Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے، تحریر: نوید شیخ

    ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    ۔ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    ۔ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    ۔ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    ۔ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    ۔ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • صارفین واٹس ایپ کی مدد سے بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھ سکیں گے

    صارفین واٹس ایپ کی مدد سے بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھ سکیں گے

    سان فرانسسكو: دنیا بھر میں مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے صارفین کو بینک اکاؤنٹ پر نظر رکھنے کی سہولت بھی فراہم کردی۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں تاہم اب ایپلیکیشن کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک میں ’واٹس ایپ پے‘ کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے صارفین رقم کی لین دین بھی کررہے ہیں۔

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    اب کمپنی نے اس فیچر کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے صارفین کو بینک کھاتے پر مکمل نظر رکھنے کی سہولت بھی فراہم کردی ہے، جس کے بعد وہ کسی بھی وقت آسانی سے اپنے اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن تفصیلات اور بقایا رقم کے بارے میں جان سکے گا۔

    فیچر کا ستعمال:
    جن کو واٹس ایپ پے کی سہولت حاصل ہے انہیں سب سے پہلے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس( یوپی آئی) کی مدد سے بینک ٹو بینک ٹرانزیکشن کا آپشن ان ایبل کرنا ہوگا اس کے بعد صارف کے واٹس ایپ کا نمبر اکاؤنٹ سے منسلک ہوجائے گا، جب وہ اپنا بینک اکاؤنٹ نمبر پے منٹ میتھڈ میں جاکر درج کرے گا تو وہاں ساری تفصیل اسٹیٹمنٹ کی طرح سامنے آجائے گی۔

    فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری

    اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے طریقہ استعمال

    سب سے پہلے واٹس ایپ کھولیں، سیٹنگز کے آپشن میں جاکر پیمنٹ پر کلک کریں جہاں بینک اکاؤنٹ پیمنٹ میتھڈ نظر آئے گا، اس کو کلک کرنے کے بعد آپ کے سامنے اکاؤنٹ کھل جائے گا البتہ بیلنس نظر نہیں آئے گا، جس کو دیکھنے کے لیے یو پی آئی پن درج کرنا ضروری ہوگا۔

    واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے گروپس سے تنگ افراد کے لیے زبردست فیچر متعارف کرانے پر کام شروع کردیا ہے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے گروپس کو ایک جگہ کرنے کے حوالے سے ’کمیونیٹیز‘ نامی فیچر پر کام شروع کیا ہے، جس کے بعد صارف زیادہ سے زیادہ دس گروپس کو فولڈر کی طرح ایک جگہ جمع کرسکیں گے یہ فیچر فی الحال آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر بیٹا ورژن پر آزمائش کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جسے صارفین زبردست اور شاندار قرار دے رہے ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    کمیونٹیز دراصل واٹس ایپ گروپ کی طرح کا ایک فولڈر ہوگا ، جس کو تشکیل دینے والا صارف خود ہی ایڈمن ہوگا اور وہ گروپس ایڈمنز کی طرح کسی بھی میسج اور گروپ کو حذف کرسکے گا جبکہ صارف اپنی مرضی کے حساب سے کمیونٹی کا نام اور گروپ کی تفصیل کو درج کرسکے ۔

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    جب کوئی نیا ممبر کمیونٹی کو چھوڑ دے گا تو پھر اُسے گروپ کا لنک اور یہاں شیئر ہونے والے مواد تک رسائی نہیں ہوسکی گی بلکہ یہ خود بہ خود غائب ہوجائے گا سادہ الفاظ میں اگر اس فیچر کی بات کی جائے تو اسے ذیلی گروپ یا سب گروپ کا جاسکتا ہے، جس کے ذریعے صارف اور ممبران چیزوں کو کنٹرول کرسکیں گےامکان ظاہر کیاجارہا ہے کہ جلد اینڈرائیڈ پر واٹس ایپ بیٹا ورژن صارفین کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

  • ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ہنود و یہود کا اقرار فرامین رب العالمین و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بطور مسلمان ہمارا اس بات پر یقین ہونا چائیے جو کوئی بات قرآن و حدیث کے ذریعہ سے مستند طریقہ سے ہم تک پہنچتی ہے وہ ہو کر رہنی ہے ہم اسے قبول کریں یاں نا کریں اللہ تعالی اس بات کو پورا کرکے چھوڑیں گے ان شاءاللہ-

    مگر افسوس کہ آج ہم تاویلوں سے کام لیتے ہیں حالانکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے اللہ رب العزت نے بذریعہ وحی کلام الہی میں ارشاد فرما دیا تھا-

    یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ،اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں ۔ سورہ البقرہ

    افسوس مسلمان ہوتے ہوئے آج ہمارا اعتراض ہوتا ہے تو قرآن پر اعتراض ہوتا ہے تو حدیث رسول پر جبکہ ہنود و یہود و دیگر کفار کو نبی ذیشان کی ہر بات سے اتفاق ہے وہ الگ بات ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں یہ بھی میرے رب کی مرضی ہے –

    چودہ سو سال پہلے نبی ذیشان فرما کر گئے تھے کہ غرقد یہودویں کا درخت ہے اور یہودیوں کو قرب قیامت مجاھدین سے بچائے گا-

    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کر دو
    سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے-

    مفسرین کے مطابق غرقد دراصل شجر یہود ہے جو گونگا درخت یا یہود کا پاسباں درخت کہلاتا ہے یہ خاردار جھاڑی کی صورت میں ہوتا ہے جنت البقیع کا اصل نام بھی بقیع الغرقد اسی لئے ہے کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے وہ غرقد کی جھاڑیوں کا خطہ تھا،( صحیح مسلم)

    یہودیوں کا آج اس حدیث پر اتنا یقین ہے کہ انہوں نے اپنا سرکاری درخت غرقد کو بنا لیا آج ہر یہودی کے گھر،ان کے پارک،ان کی ہر بلڈنگ کے آس پاس غرقد نامی درخت لازمی لگا ہے اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ غرقد کے درخت اسرائیل میں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ فرمان نبی ذیشان جھوٹا نہیں حالانکہ وہ یہودی ہیں-

    دنیا کی کل آبادی پونے 8 ارب ہے جس میں سے عیسائی 31.5 فیصد مسلمان 23.2 فیصد اور ہندو 15 فیصد ہیں باقی دیگر مذاہب کے لوگ ہیں یعنی کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اس کے باوجود آج ہم مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں فلسطین ہو یا افغانستان کشمیر ہو یا عراق ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور خاص کر فلسطین و کشمیر میں ہر ظلم کی حد کراس کی جا چکی ہے-

    کچھ دن قبل ایک ہندو پنڈت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ہندوؤں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کم ازکم 6 بچے ہر ہندو کے ہونے چائیے اور ہر ہندو کے گھر اسلحہ لازمی ہونا چائیے یعنی اس ہندو کو نبی کریم کی اس حدیث پر یقین ہے-

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کر رکھا ہے ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا- (السنن الکبری۔ نسائی)

    اس حدیث کی رو سے ہندو ڈرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں غزوہ ہند پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے قرب قیامت عیسی علیہ السلام کے آنے تک غزوہ ہند ہونے کی بشارتیں ملتی ہیں مگر میں نے محض اس ایک حدیث کو بیان کیا ہے مگر افسوس کہ اس صیحیح سند کی حدیث سے انکاری ہمارے ہی کچھ بھائی بھی موجود ہیں جوکہ کہتے ہیں کہ غزوہ ہند تو ہو چکا جب ان سے پوچھا جائے کہ بھئی کب ہو چکا تو وہ کہتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے ہند پر یلغار کی تھی مگر اب تو ہند تقسیم ہو کر پاکستان اور کئی علاقوں میں بٹ چکا ہے اس لئے غزوہ ہند کا نام نا لو-

    ایسے دوستوں کے ہاں میری گزارش ہے کہ غزوہ ہند سے متعلق اور بھی بہت سے روایات موجود ہیں جن پر ضعیف ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے میں ان پر بحث نہیں کرتا مگر ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ ہندوستان مٹ چکا ؟کیا ہند کے مسلمانوں پر ظلم کا بازار رک گیا ؟کیا ہندو کی بدمعاشیاں ابھی بھی جاری نہیں ہیں؟کیا اللہ کے نبی کا فرمان کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا تم نے پڑھا نہیں؟ کیا کتاب اللہ اور کتب احادیث جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھری ہوئی نہیں ہیں ؟

    کیا ہند میں موجود تیس کروڑ مسلمان امن و سکون سے زندگیاں گزار رہے ہیں اور کیا وہاں ان کو مذہبی آزادی مکمل حاصل ہے ؟ کیا ابھی محض بیس سال قبل ہی انڈین گجرات میں مسلمانوں کو زندہ نہیں جلایا گیا ؟کیا ہند کی مساجد کو گرا کر مندر نہیں بنائے جا رہے ؟ کیا قرآن کی یہ آیت معاذاللہ منسوخ ہو گئی ؟
    آیت یہ ہے باترجمہ

    وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

    اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے-

    کیا آج بھی ہند و کشمیر کی بہن بیٹیاں ہمیں پکارتی نہیں کہ ہماری مدد کرو ؟ بھئی جب یہ ساری نشانیاں بموجب جہاد ابھی باقی ہیں تو پھر غزوہ ہند کیسے ہو چکا ؟

    وہ تو محمد بن قاسم نے ابتداء کی تھی ہند پر یلغار کی اس سے آگے محمود غزنوی و دیگر اس غزوہ ہند کو نے آگے بڑھایا مجاھدین کشمیر و پاک فوج اس وقت غزوہ ہند کا دستہ ہے جبکہ ہندوستان کی مکمل بربادی اور قرب قیامت تک یہ سلسلہ چلتا ہی رہنا ہے

    ہاں وہ الگ بات ہے کہ کل کو ماضی میں آج کے کچھ آزاد ممالک بھی ہند کا حصہ تھے مگر ہند کا لفظ ابھی باقی ہے اور بہت سارا علاقہ ابھی باقی ہے اور کچھ بعید نہیں قرب قیامت یہ ہند بلکل چھوٹا سا زمین کا ٹکرا رہ جائے یا ہو سکتا ہے ہندو نجس پلید اپنے آگے والے چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضہ کرکے اس ہند کا حصہ بناتا رہے یہ سب آنے والے وقت کی باتیں ہیں مگر خدارا ہوش کیجئے احادیث نبویہ و فرمان الہٰی پر عمل کیجئے اور اپنے کشمیری و ہندوستانی بھائیوں کی مدد کیجئے جو کہ قرآن و حدیث سے تین صورتوں میں ثابت ہے –

    جہاد بالنفس، جہاد مال یعنی اپنے مال سے جہاد ،جہاد پر ابھارنا یعنی جہاد کیلئے ترغیب دینا چاہے و زبان سے دی جائے یا قلم سے یا کسی اور طریقے سے یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ کونسا جہاد کر سکتے ہیں لازم نہیں کہ آپ ہتھیار پکڑ کر ٹکرا جائیں کیونکہ جہاد بھی بغیر جماعت کے ہوتا نہیں-

  • خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    محکمہ انسانی حقوق پنجاب کی جانب سے این جی او کے تعاون سے خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں گزشتہ چند برس کے دوران خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ کے حصول، تعلیمی اداروں میں مخصوص نشستوں اورجائیداد سے وراثت اور ووٹ سمیت کئی حقوق دیئے گئے ہیں تاہم ان پرابھی تک عمل درآمد نہ ہونے کے برابرہے۔

    مقبوضہ کشمیر کی پہلی خواجہ سرا میک اپ آرٹسٹ کے انٹرنیٹ پر چرچے

    سال 2021 کے دوران بھی خواجہ سراؤں کو ان کی الگ پہچان اورحقوق کی فراہمی کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم پنجاب میں ابھی تک ٹرانس جینڈررائٹس ایکٹ ابھی تک منظورنہیں ہوسکا ہے۔

    "مخنث” افراد کیلئے سب انسپکٹراورکانسٹیبلز لیول کی آسامیوں پردرخواستیں جمع کرانے کا اعلان

    تاہم اب محکمہ انسانی حقوق پنجاب نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی این جی او کی معاونت سے خواجہ سراؤں پر تشدد،امتیازی سلوک اورشکایات کے اندارج کیلیے موبائل فون ایپ متعارف کروادی ہے۔

    پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ماڈل پر تشدد

    ٹوکیو اولمپکس:دنیا میں پہلی بار خواجہ سرا نے سونے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کر دی

    ٹرانس جینڈرکمیونٹی کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کی نمائندہ گل مہرسید نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2021 میں مرکزی اورصوبائی حکومتوں نے خواجہ سراؤں کے کئی ایک مسائل پرتوجہ دی ہے اوران کیلئے قانون سازی کی گئی ہے ۔

    خود کو دیکھتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کوئی خواجہ سرا کھڑا ہے ایمان علی

    رابعہ انعم نے ایمان علی کو خود کو ’خواجہ سرا‘ جیسا قرار دینے پربیوقوف قراردیا

    خواجہ سرا ماہم نے بتایا کہ ہمارے معاشرے اورخاندانوں کے رویوں میں تبدیلی آرہی ہے،ابھی ٹرانس جینڈرکمیونٹی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات نظر آنا شروع ہوگئے85 فیصد خواجہ سرا بالکل ان پڑھ ہیں فیشن ڈیزائنرخواجہ سرا ہیرعلوی کہتی ہیں کہ خواجہ سراؤں سے جنسی اورجسمانی تشدد، اہم مسئلہ ہے۔

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

  • ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل

    لندن :ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان، پاکستان کے محمد رضوان بھی شامل ،اطلاعات کے مطابق اس سال پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان آئی سی سی ٹی 20 پلیئر آف دی ایئر کی نامزدگیوں میں شامل ہیں۔

    اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے پلیئرز آف دی ایئر کی نام زدگیوں کا اعلان کر دیا ہے۔کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے سال کے بہترین کھلاڑی کے چناؤ کے لیے نامزد 4 کھلاڑیوں میں پاکستان کے محمد رضوان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    پلیئر آف دی ایئر کے لیے نامزد دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے جوز بٹلر، سری لنکا کے ہسارنگا اور آسٹریلیا کے مچل مارش کے نام بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے ایک کلینڈر ایئر میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے قومی وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے لیے ایک اور اعزاز کا اعلان ہوا ہے ، اطلاعات ہیں‌ کہ برطانیہ کے کاؤنٹی کرکٹ کلب سسکس نے پاکستان کے وکٹ کییر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔

     

    سسکس کرکٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمیں یہ بتا کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی کے ایک کلینڈر ائیر میں 2000 رنز بنانے والے قومی بلے باز نے بھی سسکس کاؤنٹی کے ساتھ معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2022 کے شاندار سیزن کی جانب دیکھ رہا ہوں۔

    محمد رضوان کے سسکس کرکٹ کے ساتھ معاہدے پر انگلش ویمن ٹیم اور سسکس کی کرکٹر سارہ ٹیلر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا تھا۔

  • کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    کپتان کی غلط پالیسیاں،تحریر:نوید شیخ

    پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔

    ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650
    ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔

    ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔

    ۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔

    کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    انہوں نے ہمت نہ ہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!! تحریر: محمد زمان

    درحقیقت لکھنا کچھ اور چاہتا تھا پر دسمبر نے کچھ اور نہ لکھنے دیا ضمیر نے ملال کیا کہ دسمبر آئے اور آپ ان لمحات کو یاد نہ کرو تو ان لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی وہ جنہوں نے ہمت ناہاری تھی جنھوں نے پاکستانی قوم میں جرات کا ایک نیا باب کھولا تھا۔تو آج کچھ تذکرہ ان لوگوں کا جنھوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔جنھوں نے دنیا کو بتایا کامیابی کیا کچھ چاہتی ہے آپ سے۔۔۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے ! ” حوصلہ اور ہمت ہارنے والے کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ” ۔
    اس کائنات میں کامیابی کوئی حتمی منزل و مقام نہیں اور نہ ہی ناکامی کوئی حتمی ہوتی ہے ہاں ناکامی کو مستقل بنانے میں مایو سی اور خوف انتہائی اہم کردارادا کرتے ہیں۔درحقیقت یہ صرف زندگی کا ایک لمحہ ہوا کرتا ہے جس نے گزر جانا ہوتا ہے۔ناکامی کے لیے مایوسی کو سر پر بٹھانا پڑتا ہے اور کامیابی کے لیے ذہنی اور فکری صلاحتوں کو بروے کار لانا لازم ہوا کرتا ہے ۔دنیا کا ہر انسان اپنا مقام بنانا چاہتا ہے کچھ ایسا کرنے کا خواہ ہے کہ جس سے اس کی پہچان میں اضافہ ہو اور اس کے لیے اسے کچھ ایسے لوگوں کے ایسے واقعات کے مطالعہ کی ضرورت پڑتی ہے کہ جس سے وہ ہمت و استقلال کا سبق لے سکھیں۔جیسے کے تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں۔آپ دنیا کے کامیاب لوگوں کا ذرا مطالعہ کریں تو تمام کامیاب لوگوں میں آپ کو ایک چیز قدرے مشترک ملے گی کہ انہوں نے کامیابی کسی سے متاثر ہو کر یا کسی سخت گیر واقعہ کے تھپیڑے کھا کرحاصل کی ہوگی۔ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے کہ ہم لوگ مایوسی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ اس میں محنت درکار نہیں ہوتی ۔اپنے مشکل اور مایوس کن حالات کو بدلنے کا صرف سوچتے ہیں پر ان عوامل پر عملی اقدام نہیں کرتے جن سے ہماری کامیابی کی راہیں کھل سکیں۔
    ہم میں سے اکثر لوگوں سے حالات کا پوچھا جائے تو وہ آپ کو سخت حالات کا شکوہ کرتے ملیں گے اپنی مشکلات کا رونا روئیں گے پر جب ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے درحقیقت ان حالات کو دعوت خود دی ہوئی ہوتی ہے ان سے نمٹنے کا ہنر نہیں سیکھا ہوتا ۔اپنی تمام تر قوت کو منفی باتوں میں ضائع کرتے رہتے ہیں۔چلیں ایک لمحہ کے لیے مان لیا جائے کہ آپ کے حالات بہت ہی زیادہ خراب ہیں آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں ،آپ کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ،آپ نے اپنی تمام تر قوت لگادی پر بھر بھی ناکام رہے ۔۔۔۔
    پر ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آپ کے گردنواح میں ایسے لوگ نہیں ہیں کہ جو اسطرح کے حالات سے بھی زیادہ مشکل حالات کا سامنا کر چکے ہوں اور ان کو اپنی قوت ،حکمت عملی اور جرات سے ان حالات کو شکست دی ہو؟؟؟؟؟؟؟ آپ کے ہر قسم کے عذر قبول کر لیے جائیں ۔
    کیا آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوس کن ہیں جیسے کہ 16 دسمبر 2014 کے واقعے میںآرمی پبلک سکول پشاور میں موجود اساتذہ اور طلباء کے تھے ذرا آنکھیں بند کریں اور خود سے پوچھیں …. جس کا یقینی جواب نہیں میں ملے گا تو اتنی مایوسی اور بیزاری کیوں زندگی سے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے حالات ان سے بھی زیادہ مایوسی کن ہیں۔کیا کبھی آپ کے سامنے آپ کے دوستوں اور اساتذہ کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا ؟ کیا آپ کے سامنے آپ کے دوستوں کے خون کی ندیاں بہا دی گئی ۔۔۔؟ کیا آپ نے کبھی کرسیوں کے نیچے چھپ کر موت کا انتظار کیا؟کیا کبھی آپ کرسیوں کے پیچھے چھپ کہ درندہ صفت انسان کو دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے دماغ میں مسلسل خوف نے جنم لیا کہ اگلی گولی آپ کے جسم سے آر پار ہو جائے گی؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کے آس پاس بیٹھے دوستوں کے جسموں سے دشمنوں کی گولیاں آرپار ہوئی ہوں؟کیا کھبی آپ کو بازوں پرگولی لگی اورآپ گر پڑے دشمن نے آپ یہ سوچ کر چھوڑ دیا ہو کہ یہ مر چکا ہے؟؟کیا آپ کی ماںنے کسی درندہ صفت انسان کے آگے دامن پھیلا کر یہ کہا کہ خدارا بچوں کو کچھ نہ کہیں پر ظالم نے سب سے پہلے آپ کی ماں کو نشانہ بنایا ہو اور آپ یہ منظر کرسیوں کے نیچے چھپ کے دیکھتے رہے؟کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا کہ آپ کی کلاس کے سامنے والی کلاس آپ کے بھائی کی ہو اور ہاں سے گولیوں کے چلنے کی آوازیں آرہی ہوں آپ اسے بھاگ کے بچانا چاہتے ہوں پر آپ کی جان کے تحفظ کے لیے آپ کو ایسا نہ کرنے دیا گیا ہو؟ نہیں ہوا نا آپ کے ساتھ ایسا، دعا ہے کبھی ہو بھی نہ ایسا ۔آپ کو کیا لگتا ہے کہ اس حملہ میں زخمی ہونے والے اورخوش نصیبی سے بچ جانے والے اساتذہ اور طلباء نے امید چھوڑ دی ہوگی ،اٰن خوف ذدہ مناظر کو اپنے دماغ میں بیٹھا لیا ہو گا ، اساتذہ نے وہاں پڑھانا چھوڑ دیا ہو گا ،زخمی طلباء نے دوبارہ اس سکول کا رخ نا کیا ہو گا،زخمی طلباء کے والدین نے اپنوں بچوں کو اس سکول جانے سے روک دیا ہو گا…….. جی نہیں حضور ایسا کچھ نہیں ہوا آگے کے لمحات نے میری تو رگ رگ میں جذبہ پیدا کر دیا ۔دیکھتے ہیں آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے آگے آنے والے واقعات کو پڑھ کے……

    مجھ میں حیرت کی انتہا تھی جب میں نے یہ دیکھا کہ زخمی طلباء زخموں سے نجات ملتے ہی اپنا پہلا قدم اپنی کامیابی کی راہ پہ پھر سے ڈال دیتے ہیں انہیں اگلے دن سکول میں دیکھا جاتا ہے ۔ان میںسے ایک شہید کے والد نے کہا تھا کہ انہیں فخرہے اپنے شہید بیٹے پر کہ جس نے پوری کلاس کو بچا لیا، اگر یہ لوگ مایوس نہیں ہوئے ،اگر یہ لوگ اپنی منزل سے نہیں ہٹے ،اگر ان کے حوصلہ پست نہیں تو آپ کس لئے اپنے حوصلے پست کیے ہوئے ہیں آپ کس لیے ہمت ہار بیٹھے ہیں،آپ کیو نکر مایوس بیٹھے ہیں، آپ کیونکر زندگی کی ڈور سے تنگ آ چکے ہیں۔۔۔۔؟
    یاد رکھیے گا۔۔۔! ” بڑے سے بڑا واقعہ ،بڑی سی بڑی بات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک کہ آپ خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے "۔
    یہ واقعات آپ میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لا سکتے اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

    اپنے آپ کو مایوسی کی دلدل سے نکا ل لیجیے ۔اگر آپ اس دلدل سے پہلے سے نکلے ہوئے ہیں تو اپنے اطوار بدلیے اپنا طریقہ بدلیے اپنی سوچ کا پیمانہ بدلیے ، ہمت و جرات کامعیار بدلیے۔اگر آپ ایک معلم یا معلمہ ہیں تواپنی ذمہ داری ویسے داد کیجیے جیسے اس معلمہ نے ادا کی تھی جو پریپ کلاس میں موجود تھی ظالموں نے آگ لگا دی پر پھر اپنے بچوں کو یہ کہیے جاری تھی بیٹا پچھلے دروازے سے نکل جائو سب ۔اگر آپ کسی ادارے کے یا گھر کے سربراہ تو اپنی ذمہ داریاں ویسے ادا کریں جیسے اس سکول کی پرنسپل نے ادا کی تھیں۔اگر آپ کو اپنے سکول کو بچوں سے پیار ہے تو اپنا پیار ایسا بنائے جیسا اس معلمہ نے اپنا یا ہوا تھا جو خود زخمی تھی شدید پر سکول کے زخمی بچوں کو ریسکیو کرنے میں بھاگ رہی تھیں جب آرمی کے جوانوں نے ان سے کہا کہ آپ بھی ریسکیو ہونا چاہیے قربان جاوں اس محبت کے کہتی ہیں میرے سکول کے تمام زخمی بچے ریسکیو ہو جائیں میرے لیے ہی ریسکیوہے۔اگر آپ خود کو بہادر سمجھتے ہیں تو آپ ویسے بہادر بنیں جیسے اس سکول کا زخمی بچا بنا جو خود زخمی ہونے کے باوجود دوسروں کو بچانے میں لگا رہا۔اگر آپ کو تعلیم سے محبت ہے تو ویسے محبت کیجیے جیسے اس معلمہ اور اس ماں نے کی تھی جو سکول کے کھولنے کے پہلے ہی دن کہتے ہیں کہ اگر سکول میں کوئی بھی پڑھانے کو نہ آتا تو میں اکیلے ہی پڑھاتی اور اسی ماں کا اپنا جوان بیٹا بھی اس درندگی کا نشانہ بن چکا تھا۔اگر آپ ایک طالبعلم ہیں تو آپ کو اپنے تعلیمی ادارے اور تعلیم سے لگائو ایسا ہونا چاہیے جیسا ان زخمی طلباء کا تھا جو ٹھیک ہوتے ہی سکول کا رخ کرتے ہیں۔

  • امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    ورجینیا: دفاعی تحقیق کے امریکی ادارے ’ڈارپا‘ کی نگرانی میں سمندری گہرائی میں خودکار انداز سے سفر کرنے والے جاسوس ڈرونز آبدوز کا 2020 میں شروع ہونے والا منصوبہ ’مینٹا رے ڈرون پروگرام‘ اپنے دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈارپا کے مطابق یہ کوشش جدید ٹیکنالوجیز کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے تحت پے لوڈ کے قابل خود مختار بغیر پائلٹ کے زیر آب گاڑیاں (UUVs) سمندر کے ماحول میں طویل مدتی، طویل فاصلے کے مشنوں پر کام کریں گی اس زیرِ آب ڈرون کے بڑے اور پھیلے ہوئے پر ہوں گے جن کی وجہ سے یہ ’مینٹا رے‘ مچھلی کی طرح دکھائی دے گا۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    ’مینٹا رے انڈر واٹر ڈرونز‘ کی جسامت بہت بڑی ہوگی لیکن اب تک ان کی حتمی جسامت کا تعین نہیں کیا گیا ہے نئے مرحلے کےلیے دو امریکی دفاعی اداروں، نارتھروپ گرومین اور مارٹن ڈیفنس گروپ کو منتخب کیا گیا ہے جو اپنے اپنے طور پر اصل جسامت والے مینٹا رے ڈرونز تیار کریں گےان میں سے جو ڈیزائن بھی امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) کو زیادہ مناسب لگے گا، اسی کو آخری اور پیداواری مرحلے کےلیے منتخب کیا جائے گا۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    ’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی‘ (ڈارپا) کے مطابق، ایسے کسی بھی ڈرون کو سمندر میں لمبے فاصلے تک پہنچنے کے علاوہ نمکین سمندری پانی کے اندر طویل مدت تک محفوظ اور کارآمد حالت میں رہنے کے قابل بھی ہونا چاہیے علاوہ ازیں، ڈارپا کا یہ تقاضا بھی ہے کہ اس ڈرون کو مرمت اور دیکھ بھال کےلیے انسانی مداخلت کی بھی کم سے کم ضرورت پڑے جبکہ اس کی بیٹریاں بھی طاقتور ہوں جو سمندری پانی کے بہاؤ سے خود کو دوبارہ چارج بھی کرسکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ ’مینٹا رے‘ ڈرونز کا حساس آلات سے لیس ہونا بھی لازمی ہے تاکہ وہ سمندر کی گہرائی میں رہتے ہوئے دور دراز مقامات پر نظر رکھ سکیں اور امریکی افواج کو دشمن آبدوزوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے بروقت آگاہ کرتے رہیں اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی امریکی فوج کو خلا، فضا اور زمین کے علاوہ سمندر کی گہرائی میں بھی جاسوسی کی صلاحیت حاصل ہوجائے گی۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

  • حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    حکومت و اپوزیشن کی جنگ اور مہنگائی. تحریر: نوید شیخ

    ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    ۔ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

    ۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    ۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟

    ۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔

    اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے سمندر کے اوپر منڈلانے والے ایک بالکل نئے قسم کے طوفان کو ’فضائی جھیل‘ کا نام دیا ہے اسے مغربی بحرِہند سے افریقی سمندروں تک جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان ہوائی بگولوں کی وجہ سے بنتا ہے جس کی رفتار بہت مدھم ہوتی ہے اور پانی کے وسیع ذخائر پر مشتمل یہ نظام بارش برسانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس کی تفصیلات امریکن جیوفزیکل یونین کی موسمِ خزاں کی حالیہ کانفرنس میں بیان کی گئی ہیں۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    رپورٹ کے مطابق سمندری ماحول کے عین اوپر اس سے قبل تنگ اور طویل فضائی کیفیات نوٹ کی گئیں جن میں پانی کی وسیع مقدار بھری ہوتی ہے جنہیں سائنسدانوں نے فضائی دریا کا نام دیا تھا عین نمی سے بھرپور یہ گول دائرے ہوتے ہیں جنہیں فضائی جھیل یا ایٹماسفیئرک لیک کہا گیا ہے فضائی جھیل پورے فضائی موسم سے الگ تھلگ کٹ کر رہتی ہے-

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    تحقیق کے مطابق نمی سے بھرے چھوٹے چھوٹے نظاموں کو افریقی ساحلوں تک جاتے ہوئےدیکھا گیا ہےجہاں یہ نیم بنجر علاقوں اور ساحلوں پربارش برسارہے ہیں ماہرین نے مسلسل 5 سال تک فضائی جھیلوں پر غور کیا ہے جو سست روی سے آگے بڑھتے ہیں اور طویل ترین طوفانی جھیل 27 روز تک برقرار رہی تھی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    5 سال میں مجموعی طور پر 17 جھیلوں کو دریافت کیا گیا ہے جو خطِ استوا کے اردگرد 10 ڈگری پر دکھائی دی ہیں۔ خیال ہے کہ دیگر علاقوں میں یہ فضائی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں وہ بڑے سائیکلون کی شکل اختیار کرلیتی ہیں سائنسدانوں نے فضائی جھیلوں کی تشکیل اور دیگر موسمیاتی کیفیات سے الگ ہونے کے سوالات پر بہت غور کیا ہے پہلا مفروضہ تو یہ ہے کہ شاید اندر کی جانب تیز ہوا سے یہ سب کچھ بنتا ہے اور دوم مجموعی فضائی اور موسمیاتی کیفیات اسے جنم دے رہی ہے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    سائنسدانوں کے مطابق کلائمٹ چینج کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ اندرونی قوت کے تحت ایک جگہ سے دوسرے ملک جاتے رہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے مشرقی افریقا کے ساحلی علاقوں میں بارشیں ہونے لگی ہیں لیکن بارشوں کی یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ایک مصنوعی جھیل پورے سال ایک کلومیٹر وسیع سوئمنگ پول کو چند سینٹی میٹر تک ہی بھر سکتی ہے۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ