Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ایس ایل7:لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    پی ایس ایل7:لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    لاہور:اکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے میچ میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹ سے شکست دے دی ہے۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جس کے 20 ویں میچ میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے قائد سرفراز احمد کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    لاہور قلندرز اننگز

    142 رنز کا ہدف لاہور قلندرز کی ٹیم نے باآسانی 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اننگز

    قلندرز کے خلاف میچ کے لئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جیسن روئے اور احسان علی نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم جیسن روئے اور ان کے بعد آنے والے بیٹر جیمز ونس شاہین شاہ آفریدی کا ابتدائی اوور میں ہی شکار بن گئے۔

    گلیڈی ایٹرز نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 141 رنز بنائے، جیسن روئے صفر، احسان علی 8، جیمز ونس صفر، کپتان سرفراز احمد 12، افتخار احمد 52، عمر اکمل 25 اور حسان خان 17 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ سہیل تنویر 7 اور نور احمد 13 سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔

    لاہور قلندرز کی طرف سے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور ڈیوڈ ویزے نے 2،2، حارث رؤف اور راشد خان نے 1،1 کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
    لاہور قلندرز سکواڈ

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں:

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: سرفراز احمد (کپتان)، احسن علی، جیسن روئے، جیمز وِنس، افتخار احمد، عمر اکمل، سہیل تنویر، حسان خان، نور احمد، نسیم شاہ، گلام مدثر۔

    لاہور قلندرز: شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروکس، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف، زمان خان

  • پی ایس ایل 7: بابراعظم کی قیادت میں‌ کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور55 رنز سے کامیاب

    پی ایس ایل 7: بابراعظم کی قیادت میں‌ کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور55 رنز سے کامیاب

    لاہور:پی ایس ایل 7: کراچی کی مسلسل چھٹی شکست، پشاور 55 رنز سے کامیاب ،اطلاعات ہیں کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں سیزن کے 19ویں میچ میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو 55 رنز سے شکست دیدی۔

    لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلےگئے میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی، پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنائے۔194 رنز کے ہدف کے جواب میں کراچی کنگز 6 وکٹوں کے نقصان پر 138رنز ہی بناسکی۔

    پشاور زلمی کی اننگز میں حضرت اللہ زازئی 52 رنزبناکر نمایاں رہے، ان کے علاوہ محمد حارث نے 49، شعیب ملک نے 31 اور بین کٹنگ نے26 رنزبنائے۔کراچی کنگز کی جانب سےکرس جارڈن نےتین وکٹیں حاصل کیں، محمد نبی،قاسم اکرم اور عمید آصف نےایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    کراچی کنگز کی جانب سےکپتان بابراعظم 59 رنز بناکر نمایاں رہے، جوکلارک 26، محمد نبی 15، شرجیل خان اور کک بین 14 ،14 رنز بناسکے، عامریامین 6 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔زلمی کی جانب سے وہاب ریاض اور سلمان ارشاد نے 2،2 جب کہ محمد عمر اور لیام لیونگسٹن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

    خیال رہےکہ کراچی کنگز کی رواں پی ایس ایل میں یہ مسلسل چھٹی شکست ہے،کراچی کی ٹیم 6 میچز کھیل چکی ہے جس میں سے ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی ہے جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    فوٹو:ناسا
    واضح رہے کہ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی، دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا اصل مشن ابھی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ آزمائشی مرحلے میں اس کے 18 آئینوں کی سیدھ انتہائی احتیاط سے درست کی جارہی۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    اس بارے میں ناسا نے تصویر کے ساتھ ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کھینچنے کا آغاز 2 فروری سے ہوا جبکہ اسے مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ گئے۔

    فوٹو بشکریہ: ناسا
    ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ نے دُبّ اکبر (Ursa Major) کے مطلوبہ علاقے میں 156 مقامات کا مشاہدہ کیا اور تصویریں کھینچیں۔ یہ علاقہ زمین سے دکھائی دینے والے پورے چاند جتنا ہے اس دوران خلائی دوربین کے دس نیئر انفراریڈ کیمروں کی مدد سے اس علاقے کی 1,560 تصویریں کھینچی گئیں جنہیں بعد ازاں آپس میں جوڑ کر 2 ارب پکسل والی ایک بڑی تصویر تیار کی گئی۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    فی الحال ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا ہر آئینہ جداگانہ طور پر کام کررہا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں یہ تمام آئینے ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے ترتیب میں لائے جائیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے آئینے کی طرح کام کرنے لگیں گے۔

    اس دوران ہر مرحلے میں جہاں آئینوں کی ’سیدھ‘ درست کی جائے گی، وہیں آزمائشی تصویریں زمینی مرکز تک نشر کرکے اس دوربین کے مواصلاتی نظام کو بھی جانچا جاتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا


    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…


    ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

    دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔


    خیال رہے کہ واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • اذداوجی تعلقات کے‌ مسائل جوایک ناکام رومانس(Romance) کی وجہ بنتے ہیں..

    اذداوجی تعلقات کے‌ مسائل جوایک ناکام رومانس(Romance) کی وجہ بنتے ہیں..

    تعلقات کے مسائل ایک خوفناک حد تک وسیع میدان ہیں۔ وہ گھر کے کاموں کی تقسیم پر اختلاف سے لے کر زندگی کو بدلنے والے مکمل فیصلوں تک ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تعلقات کے مسائل محبت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوسکتے ہیں، یہ کسی کو محبت سے دبانے اور ان کے لیے کوئی جگہ نہ چھوڑنے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
    تعلقات کے مسائل کی کوئی کمی نہیں ہے جو رومانس کو ختم کر سکتی ہے۔ اسی لیے، یہ سچ ہے کہ محبت دراصل آپ کے خیال سے کہیں زیادہ کام ہے۔ رشتے کو بچانے اور تعلقات کے مسائل کو ٹھیک کرنے میں وقت، عزم اور توانائی درکار ہوتی ہے۔
    اگر محبت کا کوئی خفیہ نسخہ ہوتا، تو اس کا ایک بڑا جزو محبوب کے بارے میں غیر فیصلہ کن ہونا، ان کو جیسے وہ ہیں قبول کرنا ہوتا۔ اگرچہ یہ سب سے زیادہ رومانٹک اور اوہ بہت مطلوبہ لگتا ہے، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ محبت میں رہنے کا ایک مشکل ترین حصہ دوسرے شخص کی خامیوں کو دیکھنا ہے۔
    تعلقات کے مسائل ہمیشہ سمجھ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اپنے الگ الگ الگ خیالات ہوتے ہیں، اور جو لوگ مختلف ہوتے ہیں وہ اکثر ہمارے لیے سب سے زیادہ دلچسپ لگتے ہیں، جیسا کہ پرانی کہاوت بھی ہے – مخالف اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    لیکن یہ پریشانی کی ایک بڑی وجہ ہے اگر آپ خود کو اپنی بنیادی شخصیت سے سمجھوتہ کرتے ہوئے یا محبوب کے ساتھ/اس کے لیے ہر وقت بے چینی محسوس کرتے ہیں۔
    تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر ناکام رشتوں میں ہمیشہ لطیف اشارے ہوتے ہیں جنہیں ابتدائی مراحل میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو یقینی طور پر عذاب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سرخ جھنڈے اکثر آسانی سے چھوٹ جاتے ہیں۔ اگر آپ اپنے تعلقات کے مسائل کو حل نہیں کرتے ہیں، تو وہ یقینی طور پر تعلقات کے دلائل کا باعث بنیں گے۔ اکثر یہ ڈھکے چھپے اشارے ہوتے ہیں کہ مستقبل میں پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔
    1. "دنیا کے ساتھ سب کچھ غلط ہے کیونکہ کوئی اور غلطی پر ہے”
    رشبھ اور سواتی کا دفتر میں زبردست رومانس تھا۔ وہ ان کی سینئر تھیں لیکن دفتر کی طرح اپنی ذاتی زندگی میں بھی ہمیشہ الزام تراشی کرتی رہیں۔
    رشبھ کا کہنا ہے، "چاہے یہ کسی تاریخ کے لیے دیر سے ہونے والی معمولی بات ہو یا کسی اور کے ساتھ تقریباً ون نائٹ اسٹینڈ جیسی اہم چیز، سواتی کو کسی بھی طرح سے ان کے اپنے خیال میں کبھی بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔”
    اگر آپ کی لڑکی کا دیر سے ہونا اس لیے نہیں ہے کہ وہ گھر سے بہت دیر سے نکلی ہے تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب دنیا کے ساتھ جو کچھ بھی غلط ہے وہ آپ کی غلطی ہو جائے گی۔ وہ فوری طور پر دفتری رومانس میں بدل گئے۔
    2. "کوئی گہری بامعنی بات چیت نہیں ہو رہی ہے، صرف بات چیت”
    سدیپ اور ہرلین پڑوسی تھے اور یہاں تک کہ ایک ہی اسکول جاتے تھے۔ جب انہوں نے کالج کے دوران ڈیٹنگ شروع کی تو اس نے محسوس کیا کہ اسے ان مسائل کے بارے میں بات کرنا مشکل ہے جو اہمیت رکھتے ہیں یا اس کا اظہار کرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں کہ وہ کیسا محسوس کرتی ہے۔
    سدیپ کہتے ہیں، ”وہ خاموش ہو جاتی۔ میں پوچھتا رہوں گا کہ کیا معاملہ ہے۔ کیا وہ بیمار ہے؟ کیا گھر یا کالج میں کچھ ہوا؟ لیکن ایسا لگا جیسے میں دیوار سے بات کر رہا ہوں۔
    کسی رشتے میں یہ یقینی طور پر کھلا اور ایماندار ہونا ضروری ہے۔ اگر نہیں، تو یہ تعلقات کے لیے ایک ہاٹ سپاٹ ہے۔ مسائل کچھ عورتیں جب دباؤ کا شکار ہوتی ہیں تو جذباتی طور پر خود سے دوری اختیار کر لیتی ہیں، اپنے ساتھی کو اپنے مزاج کی وجہ سے دھوکہ دہی کا احساس دلاتے ہوئے یا "بازو کی لمبائی میں رکھا ہوا”، اور کبھی کبھی محبت کی مساوات، "خاموش سلوک” کی وجہ سے۔
    3. "جو لوگ میرے لیے اہمیت رکھتے تھے وہ اسے بالکل پسند نہیں کرتے تھے”
    سمیر کیرتی سے ایک دوست کی شادی میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تقریباً فوری طور پر کلک کیا۔ جلد ہی ان کا دہلی-گڑگاؤں کا رومانس پروان چڑھا، لیکن اس سے متعارف ہونے کے فوراً بعد اس کے اکثر دوستوں اور خاندان والوں نے کہا کہ وہ اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔
    سمیر کہتے ہیں، "میں ابھی تک نہیں جانتا کہ اس کے بارے میں کیا مخصوص "آف” تھا جو مجھے اچھی طرح سے جاننے والوں کے لیے اتنا واضح لگتا تھا۔ میں نے نہیں سنا کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں اور قیمت دل کو توڑ رہی ہے۔
    چونکہ آپ بہت تیزی سے پیار کر رہے ہیں، اس لیے آپ عملی طور پر چیزوں پر غور نہیں کر سکتے۔ لیکن دوسرے لوگ جو آپ کی بنیادی اقدار اور شخصیت کو جانتے ہیں وہ چیزوں کو باہر کے نقطہ نظر سے زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اپنے دوستوں کی بات غور سے سنیں کیونکہ وہ سرخ جھنڈے لا سکتے ہیں جن سے آپ محروم ہو سکتے ہیں۔
    4. "وہ اب بھی جذباتی طور پر اپنے ماضی کے رشتوں میں پھنسی ہوئی تھی”
    دیویکا ایک زمانے میں یونیورسٹی کی سب سے مقبول لڑکی تھی، اس لیے ہاں اس کے اور ریحان کی ڈیٹنگ اور شادی سے پہلے اس کے تقریباً تین سنجیدہ تعلقات تھے۔
    ریحان کا کہنا ہے کہ "اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے پچھلے رشتوں میں سے کوئی بھی بہت اعتماد سے کیوں کام نہیں کرسکا تھا اور میں اس کے تمام سابق بوائے فرینڈز کے ساتھ اس کی دوستی کے ساتھ ٹھیک تھا۔ یہ اتنا ٹھنڈا اور تیار ہوا یہاں تک کہ اس نے ہماری شادی کے لیے تباہی کا ہجے کیا۔
    اگر کوئی عورت اس بات کا اندازہ کرنے سے قاصر ہے کہ اس کے ماضی کے کسی بھی یا تمام رشتے کیوں کامیاب نہیں ہوئے، یا وہ مسلسل اپنی زندگی کے پچھلے مردوں کو ان تمام مسائل کے لیے مورد الزام ٹھہراتی ہے، تو یہ اس بات کا ایک بڑا اشارہ ہو سکتا ہے کہ اسی عذاب کا انتظار ہو سکتا ہے۔ اپنا رومانس. یہ صرف ایک ایسی صورتحال ہے جو آپ کے لئے تعلقات کے بڑے مسائل پیدا کرنے کا انتظار کر رہی ہے۔
    5. "اس کے پاس ہمیشہ مشکل مالی معاملات تھے”
    الیکسا اور مارٹن دونوں بینکنگ پس منظر سے آئے تھے اس لیے ان کے لیے مالیات پر بات کرنا ایک اور مشترکہ بنیاد بھی تھی۔ پھر بھی وہ الگ ہوگئے کیونکہ الیکسا نے مالی بے وفائی کی۔ مارٹن ایک بڑی فرم میں مالیاتی مشیر تھی، وہ پراپرٹی کنسلٹنسی میں تھی۔
    مارٹن کہتی ہیں، "میرے علم کے بغیر اس نے ہمارے مشترکہ کھاتوں سے اپنے "دوست کے” منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی۔ اکثر رقم میں دھاندلی بھی ہو جاتی تھی یا وہ واپسی کے بارے میں صرف ہلچل مچا دیتی تھی۔
    دن کے اختتام پر، ہر رشتہ اعتماد اور ایمانداری سے متعلق ہے، اور اس میں مالی ایمانداری بھی شامل ہے۔ اگر کوئی پارٹنر بڑی مالیاتی چیزوں کو احاطہ میں رکھے ہوئے ہے، تو یہ وقت ہے کہ آپ اپنے مفاد کو محفوظ کریں۔
    دو لوگوں کے درمیان ہر رومانوی رشتہ منفرد ہوتا ہے اور اس لیے خطرے کی نشانیاں جو بالکل "نہ جاؤ” کی چیخیں بھی منفرد ہوں گی۔ لہٰذا جب آپ ایڑیوں کے بل گر رہے ہوں تو اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور دل کے وقفے سے دماغ کو بھی سنیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے!

  • ایک ناخوش شادی سے کیا یہ بہترہےکہ ہم ڈیٹنگ (Dating) ہی کریں؟؟

    ایک ناخوش شادی سے کیا یہ بہترہےکہ ہم ڈیٹنگ (Dating) ہی کریں؟؟

    ایک ناخوش شادی کوئی سننے والا تصور نہیں ہے۔ ہر شادی محبت سے بھری نہیں ہوتی اور آپ کو تتلیاں دیتی ہیں جب آپ ہر صبح باورچی خانے میں ایک ساتھ کھانا پکاتے ہیں یا ہر رات ایک دوسرے کے ساتھ سوتے وقت مسکراتے ہیں۔
    ایک محبت کے بغیر شادی بدقسمتی سے آج بہت سے رشتوں کے لیے ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ ان سے گزرنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ناخوش شادی آپ کی توقعات پر کبھی پورا نہیں اتر سکتی۔ تاہم، یہ ان چیزوں میں سے صرف ایک ہے جس سے آپ کو حقیقی زندگی میں نمٹنا پڑتا ہے۔
    شادی ایک فسانہ ہے۔ میری شادی ایک مذاق ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کو بتائے ہوئے بہت سے "Nos” کے درمیان کہیں، ہم ٹریک کھو بیٹھے۔ ہم نے محبت کھو دی۔ ہم نے دیکھ بھال کھو دی۔ میری ناخوش شادی اب میری زندگی کی حقیقت تھی اور میں ٹوٹی ہوئی شادی کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت تھک چکا تھا۔ شاید اسی لیے میں اب شادیوں میں جانے سے گریز کرتا ہوں۔ میں نے بہت زیادہ اعتماد کھو دیا ہے۔
    شادیاں ان دنوں ایک شو ہیں، ہم سب جانتے ہیں۔ کتنے لوگوں کو مدعو کیا گیا؟ یہ صرف آپ کے رابطوں کو ظاہر کرتا ہے اور آپ کتنے معزز لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ شادی میں کتنے لوگ آئے؟ یہ آپ کے آس پاس کے لوگوں پر آپ کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ کتنی رقم خرچ ہوئی؟ شادی اور پیسہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو آپ کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
    اگرچہ ہم ڈیٹ تھے میں نے ابھی تک شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ یہ ایک قدرتی ترقی ہو۔ دکھاوے کی کوشش میں میرے والد اور میشا کے والد نے اپنی قابلیت ظاہر کرنے کے لیے مجھ پر بہت دباؤ ڈالا یہاں تک کہ میں نے ہار مان لی اور میشا سے شادی کے لیے رضامندی ظاہر کی۔
    حقیقت یہ ہے کہ اس نے دباؤ پر احتجاج نہیں کیا تھا لیکن حقیقت میں اس کے لئے میری محبت پر سوال اٹھایا تھا، مجھے تھوڑا سا بے چین کر دیا۔ میں اس پر یہ بھی ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں نے اس سے محبت کی اور شادی کر لی۔ شادی محبت کا ثبوت نہیں ہے۔
    جب ہم ڈیٹنگ کر رہے تھے تو یہ مختلف تھا۔
    اس سے شادی کرنا درست فیصلہ نہیں تھا اور درحقیقت مجھ جیسے لڑکے کے لیے شادی خود درست فیصلہ نہیں تھا۔ اس وقت میں ایک ناخوش شادی میں ہوں اور جہاں بالکل محبت نہیں ہے۔ جب ہم ڈیٹنگ کرتے تھے تو میں اس کے گھر کے باہر کونے میں کھڑا رہتا تھا، سگریٹ کے بعد سگریٹ پیتا تھا، بس اس کی ایک جھلک دیکھنے کا انتظار کرتا تھا۔ یہ ایک دلچسپ وقت تھا۔’
    مجھے اس کے لیے اپنی محبت کا یقین تھا۔ پھر میں اسے اس کے پارلر، ٹیوشن اور یہاں تک کہ اس کے دوست کے گھر لے جاتا اور بے تابی سے اس کا انتظار کرتا۔ میں نے شکر گزار محسوس کیا کہ وہ مجھے اسے لے جانے کی اجازت دے رہی تھی۔
    اس کا ایک نظارہ، اس کی مسکراہٹ اور اس کا پیار سے مجھے ہیلو کہنا، مجھے پگھلا دے گا۔ میں نے اس کے لیے اپنے دوستوں کو چھوڑ دیا تھا، میری محبت۔ اب محبت کو چھوڑ دو، ہمارے درمیان کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔ ان ہاتھوں کا لمس جس نے مجھے جوش و خروش سے دوچار کیا، سردی محسوس ہوتی ہے۔ شادی کے بعد محبت محض موجود نہیں ہے، کم از کم میرے تجربے میں نہیں۔
    جس منہ کو میں چومنے کے لیے ترس رہا تھا وہی منہ بولا تھا اور میں نے اسے دوبارہ چومنا پسند نہیں کیا۔ نہیں، میں عمر میں اپنی بیوی کے ساتھ نہیں سوا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کسی دن بے جنسی شادی کروں گا۔
    شادی سے پہلے میں یہی کرنا چاہتا تھا اور ہم ہر موقع پر مباشرت کرتے تھے۔ لیکن اب، کسی نہ کسی طرح چیزیں غلط ہو گئی ہیں. مسٹر اینڈ مسز سنہا (ہم) کا خاندان ایک خاندان نہیں ہے۔ یہ دو لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں۔ اور میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس کی کیا قیمت ہے؟
    یہ ناخوشگوار شادی ہم دونوں کی غلطی ہوسکتی ہے۔
    آپ مجھے ٹھنڈا ہونے کا الزام لگا سکتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ میں رومانوی انسان نہیں ہوں۔ لیکن ایمانداری سے، مجھے رومانوی ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سب کچھ اب اس کے ساتھ مجبور لگتا ہے۔
    وہ مجھے شادی کے بعد اپنی چیزیں خریدنے پر مجبور کرتی تھی، باوجود اس کے کہ یہ جاننا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہے۔ وہ دنیا کو دکھانا چاہتی تھی کہ اس کا شوہر امیر ہے اور ہیرا یا ڈیزائنر بیگ اسے دکھائے گا۔ میں نے اسے جو وقت دیا وہ ان مادی چیزوں کے سامنے کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم واضح طور پر محبت کے بغیر شادی میں پھنس گئے تھے۔
    شادی انسان کو بدل دیتی ہے۔ یہ واقعی کرتا ہے۔ اس نے ایک بار تو یہاں تک کہا تھا کہ ایک مالک شوہر کی طرح اس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے میں اس وقت کو کچھ ایسا کرنے میں صرف کر سکتا ہوں جس سے اس کے لیے نقد رقم ہو۔ اس کی مادی چیزیں اس کے لیے میری محبت سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی تھیں۔
    جب میں اس کے گھر کے باہر کھڑا ہوتا تھا تو اسے محسوس نہیں ہوتا تھا۔ میں نے اس کے لیے بہت سی ٹیوشنز بنک کی تھیں۔ ہماری بچکانہ محبت اس سے کہیں زیادہ اور پاکیزہ تھی جو ہمارے پاس ہے۔ لیکن اب شادی اور پیسہ اس کے مترادف ہیں۔ میں خام نہیں بننا چاہتا اور اسے سونے کی کھودنے والا کہتا ہوں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں استعمال ہو رہا ہوں۔
    شاید محبت ایسی ہوتی ہے۔
    کچھ دن پہلے، میں ایک بیچلر دوست کے ساتھ شراب پینے گیا تھا۔ جیسے جیسے ہمارے سنگل پیگس ایک جوڑے بن گئے، اس نے مجھے اپنی تمام کارروائیوں کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ پہلے مجھے حسد کی تکلیف ہوئی۔ اس نے مجھے ان لڑکیوں کی تصویریں دکھانا شروع کیں جن کے ساتھ اس کے تعلقات اور تعلقات تھے۔
    میں اپنی مایوسی چھپانے کے لیے مسکرا رہا تھا، لیکن اس نے اسے غلط سمجھا۔ "دلیپ، تم مجھ پر مسکرا رہے ہو؟ ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہے کہ ایک عورت میں مکمل پن تلاش کریں۔ آپ میں مستقل مزاجی ہو سکتی ہے، لیکن میرے پاس تنوع ہے… تنوع زندگی کا مسالا ہے… فکر مت کرو، ایک دن میری بھی شادی ہو جائے گی…‘‘ اس نے کہا۔
    اس وقت میری حسد بدل گئی۔ میں ستم ظریفی پر ہنس پڑا۔ "کم از کم آپ کو امید ہے بھائی، میری زندگی ختم ہو گئی ہے!” "کیا ختم ہوا؟ اگر میری کوئی بیوی ہوتی تو میں اس کے لیے اپنے آپ کو ختم کر دیتا۔‘‘
    میں اس رات اپنی ناخوش شادی کے لیے گھر واپس نہیں جا سکا اور اس اداسی کو برقرار نہیں رکھ سکا جو میں نے محسوس کیا۔ میں اپنے دفتر واپس چلا گیا اور وہیں سو گیا۔ میں ایک شخص کے طور پر ختم ہو گیا ہوں کبھی کبھی میں محسوس کرتا ہوں. میں اس سے باہر کیوں نہ نکلوں؟ میں نہیں جانتا. یا بلکہ میں یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتا کہ میں جانتا ہوں۔
    کیا میں اس کے ساتھ دوبارہ پیار پا سکتا ہوں؟
    میرا ایک حصہ ہے جو میشا اور میرے درمیان چیزوں کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہمارے درمیان بہت غلط رابطہ ہے۔ صحت مند رشتے کے لیے بات چیت، افہام و تفہیم، سمجھوتہ، قربانی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سے ہمارے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔
    ہم اب ایک پیج پر نہیں ہیں۔ اگر میں اسے مادی چیزوں سے نوازتا ہوں تو وہ خوش ہوتی ہے لیکن اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں اب بھی اس سادہ سی لڑکی کو ترستا ہوں جو میں ٹیوشن کلاسز میں جاتا تھا، جسے برانڈز اور امیج کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
    مجھے لگتا ہے کہ وہ میری محبت سے زیادہ چیزوں اور ڈاک ٹکٹوں اور دنیا کے اعتراف کو اہمیت دیتی ہے۔ یا شاید محبت صرف اس کے لئے ہے۔ یہ میری تعریف نہیں ہے۔ میں اسے سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ اس قسم کی محبت نہیں ہے جس پر میں یقین رکھتا ہوں۔
    میرے خیال میں محبت وہ احساس ہے جو دو لوگوں کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور ایک دوسرے کو غیر معقول طور پر خوش کرتا ہے۔ اور چونکہ وہ وہاں نہیں ہے، اس لیے مجھے اس بے محبت شادی میں اسے چھونے کا دل نہیں کرتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اتنا زہریلا سلوک کیوں کرتی ہے۔
    میں اپنا سر نہیں سمیٹ سکتا کہ وہ مجھے کبھی کبھار کتنا چھوٹا محسوس کرتی ہے۔ شاید اس طرح تمام خواتین آخر کار ہوتی ہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو، میں میشا جیسے کسی کی طرف متوجہ کیسے ہو سکتا ہوں، چاہے وہ کتنی ہی سیکسی اور ہاٹ کیوں نہ ہو؟ محبت تلاش کرنے کے لیے جنسی اپیل کافی نہیں ہے۔

  • پی ایس ایل7:اسلام آباد یونائیٹڈ کو5 وکٹ سے شکست دیکرکوئٹہ گلیڈی ایٹرزجیت گئی

    پی ایس ایل7:اسلام آباد یونائیٹڈ کو5 وکٹ سے شکست دیکرکوئٹہ گلیڈی ایٹرزجیت گئی

    لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد جیسن روئے اور کپتان کی شاندار بیٹنگ کے باعث کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اسلام آباد یونائیٹڈ کیخلاف ’سرفراز‘ ہو گیا۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 7 کے 18 ویں میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ بیٹنگ:

    اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز رحمن اللہ گرباز اور الیکس ہیلز نے کیا جبکہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے پہلا اوور شاہد آفریدی نے کیا۔

    دونوں اوپنرز نے شروع سے ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی ، ایلکس ہیلز اور رحمن اللہ گرباز نے زبردست انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے سکور کو 48 تک پہنچایا تو فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے افغان بیٹر کو بولڈ کر دیا۔ جنہوں نے 13 گیندوں پر 19 رنز کی باری کھیلی۔

    100 کے مجموعی سکور پر کپتان شاداب خان 12 گیندوں پر 12 سکور بنا کر چلتے بنے، ایلکس ہیلز کی اننگز کا خاتمہ 102 کے مجموعی سکور پر ہوا، انگلش بیٹر 38 گیندوں پر 62 رنز کی جارحانہ باری کھیل کر رن آؤٹ ہو گئے۔

    اسی دوران اسلام آباد یونائیٹڈ کے بیٹسمین یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے رہے۔ اخلاق 0، اعظم خان صفر، آصف علی 6 رنز بنا کر ہمت ہار بیٹھے۔

    تاہم اس دوران فہیم اشرف نے جارحانہ انداز اپنایا اور 25 گیندوں پر برق رفتار ففٹی مکمل کی اور وکٹ کے چاروں اطراف زبردست شارٹس کھیلے، آل راؤنڈر 28 گیندوں پر 55 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ نے مقررہ اوورز میں 199 رنز بنائے۔ شاہد آفریدی، جیمز فالکنر نے دو شکار کیے۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بیٹنگ:

    ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے اوپنرز جیسن روئے اور احسان علی نے بیٹنگ کا آغاز کیا، دونوں نے ابتداء سے ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے سکور کو برق رفتاری سے آگے بڑھایا۔

    اپنے دوسرے میچ میں جیسن روئے نے ففٹی مکمل کی تاہم 88 رنز کے مجموعی سکور پر انگلش بیٹر 54 سکور بنا کر پویلین لوٹ گئے، شاداب خان نے قیمتی وکٹ حاصل کی، احسان علی 92 سکور پر پویلین لوٹے۔ دیگر بیٹسمینوں میں جیمز وینس 29، افتخار احمد 4 آؤٹ ہوئے۔

    آخری لمحات میں عمر اکمل اور سرفراز احمد کی شاندار بیٹنگ کی۔ سکینڈ لاسٹ اوور میں عمر اکمل 8 گیندوں پر 23 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

    کپتان نے 50 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ہدف آخری اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا، شاداب خان نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
     

     

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سکواڈ:

    جیسن روئے، احسان علی، جیمز وینس، سرفراز احمد (کپتان) ، افتخار احمد، عمر اکمل، شاہد آفریدی، نور احمد، جیمز فالکنر، نسیم شاہ، غلام مدثر

    اسلام آباد یونائیٹڈ سکواڈ:

    محمد اخلاق، الیکس ہیلز، رحمان اللہ گرباز، شاداب خان (کپتان) ، اعظم خان، آصف علی، لیام ڈاؤسن، فہیم اشرف، وسیم جونیئر، حسن علی، ذیشان ضمیر

  • شاہ رخ کے بیٹے آریان کے ساتھ یہ لڑکی کون ہے کہ دنیا بھرکے میڈیا کی نظریں‌ اس پرلگ گئیں:

    شاہ رخ کے بیٹے آریان کے ساتھ یہ لڑکی کون ہے کہ دنیا بھرکے میڈیا کی نظریں‌ اس پرلگ گئیں:

    نئی دہلی :شاہ رخ کے بیٹے آریان کے ساتھ یہ لڑکی کون ہے کہ دنیا بھرکے میڈیا کی نظریں‌ اس پرلگ گئیں: ،اطلاعات کے مطابق دنیا کے میڈیا پر اس وقت شاہ رخ کے بیٹے آریان خان کے ساتھ بیٹھی ہوئی خوبرو لڑکی پر لگ چکی ہیں‌، ہر طرف سے یہ پوچھا جارہا ہے کہ آئی پی ایل ڈرافٹنگ میں شاہ رخ کی جگہ آریان کی شرکت، ساتھ میں شریک لڑکی کون ہے؟

    انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے رواں سال کے سیزن کیلئے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کی تقریب میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالک و بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کی جگہ ان کے بیٹے آریان خان اور بیٹی سہانا خان نے شرکت کی۔

     

     

    رواں سال آئی پی ایل کیلئے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کی تقریب بینگلورو میں ہو رہی ہے جس میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالک شاہ رخ خان شریک نہیں ہیں تاہم ان کی جگہ بیٹے آریان خان اور بیٹی سہانا نے نیلامی میں شرکت کی۔آریان کے ساتھ ساتھ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی مشترکہ مالک جوہی چاؤلہ کی بیٹی جھانوی مہتا بھی شریک ہوئی۔

    منشیات کیس میں ضمانت کے بعد آریان کی یہ پہلی عوامی تقریب میں شرکت ہے اور اس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر ہو رہی ہیں۔وہیں شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان نے بھی کھلاڑیوں کی نیلامی کی تقریب میں شریک بیٹے اور بیٹی کی تصویر انسٹا گرام کی اسٹوری پر لگائی اور ساتھ ہی خوشی کا اظہار کیا۔

     

     

    صرف یہ ہی نہیں بلکہ جوہی چاؤلہ نے بھی تقریب میں شریک آریان، سہانا اور اپنی بیٹی کی کھلاڑیوں کے ساتھ تصویر لگا کر نیلامی پر شکریہ ادا کیا۔دوسری جانب ڈرافٹنگ کی تقریب میں آئی پی ایل کی فرنچائز دی پنجاب کنگز کی مالک اور بالی وڈ اداکارہ پریٹی زنٹا نے بھی آن لائن شرکت کی۔

  • قوم کو جوئے پرلگا دیا،سب کچھ بند کردیا،قذافی سٹیڈیم کے نواح میں رہنے والی خاتون برس پڑی

    قوم کو جوئے پرلگا دیا،سب کچھ بند کردیا،قذافی سٹیڈیم کے نواح میں رہنے والی خاتون برس پڑی

    لاہور:قوم کو جوئے پرلگا دیا،سب کچھ بند کردیا،قذافی سٹیڈیم کے نواح میں رہنے والی خاتون برس پڑی:اطلاعات کے مطابق ایک طرف لاہور میں پی ایس ایل کے میچز ہورہےہیں تو دوسری طرف عوام خوار ہورہےہیں‌ ، اس حوالے سے عوام الناس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ،

    سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جن میں اہل لاہور نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ہے ، ایک خاتون جو کہ اپنے گھر کو جانا چاہتی ہیں پولیس والوں انہیں اس لیے روک رکھا ہےکہ چونکہ پی ایس ایل کی وجہ سے ٹریفک پلان تبدیل ہے اس لیے آپ اس راستے سے اپنے گھر کو واپس نہیں جاسکتی ہیں

     

    یہ خاتون اپنی بے بسی پر آہ وکناں کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ عجیب معاملہ ہےکہ پی ایس ایل کے نام پر قوم کو بخار چڑھا دیا گیا ہے ، ہر طرف اس ٹورنامنٹ کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور اس حد تک پریشان ہیں کہ کسی کو کوئی سمجھ نہیں آرہی

    خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے بتائیں کہ جوئے کے سوا یہ کیا ہے، قوم کو باندھ کرجکڑ کردیا گیا ہے اور ہر کوئی کاروبار کرنے سے محروم ہے ، لوگوں کو ایمرجسنی کہیں جانا ہوتو وہ بھی نہیں جاسکتے ،

    خاتون کا کہنا تھا کہ یہ انداز درست نہیں کہ ایک کھیل کےنام پرقوم کےساتھ کھلواڑ کیا جائے ، لوگوں کو اپنے امورتو نمٹانے دیئے جائیں ناکہ عوام کو پابند دیوار کردیا جائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ہمیں‌ایسی حرکتوں سے باز آجانا چاہیے

     

     

     

  • پاکستانی انجینئر نے آٹزم کے شکار بچوں کیلئے روبوٹ تیار کرلیا

    پاکستانی انجینئر نے آٹزم کے شکار بچوں کیلئے روبوٹ تیار کرلیا

    کراچی کے نوجوان انجینئر نے آٹزم کا شکار بچوں کے لیے ایک روبوٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں روبوٹ کے تخلیق کار محمد علی عباس نے کہا کہ ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق پاکستان میں 10لاکھ بچے آٹزم کا شکار ہیں اور ایسے بچوں کے ذہنی اورجسمانی مسائل کے حل کے لیے تربیت یافتہ ماہرین اور عملے کی کمی ہے جس کی وجہ سے ان بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی مشکلات کا شکار ہیں اس روبوٹ کو PEEKOکا نام دیا گیا ہے جو اردو اورانگریزی زبانوں میں آٹزم کا شکار بچوں کی بات چیت کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے اور ان کے ساتھ ایک تعلق قائم کرلیتا ہے-

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    محمد علی عباس نے بتایا کہ روبوٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکھنے کی صلاحیت ہے جسے وہ آٹزم کے مریضوں کی بات چیت کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہےاس روبوٹ کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا ملے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ روبوٹ کو 2 لاکھ روپے میں مارکیٹ میں فروخت کیلیے پیش کیا جائے گا، روبوٹ کی خصوصیات کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ پاکستان میں آٹزم کے شکار بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی اسپیشل بچوں کے لیے فراہم کیا جاسکے۔

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    روبوٹ کو حال ہی میں قومی سطح پر ’’نیشنل آئیڈیاز بینک‘‘ کے تحت ہونے والے تخلیقی آئیڈیاز کے مقابلوں میں ہیلتھ کیئر سیکٹر کا بہترین تخلیقی آئیڈیا قرار دیا گیا اور صدر پاکستان عارف علوی نے تخلیقی آئیڈیا متعارف کرانے والے نوجوان انجینئر محمد علی عباس کوہیلتھ کٹیگری کے آئیڈیاز کے مقابلے میں اول پوزیشن کی سند کےساتھ 75ہزار روپے کے نقد انعام سےبھی نوازا محمد علی عباس عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سےفارغ التحصیل ہیں اور اب اپنی ٹیکنالوجی کمپنی انوینٹرز کے نام سے اسٹارٹ کمپنی قائم کی ہے۔

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

  • کپتان کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں، تحریر: نوید شیخ

    کپتان کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں، تحریر: نوید شیخ

    اس وقت خبریں اتنی ہیں اور اتنی تیزی سے سیاسی بھونچال جاری ہے کہ سمجھ نہیں آرہا کہ کون سی خبر دی جائے اور کون سی نہ دی جائے ۔ ۔ بکنے ، بولی لگوانے ، خریدنے اور جوڑ توڑ کا بازار گرم ہے ۔ عمران خان بھی میدان میں ہیں اور اپوزیشن بھی میدان عمل میں ہے ۔ ۔ اپوزیشن تو تحریک عدم اعتماد لا ہی رہی ہے ۔ اب حکومت نے بھی قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرار داد پی ٹی آئی رکن اسمبلی فرخ حبیب پیش کریں گے۔ ۔ پی ٹی آئی کا پلان یہ ہے کہ اس بل کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کے فیصلے تک شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی جائے۔۔ تو دوسری جانب اپوزیشن کے کمیپ سے اطلاعات ہیں کہ درعمل میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کرلیا ہے ۔

    ۔ اس صورتحال پر اسد قیصر کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق ہے لیکن ہم بھی پوری طرح تیار ہیں۔ کل بھی پرویز الٰہی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ 2023 تک ہمارے ساتھ ہیں۔ ۔ اسی لیے ق لیگ کو توڑنے کے لیے لگتا ہے کہ اب اپوزیشن نے جہانگیر ترین کو میدان میں اتار دیا ہے ۔ کیونکہ جہانگیر ترین گروپ کی باقاعدہ ایک میٹنگ ہوچکی ہے گزشتہ روز اس گروپ کے لوگ جہانگیر ترین کی قیادت میں پی ایس ایل کا میچ بھی دیکھنے گئے ۔ اور بتایا جا رہا ہے کہ اگلے ہفتے سے مولانا کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین نے بھی ایکٹو ہوجانا ہے ۔ اب پیپلزپارٹی کے بعد ترین گروپ کی چوہدری برادران سے ملاقات کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پھر امید کی جارہی ہے کہ جہانگیر ترین کی جلد شہباز شریف سے ملاقات ہوگی۔ ۔ جہانگیر ترین فیکٹر اس وقت بہت اہم ہوچکا ہے ۔ کل اس حوالے سے سلیم صافی نے ایک ٹویٹ بھی کی جو میں آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔۔ آج مولانا سے ملاقات میں عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش کی وہ تفصیل بتانے سے گریز کررہے تھے لیکن اتنا پتہ چلا کہ اصل منصوبے سے مولانا ، نواز ، شہباز، زرداری ، بلاول اور جہانگیر ترین آگاہ ہیں ۔

    ۔ یعنی جہانگیر ترین اس گیم پلان کا حصہ ہیں ۔ اور دیکھا جائے تو خالی جہانگیرترین اس قابل ہیں کہ وہ بغیر کسی اتحادی ہے کہ پوری کی پوری بساط کو الٹا سکتے ہیں ۔ ۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ اتوار کے روز ق لیگ اور شہباز شریف کی بھی ملاقات ہوجائے گی ۔ جبکہ مولانا اور شہباز شریف کی آج ماڈل ٹاون میں ملاقات ہونی ہے ۔ اسکے علاوہ مولانا نے ق لیگ کی قیادت سے بھی ملاقات کرنی ہے ۔ ۔ اسکے علاوہ ایاز صادق جو لندن گئے ہوئے تھے۔ ان کی اور نواز شریف کے ساتھ اندرونی ملاقات کی کہانی سامنے آگئی ہے کہ جن بائیس لوگوں کا ن لیگ کی جانب سے دعوی کیا جا رہا تھا کہ ٹوٹنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ ان میں سے اٹھارہ پر نواز شریف مان گئے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ان کو ٹکٹ دے دیا جائے یا پھر accomodate
    کردیا جائے گا ۔ باقی چار ایسے لوگ تھے جن کے بارے نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ تو ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں اور انھوں نے ان کے بارے لفظ استعمال کیا کہ یہ سدا بہار فصلی بیٹرے ہیں ۔ میں انکو اپنی پارٹی میں نہیں لوں گا ۔ ان اٹھارہ لوگوں میں چند وفاقی وزیر بھی شامل ہیں ۔ پر ان کی خواہشں ہے نواز شریف بذات خود ان سے ملاقات کریں اور ٹکٹ دیں ۔ ۔ اس حوالے سے رانا ثنااللہ نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کئی لوگ رابطے میں ہیں، تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سوچ رہے ہیں کسے رکھیں کسے نہ رکھیں۔ ۔ پھر ایک اور خبر جو عمران خان سمیت حکومت کے کڑاکے نکال دینے والی ہے کہ سینیٹ کا اجلاس سپیکر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی ۔۔۔ باپ ۔۔۔ نے کابینہ میں نمائندگی کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ اگر کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی تو ہم حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سینیٹر پرنس عمر احمد زئی نے اس مطالبے کے حق میں ایوان سے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔ان کے واک آؤٹ پر پیپلز پارٹی نے بلوچستان عوامی پارٹی کو اپوزیشن کی بنچوں پر آنے کی پیشکش کردی۔

    ۔ پھر ناراض سینیٹر احمد عمر زئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہمیں اشارے ملنا بند ہو گئے ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر بار بلوچستان سے کم سے کم پانچ وزیر ہوتے ہیں، تاہم اس وقت ہماری صرف ایک وزیر زبیدہ جلال ہیں جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔۔ پھر یاد رکھیں میں گزشتہ کئی دنوں سے اپنے وی لاگز میں بتا رہا ہوں کہ ابھی مولانا فضل الرحمان نے انٹری مارنی ہے ۔ جب وہ کھل کر سامنے آئیں گے تو کپتان ، حکومت اور وزیروں کی شکلیں بھی دیکھنے والی ہوں گی اور چینخ وپکار بھی ۔۔۔ ویسے آج سے یہ انٹری بھی ہوجائے گی ۔ ۔ اس سب سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ عدم اعتماد کی چنگاری شعلہ بنتی نظر آرہی ہے۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں ایسے بیک ڈور اشارے ضرور ہیں جس کے بعد اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف محاذ جنگ گرم کیا ہے۔ ۔ فی الحال دیکھنا یہ ہے کہ جب کھچڑی پکے گی تو کیا ہو گا آیا اپوزیشن حکومت کے خلاف اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکے یا پھر پہلے کی طرح شور ہی مچاتی رہے گی ۔۔ میرا اندازہ ہے کہ شو آف ہینڈز کے ذریعے عدم اعتماد کی تحریک لانا خاصا دشوار ہے جبکہ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ایسا نتیجہ آسکتا ہے۔ جس کا شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ سب کو معلوم ہے کلیدی کردار کن قوتوں کا ہوسکتا ہے۔ جب معاملات کنفیوژن کا شکار ہوں، مقابلہ برابر کا ہو۔ ہاں۔ ہاں اور ناں۔ناں کی گردان سنائی دے رہی ہو تو یقین سے شاید کوئی فریق بھی نہیں بتاسکتا کہ اس کی اگلی چال کیا ہوگی۔۔ پی ٹی آئی حکومت پانچ سال پورے کرتی ہے یا نہیں اس حوالے سے کوئی بھی حتمی بات نہیں کی جاسکتی مگر منظر و پس منظرکے پیش نظر عدم اعتماد کا کامیاب نہ ہونا ناممکن نہیں دکھائی دیتا۔ ۔ کیونکہ زرداری، نواز ، مولانا، بلاول، شہباز اور مریم کی آنکھوں کی تڑپ اور لہجے کا اعتماد بتارہا ہے کہ انہوں نے 172 کے ہندسے تک پہنچنے کیلئے کھیل مکمل کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔۔ پھر وزیروں اور مشیروں کی بے چینی سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ان میں ہیجان موجود ہے اور گھبراہٹ بھی۔ ۔ کہنے والے تو کہہ رہے ہیں کہ دن گنے جاچکے، نئے وزیر اعظم کے چناؤ تک پر اتفاق ہوگیا، بس اعلان ہی باقی ہے جو عنقریب متوقع ہے ۔ لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ ۔ یہ کام ہوگا کس طرح؟ ۔ کوئی ایمرجنسی؟
    ۔ مارشل لاء آخر ایسا کیا ہوگا کہ حکومت چلتی بنے گی؟ ۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ ہماری سیاسی تاریخ ایسی مثالوں سے بڑھی پڑی ہے۔ کہ افواہیں سچ ثابت ہوئیں ہیں ۔

    ۔ ان حالات میں بہت سے لوگ جو یوکرائن کے معاملے کو نظر انداز کررہے ہیں ان کو اندازہ نہیں کہ اگر یہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے سب سے زیادہ اثرات ہماری اندرونی سیاست پر پڑیں گے ۔۔ کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہہ دیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکیوں کو باہر نکالنے کے لیے ریسکیو دستے نہیں بھیجیں گے لہٰذا یوکرین میں موجود امریکی فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں امریکہ نے جب جب چاہا ہے ہمارے ملک میں تبدیلی مہینوں اور دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں رونما ہوئی ہے ۔ ۔ مگر سازشی تھیوریوں سے ہٹ کرسچ یہ ہے کہ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں تو آ گئے مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد نہ ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے۔ انھوں نے پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے نئے میک اپ کے ساتھ لانچ کیے جو دہائیوں سے ملک پر مسلط تھے ۔ پھر سب سے دیکھا کہ جلد ہی عمران خان نے پرانے پاکستان کی ہیت بدل کر اور بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمن پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اس لیے اب عوام اس دھوکہ دہی پر کپتان کا سبق سیکھنا لازمی سمجھتے ہیں ۔ اور ایسا پہلی بار دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ اتنا تنگ ہیں کہ وہ ان کو مسیحا ماننے پر تیار ہیں جو اس حکومت سے ان کی جان چھوڑوا دے ۔ ۔ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں، عمران خان کیلئے بھی یہی وہ موڑ ہے جہاں انہیں اپنی کمزور گورننس پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ایک طرف وہ پروپیگنڈہ مشینری کے ذریعے اپنی کارکردگی کے وہ پہلو اجاگر کررہے ہیں،جس سے ان کا دور حکومت چمکتا نظر آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے مارے لوگ ان کی کسی بات پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، افراتفری اور بد انتظامی کے عروج پر ہے پھر بھی نت نئے تجربات زیرِ غور ہیں۔ یوں ملک کے غریب ، مفلس ، بے بس عوام آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہاں سے کیا فیصلہ آتا ہے اور کب آتا ہے؟