Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    لاہور:پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام ،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز کا کہنا ہے کہ خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں۔

    آسٹریلیا کی ٹیم 24 سال کے طویل عرصے بعد آج صبح اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچی تھی جہاں سے ٹیم کو سخت سکیورٹی میں ہوٹل لے جایا گیا۔آسٹریلوی کھلاڑی دو روز تک بائیو سکیور ببل میں رہیں گے اور پھر تمام کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے جس کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں میں حصہ لے سکیں گے۔

    آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے پاکستان پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں کو سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات تھے لیکن کرکٹ آسٹریلیا نے یقین دلایا کہ انہیں بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    پیٹ کمنز کا مزید کہنا تھا کہ میں خود کو پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ محسوس کر رہا ہوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ہمارا بہت اچھا خیال رکھا جا رہا ہے، جب ہم پہنچے تو بہت زیادہ سکیورٹی موجود تھی، ہمیں جہاز سے اتارنے کے بعد سیدھا ہوٹل پہنچایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بہترین سکیورٹی انتظامات کے باعث ہمیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور تمام کھلاڑیوں کی پوری توجہ کرکٹ پر ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پہنچنے والے کھلاڑیوں میں کپتان پیٹ کمنز کے علاوہ اسٹیو اسمتھ، مارنس لبوشین، جوش ہیزل ووڈ، مچل مارش، عثمان خواجہ، ناتھن لیون، مچل اسٹارک اور دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔

    آسٹریلین ٹیم دو روز بائیو سکیور ببل میں رہے گی اور دو روز بعد کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ ہوں گے۔

    کورونا ٹیسٹ منفی آنے والے کھلاڑی پریکٹس سیشن میں حصہ لیں گے اور دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 4 مارچ سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا جائے گا

  • سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:     پتے لگ جان گے

    سلطانزیا قلندرز:پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا: پتے لگ جان گے

    لاہور: سلطانز یا قلندرز: پی ایس ایل سیون کا چیمپئن کون ہوگا:پتے لگ جان گے ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کا چیمپئن کون ہو گا، فیصلے کا دن آ گیا۔ ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں ٹائٹل مقابلے میں آج مدمقابل ہوں گی، کپتان محمد رضوان اور شاہین آفریدی نے جیت پر نظریں جما لیں۔

    زندہ دلان کے شہر میں کرکٹ کی زندہ دلی کا آج فیصلہ کن دن ہے، دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز آمنے سامنے ہو رہے ہیں، ٹائٹل کی جنگ قذافی سٹیڈیم کے تاریخی میدان میں شام ساڑھے سات بجے شروع ہو گی۔ فاتح ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے، رنر اپ کو تین کروڑ بیس لاکھ روپے انعامی رقم دی جائے گی.

    گذشتہ روز آرام کے دن بھی ٹیمیں فُل ایکشن میں رہیں، نیٹ پریکٹس، بیٹنگ، بولنگ کے سیشن کئے گئے۔ چھوٹے فارمیٹ کے بڑے مقابلے میں زورکا جوڑ ہو گا، رش بھی کھڑکی توڑ ہو گا۔

    چھکے چوکے اور وکٹیں دیکھنے کے لیے پرستار، انتظار میں بے قرار ہیں۔ لاہور قلندرز کو میزبان ہونے کا مان ہے تو ملتان سلطانز بھی گذشتہ سال کی چمپئن ہے۔ رواں سیزن میں دونوں ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں، لاہور کی ٹیم ایک بار فاتح رہی، آخری پانچ میچز میں سے چار بار ملتان سلطانز ہی جیتے۔ آج فتح پانے کے لیے کپتان رضوان اور شاہین خان پرعزم ہیں تو پرستار بھی پرجوش ہیں ۔

    یاد رہے کہ آج فائنل میں جیتنے والے کو ملنے والے انعام پر بھی بحث چل پڑی ہے اور کہا جارہاہے کہ جو پی ایس ایل کے پچھلے 6 ایڈیشنز تک لیگ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو 5 کروڑ روپے کی انعامی رقم دی جاتی رہی ہے۔

    تاہم اس بار انعامی رقم میں 3 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس بار جیتنے والی ٹیم کو 8 کروڑ روپے ملیں گے جب کہ رنرز اپ ٹیم کو 3کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

  • کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    غریبوں کے بچے خواب دیکھنے کی بجائے زندہ رہنے کے لئے مزدوری کررہے ہیں اور پیسے اور وسائل پر چند فیصد لوگ برا جمان ہیں اور اس کے برعکس غریب دیہاڑی کے لئے ترس رہا ہے
    حقیقت یہی ہے پاکستان میں سرمایہ داروں نے حکمرانوں نے جم کے ترقی کی.
    ترقی تو وہ ہوتی ہے جس میں عوام کو سہولیات میسر ہوں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو.
    پر
    جہاں کچرے سے کاغذ چن کے انکو بیچ کر بھوک مٹائی جائے وہاں ترقی نہیں ہوتی.
    میں روز صبح کام پر جاتے ہوئے دو معصوم بچوں کو دیکھتی ہوں جن کے نازک کندھوں پر پرانا تھیلا لٹکا ہوتا ہے
    معمول کے مطابق جب میں بس سٹاپ پر پہنچی تو پتا چلا کہ گاڑی لیٹ ہے اس لئے میں پیدل چلنے لگی تو وہی بچے میرے سامنے تھے جن کو میں روز دیکھتی تھی
    ان میں سے ایک بچہ لگ بھگ 7 سال کا تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چن رہا تھا اور اسکا وہ معصوم چھوٹا بھائی بھی اپنے کام میں ماہر لگ رہا تھا.
    میں ان کے قریب گئی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس معصوم کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے اور اس سردی میں بنا جوتوں کے وہ کچرے میں سے کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے تھیلے میں جمع کر رہے تھے, میں نے اس چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ میں لے آئی تو اس کا 7 سالہ بھائی کسی محافظ کی طرح میرے پاس آیا اپنے بھائی کا ہاتھ چھڑایا اور چل نکلا
    میں نے کہا بیٹا اس کے جوتے کہاں ہیں ؟
    تو اس نے نفی میں سر کو ہلا کے جواب دے دیا
    آپ کا نام کیا ہے پر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے چل پڑا

    وہاں کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ ادھر پاس ہی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں باپ دیہاڑی لگاتا ہے اور یہ بچے ہر روز کاغذ چنتے ہیں پھر کباڑ میں فروخت کرکے جو پیسے ملتے ہیں گھر لے جاتے ہیں.
    یہ سن کر میں تیز قدموں سے ان کے پاس پہنچ گئی جو سڑک کے کنارے ایک کوڑے دان کے پاس کھڑے تھے پر کوڑے دان ان کے قد سے بڑا تھا
    میں نے بڑے بچے کو پیار سے کہا بیٹا آپکے بڑے بہن بھائی ہیں تو پھر اس نے نفی میں سر ہلایا
    کتنے پیسے اس ردی کے مل جاتے ہیں میں نے اس کے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا 50 روپے.
    میں نے 100 روپے کا نوٹ اس بچے کو دکھاتے ہوئے کہا یہ آپ کی کمائی, اب آپ گھر جائیں ٹھنڈ بہت ہے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پیسے لے لیے.

    یہ بچے جب بڑے ہونگے تو ان کو اپنا بچپن یاد ہوگا ؟
    کیا ان بچوں کی پسند نا پسند نہیں ؟
    کیا ان کے خواب نہیں ؟
    بالکل ہیں اور ہونگے کیونکہ والدین کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے ایک قابل اور کامیاب انسان بنیں مگر اپنی غربت کے ہاتھوں وہ اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں. کئی ایک ایسے ہیں جو خود مشکل سے گزر بسر کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں مگر ڈگری پاس ہونے کے باوجود اس کو کہیں اچھی نوکری نہیں ملتی.
    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کو ملی جو ایم ایس سی ریاضی ہے پر دو وقت کی روٹی کے لئے خاکروب کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوگیا ہے. تین سال مسلسل نوکری کی تلاش کے باوجود اسے مایوسی ہوئی اور مایوس ہونے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں خاکروب کی نوکری کرلی وہ بھی صرف ڈیلی ویجز پر.
    ملک میں اب بھی کئی لوگ جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف کئی کنال پر مشتمل محلوں میں کچھ خاندان بستے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟
    معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھتا جارہا ہے مسلسل مہنگائی نے ناصرف غریب کی کمر توڑی ہے بلکہ امیر اور غریب کے اس فرق کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے .
    @Rehna_7

  • ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے …تحریر: نوید شیخ

    سب سے پہلے تو اپنے تمام تر ریاستی جبر اور حکومت زور کے باوجود محسن بیگ کی آج ضمانت منظور ہوگی ہے ۔ کیونکہ جس طرح پولیس نے میڈیکل رپورٹ تبدیل کی ۔ ڈی وی آر پولیس کی موجودگی میں ایف آئی اے لے گئی، گرفتاری کے بعد بھی بار بار محسن بیگ کے گھر پر جو چھاپے مارے گئے اس کے بعد بھی ضمانت ہوجانا اس چیز کا ثبوت ہے کہ حکومت تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کچھ بھی ثابت نہ کرسکی ۔ میں اس معاملے پر صرف گزشتہ سماعت کا ذکر کروں گا جس میں محسن بیگ کو جب عدالت پیش کیا گیا تو اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ بیگ صاحب آپ کے پاس کوئی ویڈیو ہے عمران خان کی؟ جس کے جواب میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہ ویڈیو تو نہیں ہے صرف اتنا کہوں گا کہ خان تُو تو گیا۔ پاکستانی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا معاملات طے پا گئے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا سوال جو زہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کس کے کس سے معاملات طے ہوگئے ہیں ۔

    فی الحال جو دیکھائی دے رہا ہے کہ معاملات طے ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت قطعی طورپرغیر جانبدار یعنی نیوٹرل ہوچکی ہے ۔ جوکہ اپوزیشن کی تیزیوں اور اتحادیوں کے ساتھ میل ملاپ سے بھی دیکھائی دے رہا ہے ۔ امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد مارچ کے دوسرے ہفتے میں پیش ہو جائے۔ گزشتہ رات مونس الہی کی اسد قیصر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے پہلے تو یہ ہی اطلاعات تھیں کہ مسلم لیگ ق اور ترین گروپ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے نہ صرف آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ چوہدری پرویز الٰہی کو اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کو بھی اس پر جلد آمادہ کر لیا جائے گا۔ آئندہ دو تین دن میں شہباز شریف نے اس حوالے سے جواب بھی دینا تھا۔ مگر جیسے پہلے ایک اہم موقع پر مونس الہی نے تقریر کرکے اپوزیشن کی امیدوں پر پانی پھیرا تھا اب پھر سے انھوں نے اسپیکر اسد قیصر سے کہا ہے کہ سیاسی بات چيت اور مشاورت جاری ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فیصلہ کیا گيا ہے، وہ اپنے وعدوں کے پابند ہیں اور مکمل احترام کریں گے۔

    ۔ دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں مونس الٰہی نے اسد قیصر کو یقین دلایا کہ حکومت کے اتحادی ہیں اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن سے تعاون کی یقین دہانی کا غلط تاثر دیا جا رہا ہے، اپوزیشن رہنماؤں سے مسلم لیگ ق کے رہنماؤں کی ملاقاتیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ اس بیان کے بعد جو چیز سمجھ آئی ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن ان کے ساتھ ساتھ اتحادی بھی کچھ کم نہیں وہ بھی کریز کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں ۔ اور ریٹ لگوارہے ہیں کہ کہاں سے بہتر آفر ملتی ہے ۔ اور ڈیل مزید سے مزید بہتر ہوتی ہے تو کرلیا جائے ۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہوچکی ہے تو یہ اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھ سکتا ہے ۔ مسئلہ صرف ڈیل کا ہے کہ کون کتنی اچھی ڈیل سے اتحادیوں کو نواز سکتا ہے ۔ فی الحال جو اپوزیشن کا پلان ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ پہلے پیپلزپارٹی کو دینے پر مسلم لیگ ن آمادہ تھی لیکن اب پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اگر پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دی جائے تو وزیراعظم مسلم لیگ سے ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف چونکہ پہلے تحریک اعتماد لانے پر اتفاقِ رائے ہوچکا ہے۔ اس لیے ممکنہ طور پر اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی طرف سے ہوسکتا ہے۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا تو طے ہے لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے پر بھی بات چیت ہورہی ہے اور مبینہ طور پر ایسا ہونا بھی نہیں ہے۔

    دوسری طرف مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کا بھی امکان ہے۔ یہ فیصلہ نہایت اہم ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات تحریک عدم اعتماد وغیرہ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ کب ہوگا کیسے ہوگا کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ اتنی رازداری میں نے پہلے نہیں دیکھی ۔ حالانکہ اس بار تو لگتا ہے کہ حکومت کی اپنی ایجنسیاں بھی چوہا رپورٹس نکلوانے میں ناکام ہوگی ہیں ۔ دراصل اس کی وجہ ہے ۔ کہ اپوزیشن آپ میں بھی اور جس سے بھی ملاقات کررہی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر۔۔ کررہی ہے ۔ ٹیکنالوجی جیسے فون ، واٹس ایپ وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے کہ کہیں کوئی چیز ٹیپ نہ ہوجائے ۔ اس لیے اصل پلان ہے کیا اور یہ کب سامنے آئے گا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے ۔ اب تک جتنی بھی چیزیں سامنے آئی ہیں یہ حالات اور خبروں کو دیکھتے ہوئے تجزیہ ہے یا پھر اندازے جو کہ غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ مگر یہ غلط ہو یا صحیح اپوزیشن کے میل ملاپ نے حکومت کی راتوں کی نیند اڑ کر رکھ دی ہے ۔ کم ازکم اب یہ اپنے ایم این ایز ، ایم پی ایز اور اتحادیوں کی بات بھی سننے پر مجبور ہوچکی ہے۔ اور ان کے کام کرنے کو بھی راضی دیکھائی دیتی ہے ۔ ۔ یہاں تک کہ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ حکومت ایم کیو ایم کو گورنر سندھ اور مزید ایک وزارت دینے تک کو راضی ہے ۔ ایسی ہی عمران خان صاحب پنجاب میں عثمان بزدار تک کی قربانی دینے کو تیار ہیں ۔ کہ وزارت اعلی پنجاب کا تاج دینے سے ق لیگ راضی ہوتی ہے تو ان کو کرلیا جائے ۔ پر اگر حکومتی اراکین یا اتحادی حکومت سے راضی نہیں ہوپاتے تو ذرائع کے مطابق پلان یہ ہے کہ حکومت کے یہ اراکین اسمبلی اجلاس میں جو عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے بلایا جائے گا اس میں اپنے استعفے پیش کریں گے ۔ عین اسی وقت اپوزیشن وزیراعظم سے کہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ پھر وزیراعظم کے لیے اعتماد کا ووٹ لینا مشکل ہو جائے گا۔ مگر اس فارمولے میں قباحت یہ ہے کہ اسپیکر اسمبلی استعفی کو قبول نہ کرے ۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حکومتی ممبران اس دن غائب ہوجاتے ہیں یعنی اسمبلی پہنچ ہی نہیں پاتے ۔ اور اپوزیشن اتحادیوں کے ساتھ نمبر گیم کو پورا کرکے وار کردے ۔

    مگر اس حوالے سے بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت یہ سب کچھ کرنے دے گی۔ کیونکہ اجلاس کے بارے میں پہلے سے ہی کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی ہال کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے، اس لیے وہاں اجلاس کا انعقاد مشکل ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ آئینی طور پر اسمبلی کا اجلاس کہیں اور منعقد ہوسکتا ہے یانہیں؟۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس تحریک کو پیش کرنے کیلئے اجلاس بلانے کی تاریخ مقرر ہونے کے فوری بعد یا اس سے قبل بڑے پیمانے پرگرفتاریاں شروع کردے۔ جن میں بعض اہم شخصیات بھی شامل ہوسکتی ہیں تاکہ عدم اعتماد کی تحریک وغیرہ تک بات ہی نہ پہنچ سکے۔ لیکن اس سے اپوزیشن کو مزید کھیلنے اور حکومت کے کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔۔ یوں اگر حالات کو دیکھا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دنوں نے اپنی تیاری پوری رکھی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن متحرک ہے تو سو ہم بھی نہیں رہے۔ ایک فارمولہ یہ بھی ہے کہ صدر پاکستان کے موخذاے ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد اور دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب کے خلاف عدم اعتماد ایک ساتھ پیش کر دیا گیا تو پھر سب کا جانا طے ہوگا ۔ ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے یا حکومتی جماعت کے اراکین کے استعفے پیش ہو جائیں تو حکومت کے پاس وہ کون سا آپشن ہے جس کی بنا پر وہ تیار ہے ۔ تو وہ آپشن صرف ایک ہی ہے کہ وزیراعظم کو چونکہ پارلیمنٹ کی طرف سے اعتماد حاصل نہیں اس لیے وہ اسمبلی توڑنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جس کے بارے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے تقریبا تمام ہی جید صحافی رپورٹ کرچکے ہیں کہ کپتان نے چپکے سے دو فائلوں پر دستخط کرواکررکھ لیے ہیں ایک کسی اہم تعیناتی بارے ہے تو دوسری قومی اسمبلی سے متعلق۔۔۔ ۔ پر یاد رکھیں اصل کھیل تو تب شروع ہوگا جب یہ حکومت گھر جائے گی ۔ ابھی توصرف ٹریلر چل رہا ہے پوری فلم تو باقی ہے ۔

  • فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے

    لاہور:فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہوگئے ,اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ کے پہلے سپر اسٹار، فضل محمود باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی فیصل حسنین نے ہال آف فیم کی اعزازی ٹوپی فضل محمود مرحوم کی صاحبزادی شائشہ محمود اور اور اعزازی پلاک ان کے صاحبزادے شہزاد محمود کو دی۔یہ تقریب 25 فروری بروز جمعہ کو شیڈول ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر سے قبل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوئی۔

    فضل محمود پاکستان کے وہ پہلے کرکٹر تھے جنہیں 1955 میں وزڈن کے فائیو کرکٹرز آف دی ایئرز میں شامل کیا گیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے 1954 میں دورہ انگلینڈ میں چار ٹیسٹ میچز میں 20 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سال 1952 میں بھی ان کی شاندار باؤلنگ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے بھارت کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر شکست سے دوچار کیا تھا۔

    پاکستان کی جانب سے 34 ٹیسٹ میچز میں 139 وکٹیں حاصل کرنے والے فضل محمود کوحسن کارکردگی پر 1958 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا ،یہ پاکستان کا سب سے بڑا قومی اعزاز ہے ۔ 2012 میں انہیں ہلال امتیاز (پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ) دیا گیا۔

    فیصل حسنین، چیف ایگزیکٹو پی سی بی:

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل حسنین نے کہا کہ وہ فضل محمود کو باضابطہ طور پر پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود مرحوم کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کا کوئی جوڑ نہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند کے بعد بھارت کی نمائندگی سے دستبردار ہوکر پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کو ترجیح دی۔

    فیصل حسنین نے کہا کہ فضل محمود نےبڑی ٹیموں کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کو دنیائے کرکٹ کے افق پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل محمود کی شخصیت نے پاکستان کی ایک بڑی نسل کو کرکٹ کی طرف راغب کیا، بعدازاں ان نوجوانوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فضل محمود کو ہمیشہ ایک عظیم کھلاڑی کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

    شہزاد محمود، صاحبزادہ فضل محمود:

    فضل محمود مرحوم کے صاحبزادے شہزاد محمود کاکہناہے کہ ان کے والد، فضل محمود پاکستان کرکٹ کے پہلے ہیرو اور حقیقی روشن ستارے تھے۔انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرنے پر ہمیشہ فخر محسوس کیا اوروہ اکثر اپنے کرکٹ کیرئیر کے دنوں کی حسین یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔

    شہزاد محمود کا کہنا ہے کہ فضل محمود نے ریٹائرمنٹ کے بعدبھی پاکستان کرکٹ سے بھرپور وابستگی رکھی۔اپنے اہلخانہ کی طرف سے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشکور ہیں جنہوں نے فضل محمود کو پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کیا۔

  • اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    اعصاب شکن مقابلے کےبعد اسلام آباد کو شکست، لاہور قلندرز نے فائنل میں جگہ بنالی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی جہاں پر ان کا مقابلہ ملتان سلطانز کے ساتھ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے ایلمینٹر میچ میں لاہور قلندرز کی کپتانی شاہین شاہ آفریدی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی شاداب خان کر رہے تھے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے دوسرے ایلیمینٹر میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 6 رنزسے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں رسائی حاصل کرلی۔ آخری اوور میں 27 رنز اسکور کرنے والے ڈیوڈ ویزے نے اسلام آباد کی اننگزکے آخری اوور میں 8 رنز کا کامیابی سے دفاع کرکے اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    فاتح ٹیم 27 فروری کو ایونٹ کے فائنل میں ملتان سلطانز کے مدمقابل آئے گی۔

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 162 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ابتدائی چار بیٹرزشاہین شاہ آفریدی اور زمان خان کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے بے بس نظر آئے اور محض 46 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ پال اسٹرلنگ 13، ول جیکس صفر، شاداب خان 14 اور لیام ڈاسن 12 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    تاہم اعظم خان نے ایلکس ہیلز کے ہمراہ ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتےہوئے 79 رنز کی شراکت قائم کرکے اسلام آبادیونائیٹڈ کی دم توڑتی امیدوں کو روشنی بخشی۔ اعظم خان 28 گیندوں پر 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایلکس ہیلز 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 2 چوکے شامل تھے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 8 رنز درکار تھے۔پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنانے والے محمد وسیم جونیئر تیسری گیند پر ڈبل لینے کی کوشش کے دوران رن آؤٹ ہوکر پویلین واپس لوٹے تو میچ دلچسپ ہوگیا۔نئے آنے والے بیٹر وقاص مقصود بھی پہلی ہی گیندپرمڈ وکٹ باؤنڈری پر عبداللہ شفیق کے ہاتھوں کیچ دے بیٹھے۔

    حارث رؤف، زمان خان اور شاہین آفریدی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ ڈیوڈ ویزے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    اس سے قبل لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے ان فارم بیٹر فخر زمان ایک کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ دوسرے اوپنر فل سالٹ بھی دو اسکور بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    ایسے میں نوجوان بیٹر عبداللہ شفیق نے لاہور قلندرز کی کمان سنبھالی اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 3 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 52 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے۔انہوں نے کامران غلام کے ہمراہ 73 رنز کی شراکت قائم کی۔ کامران غلام 30 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    مڈل آرڈر بیٹر محمد حفیظ نے 28 اور سمت پٹیل نے بھی 21 رنزبناکر بیٹنگ لائن کو سہارا دیاتاہم ڈیوڈ ویزے نے اننگز کے آخری اوور میں وقاص مقصود کو ایک چوکا اور 3 چھکے لگا کر ٹیم کا مجموعہ 168 تک پہنچایا۔ وہ 8 گیندوں پر 28 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لیام ڈاسن اور محمد وسیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور وقاص مقصود نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    لاہور قلندرز سکواڈ:

    فخر زمان، عبد اللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ہیری بروک، فل سالٹ، سمٹ پٹیل، ڈیوڈ ویزے، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، زمان خان

    اسلام آباد یونایئٹڈ سکواڈ:

    ایلکس ہیلز، وِل جیک، سٹرلنگ، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، محمد وسیم، لیام ڈاؤسن، حسن علی، اطہر محمود، وقاص مقصود

  • دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    دنیا پھر سے دوبلاکس میں بٹ گئی، تحریر: نوید شیخ

    یوکراین اور روس کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت پیوٹن نے روسی فوجیوں کو یوکرائن علاقوں میں داخل ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ ۔ تو یوکرائن کی سیکیورٹی کونسل نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی یوکرائنی وزیر خارجہ نے یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کو روس کے خلاف اسلحہ کی ترسیل مزید تیز کریں۔ ۔ حالات کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر یوکرائن نے روس میں رہنے والے اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور اپنے شہریوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ روس نہ جائیں۔۔ یوکرائن کے اردگرد اگر صورتحال کی بات کی جائے تو اسکی سرحد پر جمع روسی فوجیں، ٹینکوں، توپ خانوں، ہوائی جہازوں سے لیس ہیں اور انھیں بحریہ کی مدد بھی حاصل ہے۔۔ یوں یوکرائن کے گرد جمع فوجیوں کی تعداد کے اندازوں میں یوکرینی سرحد، بیلاروس اور مقبوضہ کریمیا میں موجود فوجیوں کے علاوہ نیشنل گارڈز، ملکی گارڈز اور مشرقی یوکرائن میں روسی حمایت یافتہ باغی بھی شامل ہیں۔

    ۔ اس حوالے سے برطانیہ کے وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ روس کی کل افواج کا 60 فیصد حصہ یوکرائن کی سرحد اور بیلاروس میں موجود ہے۔ یوکرائن کے وزیر دفاع نے ان فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 49 ہزار بتائی ہے۔۔ آپکو یاد ہو تو گذشتہ ہفتے روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس کی کچھ افواج نے جنوبی اور مغربی فوجی اضلاع میں اپنی مشقیں مکمل کر لی ہیں اور وہ اب واپس بیرکوں میں جا رہے ہیں۔ لیکن نیٹو نے کہا ہے کہ اس نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیکھا ہے۔ ۔ پھر سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی یونٹ اب چھوٹے گروپوں میں بٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ سرحد کے قریب جنگلوں میں درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی روسی افواج کو ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو حملے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان سہولیات میں فیلڈ ہسپتال، مرمتی ورکشاپس، اور کیچٹر ہٹانے والا ساز و سامان شامل ہے۔ ۔ پھر روس نے سکندر میزائل راکٹ لانچر اور سپیشل آپریشن فورسز اور ایئر ڈیفنس کے نظام کو بھی تعینات کردیا ہے۔۔ اس کے علاوہ روس پوری دنیا میں، بحراوقیانوس سے لے کر بحرالکاہل تک بحری مشقوں میں مصروف ہے۔ ان مشقوں میں اسکی بحریہ کے چالیس جنگی اور معاون جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ طیارے اور دس ہزار فوجی شامل ہیں۔ جو روسی جنگی جہاز انگلش چینل سے گزرا تھا وہ بھی Black Sea اور Sea of ​​Azu میں موجود ہے۔ یہ جہاز ٹینکوں اور آرمرڈ گاڑیوں کو میدان جنگ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔Black Sea میں موجود نو جنگی جہاز کروز میزائل سے لیس ہیں۔ اس کے چار بحری جہاز جو کروز میزائل سے لیس ہیں وہ Caspian Sea میں موجود ہے۔

    اس تیاری سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روس نے پانی اور خشکی میں حملہ کرنے والے جہازوں کو کریمیا کے مشرق اور مغرب میں تیار کر رکھا ہے۔ یوں روس یوکرائن پر مشرق، شمال اور جنوب سے چڑھائی کرتے ہوئے پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے ۔ ۔ مگر کئی فوجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یوکرائن پر بڑے حملے اور اس کے بعد اس پر مکمل یا کچھ حصوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے روس کو اس سے زیادہ فوجیوں کی ضرورت ہو گی جو اس نے اس وقت جمع کر رکھی ہیں۔۔ کیونکہ یوکرائن نے بھی اپنی فوج بنا لی ہے اور اس کے علاوہ روس کو عوام کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔۔ اسی حوالے سے امریکی فوج کے چیف آف سٹافmark milley کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی تعداد کے پیش نظر صورت حال انتہائی ہولناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور شہری علاقوں کے گلی کوچوں میں لڑائی ہو سکتی ہے۔
    ۔ پھر مغربی ملکوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا لڑاکا دستوں کو یوکرائن بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور روس کی کارروائی کے خلاف صرف اقتصادی پابندیوں ہی کا سہارا لیا جائے گا۔۔ نیٹو ملکوں نے یوکرین کو مدد کا یقین دلایا ہے لیکن وہ صرف فوجی مشیروں، ہتھیاروں اور فوجی ہسپتالوں تک ہی محدود ہے۔ اس وقت پانچ ہزار فوجی بلکان کی ریاستوں اور پولینڈ میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ چار ہزار مزید فوجیوں کو رومانیہ، بلغاریہ، ہنگری اور سلواکیہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔۔ روس کے رہنماؤں کے پاس دوسرے ممکنہ اقدامات میں غالباً یوکرائن کی فضاؤں میں پروازوں پر پابندی، بندرگاہوں کا محاصرہ اور جوہری ہتھیاروں کی ہمسایہ ملک بیلاروس میں تعیناتی شامل بھی ہوسکتے ہیں۔۔ روس یوکرائن پر سائبر حملے بھی کر سکتا ہے۔ یوکرائن کی حکومت کی ویب سائٹ جنوری میں بیٹھ گئی تھی اور فروری کے وسط میں یوکرائن کے دو سب سے بڑے بینک حملوں کی زد میں آئے تھے۔۔ پابندیوں کی بات کی جائے تو اس حوالے سے مغربی ممالک کا شدید ردِ عمل سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ امریکہ ، یورپ سمیت دیگر اتحادیوں نے پہلے مرحلے میں روس پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں ۔ سب سے بڑی ڈویلپمنٹ اس سلسلے میں یہ ہے کہ جرمنی نے روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے ۔ ۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ مالیاتی منڈیوں تک روسی رسائی کو محدود کر دے گا۔۔ پھر ایک بیان میں آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ تمام شراکت داروں سے مل کر روس کیخلاف کھڑے ہوں گے، پابندیوں میں کچھ روسی افراد پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ روس پر سفری اور مالیاتی پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔۔ جبکہ جاپان نے بھی روس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی بانڈز کے اجراء پر پابندی اور بعض روسی افراد کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے گا۔۔ تو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل Antonio Guterres نےروس کے حالیہ اقدامات کو یوکرائن کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ ۔ پھر روس پر مالی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ اب مغربی ممالک کی جانب سے روس میں سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے دو روسی بینکوں VEB اور روسی ملٹری بینک پر تجارتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے اہم روسی شخصیات اور خاندانوں کے اثاثوں پر بھی پابندیاں متوقع ہیں۔ ۔ پھر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ پابندیاں روس کے یوکرائن پر حملے کی شروعات ہیں، روس سے جنگ کا کوئی ارادہ نہیں لیکن امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو یوکرائن کی حدود کے ہر انچ کا دفاع کریں گے۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرائن کا ایک بڑا حصہ الگ کرنے کا اعلان، روسی حملے کا آغاز ہے، اس لیے یوکرائن کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھیں گے۔۔ ساتھ ہی جوبائیڈن نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس نے یوکرائن کے خلاف مزید اقدامات کیے تو امریکہ روس پر پابندیاں بڑھاتا رہے گا۔ یعنی ان پابندیوں سے روسی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جائے گا۔

    ۔ پابندیوں کا انتہائی قدم روس کے بینکنگ نظام کو بین الاقوامی Swift ادائیگی کے نظام سے منقطع کرنا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے امریکی اور یورپی معیشتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔۔ دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ روس ابھی بھی مغربی ممالک کے ساتھ ۔۔۔ سفارتی حل ۔۔۔ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ۔ اس تمام بحران نے بھارت کو بھی کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ تاریخی طور پر انڈیا یوکرائن کے معاملے پر ہمیشہ روس کے ساتھ رہا ہے مگر 2014 کے مقابلے میں اب حالات مختلف ہیں۔ کیونکہ لداخ والے معاملے کو ذہن میں رکھیں تو انڈیا کوچین کے مقابلے میں نہ صرف روس کی بلکہ امریکہ اور یورپ کی بھی ضرورت ہے۔ مگر روس اور مغرب کے دیگر ممالک اس وقت یوکرائن کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کسی فریق کی حمایت کر سکتا ہے نہ ہی خاموش تماشائی بنا رہ سکتا ہے۔ کیونکہ ایک جانب بھارت کے معاشی مفادات ہیں تو دوسری جانب فوجی معاملات میں روس پر انحصار ہے۔ ۔ پھر انڈیا اور امریکہ کے تعلقات 2014 کے مقابلے میں مضبوط ہوئے ہیں۔ اب وہ امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔ اس لیے دہلی پر پہلے سے زیادہ دباؤ ہے۔ اس لیے روس یوکرائن کا تنازعہ جیسے جیسے مزید بڑھے گا تو یہ انڈیا کے لیے بہت بری صورتحال ہو گی۔۔ اس وقت بھارت کسی کے حق میں بھی کو ایسا بیان نہیں دے رہا ہے جس سے اس کی غیرجانبداری ثابت ہو۔ یوں انڈیا کواڈ اتحاد کا واحد ملک ہے جو روسی جارحیت کو نظرانداز کر رہا ہے۔۔ دوسری جانب روس پر مغربی پابندیوں کا انڈیا کے فوجی معاہدوں پر سخت اثر ہوگا۔ یاد رکھیں امریکہ نے اب تک روس سے ایس 400 میزائل خریدنے پر انڈیا پر اپنے CAATSA قانون کے تحت پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔۔ دراصل روس کے یوکرائن کے دو خطوں کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کے بعد اب اس کا اگلا اقدام یورپ کے پورے ۔۔ سکیورٹی ڈھانچے ۔۔۔ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

  • پی ایس ایل7: پشاور زلمی ایونٹ سے باہر، اسلام آباد یونائیٹڈ ایلمینیٹر 2 میں داخل

    پی ایس ایل7: پشاور زلمی ایونٹ سے باہر، اسلام آباد یونائیٹڈ ایلمینیٹر 2 میں داخل

    لاہور: اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو شکست دے کر دوسرے ایلیمنٹر میں جگہ بنالی،اطلاعات کے مطابق ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے پہلے ایلیمنٹر میں اسلام آبادیونائیٹڈ نے ایلکس ہیلز کی شاندار بلے بازی کی بدولت پشاور زلمی کو 5 وکٹوں سے ہرا کرٹورنامنٹ کے دوسرے ایلیمنٹر میں جگہ بنالی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آبادیونائیٹڈ نے 170 رنز کا ہدف تین گیندیں قبل پانچ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں اوپنر ایلکس ہیلز نے 62 رنز کی اننگز کھیل کر اسلام آباد یونائیٹڈ کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔ اس دوران انہوں نے ول جیکس اور شاداب خان کے ہمراہ بالترتیب 34 اور 43 رنز کی شراکت قائم کی۔ ول جیکس 11 اور شاداب خان 22 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔49 گیندوں پر مشتمل ایلکس ہیلز کی اننگز میں 3 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔

    آصف علی بھی 7 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ایسے میں فہیم اشرف نے اعظم خان کے ہمراہ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے پشاور زلمی کے تمام باؤلرز کو آڑھے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا اور پانچویں وکٹ کے لیے 41 رنز کی شراکت قائم کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لیے آخری 6 گیندوں پر 10 رنز درکار تھےتاہم بینی ہاؤل نے میچ کے آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر اعظم خان کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکےمیچ کو دلچسپ بنادیا۔ وہ 22 گیندوں پر 28 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔نئے آنے والے بیٹر لیام ڈاسن نے اگلی دو گیندوں پر ایک چھکا اورایک چوکا لگا کر اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔وہ دو گیندوں پر 10 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ فہیم اشرف 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 19 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    سلمان ارشاد نےعمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 31 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کوپویلین کی راہ دکھائی۔خالد عثمان اور بینی ہاؤل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    اس سے قبل کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پشاور زلمی نے اوپنر کامران اکمل اور تجربہ کار بیٹر شعیب ملک کی نصف سنچریوں کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز بنائے۔دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 40 رنز کی شراکت قائم کی۔

    کامران اکمل 39 گیندوں پر 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ شعیب ملک نے 2 چھکوں اور 4 چوکوں کی بدولت 55 رنز کی اننگز کھیلی۔پشاور زلمی کے تیسرے نمایاں بیٹر حسین طلعت رہے۔ انہوں نے 15 گیندوں پر پانچ چوکے لگا کر 28 رنز بنائے۔

    حسن علی نے 30 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ فہیم اشرف اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ کے لئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ میں کپتان شاداب خان، ایلکس ہیلز، ول جیکس، آصف علی، اعظم خان، لیام ڈاسن، فہیم اشرف، حسن علی، اطہر محمود، زاہد محمود اور وقاص مقصود شامل تھے۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے لئے پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، بینی ہوویل، محمد حارث، شعیب ملک، حیدر علی، حسین طلعت، خالد عثمان، سلمان ارشاد، یاسر خان اور علی ماجد شامل تھے۔

  • اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کی الحسین بن طلال یونیورسٹی اور فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب کے ماہرینِ آثارِقدیمہ پر مشتمل ایک ٹیم نے اردن کے مشرقی صحرا میں قریباً 9000 سال قدیم مزاردریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کےمطابق یہ روایتی کمپلیکس پتھرکےدور کی جگہ کےنزدیک قدیم بڑے ڈھانچوں کےساتھ پایا گیا ہےانھیں’’صحرائی پتنگیں‘‘یا بڑے پیمانے پر’شکاری جال‘ کہا جاتا ہےان کے بارے میں خیال کیاجاتا ہے کہ انھیں جنگلی غزالوں کاشکارکرنےکےلیےاستعمال کیا جاتا تھا اور پھر انھیں یہیں ذبح کیا جاتا تھا اس طرح کے جال پتھرکی دو یا دو سے زیادہ لمبی دیواروں پر مشتمل ہوتے ہیں اورگھیرے دارہوتے ہیں یہ مشرقِ اوسط کے صحراؤں میں بکھرے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    اس منصوبہ کے شریک ڈائریکٹراردنی ماہرآثارقدیمہ وائل ابوعزیزہ نے کہا کہ یہ جگہ منفرد ہے، پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ محفوظ حالت میں ہے یہ 9000 سال پرانی ہے اور سب کچھ قریب قریب اپنی اصل حالت میں برقرار تھا مزار کے اندردو تراشیدہ ایستادہ پتھر تھے ان پر انسانی شکلیں تھیں، ایک کے ساتھ ’’صحرائی پتنگ‘‘کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک مذبح، چولھا، سمندری گولے اورغزال کے جال کا چھوٹا نمونہ بھی تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ نو دریافت مزار اب تک پتھر کے زمانے کی نامعلوم آبادیوں کی علامت ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کے ساتھ ساتھ روحانی ثقافت پرپوری نئی روشنی ڈالتا ہے اس جگہ میں شکاری جالوں کی موجودگی سے پتاچلتا ہے کہ یہاں کے باشندے خصوصی شکاری تھے اور یہ جال اس دورافتادہ علاقے میں ان کی ثقافتی، معاشی اور یہاں تک کہ علامتی زندگی کا مرکزتھے۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔