Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی،تحریر: اقصیٰ جبار

    خاموشی محض الفاظ کے نہ ہونے کا نام نہیں، یہ روح کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے اندر کے مکالمے سنتا ہے۔ بعض اوقات ایک لمحۂ سکوت ہزاروں لفظوں پر بھاری ہوتا ہے۔ دل کی گہرائیوں میں چھپی وہ صدائیں جو زبان ادا نہیں کر پاتی، خاموشی ہی کے پردے میں زیادہ واضح ہو جاتی ہیں۔

    ہمارا موجودہ معاشرہ شور و ہنگامے میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاست کا شور، میڈیا کا شور، بازاروں کا شور—لیکن ان سب آوازوں کے بیچ وہ سکوت کھو گیا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات کمزور اور دلوں کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔خاموشی کی اپنی زبان ہے۔ یہ کبھی محبت کی گہری علامت بن جاتی ہے اور کبھی احتجاج کا سب سے مضبوط اظہار۔ کبھی یہ زخموں کو ڈھانپ لیتی ہے اور کبھی دعا کی صورت آسمان تک پہنچتی ہے۔ اہلِ دانش کا کہنا ہے کہ کچھ سچائیاں صرف سکوت میں سمجھی جا سکتی ہیں، کیونکہ شور میں حقیقت کی آواز دب جاتی ہے۔

    لیکن افسوس کہ آج ہم نے یہ دولت کھو دی ہے۔ ہماری زندگیاں مصنوعی مصروفیات میں الجھ گئی ہیں۔ لمحہ بھر کے سکوت کو ہم اجنبیت سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ یہی لمحے ہماری روح کے لیے شفا ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شور سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں، اپنے دل کی خاموشی کو سنیں۔ کیونکہ جو شخص اپنی خاموشی کو سمجھ لیتا ہے، وہی اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو پہچان لے تو دنیا کے ہنگامے بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو پاتے۔

  • نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    آج کا نوجوان ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، دوسری طرف بے روزگاری کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔ والدین قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور نوجوان محفوظ مستقبل کے خواب دیکھتے دیکھتے مایوس ہو رہے ہیں،کیونکہ یہ سوچ کہ اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اب اپنا اثر کھو چکی ہے۔ بدلتے حالات بتا رہے ہیں کہ نوجوانوں کو صرف کمانا ہی نہیں بلکہ کمائی کو محفوظ اور بڑھانا بھی سیکھنا ہوگا۔ یہی مالیاتی تعلیم ہے، جو خوشحالی کا اصل دروازہ کھولتی ہے۔
    مالیاتی تعلیم کا آغاز بچپن سے ہی ہونا چاہیے تاکہ ہمارے نوجوان مستقبل میں خود مختار بنیں۔ اس مقصد کے لیے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ انہیں بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانی چاہیے۔ انہیں سودا سلف خریدنے کے لیے ساتھ لے جائیں، جیب خرچ کے علاوہ اضافی پیسے دیں اور یہ ہدایت دیں کہ گھر کی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں مدد کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں بچوں میں خود اعتمادی اور عملی لین دین کا شعور پیدا کریں گی۔ اسی طرح، اسکول کے بعد کا ایک گھنٹہ ہنر سیکھنے کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ سلائی، پلمبرنگ، الیکٹریشن، گاڑیوں کی مرمت یا فاسٹ فوڈ جیسے کاموں میں انہیں دلچسپی دلانا چاہیے۔ یہ ہنر انہیں مستقبل میں مالی طور پر مضبوط بنائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو بھی جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح مالیاتی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ مضمون صرف حساب کتاب نہیں بلکہ زندگی کی عملی بصیرت بھی دیتا ہے۔
    اسلام نے بھی مالی نظم و ضبط اور خودکفالت پر زور دیا ہے۔ یہ رہنمائی ہمیں نہ صرف کمانا سکھاتی ہے بلکہ اسے حکمت اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: "اور ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھے رہو۔” (الاسراء: 29) یہ آیت ہمیں نہ کنجوسی اور نہ ہی فضول خرچی کی تعلیم دیتی ہے۔ اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔” (بخاری) یہ تعلیم خود انحصاری اور دوسروں پر بوجھ نہ بننے کی ہے۔
    حقیقی مالیاتی بصیرت یہ ہے کہ اثاثہ (Asset) اور ذمہ داری (Liability) میں فرق کو سمجھا جائے۔ رابرٹ کیوساکی اپنی کتاب "Rich Dad Poor Dad” میں بتاتے ہیں کہ امیر اور غریب کی سوچ میں سب سے بڑا فرق یہی ہے۔ اثاثہ وہ ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے، جیسے کرائے پر دی گئی پراپرٹی یا کوئی کامیاب کاروبار، جبکہ ذمہ داری وہ ہے جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالے، جیسے قسطوں پر لی گئی مہنگی گاڑی۔ مالی آزادی کا پہلا قدم یہی ہے کہ آپ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اثاثے بنانے پر لگائیں اور اپنے پیسے کو اپنے لیے کام کرنے دیں۔ یہ کوئی بڑا یا مشکل کام نہیں، آپ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریوں سے بھی آغاز کر سکتے ہیں۔
    آج کے ڈیجیٹل دور میں صرف ایک تنخواہ پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ کثیر آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا مالیاتی آزادی کا دوسرا اہم قدم ہے۔ کالج، یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم یا ملازمت پیشہ نوجوان اپنے فارغ اوقات کو اضافی آمدنی کے ذرائع میں بدل سکتے ہیں۔ بائیکیا اور ان ڈرائیو جیسی سروسز، لوگوں کے گھروں میں سولر پینل کی وائرنگ، پلمبنگ یا الیکٹریشن کا کام، یا چھوٹے پیمانے پر آن لائن بزنس شروع کرنا بہترین مواقع ہیں۔ ایلون مسک کہتے ہیں، "اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہفتے میں 80 سے 100 گھنٹے کام کرنا ہوگا۔” یہ اضافی گھنٹے ہمیں اضافی آمدنی کے ذرائع بنانے کا موقع دیتے ہیں۔
    آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو منظم کرنا بھی ضروری ہے۔ وارن بفٹ کا اصول نوجوانوں کے لیے بہترین ہے: "پہلے بچت کریں اور پھر باقی اخراجات کریں۔” یعنی اپنی آمدنی کا ایک حصہ سب سے پہلے بچت اور سرمایہ کاری کے لیے الگ کریں اور پھر باقی میں سے اپنے اخراجات پورے کریں۔ یہ سادہ سا اصول آپ کو مالیاتی نظم و ضبط سکھاتا ہے۔

    نوجوانوں کے پاس سب سے بڑا سرمایہ وقت ہے، اور وقت ہی "کمپاؤنڈ انٹرسٹ” کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر آج چھوٹی سرمایہ کاری شروع کی جائے تو وقت کے ساتھ یہ بڑی دولت میں بدل جاتی ہے۔ آج کل "مائیکرو انویسٹنگ ایپس” کی مدد سے چند سو روپے سے بھی سرمایہ کاری ممکن ہے۔یہاں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مالیاتی تعلیم محض ایک مضمون نہیں، بلکہ زندگی کا ہنر ہے۔ یہ نوجوان کو بااعتماد، خود مختار اور کامیاب بناتی ہے۔ اگر آج کے نوجوان مالی نظم و ضبط کو اپنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ پاکستان کو بھی خوشحال اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مالیاتی تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔کیا آپ آج سے اپنی مالیاتی آزادی کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

  • پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    1990 کا سال خلیجی خطے کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز موڑ لے کر آیا۔ جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پورے عرب خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سعودی عرب، جس کی سرحدیں جنگ کے قریب آ چکی تھیں، نے فوری طور پر امریکہ سے فوجی مدد طلب کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، امریکی فوجی طیارے سعودی عرب کے فضائی اڈوں پر اُترنے لگے۔ اُس وقت یہ قدم ایک حفاظتی تدبیر سمجھا گیا، لیکن یہی فیصلہ آگے چل کر مسلم دنیا میں ایک نئے انحصار کا آغاز بن گیا۔ ایسا انحصار جس نے مسلم ممالک کی عسکری خودمختاری کو مغرب کے مفادات سے جوڑ دیا۔ امریکہ خلیجی خطے میں چوکیدار بن کر اُبھرا۔ مسلم ریاستیں اس کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگیں، لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ یہ چوکیدار اصل میں ایک سوداگر ہے۔ وہ حفاظت کے وعدے ضرور کرتا ہے، مگر صرف اُس وقت تک جب تک اس کے مفادات وابستہ ہوں۔ جہاں فائدہ ختم ہوا، وہاں ذمہ داری کا بوجھ اُتار دیا گیا۔

    یہ حقیقت وقت کے ساتھ اور بھی واضح ہوتی گئی۔ جب ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے، امریکہ نے کوئی سخت ردعمل نہ دیا۔ جب اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کیے، جہاں امریکی فوجی بھی موجود تھے، تب بھی امریکہ خاموش رہا۔ اس خاموشی کی سب سے سنگین مثال فلسطین کے معاملے میں دیکھی گئی، جہاں سالہا سال سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری، بچوں کی شہادتیں، مساجد کی تباہی اور عام شہریوں کی نسل کشی پر امریکہ کی پالیسی صرف اظہارِ تشویش تک محدود رہی۔

    یہی وہ مقام تھا جہاں مسلم دنیا نے آنکھیں کھولیں۔ آہستہ آہستہ روایتی اتحادیوں پر انحصار کم ہونے لگا۔ عالمی توازن میں تبدیلی آ رہی تھی۔ چین ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ روس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی اور پھر ایک نیا رجحان سامنے آیا۔ مسلم ممالک نے مغرب پر انحصار کے بجائے، آپس میں عسکری، اقتصادی اور سفارتی اتحاد کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب بھارت نے پاکستان کو ایک بار پھر للکارا۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اب وہ پاکستان نہیں، جو صرف دفاع تک محدود رہتا تھا۔ پاکستان نے دشمن کے رافیل طیارے مار گرائے، اس کے ارادے فضاؤں میں بکھیر دیے اور دنیا کو باور کرا دیا کہ یہ نیا پاکستان ہے، مضبوط، خوددار اور چپ نہ رہنے والا۔

    پاکستان کے اسی مضبوط کردار نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا، اب ایک نئے اتحادی کی تلاش میں تھا۔ ایسا ساتھی جو صرف وعدے نہ کرے، بلکہ وقت آنے پر کھڑا ہو سکے۔ اس بار اُس کی نظر اسلام آباد پر پڑی اور یوں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی نوعیت محض رسمی یا علامتی نہیں، بلکہ حقیقی ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک عسکری تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔ مشترکہ جنگی مشقیں کی جائیں گی، انٹیلیجنس شیئرنگ ہوگی اور سب سے اہم بات، پاکستان حرمین شریفین کے دفاع میں براہِ راست شریک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے دفاعی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی گہری مضبوطی آئے گی۔

    یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی سمت کا تعین ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ مسلم دنیا اب دوسروں کی محتاج نہیں رہے گی، بلکہ خود اپنے تحفظ، اپنے مفادات اور اپنے مستقبل کی ضامن بنے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے ایک نئے اسلامی عسکری بلاک کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ترکی اور ایران بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ اگر یہ تعاون حقیقت بن گیا، تو یہ اتحاد نہ صرف خطے کے لیے، بلکہ دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے ایک طاقتور پیغام بن جائے گا۔ اس بدلتے منظرنامے میں ایک شخصیت کا کردار سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب۔ وہ صرف آرمی چیف نہیں، بلکہ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کی عسکری، سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو ازسرنو متعین کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے داخلی استحکام حاصل کیا، خارجی سطح پر اپنی خودداری کا پرچم بلند کیا اور عالمی برادری کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔

    دنیا انہیں خطرناک ترین آرمی چیف کہتی ہے، کیونکہ وہ امریکی مفادات کے لیے لچکدار نہیں، بلکہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے سپہ سالار ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے وہ امید، طاقت اور غیرت کا استعارہ ہیں۔ ان کی موجودگی نے پاکستانی عوام کو اعتماد دیا ہے کہ وہ صرف ایٹمی ہتھیار نہیں، بلکہ ایک باشعور اور بہادر فوج کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ان کی حکمت عملی نے دنیا کو بتایا ہے کہ پاکستان صرف دفاعی طاقت نہیں، بلکہ قیادت، قربانی، نظم اور غیرت کا مجموعہ ہے۔ اب اگر کوئی پاکستان پر حملے کی سوچتا ہے، تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف جواب صرف پاکستان سے نہیں آئے گا، بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی دیا جائے گا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اب پاکستانی فوج ایک دیوار بن چکی ہے۔

    طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا غلامی کے نفسیاتی خول سے باہر نکل رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کے درمیان بنتے ہوئے تعلقات ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ ایسا باب جہاں عزت کے ساتھ جینا اولین ترجیح ہے۔ یہ اتحاد صرف کسی ایک دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار، بقاء اور آزادی کی علامت بننے جا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اب پاکستان اکیلا نہیں۔ اب ہر وار کا جواب ہے۔ اب ہر سازش کا توڑ ہے۔ اب امتِ مسلمہ ایک نئی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ایک ایسا اتحاد جو غلامی کو جرم اور خودداری کو فخر سمجھتا ہے۔

  • پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک پہلوؤں سے بھی ایک دوسرے کے قریبی حلیف ہیں۔ یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ کئی نشیب و فراز سے گزرے مگر ان کی اساس ہمیشہ قائم رہی۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب اور سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں نے اس رشتے کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں مستقبل کے امکانات مزید وسعت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔مذہبی و روحانی رشتہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سب سے گہرا رشتہ روحانی ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں میں رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ دینی رشتہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان کے قیام کے فوراً بعد سعودی عرب نے اسے تسلیم کیا اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
    1965 اور 1971 کی جنگوں میں سعودی عرب نے پاکستان کی سفارتی و مالی مدد کی۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے دور میں بھی دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان کے حایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے سفارتی سطح پر حمایت فراہم کی۔حالیہ دورۂ وزیر اعظم اور نئے امکانات ، وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خاص طور پر گوادر اور سی پیک منصوبوں میں سعودی شمولیت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاک سعودی سرمایہ کاری تجارتی تعلقات مزید مستحکم کریں گے۔” یہ بیان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں ممالک محض جذباتی یا مذہبی رشتے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی اور معاشی بنیادوں پر تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔معاشی و تجارتی تعاون ۔سعودی عرب پاکستان کو تیل اور توانائی کے شعبے میں بڑے پراجیکٹس کی پیشکش کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی سعودی سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی زرخیز زمینوں اور افرادی قوت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محنت کشوں کو بہتر سہولیات اور حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کا رشتہ مزید مضبوط ہو۔دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقاتکے حوالے سے پاک فوج اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی افواج کی تربیت، مشترکہ مشقیں، اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خطے کے بدلتے حالات میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط لیکن برادرانہ کردار ادا کیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔عوامی وابستگی اور ثقافتی رشتہ ،پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو عوامی خواہشات کے عین مطابق ترجیح دیتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک "پل” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں لیکن چند چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی اکثر پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے کہ وہ کسی ایک جانب زیادہ نہ جھکے۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی کمزوری اور بار بار کے سیاسی بحران بھی سعودی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو ایک پائیدار معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ محض بیانات یا جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔سی پیک میں سعودی شمولیت پاکستان کی اقتصادی راہداری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔توانائی منصوبے سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کا توانائی بحران کم ہو سکتا ہے۔زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں تعاون نئی نسل کو مواقع فراہم کرے گا۔

    سفارتی سطح پر اشتراک اسلامی دنیا کے مسائل کے حل میں دونوں ممالک کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔پاک سعودی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک ریاستی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی جڑیں عوامی دلوں میں پیوست ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو معاشی اور تجارتی بنیادوں پر مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعظم کا حالیہ بیان اور سعودی قیادت کی دلچسپی امید دلاتی ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آئیں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے

  • پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اخلاص، بھائی چارے اور مشترکہ مذہبی اقدار پر استوار رہے ہیں۔ یہ رشتہ محض جذباتی یا مذہبی وابستگی نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور دفاع کے میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ہر نازک موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں روزگار حاصل کر کے اپنی محنت سے دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہی دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر حال ہی میں ریاض میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جسے "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم قطر کے تاریخی دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی نئی سفارتی صف بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دراصل اس اعلان کے مترادف ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اعتبار سے ایک دوسرے کے ضامن ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے میں "تمام فوجی ذرائع” کے استعمال کی شق موجود ہے، جس میں مشترکہ مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری شامل ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں ممالک اپنے دفاع کو کسی بھی سطح پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتے۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے قریبی دوستوں میں رہا ہے اور اب یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ان کے مستقبل کو بھی مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو نئی ساکھ مل رہی ہے، کیونکہ ایک بڑی علاقائی طاقت نے اپنی سلامتی کے لیے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    سعودی عرب کے لیے بھی یہ شراکت داری بے حد قیمتی ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور یہ حقیقت سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی سہارا ہے۔ خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اسرائیل–قطر تنازعے جیسے حالات میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ اعتماد اور تحفظ کا ذریعہ بنے گا۔ اسی کے ساتھ اسلامی دنیا کی قیادت کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف بھی مزید مستحکم ہوگا، کیونکہ پاکستان جیسے بڑے ملک کی شمولیت اس کی پوزیشن کو اور واضح کرتی ہے۔

    عوام اور سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے اسلامی دنیا کے اتحاد کی عملی شکل سمجھ رہے ہیں، جبکہ حکومت کے لیے یہ خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ میڈیا بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنانے کی علامت قرار دے رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ماضی میں بھی عسکری تعاون کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ماہرین سعودی افواج کی تربیت میں شامل رہے، اور 1991 کی خلیجی جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے براہِ راست کردار ادا کیا۔ اب یہ معاہدہ پرانی شراکت داری کو ایک باضابطہ اور جامع شکل دے رہا ہے۔

    پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک پیغام ہے: جب مسلم ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو کوئی چیلنج انہیں کمزور نہیں کر سکتا۔ آج یہ معاہدہ اسی اتحاد کی علامت ہے—یہی اتحاد طاقت ہے اور یہی طاقت امن و استحکام کی ضمانت۔

  • تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟

    تباہ کن سیلاب: قدرتی آفت، انجینئرنگ کی ناکامی یا کرپشن کا کھیل؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پہلی قسط
    دریائے چناب کی طغیانی نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ پاکستان میں اصل خطرہ صرف قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن ہے جو ان آفات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اورملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا کے علاقے آج اجڑے ہوئے دیار کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں چند ہی دنوں کے اندر ایسی تباہی آئی جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا، کھیتیاں اجاڑ دیں اور زندگیوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔

    سات ستمبر 2025 کو ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ ستاسی ہزار کیوسک تک جا پہنچا اور اس کی زد میں آ کر تقریباً اسی فیصد علاقہ ڈوب گیا۔ اس المیے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ڈھائی ملین سے زائد لوگ متاثر ہوئے اور چالیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین پانی کی نذر ہو گئی۔ مگر یہ سب کچھ محض قدرتی آفت نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی غلط پالیسیاں، ناقص انجینئرنگ اور کرپشن کی وہ تاریک کہانیاں موجود ہیں جنہیں دبانے کی بارہا کوشش کی گئی۔ یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ سانحہ واقعی قدرتی آفت تھا یا پھر کرپشن کے بچھائے گئے جال کی پیداوار؟

    اگر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ صرف بارش یا دریاؤں کے ریلوں کا نہیں بلکہ انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ ہیڈ پنجند پر ایک ساتھ دریائے چناب، ستلج اور راوی کا ریلا آیا، ابتدا میں پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ پچھتر ہزار کیوسک تک جا پہنچا جو بعد میں کم ہو کر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار کیوسک رہ گیا، لیکن تب تک تباہی اپنا کام کر چکی تھی۔ علی پور اور جلال پور پیر والا کے کھیت، جہاں کپاس، گنا اورچاول لہلہا رہے تھے، پانی میں بہہ گئے۔ ہزاروں گھروں کی دیواریں بیٹھ گئیں، لاکھوں افراد اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہو گئے اور مقامی معیشت کو ایسا دھچکا لگا جس کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔

    ماہرین اور ماحولیاتی تجزیہ کار اس تباہی کو 2022 کے سندھ کے سیلاب سے بھی زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں جہاں چھ ماہ تک پانی کھڑا رہا تھا۔ان میں نمایاں آواز پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی ہے جنہوں نے اپنی تحقیق اور ویڈیوز میں بارہا خبردار کیا کہ ہیڈ پنجند کے قریب محض نوّے میٹر کے فاصلے پر تعمیر کی گئی ڈاؤن اسٹریم دیوار پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ دیوار دو میٹر تک پانی کی سطح بلند کر دیتی ہے اور ریلا قدرتی سمت میں آگے جانے کے بجائے بستیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی غلطی نہیں بلکہ ایک سنگین انجینئرنگ ناکامی تھی، جس پر برسوں سے وارننگ دی جاتی رہی مگر حکام نے ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔

    یہاں آ کر معاملہ واپڈا کے اس منصوبے پر کھلتا ہے جسے 2018 میں ”ہیڈ پنجند ری ماڈلنگ” کے نام سے شروع کیا گیا۔ اس پر پچاس ارب روپے سے زیادہ لاگت آئی اور اسے ملک کی آبی گورننس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جائے گا اور آنے والے برسوں میں سیلابی خطرات کم ہو جائیں گے۔ لیکن آزاد آڈٹ رپورٹس نے ان دعوؤں کی حقیقت عیاں کر دی۔ ان رپورٹس کے مطابق منصوبے میں استعمال ہونے والا کنکریٹ اور مٹیریل ناقص تھا، ڈیزائن میں بنیادی نقائص موجود تھے اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز درستگی سے تیار ہی نہیں کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود عوام کو تحفظ دینے کے بجائے مزید خطرے میں ڈال دیا گیا۔

    ڈاکٹر ذوالفقار علی نے 2010 ہی سے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے والی دیواریں تعمیر کی گئیں تو نہ صرف پنجند بلکہ گڈو بیراج تک کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔ یہ پیش گوئی 2022 میں درست ثابت ہوئی جب سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیس فیصد تبدیلی ریکارڈ کی گئی اور ہزاروں گاؤں ڈوب گئے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ 2023 میں جب واپڈا کی اندرونی انکوائری شروع ہوئی تو اسے اچانک روک دیا گیا۔

    پھر 2024 میں سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس لیا مگر نتیجہ وہی نکلا جو اکثر ایسے معاملات میں نکلتا ہے، خاموشی اور پردہ پوشی۔ مقامی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر آنے والی شہادتوں نے اس سانحے کا ایک اور رُخ بھی کھولا۔ کئی عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ سیلاب کے دوران بیراج کے گیٹس جان بوجھ کر بند رکھے گئے تاکہ بااثر زمینداروں اور سیاستدانوں کی زمینیں محفوظ رہیں، جبکہ عام بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف انجینئرنگ کی ناکامی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی ناکامی بھی اس تباہی کے پیچھے کارفرما ہے۔ طاقتور طبقے نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے عام انسانوں کو قربانی کا بکرا بنایا اور اس عمل میں حکومت نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔
    (جاری ہے)
    ریفرنسز:
    (7-18 ستمبر 2025): "Pakistan Floods 2025: Ali Pur and Jalal Pur Updates” – https://www.dawn.com/news/live/pakistan-floods-2025
    Times of India (14 ستمبر 2025): "Pakistan Floods: 2.5 Million Affected in Punjab” – https://timesofindia.indiatimes.com/world/pakistan/pakistan-floods-2025
    PTV نیوز (12 ستمبر 2025): "Agricultural Losses in Muzaffargarh” – https://www.ptv.com.pk/news/live/2025-floods-agri-damage
    WAPDA اندرونی رپورٹ (2023): "Head Punjnad Remodeling Audit” – (داخلی دستاویز، دستیاب WAPDA آفیشلز سے)
    سندھ ہائی کورٹ نوٹس (2024): "Petition on Water Flow Changes Due to Barrage Remodeling” – Case No. WP/1234/2024
    باغی ٹی وی رپورٹس (2025): "Mega Corruption in Superband Project” – https://login.baaghitv.com/mega-corruption-exposed-again-in-superband-project/
    انکوائری کمیشن رپورٹ (2021): "Inquiry into Superband Breaches, Irrigation Department” – (داخلی دستاویز، باغی ٹی وی سے حاصل)
    X ویڈیو (ڈاکٹر ذوالفقار علی، @DrMustafa983): "Analysis of Head Punjnad Failure” – https://x.com/
    DrMustafa983/status/1968931780943122503

  • سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے  بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک فوج اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کامیاب حکمت عملی ،سید عاصم منیر پھر ہیرو ٹھہرے
    معرکہ حق میں شاہینوں کی فتح سے پاکستان کی طاقت کو دنیا نے مان لیا،بیرونی توازن قائم
    ملک کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت،کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہوگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان نے بعض امور میں واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے مثلاً فلسطین کے مسئلے، بین الاقوامی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک بلاک کی زبان نہ بولنا پڑے،اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے، مہنگائی اور مالیاتی خسارے سمیت بہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں، بیرونی طاقتیں زیادہ تر معاشی استحکام دیکھ کر اعتماد کرتی ہیں،بدعنوانی، معاشرتی و سیاسی عدم استحکام اور داخلی سیکورٹی کے مسائل سفارتی موقف کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کو اکثر انسانی حقوق، سیاسی آزادی وغیرہ کے معاملات میں عالمی تنقید کا سامنا رہتا ہے، بعض اوقات حکومتی تبدیلیاں یا سیاسی کشمکش کے باعث سفارتی پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں ،جس سے بیرونی پارٹنرز میں اعتماد کم ہو جاتا ہے، پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی بنیادی طور پر فعال متوازن اور اصولی ہے، عالمی سطح پر ایک ایسا کھلا اور بات کرنے والا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ معاملات کو حتمی شکل دیتا ہے، اس حکمت عملی نے اسے کچھ معاشی فوائد، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور عالمی فورمز میں زیادہ سنی جانے والی آواز دی ہے، یاد رہے کامیابی کا دارومدار صرف سفارتی باتوں پر نہیں داخلی استحکام معاشی، سیاسی، سکیورٹی، شفافیت اور حکومت کی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل، مواصلاتی حکمت عملی، ڈپلومیسی کے ذریعے تاثر کو منظم کرنا شامل ہے،داخلی صورت حال میں ملک کے تمام اداروں کو جن میں سول بیوروکریسی، بیوروکریٹ، اعلیٰ پولیس افسران، اقرباءپروری کرنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کرپشن میں ملوث مختلف سول ادارے لینڈ مافیا کے پشت پناہ، سول انتظامیہ اور دیگر اپنا قبلہ درست کریں اور سفارتی حکمت عملی پر عمل کریں، اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر قربان کریں، عوام بھی بھرپور ساتھ دیں تو وطن عزیز کا دنیا میں اہم کردار مزید مستحکم ہو سکتا ہے، علم اور عمل کے سفر پر گامزن ہو جائیں، موجودہ سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو طاقتور اور ایک ذمہ دار ملک بنا دیا ہے،بلاشبہ پاکستان کی موجودہ بین الاقوامی سفارتی حکمت عملی میں پاک فوج جملہ اداروں اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے

  • کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    معروف آزادی پسند کشمیری رہنما اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ مختصر علالت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ مسلم کانفرنس کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے فارسی، اقتصادیات اور سیاسیات میں گریجویشن، فارسی میں ماسٹرز اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارسی کے پروفیسر بھی رہے، تاہم آزادی پسند سرگرمیوں کی پاداش میں قابض بھارتی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

    مرحوم 1987 میں مسلم متحدہ محاذ کے سرگرم رکن رہے اور اس دوران بھارتی انتظامیہ کی دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد انہیں گرفتار کر کے کئی ماہ تک قید میں رکھا گیا۔پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے 1993 میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے داعی تھے اور اپنی جدوجہد کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ زندگی بھر بھارتی مظالم کے خلاف ڈٹے رہے اور آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں لے کر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے خلاف اپیل، کل سماعت ہوگی

    دورہ چین، صدر زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

    افغانستان میں فائرنگ کے دوران بی ایل اے کمانڈر استاد مرید ہلاک

    ٹرمپ کی ٹک ٹاک پابندی کی مدت میں چوتھی بار توسیع

    ایشیا کپ: ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی پاکستانی ٹیم سے معافی،وڈیو جاری

  • اسلامی اتحادعوامی  خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلامی اتحادعوامی خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے موجودہ عالمی دنیا کو دیکھا جائے تو مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم بنیادی طور پر اپنی بقاء، طاقت اور معاشی مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسلام بطور دین ہمیں حق اور انصاف، مظلوم کی حمایت اور باہمی اتحاد کا درس دیتا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کی حکومتیں ہمیشہ ان اصولوں پر نہیں چلتیں ان کی سیاست اکثر بین الاقوامی تعلقات، طاقت کے توازن معیشت اور اپنی کرسی بچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسلامی جنگ یا اسلامی اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو عملی طور پر وہ زیادہ نعرہ ہی رہتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عرب اسرائیل جنگوں میں بھی عرب ممالک متحد ہو کر نہیں لڑ سکے کشمیر یا فلسطین جیسے مسائل پر بھی مسلم دنیا کا موقف تو ہے لیکن عملی اتحاد اور حقیقی قربانی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی بار مسلم ممالک آپس میں ہی جنگوں میں الجھے ہیں جس کی مثالیں موجود ہیں۔

    آج کی جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں مسلم ممالک کی عوام میں درد، محبت اور دینی غیرت اب بھی زندہ ہے لیکن حکومتوں کی سطح پر زیادہ تر فیصلے سیاسی و معاشی مصلحتوں کے تابع ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں حکمران اپنی کرسی اور اقتدار بچانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں قومی مفادات کو اسلامی اتحاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ، روس، چین وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد فیصلے نہیں کر پاتے۔ شیعہ، سنی صوفی، وہابی وغیرہ تقسیمیں اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑے ممالک جیسے ایران اور سعودیہ عرب اپنے اپنے بلاکس بنانے میں لگے رہتے ہیں جس کا نتیجہ دشمنی اسلامی بھائی چارے پر غالب آ جاتی ہے۔ ترکی، ایران، عرب ممالک اور برصغیر کے اپنے اپنے قومی ایجنڈے ہیں ہر ملک اپنی زبان نسل اور جغرافیے کو ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ سے (اُمتِ واحدہ) کا تصور عملی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا میں بے شمار وسائل ہیں تیل، گیس، مدنیات، افرادی قوت مگر ان کا استعمال بکھرا ہوا ہے۔ امیر مسلم ممالک غریب مسلم ممالک کی سنجیدگی سے مدد نہیں کرتے مسلم دنیا میں سوچنے اور سوال کرنے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ زیادہ تر زور جذباتی نعروں پر ہے عملی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالمی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر مسلم ممالک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسلامی اتحاد اسلامی ممالک کی عوام کی خواہش تو ہے لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں۔ جب تک قیادتیں اپنے ذاتی مفادات کو اُمت کے مفاد پر قربان نہیں کریں گی اتحاد محض تقریروں اور قراردادوں تک محدود رہے گا۔

  • زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کا حالیہ بیان ملاحظہ کیجیے:
    "سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا۔ اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ ‘دہشت گرد آ گئے ہیں’ قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دیے گئے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔

    افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی 9/11 کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسايا جا رہا ہے تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالفت الی کو خوش کیا جا سکے اور مغرب کے سامنے ایک ‘نجات دہندہ’ بننے کی کوشش کی جائے۔”

    یہ الفاظ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
    عمران خان کی زبان ایک سنجیدہ قومی رہنما کی بجائے ایک مایوس سیاستدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ قوم میں جھگڑا اور بے اعتمادی بڑھانے والا ہے، جبکہ مسئلے کے حل کی طرف توجہ کم ہے۔

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی؛ یہ خاندان یہاں بس گئے، یہاں کے معاشرے کا حصہ بنے۔ مگر اسی عرصے میں کچھ کیمپوں اور بستیوں میں منشیات، اسمگلنگ اور چھوٹے جرائم کے نیٹ ورک بھی ابھرے۔ سرکاری رپورٹس اور بعض عدالتی فیصلوں نے یہ بات اجاگر کی کہ شناختی دستاویزات کے معاملے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حقائق عوام کے تحفظ کے سوالات کو جُھٹلا نہیں سکتے۔

    سوال بنیادی ہے: جب کسی ملک کے شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو تو ریاست کی ذمہ داری کیا ہو گی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت ترک کر کے غیر محدود پالیسی اختیار کرے؟ یہ اخلاقی اور سیاسی بحث جذباتی ہمدردی سے علیحدہ ہو کر ترتیب سے ہونی چاہیے۔ جب کوئی سابق وزیراعظم مہاجرین کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے تو اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری — عوام کی حفاظت — کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

    "فالس فلیگ” کا الزام سنگین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت قربانیاں دیں۔ سوات، وزیرستان، بلوچستان اور کراچی کے محاذوں پر سینکڑوں جوان اور افسران نے جانیں دیں۔ یہ سب قربانیاں محض کوئی ڈرامہ نہیں ہو سکتیں۔ ایسے الزامات شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور قومی جذبہ متاثر ہوتا ہے۔

    قابلِ توجہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے دوران جانی نقصان ہوا۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد دوبارہ آزادانہ انداز میں قدم جما لیں تو ریاست کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ ماضی میں بعض مذاکراتی تجربات نے یہ دکھایا کہ عبوری مفاہمت کے بعد کچھ گروہیں دوبارہ طاقت پکڑ گئیں۔ اسکول، پولیس چوکیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی نے ادا کی ہے۔ کیا ہم وہی خطرہ دہرانا چاہتے ہیں؟

    جنرل عاصم منیر کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ ایک اور حساس موضوع ہیں۔ پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر فوج کی نیت پر براہِ راست شبہات اٹھانا انتہائی نازک امر ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس قسم کے الزامات اداروں اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسیوں کی شفافیت پر سوال اٹھائیں، شواہد مانگیں، مگر ایسے بیانات جو اداروں کی نیت کو مشکوک کریں، ان کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

    ایک بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اکثر اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا اداروں پر ڈالتے آئے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل واضح رہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو کئی چیلنجز کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے؛ اب جب وہ جیل میں ہیں تو ہر مسئلے کا ذمہ دار ادارہ قرار دینا آسانی بن گیا ہے۔ یہ بیانیہ کسی قومی رہنما کے بجائے ذاتی انا کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے منفی نتائج طویل المدت ہوتے ہیں۔

    بار بار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پالیسیاں "مغرب کو خوش کرنے” کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ دشمن ممالک اسی طرزِ بیان کے ذریعے پاکستان کو کمزور یا کنٹرولڈ دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کسی معتبر سیاستدان کے منہ سے اس بیانیے کی تکرار، ناقدین کے نزدیک، ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کرتی ہے۔قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کس سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کیا وہ ایسے لیڈر کو برداشت کرے گی جو ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتا ہے؟ کیا وہ ایسے بیانات قبول کرے گی جو اداروں اور عوام کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دیں؟ پاکستان کی سلامتی کسی فرد یا سیاسی جماعت سے بڑی ہے۔ ادارے مضبوط رہیں تو ریاست مضبوط رہے گی؛ اور مضبوط ریاستی ادارے ہی ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما رہ سکتے ہیں۔