Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے بھی ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ اگلے دو دن میں ہماری زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائےگا یہ ایک الگ مدارمیں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ 7482 کی براہِ راست نشریات ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا شہابیہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے صرف چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

  • انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی ویڈیو اور تصاویر شیئرنگ ایپ انسٹا گرام نے نئے فیچر پر کام شروع کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹا گرام اپنی اسٹوریز کو ایپ میں عمودی اسکرولنگ کے لیے از سر نو ڈیزائن کر رہی ہے اس وقت انسٹا گرام اسٹوریز کو دیکھنے کے لیفٹ سوئپ کرنا پرتا ہے اور ایک اسٹوری سے دوسری پر جانے کے لیے بائیں طرف اور مختلف پوسٹ دیکھنے کے لیے دائیں طرف ٹیپ کرنا پڑتا ہے تاہم کمپنی اب ایک نئے فیچر کی آزمائش کرنے جا رہی ہے جس کی مدد سے صارفین اسٹوریز میں عمودی اسکرولنگ کر سکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    رپورٹ کے مطابق ترکی اور برازیل میں انسٹا گرام کے کچھ صارفین کو انسٹا گرام پر اسٹوریز کی عمودی اسکرولنگ کرنے والے فیچر کی اپ ڈیٹس مل چکی ہیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ انسٹا گرام کی جانب سے اس فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا مقابلہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے کیوںکہ اس میں پہلے سے ہی عمودی اسکرولنگ کا فیچر موجود ہے اس فیچر کی بدولت انسٹا گرام میں اسٹیٹک کانٹینٹ کی نسبت اسٹوریز میں ویڈیوز پر زیادہ فوکس ہوجائے گا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی انسٹا گرام نے اسٹوریز میں ویڈیوز کا دورانیہ 15 سیکنڈ سے بڑھا کر 60 سیکنڈ کرنے کی آزمائش کی تھی۔ جس کی مدد سے صارفین ایک منٹ کی ویڈیو کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی حصے میں اپ لوڈ کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    نئی دہلی: بھارت کے ایک گاؤں میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ کے گاؤں راج ناند میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور قدرت کے اس عجیب و غریب معجزے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آ رہے ہیں بچھڑے کی ناک میں بھی 2 کے بجائے 4 سوراخ ہیں۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    عجیب و غریب بچھڑے کی پیدائش نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بچھڑے کی تیسری آنکھ سر کے بیچ میں ہے علاقےمیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بچھڑے کی ناک اور کٹی ہوئی دم نے بھی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

    مقامی گاؤں والوں نے بچھڑے کو پھول چڑھانا شروع کر دیئے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد گاؤں میں آنے سے مقامی افراد کے چہروں پر بھی خوشی پھیل گئی ہے۔

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    قبل ازیں بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی-

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    کینسرمیں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کواسپتال میں منتقل کیا گیامریض کی حالت بگڑنےپراسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہلخانہ وینٹی لیٹرکےاخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا-

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

  • کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    جنوبی کوریا کی سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ریح کیم‘ اب موسیقیار بھی بنے گی-

    باغی ٹی وی : ریح کیم کو مشہورِ زمانہ کمپنی ’ایل جی الیکٹرونکس‘ نے جنوبی کوریا کے ایک مقامی سافٹ ویئر ہاؤس سے تخلیق کروایا ہے اور یہ پچھلے ایک سال سے انسٹاگرام کے ذریعے اس کمپنی کی مختلف مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کر رہی ہے۔

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    انسٹاگرام پر اس خوبصورت سوشل میڈیا اسٹار کے 15,000سے زیادہ فالوورز ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے کمپیوٹر پر تخلیق کیا گیا ہےاسی بناء پر یہ ’ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ میں شمار ہوتی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    گزشتہ برس امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ عالمی نمائش ’سی ای ایس 2021‘ کے موقع پر ریح کیم نے ایک خصوصی خطاب بھی کیا تھا جسے سننےوالوں بہت پسند بھی کیا تھاحال ہی میں ایل جی الیکٹرونکس نے سیول کی ایک تفریحی کمپنی ’مسٹک اسٹوری‘ سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ریح کیم کو نئی دھنیں تخلیق کرنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان بڑھتا جارہا ہے کیونکہ مشہور شخصیات کی خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں یہ بہت کم خرچ رہتے ہیں یہ کمپنی کی کسی بھی تشہیری مہم میں اعتراض کیے بغیر کام کرلیتے ہیںامریکی مارکیٹ ریسرچ کمپنی’انسائیڈر انٹیلی جنس‘ کے مطابق 2019 میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی عالمی مارکیٹ کا حجم 8 ارب ڈالر تھا جو 2021 کے اختتام تک بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا 2020 میں عالمی وبا سے ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ رجحان برقرار رہے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

  • 4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ تقریباً 4,500 سال پہلے تیسری صدی قبل مسیح کے اواخر میں میسوپوٹیمیا موجودہ جنوبی عراق اور شمالی شام میں جنگی مقاصد کےلیے پالتو گدھوں اور جنگلی خچروں کے ملاپ سے پیدا کئے گئے جانور استعمال ہوتے تھے جنہیں ’جنگی گدھے‘ کہا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ، کے تازہ شمارے کے مطابق شاید یہ اوّلین مخلوط نسل کے جانور تھے جنہیں انسان نے تیار کیا تھا ان کے بھی 500 سال بعد جنگوں میں گھوڑوں کا استعمال شروع ہوا تھا۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والی قدیم تختیوں پر بنی علامتی تصاویر، جانوروں کے ڈھانچوں اور دوسری دستاویزات پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہیں ’کُنگا‘ (Kunga) کہا جاتا تھا اور یہ جنگ میں رتھوں کو کھینچنے میں استعمال کیے جاتے تھے آثارِ قدیمہ کے دوسرے شواہد سے یہ بھی پتا چلا کہ ’کُنگا‘ بہت طاقتور تھے اور تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    البتہ، جب ماہرین نے ’کنگا‘ کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو پریشان ہوگئے کیونکہ یہ جانور جسامت میں قدیم گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے تھے لیکن گھوڑوں سے چھوٹے تھے اگر یہ گھوڑا، گدھا یا جنگلی خچر نہیں تھا تو پھر ’کُنگا‘ آخر کونسا جانور تھا؟یہ الجھن پچھلے کئی سال سے یونہی چلی آرہی تھی جسےامریکا، فرانس، جرمنی اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین ایک ٹیم نے جینیاتی تجزیئے سے حل کرلیا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    تحقیق کی غرض سے انہوں نے آخری شامی خچر کےٹشوز جین کے نمونے حاصل کیے صرف 3 فٹ اونچائی والا یہ خچر آسٹریا کے ایک چڑیا گھر میں رکھاتھا اور 1927 میں یہ مرچکا تھا لیکن اس کا مُردہ جسم پوری احتیاط سے محفوظ کرکے آسٹریا ہی میں رکھ لیا گیا تھا۔

    میسوپوٹیمیا کی قدیم دستاویزات میں ’کُنگا‘ کو بہت قیمتی اور ’انعام میں دیا جانے والا‘ جانور بھی قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش بہت مشکل کام ہوا کرتی تھی اس کےلیے نر جنگلی خچر پکڑے جاتے تھے جن کا ملاپ گدھی سے کروا کر ’کُنگا‘ پیدا کیے جاتے

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس کے علاوہ انہوں نے جنوب مشرقی ترکی میں گوئبیکلی تیپ نامی علاقے سے ملنے والے، گیارہ ہزار سال قدیم جنگلی خچر کا جین بھی علیحدہ کیا جو خاصی مکمل حالت میں تھا دونوں جانوروں کے جینوم کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جنگلی خچروں کا ارتقاء بہت تیزی سے ہوا اور اس کا جسم چھوٹا ہوتا چلا گیا تاہم جب میسوپوٹیمیا کے ’کُنگا‘ سے ان کا موازنہ کیا گیا تو واضح طور پر معلوم ہوا کہ ’کُنگا‘ اِن دونوں کے ساتھ ساتھ گدھے سے بھی مشابہت رکھتے تھے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’کُنگا‘ دراصل جنگلی خچروں اور میسوپوٹیمیا کے مقامی گدھوں کے ملاپ سے تیار کیے جاتے تھے وہ جسامت میں عام گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے ہونے کے علاوہ طاقتور اور تیز رفتار بھی تھے لیکن مخلوط (ہائبرڈ) ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والے ’کُنگا‘ کے ڈھانچوں میں دانتوں اور ہڈیوں پر کچھ مخصوص نشانات ظاہر کرتے ہیں ان کے پورے جسموں پر زرہ بکتر جیسے خول چڑھائے جاتے تھے جبکہ طاقت اور تیز رفتاری کی غرض سے انہیں مخصوص غذائیں کھلائی جاتی تھیں ان تمام خصوصیات کی بناء پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انہیں ’جنگی گدھے‘ کا نام دے دیا ہے-

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب، تحریر:نوید شیخ

    بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس حکومت کو پانچ سال گزار لینے دیے جائیں مگر اس عرصے میں ملک کا کیا بنے گا۔ یہ سب سے تشویشناک بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ حکومت مزید کچھ وقت گزار لے۔ مگر حکومت نام کی چیز ختم ہو چکی ہے۔

    ۔ اب جب آئی ایم ایف کی شرائط سامنے آ رہی ہیں کہ اپنا دفاعی حساب کتاب بھی پورے کا پورا سٹیٹ بنک میں رکھو اور سٹیٹ بنک کو پارلیمنٹ یا وزیر اعظم یا پاکستان کی عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونے سے مستثنیٰ کر دیں تو شک تو ابھرتا ہے کہ ہو نہ ہو ان کی نظریں ہمارے ایٹمی پروگرام پر ہیں۔۔ اس لیے بہت سی باتیں ایسی ہو رہی ہیں جو بتاتی ہیں کہ آنے والے دن کسی حکومت کے لئے ہی نہیں اس ملک پر بھی کٹھن ہیں۔ اسے آپ تین ماہ کہہ لیجیے یا 90دن والا پرانا راگ الاپ لیجیے مطلب یہی ہے کہ مستقبل قریب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ اسی لیے وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا ہے کہ آئندہ تین ماہ ان کی حکومت کے لئے مشکل ہیں۔ ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت پتلی ہے۔ ہمارے پاس اتنی مصنوعات نہیں کہ دنیا کو بیچ کر اپنی ضرورت کے مطابق ڈالرز کما سکیں۔ ملک میں ستّر برسوں میں صنعتی ترقی نہیں ہوسکی۔ ہماری حکومتوں کے اخراجات ان کی آمدن سے دو گنا ہیں۔

    ۔ جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو پاکستان گندم اور چینی برآمد کر رہا تھا۔ آج یہ دونوں چیزیں درآمد کر رہا ہے۔۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے سال پاکستان میں کپاس کی تقریباً 11 ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی۔پچھلے سال اس نے تقریباً 5.5 ارب گانٹھیں پیدا کیں جو 1983-84کے بعد سب سے کم ہیں۔۔ اس سیزن میں ہماری زرعی پیداوار کیسی ہو گی اس کا اندازہ یوریا کی خرید، قلت اور بلیک مارکیٹنگ کے لیے لمبی قطاروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ۔ پی ٹی آئی گردشی قرض ختم کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھا رہی ہے۔ اس کے باوجود بجلی کے نرخوں میں دوگنا اضافے کے ساتھ گردشی قرض بھی دوگنا ہو گیا ہے۔۔ حکومت نے سستی گیس کی تلاش میں ایل این جی کو 4 ڈالر میں لینے سے انکار کیا اور پھر بعد میں اسے 30 ڈالر میں خریدا۔۔ پولیس کا رونا تو سب روتے ہیں مگر بزدار کی جانب سے پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کے تیرہ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے آٹھ سیکرٹری تبدیل ہوچکے ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں انھوں نے سائیکل پر وزیر اعظم ہاوس آنا تھا، مگر انھوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ ۔ گورنر ہاوس کی دیواریں گرانا تھی اور وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی میں بدلنا تھا۔ ۔ نئے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا وہ تو انھوں نے کیا بنانا تھا پرانے پاکستان کا بھی انھوں نے بیڑاغرق کرکے رکھ دیا ہے ۔ ۔ چن چن کر عمران خان نے اس قماش کے لوگ وزیر اور ترجمان لگائے ۔ جو صرف زبان چلانے میں ماہر تھے ۔ واحد کارکردگی ان کی یہ تھی کہ وہ پالش اچھی کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔

    ۔ انھوں نے ملک کو ویلفیر اسٹیٹ ، ریاست مدینہ پتا نہیں کیا کیا بنانا تھا ۔۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خود کشی کرنی تھی ۔ ۔ پولیس ریفارمز لانی تھیں۔ لیکن آٹھ آٹھ IGبدل کر بھی ریفارمز نہیں لائی جا سکیں ۔ ۔ نوے دن میں کرپشن سمیت تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا تھا۔۔ بیرونی قرضے ختم کرنے تھے۔ ۔ صاف شفاف احتساب کرنا تھا ۔ ۔ ڈالر کو روپے کے مقابلے میں ٹکے ٹوکری کرنا تھا۔ ۔ امریکہ کو اوقات میں رکھنا تھا ۔ ۔ مسلم امہ کو لیڈ کرنا ۔۔ یہ سب جھوٹ تھا ۔ نہ ان کو معیشت کا پتہ ہے ، نہ گورننس کا ، نہ قانون کا اور نہ ہی اخلاقیات کا ۔۔۔ ۔ تو یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔

    دوسری جانب جہاں حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر رشوت لے کر سودے کرنے کا الزام عائد کیے ہیں۔۔ تومریم نواز بھی کسی بھی صورت اس حکومت کو گھر بھیجنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ۔ پھر پہلے حکومت خود نواز شریف کو باہر بھیجتی ہے ۔ اب نواز شریف کو اپنی شرائط پر واپس لانے کے لیے بے تاب ہے۔ ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نواز شریف بڑی شان و شوکت سے وطن واپس آئیں گے اور انہیں جیلوں میں ڈالنے کی خواہش رکھنے والے ایوان اقتدار کے پنچھی انہیں ٹی وی پر دیکھ کر خوب آگ بگولہ ہوں گے ۔۔ عمران خان نیوٹرل ایمپائر کی صدائیں تو بہت لگاتے رہے ہیں ۔ مگر سچ یہ ہے کہ ایمپائر کےبغیر تو یہ ایک اورر بھی گزار نہیں سکتے ۔ ۔ بیس سال سے تحریک انصاف کے اہم رکن اور عمران خان کے پرانے ساتھی احمد جواد نے مبینہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی سے ایک ہفتہ پہلے تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت نے عمران خان کو نواز شریف کی نااہلی کی خبر دے دی تھی اور ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے ساتھ تحریک انصاف کی اہم اور سینئر شخصیت کو بھی نااہل کیا جائے گا تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ اور اس وقت جہانگیر ترین بھی اس مقام پر موجود تھے جب یہ خبر آئی۔۔ مگر پی ٹی آئ کا سوشل میڈیا وہ غلاظت ہے جو پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کے کھاتے میں جاۓ گی۔ کوئی ان حقائق اور چیزوں پر بات کرے تو یہ اسے غدار اور پتہ نہیں کن کن القابات سے نوازانا شروع کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ گزشتہ چند ماہ کے واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اب مزید ایسا نہیں چل سکتا ۔ عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کی بس ہوچکی ہے ۔۔ اب منی بجٹ مسلط کرنے والے غریب دشمن کرپٹ مافیاز کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ عام انتخابات پی ٹی آئی کا آخری انتخاب ثابت ہوگا۔

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    محمد رضوان نے میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف کا تحفہ کیوں دیا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے قومی ٹیم کے سابق بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دینے کی وجہ بتائی ہے۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک انٹرویو میں محمد رضوان نے بتایا ہم جب نماز پڑھتے تو وہ ہمیں باجماعت نماز کی ادائیگی کرتے دیکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ہی ایسی چیزیں ڈالیں، وہ ہم سے اس موضوع پر سوال کرتے تھے۔

    کرکٹر کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے دوران بات چیت ہوئی تو میں نے ہیڈن سے کہا کہ اگر تقدیر میں ہوا تو ہم یہ میچ جیت جائیں گے، اگر ہماری محنت کم ہوئی تو بھارت ضرور جیت جائے گا، انہیں یہ سب چیزیں محسوس ہوئیں۔

    محمد رضوان نے کہا کہ وہ وقت کچھ مختلف تھا، میں نے ایک شخص سے قرآن مجید منگوایا، جب وہ لے آیا تو میں میتھیو کے کمرے میں گیا اور انہیں یہ تحفے کے طور پر دے دیا، میتھیو کو یہ تحفہ بہت پسند آیا، ہمارے ذمہ یہ کام ہے کہ جو چیز خود کے لیے پسند کریں وہی دوسروں کے لیے بھی منتخب کریں۔

    انہوں نے بتایا کہ میری میتھیو سے بات ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ انہیں بہت مزہ آرہا ہے اور وہ اکثر قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔انٹرویو کے دوران رضوان نے قوم سے اپیل بھی کی کہ میتھیو ہیڈن کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

    واضح رہے کہ محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹورنامنٹ میں پاکستان کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کو قرآن شریف تحفے میں دیا تھا۔

    میتھیو ہیڈن نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں اپنے کمرے میں تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، جب میں نے دروازہ کھولا تو سامنے رضوان کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں قران پاک تھا، وہ لمحہ انتہائی خوبصورت تھا جسے میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    گنہگارانسان ہوں میں یہ کام نہیں کروں گا:محمد رضوان

    لاہور:لڑکیوں کے ساتھ تصاویر کیوں نہیں لیتے؟ رضوان نے وجہ بتادی ،محمد رضوان کہتے ہیں‌کہ میں تو ایک گنہگارانسان ہوں میں کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی میں‌ اس عادت کو پسند کرتا ہوں

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے لڑکیوں کے ساتھ تصاویر نہ بنوانے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر رضوان کا ایک ویڈیو انٹرویو وائرل ہورہا ہے جس میں انہیں خواتین کے ساتھ تصاویر نہ لینے سے متعلق گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    اس انٹرویو میں رضوان کا کہنا تھا کہ میرے لیے خواتین بہت قابل احترام ہیں اور میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ جب کوئی ماں یا بہن میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کا کہتی ہے تو میں ان کے ساتھ تصویر کھنچواؤں، ان خواتین کا معیار میرے نزدیک بہت اعلیٰ ہے۔

    انہوں نے کہا اگر چہ میری خواہش ہے کہ اس عمل پر ہماری مداح ماں بہنیں مجھ سے خفا نہ ہوں لیکن اس کے باوجود کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعے میں خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    اس سے پہلے ایک موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے اپنے پیغام میں عوام سے دعاؤں کی درخواست کردی۔

    قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ’نظام چلانے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے، آپ کے خواب آپ کو اس وقت تک جگائے رکھیں جب تک وہ پورے نہ ہوجائیں۔