Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    لاہور:پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز نے ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 17 ویں میچ کیلئے ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

     

    ملتان سلطانز اننگز

    لاہور قلندرز کی جانب سے 183 رنز کا ہدف ملتان سلطانز کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 19 اعشاریہ 3 اوورز میں 130 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    شان مسعود 8، کپتان محمد رضوان 20، صہیب مقصود 29، رائیلی روسو صفر، ٹم ڈیوڈ 24، خوشدل شاہ 22، انور علی 5، عباس آفریدی 1، بلیسنگ موزاربانی صفر پر اور عمران طاہر 3 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ شاہنواز دھانی 6 سکور پر ناٹ آؤٹ رہے، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور راشد خان نے 2،2 جبکہ زمان خان نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا۔

     

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے انور علی نے پہلا اوور کرایا۔

    فخر زمان 60، عبداللہ شفیق 4، کامران غلام 42 اور محمد حفیظ 43 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، ملتان سلطانز کی جانب سے انور علی، عباس آفریدی ،شاہنواز دھانی اور عمران طاہر نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

     

     

    لاہور قلندرز نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 182 رنز بنائے، فل سالٹ 26 اور راشدخان 1 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

    فخر زمان کو 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 37 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل تھے۔

  • پی ایس ایل:لاہور قلندرز کا ملتان سلطانز کو جیتنے کے لیے 183 رنزکا ہدف

    پی ایس ایل:لاہور قلندرز کا ملتان سلطانز کو جیتنے کے لیے 183 رنزکا ہدف

    لاہور:پی ایس ایل7: لاہور قلندرز کی ملتان سلطانز کیخلاف بیٹنگ جاری:جلد پتہ چل جائیگا کون ہے بھاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے میچ میں ملتان سلطانز کے خلاف لاہور قلندرز نے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹ کے نقصان پر 182 رنز بنائے ہیں‌ اور 183 رنز کا ہدف دیا ہے

     

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 17 ویں میچ کیلئے ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

     

     

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے انور علی نے پہلا اوور کرایا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل ہیں۔

  • تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    سیاست صرف اتفاقات کا نہیں، حکمت کا بھی کھیل ہے۔ مگر اس وقت جو سیاسی صورتحال چل رہی ہے اس میں کپتان حکمت سے عاری دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے ہی کھلاڑیوں جانب بھی رخ کرلیا ہے ۔ اب اڑتی اڑتی خبریں آرہی ہیں کہ کپتان کے اپنے کھلاڑی کپتان سے ڈرے ہوئے ہیں ۔ یہ ڈرے ہوئے اس لیے ہیں کہ کپتان نے اپنے ماتحت ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے اور مقصد صرف ایک ہے کہ پی ٹی آئی کے کھلاڑی کس کس سے ملاقاتیں کررہے ہیں ۔ اب غلطی سے بھی کوئی کھلاڑی کسی پیپلزپارٹی یا ن لیگ والے سے رابطہ کیا ہو تو اس کی کمبختی لازمی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ جو کھلاڑی زرا زیادہ ۔۔۔ پر پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ان کو شاید کچھ دنوں کے لیے کہیں پھنسا بھی دیا جائے یا اندر کر دیا جائے ۔ جس سے ان کا حکومت کو چھوڑنا مشکل ہوجائے ۔ اور اس سے یہ تاثر بھی زائل ہوجائے گا کہ اس دور میں صرف اپوزیشن ہی نہیں اپنوں کے خلاف بھی کاروائی ہوتی ہے ۔

    ۔ خاص توجہ کپتان نے جہانگیر خان ترین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر رکھی ہوئی ہے ۔ مگر اپوزیشن سمیت ترین صاحب بھی منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہ اُس اُس زریعے سے آپس میں پیغام رسانی کر رہے ہیں جس کا علم کپتان کے فرشتوں کو بھی نہیں ہوسکتا ۔ ۔ اصل بات یہ ہے کہ آج سیاست میں جو بھی ہو رہا ہے، یہ نیا نہیں ہے ۔ یہاں لوگ ۔۔ پیٹریاٹ ۔۔ کے نام پر وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں اور آج اپوزیشن کی صفوں میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ سب کے مفاد ان کے چہروں پر لکھے ہوئے ہیں۔ ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان جو کہا کرتے تھے کہ وہ کبھی ”بلیک میل“ نہیں ہوں گے ۔ اب ہوتے ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ اتحادیوں کی ڈیمانڈز تو سامنے آنا بھی شروع ہوگئی ہیں ۔ یاد رکھیں بھاؤ دیکھانا کچھ اور ہوتا ہے۔۔۔
    اور بھاؤ بتانا کچھ اور ہوتا ہے ۔ اتحادی اس وقت بھاؤ بتا رہے ہیں کہ ہم کو ساتھ رکھنا ہے تو اس کی قیمت یہ ہوگی ؟

    ۔ پھر یہ بھی طے ہے کہ اتحادی جماعتیں عمران خان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر کسی صورت انتخابی عمل میں نہیں جائیں گی ۔ وقتی طور پر تو حکومت اتحادیوں کی ہر خواہشوں کو پورا کرسکتی ہے ۔ پر پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور اسکے بعد جنرل الیکشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کے ساتھ نتھی رہنا گھاٹے کا سودا ہے ۔ دوسرا ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان کو کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے کہ کرنا کیا ہے ۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل دیکھائی دیتی ہے ۔ جس کی جو مرضی کر لے ۔ ۔ عمران خان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ان کا نیوٹرل ہونا عمران خان کی مخالفت ہی ہے۔ اس لیے اپوزیشن کو اندازہ ہے کہ انھیں کوئی خاص مدد نہیں بس ان کا نیوٹرل ہونا ہی چاہیے جو مل رہا ہے۔ اس لیے کھیل تیزی سے چل رہا ہے۔۔ ابھی تحریک انصاف کے حلیف کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ ہیں جس دن انہیں آزاد کر دیا گیا اور وہ اپنے فیصلے مرضی کرنے سے کرنے لگے سارا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ ۔ ویسے یہ منظر ماضی میں ہم نے دیکھ رکھے ہیں کہ راتوں رات کس طرح لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ الیکشن قریب ہے اس لیے اب نئی صف بندیاں اور نئے اتحاد بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ۔ پھر اس وقت جس تواتر سے ایک جانب زرداری اور شہباز تو دوسری جانب مریم اور بلاول تحریک عدم اعتماد کے حق میں باتیں کررہے ہیں اور پھر ان کے دیگر پارٹی لیڈران بتا رہے ہیں کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی یہ تحریک عدم اعتماد آئے گی ۔ اس سے تو لگنا شروع ہوگیا ہے ۔ کہ مارچ تو بہت دور کہیں کچھ نہ کچھ اس ہی ماہ اور آئندہ چند ہفتوں میں ہہ نہ ہوجائے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ لوگ آج بھی بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔۔ بے نظیر کے گن گانے والے بھی ملک میں بہت زیادہ ہیں ۔ ۔ پھر نواز شریف سمیت شریف خاندان کو جیسے عمران خان اور ان کی ٹیم نے قوم کا سب سے بڑا لٹیرا ثابت کرنے میں سارا وقت گذار دیا وہ اب بھی سیاست کے ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر موجود ہے۔۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ بچاؤ کے لیے کپتان زور نہیں لگا رہے ہیں ۔ زور وہ بھی پورا لگا رہے ہیں ۔ جو ان سے بن پا رہا ہے کر رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں اب انھوں نے ریاست مدینہ سے ہٹ کر امریکہ کو ٹارگٹ کرلیا ہے اور چین کی خوب تعریفیں کررہے ہیں ۔ وجہ ایک ہے جب ان کو نکالا جائے تو یہ کہہ سکیں کہ ہم کو امریکہ نے نکلوایا ہے ۔ ہم کو چین کو سپورٹ کرنے کی پاداش میں نکلوایا گیا ہے ۔ حالانکہ دنیا کیا پورا پاکستان جانتا ہے کہ چین کو پاکستان سے دور کرنے کے لیے اس حکومت نے باقاعدہ کوششیں کی ہیں ۔ باقاعدہ محنت کی ہے۔ وہ تو جوبائیڈن نے کپتان کو فون نہیں کیا ورنہ انھوں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ انکا جینا مرنا امریکہ کے ساتھ ہی ہوگا ۔ ۔ پھر عمران خان جہاں اپنے ٹاپ وزیروں کا اعلان کر رہے ہیں تو ساتھ ہی تنخواہوں میں اضافے کی نوید بھی سنا رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں پندرہ فیصد تنخواہ بڑھائی ہے، جبکہ مہنگائی ہزار فیصد بڑھی ہے ۔صرف جب بجلی اور گیس کا بل لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنہوں نے کپتان کو ووٹ ڈالے تھے وہ بھی اپنے گناہوں کو کفارہ کرنے لگتے ہیں ۔ باقی تو دور کی بات ہے ۔۔۔

    ۔ اس وقت عمران خان کی بہت بری حکومتی کارکردگی اپنی جگہ ۔ مگر ان کی جماعت کی خستہ حالی میں سب سے بڑا حصہ پارٹی کو نظرانداز کرنا بنا ہے ۔ خان صاحب نے اقتدار میں اپنی پارٹی کی تنظیم نو اور نوجوان کارکنوں سے رابطہ کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ ۔ مگر فیصل واڈا جیسوں کی خاطر خان صاحب نے اپنی ساکھ دائو پر لگائی، نجانے اس کا جواب کون دے گا؟۔ اسی طرح زلفی بخاری جنہیں وزیراعظم عمران خان کا سب سے قریبی سمجھا جاتا تھا انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار صرف شہزاد اکبر نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کریں جو وزیراعظم کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے اور وزیراعظم کو یہ بتاتے رہے کہ شہزاد اکبر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔۔ مزے کی بات ہے کہ زلفی بخاری خود بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی تھے اور لوٹی گئی دولت کو واپس لانے کے یونٹ کے سربراہ تھے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ ساڑھے تین برس میں شہزاد اکبر اور ان کے ساتھیوں نے ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کی ہیں اور چار چار گھنٹوں کی presentations
    دی ہیں اور اس کے نتیجہ میں برآمدگی صفر ہے۔ انہیں محض فارغ کرنا نہیں بنتا تھا بلکہ ان پر جو ملکی سرمایہ ضائع ہوا ہے اس کی برآمدگی کرنا چاہیے تھی تاکہ ان تمام افراد تک یہ پیغام جاتا کہ آپ کو بھاری تنخواہیں اور مراعات کام کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں نہ کہ عوام اور حکومت کو بے وقوف بنانے کے لیے نوازا جا رہا ہے۔۔ کیونکہ رزلٹ یہ ہے کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کو باہر کی عدالتوں سے کلین چیٹ مل رہی ہے ۔ ۔ بدقسمتی سے عمران خان کا مشاورتی نظام بہت کمزور ہے یا انہیں غلط اطلاعات دی جاتی ہیں۔ جو لیڈر درست اطلاعات حاصل نہ کر سکے ، اچھے اور مخلص مشیر اسے دستیاب نہ ہوں، اس کی سیاسی تباہی میں کیا کسر رہ جائے گی؟۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صفر کو جمع کریں ضرب دیں یا تقسیم کریں نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ معذرت کے ساتھ ٹاپ سے لے کر نیچے تک صفر یہ صفر ہیں ۔ ۔ عمران خان کی ٹیم ابھی تک اپوزیشن کو گالیاں نکالنے کی پالیسی پر ہی عمل کر رہی ہے۔ حا لانکہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچی جا رہی ہے۔ لیکن وہ مزے سے پرانی گالیوں والی فلمیں چلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ کہ اپوزیشن کو گالیاں نکالنے سے مزید کام نہیں چلنا۔

    ۔ کون ان کو سمجھائے کہ گالیاں تو آپ تین سال سے نکال رہے ہیں ۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے آپ کو اپنی سیاسی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ۔ اسی لیے اب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کو یا تو سیاسی صورتحال کا ادراک نہیں ہے یا انھوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ جو ہونا ہے ہو جائے۔ میں اس کو روک نہیں سکتا۔ اس لیے کوئی بھی کوشش کرنا بیکار ہوگا۔ پھر یہ رائے کہ مولانا فضل الرحمٰن کھیل میں نہیں ہیں۔ درست نہیں ہے۔ وہ کھیل کا centre focus
    ہیں، لیکن کھیل کے باقی مہرے سیٹ کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا تو پہلے دن سے اس حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر آج عمران خان کو گھر بھیجنے کا کوئی امکان پیدا ہو رہا ہے تو مولانا اس سے دور کیسے رہ سکتے ہیں۔۔ مولانا کی جب انٹری ہوگی تو وہ کھیل کو مزید تیز کر دیں گے۔ اس لیے وہ انتظار میں ہیں کہ سب مہرے نئی جگہ پر سیٹ ہو جائیں تو وہ اپنی انٹری ڈال دیں۔۔ آپ دیکھیں ایک ہفتہ قبل وہ عمران خان جو ملک کا ایک مضبوط حکمران تھا آج صرف تین ملاقاتوں کے نتیجے میں ہی ایک کمزور حکمران بن گیا ہے۔ اور اپوزیشن نے کل تک اگلی باری کی باتیں کرنے والوں کو دن گننے پر لگا دیا گیا ہے۔۔ اب تو ہر کوئی سوال ہی یہ کر رہا ہے کہ عمران خان کب جا رہے ہیں۔ ۔ کب عدم اعتماد آرہی ہے۔ ۔ کتنے دن باقی ہیں۔ ۔ لوگ تو اب شرطیں لگا رہے ہیں کہ مارچ کی پریڈ میں کون بطور وزیر اعظم سلامی لے گا۔
    ۔ یوں اس تیزی نے تبدیلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ۔ اس صورتحال میں عمران خان کی جماعت کے اندر بغاوت ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر گر وہ بندی پہلے ہی ہے۔ لیکن اگر یہ ماحول چند دن اور جاری رہتا ہے تو عمران خان کے لیے تحریک انصاف کو قابو رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ان کی اپنی جماعت میں ناراض لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس لیے عمران خان نے اگر بروقت اس صورتحال کو ٹھیک نہیں کیا تو تحریک انصا ف کے بھی ٹکڑے ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

    ۔ عمران خان کو ایک بات سمجھنا ہوگی کہ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ۔ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے، گیندیں کم اور اسکور زیادہ ہے۔ ایسے وقت میں ٹپ ٹپ کر کے گیندیں گذارنے سے میچ نہیں جیتا جاسکتا۔ کپتان کو چاہیے کہ کم ازکم تماشائیوں کو یہ کہنے کا موقع تو دیں کہ کیا خوب اننگز کھیلی ہے۔

  • رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، 8 طریقے

    رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، 8 طریقے

    یہ احساس کہ آپ کو چیزوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا ہے۔ آپ نے اس خواہش کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کی ہو گی، لیکن جب آپ لڑے بغیر ایک دن بھی نہیں گزر سکتے، تو آپ شاید اس عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگلی رکاوٹ آپ کو اسے زیادہ دیر کے لیے چھوڑ سکتی ہے: رشتے کو ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے۔
    چونکہ یہ ہائی اسکول کی اسائنمنٹ نہیں ہے، اس لیے اسے اس وقت تک موقوف رکھنا جب تک کہ یہ آپ کے چہرے پر نہ پھوٹ جائے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، اور یہ کہ اپنے "ساتھی” کو بھوت بنانا واقعی بہترین حربہ نہیں ہے۔
    چونکہ آپ دنیا کے بدترین شخص کا لیبل لگائے بغیر "آسان” راستہ اختیار نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے آپ کو کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننے کے لیے پڑھیں کہ آپ کیا کہہ سکتے ہیں، اور اس بینڈ ایڈ کو ختم کرتے وقت آپ کو کن چیزوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
    یہاں یہ ہے کہ کیا کہنا نہیں ہے: "ہمیں بات کرنے کی ضرورت ہے” یا "یہ آپ نہیں، یہ میں ہوں”۔ چونکہ ہم اب 1980 میں نہیں رہتے، اس لیے آپ کو کلچوں سے بچنا اچھا ہوگا۔ رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے بڑی حد تک آپ کی صورتحال پر منحصر ہے اور ہر ایک کے لیے مختلف نظر آ سکتا ہے۔
    دوسروں کی نسبت کچھ منظرناموں میں چیزوں کو ختم کرنا آسان ہے۔ اگر آپ کو دھوکہ دیا گیا ہے یا آپ کو کسی تکلیف دہ چیز سے گزرنا پڑا ہے، تو آپ شاید "ہم نے کام کر دیا” کہنے اور وہاں سے چلے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسری صورتوں میں، تاہم، کسی کے ساتھ ٹوٹنے کے لیے کیا کہنا ہے اس کے جواب میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
    جب آپ کسی رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو کیا کہنا ہے اس کے بارے میں سوچتے وقت یاد رکھنے کی سب سے اہم چیز ایماندار، مہربان اور صاف ہے۔ بے عزتی کیے بغیر اپنے جذبات کے بارے میں سچ بولیں۔ مبہم ہونے کے بغیر، جو آپ چاہتے ہیں اور جو حدود قائم کرنا چاہتے ہیں اسے پیش کریں۔
    جیسا کہ ہم نے کہا، اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے اس پر منحصر ہے کہ آپ کیسا لگتا ہے۔ آئیے چند مثالوں کی فہرست بنائیں جو آپ ہمیشہ استعمال کر سکتے ہیں:
    "مجھے نہیں لگتا کہ یہ رشتہ اب ہم دونوں کے لیے صحت مند ہے۔ میں ایک ساتھ اپنے مستقبل پر یقین نہیں رکھتا”
    "ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ مذاق نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا رشتہ بہت تناؤ میں بدل گیا ہے۔ ہم بہت بحث کرتے ہیں، اور میں اس سے نمٹ نہیں سکتا”
    "میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا کہ آپ نے مجھے کتنی بار تکلیف دی ہے۔ مجھے تم پر اب اعتبار نہیں ہے”
    "ہم دو بہت مختلف لوگ ہیں، اور میں اپنے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر کے تھک گیا ہوں کہ ہم زبردستی اسے کام کر سکتے ہیں۔”
    "ہم کبھی بھی چیزوں کو آنکھ سے دیکھنے یا اپنے جذبات کو خوش اسلوبی سے بات کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔ میں اتنی دشمنی کے ساتھ تعلقات میں نہیں رہنا چاہتا”
    "میں اب خوشی محسوس نہیں کرتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے کے قابل ہونے کے لیے مجھے اس رشتے سے باہر نکلنا پڑے گا”
    "مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے موزوں ہیں۔ میرے خیال میں یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے الگ الگ راستے چلیں”
    "ہمارے مختلف اہداف اور خواہشات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس رشتے کی ایک وقت کی حد ہے۔”
    "مجھے اب تم سے پیار نہیں لگتا”
    یقیناً، رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا واقعی اتنا آسان نہیں جتنا کہ ان میں سے کوئی ایک جملہ کہنا اور اس کے ساتھ کیا جانا۔ ایک بار جب آپ اوپر دی گئی خطوط کے ساتھ کسی وجہ کا ذکر کرتے ہیں تو، سب سے اہم جملہ مندرجہ ذیل ہے:

    "لہذا، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں الگ ہو جانا چاہئے اور اپنے الگ الگ راستے جانا چاہئے. میں جانتا ہوں کہ ہم اب بھی ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔ یہ مشکل ہو گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لیے یہی بہتر ہے۔ میں اب اس رشتے میں نہیں رہنا چاہتا۔”

  • کسی سے محبت کرنا، جو آپ سےمحبت نہیں کرتا

    کسی سے محبت کرنا، جو آپ سےمحبت نہیں کرتا

    محبت میں سب سے بڑا المیہ تب آتا ہے جب آپ کسی ایسے شخص سے پیار کرتے ہیں جو آپ سے پیار نہیں کرتا۔ آپ کی تمام کوششیں، احساسات، جذبات اور خیالات بے سود ہیں کیونکہ اگرچہ آپ اپنا دن کھڑکی پر گزار سکتے ہیں، باہر دیکھتے ہوئے اور ان کی مسکراہٹ کی تصویر کشی کرتے ہیں – وہ شاید آپ کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔
    اس خوفناک حقیقت کو جاننا اور بے بس محسوس کرنا زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میں مسلسل سوچتا تھا، ‘میں مختلف طریقے سے کیا کر سکتا ہوں؟’ یہ سمجھنے کے لیے کہ کیا چیز اسے مجھ سے پیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کا کوئی حقیقی حل نہیں تھا اور یہ کہ یہ یک طرفہ محبت تھی جہاں سے ہماری کہانی شروع اور ختم ہونے والی تھی۔
    میں اب بھی سوچتا ہوں کہ مجھے اس سے پیار کیوں ہوا؟ شاید اس لیے کہ اس نے خواتین کی اکثریت کی پسندیدہ ہونے کے باوجود مجھ پر نظریں جمائے رکھی۔ نہیں، میں ان کے مداحوں میں سے نہیں تھا۔ میں اسے اس وقت تک نہیں جانتا تھا جب تک کہ ایک دن اس نے مجھے ڈبل ٹیکسٹ کرنا شروع کر دیا اور نیلے رنگ کے پیغامات کے ساتھ مجھ پر بمباری شروع کر دی۔ پھر ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ ہماری غیر متوقع، ابھی تک نہ ختم ہونے والی گفتگو۔ لیکن جب ہم ملے تو ایک ہیلو بھی نہیں، بس اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ مسکراہٹ ہزار الفاظ سے زیادہ خوبصورت تھی۔
    مہینوں کی ان نہ ختم ہونے والی گفتگو کے بعد بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب اس نے ملنے کو کہا۔ وہ سرخ ٹی شرٹ میں کافی نمایاں تھا، اور میں اس سے نظریں نہیں ہٹا سکتا تھا۔ وہ بہت دلکش تھا۔ گرم اور ناگوار موسم کے باوجود ہر چیز خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ لمبی سیر، چھپی ہوئی نظریں، بے لفظ لمحات، پھر بھی بہت سی باتیں۔ یہ ایک بہترین پہلی ملاقات تھی۔
    وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہوا۔ ہم نے گھومنا شروع کر دیا اور زیادہ کثرت سے۔ ایک اچھا دن، ہم صرف ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ اچانک، ایک لفظ کے بغیر اس نے مجھے اندر کھینچ لیا اور جوش سے چوما۔ ان چند لمحوں کے لیے ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ رک گیا ہے۔ اس احساس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خاص تھا کیونکہ ہم نے تکنیکی طور پر جوڑے کی تشکیل نہیں کی تھی، اور پھر بھی یہ خوبصورت تھا۔ اس کے بعد بھی گھنٹوں، ہم خاموشی سے بیٹھے اور ایک دوسرے کی موجودگی سے لطف اندوز ہوئے۔ نہ الفاظ، نہ اظہار۔

    ہم نے کبھی ایک دوسرے سے ‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’ نہیں کہا۔ ہم بہترین ریستوراں یا بہترین کیفے میں پسند کی تاریخوں پر نہیں جا رہے تھے۔ ہم نے خود کو ‘اہداف دلانے والے’ نہیں سمجھا جیسا کہ ان دنوں زیادہ تر لوگ انسٹاگرام پر خوشامد کرتے ہیں۔ ہم صرف خود ہی تھے اور میں نے سوچا کہ یہ کافی ہے۔ لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ایک دن میری ایسی صورتحال میں بدل جائے گا کہ میں کسی ایسے شخص سے پیار کروں جو آپ سے پیار نہیں کرتا، لیکن ایسا ہوا اور اوہ، یہ آسان نہیں تھا۔
    وہ میرا سب کچھ تھا۔
    کسی بھی شخص کا مجھ پر اتنا بڑا اثر نہیں ہوا۔ وہ ہر درد کا علاج کرنے والا، ہر نقصان کو ٹھیک کرنے والا تھا۔ اس کا لمس بہترین لمس تھا۔ میں محبت میں تھا. میں نے کبھی محبت پر یقین نہیں کیا تھا۔ ملواکی میں اس کا آخری دن تھا اور ہم آخری بار مل رہے تھے۔ وہ کولوراڈو جا رہا تھا۔
    یہ پہلا موقع تھا جب میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ بچپن سے محروم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی کی موجودگی میں رویا تھا۔ میں ایک سٹوک تھا. لیکن وہ ایک استثناء تھا، شاید. اس دن مجھے اس سے اپنی محبت کا احساس ہوا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ اور مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ جب وہ آپ سے پیار نہیں کرتا تو اسے کیسا محسوس ہوتا ہے۔
    میں کبھی بھی پیار نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن جو شخص مجھے بھی پیار کر سکتا ہے وہ خاص ہونا ضروری ہے. میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ چلا جائے۔ لیکن میں اسے نہ روک سکا۔ آپ واقعی کیا کر سکتے ہیں جب کوئی آپ سے اس طرح پیار نہیں کرتا جس طرح آپ نے امید کی تھی کہ وہ کریں گے؟ اگر وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتا تو وہ ٹھہر جاتا۔ لیکن یہ واضح تھا۔ میں کسی ایسے شخص سے پیار کرنے کے معاملے میں تھا جو آپ سے پیار نہیں کرتا اور مجھے یہ بہت دیر سے احساس ہوا – کہ میں شاید ایک اسٹینڈ بائی پریمی تھا۔
    وہ بالکل برا محسوس کیے بغیر چلا گیا۔ ہم اتنی جلدی میلوں کے فاصلے پر تھے۔ یہاں تک کہ آکسفورڈ ڈکشنری بھی ان کی عدم موجودگی کے درد کو الفاظ میں بیان کرنے میں ناکام رہے گی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس نے اسے بالکل محسوس کیا ہو۔ اس نے مجھے اپنے الحاد سے محروم کر دیا۔ ہر بار جب میں گرجہ گھر گیا، خواہش ایک ہی تھی – اسے۔ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ میں الحاد کو کھو کر کسی سے اس حد تک محبت کر سکتا ہوں۔
    لیکن یہ جاننا زیادہ تکلیف دہ تھا کہ وہ مجھ سے اس طرح پیار نہیں کرتا تھا جس طرح میں کرتا تھا، اس کے پاس اب ایک نیا چاہنے والا ہے، کم از کم اس کے فیس بک اپ ڈیٹس سے ایسا لگتا ہے۔ کاش میں بھی اس کی طرح چست ہوتا۔ نہیں، ہم نے کبھی بھی ڈیٹ نہیں کیا۔ میں اسے اپنا نہیں کہہ سکتا۔ وہ کبھی میرا بوائے فرینڈ نہیں تھا۔’
    کسی سے پیار کرنا ٹھیک ہے جو آپ سے پیار نہیں کرتا ہے۔
    لوگوں نے اسے صرف اس لیے غلطی قرار دیا کہ اس کے ساتھ کام نہیں ہوا۔ میرے تمام دوست مجھے کہتے ہیں کہ مجھے پہلے کبھی اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ مجھ سے کہتے تھے، ‘کوئی تم سے محبت کیسے کر سکتا ہے لیکن تمہیں چھوڑ دیتا ہے؟’ اور میں جانتا ہوں کہ اس دلیل میں خوبی تھی۔
    لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے لیے گرنا کوئی غلطی تھی۔ اس نے سب کچھ بہت جلد جانے دیا اور میں نے ہر چیز کو بہت زیادہ دیر تک تھام لیا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کام نہیں ہوا؛ یہ یکطرفہ محبت ہے، اور آپ کے ‘ورک آؤٹ ریلیشن شپ’ کی تعریف کبھی بھی میری طرح نہیں ہوگی۔
    اس کے جانے کے بعد کچھ مہینوں تک، مجھے یقین تھا کہ میں اس سے آگے بڑھ گیا ہوں۔ جب وہ آپ سے پیار نہیں کرتا ہے، تو یہ آپ کو ٹرک کی طرح مار سکتا ہے لیکن آخر کار، آپ اپنے ٹکڑے خود اٹھا لیتے ہیں۔
    لیکن میں اُس سے کیسے آگے بڑھ سکتا تھا جب کہ اُس میں میرے حصے باقی تھے۔ اگر آپ نے کبھی کسی سے سچی محبت کی ہے تو آپ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر آپ آگے بڑھے ہیں، تو یہ پہلی جگہ محبت نہیں تھی۔ محبت اور سحر میں فرق معلوم ہونا چاہیے اور میں عشق میں دیوانہ تھا۔
    اس دن سے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ کبھی میرا بوائے فرینڈ نہیں تھا، اس لیے میں اسے اپنا سابق نہیں کہہ سکتا۔ کچھ رشتوں کا کوئی نام نہیں ہوتا ہے اور وہ کسی بھی لیبل پر قائم نہیں رہتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے جو انہیں سب سے بہتر بناتی ہے۔ جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اس سے پیار نہ کرنا تکلیف نہیں دیتا۔ جب اسے چوٹ لگتی ہے تو اسے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔
    میں فخر سے کہہ سکتا ہوں، میں کسی ایسے شخص سے محبت کرتا ہوں جو مجھ سے محبت نہیں کرتا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ یہی سچی محبت ہے۔ کسی سے پیار کرنا، لیکن اس شخص سے پیار نہیں کرنا۔ یہ گٹ رنچنگ ہے لیکن یہ زندگی ہے۔

  • پی ایس ایل7: پشاور زلمی کو 42 رنز سے شکست، ملتان سلطانز کی مسلسل چھٹی جیت

    پی ایس ایل7: پشاور زلمی کو 42 رنز سے شکست، ملتان سلطانز کی مسلسل چھٹی جیت

    https://twitter.com/thePSLt20/status/1491811050194309125?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491811050194309125%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FCricket%2F640696لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو42 رنز سے شکست دیکر ایونٹ میں مسلسل چھٹی فتح اپنے نام کرلی ہے۔

    پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کے قائد محمد رضوان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    پشاور زلمی اننگز

    183 رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل اور حیدر علی نے اننگز کا آغاز کیا مگر دونوں بیٹر ہی جلد پویلین لوٹ گئے۔

    کامران اکمل 4، حیدر علی1، لیام لیونگسٹون24، شعیب ملک 44، حسین طلعت 4، ردرفورڈ 21، وہاب ریاض 1، محمد عمر صفر اور بین کٹنگ 23 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    فاتح ٹیم ملتان سلطانز کی جانب سے بلیسنگ موزاربانی اور خوشدل شاہ نے3،3 ، شاہنواز دھانی نے 2، عباس آفریدی اور عمران طاہر نے 1،1 وکٹ اپنے نام کی۔
    ملتان سلطانز اننگز

    پشاور زلمی کے خلاف ملتان سلطانز کی جانب سے کپتان محمد رضوان اور شان مسعود نے اننگز کا آغاز کیا۔

     

    ملتان سلطانز کے اوپنرز نے شروع ہی سے ذمہ دارانہ باری کھیلی اور وکٹ کے چاروں طرف حریف باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔ تاہم محمد رضوان کی اننگزکا خاتمہ 13 اوورز میں ہوا جب کپتان 34 گیندوں پر 34 سکور بنا کر وہاب ریاض کا شکار ہو گئے۔

    شان مسعود کی اننگز 68 سکور پر ختم ہوئی، انہوں نے اپنی باری میں 8 چوکے اور ایک چھکا لگایا اور سلمان ارشاد کی گیند پر وہاب ریاض کو کیچ دے بیٹھے۔ ریلی روسو 15 سکور پر پویلین لوٹ گئے۔ ٹم ڈیوڈ نے 18 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ باری کھیلی۔ وہ بھی کپتان وہاب ریاض کا شکار بن گئے۔

    خوشدل شاہ 11 اور انور علی 1 سکور بنا کر آؤٹ ہوئے، ملتان سلطانز نے مقررہ اوور میں 182 رنز بنائے۔ وہاب ریاض ، ثاقب محمود اور سلمان ارشاد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، حیدر علی، شعیب ملک، لیام لیونگسٹون، شیرفین ردرفورڈ، حسین طلعت، بین کٹنگ، محمد عمر، ثاقب محمود اور سلمان ارشاد شامل تھے۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ کے لئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

  • کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ

    کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ

    لاہور :کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچز کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی میں دوپہر ایک بجے کے بعد کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میچز کے دوران ایوننگ کلاسز آن لائن ہوں گی، ایک بجے سے پہلے کلاسز کیمپس میں ہوں گی، طلبہ کو آمد و رفت میں مشکل کے پیش نظر کلاسز آن لائن لی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ آج سے لاہور میں شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے اہم شاہراؤں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

    ادھر پی ایس ایل 7 کا 27 جنوری سے شروع ہونیوالا پہلا مرحلہ 7 فروری تک نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مکمل ہوا،اس دوران مجموعی طور پر کھیلے گئے 15 سنسنی خیز میچز میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کی بالادستی قائم رہی، محمد رضوان کی قیادت میں ٹیم نے اپنے تمام پانچوں میچز میں کامیابی حاصل کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ 6پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے، لاہور قلندرز کے پوائنٹس بھی 6ہیں مگر رن ریٹ کی بنیاد پر تیسرے نمبر پر موجود ہے،اب تک2،2 میچز جیتنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کا پوائنٹس ٹیبل پر بالترتیب چوتھا اور پانچواں نمبر ہے۔

    تمام پانچوں میچز میں شکست کے باعث بابراعظم کی زیرقیادت کراچی کنگز کیلیے ٹورنامنٹ کے باقی ماندہ میچز جیتنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ لاہور میں میچز کا چند لمحوں بعد آغاز ہوگا۔

    قذافی اسٹیڈیم میں ملتان سلطانز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مقابل ہوں گی،محمد رضوان الیون ناقابل شکست ٹیم کا اعزاز برقرار رکھنے کا عزم لیے میدان میں اترے گی،وہاب ریاض الیون کی نگاہیں پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن بہتر بنانے پر مرکوز ہوں گی۔

  • صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    صدیوں پرانا کھیل کبڈی ،تحریر: عدیل الر حمان الہ آبادی

    کبڈی صدیوں پرانا کھیل ہے جو جنوبی ایشیاء کے ہر ملک میں کھیلا جاتا ہے ربع صدی پہلے تک پاکستان اور خاص طور پر یہ جنوبی پنجاب میں یہ کھیل مقبول تھااور شہہ زور اپنے فن اور قوت کے اظہار کیلئے اس کھیل کو اولین ترجیح قرار دیتے تھے۔یہ کھیل کھلے میدان میں کھیلا جاتا ہے کبڈی کے میدان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے درمیان میں ایک حد فاصل قائم کی جاتی ہے میدان کا ایک حصہ ایک ٹیم کو جبکہ دوسرا حصہ ڈوسری ٹیم کیلئے مختص کیا جاتا ہے ہر ٹیم کے دو کھلاڑی مد مقا بل ہوتے ہیں جن میں پکڑنے والے کھلاڑی کو جاپھی اور دوسرے کو ساہی کہا جاتا ہے اس کبڈی کے میچ میں صرف دو کھلاڑی مد مقابل ہوتے ہیں۔

    کبڈی واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتاہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسا ت کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کولگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورنہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے ”پالا” کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آکر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتاہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔ راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔جب سانس ٹو ٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہاجاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔ اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ ا ب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔شہری نوجوان کافی مد ت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کواپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ا ب یہ کھیل دیہا ت اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتاہے۔کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دورمیں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اوراپنے حریف کو للکارتا تھا۔ دس ت بدس ت لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ،یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیا ت ہیں۔اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیا ت کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔

    کھیل کے آغاز پر ایک ٹیم کا ساہی حد فاصل سے بھاگتا ہوا دوسری ٹیم کے جاپھی کھلاڑی کی طرف لپکتا ہے جاپھی اسے پکڑتا ہے اگر ساہی جاپھی کی گرفت سے نکل کر واپس حد فاصل کو عبور کر لے تو ساہی ٹیم کو ایک پوائنٹ دیا جاتا ہے اگر ساہی اپنے آپ کو جاپھی کی گرفت سے نہ چھڑاسکے تو جاپھی ٹیم پوائنٹ حاصل کر لیتی ہے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی باری باری ایک دوسرے کے مقابل آتے رہتے ہیں آخری کھلاڑی تک جوٹیم زیادہ نمبر لے وہ کامیاب قرار دی جاتی ہے۔اس بین الاقوامی کھیل کو وہ سہولیات میسر نہیں جو کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کھیل اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ اب اس میں خواتین کی ٹیمیں بھی شامل ہو کر مردوں کے شانہ با شانہ حصہ لے رہی ہیں عوامی شخصیات اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث یہ کھیل روبہ انحطاط ہے۔

    جنوبی پنجاب میں ثقافتی میلے جو میں گندم کی فصل کی کٹائ کے بعد منعقد ہوتے ہیں ان میلوں پر بھی کبڈی کے شور سے میدان سجایا جاتا ہے ان میں دنیا بھر کے کبڈی کے پلیئرز حصہ لیتے ہیں انکی بھر پھور حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔
    اس زوال پذیر کھیل کے فروغ اور اس کو زندہ رکھنے کیلئے میلسی کے نواحی گاؤں الہ آباد میں آج سے بیس سال قبل کبڈی میچ کا آغاز ہوا جو تاحال جاری ہے پورے پنجاب میں الہ آباد واحد گاؤں ہے یہاں کبڈی کلب کا قیام عمل میں لایا گیاجس کے تحت ہر جمعہ کو میچ کا انعقاد ہوتا ہے اس کے منتظمین جو اپنے دور کے کبڈی کے مشہور کھلاڑی تھے ان میں حافظ عبدالرحمن،ماسٹر حفیظ احمد،سابق کونسلر غلام شبیر اور ملک محمد صادق ٹھوٹھہ شامل ہیں جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس سلسے کو جاری رکھا ہوا ہے کلب کے منتظمین کھلاڑیوں کے انعامات اور دیگر اخراجات اپنی جیب سے پورا کرتے ہیں ان مقابلوں میں بین الاضلاعی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔کبڈی گراؤنڈ نہر فدہ اور کرم پور وہاڑی روڈ کے درمیان واقع ہے نہر کا کنارہ اسٹیڈیم کا کام دیتا ہے ہر جمعہ کو قرب و جوار اور دور دراز کے شائقین جمع ہوتے ہیں اور میلے کا سماں ہوتا ہے قابل افسوس بات یہ ہے کہ یہ تفریحی پروگرام صرف دیہی سطح پر محدود ہے اگر حکومتی ادارے اور محکمہ سپورٹس اسکی سر پرستی کرے تو اچھی کار کردگی کے حامل کھلاڑی ملکی سطح پر اپنا نام پیدا کر سکتے ہیں یہ حقیقت ہے کہ ہمارے دیہاتی کھلاڑی بہتر آب و ہوا میں پروان چڑھنے کے باعث زیادہ تنومند اور طاقت ور ہوتے ہیں اگر انکی صحیح خطوط پر تربیت ہو تو وہ کھیل کے میدان میں بہت آگے جا سکتے ہیں۔

  • گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    گھبرانے کا وقت شروع، تحریر: نوید شیخ

    پہلا رزلٹ موصول ہوگیا ہے۔ اس اہم موقع پر جو الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا کو نااہل قرار دے کر جھٹکا دیا ہے ۔ اس کے آفٹر شاکس کافی عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔ اہم چیز یہ ہے کہ فیصل واوڈا جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل
    62 ون ایف کا شکار ہوئے ہیں ۔ یعنی اب پی ٹی آئی کے جھوٹ پکڑے جانے کا وقت آگیا ہے ۔ ایسے ہی اگر کسی دن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی آگیا تو سمجھیں پی ٹی آئی کی کہانی ختم ۔۔۔۔ یہ بتا دوں کہ فیصل واڈا اگر سپریم کورٹ سے ریلیف لینے میں کامیاب نہ ہوئے تو سینٹ کی اس سیٹ پر پیپلزپارٹی کا کوئی سینیٹر بآسانی منتخب ہوسکتا ہے ۔ اسی لیے فیصل واڈا کی نااہلی کی اصل خوشی پیپلزپارٹی کے کیمپوں میں ہے ۔ پھر اب امید کرنی چاہیئے کہ اس فیصلے کے بعد اب فیصل واڈا کی
    ۔۔۔ اکٹر ۔۔۔ بھی ختم ہوجائی گی اور زبان بھی کنڑول میں واپس آجائے گی ۔

    ۔ ویسے پی ٹی آئی کی کہانی اپوزیشن نے بھی ختم کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ۔ کیونکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے بعد عنقریب مولانا بھی لاہور پہنچ رہے ہیں ۔ اور جمعہ کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی متوقع ہے ۔ جبکہ شہباز شریف ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کے خواہشمند ہیں جو کہ جلد ممکن ہے ۔ یوں لاہور سے تبدیلی کوتبدیل کرنے کا آغاز ہوچکا ہے ۔۔ پھر لندن میں نوازشریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن اس ظالم حکمران سے نجات دلانے کے لیے قدم بڑھائے گی اور یہ عین وقت کی ضرورت ہے۔۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت ایک بدترین ناکامی سے دو چار ہے ۔ اگر آپ نوٹ کریں تو گزشتہ چند ماہ سے خود کابینہ کے اندر بھی کچھ لوگوں میں یہ ہمت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں اختلاف کرنے کے ساتھ اونچا بھی بول سکیں۔ ۔ ابھی دو روز قبل ہی ایمنسٹی سکیم منظور کرانے کے لئے بلایا جانے والا اجلاس اختلافات کی نذر ہو گیا اور عمران خان نے کہہ دیا کہ یہ سکیم اتفاق رائے کے بغیر منظور نہیں کی جائے گی۔ کابینہ میں ردوبدل کی خبریں آئیں تو وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو ان کا پی ٹی آئی میں رہنا بے مقصد ہوگا۔ یہ ساری باتیں ایک کھچڑی کا پتہ دیتی ہیں جو پک رہی ہے اور پکتی چلی جا رہی ہے۔

    ۔ پھر جہانگیر ترین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے پی ٹی آئی میں اپنا ایک الگ ہی دھڑا تیار کیا ہوا ہے۔ مت بھولیں عمران خان کی وفاقی اور پنجاب حکومت کو چلتا کرنے کے لیے ایم کیو ایم اور جہانگیر ترین گروپ ہی کافی ہے۔ مگر صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ۔۔۔ باپ ۔۔۔ والے بھی آنکھیں دیکھا رہے ہیں ۔ ۔ کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ شاید اسی لیے آدھے سے زیادہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی پارٹی بدلنے کے چکروں میں ہیں ۔ ۔ اسی لیے حالات کی نزاکت کو دیکھتے شیخ رشید کی پیش گوئیوں اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی دوبارہ زور پکڑ گیا ہے۔ وہ اور فواد چوہدری روزانہ ٹی وی پر آکر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار اور منتخب حکومت کے ساتھ ہے۔ لگتا ہے آجکل کپتان نے ان دونوں کی صرف یہ ہی ڈیوٹی لگا رکھی ہے ۔ ۔ پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی ہے ۔ اسی لیے تو اتحادی بھی ۔۔۔ پر ۔۔۔ پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھوں کی گھبراہٹ میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ اب تو بات یہ شروع ہوگئی ہے کہ دیکھیں پہلے عمران خان جاتے ہیں یا عثمان بزدار ۔ اس حوالے سے سعد رفیق تو اتنے پر اعتماد ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ چند دن میں فیصلہ ہوجائے گا کہ پہلا دھاوا کہاں بولنا ہے ۔

    ۔ میں شہباز شریف کو بذات خود جتنا جانتا ہوں وہ مفروضوں پر بات نہیں کرتے نہ سنتے ہیں ۔پھر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور یہ ان کی سیاسی بصیرت ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کو دوبارہ سے پی ڈیم ایم اتحاد کا حصہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ ۔ پھر اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو گھر بھیجا جائے گا تو سمجھ جائیں یہ تیاری پہلے کی ہے ۔ اب صرف عوام اور میڈیا کو دیکھانے کے لیے ملاقاتیں ہورہی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ماحول بنایا جا رہا ہے ۔ بس ۔۔۔ پلاننگ ان کی پہلے کی تھی ۔۔ پھر جو آصف علی زرداری تین سالوں میں دوسری بار بذاتِ خود سیاسی میدان میں اترے ہیں یہ بھی بہت اہم ہے۔ یاد رکھیں آصف علی زرداری کے بارے کہا جاتا ہے کہ انکی سیاست کو سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ ۔ مت بھولیں گزشتہ سال سینٹ انتخابات کے موقع پر آصف علی زرداری کی حکمت عملی کامیابی سے دوچار ہوئی تھی ۔ جب یوسف رضا گیلانی نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے اُمیدوار حفیظ شیخ کو چاروں شانے چت کر ڈالا اور عمران خان کے مخالفین کے علاوہ حامیوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ متحدہ اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔ ۔ کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی اطلاع ملنے پر عمران خان اپنی پارلیمانی پارٹیاتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر خوب گرجے برسے اور حفیظ شیخ کی ناکامی کو اپنے اوپر عدم اعتماد سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت چھوڑنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ اس لیے زرداری کا سندھ سے نکل کر پنجاب میں ڈیرے جما دینا بہت معنی خیز ہے ۔

    ۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو سمجھنے والوں کولگتا ہے کہ ان کو چودھری برادران کو راضی کرنے کا ٹاسک ملا ہوا ہے ۔ کیونکہ چودھری برادران کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ عثمان بزدار کو اگر ہٹانا ہے تو پھر چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے مگر مسلم لیگ ن کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں، اس لئے زرداری صاحب نے یقیناً چودھری برادران کو رام کرنے کی کوشش کی ہو گی، اب پتہ نہیں یہ کھچڑی پکی ہے یا نہیں؟ مگر آنے والے دنوں میں اس حوالے سے صورتحال واضح ہوجائے گی ۔ ویسے عثمان بزدار کو ہٹانے کی آفر تو اب عمران خان بھی کرنے لگے ہیں ۔ کہ کسی اور لانا ہے تو لے آتے ہیں بس میری کرسی بچی رہنی چاہیے ۔ مگر یاد رکھیں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد اس وقت ہی لائے گی جب نمبر گیم پوری ہوگی اور اسکو یقین ہوگا کہ ان کو کامیابی مل جائے گی کیوں کہ اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد میں ناکام رہتی ہے تو اگلے چھ ماہ تک ایوان میں وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں پیش ہو سکے گی اور اگلے انتخابات کو ویسے بھی ڈیڑھ سال رہ گیا ہے۔ تو آخری سال میں جا کر اگر حکومت کو گرایا جاتا ہے تو پھر وہ اسے سیاسی طور پر شہید کرنے کے مترادف ہو گا۔۔ تو یقینا آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سارے کھیل میں شہباز شریف کا کردار سب سے اہم ہو گا کیوں کہ وہ ایوان میں اپوزیشن کے کپتان ہیں۔

    ۔ سیاست نام ہی تجربات کا ہے تو اپوزیشن تجربے کرتی رہتی ہے کبھی لانگ مارچ تو کبھی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا ماحول بنانا یہ سب کر کے ہی اپوزیشن سیاسی ماحول کو برقرار رکھ سکتی ہے جس کیلئے شہاز شریف تگ و دو کر رہے ہیں۔ اسی لیے نوازشریف نے بھی شہباز شریف کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ کہ وہ حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں تا کہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا جا سکے جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوامی عدالت میں رسوا ہو چکی ہے۔ ۔ یوں اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت کرنے کے اعلانات محض گیدڑ بھبھکیاں نہیں ۔ ۔ کیونکہ اب کوئی شک نہیں رہ گیا کہ مارچ بہت اہم ہونے جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ان میں ملک کی اہم ترین تقرری کے بارے فیصلہ کرنا ہے۔کون جانے، وزیراعظم کاامیدوار کون سا ہے اور اپوزیشن کا امیدوار کون سا۔ ۔ اس حوالے سے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان سے تیس نومبر کی تقرری کا والا فیصلہ کروانا ہی نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس نے نہیں کروانا، یہ کس کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے اور اس پر اپوزیشن کو متحرک کون کر رہا ہے۔

    ۔ کیونکہ آصف زرداری ، شہباز شریف، باپ ، ایم کیو ایم اور ق لیگ کو جو اچانک ہو گیا ہے۔ وہ اشارے کے بغیر نہیں ہوتا ۔ ۔ اس لیے اب چاہے عمران خان کہیں کہ ۔ میں مزید خطرناک ہوجاوں گا ۔ یا ۔ ہمارے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں ۔ یا
    ۔ اگلی باری بھی ہماری ہوگی ۔۔ اصل سچ یہ ہے کہ عمران خان کے لیے گھبرانے کا وقت شروع ہوگیا ہے ۔

  • پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا گیا

    پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا گیا

    لاہور:پاکستان پی ایس ایل 7 : میچز شروع ہونے سے قبل شہریوں کو خبردار کر دیا،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کا میلا قذافی سٹیڈیم میں سجنے کو تیار، ٹیمز کو پی سی ہوٹل سے قذافی سٹیڈیم تک لے جانے کیلئے مختلف شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا گیا، ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا.

    ٹریفک پولیس نے پی ایس ایل میچز شروع ہونے سے قبل ہی شہریوں کو خبردار کر دیا ہے کہ شہری دوپہر اور شام کے اوقات میں فیروز پور روڈ اور کینال روڈ پر سفر مت کریں۔ ٹیمز کو پریکٹس سیشن کے لیےقذافی سٹیڈیم لےجانے کے لیے کینال روڈ کو نومنٹ تک ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا۔مال روڈ الحمرا سے کینال روڈ کی جانب جانے والی ٹریفک کو تیرہ منٹ تک بند رکھا گیا۔

    کینال روڈ کو دھرم پورہ سے مسلم ٹاؤن تک نو منٹ تک بند کیا گیا۔جیل روڈ سے ٹریفک کو صدیق ٹریڈ سینٹر کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔صدیق ٹریڈ سینٹر سے لبرٹی کی جانب بھی ٹریفک معطل رہی۔فیروز پور روڈ مسلم ٹاؤن سے ٹریفک کو وحدت روڈ کی جانب ڈائیورٹ کیا گیا۔

    فیروز پور کو مسلم ٹاؤن سے کلمہ چوک تک بند کیا گیا۔ جس کے باعث قرطبہ چوک سے مسلم ٹاؤن ، مال روڈ ، وحدت روڈ ، فیروز پور روڈ ، مین بلیووارڈ میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ ٹریفک جام کی اذیت میں مبتلا شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے کمنٹیٹرز کی تلاش کا بیڑا اُٹھالیا ہے۔کمنٹیٹر کی تلاش کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مقابلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت مقابلہ جیتنے والے کو 5 لاکھ روپے اور پی ایس ایل سیون کے فائنل میں کمنٹری کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

    پی سی بی کےمطا بق پی ایس ایل سیون کے دوران نئے کمنٹیٹرز کی تلاش کے لیے مہم شروع کی جارہی ہے اور اس کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ کمنٹری کو پروفیشنل کیرئیر بنانے کے خواہشمند افراد اس مقابلے میں حصہ لے سکتے ہیں، مقابلے میں 18 سال سے زائد عمر اور پاکستانی ہونا شرط ہے۔

    پی سی بی کے مطابق پہلے مرحلے میں 20 کمنٹیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا، اس کے بعد اُن میں سے 5 کمنٹیٹرز کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا جو فائنل راؤنڈ میں حصہ لیں گے اور پھر فاتح کا فیصلہ ہوگا۔

    پی سی بی کے مطابق کامیاب اُمیدوار کو 5 لاکھ روپے انعام اور پی ایس ایل سیون کے فائنل میں کمنٹری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔