Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک ایسے دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ” سائنس ” کے تازہ شمارے میں شائع کردہ ریسرچ کے مطابق اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    تحقیق کے مطابق اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ہے، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    ’ینگورم‘ کے رکازات 2011 میں دریافت ہوئے تھے جو خاصی حد تک مکمل کھوپڑی کے علاوہ کندھوں اور ریڑھ کی ادھوری ہڈیوں پر مشتمل تھےانہیں نیواڈا کے آگسٹا پہاڑ میں رکازات کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والی ایک وسیع چٹان کی کھدائی میں برآمد کیا گیا تھا۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    اس کا تعلق جس زمانے سے ہے، اس دور میں ڈائنوسار بھی بہت چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے جنہوں نے بہت بعد میں جا کر زیادہ جسامت حاصل کی اس کی لمبی تھوتھنی جیسی کھوپڑی اور اس میں باریک دانتوں کی باقیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سمندر میں تیرتے دوران چھوٹے آبی جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا۔

    البتہ، اس کی کھوپڑی پر ناک کے نتھنوں والے نشانات بھی بہت واضح ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مچھلی جیسا حقیقی آبی جانور نہیں تھا بلکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سطح سمندر پر آکر ہوا میں سانس لیا کرتا تھا اور واپس غوطہ لگا کر گہرائی میں چلا جاتا تھا ’ینگورم‘ کی جسامت موجودہ زمانے کی دیوقامت ’اسپرم وہیل‘ جتنی رہی ہوگی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

  • مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی کرنے پر روس نے گوگل کو 98 ملین ڈالر جرمانہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق روسی عدالت نے ملک کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے،روسی عدالت نے مواد کو حذف کرنے میں بار بار ناکامی پر جرمانہ کیا۔

    روسی حکام کی جانب سے اس سال ٹیکنالوجی فرموں پر دباؤ بڑھایا ہے، ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مواد کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرتے ، اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    گوگل کے فیصلے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسی طرح کے مواد سے متعلق جرائم کے لیے فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا کو 2 بلین روبل جرمانہ کیا گیا۔

    مواد کے قوانین پر روسی حکام کے ساتھ گوگل کا یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے، مئی میں روس کے میڈیا واچ ڈاگ نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ غیر قانونی مواد کے 26 ہزار واقعات کو حذف کرنے میں ناکام رہا تو گوگل کی رفتار کم کر دے گا، جن کا تعلق منشیات، تشدد اور انتہا پسندی سے ہے۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مواد کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، عدالتی دستاویزات کو دیکھ کر آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے تاہم ناقدین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آن لائن اختلاف کو روکنے کے لیے مہم کا استعمال کر رہا ہے۔

    اس سے قبل اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا تھا-

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

  • انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    ماہرین نے چین میں ڈائنوسار کا ایسا فوسل دریافت کیا ہے جس میں ڈائنوسار انڈے سے نکلنے کےلیے تیارتھا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق، سائنسدانوں نے چین کے شہر گینژو میں ڈائنوسار کا ایسا ایمبریو دریافت کیا ہے جس میں سے ڈائنوسار مرغی کے چوزے کی طرح انڈے سے نکلنے کو تیار تھا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا یہ ایمبریو اندازاً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قدیم ہے اندازہ ہے کہ یہ بغیر دانتوں والا ایک ’تھیروپوڈ یا اوویریپٹرسار‘ ہے جبکہ اس کا نام ’بے بی ینگلیانگ‘ رکھا گیا ہے ینگلیانگ سر سے دُم تک 10.6 انچ لمبا ہے اور یہ 6.7 انچ لمبے انڈے کے اندر موجود ہے۔ نودریافتہ فوسل کو چین کے ’ینگلیانگ اسٹون نیچرل ہسٹری میوزیم‘ میں رکھا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    اوویریپٹرسارز یعنی ’انڈہ چور چھپکلیاں‘ درحقیقت پروں والے ڈائنوسار تھے جو کریٹیشیئس دور کے اواخر، یعنی 10 کروڑ سال قبل سے چھ کروڑ 60 لاکھ سال کے درمیان، موجودہ ایشیا اور برِاعظم شمالی امریکا میں پائے جاتے تھے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس دریافت نے ارتقائی ماہرین کو ڈائنوسار اور آج کے پرندوں میں تعلق کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں فوسل کی صورت میں موجود ایمبریو خم دار صورت میں ہے جسے ’ٹکنگ‘ کہا جاتا ہے پرند وں میں ایسا انڈے سے نکلنے سے عین پہلے دیکھا جاتا ہے۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    اس سے قبل اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے تھے ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہےجو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

  • ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    لندن: ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے ہیں اور صرف چند دہائیوں میں ان کے رقبے میں 8,400 مربع کلومیٹر کی کمی ہوچکی ہے-

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف لیڈز برطانیہ کے سائنسدانوں کے تجزیئے سے پتا چلا کہ تقریباً 400 سال پہلے تک ہمالیائی گلیشیئرز کا مجموعی رقبہ 28,000 مربع کلومیٹر تھا جو پچھلی دو صدیوں میں بتدریج 40 فیصد تک کم ہو کر 19,600 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    آن لائن ریسرچ جرنل ’سائنٹفک رپورٹس‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک تحقیق میں ڈاکٹر جوناتھن کیری وِک اور ان کے ساتھیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہمالیائی برفانی تودے (گلیشیئرز) اسی تیزی سے پگھلتے رہے تو شاید یہ ہمارے اندازوں سے بہت پہلے ختم ہوجائیں گے اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں افراد کو بدترین آبی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے 14,798 ہمالیائی گلیشیئروں کے بارے میں مختلف ذرائع سے تصاویر اور دیگر تفصیلی معلومات جمع کیں، جو اُن کی تاریخ و جغرافیہ کا احاطہ کرتی ہیں۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    ہمالیائی برفانی تودے پگھلنے کی رفتار پچھلے سو سال میں زیادہ ہوئی جبکہ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ پگھلاؤ تشویشناک حد تک تیز رفتار ہوچکا ہے جس کی واحد ممکنہ وجہ انسان کی صنعتی سرگرمیاں اور ان کے باعث آلودگی میں غیرمعمولی اضافے ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ہمالیائی گلیشیئروں کی جسامت مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر جوناتھن اور ان کے ساتھیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پچھلے تیس چالیس سال میں ان گلیشیئروں کی 390 مکعب کلومیٹر سے 586 مکعب کلومیٹر تک برف کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سطح سمندر بھی تقریباً ایک ملی میٹر اونچی ہوگئی ہے۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    واضح رہے کہ جنوبی ایشیاء کی شمالی پٹی پر پھیلے ہوئے وسیع گلیشیئروں میں اتنی زیادہ برف ہے کہ انہیں مجموعی طور پر ’’تھرڈ پول‘‘ (تیسرا قطب) بھی کہا جاتا ہے۔دریائے سندھ، گنگا اور براہماپترا سمیت، جنوبی ایشیاء کے بیشتر بڑے دریاؤں میں پانی کا انحصار ان ہی گلیشیئروں کے موسمی پگھلاؤ پر ہے،اگر یہ گلیشیئر ختم ہوگئے تو برصغیر میں بدترین آبی بحران کے علاوہ اتنی بھیانک تباہی آسکتی ہے جس کا تصور بھی شاید آج ہمارے لیے ناممکن ہے۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

  • اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں   ازقلم :غنی محمود قصوری

    اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    اہمیت جمعتہ المبارک اسلام کی روشنی میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    تمام دن اللہ رب العزت نے بنائے ہیں مگر اللہ تعالی نے جمعتہ المبارک کو ایک خاص اہمیت دی ہے جس کیلئے ہم دیکھتے ہیں نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’جمعہ کا دن دوسرے دنوں کا سردار ہے، اللہ کے نزدیک بڑا دن ہے اور یہ اللہ کے نزدیک عید الأضحی اور عید الفطر سے بھی بڑا ہے-

    اس میں پانچ باتیں ہیں

    1 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیّدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا

    2 اس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا

    3 اس دن سیدنا آدم علیہ السلام فوت ہوئے

    4 اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں جو بھی بندہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال کرتا ہے اللہ تعالی وہ اس کو دے دیتا ہے مگر حرام چیز کا سوال نہ ہو تو

    5 اس دن قیامت قائم ہو گی کوئی مقرب فرشتہ نہ آسمان میں، نہ زمین میں، نہ ہوا میں، نہ پہاڑ میں اور نہ دریا میں مگر وہ جمعہ سے ڈرتے ہیں

    (ابن ماجہ: إقامۃ الصلاۃ، باب, فی فضل الجمعۃ)

    اس دن کی فضیلت قرآن میں ایسے بیان کی گئی ہے

    یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

    اے اہل ایمان جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لیے اذان دی جائے تواللہ کے ذکر (خطبہ اور نماز) کی طرف دوڑو اور (اس وقت) کاروبار چھوڑ دو
    اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے
    (سورہ الجمعۃ )

    یقیناً یہ دن جمعہ بہت اہمیت کا حامل ہے اسے لئے اس کو باقی دیگر دنوں کا سردار کہا گیا ہے
    اس دن ہمارے کچھ کام دوسرے دنوں سے زیادہ کرنے کے ہوتے ہیں تاکہ ہم اس دن اللہ رب العزت سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکیں

    اس دن کا آغاز روزانہ کی طرح نماز فجر سے کریں اور تلاوت قرآن میں خاص کر سورہ الکہف لازمی پڑھنے کی کوشش کریں اس کے بعد اس دن کثرت سے درود شریف پڑھیں کیونکہ ارشاد ربانی ہے

    بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اس پیغمبر پر
    اے ایمان والوں تم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ( سورہ الاحزاب)

    اس دن وقت نکال کر اپنے فوت شدگان کی قبر پر حاضری دیں اس بارے حدیث رقم ہے

    کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروہا فانہا ترق القلب، وتدمع العین وتذکر الآخرۃ
    (مستدرک الحاکم 376/1)

    (نبی کریم نے فرمایا) میں نے تمہیں زیارت قبور سے روکا تھا ( شروع اسلام) لیکن اب تم ان کی زیارت کیا کرو کہ اس سے رقت قلب پیدا ہوتی ہےاور آنکھیں پرنم ہوتی ہیں اور آخرت کی یاد آتی ہے
    جمعہ کے دن کے علاوہ بھی قبروں پر جانا چائیے اور مردوں کے علاوہ عورتوں کو بھی مکمل شرعی پردہ کرکے قبرستان میں جانا چائیے اور قبرستان میں جا کر دعا پڑھنی چائیے جو کہ حدیث میں ایسے رقم ہے

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم سے دریافت کیا کہ قبروں کے پاس کیا کہنا چاہیے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھلائے

    السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ. (مسلم 974)

    طہارت یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے اس لئے اس دن ہو سکے تو اپنے بال کٹوائیں، ناخن تراشیں، غسل کریں ،عمدہ کپڑے پہنیں اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائیں، مسواک کریں کیونکہ ارشاد مصطفی ہے

    سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتے میں ایک دن (جمعہ کو) غسل کرے اس میں اپنا سر دھوئے اور اپنا بدن دھوئے
    (بخاری)

    جمعہ کے دن اگر کوئی مجبوری بن جائے تو غسل کے بغیر مگر پاک صاف ہوتے ہوئے بھی جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے کیونکہ ارشاد مصطفی ہے

    سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    جمعہ کے دن جس نے وضو کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے
    (ابو داؤد)

    نیز اس دن تجارت و دیگر کاروبار زندگی کئے جا سکتے ہیں مگر اذان جمعہ ہوتے ہی کاروبار کو روک دینا چائیے اور اول وقت میں جا کر خطبہ جمعہ سن کر نماز جمعہ ادا کرنی چائیے جیسا کہ اوپر آیت مبارکہ میں جمعہ کی اذان کے ہوتے ہی کاروبار بند کرنے کا حکم ہے نیز مذید ارشاد مصطفی ہے

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جس شخص نے جمعہ کے دن نہایت اہتمام کے ساتھ غسل کیا جس طرح پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کیا جاتا ہے، پھر اول وقت مسجد میں جا پہنچا تو اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو اس کے بعد دوسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا گائے یا بھینس کی قربانی کی اور اس کے بعد تیسری ساعت میں پہنچا تو اس نے گویا سینگ والا مینڈھا قربان کیا اور اس کے بعد چوتھی ساعت میں پہنچا تو گویا خدا کی راہ میں انڈا صدقہ کیا پھر جب خطیب خطبہ دینے کے لیے نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کا دروازہ چھوڑ دیتے ہیں اور خطبہ سننے اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آبیٹھتے ہیں (بخاری)

    چونکہ عورت پر نماز مسجد میں جاکر پڑھنا فرض نہیں مگر مسجد میں جا کر نماز عورت پڑھ بھی سکتی ہے اسی طرح عورت پر جمعہ کی نماز فرض نہیں مگر زیادہ ثواب کیلئے وہ مسجد میں جاکر نماز جمعہ پڑھ سکتی ہے-

    اس بارے پڑھتے ہیں امی عائشہ رضی اللہ سے مروی یہ حدیث :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں نکلنا چاہئے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کی عورتوں کا حال دیکھتے تو انھیں منع کر دیتے (مسند احمد 6/69، 70 وسندہ حسن)

    یقیناً چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے اس دن ہم اللہ رب العزت کا بہت زیادہ تقرب پا سکتے ہیں کیونکہ یہ سارے کام ہم دیگر دونوں میں بھی کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں مگر جمعہ کے دن خاص فضیلت ہونے کے باعث ان کی اہمیت اور ثواب بھی خاص ہے-

    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    واشنگٹن: دنیا بھر میں مقبول ایپ ٹک ٹاک اب صارفین کو اپنی سائٹ پر کھانے بھی ڈیلیور کرے گی۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا کی مشہور سائٹ ٹک ٹاک اب صرف کھانوں کی عالمی شہرت یافتہ ایپ ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس اور گرب ہب کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے جس کے بعد سائٹ پر مقبول کھانوں کی ڈیلیوری کی جائے گی۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    عرب نیوز نےبلوم برگ کے حوالے سے بتایا کہ ٹک ٹاک کچن کا مینیو ایپ کی مقبول ڈشز پر مبنی ہوگا اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مینیو میں فیٹا پاستا بھی شامل ہے جس کو گوگل نے 2021 کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ڈش قرار دیا تھا ابتدائی طور پر مینیو میں پاستا، چپس، سمیش برگرز اور کارن ربز شامل ہوں گے۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کچن کو 300 مقامات پر لانچ کیا جائے گا جو مارچ میں ڈشز کی ڈیلیوری کا آغاز کرے گے جبکہ آئندہ سال کے اختتام تک ٹک ٹاک کچن کے ایک ہزار سے زائد ریسٹورنٹس کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ…

    ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس کے شریک بانی نے بلوم برگ کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ مینیو میں ہر تین ماہ بعد تبدیلی کی جائے گی۔

    ٹک ٹاک نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ منافع میں سے کچھ رقم ان افراد کو بھی دی جائے گی جن کے کھانوں کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر مقبول ہوئی ہوں لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ منافع کس شرح سے دیا جائے گا۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

  • دنیا والو :پاکستان جیسا مہمان نواز ملک کوئی نہیں،جاکرتودیکھو: سابق آسٹریلوی کپتان کا اعلان

    دنیا والو :پاکستان جیسا مہمان نواز ملک کوئی نہیں،جاکرتودیکھو: سابق آسٹریلوی کپتان کا اعلان

    سڈنی :دنیا والو : پاکستان جیسا مہمان نواز ملک کوئی نہیں،جاکرتودیکھو: سابق آسٹریلوی کپتان کی دورہ پاکستان کی حمایت،اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے اگلے سال آسٹریلین ٹیم کے دورہ پاکستان کی حمایت کردی۔

    ایک آسٹریلوی اخبار کیلئے کالم میں گریگ چیپل لکھتے ہیں کہ اُمید ہے اگلے سال فل اسٹرینتھ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی کیوں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی صحت بہتر کرنے کیلئے یہ دورہ بہت ضروری ہے۔

    48 ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے گریگ چیپل نے ایک اخباری کالم میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا کا جائزہ وفد پاکستان میں اقدامات سے مطمئن ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے کہا کہ یہ دورہ ضروری ہے تاکہ ٹیسٹ کرکٹ کو بچایا جاسکے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسا مہمان نواز ملک کوئی اور نہیں، ذاتی تجربہ ہے کہ پاکستان میں مہمان ٹیموں کو سربراہ مملکت کے برابر سکیورٹی ملتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے دور کے عظیم آلراؤنڈر تھے، اب ان کے وزیر اعظم ہونے سے کرکٹ کی دنیا کا اعتماد بڑھے گا۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے کہا کہ شین واٹسن پی ایس ایل کھیل چکے ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ پاکستان میں کیسے حالات ہیں۔

    چیپل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کا بہترین ٹیلنٹ ہے، بابر اعظم، رضوان اور شاہین بہترین کرکٹرز ہیں۔آج دنیا کرکٹ کو ایک مضبوط پاکستان کرکٹ کی بہت ضرورت ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے مزید لکھا کہ کرکٹ آسٹریلیا اور پلیئرز ایسوسی ایشن ٹیم کو بتائے کہ یہ دورہ کرکٹ کیلئے کیوں اہم ہے،

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے انڈین ٹیم کے کوچ کے طور پر پاکستان کا دورہ کرنے کو یاد کرتے ہوئے ذکر کیا کہ بطور انڈین ٹیم کوچ پاکستان کا دورہ کیا تھا ، اندازہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کی کرکٹ کتنی اہم ہے۔سابق آسٹریلین کپتان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ویرات کوہلی اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ایکبار پاکستان کا دورہ ضرور کرنا چاہیں گے۔

    واضح رہے کہ شیڈول کے مطابق آسٹریلین ٹیم آئندہ سال مارچ ،اپریل میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔پی سی بی کے مطابق دورے میں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلا جائے گا۔

  • خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    خلائی ادارے ،سائنسدانوں کی بازی، تحریر:عفیفہ راؤ

    کیسے امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے ایسا اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے نے دس ارب ڈالر لگا کر دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی خلائی دوربین بنا کر اس کو خلا میں ایک اہم مشن پر روانہ کیا ہے۔ اس دوربین کا نام
    James Webb Space Telescopeرکھا گیا ہے۔ اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان تینوں اداروں میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو اس منصوبے کو مکمل کرنے میں 30سال کاعرصہ لگا ہے اور اسے اکیسویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اسپیس ٹیلی سکوپ orbitمیں اب تک بھیجے جانے والے سب سے بڑے فلکیاتی آئینے کا استعمال کرے گی جس کا قطر ساڑھے چھ میٹر ہے۔ اور دوربین کا یہ مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حساس ترین کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں۔ اس کا وزن چودہ ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ فلکیاتی آئینہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل طور پر کھلنے میں دو ہفتے تک کا وقت لگے گا۔ یہ زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی جو زمین کے چاند سے فاصلے سے بھی چار گنا زیادہ ہے۔

    اس ٹیلی سکوپ کو French Guianaمیں یورپین اسپیس ایجنسی کے بیس سے صبح 7:30 بجے زمین سے چھوڑا گیا ہے جو
    Ariane 5 rocketسے لیس ہے۔ خلا تک پہنچنے کے لیے جیمز ویب نے پہلے ستائیس منٹ کی ایک طویل فلائٹ کی جو ایک کنٹرولڈ دھماکے جیسی تھی۔ جس کے بعد یہ راکٹ سے الگ ہو گئی۔ لیکن اصل کام اس کے راکٹ سے الگ ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔ کیونکہ اس دوربین کو بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ راکٹ سے الگ ہونے کے بعد اس دوربین کو 344
    ایسے کڑے لمحات سے گزرنا ہو گا جو اس کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور یہ ہی اس مشن میں کھیلے جانے والا اصل جوا ہے کیونکہ اگر ان لمحات میں سے کسی ایک میں بھی کوئی معمولی سی غلطی بھی ہوئی تو سمجھو کہ کھیل ختم۔۔۔
    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سائنسدانوں کو اتنا پیسہ لگا کر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی کیا ضروت تھی؟دراصل اس دوربین سے پہلے ناسا نے1990میں Habal telescopeکو خلا میں بھیجا تھا۔ اور ہبل دنیا کی وہ پہلی ٹیلی سکوپ تھی جس کو خلاء میں بھیجا گیا۔ اس کی وجہ سے سائنسدانوں کو اتنی اہم معلومات ملیں کہ انہوں نے ہبل کو دریافتوں کی ایک مشین کا نام دیا۔
    ہبل کے خلا میں جانے کے بعد ہی سائنسدانوں کو یہ علم ہوا تھا کہ ہماری کائنات کتنے ارب سال پرانی ہے۔ اور آج سب جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کی عمر تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس دریافت پر نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی کائنات میں موجود کہکشاؤں کے درمیان انتہائی بڑے بلیک ہولز کی موجودگی کے ثبوت ملے تھے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو سکا کہ Big bangکے چند کروڑ سال بعد ہماری کائنات کس طرح کی تھی۔اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانی ہوگی کہ ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدان سولر سسٹم سے باہر موجود کسی ایک بھی سیارے یاexoplanetکے بارے میں نہیں جانتے تھے۔

    اس لئے ہبل کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اگر انہیں اس کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ہے تو اس کے لئے ان کے پاس جتنی اعلی ٹیلی سکوپ ہو گی اتنی اچھی انفورمیشن ملے گی۔اس لئے ابھی سائنسدانوں کے پاس دس یا بیس سال تک کا مزید وقت ہونے کے باوجود کہ وہ ہبل ٹیلی سکوپ سے ہی بہت سی اہم معلومات جمع کر سکتے تھے۔ انہوں نے دس ارب ڈالرز لگا کر James Webb Space Telescopeکو خلا میں بھیجا گیا۔ کیونکہ اس نئی دوربین کا فلکیاتی آئینہ ہبل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس میں روشنی کو جمع کرنے کی بھی زیادہ صلاحیت موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہبل کے مقابلے یہ ٹیلی سکوپ وقت میں زیادہ پیچھے تک سفر کر سکتی ہے۔ ویسے بھی ہبل زمین کے گرد قریبی مدار میں موجود تھی اور یہ ٹیلی سکوپ زمین سے زیادہ فاصلے ہر اور دوسری کہکشاوں کے قریب ہوگی اس لئے اس کے زریعے اور بھی زیادہ اہم معلومات مل سکیں گی اب James Webb Space Telescopeجو کہ ہبل ٹیلی سکوپ سے دس گنا زیادہ حساس ہے تو یہ دوربین یہ بھی دیکھنے کے قابل ہو گی کہ ہماری کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ
    James Webb Space Telescopeکی مدد سے وہ خلا میں ان ستاروں کو بھی ڈھونڈ پائیں گے جو ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔اس ٹیلی سکوپ میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے کہیں دور موجود سیاروں کے ماحول اور وہاں موجود گیسوں کی جانچ کے ذریعے زندگی کے شواہد تلاش کر سکے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ دوسرے سیاروں کے ماحول میں کس قسم کے مالیکیول موجود ہیں۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوربین کہکشاں میں رہنے کے قابل سیاروں کی تلاش میں ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گی۔

    دراصل سائنسدان جان ہی چکے ہیں کہ ہم انسان ایک ستارے کی باقیات سے وجود میں آئے جو اربوں برس پہلے پھٹ گیا تھا۔ اس لئے اب وہ ان باقیات کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں کہ جس طرح الگ ہونے کے بعد زمین پر زندگی کا آغاز ہوا تو باقی ستاروں کے ساتھ کیا ہوا الگ ہونے کے بعد ان کے کیا حالات ہیں۔یعنی اس دوربین کی مدد سے سائنسدان کائنات کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جو شاید ابھی انہوں نے سوچا بھی نہیں ہے اس لئے آنے والا وقت اب Space science
    سے متعلق بہت حیران کن ہونے والا ہے۔

    لیکن اس کے لئے تھوڑا مزید انتظار بھی کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس ٹیلی سکوپ کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور اس کی مدد سے پہلی تصاویر دیکھنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ اسے کھولنے کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایک بار کھلنے کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے اور اس میں موجود فلکیاتی آئینوں کو ترتیب میں آنے اور تمام آلات کو آن کرنے میں کئی مہینوں کا وقت لگے گا۔ اس لئے امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2022 کے موسم گرما میں ہی سائنسدان پہلی تصاویر حاصل کر سکیں گے۔لیکن آخر میں ایک بار پھر میں آپ کو بتا دوں کہ یہ Space science کا ایک جوا ہے اور بہت ہیExpensive and complicated
    قسم کا جوا ہے کیونکہ یہ ٹیلی سکوپ کسی ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے اور اس کا مکمل طور پر کھل کر اپنے آپ کو پھیلانا خلائی تاریخ میں اب تک کا سب سے مشکل کام ہو گا۔ ایسے 300 سے زیادہ لمحات ہوں گے جب کچھ بھی غلط ہوا تو کھیل تمام ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ ایسے کاموں میں تو پھر زیادہ خطرے کا مطلب ہی زیادہ فائدہ ہے۔اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو پھر یہ جاننا مشکل نہیں رہے گا کہ یہ کائنات کیسے شروع ہوئی اور کیا ہم اس میں اکیلے ہیں؟اور پھر سائنسدانوں کی یہ بازی جیتی ہوئی تصور کی جائے گی۔

  • برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی

    برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی

    لندن: برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی ,اطلاعات کے مطابق برطانوی ہاؤس آف کامنز نے بھارتی ہائی کمیشن لندن کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر وضاحت طلب کرلی، خط میں کہا گیا کہ 2 سال میں ڈھائی ہزار بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا پردہ چاک کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن لندن کو خط لکھ دیا۔ خط برطانوی درالعوام کے 28 ارکین کی جانب سے لکھا گیا ہے۔

    برطانوی درالعوام نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی کارکن خرم پرویز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ خرم پرویز کی گرفتاری کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا گیا ہے، خرم پرویز کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں اور معاملے کی شفاف انداز میں تحقیقات کی جائیں۔

    برطانوی درالعوام کا کہنا تھا کہ خرم پرویز دہشت گرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ 2 سال میں ڈھائی ہزار بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی تشویش ناک اطلاعات ہیں۔ بے گناہ کشمیریوں کو مبینہ دہشت گرد بنا کر مار دیا جاتا ہے جبکہ مرنے والے تمام عام شہری ہوتے ہیں۔

    برطانوی درالعوام نے اپنے خط میں مذکورہ تمام واقعات پر بھارتی ہائی کمیشن سے وضاحت بھی طلب کرلی۔

  • بھارت کا اگنی پرائم  کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :کچھ روز قبل بھارتی میڈیا نے بتایا تھا کہ اگلے چند دنوں میں، ڈی آر ڈی او کی جانب سے جدید ترین میزائلوں کی کئی اور بیلسٹک اور کروز سیریز کا تجربہ کرنے کی توقع ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے بدھ کو ملک میں بنائے گئے سطح سے سطح پر مار کرنے والے ‘پرالے ‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے-


    رپورٹ کے مطابق پرالے کو اڈیشہ کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے پر صبح 10:30 بجے کے قریب لانچ کیا گیا اور اس نے اپنے تمام اہداف کو پورا کیا تجربے کے دوران میزائل کے تمام سسٹمز نے کامیابی سے کام کیا اور بالکل درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔


    نئی ٹیکنالوجی سے لیس اس میزائل کو موبائل لانچر سے لانچ کیا جا سکتا ہے اور یہ 150 سے 500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


    اے این آئی کے مطابق جدید میزائل کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ انٹرسیپٹر میزائلوں کو شکست دے سکے۔


    اس سے قبل رواں ماہ 18 دسمبر کو بھی بھارت نے اگنی پرائم میزائل کا تجربہ کیا تھا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں کیاگیااگنی پرائم میزائل اگنی سیریزکا ایک نئی نسل کاجدید میزائل ہےاگنی پی میزائل1000کلومیڑسے لے کر2000کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بنا سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اگنی پرائم میزائل کا دوسرا تجربہ تھا اگنی پرائم میزائل کا وزن اگنی3 میزائل سے50فیصد کم ہے یہ میزائل سطح سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔جوہری صلاحیت کے حامل اس میزائل کو ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنگی جنون کا شکار بھارت ہتھیاروں کی مسلسل خریداری اورمیزائل تجربات کی وجہ سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ