Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    جیسے گزشتہ سات سالوں سے پی ٹی آئی کے پاس فارن فنڈنگ کیس میں جواب نہیں تھا آج بھی نہیں تھا ۔ جیسے یہ پہلے اسٹے آڈر کے پیچھے چھپا کرتےتھے آج بھی یہ ہی موقف تھا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ۔ کہ کہیں ہمارے کرتوت عوام کو نہ پتہ لگ جائیں ۔ مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس استدعا کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں ہے۔ یاد ہو تو یہ وہی عمران خان ہیں جو کہتا کرتے تھے کہ میں کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔ اس کیس میں اب فروری تک کی تاریخ پڑ گئی ہے ۔

    ۔ پھر عثمان بزدار کی image building کے حوالے سے بہت خبریں گردش ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بہترین وزیراعلی ہیں ۔ پتہ نہیں یہ سروے مریخ پر ہوا تھا یا چاند پر ۔ کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی ہر ضمنی انتخاب سے لے کر کینٹ بورڈ کے الیکشن تک ہر چیز ہاری ہے ۔ مگر ایسی سروے رپورٹس تو آنی تھیں جب آپ فنڈنگ کے منہ کھول دیں ۔ ورنہ ان کی کارکردگی کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت حالیہ سانحہ مری ہے ۔ پھر ڈینگی ہو یا بارشوں کے موسم میں گوڈے گوڈے پانی ۔۔۔ سب کو سب کچھ یاد ہے ۔ بھولے نہیں ۔۔ پھر آج مریم اور بلاول کے بیانات بھی بہت اہم ہیں آپ ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ مگر آپ اس چیز کو رد نہیں کرسکتے کہ جو کچھ پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں ان میں چاہے وزراء ہوں ، ایم این ایز ہوں ، ایم پی ایز ہوں یا پھر عام کارکن ۔۔۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہےکہ تحریک انصاف کا انجام قریب ہے۔

    ۔ اسی لیے شاید آج مریم نے کہہ دیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی جلد سامنے آجائےگا ۔ پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آیا کہ وفاقی وزیرداخلہ کو ہاتھ سرپرہونے کی بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر ن لیگ میں بغاوت کے دعوؤں کو حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے مریم نےکہاکہ ن لیگ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے، ڈرانے، دھمکانے، لالچ اور بدترین انتقام کے باوجود ن لیگ کا ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے چٹان کی طرح کھڑا رہا۔

    ۔ اس چیز کو ویسے ماننا چاہیے کہ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں ۔ مگر سب کچھ ہونے اور لیڈر شپ کے ملک سے باہر جانے اور جیلوں میں جانے کے باوجود بھی ن لیگ کو توڑا نہیں جا سکا ۔۔ پھر بلاول کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کردکھائیں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ آئین اورقانون میں ایمرجنسی کی کوئی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کا شوشہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے شریفوں اور زرداریوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کسی صورت نہیں ہونا ہے ۔ ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تحریک انصاف مخالفوں کی مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں اور دیگر کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں اور زرداریوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔

    ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا دور ہے کہ جس میں عوام کے لئے سوچنا ایک شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ پھر یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ہی راگ کب تک الاپا جا سکتا ہے کہ ملک میں مہنگائی نہیں بلکہ اب بھی بہت سستا ملک ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ماضی میں ہم 22 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے تو کیا اس طرح اس کے سامنے چاروں شانے چت ہوئے تھے، جس طرح اس بار ہوئے ہیں کیا ماضی میں آئی ایم ایف نے کسی حکومت سے اپنی شرائط پر منی بجٹ منظور کروایا، کیا اسٹیٹ بنک کے حوالے سے قانون سازی کروائی؟ یہ سب کچھ تو اس حکومت کے دور میں ہوا ہے، اس کا جواب دینے کی بجائے سیاسی بیان بازی سے عوام کو کب تک مطمئن کیا جا سکتا ہے؟۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ کیونکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی وقت حکومت پاکستان کی جان پر بن آئے تو بھی وہ سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکے گی۔ حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ خدا جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ لیکن ایک سچ تو اب پاکستان کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر گلی، ہر کوچے اور ہر گھر کی دیواروں پر لکھا نظر آرہا ہے کہ مہنگائی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی بے حد مشکل بنا دی ہے۔۔ سچ یہ ہے کہ کابینہ میں بیٹھے ہوئے بیشتر ارکان وزیر اعظم کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے خوش کر دیتے ہیں پرویز خٹک اور نور عالم خان کی طرح یہ نہیں بتاتے کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ عوام میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔

    ۔ اس وقت کپتان کا خیر خواہ وہ نہیں جو بڑھکیں ماررہے ہیں بلکہ اصل حامی اور خیر خواہ وہ ہے جو انہیں حالات کی سنگینی سے خبردار کر رہا ہے۔جیسا کہ نور عالم خان ۔۔۔ جن کو پی ٹی آئی شوکاز نوٹس بھیج رہی ہے ۔ ۔ پھر آجکل پوری کی پوری پی ٹی آئی صرف دھوکہ دینے میں لگی ہوئی ہے ۔ ان کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اور اس طرح کے بھونڈے سروے کی بدولت تبدیلی کو دوبارہ بیچا سکتا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان بطور سربراہ پی ٹی آئی اور بطور وزیراعظم پاکستان دونوں ہی حیثیتوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے زیادہ تر ممبران اسمبلی، وزیر مشیر اور پارٹی لیڈر اب ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ کہیں ایڈجسٹ ہو جائیں۔ اس میں حیرانی کی بات بھی کوئی نہیں، کیونکہ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب بھی ادھر ادھر سے اینٹ اور روڑے اکٹھے کرکے پارٹی بنائی جائے تو اس کا انجام یہی ہوا ہے کہ سب بکھر جاتے ہیں۔۔ شیخ رشید احمد اور فواد چودھری جیسے وزیر جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ شیخ رشید تو آئندہ سیاست سے چاروں شریفوں کو مائنس کر چکے ہیں جبکہ فواد چودھری شریف اور زرداری خاندان کی سیاست ختم کرنے کے درپے ہیں ۔

    ۔ جبکہ خبریں یہ ہیں ۔ کہ پی ٹی آئی کے تین وزیر پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر تو اپنا اپنا بائیوڈیٹا اٹھائے اگلا سلیکٹڈ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسا بندوبست ہو جائے کہ باقی کے ڈیڑھ سال تاج ان کے سر پر سج جائے۔ ۔ آپ دیکھیں جب ملک کا وزیر داخلہ یہ کہنے کی بجائے عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے یہ کہہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یہ کرے گی وہ کرے گی۔ تو سمجھ جائیں حالات اچھے نہیں اور حکومت عوامی حمایت مکمل طور پر کھو چکی ہے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس شش و پنج میں ہیں کہ اگلا الیکشن کس پارٹی کے ٹکٹ پر لڑیں، کیونکہ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کا بوجھ اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ ظاہر ہے کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی ضمانت ضبط ہو جائے۔ ۔ کیونکہ منی بجٹ کی منظوری کے بعد عوام کا پارہ زیادہ ہائی ہو چکا ہے۔ اس لئے وزراء ہوں یا ارکان اسمبلی عوام سے دوری ہی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں جہاں عوامی غصے کا یہ عالم ہو کہ کھاد نہ ملنے پر کسان اسسٹنٹ کمشنر کی درگت بنا دیں وہاں رکن اسمبلی کا حال کیا کریں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ۔ پنجاب کے ایم این ایز مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے کر رہے ہیں۔ کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا الیکشن سویپ کرنا اب دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اور یہ کوئی چھپ چھپا کر نہیں کھلے عام ہورہا ہے ۔ ابھی کل کی خبر ہے کہ پی ٹی آئی کے تیس رکن اسمبلی حمزہ سے رابطے میں اور اگلے الیکشن میں ن لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ پھر یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ سی وی لے کر بہت سے لوگ لندن میں میاں صاحب کا دروازہ کھٹکھانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اسی لیے عمران خان نے اگلے تین ماہ کے لیے اپنے ایم این ایز کے باہر جانے پر پابندی لگائی ۔ ۔ پھر خیبر پختونخوا والے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے جو اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے الیکشن لڑے گا اور جو نہ ہو سکا وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے گا، خاص طور پر الیکٹ ایبلز کی بڑی تعداد اگلے الیکشن میں آزاد حییثیت سے اسمبلیوں میں جائے گی۔ باقی رہ گیا جنوبی صوبہ پنجاب کا ٹولہ تو وہ ہمیشہ کی طرح اگلے احکامات کا انتظار کریں گے۔ جو غالب امکان ہے کہ اس مرتبہ حکم جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ہو گا۔۔ اس لیے کہنا غلط نہیں کہ ہر صورت میں پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھرنا یقینی ہے۔۔ کیونکہ اس وقت تحریک انصاف خود اندر سے تقسیم در تقسیم کا بھی شکار ہے۔ اسے تنظیمی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی لئے تو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے رزلٹ کے بعد عمران خان نے افراتفری میں تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا تھا۔ مگر مطلوبہ نتائج ملتے نہیں دیکھائی دیتے ۔۔ یوں آپ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے کپتان اور پی ٹی آئی کے لیے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔

  • ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے  ؟ تحریر: نوید شیخ

    ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے ؟ تحریر: نوید شیخ

    تپاکستان میں دو شخصیات ایسی گزری ہیں ۔ جن کے بارے کہا جائے کہ وہ وقت سے پہلے مستقبل پر نظر رکھتے تھے بلکہ آنے والے حالات کو پڑھ لیتے تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آجکل جو کچھ ہورہا ہے ۔ میں کسی ہر تہمت نہیں لگانا چاہتا ۔ مگر ان دونوں اشخاص کی کہی ہوئی باتیں کانوں میں گونج رہی ہیں ۔ تو سب سے پہلے تو آپ یہ سنیں ۔ پھر آگے بات کرتے ہیں ۔

    Dr. Israr Sot about imran khan & hakim saeed book clip.

    1:21 to 2:38

    ۔ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔ معیشت ، قانون کی حکمرانی ، نظام عدل کا رونا تو بہت عرصے اس ملک میں جاری ہے ۔ مگر یہ شاید پہلی بار ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک نہ ہو پھر دفاع تو متاثر ہوگا ۔ پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پہلی بار ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا چین جیسا دوست ہر کوئی ناراض ہے ۔ پہلی بار ہے کہ کشمیر کو دن دھاڑے بھارت ہڑپ کر لیتا ہے مگر ہم اوآئی سی تک کو متحرک نہیں کر پاتے ہیں ۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس حکومت کو دو خبط ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر بات کو انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوا اور دوسرے یہ کہ اس سے پہلے ستر سال تک اس ملک پر احمقوں ، بددیانت اور غداروں کی حکومت رہی۔ ۔ کارنامے تو ان کے بہت بڑے بڑے ہیں جن کو گنوانا شروع کیا جائے تو eries of books لکھنی پڑ جائے گی ۔ مگر حالیہ جو قومی سلامتی پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کے کئی پہلو ملک کے اندر اور باہر بحث و تجزیے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وہ بہت غور طلب چیز ہے ۔ اس سلسلے میں کئی پہلووں کو لے کر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ایک چیز جس پر سب سے زیادہ اعتراض ہورہا ہے کہ ۔ مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا یہ بیان جو انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کہا وہ یقینا عوام سمیت پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔

    ۔ کیونکہ بے چینی اس لیے ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اگر بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہو جائے تو ہم بھارت کے ساتھ کشمیر کو درمیان میں لائے بغیر تجارت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تجارت اور اقتصادیات ہماری پہلی ترجیح بن گئے ہیں اور کشمیر کا نمبر اسکے بعد آتا ہے؟ ۔ پھر پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان خطے اور تمام دنیا کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر امن چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم توعرصے سے تیار ہیں۔ پر سوال ہے کہ کیا بھارت بھی ہمارے ساتھ عزت اور برابری پر تیار ہے؟

    ۔ ویسے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم تجارت اور امن کی خواہش میں یک طرفہ طور پر اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے کشمیری عوام ، انکے مصائب اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم بھلا کر بھارت کے اگست 2019ء کے اقدامات قبول کر لیے ہوں۔ اس سے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بھارت بس ہمارے ساتھ بات چیت کیلئے راضی ہو جائے۔ یا چلو کرکٹ ہی کھیل لے۔ تو ہم راضی ہوجائیں گے۔ میرے خیال سے کسی بھی باشعور شخص کو بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ بھارت پر ابھی حملہ کر دیں۔ لیکن اس قسم کے اعلانات بطور پالیسی کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے، یا کسی درمیانی راستے پر غور کرنا ہے تو کیا اس سلسلے میں بھارت سے کوئی بات کی گئی ہے کہ ہمیں بدلے میں بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟

    ۔ اسی حوالے سے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم آئندہ سو برس تک بھارت کے ساتھ مخاصمت نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی قریبی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کرتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے کچھ اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بھارت میں اسے بہت اہم قرار دیا گیا۔ خطے میں قیامِ امن کی خواہش یقینی طور پر قابلِ ستائش ہے اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ماضی میں بھی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے تاہم اس خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ۔ پھر کیا آج کے دور میں بھی یہ دانشمندی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جو ملک کی سمت اور تقدیر تبدیل کر رہے ہوں وہ ایوانوں کی بلند دیواروں کے پیچھے کیے جائیں اور عوام سے خفیہ رکھے جائیں؟

    ۔ نیشنل سیکورٹی کی جو دستاویز جاری ہوئی ہیں ان میں توانائی، تعلیم، صحت سے لیکر دہشت گردی اور عالمی امن تک سب مسائل کے ذکر کے ساتھ صفحہ نمبر پینتیس پر جموں اور کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو پر امن طور پر بذریعہ بات چیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جانا چاہیے۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب موجودہ اور تبدیل شدہ دنیا میں کتنی موثر ہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں ایسی یک طرفہ محبت کا نتیجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو سائیڈ پر کر کے تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہونگے اور بھارت ہم سے آزاد کشمیر کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اور اس وقت ہم عالمی برادری کو کہتے پھریں کہ کسی طرح ہمارا آزاد کشمیر ہی بچا دو۔

    ۔ ہم نظریے اور پاکستان کی شہہ رگ کو ایک جانب رکھ کر صرف تجارتی اور اقتصادی اصولوں کی بات کریں تو بھی حقائق اور اعداد و شمار کیمطابق موجودہ حالات اور قوانین میں بھارت کے ساتھ تجارت نہ تو پاکستان کی اقتصادی مشکلات حل کر سکتی ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل کا حل تجارت میں مل سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ سے کشمیر رہی ہے، اور کشمیر ہی کی بنیاد پر ہم بھارت کے ساتھ بار بار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی تشکیل کے وقت کشمیری عوام سے بھی تفصیلی مشورہ کیا گیا ہو گا اور انکی امنگوں اور حقوق کو بھی نظر میں رکھا گیا ہو گا۔ کیونکہ اس خطے کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بھارت کے گرد ہی گھومتی ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کے گرد گھومتے ہیں۔

    ۔ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا گیا وہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیان کچھ غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پر ہے۔

    ۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس پالیسی میں کہاگیا ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد معیشت پر ہے۔ اسکے بعد یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے سٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔ اس خودمختاری کو بعض لوگ بینک کی غلامی قراردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کا اقتصادی وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔ اب جو یہ بحث ہورہی ہے ہمارے عسکری اکائونٹ صرف اور صرف سٹیٹ بینک میں رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ خواہش کیوں ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ فرمانا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو قومی سلامتی پر حرف آتا ہے۔ ان کے اس بیان سے واقعی اب سارا ملک گھبرایا ہوا لگتا ہے ۔ پھر کچھ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے۔ یہ سب باتیں جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تشویش کس بات کی ہے۔

    ۔ یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ بائیس تیئس کروڑ آبادی والا ملک پاکستان جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے جس کے لوگ بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں وہ اپنے حکمرانوں اور کی غفلت اور ان کے وزیر و مشیروں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے دنیا میں ایک بھکاری کی سی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو یہ سوچے کہ اس ملک کا مسقتبل کیسے محفوظ بنا جاسکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بہت سے پاکستانی خودکشیاں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے کیونکہ وہ ہی ہماری سلامتی کا سب سے بڑا ضامن اور آخری امید ہے ۔ مگر یاد رکھیں اس وقت جو یہ بحث جاری ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہی ہے

  • منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات وہ مادے ہیں جو کسی شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمارے دماغ کے کام کرنے کے طریقے، ہم کیسے محسوس کرتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں، ہماری سمجھ اور ہمارے حواس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں غیر متوقع اور خطرناک بناتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔

    منشیات کا استعمال:
    کوئی بھی مادہ یا منشیات جب مطلوبہ مقدار سے زیادہ لی جائے تو اسے منشیات کے استعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ منشیات کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص قانونی یا غیر قانونی مادوں کا استعمال ان طریقوں سے کرتا ہے جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کا مقصد یا تو اچھا محسوس کرنا، تناؤ کو کم کرنا یا حقیقت سے بچنا ہے۔ آخر کار ان منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، جو منشیات کی لت کا باعث بنتا ہے۔

    عام ادویات:
    پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے منشیات یہ ہیں:
    • حشیش (بھنگ) سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ ہے۔
    • سکون آور اور سکون آور ادویات
    • ہیروئن
    • افیون
    • انجیکشن لگانا منشیات کا استعمال
    • ایکسٹیسی
    • سٹریٹ چلڈرن کے درمیان سالوینٹ کی زیادتی

    ہمارے ملک میں بہت سی غیر منافع بخش تنظیموں نے بحالی کے مراکز بنائے ہیں اور وہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 500 سے زائد مراکز کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ مشہور ہیں:
    • AASRecovery سینٹر
    Ibtida rehabilitation centr
    • نیا افق کیئر سنٹر
    • جینیئس بحالی مرکز
    • وعدہ بحالی مرکز
    ایمن کلینک
    • عقیدت بحالی مرکز
    • نشان بحالی پاک
    عام زندگی میں تحمل کا ارتکاب کرنے میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنا شامل ہے، بشمول:
    • جس طرح سے آپ تناؤ سے نمٹتے ہیں۔
    •کیسےلوگوں کو آپ اپنی زندگی میں اجازت دیتے ہیں۔
    • آپ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں۔
    • آپ اپنے بارے میں کیسا سوچتے ہیں۔
    • نسخہ اور اوور دی کاؤنٹر ادویات جو آپ لیتے ہیں۔
    بحالی کا آغاز آپ کے جسم کو منشیات سے پاک کرنا اور واپسی کی علامات کو منظم کرنا ہے۔ پھر مشاورت آتی ہے۔ مشاورت میں انفرادی، گروپ، اور/یا خاندان شامل ہیں آپ کو آپ کے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنے، اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے، اور صحت مند مقابلہ کرنے کی مہارتیں سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت یابی کی طرف تیسرا قدم دوا لینا ہے۔ اور، ایک طویل مدتی فالو اپ کی ضرورت ہے۔

    میں خود کسی بھی شکل اور قسم کی منشیات سے پرہیز کرتا ہوں۔ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو میں نے اپنے ساتھ لیا ہے کہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ منشیات بذات خود ایک زیادتی ہے۔ میں جب بھی باہر جاتا ہوں تو بہت سے نشے کے عادی افراد کو دیکھتا ہوں جنہوں نے صرف اپنی اس بری عادت کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کر رکھی ہے۔ میں ایسے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں جب میرے پاس کافی طاقت ہو تو میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے، نشے کے عادی افراد کی مدد اور اس حوالے سے بیداری بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کروں گا۔ ابھی میں اپنی حیثیت میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔
    میں نوجوانوں اور بزرگوں میں اسی طرح شعور بیدار کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی عادی ہے تو پورے خاندان کو مشاورت کی ضرورت ہےآگاہی اولین ترجیح ہے تاکہ لوگ اس زیادتی سے دور رہیں۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری صحت کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے کیسے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ہماری سماجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ نشےکےعادی کو قبول نہیں کرتا۔ ہمیں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

    تمام تر آگاہی کے باوجود اگر کوئی منشیات اور چیزیں لیتا ہے تو اس شخص کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے جو وہ چاہے اور جو چاہے تجربہ کرے۔ ابتدائی مرحلے میں رکنا اتنا مشکل نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص خود کو اس پہلو میں مزید گہرائی میں لے جائے تو اس سے پیچھے ہٹنا ناقابل تصور حد تک مشکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کو ایک لعنت سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچہ پہلے منشیات کرتا ہے تو وہ اس کی توہین کرتے ہیں۔ اس توہین پر قابو پانے کے لیے وہ بچہ اس سے بھی زیادہ منشیات لیتا ہے جو کہ منشیات کی سب سے بنیادی شکل ہے، تمباکو(سگریٹ) جو قانونی طور پر دستیاب ہے، شروعات ہے۔ تمباکو نوشی اتنی نقصان دہ ہے کہ یہ اس کے ڈبے پر بھی کہتا ہے پھر بھی ہم تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ صرف انسانی فطرت ہے خاص کر جب ہم جوان ہوتے ہیں۔ اگر یہ سرزنش کام نہیں کرتی ہے تو گھر والے اسے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور یہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اسے باہر کیوں پھینکو؟ اس سے انکار کیوں؟ وہ تمہارا خون تمہارا بیٹا ہے۔ میں نے معروف اور خوشحال گھرانوں کے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے، پلوں کے نیچے سوتے، پہلے سے استعمال شدہ سرنجوں سے انجکشن لگاتے دیکھا ہے۔ کیوں؟

    اس سلسلے میں والدین کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی عزت، جو نام انہوں نے کمایا ہے اسے بچانے کے لیے انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔ یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے۔ ان سے کہا جائے کہ انہیں بحالی مرکز لے جائیں، صحت یاب کرائیں۔ ان کی پریشانی کو سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

    ہماری ذہنی صحت اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہم زندگی سے نمٹنے کے دوران کیسے محسوس کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں اہم ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں، بہت چھوٹی عمر میں ہمیں اپنے مستقبل، تعلیم اور پیشے کے لیے سنجیدہ ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی تھوڑا سا بھی پیچھے رہ جائے تو یہ دنیا اسے پیچھے پھینک دیتی ہے اور اسے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ساری بڑھتی ہوئی بے چینی اور گھبراہٹ بے پناہ درد کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈپریشن پوری دنیا میں ایک بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب تکلیف برداشت کرنے والا مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ تمام دکھ اور تکلیف دور ہو جائے۔ اس کے نقطہ نظر میں اس کا سب سے آسان طریقہ بلاشبہ منشیات لینا ہے۔ وہ ہمارے دماغ کو بے حس کر دیتے ہیں اور آخر کار ہم اس درد سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنی زندگی میں اس مسلسل تناؤ پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ واحد راستہ خوش رہنا ہے۔ اس عطا کردہ زندگی کے ہر ایک حصے سے لطف اٹھائیں۔ اس لیے میں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کو خوش کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی یادیں دوں جب وہ میرے ساتھ نہ ہوں۔ اگر ہر کوئی یہ پہل کرے تو یقین کریں یہ دنیا بہت بہتر ہو جائے گی۔

    . مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم مل کر اسے شکست دے سکتے ہیں اور اس لعنت کو اپنی قوم، اپنے ملک پاکستان سے مٹا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم اپنے آپ سے جنگ شروع کر دیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ براءی ہمارے درمیان نہیں رہے گی۔ انشاء اللہ.

  • دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دبئی: دنیا کا سب سے بڑا اور انتہائی نایاب سیاہ ہیرا "دی اینگما” دبئی میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ خلا سے زمین پر آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشہور برطانوی نیلام گھر ’سودبیز‘ نے دبئی میں 555.55 قیراط کا ایک سیاہ ہیرا پیش کیا ہے ہیرے کو دبئی اور امریکہ میں نمائش کے بعد لندن لے جایا جائے گا، جہاں 3 سے 9 فروری کے دوران سیاہ ہیرے کی آن لائن نیلامی کی جائے گی۔

    انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتا سے منتقل کرنے کا بل منظور

    ہیرے کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدا جا سکے گا۔ہیرے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا قرار دے رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاہ ہیرا

    یہ ہیرا جسامت میں خاصا بڑا ہے اور اس کے 55 پہلو ہیں جو اسے اور بھی زیادہ منفرد بناتے ہیں اس ہیرے کو ’’اینگما‘‘ (معما) کا نام دیا گیا ہے جبکہ اسے دنیا کے نایاب ترین ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیرا کہاں سے آیا ہے لیکن ایک مفروضے کے مطابق، یہ تین ارب اسی کروڑ سال قبل زمین پر سیارچہ ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا اور زمین سے ٹکرانے والے کسی شہابِ ثاقب کا حصہ رہا ہوگا جو کسی طرح سے محفوظ رہ گیا۔

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    بتاتے چلیں کہ سیاہ ہیروں کو ’کاربونیڈو‘ بھی کہا جاتا ہے جو اب تک صرف برازیل اور وسطی افریقہ ہی سے ملے ہیں۔

    سودبیز دبئی میں ہیروں کی ماہر سوفی اسٹیونز کا کہنا ہے کہ پانچ (5) کی تکرار اس ہیرے کےلیے بہت خاص ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ 555.55 قیراط وزنی ہے تو دوسری جانب اس کے 55 پہلو بھی ہیں شاید اسی بناء پر سودبیز کو امید ہے کہ یہ کم از کم 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 120 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوگا۔

    سوفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی مذاہب میں پانچ (5) کا ہندسہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے لہذا یہ ہیرا ان کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مالیت میں بھی نیلام ہوسکتا ہے۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے 8 ڈرونزتباہ کردئیے

    واضح رہے کہ یہ ہیرا اس سے قبل کبھی مارکیٹ میں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی عوامی نمائشی کے لیے رکھا گیا ہے ہیرے کی شکل مشرق وسطیٰ کے ہتھیلی نما خمسہ سے ملتی جلتی ہے جو ’نظر بد‘ سے محفوظ رکھنے والی علامت کے طور پر مشہور ہے خمسہ کا تعلق پانچویں ہندسے سے ہے اور یہ ہیرا نہ صرف 555 اعشاریہ 55 کا سائز رکھتا ہے بلکہ اس کے ٹھیک 55 پہلو بھی ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی…

  • چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے پاکستان کی سب سے اہم لیگ جسے کشمیرپریمیئر لیگ کے نام سے دنیا جانتی ہے سے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے کشمیرپریمیئر لیگ کے ساتھ محبت اور اس کی کامیابی کے لیے اپنے خلوص کا زبردست انداز میں اظہار کیا ہے ،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں کشمیر پریمیئر لیگ سے کوئی تنخواہ اور الاؤنس نہیں لوں گا،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے تمام وسائل صاف اور شفاف طریقے سے استعمال کیے جائیں گے،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ کشمیر میں کرکٹ اور کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے۔

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا کہنا ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک مشن اور ایک مقصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فرنچائز مالکان کا شکر گزار ہوں کہ جس طرح سے تمام چھ فرنچائزز نے میرے چیئرمین، چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ بننے کے بعد مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

  • لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ

    لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ

    لاہور:لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ تصدیق کرتا ہے کہ ٹیک فرنٹ ایف زیڈ ای اور بلٹز ایڈورٹائزنگ پرائیوٹ لمیٹڈ کےپی سی بی کے ساتھ تنازعات پر لندن کی عالمی ثالثی عدالت نے پی سی بی کے حق میں فیصلے سنادئیے ہیں۔

    ٹیک فرنٹ انٹرنیشنل ایف زیڈ ای (ٹیک فرنٹ) سے متعلق تنازعہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے براڈکاسٹ اور لائیو اسٹریمنگ میڈیا رائٹس کے معاہدوں کے سلسلے میں فیس کی ادائیگی جبکہ بلٹز ایڈورٹائزنگ کے ساتھ تنازعہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے میچز کی تاخیر سے ٹیلی ویژن نشریات اور لائیو سٹریمنگ میڈیا رائٹس کی فیس کی ادائیگی سے متعلق تھا۔

    ان تنازعات پر لندن کی عالمی ثالثی عدالت نے ٹیک فرنٹ اور بلٹز ایڈورٹائزنگ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے دونوں پارٹیز کو پی سی بی کو فیس کی ادائیگی اور کیس سے متعلق تمام اخراجات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

    یہ تمام حقوق پاکستان اور لندن کی عالمی ثالثی عدالت کے قوانین کے عین مطابق جاری کیے گئے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر بیرسٹر سلمان نصیر کا کہناہے کہ یہ ان کے لیے بڑی کامیابیاں ہیں کیونکہ اس سے پی سی بی کو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ سے کثیر آمدنی ملنے میں کامیابی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے ہم مربوط معاہدے کرتے ہیں اور ہم ایچ بی ایل پی ایس ایل کے برانڈ کی مقبولیت میں اضافے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔

  • ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے بھی ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ اگلے دو دن میں ہماری زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائےگا یہ ایک الگ مدارمیں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ 7482 کی براہِ راست نشریات ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا شہابیہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے صرف چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

  • انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی ویڈیو اور تصاویر شیئرنگ ایپ انسٹا گرام نے نئے فیچر پر کام شروع کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹا گرام اپنی اسٹوریز کو ایپ میں عمودی اسکرولنگ کے لیے از سر نو ڈیزائن کر رہی ہے اس وقت انسٹا گرام اسٹوریز کو دیکھنے کے لیفٹ سوئپ کرنا پرتا ہے اور ایک اسٹوری سے دوسری پر جانے کے لیے بائیں طرف اور مختلف پوسٹ دیکھنے کے لیے دائیں طرف ٹیپ کرنا پڑتا ہے تاہم کمپنی اب ایک نئے فیچر کی آزمائش کرنے جا رہی ہے جس کی مدد سے صارفین اسٹوریز میں عمودی اسکرولنگ کر سکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    رپورٹ کے مطابق ترکی اور برازیل میں انسٹا گرام کے کچھ صارفین کو انسٹا گرام پر اسٹوریز کی عمودی اسکرولنگ کرنے والے فیچر کی اپ ڈیٹس مل چکی ہیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ انسٹا گرام کی جانب سے اس فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا مقابلہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے کیوںکہ اس میں پہلے سے ہی عمودی اسکرولنگ کا فیچر موجود ہے اس فیچر کی بدولت انسٹا گرام میں اسٹیٹک کانٹینٹ کی نسبت اسٹوریز میں ویڈیوز پر زیادہ فوکس ہوجائے گا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی انسٹا گرام نے اسٹوریز میں ویڈیوز کا دورانیہ 15 سیکنڈ سے بڑھا کر 60 سیکنڈ کرنے کی آزمائش کی تھی۔ جس کی مدد سے صارفین ایک منٹ کی ویڈیو کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی حصے میں اپ لوڈ کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    نئی دہلی: بھارت کے ایک گاؤں میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ کے گاؤں راج ناند میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور قدرت کے اس عجیب و غریب معجزے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آ رہے ہیں بچھڑے کی ناک میں بھی 2 کے بجائے 4 سوراخ ہیں۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    عجیب و غریب بچھڑے کی پیدائش نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بچھڑے کی تیسری آنکھ سر کے بیچ میں ہے علاقےمیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بچھڑے کی ناک اور کٹی ہوئی دم نے بھی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

    مقامی گاؤں والوں نے بچھڑے کو پھول چڑھانا شروع کر دیئے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد گاؤں میں آنے سے مقامی افراد کے چہروں پر بھی خوشی پھیل گئی ہے۔

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    قبل ازیں بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی-

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    کینسرمیں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کواسپتال میں منتقل کیا گیامریض کی حالت بگڑنےپراسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہلخانہ وینٹی لیٹرکےاخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا-

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

  • کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    جنوبی کوریا کی سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ریح کیم‘ اب موسیقیار بھی بنے گی-

    باغی ٹی وی : ریح کیم کو مشہورِ زمانہ کمپنی ’ایل جی الیکٹرونکس‘ نے جنوبی کوریا کے ایک مقامی سافٹ ویئر ہاؤس سے تخلیق کروایا ہے اور یہ پچھلے ایک سال سے انسٹاگرام کے ذریعے اس کمپنی کی مختلف مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کر رہی ہے۔

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    انسٹاگرام پر اس خوبصورت سوشل میڈیا اسٹار کے 15,000سے زیادہ فالوورز ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے کمپیوٹر پر تخلیق کیا گیا ہےاسی بناء پر یہ ’ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ میں شمار ہوتی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    گزشتہ برس امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ عالمی نمائش ’سی ای ایس 2021‘ کے موقع پر ریح کیم نے ایک خصوصی خطاب بھی کیا تھا جسے سننےوالوں بہت پسند بھی کیا تھاحال ہی میں ایل جی الیکٹرونکس نے سیول کی ایک تفریحی کمپنی ’مسٹک اسٹوری‘ سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ریح کیم کو نئی دھنیں تخلیق کرنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان بڑھتا جارہا ہے کیونکہ مشہور شخصیات کی خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں یہ بہت کم خرچ رہتے ہیں یہ کمپنی کی کسی بھی تشہیری مہم میں اعتراض کیے بغیر کام کرلیتے ہیںامریکی مارکیٹ ریسرچ کمپنی’انسائیڈر انٹیلی جنس‘ کے مطابق 2019 میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی عالمی مارکیٹ کا حجم 8 ارب ڈالر تھا جو 2021 کے اختتام تک بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا 2020 میں عالمی وبا سے ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ رجحان برقرار رہے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…