Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    سان فرانسسكو:یوٹیوب بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا ہے ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا ہے لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    اس سے قبل ٹویٹر نے صارفین کو سہولت فراہم کی تھی کہ وہ پروفائل تصویر میں این ایف ٹی بطور نقل لگاسکیں اب سے چنددن پہلے میٹا نے بھی کہا تھا کہ وہ بالخصوص میٹاورس اور انسٹاگرام کے لیے این ایف ٹی کی تجارت پر غور کررہی ہے پہلے مرحلے میں لوگ ٹوکن کو بطور ڈسپلے رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    این ایف ٹی کیا ہے؟
    این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہے، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں این ایف ٹی میں جاری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکن یا سرٹیفیکیٹ کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی آن لائن اثاثے کا اصل مالک کون ہے اسی طرح ہم ٹھوس حالت میں پائے جانے والے اثاثوں کے لیے بھی این ایف ٹی جاری کر سکتے ہیں جو اس کے اصل ہونے کی دلیل دیتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ہانگ کانگ میں پرائیویٹ ایکویٹی فرم اوسیرس گروپ میں پارٹنر سردار احمد درانی کا خیال ہے کہ این ایف ٹی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل آرٹ (تصاویر، ویڈیوز یا دیگر آن لائن مواد) کی نقل تیار نہ ہوسکے اور اس میں تحریف نہ ہوسکے۔ یہ ایک قسم کی ڈیجیٹل آئی پی (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) ہے وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی کھیلوں کی مختلف لیگز نے اپنے کولیکٹیبلز (کھیلوں کے سامان یا کارڈز) کو این ایف ٹیز میں تبدیل کیا اور اب وہ لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔

    سردار درانی کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں اور آن لائن مواد کو این ایف ٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ اصل مالکان یا فنکار اپنا کام اور اس کے جملۂ حقوق محفوظ رکھ سکیں۔

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

  • پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے

    پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے

    کراچی:پی سی بی کی فوکس اسپورٹس کے ساتھ شراکت داری:دنیا بھرمیں کرکٹ کے شائقین لائیودیکھ سکیں گے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ پی سی بی اور فوکس اسپورٹس کے درمیان براڈکاسٹ کی شراکت داری کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ معاہدہے کے تحت فوکس اسپورٹس اب اپریل 2023 تک پاکستان میں کھیلے جانے والے ہوم انٹرنیشنل میچز اور ایچ بی ایل پی ایل ایل کے میچز کو آسٹریلیا میں براہ راست نشر کرے گا۔

    دونوں فریقین میں معاہدے کے بعداب فاکس ٹیل گروپ کے 24 لاکھ صارفین کو پاکستان میں کھیلی جانے والے ہوم انٹرنیشنل سیریز اور ایچ بی ایل پی ایس ایل کے میچز براہ راست دیکھنے کی سہولت موجود ہوگی۔ اس معاہدے کا آغاز 27 جنوری سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہونے والی ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کے میچز سے ہوگا۔

    اس سے قبل پی سی بی نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں موجود پاکستان کرکٹ فینز کے لیے اتصالات، کیریبین سرزمین پر فلو اسپورٹس ، نیوزی لینڈ میں اسکائی این زیڈ ، برطانیہ میں اسکائی اسپورٹس ، پاکستان کے علاوہ پورے جنوبی ایشیا ء میں سونی ، سب صحارا افریقہ میں سپر اسپورٹس اور شمالی امریکہ میں ولو ٹی وی کے ساتھ بھی شراکت داری کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

    دوسری جانب پی سی بی نےاو ٹی ٹی صارفین کے لیے آئی سی سی ٹی وی اور ٹیمپاڈ ٹی وی سے بھی معاہدہ کرلیا ہے۔ ان دونوں پلیٹ فارمز کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی لائیو اسٹریمنگ کی اجازت ہوگی۔

    مندرجہ ذیل علاقوں میں رہائش پذیر کرکٹ فینز ان دونوں پلیٹ فارمز پر ایچ بی ایل پی ایس ایل کی لائیواسٹریمنگ ملاحظہ فرماسکیں گے:
    انڈورا، انٹارکٹیکا، ارجنٹائن، آرمینیا، آسٹریلیا، آسٹریا، آذربائیجان، بیلاروس، بیلجیم، بولیویا، بوسنیا اور ہرزیگووینا، بوویٹ جزیرہ، برازیل، برٹش انڈین اوشان، برونائی، بلغاریہ، کمبوڈیا، چلی، چین، جزیرہ کرسمس ، جزیرہ کوکوس، کولمبیا، کروشیا، قبرص، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، مشرقی ٹائیمور، ایکواڈور، ایسٹونیا، فالک لینڈ، فاراوئے جزائر ، فن لینڈ، فرانس، فرانسیسی گیانا، جارجیا، جرمنی، جبرالٹر، یونان، گیانا، ہرڈ آئی لینڈ، ہانگ کانگ، ہنگری، آئس لینڈ، انڈونیشیا، اسرائیل، اٹلی، جاپان، قازقستان، کوسوو، کرغیزستان، لاؤس، لٹویا، لیچٹنسٹائن، لیتھوانیا، لکسمبرگ، مکاؤ، مقدونیہ، ملائیشیا، مالٹا، مائیکرونیشیا، مالڈووا، موناکو، منگولیا، مائیکرو نین، نیدرلینڈ، مونٹاکو نیو کیلیڈونیا، شمالی کوریا، ناروے، پیراگوئے، پیرو، فلپائن، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، روس، سان مارینو، سربیا، سنگاپور، سلوواکیہ، سلووینیا، جنوبی کوریا، اسپین، سورینام، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، تائیوان، تاجکستان، تھائی لینڈ، ترکی، ترکمانستان، یوکرین، یوراگوئے، یو زبیکستان، ویٹیکن سٹی، ویت نام اور وینزویلا شامل ہیں

    ادھر اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں موجود پاکستانی شائقین کرکٹ بہت خوش ہیں اور انہوں نے پی سی بی کے اس فیصلے کی بہت تعریف کی ہے اور کہاہے کہ چلو اچھا ہوا وہ بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچز سے لطف اندوز ہوجایا کریں گے

  • ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    ٹکٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹکٹ۔۔۔۔۔تحریر:یاسرشہزاد تنولی

    صوبہ pkp میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی شیڈول کا اعلان ہوتے ہی گلی محلوں اور بازاروں کیساتھ ڈراٸنگ رومز کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوگٸی ہیں۔ایک طرف پارٹی ٹکٹ کے امیدوار مخصوص آستانوں کا طواف جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر اپنی پھرتیاں جاری رکھے ہوۓ ہے۔ملک کی معروف پارٹی کا نعرہ ہے "ہر گھر سے بھٹو نکلے گا”۔آنیوالے بلدیاتی الیکشن کے دوران پارٹی کا نعرہ متاثر ہوتا دکھاٸی دے رہا ہے۔اب ہر گھر سے بھٹو کی بجاۓ امیدوار نکلے گا تم کس کس امیدوار کو روکو گۓ؟

    ایک زمانے میں پنجابی کا گیت بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول کچھ اسطرح کے تھے "کنے کنے جانڑیں بلو دے گھر۔لینڑ بڑاٶ ٹکٹ کٹاٶ”۔ٹکٹ کی اہمیت کا اندازہ اس گانے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔بلو کے گھر تک جانے کیلیے اگر ٹکٹ کی شرط پوری کرنا ضروری ہے تو پھر سیاست میں ٹکٹ کی اہمیت کو کیونکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ٹکٹ چاہے بمبینو سینما گھر کا ہو یا خیبر میل کا۔ ہواٸی جہاز کا ٹکٹ ہو یا میٹرو بس کا۔۔ٹکٹ کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی۔خط وکتابت کیلیے بھی ٹکٹ کا ہونا لازم ہے ۔ ٹکٹ جس رنگ اور شکل میں بھی ہو اپنی پہچان خود رکھتا ہے لیکن سیاسی ٹکٹ کی الگ ہی حیثیت ہے۔ کٸی امیدواروں کی تو ٹکٹوں نے نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور جب تک پارٹی کا ثکٹ تعویذ بنا کر انکے گلے میں نہیں لٹکایا جاتا اسوقت تک انکی بے چینی دور نہیں ہوسکتی۔اس سے پہلے ٹکٹوں کی تقسیم اتنی مشکل نہیں ہوا کرتی تھی لیکن جس طرح زمانے کے طور طریقے بدلے ہیں اسی طرح سیاست کے اندازورواج بھی بدل گۓ ہیں۔

    پہلے مرحلے کے انتخابات میں پی ٹی آٸی کے ٹکٹ ہولڈروں کو منہ کی کھانی پڑی جس میں دیگر پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر بھی شامل تھے۔ریل گاڑی کا ٹکٹ منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن بے وفا دوست کی طرح پارٹی ٹکٹ کا کوٸی بھروسہ نہیں ہوتا ۔بہت سے سیاسی شہزادوں کے گلے میں پارٹی ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں عبرتناک شکست سے دوچار ہوتے اور پچھتاوے کے آنسو روتے دیکھا گیا ہے لیکن پھر بھی پارٹی ٹکٹ کے متوالوں کا جنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔مسلم لیگ ن۔جمیعت علما اسلام اور پی ٹی آٸی کے ٹکٹ کیلیے مارے مارے پھرنے والے امیدواروں کے حوصلوں کو سلام پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔سیاسی عاملوں کے آستانوں پر حاضری در حاضری کے باوجود دلی مرادیں پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

    پی ٹی آٸی نے تو پہلے مرحلے کے الیکشن میں عبرتناک شکست کی چوٹ کھانے کے بعد اگلے مرحلے کیلیے نیا لاٸحہ عمل مرتب کیا ہے جس کے تحت پارٹی رہنماوں کے قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹ دینے کی بجائے پیدل سفر کا پروانہ جاری کیا گیا ہے جسکے نتیجے میں کچھ امیدوار اعصابی دباٶ کا شکار ہوچکے ہیں اور انہوں نے شیروانیوں کے آرڈر بھی منسوخ کردٸیے ہیں۔مسلم لیگ اور جمیعت کے درمیان اتحاد کی صورت میں ٹکٹ کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں پی ٹی آٸی کو پہلے مرحلے کے انتخابات سے بھی ذیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ابھی ٹکٹوں کی بولی کا مرحلہ بھی باقی ہے۔اس سلسلے میں بولی دہندگان اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔دوسری طرف آذاد امیدواروں کی فوج مظفر بھی لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہے۔ٹکٹ کے جھمیلوں سے بے نیاز آذاد امیدواروں کی پھرتیاں الیکشن کی رُت کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرینگی اور اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بعض آذاد امیدوار بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔ایسی صورت میں ٹکٹ ہولڈر لگنے والے زخم کے اوپر ٹکٹ کی پٹی باندھ کر طویل عرصے تک اسے چاٹتے رہینگے

  • ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    ایک خطرناک بیماری .تحریر: لعل ڈنو شنبانی

    دنیا میں بہت سی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ کئی بیماریاں جسمانی و نفسیاتی ہیں تو کئی بیماریاں روحانی ہیں۔ کچھ بیماریاں بہت ہی قدیم ہیں تو کچھ جدید ،شاید جو جدید ہیں وہ بھی قدیم ہی ہیں پر انسان نے ان کی تشخیص ابھی کی۔ہر بیماری کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہوتی اور اس کا علاج بھی ہوتا ہے۔

    ان بیماریوں سے ایک قدیم اور خطرناک بیماری حسد بھی ہے۔جس کو حسد ہوجائے اسے حاسد کہتے ہیں جس پر حسد ہوجائے اسے محسود کہتے ہیں۔ حسد کو قدیم ترین بیماری کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا،یہ بیماری انسان کی تخلیق سے بھی پہلے کا ہے،ابلیس کو بھی مردود بنانے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔یہ ایسا وائرس ہے جو ہر نفس سے چمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔اسی نے قابیل کے ہاتھوں ہابیل کو قتل کروایا۔ اس نے برداران یوسف کو سیدنا یوسف کو کنوے میں ڈالنے کی ترغیب دی۔اسی بیماری کی وجہ سے بہت سے یہودی و نصاریٰ اسلام سے آج تک دور ہیں۔

    اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں پہلی بڑی وجہ اللہ تعالی کے عادل ہونے پر یقین نہ کرنا ہے کیوں کہ تمام عطائیں اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہیں چاہے کسی کو کم عطا کرے کسی کو زیادہ کسی کو کچھ عطا کرے تو کسی کو کچھ۔کسی سے عطا کرنے کے بعد واپس اٹھالے سب اس مالک حقیقی کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔حاسد جب حسد کرتا ہے تو اللہ کی عدل و رضا کا انکار کر بیٹھتا ہے کیوں کہ جو اس کے پاس ہے وہ بھی اللہ کی رضا ہے اور جو دوسرے کے پاس ہے وہ بھی اللہ ہی کی رضا سے ہے۔

    حسد کی بہت سے اقسام ہیں۔مختصرا ذکر کیا جائے تو تین ہیں۔ اول یہ کہ میرے پاس نہیں فلاں کے پاس کیوں ہے۔دوئم یہ کہ فلاں سے چھین کر یہ بھی میرا ہی ہو۔سوئم فلاں کے پاس سے بھی چھین جائے پھر بیشک مجھ سے بھی چلا ہی جائے۔حسد کی ہر ایک قسم بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہے مگر تیسری قسم شرمناک بھی ہے۔

    حسد کی تیسری قسم پر ایک مثال بھی دی جاتی ہے کہ ایک درویش شخص دریا کے کنارے ایک ٹانگ پر اپنی مراد و مقصد کے حصول کے لیے اللہ کے سامنے دعائیں مانگ رہا تھا پھر ایک دوسرا شخص بھی بالکل اسی طرح ایک ٹانگ پر کھڑا ہوکر دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے اسی طرح اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ جاکر ان اشخاص کی مرادیں پوری کردے۔ فرشتہ جب پہلے شخص کی طرف آتا ہے تو وہ شخص اسے اپنی حاجت بتاتا ہے اور فرشتہ اس کی تکمیل کرتا ہے جب فرشتہ دوسرے شخص سے پوچھتا ہے کہ تجھے کیا طلب ہے تو وہ کہتا ہے میری فقط اتنی سی حاجت ہے کہ جو اس نے مانگا ہے وہ اسے نہ ملے۔

    فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ایمان اور حسد ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس مرض کا مریض خود بھی اندر سے جل کر کھوکھلا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا نقصان بھی کرتا ہے کبھی حسد دشمنی تک کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کئی گھر اجڑ جاتے ہیں۔

    حسد سے بچنے کی ہر طرح کوشش کرنی چاہیے یہ بندے کو محنت سے بھی دور کرتا ہے اور بندہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آخرت اور موت کو کثرت سے یاد کرنی چاہیے

  • سانحہ مری اور ہم بطور قوم  ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    سانحہ مری اور ہم بطور قوم ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    وطن عزیز پاکستان کو رب تعالی نے بے پناہ خوبصورتی کے شاہکار سے نوازہ ھے جن میں خوبصورتی کا اعلی۔نمونہ اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ملکہ کوہسار مری بھی ھے۔عام حالات میں انتظامیہ نے اقدامات کیے ہوتے ہیں اور مکمل کوشش ہوتی ھے کہ سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائے۔لیکن سردیوں میں جب برفباری ہوتی ھے تو اس دلکش منظر سے ہر کوئی محظوظ ہونے مری کا رخ کر لیتا ھے جس سے مری کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش ہو جاتا ھے۔سیاحوں کے کثیر تعداد اور انتظامیہ کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوئی۔اور ٹریفک کے بندش کے بعد درجہ حرارت بھی منفی تھا اور دس سال کی ریکارڈ برفباری کی وجہ سیاحوں کے لیے اپنی زندگیوں کا بچانا تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ایسے حالات میں 22 سے زائد افراد کی موت ہوئی جس میں 4 سال کے بچے میں شامل جن کے لیے ماں باپ نے سہانے خواب دیکھے ہوئے تھے اور جوان بیٹے بھی شامل جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھے اور وہ بھی شامل جو بچوں کے بچپن کے راجا تھے۔انتظامیہ نے بروقت انتظامات نہیں کیے اور اس نااہلی کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوئی۔جب 22 فرد اس جہان فانی سے چلے گئے تب حکومت کو بھی ہوش آیا اور آپریشن کیا گیا۔لیکن یہاں غم اور دکھ کی بات یہ ھے کہ جیسا کے سیاحوں سے معلوم ہوا کہ جب ٹریفک بند ہو گئی تو سیاحوں نے ہوٹل کا رخ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 1 کمرے کی قیمت 50 ہزار روپے ہیں،اگر کسی نے قضائے حاجت سے فارغ ہونا گے تو اس کو بھی پورا کمرہ بک کروانا پڑے گا اسی طرح وہاں کی تاجر برادری نے اشیا خورد نوش کی قیمتوں کو بھی آسمانوں پر پہنچا دیا مثال کے طور پر ابلا ہوا انڈا جو ویسے 20 سے 30 کا ملتا ھے مری میں 500 کا کر دیا گیا تھا۔ہائے افسوس صد افسوس!

    یہ جناح کا پاکستان ھے وہ پاکستان جس کے بننے کے لیے نے آبا نے اپنی ہر شے کو قربان کر دیا تھا آج ان کے ورثا اپنے بھائیوں کی زندگی میں بچانے میں ناکام ہو گئے بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
    اس لیے تو کسی نے یوں کہا
    گنوا دی ہم نے آبا سے جو میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
    مری کے لوگوں نے انسانیت کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ہمارے اندر آج بطور قوم حمیت کا جذبہ ختم ہو چکا ھے۔
    قارئین! ادھر نوٹ کرنے والی بات یہ بھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات کو پیش کیا اور سڑکوں کو کھولا اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔یہ وہی فوج ھے جو دنیا بھر کی افواج میں سے کم بجٹ پر چل رہی ھے۔یہ وہی فوج ھے جو غداروں کے طعنے بھی سنتی ھے اور مفی درجہ حرارت میں کبھی سیاچن کے گلیشیرز پر ملک کی سرحد کی حفاظت کرتی ھے تو کبھی پورے پاکستان جس جگہ بھی آفت آئے تو افواج پاکستان کے جوان ہی اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی آفات سے حفاظت کرتی ھے۔اسی طرح یہاں پنجاب پولیس کو بھی سلام ھے کہ وہاں کے ڈی ایس پی مری جناب اجمل سٹی صاحب کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے مسلسل 48 گھنٹوں میں اپنی خدمات کو سرانجام دیا اور خود اترے اور لوگوں کی مدد کی۔اسی طرح میجر جنرل واجد عزیز صاحب کو بھی سلام ھے کہ انھوں نے افواج پاکستان کا لوہا ایک بار دوبارہ منایا اور 1 لاکھ سیاحوں کو بحفاظت مقامات تک پہنچایا۔میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا تھا؛-

    "جتنا مرضی درجہ حرارت کم ہو جائے اس وقت آپریشن جاری رہے گا جب تک آخری سیاح بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتا”
    اگر سیاسی جماعتوں کی بات کرے تو سیاسی جماعتوں نے سوائے سیاہ ست کرنے کے عملی کام کچھ نہیں کیا۔نون لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مری حلقہ ھے انھوں نے وہاں جا کر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔اگر وہاں موجود تھے تو محب وطن پاکستانی تحریک اللہ اکبر کے کارکنان،الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جنھوں نے وہاں جا کر لوگوں کی مدد کی۔تحریک اللہ اکبر اسلام آباد نے انتظامیہ کے تعاون سے سب سے زیادہ خدمت کا کام کیا اور امدادی کیمپ اور امدادی سامان کو پہنچایا۔اس پر مجھے یاد آیا
    ” جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ”
    اسی لیے ہماری سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی طرف دھیان دینا چاہیے اسی طرح مری کے مقامی عوام کو کوئی ہوش کے ناخن لینے چاہئے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    "جس نے ایک جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”
    آج ملک پاکستان غم سے دوچار ہیں تو ہمیں بطور قوم اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کو بلند تر کرنا ھے
    پاکستان زندہ باد

    @Gill_Pak12

  • پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    نئی دہلی :پاکستان اور سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے بعض اہم ذرائع کے حوالےسے آنے والی خبروں نے پریشان کررکھا ہے کہ بھارت بہت غلط اور منفی منصبوں پر عمل پیرا ہے ، خبروں میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایماء پر پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بھارت کے اندر ہونے والی اس پاکستان مخالف موومنٹ کے متعلق کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کل 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نام نہاد سیکورٹی الرٹ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    دلی پولیس کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ یوم جمہوری کی پریڈ کے انتظامات کے پیش نظر تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

  • ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے
    انسانی فطرت سے ہی انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے
    انسانی فطرت سے ہی دوسرے انسان کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے
    اور جب یہ احساس دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اسے محبت کہا جاتا ہے
    محبت ہمیشہ دو (رفیقوں) دوستوں کے درمیان ہوتی ہے اور دو رفیق بنے تو محبت کہلاتی ہے
    ایسا دوست (رفیق) جسکے ساتھ گہری محبت ہو اور مرنا جینا ایک ساتھ ہوجائے ہمسفر کہلاتا ہے.
    یہ ہم سفر اپنے آس پاس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
    ایسا ہمسفر جسے اپنے سے بڑھ کر اپنے دوست کی فکر رہے
    خوشی و غمی میں داد و تحسین و حوصلہ جیسی نعمت کو تقسیم کرتا رہے اور اسی طرح ایسا حوصلہ اسے اپنے ہمسفر کی طرف سے واپس ملتا رہے تو ناکامی کو اس دوران کوئی جگہ نہیں مل سکتی
    ایسی صورت میں کہ جب ناکامی سر پہ ہو اور ہمسفر اسے حوصلہ دے دے تو یہ ناکامی بھی کامیابی کا سا سکون عطاء کر دیتی ہے.
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو جتنا تقسیم کیا جائے وہ چیز قدرت کی طرف سے اس کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے.

    محبت تو انسانی فطرت ہے
    لیکن نفرت کرنا انسان کو سکھایا جاتا ہے یا پھر وہ خود سیکھتا ہے
    اگر نفرت سیکھتا ہے تو وہ بھی کسی اپنے قریبی شخص سے ہی سیکھتا ہے جس کے ساتھ انسان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا صحبت اختیار کرنا ہوتا ہے.
    انسان جیسا بھی ہو صحبت اسے بدل دیتی ہے
    اگر انسان برا ہے تو اچھوں کی صحبت اسے اچھا کر دیتی ہے اور اگر انسان اچھا ہے اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس اچھے انسان کو برا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    اچھی صحبت اختیار کرنے پر بزرگان دین نے بہت زور دیا ہے.
    اور اس کی سیکنڑوں مثالیں اہل علم نے قلم بند کی ہیں
    جس میں سب سے بڑی مثال فرعون کی دی گئی ہے
    اہل علم فرماتے ہیں کہ فرعون پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب فرعون کو اپنے ضمیر نے جھنجوڑا تو وہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہ ایمان لانے کیلئے رضامند ہوگیا.
    لیکن چونکہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا تو اس نے اپنے مشیر (ہامان) جسکی صحبت اختیار کرکے وہ فرعون بنا تھا سے مشورہ کیا کہ میں حضرت موسیٰ پہ ایمان لانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں.
    ہامان نے جب یہ بات سنی تو اس نے فرعون کی خوشامد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی سچے ہیں یہ بات ہر شخص جانتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹا تھا اور موسیٰ سچے ہیں تو جو آپ کے سنے سجدہ ریز ہوتے تھے وہی آپکو برا بھلا کہیں گے اور دشمن بھی بن جائیں گے.

    ہامان (جو فرعون کا ہمسفر) تھا کے اس مشورے کے بعد فرعون نے ایمان لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اللہ نے فرعون کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کیلئے نصیحت کے طورپہ پیش کردیا.
    اہل علم کا یہ گمان ہے کہ اگر فرعون کو مخلص مشورہ دیا جاتا تو وہ ایمان لے آتا.
    لیکن اسے بری صحبت نے ہلاک کیا.
    انسان جس قدر بھی جتنا بھی کسی کو ناپسند کرتا ہو یا ہر ایک سے نفرت کا عادی ہو
    پھر بھی فطرتی طورپہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جس کے سامنے محبت میں وہ اپنا سر تسلیم خم کردیتا ہے.
    انسان کی یہ محبت ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کے بعد منتقل ہوتی ہے دوست میں اور یہ ایک نیا رشتہ جڑتا ہے انسان کی زندگی کے ساتھ
    اور اگر دوست مخلص ہو تو سارے رشتے یہاں آکے ماند پڑجاتے ہیں
    انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں اپنی دوست کی رائے کو مقدم رکھتا ہے
    اسے ہی ہمسفر کہتے ہیں
    ہمسفر ماں باپ بہن بھائی دوست یا پھر بیوی میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے
    جسے جدید دور کی تعلیم میں رول ماڈلز بھی کہا جاتا ہے
    یعنی انسان کسی ایک کا تابع ہوجاتا ہے اور پھر اسکے مشورے کے بغیر کوئی قدم بھی نہیں اٹھا سکتا.

    @Dr_Anam_

  • کیونکہ  میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتا !!! تحریر: نوید شیخ

    اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

    ۔ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Family
    کو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

    ۔ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ۔

    ۔ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compile
    کرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

    ۔ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،
    کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

    ۔ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔

  • پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے والےکرکےآئیں تیاری

    پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے والےکرکےآئیں تیاری

    لاہور:پی ایس ایل کیلئے سخت حفاظتی پروٹوکولز جاری:دیکھنے کرکے آئیں تیاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے لیے حفاظتی پروٹوکولز جاری کر دیے ہیں۔

    پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی پروٹوکولز کے مطابق ایونٹ کے پہلے مرحلے میں شریک تمام افراد کی 4 بار پی سی آر ٹیسٹنگ کی جائے گی، 10 فروری سے 27 فروری تک شرکاء کی 7 مرتبہ پی سی آر ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

    پروٹوکولز میں کہا گیا ہے کہ کووڈ ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آنے پر7 دن کے لیے آئسولیشن میں رکھا جائے گا، جس کے بعد ریپڈ ٹیسٹ ہو گا، ریپڈ ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آنے کی صورت میں مذکورہ شخص کو مزید 3 روزکے لیے آئسولیشن میں رہنا پڑے گا۔

    کرکٹ بورڈ کے مطابق کھلاڑی گیند پر تھوک کا استعمال نہیں کر سکتے، تمام کھلاڑیوں کوصرف اپنے سامان استعمال کرنے کی اجازت ہو گی اور صفائی کے عملے کے علاوہ کسی اور کو ہوٹل کے کمرے میں آنے کی دعوت دینا بڑی خلاف ورزی ہو گی، اجازت کے بغیر قرنطینہ کے دوران کمرے سے باہر نکلنا بڑی خلاف ورزی ہو گی اور ببل کے باہر سے کوئی بھی چیز وصول کرنا، علامات سے آگاہ نہ کرنا بڑی خلاف ورزی ہوگی۔

    پی سی بی پروٹوکولز کے مطابق ایسا کوئی قدم اٹھانا جو علامات کو چھپائے یا ٹیسٹ کے نتائج کو تبدیل کر دے بڑی خلاف ورزی ہو گی، کسی ایسے شخص سے ملنا جس میں علامات ہوں یا جس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو وہ بھی بڑی خلاف ورزی ہو گی۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے میڈیا کے لیے بھی ایڈوائزی جاری کی گئی ہے اور این سی او سی کے فیصلے کی روشنی میں پر میڈیا باکس میں داخلہ محدود کیا گیا ہے۔

    پی سی بی کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران صرف 25 فیصد صحافیوں کو میڈیا باکس میں بٹھنے کی اجازت ہو گی، مرکزی بلڈنگ کے میڈیا باکسز میں 25 فیصد صحافی ہوں گے، دیگر صحافیوں کے لیے جاوید میانداد انکلوژر میں میڈیا زون بنایا جا رہا ہے۔

  • پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی

    پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی

    لاہور:پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پرآتے ہی پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی ،اطلاعات کے مطابق پی ایس ایل 7 کے آفیشل ترانے کی پہلی جھلک منظرِ عام پر آگئی

     

     

    اس حوالے سے یہ باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے آفیشل ترانے کا ٹیزر جاری کردیا گیا ہے۔

     

     

    ایونٹ کے 7ویں ایڈیشن کے آفیشل ترانے کی ریکارڈنگ گلوکار عاطف اسلم اور گلوکارہ آئمہ بیگ کی آواز میں کی گئی ہے جس کی پہلی جھلک کچھ دیر قبل ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر جاری کی گئی ہے۔

    پی ایس ایل کا مکمل ترانہ آج 23 جنوری کو ریلیز کیا جائے گا جس کے لیے مداح بے تاب ہیں۔ٹوئٹر پر پی ایس ایل اینتھم اور گلوکار عاطف اسلم کا نام ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہے۔

    سوشل میڈیا صارفین خیال ظاہر کررہے ہیں کہ چونکہ اس بار ترانے میں عاطف اسلم نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے تو یہ پی ایس ایل کے گذشتہ سیزنز کے ترانوں سے زیادہ اچھا ہوگا۔

     

     

     

     

    ادھر انڈر 19 ورلڈ کپ کے گروپ میچز مکمل ہوگئے، پاکستان نے آخری راؤنڈ میچ میں پاپوا نیو گنی کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    ویسٹ انڈیز کے شہر پورٹ آف سپین میں کھیلےگئے میچ میں پاپوا نیو گنی کے بیٹرز پاکستان کے بولرز کے سامنے بے بس دکھائی دیئے، پوری ٹیم پچاس رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔

    پاکستان کی جانب سے محمد شہزاد نے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جواب میں پاکستان انڈر 19 نے اکاون رنز کا ہدف بارہویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا، شاندار کارکردگی پر محمد شہزاد مین آف دی میچ قرار دیے گئے۔