Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    جنیوا:پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں تیزی لائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکا جا سکے اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی کاموں کا مرکز رہنا چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا ہم سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کو فروغ دینے اور کشمیری عوام کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا خاطر خواہ اختیار استعمال کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کچھ نہیں کر رہی تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف سے فراہم کردہ اختیار کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں کارروائی کر کے امن اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

    منیر اکرم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بنیادی خطرہ جموں و کشمیر کے تنازعہ سے لاحق ہے اور بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںوکشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    منیر اکرم نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے وسیع غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی اور کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کیلئے کوششوں کا آغاز کریں۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کیلئے بھارت سے اب تک کوئی جوابدہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے کالے قوانین ان نو لاکھ فورسز اہلکاروں کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتے ہیں جنہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعینات کرکھا ہے۔۔ سفیر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر پریس کلب پر حالیہ حملہ اور اسکی بندش مقبوضہ علاقے میں مجرمانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارتی وحشیانہ جبر کی ایک اور مثال ہے ۔

  • مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق جمہوریت کی دعوےدار بھارتی حکومت نے مسلم دشمن پالیسیوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم بے نقاب کرنے والے 35 پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بلاک کردیا اطلاعات کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے یوٹیوب چینلز کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد ویڈیو ہیں جن میں ملیحہ ہاشمی عمر دراز گوندل سلمان حیدر اور مخدوم شہاب کا چینل (میرا پاکستان) جیسے بڑے اکاؤنٹس شامل ہیں ، بھارت ففتھ جنریش وار جیت رہا ہے ، پاکستان نے اب بھی کچھ نہ کیا تو بڑی دیر ہو جائے گی-

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    بھارتی میڈیا کے مطابق اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر کی وارننگ کے ایک دن بعد حکومت نے 35 یوٹیوب چینلز، 2 ٹویٹر اکاؤنٹس، انسٹاگرام اکاؤنٹس، 2 ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے یہ تمام اکاؤنٹس پاکستان سے چل رہے تھے۔

    اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری اپوروا چندرا اور جوائنٹ سکریٹری وکرم سہائے نے جمعہ کو کہا کہ 20 جنوری کو وزارت کو ملی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کارروائی کی ہے جبکہ اپوروا چندرا نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے 12 ملین سبسکرائبرز اور 130 ملین سے زیادہ ویوز تھے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی کی جان کو خطرہ:نئے حفاظتی انتظامات نے حیران کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 20 یوٹیوب چینلز اور دو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کی فہرست میں پنچ لائن،بین الاقوامی ویب نیوز،خالصہ ٹی وی،ننگا سچ، نیوز24، 48 نیوز،خیالی تاریخی
    حقائق پنجاب،وائرل نیا پاکستان،گلوبل کور اسٹوری،گلوبل ای کامرس،جنید حلیم آفیشل، طیب حنیف، زین علی،فیشل محسن،راجپوت آفیشل،کنیز فاطمہ،صدف درانی
    ،میاں عمران احمد، نجم الحسن باجوہ شامل ہیں-

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر…

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    اکثر پاکستانی سیاست میں بھونچال اس لیے بھی برپا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ ۔ سوال یہ ہے کہ آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔ کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔۔ کبھی حمزہ اور مریم کی لڑائی کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔۔ پھر کبھی زرداری تو کبھی بلاول کی طرف توپوں کا رخ کردیا جاتا ہے ۔ ۔ اور اب حکومت نے ایک نیا ایشو پکڑا لیا جس کا نام ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔
    ۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو جنوبی معاملے پر بھی تیلی ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے لگائی ۔ مگر اب اپوزیشن حکومت کو اس معاملے سے بھاگنے نہیں دے رہی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو اس ایشو پر گھیر لیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ جو بیانات چیزیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ جانب سے آئی ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کی نیت ہو تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے اسکو کوئی نہ روک سکتا ۔ مگر یاد رکھیے گا یہ نہیں بنائیں گے یہ بس اس معاملے پر بھی سیاست ہی کھیلیں گے ۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا ۔ یہ کارڈ استعمال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے electablesکو گزشتہ جنرل الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ۔ کیونکہ عمران خان دعوی تھا کہ نوے دن میں صوبہ بنوا کر دیکھاوں گا ۔ ۔ مگر عملی طور پر پی ٹی آئی نے باقی چیزوں کی طرح اس پر بھی کچھ نہ کیا بس جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر ایک نیا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ جس کا مقصد صوبے کے قیام کو پس پشت ڈالنا دیکھائی دیتا ہے۔ وجوہات آگے چل کر تفصیل سے بتاتا ہوں ۔ پر اب جو ایک بار پھر جنرل الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ کا شور مچایا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیاست کرنے کے لئے اب علیحدہ صوبے کی بات کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جو سیاسی جماعت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی وہ کم از کم جنوبی پنجاب سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۔ سینیٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بجا طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا ہے کہ ان کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سے بھی علیحدہ صوبے کی قرارداد منظور ہوئی، جو ایک آئینی تقاضا تھی اور قومی اسمبلی نیز سینٹ میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی۔ اگر ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو پیپلزپارٹی علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور سو دن کے اندر اس ضمن میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر حکومت میں آکر وہ سب کچھ بھول گئے۔۔ اس بس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کھلا دل کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اب بھی اگر عمران خان اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیں تو اپوزیشن ان کا ساتھ دے گی۔

    ۔ پھر اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا ہے، اسے پورا کیا جائے۔ رانا محمود الحسن کے بقول جتنا پانی اسلام آباد کے پھولوں کو ملتا ہے، اگر اتنا پانی جنوبی پنجاب کو مل جائے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان صوبہ بن سکتا ہے تو سرائیکستان کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے۔ سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے اس بل کو ایک اہم ایشو قرار دیا ۔ ۔ اس بل پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سینیٹ میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل ہماری خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ صوبے کی تشکیل کے لیے ہمیں دوتہائی اکثریت چاہیے ، اس بل پر مل کر آگے بڑھیں اور اپوزیشن اس پر ہمارا ساتھ دے کیونکہ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب اسمبلی سے بھی رائے لینا ہو گی، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سیکرٹریٹ نہیں مانگ رہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت ہم خود بنائیں گے۔ ۔ شاہ محمود قریشی ہر بار ملتان آکر یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ سکریٹریٹ دیا ہے اور علیحدہ صوبہ بھی وہی بنائے گی۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کریں گے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی حد تک تحریک انصاف کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ابھی تو پی ٹی آئی صرف اسی بات پر خوش ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ مل گیا ہے اور افسروں کی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ میں خطاب کے ذریعے یوسف رضا گیلانی نے اپنے علاقے کی اس بار بھرپور نمائندگی کی ہے اس سے سرائیکی علاقے کی قوم پرست جماعتیں بھی ان کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ وہ بھی علیحدہ سکریٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں اور خود مختار صوبہ چاہتی ہیں۔۔ کیونکہ اس بار بھی خدشہ یہ ہی ہے کہ پی ٹی آئی علیحدہ صوبے کے مطالبے کو صرف ایک سیاسی نعرہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمتِ عملی غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ جایا جائے کہ علیحدہ سکریٹریٹ بھی ہم نے بنایا اور اب علیحدہ صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ صوبے کی بجائے سکریٹریٹ بنا کر تحریک انصاف نے خود مختار صوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا تھا، جسے خود مختار سکریٹریٹ بنا کر حل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ یوں جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنتا، دکھاوے کے اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ اسمبلی، علیحدہ بجٹ، علیحدہ ہائیکورٹ اور سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ سب کچھ علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے سے نہیں مل سکتا۔۔ کیونکہ جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک، اسمبلی ایک، چیف سکریٹری اور آئی جی ایک، نیز ہائیکورٹ بھی ایک ہے تو جنوبی پنجاب کے چھ کروڑ سے زائد عوام کو نمائندگی کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت نے صوبہ جنوبی پنجاب پر آج تک سنجیدہ سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس معاملہ میں کبھی آئینی تقاضے کے تحت عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محض جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا رونا رو کر ہر جماعت ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ اس سیاست نے سندھ اور سرحد میں بھی نئے صوبے کی سیاست کو ہوا دی ہے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو صوبہ جناح پور بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت ہوئی اور سندھی قوم پرستوں نے اعلان کر دیا کہ سندھ میں سے نیا صوبہ ہماری لاشوں کو اٹھا کر ہی نکالا جا سکتا۔ علاقائی بنیادوں پر ہونے والی اسی سیاست نے صوبہ سرحد میں بھی سیاسی طوفان اٹھایا جہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی اور اسے اے این پی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ۔ بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست تعمیری سے زیادہ مفاداتی سیاست بن گئی ہے۔ ۔ ہمارا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے پر سیاست کرنے والوں کو جب آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ نئے صوبے کا نام لینا بھی بھول جاتے ہیں مگر اس ایشو پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ۔ پھر اگر پی ٹی آئی اور عمران خان جنوبی پنجاب کے لیے مخلص ہوتے تو یہ کارنامہ بھی بالکل ویسے ہی سرانجام دے دیا جاتا جیسے منی بجٹ اور دیگر معاملوں میں حکومت نے اپنی استادی دیکھائی ہے ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی نے جو جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکرٹریٹ تشکیل دے کر حل نکالا ہے یہ محض سیاسی سٹنٹ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ نیا سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں قطعاً معاون نہیں بن سکا۔

  • سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    اس سرد موسم میں بیانیے کی جنگ میں گرمی آتی جار ہی ہے ۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب ہی اپنے اپنے حساب سے دعوے کررہے ہیں۔ کہ عنقریب یوں ہوجائے وہ جائے گا کہ جس کا کسی کو بھی کوئی گمان نہ ہوگا ۔

    ۔ دیکھا جائے تو پہلی تیلی چند منظور نظر وزیروں اور مشیروں نے خود لگائی ہے جس کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں اپنی چالیں چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ اور انھوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے ہیں ۔یوں اب شہباز گل جیسے مشیروں کے پاس ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ قوم کو بتا رہے ہیں جلد ایک اور آڈیو یا ویڈیو لیک ہونے والی ہے ۔ یہ ہے ان کی کارکردگی ۔۔۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے وزیروں اور مشیروں کی کہی ہوئی باتیں ان کے ہی منہ پر مارنا شروع کردی ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔
    ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ جو حکومت کی جانب متواتر باتیں کی جارہی ہیں کہ اب بھی ہم پر ہاتھ ہے ۔ اب بھی ہم ہی منظور نظر ہیں ۔ اسکی خاص وجہ ہے ۔ دراصل تحریک انصاف اپنے اتحادیوں سمیت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پیغام دے رہی ہے ۔ کہ اب بھی ہمارے حالات اچھے ہیں ۔ اب بھی صحفہ ایک ہی ہے ۔ اس سے ان کا خیال یہ ہے کہ جو جانے والے ہیں وہ روک جائیں گے ۔ مگر میں آپکو بتاوں یہ جانے والے بڑے تیز ہوتے ہیں ۔ یہ دہائیوں سے یہ ہی کام کرتے آرہے ہیں ۔ ان کو وقت سے پہلے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ نیا کیا ہونے والا ہے کون آنے والا ہے اور یہ ایسی ایسی بازی کھیل جاتے ہیں کہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں ہوتا ۔۔۔

    ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جہاں سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاہے کہ بہت جلد کچھ ہونے والا ہےاور عمران خان کے پیروں کے نیچے سے زمین ایسے کھسکے گی کہ انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دعوی ہے کہ وہ بائیس افراد کو جانتے ہیں جو اب حکومت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور دیکھناحکومت ایک دن بھی بیساکھیوں کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بائیس لوگ ہٹ جائیں تو حکومت اکثریت کھو دے گی پھر شاید عدم اعتماد کی ضرورت نہ پڑے۔ اچھا انھوں نے یہ کوئی ایسی بات نہیں کی ہے کہ جو صرف بیان ہو ۔ حالیہ پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ق لیگ کے بیانات سے لے کر تحریک انصاف کے اپنے ناراض لوگوں کے بیانات اٹھا کر دیکھنا شروع کردیں ۔ تو عمران خان کے لیے کافی خوفناک تصویر واضح دیکھائی دینا شروع ہوجاتی ہے ۔ آپ دیکھیں کپتان سے نور عالم خان تک تو برداشت نہیں ہوئے ۔ پی ٹی آئی نے مہنگائی، گیس اور بجلی کے حوالے سے اپنی ہی جماعت پر تنقید کرنے والے نور عالم خان کو شوکاز نوٹس کے علاوہ اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے ہٹانےکی درخواست کر دی ہے ۔عامر ڈوگر کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے خط میں نور عالم خان کی جگہ حیدرعلی خان کوپی اے سی کا رکن بنانے کا کہا گیا ہے۔۔ ویسے اگر عمران خان دور اندیش ہوتے تو اپنی پارٹی کی سمجھ دار آوازوں پر کریڈیٹ بھی لے سکتے تھے کہ پارٹی میں ہر طرح کی بات ہوتی ہے اور سنی جاتی ہے ۔ مگر انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کو بھی صرف خوشامدی پسند ہیں ۔ وہ آمرانہ سوچ کے حامل ہیں ۔ جو ان کو آئینہ دیکھائے وہ برداشت نہیں ۔ تو خود حساب لگا لیں کہ پی ٹی آئی کی کیا اوقات ہے کتنا حوصلہ ہے ۔ بس ایک تقریر کی مار ہے ان کا انصاف ۔۔۔ ویسے یہ جمہوریت کے چیمپئین بنتے تھکتے نہیں ہیں ۔

    ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ کیوں پی ٹی آئی میں مشیر اور وزیر شہباز گل ، فواد چوہدری ، فیاض الحسن چوہان جیسے لوگ ہی بنتے ہیں ۔ وجہ صاف ہے کہ کپتان سے تنقید برداشت نہیں ۔ مثالیں ریاست مدینہ کی دیتے ہیں پر اگر کوئی کپتان پر انگلی اٹھائے تو ان سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس لیے اب تحریک انصاف میں صرف مالشیے اور پالشیے ہی رہ گئے ہیں ۔ ۔ یاد ہو تو عمران خان یہ دعویٰ کرکےآئےتھےکہ وہ مفادات کےٹکراو کےخلاف ہونگے۔ مگر عمران خان کی پوری کابینہ اُن لوگوں سےبھری پڑی ہےجن کے اپنے کاروبار اور مفادات ہیں۔ یہی اراکین کابینہ میں بیٹھتے ہیں ،اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بیٹھتے ہیں اور یہی بینیفشری ہیں۔۔ اسی حوالے سے نور عالم خان کا کہنا تھا کہ وہ پی اے سی میں سرکاری افسران، کارٹلز مافیا کی بدعنوانیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہ وہی مافیا ہے جس کے وفادار پہلی تین قطاروں میں موجود ہیں۔ اس لیے ان کو سزا دی جا رہی ہے ۔ ۔ اچھا ان پہلی تین قطاروں میں بیٹھے وہ لوگ ہوتے ہیں جو پی ٹی آئی میں deputationپر آئے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو کسی صورت پارٹی کے وفادار نہیں ۔ یہ بڑے تجربہ کار لوگ ہیں انھوں نے ہر گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے ۔ یہ جس بھی پارٹی کی حکومت ہو ۔ اس میں کسی نہ کسی طرح وزیر لگ جاتے ہیں ۔ اور جیسے ہی دوسری حکومت آتی ہے تو یہ پہلے والی کو ایسے چھوڑتے ہیں کہ ہر کوئی حیران وپریشان ہوجاتا ہے ۔ یہ دہائیوں سے ہر تبدیلی کے ساتھ کھڑے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ یہ جو وزراء دعوے کر رہے ہیں اگلے پانچ برس بھی ان کی ہی حکومت ہوگی تو کچھ بعید نہیں کہ یہ اگلی حکومت کو بھی حصہ ہوں چاہے جماعت جو بھی ہو ۔ ن ہی لوگوں کی وجہ سے تبدیلی تو کبھی عوام کو میسر نہیں آئی البتہ ان تمام لوگوں کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور ان کے سر پر عمران خان یہ تمام جوا کھیل رہے ہیں ۔ اس سے اندازہ کر لیں کہ عمران خان کتنے دوراندیش اور بندہ شناس ہیں ۔

    ۔ عمران خان کی اس ہی ڈکٹیٹر شپ سوچ نے پارٹی کے اندر بھی اور باہر بھی بے چینی پیدا کی ہوئی ہے ۔ اس لیے اب صرف اپوزیشن ہی نہیں صحافی تجزیہ کار سب ہی خبر دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے جو بڑھتا جا رہا ہے۔۔ یہ حقیقت ہے کہ جہانگیرترین فیکٹر، آٹا بحران، گندم سیکنڈل، چینی سیکنڈل، ایل این جی سیکنڈل، عوام پر آئے دن ٹیکسوں کا بوجھ، پٹرول بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، ریکارڈ توڑ مہنگائی اور بے روزگاری ، سخت شرائط پر ریکارڈ غیر ملکی قرضوں کا حصول، صنعت تباہ،زراعت تباہ، معیشت تباہ، سرمایہ کاری ٹھپ، جیسے میڈل اپنے سینے پر سجانے والی شاید یہ پہلی حکومت ہے ۔ ۔ چند وزراء اور درجن بھر ترجمانوں کے مخالفوں پرپے درپے حملوں کو ہی گورننس سمجھ لیا گیا ہے ۔ عوام حیران ہیں کہ مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافے، پٹرول گیس اور بجلی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے باوجود بھی یہ حکومت ڈھٹائی کے ساتھ سب اچھا کا راگ کیسے الاپ لیتی ہے ۔ ۔ پھر آج سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے ۔حل پھر وہ ہی ہے کہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹاکرانضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کردیا گیا ہے۔ یوں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قوم سے سانحہ مری کی شفاف انکوائری کا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔میرا سوال ہے کہ کیا صرف معطلیوں سے جو 23لوگوں نے اپنے جانیں گنوائیں ۔ اسکا کفارہ ہوجائے گا ۔ کیا صرف سرکاری ملازم ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے ۔ کیا وزیر اعظم ، وزیر اعلی ، وزیروں اور پنجاب حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی کوئی کوتاہی نہیں تھی ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان کہا کرتے ہیں کہ مغرب کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے۔ مغرب کی برفباری سے کون واقف نہیں ہے۔ اگر سربراہ مملکت مغرب کو جانتا ہوتا تو سڑکوں پہ مطلوبہ مقدار میں نمک ڈالا جاتا۔ مغربی ممالک میں جب زیادہ مقدار میں برفباری ہوتی ہے تو ایمرجنسی لگا دی جاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں نظام ہی نرالا ہے۔ ہم گاڑیوں کی تعداد پہ فخر کر رہے تھے۔ جب حکومتوں کی کارکردگی نہیں ہوتی تو ترجمان پھر بھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم نے مری میں دیکھا۔جنہوں نے خود ایمرجنسی لگانی تھی وہ بیس گھنٹے لوگوں کی فون کالز سننے کے بعد بھی کوئی عملی اقدام نہ کر سکے۔ ان کے پاس کوئی پلان ہی نہیں تھا۔ ملک کا وزیر داخلہ شیخ رشید فرما رہا تھا لوگ خود چھوٹے چھوٹے سے بچے لیکر مری آ جاتے ہیں۔ ہم کیا کریں۔ وزیراعظم بھی کہہ رہا تھے کہ انتظامیہ اتنے لوگوں کے لیے تیار نہیں تھی۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ عورت موٹروے پہ کیوں گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ لوگ مری کیوں گئے۔ ۔ یہ سب ریکارڈ پر ہے کہ برف میں پھنسے ہوئے لوگ، ان کے عزیز و اقارب اور ان کے دوست احباب کالیں کرتے رہے لیکن حکومتی عمائدین خواب خرگوش کے مزلے لیتے رہے۔ آپ تین منٹ کی بجائے تین گھنٹے میں بھی پہنچ جاتے تو لوگوں کو مرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ ۔ آخر میں تمام کا تمام ملبہ انتظامیہ پر ڈال دینا کسی صورت ہضم نہیں ہوسکتا ۔ کچھ تو بوجھ حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا ۔ ۔ پر میں آپکو بتاوں ایسے سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو ، اخلاقیات ہوں ، کردار ہو ۔۔۔ اس حکومت سے یہ امید رکھنا کہ یہ اپنی
    ۔۔۔ منجی تھلے ڈانگ پھیر لیں گے ۔۔۔
    دیوانے کا خواب ہے ۔۔

  • پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    دماغی ماہرین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے۔

    باغی ٹی وی : ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع کئے گئے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کے نئے نظریے کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے دونوں دماغی ماہرین نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    تحقیق میں دونوں ماہرین ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ نیوروسائنس میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ تاہم، ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھولنے کی تمام شکلوں میں سرکٹ کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہے جو اینگرام سیلز کو قابل رسائی حالت (جہاں انہیں قدرتی یاد کرنے کے اشارے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے) سے ناقابل رسائی حالت میں تبدیل کرتا ہے (جہاں وہ نہیں کر سکتے)۔ بہت سے معاملات میں، بھولنے کی شرح ماحولیاتی حالات کے مطابق وضع کی جاتی ہے اور اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھول جانا نیوروپلاسٹیٹی کی ایک شکل ہے جو اینگرام سیل کی رسائی کو اس انداز میں تبدیل کرتی ہے جو توقعات اور ماحول کے درمیان مماثلت کے لیے حساس ہے۔ مزید برآں، ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ بھولنے سے وابستہ بیماری کی حالتیں بھولنے کے قدرتی طریقہ کار کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اینگرام سیل کی رسائی کم ہو جاتی ہے اور یادداشت کی کمی ہوتی ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے بظاہر یہ ایک خرابی ہے درحقیقت اس کا بہت فائدہ ہے کیونکہ جیسے جیسے ہمارے سیکھنے کا عمل آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے پرانی باتوں کا زیادہ تعداد میں یاد رہ جانا ہمارے اکتساب کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے-

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    لہذا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں یعنی صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول اور حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کےلیے تیار کرتا رہے اس دوران دماغ کے خلیے تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن میں سرگرمی/ تحریک میں تبدیلی آجاتی ہے جسے ہم ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    غرض کہ نیا سیکھتے دوران ہمارا دماغ مختلف اینگرامز کو تحریک دینا اور مختلف یادوں کو تازہ کرنا سیکھتا ہے وہ یادیں جو اس کے کام کی ہوتی ہیں غیر متعلقہ یادوں کو وہ نظرانداز کردیتا ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ ہم انہیں بھول جاتے ہیں وہ یادیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں لیکن بے حس و حرکت رہتی ہیں۔

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

  • مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    کیلیفورنیا: مائیکروسافٹ نے کینڈی کرش سمیت کئی مشہور گیمز بنانے والی کمپنی ’ایکٹیویژن بلیزارڈ‘ 68.7 ارب ڈالر (12,157 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم میں خرید لی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مائیکروسافٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی گئی جس میں مائیکروسافٹ ایکس باکس اور ایکٹیویژن بلیزارڈ کے لوگوز ایک ساتھ دکھائے گئے ہیں متعلقہ پریس ریلیز میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی جانب سے یہ ارادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کو خرید لے گی۔


    البتہ گیمنگ کی جدید دنیا سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان خریداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا گیا ہے ورنہ اس میں اتنے واضح طور پر رقم کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    اس خریداری کے ساتھ ہی نہ صرف ایکٹیویژن بلیزارڈ کے گیمز سیمت تمام مصنوعات اور اثاثہ جات مائیکروسافٹ کی ملکیت ہوجائیں گے بلکہ مائیکروسافٹ کو ایکس باکس اور روایتی آن لائن گیمنگ سے آگے بڑھ کر موبائل گیمنگ کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    مائیکروسافٹ کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی مہارت استعمال کرتے ہوئے، آنے والے برسوں میں ’میٹاورس‘ کےلیے بھی نئے گیمز تیار کیے جائیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ Tencent اور Sony کے پیچھے، آمدنی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی گیمنگ کمپنی بن جائے گی۔ منصوبہ بند حصول میں میجر لیگ گیمنگ کے ذریعے عالمی ای اسپورٹس سرگرمیوں کے علاوہ ایکٹیویژن، بلیزارڈ اور کنگ اسٹوڈیوز جیسے "وار کرافٹ،” "ڈیابلو،” "اوور واچ،” "کال آف ڈیوٹی” اور "کینڈی کرش” کی مشہور فرنچائزز شامل ہیں۔ کمپنی کے تقریباً 10,000 ملازمین کے ساتھ دنیا بھر میں اسٹوڈیوز ہیں۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور سی ای او ستیہ ناڈیلا نے کہا کہ”آج تمام پلیٹ فارمز پر گیمنگ تفریح ​​کا سب سے متحرک اور دلچسپ زمرہ ہے اور میٹاورس پلیٹ فارمز کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔” "ہم گیمنگ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے عالمی معیار کے مواد، کمیونٹی اور کلاؤڈ میں گہری سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو کھلاڑیوں اور تخلیق کاروں کو پہلے رکھتا ہے اور گیمنگ کو محفوظ، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔”

    مائیکروسافٹ گیمنگ کے سی ای او فل اسپینسر نے کہا، "ہر جگہ کھلاڑی ایکٹیویژن بلیزارڈ گیمز کو پسند کرتے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ تخلیقی ٹیموں کے سامنے ان کا بہترین کام ہے۔” "ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنائیں گے جہاں لوگ اپنی مرضی کے کھیل کھیل سکیں، عملی طور پر کہیں بھی وہ چاہیں۔”

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    واضح رہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی ذیلی کمپنی ’کنگ اسٹوڈیو‘ کا تیار کردہ ’کینڈی کرش‘ اب تک تقریباً تین ارب سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین گیمز میں شمار ہوتا ہے جسے اسمارٹ فون کے علاوہ فیس بُک میں بھی براہِ راست کھیلا جاسکتا ہے۔

  • بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 29 بچوں کو جنم دینے والے مادہ چیتے کی موت کے بعد اُس کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات ادا کی گئیں-

    باغی ٹی وی : مادہ چیتے کی آخری رسومات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بھارت میں اس مادہ چیتے کو ’سپر موم‘ کا لقب دیا گیا، جس سے محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین اور بھارتی شہری بہت زیادہ پیار کرتے تھے اس مادہ چیتے کو مرکزی علاقے میں قائم پینچ ٹائیگر سینٹر میں رکھا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز 16 برس کی عمر میں ضعیفی کے باعث انتقال کر گئی۔

    79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی


    محکمہ جنگلی حیات کے نمائندے اشوک نے بتایا کہ سپرموم نے اپنی زندگی میں تقریباً 29 بچوں کو جنم دیا جن میں سے 25 کی افزائش ہوئی اور اب وہ جنگلوں میں ہیں مادہ چیتے کے مرنے کی خبر پر شہری افسردہ ہوئے اور انہوں نے انتظامیہ سے اس کی آخری رسومات ہندو مذہب کے تحت ادا کرنے کی سفارش بھی کی جس کو تسلیم کیا گیا۔


    سپر موم کو انسانوں کی طرح ایک تختے پر رکھ کر جنگل منتقل کیا گیا، جہاں لکڑیوں کو آگ لگا کر اُس کے جسم کو جلایا کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سپر موم کو الوداع کہنے اور آخری رسومات کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔

    لداخ میں چین پل بنا رہا ،مودی افتتاح کرنے نہ پہنچ جائے، راہول

    دوسری جانب حال ہی میں حال ہی میں بھارت کے ایک گاؤں میں تقریباً 500 لوگوں نے 100 سالہ مگر مچھ کی آخری رسومات ادا کی تھیں یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمترا ضلع کے ایک گاؤں باواموہترا میں پیش آیا، جہاں لوگ کمیونٹی تالاب کے قریب جمع ہوئے اور یہ دیکھ کر رونے لگے کہ مگرمچھ مر گیا ہے۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق گنگارام کے نام سے مشہور، تین میٹر لمبے رینگنے والے جانور کی عمر تقریباً 130 سال تھی اور اسے آخری رسومات ادا کرنے کے بعد گاؤں میں دفن کر دیا گیا مگرمچھ کا پوسٹ مارٹم تمام گاؤں والوں کے سامنے کیا گیا۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک


    مگرمچھ کی موت قدرتی وجوہات سے ہوئی اور اسے پھولوں اور ہاروں سے سجا کر ٹریکٹر پر اس کی آخری رسومات میں لے جایا گیا گاؤں کے ایک ذریعے نے مگر مچھ کے دوستانہ رویے کی تعریف کی اور کہا، "یہاں تک کہ گاؤں کے بچے بھی اس کے ارد گرد تیر سکتے تھے اور گنگارام نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی اس پر حملہ کیا ہے۔ اس گاؤں میں پوجا کی جاتی تھی۔”

    گاؤں کے لوگ اب تالاب کے قریب گنگارام کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے دوست کو یاد کر سکیں، جس نے گاؤں کو نیا نام "مگرمچھ والا گاوں” دیا تھا۔

    دوسری شادی کی خواہش، بیوی نے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں