Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے،اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت سے متعلق پریس کونسل آف انڈیا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نتائج کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں مودی حکومت کے خلاف ایک فرد جرم قرار دیا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر خصوصا وادی کشمیرمیں اخبارات اور نیوز چینلوں سمیت ذرائع ابلاغ کی آواز کو بڑے پیمانے پر پابندیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ کشمیرمیں آزادی صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پرہمیشہ اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے نتائج نے علاقے میں قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافت کو کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے۔قابض انتظامیہ کی طر ف سے کشمیر میں تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا روز کا معمول بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں معلومات تک رسائی کو روکا جارہا ہے ۔تنویرصادق نے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندیوں کی وجہ سے مختلف مقامی اخبارات قابض حکام کی ناراضگی کے خوف سے مجبوراعوامی اہمیت کے مختلف مسائل کی کوریج نہیں کر رہے ہیں۔

    قابض انتظامیہ کی بے حسی اور تنازعہ کی صورت حال میں رپورٹنگ پر اندرونی دبائو کی وجہ سے کشمیر میں صحافتی برادری شدید خوف میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض ادا کر رہی ہے ۔ پارٹی رہنما نے کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بھارت میں لبرل اور جمہوری قوتوں کوجموں و کشمیر کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیاجائے گا۔انہوں نے پریس کونسل آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں قید تمام صحافیوں کی رہائی کیلئے بھارتی حکومت پر دبائوڈالے۔

  • دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    دہشت گردوں کا دوبارہ اکٹھ پاکستانیوں کا نیا امتحان

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اس وقت ملک پاکستان تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جس کا فائدہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اٹھا رہا ہے ،بھارت نے پاکستان کے اندر کئی بار مداخلت کی اور علیحدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا تاکہ پاکستان کا امن و سکون برباد ہواس وقت پاکستان میں ملک کا امن و سکون برباد کرنے والے کئی گروہ موجود ہیں جن میں سے بیشتر بلکہ زیادہ تر کو بھارت نے بنوایا اور فنڈنگ بھی بھارت،امریکہ اسرائیل مل کر رہے ہیں-

    ان گروہوں میں سے ایک معروف گروہ ٹی ٹی پی ہے جو کہ 3 درجن سے زائد گروہوں سے بنا تھا مگر آہستہ آہستہ اندرونی بغاوت کے باعث کم ہوتا چلا گیا تاہم اب ایک بار پھر بھارت اور امریکہ کے آشیر باد سے اس گروہ کو دوبارہ منظم کیا جا رہا ہے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو ساتھ ملا کر یک جان ہو کر سیکیورٹی فورسز و مملکت پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں –

    ایک نظر ڈالتے ہیں معروف دہشت گرد گروہوں کی تاریخ پر

    1964 کو بلوچ لبریشن فرنٹ کی بنیاد جمعہ خان مری نے رکھی تھی تاہم اس تنظیم نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980 کی بلوچ بغاوت میں بڑا کردار ادا کیا تھا اس تنظیم نے وقفہ وقفہ سے علاقائی اور لسانی بنیاد پر پاکستان پر حملے جاری رکھے اور 2009 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو اس جماعت کا سربراہ مقرر کیا گیا یہ جماعت اب بھی پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور کئی معصوم پاکستانیوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی شہید کر چکی ہے-

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں 1970 میں بلوچستان لبریشن آرمی کی بنیاد رکھی گئی تھی جس نے پاکستان پر مسلح حملے کئے مگر جنرل ضیاء الحق کی کاوش سے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں سے مذاکرات کئے گئے جس کے باعث یہ جماعت منظر عام سے غائب ہو گئی-

    بہت عرصہ غائب رہنے کے بعد اس جماعت نے دوبارہ 2000 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد دوبارہ حملے شروع کر دیئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے-

    انٹرنیشنل لیول کی جماعت القاعدہ کی بنیاد اسامہ بن لادن اور عبداللہ عزام نے 1988 میں رکھی اس جماعت نے شروع میں تو روس کے خلاف جہاد کیا اور پاکستانی فورسز کا ساتھ بھی دیا تھا تاہم افغان امریکہ جنگ میں اس تنظیم نے پاکستان پر بھی حملے کئے-

    القاعدہ کے کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے 1999 میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور اسے 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل ہوئی جب اس نے انبار مہم کے دوران عراقی سیکورٹی فورسز کو اہم شہروں سے باہر نکال دیا تھا اور اپنی پاور شو کی تھی اس انٹرنیشنل لیول کی جماعت نے بھی پاکستان پر بہت سے حملے کئے اور یہ جماعت اس وقت دنیا کی تمام خطرناک دہشت پسند جماعتوں میں سے پہلے نمبر پر ہے اس جماعت میں زیادہ تر سلفی ( اہلحدیث) مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں-

    افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان کی پالیسی کو نا سمجھتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھتے ہوئے مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوی پر عمل کرتے ہوئے دیوبندی مکتب فکر کے کچھ جید مفتیان کرام کی پشت پناہی میں چھوٹے چھوٹے مسلح قبائلی گروہوں نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے تاہم 2004 میں جب پاکستانی فوج نے جب ان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اوردیگر دیوبندی مکتب فکر کے مراکز کی طرف سے اس آپریشن کے خلاف شدید نوعیت کا فتویٰ جاری ہوا اور عوام کو افواج پاکستان کے خلاف کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کا عزم کرکے دو درجن سے زائد گروپوں نے مل کر دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی اور بیت اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کا امیر مقرر کیا گیا-

    خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان کو 34 گروہوں کے ساتھ اتحاد کرکے بنایا گیا تھا جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے اہلکاروں( جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے) سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے تھے-

    اگرچہ بظاہر امریکا اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کر دیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے تھے اس معاملہ پر اس وقت کے پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا اس جماعت نے پاکستان میں آتش و خون کا وہ کھیل کھیلا کہ ہر پاکستانی ان سے نفرت کرنے لگا ہے-

    اتنی جماعتوں کے اکٹھ کے بعد ان میں کچھ اختلاف بھی ہوئے جس کے باعث کچھ گروپ تحریک طالبان پاکستان سے الگ بھی ہو گئے
    ٹی ٹی پی کمانڈر احسان اللہ احسان نے اگست 2015 میں تحریک طالبان کے کچھ کمانڈروں کی تنظیم سازی کے عمل پر اختلافات کی وجہ سے اگست 2015 کو جماعت الاحرار کی بنیاد ڈالی اور الگ سے پاکستان پر حملے شروع کئے-

    کافی عرصہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان جماعتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا بڑی حد تک خاتمہ بھی کیا تاہم اب ایک بار سے پھر ان گروہوں نے اتحاد شروع کر دیا ہے جس کے باعث نئے حملوں کا خطرہ ہے اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز و عوام کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے-

    پاکستان پر نئے حملوں کی خاطر 7 مارچ 2022 کو قبائلی کمانڈر حافظ احسان اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان کی بیعت کر لی ہے اور اسی طرح 10 مارچ 2022 کو لکی مروت سے تعلق رکھنے والے مولوی ٹیپو گل کے تین گروپوں نے تحریک طالباں پاکستان کے امیر مفتی نور ولی محسود کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے جس کی تصدیق ترجمان تحریک طالبان محمد خراسانی نے کی ہے-

    یقیناً ان گروہوں کے اتحاد سے ایک بار پھر آتش و خون کا بازار گرم ہو گا مگر ان شاءاللہ رب العالمین کی رحمت اور افواج پاکستان کی قربانیوں سے ان کو بہت جلد بڑی شکشت ہو گی اور امید ہے کہ ان کی یہ شکشت ان کو دوبارہ نا اٹھنے دے گی ،ان شاءاللہ

    پاکستانی فورسز و عوام پہلے بھی یک جان اور تیار تھی اور اب بھی یک جان و تیار ہیں ،اللہ تعالیٰ مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت فرمائے آمین-

  • روس نے انسٹاگرام  تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    ماسکو: روس نے اپنے ملک میں میٹا کی زیرملکیت فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ روسی حکومت کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے غیرملکی ٹیک پلیٹ فارمز پر پابندیوں میں نیا اضافہ ہے روس کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کی وجہ میٹا کی جانب سے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کو قرار دیا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا…

    روسی حکومت کی جانب سے انسٹاگرام پر پابندی کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریاستی انٹرنیٹ ریگولیٹر روسکومناڈزور کی جانب سے میٹا کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ تک رسائی کو محدود کی جائے گی اس پلیٹ فارم پر شائع مواد میں روسی شہریوں بشمول فوجیوں کے خلاف پرتشدد اقدامات کے لیے اکسانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    بیان کے مطابق پراسیکیوٹر جنرلز آف رشین فیڈریشن کی شرائط کے تحت روس کے انر انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے تاہم ابھی تک روس میں انسٹاگرام تک رسائی موجود ہے مگر بتدریج تمام موبائل آپریٹرز اور انٹرنیٹ پرووائڈرز کی جانب سے اسے بلاک کردیا جائے گا۔

    فیس بک اور ٹوئٹر کو پہلے ہی روس کے اندر پابندیوں کا سامنا ہے مگر انسٹاگرام جو وہاں بہت زیادہ مقبول ہے، کو اب تک پابندیوں کا ہدف نہیں بنایا گیا تھا ایک اندازے کے مطابق روس میں انسٹاگرام کے 6 کروڑ صارفین ہیں۔

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    اس سے قبل 25 فروری کو روس کے اندر فیس بک تک رسائی پر جزوی پابندی لگائی گئی تھی اور یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سوشل میڈیا نیٹ ورک نے روسی ریاستی خبررساں اداروں کی رسائی کو محدود کردیا تھا۔

    ٹوئٹر نے بھی تصدیق کی کہ روس میں اس کے صارفین کو سروس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد وہ کمپنی نے توراونین سروس کو متعارف کرایا تھا تاکہ ہر ایک ریاستی نگرانی کو بائی پاس کرکے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرسکے۔

    اب روس کی جانب سے انسٹاگرام کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب میٹا نے پالیسی میں تبدیلی کی گئی۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    کمپنی نے سیاسی تقریر کے لیے اپنے قوانین میں عارضی طور پر نرمی کی ہے، قوانین میں نرمی کے بعد "روسی حملہ آوروں کی موت جیسی پوسٹس کی اجازت دی گئی ہے جبکہ روسی شہریوں کے خلاف پرتشدد مطالبوں کی اجازت نہیں دی گئی۔

    میٹا کا کہنا ہے کہ عارضی تبدیلی کا مقصد سیاسی اظہار کی ایسے پہلوؤں کی اجازت دینا ہے جو عام طور پر اس کے قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ میٹا کی زیرملکیٹ واٹس ایپ کو بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہوگا یا نہیں۔

    پابندیوں کے ساتھ ساتھ فیس بک کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے پر روسی حکومت نے سخت رد عمل دیتے ہوئے اس کی مالک کمپنی ’میٹا‘ کے خلاف مجرمانہ مقدمات کے تحت تفتیش شروع کی تھی روسی حکومت نے اپنے ملک کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ کی مالک کمپنی کو ’انتہاپسند تنظیم‘ قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر دیں

  • پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    پاکستانی انجینئرزکا استعمال شدہ کوکنگ آئل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنیکا کامیاب تجربہ

    کراچی کےانجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرنے کا آسان اور سستا طریقہ تلاش کرلیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق این ای ڈی اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں بائیو ڈیزل پر تحقیق کرنے والے ملک کے نامور اساتذہ کی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان انجینئرز نے استعمال شدہ خوردنی تیل کو 93 فیصد تک ری فائن کرکے بائیو ڈیزل بنانے کا طریقہ تلاش کیا اس طریقے سے تیار ہونے والے بائیو ڈیزل کو پاور جنریٹرز اور ہیوی ڈیوٹی وہیکلز میں استعمال کیا جاسکتا ہے-

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بائیو بینگ (Bio-Being) کے نام سے متعارف کرائے جانے والے اسٹارٹ اپ کے بانی اور سی ای او علی ریاض نے بتایا کہ استعمال شدہ خوردنی تیل Transesterification کے پراسیس سے گزار کر اس میں سے ہائیڈروکاربن کو چکنائی کےعناصر (گلیسرین) سے الگ کیا جاتا ہے اس طرح بائیو ڈیزل کے ساتھ کاسمیٹکس انڈسٹری کے صنعتی استعمال کی گلیسرین بھی پیدا ہوتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ عموماً اس عمل میں 24گھنٹے لگتے ہیں لیکن نوجوانوں کی ٹیم نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی کے ساتھ ایسا طریقہ تلاش کیا جس کی مدد سے صرف ایک گھنٹہ میں خوردنی تیل کو بائیوڈیزل میں تبدیل کیا جاسکتا ہےیہ عام ڈیزل کے مقابلے میں بائیو بینگ کا تیار کردہ بائیو ڈیزل زیادہ حرارت اور توانائی کا حامل ہے-

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    علی ریاض نے بتایا کہ خوردنی تیل کو ایک مرتبہ فرائنگ کے لیے استعمال کرنے کے بعد اس میں کارسینو جینک مادے پیدا ہونے لگتے ہیں بار بار استعمال ہونے والے تیل میں کارسینو جینک مادوں کی مقدار بڑھتی جاتی ہے یہ مضر مادہ کینسر کے مرض کا سبب بنتا ہے-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ٹھیلوں اور چھوٹی دکانوں پر بڑے ریسٹورنٹس کا استعمال شدہ خوردنی تیل ہی استعمال کیا جاتا ہے جو عوام کی صحت کے لیے خطرہ ہے، اب تک آزمائشی پلانٹ پران کی ٹیم نے اپنے وسائل سے 15لاکھ روپے خرچ کیے اور منصوبہ کو فروغ دینے کے لیے مزید 10لاکھ روپے کے فنڈز جمع کرلیے ہیں تاہم اراضی کے علاوہ بڑا پلانٹ نصب کرنے کے لیے انہیں مزید 50لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ نہ صرف خوردنی تیل سے تیار کردہ بائیو ڈیزل عام ڈیزل کے مقابلے میں ماحول دوست ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج 78 فیصد تک کم جبکہ نائیٹروجن گیس کا اخراج 84 فیصد تک کم ہوگا بلکہ خوردنی تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرکے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ ماحول کے تحفظ میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

  • سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    سب کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں ،محرر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں عجیب و غریب سیاسی صورت حال ہے۔یوکرین اور روس معاملات کے بعد تو سیاسی دنیا میں مزید ایک گفتگو کی فزا بن رہی ہے اور چائنہ میں کورونا پھر سے نمودار ہو رہا ہےاور صیہونی سربراہ نے طیب اردوگان سے ملاقات کی ہے۔ دوسری طرف ہمارا پڑوسی بھارت غلطی سے میزائیلیں بھیج رہا ہے دنیا میں تقریباً ہر دوسرے سیاست دان اور حکمران کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    اب آتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں۔تحریک انصاف اقتدار والی جماعت ہے،پیپلزپارٹی موجودہ وقت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام سب سے زیادہ سرگرم ہے۔منہگائی اور غربت نے لوگوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے جب بھی مہنگائی ہوتی ہے اس کا ذمہ دار حکمراں جماعت کو ٹھرایا جاتا ہے سو اسی طرح تحریک انصاف مہنگائی کی ذمہ دار ہے اس کے علاوہ تحریک انصاف میں گروپس کی موجودگی نے جماعت کو کھوکھلا کر دیا۔یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کو اپنے آپ سے خطرہ ہے۔

    اب ایک نظر اپوزیشن پر تحریک لبیک صوبہ پنجاب کی بڑی دینی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے جس کی اتحادی بننے کے لیے تحریک انصاف اور ق لیگ بے تاب ہیں پر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ق لیگ کو ترجیح دیں گے جب یہ بن جائے گی تو وہ یقیناً ن لیگ،پیپلزپارٹی کے خلاف ہی بنے گی کیوں کہ تحریک انصاف پہلے ہی گھر جانے کے موڈ میں ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایک جمے ہوئے سیاستدان ہیں۔وہ اس وقت ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔جمیعت وفاق میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے تو صوبے میں ان کی مخالف۔ کافی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم،پیر سائیں پاگارا،فہمیدہ مرزا اور جی ڈی اے کے دوسرے اتحادی دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے اقتدار کا صفایا کریں گی مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ دیہی سندھ میں وفاقی اتحادی پیپلزپارٹی اور جمیعت آمنے سامنے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ہر بیان پر ردعمل کوئی دے رہا ہے تو وہ جمیعت والے ہیں۔پیپلزپارٹی کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اسے جمیعت سے خطرہ ہے اس لیے مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری نے اسیمبلیوں میں استعفے دینے سے گریز بھی کیا۔پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے وفاقی اقتدار کے لیے اسے ایک صوبے کی مزید ضرورت ہے شاید اس کی نظریں بلوچستان پر ہیں کیوں کہ پنجاب میں پہلے ہی ق لیگ،ن لیگ اور لبیک کے نام ہو چکی ہے۔ایم کیو ایم کا سندھ کی وزارت اعلی کی کرسی حاصل کرنے کا خواب شاید 2023 میں پورا ہوتا ہوا دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا۔

    خیبر پختونخواہ اوربلوچستان میں بھی سیاسی سرگرمیان تیز ہیں۔بلوچستان کے دارالحکومت میں پشتون سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا پے جمال کمال خان کی وزارت کو چھیننے میں بھی پشتون سیاست کا حصہ تھا،بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی منزل بھی غیر واضح ہے۔خیبر پختونخواہ میں جمیعت کی بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد جمیعت کو ایک مزید صوبے کی تلاش ہے شاید ان کی نظریں سندھ پر ہیں۔پر زیادہ خوش ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیوں کہ ابھی یہاں بھٹو زندہ اور پائندہ ہے۔

    سیاست کی جنگ میں کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں سب کی کانپیں اپنی اپنی جگہ ٹانگ رہیں ہے

  • خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    خود د ار پاکستان ،تحریرانعم راجپوت

    ملک میں ان دنوں انتشار اور غیر یقینی کی جو صورت حال چل رھی ھے وہ یقینن تکلیف دے ھے جب بھی کوئی حکمران غیرت کا مظاھرہ کرتا ھے تو چند مہرے دشمن کے اشارے پر اچھلنا کیوں شروع کر دیتے ھیں کیا انھیں ملک کی خوداری عزیز نہیں ؟؟ اگر وہ عوام کے درد میں بے حال ھو رھے ھیں تو پہلے اس سب کا حساب دیں جو وہ اپنے دور حکومت میں کر چکے ھیں پھر عمران خان سے حساب مانگیں ۔

    ایسا کیوں ھے کہ عمران خان اورسیز کو بغیر وطن واپس آئے ووٹ دینے کا حق دے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان الیکشن میں شفافیت کے لیے ای وی ایم کے زریعے الیکشن کروانےکا اعلان کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان گزشتہ حکومتوں کے پروجیکٹ مکمل کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان پٹرول سستا کرے تو اپوزیشن کو تکلیف عمران خان ھیلتھ کارڈ جاری کرے تو اپوزیشن کو تکلیف اور عمران خان امریکہ اور یورپ کے ڈو مور کے جواب میں ابسولیٹلی ناٹ کہے تو اوزیشن کو تکلیف ۔پاکستانیوں کیا تمھیں سمجھ نھی آ رھی کہ اپوزیشن کس کے اشارے پر بندر کی طرح اچھل رھی ھے؟

    اسلام دشمن قوتوں نے بلحاظ ایک اسلامی ملک کے پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا توبرداشت کر لیا ھے مگر وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ھواپھلتا پھولتا برداشت نھی کرسکتے۔ وہ جانتے ھیں پاکستان معاشی طور پر مضبوط ھو گا تو ایشیا ھی نھی دنیا بھر کے مسلم ممالک یہودی اور عیسائی طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ھوں گے تیسری نشاط اسلامیہ جنم لے گی اور سودی نظام اپنے بنانےوالوں سمیت اپنے بل میں پناہ لینے ہر مجبور ھو جاےت گا اور یہودی و عیسائی یہ سب نھی چاھتے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بار کہا تھا پاکستان کی بقا ھی خطے کے مسلمانوں کی بقاء ھے ۔ پاکستان کی جو جغرافیائی حیثیت ھے اس لحاظ سے تو عمران خان ھی بطور حکمران جچتے ھیں_

    پاکستان کی اس حیثیت سے خود پاکستان کو اتنا فاٸدہ نھی ھوا جتنا نقصان ھوا ھے۔ نواز شریف یا آصف علی زرداری کی اتنی اوقات ھے نہ ھی ان میں جرات کہ وہ امریکہ اور یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں یہ کام عمران خان اچھے سے کر سکتے ھیں اور کر بھی رھے ھیں ۔ میں یہ نھی کہتی کہ وہ قاٸد اعظم ثانی ھیں ھاں لیکن ان میں قاٸداعظم جیسی جرات بے باکی دو ٹوک انداز ضرور پایا جاتا ھے ۔ عمران خان نے بطور حکمران کچھ غلطیاں بھی کی ھوں گی بطور انسان ان میں خامیاں بھی ھوں گی کیونکہ وہ فرشتہ تو نھی ھیں انسان ھیں لیکن وطن اور قوم کے لیے ان کے اخلاص پر کوئی دو رائے نھی ھے۔

    اگر آپ مہنگائی سے نالاں ھیں تو وہ دنیا کے ھرملک میں ھے اور آپکو میں بتاتی چلوں کہ ایوب خان کے دور میں جب امن و امان مثالی تھا جب پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار پر دنیا حیران تھی اور پاکستان ایشین ٹاٸیگر بننے جا رھا تو نام نہاد جمھوریت پسندوں اور سویلین بالادستی کے شوقین سیاستدانوں نے مہنگاٸ کے نام پر یہ افراتفری تب بھی مچاٸ تھی۔ آپ اگرواقعی مہنگاٸ سے نالاں ھیں تو عمران خان پر تنقید کریں کوٸ آپکو نھی روکے گا مگر ان لوگوں کی حمایت نہ کریں جو اپنی خوداری تو بیچ ھی چکے ھیں اب وطن کی خود داری بھی بیچنا چاھتے ھیں ۔وقت آ گیا ھے سندھی بلوچی پنجابی کشمیری بننے کے بجاۓ اور پی پی , پی ایم ال این یا پی ٹی آئی کے فالور بننے کے بجائے اورموجودہ صورت حال پر ٹھٹھے اڑانے یا قہقہ لگانے کے بجائے اپنے وزیراعظم کے پیچھے دیوار بن کر کھڑے ھوں اور ایک لفظ "پاکستانی,, پر متحد ھو جاٸیں ۔ اور دشمن کو بتاٸیں کہ ھم پاکستانی ھیں اورھم بلحاظ قوم اپنے وطن کی خوداری پر سمجوتا نھی کریں گے آزاد ملک کا قیام 1947 میں ھوا تھا اور ان شاء اللہ خودار پاکستان کا قیام 2022 میں عمل میں آئے گا ۔ داٸیں یا باٸیں ھونے سے پہلے یاد رکھیں عالم اسلام کے قلب میں واقع آپ کا یہ نیو کلیر ملک صرف آپ کا نھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا محافظ ھے۔

    جو جنگ لڑی جاری رھی ھے اسے آپ اسلام اور کفار کی جنگ بھی کہہ سکتے ھیں اور ان شاء اللہ ھم نے یہ جنگ ھر صورت جیتنی ھے ۔ اللہ پاک وزیراعظم پاکستان , وطن عزیز اور ھم وطنوں کا حامی و ناصر ھو آمین

  • واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    سان فرانسسكو: میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے نئے فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں جنہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئے فیچرز یا سہولیات پیش کی جاتی ہیں۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والے ادارے ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خود بہ خود غائب ہونے والے فیچر کو مزید کارآمد بنانے کے لیے اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    صارف جب غائب ہونے والے پیغامات کے آپشن کو فعال کرتا ہے تو اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے شخص کے پڑھنے کے بعد پیغا ما ت غائب ہو جائیں لیکن بعض اوقات ایسا پیغام بھیجا جاتا ہے جو اہم ہو اور مستقبل کے لیے کارآمد ہوتا ہے ڈس اپیئر فیچر کے بعد صارف کو یہ شکایت تھی کہ اُن کے دوستوں کی جانب سے بھیجے جانے والے اہم پیغامات بھی غائب ہوجاتے ہیں، جس پر اب کمپنی نے کام شروع کردیا ہے۔

    اس مقصد کے لیے واٹس ایپ اس فیچر میں ایک ایسی سہولت کی آزمائش کر رہا ہے جس کی مدد سے صارفین غائب ہونے والے میسجز میں سے اہم پیغامات دیکھ بعد میں بھی سکیں گے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیچر ابتدائی مراحل میں ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا واٹس ایپ کی جانب سے مستقل طور پر اس کا انتخاب کب کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے 2018 میں وائرل افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے تمام صارفین پر پیغامات آگے 20 افراد تک فارورڈ کرنے کی پابندی عائد کی تھی، جسے 2019 میں مزید کم کرکے 5 کردیا گیا تھا اس سے پہلے میسجنگ ایپلیکشن میں صارفین جتنے مرضی افراد اور گروپس کو پیغامات بیک وقت فارورڈ کرسکتے تھے اب میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ نے میسجز فارورڈ کرنے کے حوالے سے مزید پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

    واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والے سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب کمپنی کی جانب سے گروپ چیٹس میں فارورڈ میسجز کے حوالے سے پابندیوں کا عائد کیا جارہا ہے واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں فارورڈ میسجز کی نئی حد کو متعارف کرایا گیا ہے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    ابھی صارفین واٹس ایپ گروپس یا کسی انفرادی صارف کو میسج فارورڈ کرتے ہیں تو 5 بار کے بعد اس پر فارورڈڈ مینی ٹائمز کا لیبل آجاتا ہے مگر اب واٹس ایپ کی جانب سے جب کسی میسج پر فارورڈڈ کا لیبل لگادے تو اس پیغام کو ایک وقت میں ایک گروپ چیٹ سے زیادہ میں فارورڈ نہیں کیا جاسکے گا۔

    اگر آپ کو ایک سے زیادہ گروپس میں میسج فارورڈ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ عمل کئی بار (جتنے گروپس کو بھیجنا چاہتے ہیں) کرنا ہوگا یعنی ان کو ایک، ایک کرکے بھیجنا ہوگا اس پابندی کا اطلاق ان میسجز پر بھی ہوگا جن کو صرف ایک بار فارورڈ کیا گیا ہوگا یعنی یہ سابقہ حد سے مختلف ہے اور متعدد صارفین کے لیے واٹس ایپ کا تجربہ متاثر ہوگا مگر اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے لیے محفوظ ماحول کو فراہم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جعلی خبریں آسانی سے مت پھیلیں۔

    خیال رہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے فارورڈ میسج لیبل دنیا بھر میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ یہ ان کے دوست نے خود لکھ کر نہیں بھیجا اور وہ اس کی صداقت جانچ کر آگے پھیلانے کا فیصلہ کریں۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کرالجزائر سے فرانس پہنچ گیا

    پیرس: الجزائر سے ایک نوجوان طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر فرانس پہنچ گیا،تاہم اسے فرانسیسی پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : کم ترقی یافتہ ممالک سے یورپ یا شمالی امریکہ جانے کی کوشش کرنے کے واقعات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں کچھ کیسز میں یہ لوگ اپنے ممالک میں تشدد یا جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ دیگر بہتر معاش کی تلاش کے لیے جان کی بازی لگا بیٹھتے ہیں-

    پاکستان میں رہوں گا میرے کپڑے بھجوا دیں، غیر ملکی تماشائی کا اپنی والدہ کو پیغام

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک نوجوان کو طیارے کے نچلے حصے کے خفیہ خانوں میں چھپا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو نہایت گھبراہٹ کے عالم میں عملے کے ارکان کے سوالات کے جوابات دے رہا ہے۔

    اس نوجوان نے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے کسی طرح طیارے کے خفیہ خانوں میں چھپ کر الجزائر سے فرانس تک کا سفر کیا نوجوان کی اس حرکت کا پول فرانس میں ڈیگول ہوائی اڈے پر کھلا جہاں طیارے نے لینڈنگ کی تھی۔

    تمام مسافروں کے اتر جانے کے بعد اور سامان آف لوڈ کرنے کے دوران نوجوان ایک خفیہ خانے میں پایا گیا۔ مسافر کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جو اسے الجزائر ڈی پورٹ کردیں گے۔

    پولیس میں بھرتی کا خواہشمند نوجوان مقابلے کی دوڑ کے دوران گر کرجاں بحق

    https://youtu.be/vJMfygpWrD8
    سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کےبعد الجزائر میں بھی ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو نوجوان کے طیارے تک پہنچنے اور پھر میں اس میں خفیہ طور پر سفر کرنے کی تحقیقات کرے گی۔

    واضح رہے کہ یہ پرواز بدھ کے روز قسطنطنیہ کے محمد بوضیاف ہوائی اڈے سے پیرس کے چارل ڈیگول ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ 2019 میں برطانیہ میں طیارے کے اگلے پہیے کے لینڈنگ گیئر میں چھپ کر سفر کرنے والا مسافر دوران پرواز گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔ عینی شاہد نے پولیس کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شخص نے جہاز کے پہیے سے چھلانگ لگائی تھی۔

    اس طرح طیاروں میں چھپ کر سفر کرنے والوں کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟

    بھائی کی شادی پر رقص کیوں کیا؟ بیوی کے بال اور ناک کاٹنے کی کوشش پر شوہر گرفتار

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طیارے کے نچلے حصے میں چھپ کر سفر کرنے والوں کے لیے شدید خطرات ہوتے ہیں ان میں لینڈنگ گیئر کے تلے دب جانے، فروسٹ بائٹ، قوت سماعت کھونا، ٹینیٹس اور ایسڈوس کے مرض شامل ہیں جو کہ کوما میں چلے جانے یا موت کا باعث بن سکتے ہیں پرواز کے دوران طیارے کے نچلے حصے میں درجہ حرارت منفی 63 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

    18000 فٹ کی بلندی پر ہائیپوکسیا ہو جاتا ہے جس میں پورے جسم یا پھر اس کے کسی حصے کو آکسیجن نہیں ملتی اور اس کی وجہ سے کمزوری اور بینائی کے مسائل ہو جاتے ہیں 33000 فٹ کی بلندی یا اس سے زیادہ پر انسانی پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے مصنوعی فضائی دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے۔

    جب طیارہ 22000 فٹ کی بلندی پر پہنچتا ہے تو اس کے ذیلی حصے میں چھپے کسی بھی شخص کو ہوش میں رہنے میں مشکلات ہوتی ہیں کیوں کہ خون میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اس کے بعد جب چند ہزار فٹ کی اونچائی پر اس حصے کے دروازے طیارے کے پہیے نکالنے کے لیے کھلتے ہیں تو اس طرح چھپے افراد گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

    میزائل پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟ وضاحت کافی نہیں:وزارت خارجہ نے بھارتی

  • دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیا

    دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیا

    پرتگال : دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر کا نام سامنے آگیاپرتگال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے فٹبالر بن گئے۔

    رونالڈو نے یہ کارنامہ انگلش پریمیئر لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے ٹوٹنھم کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے سرانجام دیا اور ان کی ٹیم نے میچ دو کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا۔

    رونالڈو نے ٹوٹنھم کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے کیرئیر کی 59 ویں ہیٹ ٹرک مکمل کی جبکہ وہ گزشتہ 13 برسوں میں ہر سال ہیٹ ٹرک کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔

    37 سالہ فٹبالر فٹبالر دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں اور ان کے گولز کی تعداد 807 ہو گئی ہے۔

    فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے مطابق رونالڈ سے قبل سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز آسٹرین چیک فاروڈر جوزف بیکن کو حاصل تھا جن کے گولز کی تعداد 805 تھی تاہم ان کے گولز کی تعداد کے حوالے سے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بیکن کے گولز کی تعداد 805 سے کہیں زیادہ ہے۔

  • لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    لاہور سے لندن تک ، سب ایک صفحہ پر،تحریر: نوید شیخ

    ۔ اس وقت لندن اور لاہور میں ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں ۔ اندازہ ہے کہ یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں تو تبدیلی اسلام آباد میں ہوگی ۔ ۔ کیونکہ لندن میں بدھ کو علیم خان کی نواز شریف سے اور جمعرات کو جہانگیر ترین سے ملاقات ہوگئی ہے ان ملاقتوں میں کیا طے ہوا ؟۔ کل پاکستان ایک اندھے کنوایں گرتا گرتا بچا ہے ۔ جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں جو کچھ ہوا صورتحال مزید بھی خراب ہوسکتی تھی ۔ مگر حکومت نے ہوش کے ناخن لیے اور ممبران اسمبلی سمیت تمام گرفتار لوگوں کو رہا کر دیا ۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے ملک بھر میں احتجاجی کال واپس لے لے ۔ ورنہ رات سے ہی دیکھائی دینا شروع ہوگیا تھا کہ جمعہ کے روز پورا ملک بند ہوگا ۔ ۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا ایک آڈیو پیغام بھی چل رہا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکریہ کہ پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا، کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں۔ اب کارکنوں کی رہائی کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔۔ دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بندوں کو چھڑوانے کے لیے معافیاں مانگتے رہے۔ جے یو آئی کے کارکنوں اور ایم این ایز کو آج صبح شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

    ۔ جو بھی جیتا یا ہارا اس بحث سے ہٹ کر اچھی بات یہ ہے کہ لڑائی جھگڑا خوش اسلوبی سے ٹل آگیا ہے ۔ اب خبریں یہ ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک تک پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کی سیکورٹی کے معاملات رینجرز اور ایف سی دیکھیں گی ۔ ۔ دوسری جانب لندن سے اہم خبر سامنے آگئی ہے ۔ عبدالعلیم خان کی نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوگئی ہے ۔ یوں اب یہ خفیہ نہیں رہی ہے ۔۔ تفصیل اسکی کچھ یوں ہے کہ ملاقات نواز شریف کے گھر پر مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجےہوئی، یہ تین گھنٹے طویل ملاقات تھی۔ ۔ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے بیٹے بھی ملاقات میں موجود تھے۔ جبکہ لندن میں ہی موجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیرترین ملاقات میں موجود نہیں تھے۔۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت وزیراعلی پنجاب کو تبدیل کرنے سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں شخصیات نے نمبرنگ کیساتھ ساتھ تحریک عدم اعتماد وزیراعلی پنجاب کے خلاف لانے سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔۔ علیم خان نے نواز شریف کو بتایا کہ ان کے ساتھ تین سال میں کیا ہوتا رہا اور انکی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے ان کو کس طرح نشانہ بنایا۔ ۔ پھر ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ علیم خان نے پی ٹی آئی ایم پی ایز کو بھی ن لیگ کے ٹکٹ دینے کا کہا ہے ۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ پھر ن لیگ کے لوگوں کا کیا بنے تو اس حوالے سے فارمولہ یہ طے ہوا ہے کہ جو بھی لوگ دونوں جانب سے رہ جائیں گے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ۔ جبکہ علیم خان کی ن لیگ میں شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔۔ اب جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کا اکٹھے ایک دو روز میں پاکستان آنے کا امکان ہے، دونوں شخصیات پاکستان واپس آکر پاور شو کریں گی اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی جائے گی۔۔ جبکہ ق لیگ کی جانب سے اطلاعات ہیں کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وہ اعلان کر دیں گے کہ وہ کس کا ساتھ دیں گے ۔ جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ صورتحال مزید واضح ہوجائے گی ۔۔ پھر اس حوالے سے طارق بشیر چیمہ نے دعویٰ کیا ہےکہ وزرا نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم عثمان بزدار کو بدلنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے سوال کیا کہ ایسا کب ہوگا؟ جس پر وزرا نے بتایا کہ پہلے وفاق کی عدم اعتماد گزرجائے۔۔ ذرائع کے مطابق طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے وزرا سے کہا کہ کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے، کیسے یقین کر لیں کہ وفاق میں عدم اعتماد کے بعد حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ اپوزیشن کی جانب سے ہمیں وزیراعلیٰ کی پیشکش ہے مگر حکومت کی طرف سے ہمیں لولی پاپ ہے۔۔ طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم کو چیزیں سیریس لینا چاہئیں، انہوں نے انڈر 16 ٹیم میدان میں اتاری ہوئی ہے،ہمیں اگلے 48 گھنٹو ں میں فیصلہ کرنا ہے۔ پارٹی میں حتمی فیصلے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ۔ کل عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران بھی اس حوالے سے پہلے خبریں یہ ہی سامنے آئیں ۔ کہ عثمان بزدار کو ہٹا دیا جائے گا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان کسی صورت عثمان بزدار کو ہٹانا نہیں چاہتے ہیں ان کے خیال میں گھر جائیں گے تو اکٹھے جائیں گے اور حکومت کریں گے تو اکٹھے کریں گے ۔ اگر بہت ضروری بھی ہوا تو پھر بھی نیا وزیر اعلی پی ٹی آئی سے ہی ہوگا ۔ اس سلسلے میں کل عمران خان نے جس جس سے بھی ملاقات کی اس کو یہ ہی باور کروایا کہ آپ میرے ساتھ ساتھ عثمان بزدار کے ساتھ بھی کھڑے ہوں ۔ ۔ یوں پی ٹی آئی کی جانب بتایا یہ جارہا ہے کہ فی الحال اس کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک پر ہے اور وہ بزدار ایشو سے بعد میں نمٹے گی۔۔ پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے بات کی جائے توق لیگ کے ساتھ جیسے ہی علیم خان اور جہانگیر ترین واپس پہنچ کر اعلان کریں گے اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں ۔ البتہ جس طرح کے بیانات اور ملاقاتوں کی خبریں ق لیگ کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ عثمان بزدار کا گھر جانا طے ہے ۔ میرے حساب سے علیم خان اور جہانگیر ترین جتنا آگے جا چکے ہیں۔ یہاں سے واپسی ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کو اپنوں نے مروانا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ۔ ویسے تو عثمان بزدار بھی کافی ہاتھ پاوں مار رہے ہیں ترین گروپ کے بندے توڑنے کے بھی دعوے کیا جا رہا ہیں اس حوالے سے پوری خبر یہ ہے کہ جن کے حوالے سے دعوی کیا جا رہا ہے ۔ دراصل یہ لوگ علیم خان سے رابطے میں تھے ۔ ترین گروپ کے چھبیس یا ستائیس لوگ پورے ہیں ۔ دوسرا جو ایک اور دعوی حکومت نے کیا کہ چارسے پانچ ایم پی ایز ہم نے ن لیگ کے بھی توڑ لیے اور عمران خان سے ان کی ملاقات بھی کروادی ہے ۔ یہ تو چار لوگ وہ ہی ہیں جو کافی عرصے سے ن لیگ سے منحرف ہیں اور عثمان بزدار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی کرسی کی بات کی جائے تو ق لیگ کی طرح ایم کیو ایم بھی کنفیوز دیکھائی دیتی ہے ۔ ایک جانب وہ حکومتی اتحادی ہیں مگر اگلے الیکشن پر بھی ان کی نظر ہے اس لیے خبریں یہ ہیں کہ ایم کیو ایم والے پیپلز پارٹی سے یقین دہانیاں مانگ رہے ہیں۔۔ کہا جارہا ہے کہ آصف زرداری نے چوہدریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرے گی اور جتنا ممکن ہو سکا اتنے مطالبات پورے کرے گی۔ پھر جی ڈی آے اور باپ والوں کو بھی زرداری صاحب نے قابو کیا ہوا ہے ۔۔ شاید اسی لیے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے بعد آصف زرداری کو اپنا ٹارگٹ نمبرون قراردیا ہوا ہے۔

    ۔ میں اس سلسلے میں یاد کروادوں کہ آصف زرداری نےانتخابی طاقت کےباوجودبلوچستان میں مسلم لیگ ن کےخلاف ہواکا رخ موڑا تھا ۔ پھر موجودہ دور میں جیسے سینٹ میں یوسف رضاگیلانی کو منتخب کروایا۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔۔ یوں عمران خان اب سمجھتےہیں کہ تحریک عدم اعتمادکے ماسٹر مائنڈ آصف زرداری ہیں اوروہ یہ بھی سمجھتےہیں کہ زرداری ٹیبل پرچیزوں کوبدل سکتے ہیں۔۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چودھری وزیراعظم سے زیادہ آصف زرداری پر اعتماد کرتے ہیں۔ ۔ اگرچہ ترین گروپ، ق لیگ اور ایم کیو ایم والے اپوزیشن کی طرف مائل نظر آ رہے ہیں اور حکمران جماعت کے مخالفین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔۔ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو پی ٹی آئی حکومت کا شیرازہ بکھیرتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ایک منظم طریقے سے اپنے اپنے وقت پر ہر عمل ہوتا جا رہا ہے۔۔ مثالیں آپکو دے دیتا ہوں فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ یہ بات کھل کرسامنے آچکی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی سپورٹ کے عوض ن لیگ نے حکومت سے منحرف اراکین کو اگلے عام انتخابات میں ٹکٹ کی یقین دہانی کروادی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ضرور ہوگا ۔ مگر کیا آپ نے سوچا کہ یہاں بھی ن لیگ کی صفوں میں کوئی کھلبلی نہیں مچی، کسی نے ناراض ہو کر کسی پریس کانفرنس کا اہتمام نہیں کیا اور پارٹی میں کوئی فارورڈ گروپ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بھی بھرپور طریقے سے سرگرم ہے اور حکومت کی جانب سے اٹھارہ سے بیس کروڑ روپے فی حمایت لینے کا الزام حکومت اس کی قیادت پر لگارہی ہے۔ تاہم حکومت اس الزام پر کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے اور عوام مہنگائی اور بیڈ گورننس سے اس قدر تنگ ہیں کہ حکومت کے اس الزام کا کوئی اثر نہیں لیا ہے اور میڈیا کاموڈ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ ۔ اپوزیشن کی تیسری بڑی شخصیت مولانا فضل الرحمٰن کا ٹکٹ چلا ہے نہ پیسہ، البتہ تیل میں ڈبوئی ہوئی لاٹھیوں کے بیان نے کام کردکھایا ہے۔ جبکہ عملی مظاہرہ اس کا ہم گزشتہ روز دیکھ چکے ہیں ۔ یوں متحدہ اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پی ٹی آئی کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔

    ۔ دوسری جانب عمران خان اس وقت agitationکی سیاست جانب بڑھتے دیکھائی دے رہےہیں ۔ کیونکہ حکومت نے ڈی چوک پر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جبکہ شہباز گل کا کہنا ہے کہ خان کسی وقت بھی آپ کے سامنے ایک ایسا سچ لائے گا کہ ان ضمیر فروشوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، پوری قوم انہیں جوتے مارے گی۔۔ اس حوالے سے پورا سچ یہ ہے کہ کپتان نے آج سے پہلے جتنے بھی میچ کھیلے ہیں اس میں اس کو ایمپائر کی مدد حاصل رہی ہے یہ پہلی بار ہے کہ ان کو اپنے زور بازو پر یہ میچ کھیلنا پڑ رہا ہے ۔ اوپر سے یہ میچ بھی ٹیسٹ میچ ہے۔ پھر گروانڈ میں موجود تماشائی یعنی عوام بھی اس بار ٹیم سے بدظن دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ مخالف کمیپ سے سیاست کے بڑے ہی منجھے ہوئے کھلاڑی میدان میں موجود ہیں جو کپتان کی تیزی سے ان سوئنگ اور آوٹ سوئنگ ہوتی گیندوں کو بڑی مہارت سے باونڈری لائن کے باہر پہنچا رہے ہیں ۔ یوں میچ اس وقت ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔