Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے:     رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان

    ” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے: رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان

    لاہور:” کرکٹر آف دی ایئر”آپ اس کامیابی کےمستحق تھے:رمیزراجہ:یہ سب میرے رب کے اختیار میں‌ ہے:محمد رضوان کا خوبصورت جواب ،اطلاعات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے لیے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجا نے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

    رمیز راجا نے اپنی ٹوئٹ میں محمد رضوان کو پاکستان کا نام فخر سے بلند کرنے پر مبارکباد دی، ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ آپ اس کامیابی کے مستحق تھے۔

     

     

    چیئرمین پی سی بی نے محمد رضوان کے لیے لکھا کہ آپ کی عاجزی، رویہ اور محنت آپ کی خاصیت ہے۔رمیز راجا نے رضوان کے لیے مستقبل میں مزید کامیابی اور اعزازات کے لیے دعا بھی کی۔

    خیال رہے کہ آئی سی سی نے محمد رضوان کو گزشتہ سال 1326 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے پر سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا ہے۔

    محمد رضوان کا اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ ڈبل خوشی اس بات کی ہے کہ اس بار یہ ایوارڈ پاکستان کو ملا ہے، دنیا کی ٹاپ ٹیمز میں پاکستان کا نام آنا خوشی کی بات ہے۔

     

    قومی وکٹ کیپر بیٹر کا کہنا تھا کہ ایوارڈ کاکریڈیٹ ٹیم مینجمنٹ، ساتھی کرکٹرز اور میرے کھیل کا جائزہ لینے والوں کو بھی جاتا ہے، سب کی محنت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان ٹیم کا نام ہے۔

    اس کے علاوہ رضوان نے ٹوئٹر پر بھی پیغام جاری کیا اور کہا کہ بس اللہ سے ہوتا ہے، اللہ کے غیر سے نہیں ہوتا۔

    ٹوئٹر پیغام میں رضوان نے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ ابھی سفر کا آغاز ہے، انہوں نے یہ ایوارڈ پاکستان اور پوری قوم کے نام کیا۔

  • عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا

    عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا

    لاہور:عاجزی وانکساری سے ملتا ہےمقام:محمد رضوان کو آئی سی سی نے ٹی 20کرکٹر آف دی ایئر قرار دیدیا،اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے شاہین کرکٹر عاجز اور منکسرالمزاج درویش صفت انسان محمد رضوان کو ٹی 20 کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا ہے، گزشتہ برس انہوں نے 29میچز میں 1326 رنز بنائے تھے۔

     

    محمد رضوان نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز کا کریڈٹ ساتھی کرکٹرز اورٹیم مینجمنٹ کو جاتا ہے، دنیا کی بہترین ٹیموں میں پاکستان کا نام آنا خوشی کی بات ہے۔

     

    ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز عمان کے حصے میں آیا، آئی سی سی نے یہ اعلان کرتے ہوئے ذیشان مقصود کو طلسماتی رہنما قرار دیا۔

    ا

    ادھر کرکٹ کے عالمی ادارے نے ویمن ایسوسی ایٹ کرکٹرآف دی ایئر کا مستحق آسٹریا کی آندرے مائی زپیدہ کو ٹھہرایا، انہیں یہ اعزاز کھیل کے دوران مخالف ٹیموں کے خلاف بھرپور جذبے اور مستقل مزاجی دکھانے کے سبب ملا۔

     

    فاسٹ بولرنے کپتان بابر اعظم کو شہرہ آفاق ترک سیریز کے مرکزی کردار ارطغرل غازی قرار دے دیا۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کےفاسٹ باولر شاہین آفریدی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان ہمیشہ بابر کو کہتے ہیں کہ آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے ارطغرل غازی اور ہم ان کے سپاہی ہیں۔

     

     

     

  • ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے تعاون سے قائم امریکی نیورو ٹیکنالوجی فرم نیورا لنک نے کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سلیکون ویلی کمپنی، جس نے پہلے ہی پیجر نامی مکاک بندر اور گرٹروڈ نامی سور کے دماغ میں مصنوعی ذہانت کے مائیکرو چِپس کو کامیابی کے ساتھ لگا دیا ہے، اب انسانوں میں ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ چلانے کے لیے "کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر” کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔

    کمپنی نے کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر اور کلینیکل ٹرائل کوآرڈینیٹر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہارات بھی شائع کروا دیئے ہیں اشتہارات میں لکھا گیا ہے کہ عملہ کچھ جدید ترین ڈاکٹروں اور اعلیٰ انجینئرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور ساتھ ہی نیورالنک کےپہلےکلینیکل ٹرائل کے شرکاء کے ساتھ کام کریں گے۔

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ 2022 میں کسی بھی وقت نیورالنک دماغی چپس انسانوں میں لگائے جانے کی توقع رکھتے ہیں تاہم امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دماغی چپ کی جانچ کے ان منصوبوں کی منظوری باقی ہے۔

    مسک اور ان کے نیورالنک پارٹنرز نے 2016 میں دماغی چپس تیار کرنے کے لیے کمپنی کی بنیاد رکھی تھی جو انسانوں کو کمپیوٹر سے جوڑتی ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امپلانٹس مفلوج افراد کو اپنے دماغ سے اسمارٹ فون جیسے آلات کو کنٹرول کرنے کے قابل بنائیں گے –

    انہیں توقع ہے کہ ایک بار جب انسانی جانچ کا آغاز ہو گا تو مزید پیشرفت سے نیوران کے درمیان سگنلز کو پل کر کے کئی جسمانی معذوریوں کا حل بھی شامل ہے-

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ وال سٹریٹ جرنل کے سی ای او کونسل سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ پہلے انسانی ٹیسٹ ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹوں والے لوگوں پر ہوں گے ہمارے پاس نیورالنک کے ساتھ ایک موقع ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی وجہ سے پورے مفلوج جسم کو فعال کر لیں نیورالنک بندروں میں اچھی طرح سے کام کر رہا ہے، اور ہم اصل میں بہت زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں اور صرف اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ بہت محفوظ اور قابل اعتماد ہے اور نیورالنک ڈیوائس کو محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے

    واضح رہے کہ نیورالنک پہلے ہی ایک مکاک بندر اور سور کے دماغ میں اپنی چپس کا تجربہ کر چکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک بندر کو اپنے دماغ کے ساتھ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے دکھایا تھا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    لاہور:بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولرنے کپتان بابر اعظم کو شہرہ آفاق ترک سیریز کے مرکزی کردار ارطغرل غازی قرار دے دیا۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کےفاسٹ باولر شاہین آفریدی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان ہمیشہ بابر کو کہتے ہیں کہ آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے ارطغرل غازی اور ہم ان کے سپاہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ میں بھارتی کرکٹر کے ایل راہول کی وکٹ میرے کیرئیر کی بہترین وکٹوں میں سے ایک ہے۔

    نوجوان فاسٹ بولر نے پاک بھارت میچ کے حوالے سے کہا کہ ٹاکرے سے قبل عجیب سا ماحول بن جاتا ہے کہ یہ پاکستان اور انڈیا کا میچ ہے۔

    روہت شرما کو آؤٹ کرنے سے متعلق سوال پر شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ روہت کے خلاف پلاننگ سے بولنگ کرائی، مجھے معلوم تھا کہ وہ عامر کے خلاف ان سوئنگ گیند پر آؤٹ ہوئے تھے جس کا میں نے بھی فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا ہوا تھا جب بھی بھارت کے خلاف موقع ملا تو اچھی کارکردگی دکھاؤں گا۔

    شاہین شاہ آفریدی نے بابراعظم کوارطغرل غازی اس لیے بھی کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرتےہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ محمد رضوان ٹیم میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے شامل ہیں۔

     

    پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی بھی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں جوز بٹلر، ایڈن مارکرم، مچل مارش اور ڈیوڈ ملر شامل ہیں۔اس کے علاوہ تبریز شمسی، جوش ہیزل ووڈ، وانندو ہسارنگا اور مستفیض الرحمان بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں کوئی بھی بھارتی کرکٹر شامل نہیں ہے۔

  • پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    جنیوا:پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں تیزی لائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکا جا سکے اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی کاموں کا مرکز رہنا چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا ہم سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کو فروغ دینے اور کشمیری عوام کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا خاطر خواہ اختیار استعمال کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کچھ نہیں کر رہی تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف سے فراہم کردہ اختیار کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں کارروائی کر کے امن اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

    منیر اکرم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بنیادی خطرہ جموں و کشمیر کے تنازعہ سے لاحق ہے اور بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںوکشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    منیر اکرم نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے وسیع غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی اور کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کیلئے کوششوں کا آغاز کریں۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کیلئے بھارت سے اب تک کوئی جوابدہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے کالے قوانین ان نو لاکھ فورسز اہلکاروں کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتے ہیں جنہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعینات کرکھا ہے۔۔ سفیر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر پریس کلب پر حالیہ حملہ اور اسکی بندش مقبوضہ علاقے میں مجرمانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارتی وحشیانہ جبر کی ایک اور مثال ہے ۔

  • مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق جمہوریت کی دعوےدار بھارتی حکومت نے مسلم دشمن پالیسیوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم بے نقاب کرنے والے 35 پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بلاک کردیا اطلاعات کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے یوٹیوب چینلز کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد ویڈیو ہیں جن میں ملیحہ ہاشمی عمر دراز گوندل سلمان حیدر اور مخدوم شہاب کا چینل (میرا پاکستان) جیسے بڑے اکاؤنٹس شامل ہیں ، بھارت ففتھ جنریش وار جیت رہا ہے ، پاکستان نے اب بھی کچھ نہ کیا تو بڑی دیر ہو جائے گی-

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    بھارتی میڈیا کے مطابق اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر کی وارننگ کے ایک دن بعد حکومت نے 35 یوٹیوب چینلز، 2 ٹویٹر اکاؤنٹس، انسٹاگرام اکاؤنٹس، 2 ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے یہ تمام اکاؤنٹس پاکستان سے چل رہے تھے۔

    اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری اپوروا چندرا اور جوائنٹ سکریٹری وکرم سہائے نے جمعہ کو کہا کہ 20 جنوری کو وزارت کو ملی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کارروائی کی ہے جبکہ اپوروا چندرا نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے 12 ملین سبسکرائبرز اور 130 ملین سے زیادہ ویوز تھے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی کی جان کو خطرہ:نئے حفاظتی انتظامات نے حیران کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 20 یوٹیوب چینلز اور دو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کی فہرست میں پنچ لائن،بین الاقوامی ویب نیوز،خالصہ ٹی وی،ننگا سچ، نیوز24، 48 نیوز،خیالی تاریخی
    حقائق پنجاب،وائرل نیا پاکستان،گلوبل کور اسٹوری،گلوبل ای کامرس،جنید حلیم آفیشل، طیب حنیف، زین علی،فیشل محسن،راجپوت آفیشل،کنیز فاطمہ،صدف درانی
    ،میاں عمران احمد، نجم الحسن باجوہ شامل ہیں-

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر…

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    جنوبی پنجاب صوبہ، گیلانی بول پڑے، تحریر: نوید شیخ

    اکثر پاکستانی سیاست میں بھونچال اس لیے بھی برپا کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی توجہ ان مسائل سے ہٹائی جا سکے جن میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔ ۔ سوال یہ ہے کہ آج کل صبح و شام وفاقی وزراء نوازشریف کا ورد کیوں کر رہے ہیں۔۔ کبھی انہیں واپس لانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔ کبھی ان کی میڈیکل رپورٹ منگوائی جاتی ہے۔ ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے ان کے خلاف پارٹی میں بغاوت ہو گئی ہے۔۔ کبھی حمزہ اور مریم کی لڑائی کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ ۔ کبھی شہباز شریف کو ان کے مقابل کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی ڈیل کی کوششوں کا تذکرہ کر کے مظلوم بننے کی کہانی گھڑی جاتی ہے۔۔ پھر کبھی زرداری تو کبھی بلاول کی طرف توپوں کا رخ کردیا جاتا ہے ۔ ۔ اور اب حکومت نے ایک نیا ایشو پکڑا لیا جس کا نام ہے جنوبی پنجاب صوبہ ۔۔۔
    ۔ یہ سب باتیں عوام کو سیاسی کھیل تماشوں میں الجھانے کی ایک کوشش نظر آتی ہے، تاکہ مہنگائی نے ان کا جو برا حال کر رکھا ہے اس سے ان کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو جنوبی معاملے پر بھی تیلی ہمیشہ کی طرح پی ٹی آئی نے لگائی ۔ مگر اب اپوزیشن حکومت کو اس معاملے سے بھاگنے نہیں دے رہی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کو اس ایشو پر گھیر لیا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ کیونکہ جو بیانات چیزیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ جانب سے آئی ہیں اس کے بعد پی ٹی آئی کی نیت ہو تو پھر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے اسکو کوئی نہ روک سکتا ۔ مگر یاد رکھیے گا یہ نہیں بنائیں گے یہ بس اس معاملے پر بھی سیاست ہی کھیلیں گے ۔

    ۔ یہاں یاد کروادوں کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا ۔ یہ کارڈ استعمال کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے electablesکو گزشتہ جنرل الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا تھا ۔ کیونکہ عمران خان دعوی تھا کہ نوے دن میں صوبہ بنوا کر دیکھاوں گا ۔ ۔ مگر عملی طور پر پی ٹی آئی نے باقی چیزوں کی طرح اس پر بھی کچھ نہ کیا بس جنوبی پنجاب سکریٹریٹ بنا کر ایک نیا ڈرامہ رچا دیا گیا۔ جس کا مقصد صوبے کے قیام کو پس پشت ڈالنا دیکھائی دیتا ہے۔ وجوہات آگے چل کر تفصیل سے بتاتا ہوں ۔ پر اب جو ایک بار پھر جنرل الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ کا شور مچایا جا رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیاست کرنے کے لئے اب علیحدہ صوبے کی بات کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے جو سیاسی جماعت اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی وہ کم از کم جنوبی پنجاب سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۔ سینیٹ میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بجا طور پر اس بات کا کریڈٹ لیا ہے کہ ان کی حکومت میں پنجاب اسمبلی سے بھی علیحدہ صوبے کی قرارداد منظور ہوئی، جو ایک آئینی تقاضا تھی اور قومی اسمبلی نیز سینٹ میں بھی یہ قرارداد پیش کی گئی۔ اگر ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو پیپلزپارٹی علیحدہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی۔ اس لیے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور سو دن کے اندر اس ضمن میں عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ مگر حکومت میں آکر وہ سب کچھ بھول گئے۔۔ اس بس کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کھلا دل کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اب بھی اگر عمران خان اس حوالے سے کچھ کرنا چاہیں تو اپوزیشن ان کا ساتھ دے گی۔

    ۔ پھر اس سلسلہ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ سب نے کیا ہے، اسے پورا کیا جائے۔ رانا محمود الحسن کے بقول جتنا پانی اسلام آباد کے پھولوں کو ملتا ہے، اگر اتنا پانی جنوبی پنجاب کو مل جائے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان صوبہ بن سکتا ہے تو سرائیکستان کیوں نہیں بن سکتا۔ یہ ہمارا حق ہے۔ سینیٹ کے قائد حزبِ اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے اس بل کو ایک اہم ایشو قرار دیا ۔ ۔ اس بل پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی سینیٹ میں اظہار خیال کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کا بل ہماری خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہم نے جنوبی پنجاب کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ صوبے کی تشکیل کے لیے ہمیں دوتہائی اکثریت چاہیے ، اس بل پر مل کر آگے بڑھیں اور اپوزیشن اس پر ہمارا ساتھ دے کیونکہ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ہمیں پنجاب اسمبلی سے بھی رائے لینا ہو گی، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم سیکرٹریٹ نہیں مانگ رہے صوبہ بن جائے گا تو دارالحکومت ہم خود بنائیں گے۔ ۔ شاہ محمود قریشی ہر بار ملتان آکر یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ سکریٹریٹ دیا ہے اور علیحدہ صوبہ بھی وہی بنائے گی۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ شاہ محمود قریشی کبھی عمران خان کو یہ کہنے کی جرأت نہیں کریں گے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی حد تک تحریک انصاف کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ابھی تو پی ٹی آئی صرف اسی بات پر خوش ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ سیکرٹریٹ مل گیا ہے اور افسروں کی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ میں خطاب کے ذریعے یوسف رضا گیلانی نے اپنے علاقے کی اس بار بھرپور نمائندگی کی ہے اس سے سرائیکی علاقے کی قوم پرست جماعتیں بھی ان کی پشت پر آکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ وہ بھی علیحدہ سکریٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر چکی ہیں اور خود مختار صوبہ چاہتی ہیں۔۔ کیونکہ اس بار بھی خدشہ یہ ہی ہے کہ پی ٹی آئی علیحدہ صوبے کے مطالبے کو صرف ایک سیاسی نعرہ کے طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکمتِ عملی غالباً یہ ہے انتخابی مہم میں اس وعدے کے ساتھ جایا جائے کہ علیحدہ سکریٹریٹ بھی ہم نے بنایا اور اب علیحدہ صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ صوبے کی بجائے سکریٹریٹ بنا کر تحریک انصاف نے خود مختار صوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا تھا، جسے خود مختار سکریٹریٹ بنا کر حل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ مسئلہ انتظامی نہیں بلکہ ثقافتی، سیاسی اور تاریخی نوعیت کا ہے۔ یوں جب تک علیحدہ صوبہ نہیں بنتا، دکھاوے کے اقدامات سے بات نہیں بنے گی۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ اسمبلی، علیحدہ بجٹ، علیحدہ ہائیکورٹ اور سینٹ میں علیحدہ نمائندگی ہی مسئلے کا حل ہے۔ یہ سب کچھ علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے سے نہیں مل سکتا۔۔ کیونکہ جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک، اسمبلی ایک، چیف سکریٹری اور آئی جی ایک، نیز ہائیکورٹ بھی ایک ہے تو جنوبی پنجاب کے چھ کروڑ سے زائد عوام کو نمائندگی کا حق کیسے مل سکتا ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت نے صوبہ جنوبی پنجاب پر آج تک سنجیدہ سیاست نہیں کی اور نہ ہی اس معاملہ میں کبھی آئینی تقاضے کے تحت عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ محض جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا رونا رو کر ہر جماعت ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ اس سیاست نے سندھ اور سرحد میں بھی نئے صوبے کی سیاست کو ہوا دی ہے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کو صوبہ جناح پور بنانے کے لیے آواز اٹھائی گئی جس کی پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت مخالفت ہوئی اور سندھی قوم پرستوں نے اعلان کر دیا کہ سندھ میں سے نیا صوبہ ہماری لاشوں کو اٹھا کر ہی نکالا جا سکتا۔ علاقائی بنیادوں پر ہونے والی اسی سیاست نے صوبہ سرحد میں بھی سیاسی طوفان اٹھایا جہاں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی اور اسے اے این پی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ۔ بدقسمتی سے اس وقت ہماری سیاست تعمیری سے زیادہ مفاداتی سیاست بن گئی ہے۔ ۔ ہمارا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب یا کسی دوسرے صوبے پر سیاست کرنے والوں کو جب آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے تو وہ نئے صوبے کا نام لینا بھی بھول جاتے ہیں مگر اس ایشو پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ۔ پھر اگر پی ٹی آئی اور عمران خان جنوبی پنجاب کے لیے مخلص ہوتے تو یہ کارنامہ بھی بالکل ویسے ہی سرانجام دے دیا جاتا جیسے منی بجٹ اور دیگر معاملوں میں حکومت نے اپنی استادی دیکھائی ہے ۔ ۔ ویسے پی ٹی آئی نے جو جنوبی پنجاب کے لیے الگ سیکرٹریٹ تشکیل دے کر حل نکالا ہے یہ محض سیاسی سٹنٹ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ نیا سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں قطعاً معاون نہیں بن سکا۔

  • سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو،تحریر:نوید شیخ

    اس سرد موسم میں بیانیے کی جنگ میں گرمی آتی جار ہی ہے ۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب ہی اپنے اپنے حساب سے دعوے کررہے ہیں۔ کہ عنقریب یوں ہوجائے وہ جائے گا کہ جس کا کسی کو بھی کوئی گمان نہ ہوگا ۔

    ۔ دیکھا جائے تو پہلی تیلی چند منظور نظر وزیروں اور مشیروں نے خود لگائی ہے جس کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں اپنی چالیں چلنا شروع ہوگئی ہیں۔ اور انھوں نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے ہیں ۔یوں اب شہباز گل جیسے مشیروں کے پاس ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ قوم کو بتا رہے ہیں جلد ایک اور آڈیو یا ویڈیو لیک ہونے والی ہے ۔ یہ ہے ان کی کارکردگی ۔۔۔ ۔ دیکھا جائے تو اپوزیشن نے وزیروں اور مشیروں کی کہی ہوئی باتیں ان کے ہی منہ پر مارنا شروع کردی ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔
    ۔ میں آپکو بتاوں کہ یہ جو حکومت کی جانب متواتر باتیں کی جارہی ہیں کہ اب بھی ہم پر ہاتھ ہے ۔ اب بھی ہم ہی منظور نظر ہیں ۔ اسکی خاص وجہ ہے ۔ دراصل تحریک انصاف اپنے اتحادیوں سمیت اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پیغام دے رہی ہے ۔ کہ اب بھی ہمارے حالات اچھے ہیں ۔ اب بھی صحفہ ایک ہی ہے ۔ اس سے ان کا خیال یہ ہے کہ جو جانے والے ہیں وہ روک جائیں گے ۔ مگر میں آپکو بتاوں یہ جانے والے بڑے تیز ہوتے ہیں ۔ یہ دہائیوں سے یہ ہی کام کرتے آرہے ہیں ۔ ان کو وقت سے پہلے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ نیا کیا ہونے والا ہے کون آنے والا ہے اور یہ ایسی ایسی بازی کھیل جاتے ہیں کہ کسی کے وہم وگمان میں نہیں ہوتا ۔۔۔

    ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جہاں سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاہے کہ بہت جلد کچھ ہونے والا ہےاور عمران خان کے پیروں کے نیچے سے زمین ایسے کھسکے گی کہ انہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔۔ تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا دعوی ہے کہ وہ بائیس افراد کو جانتے ہیں جو اب حکومت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور دیکھناحکومت ایک دن بھی بیساکھیوں کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بائیس لوگ ہٹ جائیں تو حکومت اکثریت کھو دے گی پھر شاید عدم اعتماد کی ضرورت نہ پڑے۔ اچھا انھوں نے یہ کوئی ایسی بات نہیں کی ہے کہ جو صرف بیان ہو ۔ حالیہ پی ٹی آئی کی اہم اتحادی ق لیگ کے بیانات سے لے کر تحریک انصاف کے اپنے ناراض لوگوں کے بیانات اٹھا کر دیکھنا شروع کردیں ۔ تو عمران خان کے لیے کافی خوفناک تصویر واضح دیکھائی دینا شروع ہوجاتی ہے ۔ آپ دیکھیں کپتان سے نور عالم خان تک تو برداشت نہیں ہوئے ۔ پی ٹی آئی نے مہنگائی، گیس اور بجلی کے حوالے سے اپنی ہی جماعت پر تنقید کرنے والے نور عالم خان کو شوکاز نوٹس کے علاوہ اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے ہٹانےکی درخواست کر دی ہے ۔عامر ڈوگر کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے خط میں نور عالم خان کی جگہ حیدرعلی خان کوپی اے سی کا رکن بنانے کا کہا گیا ہے۔۔ ویسے اگر عمران خان دور اندیش ہوتے تو اپنی پارٹی کی سمجھ دار آوازوں پر کریڈیٹ بھی لے سکتے تھے کہ پارٹی میں ہر طرح کی بات ہوتی ہے اور سنی جاتی ہے ۔ مگر انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کو بھی صرف خوشامدی پسند ہیں ۔ وہ آمرانہ سوچ کے حامل ہیں ۔ جو ان کو آئینہ دیکھائے وہ برداشت نہیں ۔ تو خود حساب لگا لیں کہ پی ٹی آئی کی کیا اوقات ہے کتنا حوصلہ ہے ۔ بس ایک تقریر کی مار ہے ان کا انصاف ۔۔۔ ویسے یہ جمہوریت کے چیمپئین بنتے تھکتے نہیں ہیں ۔

    ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ کیوں پی ٹی آئی میں مشیر اور وزیر شہباز گل ، فواد چوہدری ، فیاض الحسن چوہان جیسے لوگ ہی بنتے ہیں ۔ وجہ صاف ہے کہ کپتان سے تنقید برداشت نہیں ۔ مثالیں ریاست مدینہ کی دیتے ہیں پر اگر کوئی کپتان پر انگلی اٹھائے تو ان سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس لیے اب تحریک انصاف میں صرف مالشیے اور پالشیے ہی رہ گئے ہیں ۔ ۔ یاد ہو تو عمران خان یہ دعویٰ کرکےآئےتھےکہ وہ مفادات کےٹکراو کےخلاف ہونگے۔ مگر عمران خان کی پوری کابینہ اُن لوگوں سےبھری پڑی ہےجن کے اپنے کاروبار اور مفادات ہیں۔ یہی اراکین کابینہ میں بیٹھتے ہیں ،اقتصادی رابطہ کمیٹی میں بیٹھتے ہیں اور یہی بینیفشری ہیں۔۔ اسی حوالے سے نور عالم خان کا کہنا تھا کہ وہ پی اے سی میں سرکاری افسران، کارٹلز مافیا کی بدعنوانیوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہ وہی مافیا ہے جس کے وفادار پہلی تین قطاروں میں موجود ہیں۔ اس لیے ان کو سزا دی جا رہی ہے ۔ ۔ اچھا ان پہلی تین قطاروں میں بیٹھے وہ لوگ ہوتے ہیں جو پی ٹی آئی میں deputationپر آئے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو کسی صورت پارٹی کے وفادار نہیں ۔ یہ بڑے تجربہ کار لوگ ہیں انھوں نے ہر گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے ۔ یہ جس بھی پارٹی کی حکومت ہو ۔ اس میں کسی نہ کسی طرح وزیر لگ جاتے ہیں ۔ اور جیسے ہی دوسری حکومت آتی ہے تو یہ پہلے والی کو ایسے چھوڑتے ہیں کہ ہر کوئی حیران وپریشان ہوجاتا ہے ۔ یہ دہائیوں سے ہر تبدیلی کے ساتھ کھڑے دیکھائی دیتے ہیں ۔ ۔ یہ جو وزراء دعوے کر رہے ہیں اگلے پانچ برس بھی ان کی ہی حکومت ہوگی تو کچھ بعید نہیں کہ یہ اگلی حکومت کو بھی حصہ ہوں چاہے جماعت جو بھی ہو ۔ ن ہی لوگوں کی وجہ سے تبدیلی تو کبھی عوام کو میسر نہیں آئی البتہ ان تمام لوگوں کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور ان کے سر پر عمران خان یہ تمام جوا کھیل رہے ہیں ۔ اس سے اندازہ کر لیں کہ عمران خان کتنے دوراندیش اور بندہ شناس ہیں ۔

    ۔ عمران خان کی اس ہی ڈکٹیٹر شپ سوچ نے پارٹی کے اندر بھی اور باہر بھی بے چینی پیدا کی ہوئی ہے ۔ اس لیے اب صرف اپوزیشن ہی نہیں صحافی تجزیہ کار سب ہی خبر دے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے جو بڑھتا جا رہا ہے۔۔ یہ حقیقت ہے کہ جہانگیرترین فیکٹر، آٹا بحران، گندم سیکنڈل، چینی سیکنڈل، ایل این جی سیکنڈل، عوام پر آئے دن ٹیکسوں کا بوجھ، پٹرول بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، ریکارڈ توڑ مہنگائی اور بے روزگاری ، سخت شرائط پر ریکارڈ غیر ملکی قرضوں کا حصول، صنعت تباہ،زراعت تباہ، معیشت تباہ، سرمایہ کاری ٹھپ، جیسے میڈل اپنے سینے پر سجانے والی شاید یہ پہلی حکومت ہے ۔ ۔ چند وزراء اور درجن بھر ترجمانوں کے مخالفوں پرپے درپے حملوں کو ہی گورننس سمجھ لیا گیا ہے ۔ عوام حیران ہیں کہ مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اضافے، پٹرول گیس اور بجلی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے باوجود بھی یہ حکومت ڈھٹائی کے ساتھ سب اچھا کا راگ کیسے الاپ لیتی ہے ۔ ۔ پھر آج سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے ۔حل پھر وہ ہی ہے کہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھاکہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، سی پی او راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک اور اے ایس پی مری کو عہدے سے ہٹاکرانضباطی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کردیا گیا ہے۔ یوں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قوم سے سانحہ مری کی شفاف انکوائری کا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔میرا سوال ہے کہ کیا صرف معطلیوں سے جو 23لوگوں نے اپنے جانیں گنوائیں ۔ اسکا کفارہ ہوجائے گا ۔ کیا صرف سرکاری ملازم ہی اس سانحہ کے ذمہ دار تھے ۔ کیا وزیر اعظم ، وزیر اعلی ، وزیروں اور پنجاب حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی کوئی کوتاہی نہیں تھی ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان کہا کرتے ہیں کہ مغرب کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے۔ مغرب کی برفباری سے کون واقف نہیں ہے۔ اگر سربراہ مملکت مغرب کو جانتا ہوتا تو سڑکوں پہ مطلوبہ مقدار میں نمک ڈالا جاتا۔ مغربی ممالک میں جب زیادہ مقدار میں برفباری ہوتی ہے تو ایمرجنسی لگا دی جاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں نظام ہی نرالا ہے۔ ہم گاڑیوں کی تعداد پہ فخر کر رہے تھے۔ جب حکومتوں کی کارکردگی نہیں ہوتی تو ترجمان پھر بھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم نے مری میں دیکھا۔جنہوں نے خود ایمرجنسی لگانی تھی وہ بیس گھنٹے لوگوں کی فون کالز سننے کے بعد بھی کوئی عملی اقدام نہ کر سکے۔ ان کے پاس کوئی پلان ہی نہیں تھا۔ ملک کا وزیر داخلہ شیخ رشید فرما رہا تھا لوگ خود چھوٹے چھوٹے سے بچے لیکر مری آ جاتے ہیں۔ ہم کیا کریں۔ وزیراعظم بھی کہہ رہا تھے کہ انتظامیہ اتنے لوگوں کے لیے تیار نہیں تھی۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ عورت موٹروے پہ کیوں گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ لوگ مری کیوں گئے۔ ۔ یہ سب ریکارڈ پر ہے کہ برف میں پھنسے ہوئے لوگ، ان کے عزیز و اقارب اور ان کے دوست احباب کالیں کرتے رہے لیکن حکومتی عمائدین خواب خرگوش کے مزلے لیتے رہے۔ آپ تین منٹ کی بجائے تین گھنٹے میں بھی پہنچ جاتے تو لوگوں کو مرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ ۔ آخر میں تمام کا تمام ملبہ انتظامیہ پر ڈال دینا کسی صورت ہضم نہیں ہوسکتا ۔ کچھ تو بوجھ حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا ۔ ۔ پر میں آپکو بتاوں ایسے سانحوں کے بعد بوجھ وہ اٹھاتے ہیں جن میں جرات ہو ، اخلاقیات ہوں ، کردار ہو ۔۔۔ اس حکومت سے یہ امید رکھنا کہ یہ اپنی
    ۔۔۔ منجی تھلے ڈانگ پھیر لیں گے ۔۔۔
    دیوانے کا خواب ہے ۔۔

  • پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    دماغی ماہرین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے۔

    باغی ٹی وی : ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع کئے گئے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کے نئے نظریے کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے دونوں دماغی ماہرین نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    تحقیق میں دونوں ماہرین ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ نیوروسائنس میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ تاہم، ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھولنے کی تمام شکلوں میں سرکٹ کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہے جو اینگرام سیلز کو قابل رسائی حالت (جہاں انہیں قدرتی یاد کرنے کے اشارے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے) سے ناقابل رسائی حالت میں تبدیل کرتا ہے (جہاں وہ نہیں کر سکتے)۔ بہت سے معاملات میں، بھولنے کی شرح ماحولیاتی حالات کے مطابق وضع کی جاتی ہے اور اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھول جانا نیوروپلاسٹیٹی کی ایک شکل ہے جو اینگرام سیل کی رسائی کو اس انداز میں تبدیل کرتی ہے جو توقعات اور ماحول کے درمیان مماثلت کے لیے حساس ہے۔ مزید برآں، ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ بھولنے سے وابستہ بیماری کی حالتیں بھولنے کے قدرتی طریقہ کار کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اینگرام سیل کی رسائی کم ہو جاتی ہے اور یادداشت کی کمی ہوتی ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے بظاہر یہ ایک خرابی ہے درحقیقت اس کا بہت فائدہ ہے کیونکہ جیسے جیسے ہمارے سیکھنے کا عمل آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے پرانی باتوں کا زیادہ تعداد میں یاد رہ جانا ہمارے اکتساب کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے-

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    لہذا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں یعنی صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول اور حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کےلیے تیار کرتا رہے اس دوران دماغ کے خلیے تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن میں سرگرمی/ تحریک میں تبدیلی آجاتی ہے جسے ہم ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    غرض کہ نیا سیکھتے دوران ہمارا دماغ مختلف اینگرامز کو تحریک دینا اور مختلف یادوں کو تازہ کرنا سیکھتا ہے وہ یادیں جو اس کے کام کی ہوتی ہیں غیر متعلقہ یادوں کو وہ نظرانداز کردیتا ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ ہم انہیں بھول جاتے ہیں وہ یادیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں لیکن بے حس و حرکت رہتی ہیں۔