Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ریاست کے عوام خود پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    یہ دعویٰ اپنی موجودہ شکل میں غلط نہیں قرار دیا جاسکتا یا اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔کیوں کہ ریاست میں واقع ہی ایسے بہت سے افراد ہے جو چاہتے ہیں کے کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے ۔لیکن اس دعوے کے جواب میں کچھ سوال ضرور ذہن میں ابھرتے ہیں جن میں سے سب سے پہلا سوال یہ کہ جو عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ان کا تناسب کیا ہے ؟؟؟یعنی کتنے فیصد عوام ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کے عوام کے سامنے آزادی کا راستہ بھی ہو تو اکثریت کس طرف جائے گی ؟؟؟
    دراصل جب تک ریاست کے باشندوں کے سامنے صرف دو ہی راستے موجود تھے ایک ہندوستان سے الحاق اور دوسرا پاکستان سے تو ایسے افراد کی کمی نہیں تھی جو ہندوستان کی نسبت پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن یہ وہ عہد تھا جب ریاست میں "قومی آزادی ” کی جدوجہد موجود نہیں تھی بلکہ ریاست کے عوام کے حقوق کے لیے برسر پیکار لیڈر اور جماعتیں ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف پاکستان کے حکمرانوں سے بہتری کی امید لگائے بیٹھی تھیں مگر آج ریاست کے اندر بنیادی حقیقت بدل چکی ہے اور یہ حقیقت الحاق کی قوتوں کی جدوجہد سے نہیں بلکہ کشمیر کی مکمل آزادی کے علمبردار قوتوں کی جدوجہد سے بدلی ہے جس کا آغاز ساٹھ کے عشرے میں ایک طرف جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ اور دوسری طرف قومی محاذ آزادی کے قیام سے ہوا تھا اور باد ازاں اس حقیقت کو نوشتہء دیوار بنانے میں مقبول بٹ شہید سے لے کر آج کے کشمیر کے لاکھوں افراد کی بے پناہ قربانیوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے لہذا مذکورہ بالا دعوے کے جواب میں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب چونکہ اصل مقابلہ الحاق کے ہندوستان اور الحاق پاکستان میں نہیں اس لئے آج کی حقیقت کی روشنی میں جوابی دعوی یہ ہیں "ریاست کے عوام کے اکثریت الحاق کے مقابلے میں آزادی کو ترجحیی دیتی ہے "۔

    لیکن ان دونوں دعووں کی اس وقت تک کوئی حثیت نہیں جب تک کہ کشمیر کے عوام سے براہ راست یہ پوچھ نہ لیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں یہ ہیں یعنی جب تک عوام کو غیر مشروط حق خود احتیاری نہ دیا جائے یہ دعوے بے معنی ہے ۔
    فی الحال اپنے اس دعوے کے حق میں الحاق والوں کے پاس یہ دلیل ہے کہ جی اگر کشمیر پاکستان سے الحاق کے حق میں نہیں ہیں تو آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس یا الحاق کی حامی دیگر جماعتوں کی حکومت کیوں بنتی ہے ؟اس کے جواب میں ایک تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ کسوٹی ہے تو پھر کشمیری بھارت کے حق میں ہیں کیونکہ 1987 تک کشمیر کی اکثریتی آبادی والے حصہ میں بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کی حکومت چلی آ رہی ہے ۔
    دوسری بات یہ کہ آزاد کشمیر میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے لازمی ہے کہ آپ "الحاق پاکستان” کے حلف نامے پر دستخط کریں لہذا خودمختار کشمیر والے اس کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتے یوں وہ یہاں کے انتخابی دھارے سے ہیں ہی باہر۔
    موجودہ تحریک حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کشمیری بھارت مقبوضہ علاقے میں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں اور گاڑیوں میں پاکستانی وقت ملا رکھا ہے اس کے علاوہ پاکستان کا دن مناتے ہیں ۔عمران خان کے پرستار ہیں ۔اور پاکستان کے حکمرانوں پر بن آئے جیسے بھٹو کی پھانسی اور ضیاء کی موت تو کشمیری سوگ مناتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

    اس سلسلہ میں کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عوام کا مقصد بھارت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا ہوتا ہے اس کے لئے وہ سینکڑوں طریقے اختیار کرتے ہیں اپنی پہاڑیاں یا پوٹھوہاڑی میں اسے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ غاصب کے خلاف اظہار نفرت کے لئے "جیڑیاں تواڑیاں چیڑاں او ماڑیاں کھیڑاں "والا رویہ اپنایا جاتا ہے ۔اگر کشمیری وہاں پاکستان کے جھنڈے لہراتے ہیں تو وہ آزاد کشمیر اور جے کے ایف کے علم بھی بلند کرتے ہیں۔

    اس کے علاوہ اگر اس دلیل کو آزاد کشمیر کے حوالے سے دیکھا جائے تو بارہا یہاں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارت کے حق میں نعرے لگائے اور ڈڈیال میں جب بارات ڈوبنے کا واقعہ ہوا تھا تو باز شہادتوں کے مطابق لوگوں نے تھانے پر قبضہ کر کہ بھارت کے جھنڈے لہرا دیے تھے اور پھر جب 1953 میں پونچھ کے عوام پر پاکستان کے حکمرانوں نے ستم ڈھائے تھے تو وہاں بھی لوگوں نے اس ہی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا تھا جب کے آپ نے آزاد کشمیر کے گمشاتہ حکمران بھی کئی بار جب اپنے بے اختیار و اقتدار کو جاتا ہوا دیتے ہیں تو بھارت کے ساتھ مل جانے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں تو کیا وہ بھارت سے الحاق کرنا چاہتے ہوتے ہیں ؟؟؟
    اور پھر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پورے کشمیر میں اکثریت الحاق پاکستان کے حق میں ہے تو پھر پاکستانی حکمران طبقے اور ان کے ماتحت کشمیری حکمران خودمختاری کے آپشن سے بدکتے کیوں ہے ؟؟؟ وہ یہ تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ کشمیری قوم کے سامنے تینوں راستے رکھے جائیں اور جس طرف اکثریت رائے دے اس کے مطابق کشمیر کے مسئلے کو حل کر لیا جائے ؟؟؟

    یہ طبقے غیر مشروط حق خوداختیاری کی بجائے صرف دو راستوں پر ہی کیوں بضد ہیں ؟؟؟
    کہا جاتا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ میں صرف دو ہی متبادل ہیں "الحاق پاکستان ” اور "الحاق ہندوستان ” لہذا تیسرے آپشن یعنی خودمختاری کی بات کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اس مسئلہ کو اقوام متحدہ سے باہر نکال رہے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو بھارت اقوام متحدہ کی جھکڑ سے نکل جائے گا (زیڈ اے سلہری ” ایک خطرناک چال” اور کشمیر کو آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا ” روزنامہ جنگ لنڈن)
    اس دلیل کی بنیاد کشمیریوں کو جاہل اور اپنا ابدی غلام سمجھنے کی بنیاد پر ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں اس حوالے سے کم از کم دو بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرائی جا چکی ہے ۔پہلی تبدیلی کا تعلق اقوام متحدہ کے اس کمیشن کے نام کے بارے میں ہے جو 1948 میں ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کا ابتدائی یا اصلی نام "کمیشن برائے جموں و کشمیر” رکھا گیا تھا لیکن پاکستانی حکام کی سفارش پر (باحوالہ امان اللہ خان جنگ انٹرویو ) اس کا نام تبدیل کر کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان رکھ دیا گیا تھا ۔اس کے بعد جب اس کمیشن نے جب اپنی پہلی قرارداد آگست 1948 میں پیش کی تو اس میں کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے
    کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ رائے شماری کے ذریعے مستقبل کا فیصلہ کرے یہ قرارداد قوموں کی حقیقی حق خود ارادیت کے ہم معنی تھی اور اس میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے سلسلہ میں کشمیریوں کو تینوں راستوں کی ضمانت دی گئی تھی اس میں تینوں آپشن تھے یعنی اس میں کشمیر کی آزادی کی برابر گنجائش تھی ۔لیکن بات اگر ایک بار پھر پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے مطالبے پر اس قرار داد میں تبدیلی لا کر اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کر کے کشمیریوں کی آزادی کے راستے کو بند کر دیا گیا اور اس میں کشمیر کے مستقبل کی بجائے کشمیر کے الحاق کے الفاظ لکھ دئیے گئے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کے امکانات کو ختم کردیا گیا۔
    ان تاریخی اور آن دی ریکارڈ حقائق کی بنیاد پر آج بجا طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سے نکال بغیر کشمیریوں کی آزادی کا دروازہ بند کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ کھلولا کیوں نہیں جا سکتا؟؟

    آزادی کا دروازہ بند کرانے اور کھولنے کے عمل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟؟؟
    یہی ناکہ اقوام متحدہ کے موجودہ قراردادوں کی بنیاد پر پاکستانی حکمرانوں کو پورا یقین ہے کہ کشمیری بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے لیکن اگر آزادی کا راستہ کھل گیا تو دنیا کی دیگر اقوام باشمول بھارت و پاکستان کی عوام کی طرح کشمیری بھی آزاد رہنے کو ترجیح دیں گے ۔اس کے علاوہ کوئی اور فرق مجھے تو نظر نہیں آتا اور اگر بنیادی فرق یہ ہے تو پھر یہ دعوی کس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں ؟؟؟

    کشمیریوں کی قومی امنگوں کا پتہ لگانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کشمیریوں کو غیر مشروط اور غیر محدود حق خود اختیاری دیا جائے یہ خود ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں پاکستان یا بھارت سے الحاق یا آزادی ۔اس کے علاوہ جس طریقے سے کشمیر کے لوگوں کی رائے کے بارے میں دعوی کیا جائے گا وہ جھوٹ یا آدھا سچ ہو گا ۔اور آدھے سچ کی بنیاد پر کیے گئے قومی فیصلے کبھی دیرپا نہیں ہوتے اور اکثر آگے چل کر ملک کی ٹوٹ پھوٹ اور بے تحاشہ خون خرابے کا باعث بنتے ہیں ۔
    نوٹ:
    اگست١٩۴٨ء کی قرارداد کے حوالے سے قاضی حسین احمد صاحب نے جو مضمون 13 اگست 1992 کہ جنگ لندن میں لکھا ہے اس میں شاید سہوا انہوں نے 13 اگست کی قرارداد کے الفاظ بدل کر لکھے ہیں اور مستقبل کے فیصلے کے حق کی بجائے الحاق کا حق لکھا ہے پاکستانی سفارتخانے نے جو کتابچہ KASHMIR IN SECURITY COUNCIL چھاپہ ہے اس میں قرارداد کے الفاظ وہی لکھے ہیں ۔جن کا حوالا میں نے اوپر دیا ہے۔

    @zeeshanwaheed43

  • مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق کینسر میں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کو اسپتال میں منتقل کیا گیا مریض کی حالت بگڑنے پر اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہل خانہ اینٹی لیٹر کے اخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی گاؤں میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی ایک نوزائیدہ بچی کا ایک کتیا اور اس کے بچوں نے اس کا پہرہ دیا اورمکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچائی چھتیس گڑھ گاؤں میں جب ایک نوزائیدہ بچی کو کھیت میں بے آسرا چھوڑا گیا تو نہ صرف ایک کتیا نے اس کا پہرہ دیا بلکہ خود اس کے ننھے منے بچوں نے مکمل برہنہ بچی کے بدن سے اپنا جسم مس کرکے اسے حرارت پہنچاکر مرنے سے بچا لیا-

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    چھتیس گڑھ ریاست کے ضلع مونگیلی کے ایک گاؤں سریستال کے کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی اس بچی کے تن سے آنول نال کا ایک ٹکڑا بھی جڑا تھااسے آوارہ کتوں نے بھنبھوڑنے کی بجائے بچایا صبح کو بچی کے رونے کے آوازوں سے کسان متوجہ ہوئے اور بچی تک پہنچے جو زندہ تھی اور اس پر کوئی خراش تک نہ تھی۔

    گاؤں والوں کے کا خیال تھا کہ مادہ کتیا نے رات بھر بچی کا حفاظتی پہرہ بھی دیا ہے بعد ازاں گاؤں کے بزرگوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور بچی کو مکمل تندرست بھی قرار دیا ہے پولیس افسر اے ایس آئی چنتارام بنجاور اسے فوری طور پر مقامی ہسپتال لے گیا اور طبی معائنے کے بعد اس کا نام اکنکشا رکھا گیا-

    بے دھیانی میں بھیجی گئی سیلفی بوائے فرینڈ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی

  • عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کی بڑی جیت . تحریر:عفیفہ راؤ

    عمران خان کو ایک بڑی جیت نصیب ہوئی ہے روس جیسے بڑے ملک نے اسلاموفوبیا پر اسی موقف کی تائید کی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے عمران خان دہراتے چلے آ رہے ہیں۔خاص کر ایک سال پہلے جو فرانس کا واقعہ ہوا تھا اس کے بعد عمران خان کا جو موقف تھا اس کو آج عالمی سطح پر پذیرائی ملی رہی ہے اوراہم بات یہ ہے کہ یہ ملک ہے یا لیڈر خود مسلمان نہیں ہے۔

    روس کے صدر پیوٹن نے کیا کہا ہے وہ تو میں آپکو بتاوں گا ہی لیکن پہلے میں آپ کو یاد کروا دوں کہ جب فرانس کا واقع ہوا تھا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے تھے اس کے بعد سے عمران خان کا کیا موقف رہا تھا۔وزیراعظم عمران خان یہ کہتے رہے ہیں کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو روکنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔وہ اسلاموفوبیا کے خلاف مہم چلائیں گے اور باقی اسلامی ممالک کے لیڈروں کو بھی خط لکھیں گے۔ پیمغمبر اسلام کی گستاخی سے زیادہ تکلیف دہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی اور لیکن ان کے ساتھ مسلمانوں کے رشتے کی مغرب کو سمجھ نہیں ہے۔ ہم اپنی بات ان کو سمجھا سکیں گے۔ ہم آزادی اظہارِ رائے کو مانتے ہیں لیکن اس کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، پیغمبر اسلام کے خاکے اور کارٹون اظہار رائے نہیں بلکہ سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے۔مغرب میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہولوکاسٹ پر بات کرے، یورپ میں چار ممالک ایسے ہیں جہاں ہولوکاسٹ کا ذکر کرنے پر ہی جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ مغرب میں گستاخانہ خاکوں کو نہ روکنا مسلمان حکمرانوں کی ناکامی ہے۔

    عمران خان نے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو ساتھ ملانے کی بات کی تھی وہ یہ کام تو نہ کر سکے کیونکہ اس وقت مسلمان حکمرانوں کے مقاصد ہی کچھ اور ہیں سب سے بڑھ کر سعودی عرب جس کے ساتھ مسلمانوں کا عقیدت سے بھرپور جذباتی لگاو ہے آج وہاں پر محمد بن سلمان یہ بیان دے رہا ہے کہ وہ پانچ سالوں میں سعودی عرب کو یورپ بنائیں گے۔ یعنی ان کے لئے رول ماڈل ہی مغرب ہے وہ اپنی روایات کو چھوڑ کر مغرب کی طرف جا رہے ہیں۔ تو سوچ لیں جب ان کے مقاصد ہی یہ ہیں تو وہ مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔اور کچھ ایسا ہی ہوا تھا تمام اسلامی ممالک نے وقتی طور پر فرانس کی مذمت تو ضرور کی لیکن کچھ وقت کے بعد سب نارمل ہو گیا فرانس کے صدر سے ملاقاتیں بھی شروع ہو گئیں۔ لیکن عمران خان کا یہ کریڈٹ ضرور ہے کہ انہوں نے جو پہلے دن موقف اپنایا تھا۔ وہ اسی پر ڈٹے رہے اور اب ان کو ایک بڑی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کل ایک سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا جس کے دوران وہاں کی ایک صحافی نے ان سے آزادی اظہار پر ایک سوال کیا۔ویسے تو اس سوال کی وجہ یہ تھی کہ روس میں حکام اور خود ولادیمیر پیوٹن کی حکومت پر اپنے سیاسی حریفوں کو جیلوں میں ڈالنے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں لگانے سے متعلق الزامات لگتے رہتے ہیں جس میں کئی ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جو انٹرنیشنل میڈیا میں سرخیوں میں رہے ہیں۔

    پیوٹن نے اس بات کو تو ایڈریس کیا ہی لیکن اپنے جواب میں اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیکر اور فرانس والے واقعہ کی مثال دیتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ پیغمبر اسلام کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور اسلام کے پیروکاروں کے مقدس احساسات کی خلاف ورزی ہے۔صدر پیوٹن نے صاف الفاظ میں کہا کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین کو آزادی کا اظہار نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے اقدامات شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور یہ ان لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے جو اسلام کے ماننے والے ہیں۔اس حوالے سے انھوں نے فرانس میں چارلی ایبڈو میگزین کے دفتر پر ہونے والے حملے کی مثال بھی دی کہ ایسی باتیں انتہا پسندانہ سوچ میں اضافہ کرتی ہیں۔ اور واضح کیا کہ فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی اچھی بات ہے لیکن اس کی کچھ حدود ہیں اور اس سے دوسروں کی آزادی کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔

    جس پر عمران خان نے بھی ٹوئیٹ کی کہ یہ میرے اس پیغام کی تائید ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنا اظہار رائے کی آزادی نہیں۔ ہم مسلمانوں خصوصا مسلم رہنماؤں کو یہ پیغام غیرمسلم دنیا کے رہنماؤں تک ضرور پہنچانا چاہئے تاکہ اسلاموفوبیا کا تدارک کیا جا سکے۔اور حقیقتا یہ عمران خان کا کریڈٹ بھی ہے اس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور اب دنیا نے ان کے موقف کو تسلیم بھی کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ ان کی ایک جیت ہے۔لیکن اب اس جیت میں کئی اور سیاستدان بھی اپنا حصہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سیاستدان جو عمران خان پر ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے تھے وہ اب بھی عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں۔جیسے مولانا فضل الرحمان نے اس پر ٹوئیٹ کی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اظہار رائےکی آزادی یا فن کا اظہار نہیں ھے عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ کی حرمت و تقدس آفاقی ھے جس پر ھم انکو خراج تحسین پیش کرتے ھیں۔تو یہاں میں یہ کہوں گا کہ سیاسی اختلافات ایک جگہ لیکن مولانا صاحب کو عمران خان کو کریڈٹ ضرور دینا چاہیے کیونکہ عالم اسلام میں ایک عمران خان ہی تھا جو اس موقف پر ڈٹا ہوا تھا۔اور آج اسے سفارتی سطح پر ایک بڑی جیت ملی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ جیت ملکی سیاست میں عمران خان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے؟؟

    آج یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ پارٹی تنظیموں کی تحلیل کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کردیا ہے جس میں اسد عمر تحریک انصاف کے نئے سیکرٹری جنرل ہوں گے پرویز خٹک خیبر پختونخواہ کے علی زیدی سندھ کے قاسم سوری بلوچستان کے شفقت محمود پنجاب اور خسرو بختیار جنوبی پنجاب کے صدور ہوں گے ۔جس میں سب سے پہلے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کی یہ تنظیم سازی کرنے کے لئے ان کا میرٹ کیا تھا اور یہ کن اصولوں پر کی گئی ہے۔ ویسے تو اگر عمران خان نے یہ تنظیم سازی کرنی تھی تو کے پی کے الیکشن سے پہلے کرتے تاکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نظر آتا۔ لیکن نہیں وہاں پر الیکشن ہارنے کے بعد یہ سب کیا گیا اور وہ بھی اچانک کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے اور ایک دم سے اعلان ہو گیا۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا کی طلال چوہدری صاحب رات کو کہیں گئے جب وہاں مار پڑی خبر میڈیا تک پہنچ گئی تو پتہ چلا کہ تنظیم سازی ہو رہی تھی۔وہی پی ٹی آئی نے کیا کہ کے پی کے الیکشن میں ہارنے کے بعد تنظیم سازی ہو گئی۔اور جو یہ انتخاب کیا گیا ہے اس میں میرٹ کیا رکھا گیا ہے یہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔پرویز خٹک جو اتنے سالوں سے کے پی کے میں آپ کے ساتھ ہیں ان کی موجودگی میں آپ وہاں سے ہار گئے اور انہی کو آپ نے ایک بار پھر صدر بنا دیا ہے۔دوسری طرف علی زیدی کا صرف ٹوئیٹر پر ایکٹو رہنے کے علاوہ کیا کریڈٹ ہے وہ بھی ہمیں نہیں پتہ۔۔پھر شفقت محمود جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک بڑا نام ضرور ہیں لیکن حلقوں کی سیاست اور ورکرز کے حوالے سے وہ بالکل ایک اچھی چوائس نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ٹوئیٹر پر لوگ کمنٹ کر رہے ہیں کہ کیا عمران خان کو پنجاب میں شفقت محمود سے بہتر کوئی انسان نظر نہیں آیا۔

    اس کے بعد ایک نام جس نے رہی سہی کسر ہی پوری کر دی وہ خسرو بختیار کا ہے۔ ابھی تک جنوبی پنجاب کے لئے انھوں نے کیا کیا تھا جس کو ان کو یہ انعام دیا گیا ہے۔ پھر یہ وہی خسروبختیار ہیں جن کا نام شوگر مافیا اسکینڈل میں تھا کیا یہ وہاں سے کلئیر ہو گئے جو عمران خان نے ان کو یہ عہدہ دے دیا۔اور اسد عمر سے لیکر خسرو بختیار تک ان لوگوں میں جو ایک بات Commonہے وہ یہ کہ ان تمام شخصیات سے جب ہم میڈیا والے کسی ایشو پر ان کا یا ان کی پارٹی کو موقف لینے کے لئے رابطہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں Availableنہیں ہوتے۔ کال سننا تو دور کی بات یہ میسج کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے تو آپ خود سوچ لیں میڈیا والوں کے ساتھ ان کے یہ حالات ہیں تو اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ ان کا کیا رابطہ ہوگا۔یا پھر صرف دکھاوے کے لئے ان عہدوں پر یہ نام بٹھا دئیے گئے ہیں باقی نیچے وہی حالات رہنے ہیں جو کہ اتنے سالوں سے چلے آ رہے ہیں۔تو اگر یہی سب چلتا رہے گا تو عمران خان صاحب ملکی سیاست میں آپ کے مستقبل اور تاریک ہی ہوتا جائے گا اور جو بھی ہو الیکشن آپ نے پاکستان میں لڑنا ہے روس میں نہیں۔ ووٹ آپ نے پاکستان کی عوام سے لینا ہے ان کے مسائل ح کریں ان پر بھی توجہ دیں تاکہ سفارتی سطح کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں بھی آپ کے معاملات بہتر ہو سکیں۔

  • ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ترکی بھی غیروں کی صف میں، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک وقت تھا جب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان خود کو امت مسلمہ کے ایک لیڈر کے طور پر منوانے کے لئے خوب جوش و جذبے کے ساتھ سرگرم تھے۔ اس کے لئے انہوں نے کئی بڑے بڑے فیصلے بھی کئے مسلمانوں کو امت مسلمہ کے نعرے بھی سنائے۔ جس سے ان کو خوب شہرت ملی۔ لیکن اب جو قدم ترکی کی جانب سے اٹھایا گیا ہے اس نے ان کے تمام پچھلے فیصلوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔مطلب وہ کشمیرجس کی حمایت میں ترکی کل تک مختلف فورمز پر آواز اٹھا رہا تھا آج وہ اسی کے خلاف انڈیا کو ڈرونز کی فراہمی کر رہا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ ترکی کی یہ کیسی دوستی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اس کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔

    دراصل ہو یہ رہا ہے کہ ترکی کی ایک کمپنی Zyrone Dynamicsکا انڈیا کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت وہ انڈیا کوMultirotor mini UAV model dronesفراہم کرے گا۔ اس ڈیل کوbeginning of new relation between Turkey and Indiaکا نام دیا جا رہا ہے۔ اور ان ڈرونز کی فراہمی اگلے چند دنوں تک شروع کر دی جائے گی اور آنے والے سال میں کل سو ڈرونز انڈیا کو ڈیلیور کر دئیے جائیں گے۔جن کی Demo flightsمارچ2022میں ہوں گی۔ اور یہ معاملہ صرف ڈرونز کی فراہمی تک کا نہیں ہے۔ بلکہ اس ڈرون بنانے والی کمپنی کے ایک ملین ڈالر کے تیس فیصد شیئرز بھی انڈیا نے حاصل کر لئے ہیں۔ جس کے بعد ترکی نہ صرف یہ ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی انڈیا کو دے گا بلکہ یہ دونوں ممالک مل کر ان ڈرونز کے کاروبار کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے اور ان کی مارکیٹینگ اور سیل کریں گے۔اور یہ وہی ڈرونز ہیں جو ترکی نے آزربائیجان اور آرمینیا کی لڑائی میں آرمینیا کے خلاف استعمال کئے تھے۔ ان کے زریعے آرمینیا کے Tanksاور پورے
    artillery and air defenseکو تباہ کر دیا گیا تھا۔ اور آزربائیجان نے آرمینیا کو ان ڈرونز کی مدد سے شکست دی تھی۔ لیکن اب یہ ڈرونز انڈیا کے ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔

    اور سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا ترکی نہیں جانتا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی انڈیا کے ہاتھ میں جاتی ہے تو وہ اسے کس کے خلاف استعمال کرے گا۔ کیا طیب اردگان مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدہ تعلقات سے لاعلم ہیں؟ترک صدر رجب طیب اردگان جو خود کو امت مسلمہ کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے تھے جو کل تک پاکستان کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے کہ ہماری حکومت نے سعودی عرب کے دباو میں آکر ملائیشیا کے سمٹ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اب خود وہ انڈیا کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ کیسے گزشتہ سال رجب طیب اردگان نے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بین الاقوامی لیول پر تو ان پر کافی تنقید ہوئی تھی لیکن مسلمانوں میں ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔اس کے بعد جس طرح سے وہ تمام مسلم ممالک کو اکھٹا کر رہے تھے اور ایک الگ بلاک بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی اس فیصلے سے بھی طیب اردگان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور دوسرے فورمز پر ان کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں بھی وقتا فوقتا آواز اٹھائی جاتی رہی تھی۔

    ترک صدراس بات پر زور دیتے نظر آتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر جلد از جلد ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی193 رکنی جنرل اسمبلی کے
    76ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھی طیب اردگان کا کہنا تھا کہ۔۔ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے تحت کشمیر میں74 برسوں سے جاری مسائل کو حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ترکی کشمیریوں کے ساتھ ہے، پانچ بڑی طاقتوں کے علاوہ بھی دنیا بہت بڑی ہے۔یہاں تک کہ جب انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی اس پر بھی طیب اردگان نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے اور اب بھی سلگتا ہوا معاملہ ہے۔جس پر انڈیا ان سے کافی ناراض بھی ہوا تھا۔ لیکن کشمیریوں کی طرف سے ان کو کافی پذیرائی ملی تھی۔

    لیکن اب وہی طیب اردگان انڈیا کو ڈرونز فراہم کر رہے ہیں اورسوچیں کہ انڈیا یہ ڈرونز حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے کس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے تو اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے کہ انڈیا کا سب سے پہلا ہدف کشمیر اور پاکستان ہوں گے۔ ان سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کیونکہ چین کے خلاف کچھ کرنے کا تو ویسے ہی مودی سرکار میں کوئی دم نہیں ہے اس لئے وہ اپنے جنگی جنون کو ٹھنڈا کرنے اور اپنی عوام کی نظروں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لئے انھیں کشمیر اور پاکستان کے خلاف ہی استعمال کریں گے۔اور اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو طیب اردگان وہ غیر ملکی سربراہ ہیں جنہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ بار خطاب کیا ہے۔ اور پاک ترک تعلقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ترکی پاکستان کا ایسا اتحادی ہے جس کی سرحد پاکستان سے نہیں ملتی لیکن دل اور روح پاکستان سے جڑے ہیں۔ ان دونوں کی دوستی اور محبت چین سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان نے یہاں تک بھی بیان دیا تھا کہ۔۔ ترکی کے لیے کشمیر کی وہی حیثیت ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔لیکن اپنے اس دوست کو تو تحفہ دینے کے لئے ترکی کے پاس صرف اور صرف ارطغرل ڈرامہ تھا لیکن ہمارے دشمن کے ساتھ ڈرونز کی ڈیل کرکے دوستی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھیجنے کے لئے صرف ترک فنکار تھے جو یہاں آئے اور خوب شہرت بھی حاصل کی لیکن انڈیا کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور کاروبار بھی ایسا جس کا سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستان کو ہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اب کہاں گئے وہ سب بیانات اور نعرے جب طیب اردگان کی ناک کے نیچے انڈیا ترکی کے ساتھ یہ ڈیل کر رہا ہے۔ اب وہ کیوں خاموش ہیں؟دراصل اس کے پیچھے بھی وہی وجہ ہے جو کہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب میں میوزیکل کنسرٹ کروانے کے پیچھے ہے۔

    جس طرح وہ اپنی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرکے سیاحت اور دوسرے صنعتوں پر شفٹ کرنا چاہتے ہیں اور خوب پیسہ بنانا چاہتے ہیں تو اس ڈیل کے پیچھے بھی دراصل ترکی کے مالی مفادات ہیں۔کیونکہ ترکی کے معاشی حالات اس وقت کوئی زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں زبردست گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ترکی کو اگست
    2018 میں اس طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ترکی کا تنازع شروع ہوا تھا اور ٹرمپ نے ترک مصنوعات جیسے سٹیل اور المونیم پر عائد ٹیرف کو دگنا کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے لیرا کی قدر تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح اب بھی لیرا کی قدر ڈالر مے مقابلے میں چالیس فیصد تک کم ہو کر رہ گئی ہے۔کرنسی کے بحران نے کئی ترک شہریوں کو سرکاری طور پر طے شدہ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا ہے جس پر کئی شہریوں کی جانب سے انقرہ اور استنبول میں احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ترکی میں Inflation 21%تک بڑھ چکی ہے۔اور ترکی کی اس صورتحال کا ہمارے دشمن نے مکمل فائدہ اٹھایا ہے۔ اور مودی سرکار نے پاکستان کے دوست ملک کو اپنی جیب میں ڈال کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ امت مسلمہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں اتحاد نام کی کوئی چیز باقی ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ صرف اور صرف مالی مفادات ہیں۔

  • بھارت نے جیلوں میں بند قیدیوں کو زہردے کرمارنا شروع کردیا

    بھارت نے جیلوں میں بند قیدیوں کو زہردے کرمارنا شروع کردیا

    نئی دہلی :بھارت میں نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پانچ قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جیل میں گزشتہ آٹھ روز کے دوران پانچ قیدی پراسرار حالات میں انتقال کرگئے ۔

    دہلی پولیس کے ایک افسرنے بتایا کہ تمام اموات کی مجسٹریل انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔جمعہ کو تہاڑ جیل میں وکرم عرف وکی کے نام سے ایک قیدی کی موت ہوئی جبکہ حکام نے دعویٰ کیا کہ قیدی اپنے سیل میں بے ہوش پایا گیا تھا اور اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیری رہنما جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، انجینئر رشید، ظہور وٹالی، سید شاہد شاہ، شکیل یوسف شاہ اور غلام محمد بٹ بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظر بند ہیں۔

    دوسری طرف غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں وکشمیر ماس موومنٹ نے کہاہے کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی رکنے کا نام نہیں لے رہی اوربھارتی فورسز کسی بھی وقت کسی بھی شخص کا حق زندگی چھین کر اس سے شہید کرسکتی ہیں یا سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتی ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ماس موومنٹ کے سیکرٹری انفارمیشن شبیر احمد نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شوپیان ، پلوامہ اور بجبہاڑہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ قابض بھارتی فورسز نے گھر گھر تلاشی کے نام پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ،خواتین سے بدتمیزی کی اور بزرگوں اور بچوں سمیت مکینوں کو ہراساں کیا اور انہیں شدید سردی میں گھروں سے باہر کھڑا رہنے پر مجبورکیا۔انہوں نے کہا کشمیر میں اس وقت قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔

    انہوں نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کو جبرواستبداد کی ان پالسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور حریت پسند کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کی تحریک سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں نہتے اور معصوم شہریوں کا قتل عام بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اور بھارت کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کا احترام کرنے پر مجبورکری

  • بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی

    بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی

    نئی دہلی :بھارت :اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں دلتوں کے تذلیل،رسوائی اور تشدد ایک عام سی عادت بن گئی ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ایک دلت خاندان میں پیدا ہونا گناہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ بھارت میں اعلیٰ ذات کے ہندووں کی طرف سے دلتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں دلتوں کو ان کنووں سے پانی پینے یا ان مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے جنہیں اونچی ذات کے ہندو استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلتوں کو، جنہیں اچھوت بھی کہا جاتا ہے، بھارت میں سب سے کم ترملازمتوں پر رکھا جاتا ہے اور وہ صدیوں سے ہندو ﺅں کے ذات پات کے نظام کا شکار ہیں اور انہیں ذات پات کے نام پر امتیازی سلوک اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں دلت اونچی ذات کے ہندووں کے ہاتھوں عوامی سطح پرتذلیل کا نشانہ بننے کے مسلسل خوف میں زندگی گزارہے ہیں اور انہیں ناپاک اور کم ذات سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں دلتوں کے لیے محض اونچی ذات کے محلے سے گزرنا جان لیوا جرم ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اونچی ذات کے ہندو دلت خواتین کو اکثر برہنہ کر کے مارتے پیٹتے ہیں اور ان کی عصمت دری کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہرروز اوسطاً تین دلت خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور دو کو قتل کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ فسطائی مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دلتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مودی کے دور حکومت میں انہیں منظم طور پر پسماندگی کی طرف دھکیلا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو دلتوں کو اونچی ذات کے ہندووں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔

  • قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی والدہ انتقال کرگئیں

    قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی والدہ انتقال کرگئیں

    کراچی: قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کی والدہ انتقال کرگئیں۔

    قومی ٹیم کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر اور کپتان شعیب اختر کی والدہ انتقال کرگئی ہیں، رپورٹس کے مطابق شعیب اختر کی والدہ کو طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے والدہ کے انتقال کی خبر سناتے ہوئے کہا کہ میری والدہ رضائے الٰہی سے انتقال کرگئی ہیں اور ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز عصر اسلام آباد کے سیکٹر H-8 میں ادا کی جائے گی۔

    شعیب اختر کی والدہ کے انتقال پر قومی اور عالمی اسپورٹس شخصیات سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ نامور افراد نے افسوس کا اظہار کیا اور والدہ کی مغفرت کی دعا کی ہے۔

  • لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    سائنسدانوں نے لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی برین کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی سنکرون نے دماغی عارضے میں مبتلا شخص کے خیالات کو براہ راست ٹویٹس میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس میں انہوں نے ۔۔ ہیلو دنیا ۔۔ کی ٹوئٹ کی، اس کے لیے 62 سالہ شہری کے دماغ میں ایک خاص چپ ڈالی گئی۔

    یہ بی سی آئی ٹیکنالوجی کا علامتی طور پر ایک اہم لمحہ ہے جو فالج کے شکار لوگوں کے لیے دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنے کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    دوسری جانب دنیا بھر میں مقبول ایپ ٹک ٹاک اب صارفین کو اپنی سائٹ پر کھانے بھی ڈیلیور کرے گی ٹک ٹاک اب صرف کھانوں کی عالمی شہرت یافتہ ایپ ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس اور گرب ہب کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے جس کے بعد سائٹ پر مقبول کھانوں کی ڈیلیوری کی جائے گی۔

    ٹک ٹاک کچن کا مینیو ایپ کی مقبول ڈشز پر مبنی ہوگا اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مینیو میں فیٹا پاستا بھی شامل ہے جس کو گوگل نے 2021 کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ڈش قرار دیا تھا ابتدائی طور پر مینیو میں پاستا، چپس، سمیش برگرز اور کارن ربز شامل ہوں گے-

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کچن کو 300 مقامات پر لانچ کیا جائے گا جو مارچ میں ڈشز کی ڈیلیوری کا آغاز کرے گے جبکہ آئندہ سال کے اختتام تک ٹک ٹاک کچن کے ایک ہزار سے زائد ریسٹورنٹس کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے مینیو میں ہر تین ماہ بعد تبدیلی کی جائے گی منافع میں سے کچھ رقم ان افراد کو بھی دی جائے گی جن کے کھانوں کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر مقبول ہوئی ہوں لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ منافع کس شرح سے دیا جائے گا۔]

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

  • پاکستان نے روایتی حریف بھارت کوشکست دے دی

    پاکستان نے روایتی حریف بھارت کوشکست دے دی

    دبئی :پاکستان نے روایتی حریف بھارت کوشکست دے دی،اطلاعات کے مطابق انڈر 19 ایشیا کپ کے گروپ میچ میں پاکستان نے روایتی حریف بھارت کو زیر کردیا۔

     

     

    میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے دبئی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ بھارتی ٹیم 49 اوورز میں 237 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

     

     

    گرین شرٹس کی جانب سے ذیشان ضمیر نے 5، اویس علی نے 2 ، قاسم اکرم اور معاذ صداقت نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔بھارت کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا تاہم پاکستانی بیٹرز نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں۔

     

     

    گرین شرٹس نے 8 وکٹوں کے نقصان پر 238 رنز کا ہدف آخری گیند پر حاصل کیا اور روایتی حریف کو 2 وکٹوں سے شکست دی۔محمد شہزاد نے 82 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عرفان خان 33، معاذ صداقت اور رضوان محمود نے 29 ، 29 رنز بناکر نمایاں رہے۔

     

     

    شہباز گل

    شہباز گل نے پاکستانی ینگ اسٹارز کو انڈر 19 ایشیا کپ میچ میں فتح پر مبارکباد دی۔معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ انڈر 19 ایشیا کپ میچ میں انڈیا کے خلاف فتح پر پاکستانی ینگ سٹارز سمیت پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ زبردست میچ کھیلا جس میں زبردست فتح حاصل ہوئی۔

     

    واضح رہے کہ انڈر 19 ایشیا کپ میں  پاکستان   نے بھارت کو سنسنی خیز مقابلے میں 2 وکٹوں سے شکست  دے دی۔دبئی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے 238 رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر میچ کی آخری گیند  پر حاصل کیا۔

  • دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    دی گاڈ فادر، تحریر: عفیفہ راؤ

    پانامہ کیس کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جس نے گاڈ فادر کے الفاظ نہ سنے ہوں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ گاڈ فادر کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں۔

    وہ دس Lessonsجو ہر ایک انسان اس فلم سے سیکھ سکتا ہے۔ یہ دراصل وہ دس Lessonہیں جن کو سیکھ کر ہر ایک انسان اپنی زندگی میں ایک بدلاو لا سکتا ہے۔ دی گاڈ فادر، یہ فلم نہ صرف سنیما کا ایک شاہکار ہے بلکہ شاید اب تک کی سب سے بڑیfilm trilogyہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ آج کے دن تک بھی لوگ دی گاڈ فادر کے نام سے بننے والی تینوں فلموں کو نہ صرف شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ بار بار دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان فلموں کو جب بھی کوئی انسان دیکھتا ہے تو وہ ہر باران سے ضرور کوئی نہ کوئی نیا سبق سیکھتا ہے۔ دراصل گاڈ فادر صرف ایک جرم یا مافیا پر بننے والی فلم نہیں ہے بلکہ اس میں CapitalismGreed Family betrayalاور بہت سے دوسرے موضوعات بھی ہیں جن کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن اگرآپ ان فلموں کو دیکھتے ہیں تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان سے بہت سی ایسی چیزیں سیکھ سکتے ہیں جو آپ کو آپکی زندگی میں بہت فائدہ دیں گی۔ ان فلموں سے آپ power, leadership and overall success کے فارمولے جان سکتے ہیں۔ چاہے آپ سرمایہ کار ہیں، ایک چھوٹا کاروبار چلا رہے ہیں یا ملٹی بلین ڈالر کی بزنس کارپوریشن۔۔ آپ کے لئے یہ فلمیں بہت ہی فائدہ مند ہوں گی اور آپ لازمی ان سے کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔۔۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک ایتھلیٹ ہیں یا کوچ ہیں تب بھی یہ آپ کے لئے فائدہ مند ہیں۔ اور ایسا اس لئے ہے کہ ان فلموں میں Human natureکی وہDark sideدکھائی گئی ہے جس کا سامنا ہر ایک انسان کو اپنی زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر ضرور کرنا پڑتا ہے۔

    اس فلم سے ایک انسان جو سب سے پہلا سبق سیکھ سکتا ہے وہ یہ کہ اپنی قیادت پر زور دیں یعنی Assert your leadership
    کبھی بھی اپنے ماتحت لوگوں کو اپنے مخالف مت ہونے دیں۔جب FredoMulgreenکا دفاع کر رہا تھا تو وہ ایک طرف تو مائیکل کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہا تھا اور دوسرا اس کی بہت زیادہ بےعزتی کی وجہ بھی بنا تھا۔ جس کا اثر اس واقع میں ملوث تمام افراد پر ہوا۔ جس کا بعد میں Hymon rothنے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ اس لئے جب آپ کسی کو لیڈ کر رہے ہوں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کے ماتحت جتنے بھی لوگ ہیں ان کی عزت ہو اور کبھی کسی Outsiderکو یہ شو نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کی ٹیم میں کوئی کسی کو بے عزت کر سکتا ہے یا اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ آپ کی ٹیم متحد ہو گی تو ہی آپ کی قیادت کو لوگ تسلیم کریں گے لیکن اگر ٹیم میں ہی اختلافات ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی لیڈرشپ میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اس سے آپ کمزور ہوں گے جس کا کوئی بھی باہر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کوئی فیصلہ کریں تو اسے اپنی ٹیم کے ساتھ ڈسکس کریں اور کسی کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہے تو اس کو کلئیر کریں تاکہ پوری ٹیم متحد ہو اور ایک پیج پر ہو۔ آپ کی ٹیم میں سے کوئی بھی ممبرDisconnect
    نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا Lessonیہ ہے کہ Build Alliancesیعنی اپنے کسی بھی کام میں کامیابی کے لئے دوسروں کے ساتھ اتحاد بنائیں۔ اس فلم میں ڈان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اپنا مقروض بنا کر رکھتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ الائنس بناتا تھا جو ضرورت پڑنے پر اس کوProtectکرسکیں اور اسے فائدہ پہنچا سکیں۔ اس کے نیٹ ورک میں ہر طرح کے لوگ تھے ایک مقامی سٹور چلانے والے سے لیکرملک کے طاقتور ترین لوگوں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کمیشن کے لوگوں کو نئے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے ویٹو کی ضرورت پڑی تو اس کے لئے Virgil salazoکو صبح کے وقت اجازت کے لئے بھیجا یا تھا۔ اور ویٹو کی جو سب سے خاص خوبی تھی وہ یہ تھی کہ
    He was the man of his wordsوہ جو بھی الائنس بناتا تھا یا معاہدہ کرتا تھا اس میں وہ اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ ہر قیمت پر پورا ہو۔ اس کے علاوہ وہ Voilenceکو کبھی بھی ابتدائی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرتا تھا مطلب پہلے پہل آرام سے پیار محبت سے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ہی ہر ایک کام نکلوانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور ہمیشہ ایسی ڈیل بنائی جاتی تھی کہ جس میں دونوں پارٹیوں کا فائدہ ہو۔ اب اگر آج کے دور میں ہم دیکھیں تو ہر ایک انسان کے لئے نیٹ ورکنگ بہت اہم ہے خاص طور پر کاروباری لوگوں کے لئے لیکن اس میں صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ایسی ڈیل بنانی چاہیے جس میں دوسری پارٹی کو بھی فائدہ ہو اگر آپ دوسری پارٹی کا فائدہ سوچتے ہیں جس میں وقتی طور پر آپ کو کوئی خاص benefitنہ بھی ہو تو آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ مستقبل میں یہ ڈیل آپ کو کیسے فائدہ دے سکتی ہے۔ تب ہی آپ کی Deals and working relationsبھی لمبے عرصے تک چل سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ Understand Your Surroundingsیعنی اپنے ماحول کو سمجھیں کہ آپ کے آس پاس کیسے لوگ ہیں وہ کیا سوچتے ہیں۔ Corleone donsاس کام میں ماسٹر تھے۔ وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو بہت اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ وہ اپنے اردگرد کے ہر ایک شخص کا اچھی طرحanalyseکرتے تھے اوران کوسمجھتے تھے اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو یا ان لوگوں کو کہ جن سے آپ کا مقابلہ ہے انھیں سمجھتے ہوئے ایسا پلان بنا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں اور آپ ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور ایک بہت ہی اہم بات جو ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے وہ یہ کہNever Hate Your Enemiesہو سکتا ہے آُپ کو یہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا ہو لیکن ان فلموں کو دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ انسان کو کبھی اپنے دشمنوں سے بہت زیادہ نفرت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے آپ کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ آج کل جس طرح سے مقابلے کا دور ہے تو اس میں ضروری ہے کہ انسان بہت زیادہ حساس نہ ہو وہ ہر ایک چیز کو Personal attackکے طور پر نہ لے۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو پسند کریں لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں اس میں اپنے Emotionsکو حاوی نہ ہونے دیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ایسے دشمنوں کا سامنے نہیں کرنا پڑتا جیسے دشمن Don vetoیا مائیکل کے تھے۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہم سب کو ایسے لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جو ہماری کامیابی کو برداشت نہیں کرسکتے تو ایسے لوگوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے جذبات سے زیادہ عقل سے کام لینا چاہیے۔۔ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم جذباتی ہو کر کوئی فیصلہ کریں تو اس سے ہمیں وقتی satisfactionتو مل جائے لیکن اگر ہم اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے تو ہمیں کبھی بھی آگے چل کر اس پر پچھتانا نہیں پڑے گا۔

    اس کے علاوہHave the Right Teamجب بھی ٹیم بنائیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی ٹیم میں موجود تمام لوگوں کی خوبیوں، خامیوں اور کمزوریوں کا بہت اچھی طرح سے علم ہونا چاہیے۔ تب ہی آپ اپنی ٹیم میں موجود لوگوں کے
    Potentialکا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔Don vetoجانتا تھا کہ اس نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو مختلف حالات میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ اگر صرف Negociationکے لئے بھیجنا ہوتا تھا تو Tom Hegenکو بھیجا جاتا تھا۔ دوسری طرف ڈان یہ بھی جانتا تھا کہ Luca breziکا استعمال کب کرنا ہے۔ اس نے Tesseo and clamenzaجیسے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کر رکھا تھا۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا تھا کہ اہم عہدوں پر تعینات لوگ اپنے ماتحت لوگوں سے ان کی
    Skills and qualitiesکے حساب سے کام لیں تاکہ ہر ایک ٹیم ممبر میں موجود Potenial کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی ٹیم میں مختلف خوبیوں کے لوگ ہوں لیکن ساتھ ہی وہ سب اس قابل بھی ہوں کہ وہ ایک ساتھ کام کر سکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ Conceal Your Intentionsاپنے ارادوں کو کبھی کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور مائیکل اس کام میں بہت ماہر تھا۔ اس کے ارادوں کا صرف تب پتا چلتا تھا جب وہ ان پر عمل کرتا تھا۔ فلم دیکھنے والے آخر تک یہ ہی جاننے کی کوششوں میں ہوتے ہیں کہ مائیکل کیا سوچ رہا ہے۔ جبکہ Sonnyیہ اصول کبھی نہیں سیکھ سکا وہ ہمیشہ چیختا چلاتا رہتا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کا ارادہ کیا ہے سوچیں کہ اگرمائیکل جنازے کے دوران Berziniپر چیخنا چلانا شروع کردیتا تو سب کو معلوم ہو جاتا کہ مائیکل کے دماغ میں کیا ہےاور اس طرح وہ اپنے ارادے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اپنے ارادوں کو صحیح وقت آنے پر ہی لوگوں پر ظاہرکریں کیونکہ اگر آپ وقت سے پہلے اپنے پلان دوسروں کو بتا دیں گے تو ایک طرف تو وہ آپ سے پہلے ہی اپنا کوئی بڑا پلان آپ کے مقابلے میں بنا سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹیں بھی کھڑی کر سکتے ہیں۔ آپ کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ایک اور بات جس کا بہت خیال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ کہ Never Be Carelessکبھی اپنے کام میں اپنے فیصلوں میں لاپرواہی مت کریں۔ جب ڈان اپنے ساتھی مائیکل کو ڈان بننے کی ٹریننگ دے رہا ہوتا ہے تو وہ اس ایک Lessonپر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ کبھی بھی لاپرواہ مت ہونا۔ کیونکہ Vetoنے اپنے اتنے سالوں کے تجربے میں یہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا کہ بہت بڑے بڑے ذہین اور طاقتور لوگ لاپرواہی میں کی گئی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے برباد ہو گئے تھے۔ ویسے تو یہ انسانی فطرت ہے کہ بعض اوقات انسان لاپرواہ ہو جاتا ہے لیکن پھر مستقبل میں اس عادت کی وجہ سے آپ کو پچھتانا بھی پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ چیزیں جو ہمیں ایک وقت پر بہت ہی کم اہم اور معمولی لگ رہی ہوتی ہیں اگر ہم ان سے لاپرواہی برتیں تو وہ ہماری بربادی کی وجہ بنتی ہیں۔

    ایک اور چیز جو ہم ان فلموں سے سیکھ سکتے ہیں وہ یہ کہ اپنے سامنے والے کو ہمیشہ ایسی آفر کریں کہ وہ انکار نہ کر سکے۔Make Them An Offer They Can’t Refuseاس فلم میں Vitoہمیشہ اس اصول پر کام کرتا تھا۔ اور ایسی آفر کرنے کے لئے وہ اپنے مقابل لوگوں کو پہلے اچھی طرح سمجھتا تھا ان کی ضرورتوں کے بارے میں جانتا تھا۔ انھیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے اور کیا چیز نا پسند ہے۔ اس کے بعد وہ لوگوں کو آفر کرتا تھا جس کے بارے میں پھر اس کو پتا ہوتا تھا کہ ٹیبل کی دوسری سائیڈ پر موجود لوگ اس کی آفر کو کبھی ریجیکٹ نہیں کریں گے۔ ویسے مافیا باس ہونے کی وجہ سے اکثر
    Vitoاس کام کے لئے تشدد کا استعمال بھی کرتا تھا۔ لیکن عام زندگی میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آپ دوسری پارٹی کو ایک اچھی آفر دے کر بھی ساتھ ملا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں خود ہمیشہ کم بولیں اور دوسروں کو زیادہ سنیں۔Listen More Than You Talkجب آپ کسی کو سن رہے ہوتے ہیں تو ایک تو آپ اس کی باتوں سے انفارمیشن لے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اس کی Body languageسے بھی آپ کو بہت کچھ سمجھنے کو ملتا ہے لیکن اگر آپ کسی کو سنن کی بجائے خود بولنا شروع کر دیتے ہیں اور خود زیادہ بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے انفارمیشنRecieveکرنے کی بجائے ان کو انفارمیشن Provideکر رہے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی ڈیل کے لئے Negotiate
    کرنا ہو تو دوسروں کو زیادہ بولنے دیں تاکہ آپ کو ان کے ارادوں کا علم ہو سکے جس سے آپ کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی۔یک آخری اورسب سے اہم Lessonیہ ہے کہ Greatness is BuiltVitoپیدا ہوا تو اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک وقت آیا کہ اس کے پاس جو کچھ تھا وہ اس سے چھین لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے سیکھنا تھا اور سب کچھ دوبارہ بنانا تھا۔ ایسی صورتحال میں اس نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا حالانکہ یہ ایک آسان آپشن تھی۔ لیکن اس نے مشکل راستے کا انتخاب کیا اور اپنے آپ کوخود بڑا بنایا۔ اگر ہم انسانی تاریخ بھی دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی Greatnessکے ساتھ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ انھوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایسی Legacyبانئی کہ جسے سینکڑوں ہزاروں سالوں تک یاد رکھا جا سکے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تمام لوگوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ کبھی سست نہیں پڑتے تھے اپنے حالات کے بارے میں شکایت نہیں کرتے تھے۔ بلکہ حالات سے سیکھ کر ایمانداری سے فیصلے کرتے ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔یہ وہ دس Lessonہیں جو ہم ان فلموں سے سیکھ کر اپنے زندگیوں پر اپلائی کر سکتے ہیں اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بہتر طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔