Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت  تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر ایک مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ہے 2021 کی دوسری سہ ماہی تک، ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 206 ملین منیٹائزیبل روزانہ فعال صارفین تھے۔
    ٹویٹر ایک مقبول سوشل نیٹ ورک سروس ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹویٹر اشتہاری کمپنیوں کے لیے ایک نئے وسیع میڈیم کے طور پر ایک موثر پلیٹ فارم بن گیا ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ بااثر ٹوئٹر صارفین کو تلاش کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کی پیمائش ضروری ہے۔ بدیہی طور پر، جن صارفین کے زیادہ پیروکار ہیں ان کے زیادہ بااثر ہونے کا امکان ہے۔
    اگر ہم سیاست اور ٹویٹر کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کریں پھر ٹویٹر اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک، آپ صرف کسی مشہور شخصیت یا سیاسی و مذہبی رہنما کا نام لیں جو آپ کو ٹوئٹر پر نہیں ملے!

    ٹویٹر نے نومبر 2020 میں محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ Spaces کی جانچ شروع کی، لیکن اپریل 2021 میں، اس نے عالمی سطح پر iOS اور Android Twitter صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرانا شروع کر دیا جن کے 600 یا اس سے زیادہ فالوورز ہیں۔ 600 سے کم فالورز والے کچھ صارفین کے لیے بھی ٹویٹر اسپیس آپشن استعمال کرنے کے اہل تھے۔
    ٹوئٹر اسپیس حقیقی گیم چینجر ہے، اس سے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے بھی متاثر ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں تو لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسپیس آپشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ڈیٹنگ، نفرت انگیز تقریر، علیحدگی پسند تحریکیں، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کرکٹ، سماجی مسائل، آگاہی۔ وغیرہ۔ انتہائی دلچسپ پہلو جس کا ہم انتخابی موسموں میں مشاہدہ کریں گے جب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ٹوئٹر اسپیس آپشن استعمال کریں گی۔ میں نے کچھ ٹویٹر اسپیس کا مشاہدہ کیا ہے جس میں ہزار سے زیادہ شرکاء نمایاں سیاسی شخصیات بھی بول رہے تھے۔
    سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر، میں ایک ساتھ اشتراک اور سیکھنے کے لیے ٹوئٹر اسپیس کی میزبانی بھی کر رہا ہوں۔ میں پاکستان اور باقی دنیا کے دیگر شاندار آئی ٹی پروفیشنلز کی مدد سے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے زیادہ تر ویک اینڈ پر سپیس کا انعقاد کرتا ہوں۔ اس وقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے! لیکن ٹویٹر اسپیس، آئی ٹی اور دیگر مسائل کے بارے میں لکھوں گا۔ پڑھنے کا شکریہ, اور میں آپ کی رائے کا انتظار کروں گا۔

  • نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    ہوائی: سائنسدانوں نے نظام شمسی کا سب سے دور چھوٹا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس چھوٹے سیارے (planetoid) کا قطر صرف 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ تقریباً 20 ارب کلومیٹر، یعنی زمین کے مقابلے میں 132 گنا زیادہ ہے اور اسی وجہ سے سائنسدانوں نے اسے ’’فار فار آؤٹ‘‘ یعنی ’’دور، بہت دُور‘‘ کا نام دیا ہے۔

    اسے 2018 میں یونیورسٹی آف ہوائی کی رصدگاہ سے دریافت کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے ’’2018 اے جی 37‘‘ کا عارضی نام دیا تھا، لیکن تب انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ سورج سے اس کا فاصلہ کتنا ہے کیونکہ آسمان میں اس کی جگہ بہت آہستگی سے تبدیل ہورہی ہے مختلف دوربینوں سے دو سال تک اس کا محتاط مطالعہ کرنے کے بعد سائنسدانوں پر انکشاف ہوا کہ سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ 132 فلکیاتی اکائیوں جتنا (تقریباً 20 ارب کلومیٹر) ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    اب تک کی تحقیق سے ’’فار فار آؤٹ‘‘ کے بارے میں مزید یہی معلوم ہوسکا ہے کہ سورج کے گرد اس کا مدار انتہائی بیضوی (کسی لمبوترے انڈے جیسا) ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ 175 فلکیاتی اکائیوں جتنا، جبکہ کم سے کم فاصلہ صرف 27 فلکیاتی اکائیوں جتنا رہ جاتا ہے، جو سیارہ نیپچون اور سورج کے درمیانی فاصلے سے بھی کم ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اس وقت نظامِ شمسی میں دیگر دور ترین فلکی اجسام میں ’’فار آؤٹ‘‘ کا سورج سے فاصلہ 124 فلکیاتی اکائیوں جتنا اور ’’گوبلن‘‘ کا فاصلہ 80 فلکیاتی اکائیوں کے برابر ہے؛ لیکن سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ ان میں ’’گوبلن‘‘ کا مدار سب سے بڑا ہے اور سورج سے اس کا زیادہ سے زیادہ فاصلہ 2300 فلکیاتی اکائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

    فار فار آؤٹ کی خیالی تصویر : فوٹو بشکریہ یونیورسٹی آف ہوائی
    ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ’’فار فار آؤٹ‘‘ اور نیپچون کے مدار ایک دوسرے سے قریب آتے رہتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ فار فار آؤٹ کا مدار اتنا زیادہ لمبوترا اور بیضوی ہوگیا ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    فار فار آؤٹ پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے، جس کے بعد اس کی مزید خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔ تاہم اس میں مزید کچھ سال لگ جائیں گے اس کے بعد ہی اسے کوئی باقاعدہ نام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ زمین اور سورج کے اوسط درمیانی فاصلے کو ’’ایک فلکیاتی اکائی‘‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    پٹنہ :بھارت:آج پھرانتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمار کر قتل کر دیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ میں ہندو تو ہجوم نے ایک مسلمان شخص کو مویشی چوری کرنے کا الزام لگا کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 52سالہ محمد صدیقی کو بدھ کے روز ضلع کے گاوں بھوانی پور میں ایک ہجوم نے مویشی چوری کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ اس بہیمانہ حملے کی ویڈیو جمعہ کوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدواقعے کے بارے میں پتہ چلا۔

    پھولکاہ تھانے کی انسپکٹر نگینہ کمار نے بتایا کہ محمدصدیقی کو لاٹھیاں اور مکے مارے گئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کتھر نے کھلی ج ہوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کھلی جگہوں پر نماز کے لیے دیے گئے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اب عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے کوئی تناﺅ نہیں ہونا چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم وقف بورڈ کی اسکی جگہوں کو تجاوزات سے پاک کرانے میں مدد کریں گے اور اس وقت تک لوگوں کو اپنے گھروں وغیرہ میں نماز ادا کرنی چاہیے۔

    دریں اثنا ریاست ہریانہ کے گڑگاوں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ارکان نے مسلمانوں کو جمعہ کو ایک مرتبہ پھر کھلی جگہوں پر نماز کی اجازت نہیں دی۔گڑگاﺅں کے سیکٹر 37 میں نماز کی ادائیگی کو روکنے کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر فوجی جوانوں کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کیے گئے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے سیکٹر 44 میں واقع ایک پارک میں بھی نماز جمعہ میں خلل ڈالا۔

  • پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے

    پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے

    لاہور:پی ایس ایل 7:فرنچائزز کے برقرار کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان:32 ممالک سے 425 کھلاڑی شامل ہوں گے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے 7ویں سیزن کیلئے فرنچائزز کی جانب سے برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں کی فہرست کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    پی ایس ایل 2022 کے ڈرافٹ سے قبل کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار، ٹریڈ اور ریلیز کرنے کی ونڈو آج دوپہر بند ہو گئی اور ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سوا بقیہ تمام فرنچائزوں نے اپنے آٹھ، آٹھ کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں برقرار رکھا ہے۔

    گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز نے اپنے اسکواڈ میں سات، سات کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے۔

    رواں سال پاکستان کرکٹ بورڈ میں لیگ میں فرنچائزوں کے لیے ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کو ’رائٹ ٹو میچ کارڈ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    اس نئے طریقہ کار کے تحت ہر ٹیم کے پاس ایسا ایک کارڈ ہو گا جس کے تحت وہ اس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اسکواڈ سے ریلیز کیے گئے ایک کھلاڑی کو دوبارہ منتخب کر سکیں گے۔

    پی ایس ایل کے ساتویں ایڈیشن کے لیے ڈرافٹ 12 دسمبر کو ہوں گے اور 32 ممالک سے 425 کھلاڑی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔

    ڈرافٹ کے دوران سب سے پہلے لاہور قلندرز کھلاڑی کا انتخاب کرے گی جس کے بعد ملتان سلطانز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور پھر سب سے آخر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا نمبر آئے گا۔

    ہر ٹیم اپنی فرنچائز میں 18 کھلاڑیوں شامل کر سکتی ہے جس میں پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ کیٹیگری میں تین، سلور کیٹیگری میں پانچ، دو ایمرجنگ کھلاڑی اور دو کھلاڑیوں کو سپلیمنٹری کیٹیگری کا حصہ بنا سکیں گے۔

    سلطانز نے جن 7 کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں برقرار رکھا ہے ان میں پلاٹینم کیٹیگری میں کپتان محمد رضوان اور رائلی راسو، ڈائمنڈ کیٹیگری میں عمران طاہر اور صہیب مقصود، ڈائمنڈ میں خوشدل شاہ، شاہنواز دھانی، شان مسعود شامل ہیں۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے چار کھلاڑیوں کو 2021 کے ایڈیشن سے برقرار رکھا ہے جبکہ تین کھلاڑیوں کی دیگر ٹیموں سے ٹریڈ کی ہے۔

    گلیڈی ایٹرز کی جانب سے برقرار رکھے گئے کھلاڑیوں میں پلاٹینم کیٹیگری کے سرفراز احمد، ڈائمنڈ سے محمد نواز، محمد حسنین، نسیم شاہ شامل ہیں، اس کے علاوہ پلاٹینم کیٹیگری کے جیمز ونس، ڈائمنڈ میں افتخار احمد اور گولڈ سے شاہد آفریدی کو دیگر ٹیموں سے ٹریڈ کر کے ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    کراچی کنگز نے کپتان اور عالمی نمبر ایک بلے باز بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے، اس کے علاوہ سابق کپتان عماد وسیم، محمد عامر کو ڈائمنڈ، جو کلارک، شرجیل خان اور عامر یامین کو گولڈ جبکہ محمد الیاس کو سلور کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

    دو مرتبہ کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ آصف علی اور حسن علی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے جبکہ فہیم اشرف اور شاداب خان کو ڈائمنڈ، ایلکس ہیلز، اعظم خان اور محمد وسیم جونیئر کو گولڈ جبکہ پال اسٹرلنگ کو سلور کیٹیگری میں موجود ہیں۔

    پشاور زلمی نے لیام لیونگسٹن اور وہاب ریاض کو پلاٹینم، حیدر علی، شرفین ردرفورڈ اور شعیب ملک ڈائمنڈ، حسین طلعت اور ثاقب محمد گولڈ اور ٹام کوہلر کیڈمور کو سلور کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

    لاہور قلندرز نے افغان اسپنر راشد خان اور شاہین شاہ آفریدی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے، حارث رؤف، ڈیوڈ ویزے اور محمد حفیظ کو ڈائمنڈ جبکہ سہیل اختر، ذیشان اشرف اور احمد دانیال سلور کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔

    ڈرافٹ میں پلاٹینم کیٹیگری میں دستیاب بین الاقوامی کھلاڑیوں میں ڈیوڈ ملر، کرس گیل ، کرس جورڈن، جیسن روئے، ٹائمل ملز، ٹام بینٹن، کولن انگرام، شیمرون ہٹمائر، کولن منرو، تھسارا پریرا، کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیوڈ ولی، ایسورو یوڈانا، سندیپ لیمی چین، تبریز شمسی، مرچینٹ ڈی لانگے شامل ہیں۔

  • بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    بھارت کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے اورعالمی برادری خاموش تماشائی بنی بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید

    اسلام آباد:بھارتی ظالم ، قابض افواج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہیں اورعالمی برادری خاموش تماشائی بن بیٹھی:ایک لاکھ سے زائد شہید اطلاعات کے مطابق آج جب دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہےجبکہ دوسری طرف بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

    آج انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 دسمبر 1948 کا انسانی حقوق کاعالمی اعلامیہ بےشک ایک سنگ میل تھا لیکن کشمیریوں کےانسانی حقوق کی خلاف ورزیاںمسلسل جاری ہیں۔رپورٹ میں کہا کہ انسانی حقوق کےعالمی اعلامیے میں درج 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک بھی بھارت کےغیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں موجود نہیں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی قابض فورسز گزشتہ 74 برسوں سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں بلا لحاظ عمر و جنس کشمیریوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل، گرفتار کر رہی ہیں او انہیں تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنا رہی ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989 سے اب تک 95ہزار9سو25 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7 ہزار 2سو15کو زیر حراست شہید کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 22ہزار 9سو39 خواتین بیوہ اور 1لاکھ7ہزار8سو55 بچے یتیم ہوئے۔بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11ہزار2سو46 خواتین کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا اور 1لاکھ10ہزار4سو45 رہائشی مکانات اور دیگرعمارتوںکو نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اس عرصے میں 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کی طرف سے سے چلائے گئے پیلٹ چھروں سے سکول جانے والے ہزاروں کشمیری لڑکے اور اور لڑکیاں زخمی ہوئے جبکہ 19 ماہ کی حبہ جان، دس سالہ آصف احمد شیخ ، سولہ سالہ عاقب ظہور ، سترہ سالہ الفت حمید ، سترہ سالہ بلال احمد بٹ، انشاءمشتاق، انیس سالہ طارق احمد گوجری اور انیس سالہ فیضان اشرف تانترے سمیت درجنوں بچے پیلٹ لگنے سے مکمل طور پر اپنی بصارت سے محروم ہو گئے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے رواں برس( 2021 ) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما محمد اشرف صحرائی اور بارہ کے لگ بھگ خواتین سمیت 484 کشمیریوں کو شہید کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوںنے زیادہ تر کشمیریوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوںکے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔فوجیوں نے رواں برس 1ہزار48 گھروں اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور 118 خواتین کی بے حرمتی کی جبکہ بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، صحافیوں، معمر خواتین اور لڑکوں سمیت 17ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا۔ اس عرصے میں مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی 10ہزار 5سو کارروائیاں کی گئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض بھارتی حکام نے رواں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اورعلاقے کی کئی دیگر بڑی مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نےعوام کو اس عرصے کے دوران محرم اور عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس جیسے مذہبی اجتماعات کے انعقاد سے بھی کشمیریوںکو روک دیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہے اور بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ظہور وٹالی، غلام محمد بٹ، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، محمد یوسف فلاحی، ظہور احمد بٹ، انجینئر رشید، حیات احمد بٹ، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی آصف سلطان سمیت حریت رہنماوں، کارکنوں، نوجوانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کالے قوانین کے تحت مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو 5اگست 2019سے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی حتیٰ کہ انہیں جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے اور وہاں لوگوں سے خطاب کرنے سے بھی روکا جا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری آگے آئے اور مقبوضہ جموںوکشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرانے اور کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے۔

    دریں اثنا حریت رہنماوں نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیمیں علاقے میں بھیجیں۔

  • لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول

    لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول

    لاہور:لاہور قلندرز کے چوتھے کرکٹر کا میلبورن سٹارز کیساتھ معاہدہ :پاکستانی کرکٹ اسٹارزدنیا بھرمیں مقبول،اطلاعات کے مطابق لاہور قلندرز کے ایک اور فاسٹ بولر کا آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ سے معاہدہ ہو گیا ہے۔

    لاہور قلندرز کے فاسٹ بولر احمد دانیال کا بگ بیش لیگ میں میلبرن اسٹارز سے معاہدہ ہو گیا ہے اور میلبرن اسٹارز کی انتظامیہ نے بھی احمد دانیال کے ساتھ معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔احمد دانیال لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے سامنے آئے۔

    احمد دانیال آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں اور وہ 72 گھنٹوں کا قرنطینہ مکمل کریں گے، قرنطینہ مکمل ہونے کے بعد احمد دانیال اپنی ٹیم کو جوائن کریں گے۔

    24 سالہ احمد دانیال لاہور قلندرز پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعے سامنے آئے اور میلبورن سٹارز کی انتظامیہ نے ان کیساتھ ہونے والے معاہدے سے متعلق اعلان بھی کر دیا ہے۔ میلبورن سٹارز کا کہنا ہے کہ احمد دانیال آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں جو 72 گھنٹوں کا قرنطینہ مکمل کرکے ٹیم جوائن کریں گے۔

    میلبورن سٹارز کے کوچ ڈیوڈ ہسی کا کہنا ہے کہ لاہور قلندرز کے سید فریدون ڈبیو کر چکے ہیں اور اس سیزن میں اب حارث رؤف بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ قبل ازیں حارث رؤف، دلبر حسین اور سید فریدون کا بھی میلبورن سٹارز کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ احمد دانیال رواں سال ابوظہبی میں کھیلی گئی ٹی 10 لیگ کے دوران ابھر کر سامنے آئے تھے اور پھر انہوں نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں بھی اپنی کارکردگی کے جوہر دکھائے اور اب وہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں میلبورن سٹارز کی نمائندگی کریں گے۔

  • شاہد آفریدی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل،دعاوں اورنیک تمناوں کے ساتھ کرکٹ کو خیر باد بھی کہہ دیا

    شاہد آفریدی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل،دعاوں اورنیک تمناوں کے ساتھ کرکٹ کو خیر باد بھی کہہ دیا

    لاہور:شاہد آفریدی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل،کرکٹ کو خیر باد بھی کہہ دیا،دعاوں اورنیک تمناوں کا سلسلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق قومی ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آئندہ ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو جوائن کر لیا۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آئندہ ایڈیشن میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی گئیں، قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جوائن کر لیا، وہ اس سے قبل ملتان سلطانز کی طرف سے کھیل رہے تھے۔

     

    دوسری طرف پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے جیمز وینس بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں چلے گئے۔

    آئندہ سیزن کے لیے قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین افتخار احمد بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل ہو گئے وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کر رہے تھے۔آئندہ سیزن کے دوران وکٹ کیپر بیٹرز اعظم خان کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے اسلام آباد یونائیٹڈ میں بھیج دیا گیا ہے۔

     

     

    دوسری طرف اپنے ایک پیغام میں لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا اعلان کردیا ہے۔

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے ساتویں ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بننے والے شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ ان کا آخری پی ایس ایل ہوگا۔پی ایس ایل اب ایک برانڈ بن چکا ہے ،امید کرتا ہوں فینز ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی سپورٹ کریں گے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مثال قائم کردی

    سری نگر :مقبوضہ کشمیر:مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے حیران کردیا،اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے بیگام گاؤں میں مقامی مسلمانوں نے مذہبی ہم آہنگی، انسانیت اور کشمیریت کی عمدہ مثال قائم کی ہے جہاں وہ ایک عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون کی آخری رسومات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔

    تفصیلات کے مطابق عمر رسیدہ راجپوت ہندو خاتون لاجونتی دیوی کا جوں ہی انتقال ہوا تو یہ خبر سُنتے ہی مقامی مسلمان غمزدہ کنبوں کی ڈھارس بندھانے پہنچ گئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب مذکورہ خاتون کی موت واقع ہونے کی خبر گاؤں میں پھیل گئی تو گاؤں کے سارے لوگ ان کے گھر پر جمع ہوئے اور رات بھر وہیں ٹھہرے رہے تاکہ لواحقین کی ڈھارس بندھائیں’۔

    مقامی مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ پورا گاؤں رات بھر ہمارے ساتھ تھا۔مقامی لوگوں نے ہی خاتون کی آخری رسومات انجام دینے کے لیے سارے انتظامات کئے۔ واضح رہے کہ مقامی مسلمانوں نے ہندو خاتون کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ وہ ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رہے

  • "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    یورپی ملک سوئٹزر لینڈ میں موت دینے والی "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی طور پر منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزر لینڈ میں منظور ہونے والی خودکش مشین کے ذریعے کسی بھی انسان کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہائپوکسیا اور ہائپو کیپنیا کے ذریعے بہت سکون والی موت دی جا سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ایک کیپسول کی شکل والی مشین ہے جس میں لیٹنے والے شخص کی جان آسانی سے نکل سکتی ہے۔

    مذکورہ مشین کو ڈاکٹر فلپ نیٹسیکے نے بنایا ہے جنہیں ڈاکٹر ڈیتھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس مشین کو کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس مشین کو سارکو کا نام دیا گیا ہے اور اسے ایک تابوت کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اور انھوں نے کہا کہ وہ ایک مصنوعی ذہانت کا اسکریننگ سسٹم تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاون خودکشی کے لیے کسی شخص کی ذہنی صلاحیت کو قائم کیا جا سکے ڈاکٹر نٹشکے، جو ایگزٹ انٹرنیشنل چلاتے ہیں، نے بتایا کہ اسے تابوت نما 3-D پرنٹ شدہ سارکو کیپسول کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو مرنے والے شخص کے ذریعے اندر سے چلایا جاتا ہے”وہ شخص کیپسول میں داخل ہو جائے گا اور لیٹ جائے گا۔ یہ بہت آرام دہ ہے۔ ان سے متعدد سوالات پوچھے جائیں گے اور جب وہ جواب دے دیں گے تو وہ اپنے وقت پر کیپسول کے اندر موجود بٹن کو دبائیں گے جو میکانزم کو چالو کرے گا-

    جس سے کیپسول نائٹروجن سے بھرجائے گا جس سے آکسیجن کی سطح کو تیزی سے 21 فیصد سے 1 فیصد تک کم کر دیا جائے گا آکسیجن کی نہایت کم فراہمی جاتی اور جسمانی ٹشوز کو مقررہ آکسیجن ناملنے کی صورت میں انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    اس پورے پروسیس میں تقریباً 30 سیکنڈ لگتے ہیں۔ موت بالترتیب ہائپوکسیا اور ہائپوکیپنیا، آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی سے ہوتی ہے۔ کوئی گھبراہٹ نہیں ، کوئی گھٹن کا احساس نہیں ہوتا-

    ڈاکٹر نٹشکے نے کہا کہ کیپسول کو سوئٹزرلینڈ میں ایک قانونی طور پر پاس کر دیا گیا ہے اور اب اسے وہاں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں معاون خودکشی قانونی ہے، یعنی ایک شخص خود کو مار سکتا ہے، لیکن یوتھناسیا غیر قانونی ہے، یعنی کسی شخص کو کسی دوسرے کے ذریعے قتل نہیں کیا جا سکتا، چاہے یہ رضاکارانہ ہو۔

    سعودی عرب: خوبصورتی کے انجکشن لگوانے کی وجہ سے 40 اونٹ مقابلہ حسن کی دوڑ سے باہر

  • غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید

    غریب عوام کا الاؤنس کب بڑھے گا ؟ تحریر:عبدالوحید
    السلام علیکم ناظرین آپ بخوبی آگاہ ہوں گئے پاکستان میں مہنگائی اس وقت عروج پر ہے ۔اس مہنگائی نے سب کی برکس نکال دی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب بچارا غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے ۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ۔ حکومتی کی مشینری ناکام ہوچکی ہے ۔ ہر کسی نے اپنے ریٹس لگائے رکھے ہیں ۔ انتظامیہ غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کا نام نہیں لے پا رہی ہے۔ بے حس ، چپ چاپ تماشائیوں کی طرح بیٹھے حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ کسی کو کوئی احساس نہیں کہ غریب عوام کا بھی کچھ سوچا جائے ۔ عوام بری طرح سے مہنگائی کا شکار ہیں ۔ مہنگائی اگرچہ پوری دنیا میں آئی ہوئی ہے۔ ہر ملک اس مہنگائی کا شکار ہے۔ اس مہنگائی نے سب ممالک کے معاشی ترقی کی رفتار میں ایک سخت بریک کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ بڑے بڑے امیر ممالک جن میں کئی یورپین ممالک بھی شامل ہیں اس مہنگائی سے دو چار ہیں ۔ لیکن ان ممالک میں ایک چیک اینڈ بیلنس سسٹم ضرور موجود ہے ۔ ایک حد تک مہنگائی کی سمجھ ضروری آتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں ایک مختلف قسم کی مہنگائی ہے ۔ ایسی مہنگائی جس کا آج تک کوئی تصور نہیں تھا۔

    جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے پاکستان میں مہنگائی کا گراف اوپر کی جانب گیا ہے ۔ یہ گراف کھبی نیچے آنے کا نام نہیں لیتی ہے ۔ اس مہنگائی کی وجہ سے اب غریب عوام کو دو وقت کی روٹی کھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ وزیرِ اعظم روزانا ٹی وی آکر کہتے ہیں ہمیں اس چیز کا اندازہ ہے پاکستان میں مہنگائی ضرور ہے ہم جلد اس مہنگائی کے دلدل سے نکل آئیں گے۔ لیکن ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ اب ہر ایک وزیرِ اعظم کے ان باتوں سے ناامید ہوگیا ہے ۔ مہنگائی کی شرح آسمان کو چو رہی ہے ۔ ایک دھاڑی دار روزانا چھ سے سات سو روپے کماتا ہے ۔ صبحِ سات بجے سے لےکر شام چھ بجے تک سخت محنت کرنے کے بعد اس کو چھ سے سات سو روپے ملتے ہیں ۔ اتنے کم پیسوں سے اس دھاڑی دار کا گزر بسر کیسے ہوگا ۔ وہ اتنے کم پیسوں سے اپنا گزر بسر نہیں کرسکتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس چیز سے کسی کو انکار نہیں۔ وہ دھاڑی دار چھ سے سات سو روپے میں کیا کیا خرید سکتا ہے ۔ اگر کوئی بندہ حکومتی وزراء سے اس مہنگائی کے حوالے سے بات کرتا ہے تو ایسے ایسے لاجک پیش کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ۔ پچھلے دنوں میں وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا تھا آپ چائے میں چینی کے دانے گنتی کرکے ڈالیں۔ دو وقت کی روٹی میں دو کی بجائے ایک روٹی کھائیں۔ اور خود عیش پرست زندگی گزارنے میں لگے ہیں ۔ اور مختلف الاؤنس لے رہے ہیں ۔ روزانہ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی جاتی ہے کہ اسمبلی ارکان کے الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔ خود مختلف الاؤنس لے کر اپنے جیب بھر رہے ہیں روزانا ایک نئی قرارداد پیش کی جاتی ہے کہ ہمارے الاؤنس بڑھائے جائیں۔ ان حکمران طبقے کے نیچے بے کس لاچار غریب عوام ہے جس کے ووٹوں سے آپ ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں آپ کو اس غریب عوام کی کوئی فکر نہیں ۔ ان کے حال پر کوئی رحم و کرم نہیں آتا ہے۔ ان کا کوئی الاؤنس نہیں ۔ اور ناہی کوئی ان کے الاؤنس بڑھانے کو تیار ہے۔

    مہنگائی اب سر سے اوپر ہو چکی ہے ۔ غریب اب فاکے اور خودکشی پر آگئے ہیں ۔ لیکن حکمران طبقے کے سر سے جوں تک نہیں رینگتی ۔ اپنے الاؤنس بڑھاتے جارہے ہیں ۔ نا جانے غریب عوام ایسی مہنگائی کب تک برداشت کرنی پڑے گی۔ کب غریب عوام کے الاؤنس بڑھانے کی بات ہو گی ۔ نا جانے کب حکمران طبقے کو حوش آئے گا ۔ اب لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ کوئی ایسا مسیحا آ جائے جو اس مہنگائی کی دلدل سے نکلے۔ ہر ایک اس بات کا منتظر ہے کہ غریب کی آواز سنی جائے۔
    @Wah33d_B