔ اور جیسے یہ کنویشن اور جلسے کر رہے ہیں اس سے واضح تاثر ہے کہ وہ اگلے الیکشن کی تیاریوں میں جت گئے ہیں ۔ عدم اعتماد کی تحریک کا ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ وہ انکے خلاف کامیاب ہی ہوگی ۔ یوں سرکاری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں کیونکہ میری چڑیل کے مطابق کپتان کے پاس اب صرف 140 سے 145ووٹ ہی بچے ہیں ۔ اس لیے لوگوں نے برملا کہنا شروع کر دیا ہے کہ ڈر کے کھڑی ہے پی ٹی آئی ۔۔۔

  • کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار

    کراچی :کراچی ٹیسٹ جیتنے کیلیے پاکستان کو 314 اور آسٹریلیا کو 8 وکٹیں درکار،اطلاعات کے مطابق کراچی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو جیت کے لیے وکٹوں کی ضرورت ، بابر اور شفیق کریز پر جم گئےپاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ جیتنے کے لیے آخری روز 314 رنز درکار ہیں جب کہ آسٹریلیا کو یہ میچ جیتنے کے لیے 8 وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ جاری ہے جہاں چوتھے دن کے کھیل کا اختتام ہوگیا اور دن کے اختتام پر پاکستان نے 2 وکٹ کے نقصان پر 192 رنز بنالیے ہیں۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم اور عبداللہ شفیق کے درمیان 171 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ اس دوران بابراعظم نے کریئر کی چھٹی سنچری اسکور کی جب کہ عبداللہ شفیق نے پہلی ففٹی اسکور کی۔ کپتان بابراعظم 102 رنز اور عبداللہ شفیق 71 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

    اس سے قبل چوتھے دن کے کھیل میں آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگ صرف 97 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی اور پاکستان کو جیت کے لیے 506 رنز کا ہدف دیا۔

    قومی ٹیم نے اپنی اننگ کا آغاز کیا تو اوپنر امام الحق صرف ایک بناکر پویلین لوٹ گئے جس کے پیچھے اظہر علی بھی 6 رنز بناکر کیمرون کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

    اوپنر عبداللہ شفیق کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم گراؤنڈ میں اترے تو دونوں کھلاڑیوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اوردونوں کھلاڑیوں نے اب تک 143 رنز کی شراکت قائم کرلی ہے۔پاکستان ٹیم نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز اسکور کرلیے ہیں جبکہ انہیں اب بھی جیت کے لیے 341 رنز درکار ہیں۔

    آسٹریلیا کی دوسری اننگ زیادہ لمبی نہ رہی اور انہوں نے صرف 97 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی تھی جبکہ آسٹریلیا کے صرف 2 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔مارنس لبوشنگ 44 اور ڈیوڈ وارنر 7 بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خواجہ 44 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

    پاکستان کی جانب سے اوپنر امام الحق اور عبداللہ شفیق نے اننگ کا آغاز کیا لیکن دونوں کھلاڑی ہی بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے اور عبداللہ شفیق 13 رنز جبکہ امام الحق 20 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔اظہر علی 20 رنز بناکر کیچ دے بیٹھے تو اگلی ہی گیند پر فواد عالم بھی ایل بی ڈبلیو ہوگئے جس کے بعد وکٹ کیپر محمد رضوان 6 بناکر چلتے بنے۔

    قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم 36 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ نعمان علی 20 اور شاہین شاہ آفریدی 19 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور مچل سوئپسن نے دو وکٹیں حاصل کی۔

    آسٹریلوی بولر پیٹ کمنز، نتھن لیون اور کیمرون گرین نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا جبکہ پاکستان کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگ 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر 556 رنز پر ڈکلیئر کردی تھی جبکہ ان کی جانب سے عثمان خواجہ 160 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے ایلکس کیری نے 93 اور اسٹیو اسمتھ نے 72 رنز کی بڑی اننگ کھیلی تھی جبکہ پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف اورساجد خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

    علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی، حسن علی، نعمان علی اور کپتان بابر اعظم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا تھا۔

  • انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک

    انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک

    نئی دہلی :انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی میچ کے دوران فائرنگ سے ہلاک ،اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی سندیپ ننگل کو میچ کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے کبڈی کھلاڑی پر فائرنگ کا واقعہ جالندھر کے ملیاں گاوں میں چل رہے ایک کبڈی کپ کے دوران پیش آیا۔حملہ آوروں کی بندوق سے نکلی بیس گولیاں سندیپ کے سر اور سینے میں لگیں۔

    کبڈی میچ کے دوران فائرنگ شروع ہوئی تو تماشیوں نے اپنی جان بچانے کےلیے دوڑ لگادی جب کہ سندیپ ننگل شدید زخمی حالت میں وہیں گرگئے۔لوگوں نے سندیپ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سندیپ نے ایک دہائی تک کبڈی کی دنیا پر راج کیا ہے، وہ پنجاب کے علاوہ وہ کنیڈا، امریکا اور برطانیہ میں بھی کھیل چکے تھے، مداح انہیں گلیڈیئیٹر کے نام جانتے تھے۔

    ادھر چند دن پہلے پاکستان میں فیصل آباد میں پاکستان کبڈی ٹیم کے کھلاڑی ملک بنیامین کی دعوت ولیمہ میں شرکت کرنے والا مہمان فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

    یہ واقعہ فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک نمبر 102 رب بڈھے چک میں پیش آیا جہاں ملک بنیامین کے ولیمے کی تقریب ہورہی تھی جس میں جشن مناتے ہوئے شدید فائرنگ کی گئی جس کی زد میں ایک نوجوان علی شدید زخمی ہوگیا۔

    علی کے ساتھی اسے زخمی حالت میں لاہور لے گئے لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ ایس ایچ او کھڑیانوالہ محسن منیر نے کہا ہے کہ کھڑیانوالہ پولیس لاش لینے لاہور جا رہی ہے، لاش کا پوسٹ مارٹم کرو ا کر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے بعد ہمیں واقعہ کا علم ہوا اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ علی اپنی ہی گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔

  • سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں

    سرینگر:سوپور میں سی پی آر ایف کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی:بھارتی فوج کی دوڑیں ،اطلاعات کےمطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور قصبے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک کیمپ میں زبردست آگ بڑھک اٹھی ۔

    قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سوپورقصبے کی اقبال مارکیٹ کے قریب واقع سی آر پی ایف کیمپ میں آگ لگنے سے متعلقہ عمارت کو نقصان پہنچاہے۔انہوں نے کہا کہ آگ پر فوری طور پر قابو پالیا گیا ہے ۔ فوری طورپرکسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جارہی ہے۔

    غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع پلوامہ میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کردیا جس سے جمعرات سے شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے چارسو میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔علاقے میں یہ کارروائی بھارتی فوج، سینٹرل ریزروپولیس فورس اور بھارتی پولیس نے مشترکہ طورپر شروع کی ہے ۔اس سے قبل بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں دو اور گاندربل اور کپواڑہ میں ایک ایک نوجوان کو شہید کردیاتھا۔