Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

  • مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    کیلیفورنیا: مائیکروسافٹ نے کینڈی کرش سمیت کئی مشہور گیمز بنانے والی کمپنی ’ایکٹیویژن بلیزارڈ‘ 68.7 ارب ڈالر (12,157 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم میں خرید لی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مائیکروسافٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی گئی جس میں مائیکروسافٹ ایکس باکس اور ایکٹیویژن بلیزارڈ کے لوگوز ایک ساتھ دکھائے گئے ہیں متعلقہ پریس ریلیز میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی جانب سے یہ ارادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کو خرید لے گی۔


    البتہ گیمنگ کی جدید دنیا سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان خریداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا گیا ہے ورنہ اس میں اتنے واضح طور پر رقم کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    اس خریداری کے ساتھ ہی نہ صرف ایکٹیویژن بلیزارڈ کے گیمز سیمت تمام مصنوعات اور اثاثہ جات مائیکروسافٹ کی ملکیت ہوجائیں گے بلکہ مائیکروسافٹ کو ایکس باکس اور روایتی آن لائن گیمنگ سے آگے بڑھ کر موبائل گیمنگ کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    مائیکروسافٹ کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی مہارت استعمال کرتے ہوئے، آنے والے برسوں میں ’میٹاورس‘ کےلیے بھی نئے گیمز تیار کیے جائیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ Tencent اور Sony کے پیچھے، آمدنی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی گیمنگ کمپنی بن جائے گی۔ منصوبہ بند حصول میں میجر لیگ گیمنگ کے ذریعے عالمی ای اسپورٹس سرگرمیوں کے علاوہ ایکٹیویژن، بلیزارڈ اور کنگ اسٹوڈیوز جیسے "وار کرافٹ،” "ڈیابلو،” "اوور واچ،” "کال آف ڈیوٹی” اور "کینڈی کرش” کی مشہور فرنچائزز شامل ہیں۔ کمپنی کے تقریباً 10,000 ملازمین کے ساتھ دنیا بھر میں اسٹوڈیوز ہیں۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور سی ای او ستیہ ناڈیلا نے کہا کہ”آج تمام پلیٹ فارمز پر گیمنگ تفریح ​​کا سب سے متحرک اور دلچسپ زمرہ ہے اور میٹاورس پلیٹ فارمز کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔” "ہم گیمنگ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے عالمی معیار کے مواد، کمیونٹی اور کلاؤڈ میں گہری سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو کھلاڑیوں اور تخلیق کاروں کو پہلے رکھتا ہے اور گیمنگ کو محفوظ، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔”

    مائیکروسافٹ گیمنگ کے سی ای او فل اسپینسر نے کہا، "ہر جگہ کھلاڑی ایکٹیویژن بلیزارڈ گیمز کو پسند کرتے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ تخلیقی ٹیموں کے سامنے ان کا بہترین کام ہے۔” "ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنائیں گے جہاں لوگ اپنی مرضی کے کھیل کھیل سکیں، عملی طور پر کہیں بھی وہ چاہیں۔”

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    واضح رہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی ذیلی کمپنی ’کنگ اسٹوڈیو‘ کا تیار کردہ ’کینڈی کرش‘ اب تک تقریباً تین ارب سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین گیمز میں شمار ہوتا ہے جسے اسمارٹ فون کے علاوہ فیس بُک میں بھی براہِ راست کھیلا جاسکتا ہے۔

  • بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 29 بچوں کو جنم دینے والے مادہ چیتے کی موت کے بعد اُس کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات ادا کی گئیں-

    باغی ٹی وی : مادہ چیتے کی آخری رسومات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بھارت میں اس مادہ چیتے کو ’سپر موم‘ کا لقب دیا گیا، جس سے محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین اور بھارتی شہری بہت زیادہ پیار کرتے تھے اس مادہ چیتے کو مرکزی علاقے میں قائم پینچ ٹائیگر سینٹر میں رکھا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز 16 برس کی عمر میں ضعیفی کے باعث انتقال کر گئی۔

    79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی


    محکمہ جنگلی حیات کے نمائندے اشوک نے بتایا کہ سپرموم نے اپنی زندگی میں تقریباً 29 بچوں کو جنم دیا جن میں سے 25 کی افزائش ہوئی اور اب وہ جنگلوں میں ہیں مادہ چیتے کے مرنے کی خبر پر شہری افسردہ ہوئے اور انہوں نے انتظامیہ سے اس کی آخری رسومات ہندو مذہب کے تحت ادا کرنے کی سفارش بھی کی جس کو تسلیم کیا گیا۔


    سپر موم کو انسانوں کی طرح ایک تختے پر رکھ کر جنگل منتقل کیا گیا، جہاں لکڑیوں کو آگ لگا کر اُس کے جسم کو جلایا کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سپر موم کو الوداع کہنے اور آخری رسومات کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔

    لداخ میں چین پل بنا رہا ،مودی افتتاح کرنے نہ پہنچ جائے، راہول

    دوسری جانب حال ہی میں حال ہی میں بھارت کے ایک گاؤں میں تقریباً 500 لوگوں نے 100 سالہ مگر مچھ کی آخری رسومات ادا کی تھیں یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمترا ضلع کے ایک گاؤں باواموہترا میں پیش آیا، جہاں لوگ کمیونٹی تالاب کے قریب جمع ہوئے اور یہ دیکھ کر رونے لگے کہ مگرمچھ مر گیا ہے۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق گنگارام کے نام سے مشہور، تین میٹر لمبے رینگنے والے جانور کی عمر تقریباً 130 سال تھی اور اسے آخری رسومات ادا کرنے کے بعد گاؤں میں دفن کر دیا گیا مگرمچھ کا پوسٹ مارٹم تمام گاؤں والوں کے سامنے کیا گیا۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک


    مگرمچھ کی موت قدرتی وجوہات سے ہوئی اور اسے پھولوں اور ہاروں سے سجا کر ٹریکٹر پر اس کی آخری رسومات میں لے جایا گیا گاؤں کے ایک ذریعے نے مگر مچھ کے دوستانہ رویے کی تعریف کی اور کہا، "یہاں تک کہ گاؤں کے بچے بھی اس کے ارد گرد تیر سکتے تھے اور گنگارام نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی اس پر حملہ کیا ہے۔ اس گاؤں میں پوجا کی جاتی تھی۔”

    گاؤں کے لوگ اب تالاب کے قریب گنگارام کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے دوست کو یاد کر سکیں، جس نے گاؤں کو نیا نام "مگرمچھ والا گاوں” دیا تھا۔

    دوسری شادی کی خواہش، بیوی نے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں

  • کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    کھلاڑی کپتان کو بچا پائیں گے؟ تحریر: نوید شیخ

    جیسے گزشتہ سات سالوں سے پی ٹی آئی کے پاس فارن فنڈنگ کیس میں جواب نہیں تھا آج بھی نہیں تھا ۔ جیسے یہ پہلے اسٹے آڈر کے پیچھے چھپا کرتےتھے آج بھی یہ ہی موقف تھا کہ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے ۔ کہ کہیں ہمارے کرتوت عوام کو نہ پتہ لگ جائیں ۔ مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس استدعا کو مسترد کردیا اور کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا کوئی ڈاکیومنٹ خفیہ نہیں ہے۔ یاد ہو تو یہ وہی عمران خان ہیں جو کہتا کرتے تھے کہ میں کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا ۔ اس کیس میں اب فروری تک کی تاریخ پڑ گئی ہے ۔

    ۔ پھر عثمان بزدار کی image building کے حوالے سے بہت خبریں گردش ہیں کہ وہ پاکستان کے سب سے بہترین وزیراعلی ہیں ۔ پتہ نہیں یہ سروے مریخ پر ہوا تھا یا چاند پر ۔ کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی ہر ضمنی انتخاب سے لے کر کینٹ بورڈ کے الیکشن تک ہر چیز ہاری ہے ۔ مگر ایسی سروے رپورٹس تو آنی تھیں جب آپ فنڈنگ کے منہ کھول دیں ۔ ورنہ ان کی کارکردگی کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت حالیہ سانحہ مری ہے ۔ پھر ڈینگی ہو یا بارشوں کے موسم میں گوڈے گوڈے پانی ۔۔۔ سب کو سب کچھ یاد ہے ۔ بھولے نہیں ۔۔ پھر آج مریم اور بلاول کے بیانات بھی بہت اہم ہیں آپ ان کی سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ مگر آپ اس چیز کو رد نہیں کرسکتے کہ جو کچھ پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں ان میں چاہے وزراء ہوں ، ایم این ایز ہوں ، ایم پی ایز ہوں یا پھر عام کارکن ۔۔۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہےکہ تحریک انصاف کا انجام قریب ہے۔

    ۔ اسی لیے شاید آج مریم نے کہہ دیا ہے کہ حکومت چند دنوں کی مہمان ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی جلد سامنے آجائےگا ۔ پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آیا کہ وفاقی وزیرداخلہ کو ہاتھ سرپرہونے کی بات کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پھر ن لیگ میں بغاوت کے دعوؤں کو حکومت کی نااہلی اور نالائقی سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے مریم نےکہاکہ ن لیگ آگ کے دریا سے گزر کر آئی ہے، ڈرانے، دھمکانے، لالچ اور بدترین انتقام کے باوجود ن لیگ کا ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے چٹان کی طرح کھڑا رہا۔

    ۔ اس چیز کو ویسے ماننا چاہیے کہ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں ۔ مگر سب کچھ ہونے اور لیڈر شپ کے ملک سے باہر جانے اور جیلوں میں جانے کے باوجود بھی ن لیگ کو توڑا نہیں جا سکا ۔۔ پھر بلاول کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کردکھائیں گے۔ مزید یہ بھی کہا کہ آئین اورقانون میں ایمرجنسی کی کوئی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کا شوشہ ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔ ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ملک سے شریفوں اور زرداریوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ کسی صورت نہیں ہونا ہے ۔ ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تحریک انصاف مخالفوں کی مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں اور دیگر کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں اور زرداریوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔

    ۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا دور ہے کہ جس میں عوام کے لئے سوچنا ایک شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ پھر یہ بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ہی راگ کب تک الاپا جا سکتا ہے کہ ملک میں مہنگائی نہیں بلکہ اب بھی بہت سستا ملک ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ماضی میں ہم 22 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے تو کیا اس طرح اس کے سامنے چاروں شانے چت ہوئے تھے، جس طرح اس بار ہوئے ہیں کیا ماضی میں آئی ایم ایف نے کسی حکومت سے اپنی شرائط پر منی بجٹ منظور کروایا، کیا اسٹیٹ بنک کے حوالے سے قانون سازی کروائی؟ یہ سب کچھ تو اس حکومت کے دور میں ہوا ہے، اس کا جواب دینے کی بجائے سیاسی بیان بازی سے عوام کو کب تک مطمئن کیا جا سکتا ہے؟۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ کیونکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی وقت حکومت پاکستان کی جان پر بن آئے تو بھی وہ سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے سکے گی۔ حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ خدا جانے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ لیکن ایک سچ تو اب پاکستان کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر گلی، ہر کوچے اور ہر گھر کی دیواروں پر لکھا نظر آرہا ہے کہ مہنگائی نے کروڑوں انسانوں کی زندگی بے حد مشکل بنا دی ہے۔۔ سچ یہ ہے کہ کابینہ میں بیٹھے ہوئے بیشتر ارکان وزیر اعظم کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے خوش کر دیتے ہیں پرویز خٹک اور نور عالم خان کی طرح یہ نہیں بتاتے کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ عوام میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔

    ۔ اس وقت کپتان کا خیر خواہ وہ نہیں جو بڑھکیں ماررہے ہیں بلکہ اصل حامی اور خیر خواہ وہ ہے جو انہیں حالات کی سنگینی سے خبردار کر رہا ہے۔جیسا کہ نور عالم خان ۔۔۔ جن کو پی ٹی آئی شوکاز نوٹس بھیج رہی ہے ۔ ۔ پھر آجکل پوری کی پوری پی ٹی آئی صرف دھوکہ دینے میں لگی ہوئی ہے ۔ ان کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اور اس طرح کے بھونڈے سروے کی بدولت تبدیلی کو دوبارہ بیچا سکتا ہے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ عمران خان بطور سربراہ پی ٹی آئی اور بطور وزیراعظم پاکستان دونوں ہی حیثیتوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے زیادہ تر ممبران اسمبلی، وزیر مشیر اور پارٹی لیڈر اب ہر طرف ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ کہیں ایڈجسٹ ہو جائیں۔ اس میں حیرانی کی بات بھی کوئی نہیں، کیونکہ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جب بھی ادھر ادھر سے اینٹ اور روڑے اکٹھے کرکے پارٹی بنائی جائے تو اس کا انجام یہی ہوا ہے کہ سب بکھر جاتے ہیں۔۔ شیخ رشید احمد اور فواد چودھری جیسے وزیر جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ شیخ رشید تو آئندہ سیاست سے چاروں شریفوں کو مائنس کر چکے ہیں جبکہ فواد چودھری شریف اور زرداری خاندان کی سیاست ختم کرنے کے درپے ہیں ۔

    ۔ جبکہ خبریں یہ ہیں ۔ کہ پی ٹی آئی کے تین وزیر پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر تو اپنا اپنا بائیوڈیٹا اٹھائے اگلا سلیکٹڈ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسا بندوبست ہو جائے کہ باقی کے ڈیڑھ سال تاج ان کے سر پر سج جائے۔ ۔ آپ دیکھیں جب ملک کا وزیر داخلہ یہ کہنے کی بجائے عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے یہ کہہ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یہ کرے گی وہ کرے گی۔ تو سمجھ جائیں حالات اچھے نہیں اور حکومت عوامی حمایت مکمل طور پر کھو چکی ہے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ۔۔۔۔ اس وقت پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس شش و پنج میں ہیں کہ اگلا الیکشن کس پارٹی کے ٹکٹ پر لڑیں، کیونکہ آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کا بوجھ اٹھانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ ظاہر ہے کوئی نہیں چاہتا کہ اس کی ضمانت ضبط ہو جائے۔ ۔ کیونکہ منی بجٹ کی منظوری کے بعد عوام کا پارہ زیادہ ہائی ہو چکا ہے۔ اس لئے وزراء ہوں یا ارکان اسمبلی عوام سے دوری ہی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں جہاں عوامی غصے کا یہ عالم ہو کہ کھاد نہ ملنے پر کسان اسسٹنٹ کمشنر کی درگت بنا دیں وہاں رکن اسمبلی کا حال کیا کریں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ۔ پنجاب کے ایم این ایز مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے کر رہے ہیں۔ کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا الیکشن سویپ کرنا اب دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اور یہ کوئی چھپ چھپا کر نہیں کھلے عام ہورہا ہے ۔ ابھی کل کی خبر ہے کہ پی ٹی آئی کے تیس رکن اسمبلی حمزہ سے رابطے میں اور اگلے الیکشن میں ن لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ پھر یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ سی وی لے کر بہت سے لوگ لندن میں میاں صاحب کا دروازہ کھٹکھانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ اسی لیے عمران خان نے اگلے تین ماہ کے لیے اپنے ایم این ایز کے باہر جانے پر پابندی لگائی ۔ ۔ پھر خیبر پختونخوا والے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے جو اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے الیکشن لڑے گا اور جو نہ ہو سکا وہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے گا، خاص طور پر الیکٹ ایبلز کی بڑی تعداد اگلے الیکشن میں آزاد حییثیت سے اسمبلیوں میں جائے گی۔ باقی رہ گیا جنوبی صوبہ پنجاب کا ٹولہ تو وہ ہمیشہ کی طرح اگلے احکامات کا انتظار کریں گے۔ جو غالب امکان ہے کہ اس مرتبہ حکم جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا ہو گا۔۔ اس لیے کہنا غلط نہیں کہ ہر صورت میں پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھرنا یقینی ہے۔۔ کیونکہ اس وقت تحریک انصاف خود اندر سے تقسیم در تقسیم کا بھی شکار ہے۔ اسے تنظیمی مسائل کا سامنا ہے۔ اسی لئے تو کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے رزلٹ کے بعد عمران خان نے افراتفری میں تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا تھا۔ مگر مطلوبہ نتائج ملتے نہیں دیکھائی دیتے ۔۔ یوں آپ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے کپتان اور پی ٹی آئی کے لیے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔

  • ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے  ؟ تحریر: نوید شیخ

    ملک کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے ؟ تحریر: نوید شیخ

    تپاکستان میں دو شخصیات ایسی گزری ہیں ۔ جن کے بارے کہا جائے کہ وہ وقت سے پہلے مستقبل پر نظر رکھتے تھے بلکہ آنے والے حالات کو پڑھ لیتے تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ آجکل جو کچھ ہورہا ہے ۔ میں کسی ہر تہمت نہیں لگانا چاہتا ۔ مگر ان دونوں اشخاص کی کہی ہوئی باتیں کانوں میں گونج رہی ہیں ۔ تو سب سے پہلے تو آپ یہ سنیں ۔ پھر آگے بات کرتے ہیں ۔

    Dr. Israr Sot about imran khan & hakim saeed book clip.

    1:21 to 2:38

    ۔ موجودہ حالات میں جس جانب نظر دوڑآئیں گے زوال ہی زوال دیکھائی دیتا ہے ۔ معیشت ، قانون کی حکمرانی ، نظام عدل کا رونا تو بہت عرصے اس ملک میں جاری ہے ۔ مگر یہ شاید پہلی بار ہے کہ ملک کا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ معیشت ٹھیک نہ ہو پھر دفاع تو متاثر ہوگا ۔ پہلی بار میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بارے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پہلی بار ہے کہ بردار اسلامی ممالک ہوں یا چین جیسا دوست ہر کوئی ناراض ہے ۔ پہلی بار ہے کہ کشمیر کو دن دھاڑے بھارت ہڑپ کر لیتا ہے مگر ہم اوآئی سی تک کو متحرک نہیں کر پاتے ہیں ۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس حکومت کو دو خبط ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہر بات کو انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ ہوا اور دوسرے یہ کہ اس سے پہلے ستر سال تک اس ملک پر احمقوں ، بددیانت اور غداروں کی حکومت رہی۔ ۔ کارنامے تو ان کے بہت بڑے بڑے ہیں جن کو گنوانا شروع کیا جائے تو eries of books لکھنی پڑ جائے گی ۔ مگر حالیہ جو قومی سلامتی پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کے کئی پہلو ملک کے اندر اور باہر بحث و تجزیے کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وہ بہت غور طلب چیز ہے ۔ اس سلسلے میں کئی پہلووں کو لے کر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ایک چیز جس پر سب سے زیادہ اعتراض ہورہا ہے کہ ۔ مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا یہ بیان جو انھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے جو کچھ کہا وہ یقینا عوام سمیت پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا ہوا ہے۔

    ۔ کیونکہ بے چینی اس لیے ہے کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور اگر بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہو جائے تو ہم بھارت کے ساتھ کشمیر کو درمیان میں لائے بغیر تجارت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ تجارت اور اقتصادیات ہماری پہلی ترجیح بن گئے ہیں اور کشمیر کا نمبر اسکے بعد آتا ہے؟ ۔ پھر پالیسی میں کہا گیا کہ پاکستان خطے اور تمام دنیا کے ساتھ برابری اور باہمی عزت کی بنیاد پر امن چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہم توعرصے سے تیار ہیں۔ پر سوال ہے کہ کیا بھارت بھی ہمارے ساتھ عزت اور برابری پر تیار ہے؟

    ۔ ویسے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم تجارت اور امن کی خواہش میں یک طرفہ طور پر اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہم نے کشمیری عوام ، انکے مصائب اور ان پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم بھلا کر بھارت کے اگست 2019ء کے اقدامات قبول کر لیے ہوں۔ اس سے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ ہمارا واحد اور سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ بھارت بس ہمارے ساتھ بات چیت کیلئے راضی ہو جائے۔ یا چلو کرکٹ ہی کھیل لے۔ تو ہم راضی ہوجائیں گے۔ میرے خیال سے کسی بھی باشعور شخص کو بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ بھارت پر ابھی حملہ کر دیں۔ لیکن اس قسم کے اعلانات بطور پالیسی کرنا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی تبدیلی کرنی ہے، یا کسی درمیانی راستے پر غور کرنا ہے تو کیا اس سلسلے میں بھارت سے کوئی بات کی گئی ہے کہ ہمیں بدلے میں بھی کچھ ملے گا یا نہیں؟

    ۔ اسی حوالے سے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہم آئندہ سو برس تک بھارت کے ساتھ مخاصمت نہیں چاہتے۔ نئی پالیسی قریبی ہمسایوں کے ساتھ امن کی بات کرتی ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے کچھ اخبارات میں شائع ہوا بلکہ بھارت میں اسے بہت اہم قرار دیا گیا۔ خطے میں قیامِ امن کی خواہش یقینی طور پر قابلِ ستائش ہے اور پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ماضی میں بھی اس خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے تاہم اس خواہش کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ ۔ پھر کیا آج کے دور میں بھی یہ دانشمندی ہے کہ اس قسم کے فیصلے جو ملک کی سمت اور تقدیر تبدیل کر رہے ہوں وہ ایوانوں کی بلند دیواروں کے پیچھے کیے جائیں اور عوام سے خفیہ رکھے جائیں؟

    ۔ نیشنل سیکورٹی کی جو دستاویز جاری ہوئی ہیں ان میں توانائی، تعلیم، صحت سے لیکر دہشت گردی اور عالمی امن تک سب مسائل کے ذکر کے ساتھ صفحہ نمبر پینتیس پر جموں اور کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو پر امن طور پر بذریعہ بات چیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق حل کیا جانا چاہیے۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب موجودہ اور تبدیل شدہ دنیا میں کتنی موثر ہیں ۔ خاص طور پر بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد ۔۔۔ ۔ یاد رکھیں ایسی یک طرفہ محبت کا نتیجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو سائیڈ پر کر کے تجارت کی امید لگائے بیٹھے ہونگے اور بھارت ہم سے آزاد کشمیر کا مطالبہ کر رہا ہو۔ اور اس وقت ہم عالمی برادری کو کہتے پھریں کہ کسی طرح ہمارا آزاد کشمیر ہی بچا دو۔

    ۔ ہم نظریے اور پاکستان کی شہہ رگ کو ایک جانب رکھ کر صرف تجارتی اور اقتصادی اصولوں کی بات کریں تو بھی حقائق اور اعداد و شمار کیمطابق موجودہ حالات اور قوانین میں بھارت کے ساتھ تجارت نہ تو پاکستان کی اقتصادی مشکلات حل کر سکتی ہے اور نہ ہی بھارت کے ساتھ ہمارے مسائل کا حل تجارت میں مل سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ سے کشمیر رہی ہے، اور کشمیر ہی کی بنیاد پر ہم بھارت کے ساتھ بار بار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اس پالیسی کی تشکیل کے وقت کشمیری عوام سے بھی تفصیلی مشورہ کیا گیا ہو گا اور انکی امنگوں اور حقوق کو بھی نظر میں رکھا گیا ہو گا۔ کیونکہ اس خطے کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بھارت کے گرد ہی گھومتی ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کے گرد گھومتے ہیں۔

    ۔ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا مرکزی نقطہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں ایک طرف رکھتے ہوئے تعلقات کو فروغ نہیں دیا جاسکتا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے جو بھی لائحہ عمل طے کیا گیا وہ واضح طور پر عوام کے سامنے رکھنا جانا چاہیے کیونکہ یہ بیان کچھ غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف پر ہے۔

    ۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس پالیسی میں کہاگیا ہے کہ قومی سلامتی کی بنیاد معیشت پر ہے۔ اسکے بعد یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے سٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔ اس خودمختاری کو بعض لوگ بینک کی غلامی قراردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سٹیٹ بینک کے گورنر کو آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کا اقتصادی وائسرائے بنانے کے مترادف ہے۔ اب جو یہ بحث ہورہی ہے ہمارے عسکری اکائونٹ صرف اور صرف سٹیٹ بینک میں رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ خواہش کیوں ہے۔۔ وزیراعظم کا یہ فرمانا کہ جب ہم آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو قومی سلامتی پر حرف آتا ہے۔ ان کے اس بیان سے واقعی اب سارا ملک گھبرایا ہوا لگتا ہے ۔ پھر کچھ لوگ چیخ رہے ہیں کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے۔ یہ سب باتیں جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ تشویش کس بات کی ہے۔

    ۔ یہ سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ بائیس تیئس کروڑ آبادی والا ملک پاکستان جسے اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے جس کے لوگ بہت محنتی اور باصلاحیت ہیں وہ اپنے حکمرانوں اور کی غفلت اور ان کے وزیر و مشیروں کی مفاد پرستیوں کی وجہ سے دنیا میں ایک بھکاری کی سی پہچان بنائے ہوئے ہے ۔کہیں کوئی تھنک ٹینک نہیں جو یہ سوچے کہ اس ملک کا مسقتبل کیسے محفوظ بنا جاسکتا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب بہت سے پاکستانی خودکشیاں کرنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے کیونکہ وہ ہی ہماری سلامتی کا سب سے بڑا ضامن اور آخری امید ہے ۔ مگر یاد رکھیں اس وقت جو یہ بحث جاری ہے وہ یوں ہی نہیں ہورہی ہے

  • منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات اورہمارے رویئے، تحریر:صدیقہ افتخار

    منشیات وہ مادے ہیں جو کسی شخص کی ذہنی یا جسمانی حالت کو بدل دیتے ہیں۔ وہ ہمارے دماغ کے کام کرنے کے طریقے، ہم کیسے محسوس کرتے ہیں اور برتاؤ کرتے ہیں، ہماری سمجھ اور ہمارے حواس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں غیر متوقع اور خطرناک بناتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔

    منشیات کا استعمال:
    کوئی بھی مادہ یا منشیات جب مطلوبہ مقدار سے زیادہ لی جائے تو اسے منشیات کے استعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔ منشیات کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص قانونی یا غیر قانونی مادوں کا استعمال ان طریقوں سے کرتا ہے جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے کا مقصد یا تو اچھا محسوس کرنا، تناؤ کو کم کرنا یا حقیقت سے بچنا ہے۔ آخر کار ان منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، جو منشیات کی لت کا باعث بنتا ہے۔

    عام ادویات:
    پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے منشیات یہ ہیں:
    • حشیش (بھنگ) سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ ہے۔
    • سکون آور اور سکون آور ادویات
    • ہیروئن
    • افیون
    • انجیکشن لگانا منشیات کا استعمال
    • ایکسٹیسی
    • سٹریٹ چلڈرن کے درمیان سالوینٹ کی زیادتی

    ہمارے ملک میں بہت سی غیر منافع بخش تنظیموں نے بحالی کے مراکز بنائے ہیں اور وہ تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 500 سے زائد مراکز کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ مشہور ہیں:
    • AASRecovery سینٹر
    Ibtida rehabilitation centr
    • نیا افق کیئر سنٹر
    • جینیئس بحالی مرکز
    • وعدہ بحالی مرکز
    ایمن کلینک
    • عقیدت بحالی مرکز
    • نشان بحالی پاک
    عام زندگی میں تحمل کا ارتکاب کرنے میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کرنا شامل ہے، بشمول:
    • جس طرح سے آپ تناؤ سے نمٹتے ہیں۔
    •کیسےلوگوں کو آپ اپنی زندگی میں اجازت دیتے ہیں۔
    • آپ اپنے فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں۔
    • آپ اپنے بارے میں کیسا سوچتے ہیں۔
    • نسخہ اور اوور دی کاؤنٹر ادویات جو آپ لیتے ہیں۔
    بحالی کا آغاز آپ کے جسم کو منشیات سے پاک کرنا اور واپسی کی علامات کو منظم کرنا ہے۔ پھر مشاورت آتی ہے۔ مشاورت میں انفرادی، گروپ، اور/یا خاندان شامل ہیں آپ کو آپ کے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنے، اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے، اور صحت مند مقابلہ کرنے کی مہارتیں سیکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت یابی کی طرف تیسرا قدم دوا لینا ہے۔ اور، ایک طویل مدتی فالو اپ کی ضرورت ہے۔

    میں خود کسی بھی شکل اور قسم کی منشیات سے پرہیز کرتا ہوں۔ یہ ایک قسم کا عہد ہے جو میں نے اپنے ساتھ لیا ہے کہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔ منشیات بذات خود ایک زیادتی ہے۔ میں جب بھی باہر جاتا ہوں تو بہت سے نشے کے عادی افراد کو دیکھتا ہوں جنہوں نے صرف اپنی اس بری عادت کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کر رکھی ہے۔ میں ایسے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں جب میرے پاس کافی طاقت ہو تو میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے، نشے کے عادی افراد کی مدد اور اس حوالے سے بیداری بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کروں گا۔ ابھی میں اپنی حیثیت میں رہ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔
    میں نوجوانوں اور بزرگوں میں اسی طرح شعور بیدار کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کوئی عادی ہے تو پورے خاندان کو مشاورت کی ضرورت ہےآگاہی اولین ترجیح ہے تاکہ لوگ اس زیادتی سے دور رہیں۔ اسے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری صحت کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے کیسے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ ہماری سماجی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ ہمارا معاشرہ نشےکےعادی کو قبول نہیں کرتا۔ ہمیں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں اچھی طرح سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

    تمام تر آگاہی کے باوجود اگر کوئی منشیات اور چیزیں لیتا ہے تو اس شخص کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے جو وہ چاہے اور جو چاہے تجربہ کرے۔ ابتدائی مرحلے میں رکنا اتنا مشکل نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص خود کو اس پہلو میں مزید گہرائی میں لے جائے تو اس سے پیچھے ہٹنا ناقابل تصور حد تک مشکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کو ایک لعنت سمجھا جاتا ہے۔ اگر والدین کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچہ پہلے منشیات کرتا ہے تو وہ اس کی توہین کرتے ہیں۔ اس توہین پر قابو پانے کے لیے وہ بچہ اس سے بھی زیادہ منشیات لیتا ہے جو کہ منشیات کی سب سے بنیادی شکل ہے، تمباکو(سگریٹ) جو قانونی طور پر دستیاب ہے، شروعات ہے۔ تمباکو نوشی اتنی نقصان دہ ہے کہ یہ اس کے ڈبے پر بھی کہتا ہے پھر بھی ہم تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ صرف انسانی فطرت ہے خاص کر جب ہم جوان ہوتے ہیں۔ اگر یہ سرزنش کام نہیں کرتی ہے تو گھر والے اسے باہر نکال دیتے ہیں۔ اور یہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اسے باہر کیوں پھینکو؟ اس سے انکار کیوں؟ وہ تمہارا خون تمہارا بیٹا ہے۔ میں نے معروف اور خوشحال گھرانوں کے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے، پلوں کے نیچے سوتے، پہلے سے استعمال شدہ سرنجوں سے انجکشن لگاتے دیکھا ہے۔ کیوں؟

    اس سلسلے میں والدین کو سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی عزت، جو نام انہوں نے کمایا ہے اسے بچانے کے لیے انہیں باہر نکال دیتے ہیں۔ یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے۔ ان سے کہا جائے کہ انہیں بحالی مرکز لے جائیں، صحت یاب کرائیں۔ ان کی پریشانی کو سمجھنا ضروری ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔

    ہماری ذہنی صحت اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ہم زندگی سے نمٹنے کے دوران کیسے محسوس کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں اہم ہے۔ اس تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں، بہت چھوٹی عمر میں ہمیں اپنے مستقبل، تعلیم اور پیشے کے لیے سنجیدہ ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی تھوڑا سا بھی پیچھے رہ جائے تو یہ دنیا اسے پیچھے پھینک دیتی ہے اور اسے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ ساری بڑھتی ہوئی بے چینی اور گھبراہٹ بے پناہ درد کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈپریشن پوری دنیا میں ایک بہت عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب تکلیف برداشت کرنے والا مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ تمام دکھ اور تکلیف دور ہو جائے۔ اس کے نقطہ نظر میں اس کا سب سے آسان طریقہ بلاشبہ منشیات لینا ہے۔ وہ ہمارے دماغ کو بے حس کر دیتے ہیں اور آخر کار ہم اس درد سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنی زندگی میں اس مسلسل تناؤ پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ واحد راستہ خوش رہنا ہے۔ اس عطا کردہ زندگی کے ہر ایک حصے سے لطف اٹھائیں۔ اس لیے میں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ میں ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کو خوش کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی یادیں دوں جب وہ میرے ساتھ نہ ہوں۔ اگر ہر کوئی یہ پہل کرے تو یقین کریں یہ دنیا بہت بہتر ہو جائے گی۔

    . مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم مل کر اسے شکست دے سکتے ہیں اور اس لعنت کو اپنی قوم، اپنے ملک پاکستان سے مٹا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ہم اپنے آپ سے جنگ شروع کر دیں تو آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ہماری مشترکہ کوششوں سے یہ براءی ہمارے درمیان نہیں رہے گی۔ انشاء اللہ.

  • دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دبئی: دنیا کا سب سے بڑا اور انتہائی نایاب سیاہ ہیرا "دی اینگما” دبئی میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ خلا سے زمین پر آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشہور برطانوی نیلام گھر ’سودبیز‘ نے دبئی میں 555.55 قیراط کا ایک سیاہ ہیرا پیش کیا ہے ہیرے کو دبئی اور امریکہ میں نمائش کے بعد لندن لے جایا جائے گا، جہاں 3 سے 9 فروری کے دوران سیاہ ہیرے کی آن لائن نیلامی کی جائے گی۔

    انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتا سے منتقل کرنے کا بل منظور

    ہیرے کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدا جا سکے گا۔ہیرے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا قرار دے رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاہ ہیرا

    یہ ہیرا جسامت میں خاصا بڑا ہے اور اس کے 55 پہلو ہیں جو اسے اور بھی زیادہ منفرد بناتے ہیں اس ہیرے کو ’’اینگما‘‘ (معما) کا نام دیا گیا ہے جبکہ اسے دنیا کے نایاب ترین ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیرا کہاں سے آیا ہے لیکن ایک مفروضے کے مطابق، یہ تین ارب اسی کروڑ سال قبل زمین پر سیارچہ ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا اور زمین سے ٹکرانے والے کسی شہابِ ثاقب کا حصہ رہا ہوگا جو کسی طرح سے محفوظ رہ گیا۔

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    بتاتے چلیں کہ سیاہ ہیروں کو ’کاربونیڈو‘ بھی کہا جاتا ہے جو اب تک صرف برازیل اور وسطی افریقہ ہی سے ملے ہیں۔

    سودبیز دبئی میں ہیروں کی ماہر سوفی اسٹیونز کا کہنا ہے کہ پانچ (5) کی تکرار اس ہیرے کےلیے بہت خاص ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ 555.55 قیراط وزنی ہے تو دوسری جانب اس کے 55 پہلو بھی ہیں شاید اسی بناء پر سودبیز کو امید ہے کہ یہ کم از کم 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 120 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوگا۔

    سوفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی مذاہب میں پانچ (5) کا ہندسہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے لہذا یہ ہیرا ان کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مالیت میں بھی نیلام ہوسکتا ہے۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے 8 ڈرونزتباہ کردئیے

    واضح رہے کہ یہ ہیرا اس سے قبل کبھی مارکیٹ میں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی عوامی نمائشی کے لیے رکھا گیا ہے ہیرے کی شکل مشرق وسطیٰ کے ہتھیلی نما خمسہ سے ملتی جلتی ہے جو ’نظر بد‘ سے محفوظ رکھنے والی علامت کے طور پر مشہور ہے خمسہ کا تعلق پانچویں ہندسے سے ہے اور یہ ہیرا نہ صرف 555 اعشاریہ 55 کا سائز رکھتا ہے بلکہ اس کے ٹھیک 55 پہلو بھی ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی…

  • چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے پاکستان کی سب سے اہم لیگ جسے کشمیرپریمیئر لیگ کے نام سے دنیا جانتی ہے سے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے کشمیرپریمیئر لیگ کے ساتھ محبت اور اس کی کامیابی کے لیے اپنے خلوص کا زبردست انداز میں اظہار کیا ہے ،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں کشمیر پریمیئر لیگ سے کوئی تنخواہ اور الاؤنس نہیں لوں گا،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے تمام وسائل صاف اور شفاف طریقے سے استعمال کیے جائیں گے،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ کشمیر میں کرکٹ اور کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے۔

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا کہنا ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک مشن اور ایک مقصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فرنچائز مالکان کا شکر گزار ہوں کہ جس طرح سے تمام چھ فرنچائزز نے میرے چیئرمین، چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ بننے کے بعد مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

  • لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ

    لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ

    لاہور:لندن کی عالمی ثالثی عدالت کا پی سی بی کے حق میں فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ تصدیق کرتا ہے کہ ٹیک فرنٹ ایف زیڈ ای اور بلٹز ایڈورٹائزنگ پرائیوٹ لمیٹڈ کےپی سی بی کے ساتھ تنازعات پر لندن کی عالمی ثالثی عدالت نے پی سی بی کے حق میں فیصلے سنادئیے ہیں۔

    ٹیک فرنٹ انٹرنیشنل ایف زیڈ ای (ٹیک فرنٹ) سے متعلق تنازعہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے براڈکاسٹ اور لائیو اسٹریمنگ میڈیا رائٹس کے معاہدوں کے سلسلے میں فیس کی ادائیگی جبکہ بلٹز ایڈورٹائزنگ کے ساتھ تنازعہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے میچز کی تاخیر سے ٹیلی ویژن نشریات اور لائیو سٹریمنگ میڈیا رائٹس کی فیس کی ادائیگی سے متعلق تھا۔

    ان تنازعات پر لندن کی عالمی ثالثی عدالت نے ٹیک فرنٹ اور بلٹز ایڈورٹائزنگ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے دونوں پارٹیز کو پی سی بی کو فیس کی ادائیگی اور کیس سے متعلق تمام اخراجات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔

    یہ تمام حقوق پاکستان اور لندن کی عالمی ثالثی عدالت کے قوانین کے عین مطابق جاری کیے گئے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر بیرسٹر سلمان نصیر کا کہناہے کہ یہ ان کے لیے بڑی کامیابیاں ہیں کیونکہ اس سے پی سی بی کو ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ سے کثیر آمدنی ملنے میں کامیابی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے ہم مربوط معاہدے کرتے ہیں اور ہم ایچ بی ایل پی ایس ایل کے برانڈ کی مقبولیت میں اضافے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔