Baaghi TV

Category: بلاگ

  • الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم

    الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم

    لاہور:الحمدللہ:سال 2021میں قومی ٹیم کی کارکردگی اچھی رہی :بابر اعظم کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ وہ سال 2021میں ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ،کوشش کی کہ ہر میچ اچھا کھیلیں ،رضوان ،شاہین شاہ اور حسن علی نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور بھارت کے خلاف فتح حاصل کرنا سال 2021کا سب سے یاد گار لمحہ تھا۔

     

     

    پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی )پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے کہا کہ پورے سال بہت اچھی کرکٹ کھیلی، بحیثیت کپتان مجھے اپنے ہر لڑکے پر اعتماد ہے ، میں ہر لڑکے کو میچ ونر سمجھتاہوں ، بھارت کے خلاف فتح حاصل کرنا سال 2021کا سب سے یاد گار لمحہ تھا ۔

     

     

    انہوں نے مزید کہا کہ سیمی فائنل میں شکست پر افسوس ہے لیکن اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے، ٹی 20ورلڈ کپ میں بد قسمتی سے سیمی فائنل سے باہر ہوگئے، سیمی فائنل میں شکست سے بھی ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ، نئے سال میں شائقین کرکٹ ہماری سپورٹ جاری رکھیں۔

     

    ادھر آج پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ، ملاقات میں وزیر اعظم نے اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کی اصولی منظوری دی۔

    وزیراعظم نے پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ سے ملاقات میں آنے والے  PSL سیزن اور کرکٹ کے مجموعی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا اور اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

     

     

    وزیر اعظم نے ٹی 20 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

     

     

     

    رمیز راجہ نے وزیر اعظم کو اسٹیڈیم کی تعمیر 2025 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر  پنجاب چوہدری محمد سرور  اور وزیر تعلیم شفقت محمود بھی موجود تھے۔

  • نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    نیا سال اور اہم پیشنگوئیاں، تحریر:عفیفہ راؤ

    سال 2021 اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال2022 کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔

    اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔

    اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022
    میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔

    بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔

    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی ،تحریر :ارم شہزادی

    تمباکو نوشی یا سگریٹ آج کل اس طرح عام ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی پہنچ میں ہے جیسے ٹافیاں گولیاں پہنچ میں ہوتی تھیں۔ "تمباکونوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت” کے چلنے والے اشتہارات کے باوجود میڈیا کے زریعے بڑے منظم انداز میں اسکا پھیلاؤ ہورہا ہے۔ جس طرح خوبصورتی سے سگریٹ پینے والوں کو بڑے بڑے سخت کام کرتے دیکھایا جاتا ہے بلڈنگز پار کرنا سکھایا جاتا ہے دریاؤں کو عبور کرنا سکھایا جاتا ہے بعد میں مضر صحت کا میسج دے بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ دوسری طرف ضروریات زندگی دن بدن مہنگی ہورہی ہے ہر چیز، پر ٹیکس عائد ہورہا ہے لیکن تمباکو نوشی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کی پہنچ میں ہے جس کا نقصان ابھی تو ہوہی رہا ہے آنے والے وقت میں شدید ہوگا۔

    سگریٹ نوشی کے دو طرح کے نقصانات ہیں ایک ہے صحت دوسری اخلاقیات۔ صحت کے حوالے سے بات کریں تو منہ کے کینسر سے لے کر جگر اور پھیپھڑوں کے کینسر تک کا موجب یہی سگریٹ ہے۔ اس کے دھوئیں سے پھیپڑے سیاہ ہوجاتے ہیں سانس لینے والے مسائل سارے اسی کی وجہ سے ہیں۔سگریٹ کا دھواں صرف سگریٹ پینے والوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اسکے آس پاس موجود تمام لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فضا کی الودگی گاڑیوں رکشوں موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے بھی ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات کریں تو سگریٹ پینے والوں کی تعداد جتنی ٹوٹل تھی آج اتنی سگریٹ پینے سے مرنے والوں کی ہے۔ سگریٹ پینا گھر کے اندر معیوب سمجھا جاتا تھا اگر کسی لڑکے کو عادت پڑ بھی جاتی تھی تو وہ گھر کے اندر نا سگریٹ لا سکتا تھا اور ناہی پی سکتا تھا اس کا مطلب لحاظ کسی حد تک قائم تھا۔ لیکن آج یہ حال ہے کہ پانچویں کلاس کے طالبعلم کے پاس سگریٹ پینے کے پیسے بھی ہیں اور جگہیں بھی ہیں۔ اس کا دوسرا نقصان اخلاقی تباہی کی صورت میں ہے آپ خود سوچیں ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی ہے۔

    اگر آج کچھ بچے یا نوجوان سادہ سگریٹ پیتے ہیں تو لازماً کچھ ماہ یا سالوں بعد اس میں چرس، افیون، یا پاؤڈر بھر کے پی رہے ہونگے۔ یعنی سگریٹ کو ہم محض ایک شوق نہیں کہہ سکتے ہیں بلکہ یہ اخلاقی برائیوں کی طرف پہلا قدم ہے اور اسکی روک تھام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس پر ٹیکس بڑھایا جائے مہنگی کی جائے اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں کی پہنچ سے دور ہو۔ بیس سال اس لیے لکھا ہے کہ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ عام طور پر بچے سگریٹ کی طرف مائل 13،14 سال کی عمر میں ہوتے ہیں اگر بیس سال کی عمر تک نا عادی ہوں تو بیس سال کے بعدعادی ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سکول کالج کی کینٹین سختی سے دیکھی اور پرکھی جائیں تاکہ یہ زہر سکول و کالج میں نا پہنچ سکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی ناصرف سگریٹ کی عادی ہورہی ہیں بلکہ دوسری نشہ اور اشیاء کی بھی ہورہی ہیں اسکی روک تھام اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یہ معمار قوم ہیں آنے والی نسل انکے ہاتھوں پرورش پائےگی انکو سمبھالنا انے والی نسل کو سبھالنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں دے بھی گزارش ہے کہ وہ سکول و کالج پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان ٹھیلوں اورریڑھیوں پر ضرور نظر رکھیں کیونکہ انکے بنے ہوئے شوارموں، گول گپوں، اور برگرز میں نشہ آور اشیاء ملائی جاتی ہیں تاکہ بچے عادی ہوں اوران سے پھر خود، مانگ کریں اس نشہ کی۔ والدین سے بھی گزارش ہے کہ بچوں کے دوست بنیں ان سے انکے دوست احباب کے بارے میں پوچھتے رہیں انکی حرکات پر نظر رکھیں۔ آپکا مستقبل آپکے یہی بچے ہیں اگر وہ سگریٹ اور دوسری نشہ آور چیزوں کے عادی ہوگئے تو آپکا جمع کیا گیا مال بیکار جائے گا۔ بچائیں خود کو اپنے بچوں کو
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی اور ہمارا رویہ .تحریر: ارم شہزادی

    مہنگائی پر لکھا بھی بہت جارہا ہے اور بات بھی بہت ہورہی ہے۔ مہنگائی کا شور بھی بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی ہے کیوں؟ اسکی وجوہات کیا ہیں؟ کیا اس سے پہلے کبھی مہنگائی ہوئی نہیں؟ یا پھر ہم ہیں ناشکرے؟ کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلی حکومت میں بھی ریکارڈ مہنگائی تھی، ہر چیز، مہنگی تھی، لوگوں کی پہنچ سے دور تھی، کیونکہ بہت سی اشیاء ملتی ہیں نہیں تھیں یا پھر ان لوگوں کو ملتی تھیں جو بلیک میں یا مہنگے داموں خرید سکتے تھے۔ اگر وزراء کو کچھ کہا جاتا تو گالیاں اور دھمکیاں ملتی تھیں،ملکی کا وزیر خزانہ مہنگائی کی وجہ سے کتے بلیاں کھانے کا مشورہ دیتا تھا، مہنگے داموں میگا پراجیکٹس لگ رہے تھے جن سے آمدنی زیرو اور قرضہ اربوں تھا، جب بیس بیس سال کے لیے بجلی گیس کے مہنگے ترین معاہدے ہورہے تھے۔لیکن اس سے بھی پیچھے نظر دوڑائیں تو بھی مہنگائی تھی، جب سڑکوں پے آتا اور چینی لینے والوں کی لائینیں لگی ہوتی تھیں، جب آٹا کے حصول کے لیے لوگوں کے سر پھٹتے تھے، جب عورتیں آٹا زمین سے سڑکوں سے بکھرا ہوا اکٹھا کرکے لے جاتی تھیں، اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو بھی مشرف کو مارشل لاء مہنگائی اور بدامنی کی وجہ سے ہی تھا۔اور اگر اب سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں بھٹو جوکہ سندھ میں اب بھی زندہ ہے اسکی تقاریر سن لیں تو وہ بھی مہنگائی کی بات کرتا نظر اتا ہے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب ہی اتنا شور کیوں؟ جبکہ یہ مہنگائی پوری دنیا میں آئی ہے، اس سے نا تو یورپ بچ سکا نا ایشیاء تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب ایک ماحول بنا دیا گیا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اب مہنگائی کا شور زیادہ ہے جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہے۔اور ان وجوہات کی وجہ عوام بھی ہے کافی حد تک۔ کیونکہ مہنگائی وہ ہوتی ہے جب رسد اور خرچ میں فرق ہو تو کیا ایسا ہے؟

    کیا چیزیں نہیں مل رہیں؟ کیا عوام ان چیزوں کے لیے رل رہی ہے؟ جواب ہے کہ بلکل نہیں ہر چیز بازار میں موجود ہے، جب ہر چیزموجود ہے تو پھر مہنگی کیوں؟ کیونکہ ہم میں احساس نہیں ہے۔ ریڑھی والے سے لے کر چھوٹی دوکان تک اور چھوٹی دوکانوں سے شاپنگ پلازوں تک خلائی مخلوق تو نہیں چلا رہی ہے۔ آپ لوگ ہی چلا رہے ہیں نا؟ فیکٹریوں سے لے کر ملوں تک عوام کے پاس ہی ہے نا سب کچھ؟ تو پھر کیوں الزام کسی اور کو دیا جارہا ہے؟ اپنے گریبان میں کیوں جھانکا نہیں جارہا؟ کیا یہ کہہ کر بخشش کروا، لیں گے کہ چونکہ عمران خان کو ناکام کرنا تھا اس لیے دس کی چیز بیس میں دی؟ عمران خان کی نفرت میں اپنے ہی بھائیوں کا خون چوسا؟ تو کیا بخشش مل جائے گی؟ کبھی نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں وہ بین الاقوامی سطح پر مہنگائی ہونےکی وجہ سے مہنگی ہوئیں ہیں جو یہاں بنتی ہیں وہ کیوں مہنگی؟ یقیناً ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے اور دوسری بات ہمارے لیے یہ حالات مشکل ہیں تو ان لوگوں کے لیے کتنے مشکل ہونگے جو دیہاڑی دار تھے۔ کیا ہم نے اپنی گنجائش میں انکی مدد، کی؟ کیا ہم نے اپنے دسترخوان میں انکو شامل کیا؟ کیا ہم نے انکا آحساس کیا؟ ہم بحثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم اگر مل کر مشکل وقت کا مقابلہ کریں گے تو یقیناً یہ وقت مشکل مشکل نہیں لگےگا۔اللہ پاک ہم سب کی مشکلات دور فرمائے ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ہم اس کڑے وقت سے گزر جائیں
    جزاک اللہ
    @irumrae

  • نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ

    نئے پاکستان کی کہانی، تحریر: نوید شیخ
    جیسا کہ امید تھی کہ منی بجٹ پاس ہوجائے گا ۔ ہوگیا ہے ۔ مگر اس منی بجٹ کا بوجھ اب پی ٹی آئی سمیت اتحادی جماعتیں کیسے اٹھائیں گی یہ دیکھنا ہے۔ ۔ کیونکہ شوکت ترین جو مرضی کہانیاں سنائیں یا بتائیں اس کے بعد اب مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آنا ہے ۔ جس کے بعد قوی امید ہے کہ اگلے جنرل الیکشن میں یہ طوفان اس حکومت اور اس کے اتحادیوں کو بہا کر لے جائے گا ۔ کیونکہ مت بھولیں عوام ووٹ کی طاقت سے تبدیلی لایا کرتے ہیں ۔ جس کا گاہے بگاہے وہ انتظار کررہے ہیں ۔ آپ اس منی بجٹ کو last nail in the coffin بھی کہہ سکتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ یہ منی بجٹ نہیں عوام پر ایک نئے طرح کا جبری عذاب ہے جو مسلط کیا گیا ہے ۔ مجھے تو پی ٹی آئی کے ترجمانوں پر حیرت ہے جو اس منی بجٹ کو بھی حکومت کی فتح قرار دے رہے ہیں ۔ خوب خوشیاں منا رہے ہیں مبارکبادیں دے رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ آئی ایم ایف کی فتح ہے ۔ کیونکہ اب پاکستان کو معاشی طور پر بذریعہ قانون گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ اور اس گناہ میں پی ٹی آئی کی حکومت سمیت تمام اتحادی شامل ہیں ۔ ۔ اچھا جب یہ منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور عوام سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا ۔۔۔ یہ ہیں ہمارے نمائندے ۔

    ۔ اپوزیشن کا کام احتجاج ہوتا ہے جو آج تمام اپوزیشن جماعتوں نے خوب کیا ۔ ۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے ۔
    ۔ خوب نعرے بازی بھی کی گئی ۔ ۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھواں دھار تقریریں بھی ہوئیں ۔ ۔ بلکہ پی ٹی آئی کی عزالہ سیفی کو پیپلزپارٹی کی شگفتہ جمانی نے تھپڑ تک جڑ دیا ۔ ۔ تو ایوان میں وہ ہی کچھ ہوا جس کی امید تھی ۔ بالکل امید سے بھی آگے کام ہاتھا پائی تک جارہا تھا ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں کہ منی بجٹ کے معاملے میں حکومت جیت چکی ہے اور اپوزیشن کس شکست ہوئی ہے ۔ مگر یہ پہلی ایسی جیت ہے جو حکومت کے گلے کا پھندہ بن سکتی ہے ۔ اس کا رزلٹ اب آپ کو ہر آنے والے الیکشن میں دیکھائی دے گا ۔

    ۔ مِنی بجٹ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 350 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ ۔ امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جنرل سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے۔۔ بل میں پاور سیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے، ادویات بنانے کیلئے استعمال ہونے والےخام مال پرٹیکس چھوٹ ختم کرنے، بیرون ملک سے منگوائے جانے والے پالتو جانوروں، پرندوں اور انڈوں پرٹیکس چھوٹ واپس لینے، امپورٹڈ گوشت اور پولٹری آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ موبائل فونز پر انکم ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ
    850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے۔ ۔ پھر ان کڑی ترین شرائط کی بدولت بجلی اور پٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔۔ دراصل اس 360
    ارب روپے کے منی بجٹ میں صرف ٹیکس ہی ٹیکس ہیں ۔ عملاً آج سے پاکستان کی معاشی خود مختاری گروی رکھ دی گئی ہے ۔ آج جو بھی قوانین بنے ہیں یہ سب آئی ایم ایف کے ایما پر بننے ہیں ۔ یاد کریں یہ وہ ہی عمران خان ہیں جو کہا کرتے تھے کہ مر جاوں گا بھیک نہیں مانگو گا ۔ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاوں گا۔ ہماری تیاری پوری ہے ۔

    ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا ۔۔۔ کاں ۔۔۔ چٹا ہی ہے ۔ ۔ آج پھر انھوں نے وہ ہی بونگی ماری ہے جو وہ پہلے کئی بار مار چکے ہیں کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا۔ عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا۔ یہ سفید جھوٹ ہے ۔ عنقریب جب لوگوں کی چینخیں نکلیں گی تو پھر عمران خان اور ان کے ترجمانوں کے پینترے دیکھائے گا ۔ کبھی کسی کو مافیا کہیں گے تو کبھی اپوزیشن پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ یعنی جو یہ کرتوت کر رہے ہیں اس کی ذمہ دار بھی اپوزیشن ہے ۔ پر اب ان تین سالوں میں عوام بہت کچھ دیکھ بھی چکے ہیں اور سمجھ بھی چکے ہیں اس لیے اب وہ حکومت کے کسی بھی جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں ۔ کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے ۔ اس حکومت کے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہ سرٹیفائیڈ جھوٹے ایک بار نہیں کئی بار جھوٹ بول چکے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر بار رنگے ہاتھوں پکڑ بھی گئے ہیں ۔ بلکہ شاید ان تین سالوں میں انھوں نے ایک بھی سچ نہیں بولا ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ منی بجٹ سے لگنے والے ٹیکسوں سے کاروبار مزید ختم اور معیشت سکڑ جائے گی ۔ دیکھا جائے تو عمران خان کا منی بجٹ لانے کی وجہ گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا دماغی خلل کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ 350 ارب کے ٹیکسوں سے سیکڑوں اشیا مہنگی ہوں گی، ٹیکس سے جو سیکڑوں اشیامہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر پڑے گا حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے ۔ کیونکہ سی پیک تو دور کی بات یہ تو کوئی چھوٹی موٹی انڈسٹری لگانے میں بھی ناکام رہے ہیں ۔ پھر زراعت جو اچھی جا رہی تھی ۔ وہاں اس بار ڈبل داموں میں ڈی اے پی کی بوری بکی ہے ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہیں ۔

    ۔ پھر اس منی بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی تجاویز بھی تشویشناک ہیں یہ بجٹ نہیں لاکھوں افراد کو بےروزگار کرنے کا منصوبہ ہے۔ آج کے بعد اب کسی کو شک نہیں رہ جانا چاہیے کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چل رہی ہے؟
    اور ہمارے ملک کا وزیر خزانہ تخواہ تو ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں سے لیتا ہے ۔ مگر اصل نوکری آئی ایم ایف کی کرتا ہے ۔۔ کیونکہ ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کٹوتیوں اور ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں اضافہ ہوگا عوام کو آگے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ وہ تبدلی ہے جس کا تبدیلی سرکار نے وعدہ کیا تھا؟ دیکھا جائے تو یہ ملک کو مدینہ کی ریاست نہیں، آئی ایم ایف کی کالونی بنا رہے ہیں، پہلے کہتے تھے آئی ایم ایف نہیں جائیں گے پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن لے کر آئی ایم ایف چلی گئی، پھر کہتے تھے منی بجٹ نہیں ہوگا، اب منی بجٹ بم گرا رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی سونامی آئے گی۔ پھر آج وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے اندر تو حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا تھا ۔ پر پاس کروانے میں ایم کیو ایم نے اپنا پورا کندھا حکومت سے ملا کر رکھا ۔ جبکہ پہلے ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا،منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

    ۔ پر میں آپکو بتاوں یہ حکومت اپنے لوگوں کیا کسی اتحادی پر بھی اعتماد نہیں کر رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اجلاس کے لئے پہنچے تو اراکین کے موبائل فونز باہر رکھوا لیے گئے خواتین ارکان کے بیگز بھی باہر رکھوا دیئے گئے۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے شہباز شریف پر کافی غصہ نکلا کہ اسمبلی میں شہبازشریف کی تقریر نہیں ہوتی جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے۔ ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے۔ حکومت کوئی مشکل میں نہیں۔ کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں ۔ نواز شریف جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا تھا۔ میرے خیال سے عمران خان کو کافی دکھ ہے کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر وہ کر دیکھایا ہے جو عمران خان نے شاید سوچا بھی نہ تھا ۔ کیونکہ ان کی نظر میں ان کے علاوہ اب کوئی آپشن باقی بچا ہی نہیں تھا ۔ پر شہباز شریف نے ایک بار پھر رابطے بحال کروا کر کم ازکم پی ٹی آئی کی ہوا ضرور نکال دی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ عوام اب انتظار کررہی ہے کہ کب الیکشن آئیں اور عمران خان سمیت پی ٹی آئی والے ووٹ مانگنے آئیں تو ہم ان کو تگنی کا ناچ نچوائیں ۔ ۔ کیونکہ آج غریب کا برا حال ہو چکا ہے۔ حکومت کے دلاسوں اور دعوؤں کےباوجود کوئی اُمیدنظر نہیں آ رہی کہ عوام مشکلات کی اِس دلدل سے کبھی نکل پائیں گے۔ اب بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں یا ملک میں مقیم پاکستانی ہر کوئی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ اب اِس ملک کا کیا بنے گا؟ اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ کسی کے پاس کوئی امید دینے کو نہیں ہے ۔ اِس وقت پاکستان بالخصوص ہماری نوجوان نسل میں مایوسی کی ایک لہر پھیل چکی ہے۔ جن کے پاس اِتنے وسائل ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک جا کررہ سکتے ہیں وہ پاکستان سے بھاگے چلے جا رہے ہیں اور جو وسائل کی کمی کے باعث باہر نہیں جا سکتے وہ مایوسی اور مشکل سے گزر بسر کر رہے ہیں۔۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ یہ ہی ہے نئے پاکستانی کی کہانی ۔

  • مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار میں اقلیتیں غیر محفوظ، تحریر: عفیفہ راؤ

    اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔

    دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

    اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔
    حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔

    اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ
    Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014 اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا رٹیکل
    25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
    درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    حقیقی خادم اعلیٰ .تحریر: عبدالوحید

    کیا آپ جانتے ہیں میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ پنجاب کیوں کہ رہا ہوں ۔ نہیں جانتے تو چلیں اس آرٹیکل کو پورا پڑھ لیتے ہیں ۔ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر میں عثمان بزدار کو حقیقی خادم اعلیٰ کہنے پر مجبور ہوں ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مئ انیس سو انہتر کو اپنے آبائی علاقے بارتھی میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی ۔ اور اس بعد عثمان بزدار نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا اس کے علاؤہ عثمان بزدار نے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے ۔ آپ کے والد پہلے ہی سیاست میں تھے ۔ والد صاحب کے بعد آپ نے سیاست میں حصہ لیا ۔ اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں آپ صوبہ محاذ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جوکہ بعد پاکستان تحریک انصاف کی جماعت میں شامل ہوگئ۔

    عثمان بزدار نے دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں اپنے مخالف امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ایک سرپرائز کے طور پر عثمان بزدار کو پنجاب کا سب بڑا عہدہ وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے منتخب کیا ۔ عثمان بزدار کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کے خلاف ایک بھرپور انداز سے مہم چلائی گئی ۔ لیکن وزیرِ اعظم نے انکا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا اور انہیں اپنا وسیم اکرم پلس کہ دیا ۔اور وزیر اعلی عثمان بزدار نے پنجاب کو ایک نئے انداز سے چلایا ۔ ایک پرانا انداز انڈر ورلڈ شوباز کو چھوڑ کر ایک نیا بلکل سادہ سا طریقہ اپنایا۔ صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ حالاں کہ ان پر جتنی تنقید ہوئی شائد کیسی پر ہوئی ہوگی۔ لیکن آپ کی جرات ہمت اور بلند حوصلے کو سلام ۔ آپ نے ان سب باتوں کو پرے پشت رکھ کر صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دی ۔ وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں محض تین سالوں میں پنجاب ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوئے۔ جتنے کام محض ان تین سالوں میں ہوئے اتنے کام پچھلے ستر سال میں نہیں ہوئے ۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اپنے تین سالوں میں اکیس نئے یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جن میں چند یونیورسٹیوں کے نام درج ذیل ہیں گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب ، نارتھ پنجاب یونیورسٹی چکوال ، کوہسار یونیورسٹی مری ، یونیورسٹی آف میانوالی ، یونیورسٹی آف تونسہ ، تھل یونیورسٹی بھکر ، ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ، چاکرے اعظم یونیورسٹی ڈی جی خان ، راجن پور یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ۔ ساتھ سو کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز۔ اس کے علاؤہ یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام ، چھیاسی نئے ایسوسی ایٹ کالجز کا قیام ، آٹھ ہزار تین سو ساٹھ سکولوں کی اپ گریڈیشن ، نو مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا قیام ، نشتر فیز ٹو ہسپتال کا قیام ، چلڈرن ہسپتال بہاولپور ، برن سنٹر بہاولپور ،میانوالی ، لیہ ، اٹک ، بہاولنگر اور راجن پور میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال ، ڈی جی خان کارڈیالوجی ہسپتال کا قیام شامل ہیں۔ محروم اور پسماندہ لوگوں کا احساس پناہ گاہیں ، لنگر خانوں کا قیام ، اور صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکج ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام ، بہتر لاکھ خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کا اجراء ، دس اسپیشل اکنامکس زون کی منظوری ، قبضہ مافیا سے دس لاکھ کینال رقبہ واگزار ،کسانوں کے 26 ارب روپے کے بقایاجات واپس ، سمارٹ پولیس اسٹیشن کا قیام ، 24 اضلاع میں سپورٹ کمپلیکس شروع کی گئی ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا قیام ،بہاولپور اور ملتان میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری ،جنوبی پنجاب فنڈز کی ری فینسنگ اور اس کے علاؤہ دیگر کئی فلاحی منصوبے شامل ہیں جنکا ذکر ایک آرٹیکل میں شامل کرنا ناممکن ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی نگرانی میں پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ اب شوبازیاں نہیں صرف کام۔

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    سرینگر: چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے گزشتہ ایک برس سے سرینگرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر قابض حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ حکام کی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کل جامع مسجد کی طرف مارچ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ جنہوں نے ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں کی مزاحمت کی ہے جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کی زمین اور قدرتی وسائل کو غیر مقامی لوگوں کو فروخت کر کے علاقے کی آبادی پر حالیہ حملے کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب اور آئمہ خضرات مساجد میں خطاب کے دوران لوگوں کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ نے پیر کو بھارت کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ علاقے میں ہاو¿سنگ اور تجارتی منصوبوں کی ترقی کے نام پر 18ہزار 3سو کروڑ روپے کے 39 مفا ہمت کی یاداشتوں پردستخط کیے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ نوآبادیاتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی زمین پر قبضہ بھارتی شہریوں کو علاقے میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکیں۔

  • گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    گیس دھماکے ! تحریر:علی مجاہد

    کراچی سائٹ ایریا شیر شاہ کی یہ کہانی ہے۔ دوپہر کوئی 2 بج رہے تھے تقریباً کمپنیوں میں کھانے کا وقت تھا کوئی کھانا کھا رہے تھے اور کوئی ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے اتنے میں ایک زور دار آواز آتی ہے اور گیس لائن کا دھماکہ ہوتا ہے میں اور میرے دوست بھی ہوٹل پہ بیٹھے چائے پی رہے تھے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہلچل مچ گئی ہے ہم اپنی کمپنی کی طرف جا رہے تھے تو ایمبولینس دکھی ہمیں لگا کہ کوئی ایکسیڈنٹ ہوگیا پر پھر معلوم ہوتا ہے نالہ پر ایک بینک بنی ہوئی تھی وہاں گیس لائنیں پھٹنے کی وجہ سے دھماکہ ہوا ہے بلڈنگ زمین تلے بوس گئی اس میں لوگ بھی پھنس گئے کتنی عورتیں بچے بھی شامل تھے، کئی لوگ اس زندگی سے رخصت ہو گئے کئی ہسپتالوں میں منتقل ہو گئے لوگوں نے سنا بینک میں دھماکہ ہوا بلڈنگ گر گئی لوگ اس طرف بھاگنے لگے اس لیے نہیں کہ وہاں جا کر کسی کی مدد کی جائے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی جائے بلکہ وہ وہاں سب پیسے بٹورنے میں لگے رہے انسان کی جان کی کوئی پرواہ نہیں پیسہ کو اہمیت دی جارہی تھی ہم نے وہاں دیکھا کچھ لوگوں کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے کسی کا سر بدن سے الگ تھا کسی کا ہاتھ تو کسی کا پائوں، اب سوال یہ ہے کہ گیس دھماکے کیسے ہوتے ہیں

    عموماً اور دوسرا یہ کہ نالہ کہ اوپر بینک کیسے بنی؟ سردیوں میں گیس کے مسائل نہاں ہوتے ہیں تو پھر عوام بھی اپنی مدد آپ کرتی ہے جیسا کہ ابھی کچھ مشینیں آئی ہیں جس سے اگر آپ کا گیس پریشر کم ہوگا تو وہ گیس کھینچتی ہے جو بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ کام غیر قانونی بھی ہے پر عوام مجبور ہے، کچھ لوگ سلینڈر استعمال کرتے ہیں تھوری سی لا پروائی گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں غیرمعیاری اور خراب گیس سلنڈروں کی وجہ سے آئے دن ہلاکت آفریں دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔یہ غیرمعیاری سلنڈرگھروں میں کھانا پکانے کے علاوہ گاڑیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ساحلی شہرکراچی کا پاکستان کی اقتصادی پیداوار میں حصہ 60 فی صد ہے۔یہ شہر طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، غیر قانونی تعمیرات، ادارہ جاتی اور حکام کی کرپشن اور ناکام میونسپل خدمات کی وجہ سے گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔ ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیر شاہ دھماکے کی جائے وقوعہ پر موجود سوئی سدرن گیس کی ٹیموں نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کی جگہ پر ادارے کی کوئی گیس پائپ لائن نہیں، علاقے میں موجود تمام گیس پائپ لائنز بالکل محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔سوئی گیس کا مزید کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی اپنے کلیئرنس سرٹیفکیٹ میں وجہ سیوریج لائن میں دھماکا بتایا ہے جو کہ دھماکے میں بری طرح سے تباہ ہونے والی عمارت کے بالکل نیچے سے گزر رہا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ امر بھی قابل غور اور توجہ طلب ہے کہ وقوعہ پر قدرتی گیس کی کوئی بو نہیں تھی اور یہاں تک کہ آگ بھی نہیں لگی، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ دھماکے کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی پائپ لائن سے جوڑا نہیں جا سکتا۔

  • بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    بکاؤ میڈیا. تحریر:سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم یہ الزامات ہم ہر روز کسی نہ کسی طرح سننے میں آتے ہیں.اس سال ٹویٹر پہ. الیکٹرانک میڈیا گروپس اور پرسنز کے خلاف بیسوں ٹرینڈز چلے.
    میڈیا کا کردار اور میڈیا کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیں.میڈیا کی تقسیم مہذب ممالک میں الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز کی صورت میں کی جاتی ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے یہاں یہ میڈیا حکومتی ، اپوزیشن، اور پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز.
    میڈیا کا حقیقی کردار تو آگہی پیدا کرنا اور حکومتی کارکردگی پہ کڑی نگاہ رکھنا ہے اور ساتھ ہی حکومتی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانا بھی ہے.تمام منصوبوں اور شعبہ جات کے متعلق ماہرین کو چینلز پہ بلانا اور حکومتی نمائندوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے.اور اپوزیشن کی توجہ دلانا کہ کس طرح ایوان میں ان معاملات پہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے جواب طلبی کریں.

    مگر افسوس کہ میڈیا ہاؤسز یا تو حکومتی اشتہارات کے سامنے بے بس ہیں یا اپوزیشن کے زرخرید غلام.
    آپ کوئی بھی چینل لگا کر دیکھ لیں یا تو حادثات کی خبریں ہیں یا ایک محسوس طریقے سے حکومت یا اپوزیشن کے حق میں راۓ سازی بلکہ کھلم کھلا جانبدار سوالات پہ مبنی پروگرامز کیے جاتے ہیں جن میں منصوبے اور ملکی ترقی تو نظر نہیں آتی دونوں طرف کے راہنما ذاتیات پہ واہیات گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں. لڑائی جھگڑے میں اصل موضوع کھو جاتا ہے اور اسی لڑائی سے کوئی اگلے پروگرام کے لیے سکینڈل اخذ کر لیا جاتا ہے.
    حکومتی نمائندے چند چینلز سے نالاں ہیں تو اسکے پیچھے واضح دلائل ہیں.عمران خان پہ گلالئ الزام لگائے تو ایک میڈیا گروپ گھنٹوں پرائم ٹائم شو کرتا اس موضوع پہ وہیں زبیر عمر کی ویڈیو پہ وہی میڈیا گروپ کہتا ہے یہ زبیر صاحب کی ذاتی زندگی ہے ہم دخل نہیں دے سکتے حالانکہ عمران خان اس وقت اقتدار میں نہ تھے جبکہ زبیر صاحب کا سکینڈل انکی گورنری کے عہد کا تھا.

    اسی طرح اپوزیشن ایک دو میڈیا ہاوسز پہ جانبداری کا الزام لگاتی ہے تو وہ بھی درست ہے کیونکہ وہ چینلز اپوزیشن کے دورِحکومت میں اشتہارات نہ ملنے پہ اپوزیشن کے خلاف کوئی وار ضائع جانے نہیں دیتا.بلکہ ایک چینل تو حکومتی کارکن کی ملکیت ہے.
    اب آتے ہیں پیڈ سوشل میڈیا ٹیمز کی طرف جن کو سیاسی جماعتیں تنخواہ دیتی ہیں کہ وہ ان کے حق میں کیمپئن کریں.یہاں خطرناک بات یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی اور اینکر پرسنز ان سیاسی میڈیا ہاوسز کے پیڈ ملازمین بن جاتے ہیں.

    وہی اینکرز اپنی ایک سیاسی جماعت کے ورکرز بن کر یکطرفہ کیمپئنز چلاتے ہیں.یہی یکطرفہ کیمپئننگ انکی صحافت کا جنازہ بن جاتی ہے.سوشل میڈیا ٹیمز کے یہ ممبرز جب الیکٹرانک میڈیا پہ بیٹھتے اور یکطرفہ اور جانبدار پروگرام کرتے ہیں تب دل. بے ساختہ پکارتا ہے بکاؤ میڈیا.ابھی بھی چند صحافی ان پروپیگنڈہ چینلز میں رہ کر عوام کی نمائندگی کو کوشش میں ہیں.اللہ ان کا حامی و ناصر ہو.اور دعا ہے پاکستان میں حقیقی صحافت ابھرے اور ملکی ترقی میں متحرک قوت بنے.آمین