Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دوسرا ٹی ٹونٹی: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کافیصلہ

    دوسرا ٹی ٹونٹی: پاکستان کا ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کافیصلہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے جارہے میں بابراعظم نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، آج بہتر کھِیل کا مظاہرہ کریں گے۔

    پاکستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ ویسٹ انڈیز نے ایک تبدیلی کردی ہے.

     

     

    گزشتہ روز کھیلے گئے پہلے ٹی 20 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو 63 رنز سے باآسانی شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے آج بھی میدان میں اترتے ہی ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم ایک سال میں سب سے زیادہ ٹی 20 میچز کھیلنے والی ٹیم بن گئی۔

    کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں آج پاکستان ٹیم اس سال کا 28 واں ٹی 20 انٹرنیشل میچ کھیل رہی ہے۔بنگلادیش نے بھی اس سال 27 ٹی 20 انٹرنیشنلز کھیلے ہیں۔ پاکستان ٹیم کا اس سال 18 ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنا بھی ایک ریکارڈ ہے جو اس نے گزشتہ روز ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر بنایا تھا۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پاکستان: بابر اعظم (کپتان)، محمد رضوان، فخر زمان، حیدر علی، افتخار احمد، آصف علی، شاداب خان، محمد نواز، محمد وسیم، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی

    ویسٹ انڈیز: نیکولس پوران (کپتان)، برینڈن کنگ، شے ہوپ، شمرابروکس، رومین پاول، اوڈیئن اسمتھ، ڈومینیک ڈریکس، ہیڈن واش، روماریو شیفرڈ، اکیل حسین، اوشانے تھامس

  • پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    پاکستان دیکھتا رہ گیا،”تبدیلی” سعودی عرب میں آ گئی، تحریر:عفیفہ راؤ

    گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔

    وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔
    معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

    ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔

    محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔
    اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔

  • بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری   کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    سرینگر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:،اطلاعات کے مطابق کشمیرعوام کی نمائندہ اور ترجمان تحریک آزادی کشمیر کی روح روں‌ جماعت حریت کانفرنس نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم افواج کی طرف سے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہےاور دوسری طرف عالمی برادری کو پرواہ تک نہیں ، حریت کانفرنس کا کہنا ہےکہ اگریہ بے حسی رہی تو پریہ یقینی نظرآرہا ہے کہ بہت جلد جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم ہوگا پھرکوئی بھی بچ نہیں سکے گا ،

    اس حوالے سے مزید حریت کانفرنس قیادت کا کہنا تھا کہ اپنا ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت مانگنے پرآزادی پسند کشمیری عوام کے خلاف سفاک بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری وحشیانہ فوجی کارروائیاں کسی بڑے تصادم کے طرف جارہےہیں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے توپھراس کا خاتمہ بھی اسی زورسے ہوتا ہے ، ۔ کشمیریوں کو ان کے اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ نے فراہم کر رکھی ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے جاری کشمیریوں کے قتل عام نے پورے جنوبی ایشیا کو جوہری تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شوپیان اور سرینگر کے علاقوں لاوے پورہ، بمنہ، حیدر پورہ، رام باغ اور رنگریٹ میں کشمیریوںکے حالیہ دن دیہاڑے دوران حراست قتل سے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی منظم ریاستی دہشت گردی کاپتہ چلتا ہے ۔

    حریت ترجمان نے تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کے گھنائونے جنگی جرائم کے باوجود نڈر کشمیری عوام کبھی بھی بھارتی فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی جدوجہد آزادی بھارت کی اجازت سے نہیں شروع کی ہے اور نہ ہی ہم نے اس سے کسی رعایت کی درخواست کی ہے ۔

    حریت ترجمان نے شہدائے کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنااہم کردار ادا کریں ۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع پونچھ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے پیرا ملٹری اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کے ہمراہ ضلع میں سرنکوٹ کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں شروع کیں۔ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوزیں بھی سنی گئی ہیں۔

    ادھر بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے زیون پنتھہ چوک میں ایک نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا ۔

  • میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی نے امریکا اور کینیڈا کے صارفین کے لیے تھری ڈی ورچول ’ہورائزن ورلڈ‘ نامی ایپ جاری کردی ہے۔

    ہورائزن ورلڈ نامی وی آر سوشل گیم ایپ کو ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے18 سال سے زائد عمر کے افراد کوئیسٹ ایپ کی بدولت اس مجازی دنیا میں شامل ہوسکتےہیں یہ ایک مہنگا پلیٹ فارم ہے کیونکہ اس کے لیے آنکھوں پر پہنا جانے والا ہیڈسیٹ درکارہوگا تاہم ایپ کو استعمال کرنے کے لیے میٹا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ہورائزن ورلڈز کو بی ٹا ایپ کے طور پر 2019 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد ہزاروں بی ٹا آزمائش کرنے والوں نے اس کی خامیاں دور کیں اور اسے ٹیسٹ کیا گیا۔ پھر مجازی ماحول کے اندر کئی اہم منظرنامے بنائے گئے جو اب ہورائزن میں دیکھے جاسکتے ہیں اویسس وی آر اور آکیولس ہیڈ سیٹ مشہور ہیں یہاں آپ ایک وقت میں 20 افراد سے رابطہ کرسکتے ہیں جن کے نمائندہ تھری ڈی ہیولے یا اوتار آپ کے سامنے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہورائزن میں آپ اپنی دنیا خود بناسکتے ہیں اور لوگوں کو یہاں مدعو کرسکتے ہیں اس طرح یہ مستقبل کا ایسا فیس بک ہوگا جس میں آپ دوستوں سے بہت ہی حقیقی انداز میں گفتگو اور رابطہ کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    ہورائزن ورلڈز میں آپ اپنے کوڈ بھی لکھ سکتے ہیں ان سادہ کوڈز کو لکھنا عین اسی طرح آسان ہے جس طرح فوٹوشاپ میں آپ لیئرزپرکام کرتے ہیں اور آپس میں ان کو جوڑکر ایک نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ یوں مختلف اشیا سے خاص کیفیات اور سرگرمیوں کا اظہار بہت ضروری ہےہورائزن ورلڈز کوڈ کے لاتعداد اسکرپٹ بلاکس لکھ کر انہیں ایک مفت لائبریری میں رکھنے کا اعلان کیا ہےاسے وی آر کے ماحول میں اور اسی ماحول کےلیے تیار کیا گیا ہے اگلے مرحلے میں اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ مہنگے ہیڈسیٹ نہ خریدنے والے بھی ہورائزن استعمال کرسکیں۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    لیکن اختلافات، تنازعات اور جنسی سطح پر ہراساں کرنے کا عمل چونکہ انٹرنیٹ پر عام ہے عین اسی طرح تھری ڈی ماحول میں بھی یہ ہوتا رہے گا ایک خاتون ٹیسٹر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بی ٹا ٹیسٹنگ میں انہیں اس طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اس پر میٹا نے کہا ہے کہ وہ ہورائزن کے لیے پہلے ہی کئی ایک حفاظتی تدابیر پر کام کررہے ہیں۔ لیکن عجیب خبر یہ ہے کہ ہورائزن پر لوگ پیسے نہیں بناسکیں گے خواہ وہ تخلیق کار ہوں، فنکار ہوں، یا محض شریک ہی کیوں نہ ہوں۔

    واضح رہے فیس بک نے رای براڈنگ کے منصوبے کے تحت کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا رکھ لیا ہے۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    ایک منظم زندگی کے لیے روزانہ کا معمول.تحریر :ام سلمیٰ

    جس تیزی سے وقت گزر رہا دن با دن ھماری معمولات بھی خراب ہوتی جہ رہی ہیں بلکہ اب شاید والدین کے پاس بھی وقت نہں رہا کے بچوں کو ضروری معمولات کی تربیت دیں بچے اسکول چلے جاتے ہیں ان کی اسکول کی تعلیم ہو رہی ہے یہ بھی کافی لگتا لیکن ان زندگی کی تیزیوں میں ہمیں اپنے سکون کو اپنی زندگی کو منتظم بنانے پر بلکل بھی توجہ نہں دے رہے اگر آپ اپنی زندگی کے معمولات کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے تو آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کے کب اور کیا اہم ہے آپ کے لیے اگر وہ وقت کے ساتھ آپ اپناتے جائیں گے تو زندگی آسان ہوتی جائے گی اور آپ دماغی طور پر سکون میں آجائیں گے.تو سب سے پہلے اٹھے ہی آپ اپنی روٹین کی چیزوں کو ٹھیک کریں صبح کے آغاز پر کیا کرنا ضروری ہے تفصیل سے جانیں.

    اپنا بستر بنائیں۔
    اپنا بستر بنا کر دن کی تیاری کریں۔

    یہ ایک فوری کام ہے جو آپ کو ایک پیداواری ، منظم فریم میں ڈالے گا۔

    اگر آپ طالب علم ہیں یہ ملازمت پیشہ ہیں تو یہ اہم ہے کے آپ اپنے سامان اور کپڑے رات کو تیار کر کے رکھو.
    اگر آپ ورزش کرنا پسند کرتے ہیں تو ، صبح کرنے کا بہترین وقت ہے! یہ آپ کو توانائی سے بھرپور محسوس کرے گا اور گھر سے نکلنے سے پہلے آپ کو کامیابی کا احساس دلائے گا۔ چاہے آپ چہل قدمی کرنا پسند کریں ، جم کلاس لیں ، یا اپنے بیڈروم میں یوگا کریں ۔

    ہر چیز کو واپس رکھو جہاں سے آپ نے اٹھایا ہے.
    جب آپ اپنا ناشتہ بنا لیتے ہیں تو ، ہر چیز کو بالکل وہی جگہ رکھ دیں جہاں آپ نے انکو پہلے سے ترتیب سے رکھا ہے، کیونکہ اس سے صبح کے بعد ہر چیز آسان ہو جاتی ہے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کے کوئی چیز ان میں۔ ختم ہو رہی تو اس کو نوٹ بوک میں لکھ لیں تاکہ جب بھی بازار جانا ہو تو اس کی خریداری کر لی جائے ، اس فہرست میں شامل کریں جسے آپ اگلی بار گروسری سٹور سے گزرتے وقت اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

    ضروری اشیاء کی فہرست بنایا کریں.
    گھر سے نکلنے سے پہلے ، اپنی ضروری اشیاء کی فہرست ساتھ لے لیں، جیسے آپ کا پرس ، ملازمت کا کارڈ یہ اسکول یہ یونیورسٹی کا ، پانی کی بوتل ، وغیرہ۔ ان اشیاء کی ایک فہرست اپنے سامنے والے دروازے کے قریب رکھیں تاکہ آپ اپنے روزمرہ کے معمول کے حصے کے طور پر دروازے سے باہر جانے سے پہلے اپنا پرس یا بیگ جلدی سے چیک کر سکیں۔

    اپنے کاموں کو ترجیح دیں۔
    کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور فیصلہ کریں کہ کیا وہ اہم ، فوری ، دونوں ہیں یا نہیں۔ فوری اور اہم کاموں سے شروع کریں ، اہم اور غیر ضروری کاموں کی طرف بڑھیں ، پھر غیر اہم لیکن فوری کاموں کو سب سے پہلے کر کے ختم کریں.

    اس کے لیے آپ لائف پلانر کا استعمال کرسکتے ہیں تاکہ آپ اپنے دن کو بہتر طریقے سے ترتیب دے سکیں۔ آج کے ضروری کام لسٹ میں لکھنا ہمیشہ آپ کے لیے آسانی کا سبب بنتا ہے اور آپ کو ہر چیز کنٹرول کا احساس دلاتا ہے۔

    اپنے ای میلز کو ترجیح دیں۔
    اپنا دن شروع کرنے سے پہلے جب آپ اپنے کام پے نکلنے لگے ہیں اپنے ای میلز کو ترجیح دیتے ہوئے 10 منٹ گزاریں۔ یہ فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں کہ کونسی چیزوں کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے ، کون سی اہم ہیں ، کون سی ہیں اور کون سی نہیں۔

    اپنے ای میلز فون سوشل میڈیا کو ہر چند منٹ کے بجائے ہر دو گھنٹے چیک کریں کیونکہ بار بار رکاوٹیں آپ کی دن کی ہر کام میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    اپنے مالی معاملات کو چیک کرتے رہیں
    اپنے مالی معاملات کو روزانہ کے معمول کے حصے کے طور پر چیک رکھنے کے لیے چند منٹ نکالیں۔ اپنا بینک بیلنس چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ آپ اپنے بجٹ پر قائم ہیں۔

    رات کے کا منصوبہ بنائیں
    کیا آپ کو گھر جاتے ہوئے گروسری اسٹور سے کچھ لینے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کو کوئی نسخہ دیکھنے کی ضرورت ہے؟ اس میں صرف چند منٹ لگتے ہیں ، لیکن تھوڑی سی منصوبہ بندی بعد میں بہت وقت بچا سکتی ہے۔

    دن کے آخر میں اپنا ڈیسک صاف کریں۔
    اپنے وقفے کے لیے جانے سے پہلے اپنے کام کی میز کو صاف کرنے کے لیے پانچ منٹ نکالیں۔ دوسرے دن صبح جب آپ واپس آئیں گے تو آپ کو زیادہ منظم محسوس کرنے میں مدد ملے گی۔

    ڈنر کے فورا بعد اپنا کچن صاف کریں
    بصورت دیگر ، آپ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھنے اور مشغول ہونے کا لالچ ہوسکتا ہے۔

    سونے سے پہلے اگر آپ کے دماغ میں کوئی کام ہے تو نوٹ کریں تاکہ آپکو یاد رہے.اگلے دن آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب آپ نے انہیں لکھ دیا ہے ، آپ یہ جان کر سو سکتے ہیں کہ جب آپ جاگتے ہیں تو آپ فہرست کا حوالہ دے سکتے ہیں۔

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن بہت اہم اگر ہم اپنی زندگی کو منتظم بنانے کے لیے انکو اپنا لیں تو یہ باتیں ہماری زندگی کو پرسکون کر سکتی ہیں اور ہماری زندگی سے گھر اہم چیزوں کو ختم کرتے ہوئے سکون سے نیند لینے میں مدد کر سکتی ہیں.
    Twitter handle
    @umesalma_

  • ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ

    ”تبدیلی“ کی اب ہونی ہے تبدیلی، تحریر: نوید شیخ
    فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو غلامی کا ایسا پھندہ لگ گیا ہے کہ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈالر اس ماہ کے آخر تک200تک پہنچ جائے گا اور اگلے بجٹ تک 220روپے تک کا ہوجائے گا ۔ پھر آئی ایم ایف کی شرائط پر جو منی بجٹ نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس سے 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ وجائے گا ۔ ۔ مگر وزیراعظم روز کسی نہ کسی بہانے ٹی وی پر آکر ایک ہی راگ الپاتے ہیں کہ ۔ پاکستان سستا ترین ملک ہے ۔۔ پاکستان جلد ہی خطے کا بڑا اور لیڈر ملک بن کر ابھرے گا۔ صرف سردیاں مشکل ہیں، گرمیاں آتے ہی مہنگائی اور مشکلات کم ہو جائیں گی۔ وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے انہیں آج بھی اس امر کا یقین ہے لوگ ان کی باتیں امید بھرے انداز میں سنتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ۔ کپتان کی ایسی ہر بات کے فوری بعد عوام پر مہنگائی کا کوئی نیا بم گرا دیا جاتا ہے اور ان کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

    ۔ میانوالی میں جلسے میں بھی یہ ہی گھسی پیٹی باتیں کی گئیں ۔ ۔ پر اب جو عوام ہے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے میانوالی میں بھی کپتان کی تقریر کے دوران پنڈال میں موجود ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ یہ سب ” جھوٹی باتیں ہیں“۔۔ اس نوجوان کاکہنا تھاکہ چاچا عمران آپ نے مہنگائی بہت کردی، ہم بھوکے مرگئے ہیں، مہنگائی کم کرو، مہنگائی کم کرے۔ ۔ اچھا یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ مستقبل قریب کے چند واقعات آپکو سنا دیتا ہوں ۔۔ پشاور میں جلسے کے دوران بھی ایک شخص ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ ۔ اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کے ایونٹ کے دوران ایک نواجوان مائیک پکڑ کر تحریک انصاف کوآئینہ دیکھا چکا ہے ۔ ۔ پھر حالیہ کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے دوران بھی علی امین گنڈاپور کے سامنے لوگ ڈٹ گئے تھے ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے باربار وعدوں کے باوجود حالات تشویشناک حد کو پہنچ چکے ہیں مگر حکومت کے معاشی ارسطو جلد بہتری کی اب بھی نوید سنا رہے ہیں۔ ۔ اسی جانب آج پی ٹی آئی کے اہم اتحادی ق لیگ کے پرویز الہی نے دوبارہ اشارہ کیا ہے کہ حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔

    ۔ دراصل عمران خان سب جانتے ہوئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں تا کہ عوامی توجہ ان کی کارکردگی پر مرکوز نہ ہونے پائے اور لوگ ان کے بیانات کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں ۔ ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زیادہ تر اقتدار میں موجود لوگ خود بھی گلے گلے تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہر اس شخص کی سرپرستی کرتے ہیں جو کرپشن کیلئے تیار ہو۔ بڑے بڑے سکینڈلوں میں ملوث منفی شہرت کے حامل کو بلا بلا کر جس طرح بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا ہے موجودہ نظام کی کریڈبیلٹی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔۔ پھر موجودہ حکومت کو اپوزیشن سے بھی ایک اور بڑا خطرہ فارن فنڈنگ کیس ہے اِس حوالے سے DG Law کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہے جس میں پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ کیس میں بری الزمہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ملوث ہونے کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ ۔ جمعرات کو ان کیمرہ اجلاس بھی ہو چکا ہے ۔ یہ رپورٹ ایسی تلوار ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے لیے تباہ کُن ثابت ہو سکتی ہے ۔۔ کیونکہ اس میں پی ٹی آئی کو بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ بارے بھی الزامات کا سامنا ہے ۔ ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان اِس رپورٹ کی روشنی میں نہ صرف نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے بھی کالعدم ہو نے کا امکان رَد نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ کیس کا سامنا کرنے کے بجائے تحریکِ انصاف راہ ِ فرار اختیار کرنے جیسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔ پھر وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو پچاس ہزار جرمانہ ہوا ہے مگرحکمران کچھ دیکھنے یا سننے کے بجائے انتخابات میں دھاندلیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ تو الیکشن کمیشن نے سپیکر اسد قیصر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا ہے۔۔ دراصل اسپیکر اسد قیصر کی ایک آڈیو زیر گردش ہے، جس میں وہ ووٹرز کو ترقیاتی منصوبے دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ۔ اب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اسد قیصر کو 13
    دسمبر کو ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا ہے ۔

    ۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ اپوزیشن نہ اتنی جوگی ہے اور اوپر سے آپسی اختلافات کا شکار بھی ہے ۔ ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔ تو کہیں ۔۔۔ چن ۔۔۔ الیکشن کمیشن نہ ۔۔۔ چاڑھ ۔۔۔ دے ۔ اور بازی مار لے ۔ ۔ کیونکہ آپ دیکھیں میاں صاحب کے حوالے سے خبریں گردش میں ہیں ۔ کہ نواز شریف تو پہلے ہی ٹکا سا جواب دے چکے ہیں کہ شوق پورے کریں ۔ عمران خان چاہے پانچ سال مکمل کروائیں یا اگلے پانچ سال مزید دے دیں ۔ لاڈلے سے جتنا بیڑہ غرق کروانا ہے کروالیں ۔ انکا موقف وہ ہی ہے ۔ کہ صرف صاف شفاف اور پولیٹکل انجئرینگ کے بغیر الیکشن ہون گے تو ہم سوچیں گے ۔ کیونکہ نواز شریف عمران خان کو کچھ نہیں سمجھتے ان کی نظر میں کپتان ایک پیادہ ہے اصل پھڈا تو کپتان کو لانے والوں سے ہے ۔ ۔ اب ایاز صادق کے بارے جیسے میں نے بتایا تھا کہ وہ ایک تجویز لے کر لندن پہنچے ہوئے ہیں ۔ آج یا کل میں ان کا quartine ختم ہونے والا ہے اور پھر نواز شریف سے ملاقات ہوگی ۔ تو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر قائم رہتے ہیں یا پھر کوئی ڈیل مار لیتے ہیں ۔ فی الحال عوام کے لیے اس حکومت کا ایک ایک دن کرب کا گزر رہا ہے ۔ ۔ کیونکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ خدانخواستہ عمران خان اگر اگلے پانچ برس بھی اقتدار میں آگئے تو دن عوام کے نہیں پھریں گے انہیں مسلسل آئی ایم ایف کی سختیاں جھیلنا پڑیں گی کیونکہ انہوں نے اس کی شرائط کے آگے سر اوپر نہیں اٹھانا ۔ لہٰذا عوام چاہتی ہے کہ نیا سیاسی منظر بنے ۔ نئے چہرے جو قرضوں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں وہ آگے آئیں ۔ ۔ پھر یاد رکھیں ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو۔ عالمی سطح پرعزت بھی ہو۔ ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ ۔ اس لیے باقی سب کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا ہو گا کہ ملک کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر مان لیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کچھ غلطیاں بھی کی ہیں تو اب ان کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔

    ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اعداد وشمار جھوٹ نہیں بولتے ۔ آپ دیکھیں کرپشن سے پاک عمران حکومت کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 180 ملکوں میں 120 سے
    124ویں نمبر پر گرگیا ہے یعنی کرپشن میں مزید چار درجے اضافہ ہوا ہے۔ کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑنے اور چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا کڑا احتساب کرنے کے ایجنڈے پہ قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں 85.9فیصد عوام نے عمران حکومت کے احتساب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ ان کی حکومت میں کرپشن اور بڑھ گئی ہے۔۔ آپ پولیس کو دیکھ لیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو دیکھیں، پاکستان ریلویز سمیت کسی بھی جگہ چلے جائیں کرپشن عام ہے۔ حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی عام آدمی کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ پر وزیراعظم اور وزراء پچھلے ساڑھے تین برسوں سے دلاسے پہ دلاسہ دیئے جا رہے ہیں، جیسے جلد ہی خوشحالی کے جھکڑ چلنے لگیں گے حالانکہ ابھی تو بربادی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کاش چند روز پہلے جیسے حکومت گرین لائن منصوبے کا کریڈٹ لے رہی تھی اس ملک کی تباہی کا بھی کریڈیٹ لے تو اس کے گناہوں کو کفارہ ہو جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولا ۔ یہ چیلنج تو اپوزیشن نے بھی کر دیا ہے کہ لنگر خانوں کے سوا عمران خان ایک منصوبہ دکھادیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کی ناکام ترین تبدیلی حکومت محض ٹائم پاس کر رہی ہے۔ جو جتنی مرضی تنقید کرے مگر تحریک عدم اعتماد اور قبل از وقت انتخابات آئینی اور جمہوری راستہ ہے اور ملک درپیش تمام مسائل کا واحد حل نئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہیں۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو level playing field ملے اور جسے عوام منتخب کریں اسے حکومت بنانے دی جائے۔ کیونکہ یاد رکھیں ”تبدیلی“ کی تبدیلی اگر اب نہ ہوئی تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔

  • اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان
    کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ خود اس راستے پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جو زندگی کا اختتام ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےرشتوں کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں کہ بالآخر ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ کمرے میں ناگوار بو ہر بات کا آغاز کھانسی سے اور بات مکمل بھی نہیںکہ پھر کھانسی کا دورہ اور تمباکونوشی ایسی بلا ہے جو آپ اور آپ کے ساتھ اردگردر رہنے والوں کو جان لیوا مرض میں مبتلاکر جاتی ہے۔مگر ہم کب سوچتے ہیں؟

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سگریٹ نوشی یا تمباکونوشی ایک تشویش ناک عادت ہے جو عصر حاضر میں خواتین و حضرات کیلئے ہےشمار صحت اور معاشی مسائل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عادت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چھ ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ،سگریٹ نوش عام طور پر تیس یا چالیس سال کی عمر میں تمباکو کے زہریلے اثرات کا شکار ہوکر دل کے امراض میں مستقل طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی میں 20 فیصد امراض دل کے ہوتے ہیں اور سالانہ120,000 افراد تمباکونشی کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ تمباکو میں نیکوٹین ( Nicotine ) جیسا زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلر ( Blood vessels ) کو بری طرح متاثرکرتا ہے ،نیکوٹین سے کئی دیگر اعصابی امراض بھی جنم لیتے ہیں کیوند نیکوٹین اور دھوئیں سے (Internal Nervous system ) بری طرح متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہوکررہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنا بہتر طریقے سے کام سرانجام نہیں دے سکتے اور مجموعی طورصحت خراب ہوجاتی ہے۔ تمبا کوکا دھواں ک(Cardiovascular Diseases ) کا باعث بنتا ہے اور ہارمونز کے نظام کو بھی متاثر کر کے (Oestrogen ) کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ کینسر ایک مہلک ترین مرض ہے اور ہر سال تقریبا 48 فیصد لوگ سگریٹ کے دھوئیں سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کینسر میں گئے، منہ ، زبان اور خوراک کی نالی کے کینسرسرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں سانس کی نالی اور پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جس سے سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ امراض بڑھتے بڑھتے بالآخر پھیپھڑوں کا کینسر بن جاتے ہیں۔

    پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے باعث دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن میں فلو نزلہ، زکام، کھانسی اور ( Pneumonia ) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی اس عادت سے بانجھ پن اور دیگر زنانہ امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عورتوں میں 30 فیصد جنسی امراض دھوئیں اور نیکوٹین کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہی مضر اثرات زیادہ شدید صورت اختیار کر جاتے ہیں مثلا نومولود بچے اور زچہ دونوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنسی امراض میں سگریٹ نوشی مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے جنسی خواہش میں کمی اور بانجھ پن یعنی جرثومے متاثر ہوتے ہیں ۔ اعصابی تناؤ ،ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان امراض سے نوجوان طبقہ خاص طور پر متاثر ہورہا ہے۔ عام طور پر اس کا سبب بے روزگاری اور غربت بھی ہے جس سے لوگ پریشان ہو کر مزید تین عادات میں مبتلا ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پیٹ کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں سینے کی جلن، تیزابیت اور بھی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں عام طور پر سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کم عمر پاتے ہیں اور مجموعی صحت کے مسائل میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔سماجی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے ایک کثیر دولت دھوئیں کی نظر ہو جاتی ہے۔

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے۔ کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑاسکتا ہے بہر حال درج ذیل میں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔ اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا ہے۔ پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہو اٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دیں۔ زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بارتو ضرور یہ کام سرانجام دیا جائے اس سے بہت حد تک آ پکو سکون محسوں ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دوہرانے کو بھی جی چاہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آپکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہستہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جائے گا اور دوسرا جسم سے نیکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔ بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چھڑوانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یہی نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجائے سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چائے کا پئیں جس سے ہاضمہ بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیرہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیرہ سے دوبارہ سگریٹ پینے کو بھی جی نہ چاہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج آپکی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جائے گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں البتہ وہ بھی مزید حوصلہ افزائی سے مددکریں گے۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریہ ادویات بھی کیا جاتا ہے جہاں وہ نیکوٹین کے متبادل ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن وہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں ۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں

  • کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    پاکستانی عوام چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے اور پاکستان کے طالب علم بھی چھٹیوں سے بہت خوش ہوتے ہیں
    بلکہ حکومت نے ہر مسئلے کا ہل چھٹیاں ہی بنا لیا ہے پچھلے دو سال سے وبائی مرض کرونا نے اتنی تباہی نہ مچائی ہو گی جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے مچائی گئی ہے
    کرونا نے محض چند ہزار لوگوں کو پاکستان میں متاثر کیا ہو گا لیکن کرونا کی وجہ سے بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علم جو کہ کرونا کی وجہ سے تعلیم اور تربیت سے محروم ہو گئے ہیں
    گیارہ سو نمبر والے بہت سے بچے این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے بہت سے خوش نصیب طالب علم آگے کی بہت سی قابلیت سے محروم رہ گئے ہیں اصل میں جن بچوں نے گیارہ سو نمبر حاصل تو کر لئے لیکن سائنس پریکٹیکل ورک اور تعلیمی قابلیت سے محروم ہوگئے ہیں

    اب یہ بچے نہ تو دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ان بچوں نے جو سیکھنا تھا وہ نہیں سیکھ سکے اب یہ آگے ان چیزوں کو کیسے سیکھیں گے جن کی بنیاد ان بچوں نے پچھلی کلاسز میں چھوڑ دی ہے؟
    ابھی لوگ کرونا کے خیالات سے نمٹے نہیں ہیں کہ اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے جسے سموگ کہتے ہیں
    سموگ کا علاج ڈھونڈنے کی بجائے اس کا علاج صرف چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا ہے اور اب سموگ کا علاج ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے

    لاہور جو اس وقت آلودگی میں ایشیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں سموگ اور آلودگی سے بچنے کے لیے ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے اس کا حل سمجھ لیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے

    یہ چھٹیاں پچھلے پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے اسکولوں اور کالجز و یونیورسٹیز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکی گئیں
    اصل میں سموگ ٹرانسپورٹ اور بھٹہ خشت کی وجہ سے بنتی ہے اور بھٹہ خشت کے سسٹم سے اتنی زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے جس کا آپ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے
    حکومت نے بھٹہ خشت کے لیے زگ زیگ کا سسٹم متعارف کروایا جو کہ عام آدمی کے لیے لگانا بہت مشکل ہے اسی سسٹم کو پاکستانیوں نے نئے انداز میں لگاتے ہوئے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جسے ہر بندے نے اپنے بھٹہ خشت پر لگا لیا ہے جس سے دھواں تو سفید بظاہر بے ضرر نکل رہا ہے لیکن صرف نام کا بے ضرر نکل رہا ہے
    سموگ اور آلودگی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھی بس فرق صرف اتنا ہے پہلے رنگ کالا تھا اب رنگ سفید ہو گیا ہے اور اسی طرح ہماری پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا حال ہے ہر گاڑی پر ناکارہ انجن استعمال کر رہے ہیں اور ناکارہ انجن والی گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں
    بجائے اس کے ٹرانسپورٹ اور بھٹ خشت کے سسٹم کو دیکھا جائے ہماری حکومت نے اس کا علاج صرف چھٹیوں کو ہی بنا لیا ہے
    حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کے لیے کون سے عوامل اور کون سی مہم چلائی؟
    دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہے ؟
    نیز دو نمبری سے چلنے والے کتنے بھٹے بند کیے ہیں؟
    ہمارا مستقبل خطرے میں ہے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں خدارا ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ چھٹیاں نہ کریں بلکہ اس کا کوئی اور حل سوچیں اور پاکستان کے طالب علموں کا اور بیڑا غرق نہ کریں بلکہ پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے میں مدد کریں نہ کہ ایک بغیر تعلیم کے ملک، کیوں کہ جو حالات ہیں اس میں پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں آنے والے وقت میں سب آفیسر اور انجینئر بغیر تعلیم کے ہوں گے اگر یہی حال پاکستانی حکومت کا رہا تو
    خدارا کچھ سوچئے چھٹیاں نہیں تدابیر کیجئے

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    محمد بن سلمان کا دورہ قطر، تحریر:عفیفہ راؤ

    ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔
    لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔
    سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے