Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    بھارتی عدالت نے 8 کشمیریوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے:ظلم کا سلسلہ جاری

    نئی دہلی:بھارت کی ایک عدالت نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں منی لانڈرنگ کے جھوٹے الزامات میں 8 کشمیریوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں
    ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی طرف سے پیش کردہ ایک درخواست پر غلام نبی خان، عمر فاروق شیرا، منظور احمد ڈار، ظفر حسین بٹ، نذیر احمد ڈار، عبدالمجید صوفی، مبارک شاہ اور محمد یوسف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے۔۔ عدالت اس معاملے کی مزید سماعت 30 مارچ کو کرے گی۔

    یاد رہے کہ صرف جنوری 2022 ء میں 22 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید اور 17 کو بدترین تشدد کے ذریعے زخمی کر دیا گیا اور اگر 5 اگست 2019 ء سے لے کر 31 دسمبر 2021 ء تک کی تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو اس عرصہ میں شہید کیے گئے کشمیریوں کی تعداد 681 بنتی ہے۔ ان میں 13 کشمیری خواتین بھی شامل ہیں جبکہ119 کشمیری نوجوان ناجائز قابض بھارتی فوج کے عقوبت خانوں میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ گھروں میںآئے روز کی جانے والی تلاشیوں کے دوران خواتین سے دست درازی سے مشتعل ہو کر بھارتی فوجیوں سے اُلجھنے والے 55 کشمیری موقع پر اپنے ہی گھر میں ماں باپ و بہن بھائیوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنائے گئے ۔

    اسی طرح کی تلاشیوں کے دوران 17 خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بھارتی فوج پر پتھر برسانے کے جرم میں کمسن بچوں کو گرفتار کیا گیا۔ لمینگی کی انتہا یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے بچوں کی رہائی کیلئے کشمیریوں سے بھاری رشوتیں وصول کرنے کے علاوہ بچوں سے قریبی رشتہ رکھنے والی خواتین کی آبرو ریزی تک کی گئی۔ ان واقعات کو منظر عام پر لانے کے جرم میں 2 کشمیری صحافی شہید کردیئے گئے۔

    ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ابھی بھی 8 ہزار کشمیری بغیر مقدمات کے جیلوں میں بند ہیں۔ بیشتر بڑے تعلیمی ادارے بھارتی فوج نے اپنے تصرف میں لے رکھے ہیں جس سے وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا مستقبل تاریک ہو چکاہے۔ کشمیریوں کو معاشی طور پر تباہ کرنے کیلئے ان کے کھیتوں و باغات میں فوج کے کیمپ لگا کر مالکان کا وہاں داخلہ ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔ سیبوں کے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے کشمیری خاندان ان کٹے ہوئے درختوں سے لپٹ کر کس طرح دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں

  • مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:ششی تھرور

    نئی دہلی:مودی سرکارمقبوضہ جموں وکشمیر اور اترپردیش میں گرفتار صحافیوں کی رہا کرے:اطلاعات کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری صحافیوں فہد شاہ، سجاد گل اور بھارتی مصنف صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے کردار ادا کریں جنہیں مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تھرور نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریںلوک سبھا میں زیرو آور کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ فہد شاہ اور سجاد گل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غداری کے الزام میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ صدیق کپن اتر پردیش میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت طویل عرصے سے حراست میں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر، اتر پردیش یا بھارت میں کہیں بھی صحافی محفوظ طریقے سے اور گرفتاری کے خوف کے بغیر اپنا کام کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ پر زور دیا کہ وہ بھارت میں آزادی صحافت کے تحفظ کے مفاد میں فہد شاہ، سجاد گل اور صدیق کپن کی فوری اور غیر مشروط رہائی میں سہولت فراہم کریں۔

    یاد رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارت میں مجرم آزادانہ گھوم رہے ہیں جب کہ سچائی کیلئے کھڑے ہونے والے جیلوں میں بند ہیں۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی کا یہ تبصرہ بھارت میں بی جے پی کے مرکزی وزیر کے بیٹے کو عدالت سے ضمانت ملنے کے پس منظر میں آیا ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کو ضمانت دے دی ہے جسے گزشتہ برس 3اکتوبر کو پیش آنے والے لکھیم پور کھیری واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

    محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھا” عمر خالد ، فہد شاہ ، وحید پرہ اور صدیق کپن الزامات کے تحت جیل میں بند ہیں لیکن ایک وزیر کا بیٹا فری ہو گیا، بھارت میں مجرم آزادنہ گھومتے ہیں اور سچ بولنے والوںکو چیل بھیج دیا جاتا ہے۔“

  • مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:عالمی ادارہ

    سری نگر:مودی سرکارکشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کےخطرناک منصوبے پرکام کررہی ہے:اطلاعات کے مطابق نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد اس قتل عام کے خدشات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرکو دنیا کے سب سے بڑے فوجی جماﺅ والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بھارتی فوجی انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی فوجی کالے قوانین کی آڑ میں روز بے گناہ کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی مسلمانوں کا قاتل ہے اور وہ بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کر چکا ہے۔بین الاقوامی ماہرین نے بھی مقبوضہ علاقے میں نسل کشی کے آنے والے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    امریکہ میں قائم Watch Genocideنے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیراور بھارتی ریاست آسام کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ جینوسائیڈ واچ کے بانی Gregory Stanton نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ان کے قتل عام کا پیش خیمہ ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کو کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل پر مجرمانہ خاموشی ترک کرنی چاہیے اور انہیں بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

  • پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا

    لاہور:پی ایس ایل7: لاہور قلندرز نے ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے میچ میں لاہور قلندرز نے ایونٹ میں اب تک ناقابل شکست ملتان سلطانز کو 52 رنز سے ہرادیا۔

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 17 ویں میچ کیلئے ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

     

    ملتان سلطانز اننگز

    لاہور قلندرز کی جانب سے 183 رنز کا ہدف ملتان سلطانز کی ٹیم حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 19 اعشاریہ 3 اوورز میں 130 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

    شان مسعود 8، کپتان محمد رضوان 20، صہیب مقصود 29، رائیلی روسو صفر، ٹم ڈیوڈ 24، خوشدل شاہ 22، انور علی 5، عباس آفریدی 1، بلیسنگ موزاربانی صفر پر اور عمران طاہر 3 رنز پر آؤٹ ہوئے جبکہ شاہنواز دھانی 6 سکور پر ناٹ آؤٹ رہے، لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور راشد خان نے 2،2 جبکہ زمان خان نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیجا۔

     

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے انور علی نے پہلا اوور کرایا۔

    فخر زمان 60، عبداللہ شفیق 4، کامران غلام 42 اور محمد حفیظ 43 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، ملتان سلطانز کی جانب سے انور علی، عباس آفریدی ،شاہنواز دھانی اور عمران طاہر نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

     

     

    لاہور قلندرز نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 182 رنز بنائے، فل سالٹ 26 اور راشدخان 1 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

    فخر زمان کو 2 چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے 37 گیندوں پر 60 رنز کی اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل تھے۔

  • پی ایس ایل:لاہور قلندرز کا ملتان سلطانز کو جیتنے کے لیے 183 رنزکا ہدف

    پی ایس ایل:لاہور قلندرز کا ملتان سلطانز کو جیتنے کے لیے 183 رنزکا ہدف

    لاہور:پی ایس ایل7: لاہور قلندرز کی ملتان سلطانز کیخلاف بیٹنگ جاری:جلد پتہ چل جائیگا کون ہے بھاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے دوسرے میچ میں ملتان سلطانز کے خلاف لاہور قلندرز نے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹ کے نقصان پر 182 رنز بنائے ہیں‌ اور 183 رنز کا ہدف دیا ہے

     

    لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ جاری ہے، ایونٹ کے 17 ویں میچ کیلئے ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کے قائد شاہین شاہ آفریدی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

     

     

    لاہور قلندرز اننگز

    قلندرز کی جانب سے فخر زمان اور عبداللہ شفیق نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ ملتان سلطانز کے انور علی نے پہلا اوور کرایا۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    لاہور قلندرز کے خلاف میچ کیلئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے لاہور قلندرز کے سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، کامران غلام، محمد حفیظ، فل سالٹ، ہیری بروک، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل ہیں۔

  • تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    تنخواہوں میں اضافہ 15 فیصد اور مہنگائی ہزار فیصد،یہ ہے کپتان کا پاکستان،تحریر: نوید شیخ

    سیاست صرف اتفاقات کا نہیں، حکمت کا بھی کھیل ہے۔ مگر اس وقت جو سیاسی صورتحال چل رہی ہے اس میں کپتان حکمت سے عاری دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے ہی کھلاڑیوں جانب بھی رخ کرلیا ہے ۔ اب اڑتی اڑتی خبریں آرہی ہیں کہ کپتان کے اپنے کھلاڑی کپتان سے ڈرے ہوئے ہیں ۔ یہ ڈرے ہوئے اس لیے ہیں کہ کپتان نے اپنے ماتحت ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے اور مقصد صرف ایک ہے کہ پی ٹی آئی کے کھلاڑی کس کس سے ملاقاتیں کررہے ہیں ۔ اب غلطی سے بھی کوئی کھلاڑی کسی پیپلزپارٹی یا ن لیگ والے سے رابطہ کیا ہو تو اس کی کمبختی لازمی ہے ۔ ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ جو کھلاڑی زرا زیادہ ۔۔۔ پر پرزے ۔۔۔ نکال رہے ہیں ان کو شاید کچھ دنوں کے لیے کہیں پھنسا بھی دیا جائے یا اندر کر دیا جائے ۔ جس سے ان کا حکومت کو چھوڑنا مشکل ہوجائے ۔ اور اس سے یہ تاثر بھی زائل ہوجائے گا کہ اس دور میں صرف اپوزیشن ہی نہیں اپنوں کے خلاف بھی کاروائی ہوتی ہے ۔

    ۔ خاص توجہ کپتان نے جہانگیر خان ترین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر رکھی ہوئی ہے ۔ مگر اپوزیشن سمیت ترین صاحب بھی منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہ اُس اُس زریعے سے آپس میں پیغام رسانی کر رہے ہیں جس کا علم کپتان کے فرشتوں کو بھی نہیں ہوسکتا ۔ ۔ اصل بات یہ ہے کہ آج سیاست میں جو بھی ہو رہا ہے، یہ نیا نہیں ہے ۔ یہاں لوگ ۔۔ پیٹریاٹ ۔۔ کے نام پر وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں اور آج اپوزیشن کی صفوں میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ سب کے مفاد ان کے چہروں پر لکھے ہوئے ہیں۔ ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتان جو کہا کرتے تھے کہ وہ کبھی ”بلیک میل“ نہیں ہوں گے ۔ اب ہوتے ہیں کہ نہیں ۔ کیونکہ اتحادیوں کی ڈیمانڈز تو سامنے آنا بھی شروع ہوگئی ہیں ۔ یاد رکھیں بھاؤ دیکھانا کچھ اور ہوتا ہے۔۔۔
    اور بھاؤ بتانا کچھ اور ہوتا ہے ۔ اتحادی اس وقت بھاؤ بتا رہے ہیں کہ ہم کو ساتھ رکھنا ہے تو اس کی قیمت یہ ہوگی ؟

    ۔ پھر یہ بھی طے ہے کہ اتحادی جماعتیں عمران خان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر کسی صورت انتخابی عمل میں نہیں جائیں گی ۔ وقتی طور پر تو حکومت اتحادیوں کی ہر خواہشوں کو پورا کرسکتی ہے ۔ پر پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور اسکے بعد جنرل الیکشن کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کے ساتھ نتھی رہنا گھاٹے کا سودا ہے ۔ دوسرا ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان کو کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے کہ کرنا کیا ہے ۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل دیکھائی دیتی ہے ۔ جس کی جو مرضی کر لے ۔ ۔ عمران خان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ان کا نیوٹرل ہونا عمران خان کی مخالفت ہی ہے۔ اس لیے اپوزیشن کو اندازہ ہے کہ انھیں کوئی خاص مدد نہیں بس ان کا نیوٹرل ہونا ہی چاہیے جو مل رہا ہے۔ اس لیے کھیل تیزی سے چل رہا ہے۔۔ ابھی تحریک انصاف کے حلیف کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ ہیں جس دن انہیں آزاد کر دیا گیا اور وہ اپنے فیصلے مرضی کرنے سے کرنے لگے سارا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ ۔ ویسے یہ منظر ماضی میں ہم نے دیکھ رکھے ہیں کہ راتوں رات کس طرح لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ الیکشن قریب ہے اس لیے اب نئی صف بندیاں اور نئے اتحاد بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ۔ پھر اس وقت جس تواتر سے ایک جانب زرداری اور شہباز تو دوسری جانب مریم اور بلاول تحریک عدم اعتماد کے حق میں باتیں کررہے ہیں اور پھر ان کے دیگر پارٹی لیڈران بتا رہے ہیں کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی یہ تحریک عدم اعتماد آئے گی ۔ اس سے تو لگنا شروع ہوگیا ہے ۔ کہ مارچ تو بہت دور کہیں کچھ نہ کچھ اس ہی ماہ اور آئندہ چند ہفتوں میں ہہ نہ ہوجائے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ لوگ آج بھی بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔۔ بے نظیر کے گن گانے والے بھی ملک میں بہت زیادہ ہیں ۔ ۔ پھر نواز شریف سمیت شریف خاندان کو جیسے عمران خان اور ان کی ٹیم نے قوم کا سب سے بڑا لٹیرا ثابت کرنے میں سارا وقت گذار دیا وہ اب بھی سیاست کے ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر موجود ہے۔۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ بچاؤ کے لیے کپتان زور نہیں لگا رہے ہیں ۔ زور وہ بھی پورا لگا رہے ہیں ۔ جو ان سے بن پا رہا ہے کر رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں اب انھوں نے ریاست مدینہ سے ہٹ کر امریکہ کو ٹارگٹ کرلیا ہے اور چین کی خوب تعریفیں کررہے ہیں ۔ وجہ ایک ہے جب ان کو نکالا جائے تو یہ کہہ سکیں کہ ہم کو امریکہ نے نکلوایا ہے ۔ ہم کو چین کو سپورٹ کرنے کی پاداش میں نکلوایا گیا ہے ۔ حالانکہ دنیا کیا پورا پاکستان جانتا ہے کہ چین کو پاکستان سے دور کرنے کے لیے اس حکومت نے باقاعدہ کوششیں کی ہیں ۔ باقاعدہ محنت کی ہے۔ وہ تو جوبائیڈن نے کپتان کو فون نہیں کیا ورنہ انھوں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ انکا جینا مرنا امریکہ کے ساتھ ہی ہوگا ۔ ۔ پھر عمران خان جہاں اپنے ٹاپ وزیروں کا اعلان کر رہے ہیں تو ساتھ ہی تنخواہوں میں اضافے کی نوید بھی سنا رہے ہیں ۔ آپ دیکھیں پندرہ فیصد تنخواہ بڑھائی ہے، جبکہ مہنگائی ہزار فیصد بڑھی ہے ۔صرف جب بجلی اور گیس کا بل لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنہوں نے کپتان کو ووٹ ڈالے تھے وہ بھی اپنے گناہوں کو کفارہ کرنے لگتے ہیں ۔ باقی تو دور کی بات ہے ۔۔۔

    ۔ اس وقت عمران خان کی بہت بری حکومتی کارکردگی اپنی جگہ ۔ مگر ان کی جماعت کی خستہ حالی میں سب سے بڑا حصہ پارٹی کو نظرانداز کرنا بنا ہے ۔ خان صاحب نے اقتدار میں اپنی پارٹی کی تنظیم نو اور نوجوان کارکنوں سے رابطہ کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ ۔ مگر فیصل واڈا جیسوں کی خاطر خان صاحب نے اپنی ساکھ دائو پر لگائی، نجانے اس کا جواب کون دے گا؟۔ اسی طرح زلفی بخاری جنہیں وزیراعظم عمران خان کا سب سے قریبی سمجھا جاتا تھا انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار صرف شہزاد اکبر نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کریں جو وزیراعظم کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے اور وزیراعظم کو یہ بتاتے رہے کہ شہزاد اکبر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔۔ مزے کی بات ہے کہ زلفی بخاری خود بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی تھے اور لوٹی گئی دولت کو واپس لانے کے یونٹ کے سربراہ تھے۔ ۔ سچ یہ ہے کہ ساڑھے تین برس میں شہزاد اکبر اور ان کے ساتھیوں نے ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کی ہیں اور چار چار گھنٹوں کی presentations
    دی ہیں اور اس کے نتیجہ میں برآمدگی صفر ہے۔ انہیں محض فارغ کرنا نہیں بنتا تھا بلکہ ان پر جو ملکی سرمایہ ضائع ہوا ہے اس کی برآمدگی کرنا چاہیے تھی تاکہ ان تمام افراد تک یہ پیغام جاتا کہ آپ کو بھاری تنخواہیں اور مراعات کام کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں نہ کہ عوام اور حکومت کو بے وقوف بنانے کے لیے نوازا جا رہا ہے۔۔ کیونکہ رزلٹ یہ ہے کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کو باہر کی عدالتوں سے کلین چیٹ مل رہی ہے ۔ ۔ بدقسمتی سے عمران خان کا مشاورتی نظام بہت کمزور ہے یا انہیں غلط اطلاعات دی جاتی ہیں۔ جو لیڈر درست اطلاعات حاصل نہ کر سکے ، اچھے اور مخلص مشیر اسے دستیاب نہ ہوں، اس کی سیاسی تباہی میں کیا کسر رہ جائے گی؟۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صفر کو جمع کریں ضرب دیں یا تقسیم کریں نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ معذرت کے ساتھ ٹاپ سے لے کر نیچے تک صفر یہ صفر ہیں ۔ ۔ عمران خان کی ٹیم ابھی تک اپوزیشن کو گالیاں نکالنے کی پالیسی پر ہی عمل کر رہی ہے۔ حا لانکہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچی جا رہی ہے۔ لیکن وہ مزے سے پرانی گالیوں والی فلمیں چلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ کہ اپوزیشن کو گالیاں نکالنے سے مزید کام نہیں چلنا۔

    ۔ کون ان کو سمجھائے کہ گالیاں تو آپ تین سال سے نکال رہے ہیں ۔اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس لیے آپ کو اپنی سیاسی حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ۔ اسی لیے اب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان کو یا تو سیاسی صورتحال کا ادراک نہیں ہے یا انھوں نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کہ جو ہونا ہے ہو جائے۔ میں اس کو روک نہیں سکتا۔ اس لیے کوئی بھی کوشش کرنا بیکار ہوگا۔ پھر یہ رائے کہ مولانا فضل الرحمٰن کھیل میں نہیں ہیں۔ درست نہیں ہے۔ وہ کھیل کا centre focus
    ہیں، لیکن کھیل کے باقی مہرے سیٹ کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا تو پہلے دن سے اس حکومت کو گھر بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر آج عمران خان کو گھر بھیجنے کا کوئی امکان پیدا ہو رہا ہے تو مولانا اس سے دور کیسے رہ سکتے ہیں۔۔ مولانا کی جب انٹری ہوگی تو وہ کھیل کو مزید تیز کر دیں گے۔ اس لیے وہ انتظار میں ہیں کہ سب مہرے نئی جگہ پر سیٹ ہو جائیں تو وہ اپنی انٹری ڈال دیں۔۔ آپ دیکھیں ایک ہفتہ قبل وہ عمران خان جو ملک کا ایک مضبوط حکمران تھا آج صرف تین ملاقاتوں کے نتیجے میں ہی ایک کمزور حکمران بن گیا ہے۔ اور اپوزیشن نے کل تک اگلی باری کی باتیں کرنے والوں کو دن گننے پر لگا دیا گیا ہے۔۔ اب تو ہر کوئی سوال ہی یہ کر رہا ہے کہ عمران خان کب جا رہے ہیں۔ ۔ کب عدم اعتماد آرہی ہے۔ ۔ کتنے دن باقی ہیں۔ ۔ لوگ تو اب شرطیں لگا رہے ہیں کہ مارچ کی پریڈ میں کون بطور وزیر اعظم سلامی لے گا۔
    ۔ یوں اس تیزی نے تبدیلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ۔ اس صورتحال میں عمران خان کی جماعت کے اندر بغاوت ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر گر وہ بندی پہلے ہی ہے۔ لیکن اگر یہ ماحول چند دن اور جاری رہتا ہے تو عمران خان کے لیے تحریک انصاف کو قابو رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ان کی اپنی جماعت میں ناراض لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس لیے عمران خان نے اگر بروقت اس صورتحال کو ٹھیک نہیں کیا تو تحریک انصا ف کے بھی ٹکڑے ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

    ۔ عمران خان کو ایک بات سمجھنا ہوگی کہ ان کے پاس وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ۔ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے، گیندیں کم اور اسکور زیادہ ہے۔ ایسے وقت میں ٹپ ٹپ کر کے گیندیں گذارنے سے میچ نہیں جیتا جاسکتا۔ کپتان کو چاہیے کہ کم ازکم تماشائیوں کو یہ کہنے کا موقع تو دیں کہ کیا خوب اننگز کھیلی ہے۔

  • رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، 8 طریقے

    رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، 8 طریقے

    یہ احساس کہ آپ کو چیزوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا ہے۔ آپ نے اس خواہش کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کی ہو گی، لیکن جب آپ لڑے بغیر ایک دن بھی نہیں گزر سکتے، تو آپ شاید اس عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگلی رکاوٹ آپ کو اسے زیادہ دیر کے لیے چھوڑ سکتی ہے: رشتے کو ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے۔
    چونکہ یہ ہائی اسکول کی اسائنمنٹ نہیں ہے، اس لیے اسے اس وقت تک موقوف رکھنا جب تک کہ یہ آپ کے چہرے پر نہ پھوٹ جائے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، اور یہ کہ اپنے "ساتھی” کو بھوت بنانا واقعی بہترین حربہ نہیں ہے۔
    چونکہ آپ دنیا کے بدترین شخص کا لیبل لگائے بغیر "آسان” راستہ اختیار نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے آپ کو کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننے کے لیے پڑھیں کہ آپ کیا کہہ سکتے ہیں، اور اس بینڈ ایڈ کو ختم کرتے وقت آپ کو کن چیزوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
    یہاں یہ ہے کہ کیا کہنا نہیں ہے: "ہمیں بات کرنے کی ضرورت ہے” یا "یہ آپ نہیں، یہ میں ہوں”۔ چونکہ ہم اب 1980 میں نہیں رہتے، اس لیے آپ کو کلچوں سے بچنا اچھا ہوگا۔ رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے بڑی حد تک آپ کی صورتحال پر منحصر ہے اور ہر ایک کے لیے مختلف نظر آ سکتا ہے۔
    دوسروں کی نسبت کچھ منظرناموں میں چیزوں کو ختم کرنا آسان ہے۔ اگر آپ کو دھوکہ دیا گیا ہے یا آپ کو کسی تکلیف دہ چیز سے گزرنا پڑا ہے، تو آپ شاید "ہم نے کام کر دیا” کہنے اور وہاں سے چلے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسری صورتوں میں، تاہم، کسی کے ساتھ ٹوٹنے کے لیے کیا کہنا ہے اس کے جواب میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
    جب آپ کسی رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو کیا کہنا ہے اس کے بارے میں سوچتے وقت یاد رکھنے کی سب سے اہم چیز ایماندار، مہربان اور صاف ہے۔ بے عزتی کیے بغیر اپنے جذبات کے بارے میں سچ بولیں۔ مبہم ہونے کے بغیر، جو آپ چاہتے ہیں اور جو حدود قائم کرنا چاہتے ہیں اسے پیش کریں۔
    جیسا کہ ہم نے کہا، اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے اس پر منحصر ہے کہ آپ کیسا لگتا ہے۔ آئیے چند مثالوں کی فہرست بنائیں جو آپ ہمیشہ استعمال کر سکتے ہیں:
    "مجھے نہیں لگتا کہ یہ رشتہ اب ہم دونوں کے لیے صحت مند ہے۔ میں ایک ساتھ اپنے مستقبل پر یقین نہیں رکھتا”
    "ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ مذاق نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا رشتہ بہت تناؤ میں بدل گیا ہے۔ ہم بہت بحث کرتے ہیں، اور میں اس سے نمٹ نہیں سکتا”
    "میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا کہ آپ نے مجھے کتنی بار تکلیف دی ہے۔ مجھے تم پر اب اعتبار نہیں ہے”
    "ہم دو بہت مختلف لوگ ہیں، اور میں اپنے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر کے تھک گیا ہوں کہ ہم زبردستی اسے کام کر سکتے ہیں۔”
    "ہم کبھی بھی چیزوں کو آنکھ سے دیکھنے یا اپنے جذبات کو خوش اسلوبی سے بات کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔ میں اتنی دشمنی کے ساتھ تعلقات میں نہیں رہنا چاہتا”
    "میں اب خوشی محسوس نہیں کرتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے کے قابل ہونے کے لیے مجھے اس رشتے سے باہر نکلنا پڑے گا”
    "مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے موزوں ہیں۔ میرے خیال میں یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے الگ الگ راستے چلیں”
    "ہمارے مختلف اہداف اور خواہشات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس رشتے کی ایک وقت کی حد ہے۔”
    "مجھے اب تم سے پیار نہیں لگتا”
    یقیناً، رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا واقعی اتنا آسان نہیں جتنا کہ ان میں سے کوئی ایک جملہ کہنا اور اس کے ساتھ کیا جانا۔ ایک بار جب آپ اوپر دی گئی خطوط کے ساتھ کسی وجہ کا ذکر کرتے ہیں تو، سب سے اہم جملہ مندرجہ ذیل ہے:

    "لہذا، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں الگ ہو جانا چاہئے اور اپنے الگ الگ راستے جانا چاہئے. میں جانتا ہوں کہ ہم اب بھی ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔ یہ مشکل ہو گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لیے یہی بہتر ہے۔ میں اب اس رشتے میں نہیں رہنا چاہتا۔”

  • کسی سے محبت کرنا، جو آپ سےمحبت نہیں کرتا

    کسی سے محبت کرنا، جو آپ سےمحبت نہیں کرتا

    محبت میں سب سے بڑا المیہ تب آتا ہے جب آپ کسی ایسے شخص سے پیار کرتے ہیں جو آپ سے پیار نہیں کرتا۔ آپ کی تمام کوششیں، احساسات، جذبات اور خیالات بے سود ہیں کیونکہ اگرچہ آپ اپنا دن کھڑکی پر گزار سکتے ہیں، باہر دیکھتے ہوئے اور ان کی مسکراہٹ کی تصویر کشی کرتے ہیں – وہ شاید آپ کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔
    اس خوفناک حقیقت کو جاننا اور بے بس محسوس کرنا زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میں مسلسل سوچتا تھا، ‘میں مختلف طریقے سے کیا کر سکتا ہوں؟’ یہ سمجھنے کے لیے کہ کیا چیز اسے مجھ سے پیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کا کوئی حقیقی حل نہیں تھا اور یہ کہ یہ یک طرفہ محبت تھی جہاں سے ہماری کہانی شروع اور ختم ہونے والی تھی۔
    میں اب بھی سوچتا ہوں کہ مجھے اس سے پیار کیوں ہوا؟ شاید اس لیے کہ اس نے خواتین کی اکثریت کی پسندیدہ ہونے کے باوجود مجھ پر نظریں جمائے رکھی۔ نہیں، میں ان کے مداحوں میں سے نہیں تھا۔ میں اسے اس وقت تک نہیں جانتا تھا جب تک کہ ایک دن اس نے مجھے ڈبل ٹیکسٹ کرنا شروع کر دیا اور نیلے رنگ کے پیغامات کے ساتھ مجھ پر بمباری شروع کر دی۔ پھر ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ ہماری غیر متوقع، ابھی تک نہ ختم ہونے والی گفتگو۔ لیکن جب ہم ملے تو ایک ہیلو بھی نہیں، بس اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور وہ مسکراہٹ ہزار الفاظ سے زیادہ خوبصورت تھی۔
    مہینوں کی ان نہ ختم ہونے والی گفتگو کے بعد بالآخر وہ دن آ ہی گیا جب اس نے ملنے کو کہا۔ وہ سرخ ٹی شرٹ میں کافی نمایاں تھا، اور میں اس سے نظریں نہیں ہٹا سکتا تھا۔ وہ بہت دلکش تھا۔ گرم اور ناگوار موسم کے باوجود ہر چیز خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ لمبی سیر، چھپی ہوئی نظریں، بے لفظ لمحات، پھر بھی بہت سی باتیں۔ یہ ایک بہترین پہلی ملاقات تھی۔
    وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا رشتہ مضبوط ہوا۔ ہم نے گھومنا شروع کر دیا اور زیادہ کثرت سے۔ ایک اچھا دن، ہم صرف ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ اچانک، ایک لفظ کے بغیر اس نے مجھے اندر کھینچ لیا اور جوش سے چوما۔ ان چند لمحوں کے لیے ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ رک گیا ہے۔ اس احساس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خاص تھا کیونکہ ہم نے تکنیکی طور پر جوڑے کی تشکیل نہیں کی تھی، اور پھر بھی یہ خوبصورت تھا۔ اس کے بعد بھی گھنٹوں، ہم خاموشی سے بیٹھے اور ایک دوسرے کی موجودگی سے لطف اندوز ہوئے۔ نہ الفاظ، نہ اظہار۔

    ہم نے کبھی ایک دوسرے سے ‘میں تم سے پیار کرتا ہوں’ نہیں کہا۔ ہم بہترین ریستوراں یا بہترین کیفے میں پسند کی تاریخوں پر نہیں جا رہے تھے۔ ہم نے خود کو ‘اہداف دلانے والے’ نہیں سمجھا جیسا کہ ان دنوں زیادہ تر لوگ انسٹاگرام پر خوشامد کرتے ہیں۔ ہم صرف خود ہی تھے اور میں نے سوچا کہ یہ کافی ہے۔ لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ایک دن میری ایسی صورتحال میں بدل جائے گا کہ میں کسی ایسے شخص سے پیار کروں جو آپ سے پیار نہیں کرتا، لیکن ایسا ہوا اور اوہ، یہ آسان نہیں تھا۔
    وہ میرا سب کچھ تھا۔
    کسی بھی شخص کا مجھ پر اتنا بڑا اثر نہیں ہوا۔ وہ ہر درد کا علاج کرنے والا، ہر نقصان کو ٹھیک کرنے والا تھا۔ اس کا لمس بہترین لمس تھا۔ میں محبت میں تھا. میں نے کبھی محبت پر یقین نہیں کیا تھا۔ ملواکی میں اس کا آخری دن تھا اور ہم آخری بار مل رہے تھے۔ وہ کولوراڈو جا رہا تھا۔
    یہ پہلا موقع تھا جب میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ بچپن سے محروم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی کی موجودگی میں رویا تھا۔ میں ایک سٹوک تھا. لیکن وہ ایک استثناء تھا، شاید. اس دن مجھے اس سے اپنی محبت کا احساس ہوا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ اور مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ جب وہ آپ سے پیار نہیں کرتا تو اسے کیسا محسوس ہوتا ہے۔
    میں کبھی بھی پیار نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن جو شخص مجھے بھی پیار کر سکتا ہے وہ خاص ہونا ضروری ہے. میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ چلا جائے۔ لیکن میں اسے نہ روک سکا۔ آپ واقعی کیا کر سکتے ہیں جب کوئی آپ سے اس طرح پیار نہیں کرتا جس طرح آپ نے امید کی تھی کہ وہ کریں گے؟ اگر وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتا تو وہ ٹھہر جاتا۔ لیکن یہ واضح تھا۔ میں کسی ایسے شخص سے پیار کرنے کے معاملے میں تھا جو آپ سے پیار نہیں کرتا اور مجھے یہ بہت دیر سے احساس ہوا – کہ میں شاید ایک اسٹینڈ بائی پریمی تھا۔
    وہ بالکل برا محسوس کیے بغیر چلا گیا۔ ہم اتنی جلدی میلوں کے فاصلے پر تھے۔ یہاں تک کہ آکسفورڈ ڈکشنری بھی ان کی عدم موجودگی کے درد کو الفاظ میں بیان کرنے میں ناکام رہے گی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس نے اسے بالکل محسوس کیا ہو۔ اس نے مجھے اپنے الحاد سے محروم کر دیا۔ ہر بار جب میں گرجہ گھر گیا، خواہش ایک ہی تھی – اسے۔ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ میں الحاد کو کھو کر کسی سے اس حد تک محبت کر سکتا ہوں۔
    لیکن یہ جاننا زیادہ تکلیف دہ تھا کہ وہ مجھ سے اس طرح پیار نہیں کرتا تھا جس طرح میں کرتا تھا، اس کے پاس اب ایک نیا چاہنے والا ہے، کم از کم اس کے فیس بک اپ ڈیٹس سے ایسا لگتا ہے۔ کاش میں بھی اس کی طرح چست ہوتا۔ نہیں، ہم نے کبھی بھی ڈیٹ نہیں کیا۔ میں اسے اپنا نہیں کہہ سکتا۔ وہ کبھی میرا بوائے فرینڈ نہیں تھا۔’
    کسی سے پیار کرنا ٹھیک ہے جو آپ سے پیار نہیں کرتا ہے۔
    لوگوں نے اسے صرف اس لیے غلطی قرار دیا کہ اس کے ساتھ کام نہیں ہوا۔ میرے تمام دوست مجھے کہتے ہیں کہ مجھے پہلے کبھی اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ مجھ سے کہتے تھے، ‘کوئی تم سے محبت کیسے کر سکتا ہے لیکن تمہیں چھوڑ دیتا ہے؟’ اور میں جانتا ہوں کہ اس دلیل میں خوبی تھی۔
    لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے لیے گرنا کوئی غلطی تھی۔ اس نے سب کچھ بہت جلد جانے دیا اور میں نے ہر چیز کو بہت زیادہ دیر تک تھام لیا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کام نہیں ہوا؛ یہ یکطرفہ محبت ہے، اور آپ کے ‘ورک آؤٹ ریلیشن شپ’ کی تعریف کبھی بھی میری طرح نہیں ہوگی۔
    اس کے جانے کے بعد کچھ مہینوں تک، مجھے یقین تھا کہ میں اس سے آگے بڑھ گیا ہوں۔ جب وہ آپ سے پیار نہیں کرتا ہے، تو یہ آپ کو ٹرک کی طرح مار سکتا ہے لیکن آخر کار، آپ اپنے ٹکڑے خود اٹھا لیتے ہیں۔
    لیکن میں اُس سے کیسے آگے بڑھ سکتا تھا جب کہ اُس میں میرے حصے باقی تھے۔ اگر آپ نے کبھی کسی سے سچی محبت کی ہے تو آپ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر آپ آگے بڑھے ہیں، تو یہ پہلی جگہ محبت نہیں تھی۔ محبت اور سحر میں فرق معلوم ہونا چاہیے اور میں عشق میں دیوانہ تھا۔
    اس دن سے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ کبھی میرا بوائے فرینڈ نہیں تھا، اس لیے میں اسے اپنا سابق نہیں کہہ سکتا۔ کچھ رشتوں کا کوئی نام نہیں ہوتا ہے اور وہ کسی بھی لیبل پر قائم نہیں رہتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے جو انہیں سب سے بہتر بناتی ہے۔ جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اس سے پیار نہ کرنا تکلیف نہیں دیتا۔ جب اسے چوٹ لگتی ہے تو اسے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔
    میں فخر سے کہہ سکتا ہوں، میں کسی ایسے شخص سے محبت کرتا ہوں جو مجھ سے محبت نہیں کرتا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ یہی سچی محبت ہے۔ کسی سے پیار کرنا، لیکن اس شخص سے پیار نہیں کرنا۔ یہ گٹ رنچنگ ہے لیکن یہ زندگی ہے۔

  • پی ایس ایل7: پشاور زلمی کو 42 رنز سے شکست، ملتان سلطانز کی مسلسل چھٹی جیت

    پی ایس ایل7: پشاور زلمی کو 42 رنز سے شکست، ملتان سلطانز کی مسلسل چھٹی جیت

    https://twitter.com/thePSLt20/status/1491811050194309125?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491811050194309125%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FCricket%2F640696لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے دوسرے مرحلے کے پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو42 رنز سے شکست دیکر ایونٹ میں مسلسل چھٹی فتح اپنے نام کرلی ہے۔

    پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کے قائد محمد رضوان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    پشاور زلمی اننگز

    183 رنز ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل اور حیدر علی نے اننگز کا آغاز کیا مگر دونوں بیٹر ہی جلد پویلین لوٹ گئے۔

    کامران اکمل 4، حیدر علی1، لیام لیونگسٹون24، شعیب ملک 44، حسین طلعت 4، ردرفورڈ 21، وہاب ریاض 1، محمد عمر صفر اور بین کٹنگ 23 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    فاتح ٹیم ملتان سلطانز کی جانب سے بلیسنگ موزاربانی اور خوشدل شاہ نے3،3 ، شاہنواز دھانی نے 2، عباس آفریدی اور عمران طاہر نے 1،1 وکٹ اپنے نام کی۔
    ملتان سلطانز اننگز

    پشاور زلمی کے خلاف ملتان سلطانز کی جانب سے کپتان محمد رضوان اور شان مسعود نے اننگز کا آغاز کیا۔

     

    ملتان سلطانز کے اوپنرز نے شروع ہی سے ذمہ دارانہ باری کھیلی اور وکٹ کے چاروں طرف حریف باؤلرز کی خوب درگت بنائی۔ تاہم محمد رضوان کی اننگزکا خاتمہ 13 اوورز میں ہوا جب کپتان 34 گیندوں پر 34 سکور بنا کر وہاب ریاض کا شکار ہو گئے۔

    شان مسعود کی اننگز 68 سکور پر ختم ہوئی، انہوں نے اپنی باری میں 8 چوکے اور ایک چھکا لگایا اور سلمان ارشاد کی گیند پر وہاب ریاض کو کیچ دے بیٹھے۔ ریلی روسو 15 سکور پر پویلین لوٹ گئے۔ ٹم ڈیوڈ نے 18 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ باری کھیلی۔ وہ بھی کپتان وہاب ریاض کا شکار بن گئے۔

    خوشدل شاہ 11 اور انور علی 1 سکور بنا کر آؤٹ ہوئے، ملتان سلطانز نے مقررہ اوور میں 182 رنز بنائے۔ وہاب ریاض ، ثاقب محمود اور سلمان ارشاد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

    پشاور زلمی سکواڈ

    ملتان سلطانز کے خلاف میچ کیلئے پشاور زلمی کے سکواڈ میں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل، حیدر علی، شعیب ملک، لیام لیونگسٹون، شیرفین ردرفورڈ، حسین طلعت، بین کٹنگ، محمد عمر، ثاقب محمود اور سلمان ارشاد شامل تھے۔

    ملتان سلطانز سکواڈ

    پشاور زلمی کے خلاف میچ کے لئے ملتان سلطانز کے سکواڈ میں کپتان محمد رضوان، شان مسعود، صہیب مقصود، رائیلی روسو، ٹم ڈیوڈ، خوشدل شاہ، انور علی، عباس آفریدی، عمران طاہر، بلیسنگ موزاربانی اور شاہنواز دھانی شامل تھے۔

  • کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ

    کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ

    لاہور :کورونا کے بعد پی ایس ایل میچزکے بخار نے تعلیمی نظام تہس نہس کردیا:کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچز کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی میں دوپہر ایک بجے کے بعد کلاسز آن لائن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میچز کے دوران ایوننگ کلاسز آن لائن ہوں گی، ایک بجے سے پہلے کلاسز کیمپس میں ہوں گی، طلبہ کو آمد و رفت میں مشکل کے پیش نظر کلاسز آن لائن لی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ پی ایس ایل 7 کا دوسرا مرحلہ آج سے لاہور میں شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے اہم شاہراؤں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

    ادھر پی ایس ایل 7 کا 27 جنوری سے شروع ہونیوالا پہلا مرحلہ 7 فروری تک نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں مکمل ہوا،اس دوران مجموعی طور پر کھیلے گئے 15 سنسنی خیز میچز میں دفاعی چیمپئن ملتان سلطانز کی بالادستی قائم رہی، محمد رضوان کی قیادت میں ٹیم نے اپنے تمام پانچوں میچز میں کامیابی حاصل کی۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ 6پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے، لاہور قلندرز کے پوائنٹس بھی 6ہیں مگر رن ریٹ کی بنیاد پر تیسرے نمبر پر موجود ہے،اب تک2،2 میچز جیتنے والی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کا پوائنٹس ٹیبل پر بالترتیب چوتھا اور پانچواں نمبر ہے۔

    تمام پانچوں میچز میں شکست کے باعث بابراعظم کی زیرقیادت کراچی کنگز کیلیے ٹورنامنٹ کے باقی ماندہ میچز جیتنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ لاہور میں میچز کا چند لمحوں بعد آغاز ہوگا۔

    قذافی اسٹیڈیم میں ملتان سلطانز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں مقابل ہوں گی،محمد رضوان الیون ناقابل شکست ٹیم کا اعزاز برقرار رکھنے کا عزم لیے میدان میں اترے گی،وہاب ریاض الیون کی نگاہیں پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن بہتر بنانے پر مرکوز ہوں گی۔