Baaghi TV

Category: بلاگ

  • قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری سے شروع ہوگا

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری سے شروع ہوگا

    لاہور:آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 کی تیاریوں کے لیےقومی خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ 27 جنوری بروز جمعرات سے کراچی میں قائم کردہ منیجڈ آئسولیشن میں شروع ہوگا۔ایونٹ چار مارچ سے تین اپریل تک نیوزی لینڈ میں جاری رہے گا۔

    اسٹیٹ بنک اسٹیڈیم میں جاری رہنے والے دس روزہ تربیتی کیمپ میں شریک قومی خواتین کرکٹرز ہیڈ کوچ ڈیوڈ ہیمپ کی زیرنگرانی فٹنس اور اسکلز سیشنز میں شرکت کریں گی۔ اس دوران چار پریکٹس میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ پریکٹس میچز میں شریک چھ انڈر 16 لڑکے بھی منیجڈ آئسولیشن کا حصہ ہوں گے۔

    کراچی پہنچنے پر اسکواڈ میں شامل تمام ارکان کی آرائیول کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے نتائج منفی آنے کی صورت میں انہیں منیجڈ آئسولیشن میں بھیج دیا جائے گا۔ دوسرے کوویڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر منیجڈ آئسولیشن کے تیسرے روز کھلاڑیوں کو انڈور میں بھی آپس میں ملنے کی اجازت ہوگی۔

    وکٹ کیپر سدرہ نواز کا پیر کو لیا گیا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، لہٰذا وہ اپنے گھر میں آئسولیشن مقرر کرنے کے بعدتاخیر سے کیمپ کو جوائن کریں گی۔

    قومی خواتین اسکواڈ 9 فروری کی صبح نیوزی لینڈ روانہ ہوگا۔

    اسکواڈ:
    بسمہ معروف (کپتان)، ندا ڈار (نائب کپتان)، ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء، غلام فاطمہ، جویریہ خان، منیبہ علی، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو، عمیمہ سہیل، سدرہ امین اور سدرہ نواز(وکٹ کیپر)

    ٹریولنگ ریزرو: ارم جاوید، نجیہ علوی (وکٹ کیپر) اور طوبہٰ حسن

    اسپورٹ اسٹاف: عائشہ جلیل (ٹیم منیجر)، ڈیوڈ ہیمپ (ہیڈ کوچ)، ارشد خان (اسسٹنٹ کوچ)، کامران حسین (اسسٹنٹ کوچ)، صبور احمد (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ)، زبیر احمد (ویڈیو اینالسٹ)، احسن افتخار ناگی (میڈیا اینڈ ڈیجیٹل کنٹنٹ مینیجر) اور رفعت گل (فزیو تھراپسٹ)

    آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2022 میں پاکستان کے میچز:
    6 مارچ : پاکستان بمقابلہ بھارت بمقام بے اوول، ترنگا
    8 مارچ: پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا بمقام بے اوول، ترنگا
    11 مارچ : پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ بمقام بے اوول، ترنگا
    14 مارچ : پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
    21 مارچ : پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز بمقام سیڈون پارک، ہملٹن
    24 مارچ: پاکستان بمقابلہ انگلینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ
    26 مارچ : پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈبمقام ہیگلے اوول کرائسٹ چرچ

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل 7: فول پروف سیکورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل:آغاز (کل)سے ہوگا

    ایچ بی ایل پی ایس ایل 7: فول پروف سیکورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل:آغاز (کل)سے ہوگا

    کراچی:ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کا آغاز (کل) جمعرات کو نیشنل سٹیڈیم کراچی سے ہوگا، پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ایونٹ کے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں جبکہ سندھ حکومت ، مقامی انتظامیہ سمیت سٹیک ہولڈڑز نے انتظامات کو آخری شکل دے دی ہے۔

    پاکستان رینجرز (سندھ)، کراچی پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فول پروف سیکورٹی کے حوالے سے اپنی منصوبہ بندی ترتیب دے دی ہے۔ اسی طرح ٹریفک پولیس نے بھی سٹیڈیم آنے والے تماشائیوں اور دیگر شہریوں کی سہولت کے لئے ٹریفک روٹس کا اعلان کردیا ہے ۔ ایونٹ کے پہلے روز ایک مختصر افتتاحی تقریب کے بعد دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز اور میزبان کراچی کنگز کی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی۔

    بحیثیت کپتان کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ 20 ٹی 20 انٹرنیشنل فتوحات سمیٹنے والے بابر اعظم ایونٹ میں کراچی کنگز کی قیادت کریں گے۔ ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ان کے مدمقابل قومی کرکٹ ٹیم میں ان کے ساتھی اوپنر اور کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ ٹی 20رنز بنانے والے محمد رضوان ہوں گے جو ملتان سلطانز کی قیادت کرتے ہوئے اپنے ٹائٹل کا دفاع کریں گے۔

    این سی او سی کی ہدایات کے مطابق لیگ کے کراچی میں کھیلے جانے والے میچز میں 25 فیصد تماشائیوں کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت ہے جبکہ لاہور میں شیڈول ایونٹ کے دوسرے مرحلے کے لیے تماشائیوں کی تعداد کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    ایونٹ کا دوسرا میچ اگلے روز پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مابین کھیلا جائے گاجبکہ تیسرے روز ٹورنامنٹ کا پہلا ڈبل ہیڈر کھیلا جائے گا۔ جہاں ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں دن کی روشنی میں جبکہ کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیمیں رات کوبرقی قمقموں کی روشنی میں مدمقابل آئیں گی۔

    ایڈیشن 2018 سے لاہور قلندرز کا حصہ بننے والے مایہ ناز فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی لیگ کے ساتویں ایڈیشن میں پہلی مرتبہ اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ سرفراز احمد مسلسل ساتویں ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کریں گے۔ وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اب تک ایچ بی ایل پی ایس ایل کا کوئی میچ نہیں چھوڑا۔

    ایونٹ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت شاداب خان جبکہ پشاور زلمی کی قیادت وہاب ریاض کریں گے۔ایونٹ کا پہلا مرحلہ نیشنل سٹیڈیم کراچی میں منعقد ہوگا، جہاںمجموعی طورپر 15 میچز کھیلے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں شامل 19میچز قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کے فاتحین کی گزشتہ چھ سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو لیگ کا افتتاحی ایڈیشن 2016 میں کھیلا گیا جو اسلام آباد یونائیٹڈ نے جیتا۔دوسرے ایڈیشن کی فاتح پشاور زلمی ٹھہری۔

    تیسرے ایڈیشن میں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد یونائیٹڈ نے فتح سمیٹی۔ ایڈیشن 2019 کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ، 2020 کی کراچی کنگز رہی جبکہ ملتان سلطانز ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 میں آئی سی سی کی تازہ ترین پلیئنگ کنڈیشنز لاگو کی ہیں۔

    جس کے تحت فیلڈنگ سائیڈ پر لازم ہے کہ وہ اننگز کے 19 اوورز مقررہ وقت میں مکمل کرے بصورت دیگر میچ کے آخری اوور کے لیے اس ٹیم پر 30یارڈ کے سرکل کے باہر ایک کھلاڑی کم کھڑا کرنے کی شرط لاگو ہوگی۔اس کے علاوہ کسی ٹیم کے کم ازکم 13 کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ منفی آجائیں تو اس ٹیم کا میچ نہیں رکے گا۔

    پاکستان میں بسنے والے کرکٹ فینز پی ٹی وی سپورٹس اور اے سپورٹس پر ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے میچز براہ راست ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ اسی طرح مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں موجود فینز اتصالات، کیریبین سرزمین میں فلوم سپورٹس ، نیوزی لینڈ میں سکائی این زیڈ ، برطانیہ میں سکائی سپورٹس ،آسٹریلیا میں فوکس سپورٹس، پاکستان کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا میں سونی ، سب صحارا افریقہ میں سپر سپورٹس اور شمالی امریکہ میں ولو ٹی وی پر ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی نشریات براہ راست دیکھ سکیں گے۔

    پاکستان میں لائیوسٹریم کے حقوق دراز ایپ نے خرید رکھے ہیں۔ دوسری جانب پی سی بی نے او ٹی ٹی صارفین کے لیے آئی سی سی ٹی وی اور ٹیم پاڈ ٹی وی سے بھی معاہدہ کرلیا ہے۔

    کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ انہیں پہلی مرتبہ فرنچائز کرکٹ میں کپتانی کا موقع مل رہا ہے، یہ ایک اہم ذمہ داری ہے اور وہ اسے بھرپور انداز میں ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملتان سلطانزایونٹ کی دفاعی چیمپئن اور ایک سخت حریف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں فینز کی دلچسپی دیدنی ہوتی ہے، امید ہے دونوں ٹیموں کے درمیان میچ سنسنی خیز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹر موریس ایک منجھے ہو ئے کوچ ہیں، پلاننگ کے حوالے سے ان کے ساتھ اچھی بات چیت ہو ئی ہے،

    اس سیزن میں کراچی کنگز بہتر کھیل پیش کرے گی۔ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ایچ بی ایل پی ایس ایل میں اعزاز کاکامیابی سے دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور سلطانز کا سکواڈ اسی سوچ کے ساتھ لیگ کے افتتاحی میچ سے میدان میں اترے گا۔

    انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ملتان سلطانز نے ایڈیشن 2021 میں ایچ بی ایل پی ایس ایل کا ٹائٹل جیتا مگر وہ اب ماضی ہوچکا ہے اور یہ ایک نیا سال ہے، یہاں نیا میدان ہے اور نئے کھلاڑی۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے کامیاب دفاع کے لیے ایک نئی اور مختلف سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

    محمد رضوان نے کہا کہ بابراعظم دنیا کے بہترین بیٹر اور کپتان ہیں۔ ان کی قیادت میں کراچی کنگزکی ٹیم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔ امیدہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین بہترین کرکٹ میچ سے لیگ کا آغاز ہوگا۔

  • پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے

    پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے

    دبئی:پاکستان کی خوش قسمت جوڑی:رضوان کے بعد بابراعظم سب پربازی لے گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے کرکٹ کے میدان میں ایک ایسی خوش قسمت اور خوبصورت جوڑی دی ہے جوپاکستان کے لیے بڑے بڑے اعزازات جیتنے کے سبب بن رہے ہیں‌،

    چند دن پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کے د رویش صفت کھلاڑی محمد رضوان کوعالمی اعزاز ملا توآج آئی سی سی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پہلی پوزیشن برقرار ہے۔

    آئی سی سی کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ترین ون ڈے رینکنگ کے مطابق بھارت کے سابق کپتان ویرات کوہلی بھی بدستور دوسرے نمبر پر موجود ہیں جبکہ پاکستان کے فخر زمان کا 12 واں نمبر ہے۔

    ون ڈے بولرز کی رینکنگ میں نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ دوسرے اور انگلینڈ کے کرس ووکس ایک درجے ترقی کے ساتھ تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی بیٹسمینوں کی رینکنگ میں بابر اعظم کا پہلا نمبر برقرار ہے جبکہ پاکستان کے محمد رضوان دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم تیسرے اور انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    آل راؤنڈرز رینکنگ
    ون ڈے آل راونڈرز کی رینکنگ میں بنگلادیش کے شکیب الحسن پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں افغانستان کے محمد نبی پہلے نمبر پر ہیں۔

  • بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    نیویارک :بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے 1989سے اب تک اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموںو کشمیر میں96ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجبکہ اس دوران مقبوضہ علاقے میں تقریبا 23ہزارخواتین کو بیوہ، 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ایک لاکھ مکانات اور اسکولوں سمیت دیگر عمارتوں کو تباہ کیاگیا۔

    منیراکرم نے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد سے 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیںجبکہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے لیے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی املاک کو تباہ اورنظر آتش کر کے انہیںاجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے سیکڑوں کشمیری بچوں کونابینا کردیا ہے جبکہ 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو زبردستی حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک جامع اور تحقیق شدہ ڈوزئیر جاری کیاتھا جس میں 1989سے بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کے تین ہزار 432واقعات کے آڈیو اور ویڈیو شواہد شامل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مصدقہ ثبوتوں کا نوٹس لے اور جنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں ہے بلکہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے جبکہ پاکستان نے 2014سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروپوں سے پاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مزید بتایا کہ 2020میں پاکستانی فوجی اور شہری اہداف کے خلاف ایک ہزار سے زائد سرحد پار دہشت گرد حملے کیے گئے، بھارت نے 29 جون 2020کو کراچی اسٹاک ایکسچینج سمیت پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملوں میں معاونت کی، بھارت نے سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد اداروں کی مالی اعانت اور حمایت کی، 23جون 2021کو لاہور اور 14جولائی 2021کو داسو میں چینی اور پاکستانی انجینئروں کا قتل کیا۔

    منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی توجہ فروری 2020میں نئی دلی میں مسلم مخالف قتل عام کی طرف بھی مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میںروزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، گزشتہ سال بھارت میں عیسائی گرجا گھروں پر 400حملے کیے گئے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ دو ہفتے قبل انتہا پسند ہندوتوا کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا گیا، سلامتی کونسل کو جینوسائیڈ واچ کے سربراہ کی بات ماننی چاہیے کہ ہندوستان میں نسل کشیُ ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    سری نگر:پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں وزیراعظم مودی ، مودی حکومت ، مودی نواز شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز،کمنٹس اور خیالات کے خلاف بھارتی سائبر کرائم نے سخت کارروائی شروع کردی ہے

    اس‌حوالے سے تازہ واقعہ میں‌مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پربھارتی وزیراعظم مودی کے مظالم کے خلاف وائرل ویڈیو میں باپ بیٹے کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا ہے ،

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے سوشل میڈیاپر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کرنے پر ضلع راجوری میں با پ اوربیٹے کو گرفتار کرلیا ہے ۔

    ضلع راجوری کے علاقے دہریاں سے تعلق رکھنے والے شوکت حسین اوراس کے والد سلام دین کو فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک توہین آمیز ٹک ٹاک اپ لوڈ کرنے پر بی جے پی کے کارکنوں کی شکایت پر گرفتار کیاگیا ۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر بھی جے پی کے حمایتوں نے پولیس کے پاس مقدمہ درج کرایا جس پر ضلع کے علاقے چنگس سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے کوگرفتار کیا گیا۔ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کے خلاف توہین آمیز اور قابل اعتراض الفاظ موجود تھے ۔

    دوسری طرف کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت اور بھارتی وزیراعظم پاکستان ،کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کےخلاف جو پراپیگنڈہ کررہا ہے اور کچھ ماہ قبل جو پراپیگنڈہ افشاں ہوا ہے اس کے بعد دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیں تھیں ،

    بھارت کے زیرقبضٰہ وادی کشمیر سے مودی کی فسطائیت سے تنگ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ مودی اور مودی نواز جو کہ ایک طرف پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ناسمجھ لوگوں کو اکسا رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے اندر اور بھارت کے زیرقبضہ وادی کشمیر میں کسی کو اپنےجزبات بھی زبان پرلانے کی اجازت نہیں جو کوئی بھارتی فوج کے مظالم کی تکلیف پر آہ کرتا ہے تواسے جیل ڈال دیا جاتا ہے کہاں ہیں پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی پرواویلہ کرنے والے

  • مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال  پرانےدو مجسمے دریافت

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    قاہرہ: مصری اور جرمن ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے ’الاقصر‘ کے مقام سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت کرلیے ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہ مجسمے فرعون توتنخ آمون (توتن خامن) کے دادا، فرعون آمنہوتپ سوم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے ان میں سے ہر مجسمہ اپنی تعمیر کے وقت 26 فٹ اونچا رہا ہوگا لیکن 1200 قبلِ مسیح میں مصر کے بھیانک زلزلے اور بعد ازاں ریگستان کی خشک ہواؤں اور گرد و غبار کے طوفانوں نے انہیں تباہ کردیا ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    فرعون آمنہوتپ کا دورِ حکومت 1390 قبلِ مسیح سے 1353 قبلِ مسیح تک رہا اسے قدیم مصر میں امن و خوشحالی کا زمانہ بھی سمجھا جاتا تھا اور یہ مجسمے بھی شاید اسی بناء پر آمنہوتپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے موجودہ ’الاقصر‘ جسے انگریزی میں ’لکسر‘ بھی کہا جاتا ہے، فرعونوں کے زمانے میں مصر کا دارالحکومت تھا جسے مخطوطات میں ’طيبة‘ (Thebes) لکھا گیا ہےاس قدیم شہر کی کھدائی پچھلے کئی عشروں سے جاری ہے جبکہ یہاں سے فرعونوں کے زمانے کے نوادرات آج بھی گاہے گاہے برآمد ہو رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت سے محفوظ کرنے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    الاقصر سے حال ہی میں برآمد ہونے والے یہ دونوں مجسمے ابوالہول کی طرز پر تعمیر کیے گئے تھے جن کے سروں پر بنائی گئی فراعنہ مصر کی مخصوص ٹوپیاں، چہروں پر ’شاہی ڈاڑھیاں‘ اور سینوں پر فرعونی ہار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ان میں سے ایک مجسمے کے سینے پر ’آمون رے کا پیارا‘ کی عبارت کندہ ہے جو واضح طور پر فرعون آمنہوتپ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    فرعون آمنہوتپ کی دیگر یادگاروں میں قدیم مصر کی دیوی ’سخمت‘ کے تین مجسمے بھی شامل ہیں جو خاصی بہتر حالت میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ’سخمت‘ دیوی کا سر شیرنی کا اور دھڑ عورت کا تھا یہ تینوں مجسمےالاقصر میں ایک دربار کےدروازے پر نصب تھے انہیں آمنہوتپ پر ’سخمت‘ دیوی کی خصوصی مہربانی کا اظہار بھی قرار دیا جارہا ہے۔

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ الاقصر میں یہ سارا اہتمام شاید اس وقت کیا گیا تھا کہ جب مصر پر آمنہوتپ کی حکمرانی کے 30 سال مکمل ہونے پر ملک گیر تقریبات جاری تھیں اس موقع پر الاقصر میں خصوصی میلوں اور تقریبات کے علاوہ یادگاری مجسمے بھی تعمیر کیے گئے تھے ابوالہول جیسے یہ دونوں مجسمے بھی شاید اسی موقعے کی یادگار ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    دیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    سان فرانسسكو:یوٹیوب بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا ہے ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا ہے لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    اس سے قبل ٹویٹر نے صارفین کو سہولت فراہم کی تھی کہ وہ پروفائل تصویر میں این ایف ٹی بطور نقل لگاسکیں اب سے چنددن پہلے میٹا نے بھی کہا تھا کہ وہ بالخصوص میٹاورس اور انسٹاگرام کے لیے این ایف ٹی کی تجارت پر غور کررہی ہے پہلے مرحلے میں لوگ ٹوکن کو بطور ڈسپلے رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    این ایف ٹی کیا ہے؟
    این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہے، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں این ایف ٹی میں جاری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکن یا سرٹیفیکیٹ کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی آن لائن اثاثے کا اصل مالک کون ہے اسی طرح ہم ٹھوس حالت میں پائے جانے والے اثاثوں کے لیے بھی این ایف ٹی جاری کر سکتے ہیں جو اس کے اصل ہونے کی دلیل دیتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ہانگ کانگ میں پرائیویٹ ایکویٹی فرم اوسیرس گروپ میں پارٹنر سردار احمد درانی کا خیال ہے کہ این ایف ٹی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل آرٹ (تصاویر، ویڈیوز یا دیگر آن لائن مواد) کی نقل تیار نہ ہوسکے اور اس میں تحریف نہ ہوسکے۔ یہ ایک قسم کی ڈیجیٹل آئی پی (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) ہے وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی کھیلوں کی مختلف لیگز نے اپنے کولیکٹیبلز (کھیلوں کے سامان یا کارڈز) کو این ایف ٹیز میں تبدیل کیا اور اب وہ لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔

    سردار درانی کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں اور آن لائن مواد کو این ایف ٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ اصل مالکان یا فنکار اپنا کام اور اس کے جملۂ حقوق محفوظ رکھ سکیں۔

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

  • پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے

    پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے

    کراچی:پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ پی سی بی اور فوکس اسپورٹس کے درمیان براڈکاسٹ کی شراکت داری کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدہے کے تحت فوکس اسپورٹس اب اپریل 2023 تک پاکستان میں کھیلے جانے والے ہوم انٹرنیشنل میچز اور ایچ بی ایل پی ایل ایل کے میچز کو آسٹریلیا میں براہ راست نشر کرے گا۔

    دونوں فریقین میں معاہدے کے بعداب فاکس ٹیل گروپ کے 24 لاکھ صارفین کو پاکستان میں کھیلی جانے والے ہوم انٹرنیشنل سیریز اور ایچ بی ایل پی ایس ایل کے میچز براہ راست دیکھنے کی سہولت موجود ہوگی۔ اس معاہدے کا آغاز 27 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہونے والی ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے میچز سے ہوگا۔

    اس سے قبل پی سی بی نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں موجود پاکستان کرکٹ فینز کے لیے اتصالات، کیریبین سرزمین پر فلو اسپورٹس ، نیوزی لینڈ میں اسکائی این زیڈ ، برطانیہ میں اسکائی اسپورٹس ، پاکستان کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا ء میں سونی ، سب صحارا افریقہ میں سپر اسپورٹس اور شمالی امریکہ میں ولو ٹی وی کے ساتھ بھی شراکت داری کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

    دوسری جانب پی سی بی نےاو ٹی ٹی صارفین کے لیے آئی سی سی ٹی وی اور ٹیمپاڈ ٹی وی سے بھی معاہدہ کرلیا ہے۔ ان دونوں پلیٹ فارمز کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی لائیو اسٹریمنگ کی اجازت ہوگی۔

    مندرجہ ذیل علاقوں میں رہائش پذیر کرکٹ فینز ان دونوں پلیٹ فارمز پر ایچ بی ایل پی ایس ایل کی لائیواسٹریمنگ ملاحظہ فرماسکیں گے:
    انڈورا، انٹارکٹیکا، ارجنٹائن، آرمینیا، آسٹریلیا، آسٹریا، آذربائیجان، بیلاروس، بیلجیم، بولیویا، بوسنیا اور ہرزیگووینا، بوویٹ جزیرہ، برازیل، برٹش انڈین اوشان، برونائی، بلغاریہ، کمبوڈیا، چلی، چین، جزیرہ کرسمس ، جزیرہ کوکوس، کولمبیا، کروشیا، قبرص، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، مشرقی ٹائیمور، ایکواڈور، ایسٹونیا، فالک لینڈ، فاراوئے جزائر ، فن لینڈ، فرانس، فرانسیسی گیانا، جارجیا، جرمنی، جبرالٹر، یونان، گیانا، ہرڈ آئی لینڈ، ہانگ کانگ، ہنگری، آئس لینڈ، انڈونیشیا، اسرائیل، اٹلی، جاپان، قازقستان، کوسوو، کرغیزستان، لاؤس، لٹویا، لیچٹنسٹائن، لیتھوانیا، لکسمبرگ، مکاؤ، مقدونیہ، ملائیشیا، مالٹا، مائیکرونیشیا، مالڈووا، موناکو، منگولیا، مائیکرو نین، نیدرلینڈ، مونٹاکو نیو کیلیڈونیا، شمالی کوریا، ناروے، پیراگوئے، پیرو، فلپائن، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، روس، سان مارینو، سربیا، سنگاپور، سلوواکیہ، سلووینیا، جنوبی کوریا، اسپین، سورینام، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، تائیوان، تاجکستان، تھائی لینڈ، ترکی، ترکمانستان، یوکرین، یوراگوئے، یو زبیکستان، ویٹیکن سٹی، ویت نام اور وینزویلا شامل ہیں

    ادھر اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں موجود پاکستانی شائقین کرکٹ بہت خوش ہیں اور انہوں نے پی سی بی کے اس فیصلے کی بہت تعریف کی ہے اور کہاہے کہ چلو اچھا ہوا وہ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچز سے لطف اندوز ہوجایا کریں گے

  • ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    صوبہ pkp میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی گلی محلوں اور بازاروں کیساتھ ڈراٸنگ رومز کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگٸی ہیں۔ایک طرف پارٹی ٹکٹ کے امیدوار مخصوص آستانوں کا طواف جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر اپنی پھرتیاں جاری رکھے ہوۓ ہے۔ملک کی معروف پارٹی کا نعرہ ہے "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔آنیوالے بلدیاتی الیکشن کے دوران پارٹی کا نعرہ متاثر ہوتا دکھاٸی دے رہا ہے۔اب ہر گھر سے بھٹو کی بجاۓ امیدوار نکلے گا تم کس کس امیدوار کو روکو گۓ؟

    ایک زمانے میں پنجابی کا گیت بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول کچھ اسطرح کے تھے "کنے کنے جانڑیں بلو دے گھر۔لینڑ بڑاٶ ٹکٹ کٹاٶ”۔ٹکٹ کی اہمیت کا اندازہ اس گانے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔بلو کے گھر تک جانے کیلیے اگر ٹکٹ کی شرط پوری کرنا ضروری ہے تو پھر سیاست میں ٹکٹ کی اہمیت کو کیونکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ٹکٹ چاہے بمبینو سینما گھر کا ہو یا خیبر میل کا۔ ہواٸی جہاز کا ٹکٹ ہو یا میٹرو بس کا۔۔ٹکٹ کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔خط وکتابت کیلیے بھی ٹکٹ کا ہونا لازم ہے ۔ ٹکٹ جس رنگ اور شکل میں بھی ہو اپنی پہچان خود رکھتا ہے لیکن سیاسی ٹکٹ کی الگ ہی حیثیت ہے۔ کٸی امیدواروں کی تو ٹکٹوں نے نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور جب تک پارٹی کا ثکٹ تعویذ بنا کر انکے گلے میں نہیں لٹکایا جاتا اسوقت تک انکی بے چینی دور نہیں ہوسکتی۔اس سے پہلے ٹکٹوں کی تقسیم اتنی مشکل نہیں ہوا کرتی تھی لیکن جس طرح زمانے کے طور طریقے بدلے ہیں اسی طرح سیاست کے اندازورواج بھی بدل گۓ ہیں۔

    پہلے مرحلے کے انتخابات میں پی ٹی آٸی کے ٹکٹ ہولڈروں کو منہ کی کھانی پڑی جس میں دیگر پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر بھی شامل تھے۔ریل گاڑی کا ٹکٹ منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن بے وفا دوست کی طرح پارٹی ٹکٹ کا کوٸی بھروسہ نہیں ہوتا ۔بہت سے سیاسی شہزادوں کے گلے میں پارٹی ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں عبرتناک شکست سے دوچار ہوتے اور پچھتاوے کے آنسو روتے دیکھا گیا ہے لیکن پھر بھی پارٹی ٹکٹ کے متوالوں کا جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔مسلم لیگ ن۔جمیعت علما اسلام اور پی ٹی آٸی کے ٹکٹ کیلیے مارے مارے پھرنے والے امیدواروں کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔سیاسی عاملوں کے آستانوں پر حاضری در حاضری کے باوجود دلی مرادیں پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

    پی ٹی آٸی نے تو پہلے مرحلے کے الیکشن میں عبرتناک شکست کی چوٹ کھانے کے بعد اگلے مرحلے کیلیے نیا لاٸحہ عمل مرتب کیا ہے جس کے تحت پارٹی رہنماوں کے قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کی بجائے پیدل سفر کا پروانہ جاری کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں کچھ امیدوار اعصابی دباٶ کا شکار ہوچکے ہیں اور انہوں نے شیروانیوں کے آرڈر بھی منسوخ کردٸیے ہیں۔مسلم لیگ اور جمیعت کے درمیان اتحاد کی صورت میں ٹکٹ کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں پی ٹی آٸی کو پہلے مرحلے کے انتخابات سے بھی ذیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ابھی ٹکٹوں کی بولی کا مرحلہ بھی باقی ہے۔اس سلسلے میں بولی دہندگان اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر بھی لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہے۔ٹکٹ کے جھمیلوں سے بے نیاز آذاد امیدواروں کی پھرتیاں الیکشن کی رُت کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرینگی اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بعض آذاد امیدوار بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔ایسی صورت میں ٹکٹ ہولڈر لگنے والے زخم کے اوپر ٹکٹ کی پٹی باندھ کر طویل عرصے تک اسے چاٹتے رہینگے

  • ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں بہت سی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ کئی بیماریاں جسمانی و نفسیاتی ہیں تو کئی بیماریاں روحانی ہیں۔ کچھ بیماریاں بہت ہی قدیم ہیں تو کچھ جدید ،شاید جو جدید ہیں وہ بھی قدیم ہی ہیں پر انسان نے ان کی تشخیص ابھی کی۔ہر بیماری کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی اور اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔

    ان بیماریوں سے ایک قدیم اور خطرناک بیماری حسد بھی ہے۔جس کو حسد ہوجائے اسے حاسد کہتے ہیں جس پر حسد ہوجائے اسے محسود کہتے ہیں۔ حسد کو قدیم ترین بیماری کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا،یہ بیماری انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے،ابلیس کو بھی مردود بنانے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔یہ ایسا وائرس ہے جو ہر نفس سے چمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔اسی نے قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا۔ اس نے برداران یوسف کو سیدنا یوسف کو کنوے میں ڈالنے کی ترغیب دی۔اسی بیماری کی وجہ سے بہت سے یہودی و نصاریٰ اسلام سے آج تک دور ہیں۔

    اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں پہلی بڑی وجہ اللہ تعالی کے عادل ہونے پر یقین نہ کرنا ہے کیوں کہ تمام عطائیں اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں چاہے کسی کو کم عطا کرے کسی کو زیادہ کسی کو کچھ عطا کرے تو کسی کو کچھ۔کسی سے عطا کرنے کے بعد واپس اٹھالے سب اس مالک حقیقی کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔حاسد جب حسد کرتا ہے تو اللہ کی عدل و رضا کا انکار کر بیٹھتا ہے کیوں کہ جو اس کے پاس ہے وہ بھی اللہ کی رضا ہے اور جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اللہ ہی کی رضا سے ہے۔

    حسد کی بہت سے اقسام ہیں۔مختصرا ذکر کیا جائے تو تین ہیں۔ اول یہ کہ میرے پاس نہیں فلاں کے پاس کیوں ہے۔دوئم یہ کہ فلاں سے چھین کر یہ بھی میرا ہی ہو۔سوئم فلاں کے پاس سے بھی چھین جائے پھر بیشک مجھ سے بھی چلا ہی جائے۔حسد کی ہر ایک قسم بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے مگر تیسری قسم شرمناک بھی ہے۔

    حسد کی تیسری قسم پر ایک مثال بھی دی جاتی ہے کہ ایک درویش شخص دریا کے کنارے ایک ٹانگ پر اپنی مراد و مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے سامنے دعائیں مانگ رہا تھا پھر ایک دوسرا شخص بھی بالکل اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ جاکر ان اشخاص کی مرادیں پوری کردے۔ فرشتہ جب پہلے شخص کی طرف آتا ہے تو وہ شخص اسے اپنی حاجت بتاتا ہے اور فرشتہ اس کی تکمیل کرتا ہے جب فرشتہ دوسرے شخص سے پوچھتا ہے کہ تجھے کیا طلب ہے تو وہ کہتا ہے میری فقط اتنی سی حاجت ہے کہ جو اس نے مانگا ہے وہ اسے نہ ملے۔

    فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ایمان اور حسد ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس مرض کا مریض خود بھی اندر سے جل کر کھوکھلا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا نقصان بھی کرتا ہے کبھی حسد دشمنی تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔

    حسد سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرنی چاہیے یہ بندے کو محنت سے بھی دور کرتا ہے اور بندہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آخرت اور موت کو کثرت سے یاد کرنی چاہیے