Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سانحہ مری اور ہم بطور قوم  ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    سانحہ مری اور ہم بطور قوم ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    وطن عزیز پاکستان کو رب تعالی نے بے پناہ خوبصورتی کے شاہکار سے نوازہ ھے جن میں خوبصورتی کا اعلی۔نمونہ اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ملکہ کوہسار مری بھی ھے۔عام حالات میں انتظامیہ نے اقدامات کیے ہوتے ہیں اور مکمل کوشش ہوتی ھے کہ سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائے۔لیکن سردیوں میں جب برفباری ہوتی ھے تو اس دلکش منظر سے ہر کوئی محظوظ ہونے مری کا رخ کر لیتا ھے جس سے مری کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش ہو جاتا ھے۔سیاحوں کے کثیر تعداد اور انتظامیہ کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوئی۔اور ٹریفک کے بندش کے بعد درجہ حرارت بھی منفی تھا اور دس سال کی ریکارڈ برفباری کی وجہ سیاحوں کے لیے اپنی زندگیوں کا بچانا تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ایسے حالات میں 22 سے زائد افراد کی موت ہوئی جس میں 4 سال کے بچے میں شامل جن کے لیے ماں باپ نے سہانے خواب دیکھے ہوئے تھے اور جوان بیٹے بھی شامل جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھے اور وہ بھی شامل جو بچوں کے بچپن کے راجا تھے۔انتظامیہ نے بروقت انتظامات نہیں کیے اور اس نااہلی کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوئی۔جب 22 فرد اس جہان فانی سے چلے گئے تب حکومت کو بھی ہوش آیا اور آپریشن کیا گیا۔لیکن یہاں غم اور دکھ کی بات یہ ھے کہ جیسا کے سیاحوں سے معلوم ہوا کہ جب ٹریفک بند ہو گئی تو سیاحوں نے ہوٹل کا رخ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 1 کمرے کی قیمت 50 ہزار روپے ہیں،اگر کسی نے قضائے حاجت سے فارغ ہونا گے تو اس کو بھی پورا کمرہ بک کروانا پڑے گا اسی طرح وہاں کی تاجر برادری نے اشیا خورد نوش کی قیمتوں کو بھی آسمانوں پر پہنچا دیا مثال کے طور پر ابلا ہوا انڈا جو ویسے 20 سے 30 کا ملتا ھے مری میں 500 کا کر دیا گیا تھا۔ہائے افسوس صد افسوس!

    یہ جناح کا پاکستان ھے وہ پاکستان جس کے بننے کے لیے نے آبا نے اپنی ہر شے کو قربان کر دیا تھا آج ان کے ورثا اپنے بھائیوں کی زندگی میں بچانے میں ناکام ہو گئے بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
    اس لیے تو کسی نے یوں کہا
    گنوا دی ہم نے آبا سے جو میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
    مری کے لوگوں نے انسانیت کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ہمارے اندر آج بطور قوم حمیت کا جذبہ ختم ہو چکا ھے۔
    قارئین! ادھر نوٹ کرنے والی بات یہ بھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات کو پیش کیا اور سڑکوں کو کھولا اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔یہ وہی فوج ھے جو دنیا بھر کی افواج میں سے کم بجٹ پر چل رہی ھے۔یہ وہی فوج ھے جو غداروں کے طعنے بھی سنتی ھے اور مفی درجہ حرارت میں کبھی سیاچن کے گلیشیرز پر ملک کی سرحد کی حفاظت کرتی ھے تو کبھی پورے پاکستان جس جگہ بھی آفت آئے تو افواج پاکستان کے جوان ہی اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی آفات سے حفاظت کرتی ھے۔اسی طرح یہاں پنجاب پولیس کو بھی سلام ھے کہ وہاں کے ڈی ایس پی مری جناب اجمل سٹی صاحب کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے مسلسل 48 گھنٹوں میں اپنی خدمات کو سرانجام دیا اور خود اترے اور لوگوں کی مدد کی۔اسی طرح میجر جنرل واجد عزیز صاحب کو بھی سلام ھے کہ انھوں نے افواج پاکستان کا لوہا ایک بار دوبارہ منایا اور 1 لاکھ سیاحوں کو بحفاظت مقامات تک پہنچایا۔میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا تھا؛-

    "جتنا مرضی درجہ حرارت کم ہو جائے اس وقت آپریشن جاری رہے گا جب تک آخری سیاح بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتا”
    اگر سیاسی جماعتوں کی بات کرے تو سیاسی جماعتوں نے سوائے سیاہ ست کرنے کے عملی کام کچھ نہیں کیا۔نون لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مری حلقہ ھے انھوں نے وہاں جا کر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔اگر وہاں موجود تھے تو محب وطن پاکستانی تحریک اللہ اکبر کے کارکنان،الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جنھوں نے وہاں جا کر لوگوں کی مدد کی۔تحریک اللہ اکبر اسلام آباد نے انتظامیہ کے تعاون سے سب سے زیادہ خدمت کا کام کیا اور امدادی کیمپ اور امدادی سامان کو پہنچایا۔اس پر مجھے یاد آیا
    ” جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ”
    اسی لیے ہماری سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی طرف دھیان دینا چاہیے اسی طرح مری کے مقامی عوام کو کوئی ہوش کے ناخن لینے چاہئے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    "جس نے ایک جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”
    آج ملک پاکستان غم سے دوچار ہیں تو ہمیں بطور قوم اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کو بلند تر کرنا ھے
    پاکستان زندہ باد

    @Gill_Pak12

  • پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    نئی دہلی :پاکستان اور سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے بعض اہم ذرائع کے حوالےسے آنے والی خبروں نے پریشان کررکھا ہے کہ بھارت بہت غلط اور منفی منصبوں پر عمل پیرا ہے ، خبروں میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایماء پر پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بھارت کے اندر ہونے والی اس پاکستان مخالف موومنٹ کے متعلق کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کل 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نام نہاد سیکورٹی الرٹ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    دلی پولیس کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ یوم جمہوری کی پریڈ کے انتظامات کے پیش نظر تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

  • ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے
    انسانی فطرت سے ہی انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے
    انسانی فطرت سے ہی دوسرے انسان کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے
    اور جب یہ احساس دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اسے محبت کہا جاتا ہے
    محبت ہمیشہ دو (رفیقوں) دوستوں کے درمیان ہوتی ہے اور دو رفیق بنے تو محبت کہلاتی ہے
    ایسا دوست (رفیق) جسکے ساتھ گہری محبت ہو اور مرنا جینا ایک ساتھ ہوجائے ہمسفر کہلاتا ہے.
    یہ ہم سفر اپنے آس پاس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
    ایسا ہمسفر جسے اپنے سے بڑھ کر اپنے دوست کی فکر رہے
    خوشی و غمی میں داد و تحسین و حوصلہ جیسی نعمت کو تقسیم کرتا رہے اور اسی طرح ایسا حوصلہ اسے اپنے ہمسفر کی طرف سے واپس ملتا رہے تو ناکامی کو اس دوران کوئی جگہ نہیں مل سکتی
    ایسی صورت میں کہ جب ناکامی سر پہ ہو اور ہمسفر اسے حوصلہ دے دے تو یہ ناکامی بھی کامیابی کا سا سکون عطاء کر دیتی ہے.
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو جتنا تقسیم کیا جائے وہ چیز قدرت کی طرف سے اس کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے.

    محبت تو انسانی فطرت ہے
    لیکن نفرت کرنا انسان کو سکھایا جاتا ہے یا پھر وہ خود سیکھتا ہے
    اگر نفرت سیکھتا ہے تو وہ بھی کسی اپنے قریبی شخص سے ہی سیکھتا ہے جس کے ساتھ انسان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا صحبت اختیار کرنا ہوتا ہے.
    انسان جیسا بھی ہو صحبت اسے بدل دیتی ہے
    اگر انسان برا ہے تو اچھوں کی صحبت اسے اچھا کر دیتی ہے اور اگر انسان اچھا ہے اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس اچھے انسان کو برا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    اچھی صحبت اختیار کرنے پر بزرگان دین نے بہت زور دیا ہے.
    اور اس کی سیکنڑوں مثالیں اہل علم نے قلم بند کی ہیں
    جس میں سب سے بڑی مثال فرعون کی دی گئی ہے
    اہل علم فرماتے ہیں کہ فرعون پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب فرعون کو اپنے ضمیر نے جھنجوڑا تو وہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہ ایمان لانے کیلئے رضامند ہوگیا.
    لیکن چونکہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا تو اس نے اپنے مشیر (ہامان) جسکی صحبت اختیار کرکے وہ فرعون بنا تھا سے مشورہ کیا کہ میں حضرت موسیٰ پہ ایمان لانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں.
    ہامان نے جب یہ بات سنی تو اس نے فرعون کی خوشامد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی سچے ہیں یہ بات ہر شخص جانتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹا تھا اور موسیٰ سچے ہیں تو جو آپ کے سنے سجدہ ریز ہوتے تھے وہی آپکو برا بھلا کہیں گے اور دشمن بھی بن جائیں گے.

    ہامان (جو فرعون کا ہمسفر) تھا کے اس مشورے کے بعد فرعون نے ایمان لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اللہ نے فرعون کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کیلئے نصیحت کے طورپہ پیش کردیا.
    اہل علم کا یہ گمان ہے کہ اگر فرعون کو مخلص مشورہ دیا جاتا تو وہ ایمان لے آتا.
    لیکن اسے بری صحبت نے ہلاک کیا.
    انسان جس قدر بھی جتنا بھی کسی کو ناپسند کرتا ہو یا ہر ایک سے نفرت کا عادی ہو
    پھر بھی فطرتی طورپہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جس کے سامنے محبت میں وہ اپنا سر تسلیم خم کردیتا ہے.
    انسان کی یہ محبت ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کے بعد منتقل ہوتی ہے دوست میں اور یہ ایک نیا رشتہ جڑتا ہے انسان کی زندگی کے ساتھ
    اور اگر دوست مخلص ہو تو سارے رشتے یہاں آکے ماند پڑجاتے ہیں
    انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں اپنی دوست کی رائے کو مقدم رکھتا ہے
    اسے ہی ہمسفر کہتے ہیں
    ہمسفر ماں باپ بہن بھائی دوست یا پھر بیوی میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے
    جسے جدید دور کی تعلیم میں رول ماڈلز بھی کہا جاتا ہے
    یعنی انسان کسی ایک کا تابع ہوجاتا ہے اور پھر اسکے مشورے کے بغیر کوئی قدم بھی نہیں اٹھا سکتا.

    @Dr_Anam_

  • کیونکہ  میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Family
    کو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

    ۔ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ۔

    ۔ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compile
    کرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

    ۔ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،
    کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

    ۔ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔

  • پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے والےکرکےآئیں تیاری

    پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے والےکرکےآئیں تیاری

    لاہور:پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے کرکے آئیں تیاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے لیے حفاظتی پروٹوکولز جاری کر دیے ہیں۔

    پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی پروٹوکولز کے مطابق ایونٹ کے پہلے مرحلے میں شریک تمام افراد کی 4 بار پی سی آر ٹیسٹنگ کی جائے گی، 10 فروری سے 27 فروری تک شرکاء کی 7 مرتبہ پی سی آر ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

    پروٹوکولز میں کہا گیا ہے کہ کووڈ ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آنے پر7 دن کے لیے آئسولیشن میں رکھا جائے گا، جس کے بعد ریپڈ ٹیسٹ ہو گا، ریپڈ ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آنے کی صورت میں مذکورہ شخص کو مزید 3 روزکے لیے آئسولیشن میں رہنا پڑے گا۔

    کرکٹ بورڈ کے مطابق کھلاڑی گیند پر تھوک کا استعمال نہیں کر سکتے، تمام کھلاڑیوں کوصرف اپنے سامان استعمال کرنے کی اجازت ہو گی اور صفائی کے عملے کے علاوہ کسی اور کو ہوٹل کے کمرے میں آنے کی دعوت دینا بڑی خلاف ورزی ہو گی، اجازت کے بغیر قرنطینہ کے دوران کمرے سے باہر نکلنا بڑی خلاف ورزی ہو گی اور ببل کے باہر سے کوئی بھی چیز وصول کرنا، علامات سے آگاہ نہ کرنا بڑی خلاف ورزی ہوگی۔

    پی سی بی پروٹوکولز کے مطابق ایسا کوئی قدم اٹھانا جو علامات کو چھپائے یا ٹیسٹ کے نتائج کو تبدیل کر دے بڑی خلاف ورزی ہو گی، کسی ایسے شخص سے ملنا جس میں علامات ہوں یا جس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو وہ بھی بڑی خلاف ورزی ہو گی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے میڈیا کے لیے بھی ایڈوائزی جاری کی گئی ہے اور این سی او سی کے فیصلے کی روشنی میں پر میڈیا باکس میں داخلہ محدود کیا گیا ہے۔

    پی سی بی کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران صرف 25 فیصد صحافیوں کو میڈیا باکس میں بٹھنے کی اجازت ہو گی، مرکزی بلڈنگ کے میڈیا باکسز میں 25 فیصد صحافی ہوں گے، دیگر صحافیوں کے لیے جاوید میانداد انکلوژر میں میڈیا زون بنایا جا رہا ہے۔

  • پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی

    پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی

    لاہور:پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پر آگئی

     

     

    اس حوالے سے یہ باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے آفیشل ترانے کا ٹیزر جاری کردیا گیا ہے۔

     

     

    ایونٹ کے 7ویں ایڈیشن کے آفیشل ترانے کی ریکارڈنگ گلوکار عاطف اسلم اور گلوکارہ آئمہ بیگ کی آواز میں کی گئی ہے جس کی پہلی جھلک کچھ دیر قبل ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر جاری کی گئی ہے۔

    پی ایس ایل کا مکمل ترانہ آج 23 جنوری کو ریلیز کیا جائے گا جس کے لیے مداح بے تاب ہیں۔ٹوئٹر پر پی ایس ایل اینتھم اور گلوکار عاطف اسلم کا نام ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہے۔

    سوشل میڈیا صارفین خیال ظاہر کررہے ہیں کہ چونکہ اس بار ترانے میں عاطف اسلم نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے تو یہ پی ایس ایل کے گذشتہ سیزنز کے ترانوں سے زیادہ اچھا ہوگا۔

     

     

     

     

    ادھر انڈر 19 ورلڈ کپ کے گروپ میچز مکمل ہوگئے، پاکستان نے آخری راؤنڈ میچ میں پاپوا نیو گنی کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    ویسٹ انڈیز کے شہر پورٹ آف سپین میں کھیلےگئے میچ میں پاپوا نیو گنی کے بیٹرز پاکستان کے بولرز کے سامنے بے بس دکھائی دیئے، پوری ٹیم پچاس رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔

    پاکستان کی جانب سے محمد شہزاد نے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جواب میں پاکستان انڈر 19 نے اکاون رنز کا ہدف بارہویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا، شاندار کارکردگی پر محمد شہزاد مین آف دی میچ قرار دیے گئے۔

  • ” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے:     رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان

    ” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے: رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان

    لاہور:” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے:رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان کا خوبصورت جواب ،اطلاعات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے لیے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجا نے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

    رمیز راجا نے اپنی ٹوئٹ میں محمد رضوان کو پاکستان کا نام فخر سے بلند کرنے پر مبارکباد دی، ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ آپ اس کامیابی کے مستحق تھے۔

     

     

    چیئرمین پی سی بی نے محمد رضوان کے لیے لکھا کہ آپ کی عاجزی، رویہ اور محنت آپ کی خاصیت ہے۔رمیز راجا نے رضوان کے لیے مستقبل میں مزید کامیابی اور اعزازات کے لیے دعا بھی کی۔

    خیال رہے کہ آئی سی سی نے محمد رضوان کو گزشتہ سال 1326 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے پر سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا ہے۔

    محمد رضوان کا اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ ڈبل خوشی اس بات کی ہے کہ اس بار یہ ایوارڈ پاکستان کو ملا ہے، دنیا کی ٹاپ ٹیمز میں پاکستان کا نام آنا خوشی کی بات ہے۔

     

    قومی وکٹ کیپر بیٹر کا کہنا تھا کہ ایوارڈ کاکریڈیٹ ٹیم مینجمنٹ، ساتھی کرکٹرز اور میرے کھیل کا جائزہ لینے والوں کو بھی جاتا ہے، سب کی محنت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان ٹیم کا نام ہے۔

    اس کے علاوہ رضوان نے ٹوئٹر پر بھی پیغام جاری کیا اور کہا کہ بس اللہ سے ہوتا ہے، اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا۔

    ٹوئٹر پیغام میں رضوان نے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ابھی سفر کا آغاز ہے، انہوں نے یہ ایوارڈ پاکستان اور پوری قوم کے نام کیا۔

  • عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا

    عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا

    لاہور:عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا،اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے شاہین کرکٹر عاجز اور منکسرالمزاج درویش صفت انسان محمد رضوان کو ٹی 20 کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا ہے، گزشتہ برس انہوں نے 29میچز میں 1326 رنز بنائے تھے۔

     

    محمد رضوان نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کا کریڈٹ ساتھی کرکٹرز اورٹیم مینجمنٹ کو جاتا ہے، دنیا کی بہترین ٹیموں میں پاکستان کا نام آنا خوشی کی بات ہے۔

     

    ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز عمان کے حصے میں آیا، آئی سی سی نے یہ اعلان کرتے ہوئے ذیشان مقصود کو طلسماتی رہنما قرار دیا۔

    ا

    ادھر کرکٹ کے عالمی ادارے نے ویمن ایسوسی ایٹ کرکٹرآف دی ایئر کا مستحق آسٹریا کی آندرے مائی زپیدہ کو ٹھہرایا، انہیں یہ اعزاز کھیل کے دوران مخالف ٹیموں کے خلاف بھرپور جذبے اور مستقل مزاجی دکھانے کے سبب ملا۔

     

    فاسٹ بولرنے کپتان بابر اعظم کو شہرہ آفاق ترک سیریز کے مرکزی کردار ارطغرل غازی قرار دے دیا۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کےفاسٹ باولر شاہین آفریدی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان ہمیشہ بابر کو کہتے ہیں کہ آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے ارطغرل غازی اور ہم ان کے سپاہی ہیں۔

     

     

     

  • ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے تعاون سے قائم امریکی نیورو ٹیکنالوجی فرم نیورا لنک نے کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سلیکون ویلی کمپنی، جس نے پہلے ہی پیجر نامی مکاک بندر اور گرٹروڈ نامی سور کے دماغ میں مصنوعی ذہانت کے مائیکرو چِپس کو کامیابی کے ساتھ لگا دیا ہے، اب انسانوں میں ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ چلانے کے لیے "کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر” کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔

    کمپنی نے کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر اور کلینیکل ٹرائل کوآرڈینیٹر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہارات بھی شائع کروا دیئے ہیں اشتہارات میں لکھا گیا ہے کہ عملہ کچھ جدید ترین ڈاکٹروں اور اعلیٰ انجینئرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور ساتھ ہی نیورالنک کےپہلےکلینیکل ٹرائل کے شرکاء کے ساتھ کام کریں گے۔

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ 2022 میں کسی بھی وقت نیورالنک دماغی چپس انسانوں میں لگائے جانے کی توقع رکھتے ہیں تاہم امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دماغی چپ کی جانچ کے ان منصوبوں کی منظوری باقی ہے۔

    مسک اور ان کے نیورالنک پارٹنرز نے 2016 میں دماغی چپس تیار کرنے کے لیے کمپنی کی بنیاد رکھی تھی جو انسانوں کو کمپیوٹر سے جوڑتی ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امپلانٹس مفلوج افراد کو اپنے دماغ سے اسمارٹ فون جیسے آلات کو کنٹرول کرنے کے قابل بنائیں گے –

    انہیں توقع ہے کہ ایک بار جب انسانی جانچ کا آغاز ہو گا تو مزید پیشرفت سے نیوران کے درمیان سگنلز کو پل کر کے کئی جسمانی معذوریوں کا حل بھی شامل ہے-

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ وال سٹریٹ جرنل کے سی ای او کونسل سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ پہلے انسانی ٹیسٹ ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹوں والے لوگوں پر ہوں گے ہمارے پاس نیورالنک کے ساتھ ایک موقع ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی وجہ سے پورے مفلوج جسم کو فعال کر لیں نیورالنک بندروں میں اچھی طرح سے کام کر رہا ہے، اور ہم اصل میں بہت زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں اور صرف اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ بہت محفوظ اور قابل اعتماد ہے اور نیورالنک ڈیوائس کو محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے

    واضح رہے کہ نیورالنک پہلے ہی ایک مکاک بندر اور سور کے دماغ میں اپنی چپس کا تجربہ کر چکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک بندر کو اپنے دماغ کے ساتھ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے دکھایا تھا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    لاہور:بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولرنے کپتان بابر اعظم کو شہرہ آفاق ترک سیریز کے مرکزی کردار ارطغرل غازی قرار دے دیا۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کےفاسٹ باولر شاہین آفریدی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان ہمیشہ بابر کو کہتے ہیں کہ آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے ارطغرل غازی اور ہم ان کے سپاہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ میں بھارتی کرکٹر کے ایل راہول کی وکٹ میرے کیرئیر کی بہترین وکٹوں میں سے ایک ہے۔

    نوجوان فاسٹ بولر نے پاک بھارت میچ کے حوالے سے کہا کہ ٹاکرے سے قبل عجیب سا ماحول بن جاتا ہے کہ یہ پاکستان اور انڈیا کا میچ ہے۔

    روہت شرما کو آؤٹ کرنے سے متعلق سوال پر شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ روہت کے خلاف پلاننگ سے بولنگ کرائی، مجھے معلوم تھا کہ وہ عامر کے خلاف ان سوئنگ گیند پر آؤٹ ہوئے تھے جس کا میں نے بھی فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا ہوا تھا جب بھی بھارت کے خلاف موقع ملا تو اچھی کارکردگی دکھاؤں گا۔

    شاہین شاہ آفریدی نے بابراعظم کوارطغرل غازی اس لیے بھی کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرتےہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ محمد رضوان ٹیم میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے شامل ہیں۔

     

    پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی بھی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں جوز بٹلر، ایڈن مارکرم، مچل مارش اور ڈیوڈ ملر شامل ہیں۔اس کے علاوہ تبریز شمسی، جوش ہیزل ووڈ، وانندو ہسارنگا اور مستفیض الرحمان بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں کوئی بھی بھارتی کرکٹر شامل نہیں ہے۔