Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ

    انصاف کی اندھی دیوی،تحریر:انعم شیخ
    کسی بھی ریاست کو کامیاب بنانے کیلئے مضبوط نظام عدل انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف سستا اور فوری ملتا ہے اس میں قانون کی بالادستی موجود ہوتی ہے۔ امیر اور غریب کیلئے حدود اور اصول برابر ہوتے ہیں۔ریاست ہر خاص و عام کیلئے ماں کا کردار ادا کرتی ہے لیکن جہاں منصف اپنے عہدے سے بے وفائی کرے، جہاں عدل کرنے والا انصاف کا قتل کرے, اُس معاشرے سے اخلاقیات، امن ، قانون اور استحکام کا خاتمہ ہوجاتا ہے، ریاستیں ٹوٹ جاتی ہے، خانہ جنگی جنم لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان جو ایک بڑا فرق ہے وہ مضبوط نظام عدل کا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کو تیسری دنیا سے تعبیر کرنے کی ایک بڑی وجہ کمزور اور ناقص عدالتی نظام بھی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آئے روز انصاف کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
     پاکستان میں جہاں مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے وہاں آٹا دال چینی کے پچاس روپے زیادہ ہونے پر تو ہم میڈیا پر اودھم مچا دیتے ہیں لیکن کسی اُس مظلوم کی آہیں اور سسکیاں ہماری سماعت تک نہیں پہنچتی جو انصاف کے لیے اپنی تمام جمع پونجی لٹا کر بھی ظالم کے خلاف ہر روز ہار جاتا ہے۔ اُس غریب کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں جو طاقتور کے خلاف چیخ چیخ کر خود کو ہلکان کر لیتا ہے کیونکہ وہ ایک کمزور ہے اور اس ملک میں کمزور کی آہ و پکار طاقت کی ایوانوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ اس کی گویائی کو منصف کے بلند منصب تک پہنچنے کے لیے مال و زَر کی اُڑان بھرنی پڑتی ہے جو اس غریب کے بس سے باہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف کی اندھی دیوی اکثر و بیشتر ناانصافی کر جاتی ہے۔ 
    پاکستان میں عام شہری تھانے کورٹ کچہری کے نام سے بھی خوف کھاتا ہے اس لیے جرائم کے آدھے سے زیادہ واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور مظلوم چپ کر کے ظلم سہنے میں ہی خیر جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پچاس ہزار سے زائد کیسز زیر التوا ہے جبکہ ہائی کورٹس اور دیگر میں لاکھوں مقدمات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہزاروں مقدمات ایسے ہیں جن کا فیصلہ آنے تک یا تو مظلوم رزق خاک بن چکے ہوتے ہیں اور ان کی انگلی نسلیں پیشیاں بھگت رہی ہوتی ہیں۔

    حضرت علی کا قول ہے کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں۔ ہم مغرب کی برائیوں کا تو اکثر ذکر کرتے ہیں لیکن ان باتوں پر کبھی غور نہیں کرتے جو ان تمام تر برائیوں کے باوجود مغرب کی ترقی کا راز ہے جن میں سب سے بڑا راز عدل و انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے لحاظ سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس 2021 کے مطابق پاکستان 139 ممالک میں سے 130 ویں نمبر پر ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ غیر اسلامی ممالک انصاف کی فراہمی میں اسلام کے نام پر قائم پاکستان کو مات دیتے ہیں۔ سوچئیے آخر کیوں؟ کیونکہ یہاں لا قانونیت راج کرتی ہے۔ یہاں جج صاحبان سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں یا تو بک جاتے ہیں یا بلیک میل ہوتے ہیں، یہاں وکلا ہسپتالوں پر حملے کرتے ہیں یا عام شہریوں کو سر عام تھپڑ رسید کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے خلاف فیصلے آنے پر خود ججز پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں، یہاں بار کونسلز اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو کر سیاست میں ملوث ہیں۔ ایسے میں غریب کا پرسان حال کون ہو گا؟

    تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں عدالتوں کی تاریخ ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کے بڑے بڑے فیصلوں پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو آج بھی جوڈیشل کلنگ کہا جاتا ہے۔جج ارشد ملک کے متنازع بیانات نے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سزا پر آج بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا ہوا ہے۔ حدیبیہ پیپر کیس آج بھی کئی شکوک و شبہات کی زد میں ہے جبکہ اگر ججز کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں کیسے کیسے قابو کرتی رہی ہیں۔ سابق جج افتخار چودھری کو تاریخ کا متنازع ترین جج مانا جاتا ہے۔ سابق جج ارشد ملک کا بلیک میل کر کے من پسند فیصلے کروائے جانے کا بیان بھی ہمارے سامنے ہے۔ سابق جج ملک قیوم کو شہباز شریف کی جانب سے بذریعہ فون بے نظیر بھٹو اور زرداری کے مقدمات کے فیصلے سے متعلق ہدایات دی جاتی تھی۔

    سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیانات کی روشنی میں رفیق تارڑ، سیف الرحمن، شہباز شریف اور کیپٹن صفدر ججوں سے انکے گھروں پر جا کر ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ حال ہی میں سابق جج رانا شمیم کے بیان حلفی کی سپریم کورٹ میں اڑتی ہوئی دھجیاں بھی ہمارے سامنے ہیں اور رانا شمیم کی ماضی میں نون لیگ سے سیاسی وابستگیاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اگر کوئی جج ان سیاستدانوں سے قابو نا ہو تو پھر اسکے ساتھ وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا جب نون لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے سجاد علی شاہ کو نشانہ بنایا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن کے ساتھ ہوا جب ماڈل ٹاؤن میں انکے گھر پر نامعلوم افراد نے دو بار فائرنگ کی اور ان مجرموں کا سراغ آج تک نہ لگایا جا سکا اور پھر وہی ہوتا ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ہو رہا ہے، کبھی ان پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی انکے خلاف جعلی آڈیوز نکالی جاتی ہیں اور اگر ہمیں یاد ہو تو جنوری 2018 میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے بیٹے سعد گلزار کی گاڑی پر بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور اس کے علاوہ متعدد بار معزز جج صاحبان پر نہ صرف حملے ہوئے بلکہ کئی جج ان حملوں میں شہید بھی ہوئے۔ غرض یہ کہ اس نظام عدل میں انصاف ممکن کیونکر ہو گا جہاں خود منصف ہی محفوظ نہیں؟ جہاں بیرسٹر خدیجہ صدیقی پر خنجر سے تئیس وار کرنے والے اقدام قتل کے مجرم کو ساڑھے تین سالوں میں ہی رہا کر دیا جائے، جہاں شاہ رخ جتوئی جیسے سفاک قاتل پر عدالت کو ترس آ جائے، جہاں ایان علی کی منی لانڈرنگ عیاں کرنے والے ایماندار کسٹمز انسپکٹر اعجاز کو ایمانداری کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑے، جہاں ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے ریاستی دہشت گردی میں چودہ شہدا کے لواحقین آج بھی انصاف کے متلاشی ہوں، جہاں صحافی عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو حق بولنے کی سزا میں قتل کر دیا جائے، جہاں ایک نہتی بیٹی اُم رباب چانڈیو ننگے پاؤں اپنے دادا، والد اور چچا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر منصف کے در پر ایڑھیاں رگڑے اور چار سال گزرنے کے بعد بھی اسکو تاحال انصاف نا مل پائے جبکہ قاتل، لٹیرے اور بدمعاشوں کو عدالتوں سے رعایتیں بھی مل جائیں اور ضمانتیں بھی میسر ہوں تو اس معاشرے میں ہر نئے دن ظاہر جعفر بھی پیدا ہونگے اور عثمان مرزا بھی منظر عام پر آئیں گے۔ ریاست کو ہر طاقتور مجرم کو کچلنا ہو گا ورنہ وہ دن دور نہیں جب فیصلے سڑکوں چوکوں اور چوراہوں پر عوام خود کرے گی بالکل اسی طرح جس طرح ایک ماں پروین اختر نے عدلیہ سے مایوس ہو کر اپنے بیٹے کے مبینہ قاتلوں کو اپنی ہی عدالت میں سزائے موت سنا کر سات سال بعد قتل کر ڈالا تھا۔ اختتام بس فیض احمد فیض کے اس مصرعے پر کرنا چاہوں گی۔
     
    مِٹ‌ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
    منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں‌ نہیں‌ دیتے
     
     

  • غیر ازدواجی معاملات پر علم نجوم کا اثر

    غیر ازدواجی معاملات پر علم نجوم کا اثر

    علم نجوم ہماری روزمرہ کی زندگی میں ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ مطابقت اور ہم آہنگی کا تعین کرنے کے لیے شادی سے پہلے کنڈلیوں کو ملایا جاتا ہے۔ تو، کیا آپ علم نجوم میں غیر ازدواجی تعلقات کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کر سکتے ہیں۔ نجومیوں کا خیال ہے کہ ممکنہ شراکت داروں کی کنڈلیاں ملنے پر بے وفائی کے امکان کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

    اور اگر سیاروں کے امتزاج غیر ازدواجی تعلقات کا راستہ بناتے ہیں تو شادی نہیں ہونی چاہیے۔ جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے، کچھ دوشوں کو کچھ پوجا اور رسومات ادا کرنے سے متوازن کیا جا سکتا ہے، لیکن جو متوازن نہیں ہو سکتے ان کے لیے میچ کو رد کر دینا چاہیے۔ غیر ازدواجی تعلقات آج کل عام ہیں لیکن علم نجوم کے ذریعے شادی کو مشکل پانی سے بچانا ممکن ہے۔
    ازدواجی علم نجوم کا استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کی زائچہ میں غیر ازدواجی تعلقات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اپنے اپنے گھروں میں سیاروں کی پوزیشنیں دوسرے سیاروں کی موجودگی سے متاثر ہوتی ہیں اور غیر ازدواجی تعلقات کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
    کچھ رقم کے نشانات آپ کے دل کو توڑنے اور شادی سے باہر بھی تعلقات رکھنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ ازدواجی علم نجوم کا حکم ہے کہ گیارہواں گھر غیر ازدواجی تعلقات کا گھر ہے۔ کسی کے ساتھ جڑنے میں چار عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ دماغ، محبت یا رومانس، سماجی اصولوں کو توڑنے کی طاقت، اور جذبہ ہیں۔
    ان جذبات پر حکومت کرنے والے سیارے چاند، زہرہ، شمالی نوڈ یا راہو اور مریخ ہیں۔ قدیم ویدک علم نجوم کا ماننا ہے کہ اگر تیسرا، پانچواں، ساتواں، گیارہواں اور بارہ گھر اور ان کے رب ان چاروں سیاروں میں سے کسی سے جڑ جاتے ہیں تو امکان ہے کہ ساتھی دھوکہ دے گا اور آپ کی ازدواجی زندگی میں پریشانی ہوگی۔

    کیا ازدواجی علم نجوم شادی میں دھوکہ دہی کی پیش گوئی کر سکتی ہے؟
    بہت سے مرد اور عورتیں ماہر نجوم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے غیر ازدواجی تعلقات ہونے کا کوئی اشارہ ہے؟ ’میرے شوہر کے غیر ازدواجی تعلقات کو حل کرنے کے لیے کیا علاج ہیں؟‘ یا ’مجھے اپنی دھوکہ دہی والی بیوی کے بارے میں کیا کرنا چاہیے؟

    اگرچہ مختلف لوگوں کے لیے غیر ازدواجی تعلقات کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن سیارے جو لوگوں کی جنسی خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ رقم کی علامتیں زیادہ جنسی خواہشات رکھتی ہیں اور وہ شادی سے باہر اطمینان کی خواہش رکھتے ہیں۔ آئیے ان سیاروں اور مکانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر ازدواجی تعلقات کی پیش گوئی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ سیاروں کے امتزاج علم نجوم میں غیر ازدواجی تعلقات کے امکان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    عطارد یا زہرہ: اگر آپ کے ممکنہ دولہا یا دلہن کا چاند عطارد کی تثلیث میں ہے تو یہ بے وفائی کے امکانات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ تلاش کرنے کے لیے ایک اور سیارہ زہرہ ہے۔ غیر ازدواجی معاملات اور علم نجوم میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔
    مریخ اور زہرہ 9ویں گھر میں بچھو کے سورج کی علامت کے ساتھ مل کر: یہ غیر ازدواجی تعلقات کا قوی اشارہ ہے۔ جیمنی میں عطارد اور چاند کا ملاپ بھی مردوں اور عورتوں دونوں میں بے وفائی کا ایک نجومی اشارہ ہے۔
    مریخ کے ساتھ مل کر چاند: یہ صورت حال ذہن پر بادل چھا جانے کا باعث بن سکتی ہے اور انسان ناجائز تعلقات کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ وہ غیر ازدواجی تعلقات کے ساتھ اپنے شراکت داروں کو دھوکہ دینے کا زیادہ شکار ہیں۔
    چوتھے گھر میں چاند اور سورج بری طرح متاثر: یہ راز رکھنے کی طرف شخص کے رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔ وہ بوڑھی یا عمر رسیدہ خواتین کے ساتھ بھی ناجائز تعلقات رکھ سکتے ہیں۔
    چاند کا زہرہ کے ساتھ ملاپ: اس طرح کا منظر مقامی لوگوں کے ذہن میں انتہائی اور حساس خیالات کو جنم دیتا ہے، جو غیر ازدواجی تعلقات کی طرف رجحانات کا اشارہ دے سکتا ہے۔
    راہو کے ساتھ چاند کا جوڑ: اگر کوئی شخص اس کی کنڈلی میں چاند راہو کے ساتھ ملا ہوا ہو تو وہ غیر ازدواجی تعلقات کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ یہ امتزاج کسی کے ذہن کو ابر آلود کر دیتا ہے اور عقلی فیصلوں کو روکتا ہے۔
    وینس راہو یا مریخ کے ساتھ مل کر: زہرہ محبت اور رومانس کا سیارہ ہے۔ وینس، جب راہو یا مریخ کے ساتھ ملتا ہے، کسی کی زندگی میں جذبہ اور ہوس کو بڑھاتا ہے۔ اور یہ ملاپ عقرب، میش، تلا اور جیمنی جیسی علامتوں میں غیر ازدواجی تعلقات کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔
    چاند اور مرکری جیمنی کے ساتھ مل کر: چاند اور مرکری، سورج کی علامت جیمنی (محبت اور رومانس کی علامت) کے ساتھ مل کر بھی زنا کے قوی امکان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر سیارہ زحل کی طرف سے امتزاج کا پہلو کیا جائے تو شخص اپنے غیر ازدواجی تعلقات کے لئے بھی بے نقاب ہو سکتا ہے۔
    پنربھو دوشا کی جانچ پڑتال کریں: ویدک علم نجوم کا یہ بھی ماننا ہے کہ شادی سے پہلے پنربھو دوشا کے لیے زائچے کی جانچ کی جانی چاہیے – جو بنیادی طور پر چاند اور زحل کا ملاپ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مجموعہ ایک ساتھی کو دھوکہ دیتا ہے اور شادی میں بدامنی میں بہت زیادہ تباہی پیدا کرتا ہے۔
    مخصوص زائچے کی نوعیت: بعض زائچے بھی غیر ازدواجی تعلقات کے رجحان پر کچھ اثر ڈالتی ہیں۔ لنڈا گڈمین کی سن سائنز کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مکر کے مرد اپنی زندگی میں بعد میں بھٹکنے کا شکار ہوتے ہیں۔ Scorpio مرد اور عورتیں بھی ہوس کا شکار ہونے اور غیر ازدواجی تعلقات میں پڑنے کا شکار ہیں۔

  • محبت خوبصورت احساس ہے: کیسے نمٹا جائے اور کیا کیا جائے؟

    محبت خوبصورت احساس ہے: کیسے نمٹا جائے اور کیا کیا جائے؟

    محبت بائنری نہیں ہے۔ یہ ایک خوبصورت احساس ہے، ایک ایسا احساس جو زندگی میں ہر چیز کو اچھا بناتا ہے۔ ٹھیک ہے، کم از کم، یہ ان خوش قسمت لوگوں کے لئے سچ ہے جن کی محبت مکمل طور پر واپس آئی ہے۔

    لیکن ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہے۔ پریشانیاں اور درد اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اسے واپس کیا جاتا ہے یا بدلہ دیا جاتا ہے – ہاں، وہ بے تحاشا محبت۔ یہ آپ سے کچھ چھین لیتا ہے۔ بلاجواز محبت سے نمٹنا ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم سب نے کسی نہ کسی موقع پر اور کسی نہ کسی شکل میں تجربہ کیا ہے۔ اور اگر آپ ایک بار وہاں پھنس گئے ہیں، تو جلد ہی اس اعضاء سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہے۔
    ٹھیک ہے، سب سے پہلے، کوئی بھی کسی ایسے شخص سے محبت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے جو ان سے پیار نہیں کرے گا یا محبت میں پڑنے کے عمل میں تکلیف نہیں دے گا۔ بلاجواز محبت کے ساتھ جینا دل میں ایک مستقل وار کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ اور بہت سی شکلیں ہیں جن میں بلاجواز محبت موجود ہو سکتی ہے۔
    آپ کو کسی دوست یا جاننے والے یا ساتھی کارکن سے محبت ہو سکتی ہے، جو جذباتی طور پر دستیاب نہیں ہے یا پہلے سے ہی کسی اور کے ساتھ وابستہ ہے۔ یا اس سے بھی بدتر، وہ آپ کے وجود سے بھی واقف نہیں ہوسکتے ہیں۔ اور اگر آپ ان میں سے کسی منظر نامے میں رہے ہیں، یا آپ اس سے گزر رہے ہیں، تو ہمیں آپ کو پریشانیوں کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    بے حساب محبت اتنی تکلیف کیوں دیتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتے جس کے ساتھ ہم رہنا چاہتے ہیں۔ دل جو چاہتا ہے وہ چاہتا ہے اور بعض اوقات عقل اور منطق کو سمجھنے سے بالکل انکار کر دیتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا ہم شکار ہیں، لیکن اس کے لیے ایک بار پھر ایک حد ہے، جس سے آگے یہ دونوں ملوث افراد میں سے کسی کے لیے زہریلا ہو سکتا ہے۔
    اس تنازعہ کا ذریعہ بندش کی کمی سے پیدا ہوسکتا ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ ہم نہیں سمجھتے کہ بلاجواز محبت کا کیا کرنا ہے۔ سمت نہ ہونا اور نہ جاننا کہ اس کے بارے میں کیسے جانا ہے دماغ کی بدترین قسم ہے جس میں کوئی ہو سکتا ہے۔
    کلید اس بات پر توجہ مرکوز کرنا ہے کہ غیر منقولہ محبت سے کیسے نمٹا جائے اور اس پر قابو پانے کے بجائے اپنی زندگی کو اس امید پر روک دیا جائے کہ آپ کی محبت کسی نہ کسی طرح عمل میں آئے گی۔
    بے حساب محبت کے ساتھ جینا
    بلاجواز محبت ایسی چیز نہیں ہے جو جب ہم چاہیں تو دور ہو جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ یہ اس طرح کام کرے۔ لہذا جب آپ سرنگ کے آخر میں کوئی روشنی نہیں دیکھ سکتے ہیں، تو اس کے بارے میں جانے کا واحد راستہ ہے.

    بلاجواز محبت کا مقابلہ کرنا کسی کو اپنی پوری زندگی میں کرنا سب سے مشکل کام ہوسکتا ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ کا جسم اور دماغ آپ کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ محبت میں ہیں اور وہ آپ کی محبت کو تیز کرنے کے لیے ہم آہنگی میں ہیں، لیکن صرف آپ کا سمجھدار، عقلی ذہن ہی جانتا ہے کہ اس سے کچھ نہیں نکلنے والا ہے۔ پھر بھی، یکطرفہ محبت کے بارے میں کچھ ہمیں جکڑے رکھتا ہے۔
    جتنا دل کو دہلا دینے والا لگتا ہے، ایسا کبھی بھی کوئی فول پروف طریقہ نہیں ہے جو آپ کو یہ بتائے کہ بلاجواز محبت سے کیسے نمٹا جائے یا آپ کو بتائے کہ آپ کے درد کو کیسے کم کیا جائے۔ لیکن کسی ایسے شخص کے طور پر جو اس سے ایک سے زیادہ بار گزر چکا ہے، یہاں 6 چیزیں ہیں جو اس وقت ہوتی ہیں جب آپ "یک طرفہ محبت” میں ہوتے ہیں۔
    1. ابتدائی مراحل
    ابتدائی مراحل بدترین ہیں کیونکہ آپ عذاب کے اس احساس سے نمٹنے کے لیے لیس ہیں۔ ناراضگی، ندامت، غصہ، اور بہت سارے دوسرے جذبات جو پیکیج کے ایک حصے کے طور پر آتے ہیں، آپ کو مغلوب کر لیتے ہیں۔

    آپ صرف یہ کرتے ہیں کہ نقطوں میں شامل ہونے کے امکانات کے بارے میں سوچیں اور اس شخص کے ساتھ جب اور جب آپ کر سکتے ہیں کچھ لمحات گزاریں۔ لیکن آپ ہماری عقل کا بہت کم خیال کرتے ہیں۔ محبت کرنا بہت آسان ہے لیکن محبت کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔
    یہ آپ کو وہ کام کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے اور آپ کی عزت نفس شاید دوسری صورت میں اجازت نہیں دے گی۔ ابتدائی مرحلے سے گزرنے کا بہترین طریقہ غور و فکر ہے۔ ہر چیز کے بارے میں سوچیں جو آپ کر سکتے ہیں، اسے اس مقام تک کریں جہاں آپ یہ سمجھنے کے لیے کافی تھک چکے ہوں کہ اس شیطانی چکر کا کوئی خاتمہ نہیں ہے۔ یہ جتنا بھی تکلیف دہ ہو، یہ بلاجواز محبت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
    2. "ifs” موجود نہیں ہے۔
    ہمارے ذہن میں جو بادل چھائے ہوئے ہیں وہ "اگر” بہت خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ جب ہم بلاوجہ محبت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو یہ ہمارے بیشتر مسائل کو جنم دیتا ہے۔
    سوچنے سے ایک طرح کی جوش و خروش پیدا ہوتا ہے – حالات کا تصور کرنا، اس بارے میں سوچنا کہ جب آپ انہیں آگے دیکھیں گے تو کیا کہنا ہے، یا اس بات پر غور کرنا کہ آیا انہیں کوئی متن یا تصویر پر تبصرہ کرنا ہے یا نہیں۔ ایک چیز جو لامتناہی طور پر ہوتی ہے جب آپ محبت میں پڑ جاتے ہیں وہ ہے زیادہ سوچنا۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ آپ کو اندر سے مار دیتا ہے۔ کیا ہم زندگی کے ساتھ جس طرح سے بے مقصد محبت کا معاملہ کر رہے ہیں؟ یہ سوال روکنا اور خود سے پوچھنا ضروری ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی زندگی کے دونوں حصوں کو برباد کرنے کا خطرہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم دونوں کو الگ نہیں کر سکتے۔

    یہ "اگر” باقی رہنا ہے، کیونکہ بلاجواز محبت پر قابو پانا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن امکانات کے بارے میں سوچنے کی تعداد کو کم کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ یہ کچھ نہیں مگر چھوٹی چھوٹی فنتاسی ہیں جو ہم اپنے آپ کو کام کرنے اور ایک ہی وقت میں اداس ہونے کے لیے کھلاتے رہتے ہیں۔
    3. جڑ تک پہنچنا
    اس شخص سے بات کریں، اگر آپ ان کے ساتھ شرائط پر بات کر رہے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کو ایک خاص قسم کی تفہیم حاصل ہے جہاں وہ آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ کم از کم وہ کر سکتے ہیں، ٹھیک ہے؟ آگ پر چلنا تھوڑا سا آسان لگتا ہے جب دوسرا شخص کم از کم اتنا مہربان ہو کہ آپ کے جذبات کو سمجھ سکے۔
    لیکن یہ حمایت ہمیشہ قابل عمل نہیں ہوتی، کیونکہ یہ صورتحال پر منحصر ہے۔ اگر آپ اس شخص سے مکمل طور پر رابطے سے باہر ہیں، تو بہتر ہے کہ اسے عارضی طور پر کاٹ دیں اور رابطہ نہ کرنے کے اصول پر عمل کریں جب تک کہ آپ کو یقین نہ ہو جائے کہ آپ کو اپنے جذبات پر گرفت حاصل ہے۔

    آپ بات کرنے کی ضرورت محسوس کریں گے، لیکن ان سے بات کرنے سے چیزیں مشکل ہو جائیں گی کیونکہ آپ کو وہ جواب کبھی نہیں مل پائیں گے جن کی آپ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ آپ کو کم اداس محسوس کریں۔ یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے اور یہ یقینی بنانا آپ کے اپنے کندھوں پر ہے کہ آپ آگے بڑھنا سیکھیں۔
    4. محبت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔
    برسوں پہلے میں نے ایک کراس ہندی فلم دیکھی تھی، لیکن اس میں ایک لائن تھی جو اب بہت معنی رکھتی ہے۔ "محبت آپ کی زندگی کا دل نہیں ہے، یہ آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔” اس شخص کے لیے آپ کی محبت وہی ہے جو آپ کو ان پر رکھتی ہے، لیکن کیا ہوگا اگر آپ ان سے دور سے محبت کرنے لگیں اور اپنا ذہنی سکون واپس لانے کی کوشش کریں؟ کوئی اور آپ کے لیے ایسا نہیں کر سکتا۔
    یہ کہہ کر، میں سمجھ سکتا ہوں کہ محبت کیسے کام کرتی ہے۔ محبت صرف کشش پر نہیں چلتی۔ یہ ان طریقوں سے کام کرتا ہے جس کی ہم تعریف نہیں کر سکتے۔ اس شخص کے لیے آپ کی محبت کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور جلد ہی واقف پہلوؤں کے سامنے آنے کے بعد، آپ نیند میں گر جائیں گے جہاں آپ پیار کو محبت سے الگ نہیں کر پائیں گے۔ آپ خود سے پیار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ضروری نہیں، لیکن اس سے چیزوں کو تناظر میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    5. وہ بندش تلاش کریں جس کے آپ مستحق ہیں۔
    بندش راتوں رات نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ ایسی چیز بھی نہیں ہے جسے آپ شعوری طور پر لا سکتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوگا جب اسے ہونا پڑے گا اور آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ لیکن آپ کا سکون پہلے آتا ہے۔ اگر آپ اس حقیقت کے ساتھ پرامن ہیں کہ وہ رومانوی طور پر آپ کے ساتھ نہیں ہیں اور وہ آپ کے ساتھ محبت نہیں کرتے ہیں، تو یہ آپ کے بہت سے بڑے مسائل کو حل کرتا ہے۔
    درحقیقت، قبولیت نہ صرف بلاجواز محبت کا مقابلہ کرنے کا صحت مند ترین طریقہ ہے بلکہ آگے بڑھنے کی طرف پہلا قدم بھی ہے۔ اگر آپ اس بنیادی فہم کو حاصل کرنے کے لیے کافی بالغ ہیں، تو شاید آپ کو بند کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
    ایک بار جب آپ کسی بھی چیز پر امن کا انتخاب کرتے ہیں، تو یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کی بلاجواز محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی جنگ آدھی جیت جاتی ہے۔

    6. محبت واقعی چار حرفی لفظ ہے۔
    محبت، دن کے اختتام پر، ایک اور جذبہ ہے- جیسے خوشی، غم، غصہ یا کوئی اور جذبات۔ اگرچہ یہ باقیوں سے زیادہ شدید ہے، اگر اس کی پرورش اور احترام اور اعتراف نہ کیا جائے تو آخرکار یہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ جب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بلاجواز محبت کا کیا کرنا ہے، تو اس حقیقت کو ذہن میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ آپ کو یہ دیکھنے کے لیے واضح کرے گا کہ آپ جس کے لیے پِین کر رہے ہیں وہ پوری زندگی کے لیے نہیں ہے۔

    محبت ایک ایسی چیز ہے جو آپ کے اور بہت سے دوسرے لوگوں کے لیے دنیا میں موجود ہے۔ تو کیا ہم واقعی کسی ایک شخص سے محبت رکھ سکتے ہیں جب آپ کے پاس یہ ساری دنیا باقی رہ گئی ہو؟ آپ دوبارہ لگ جائیں گے لیکن آپ ٹھیک بھی ہو جائیں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بے حساب محبت سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ اور یہی حسن اور جذبات کا جادو ہے، اس معاملے میں محبت۔

  • پی ایس ایل 7:لاہورقلندرز نےپشاورزلمی کو 29رنز سےہرادیا

    پی ایس ایل 7:لاہورقلندرز نےپشاورزلمی کو 29رنز سےہرادیا

    کراچی :پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے میچ میں لاہور قلندرز کے 200 رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی بیٹنگ جاری ہے۔

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے 9 ویں میچ میں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    پشاور زلمی اننگز

    200رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی جانب سے حضرت اللہ زازئی اور کامران اکمل نے اننگز کا آغاز کیا، زازئی پہلے ہی اوور میں شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ پشاور زلمی کے شعیب ملک نے پہلا اوور کرایا۔

    مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 199 رنز بنائے، فخر زمان نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 38 گیندوں پر 66 رنز کی اننگز کھیلی، عبداللہ شفیق 41، کامران غلام 30، محمد حفیظ 37 اور راشد خان 22 رنز بناسکے، پشاور زلمی کی جانب سے سلمان ارشاد نے 2، عثمان قادر اور حسین طلعت نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، حضرت اللہ زازئی، حیدر علی، شعیب ملک، ردرفورڈ، بین کٹنگ، آرش علی خان، عثمان قادر اور سلمان ارشاد شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ میں لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، ذیشان اشرف، ڈین فاکس کرافٹ، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل ہیں۔

    اس موقع پر وہاب ریاض کا کہنا تھاکہ ڈیو فیکٹر کے باعث بولنگ کا فیصلہ کیا، سیکنڈ بولنگ میں ڈیو فیکٹر زیادہ ہورہا ہے۔

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے 9 ویں میچ میں وہاب ریاض پشاور زلمی اور شاہین شاہ آفریدی لاہور قلندرز کی قیادت کررہے ہیں۔

  • 9 چھکوں کے باوجود شکست:کپتان شاداب خان کی بے بسی کے آنسوؤں نے سب کوجھنجھوڑدیا

    9 چھکوں کے باوجود شکست:کپتان شاداب خان کی بے بسی کے آنسوؤں نے سب کوجھنجھوڑدیا

    اسلام آباد :9 چھکوں کے باوجود شکست:کپتان شاداب خان کی بے بسی کے آنسوؤں نے سب کوجھنجھوڑدیا،اطلاعات کے مطابق 218 رنز کے تعاقب میں شاداب خان کریز پر جمے رہے اور اپنی جارحانہ بلے بازی کی بدولت محض 42 گیندوں پر 91 رنز اسکور کیے

    پاکستان سپر لیگ 7 (پی ایس ایل) کے آٹھویں میچ میں فتح تو ملتان سلطانز کے نام رہی لیکن مخالف ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے شائقینِ کرکٹ کے دِل جیت لیے۔

    218 رنز کے تعاقب میں شاداب خان نے محض 42 گیندوں پر 91 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی اور ایک چٹان کی طرح کریز پر جمے رہے۔

    آل راؤنڈر شاداب خان کی اننگز میں 9 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے لیکن شاداب کی بیٹنگ ٹیم کو فتح حاصل نہ کراسکی جس کا ملال شاداب کے چہرے پر بھی بخوبی دکھائی دیا۔

    ناصرف شائقین کرکٹ شاداب کی ڈھارس بندھاتے رہے بلکہ ساتھی کرکٹر حسن علی نے شاداب کے لیے خصوصی پیغام بھی جاری کیا۔انہوں نے لکھا کہ ‘کپتان ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے، آج آپ کو کھیلتے ہوئے دیکھنا بہت اچھا لگا، ہمیں آپ کا ساتھ میسر تھا۔’

    تاہم شاداب کا اپنی ٹیم کو جتوانے کا جذبہ ٹوئٹر صارفین کا بھی دل جیت گیا اور شاداب ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

    کچھ مداحوں نے شاداب کو ‘ون مین آرمی’ کے لقب سے نوازا تو کچھ نے کہا کہ ہم نے صرف شاداب کے لیے اسلام آباد کو سپورٹ کیا۔

    واضح رہے کہ ایونٹ کا نواں میچ آج کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ساڑھے سات بجے کھیلا جائے گا جس میں پشاور زلمی اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

    یاد رہے کہ کل شاداب خان نے شاندار اننگز کھیلی مگر اس کے باوجود شاداب کشتی پار نہ لگا سکے، ملتان سلطانز کی مسلسل چوتھی جیت

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن میں شاداب خان کی شاندار بیٹنگ کے باوجود ملتان سلطانز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 20رنز سے شکست دے دی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے آٹھویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت ملتان سلطانز کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    سلطانز نے اننگز کا آغاز کیا تو یونائیٹڈ کے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب انہیں تیز یسے رنز بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    اسکور 30 تک پہنچا ہی تھا کہ محمد رضوان بدقسمتی سے رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے، محمد وسیم جونیئر کی گیند پر شان مسعود نے واپس شاٹ کھیلا اور گیند باؤلر کے ہاتھ سے لگنے کے بعد وکٹوں سے جا ٹکرائی، رضوان کریز سے باہر ہونے کی وجہ سے پویلین واپسی پر مجبور ہوئے۔

    شان مسعود آج بھی فارم میں نظر آئے اور 2 چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 43 رنز کی اننگز کھیلی لیکن مرچینٹ ڈی لانگے کی تیز گیند ان کے پیڈ پر لگی اور انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔ابھی سلطانز اس نقصان سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ ایک اور رن آؤٹ کے نتیجے میں انہیں تیسرا نقصان اٹھانا پڑے۔

    روسو نے باؤنڈری کی جانب شاٹ کھیلا اور آصف علی نے عمدہ فیلڈنگ سے یقینی چوکا روکنے کے بعد گیند وکٹ کیپر جانب تھرو کی اور وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں صہیب مقصود وکٹ گنوا بیٹھے۔

    تین وکٹیں گرنے کے بعد رائلی روسو کا ساتھ دینے ٹم ڈیوڈ آئے اور دونوں نے عمدہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے بڑے مجموعے کی بنیاد رکھی۔

    دونوں کھلاڑیوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں اور 110 رنز کی شراکت قائم کی، ٹم ڈیوڈ 29 گیندوں پر چھ چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 71 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

    تاہم رائلی روسو نے لاٹھی چارج جاری رکھا اور 35 گیندوں پر چھ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 67رنز کی اننگز کھیلی۔ملتان سلطانز نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 217رنز بنائے۔

    سلطانز کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے آخری 31 گیندوں پر 98 رنز بنائے۔ہدف کے تعاقب میں اوپنرز پال اسٹرلنگ اور ایلکس ہیلز نے جارحانہ انداز اپنایا لیکن 10 گیندوں پر 19رنز بنانے کے بعد وہ ڈیوڈ ولی کو وکٹ دے بیٹھے۔

    ایلکس ہیلز نے بھی چند بڑے شاٹس کھیلے رحمٰن اللہ گرباز کے ساتھ مل کر اسکور 57 تک پہنچا دیا لیکن اسی اسکور پر ولی نے دوسری وکٹ لیتے ہوئے 23 رنز بنانے والے ہم وطن ہیلز کو چلتا کردیا۔

    افغانستان سے آئے رحمٰن اللہ گرباز 15 رنز بنانے کے بعد خوشدل شاہ کا شکار بنے جبکہ اسی اوور میں فہیم اشرف بھی گولڈن ڈک پر چلتے بنے۔اعظم خان چھکا مارنے کی کوشش میں باؤنڈری پر کیچ ہوئے جبکہ آصف علی کو آؤٹ کر کے خوشدل نے چوتھی وکٹ حاصل کی۔

     

     

     

    دوسرے اینڈ سے شاداب خان شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسکور بڑھاتے رہےاور مبشر کے ساتھ مل کر اسکور کو 176تک پہنچا دیا، مبشر 15 اور حسن علی تین رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    تن تنہا مزاحمت کرنے والے شاداب کی اننگز بھی 19ویں اوور میں اختتام کو پہنچی ، انہوں نے 42 گیندوں پر 9 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 91رنز بنائے۔

    ڈیوڈ ولی نے محمد وسیم جونیئر کو بولڈ کر کے تیسری وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو بھی 20 رنز سے فتح دلا دی۔سلطانز کی جانب سے خوشدل شاہ نے چار جبکہ ڈیوڈ ولی نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔اس میچ میں فتح کے ساتھ ہی ملتان سلطانز نے لگاتار چوتھی کامیابی حاصل کر لی۔

    یاد رہے کہ میچ کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی البتہ ملتان سلطانز نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں۔سلطانز نے شاہنواز دھانی اور اسراراللہ کی جگہ رومان رئیس اور انور علی کو اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔

  • ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    ایک اورکشمیری نوجوان شہید کردیا گیا:مسرت عالم بٹ کا کشمیریوں کی منظم نسل کشی پر اظہار تشویش

    سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے قابض بھارتی فورسزکی طرف سےعلاقے میں جاری قتل وغارت اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔

    مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کہاکہ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بسنے والے ایک کروڑ لوگوں کو 10 لاکھ سے زائد قابض فوجیوں نے مسلسل محاصرے میں رکھا ہوا ہے جنہیں لوگوں کوقتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔

    نظربند حریت چیئرمین نے کہاکہ تمام کالے قوانین کو نافذ کر دیا گیا ہے اور مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کی منظم نسل کشی کے لیے بھارتی فورسز کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم کی مذمت کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ اب جموں اور لداخ کی ہندو برادری کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ غیر ریاستی شہریوں کوبڑے پیمانے پر اراضی اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے جس سے مقبوضہ علاقے پر سماجی اور ثقافتی جارحیت کے علاوہ متعلقہ علاقوں کے روزگار اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات پڑر ہے ہیں۔

    انہوں نے بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں حریت پسندکشمیری عوام کے شاندار کردار کو سراہا اور بھارتی تسلط، ریاستی دہشت گردی اور اس کی سامراجیت کاایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کشمیر کے بہادر عوام کے بلند حوصلوںپر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری نسل کشی، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیں۔ حریت چیئرمین نے1948 سے زیر التواءاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے جلد حل پر زور دیا۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع شوپیان میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔

    فوجیوں نے نوجوان کو ضلع کے علاقے نادی گام میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے قبل بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزروپولیس فورس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوںکو بند کردیااور گھر گھر تلاشی کی کارروائی شروع کی۔آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فوجی آپریشن جاری تھا۔

  • 2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    واشنگٹن: 2020 میں آسمانی بجلی کا 768 کلومیٹر طویل کڑاکا جسے تین امریکی ریاستوں میں دیکھا گیا تھا اس کو نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق 2020 میں دو ریکارڈ توڑ بجلی کی چمکیں رونما ہوئیں: ایک 768 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دوسری 17 سیکنڈ کے دورانیے کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ترین فلیش ہے۔

    ایک فلش جنوبی امریکہ میں اپریل 2020 میں ہوا تھا اور اس کی لمبائی تقریباً 768 کلومیٹر تھی یا لندن سے جرمنی کے ہیمبرگ تک کا فاصلہ تھا اس حوالے سے لی گئی تصویر میں ایک ’’میگا فلیش‘‘ یعنی آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کو ٹیکساس، لیوزیانا اور مسی سپی تک میں دیکھا گیا –

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس کو خلا سے ماپا گیا ہے اور اس کی تصدیق ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے کی ہے اب عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے اسے آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کا ایک نیا ریکارڈ قرار دیا ہے-

    اس سے قبل 31 اکتوبر 2018 میں برازیل میں آسمانی بجلی کا 709 کلومیٹر طویل کوندا ریکارڈ کیا گیا تھا جسے اب امریکی مظہر نے پیچھے چھوڑ کر نیاریکارڈ قائم کیا ہے عام طور پر گرج چمک والی بارشوں میں ہم آسمان پر لپکتے بجلی کے کوندے دیکھتے ہیں۔ ایک کوندا 10 سے 15 کلومیٹر طویل ہوسکتا ہے اور وہ ایک سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے اسے آب و ہوا میں تبدیلیوں یعنی کلائمیٹ چینج قرار نہیں دیا سائنسدانوں کے مطابق بجلی کا شرارہ شدید طوفان کی وجہ سے رونما ہوا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی-

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    ڈبلیو ایم او سے وابستہ سائنسدانوں نے موسمیاتی شدت کی رپورٹ امریکن میٹرولوجیل سوسائٹی کے بلیٹن میں اس قدرتی ریکارڈ کی تفصیلات شائع کروائی ہے۔ اسی رپورٹ میں طویل ترین وقت تک برقرار رہنے والی آسمانی بجلی کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں 18 جون 2020 کو یوراگوئے اور ارجنٹینا کی سرحد پر آسمانی بجلی کا کڑاکا 17 سیکنڈ تک برقرار رہا جو ایک اور ریکارڈ ہے۔

    ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں رینڈل سروینی کہتے ہیں، "اب ہمارے پاس واضح ثبوت ہے کہ بجلی گرنے کے واحد واقعات 17 سیکنڈ تک جاری رہ سکتے ہیں۔” "یہ سائنس دانوں کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ بجلی کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بناتا ہے: کس طرح، کہاں اور اہم بات یہ ہے کہ بجلی اسی طرح کیوں گرتی ہے۔”

    جسٹس عمرعطا بندیال نے بطورچیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھا لیا

  • سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب  ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سعودی مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عبدالله بن عامرالسواحہ نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم لیپ کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے میں مدد دے گی سعودی ٹیلی کام کمپنی، آبدوزوں کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ سرمایہ کاری میں ای ڈبلیو ٹی پی عربیہ کیپیٹل کا 2 ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے۔

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں…

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ خوش حالی 7وینچرزکے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپ کی تعمیر میں مدد دے گی اور اس مقصد کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ سعودی ٹیلی کام کمپنی (ایس ٹی سی) سب میرین (آبدوزوں) کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔

    انہوں نے اگلے آٹھ سال میں ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک ملازمتیں پیش کرنے کا اعلان بھی کیا انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مملکت میں ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مارکیٹ کا حجم 40 ارب ڈالرہے اور یہ خطے میں اب تک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ہمیں خطے میں خاص طور پر ای کامرس، گیمنگ، ڈیجیٹل مواد اورکلاؤڈ کمپیوٹنگ میں جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے،اس پر بہت فخر ہے۔

    روئٹرز کو دیئے گئے انٹرویوں میں وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ آرامکو پرسپرٹی7 کے اقدام میں سبزٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوزکی جائے گی جبکہ لاجسٹک کمپنی جے ٹی ایکسپریس گروپ کا مشترکہ منصوبہ خطے کے لیے ایک اسمارٹ مرکزتعمیرکرے گا جس سے کارکردگی میں 100 فی صد تک بہتری آئے گی بحیرہ احمر کے ساحل پرتعمیر ہونے والے مستقبل کے میگاشہرنیوم کے مکینوں اورزائرین کی خدمات کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک اور پلیٹ فارم بھی ہے جس سے صارفین کو اپنے ذاتی ڈیٹا کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    سعودی حکومت کویہ بھی توقع ہے کہ 1.4 ارب ڈالرانٹرپرینیورشپ میں خرچ کیے جائیں گے اورڈیجیٹل مواد کی معاونت کے لیے فنڈزمختص کیے جائیں گے جن میں گیراج کے نام سے ایک اقدام بھی شامل ہے دارالحکومت الریاض میں گیراج کے نام سے مختص مقام پرنئی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے نئے کاروباریوں کی میزبانی کرے گا ان تمام اعدادوشمار کی تیسرے فریق (تھرڈپارٹی) نے توثیق کی ہے،ہم ہوا میں کوئی تیر چلا رہے ہیں اور نہ ظاہری نمودونمائش کا کوئی کاروبار کرتے ہیں بلکہ ہم عزم کے ساتھ عملی اقدامات کرتے ہیں‘‘۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس وقت دولت مندخلیجی ممالک غیرتیل کی آمدن کو فروغ دینے اور خام تیل پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی مہم چلانے والوں اور تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ نے حکومتی مالیات پر دباؤ ڈالا ہے۔

    سعودی عرب پہلے ہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں وژن 2030 کے نام سے معروف اقتصادی اصلاحات کے وسیع ترمنصوبے میں سیکڑوں ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے اورتیل کی آمدن پرانحصار کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں

    سلمان خان کے لیے سعودی عرب کا "پرسنالٹی آف دی ایئر” ایوارڈ

    دوسری جانب شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی نے "نورہ ہیلتھ” پروگرام متعارف کرایا ہے۔ یہ علاقے کے ممالک میں صحت کے لیے پہلا جامعاتی پروگرام ہے جس کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری حاصل ہے۔

    سعودی عرب میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں اکیڈمک سپورٹ اور طلبہ کی خدمات کی سکریٹری ڈاکٹر ریم الوہیبی نے تعلیمی اداروں میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ "نورہ ہیلتھ” پروگرام ان کی یونیورسٹی کی حکمت عملیوں اور صحت کے حوالے سے سعودی ویژن 2030 کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام نفسیاتی ، سماجی اور عضوی جامع صحت کے مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد جامعہ کے اندر کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک محفوظ صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت نے 2023 تک اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اس مالی سال میں ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیا ڈیجیٹل روپیہ بھی متعارف کرایا جائے گا بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے ملکی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ڈیجیٹل روپے کا تعارف “بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجیز” پر مبنی ہوگا۔

    تھر میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر برآمد

    نرملا سیتارامن نے ملک کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کا تعارف ڈیجیٹل معیشت کو ایک بڑا فروغ دے گا، اور ڈیجیٹل کرنسی زیادہ موثر اور سستی کرنسی مینجمنٹ سسٹم کا باعث بنے گی۔

    آر بی آئی اس سال بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی جاری کرے گا۔ اس سے معیشت کو بڑا فروغ ملے گا۔ کریپٹو کرنسی سے ہونے والی آمدنی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے ٹیکس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ایسی کسی بھی جائیداد کی منتقلی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    ریزرو بینک آف انڈیا یکم اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال 2022-2023 میں ڈیجیٹل روپیہ متعارف کرائے گا۔ تاہم سیتارامن نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ڈیجیٹل روپیہ کیسے کام کرے گا یا یہ کیسا نظر آئے گا۔

    بھارت اگر اپنے منصوبوں پر قائم رہتا ہے تو وہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) متعارف کرانے والی دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہو گا۔

    یاد رہے چین 2014 سے اپنے یوآن کے ڈیجیٹل ورژن پر کام کر رہا ہے اور جب عالمی سطح پر CBDCs شروع کرنے کی بات آتی ہے تو وہ سب سے آگے ہے۔

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    وزیر خزانہ سیتا رمن نے کہا کہ ہم اومی کرون لہر کے درمیان ہیں، ہماری ویکسینیشن مہم کی رفتار نے بہت مدد کی ہے مجھے یقین ہے کہ ‘سبکا پریاس’، ہم مضبوط ترقی کے ساتھ جاری رکھیں گے وبائی مرض نے ہر عمر کے لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہےمعیاری ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے، ایک نیشنل ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

  • "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    تحریک آزادی کشمیر قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے اعلان جہاد کے بعد اب تک جاری ھے۔تقریبا 73 سالوں سے جاری اس تحریک کے متعلق نوجوان نسل کو حقائق کا علم نہیں ھے زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو بہت ہی شوق ھے تو اسے کسی ایک جماعت کے کردار کے متعلق علم ہو گا۔لیکن تحریک آزادی کشمیر میں مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کا کردار ھے۔اس کے علاوہ کشمیر کی جغرافياui اہمیت کیا ھے اور بھارت نے اس وادی پر قبضہ کیوں کیا ھے اس کے متعلق علم کسی کو نہیں ھے۔اور تو اور اس پب جی دور کی نسل کو یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ھے۔اور پاکستان میں جلسے جلوس کشمیر کے لیے کیوں ھے۔اس کے بارے ہماری نوجوان نسل کو ذرہ برابر علم نہیں ھے اور نہ ہی حکومت پاکستان نے کبھی اس کے متعلق سوچا ھے۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ کشمیر بھی کفار لے جائے گے آہستہ آہستہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب ہو جائے گے اور ہمارا نوجوان،اقبال کا شاہین پب جی اور فحاشی کے اڈوں میں ہی گھرا رہے گا۔اس حوالے سے چونکہ ڈاکومنٹری بنانے کی ضرورت ہےہمارے پاکستان میں کشمیر و فلسطین کے حوالے سے ادبی کام کی ضرورت ھے۔تحریک کشمیر کے حوالے سے فاروق اعظم بھائی نے کتاب کو شائع کروایا۔اس ہفتہ میں ان کی کتاب "کشمیر” کا مطالعہ کیا انھوں نے کشمیر کی جغرافیائی،تاریخی،سیاسی معلومات کو عام فہم زبان میں کتابی شکل دی ھے۔

    فاروق اعظم بھائی کی کتاب "کشمیر” کمال کا شاہکار ہے۔انھوں نے اعلئ انداز سے تحریک آزادی کشمیر اور اس کی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا۔آج کا المیہ یہ ھے کہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کا پتہ ہی نہیں ھے۔اس لیے کالجز کے طلباء کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ کشمیر کی تاریخ اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لازوال قربانیاں دینے والوں کو پہچان سکے۔فاروق اعظم بھائی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے سادہ الفاظ میں کشمیر کی تاریخ کو عام فہم بنا کر کتابی شکل دے دی ھے۔میرے خیال سے آج کا جو اہم مسلہ ھے کہ ہر سیاسی اور حکومتی جماعت کشمیر کی تحریک میں اپنے کردار کو پیش کرتی ھے کہ ہم نے کشمیر کے لیے یہ کیا وہ کام کیا۔اس مسئلے کو بھی فاروق اعظم بھائی نے اپنی کتاب میں حل کر دیا ھے انھوں نے باقاعدہ سرخیوں کی شکل میں ہر سیاسی جماعت ،ہر مذہبی جماعت کا تحریک کشمیر میں کردار کو واضح کر دیا ھے۔اس کے علاوہ وہاں کی عسکری جدوجہد کو بھی اپنی کتاب میں قلمبند کیا ھے۔اس کے علاوہ ان عسکری جماعتوں کے قائدین کا بھی مختصر تعارف تحریر کیا ھے۔اس کے علاوہ 1993 میں قائم کردہ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور اس کے مختلف دھڑوں کے متعلق بھی لکھا ھے جس کا مجھے علم نہیں تھا اس کتاب کے مطالعے سے پہلے۔مصنف نے اپنی کتاب میں حوالہ جات کو بنیاد بنایا ھے جس میں مختلف کشمیری مصنفین،بین الاقوامی مصنفین کی کتب کے حوالہ جات لکھے ہیں۔اس کتاب کے مطالعہ کے بعد میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ اس کتاب کو کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایکٹوسٹس کو پڑھنا چاہئے تاکہ وہ بحث و مباحثہ میں حوالہ جات دے سکے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ایسے نوجوان مصنفین کی پشت پناہی کرے تاکہ ان کا حوصلہ بلند ہو اور یہ ملک و ملت کی قلم کے ذریعے خدمت کر سکے۔اس وقت کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں مخلتف ڈاکومنٹری کو بناتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ ان لوگوں کو آگے لایا جائے جن کی یہ ڈومین ھے۔اب کشمیر کے حوالے سے ڈاکومنٹری بناتے ہوئے اگر ساحر علی بگا اور آئمہ بیگ کو بلایا جائے جو کہ پوپ سنگر ہیں انھوں نے خاک راہنمائی کرنی ھے