Baaghi TV

Category: بلاگ

  • الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    ٹیکنالوجی کے اتنی ترقی کر لینے کے باوجود اس دور میں بننے والی کار، موبائل فون اور بلب کی کوالٹی پرانے وقتوں کی نسبت اتنی بری کیوں ہے؟ آج کل کی کاروں میں لگژری فیچرز تو بہت آ گئے ہیں موبائل فونزمیں بھی بہترین کمیرے لگائے جا رہے ہیں ان کے کلرز اور Shapeبھی بہت اسٹائلش ہو گئی ہیں اسی طرح بلب میں بھی بہت فینسی فینسی ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ان الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں ہوکر رہ گئی ہے؟ اور پراڈکٹ بنانے والی کمپنیاں کیسے دن دگنی اور رات چوگنی ترقیاں کررہی ہیں؟ امریکہ میں ایک Livermore Fire Station, number sixہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں دنیا کا واحد اور سب سے پرانا ایسا بلب سے جو پچھلے ایک سو اکیس سالوں سے مسلسل روشن ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ کسی Light switchکے ساتھ Connectedنہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ Back up battery and generatorضرور Attachہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سالوں سے کیسے کام کر رہا ہے یہ آج تک کبھی خراب یا فیوز کیوں نہیں ہوا؟حالانکہ یہ بلب ہاتھ سے دیسی طریقے سے بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کمرشل بنیادوں پر بلب کی تیاری بالکل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ لیکن پھر بھی یہ کئی ملین گھنٹوں سے روشن ہے اور ابھی تک کام کررہا ہے جبکہ آج کے دور میں ہم کسی بلب یا لائٹ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

    کچھ وقت پہلے مجھے کسی نے یہ سٹوری بتائی تھی کہ کئی سالوں پہلے ایک ایسا بلب ایجاد کیا گیا تھا جو ہمیشہ کام کر سکتا ہو اور کبھی خراب یا فیوز نہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلب کبھی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ اس کا کوئی بزنس ماڈل نہیں بن سکتا تھا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نہیں اس بلب کو تو بیچنا سب سے زیادہ آسان ہوتا کیونکہ اسے ہر ایک انسان یہ سوچ کرلازمی خریدتا کہ ایک بار اگر خرید لیا تو بار بار کے خرچے سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہی اس بزنس ماڈل کا
    Negative pointتھا ایک بار سیل کے بعد اس پراڈکٹ کا کوئی Repeat customerنہیں بننا تھا اس لئے اس کی سیل ایک حد سے آگے کبھی نہ بڑھ سکتی تھی۔اور یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب
    longlasting light bulbبنا کر بیچے جاتے تھے۔ لیکن جب کچھ عرصے بعد ان کی سالانہ سیل کا Analysis کیا گیا تو پتہ چلا کہ 1923میں OSRAMکے بلب کی سیل 63 millionتھی جو کہ اگلے ہی سال کم ہو کر 28 million ہو گئی تھی۔ یعنی یہ بلب ان کمپنیوں کے لئے ایک فائدہ مند پراڈکٹ کی جگہ نقصان دہ پرڈاکٹ ثابت ہوئی۔جس کے بعد 1924میںGeneva, Switzerlandمیں کرسمس کے موقع پر ان بلب بنانے والی کمپنیوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ جس میں Philips
    International general electricsTokyo electricOSRAM GermanyاورUKکی Associated electircکے ٹاپ ایگزیکٹیو شامل تھے۔ اس میٹنگ میں انہوں نے مل کر ایک Phoebus cartelبنایا۔Phoebus کا مطلب ہے The greek god of light.اور یہ عہد لیا گیا کہ یہ تمام کمپنیاں مل کر کام کریں گی۔ اور دنیا میں لائٹ بلب کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی ڈسکس کیا گیا کہ یہ لائٹ بلب جو لمبے عرصے تک کام کرتے ہیں اگر ان کی قیمت بڑھا بھی دی جائے تو کمپنیاں وہ منافع نہیں کما سکتیں جو کہ Repeat customersسے کمایا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انBulbsکےLife spanکو کم کیا جائے۔ تاکہ ایک بلب خراب ہوگا تو کسٹمر پر لازم ہو جائے گا کہ وہ اس کی جگہ نیا بلب خریدے۔ اس لئے وہ بلب جو کہ 2500 hoursسے زیادہ دیر تک روشن رہ سکتے تھے ان کی جگہ وہ بلب بنانے شروع کئے گئے جو صرف 1000 hoursتک کام کرتے اور اس کے بعد ناکارہ ہو جاتے۔

    اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہ کمپنیاں ایک دوسرے پر کیسے نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ایسا بلب بنا کر مارکیٹ میں نہ بیچے جو کہ 1000 hoursسے زیادہ چل سکے کیونکہ یہ کسٹمرز کو تو یہی کہہ کر اپنی پراڈکٹ بیچتے ہیں کہ ہم آپ کو سب سے بہتر پراڈکٹ دے رہے ہیں۔ اس کے لئے یہ پریکٹس شروع کی گئی کہ ہر ایک کمپنی دوسرے کمپنی کو اپنی Sample productsبھیجتی جن کو ایک سٹینڈ پر لگا کر چیک کیا جاتا اور اگر کسی بھی کمپنی کا بلب ایک ہزار گھنٹے سے زیادہ کام کرتا تو اس کو جرمانہ کیا جاتا۔اگر کسی کمپنی کا بلب تین ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا تو ایک ہزار بلب کی سیل پر کمپنی کو 200 swiss francجرمانہ کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے وہ انجینئرز جو پہلے بلب کے Life span and durability
    کو بڑھانے کے لئے کام کر رہے تھے انہی کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس معیار کو گرانے کا کام کریں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے جس کی وجہ سے یہ Cartelبننے کے چار سال بعد ہی ان بلب کمپنیوں کی سیل میں پچیس فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ ایک طرف تو Repeat customers کی وجہ سے سیل میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف معیار گرانے کی وجہ سے پراڈکٹ کی Costبھی کم ہو گئی لیکن ان کمپنیوں نے بلب کی قیمت وہی رہنے دی جو کہ پہلے تھی اس لئے کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اچھا خاصا منافع کما لیا۔ اور یہ کوئی کہی سنی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ثبوت موجود ہیں کہ کارٹل میں موجود یہ کمپنیاں مل کر اپنی پراڈکٹ کو کسٹمر کے لئے بہتر بنانے کی بجائے صرف اس بات کو یقینی بناتیں تھیں کہ وہ اپنی سیل اور پرافٹ کو کیسے بڑھا سکتی ہیں۔اور جس بلب کی مثال میں نے آپ کو شروع میں دی اس کے بھی اتنا طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ یہ ہی ہے کہ یہ بلب اس کارٹل کے وجود میں آنے سے پہلے کا بنا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اس بلب کا Filamentبھی 4 or 5 wattتک Low power کا ہے۔ اسے فائر اسٹیشن میں نائٹ بلب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بنا کر لگایا گیا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے۔

    اب میں آپ کو بتاوں کہ ایک وقت آیا جب اس کارٹل کا پردہ فاش ہوا اور ان کمپنیوں کی آپس میں کچھ لڑائیاں ہوئیں کچھ نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں جنہوں نے اس کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ جس کے بعد1955میں آ کر یہ کارٹل ختم ہو گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارٹل اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لئے جو طریقے استعمال کرتا تھا وہ آج تک چل رہے ہیں۔اس پر وہ مثال فٹ آتی ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔۔۔یعنی کارٹل ختم ہونے کے بعد بھی اب کمپنیاں خود سے ہی صرف ایسی پراڈکٹ بناتی ہیں جو کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے Planned Obsolescenceکہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو 2003میں Casey neistatکی ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی تھی جس کا ٹائٹل تھا iPod’s Dirty secretجس میں اس نے بتایا تھا کہ کیسے اس کا اٹھارہ ماہ پہلے خریدا گیا Ipodجب کام کرنا چھوڑ گیا اور اس نے ایپل کمپنی کو فون کیا تو آگے سے یہ جواب ملا کہ کیونکہ آپ کے ipodکو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے تو اب اگر آپ اسے ٹھیک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے ڈاک کے ذریعے ہمیں بھیجنا ہوگا جس کا خرچہ تقریبا دو سو پچپن ڈالر سے زیادہ بنتا ہے جبکہ آپ اس سے کم قیمت میں نیا Ipodخرید سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کو کئی ملین لوگوں نے دیکھا اور ایپل کمپنی نے Law suitسے بچنے کے لئےOut of the court settlementبھی کی لیکن ان کی PlannedObsolescence
    نہ رکی۔ 2017میں جب کمپنی کی طرف سے ios updateکیا گیا تو وہ لوگ جن کے پاس پرانے آئی فون تھے ان کی رفارمنس سپیڈ بہت Slowہو گئی لوگوں کو ایپس ڈاون لوڈ کرنے میں مشکلات آنے لگیں اور یہاں تک کہ فونز خود سے شٹ ڈاون ہونے لگے۔ ایپل نے اس کو بیٹری کا ایشو بتایا لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ ایپل میں بیٹری Replaceنہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے وہ فونز ناکارہ ہو گئے۔ ایپل اب تک کئی ملین ڈالرز Law suits settlementsمیں لوگوں کو ادا کر چکا ہے لیکن اس کی پراڈکٹ میں کوئی چینج نہیں آیا۔ کیونکہ Planned Obsolescenceکے فارمولے کی وجہ سے کمپنی جو منافع کما رہی ہے وہ اس جرمانے سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ Planned Obsolescenceاتنی بھی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔1930کی دہائی میں جب امریکہ میں Great depressionآیا اور ¼آبادی بے روزگار ہو گئی تھی۔ اس وقت Real estate broker Bernard Londonنے Planned Obsolescenceکے تحت ایک آئیڈیا دیا تاکہ لوگوں کو روزگار دیا جا سکے اور امریکہ کو ڈپریشن سے نکالا جا سکے۔اس نے امریکی گورنمنٹ کو خط لکھا کہ ایسے کپڑے جوتے اور مشینیں بنائی جائیں جو ایک محدود وقت تک استعمال ہوں اور اس کے بعد وہ ناکارہ ہو جائیں تاکہ لوگ نئی چیزیں خریدیں اور کمپنیاں چلتی رہیں اور لوگوں کو بھی روزگار کو مسئلہ نہ ہو۔
    اسی موضوع پر ایک فلم بھی بنی تھیI kid you not جس کو آسکر ایوارڈ میں Best screen playکے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔جس میں ایک سائنسدان ایک ایسا سفید کپڑا بناتا ہے جو کبھی گندا نہیں ہو سکتا اس پر سلوٹیں نہیں پڑ سکتیں۔ اور وہ سالوں تک استعمال کیاجانے کے باوجود پرانا نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ کپڑا کمپنی مالکان کے لئے اس وجہ سے پریشانی کا باعث تھا کہ اس کے Repeat customers نہیں ہوں گے اور ورکرز اس لئے پریشان تھے کہ اس سے وہ ورکر جو واشنگ کرکے، کپڑوں کو سلائی اور پریس کرکے اپنی آمدن کماتے ہیں ان کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح فیکٹری مالکان اور ورکر دونوں ہی اس سائنسدان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس سائنسدان اور اس کی ایجاد کو ختم کیا جا سکے۔لیکن جو بھی ہو Planned Obsolescenceپھر بھی Consumersکے لئے پریشانی کی ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے یورپی یونین اور امریکہ کی پچیس ریاستوں کو یہ قانون بنانا پڑا کہ لوگ اپنی مشینوں کو مرمت کروا سکتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ وقت تک استعمال کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں پر یہ لازم کیا گیا کہ وہ اپنی پراڈکٹ اس طرح بنائیں کہ ان کو مرمت کرنے میں مشکل نہ ہو۔ اور ان کے Spare partsبھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔لیکن اس قانون سے بھی کام بن نہیں سکا Planned Obsolescenceکے لئےکمپنیوں نے کسٹمر کی Psychology سے کھیلنا شروع کیا۔

    لائٹ بلب کی طرح ایک وقت تھا کہ فورڈ کمپنی بہت مضبوط کاریں بناتیں تھیں جو سالہا سال چلتیں اور ان کو بدلنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی۔ ایک وقت آیا جب امریکہ میں ہر ایک کے پاس یہ کاریں تھیں جس کی وجہ سے کمپنی کی سیل بہت کم ہو گئی تو انھوں نے Planned Obsolescenceکا یہ فارمولا لگایا کہ ان کاروں کو مختلف رنگوں میں بنانا شروع کیا اور ہر سال ایک نئے رنگ کی کار مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اس طرح جس کسٹمر کو وہ رنگ پسند آتا وہ اسے خریدنا شروع کر دیتے۔ رنگوں کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیاں شروع کی گئیں۔یہ وہی کام ہے جو اس وقت موبائل فونز والی کمپنیاں کر رہی ہیں کہ ہر سال صرف کلر اور Shapeمیں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے ایک نیا ماڈل پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کہ فیشن اور برانڈ Consciousہیں اور جن کے لئے افورڈ کرنا بھی مشکل نہیں ہے تو وہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود نیا ماڈل خریدتے ہیں اور کمپنی کی سیل بڑھاتے ہیں۔ہر کچھ عرصے بعدTrendsکوRecycleکیا جاتا ہے۔ انھیں نئے فیشن کا نام دے کر لوگوں کو Attractکیا جاتا ہے اور پیسہ بنایا جاتا ہے اور یہ ہے وہ بزنس ماڈل جس کو یہ کمپنیاں Adoptکرکے اپنا قد بڑے سے بڑا کرتی جاتی ہیں۔

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    روس اور یوکرین تنازع،عالمی جنگ کا خدشہ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو بہت زیادہ ہوا دی جا رہی ہے انٹرنیشنل میڈیا اس پر زور و شور سے رپورٹنگ کر رہا ہے۔ روس نے جنگ سے متعلق خبروں کو بہت بار مسترد کیا ہے اور جہاں تک یوکرین کا تعلق ہے تو اس کے لئے ویسے ہی یہ ممکن نہیں کہ وہ خود سے جنگ میں پہل کر سکے۔ لیکن مغرب اور اس کے اتحادی جس زور و شور سے اس تنازعہ پر بیانات دے رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روس اور یوکرین سے زیادہ دوسرے ممالک چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنگ چھڑ جائے اور پھر وہ اس جنگ کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر یہ بات یہاں تک نہیں رکے گی بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی تنازعوں کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف جا سکتی ہے۔
    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی اصل صورتحال کیا ہے؟
    بارڈر پر فوجیوں اور اسلحہ کی تعداد بڑھانے کی وجہ کیا واقعی جنگ کی تیاری ہے؟
    وہ کون سے ممالک ہیں جو یہ جنگ کروانا چاہتے ہیں؟
    اس پر تو آج کی ویڈیو میں بات کریں گے ہی لیکن اگر آپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو ضرور کر لیں اور بیل آئیکون کو بھی ضرور پریس کیجئیے گا تاکہ آنے والی تمام ویڈیوز کا نوٹیفکینشن آپ کو بروقت ملتا رہے۔
    اس وقت روس اور یوکرین تنازع کو کئی ممالک کی طرف سے بہت زیادہ اچھلا جا رہا ہے حالانکہ روس شروع دن سے کہہ رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
    اس کے علاوہ یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyکا بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ وہ ایک ملک ہے جوچاہتا ہے کہ یہ تنازع ختم ہونے کی بجائے کسی جنگ کی صورت اختیار کرلے امریکی صدر جو بائیڈن بار بار یہ اعلان کر رہے ہیں کہ یہ مخصوص امکان موجود ہے کہ اگلے ماہ روس یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ اور اگر روس یوکرین میں مداخلت کرتا ہے تو امریکہ اس کے اتحادی اور شراکت دار بروقت ردعمل دیں گے۔ جو بائیڈن نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا ہوا ہے کہ اگر روس نے حملہ کیا تو وہ ذاتی طور پر پیوٹن پر پابندیاں ضرور لگائیں گے۔اب اگر امریکہ کا روس کے خلاف یہ موقف ہے تو اس کا اہم اتحادی برطانیہ کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ برطانوی وزرا بھی روس کو خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس کی حکومت نے یوکرین کے خلاف کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یوکرین میں روسی فوجی مداخلت ایک بہت بڑی سٹریٹجک غلطی ہو گی جس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ روس کے انکار کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بار بار کیوں جنگ کی باتیں کر رہے ہیں اور روس پر یہ الزام کیوں ہے کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری میں ہے اس نے بارڈر پر نفری کی تعداد میں کیوں اضافہ کیا ہے؟ کیوں ان دو ملکوں کے تنازع کو تیسری عالمی جنگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

    اس وقت اگر روس کے بارڈر پرتعینات فوجیوں اور اسلحہ کی بات کی جائے تو سی این این کے مطابق106000 روسی فوجی تعینات ہیں ان کے علاوہ 21000 بحریہ اور فضائیہ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بیان دیا ہے کہ ان کو ملنے والی خفیہ اطلاعات میں یہ واضح ہے کہ60 روسی جنگی گروپ یوکرین کی سرحد پر موجود ہیں جو روس کی کل فوج کا تقریبا ایک تہائی بنتے ہیں۔جبکہ عام حالات میں یہاں صرف35000 روسی اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود روس کی جانب سے بار بار یہی اصرارکیا جارہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر روس کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ایسی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں یا پھر یہ سب تیاریاں کیوں ہو رہی ہیں۔دراصل چند دن پہلے روسی وزارت دفاع نے چند تصاویر جاری کی ہیں جن میں روسی دستوں کو یوکرین کی سرحد کے قریبRoustouvکے تربیتی مرکز کی جانب گامزن دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ دستے ایسے بھی ہیں جو چار ہزار میل دور مشرقی روس سے آئے ہیں۔اور اس تمام Movement
    کی وجہ یہ ہے کہ روس نے اپنے کئی ہزار فوجی مشترکہ عسکری مشقوں میں حصہ لینے کے لئے بیلا روس بھیجے ہیں۔ اور یہ سلسلہ فروری کے آخر تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔ کیونکہ 10 سے 20 فروری کے درمیان روس اپنے مزید فوجی بھی بیلا روس بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس نے اپنے جدید ترین لڑاکا طیارےSU- 35بھی بیلاروس بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن نے فروری میں روس کی جانب سے حملے کی بات کی ہے۔یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں ایک یہ کہ یوکرین کا دارالحکومت بیلاروس کی سرحد سے سو میل سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیلاروس کے رہنما
    Alexander Lukashenkoروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حمایتی ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ جنگی مشقوں کی آڑ میں دراصل روس جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔جبکہ اگر جنگی مشقوں کی بات کی جائے تو ضروری نہیں ہے کہ یہ یوکرین پر حملے کے لئے کی جا رہی ہیں کیونکہ روس تو اسی مہینے دنیا بھر میں بحری مشقیں بھی شروع کرنے والا ہے اور یہ مشقیں بھی تقریبا فروری تک ہی چلیں گی۔ ان میں140 جنگی بحری جہاز اور سپورٹ کشتیاں،60 طیارے، اور تقریبا10000 فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔

    جنگی ٹینک، افرادی قوت، اور بکتر بند گاڑیوں کو لے جانے کے قابل چھ روسی بحری جہاز انگلش چینل عبور کر کے عسکری مشقوں کے لیے بحیرہ روم جا رہے ہیں۔ جبکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ روس کے لئے یہ ایک مشکل چوائس ہے کہ وہ یوکرین پر بحری راستے سے آکر زمینی حملہ کرے۔ اس لئے جن مشقوں کو بنیاد بنا کر جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں ان میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی اور اس کے علاوہ بھی جب جنگ کرنا ہو تو فوجیوں اور اسلحے کے علاوہ بھی بہت سی تیاریاں ہوتی ہیں جو ایک ملک کوکرنا ہوتی ہیں جس کی ایک مثال موبائل فیلڈ ہسپتال بھی ہیں اور روس کی طرف سے ایسی کسی تیاری کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسری جانب روس کی مشقوں اور فوجی Movementکے جواب میں امریکہ کی جانب سے چند روز پہلے یوکرین کے لیے90 ٹن کی فوجی امداد بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر جو بائیڈن نے دسمبر کے مہینے یوکرین کے لئے 20 کروڑ ڈالر کا سیکیورٹی امداد پیکج بھی منظورکیا تھا۔اور اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے جس طرح جنگ کا واویلہ مچایا جا رہا ہے تو آپ خود سوچ لیں کہ ایسی صورتحال میں روس اور اس کے اتحادی کیسے خاموش ہو سکتے ہیں۔اور اس وقت روس کو جو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے وہ چین کی ہے۔اس تنازعہ کے حوالے سے چین کا موقف یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کو اپنی سرد جنگ والی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات چھوڑ کر امن اور استحکام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے جائز سیکیورٹی خدشات پر مکمل غور کریں۔ دشمنی اور تصادم سے گریز کیا جائے اور باہمی احترام کی بنیاد پر مشاورت کے ذریعے اختلافات اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

    اگر حالات کا مکمل ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ امریکہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے لڑائی شروع کرنے کا امکان زیادہ ہے اور اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو روس جواب دینے پر مجبور ہو جائے گا۔یہ صورتحال ویسی ہی ہے جیسی2008 کے بیجنگ اولمپکس کے دوران جارجیا میں تھی۔ روس نے اقوام متحدہ کی جانب سے اختیار کیے گئے امن معاہدے کو قبول کر لیا تھا لیکن امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے کچھ ممالک نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ویسے بھی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے یہ دیکھا گیا ہے کہ روس زیادہ تر Defenderکے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس لئے مغربی ممالک کو روس پر اتنا دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنے دفاع میں حملہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔لیکن یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ امریکہ کے لئے یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ وہ روس کے لئے کوئی مشکل کھڑی کر سکے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں بھی اندرونی طور پر ناراضگیاں پائی جاتی ہیں۔
    امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اپنی سٹریٹجک ضروریات کے حوالے سے بنیادی اختلافات ہیں۔جرمنی اور امریکہ کی انتظامیہ کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں۔ اس لئے جب مغربی طاقتوں کے درمیان پہلے ہی اختلافات اور مختلف معاملات پر رسہ کشی ہو رہی ہے تو ایسی صورتحال میں اگر یوکرین اور روس کا تنازع بڑھا تو یقینا یہ بحران پھر صرف روس اور یوکرین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور مختلف اتحادیوں کے درمیان موجود دراڑیں بھی سامنے آجائیں گی اور اس سے نئے بحران جنم لیں گے۔ اور اس وقت دفاعی طور پر جس طرح سے تمام ممالک اپنے آپ کو مضبوط کر رہے ہیں جس طرح کی ٹیکنالوجی حاصل کی جا چکی ہیں اس کے بعد یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ کوئی بھی تنازع کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • فخر زمان قلندرز کی جانب سے سنچری بنانے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

    فخر زمان قلندرز کی جانب سے سنچری بنانے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

    لاہور: فخر زمان قلندرز کی جانب سے سنچری بنانے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کو6 وکٹوں سے شکست دی۔

    کراچی میں کھیلے جانے والے اس میچ میں فخر زمان نے 106 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس کی بدولت لاہور نے ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کی جبکہ کراچی کو مسلسل تیسری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    فخر زمان نے کراچی کنگز کے خلاف پاکستان سپر لیگ میں 1500 رنز مکمل کیے انہوں نے یہ کارنامہ 52 اننگز میں انجام دیا۔

    فخر زمان پاکستان سپر لیگ میں1500مجموعی رنز بنانے والے چوتھے کرکٹر ہیں ،ان سے قبل بابر اعظم، کامران اکمل اور شعیب ملک بھی یہ سنگ میل عبور کرچکے ہیں۔

    اس کے علاوہ فخر نے کراچی کنگز کے خلاف پی ایس ایل کی گیارہویں سنچری اسکور کی، وہ پی ایس ایل میں سنچری بنانے والے آٹھویں کھلاڑی ہیں۔

    واضح رہے کہ کامران اکمل نے ٹورنامنٹ میں3، شرجیل خان نے2 سنچریاں اسکور کیں تھیں جبکہ کولن انگرم، کیمرون ڈیلپورٹ، رائلی روسو، کرس لن اور عثمان خواجہ ایک ایک سنچری کرچکے ہیں۔

    اس کے علاوہ فخر زمان پی ایس ایل میں لاہور کی جانب سے سنچری کرنے والے دوسرے بیٹر ہیں ،اس سے قبل کرس لن نے بھی لاہور قلندرز کی جانب سے سنچری اسکور کی تھی۔

  • ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟؟؟

    ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟؟؟

    نیلی (شناخت کی حفاظت کے لیے نام تبدیل کر دیا گیا)، ایک شیف، سوچتی تھی کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے ساتھیوں کو دھوکہ دیا وہ خوفناک ہیں، یہاں تک کہ اس نے کئی واضح ڈائری اندراجات میں ٹیگ (نام دوبارہ تبدیل کر دیا!) کو دھوکہ دیا، جسے وہ میرے ساتھ شیئر کرنے کے لیے کافی مہربان تھی۔ ، اس نے جذباتی طور پر جھنجھوڑ دینے والے سوال کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، "ہم اپنے پیارے سے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟” صفحات اور صفحات کے ذریعے، وہ اپنے جذبات کے راستے کا پتہ لگاتی ہے جس کی وجہ سے اسے ٹیگ پر دھوکہ دیا گیا۔ تاہم، وہ ابھی تک صحیح معنوں میں سمجھ نہیں پائی ہے کہ ہم اپنے پیارے سے دھوکہ کیوں دیتے ہیں۔

    نیلی کو لگتا ہے کہ اس کی زندگی ٹھیک تھی اس سے پہلے کہ وہ کسی اور کو چومے۔ یہ بالکل ٹھیک تھا، اور پرجوش نہیں تھا۔ "میری زندگی اچھی رہی ہے۔ ٹیگ اور میرا بیٹا مجھ سے پیار کرتا تھا اور میں ان سے پیار کرتا تھا۔ اگرچہ یہ نیرس تھا، تقریبا سٹوک – مجھے لگا جیسے میں محبت کو برداشت کر رہا ہوں۔ میں نے کبھی کبھی اپنے آپ کو پھنسا ہوا محسوس کیا اور جب بھی میں نے اس بات کا تذکرہ ٹیگ سے کیا تو وہ پریشان ہو جاتا۔ اس نے مجھے بھی تکلیف دی۔ میں نے اپنے جذبات پر سوال کرنے میں برسوں گزارے۔ جب سے میں نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، میں اپنے دماغوں کو یہ سمجھنے کے لیے چکر لگا رہا ہوں کہ ہم اپنے پیارے سے دھوکہ کیوں دیتے ہیں۔ اگر اہم رشتے میں محبت ہے، تو کیا چیز ہمیں بھٹکنے کی طرف لے جاتی ہے؟” نیلی اپنی ڈائری میں لکھتی ہے۔

    اس نے اتنی دیر تک مردوں اور عورتوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ایک دن، اس نے ایک ساتھی کارکن، بروک کے ساتھ لالچ میں ڈالا، جو اس نے اپنی ڈائری میں بیان کیا ہے، "ایک حقیقی چھیڑ چھاڑ”۔

    "میں نے اسے بوسہ دیا، لیکن اس کے ساتھ کبھی نہیں سویا۔ میں مستقبل میں اس پر غور کر سکتا ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے بارے میں برا نہیں لگتا، جو کافی حیران کن تھا کیونکہ میں نے سوچا کہ میں ٹیگ پر دھوکہ دہی کے لیے خوفناک محسوس کروں گا۔ کیا میں محبت سے باہر ہو رہا ہوں؟ یا، کیا عورت دھوکہ دیتی ہے اور پھر بھی پیار کر سکتی ہے؟ میرے تجربے نے مجھے سکھایا ہے کہ کوئی بھی نہیں، واحد وجہ ہے کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ سب بہت پیچیدہ ہے، "نیلی لکھتی ہیں۔

    ہم یہ سمجھنے کے لیے Nellie کی ڈائری کو پلٹتے رہ سکتے ہیں کہ آپ جس سے پیار کرتے ہیں اسے دھوکہ دینا کیسا محسوس ہوتا ہے، لیکن، میری رائے میں، ایک ماہر ہمیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ چنانچہ، میں نے شازیہ سلیم (ماسٹرس سائیکالوجی) سے بات کی، جو علیحدگی اور طلاق کی مشاورت میں مہارت رکھتی ہیں۔
    جب میں نے شازیہ سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنے پیارے کو کیسے دھوکہ دے سکتا ہے، تو اس نے کہا کہ اکثر ایسے افراد میں جذباتی شعور کی کمی ہوتی ہے۔ "وہ اپنے جذبات کی شناخت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کچھ دوسرے معاملات میں، وہ ایسے رشتے سے باہر سنسنی تلاش کرتے ہیں جو پھیکا اور نیرس ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں، وہ اپنے عمل کے نتائج کو سمجھے بغیر دھوکہ دیتے ہیں،” وہ کہتی ہیں۔

    لہذا، آئیے اسے بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرنے کے لیے "کسی ایسے شخص کے ساتھ دھوکہ دہی کریں جسے آپ نفسیات پسند کرتے ہیں”۔

    1. ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟: خود کی تلاش
    خود کے نئے احساس کی تلاش اس سوال کے جوابات میں سے ایک ہے، "ہم اپنے پیارے سے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟” دھوکہ دینے والوں کے لیے، زنا ایک مسئلہ کم اور ایک وسیع تجربہ ہے جو ترقی اور تبدیلی کا وعدہ کرتا ہے۔ بہت سے دھوکے بازوں کے لیے، بے وفائی دبائے ہوئے جذبات کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے – یہ انہیں آزادی دل سکتی ہے۔ خود تلاش کرنے کے خیال سے اندھا ہو کر، کسی نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے پیارے سے دھوکہ دیتے ہیں۔

    مرد خاص طور پر جذباتی سیلاب کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ جب وہ جوان ہوتے ہیں تو انہیں اکثر "مرد اپ” کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ان نام نہاد "مردانہ معیارات” کے مطابق پروان چڑھتے ہوئے، وہ اپنی خوشیوں اور درد کو دبا سکتے تھے۔ اس طرح، ان کے لیے، زنا زیادہ رہائی کا باعث ہے، جذبات کا ایک دھماکہ جو ان کے حال کو کچھ دیر کے لیے دھندلا کر سکتا ہے اور انھیں یہ سمجھنے سے باز رکھتا ہے کہ ہم اپنے پیارے سے کیوں دھوکہ دیتے ہیں۔ کوئی شخص جذبات سے اندھا ہو سکتا ہے اور اس وجہ سے یہ نہیں سمجھ سکتا کہ آپ جس سے پیار کرتے ہیں اسے دھوکہ دینا کیسا لگتا ہے۔
    تاہم، بہت سے مرد اور عورتیں صرف کچھ وقت کے لیے اپنے بظاہر مبہم تعلقات سے بچنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود کو جوان اور غیر بوجھ محسوس کریں۔ زیادہ تر اکثر وہ اپنے اعمال کے اثرات کے بارے میں نہیں سوچتے ہیں یا شاید ان کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ "ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟” چونکہ وہ صرف اپنے لیے دیکھ رہے ہیں۔

    کچھ پچھتاوے اور "کیا اگر” تلاش کرنے کا تجسس کسی فرد کو رشتے میں دھوکہ دے سکتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ شراکت داروں کے ساتھ کتنا ہی لطف اندوز ہوں۔ یہ لوگ تعلقات سے باہر جنسی تعلقات میں ملوث ہوتے ہیں تاکہ یہ دیکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی دوسرا راستہ منتخب کیا ہوتا تو وہ کون ہوتے۔

    2. غفلت ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے ہم کسی سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ دیتے ہیں۔

    کوئی شخص اپنے پیارے کو کیسے دھوکہ دے سکتا ہے؟ کسی نظر انداز شخص سے پوچھیں۔ جب نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے غیر اہم محسوس کیا جاتا ہے، تو یہ اپنے اندر خالی پن کو جنم دے سکتا ہے۔ اسے پُر کرنے کے لیے، ایک شخص اپنے رشتے سے باہر محبت کی تلاش کر سکتا ہے۔ رشتے میں حتمی ہونے کا احساس کسی دوسرے شخص کے لیے جذبات کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے – جیسا کہ گیری کے ساتھ ہوا، ایک اکاؤنٹنٹ۔
    گیری نے پانچ سال کی اپنی گرل فرینڈ کو دھوکہ دیا جب اسے محسوس ہوا کہ ان کا رشتہ ختم ہو رہا ہے۔ "دھوکہ دہی اس سے ردعمل حاصل کرنے اور یہ دیکھنے کی آخری کوشش تھی کہ آیا اسے پرواہ ہے۔ اس نے واقعی ایسا نہیں کیا اور مجھے میرا جواب مل گیا،” وہ کہتے ہیں، "میں یہ جاننے کے لیے دھوکہ دہی کی سفارش نہیں کرتا ہوں کہ آیا آپ کا رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ دونوں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر آپ کے ساتھی کی دوبارہ اعتماد کرنے کی صلاحیت۔”

    قربت کی کمی بھی شاید یہی وجہ ہے کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ دیتے ہیں۔ جب ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں تو ایک فرد کہیں اور قربت کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں، اپنی خواہشات کو پورا کرنے سے پہلے، آپ اپنے ساتھی سے بات کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں – آپ زنا میں ڈوبنے سے پہلے سونے کے کمرے میں چیزوں کو مسالا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی، جس شخص سے آپ محبت کرتے ہیں وہ اب آپ سے محبت نہیں کرتا۔ یہ صرف ہوتا ہے۔ اور آپ سے پیار کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، وہ اسے کہیں اور تلاش کرتے ہیں۔ ایک بار جب محبت ختم ہو جائے تو اس محبت بھرے احساس کو واپس لانا مشکل ہو سکتا ہے۔

    3. ایڈرینالین رش دھوکہ دینے کی خواہش کو فروغ دے سکتا ہے۔

    فتنہ کو وجہ سے گناہ کہا گیا ہے۔ جب کوئی آپ کو کوئی کام نہ کرنے کو کہتا ہے، تو آپ نے اسے اور بھی زیادہ کرنے کی خواہش محسوس کی ہو گی، سنسنی تلاش کرنے کے لیے – ایسی سوچ "کسی ایسے شخص کو دھوکہ دے گی جس سے آپ نفسیات سے محبت کرتے ہیں” کے کیٹلاگ میں شامل ہوں گے۔ سنسنی کے متلاشیوں کے لیے، ماورائے ازدواجی تعلقات یا جنسی تعلقات کا عمل ہی دلچسپ اور ممنوع ہے، جو اس سوال کا جواب دیتا ہے، "آپ جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟” ایسے ایڈرینالائن کے متلاشی جو قوانین کو توڑتے نظر آتے ہیں اکثر اس کے امکان سے پرجوش ہوتے ہیں۔

    "ایک فرد کی زندگی میں آزمائشیں ہمیشہ موجود رہیں گی۔ دوسرے لوگوں کے پاس ایسی چیزیں ہو سکتی ہیں – جیسے ایک بہتر کار یا گھر یا طرز زندگی – جو آپ اپنی زندگی میں چاہتے ہیں۔ لیکن، اگر آپ موازنہ کرتے رہیں اور آزمائش میں پڑ جائیں، تو آپ معمول کی زندگی کیسے گزاریں گے؟ ہمیشہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو آپ کے ساتھی سے زیادہ پرکشش ہوتا ہے۔ فتنہ سے لڑنے کے لیے ضبط نفس کی ضرورت ہے۔ آپ کو اپنے آپ سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنے جذبات کو کس حد تک سنبھال سکتے ہیں۔ یہ سب خود آگاہی کے بارے میں ہے،‘‘ شازیہ کہتی ہیں۔

    4. مطلوب یا مطلوبہ محسوس کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ کوئی شخص دھوکہ دے سکتا ہے۔

    ہم جس سے پیار کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟ یہ کم خود اعتمادی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ جب لوگ اپنے بارے میں اچھا محسوس نہیں کرتے ہیں، تو وہ اعتماد محسوس کرنے کے لیے دوسرے ذرائع سے توثیق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ کا ساتھی آپ کے جذبات کا جواب نہیں دیتا یا آپ کو اپنے بارے میں دکھی محسوس کرتا ہے، تو اس یقین دہانی کی تلاش آپ کو دھوکہ دینے پر آمادہ کر سکتی ہے۔
    ڈیلن (شناخت کی حفاظت کے لیے نام تبدیل کر دیا گیا)، ایک گرافک ڈیزائنر نے کہا کہ اس نے اپنے ساتھی شان کو دھوکہ دیا کیونکہ وہ مطلوبہ محسوس کرنا چاہتا تھا۔ "شان بہت کامیاب ہے – اس حد تک کہ جب ہم سماجی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں، وہ توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ایسا لگتا تھا جیسے یہ سب کچھ اس کے بارے میں ہے اور مجھے ایسا لگا جیسے میں اس کے سائے میں ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں نے دھوکہ دیا کیوں کہ میں کم مطلوب محسوس کرنے لگا۔ یہ میرے لیے دھوکہ دہی کی ایک واضح علامت تھی۔ یہ شاید میری خود غرضی بھی تھی، لیکن ساتھ ہی میں نے بہت طویل عرصے کے بعد خود کو آزاد محسوس کیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

    ڈیلن کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی نے اسے ظاہر کیا کہ اس سے نمٹنے کے لئے اس کے پاس کافی عدم تحفظ اور خود پر شک ہے۔ ایک طرح سے، اس نے کہا کہ اس سے اسے یہ دیکھنے میں مدد ملی کہ وہ اپنے آپ سے کتنا ناخوش ہے اور خود ہی شان کے ساتھ اس کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تاہم، وہ بہت سے پیچیدہ سوالات میں بھی الجھا ہوا تھا۔ "آپ جس سے پیار کرتے ہیں اسے پہلے کیوں دھوکہ دیتے ہیں؟ اور، کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آپ سے محبت کرے اور پھر بھی آپ کو دھوکہ دے؟ اگر تم ان کو دھوکہ دیتے ہو تو کیا تم ان سے محبت کرتے ہو؟” وہ پوچھنے میں مدد نہیں کر سکتا.

    5. ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ کیوں دیتے ہیں؟ شاید بدلہ لینے کے لیے

    محبت کو ایک خوبصورت اور محفوظ احساس سمجھا جاتا ہے، ٹھیک ہے؟ تو کیوں کسی سے محبت کرتے ہیں اسے دھوکہ دیتے ہیں؟ ایک ایسا شخص جو ایک رشتہ دار ہے، لیکن خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور حقارت کا شکار ہے وہ آپ کے سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ ایک نظر انداز ساتھی یا ایک ساتھی جس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے بہت زیادہ تکلیف اور ناراضگی کا بوجھ لاد سکتا ہے۔ اس اندھے غصے میں، وہ دھوکہ دہی کا بھی سہارا لے سکتے ہیں – دوسرے کو تکلیف دینے کے لیے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ دھوکہ دہی ناراضگی کو دور کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ شازیہ کہتی ہیں، "یقیناً تکلیف دینا ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے پیارے کو دھوکہ دیتے ہیں۔” لیکن اس کا مشورہ یہ ہے کہ دماغ کے عقلی احساس پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو نقصان پہنچانے کی خواہش پر قابو پالیں۔

    6. کچھ لوگ جنس کو محبت سے الگ کرتے ہوئے دھوکہ دیتے ہیں۔

    کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آپ سے محبت کرے اور پھر بھی آپ کو دھوکہ دے؟ محبت کو جنس سے الگ کرنے والا شخص اس سوال کا جواب "ہاں” میں دے سکتا ہے۔ دھوکہ دہی کی کئی قسمیں ہیں – جذباتی، جسمانی اور طویل المدتی معاملات – لہذا جب یہ سب کسی فرد کے جسمانی پہلو کے بارے میں ہے، جب یہ صرف جنس کے بارے میں ہے، تو وہ اسے اپنی محبت سے الگ سرگرمی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اپنے ساتھی کے ساتھ۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیکس اور محبت دو مختلف چیزیں ہیں جنہیں آپس میں ملانا نہیں ہے۔ تو ایسے دھوکے بازوں کے لیے دل کی وابستگی اہمیت رکھتی ہے۔ اس طرح، وہ اپنے موجودہ تعلقات سے باہر کسی اور کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکتے ہیں اور اسے اپنے ساتھی کے ساتھ وابستگی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے۔

    دھوکہ دہی کی وجہ کچھ بھی ہو، تکلیف ہوتی ہے۔ کیا دھوکہ دہی کی کچھ وجوہات ہیں جو دوسروں سے بہتر ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آپ سے محبت کرے اور پھر بھی آپ کو دھوکہ دے؟ ایک ایسے شخص کے لیے جس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، جواب ہے "نہیں”۔ اُن کے لیے، اُن کے ذہنوں میں گھومنے والا بنیادی سوال یہ ہے کہ: کوئی شخص اپنے پیارے سے کیسے دھوکہ دے سکتا ہے؟

    اسی طرح، اگر آپ ایک ایسے آدمی ہیں جس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، آپ حیران ہوسکتے ہیں، "کیا کوئی عورت دھوکہ دے سکتی ہے اور پھر بھی محبت میں رہ سکتی ہے؟” اور خواتین سوچ سکتی ہیں کہ جب آپ اپنے پیارے سے دھوکہ دیتے ہیں تو کیا کریں۔

    شازیہ کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی ایک انتخاب ہے اور جو شخص دھوکہ دیتا ہے اسے اپنے اعمال کی ذمہ داری لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ تاہم، وہ کہتی ہیں کہ یہ دھوکہ دینے والے کا انتخاب ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ اس طرح کی جذباتی پیچیدگیاں دھوکہ دہی کے پیچھے وجوہات کو سمجھنا ضروری بناتی ہیں۔ ایک بار جب یہ مسائل حل ہو جائیں تو شاید ایک شخص خود کو بہتر بنانے کے لیے کام کر سکتا ہے اور مستقبل میں، زندگی میں زبردست فیصلے کرنے سے گریز کریں۔

  • جیت کاتعلق شخصیات سےنہیں،مقدرکی بات ہے:بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزکومسلسل تیسری شکست کاسامنا

    جیت کاتعلق شخصیات سےنہیں،مقدرکی بات ہے:بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزکومسلسل تیسری شکست کاسامنا

    لاہور: ثابت ہوگیا:جیت کاتعلق شخصیات سےنہیں،مقدرکی بات ہے:بابراعظم کی قیادت میں کراچی کنگزپھرہارگئی پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن میں کراچی کنگز نے روایتی حریف لاہور قلندرز کو فتح کے لیے رنز کا ہدف دیا تھا ۔جسے لاہور قلندرز نے آخری اوور میں آسانی سے پورا کرکے کراچی کنگز کوشکست دے دی

    پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل ) کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کو با آسانی 6 وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں کھیلے جارہے اس میچ میں لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا ۔

    کراچی کنگز کی جانب سے شرجیل خان 61 رنز بنا کر نمایاں بیٹسمین رہے،کپتان بابر اعظم 41 جبکہ جوئے کلارک 24 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    قلندرز کی جانب سے حارث رؤف نے 3 شکار کیے جبکہ شاہین آفریدی،راشد خان ،زمان خان اور محمد حفیظ نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

    لاہور قلندرز کی جانب سے فخر زمان نے جارحانہ 60 گیندون پر 106 رنز کی اننگ کھیلی ان کی اننگ میں 12 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے،محمد حفیظ 24 جبکہ سامٹ پٹیل 26 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

    کراچی کنگز کی جانب سے عمید آصف نے 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نبی اور عماد وسیم نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔

    فخر زمان کو شاندار سینچری بنانے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

    اس سے پہلے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے لیگ کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر کراچی کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

    اوپنرز بابر اعظم اور شرجیل خان نے اپنی ٹیم عمدہ آغاز فراہم کیا اور نصف سنچری شراکت قائم کی۔شرجیل نے جارحانہ انداز اپنایا اور سمیت پٹیل کو چھکا لگا کر 33 گیندوں پر ففٹی مکمل کی۔

    اوپنرز نے کراچی کنگز کو دس اوورز میں 84 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس موقع پر شاہین شاہ آفریدی تجربہ کار محمد حفیظ کو باؤلنگ کے لیے لائے جنہوں نے پہلی گیند پر شرجیل کو بولڈ کر کے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی دلا دی، شرجیل نے 39 گیندوں پر 3 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 60رنز بنائے۔

    بابر نے محمد نبی کے ساتھ مل کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن افغانستان سے آئے محمد نبی بھی صرف 15 رنز بنا کر چلتے بنے۔کراچی کنگز کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کپتان بابراعظم بھی 41 رنز بنانے کے بعد راشد خان کی وکٹ بن گئے۔

    آل راؤنڈرز عامر یامین اور لوئس گریگوری بھی کچھ خاص کارکرددگی نہ دکھا سکے تاہم دوسرے اینڈ سے جو کلارک نے متاثر کھیل کا سلسلہ جاری رکھا۔

    حارث رؤف نے آخری اوور میں دو وکٹیں لیں لیکن اس کے باوجود کراچی کنگز کی ٹیم 13رنز بٹورنے میں کامیاب رہی اور کراچی کنگز نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 170رنز بنائے۔

    جو کلارک نے 24 رنز بنائے جبکہ لاہور قلندرز کی جانب سے حارث رؤف تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔

    اس سے قبل میچ کے لیے لاہور قلندرز نے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور گزشتہ میچ کی ٹیم کو برقرار رکھا ہے البتہ کراچی کی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    کراچی نے اپنی فائنل الیون میں صاحبزادہ فرحان اور عمید آصف کو شامل کیا ہے۔

     

     

    کراچی کنگز اننگز

    کراچی کنگز کی جانب سے کپتان بابر اعظم اور شرجیل خان نے اننگز کا آغاز کیا جبکہ لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے پہلا اوور کرایا۔

    لاہور قلندرز سکواڈ

    سکواڈ میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، عبداللہ شفیق، محمد حفیظ، کامران غلام، بین ڈنک، سمت پٹیل، ڈیوڈ ویزے، راشد خان، حارث رؤف اور زمان خان شامل ہیں۔

    کراچی کنگز سکواڈ

    سکواڈ میں کپتان بابراعظم، شرجیل خان، جو کلارک، محمد نبی، صاحبزادہ فرحان، لوئس گریگوری، عماد وسیم، عامر یامین، عمید آصف، محمد طہٰ خان اور محمد الیاس شامل ہیں۔

    قبل ازیں آج کے روز پہلے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو 9 وکٹ کی شکست سے دوچار کیا۔

    لاہور قلندرز کے کپتان شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے جلد وکٹیں لیں، خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔

    کپتان کراچی کنگز بابر اعظم کا کہنا تھا کہ شائقین کو اچھی کرکٹ دیکھنےکو مل رہی ہے، پچھلے میچز میں جو غلطیاں ہوئی کوشش ہوگی کو ان کو نہ دہرائیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کی داستان رقم کرتے ہوئے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ وادی میں ایک اور سیاہ دن،سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ اور بڈگام میں مزید پانچ نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کئی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔بھارتی فوج کے اقدام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، مظاہرین بھارتی فوج اور مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت کے 2019 میں لاک ڈاون کے اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی حکومت کی جنت نظیر وادی میں غیر انسانی سرگرمیوں کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں قابض حکام کے ہاتھوں بے گھرہونے والے گجر اور بکروال خاندان گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کے علاقے روپ نگر میں احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔

     

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ مسلمان گجر اور بکروال خاندان انصاف اور رہنے کے لیے پناہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 70 سال سے علاقے میں رہ رہے ہیں لیکن قابض حکام نے ان کے مکانات مسمار کر دیے۔ بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ شیخ شکیل احمدنے کہا کہ جموں کی ایک سیشن عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر کے باوجود مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ شکیل نے کہاکہ انہیں صرف اس لیے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو حکام ان کے گھر مسمار کرنے سے پہلے انہیں نوٹس دیتے۔اس کے علاوہ مارچ تک ایڈیشنل سیشن جج کا سٹے آرڈر بھی موجود ہے۔

    ایک سماجی کارکن ستویر سنگھ منہاس نے کہاکہ ہم ان کے لئے اور مویشیوں کے لیے پناہ گاہ کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے آئین کی طرف سے دیا گیا حق ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تجاوزات کرنے والے یا زمین پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد حکام اور بی جے پی نے بار بار قبائلیوں کو مزید حقوق دینے کی بات کی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے ان گجر اور بکروال خاندانوں کو علاقے بے دخل اور ان کے گھروں کو مسمار کیاجارہاہے۔

  • کراچی : اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو با آسانی 9 وکٹ سے شکست دیدی

    کراچی : اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو با آسانی 9 وکٹ سے شکست دیدی

    کراچی : اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو با آسانی 9 وکٹ سے شکست دیدی، اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے پانچویں میچ میں اسلام آباد یونائیڈ نے اوپنرز کے عمدہ کھیل کی بدولت پشاور زلمی کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایونٹ کے پانچویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

    169رنز کا ہدف اسلام آباد یونائیٹڈ نے صرف 1 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا، پال سٹرلنگ 57 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے،ایلکس ہیلز78 اور رحمان اللہ گرباز27 سکور بناکر ناقابل شکست رہے۔

    پشاور زلمی اننگز

    کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جارہے ایونٹ کے پانچویں میچ میں پشاور زلمی نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹ کے نقصان پر 168رنز بنائے،ردرفورڈ نے سب سے زیادہ 70 رنز بنائے اور وہ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ بین کٹنگ 26 سکور کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹر رہے۔

    اسلام آباد کی جانب سے حسن علی اور فہیم اشرف نے 2،2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کا چھٹا میچ شام ساڑھے سات بجے کھیلا جائے گا جس میں کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کا آمنا سامنا ہو گا۔

    پاکستان سپر لیگ 7، اسلام آباد یونائیٹڈ کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ آج ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ کھیل رہی ہے جس کی قیادت نوجوان اسپنر شاداب خان کر رہے ہیں جبکہ پشاور زلمی آج دوسرا میچ کھیل رہی ہے جس کی قیادت کورونا سے صحتیاب ہونے والے وہاب ریاض کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف اپنے پہلے ہی میچ میں سنسنی خیز کامیابی حاصل کی تھی۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف اب تک 16 میچز کھیل چکی ہیں جن میں پشاور زلمی نے 8 اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے 7 میچ جیتے جبکہ ایک میچ نہیں ہوسکا۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

    اس سے قبل ایونٹ کا دوسرا میچ دو روز پہلے پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلا گیا تھا جوکہ پشاور زلمی نے 5 وکٹوں سے جیت لیا تھا۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں آج دوسرا میچ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا اور یہ میچ شام ساڑھے 7 بجے شروع ہوگا۔

  • 7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: 7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا راکٹ 4 مارچ کو چاند سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی نجی خلائی ادارے اسپیس ایکس کا راکٹ فالکن نائن جو سال 2015 میں موسمیاتی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کی غرض سے خلا میں بھیجا گیا تھا، وہ اب 4 مارچ کو چاند سے ٹکرائے گا فالکن نائن نامی راکٹ کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کی خلائی تجرباتی کمپنی اسپیس ایکس کی ملکیت ہے جو انسانوں کو دوسرے سیاروں تک لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    اسپیس ایکس کی ٹیم کے رکن اور ماہر فلکیات جوناتھن میکڈوول نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا کیونکہ مشن کی تکمیل کے بعد فالکن نائن راکٹ میں اتنا ایندھن نہیں بچا کہ وہ واپس زمین پر پہنچ سکے یہ 4 ٹن وزنی دھات کا ایک ٹینک ہے جو 5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چٹان سے ٹکرائے گا جس سے ایک چھوٹا سا مصنوعی گڑھا بھی بن جائے گا 2015 سے زمین، چاند اور سورج کی مختلف کشش ثقل اس راکٹ کو کئی سمتوں میں اپنی طرف کھینچ چکی ہیں جس کی وجہ سے اس کا راستہ گڈمڈ ہو گیا۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    پروفیسر جوناتھن کا کہنا تھا ابھی تک تو خلا میں پھیلے ہوئے کوڑے کرکٹ سے کوئی خطرہ نہیں لیکن مستقبل میں ہوسکتا ہے۔ اگر چاند پر بستیاں قائم ہوتی ہیں تو ہمیں خلائی کوڑے کرکٹ کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہو گی ابھی خلا میں کچرے کی مقدار زیادہ نہیں ہے لیکن یہ مستقبل میں مسئلہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    سعودی عرب میں ایک ریستوران بنایا گیا یے جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہےاس میں زومبیز اور ویمپائرز کی صحبت میں کھوپڑی اور خون کے ساتھ کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بولیوارڈ انٹرٹینٹمٹ ڈسٹرکٹ میں واقع’شیڈوز‘ نامی یہ ریستوران ڈراؤنی فلموں اور کھانے کے شوقین افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جہاں وہ اپنی پسند کے کھانوں کا مزہ بھی چکھ سکتے ہیں جب کہ مختلف کپڑوں میں ملبوس عملہ انٹرایکٹو شوز کرتا رہتا ہے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    شیڈوز میں آنے والی 26 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے سامنے جب ویٹر ایک تھالی میں کھانے کے ساتھ سیاہ رنگ کی مسکراتی کھوپڑی لے کر آیا تو میری تو بھوک ہی مر گئی” جبکہ ان کا دوست ڈاکٹر جواہر عبداللہ وہاں کھانا کھانے کے لیے بہت بے تاب تھا جبکہ ایک اداکار جس کی چھاتی سے مصنوعی خون بہہ رہا تھا کے ساتھ سیلفی لینے سے پہلے اس ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ جواہر نے کہا کہ”مجھے عام طور پر ڈراؤنی چیزیں پسند ہیں مجھے لگتا ہے کہ یہاں کا ماحول بہت مزے دار اور دلچسپ ہے۔

    8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    45 سالہ تاجر سلیمان العمری کا کہنا تھا: ’ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں آئیں کیوں کہ ہم ہمیشہ ریاض میں دلچسپ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم انٹرٹینمنٹ کی تلاش میں ملک سے باہر جاتے تھےعام طور پر ریستورانوں میں جانے کا مطلب کھانا، پیٹ بھرنا، گپ شپ لگانا اور پھر گھر چلے جانا ہوتا تھا مگر اب ہم کھا بھی رہے ہوتے ہیں، اپنے وقت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور خوفزدہ بھی ہو رہے ہوتے ہیں ۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    شیڈوز نامی ریستوران کے مینیجر ماجد العنزی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان اداکاروں کی تربیت کی تھی اور ان کے انداز پر کام کیا تھا۔ ہر وہ چیز سکھائی جو گاہکوں کی تفریح کے لیے ضروری تھی۔ ڈراؤنے پن کا ان کا تجربہ نکھارا اور یقیناً کھانے کا معیار بھی۔‘ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ریستوران میں آئے دن لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ2017 میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورِ حکومت کے اندر مملکت میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ماضی میں، سعودی شہریوں کو تفریح کے لیے بیرون ملک سفر کرنا پڑتا تھا لیکن اب سماجی تبدیلی کے تحت سنیما گھر کھل چکے ہیں اور مختلف مقامات پر موسیقی کے پروگراموں میں مرد وزن یکسان طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔

    امریکا میں 6 روز میں ایک ہی اسٹور کو تین مرتبہ لوٹنے والا ڈاکو چوتھی بار گرفتار