Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس،اہم فیصلے

    پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس،اہم فیصلے

    لاہور:پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کا سالانہ جنرل کونسل اجلاس گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا،اجلاس کی صدارت پاکستان ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر میاں عرفان معراج نے کی، اجلاس کے بعد عرفان معراج نے پریس کانفرنس میں تمام لائحہ عمل پیش کیاانکے ہمراہ سیکرٹری ایسوسی ایشن سید محمد کومیل کاظمی،نائب صدر عبدالرحمان وسان،خزانچی عبدالر حمان یوسف بھی تھے۔

    

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بھر سے 16 ڈیف کرکٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس میں نومنتخب صدر میاں عرفان معراج سمیت دیگر عہدیداران اعتماد کا ووٹ حاصل کیا اس موقع پر میاں عرفان معراج پاکستان ڈیف کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کرتےہوئے اجلاس میں پاکستان ڈیف کرکٹ کی پروموشن کے لیے ملکی ٹورنامنٹس کے شیڈول کو بھی حتمی شکل دی گئی اورغیر ملکی سیریز کے حوالے سے یقین دہانی کروائی۔اجلاس میں ایسو سی ایشن کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔شامل ایسو سی ایشن راولپنڈی،اسلام آباد،مردان،اٹک،پشاور، لاہور،اوکاڑہ، ساہیوال،بہاولپور، کراچی، حیدر آ باد،گوٹکی،مظفر گڑھ،فیصل آباد،گجرات اور رحیم یار خان نےعرفان معراج پر نہ صرف اعتماد کیا بلکہ ہر سطح پر تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

    عرفان معراج نے کہا کہمسرچ میں قومی چیمپیئن شپ منعقد کی جائیگی۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیشہ انکی معاونت کی ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں جبکہ رمیز راجہ نے بھی ہر سطع پر تعاون کا یقین دلایا ہے۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہلے ڈیف الیکشن کروانے پرپی سی بی کےمشکور ہیں ۔مذید کہا کہ ایسو سی ایشن کے پاس فنڈز کی کمی ہے۔اس کے باوجود کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دیا۔

  • جیمزفالکنرآپ ہمارے مہمان:مگرآپ کا رویہ اچھا نہیں :اپنی غلطی تسلیم کریں:پی سی بی نےحقائق پیش کردیئے

    جیمزفالکنرآپ ہمارے مہمان:مگرآپ کا رویہ اچھا نہیں :اپنی غلطی تسلیم کریں:پی سی بی نےحقائق پیش کردیئے

    لاہور: پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیمز فالکنر کے الزامات کی سختی سے تردید

    جیمز فالکنر کی جانب سے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2022 کے دوران عدم ادائیگی سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

    "پی سی بی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جیمز فاکنر کے قابل مذمت رویے سے مایوس ہیں، جو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 2021کے ابوظہبی مرحلے کابھی حصہ تھے، جہاں شریک دیگر تمام ارکان کے ہمراہ ان کے ساتھ بھی احترام کا رویہ اختیار کیا گیا۔

    "ایچ بی ایل پی ایس ایل کی سات سالہ تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی نے کبھی بھی عدم ادائیگی کی شکایت نہیں کی۔

    "اس کے برعکس تمام کھلاڑیوں نے ہمیشہ پی سی بی کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی 2016 سے ایچ بی ایل پی ایس ایل کا حصہ ہیں۔

    • دسمبر 2021 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے ادائیگی کے لیے اپنے یوکے کے بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کی، جسے نوٹ کرلیا گیا
    • جنوری 2022 میں جیمز فالکنر کے ایجنٹ نے آسٹریلیا میں موجود ایک آن شور اکاؤنٹ کی تفصیلات شیئر کیں۔تاہم جیمز فالکنر کی 70 فیصد ادائیگی یو کے میں ان کے آفشور اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی تھی۔ جیمز فالکنر نے اس منتقلی کی تصدیق کی
    • معاہدے کے مطابق انہیں تمام ادائیگیاں کی جا چکی ہیں
    • بقیہ 30 فیصد ادائیگی ایچ بی ایل پی ایس ایل 2022 کے اختتام کے 40 روز کے اندر کی جانی تھی، تاہم اس پر اب نظر ثانی کی جائے گی
    • یوکے کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کے باوجود جیمز فالکنر کا اصرار تھا کہ انہیں دوبارہ آسٹریلیا کے آن شور اکاؤنٹ میں تمام رقم بھیجی جائے، جس کا مطلب تھا کہ انہیں دو مرتبہ ادائیگی کی جائے
    • انہوں نے رقم منتقل نہ کرنے پر جمعے کے روز ملتان سلطانز کے میچ میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی
    • ایک ذمہ دارانہ ادارے کی حیثیت سے پی سی بی نے جمعہ کی دوپہر کو جیمز فالکنر سے رابطہ کیا۔اس دوران توہین آمیز رویے کے باوجود جیمز فالکنر کو یقین دلایا گیا کہ ان کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گاتاہم انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے ایک اہم میچ کھیلنے کے لیے میدان میں اترنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی سے انکار کر دیا اور فوری طور پر اپنے سفری انتظامات ترتیب دینے کی ہدایت کردی
    • اس دوران پی سی بی ان کے ایجنٹ کے دوران مسلسل رابطے میں رہا، جو پشیمان اور معذرت خواہ تھے
    • اپنی روانگی سے قبل جیمز فالکنر نے ہفتے کو جان بوجھ کر ہوٹل کی پراپرٹی کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتیجے میں انہیں ہوٹل کا نقصان پورا کرنا پڑا۔ اس کے بعد پی سی بی کو ایمیگریشن حکام سے بھی جیمز فالکنر کے رویے کی شکایات موصول ہوئیں جو وہاں گالم گلوچ کررہے تھے

    اس تناظر میں پی سی بی نے جیمز فالکنر کی سنگین بدتمیزی کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فرنچائزز کے ساتھ مل کر متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جیمز فالکنر کو مستقبل میں ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے کسی ایونٹ میں ڈرافٹ کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے آسٹریلوی آل راونڈر جیمز فالکنر کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کی نیت سے آئے تھے مگرپاکستان میں ان کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا وہ نبھایا نہیں گیا ،

    جیمز فالکنرکہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں مدد کرنا چاہتا تھا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں تمام پاکستانی فینز سے معذرت خواہ ہوں

    جیمز فالکنرنے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کی جانب سے معاہدہ پورا نہیں کیا گیا، آسٹریلوی آل راؤنڈر جیمز فالکنر نے مزید کرکٹ کھیلنے سے انکار کردیا ہے

  • امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    امریکہ کی افغانستان میں واردات، تحریر: نوید شیخ

    کیا آپکو معلوم ہے کہ امریکہ کیسے اپنے سے چھوٹے ملکوں اور کمزور قوموں کو سرنگوں رکھنے کے لیے اپنے مالیاتی اداروں کا استعمال کرتا ہے ۔ اور اس مقصد کے لیے وہ تمام قانونی اور اخلاقی جواز بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اپنی
    supermacy بارے ہی سوچتا ہے ۔ اس سلسلے میں انسانی کیا ہر قسم کے حقوق کو بھی بھول جاتا ہے ۔

    ۔ ایسی ہی واردات امریکہ نے افغانستان کے حوالے سے ڈالی ہے جس پر افغانی تو امریکہ کو کوس ہی رہے ہیں پر اب دنیا کے بڑے بڑے ممالک امریکہ کو اس بھونڈی حرکت پر خوب لعن طعن بھی کررہے ہیں اور اس کو اسکی اصلیت بھی دیکھا رہے ہیں ۔ آج کا یہ وی لاگ اس ہی بارے میں ہے ۔ ۔ اس وقت دیکھائی یوں دیتا ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان مسلسل ایک Caosکا شکار رہے ہیں حالانکہ پورے افغانستان میں امن آگیا ہے۔ گارنٹی مل چکی ہے کہ ان کی سرزمین کسی کےاور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا ۔ عورتوں سمیت جتنے بھی حقوق کا انھوں نے مطالبہ کیا وہ مان لیے گئے ہیں ۔ مگر پھر بھی ان کے اپنے ہی پیسے ان کو نہیں دیے جا رہے ہیں ۔ جبکہ اس وقت افغانستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی بھوک وننگ کا شکار ہوچکی ہے ۔ اقوام متحدہ بھی اس خدشہ کا اظہار کرچکا ہے کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر انسانی حقوق کے champions کو باقی سب کچھ تو دیکھائی دیتا ہے مگر افغانیوں کی یہ حالت زار دیکھائی نہیں دیتی ۔ لگتا یوں ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کے حالات کبھی ٹھیک نہ ہوں ۔

    ۔ اسی حوالے سے چین نے بڑا ہی تگڑا بیان دیا ہے اور وہ کھل افغان عوام کی حمایت میں بول اٹھا ہے ۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں چین نے امریکہ کو ڈاکو قرار دے دیا ہے ۔ اور شاید کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے ۔ ۔ دراصل چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے منجمد سات ارب ڈالر کے فنڈز کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے صدارتی حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد نصف رقم ۔۔۔ ساڑھے تین ارب ڈالر۔۔۔ افغانستان کے عوام کی انسانی مدد جبکہ بقیہ ساڑھے تین ارب ڈالر گیارہ ستمبر کے حملوں کے متاثرین میں تقسیم کرنے کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ صدارتی حکمنامے کے مطابق امریکی انتظامیہ نیویارک کے فیڈرل ریزور میں منجمد افغان اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکے گی اور ان اثاثوں میں ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کی فلاح اور افغانستان کے مستقبل پر خرچ کیے جا سکیں گے۔ مگر یہ باقی ماندہ پیسے خرچ کیے جانے ہیں اس حوالے سے بھی اسٹوری میں twist ہے جو آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔ ۔ فی الحال امریکی پستی کی اس سطح پر آ گئے ہیں کہ کمزوروں کی امانتیں بھی ہڑپ کرنے پر اتر آئے ہیں۔۔ کیونکہ یہ جو پیسہ منجمد ہے وہ بنیادی طور پر ان پیسوں پر مشتمل ہے جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر افغان عوام کی مدد کے لیے عطیہ کی گئی تھی۔

    ۔ گذشتہ سال اگست کے مہینے میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بہت سی غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے افغانستان کے مرکزی بینک کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا جن کی مجموعی مالیات دس ارب ڈالر بنتی ہے اور ان میں سے سات ارب ڈالر صرف امریکی شہر نیویارک میں موجود ہیں۔ جبکہ دو ارب ڈالر یورپ اور باقی متحدہ عرب امارت میں بھی منجمد ہیں۔ طالبان نے بارہا امریکہ اور غیر ملکی حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ فنڈ جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ وہ افغانستان کی بدحال معیشت کو سہارا دے سکیں اور انسانی بحران سے بچ سکیں۔۔ حقیقت میں یہ جو افغانستان کی امانت چرائی گئی ہے اس کا کوئی بھی شہری ہائی جیکرز میں شامل نہیں تھا۔ پھر افغانستان کی آدھی آبادی نو ستمر کے بعد پیدا ہوئی۔ جن میں سے بہت سے دو وقت کی روٹی کے لیے گردے بیچنے پر مجبور ہیں۔ حالت یہ ہے کہ پورے پورے خاندان زندہ رہنے کے لیے اپنے گردے بیچ رہے ہیں اور یہ امریکی ٹی وی voice of america کی اپنی رپورٹس میں دیکھا جا رہا ہے ۔ مگر کسی امریکی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ۔ ۔ امدادی گروپس اور بین الاقوامی ایجنسیوں کا اندازہ ہے کہ قریب 23 ملین افراد کو۔ جو افغانستان کی نصف آبادی بنتی ہے۔ سخت بھوک کا سامنا ہے جبکہ نو ملین یا 90 لاکھ افراد قحط سالی کے کنارے تک پہنچ چکے ہیں۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگ خوراک خریدنے کے لیے ذاتی اشیا بیچنے، گھر کو گرم رکھنے کے لیے فرنیچر تک جلانے اور یہاں تک کہ پیسوں کے لیے اپنے بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    ۔ پھر طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی زیادہ تر افغان حکومتی اہلکاروں کو دو ماہ سے ان کی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد سے قریب نصف ملین افغان اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ دوسری طرف ملک سے باہر موجود افغانوں کو وطن میں اپنے رشتہ داروں کو رقوم بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی ایک وجہ بینکوں کی طرف سے افغانستان کے ساتھ کاروبار میں ہچکچاہٹ ہے اور ان کو ڈر ہے کہ امریکی پابندیوں کی زد میں نہ آجائیں ۔۔ سچ یہ ہے کہ نو گیارہ کے سب سے زیادہ متاثرین افغانستان میں رہتے ہیں۔ اگر وہ ہرجانہ وصول کرنے کے قابل ہوتے تو آج ہر امریکی اپنے بچے بیچ رہا ہوتا۔ حقائق یہ ہیں کہ نو ستمبر ہائی جیکنگ میں جن افراد نے براہ راست حصہ لیا یا بلاواسطہ مدد کی۔ ان میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔۔ اس پر سوال تو بنتا ہے کہ اگر متاثرین کو ہرجانا دلوانا ہی تھا تو سب سے موزوں ملک سعودی عرب ہی تھا کہ جس نے امریکہ میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ۔ اس سلسلے میں چینی وزارت خارجہ نے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ افغان عوام کی رضا کے بغیر امریکا نے افغان اثاثوں پر فیصلہ کیا۔ ۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ ترجمان Wang Wen Bin نے کہا کہ امریکی فیصلے سے پھر ثابت ہوا کہ امریکا اپنے دعوؤں کے برعکس کمزوروں کا دفاع نہیں کرتا۔۔ ثابت ہوا امریکا اپنے فیصلے صرف اپنی بالادستی کے لیے کرتا ہے۔ ۔ افغان عوام کے مجرم امریکا کو افغان عوام کی مشکلات بڑھانی نہیں چاہئیں۔ ۔ امریکا کا یہ عمل ڈاکوؤں کے طرز عمل سے مختلف نہیں ہے۔۔ پھر چین نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو افغان عوام کے تمام اثاثے غیر منجمد کرنے چاہئیں اور افغانستان سے یک طرفہ پابندیاں جلد ہٹانی چاہئیں۔ امریکا کو افغانستان میں انسانی بحران کم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ۔ افغانستان کے اثاثوں سے متعلق امریکی فیصلے پر پاکستان بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے ۔ کہ اس سے افغان عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گی ۔ مگر شاید امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا یا پھر ان کی خواہش ہی یہ ہے کہ افغانی بحران کا شکار رہیں ۔ ۔ اس حوالے سے طالبان حکومت نے بھی اس امریکی فیصلہ کو چوری اور اخلاقی انحطاط کی نشانی قرار دیا ہے۔

    ۔ افغانستان کے سابق سیاستدانوں ، عوام ، اکیڈمکس اور دیگر نے بھی اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی بہت سے افغانوں نے لکھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن مشکلات میں گھرے افغان شہریوں کا پیسہ چُرا رہے ہیں اور یہ کہ اس عمل کا امریکا میں دہشت گردی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ہے منجمد شدہ اثاثوں کی اس طرح تقسیم افغان معیشت کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔۔ افغان پالیسی کے تجزیہ کار اور محقق محسن امین کا کہنا ہے کہ یہ افغان شہریوں کو ان کی اپنی ہی رقم انسانی مدد کے نام پر دی جانا ہے جبکہ ان کی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔۔ افغان طالبان نے اس حوالے سے واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان کےسات ارب ڈالر کے اثاثے بحال نہ کیے تو امریکا سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کریں گے۔۔ ماضی میں بھی طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا مسائل کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔۔ تاہم امریکی حکومت نے نہ تو اب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی طالبان اور ان کے سینیئر رہنماؤں پر لگی پابندیوں کا خاتمہ کیا ہے، جو القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے تناظر میں لگائی گئی تھیں۔ انہی پابندیوں کے سبب یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ افغانستان میں رقوم منتقل کرنا یا اس کے سے ساتھ کاروبار کرنے سے مشکل پیش آ سکتی ہے۔۔ امدادی گروپ اور دیگر ادارے بھی امریکی حکومت اور محکمہ خزانہ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ کاروباری افراد اور حکومتوں کو یقین دہانی کے خطوط لکھے کہ اگر وہ افغانستان میں کاروبار کرتے ہیں تو انہیں کسی طرح کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ایک جانب اثاثے منجمند ہیں تو دوسری جانب کوئی بھی افغانستان میں investmentکرتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پابندی نہ لگ جائے ۔

    ۔ پھر یہ بھی بہت بڑی دونمبری ہے امریکہ کی جانب سے ۔ کیونکہ نو ستمبر کے متاثرین کو پیسے دینے کے باوجود بھی وہ یہ آدھا پیسہ ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے ۔ کیونکہ متوقع عدالتی فیصلہ میں اگر ساڑھے تین ارب ڈالر افغان عوام کو دینے کی منظوری دی جاتی ہے تو بھی ساڑھے تین ارب ڈالر امریکہ ہی میں رہیں گے اور دہشت گردی کے متاثرہ امریکی شہریوں کی طرف سے دعوؤں سے مشروط رہیں گے۔ اس حوالے سے امریکہ نے کہا ہےکہ اس حکمنامے سے افغان عوام تک یہ پیسہ پہنچانے کی راہ ہموار کی گئی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ طالبان کے ہاتھ نہ لگے۔ یعنی یہ تمام پیسہ بھی امریکہ کمپنیوں یا این جی اوز کے ذریعے ہی افغان عوام کو دیا جاسکے گا ۔ اب یہ افغانیوں تک پہنچتا ہے کہ نہیں اسکی کوئی گارنٹی نہیں ۔ دیکھا جائے تو جو چین نے امریکہ کے لیے ڈکیٹ کا لفظ استعمال کیا یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ جس ملک پر آپ نے مسلسل بیس سال جنگ مسلط کیے رکھی ۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جان لی ۔ ہر طرح کا اسلحہ وبارود ان پر آزمایا۔ یہاں تک کہ پورے ملک کو کھنڈر میں تبدیل کردیا ۔ اب اگر آپ اس کو ملنی والی امداد کے پیسے بھی کھا جائیں تو ڈاکو کہنا بھی انتہائی چھوٹا لفظ ہی دیکھائی دیتا ہے ۔

  • آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اگر آپ کی گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ BF ​​سے پیار کرتی ہے۔

    آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اگر آپ کی گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ BF ​​سے پیار کرتی ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آپ کی گرل فرینڈ اس کے بارے میں مسلسل بات کرتی رہے یا جب بھی آپ اس علاقے میں ہوں اسے اس کے گھر سے گاڑی چلانے کی وجوہات ملیں۔ جب آپ کسی بحث کے بیچ میں ہوتے ہیں یا ان خطوط پر گندے تبصرے کرتے ہیں تو شاید وہ آگے بڑھ کر آپ کا موازنہ اس سے کرتی ہے۔ بدترین صورت حال، آپ کی گرل فرینڈ دراصل ایک رات نشے میں اسے ڈائل کرتی ہے جب وہ آنسوؤں کے تالاب میں ہوتی ہے اور اسے یاد کرتی ہے۔ واضح طور پر، یہ نشانیاں ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابق سے پیار کرتی ہے۔
    ہم بحیثیت انسان محسوس کرتے ہیں کہ وفاداری ایک لازوال رشتے کے لیے ضروری ہے۔ اور ہونا بھی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شراکت دار ہمیں اپنی تمام ضروریات – جذباتی، ذہنی اور جسمانی کی تکمیل کے طور پر دیکھیں۔ یہ وہی ہے جو واقعی ایک عظیم بانڈ کو یقینی بناتا ہے۔
    لیکن کیا ہوتا ہے جب آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کی گرل فرینڈ کو اپنے آخری رشتے کے حوالے سے ابھی تک بندش نہیں ملی ہے؟ کیا ہوتا ہے جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی ایک پرانے شعلے پر لٹک رہی ہے؟
    جب آپ کو اس قسم کا احساس ہوتا ہے تو آپ کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ غیر محفوظ محسوس کرنا یا غصے سے کام لینا آپ کے تعلقات کو پتھریلی زمین پر ڈالنے کا ایک یقینی طریقہ ہے۔ لہذا، اگر آپ اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں، "کیا وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​​​سے پیار کرتی ہے؟” اس سے پہلے کہ ہم اس سے نمٹیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے، آئیے واضح کریں کہ وہ کون سی یقینی نشانیاں ہیں جو وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہیں۔
    آئیے ان بنیادی باتوں کے ساتھ شروع کریں۔ جو نشانیاں وہ اپنے سابقہ ​​پر نہیں ہیں وہ ہمیشہ موجود رہیں گی اگر یہ واقعی سچ ہے۔ اگر وہ اسے یاد کرتی ہے، تو شاید ہی کوئی ایسا طریقہ ہو کہ وہ اسے آپ سے چھپا سکے۔ اگر آپ ان علامات کو یاد کرتے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ آپ اس کے رویے کو غور سے نہیں دیکھ رہے ہوں۔ تو سب سے پہلے اپنی آنکھیں کھولو اور سچائی کے قریب جاؤ۔
    کیا وہ اب بھی اپنے سابق کے لیے جذبات رکھتی ہے؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔ ہم آپ کو دس نشانیاں دکھاتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔
    1. کیا وہ اب بھی اس سے بات کرتی ہے؟
    اب، بات ہو رہی ہے، اور ہے… بات ہو رہی ہے۔ ہم سب فرق جانتے ہیں۔ کچھ موضوعات رشتے میں مقدس ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں جانوں گا کہ وہ آپ کے رشتے میں کیا ہیں، لیکن اگر میں نے اپنے ساتھی کو ان موضوعات کے بارے میں کسی سابق سے بات کرتے ہوئے پایا، یہاں تک کہ مذاق میں یا یہاں تک کہ صرف اس پر بات کرنا مجھے ناراض کرے گا۔ مشورہ طلب کرنا یا کچھ اور..ہاں… یہ بہت بڑی بات ہے۔
    اگر آپ اپنے آپ سے اکثر پوچھتے ہیں – کیا اتنا اہم ہے کہ وہ اگلے دن تک انتظار نہیں کر سکتا اور آدھی رات کو اس پر تفصیل سے بات کرنی پڑتی ہے یا کون سی بات اتنی نجی ہے کہ اسے بات کرنے کے لیے اگلے کمرے میں جانا پڑتا ہے؟ وہ یا صرف اپنے آپ سے یہ آسان سوال پوچھیں۔ ایک لڑکی اپنے سابقہ ​​کے ساتھ کیوں رابطے میں رہے گی جو اس وقت اس کی زندگی سے باہر ہونے والا ہے؟
    2. وہ سوشل میڈیا پر کتنی بات چیت کرتے ہیں؟
    سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی اس سے بچنا ہے۔ لہٰذا کسی کے بہت سے تعاملات اور طرز عمل کو آن لائن ان کے نقش قدم کا پتہ لگا کر سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی تصویروں، پوسٹس کو پسند کرنا، تبصرہ کرنا یا قابل تعریف کام کا اشتراک کرنا شاید صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں لیکن خوش ہیں کہ دوسرا اچھا کر رہا ہے۔ یہاں غیرت مند بوائے فرینڈ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔
    ہوسکتا ہے کہ آپ کا ساتھی سابقہ ​​خاندان کے ممبران کے ساتھ دوست ہو اور ان کے تعلقات ٹوٹنے کے باوجود ان کے ساتھ فروغ پزیر تعلق قائم رکھے۔ مجھے وہاں کوئی نقصان نظر نہیں آتا، اور نہ ہی آپ کو۔ یہ صرف شائستگی بھی ہو سکتی ہے۔
    لیکن اگر آپ کی گرل فرینڈ اپنی زندگی کو اپنے سابق کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہی ہے، سابقہ ​​ساتھی کی تصاویر پر مسلسل تنقید کر رہی ہے، اس کے ساتھ گزرے وقت کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، وہی چھٹیاں منانا چاہتی ہے جو اس کا سابقہ ​​لے رہی ہے، اپنے خاندان کا آپ سے موازنہ کر رہی ہے، آپ مصیبت میں ہو سکتے ہیں. اور یہ گہری مصیبت ہو سکتی ہے۔
    یہ بھی نوٹ کریں کہ وہ سوشل میڈیا پر کتنی بات کرتے ہیں۔ متن جو فطرت میں خطرناک ہو سکتے ہیں یا محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان کا تبادلہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے سابقہ ​​یا دوستوں کے درمیان تب بھی جب وہ نشے میں ہوں۔
    3. کیا وہ اب بھی اپنے سابق کے لیے جذبات رکھتی ہے؟ دیکھیں کہ کیا وہ نرمی سے اس کا پیچھا کر رہی ہے۔
    مجازی دنیا میں پیچھا کرنا آسان ہے، اور ہم بحیثیت انسان، اسے چھوڑنے کی اپنی صلاحیت میں بگڑ رہے ہیں۔ لہذا، اگر آپ اپنی گرل فرینڈ کو اپنے سابقہ ​​پروفائل یا اس کے کنبہ کے افراد کے پروفائلز کے ذریعے مسلسل اسکرول کرتے ہوئے پاتے ہیں کہ اس کے بارے میں خبریں، اس نے اس دن کیا کیا، وہ کہاں تھا، وہ کس کے ساتھ تھا اور اس دن اس نے کیا کھایا… ہوشیار.
    آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے؟ مشترکہ دوست بھی اس بارے میں معلومات کے رازدار ہیں کہ دوسرا کہاں ہے۔ تو کیا آپ اسے پاتے ہیں کہ وہ مسلسل ان سے پوچھتی ہے کہ وہ کہاں ہے اور وہ کیا کر رہا ہے، جب بھی وہ ملتے ہیں تو ان کے ساتھ اس کے اور اس کے ماضی کے تعلقات پر تفصیل سے بات کرتے ہیں؟
    کیا آپ یہ پوچھ کر اپنے آپ سے سوال کر رہے ہیں، "کیا وہ مجھے ریباؤنڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے؟” یہ بذات خود کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کا رشتہ پریشانی کی طرف بڑھ رہا ہو۔
    4. اپنے سابقہ ​​کے ساتھ قربت پیش کرنا
    یہ کہنا کہ ‘میری گرل فرینڈ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے لیکن مجھ سے بھی پیار کرتی ہے’ آپ کے لیے اسے آپ کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا عذر نہیں ہے۔ اگر آپ کو نشانیاں نظر آتی ہیں کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے، تو آپ کو اس کے بارے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
    کیا آپ کی گرل فرینڈ اسے یاد دلاتی ہے کہ اس کی پوسٹس پر تبصرے کے دوران جب وہ ایک ساتھ تھیں تو کتنی خوش کن چیزیں تھیں؟ اگر آپ سب ملتے ہیں، تو کیا وہ آپ کو ان باتوں اور باتوں سے خارج کر دیتی ہے جن کے بارے میں آپ کو علم نہیں ہے اور اس کے ساتھ بات چیت میں ملوث ہے؟ کیا وہ کبھی کبھی بھول جاتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کیوں الگ ہوئی؟
    آپ اس وقت پوری طرح سے الجھن میں پڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ اب بھی آپ سے پیار کرتی ہے اور اس دوران آپ کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ لیکن یہ رجحان اب بھی ظاہر کرتا ہے کہ سابق کے ساتھ قربت آپ کے تعلقات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ صحت مندی لوٹنے والے تعلقات کی صرف کلاسک علامات ہیں، لہذا ہوشیار رہیں۔
    5. کیا آپ اسے اس کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے پکڑتے ہیں؟
    کیا آپ نے کبھی اسے اس کی تصویروں یا تصویروں پر کلک کرتے ہوئے دیکھا ہے جب وہ ایک ساتھ تھے جس سے آپ کو بے چینی محسوس ہوئی اور پوچھا، ‘کیا میری گرل فرینڈ اب بھی اپنی سابقہ ​​پر ہے؟’
    اگر وہ اس کی تصویروں کے بارے میں جنون رکھتی ہے، انہیں بار بار دیکھتی ہے، اس کے بارے میں بات کرتی ہے اور افسوس کے ساتھ اس کے ساتھ وقت ضائع کرتی ہے، تو یہ جواب اثبات میں ہے۔
    6. کیسے جانیں کہ وہ اپنے سابقہ ​​سے زیادہ نہیں ہے؟ جسمانی رابطے کا اندازہ لگائیں۔
    آپ کے ساتھ، اگر وہ بے حد پیار کرنے والی ہے، بستر پر آپ کے ساتھ لطف اندوز ہوتی ہے اور آپ حقیقی طور پر محسوس کرتے ہیں کہ آپ اچھی جنسی تعلقات رکھتے ہیں، تو شاید فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہے جب مسئلہ شروع ہوسکتا ہے۔ اگر وہ اپنے سابقہ ​​کے بارے میں بات کرتی ہے جب وہ آپ کے ساتھ رومانوی یا بدتر جنسی ماحول میں ہوتی ہے۔ وہ ذہنی طور پر آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ جنسی تعلقات کے دوران اپنے سابقہ ​​​​کا نام صاف کرنا ایک مکمل تحفہ ہے کہ وہ اب بھی اپنے سابق کے لئے جذبات رکھتی ہے۔
    7. کیا آپ کی گرل فرینڈ اپنے سابق سے تحائف قبول کر رہی ہے؟
    سالگرہ یا مواقع پر دیے گئے تحائف جنہیں سابقہ ​​کو مدعو کیا گیا ہے اسے قبول کرنا ہوگا، یہ کہے بغیر ہی جاتا ہے۔ لیکن مہنگے تحائف یا تحفے وصول کرنا اور قبول کرنا جو رومانس کا جادو کرتے ہیں آپ کے تعلقات میں آپ کی جگہ کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہیے۔
    سالگرہ پر چھوٹا گفٹ کارڈ یا کرسمس کے لیے اسکارف کوئی بڑی بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن سرخ لباس یا اس سے بھی بدتر، ہار کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو الارم بجانے کی ضرورت ہے۔
    8. کیا وہ اپنے پرانے رشتے کا آپ سے موازنہ کرتی ہے؟
    ہر رشتہ، ہر شخص کی طرح، مختلف ہوتا ہے اور اپنے جذباتی سامان کے ساتھ آتا ہے۔ کیا وہ آپ کو مسلسل بتاتی ہے کہ آپ کا رشتہ پرانے سے کیسا ہے یا آپ کو اس کا نام لیے بغیر اس کے سابق کی طرح کیسے بدلنے کی ضرورت ہے یا آپ کو یہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ اس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں؟ کیونکہ نہ صرف یہ زہریلا سلوک ہے، بلکہ یہ بھی ایک نشانی ہے کہ وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔
    9. کیا اس کے دوست جانتے ہیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہی ہے؟
    جیسا کہ یہ ظاہر کرنے کے طریقے موجود ہیں کہ ایک نیا رشتہ شروع ہوا ہے یا رشتے کی حیثیت بدل گئی ہے، یہ ظاہر کرنے کے برابر طریقے ہیں کہ یہ ختم ہو گیا ہے۔ تو یہ سوچو۔ کیا اس کے قریبی دوست جن کے ساتھ وہ عام طور پر گھومتی ہے، جانتے ہیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہی ہے یا آپ ابھی تک راز میں ہیں؟
    ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے دوست اپنے شراکت داروں کے ساتھ ملیں۔ ہمارے شراکت داروں کے بارے میں دوست اور ان کا اندازہ اہم ہے، اس لیے اس بات کا دھیان رکھیں کہ آیا وہ اپنے دوستوں سے آپ کا ذکر کرتی ہے یا نہیں۔ اگر آپ کو ان سے چھپایا جا رہا ہے، تو اس کی ایک وجہ ہونی چاہیے، اور آپ کو یہ پوچھنا ہوگا کہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔
    آپ اس کا گندا راز نہیں بننا چاہتے بلکہ اس کی زندگی کی محبت بننا چاہتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اس نے آپ کا اپنے دوستوں سے تعارف نہ کروایا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اسے مکمل رشتہ نہیں سمجھتی۔ یہ سطح پر ایک احمقانہ وجہ کی طرح لگتا ہے، لیکن یہ واقعی ان علامات میں سے ایک ہے جو وہ اب بھی اپنے سابقہ ​​سے پیار کرتی ہے۔

  • اپنی مستقبل کی ساس کو کیسے متاثرکیا جائے؟

    اپنی مستقبل کی ساس کو کیسے متاثرکیا جائے؟

    اپنے بوائے فرینڈ کی ماں سے پہلی بار ملنا آپ کی ریڑھ کی ہڈی کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ اس قدر بے چینی پیدا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کے رشتے کے لیے بھی فیصلہ کن عنصر ہو سکتا ہے! اس سے ملنے سے پہلے، آپ واضح طور پر سوچ رہے ہوں گے کہ اپنی ہونے والی ساس کو کیسے متاثر کیا جائے تاکہ وہ بھی آپ سے اسی طرح پیار کرے جیسا کہ اس کا بیٹا کرتا ہے۔
    اگر صابن اوپیرا ٹراپس نے ہمیں کچھ سکھایا ہے، تو وہ یہ ہے کہ جب ساس اپنے بیٹے کے لیے ساتھی کو چننے اور جانچنے کی بات آتی ہے تو وہ شیطانی ہو سکتی ہیں۔ اور بجا طور پر، یہ بات قابل فہم ہے کہ ہر عورت اپنے بچے کے لیے بہترین چاہتی ہے۔ تاہم، ہم نے بہت عرصے سے ساس سسر کو بھی شیطان بنا رکھا ہے۔ اگرچہ پہلی بار اس سے ملنا اعصاب شکن ہوسکتا ہے، اگر آپ ان چیزوں کو صحیح طریقے سے کرتے ہیں تو اپنی ہونے والی ساس کو کس طرح متاثر کرنا ہے پارک میں چہل قدمی ہے۔
    جب میں پہلی بار اپنی ساس سے ملی تو میں بہت ڈری ہوئی تھی اور ساتھ ہی ان سے ملنے کے لیے پرجوش بھی تھی۔ میں جانتا تھا کہ اس سے ملنا ایک خوبصورت تجربہ ہوگا اور یہ اعتماد میرے اس وقت کے بوائے فرینڈ، جو اب میری منگیتر سے آیا ہے۔ اس نے مجھے اس کے بارے میں سب کچھ بتایا اور بتایا کہ وہ ایک شاندار اور محنتی عورت تھی جس نے اپنے خاندان کو فراہم کرنے اور ان کی پرورش کرنے کے لیے کام اور زندگی میں کامل توازن قائم کیا۔ اس نے مجھے اس کے بارے میں بہت متاثر کن باتیں بتائیں جس کی وجہ سے میں واقعی اس سے ملنے کا منتظر تھا۔
    1. کپڑے پہننا
    ڈریس اپ کرنے سے، میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ باربی کی طرح ڈول ہو جاؤ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اچھے لگنے اور پیش کرنے کے قابل ہونے کی شعوری کوشش کریں۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو پہلے ان کی ظاہری شکل سے پرکھتے ہیں۔ آپ کا دل سنہرا ہو سکتا ہے، لیکن اگر آپ خستہ حال لباس پہنتے ہیں تو آپ کا دل اس شباہت میں گم ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی ساس کو متاثر کرنے میں سنجیدہ ہیں تو اپنے فیب کپڑے اور جوتے اتاریں۔
    نیز، صاف ستھرے کپڑے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایک صاف ستھرے اور صحت مند انسان ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے ناخن تراشے ہوئے ہیں اور صاف ستھرا ہیں، آپ کے بال اچھی طرح سے بنے ہیں اور ایک روشن مسکراہٹ پہنیں۔ آپ ایک پل میں اس کا دل جیت لیں گے! آئیے اس سے انکار نہیں کرتے ہیں کہ تمام مائیں اپنے بیٹے کے لئے ایک دلکش چاہتی ہیں۔
    2. مستقبل میں سسرال والوں پر شیخی نہ مارو
    بہت سی لڑکیاں اپنی کامیابیوں کو جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر ظاہر کرتی ہیں۔ آپ کے اسکول کے تمغوں سے لے کر اپنی موجودہ ملازمت پر اپنی ترقی تک ہر چیز کے بارے میں بندوقیں چلاتے ہوئے وہاں نہ جائیں۔ اگرچہ یہ اہم بات چیت ہو سکتی ہیں، اس کے لیے ایک وقت اور جگہ ہے۔ ساس کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے آپ کو اسے دکھانا ہوگا کہ آپ واقعی کون ہیں۔
    اگر آپ واقعی سوچ رہے ہیں کہ مستقبل کی ساس کو کیسے متاثر کیا جائے تو زیادہ کوشش نہ کریں۔ اپنے نقطہ نظر میں سادہ، خوبصورت اور ایماندار بنیں۔ یاد رکھیں، وہ ایک بہو چاہتی ہے اور ضروری نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ولید ہو۔ آپ کے پاس موجود تمام مہارتیں وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گی۔ اس کے بیٹے نے اسے آپ کے بارے میں وہ تمام اچھی باتیں بتا دی ہوں گی۔
    3. اسے تحفہ دیں۔
    اپنے ساس سسر کے رشتے کو دائیں پاؤں پر شروع کرنے کے لیے، اسے تحفہ خریدنے پر غور کریں۔ تم اس سے پہلی بار مل رہے ہو اور اسے اپنے جیسا بنانے کی کوشش بھی کر رہے ہو۔ پھر کیوں نہ اسے وہ چیز دیں جس سے وہ اسے دکھائے کہ آپ کی پرواہ ہے؟ میں جانتی تھی کہ میری ساس پھولوں سے محبت کرتی ہے، اس لیے جب میں نے پہلی بار ان سے ملاقات کی تو میں نے اسے ایک گلدستہ خریدا۔
    ایک شاندار تحفہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ظاہر ہوگا کہ آپ اس کی اچھی کتابوں میں شامل ہونے کی بہت کوشش کر رہے ہیں۔ بس اس کی تھوڑی سی تعریف کریں اور اسے احساس دلائیں کہ آپ اس سے مل کر خوش ہیں۔ ہم پر بھروسہ کریں، وہ یقینی طور پر تعریف محسوس کرے گی اور آپ کو اس کے لیے اضافی براؤنی پوائنٹس دے گی۔
    4. اپنی محبت کی کہانی کے بارے میں بات نہ کریں۔
    ہر ساس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ اس کا بیٹا اس سے چھین لیں۔ لہٰذا، کسی ایسی چیز کے بارے میں بات نہ کریں جس سے اسے تکلیف ہو۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ لوگ کہاں ملے، پہلے کس نے بات کی اور آپ بہت تفصیل سے کیسے ملے۔ آخری چیز جس کی آپ کو اپنے ہاتھوں پر ضرورت ہے وہ ایک غیرت مند ساس ہے۔
    اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ لوگ ٹنڈر پر صرف ایک ہک اپ کے لیے ملے، اور بعد میں ایک دوسرے کے بارے میں سنجیدہ ہوگئے۔ لیکن کیا اسے واقعی آپ کے گرم، شہوت انگیز رومانس کی تمام تفصیلات جاننے کی ضرورت ہے؟ Nope کیا. مستقبل کی ساس کو متاثر کرنے کا طریقہ اسے ہر وقت خوش رکھنے کے بارے میں ہے۔ تو کتاب کے ساتھ جائیں، اور وہ کریں جو اسے سب سے زیادہ خوش کرے۔
    5. ایک عام مشغلہ تلاش کریں۔
    اپنی ساس کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لیے، کوئی ایسی چیز تلاش کرنے پر غور کریں جسے آپ دونوں بانٹ سکیں اور وقت گزار سکیں۔ مثال کے طور پر، خریداری! اگر آپ کی ساس کو یہ پسند ہے تو اسے باہر قریبی مال میں لے جائیں اور اس کے ساتھ کچھ وقت گزاریں۔ اس سے وہ محسوس کرے گا کہ آپ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
    آپ اس سے آپ کو گھر کی دیکھ بھال، مستقبل میں والدین کے مسائل یا کسی دوسری مہارت کے بارے میں ایک یا دو چیزیں سکھانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جس میں وہ اچھی ہے۔ واقعی مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے لیے، آپ کو اس کے ساتھ ایسے کام کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی جس سے آپ کو اسے بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکے۔
    واضح طور پر، اپنی ہونے والی ساس کو کیسے متاثر کرنا کوئی ناممکن کارنامہ نہیں ہے۔ آپ کو واقعی اسے یقین دلانا ہے کہ آپ اس کے بیٹے کو خوش کر سکتے ہیں اور وہ آخر کار آپ سے محبت کرے گا۔ مزید یہ کہ، آپ اس سے ملنے سے پہلے ہی، آپ کا بوائے فرینڈ آپ کو اس کی پسند اور ناپسند کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوگا۔ تو آپ کافی تیار ہوں گے۔ ایک سردی کی گولی لیں، خود بنیں اور اس سارے پیار سے اسے جیتیں!

  • پشاورزلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی

    پشاورزلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی

    لاہور: پشاورزلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو شکست دے دی ،پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے میچ میں پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کے لئے 207 رنز کا ہدف دے دیا ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 24 ویں میچ میں شاداب خان کی انجری کے باعث اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی آصف علی کریں گے جبکہ پشاور زلمی کی قیادت وہاب ریاض کے سپرد ہے۔

    پشاور زلمی اننگز

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف پشاور زلمی کی جانب سے حضرت اللہ زازائی اور محمد حارث نے اننگز کا آغاز کیا، نوجوان وکٹ کیپر بلے باز حارث نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے4 چھکوں اور 5 چوکوں کی بدولت صرف 18 گیندوں پر نصف سنچری سکور کی۔

    حضرت اللہ زازائی 13، محمد حارث 70، یاسر خان 35، شعیب ملک 38، ردرفورڈ 16، لیام لیونگسٹون 9، بین کٹنگ اور کپتان وہاب ریاض صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ حسین طلعت 8 اور عثمان قادر 6 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کے آل راؤنڈر فہیم اشرف نے سب سے زیادہ 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، وقاص مقصود نے 2، مرچنٹ ڈی لینگ، لیام ڈاسن اور ظاہر خان نے 1،1 وکٹ اپنے نام کی۔
    اس طرح پشاور زلمی کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹ کے نقصان پر 206 رنز بنائے۔

    تفصیلات کے مطابق انجری مسائل کا شکار اسلام آباد کی ٹیم میں پانچ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔مبصر خان، دانش عزیز، محمد موسیٰ، مرچانٹ ڈی لانگے اور ظاہر خان کو ایلکس ہیلز، شاداب خان، محمد اخلاق، حسن علی اور ذیشان ضمیر کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

     

     

    کپتان شاداب خان اور ایمرجنگ فاسٹ بالر ذیشان ضمیر انجری کے سبب آج کے میچ کے لیے دستیاب نہیں ہوسکے۔شاداب کی غیر موجودگی میں آصف علی کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

  • پی ایس ایل7: کنگزشکست کی دلدل سےنہ نکل سکے،سلطانز7 وکٹ سےسرخرو:بابراعظم ناکام ترین کپتان

    پی ایس ایل7: کنگزشکست کی دلدل سےنہ نکل سکے،سلطانز7 وکٹ سےسرخرو:بابراعظم ناکام ترین کپتان

    لاہور: لاہور: پی ایس ایل7: کنگز شکست کی دلدل سے نہ نکل سکے، سلطانز 7 وکٹ سے سرخرو:بابراعظم ناکام ترین کپتان،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کےدوسرے مرحلے میں بھی کراچی کنگز شکست کی دلدل سے نہ نکلے سکے اور ملتان سلطانز 7 وکٹ کی فتح کے ساتھ سرخرو ہوگئے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 23 ویں میچ میں کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کے قائد محمد رضوان کو پہلے فیلڈنگ کی دعوت دی تھی ۔

     

     

    ملتان سلطانز اننگز

    کراچی کنگز کے 175 رنز ہدف کے تعاقب میں ملتان سلطانز کی جانب سے کپتان محمد رضوان اور شان مسعود نے اننگز کا آغاز کیا، شان مسعود 6 چوکوں کی مدد سے 41 گیندوں پر 45 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، رضوان نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور 8 چوکوں کی مدد سے 55 گیندوں پر 76 سکور بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    کراچی کنگز اننگز

    کنگز کی جانب سے کپتان بابر اعظم اور شرجیل خان نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے آصف آفریدی نے پہلا اوور کروایا۔

     

     

    بابر اعظم صرف 2، شرجیل خان 36، جوئے کلارک 40، قاسم اکرم 13 اور روحیل نذیر اور محمد نبی 21، 21 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جبکہ عماد وسیم 32، کرس جورڈن صفر کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

    ملتان سلطانز کے رومان رئیس، موزاربانی، عمران طاہر اور خوشدل شاہ نے 1،1 اور شاہنواز دھانی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    اس طرح کراچی کنگز کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹ کے نقصان پر 174 رنز بنائے اور سلطانز کو جیت کے لئے 175 رنز کا ہدف دیا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    کراچی کنگز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، عامر عظمت، ٹم ڈیوڈ، رائیلی روسو، خوشدل شاہ، آصف آفریدی، رومان رئیس، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

    کراچی کنگز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے کراچی کنگز کے سکواڈ میں کپتان بابر اعظم، شرجیل خان، جوئے کلارک، جورڈن تھامپسن، محمد نبی، روحیل نذیر، قاسم اکرم، عماد وسیم ، کرس جورڈن، عمید آصف اور میر حمزہ شامل تھے۔

  • بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بہت پیارے لمحے ساتھ گزار کر پھر وہ کسی اجنبی کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ بڑے حوصلے سے تھما دیتے ہیں اور پھر کہیں کونے میں چھپ کے آنسو بہا لیتے ہیں, بیٹیوں کے دکھ کو جیسے اپنا دکھ بنا لیتے ہیں.
    اپنی بیٹیوں کی پرورش وہ ایسے کرتے ہیں جیسے وہ شہزادیاں ہوں, انکے جہیز میں چاہے قرض لینا پڑ جائے پر کوئی کمی نہیں چھوڑتے
    ہاں ایک چیز جو وہ نہیں دے سکتے وہ ہے اچھا نصیب…
    کئی دفعہ والدین کے غلط فیصلے اولاد کے لئے ساری زندگی کا دکھ بن جاتے ہیں اور بعض دفعہ اولاد اپنی ضد اور ناسمجھی سے اپنے لئے خود گڑا کھود دیتی ہے.
    میرے خیال میں عمر کا 16 سے 25 سال کا دورانیہ انتہائی نازک ہوتا ہے. اس میں اگر انسان سنبھل جائے تو اپنے لئے ایک بہتر مستقبل بنا سکتا ہے مگر اس دوران اگر ناسمجھی میں اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ بنا سوچے سمجھے کردے تو ساری زندگی اسکا پچھتاوا ایک سائے کی طرح پیچھا کرتا رہتا ہے.

    جب اس نے ماں باپ کی مرضی کے خلاف اپنی شادی کا فیصلہ کیا تب وہ میٹرک کی طلبہ تھی اور تقریباً 15 سال اسکی عمر تھی اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن ،ان دنوں میٹرک کے امتحانات ہو رہے تھے گھر سے پیپر دینے نکلی مگر دل میں یہ فیصلہ کرکے نکلی کہ وہ واپس اس گھر میں نہیں جائے گی جہاں اسکی پسند کو ترجیح نہیں دی جاتی .مگر وہ آج اس دوراھے پر کھڑی ہے کہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا کہ وہ اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کرے ،ماں باپ کی مرضی کے خلاف جاکر اس نے اپنا مستقبل داؤ پہ لگا کر تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کر لی اسکے والدین نے لڑکے پر اغواء کا کیس کردیا کیس عدالت میں چلا وہاں ماں باپ نے پوری کوشش کی کہ انکی بیٹی انکو واپس مل جائے اس لئے انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹی کی عمر 15 سال ہے اس لئے ہم اس نکاح کو نہیں مانتے پر وہاں لڑکی نے لڑکے کے حق میں بیان دے دیا کہ میں بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے شادی کرنا میرا حق ہے اس لئے میں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند سے شادی کی ہے

    یوں کیس ختم ہوگیا لڑکی اپنے سسرال چلی گئی جہاں اسکی سوتیلی ساس اور اسکی زندگی کے امتحان اسکا منتظر تھے
    کچھ عرصہ تو سب ٹھیک رہا مگر پھر آہستہ آہستہ وہی گھریلو مسائل بڑھنے لگے, ساس کو اس لڑکی سے کافی شکایات تھیں
    نازو سے پلی بڑھی یہ بچی ساس کو خوش رکھنے کے لئے گھر کے سب کام کرنے لگی مگر سب بے سود

    ہم کہتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم ہوتی ہے مگر اگر اس کے پس منظر میں جا کے دیکھیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آ جائے گی کہ بعض دفعہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ،لڑکی کا اپنے ماں باپ سے ملنا جلنا بند تھا مگر جب بیٹی کے پیار میں مجبور ہوکر والدین اس کو ملنے جاتے تو ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ،لڑکا خود مجبور تھا کیونکہ وہ خود طالب علم تھا اور اپنی سوتیلی ماں اور باپ کے رحم کرم پہ تھا آخر ایک دن تنگ آکر وہ الگ مکان کرائے پہ لے کر بیوی کو ساتھ لے گیا

    ایک سال بعد اللہ نے انکو ایک بیٹے سے نوازا بیٹے کی پیدائش پر لڑکے کا باپ لڑکی کو گھر لے آیا کہ اب اکٹھے رہیں گے
    مگر حالات بدستور ویسے ہی رہے اور آخر ایک دن گھر میں ہنگامہ ہوگیا کہ لڑکی نے اپنی ساس کی جیولری چوری کی ہے
    لڑکی نے ہر طرح سے یقیں دلانے کی کوشش کی مگر کسی کو اس پر یقین نہ آیا اور معاملہ ایسا بگڑا کہ لڑکے کو مجبور کیا گیا کہ اس کو طلاق دو
    لڑکے نے طلاق دے دی
    وہ بے چاری کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا سوائے اسی ماں باپ کے جن کو وہ چھوڑ دی تھی

    مجبوراً بچے کو لے کر ماں باپ کے گھر چلی گئی, ماں باپ تو پھر ماں باپ ہوتے ہیں جو اولاد کی غلطیوں کو معاف کرکے بھی گلے لگا لیتے ہیں
    ادھر جب لڑکے کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تو بہت پچھتایا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت ،کچھ ٹائم بعد لڑکی کے والدین نے لڑکی کی شادی کردی مگر وہ وہاں خوش نہیں تھی وہ اب بھی سابقہ شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی مگر اسکے شوہر نے اسے طلاق دینے سے صاف انکار کردیا.

    جب لڑکے کے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ لڑکی وہاں سے طلاق لے کر واپس سابقہ شوہر کے پاس آنا چاہتی ہے تو انھوں نے لڑکے کو بہلا پھسلا کر نئی جگہ جلد بازی میں شادی کردی اور یہ لڑکی اب اپنے والدین کی چوکھٹ پہ بیٹھی ہے
    اسکی داستان سن کر میں نے اسے مشورہ دیا کہ بیٹا واپس شوہر کے پاس چلی جاؤ اس لڑکے نے تو شادی کرلی ہے پر اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کہ آنٹی میں مر جاؤں گی میں اسکے بغیر جی نہیں سکتی, کوئی میری حالت کو سمجھتا کیوں نہیں ہے تو پھر شوہر کو بولو طلاق دے دے تو اس نے انکشاف کیا کہ شوہر نے شرط رکھی ہوئی ہے کہ میرا زیور اور پیسے واپس کرو میں طلاق دے دونگا. میں نے اسے کہا تو اسکی چیزیں واپس کردو ناں..

    آنٹی میرے پاس اسکا کچھ بھی نہیں ہے زیور اور پیسے مما کے پاس ہیں اور مما نہیں چاہتی میں طلاق لوں
    تو پھر کیا اسی طرح لٹکی رہو گی ؟؟
    وہ میری باتیں چپ کرکے سن رہی تھی مگر اسکی آنکھیں آنسوؤ سے تر تھیں
    میری کسی بات کا جواب اسکے پاس نہیں تھا وہ اب یقینی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی کہ آیا وہ یہاں سے طلاق لے گی تو سابقہ شوہر اس سے شادی کرے گا یا نہیں
    سابقہ شوہر کو چھوڑنا اسکے اختیار میں نہیں تھا. واقعی محبت بڑا نرم اور پیارا جذبہ ہوتا ہے محبت والے دل بس محبت کرنا جانتے ہیں. اپنی کسی ضد کسی مقابلے بازی یا انا کے جھگڑوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی
    جس کے لئے اس نے اپنی زندگی لٹا دی تھی اسی نے اس کو بری طرح توڑ کے دکھوں کے حوالے کردیا تھا. وہ اپنی زندگی کا ایک غلط فیصلہ کرکے اپنی زندگی کی خوشیوں کو داؤ پہ لگا چکی تھی. جس محبت کے لئے وہ جی رہی تھی اسی محبت نے اسے اندر سے کھوکھلا کردیا تھا.

    کیا خوب کہا کسی نے

    پانی آنکھ میں بھر کے لایا جاسکتا ہے
    اب بھی جلتا شہر بچایا جاسکتا ہے
    ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت
    لیکن اس سے کام چلایا جاسکتا ہے.

    اس کی عمر مشکل سے 19 سال ہے اور ایک بیٹے کی ماں
    اور وہ ماں جسے نہ تو اپنے مستقبل کا تعین اور نہ اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کی امید
    کیا آ گے زندگی میں بھی اسکے یا اس جیسی لڑکیوں کے ساتھ یہ امتحانات پیش آتے رہے گے ؟؟
    عورت اگر عورت کی ڈھال بن جائے تو کوئی اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا. یہاں اگر سوتیلی ساس کھلے دل سے اس بچی کو اپنا لیتی یا اس کی غلطیوں کو درگزر کرکے اسے بہو کی بجائے بیٹی کا درجہ دے دیتی تو آج اس لڑکی کا اور اس کے بچے کا مستقبل داؤ پر نہ لگتا.
    کہیں نہ کہیں عورت ہی عورت کے لئے مشکلات پیدا کرتیں ہیں
    کبھی تہمت لگا کر, کبھی نیچا دکھا کر یا کبھی سازش کرکے..

    @Rehna_7

  • یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    یوکرائن تنازعہ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، تحریر: نوید شیخ

    اس وقت یوکرائن تنازعہ اپنے جوبن پر پہنچ چکا ہے ۔ صف بندی ہوچکی ہے ۔ امریکہ اور یورپ کے روس کے خلاف اس سے زیادہ سخت بیانات میں نہیں سنے ۔ اور ردعمل میں روس بھی ڈٹا ہوا ہے ۔ یوں اب محسوس ہونے لگا ہے کہ جنگ ٹلنا ممکن نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی ہے مگر اس اثرات دنیا پر پڑنے لگے ہیں ۔ اس تنازعہ کی وجہ سے عالمی خام تیل کی مارکیٹ میں بھونچال آگیا ہے ۔ قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں ابھی تو یہ 96ڈالر پر بیرل پر ہیں پر کہا جا رہا ایک آدھ دن میں سنچری مکمل ہوجائے گی ۔ پھر جنگ ہوتی ہےتو یورپ کو روس کی گیس نہیں ملے گی ۔ اس سلسلے میں یورپ نے متبادل زرائع سے گیس حاصل کرنے کی تیاری کر لی ہے ۔ ۔ دوسری جانب یوکرین کی سرحد پر روس اپنی فوجوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ پر جاری بیانیے کی جنگ کا رخ بھی اپنے حق میں موڑنے کی کوشش تیز کر دی ہیں ۔

    کیونکہ مغربی میڈیا اس وقت یک طرفہ روس کے خلاف رپورٹنگ کررہا ہے ۔ وہ یہ تو بتا رہا ہے کہ روس کے اتنے فوجی فلاں سرحد کے پاس ہیں تو روس نے فضائی تیاری یہ کر رکھی ہے ۔ مگر وہ یہ نہیں بتا رہا کہ امریکہ اور اتحادیوں کے کتنے فوجی یوکرائن میں ہیں وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ امریکہ یوکرائن کو نیٹو میں شامل کروارہا ہے ۔ ۔ وہ یہ نہیں بتا رہا کہ روس نے ایک ایسی امریکی آبدوز کا تعاقب کیا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ North Pacific کے Coral Islands
    کے نزدیک پانیوں میں داخل ہو گئی تھی۔۔ وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ یوکرائن دارالحکومت Kiev میں شہریوں کو لڑنے کی تربیت دی جا رہی ہے ۔ شہریوں کو بندوق کے استعمال، اسے چلانے، گولہ بارود لوڈ کرنے اور اہداف کو نشانہ بنانا تک سیکھا جا رہا ہے ۔ وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ مغرب نے یوکرائن کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کرنا شروع کردیا ہے۔ صرف امریکہ نے یوکرائن کو بیس کروڑ ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا ہے۔ یعنی بڑی ہوشیاری سے یوکرائن کو روس کے خلاف تیار کیا جا رہا ہے ۔ دراصل مغربی طاقتوں نے روس کا پتہ ہمیشہ کے لیے کاٹنے کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔ اور اب بس گھمسان کا رن پڑنے والا ہے ۔ کیونکہ روس بھی اتنی آسانی سے سرنگوں نہیں ہوگا ۔ وہ بھی اپنا پورا زور لگا رہا ہے ۔ امریکہ اور یورپ روس کو وِلن بنا کر پیش کررہے ہیں کہ وہ جارحیت کا ارتکاب کرکے اپنے چھوٹے ہمسایہ ملک یوکرائن کو ہڑپ کرنا چاہتا ہیے۔ حالانکہ حقیقت میں یوکرائن کا بحران امریکہ اور مغربی یورپ کا پیدا کردہ ہے۔ جب سوویت یونین نے مشرقی جرمنی اورمغربی جرمنی کے اتحاد کو تسلیم کیا تھا تو اس وقت مغربی یورپ کے رہنماؤں نے ماسکو کو یقین دلایا تھا کہ نیٹوکے فوجی اتحاد کو مشرق کی طرف توسیع نہیں دی جائے گی لیکن اِس زبانی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا گیا۔

    ۔ دراصل امریکہ نے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کے لئے آٹھ سال مسلسل کوشش کی ہے اور گذشتہ ماہ امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ اعلان کیا کہ اب یوکرین کے پاس فیصلے کا اختیار ہے کہ وہ کب نیٹو میں شامل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا، فوراً امریکہ وہاں اپنے میزائل نصب کر دے گا، بالکل ویسے ہی جیسے روس نے
    1962ء میں کیوبا میں اپنے میزائل نصب کئے تھے۔ تو امریکہ صدر کے اعلان کے بعد سے حالات کشیدہ ہوئے ہیں ۔ مگر مغربی میڈیا یہ نہیں بتا رہا ہے وہ روس کو ایک جارحیت پسند ملک بناکرپیش کررہا ہے ۔ تاریخ کے اوراق پلٹائے جائیں تو اکتوبر 1962ء کے تقریباً ساٹھ سال بعد کوئی امریکی صدر ایک بار پھر اُسی لہجے میں بولا ہے۔ حالات بالکل ویسے ہی ہیں۔ اس وقت امریکہ نے سوویت یونین کو نشانے پر رکھنے کے لئے اٹلی اور ترکی میں میزائل نصب کئے تو جوابی طور پر سوویت یونین نے کیوبا کے صدر Federal Castro کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے امریکہ کے پڑوس میں واقع کیوبا کی سرزمین پر روسی میزائل نصب کرنے کی منظوری دے دی۔ اُس وقت بھی مذاکرات کے دوران کشیدگی اس سطح پر جا پہنچی تھی کہ امریکی صدر John F. Candy مذاکرات کے آخری روز، پوری رات ٹیلی ویژن پر امریکی عوام کو جنگ کے لئے تیار کرتے رہے۔

    اب ساٹھ سال بعد ایک بار پھر کسی امریکی صدر کے منہ سے ایسے ہی فقرے سنائی دیئے ہیں۔ یہ فقرے زیادہ خطرناک اس لئے بھی ہیں کہ اس دفعہ محاذ جنگ امریکہ کے پڑوس میں نہیں، بلکہ اس سے ہزاروں میل دُور، روس کے پڑوس میں سجنے جا رہا ہے۔ اور امریکہ نے ہمیشہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش کی ہے جو اسکی سرزمین کے آس پاس لڑی جانی ہو ۔ ورنہ اپنی سرزمین سے دُور تو وہ ہر جنگ میں خود کودتا ہے۔ بلکہ خود اسٹیج تیارکرواکے تماشا لگاتا ہے ۔ پھر میں یاد کروادوں کہ روس کے ہمسائے صرف یوکرائن ہی نہیں ۔۔Belarus میں بھی ایسی حکومت لانے کی کوشش کی گئی جو ماسکو کی بجائے مغرب نواز ہو۔ چند ہفتے پہلے مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے وسط ایشیا میں واقع قازقستان میں بھی شورش برپا کروائی ۔ مگر Kremlin نے اپنی افواج وہاں بھیج کر فساد پر قابو پانے میں قازقستان کی مدد کی۔ اس وقت امریکہ اور یورپ چاروں طرف سے روس پر حملہ آورہیں۔ خود روس کے اندر مختلف گروہوں کے ذریعے صدر پیوٹن کے خلاف تحریک چلوانے کی کوشش کی گئی۔ تاکہ ماسکو میں ایسی حکومت بن جائے جو امریکہ اور مغربی یورپ کے بلاک میں شامل ہو اور چین کا مقابلہ کرے۔ مگر پیوٹن ڈٹ گیا ہے اور گذشتہ جمعہ کو جب جوبائیڈن تقریر کر رہا تھا۔ تو اس دن روس نے وہی قدم اُٹھایا تھا جو امریکہ نے کیوبا کے خلاف اُٹھایا تھا، یعنی اس نے یوکرین کی بحری ناکہ بندی کر دی۔ یہ دراصل اعلانِ جنگ ہوتا ہے۔ لیکن روس نے وضاحت یہ کی کہ وہ دراصل بحری افواج کی مشقیں کر رہا ہے جو دس دنوں تک جاری رہیں گی۔ مگر جو بھی وضاحت ہو، اس وقت یوکرین زمینی اور سمندری طور پر روسی افواج کے گھیرے میں آ چکا ہے، جو اس پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہیں۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں صدر پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ یوکرین جو کئی صدیاں روس کا حصہ رہا ہے۔ وہ نیٹو کا حصہ بن جائے۔ جس دن ایسا کیا گیا۔ یہ ہمارے لئے اعلانِ جنگ ہو گا۔ اس حوالے سے مغرب بھی واشگاف الفاط میں کہہ رہا ہے کہ اگر روس کی طرف سے یوکرائن کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو اتحادی اس کے خلاف تیزی کے ساتھ اور بہت سخت مشترکہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔ اس حوالےسے امریکا نے تو کہا ہے کہ ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے روس مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔ جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔۔ ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔ دوسری جانب امریکہ اور جوبائیڈن مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں کہ یوکرائن پر حملہ روس کو بہت مہنگا پڑے گا۔ مگر روس کوئی خاص گھاس ڈال نہیں رہا ۔ امریکی صدر نے ہفتے کو روسی صدر کیساتھ ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی تاہم کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکل سکا۔ روسی خارجہ پالیسی کے ایک مشیر نے موجودہ صورتحال کودیوانے پن کی انتہا قرار دیا ہے۔۔ چند روز قبل فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی خوب ایکٹیو ہوگئے ہیں ۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔ پھر جرمن چانسلر بھی روس کو خبردارکر رہے ہیں ۔ ترکی، پولینڈ، اور نیدرلینڈز کے رہنما بھی یوکرائن گئے ۔ دیکھا جائے تو گزشتہ ایک ہفتے میں ایسا کوئی دن نہیں تھا، جب کوئی اہم امریکی یا یورپی رہنما یوکرائنی دارالحکومت kiev نہ پہنچا ہو۔ ان تمام رہنماؤں نے یوکرائنی فوج کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کے وعدے کیے اور ماسکو کے لیے سخت الفاظ میں انتباہ جاری کیے۔

    ۔ امریکا کی انٹلیجنس کی تازہ اطلاعات کے مطابق روس اولمپکس مقابلے ختم ہونے سے پہلے ہی یوکرائن پر حملہ کرسکتا ہے۔ اسی لیے امریکا اور یورپی ملکوں نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد یوکرائن چھوڑنے کا کہا ہوا ہے ۔ رُوس کا یوکرائن کی سرحد پر فوجیں جمع کرنے کا مقصد صرف اس پر حملہ کرنا نہیں بلکہ امریکہ اور مغربی یورپ پر دباؤ ڈالنا ہے کہ روس کے ساتھ دفاع اور سلامتی کے امور پر جامع معاہدہ کریں۔ اسی لیے روسی صدر پیوٹن نے مغربی ممالک کی طرف سے روس کو دباؤ میں لانے کی کوشش اور اُس کے یوکرائن پر فوجی حملے کے ارادوں کے بارے میں دعووں پر شدید تنقید کی ہے۔ پوٹن نے مغرب کے اس اقدام کو ۔۔۔ اشتعال انگیزی اور قیاس آرائیاں ۔۔۔ قرار دیا ہے۔۔ فی الحال جو دیکھائی دے رہا ہے کہ ماسکو نے فیصلہ کیا کہ نیٹو کو مزید روسی سرحدوں کے قریب آنے نہیں دیا جائے گا۔ چاہے اسکی جو بھی قیمت ہو ۔

    ۔ یاد رکھیں یہ جنگ شروع ہوگئی تو پاکستان کا بھی اس سے دور رہنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اور اس سلسلے میں ہم کو بہت اہم فیصلہ بھی کرنا ہو ۔ کہ ہم مشرق کا ساتھ دیں گے یا پھر مغرب کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے ۔ اسی حوالے سے وزیر اعظم عمران خان چند روز میں روس جا رہے ہیں۔ دعا گو ہوں کہ وہ فیصلہ ہو پاکستان کے لیے بہتر ہو

  • ایک نشہ آور شوہرسے طلاق لینا – آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے۔

    ایک نشہ آور شوہرسے طلاق لینا – آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے۔

    اگرچہ ہزاروں سالوں نے اتفاقی طور پر لفظ "نرگسیت پسند” کے ارد گرد پھینک دیا ہے، اگر آپ گہرائی سے دیکھیں تو نرگسسٹ صرف خود غرضی سے زیادہ ہیں۔ ان کے لیے پوری دنیا ان کے گرد گھومتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے۔ لہذا، اگر آپ کسی نرگسیت کو طلاق دے رہے ہیں، تو آپ کو واقعی یہ جاننا ہوگا کہ جب آپ جنگ شروع کرتے ہیں تو آپ کس کے خلاف ہیں۔
    زندگی بھر کی لڑائی لڑنے کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ آپ کا جلد ہی نرگسیت پسند سابقہ ​​آسانی سے نیچے نہیں جائے گا۔ Egomaniac، ہمدردی کا فقدان، انتہائی اعلیٰ طرز کی عظیم الشان احساس – صرف چند اصطلاحات ہیں جن کا تعلق نرگسیت کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ کہنے کے لیے، نرگسیت پسند، ایک دلکش شخصیت ان کو کمزور کر رہی ہے۔ انہیں جیتنا پڑا، وہ خاص طور پر ایک ہمدرد (شاید شریک حیات، یا ان کے بچوں، یا ساتھیوں) کی طرف سے تعریف کیے جانے پر ترقی کی منازل طے کرتے ہیں اور وہ بیرونی دنیا کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں۔
    ہو سکتا ہے آپ کو شروع میں اس پرسنالٹی ڈس آرڈر کا علم بھی نہ ہو لیکن جب وہ آپ کو "حاصل” کر لیتے ہیں تو ان کے کردار کی نرگس سامنے آتی ہے۔
    ماہر نفسیات کویتا پنیام کہتی ہیں، "تعلقات میں نرگسیت صرف سزا اور کنٹرول کے ذریعے کام کرتی ہے۔ وہ اپنی بیویوں یا بچوں کی کسی بھی قسم کی تعریف کرنے سے قاصر ہیں اور ناپسندیدگی کے ذریعے اور پیار کو روک کر ان سے جوڑ توڑ کرتے رہتے ہیں۔
    "ایک نشہ کرنے والا عام طور پر بیرونی دنیا کے لیے بہت دلکش شخصیت رکھتا ہے لیکن جیسے ہی وہ خاندان میں ہوتا ہے وہ ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔”
    وہ مزید کہتی ہیں، "کسی نرگسسٹ کو تھراپی میں شامل کرنا عملی طور پر ناممکن ہے کیونکہ وہ کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ کوئی مسئلہ ہے۔ لہٰذا ایک نرگسسٹ کے خود کو بدلنے اور ایک بہتر انسان بننے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس صورت میں یا تو بیوی بچوں کو تکلیف ہوتی رہے گی یا بیوی کو تکلیف ختم کرنے کے لیے طلاق کا انتخاب کرنا چاہیے۔
    چونکہ ایک نشہ کرنے والا ایک کنٹرول فریک ہے، اس لیے وہ اتنی آسانی سے کنٹرول ترک نہیں کرے گا۔ لہٰذا ایک خفیہ نشہ آور شوہر کو طلاق دینا ایک طویل المیعاد، جذباتی طور پر پریشان کن معاملہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے لیے آپ کو کافی تیاری کی ضرورت ہوگی۔ ایک نشہ آور شوہر سے طلاق لینے کے لیے آپ کو اپنی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔
    لیکن اس سے پہلے کہ آپ اپنے نشہ آور شوہر کو طلاق دینے کے لیے اپنا پیسہ وقف کریں، کچھ چیزیں ہیں جن کا آپ کو پہلے خیال رکھنا چاہیے۔
    نرگسیت پسند اپنے رویے میں ایک مخصوص طرز کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ہمیشہ کشیدگی، دھماکے اور آخر میں محبت بم دھماکے کی تعمیر کا ایک چکر ہے. یہ دراصل جذباتی زیادتی کا ایک مستقل چکر ہے۔
    تناؤ کی تعمیر کسی بھی یادگار زندگی کی تبدیلیوں سے لایا جا سکتا ہے: حمل، خاندان میں موت، یا بچے کی پیدائش۔ تبدیلیاں نرگسسٹ سے توجہ کسی اور کی طرف منتقل کر دیتی ہیں اور اس طرح نرگسسٹ لوگوں کو ناراض کر دیتی ہے۔
    وہ ہمیشہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور کبھی بھی دوسروں کی تعریف نہیں کرتے یا خوش نہیں ہوتے، اس کا مطلب ان کے اپنے بچے بھی ہو سکتے ہیں۔
    کویتا پنیام کہتی ہیں، ’’وہ کبھی بھی اپنے بچوں کی کامیابیوں کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ جب کوئی بیوی اپنے پروموشن کے بارے میں بات کرتی ہے تو ایک نشہ آور شوہر بالکل رد عمل ظاہر نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ مقابلہ کے طور پر سلوک کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی میں جب بھی کوئی اوپر آتا ہے، انہیں لگتا ہے کہ وہ نیچے جا رہا ہے۔
    نرگس اپنے بچوں پر آہنی ہاتھ سے حکومت کرتے ہیں اور ان میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ کویتا کہتی ہیں، "اسی لیے نشہ آور والدین کے بچوں میں نفسیاتی علامات جیسے پیٹ میں درد، جسم میں درد پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ گھر میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ”
    نرگسیت پسند انتہائی غصے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا غصہ اکثر ہوتا ہے اور وہ آپ پر قابو پانے کے لیے تکلیف دہ الفاظ اور گیس کی روشنی کا استعمال کرتے ہیں۔ "وہ جنسی تعلقات کو روک سکتے ہیں اور آپ کو بتاتے رہتے ہیں کہ آپ جنسی عادی اور بہت زیادہ ہوس پرست ہیں۔ وہ اسے سالوں تک روک سکتے ہیں جب تک کہ آپ خود سے سوال کرنا شروع نہ کر دیں اور یقین نہ کر لیں کہ آپ کے ساتھ کچھ غلط ہے،‘‘ کویتا نے مزید کہا۔
    ہنی مون یا محبت کی بمباری اس وقت ہوتی ہے جب انہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے – چاہے وہ پیسہ ہو، محبت ہو، توثیق ہو یا وفاداری ہو۔ یہ تب ہے جب آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کتنے دلکش اور دلکش ہیں، وہ حقیقت میں ہو سکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ ان کی توجہ کو تسلیم کر لیتے ہیں تو وہ کنٹرول کرنے اور ہیرا پھیری کی طرف واپس جائیں گے۔
    نرگسیت پیش گوئی کی جاتی ہے۔ ان کی بدسلوکی کا سلسلہ ایک نمونہ کی پیروی کرتا ہے۔ تمام تکلیفوں اور دردوں کے ساتھ، وہ ہر ایک کو پہنچاتے ہیں، وہ ان کی ذمہ داری کبھی نہیں لیں گے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کا جلد ہونے والا سابق شوہر آپ کے خلاف عدالت میں جنگ لڑ رہا ہے، تب بھی بے رحمی کے سوا کچھ توقع نہ کریں۔