Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    این سی او سی نے پاکستان آسٹریلیا سیریز کے لیے 100 فیصد تماشائیوں کی اجازت دے دی۔ پی سی بی کے مطابق راولپنڈی میں 4 مارچ سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں 100 فیصد تماشائی انٹرنیشنل کرکٹ سے لطف اندوز ہو سکے گے، جبکہ لاہور اور کراچی میں ہونے والے میچزمیں بھی اسٹیڈیم فل ہوں گے۔

    پی سی بی نے این سی او سی کے فیصلے سے پہلے 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹیں فروخت کے لیے رکھی تھیں، این سی او سی کے فیصلے کے بعد پی سی بی نے بقایا 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹ کی بکنگ کھول دی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق 12 سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو مکمل ویکسینیشن کے ساتھ میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ 12 سال سے کم عمر لوگ ویکسینیشن کے بغیر اسٹیڈیم میں میچ دیکھ سکیں گے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کرکٹ ٹیموں کے مابین 3 ٹیسٹ، 3 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز راولپنڈی سے ہو گا۔ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 4 سے 8 مارچ تک راولپنڈی میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

    سیریز میں شامل چاروں وائٹ بال میچز بھی راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 5 مارچ کو راولپنڈی میں آخری ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلے گی اور 5 مارچ کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائے گی۔

    سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 سے 16 مارچ تک کراچی میں ہو گا اور تیسرا ٹیسٹ میچ 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا

    فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا

    لاہور:فاسٹ باولر حارث روف کوکورونا ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر حارث روف کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کےمطابق حارث روف کا راولپنڈی بائیو سکیور ببل شفٹ ہونے پرکوویڈ ٹیسٹ کیا گیا جو کہ مثبت آیا۔

    قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے بقیہ کھلاڑیوں کا کوویڈ تیسٹ منفی آیا ہے۔

    حارث روف آج قومی اسکواڈ کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیڈیم میں پریکٹس کررہے تھے۔ آج صبح ہونے والےکوویڈ ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت رپورٹ آنے پر ٹیم ڈاکٹر نے حارث روف کو گراؤنڈ سے باہر بلوا کر آئیسولیشن میں منتقل کیا۔

    قومی اسکواڈ کے تمام کھلاڑیوں کا دوبارہ کوویڈ ٹیسٹ ہوٹل پہنچنے کے بعد کیا گیا۔

    ٹیسٹ اسکواڈ
    کپتان بابراعظم، نائب کپتان محمد رضوان، عبداللہ شفیق، اظہر علی، فہیم اشرف، فواد عالم، حارث رؤف، حسن علی، امام الحق، محمد نواز، نعمان علی، ساجد خان، سعود شکیل، شاھین شاہ آفریدی، شان مسعود، زاہد محود۔

    ریزرو پلیئرز
    سرفراز احمد، نسیم شاہ، محمد عباس، یاسر شاہ، کامران غلام

    یاد رہے کہ چند دن پہلے لاہور قلندرز کے فاسٹ باولر نے 153.8 میل فی گھنٹا کی رفتار سے گیند کروا کر سب سے تیز گیند کروانے کا اپنا ہی پرانا ریکارڈ توڑ ڈالاحارث روف نے دنیائے کرکٹ کے تیز ترین فاسٹ باولر بننے کی ٹھان لی۔

    حارث روف نے موجودہ دور میں دنیائے کرکٹ کے تیز ترین فاسٹ باولر بننے کی ٹھان لی، لاہور قلندرز کے فاسٹ باولر نے پی ایس ایل کی 7 سالہ تاریخ میں سب سے تیز گیند کروانے کا اپنا ہی پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے پی ای ایس 7 کے میچ میں لاہور قلندرز کے حارث روف نے اہم اعزاز اپنے نام کر لیا۔

  • لانگ مارچ،عدم اعتماد،حقوق مارچ،بنے گا کیا؟ نوید شیخ

    لانگ مارچ،عدم اعتماد،حقوق مارچ،بنے گا کیا؟ نوید شیخ

    وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب میں جہاں فارن پالیسی کی تبدیلی کی جانب بڑا اشارہ دیا۔ تو دوسری جانب فارن پالیسی کے حوالے سے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ روس کے امراء کے اکاونٹس فریز کرنے کا مطلب ہے اس کی فارن پالیسی کمپرومائز ہوگی۔ اس لیے جن لیڈروں کے اثاثے باہر ہیں انہیں ووٹ نہ دیں کیونکہ آزاد فارن پالیسی کمپرومائز ہوتی ہے۔

    ۔ تو دوسرا سب سے بڑا ایشو جو انھوں نے قوم کے سامنے رکھا وہ پیکا ایکٹ تھا ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا سمیت مین سٹریم میڈیا میں اپنے گھر اور شوکت خانم کے حوالے سے کھل کر اس قانون کا دفاع کرنے کی کوشش کی ۔ یہ بھی کہا کہ میڈیا میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں ۔ پھر تین اخباروں کی ہیڈ لائنز میں جادو ٹونے کا آزاد کشمیروزیراعظم کی نامزدگی کے حوالے سے ذکر کیا۔ ۔ میڈیا پرعمران خان کے غصے کے حوالے سے بس یہ یاد کرواں گا کہ یہ ہی میڈیا عمران خان کا سب سے بڑا سپورٹر تھا اور جو جو کچھ میڈیا ن لیگ اور پیپلزپارٹی بارے رپورٹ کر چکا ہے ۔ اس کا عشر عشیر بھی میڈیا نے عمران خان اور ان کی پارٹی بارے نہیں کیا ہے ۔ ۔ پھر انٹرنیشل حالات ، کرونا اور سابق حکومتوں کے ساتھ موازنہ کرکے ملک میں مہنگائی کا دفاع کرنے کی کوشش کی ۔ اس پر ویسے شکر ادا کرنا چاہیے کہ کم از کم عمران خان نے یہ تو مانا ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے ۔ پھر یہ لاجک جو ہر دوسرا وزیر اور مشیر دیتا رہتا ہے مگر اس حوالے سے یہ نہیں بتاتا کہ جن ممالک کی مثال دی جاتی ہے وہاں تنخواہ per hourکے حساب سے ملتی ہے جو حکومت نے مقرر کی ہو ۔ پاکستان کی طرح نہیں کہ جو minimum wageحکومت نے مقرر کی ہو ۔ وہ کہیں implement ہی نہ ہوتی ہو ۔ یہ بھی بتایا کہ ٹیکس کولیکشن چھ ہزار ارب سے زیادہ ہوئی ، ایکسورٹس میں تمام ریکارڈ توڑے ۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ ریکارڈ قرضے کیوں لیے گئے یہ نہیں بتایا کہ جی ڈی پی کیوں نیچے کی جانب گامزن ہے ۔ یہ نہیں بتایا کہ اتنی ٹیکس کولیکشن ہورہی ہے تو پھر ہم کیوں دنیا بھر میں کشکول لیے پھر رہے ہیں ۔ کسانوں کے حوالے سے بھی بتایا کہ گندم ، چاول ، مکئی اور گنا کی ریکارڈ فضل ہوئی ۔ مگر اپنی ہی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ گندم روس سے لیں گے ۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں ۔ ویسے یہ بھی نہیں بتایا کہ یوریا اور دیگر کھادیں کیوں کسان کو ڈبل ٹرپل قیمت پر مل رہی ہیں ۔ مگر عمران خان کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ کسان بہت خوشحال ہے ۔۔ مگر اس سب کے باوجود اچھی چیز یہ ہے کہ عمران خان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود بجلی اور تیل کی قیمتیں کم کر دی ہیں ۔ جس میں پانچ روپے بجلی اور دس روپے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ تک ان قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔۔ احساس پروگرام کے تحت جو بارہ ہزار ملتے تھے اس کو چودہ ہزار کر دیا ہے ۔ ۔ یہ بھی اعلان کیا کہ جو بھی انڈسٹری میں پیسے لگائے گا اس سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا ۔ ۔ IT Start ups پر بھی capital gain tax ختم کردیا ۔ ۔ گریجوٹ نوجوان کے لیے تیس ہزار روپے کی انٹرن شپ کا اعلان کیا ۔ ۔ کامیاب جوان پروگرام میں سود کے بغیر قرضے دینے کا بھی کہا ۔ ۔ کسانوں اور گھر بنانے کے لیے بھی سستا قرضہ دینے کا اعلان کیا ۔ ۔ عمران خان کے مطابق یوں اگلے دوسال میں چار سو سات ارب روپے کے قرضے دیے جائیں گے ۔ ۔ آخر میں صحت کارڈ کے حوالے سے اعلان کیا کہ مارچ کے آخر تک پنجاب کے ہر گھرانے کے پاس صحت کارڈ ہوگا ۔ جس سے کوئی بھی علاج کے لیے دس لاکھ تک رقم استعمال کرسکے گا ۔ ۔ اللہ کرے عمران خان نے جن مثبت چیزیوں کا اعلان کیا ان پر عمل درآمد ہوجائے تو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔

    ۔ ملکی سیاسی منظر نامے کی بات کی جائے تو یہ فروری کا پورا مہینہ خبروں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بھرپور تھا ۔ اب مارچ کا مہینہ بھی کچھ کم دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ایک جانب بلاول کی قیادت میں پیپلز پارٹی وفاق پر دھاوا بولنے جا رہی ہے تو دوسری جانب شاہ محمود قریشی اورعلی زیدی کی قیادت میں پی ٹی آئی سندھ حکومت پر دھاوا بولنے جارہی ہے ۔ اسی لیے میڈیا پر آجکل کافی رونق میلا لگا ہوا ہے۔ تقاریر کی بھرمار ہے جھنڈوں اور پارٹی ترانوں کی تکرار بھی شروع ہوگی ہے ، شہر شہر بلاول بھٹو کا کنٹینر گھوم رہا ہے، تو پی ٹی آئی کا قافلہ بھی اندرون سندھ روان دواں ہے ۔ جیالے لہو گرماتے، بازو لہراتے آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں ۔ تو کپتان کے ٹائیگر پیپلزپارٹی کو للکارتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ساتھ ہی ہر کوئی ایک دوسرے کو گھر جانے کے مشورے دیتا بھی دیکھائی دیتا ہے ۔ جیسا آج عوامی لانگ مارچ کے حیدر آباد پہنچنے کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں ،ہم تیار ہیں ، وزیراعظم خود مستعفی ہوجائیں ورنہ جیالے اسلام آباد آرہے ہیں، انہیں گھر بھیج دیں گے۔ تو شاہ محمود قریشی نے جیکب آباد میں پی ٹی آئی کے سندھ حقوق مارچ میں کہا کہ بلاول پنجاب جاسکتے ہیں توکیا میں سندھ نہیں آسکتا۔ سندھ کا خزانہ کیوں خالی ہوگیا؟ اسی کا حساب لینے آئے ہیں۔ جبکہ ایک دن پہلے انھوں نے کہا کہ ھم سب کو مل کرتیر کو توڑنا ھے۔ سندھ کو جوڑنا ھے۔ ۔ اس کے علاوہ تحریک عدم اعتماد کی بات کی جائے توکوئی حتمی بات تو نہیں کی جاسکتی ہے مگر اپوزیشن رہنماوں کی چہروں اور باتوں میں بلا کا اعتماد دیکھائی دیتا ہے دوسری جانب حکومتی کمیپوں میں گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہیں ۔ ۔ ویسے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے خبر یہ ہے کہ اپوزیشن کے تین بڑے آصف علی زرداری ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور اس حوالے سے بنائی گئی رپورٹ پر تینوں رہنما غور کریں گے ۔

    ۔ اسی حوالے سے شہبازشریف نے کہا ہے کہ نمبر گیم پر دن رات کام ہو رہاہے ، تحریک عدم اعتماد کیلئے ٹائم فریم نہیں دے سکتے ۔ جہانگیر ترین سے ملاقات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا ، پیکا ایکٹ کے خلاف قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن کی ہدایت کر دی ہے ۔ اس حوالے سے شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن کسی نہ کسی بہانے اجلاس بلوائے گی اور وردات تحریک عدم اعتماد کی ڈال دی جائےگی ۔ کیونکہ اس حوالے سے اسپیکر اسمبلی اسد قیصر بھی تزین وآرائش کا بہانہ بنا کر اجلاس نہ بلانے سے گریز کررہے ہیں ۔ بلکہ اسپیکر اسد قیصر پہلے کہہ بھی چکے ہیں کہ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ تزئین و آرائش کا کام پانچ مارچ تک مکمل کرا لیں۔ ۔ پھر اس وقت یوں لگا رہا ہے کہ لاہور میں پاکستان کی تمام سیاست سماء چکی ہے ۔ کیونکہ کراچی اور بلوچستان کے رہنما اور قائدین بھی لاہور میل ملاقاتوں کے لیے مسلسل آرہے ہیں ۔ ۔ اس سلسلے میں کوئی حکومت کے خلاف عدم اعتماد چاہتا ہے تو کوئی حکومت کے ساتھ رہنے کے لئے منت سماجت کرتا ہے۔ ۔ پھر ایک در ایسا ہے جہاں ہر کوئی ماتھا ٹیکنے جا رہا ہے ۔ میرا اشارہ چودھری برادارن کی طرف ہے ۔ یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ اگر حکومت نہ گری تو بھی چوہدریوں کا ہاتھ ہوگا اور اگر گر گئی تو بھی چوہدری سب سے بڑا فیکڑ ہوں گے ۔ ۔ مگر خالی یہ ایک ہی در ایسا نہیں ہے جو حکومت کو گھر بھیج سکتا ہے ۔ ایک اور شخص بھی ایسا ہے جو پی ٹی آئی کو وفاق سمیت پنجاب میں گھر بیٹھا سکتا ہے ۔ اسکا نام جہانگیر ترین ہے ۔ اور یہ آجکل لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ اب ان کی روانگی کو لے کر پھر سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ سازشی تھیوریاں اور پتہ نہیں کیا کیا چل رہا ہے۔ ساتھ ہی یاد کرواتا چلوں ان سے پہلے ایک اہم عسکری شخصیت بھی برطانیہ گئی تھی ۔ اب لندن میں بیٹھے صحافی دوست تو جہانگیر ترین کی بیماری کے تانے بانے بھی نواز شریف سے جوڑ رہے ہیں۔ اندازے یہ ہی لگائے جارہے ہیں کہ ان کی پاکستان واپسی پر حالات واضح ہوجائیں گے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔

  • غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    لاہور: غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کی ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اپنے غصے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ کی شان ،خوش طبعیت کے مالک محمد رضوان نے مزید کیا کہا سنتے ہیں ان کی زبانی ،پی ایس ایل 7 کے دوران محمد رضوان اپنے ٹھنڈے مزاج اور ہر وقت مسکراتے رہنے کے سبب خاصے مقبول ہوئے جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی نظر آئیں۔

    پی ایس ایل کے فائنل میں لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے رضوان کا کہنا تھا کہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    رضوان نے کہا میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی پر غصہ نہ کروں کیوں کہ ہم سب انسان ہیں اسی لیے ہر انسان سے غلطی ہوتی رہتی ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے جس سے ٹیم یا قوم کا نقصان ہوتا دیکھوں تو غصہ بھی کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ سامنےوالا بھی میری طرح انسان ہے لہٰذا کوشش کرتا ہوں خود کو ٹھنڈا رکھوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل میں جتنے بھی کپتان آئے ان کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ایونٹ کے انعقاد سے ہر کھلاڑی کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی   :   مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی : مگرعالمی برادری خاموش

    مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی سفاکوں نے 1990 کے اوائل سے ہی یہاں کی سرزمین کو انسانی خون سے نہلایا ہے،مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی شروع کی گی تحریک آزادی کو کمزوراور ختم کرنے کی کوشش میں بھارتی سفاکوں نے اجتماعی قتل عام کے درجنوں واقعات دہرائے،پھر قاتل اور سفاک اہلکاروں کو یہاں نافذ بدنامہ زمانہ قوانین کی استثناء کی اڑ میں انصاف کے کٹہرے میں بھی نہیں لایا جاسکا،اجتماعی قتل عام کے ان سانحات میں زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگربھی شامل ہیں جہاں1990ء میں آج ہی کے دن سیتا کے پجاریوں اور وردی میں ملبوس دہشت گرد بھارتی فوجیوں نے 50سے زائد کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلادیا۔

    32 برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی شہدا کے متاثرین اب بھی انصاف کے حصول کے منتظر ہیں،یکم مارچ 1990ء میں زکورہ کراسنگ اور ٹینگ پورہ سرینگر اجتماعی قتل عام کی یادیں اہل کشمیر کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ زکورہ اور ٹینگ پورہ سرینگر جیسے انسانی قتل عام کے سانحات نے بھارتی فوجیوں کا سفاک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔بھارتی سفاک صرف زکورہ اور ٹینگ پورہ تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ایک کے بعد ایک اجتماعی قتل عام کے سانحات دہرائے،مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ بن چکا ہے اور بھارتی فوجی گزشتہ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام کے قتل عام میں ملوث ہیں۔

    گزشتہ 33 برسوں میں 95,970 سے زائد کشمیری بھارتی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو مجرمانہ خاموشی ترک کرکے بھارت کی طرف سے کشمیری عوام کی نسل کشی کا نوٹس لینا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹریبونل کو زکوہ اور ٹینگ پورہ اجتماعی قتل عام اور دیگر سانحات میں ملوث بھارتی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کرکے انہیں انصاف کے کٹہروں میں کھڑا کرنا چاہیے۔

    اہل کشمیرعظیم اور لازوال قربانیوں سے مزین تحریک آزادی کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ ماہ فروری میں بھی8کشمیری بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے،جن میں سے 3 نوجوانوں کو فرضی مقابلے میں شہید کیا گیا۔کشمیری عوام شہدا کے مشن کو ہر حال میںمنطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کیلئے بہایا جانے والا شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گااور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے

  • سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    پستول یا چاقو دکھا کر لوگوں کو لوٹنے والے ڈاکو تو دیکھے ہیں اورآئے روز ایسی وارداتوں کے بارے میں سنتے بھی ہیں لیکن بھارت میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جس میں پولیس کو ایک ایسی خاتون ڈاکو کی تلاش ہے جو لوگوں کو سانپ کے خوف سے لوٹتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تامل ناڈو کی پولیس کو ایک ایسی خاتون کی ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جو لوگوں کو سانپ دکھا کر لوٹتی ہےپولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد سانپ سے ڈرا کر شہریوں کو لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی خاتون کو پکڑنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

    پولیس کے مطابق کسی شہری کی جانب سے خاتون کے خلاف تاحال مقدمہ درج نہیں کروایا گیا ہے وائرل ویڈیوز دیکھ کر اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ خاتون خانہ بدوش ہے جو سانپ دکھا کر لوگوں سے لوٹ مار کرتی ہے تاہم حکومت نے وائرل ویڈیوز کو سامنے رکھتے ہوئے خاتون کے خلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    امریکامیں تمغہ بہادری پانےوالےپاکستانی نژادشخص کوکارچھیننےکی واردات میں مزاحمت پرراہزانوں نےقتل…

    ایک شہری نے پولیس کوبتایا کہ ایک خاتون اس کے گھر آئی اور اس سے کپڑے مانگے جب انہوں نے کپڑے دینے سے انکار کردیا تو خاتون نے سانپ باہر چھوڑنے کی دھمکی دی۔

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

  • کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی ڈکیتوں سے بچاؤ ،تحریر .ام سلمیٰ

    کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے اسٹریٹ کرائمز میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پچھلے کئی ماہ میں یے اضافہ کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ زندگی اور قیمتی اشیاء کی حفاظت کے حوالے سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی بنیادی وجوہات تک پہنچنے کے لیے آپ کو ماہر معاشیات یا فلسفی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی رواں ماہ ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح کے جرائم جیل کے اندر سے آپریٹ ہو رہے ہیں. یہ کرنے والے اور اِنکی سرپرستی کرنے والے اس قدر مضبوط ہوگئے ہیں کہ انکو جیل کے اندر سے ایسے کام کرنے میں کوئی دقت پیش نہں آرہی ہے۔اور کئی واقعات میں خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد ملوث پائے گئے ہیں. جو عام شہریوں نے پکڑنے کے بعد پولیس کے حوالے کیے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ کی صوبائی حکومت کے پاس کوئی فوری حل نہں نظر آتا.

    چند روز قبل اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر کلفٹن کے نواحی علاقے میں دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات میں اس وقت اپنی جان اور مال سے ہاتھ دھو بیٹھا جب وہ بینک سے 70 لاکھ روپے سے زائد نکال کر جا رہا تھا۔ ڈاکوؤں نے مزاحمت کی تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کراچی میں جان کی قیمت اب ایک موبائل فون کی قیمت جتنی رہ گئی ہے کیوں کے چھینے والے افراد مزاحمت کرنے والوں کو ایک گولی سے اِنکی جان کا خاتمہ کر دیتے ہیں.

    اسی دن ایک نوبیاہتا نوجوان کو ایک اور پوش علاقے میں اس کی رہائش گاہ پر اس کی والدہ، بہن اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ملک کے معاشی حب میں تقریباً آئے روز ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ معمولی مزاحمت پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ شہری اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ معمولی رقم بھی لے جانے سے ڈرتے ہیں۔ATM سے پیسے نکالتے ڈرتے ہیں کوئی بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہا ہے۔تو ایسے میں اگر گورنمنٹ ہر شخص کو بینکنگ کے طرف لا نا چاہتی ہے تو اس سے پہلے گورنمنٹ کو حالات سازگار بنانا ہونگے.

    ان جرائم کے بڑھنے کی سب سے بنیادی وجہ ان جرائم کو کنٹرول نہ کرنا ہے جب تک ان کا صحیح طرح سد باب نہں کیا جائے گا اس میں اضافہ ہوتا رہے ہے اور باقی ساری وجوہات جن کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کم ہوتے روزگار کے مواقع کے مجموعی اثرات جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف میں ظاہر ہو رہے ہیں، بشمول لوٹ مار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 کے پہلے آٹھ مہینوں میں شہر میں اسٹریٹ کرائم کے تقریباً پچاس ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں زیادہ تر اغوا برائے تاوان، قتل، گاڑیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ موبائل فون چھیننے کے واقعات تھے ۔ اور ہر ماہ اس میں اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کئی سالوں سے ہوتے ہوئے ان واقعات کا کوئی صحیح سد باب نہں ہو رہا تو جرائم پیشہ لوگ اور مضبوط ہوجاتے ہیں. مجرم دن دیہاڑے دکانداروں عام شہریوں کو کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے تاجر اورہر عام شخص اپنی جانوں اور قیمتی چیزوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔

    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملک کو معاشی وسعت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیمار معیشت کو صحت کی طرف واپس لانا ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ حقیقت کہ صوبائی وزیر اعلیٰ اور کے ایم سی کے ایڈمنسٹریٹر وزیر تعلیم سعید غنی نے کئی موقعوں پر سنگین جرائم کی صورتحال کو تسلیم کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کے موجودہ نظام میں کمزوری ہے جس کے باعث حالات دن بہ دن بد تر ہو رہے ہیں. ان حالات سے قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کی حکومت کی اہلیت پر لوگوں کے گھٹتے ہوئے اعتماد کو فروغ مل رہا ہے.حکومت کو جلد سے جلد عملی طور پے ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے میدان میں آنا ہوگا ورنہ صورتحال اس سے زیادہ کہیں اور بد تر ہوجائے گی۔

    Twitter handle
    @umesalma_

  • محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    محمد رضوان پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 قرار

    لاہور :ملتان سلطانز کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا قرار دیا گیا ہے۔پی سی بی ایوارڈز میں سب سے قیمتی کرکٹر اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے محمد رضوان کو ٹورنامنٹ کے 13 میچز میں 546 رنز بنانے پر پلیئر آف دا ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے47 چوکے اور 9 چھکے جڑنےسمیت 7 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ اس دوران انہوں نے وکٹوں کے پیچھے بھی 9 شکار کیے۔

    لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو بالترتیب ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹر اور بہترین باؤلر قرار دیا گیا ہے۔ فخر زمان نے ٹورنامنٹ میں 153 کے اسٹرائیک ریٹ سے 588 رنز اسکور کیے۔ شادب خان نے 6.47 کے اکانومی ریٹ سے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 19 وکٹیں حاصل کیں۔

    خوشدل شاہ کو ٹورنامنٹ کا بہترین آلراؤنڈراوربہترین فیلڈر قرار دیا گیا۔ انہوں نے ایونٹ میں 153 رنز اسکور کرنے کے ساتھ ساتھ 16 وکٹیں بھی حاصل کیں۔لاہور قلندرز کے زمان خان کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایمرجنگ کرکٹر قرار دیا گیا ۔ پہلی مرتبہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شرکت کرنے والے زمان خان نے ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 18 وکٹیں حاصل کیں۔

    اس دوران امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کا ایوارڈ راشد ریاض جبکہ اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ ملتان سلطانز کو دیا گیا۔امپائر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل کے علاوہ تمام ایوارڈز کمنٹری پینل میں شامل ارکان کی جانب سے دئیے گئے ہیں۔

    ایوارڈز:
    پلیئر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    پارک ویو سٹی امپائرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل7– راشد ریاض (3.5 ملین روپے)
    ٹک ٹاک بیٹرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7- فخر زمان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    جے ڈاٹ باؤلرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل – شاداب خان (اسلام آباد یونائیٹڈ) (3.5 ملین روپے)
    جوبلی انشورنس وکٹ کیپرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– محمد رضوان (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    اوساکا بیٹریز فیلڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    برائٹو پینٹس آل راؤنڈرآف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7– خوشدل شاہ (ملتان سلطانز) (3.5 ملین روپے)
    زیک آئل ایمرجنگ کرکٹر آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 – زمان خان (لاہور قلندرز) (3.5 ملین روپے)
    گولوٹلو سپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ – ملتان سلطانز (3.5 ملین روپے)

  • لاہور قلندرز کی کامیابی  کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا

    لاہور:لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے:عثمان بزدارنے مبارکباد کا پیغام بھیج دیا ،اطلاعات کے مطاابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار لاہور قلندرز کی فتح پر بہت خوش دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔

    اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پاکستان سپر لیگ سیون فائنل جیتنے پر لاہور قلندرز کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرکے فتح اپنے نام کی، محمد حفیظ، بروک اور ویزے نے شاندار بلے بازی کرکے لاہور قلندرز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کی زبردست کپتانی اورعمدہ باولنگ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔عثمان بزدار نے کہا کہ لاہور قلندرز کی کامیابی کھلاڑیوں کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، شائقین کرکٹ نے فائنل کو خوب انجوائے کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ آج پر امن اور کھیلوں سے محبت کرنے والے پاکستان کی فتح ہوئی ہے،لاہورمیں ہونے والے پی ایس ایل کے فائنل کو یادگار میچ کے طو رپر یاد رکھاجائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

    لاہور قلندرز کے 181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ملتان سلطانز کی ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنزبناکر آؤٹ ہوگئی، خوشدل شاہ 32 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    قلندرز نے محمد حفیظ کی ذمہ درانہ اور اختتامی اوورز میں بروک اور ویزے کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 180 رنز بنائے، حفیظ 46 گیندوں پر 69 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    لاہور قلندرز کی اننگز

    لاہور قلندرز کی اننگز کا آغاز اچھا نہ تھا صرف 25 رنز کے مجموعی اسکور پر ٹاپ 3 بیٹرز پویلین لوٹ گئے، ان فارم فخر زمان3، عبداللہ شفیق 14 اور ذیشان اشرف 7 رنز بناسکے۔

    3 وکٹیں گرنے کے بعد حفیظ اور کامران غلام کے درمیان 54 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی تاہم 79 رنز کے مجموعی اسکور پر کامران 15 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے تاہم دوسری جانب سے حفیظ نے ذمہ درانہ اننگز کھیلی لیکن وہ بھی 46 گیندوں پر 69 رنز بناسکے۔

    اس کے علاوہ اختتامی اوورز میں ہیری بروک اور ڈیوڈ ویزا کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت قلندرز نے مقررہ اوورز میں180 رنز بنائے۔

    ہیری بروک نے22 گیندوں پر41 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ڈیوڈ ویزا نے8 گیندوں پر 28 رنز بنائے۔

    سلطانز کی جانب سے آصف آفریدی نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈیوڈ ولی اور شاہنواز دھانی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    ملتان سلطانز کی اننگز

    181 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سلطانز کے بیٹرز جم کر نہ کھیل سکے اور یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے گئے۔اوپنرز شان مسعود اور کپتان رضوان اس بار اپنی ٹیم کو کامیابی نہ دلواسکے،شان 19 جبکہ رضوان 14 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے علاوہ رائیلی روسو 15، امیر عظمت6 اور آصف آفریدی ایک رنز بناکر پویلین لوٹے،ایک وقت پر ٹم ڈیوڈ اور خوشدل کے درمیان51 رنزکی شراکت داری قائم ہوئی لیکن وہ بھی سلطانز کو کامیابی نہ دلواسکی۔

    ٹم ڈیوڈ 27 جبکہ خوشدل شاہ 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے یوں پوری ٹیم 20 ویں اوور میں 138 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    قلندرز کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ محمد حفیظ اور زمان خان نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

    ٹاس سے قبل قذافی اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئر مین پی سی بی رمیز راجا نے ایونٹ کے بہترین انعقاد پر سکیورٹی اداروں سمیت تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

  • اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    اینٹوں کے بھٹے پر مزدورکو ایک کروڑ 62 لاکھ مالیت کا ہیرامل گیا

    بھوپال: بھارت میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والا مزدور راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک معاشی حالات سے پریشان مزدور کو ہیرا مل گیا ہیرے کو نیلامی کے لیے شہر پنا میں پیش کیا گیا جہاں 87 دیگر ہیرے بھی فروخت کے لیے موجود تھے یہ نیلامی 24 اور 25 فروری کو ایم پی کے ‘ہیروں کے شہر’ پنا میں ہوئی، جو ریاستی دارالحکومت بھوپال سے 380 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ہیروں کے شوقین ایک شخص نے بھٹے کے مزدور کو ملنے والے ہیرے کو ایک کروڑ 62 لاکھ میں خرید لیا ہیروں کی نیلامی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے ٹیکس وغیرہ کاٹ کر بقیہ رقم مزدور کو دے دی جائے گی۔

    بھوپال سے 380 کلومیٹر دور شہر پنا کو ہیروں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں ہیرے مدفن ہیں اور شہریوں کو ملتے بھی رہتے ہیں اسی شہر میں ہیروں کی سب سے بڑی نیلامی بھی ہوتی ہے۔

    پاکستان میں ناقابل یقین حد تک محفوظ ہوں: آسٹریلین کپتان کا دنیا کے نام پیغام

    شہر پنا کے ضلعی کلکٹر سنجے کمار مشرا نے میڈیا کو بتایا کہ دو روزہ نیلامی کے صرف پہلے دن ہی مجموعی طور پر 82.45 قیراط کے 36 ہیرے فروخت ہوئے جن میں مزدور کو ملنے والا ایک ہیرا بھی شامل ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ نیلامی کے دوران، ₹ 1.62 کروڑ کی سب سے زیادہ قیمت 26.11 قیراط کے ہیرے سے حاصل ہوئی، جو 21 فروری کو یہاں کی ایک کان سے ملا تھا۔

    اس قیمتی پتھر کی نیلامی 3 لاکھ روپے فی قیراط سے شروع ہوئی اور 6.22 لاکھ روپے فی قیراط تک چلی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ پنا میں اتنا بڑا ہیرا کافی عرصے کے بعد ملا ہے۔