Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب  ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سعودی مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عبدالله بن عامرالسواحہ نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم لیپ کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے میں مدد دے گی سعودی ٹیلی کام کمپنی، آبدوزوں کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ سرمایہ کاری میں ای ڈبلیو ٹی پی عربیہ کیپیٹل کا 2 ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے۔

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں…

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ خوش حالی 7وینچرزکے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپ کی تعمیر میں مدد دے گی اور اس مقصد کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ سعودی ٹیلی کام کمپنی (ایس ٹی سی) سب میرین (آبدوزوں) کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔

    انہوں نے اگلے آٹھ سال میں ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک ملازمتیں پیش کرنے کا اعلان بھی کیا انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مملکت میں ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مارکیٹ کا حجم 40 ارب ڈالرہے اور یہ خطے میں اب تک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ہمیں خطے میں خاص طور پر ای کامرس، گیمنگ، ڈیجیٹل مواد اورکلاؤڈ کمپیوٹنگ میں جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے،اس پر بہت فخر ہے۔

    روئٹرز کو دیئے گئے انٹرویوں میں وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ آرامکو پرسپرٹی7 کے اقدام میں سبزٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوزکی جائے گی جبکہ لاجسٹک کمپنی جے ٹی ایکسپریس گروپ کا مشترکہ منصوبہ خطے کے لیے ایک اسمارٹ مرکزتعمیرکرے گا جس سے کارکردگی میں 100 فی صد تک بہتری آئے گی بحیرہ احمر کے ساحل پرتعمیر ہونے والے مستقبل کے میگاشہرنیوم کے مکینوں اورزائرین کی خدمات کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک اور پلیٹ فارم بھی ہے جس سے صارفین کو اپنے ذاتی ڈیٹا کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    سعودی حکومت کویہ بھی توقع ہے کہ 1.4 ارب ڈالرانٹرپرینیورشپ میں خرچ کیے جائیں گے اورڈیجیٹل مواد کی معاونت کے لیے فنڈزمختص کیے جائیں گے جن میں گیراج کے نام سے ایک اقدام بھی شامل ہے دارالحکومت الریاض میں گیراج کے نام سے مختص مقام پرنئی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے نئے کاروباریوں کی میزبانی کرے گا ان تمام اعدادوشمار کی تیسرے فریق (تھرڈپارٹی) نے توثیق کی ہے،ہم ہوا میں کوئی تیر چلا رہے ہیں اور نہ ظاہری نمودونمائش کا کوئی کاروبار کرتے ہیں بلکہ ہم عزم کے ساتھ عملی اقدامات کرتے ہیں‘‘۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس وقت دولت مندخلیجی ممالک غیرتیل کی آمدن کو فروغ دینے اور خام تیل پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی مہم چلانے والوں اور تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ نے حکومتی مالیات پر دباؤ ڈالا ہے۔

    سعودی عرب پہلے ہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں وژن 2030 کے نام سے معروف اقتصادی اصلاحات کے وسیع ترمنصوبے میں سیکڑوں ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے اورتیل کی آمدن پرانحصار کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں

    سلمان خان کے لیے سعودی عرب کا "پرسنالٹی آف دی ایئر” ایوارڈ

    دوسری جانب شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی نے "نورہ ہیلتھ” پروگرام متعارف کرایا ہے۔ یہ علاقے کے ممالک میں صحت کے لیے پہلا جامعاتی پروگرام ہے جس کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری حاصل ہے۔

    سعودی عرب میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں اکیڈمک سپورٹ اور طلبہ کی خدمات کی سکریٹری ڈاکٹر ریم الوہیبی نے تعلیمی اداروں میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ "نورہ ہیلتھ” پروگرام ان کی یونیورسٹی کی حکمت عملیوں اور صحت کے حوالے سے سعودی ویژن 2030 کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام نفسیاتی ، سماجی اور عضوی جامع صحت کے مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد جامعہ کے اندر کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک محفوظ صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت نے 2023 تک اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اس مالی سال میں ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیا ڈیجیٹل روپیہ بھی متعارف کرایا جائے گا بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے ملکی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ڈیجیٹل روپے کا تعارف “بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجیز” پر مبنی ہوگا۔

    تھر میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر برآمد

    نرملا سیتارامن نے ملک کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کا تعارف ڈیجیٹل معیشت کو ایک بڑا فروغ دے گا، اور ڈیجیٹل کرنسی زیادہ موثر اور سستی کرنسی مینجمنٹ سسٹم کا باعث بنے گی۔

    آر بی آئی اس سال بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی جاری کرے گا۔ اس سے معیشت کو بڑا فروغ ملے گا۔ کریپٹو کرنسی سے ہونے والی آمدنی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے ٹیکس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ایسی کسی بھی جائیداد کی منتقلی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    ریزرو بینک آف انڈیا یکم اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال 2022-2023 میں ڈیجیٹل روپیہ متعارف کرائے گا۔ تاہم سیتارامن نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ڈیجیٹل روپیہ کیسے کام کرے گا یا یہ کیسا نظر آئے گا۔

    بھارت اگر اپنے منصوبوں پر قائم رہتا ہے تو وہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) متعارف کرانے والی دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہو گا۔

    یاد رہے چین 2014 سے اپنے یوآن کے ڈیجیٹل ورژن پر کام کر رہا ہے اور جب عالمی سطح پر CBDCs شروع کرنے کی بات آتی ہے تو وہ سب سے آگے ہے۔

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    وزیر خزانہ سیتا رمن نے کہا کہ ہم اومی کرون لہر کے درمیان ہیں، ہماری ویکسینیشن مہم کی رفتار نے بہت مدد کی ہے مجھے یقین ہے کہ ‘سبکا پریاس’، ہم مضبوط ترقی کے ساتھ جاری رکھیں گے وبائی مرض نے ہر عمر کے لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہےمعیاری ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے، ایک نیشنل ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

  • "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    "فاروق اعظم کی کتاب کشمیر”ازقلم:-محمد عبداللہ گِل

    تحریک آزادی کشمیر قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے اعلان جہاد کے بعد اب تک جاری ھے۔تقریبا 73 سالوں سے جاری اس تحریک کے متعلق نوجوان نسل کو حقائق کا علم نہیں ھے زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو بہت ہی شوق ھے تو اسے کسی ایک جماعت کے کردار کے متعلق علم ہو گا۔لیکن تحریک آزادی کشمیر میں مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کا کردار ھے۔اس کے علاوہ کشمیر کی جغرافياui اہمیت کیا ھے اور بھارت نے اس وادی پر قبضہ کیوں کیا ھے اس کے متعلق علم کسی کو نہیں ھے۔اور تو اور اس پب جی دور کی نسل کو یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں پاکستان کیا کردار ادا کر رہا ھے۔اور پاکستان میں جلسے جلوس کشمیر کے لیے کیوں ھے۔اس کے بارے ہماری نوجوان نسل کو ذرہ برابر علم نہیں ھے اور نہ ہی حکومت پاکستان نے کبھی اس کے متعلق سوچا ھے۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ایک وقت آئے گا کہ کشمیر بھی کفار لے جائے گے آہستہ آہستہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب ہو جائے گے اور ہمارا نوجوان،اقبال کا شاہین پب جی اور فحاشی کے اڈوں میں ہی گھرا رہے گا۔اس حوالے سے چونکہ ڈاکومنٹری بنانے کی ضرورت ہےہمارے پاکستان میں کشمیر و فلسطین کے حوالے سے ادبی کام کی ضرورت ھے۔تحریک کشمیر کے حوالے سے فاروق اعظم بھائی نے کتاب کو شائع کروایا۔اس ہفتہ میں ان کی کتاب "کشمیر” کا مطالعہ کیا انھوں نے کشمیر کی جغرافیائی،تاریخی،سیاسی معلومات کو عام فہم زبان میں کتابی شکل دی ھے۔

    فاروق اعظم بھائی کی کتاب "کشمیر” کمال کا شاہکار ہے۔انھوں نے اعلئ انداز سے تحریک آزادی کشمیر اور اس کی تاریخ کو تفصیل سے بیان کیا۔آج کا المیہ یہ ھے کہ نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کا پتہ ہی نہیں ھے۔اس لیے کالجز کے طلباء کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ کشمیر کی تاریخ اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لازوال قربانیاں دینے والوں کو پہچان سکے۔فاروق اعظم بھائی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے سادہ الفاظ میں کشمیر کی تاریخ کو عام فہم بنا کر کتابی شکل دے دی ھے۔میرے خیال سے آج کا جو اہم مسلہ ھے کہ ہر سیاسی اور حکومتی جماعت کشمیر کی تحریک میں اپنے کردار کو پیش کرتی ھے کہ ہم نے کشمیر کے لیے یہ کیا وہ کام کیا۔اس مسئلے کو بھی فاروق اعظم بھائی نے اپنی کتاب میں حل کر دیا ھے انھوں نے باقاعدہ سرخیوں کی شکل میں ہر سیاسی جماعت ،ہر مذہبی جماعت کا تحریک کشمیر میں کردار کو واضح کر دیا ھے۔اس کے علاوہ وہاں کی عسکری جدوجہد کو بھی اپنی کتاب میں قلمبند کیا ھے۔اس کے علاوہ ان عسکری جماعتوں کے قائدین کا بھی مختصر تعارف تحریر کیا ھے۔اس کے علاوہ 1993 میں قائم کردہ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور اس کے مختلف دھڑوں کے متعلق بھی لکھا ھے جس کا مجھے علم نہیں تھا اس کتاب کے مطالعے سے پہلے۔مصنف نے اپنی کتاب میں حوالہ جات کو بنیاد بنایا ھے جس میں مختلف کشمیری مصنفین،بین الاقوامی مصنفین کی کتب کے حوالہ جات لکھے ہیں۔اس کتاب کے مطالعہ کے بعد میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ اس کتاب کو کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایکٹوسٹس کو پڑھنا چاہئے تاکہ وہ بحث و مباحثہ میں حوالہ جات دے سکے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ایسے نوجوان مصنفین کی پشت پناہی کرے تاکہ ان کا حوصلہ بلند ہو اور یہ ملک و ملت کی قلم کے ذریعے خدمت کر سکے۔اس وقت کشمیر کے حوالے سے پاکستان میں مخلتف ڈاکومنٹری کو بناتے ہوئے اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ ان لوگوں کو آگے لایا جائے جن کی یہ ڈومین ھے۔اب کشمیر کے حوالے سے ڈاکومنٹری بناتے ہوئے اگر ساحر علی بگا اور آئمہ بیگ کو بلایا جائے جو کہ پوپ سنگر ہیں انھوں نے خاک راہنمائی کرنی ھے

  • چیمپئن ٹیموں کوکس چیز سے فرق نہیں پڑتا:  محمد رضوان نے صاف صاف بتادیا

    چیمپئن ٹیموں کوکس چیز سے فرق نہیں پڑتا: محمد رضوان نے صاف صاف بتادیا

    لاہور:چیمپئن ٹیموں کوکس چیز سے فرق نہیں پڑتا: محمد رضوان نے صاف صاف بتادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)سیزن 7 میں شامل ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان کا کہنا ہے میچ میں پہلے یا بعد میں بیٹنگ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر محمد رضوان کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ٹاس جیتنے کے بعد ہم بولنگ ہی کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ چیمپئن ٹیموں کو ٹاس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

     

    View this post on Instagram

     

    A post shared by Pakistan Super League (@thepsl)

    ملتان سلطانز کے کپتان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ اچھی ٹیموں کو پہلے یا بعد میں بیٹنگ کرنے سے فرق نہیں پڑتا ۔رضوان نے مزید کہا کہ اچھی کرکٹ کھیلیں کیوں کہ نتیجہ اچھی کرکٹ پر ہی آتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ر وز پی ایس ایل 7 کے ساتویں میچ میں ملتان سلطانز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو6 رنز سے شکست دے دی تھی۔پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالیں تو ملتان سلطانز مسلسل 3 میچ جیت کر پہلے نمبر موجود ہے۔

    ادھرپاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن 7 میں شامل ٹیم کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم کا تین مسلسل شکستوں کے بعد بیان سامنے آگیا۔

    سوشل میڈیا پر بابر اعظم نے محمد نبی کے ہمراہ میچ سے لی گئی تصویر اور ایک پوسٹ شیئر کی ۔بابر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ’ وہ شروعات نہیں جس کی ہم تیاری کررہے تھے لیکن ابھی بھی بہت کچھ آنے والا ہے‘۔

     

    کراچی کنگز کے کپتان نے مزید لکھا کہ اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے بدل سکتے ہیں کیوں کہ ختم ہونے تک کبھی کچھ ختم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ کراچی کنگز کو مسلسل تینوں میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ، مسلسل تیسری ناکامی سے دوچار ہونے والی کراچی کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخر میں ہے اور یہ وہ واحد ٹیم ہے جو اب تک ایک بھی میچ نہیں جیت سکی ہے۔

  • سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    سب کی جستجو آگے بڑھنا ؟ تحریر:عبد الوحید

    ہر کوئی زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتا ہے چاہے وہ کھیل کا میدان ہو ، کاروبار کا میدان ہو ، تعلیم کا میدان ہو یا چاہے کوئی بھی میدان ہو ہر ایک آگے بڑھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ۔ سب اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں ۔ تاہم ایک طالب علم کے کامیاب ہونے کا مطلب بہتر گریڈ اور مجموعی ترقی حاصل کرنا ہے۔ کامیاب مطالعاتی حکمت عملی پر موثر طریقے سے عمل کرتے ہیں اپنی آخری تاریخ کا بہتر انتظام کرتے ہیں اور اپنی عادات کو اس طرح بہتر بناتے ہیں جس سے انہیں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں۔ اگرچہ تمام طلبا کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ ثابت شدہ طریقے زیادہ کامیاب ہونے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    کامیابی زندگی میں ٹھوکر کھانے کے مناسب حصے کے بعد آتی ہے۔ کلید یہ ہے کہ مایوس نہ ہوں اور صیح وقت پر ضروری تبدیلیاں کریں۔ اس وقت تک ایک طالب علم تعلیمی فضیلت کے حصول کے لیے پرعزم ہے؛ وہ کامیاب ہونے کا پابند ہے۔اگر آپ زندگی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں تواچھی طرح سے خود ڈھالنا چاہیے۔ آپ کو جو کچھ کرنا ہے اور کب کرنا ہے اس کا منصوبہ بنائیں۔ اس سے آپ تمام حالات سے صیح معنوں میں آگاہ رہ سکیں گے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کاغذ پر منصوبہ بناتے ہیں یا اپنے کمپیوٹر پر۔ زیادہ اہم بات اس پر عمل کرنا ہے۔ آخری تاریخ، امتحانات، ذاتی اور کام سے متعلق واقعات کے ساتھ اس منصوبہ ساز میں تمام اہم معلومات شامل کریں۔آپ اپنی زندگی کو جتنا ہموار کریں گے، اتنا ہی آپ چیزوں کو موثر طریقے سے سنبھالنے کے بارے میں وضاحت حاصل کر سکیں گے۔ طلباء کے لئے سخت تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اوسط گریڈ حاصل کرنا عام بات ہے۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگ جو کم وقت کی سرمایہ کاری کرتے ہیں انہیں بہت بہتر نتائج ملتے ہیں۔ ایک کامیاب طالب علم بننے کی کلید ہوشیار تعلیم حاصل کرنا ہے نہ کہ مشکل۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ ایک مکمل اکائی ہے، صرف ایک باب ہے یا صرف ایک موضوع ہے، اسے بار بار گھسیٹنے کے بجائے اسے سمجھنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس سے چیزوں کو بہتر طریقے سے واضح کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ، باقاعدگی سے مطالعہ کرنے کا نقطہ بنائیں اور کبھی کبھار نہیں۔ آپ کو مطالعاتی مواد کا جائزہ لینے اور اسے صیح طور پر نافذ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اگر آپ کسی تکنیکی موضوع سے نمٹ رہے ہیں تو کچھ سوالات کی مشق کریں اور ہوشیار کا مطالعہ کریں۔کسی نہ کسی طریقے سے کسی بھی قسم کی خلل ہمیشہ آپ کی زندگی میں ظاہر ہوگا۔ آپ کو اپنی تعلیم پر گہری توجہ مرکوز کرنے کا ایک نقطہ بنانا چاہئے تاکہ سیکھنا بہت زیادہ موثر ہو۔کسی بھی ایسی چیز سے چھٹکارا حاصل کریں جو آپ کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ایک مقصد کے ساتھ اتنا مضبوط کام کریں کہ آپ کا عزم متاثر نہ ہو جو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
    آپ کی ذہنیت آپ کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائے گی اور آپ کو دوسرے طلباء کے مقابلے میں نمایاں کرے گی۔ ایک اور انتہائی اہم بات پر یقین کرنا ہے۔آپ کو اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہونا چاہئے اور اپنے آپ کا بہترین ورژن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اس ذہنیت میں آجائیں گے تو آپ کو بہت جلد تیز رفتار ترقی کا تجربہ ہوگا ہم سب میں الگ الگ صلاحیتیں ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کا دوسروں سے موازنہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہم سب مختلف انداز میں تخلیق کیے گئے ہیں۔

    کامیاب طلباء اپنی صلاحیتوں کا موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ دوسروں کو نقل نہ کرنے کا نقطہ بنائیں۔ اپنا راستہ بنائیں اور اس پر چلنے کے لئے کافی پراعتماد رہیں۔

  • "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    "خاک میں مل گئے نگینے لوگ "تحریر : تابش عباسی

    بابا اشفاق احمد کہا کرتے تھے کہ ” پتر سب نے ہی مر جانا ، اگر ژندہ رہنا تو اس نے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا” -یوں تو میں دنیا میں ہر روز ہی کئی لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کئی مرتے ہیں پر چند ایک ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم سب کو ہی ہوتا ہے ۔29 جنوری 2022 کا دن بھی ایک ایسا ہی دن تھا ، جو کہ آزاد کشمیر و ضلع کوٹلی کی عوام کے لیے بالعموم اور کھوئیرٹہ کی عوام کے لیے بالخصوص ایک ایسے نقصان اور دکھ کی خبر لے کر آیا جس کا ازالہ شاید کئی عشروں تک ممکن نہ ہو –

    کھوئیرٹہ کے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے راجہ اقبال سکندر خان کی وفات کی خبر جہاں جہاں بھی پہنچی ، لوگوں کو سوگوار ہی کرتی گئی ۔
    دنیا میں بہت کم لوگ ہی ایسے پیدا ہوتے ہیں جو سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوں اور عاجزی و انکساری کی اعلی مثال بھی ہوں – راجہ اقبال سکندر خان ( المعروف پہاجی) بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے –

    ان کی تربیت ہی ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں عاجزی و انکساری ، مہمان نوازی اور دوسروں کی مدد کا جزبہ گویا بچپن سے ہی بچوں کی تربیت میں شامل ہوتا تھا -جاگیردار گھرانے کے سپوت ہونے کے باوجود راجہ اقبال سکندر خان صاحب اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ اگر دنیا میں اور لوگوں میں ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو اس کے لیے مال و دولت یا زمینوں کی نہیں ، بلکہ اعلی اخلاق کی ضرورت ہے –

    خواہ آپ کے دوست و ہمدرد ہوں یا سیاسی مخالفین ، سب اس بات پر اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ مرحوم کی وفات کے بعد ایسا خلا بن چکا ہے جو شاید کبھی بھی پر نہ ہو۔
    1975 میں جب حکومت پاکستان نے کشمیر ڈویلپمنٹ کوآپریٹو بینک بنایا تو آپ اس میں افسر منتخب ہوئے پر یہ بینک 1977 میں حکومت پاکستان میں تبدیلی کے ساتھ ہی بند ہو گیا -اس کے بعد سال 1979 میں راجہ اقبال سکندر خان مرحوم نے سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا – 1979 میں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں ممبر ضلع کونسل کا الیکشن لڑ کر ممبر منتخب ہوئے-

    1983 کا الیکشن اس حوالے سے یادگار رہا کہ اس میں راجہ محمد نثار خان صاحب آپ کے مخالف لڑے پر کامیابی نے پھر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے قدم چومے – تیسرا الیکشن 1987 ، جبکہ چوتھا 1992 میں لڑا اور جیت کر چیئرمین ضلع کونسل بنے -1996 تک آپ چیئرمین ضلع کونسل رہے اور یہ آخری موقع تھا جب کہ آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے -آزاد کشمیر کی سیاست میں یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے مرحوم سردار سکندر حیات خان بھی راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔ اس کا عملی ثبوت 2006 میں دیکھنے کو ملا ، جب سردار سکندر حیات خان صاحب نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا ٹکٹ لا کر راجہ اقبال سکندر خان صاحب کو گھر دیا ، مگر راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے 2006 کے عام انتخابات کے لیے ٹکٹ راجہ نثار علی خان صاحب کو دیا اور ان کی بھرپور حمایت بھی کی –
    جب پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت آزاد کشمیر میں بنی تو راجہ اقبال سکندر خان کا نام اس حکومت کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا تھا -مگر چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اور عوام علاقہ کے بھرپور اصرار پر 2021 کے عام انتخابات میں راجہ اقبال سکندر خان صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے ایڈوکیٹ راجہ شاداب سکندر خان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑایا –
    آپ کے ایک فرزند راجہ شہریار سکندر خان اس وقت آزاد کشمیر پولیس میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں ۔
    آپ کی اولاد میں موجود عاجزی و انکساری آپ کی تربیت اور اعلی اخلاق کی بہترین مثال ہے ۔

    راقم کی راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان ملاقاتوں میں پل کا کردار میرے دوست و بھائی ایڈوکیٹ راجہ تیمور علی خان صاحب (یہ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کے بھتیجے اور راجہ قیصر صاحب کے فرزند ہیں) کا تھا ۔ جامعہ میرپور میں یونیورسٹی فیلو ہونے کی وجہ سے راجہ تیمور صاحب کے ساتھ کھوئیرٹہ جانے کا موقع ملا – پر راجہ اقبال سکندر خان صاحب سے ملاقات کر کے کبھی ایسا نہیں لگا کہ کسی روایتی "جاگیردار” کے پاس بیٹھا ہوں یا پھر یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ مرحوم راجہ اقبال سکندر خان صاحب پیدا جاگیردار گھرانے میں ہوئے تھے پر درویشی کے اعلی درجے پر فائز تھے –
    اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اللہ تعالیٰ راجہ اقبال سکندر خان صاحب کی بخشش فرمائیں ، اور مرحوم کی انے والی تمام منازل آسان فرمائیں – اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائیں

  • عمران خان کا دورہ چین اور چہ میگوئیاں، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان کا دورہ چین اور چہ میگوئیاں، تحریر:نوید شیخ

    آجکل عمران خان کے دورہ چین کا بہت شور مچا ہوا ہے ۔ وزیر مشیر بھانت بھانت کی چیزیں نکال کے لارہے ہیں کہ کپتان جب چین کی سرزمین پر قدم رکھے گا تو پتہ نہیں کیا ۔۔۔ انی ۔۔۔ مچا دینی ہے ۔ ۔ حالانکہ سچ اور حقیقت یہ ہے عمران خان نے اپنے ہاتھوں سے سی پیک کو دفن کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ اس لیے اس دورہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ۔ کیا عمران خان چین کا ناکام دورہ کرنے جا رہے ہیں ؟؟؟۔ کیونکہ اس وقت جو اطلاعات اور خبریں وزارت خارجہ سے باہر نکل رہی ہیں ان کے مطابق بڑے مشکل حالات میں یہ دورہ ہونے جارہا ہے ۔ چینی قیادت بھی پاکستانی عوام کی طرح کپتان سے ناراض دیکھائی دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ایک ملک کا سربراہ عمران خان کا فون نہیں اٹھاتا تھا تو دوسرا فون نہیں کرتا تھا ۔ اور اب شاید تیسرا کے بارے کہا جائے کہ وہ اپنے گھر بلا کر ملتا بھی نہیں ۔ ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ میری دعا ہے اور خواہش بھی ہے کہ یہ ملاقات ہوجائے ۔ کیونکہ عمران خان سے تمام تر اختلاف کے باوجود یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔

    ۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یاد کروادوں کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں۔ اس حوالے سے بڑی کھل کر میڈیا پر بھی بات ہوتی رہی ہے اور چینی کمپنیوں کے عہدیداروں سمیت دیگر چینی ۔۔۔ پاکستانیوں سے برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں ۔ ایک دو ایسی ملاقاتوں کا تو میں خود بھی راوی ہوں ۔ ۔ اسٹوری کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ پر ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی ملاقات صرف چینی وزیر اعظم سے کروائی جائیگی ۔ صدر شی جن پنگ نہیں ملیں گے ۔ یہاں تک کہ سائیڈ لائن پر بھی ان دونوں کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ ۔ دراصل عمران خان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ آسان الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں چینیوں نے عمران خان کو جواب طلبی کے لیے بلایا ہے ۔ کہ بھائی جان ان تین سالوں میں سی پیک پر آپ نے کیا progressکی ہے ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کپتان نے ۔۔۔ سی پیک ۔۔۔۔۔۔ سی پیک ۔۔۔کی گردان شروع کی ہوئی ہے ۔ ۔ جیسے چند روز پہلے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک سے غربت کے خاتمے اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا ماڈل اپنانا چاہتے ہیں۔

    ۔ تو پہلے تین سال تک یہ سب کچھ بھولے ہوئے اب دو تین روز پہلے عمران خان کہہ رہے تھے کہ سی پیک پاکستان اور چین کا بہترین مشترکہ منصوبہ ہے ۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ۔ آجکل ان کو یہ سب کچھ بہت یاد آرہا ہے ۔ حالانکہ اس دور حکومت میں سی پیک کو عملی طور پر رول بیک کرنے پوری پوری کوشش ہوئی ۔ ۔ صورتحال یہ ہے کہ اب امریکہ نے ہم سے تمام کام کروا لیے ہیں ۔ افغانستان سے وہ بخیر و عافیت نکل چکا ہے اور ہماری ان کو ضرورت نہیں رہی ہے تو انھوں نے تو ہم کو مکمل طور پر جواب دیا ہوا ہے ۔ حالانکہ ہم نے بڑی کوشش کی ۔ کہ جوبائیڈن کم ازکم ہمارے وزیراعظم کو فون ہی کرلے ۔ مگر ہم کو ہمیشہ ٹکا سا ہی جواب ملا ہے ۔ اب کیونکہ ہم کو امریکہ بھی لفٹ نہیں کروا رہا ہے ۔ بھارت کے ساتھ بھی تجارت نہیں شروع ہوپارہی ہے ۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی معاملات کچھ بہتر نہیں۔ بردار اسلامی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات آپ کے سامنے ہیں ۔ تو لے دے کر صرف چین ہی بچتا ہے ۔اسی لیے کپتان اب بچھے بچھے جا رہے ہیں۔

    ۔ مجھ سے یہ ڈپلومیٹ الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔ سچ یہ ہے کہ عمران خان اب چین معافی مانگنے جارہے ہیں ۔ اور یہ اتنی آسانی سے نہیں ملنی ۔ اب کی بار بیجنگ سے بھی ہم کو ایک لمبی لسٹ ملنی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نا ۔۔۔ ہاتھاں نال لائیں گنڈاں داندان نال کھولنیاں پیندی نے ۔۔۔ عمران خان کے دورے کا دوسرا مقصد پاکستان کی طرف سے اسلام آباد اور بیجنگ کے دوستانہ روابط کا تاثر دینا ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ گیا جو ہمارا ساتھ دیتا ہو ۔ چاہے ہمارے بردار اسلامی ممالک کیوں نہ ہوں ۔ واحد چین ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ عمران خان نے داسو واقعہ کے بعد اس سرمائی اولمپکس کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا ہے کہ چین کے ساتھ کھڑا ہوا جائے کیونکہ بہت سے ممالک نے ان اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ۔ جبکہ اس اولمپکس میں اب وزیراعظم پاکستان شرکت کریں گے تو دنیا کے ساتھ ساتھ چین کے اندر بھی پاکستان کی جانب سے ایک اچھا پیغام جائے گا ۔ پر اس سب کے ساتھ عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر غور ہوگا ۔

    ۔ اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات ہوئی ۔ اور لگتا ہے یقیناً اس ملاقات میں بھی چین کی جانب سے سی پیک اور اس کے ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق سوالات سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر گفتگو ہوئی ہوگی ۔ ۔ عمران خان فوجی قیادت سے علیحدہ ملاقات کے علاوہ وفاقی وزرا اور سی پیک کے متعلقہ حکام سے بھی ملے تھے جنھوں نے وزیر اعظم کو چین کے دورے سے متعلق بریفنگ دی تھی۔ یعنی ادارے ہوں یا دیگر سب ہی عمران خان کو اس حوالے سے بریف کررہے ہیں کیونکہ یہ دورہ بڑا حساس ہے ۔ ایک غلطی پاکستان کو اس کے دیرینہ دوست سے دور کر سکتی ہے ۔ کیونکہ اس دورے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد کسی طرح بحال ہو جائے۔ ۔ پھر عمران خان کی بیجنگ میں موجودگی کے دوران روسی صدر ولاد میر پیوتن سے بھی ملاقات ممکن ہے۔ یوکرائن کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ حالیہ تناؤکے سبب روس خطے میں اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے گا اور اس سلسلے میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ افغانستان کی وجہ سے بھی پاکستان کی اہمیت بنتی ہے اور چین اور روس کے افغانستان میں مفادات موجود ہیں، جن وہ ضرور تحفظ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    ۔ یوں اگر عمران خان چینی قیادت اور روسی صدر سے ملاقاتوں کے پاکستان کا کیس صحیح طرح اٹھا لیں تو پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پر اگر وہاں جا کر بھی انھوں نے اپنی ملکی سیاست ، اپنا مغرب اور تاریخ بارے علم بتانا شروع کردیا اور وزارت خارجہ کی جانب سے دیے گئے پوائنٹس اور معاملات تک نہ رہے تومعذرت کے ساتھ کامیابی کے امکانات کم ہیں ۔ ۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو اس دورہ کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ پاکستان چین سے 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ۔ یاد رہے چین پہلے ہی کمرشل قرضوں اور فارن ایکسچینج ریزرو سپورٹ اقدامات کی شکل میں پاکستان کو11 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کو سعودی عرب سے تین ارب ڈالر قرضہ ملا تھا جو پاکستان خرچ کر چکا ہے۔ سعودی قرضہ ملنے سے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر15.9ارب ڈالر تھے جو رواں ماہ پھر16ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔۔ وزیراعظم ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ فنانس، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین سے معاونت کی درخواست کرینگے۔ کل کے روز انکے دورے کا ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے حتمی اجلاس ہوگا۔ میرے خیال سے وزیر اعظم جو تجاویز پیش کی جائیں اور جو باتیں بریف کی جائیں اس پر ہی عمل کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ یہاں اس بات کی نشاندہی کر دوں کہ یہ جو سینیٹر فیصل جاوید خان نے وزیر اعظم عمران خان ، سابق صدر و جنرل پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کے بیرون ممالک دوروں پر آنے والے اخراجات کا موازنہ پیش کر دیا ہے ۔ اس موقع پر یہ اس دورے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے یہ آپکو domestic politicsکے لیے تو شاید فائدہ مند ہو ۔ پاکستان کے لیے کسی صورت فائدہ مند نہیں ۔ اگر انھوں نے موازنہ پیش کرنا ہی ہے تو زرداری ، مشرف ، نواز شریف اور عمران خان کے دوروں کا یہ موازنہ پیش کریں کہ کس نے کیا کیا کامیابی حاصل کی ۔ سچ پوچھیں تو اس میں یقیناً عمران خان کا نام سب سے آخر میں ہی آئے گا ۔۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آیا ہے ڈکیٹیر ہو یا جمہوری ۔۔۔ اس نے بڑی اچھی طریقے سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات بحال رکھے ہیں یہ پہلا دور ہے جس میں ہمارے ملک مسائل تو بڑھے ہی ہیں ساتھ ہی خارجہ محاذ پر بھی ہمارے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں ٹھیک نہیں رہے ۔

  • رشتے میں حسد اکثر ان 9 چیزوں کا اشارہ ہوتا ہے؛ ماہرین کا نظریہ

    رشتے میں حسد اکثر ان 9 چیزوں کا اشارہ ہوتا ہے؛ ماہرین کا نظریہ

    حسد کی تکلیف — یا کبھی کبھی اس کی بالٹیوں کا بوجھ — وہی ہے جو ان تمام روم کامز کو دیکھنے کے لئے بہت پرجوش بناتا ہے۔ بڑی اسکرین ہمیں جو کچھ بتاتی ہے اس کی بنیاد پر، رشتے میں حسد اکثر اعتماد کے مسائل کا اشارہ ہوتا ہے، جو بالآخر ایک بڑی لڑائی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن چونکہ زندگی اس طرح کام نہیں کرتی، اس لیے اس پیچیدہ جذبات کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔

    کیا حسد محبت کی علامت ہے؟ کیا یہ صرف اعتماد کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے؟ کیا اسے صرف ایک وجہ سے منسلک کیا جا سکتا ہے، یا کیا ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں آپ کو اب پڑھنے کی ضرورت ہے؟

    حسد کی تہہ تک پہنچنے کے لیے واقعی آپ کو بہت زیادہ کھودنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ خاص طور پر چونکہ ہم ماہر نفسیات شازیہ سلیم (ماسٹرس ان سائیکالوجی) کو ساتھ لے کر آئے ہیں، جو علیحدگی اور طلاق کی مشاورت میں مہارت رکھتی ہیں، تاکہ اس ضروری برائی کے بارے میں جاننے کے لیے ہم سب کو بتانے میں مدد کریں۔

    9 چیزیں جو واقعی حسد کے پیچھے چل رہی ہیں۔
    کہ یہ جذبہ پیچیدہ ہے، اسے ہلکے سے بیان کر رہا ہے۔ ایک طرف، ہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ایک عالمگیر جذبہ ہے اور ہم سب نے اسے کسی نہ کسی موقع پر محسوس کیا ہے۔ شاعری اور تھیٹر کے بے شمار کام جذبات سے متاثر ہوئے ہیں۔ خدا نے لفظی طور پر خود کو ایک "غیرت مند خدا” کے طور پر بیان کیا ہے، اور جب آپ اس کے سامنے کسی دوسرے کتے کو پالتے ہیں تو آپ کا کتا حسد کرتا ہے۔

    لیکن دوسری طرف، یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو نیچا دیکھا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں، جہاں رشک اور غیر محفوظ ہونا رشتے کے اندر یا کسی شخص کی سوچ میں گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، وہاں تشویش کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے۔

    تو، ہم کسی ایسی چیز کو کس طرح نیویگیٹ کرتے ہیں جو بہت عام ہے لیکن اس لمحے جب آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ اسے محسوس کر رہے ہیں تو آپ کو غیر محفوظ نظر آتا ہے؟ حسد کس چیز کی علامت ہے، اور کیا رشتے میں عام حسد جیسی کوئی چیز ہے؟
    ٹوٹ پھوٹ اور یہ معلوم کرنا آسان کام نہیں ہے کہ رشتے میں کیا حسد اکثر اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ شاید ہر ایک متحرک کے لیے ساپیکش ہو۔ آئیے اس کے پیچھے کی وجہ سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں، "آپ کہاں تھے؟ کیا آپ مجھے نظر انداز کر رہے ہیں؟”، آپ کے ساتھی کی طرف سے جب آپ چند گھنٹوں کے لیے باہر گئے تھے۔
    1. حسد کس چیز کی علامت ہے؟ بے شک، possessiveness
    ٹھیک ہے، آئیے پہلے اسے راستے سے ہٹا دیں۔ حسد کی وجہ انسان سے دوسرے شخص میں مختلف ہوتی ہے اور کچھ حالات میں اس کی وجہ ملکیت بھی ہو سکتی ہے۔

    شازیہ بتاتی ہیں کہ حسد اور غیر محفوظ ہونے کی سب سے عام تشریح دراصل اس سب کے دل میں کیسے ہو سکتی ہے۔ "کئی بار، لوگوں کے اپنے اندرونی خطرات اور خوف ہوتے ہیں جو انہیں یقین کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ اگر وہ اپنے ساتھی کی حفاظت نہیں کرتے ہیں، تو وہ خاک میں مل جائیں گے۔
    "چونکہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آپ کے غیرت مند احساسات آپ کو کیا بتا رہے ہیں، اس لیے وہ اپنے بیرونی ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اکثر ایک شخص حفاظتی یا حد سے زیادہ ملکیت کا شکار ہوتا ہے۔ دن کے اختتام پر، یہ سب کسی شخص کے ذہن یا سوچ کے انداز میں حل نہ ہونے والے جذباتی ہنگاموں کے گرد گھومتا ہے۔”

    2. رشتے میں حسد اکثر ایک فکر مند منسلک انداز کا اشارہ ہے
    اٹیچمنٹ اسٹائل کا نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی شخص کسی رشتے میں کیسا برتاؤ کرتا ہے اور وہ ایسا کیوں کرتا ہے، اور اس طرح کا ایک انداز "بے چینی سے دوچار” ہے جو عام طور پر اس تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے جو کسی شخص کے اپنے بنیادی نگہداشت کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔

    کیا آپ نے نہیں سوچا کہ ہم اسے آپ کے بچپن تک لے جائیں گے، کیا آپ نے؟ اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ جو لوگ اس منسلک انداز کو تیار کرتے ہیں ان میں عام طور پر ایک متضاد والدین ہوتے ہیں، جو اپنے کردار میں زیادہ پر اعتماد نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ بعض اوقات دستیاب ہوں اور بعض اوقات غیر حاضر ہوں۔
    نتیجے کے طور پر، وہ شخص چپچپا، محتاج اور مستقبل کے کسی بھی رومانوی رشتے کی صحت کے بارے میں فکر مند ہو جاتا ہے جس میں وہ شامل ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، لوگ اپنے بچپن سے قطع نظر اس لگاؤ ​​کے انداز کو تیار کر سکتے ہیں۔

    3. کیا رشتے میں عام حسد جیسی کوئی چیز ہوتی ہے؟ آپ شرط لگاتے ہیں۔
    "حسد ایک عام جذبہ ہے،” شازیہ کہتی ہیں، انہوں نے مزید کہا، "اب نسلوں سے، ہمیں کہا جاتا رہا ہے کہ ایسے کسی بھی جذبات کو دبائیں جو عدم تحفظ کا اشارہ دیتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ قابل قبول یا مناسب انداز میں اپنا اظہار کیسے کریں۔

    "لہذا، جب لوگ اپنے حسد کو عجیب و غریب طریقوں سے ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں، تب ہی جب حسد کو اکثر منفی چیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر حسد کو اچھی طرح سے سنبھالا جاتا ہے، اچھی طرح سے بات چیت کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ مثبت طریقے سے نمٹا جاتا ہے، تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جو ہمیشہ آپ کے متحرک ہونے کے لیے تباہی مچاتی ہے۔”
    اتفاق رائے یہ ہے کہ رشتے میں حسد اکثر کسی منفی چیز کا اشارہ ہوتا ہے۔ اپنے ساتھی کو بالکل برخاست کرنے کے بجائے، اپنے ساتھی کو برا محسوس کرنے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اس طرح کے جذبات کی وجہ کیا ہے۔

    4. یہ اکثر رشتے میں باہمی انحصار کا اشارہ دے سکتا ہے۔
    مطالعات کے مطابق، متوقع حسد کے جذبات ان جوڑوں میں بہت زیادہ محسوس ہوتے ہیں جو جذباتی طور پر ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ یقینی طور پر، آپ کا سارا وقت گھر کے اندر گزارنا، ایک دوسرے کے ساتھ ایک کمرے میں بند ہونا ایک خوشگوار صورتحال کی طرح لگ سکتا ہے، لیکن تھوڑی دیر کے بعد، آپ کے رشتے میں ذاتی جگہ کی کمی آپ کے واش روم کے دوروں سے دوگنا زیادہ ہونے کا پابند ہے۔ ایسا ہوتا تھا.
    باہمی انحصار رکی ہوئی ذاتی ترقی، اعتماد کے مسائل، اور مواصلاتی رکاوٹوں کا اشارہ دے سکتا ہے۔ کیا حسد محبت کی علامت ہے جب آپ جس سے پیار کرتے ہیں وہ آپ کو چند گھنٹوں کے لیے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دے سکتا؟ اگر آپ ہم سے پوچھیں تو یہ محبت سے زیادہ گوانتانامو کی طرح لگتا ہے۔

    5. اس کی وجہ تعلقات کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
    حسد کیسا محسوس ہوتا ہے؟ یہ اکثر دماغ کی انتہائی خطرناک حالت کی طرح محسوس کر سکتا ہے جو آپ کو بتا رہی ہے کہ آپ کے ساتھی کے ساتھ آپ کا جو رشتہ ہے وہ ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے، کیونکہ ہر وہ شخص جس سے وہ بات کرتے ہیں وہ انہیں آپ سے دور کر سکتا ہے۔ اور انسان ایسا کیوں سوچتا ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے کافی اچھے نہیں ہیں۔

    مطالعات کے مطابق، یہ محسوس کرنا کہ آپ اپنے ساتھی کے لیے کافی اچھے نہیں ہیں، یہ سوچنا کہ وہ آپ سے بہت بہتر ہیں اور یہ سوچنا کہ جن لوگوں سے وہ بات کرتے ہیں وہ آپ سے بہتر لوگ ہیں، بڑے حسد کے جذبات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    لہذا، یہ جاننے کی کوشش کرنا ضروری ہے کہ آپ کے غیرت مند احساسات آپ کو کیا بتا رہے ہیں۔ جتنی جلدی آپ کو احساس ہو جائے گا کہ یہ اس لیے ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کمتر ہیں، اتنی جلدی آپ خود پر کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آپ کا پارٹنر آپ کو ان تمام چیزوں کے ساتھ یقین دلاتا ہے جو وہ آپ کے بارے میں پسند کرتے ہیں، ایک انتہائی ضروری اعتماد بڑھانے کا کام کر سکتے ہیں۔

    6. حسد اور غیر محفوظ ہونا کم عزت نفس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
    ہمیں واقعی یہ بتانے کے لیے مطالعے کی ضرورت نہیں ہے کہ رشتے میں حسد اکثر آپ کے ساتھی میں کم خود اعتمادی کا اشارہ ہوتا ہے۔ نالائقی کے احساسات تقریباً ہمیشہ کم خود اعتمادی کو نمایاں کرتے ہیں، جو اکثر ایسے ساتھی کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے جو یہ دیکھنے میں ناکام رہتا ہے کہ ان کا غیرت مند پیارا اپنے بارے میں زیادہ کیوں نہیں سوچ سکتا۔

    "ایک شخص جو غیر محفوظ ہے وہ خود کو کمتر اور نامکمل محسوس کرتا ہے۔ وہ واقعی نہیں جانتے کہ یہ احساسات کیوں پیدا ہوتے ہیں، اور جب یہ احساسات ان کے راستے میں آتے ہیں تو وہ مناسب طریقے سے برتاؤ نہیں کر پاتے ہیں،” شائزہ کہتی ہیں۔

    وہ مزید کہتی ہیں، "سب سے بڑا عنصر جو عدم تحفظ کی وجہ سے حسد کو جنم دیتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ان بیرونی عوامل پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں جن پر اخلاقی طور پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہونا چاہیے، جیسے کہ ان کا ساتھی کس سے بات کرتا ہے،” وہ مزید کہتی ہیں۔

    7. اس کا تعلق کسی شخص کے نیوروٹکزم سے ہو سکتا ہے۔
    اوہ بہت اچھا، نفسیات کے مزید اسباق۔ پریشان نہ ہوں، اپنے سر کو لپیٹنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر یہ کہنے کا ایک عمدہ طریقہ ہے کہ ایک شخص کی فکر مند اور خود شک کرنے والی شخصیت انہیں رومانوی تعلقات میں ہمیشہ حسد کے جذبات پیدا کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔

    مطالعات کے مطابق، اعصابی شخصیت کے طول و عرض کے حامل افراد (جو، ویسے، شخصیت کی پانچ بڑی اقسام کا ایک حصہ ہے)، حسد کے زیادہ جذبات رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ اکثر پریشانی یا افسردگی کی اقساط کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں، اس لیے کسی مشیر کی مدد لینا انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    8. صحت مند حسد بھی موجود ہے۔
    "اگر کوئی آپ کے ساتھی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور آپ کا ساتھی اسے آپ کی پسند سے زیادہ توجہ دے رہا ہے، تو یہ ظاہر ہے کہ آپ کو حسد ہونے والا ہے۔ شازیہ ہمیں بتاتی ہے کہ شاید آپ کا ساتھی اچانک کسی دوسرے شخص کے بہت قریب ہو گیا ہے اور وہ آپ سے زیادہ راز اس کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔
    تو، کیا صحت مند حسد آخر کار محبت کی علامت ہے؟ کچھ خاص معاملات میں جہاں یہ اتنا زیادہ نہیں ہے کہ کمزور ہو جائے اور یہ آپ کے ساتھی کی طرف سے ناپسندیدہ محسوس کرنے کا نتیجہ ہے، یہ محبت کی علامت ہو سکتی ہے۔ غیرت مند محبت، لیکن اس کے باوجود محبت.

    9. بعض اوقات، یہ صرف الجھن کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
    "حسد اس لیے ہوتا ہے کہ ایک شخص بنیادی طور پر جذباتی طور پر واقف نہیں ہوتا،” شازیہ کہتی ہیں، "یہ ایک بہت پیچیدہ جذبہ ہے۔ اکثر اوقات، یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ اپنے احساسات یا سوچ کے نمونوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ رشتے میں حسد اور غیر محفوظ ہونا بہت سی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے یا حالات کے عوامل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

    ایسے معاملات میں، شاید سب سے بہتر کام یہ ہے کہ کسی پیشہ ور معالج کی مدد حاصل کی جائے جو کسی شخص کو ایسے جذبات کے ذریعے کام کرنے میں مدد دے سکے۔ اگر یہ مدد آپ کو تلاش کر رہے ہیں، تو جان لیں کہ تجربہ کار معالجین کا Bonobology کا پینل صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔
    اب جب کہ آپ جانتے ہیں کہ رشتے میں حسد اکثر اس بات کا اشارہ ہوتا ہے، امید ہے کہ، آپ کسی بھی منفی جذبات کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک قدم قریب پہنچ سکتے ہیں جو اس کا سبب بن رہے ہیں۔ کچھ بھی صحت مند نہیں ہے، فیصلے سے پاک مواصلات حل نہیں کر سکتے ہیں. اور جب آپ اس پر ہوں تو گلے ملنے کا ایک گروپ بھی آزمائیں۔ وہ ہمیشہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔

  • محبت کا رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟؟

    محبت کا رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟؟

    یہ احساس کہ آپ کو چیزوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا ہے۔ آپ نے اس خواہش کا مقابلہ کرنے کی کوشش بھی کی ہو گی، لیکن جب آپ لڑے بغیر ایک دن بھی نہیں گزر سکتے، تو آپ شاید اس عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگلی رکاوٹ آپ کو اسے زیادہ دیر کے لیے چھوڑ سکتی ہے: رشتے کو ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے۔

    چونکہ یہ ہائی اسکول کی اسائنمنٹ نہیں ہے، اس لیے اسے اس وقت تک موقوف رکھنا جب تک کہ یہ آپ کے چہرے پر نہ پھوٹ جائے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے، اور یہ کہ اپنے "ساتھی” کو بھوت بنانا واقعی بہترین حربہ نہیں ہے۔

    چونکہ آپ دنیا کے بدترین شخص کا لیبل لگائے بغیر "آسان” راستہ اختیار نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے آپ کو کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ جاننے کے لیے پڑھیں کہ آپ کیا کہہ سکتے ہیں، اور اس بینڈ ایڈ کو ختم کرتے وقت آپ کو کن چیزوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
    یہاں یہ ہے کہ کیا کہنا نہیں ہے: "ہمیں بات کرنے کی ضرورت ہے” یا "یہ آپ نہیں، یہ میں ہوں”۔ چونکہ ہم اب 1980 میں نہیں رہتے، اس لیے آپ کو کلچوں سے بچنا اچھا ہوگا۔ رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے بڑی حد تک آپ کی صورتحال پر منحصر ہے اور ہر ایک کے لیے مختلف نظر آ سکتا ہے۔

    دوسروں کی نسبت کچھ منظرناموں میں چیزوں کو ختم کرنا آسان ہے۔ اگر آپ کو دھوکہ دیا گیا ہے یا آپ کو کسی تکلیف دہ چیز سے گزرنا پڑا ہے، تو آپ شاید "ہم نے کام کر دیا” کہنے اور وہاں سے چلے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسری صورتوں میں، تاہم، کسی کے ساتھ ٹوٹنے کے لیے کیا کہنا ہے اس کے جواب میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    جب آپ کسی رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو کیا کہنا ہے اس کے بارے میں سوچتے وقت یاد رکھنے کی سب سے اہم چیز ایماندار، مہربان اور صاف ہے۔ بے عزتی کیے بغیر اپنے جذبات کے بارے میں سچ بولیں۔ مبہم ہونے کے بغیر، جو آپ چاہتے ہیں اور جو حدود قائم کرنا چاہتے ہیں اسے پیش کریں۔

    جیسا کہ ہم نے کہا، اچھی شرائط پر رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے اس پر منحصر ہے کہ آپ کیسا لگتا ہے۔ آئیے چند مثالوں کی فہرست بنائیں جو آپ ہمیشہ استعمال کر سکتے ہیں:

    "مجھے نہیں لگتا کہ یہ رشتہ اب ہم دونوں کے لیے صحت مند ہے۔ میں ایک ساتھ اپنے مستقبل پر یقین نہیں رکھتا”
    "ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ مذاق نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا رشتہ بہت تناؤ میں بدل گیا ہے۔ ہم بہت بحث کرتے ہیں، اور میں اس سے نمٹ نہیں سکتا”
    "میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا کہ آپ نے مجھے کتنی بار تکلیف دی ہے۔ مجھے تم پر اب اعتبار نہیں ہے”
    "ہم دو بہت مختلف لوگ ہیں، اور میں اپنے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کر کے تھک گیا ہوں کہ ہم زبردستی اسے کام کر سکتے ہیں۔”
    "ہم کبھی بھی چیزوں کو آنکھ سے دیکھنے یا اپنے جذبات کو خوش اسلوبی سے بات کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ میں اتنی دشمنی کے ساتھ تعلقات میں نہیں رہنا چاہتا”
    "میں اب خوشی محسوس نہیں کرتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سانس لینے کے قابل ہونے کے لیے مجھے اس رشتے سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے”
    "مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے موزوں ہیں۔ میرے خیال میں یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے الگ الگ راستے چلیں”
    "ہمارے مختلف اہداف اور خواہشات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس رشتے کی ایک وقت کی حد ہے۔”
    "مجھے اب تم سے پیار نہیں لگتا”
    یقیناً، رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا واقعی اتنا آسان نہیں جتنا کہ ان میں سے کوئی ایک جملہ کہنا اور اس کے ساتھ کیا جانا۔ ایک بار جب آپ اوپر دی گئی خطوط کے ساتھ کسی وجہ کا ذکر کرتے ہیں تو، سب سے اہم جملہ مندرجہ ذیل ہے:

    "لہذا، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں الگ ہو جانا چاہئے اور اپنے الگ الگ راستے جانا چاہئے. میں جانتا ہوں کہ ہم اب بھی ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔ یہ مشکل ہو گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے لیے یہی بہتر ہے۔ میں اب اس رشتے میں نہیں رہنا چاہتا۔”
    چاہے آپ یہ معلوم کر رہے ہوں کہ آرام دہ تعلقات کو ختم کرنے یا FWB تعلقات کو ختم کرنے کے لیے کیا کہنا ہے، انہیں یہ بتانا کہ آپ واقعی اسے ختم کر رہے ہیں جو سب سے اہم ہے۔ ابہام کے لیے کوئی جگہ نہ چھوڑیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ "میں ٹوٹنا چاہتا ہوں” کے خطوط پر کچھ کہتے ہیں۔

    چونکہ رشتہ ختم کرنے کے لیے کیا کہنا چاہیے آپ کے رشتے کے مطابق ہونا چاہیے، آئیے چند عمومی تجاویز پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ آپ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ اس کے نتیجے میں کچھ ٹوٹی ہوئی پلیٹیں اور 6 گھنٹے طویل فون کال نہ ہو۔ آپ کو جذباتی طور پر تھکا دیتا ہے۔

    یہ کہا جا رہا ہے، تاہم، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے متحرک میں کسی بھی زہریلے پن کی طرف آنکھ بند نہ کریں۔ ایک مشیر چیزوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے اور یہ جاننے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے کہ آپ کے لیے کیا بہتر ہے۔

  • الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    ٹیکنالوجی کے اتنی ترقی کر لینے کے باوجود اس دور میں بننے والی کار، موبائل فون اور بلب کی کوالٹی پرانے وقتوں کی نسبت اتنی بری کیوں ہے؟ آج کل کی کاروں میں لگژری فیچرز تو بہت آ گئے ہیں موبائل فونزمیں بھی بہترین کمیرے لگائے جا رہے ہیں ان کے کلرز اور Shapeبھی بہت اسٹائلش ہو گئی ہیں اسی طرح بلب میں بھی بہت فینسی فینسی ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ان الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں ہوکر رہ گئی ہے؟ اور پراڈکٹ بنانے والی کمپنیاں کیسے دن دگنی اور رات چوگنی ترقیاں کررہی ہیں؟ امریکہ میں ایک Livermore Fire Station, number sixہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں دنیا کا واحد اور سب سے پرانا ایسا بلب سے جو پچھلے ایک سو اکیس سالوں سے مسلسل روشن ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ کسی Light switchکے ساتھ Connectedنہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ Back up battery and generatorضرور Attachہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سالوں سے کیسے کام کر رہا ہے یہ آج تک کبھی خراب یا فیوز کیوں نہیں ہوا؟حالانکہ یہ بلب ہاتھ سے دیسی طریقے سے بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کمرشل بنیادوں پر بلب کی تیاری بالکل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ لیکن پھر بھی یہ کئی ملین گھنٹوں سے روشن ہے اور ابھی تک کام کررہا ہے جبکہ آج کے دور میں ہم کسی بلب یا لائٹ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

    کچھ وقت پہلے مجھے کسی نے یہ سٹوری بتائی تھی کہ کئی سالوں پہلے ایک ایسا بلب ایجاد کیا گیا تھا جو ہمیشہ کام کر سکتا ہو اور کبھی خراب یا فیوز نہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلب کبھی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ اس کا کوئی بزنس ماڈل نہیں بن سکتا تھا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نہیں اس بلب کو تو بیچنا سب سے زیادہ آسان ہوتا کیونکہ اسے ہر ایک انسان یہ سوچ کرلازمی خریدتا کہ ایک بار اگر خرید لیا تو بار بار کے خرچے سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہی اس بزنس ماڈل کا
    Negative pointتھا ایک بار سیل کے بعد اس پراڈکٹ کا کوئی Repeat customerنہیں بننا تھا اس لئے اس کی سیل ایک حد سے آگے کبھی نہ بڑھ سکتی تھی۔اور یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب
    longlasting light bulbبنا کر بیچے جاتے تھے۔ لیکن جب کچھ عرصے بعد ان کی سالانہ سیل کا Analysis کیا گیا تو پتہ چلا کہ 1923میں OSRAMکے بلب کی سیل 63 millionتھی جو کہ اگلے ہی سال کم ہو کر 28 million ہو گئی تھی۔ یعنی یہ بلب ان کمپنیوں کے لئے ایک فائدہ مند پراڈکٹ کی جگہ نقصان دہ پرڈاکٹ ثابت ہوئی۔جس کے بعد 1924میںGeneva, Switzerlandمیں کرسمس کے موقع پر ان بلب بنانے والی کمپنیوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ جس میں Philips
    International general electricsTokyo electricOSRAM GermanyاورUKکی Associated electircکے ٹاپ ایگزیکٹیو شامل تھے۔ اس میٹنگ میں انہوں نے مل کر ایک Phoebus cartelبنایا۔Phoebus کا مطلب ہے The greek god of light.اور یہ عہد لیا گیا کہ یہ تمام کمپنیاں مل کر کام کریں گی۔ اور دنیا میں لائٹ بلب کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی ڈسکس کیا گیا کہ یہ لائٹ بلب جو لمبے عرصے تک کام کرتے ہیں اگر ان کی قیمت بڑھا بھی دی جائے تو کمپنیاں وہ منافع نہیں کما سکتیں جو کہ Repeat customersسے کمایا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انBulbsکےLife spanکو کم کیا جائے۔ تاکہ ایک بلب خراب ہوگا تو کسٹمر پر لازم ہو جائے گا کہ وہ اس کی جگہ نیا بلب خریدے۔ اس لئے وہ بلب جو کہ 2500 hoursسے زیادہ دیر تک روشن رہ سکتے تھے ان کی جگہ وہ بلب بنانے شروع کئے گئے جو صرف 1000 hoursتک کام کرتے اور اس کے بعد ناکارہ ہو جاتے۔

    اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہ کمپنیاں ایک دوسرے پر کیسے نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ایسا بلب بنا کر مارکیٹ میں نہ بیچے جو کہ 1000 hoursسے زیادہ چل سکے کیونکہ یہ کسٹمرز کو تو یہی کہہ کر اپنی پراڈکٹ بیچتے ہیں کہ ہم آپ کو سب سے بہتر پراڈکٹ دے رہے ہیں۔ اس کے لئے یہ پریکٹس شروع کی گئی کہ ہر ایک کمپنی دوسرے کمپنی کو اپنی Sample productsبھیجتی جن کو ایک سٹینڈ پر لگا کر چیک کیا جاتا اور اگر کسی بھی کمپنی کا بلب ایک ہزار گھنٹے سے زیادہ کام کرتا تو اس کو جرمانہ کیا جاتا۔اگر کسی کمپنی کا بلب تین ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا تو ایک ہزار بلب کی سیل پر کمپنی کو 200 swiss francجرمانہ کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے وہ انجینئرز جو پہلے بلب کے Life span and durability
    کو بڑھانے کے لئے کام کر رہے تھے انہی کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس معیار کو گرانے کا کام کریں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے جس کی وجہ سے یہ Cartelبننے کے چار سال بعد ہی ان بلب کمپنیوں کی سیل میں پچیس فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ ایک طرف تو Repeat customers کی وجہ سے سیل میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف معیار گرانے کی وجہ سے پراڈکٹ کی Costبھی کم ہو گئی لیکن ان کمپنیوں نے بلب کی قیمت وہی رہنے دی جو کہ پہلے تھی اس لئے کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اچھا خاصا منافع کما لیا۔ اور یہ کوئی کہی سنی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ثبوت موجود ہیں کہ کارٹل میں موجود یہ کمپنیاں مل کر اپنی پراڈکٹ کو کسٹمر کے لئے بہتر بنانے کی بجائے صرف اس بات کو یقینی بناتیں تھیں کہ وہ اپنی سیل اور پرافٹ کو کیسے بڑھا سکتی ہیں۔اور جس بلب کی مثال میں نے آپ کو شروع میں دی اس کے بھی اتنا طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ یہ ہی ہے کہ یہ بلب اس کارٹل کے وجود میں آنے سے پہلے کا بنا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اس بلب کا Filamentبھی 4 or 5 wattتک Low power کا ہے۔ اسے فائر اسٹیشن میں نائٹ بلب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بنا کر لگایا گیا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے۔

    اب میں آپ کو بتاوں کہ ایک وقت آیا جب اس کارٹل کا پردہ فاش ہوا اور ان کمپنیوں کی آپس میں کچھ لڑائیاں ہوئیں کچھ نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں جنہوں نے اس کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ جس کے بعد1955میں آ کر یہ کارٹل ختم ہو گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارٹل اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لئے جو طریقے استعمال کرتا تھا وہ آج تک چل رہے ہیں۔اس پر وہ مثال فٹ آتی ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔۔۔یعنی کارٹل ختم ہونے کے بعد بھی اب کمپنیاں خود سے ہی صرف ایسی پراڈکٹ بناتی ہیں جو کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے Planned Obsolescenceکہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو 2003میں Casey neistatکی ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی تھی جس کا ٹائٹل تھا iPod’s Dirty secretجس میں اس نے بتایا تھا کہ کیسے اس کا اٹھارہ ماہ پہلے خریدا گیا Ipodجب کام کرنا چھوڑ گیا اور اس نے ایپل کمپنی کو فون کیا تو آگے سے یہ جواب ملا کہ کیونکہ آپ کے ipodکو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے تو اب اگر آپ اسے ٹھیک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے ڈاک کے ذریعے ہمیں بھیجنا ہوگا جس کا خرچہ تقریبا دو سو پچپن ڈالر سے زیادہ بنتا ہے جبکہ آپ اس سے کم قیمت میں نیا Ipodخرید سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کو کئی ملین لوگوں نے دیکھا اور ایپل کمپنی نے Law suitسے بچنے کے لئےOut of the court settlementبھی کی لیکن ان کی PlannedObsolescence
    نہ رکی۔ 2017میں جب کمپنی کی طرف سے ios updateکیا گیا تو وہ لوگ جن کے پاس پرانے آئی فون تھے ان کی رفارمنس سپیڈ بہت Slowہو گئی لوگوں کو ایپس ڈاون لوڈ کرنے میں مشکلات آنے لگیں اور یہاں تک کہ فونز خود سے شٹ ڈاون ہونے لگے۔ ایپل نے اس کو بیٹری کا ایشو بتایا لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ ایپل میں بیٹری Replaceنہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے وہ فونز ناکارہ ہو گئے۔ ایپل اب تک کئی ملین ڈالرز Law suits settlementsمیں لوگوں کو ادا کر چکا ہے لیکن اس کی پراڈکٹ میں کوئی چینج نہیں آیا۔ کیونکہ Planned Obsolescenceکے فارمولے کی وجہ سے کمپنی جو منافع کما رہی ہے وہ اس جرمانے سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ Planned Obsolescenceاتنی بھی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔1930کی دہائی میں جب امریکہ میں Great depressionآیا اور ¼آبادی بے روزگار ہو گئی تھی۔ اس وقت Real estate broker Bernard Londonنے Planned Obsolescenceکے تحت ایک آئیڈیا دیا تاکہ لوگوں کو روزگار دیا جا سکے اور امریکہ کو ڈپریشن سے نکالا جا سکے۔اس نے امریکی گورنمنٹ کو خط لکھا کہ ایسے کپڑے جوتے اور مشینیں بنائی جائیں جو ایک محدود وقت تک استعمال ہوں اور اس کے بعد وہ ناکارہ ہو جائیں تاکہ لوگ نئی چیزیں خریدیں اور کمپنیاں چلتی رہیں اور لوگوں کو بھی روزگار کو مسئلہ نہ ہو۔
    اسی موضوع پر ایک فلم بھی بنی تھیI kid you not جس کو آسکر ایوارڈ میں Best screen playکے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔جس میں ایک سائنسدان ایک ایسا سفید کپڑا بناتا ہے جو کبھی گندا نہیں ہو سکتا اس پر سلوٹیں نہیں پڑ سکتیں۔ اور وہ سالوں تک استعمال کیاجانے کے باوجود پرانا نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ کپڑا کمپنی مالکان کے لئے اس وجہ سے پریشانی کا باعث تھا کہ اس کے Repeat customers نہیں ہوں گے اور ورکرز اس لئے پریشان تھے کہ اس سے وہ ورکر جو واشنگ کرکے، کپڑوں کو سلائی اور پریس کرکے اپنی آمدن کماتے ہیں ان کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح فیکٹری مالکان اور ورکر دونوں ہی اس سائنسدان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس سائنسدان اور اس کی ایجاد کو ختم کیا جا سکے۔لیکن جو بھی ہو Planned Obsolescenceپھر بھی Consumersکے لئے پریشانی کی ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے یورپی یونین اور امریکہ کی پچیس ریاستوں کو یہ قانون بنانا پڑا کہ لوگ اپنی مشینوں کو مرمت کروا سکتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ وقت تک استعمال کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں پر یہ لازم کیا گیا کہ وہ اپنی پراڈکٹ اس طرح بنائیں کہ ان کو مرمت کرنے میں مشکل نہ ہو۔ اور ان کے Spare partsبھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔لیکن اس قانون سے بھی کام بن نہیں سکا Planned Obsolescenceکے لئےکمپنیوں نے کسٹمر کی Psychology سے کھیلنا شروع کیا۔

    لائٹ بلب کی طرح ایک وقت تھا کہ فورڈ کمپنی بہت مضبوط کاریں بناتیں تھیں جو سالہا سال چلتیں اور ان کو بدلنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی۔ ایک وقت آیا جب امریکہ میں ہر ایک کے پاس یہ کاریں تھیں جس کی وجہ سے کمپنی کی سیل بہت کم ہو گئی تو انھوں نے Planned Obsolescenceکا یہ فارمولا لگایا کہ ان کاروں کو مختلف رنگوں میں بنانا شروع کیا اور ہر سال ایک نئے رنگ کی کار مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اس طرح جس کسٹمر کو وہ رنگ پسند آتا وہ اسے خریدنا شروع کر دیتے۔ رنگوں کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیاں شروع کی گئیں۔یہ وہی کام ہے جو اس وقت موبائل فونز والی کمپنیاں کر رہی ہیں کہ ہر سال صرف کلر اور Shapeمیں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے ایک نیا ماڈل پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کہ فیشن اور برانڈ Consciousہیں اور جن کے لئے افورڈ کرنا بھی مشکل نہیں ہے تو وہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود نیا ماڈل خریدتے ہیں اور کمپنی کی سیل بڑھاتے ہیں۔ہر کچھ عرصے بعدTrendsکوRecycleکیا جاتا ہے۔ انھیں نئے فیشن کا نام دے کر لوگوں کو Attractکیا جاتا ہے اور پیسہ بنایا جاتا ہے اور یہ ہے وہ بزنس ماڈل جس کو یہ کمپنیاں Adoptکرکے اپنا قد بڑے سے بڑا کرتی جاتی ہیں۔