Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ

    سیلاب کے زخم اور سیاست کے بیگ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لاکھوں افراد اپنے گھروں، کھیتوں اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں،وہاں حکومتی ریلیف کی تقسیم متاثرین کے لیے امید کی ایک کرن ہونی چاہیے تھی۔ قدرتی آفات کے بعد عوام کی نظریں ہمیشہ ریاست پر لگی ہوتی ہیں کہ وہ کس طرح ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہے۔ مگر پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف کی تصویر والے بیگ اور باکسز کی تقسیم نے عوامی سطح پر امید کے بجائے غصے اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیگ واقعی سیلاب متاثرین کے آنسو پونچھ رہے ہیں یا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں؟ کیا ان بیگز کی تیاری پر خرچ ہونے والا پیسہ متاثرین کی زندگی میں کوئی حقیقی آسانی لا رہا ہے یا یہ سب صرف سیاسی تشہیر اور ذاتی برانڈنگ کا کھیل ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا عوامی ٹیکس سے حاصل شدہ پیسہ ایک منتخب نمائندے کی ذاتی تشہیر پر ضائع کیا جا سکتا ہے؟

    سیلاب کی تباہ کاریوں کی حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے ایسی بربادی مچائی کہ لاکھوں خاندان بے گھر ہو گئے، کسانوں کی محنت سے اگائی گئی فصلیں برباد ہو گئیں اور مویشی تک ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ دیہات سے شہروں تک ہر جگہ پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے بیچ کا فرق بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومتی ریلیف پیکیج عوام کے لیے سہارا بن سکتا تھا۔ مگر جب یہ ریلیف متاثرین تک مریم نواز کی بڑی بڑی تصاویر والے بیگ میں پہنچا تو عوامی ردعمل بالکل مختلف نکلا۔

    سوشل میڈیا پر عام شہریوں نے ان بیگسز کو مذاق اور دکھ کے امتزاج سے تعبیر کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان بیگز میں موجود اشیاء جیسے دو پیکٹ بسکٹ، ایک جوس کا چھوٹا ڈبہ جن کی قیمت بمشکل 50 روپے بنتی ہے، اس کے مقابلے میں بیگ کی تیاری اور پرنٹنگ پر سو روپے سے زیادہ خرچ آ رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار عوام کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ترجیحات کہاں ہیں؟ کیا مقصد سیلاب زدگان کی فوری بحالی ہے یا اپنی شخصیت کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنا؟ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ریلیف جیسا اقدام دراصل ایک ’’پی آر ڈیزاسٹر‘‘ ثابت ہوا ہے کیونکہ امداد کی اصل لاگت کے مقابلے میں بیگ اور اس کی برانڈنگ کی لاگت کہیں زیادہ ہے۔

    یہی نہیں ان بیگز کی تقسیم نے سیاسی پروپیگنڈے کا رنگ بھی اختیار کر لیا۔متاثرین کی جھونپڑیوں میں، سکولوں میں بنائے گئے ریلیف کیمپس میں اور حتیٰ کہ مساجد تک میں یہ بیگ بانٹے گئے، جن پر مریم نواز کی تصاویر نمایاں تھیں۔ یہاں تک کہ مساجد کے سائن بورڈز کو بھی مریم نواز شریف کی تصاویر سے مزین کر دیا گیا، جس نے عوامی ردعمل کو مزید بھڑکا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اللہ کے گھر کے باہر بھی سیاست کی تشہیر کا یہ طریقہ درست ہے؟ ناقدین نے اسے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک طرح کی ’’نارسیسٹک‘‘ سوچ قرار دیا جس میں عوام کے دکھ درد کے مقابلے میں ذاتی تشہیر زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سینکڑوں ویڈیوز اور پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں متاثرین نے خود اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بیگ یا ڈبے پر لیڈر کی تصویر لگانے سے انہیں کوئی سہولت نہیں ملتی۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ’’ہمیں کھانے کو روٹی چاہیے، رہنے کو چھت چاہیے، دوا چاہیے، یہ تصویریں ہمارے زخم نہیں بھرتیں‘‘۔ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اب پنجاب میں صرف کفن پر مریم نواز کی تصویر لگنا باقی ہے، عمومی رائے کے مطابق یہ بیگ دراصل حکومتی نااہلی اور عوامی احساسات سے بیگانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

    ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ یہ بیگ اور باکسز عوامی ٹیکس کے پیسوں سے تیار کیے گئے۔ جب متاثرین دیکھتے ہیں کہ انہی کے ٹیکس سے جمع ہونے والے وسائل کو ان پر براہ راست خرچ کرنے کے بجائے ایک فرد یا خاندان کی سیاسی تشہیر پر لگایا جا رہا ہے تو ان کے دلوں میں بداعتمادی اور غصہ مزید بڑھتا ہے۔ پنجاب میں صرف فوڈ بیگز نہیں بلکہ دودھ کے ڈبوں اور پھلوں پر بھی مریم نواز کی تصاویر دیکھی گئیں۔ یہ سب اقدامات عوام کو اس نتیجے پر پہنچا رہے ہیں کہ ریاست ان کے دکھ درد پر سنجیدگی سے نہیں بلکہ تشہیر کی نیت سے توجہ دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ کہا گیا اور بعض صارفین نے طنزیہ لکھا کہ ’’اب شاید بارش کے پانی پر بھی مریم نواز کی تصویر چھاپ دی جائے‘‘۔

    یہ رویہ کسی ایک صوبے یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ہماری مجموعی سیاست کی خودغرضی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاستدان خدمت سے زیادہ تشہیر کو ترجیح دیتے ہیں۔ قدرتی آفات کے وقت عوام کو سب سے زیادہ ضرورت خوراک، پینے کے صاف پانی، ادویات اور سر چھپانے کے لیے چھت کی ہوتی ہے۔ لیکن جب ان کی جگہ رنگین بیگ اور تشہیری مہم چلائی جائے تو یہ صرف مایوسی کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی معاشی بحران اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، وہاں اس طرح کی حکمتِ عملی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مزید تکلیف دیتی ہے۔

    اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اپنے وسائل براہ راست متاثرین کی بحالی پر خرچ کرے۔ اگر بیگ اور ڈبوں کی پرنٹنگ پر لگنے والا پیسہ متاثرہ خاندانوں کو صاف پانی، ادویات یا عارضی رہائش کی فراہمی پر استعمال کیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس کے برعکس موجودہ پالیسی نے حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ حکومتی اقدامات کا مقصد خدمت نہیں بلکہ اشتہار بازی ہے۔

    اس سارے تناظر میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ حکومت کو اپنی ترجیحات درست کرنا ہوں گی۔ اگر لیڈرز واقعی عوامی نمائندے ہیں تو انہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، نہ کہ تصویر والے بیگز کے ذریعے ان کے زخموں کو کھرچا جائے اور دکھ کم کرنے کے بجائے ان کے دلوں میں مزید نفرت کے بیج بوئے جائیں۔ سیلاب زدگان کو ضرورت ہے خوراک، دواؤں، رہائش اور معاشی مدد کی، نہ کہ پبلسٹی کی۔ اگر یہ رویہ جاری رہا تو عوام کی مایوسی اور بداعتمادی ایک بڑے احتجاجی طوفان میں بدل سکتی ہے، جس کے اثرات صرف ایک سیاسی خاندان پر نہیں بلکہ پورے نظام پر پڑیں گے۔

  • سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    سیالکوٹ سیلاب: ناقص نکاسی، نااہل کمپنی اور شہریوں کی فریاد

    "حالیہ سیلاب نے شہر اقبال کو مفلوج کر دیا، گندے پانی اور تعفن سے شہری پریشان ہیں۔ اربوں کا ٹھیکہ لینے والی نااہل کمپنی صفائی میں ناکام رہی، شہریوں نے فوری معاہدہ منسوخ کرنے اور کرپٹ عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔”

    تحریر: مدثر رتو، ڈسٹرکٹ رپورٹر، باغی ٹی وی، سیالکوٹ

    حالیہ طوفانی بارشوں اور مکار دشمن بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلے نے شہر اقبال کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سارا شہر اور گردونواح کے علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے، مال مویشی پانی میں بہہ گئے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر تیار فصلیں تباہ ہو گئیں۔ سینکڑوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں اور نکاسیِ آب کے باوجود کئی روز تک اندرونِ شہر اور نشیبی علاقوں میں چار سے پانچ فٹ پانی کھڑا رہا۔

    واسا کا عملہ بھی دن رات سیلابی پانی نکالنے کے لیے مصروف رہا، مگر ہر طرف تعفن پھیلا ہوا تھا۔ نکاسیِ آب میں تاخیر اور تعفن کا ذمہ دار ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا ناآزمودہ اور نااہل عملہ ہے، کیونکہ بدقسمتی سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا اربوں روپے کا ٹھیکہ ایک انتہائی ناآزمودہ، نااہل اور مالی طور پر غیر مستحکم کمپنی کو دیا گیا تھا . جس کا اس سے قبل نہ تو کوئی تجربہ تھا اور نہ مبینہ طور پر کوئی مناسب مشینری۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یہ جو کمپنی کے ظاہر کئے جانے والے مالکان ہیں وہ محض مہرے ہیں اور اصل مالک مبینہ طور پر پردہ نشیں ہیں۔

    اس ناآزمودہ اور نااہل کمپنی کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے سیالکوٹ، تحصیل سمبڑیال، ڈسکہ سمیت شکرگڑھ اور نارووال کا نہ صرف ٹھیکہ دیا گیا بلکہ دس فیصد ٹھیکے کی رقم، جو کہ کروڑوں روپے بنتی ہے، بطور ایڈوانس بھی ادا کی گئی۔ جب سے یہ کمپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہے شہر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے اور ورلڈ بینک کی جانب سے دی گئی کروڑوں روپے مالیت کی مشینری کا بھی بیڑہ غرق ہو چکا ہے، مگر انہیں کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ ان کے کچرا اٹھانے کا نہ تو کوئی ٹائم فریم ہے اور نہ ہی کوئی مناسب ڈمپنگ پوائنٹس ہیں۔

    پل ایک نیکا پورہ کے قریب، سکول نمبر 2 کے پاس، وزن کے لیے لگنے والے کانٹے کے سامنے سارا دن گندگی سے بھری ہوئی ٹرالیاں اور ڈمپرز کی لمبی قطاریں کھڑی رہتی ہیں جو ہر طرف تعفن پھیلا دیتی ہیں اور ٹریفک کا بلاک رہنا معمول بن چکا ہے۔ اسی جگہ سے بچے انتہائی تعفن سے گزر کر سکول جاتے ہیں اور کانٹے کے بالکل سامنے قبرستان ہے جہاں اکثر جنازوں کا گزرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

    یہ ناآزمودہ ٹھیکیدار گلی محلوں سے اٹھایا گیا کوڑا کچرا واپس انہی نالوں میں پھینک دیتے ہیں اور اسی وجہ سے سیلابی پانی کی نکاسی میں مشکلات پیش آئیں، کیونکہ کوڑے سے بھرے ہوئے شاپرز سیوریج کے پائپوں میں بلاکیج کا باعث بنے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق سیلاب سے قبل ناقص کارکردگی کے باعث اس نااہل کمپنی پر مبینہ طور پر بھاری جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹھیکہ دینے سے قبل کن کن قومی اخبارات میں ٹینڈرز کے اشتہارات دیے گئے تھے اور ٹینڈرز کے وقت کتنی نامور کمپنیوں نے حصہ لیا تھا؟ اس ناآزمودہ کمپنی کو کس بنیاد پر اربوں روپے کا ٹھیکہ دیا گیا جس نے شہر اقبال کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا ہے؟ حالانکہ اس کمپنی سے پہلے سیالکوٹ اندرونِ شہر اور گردونواح میں صفائی ستھرائی کی مثال تھی۔

    شہریوں نے اربابِ اختیار سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اس ناآزمودہ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کر کے کسی تجربہ کار کمپنی کو ٹھیکہ دیا جائے، اور ساتھ ساتھ جن کرپٹ ٹھیکیداروں نے اربوں روپے کی لاگت سے سڑکیں بنوائیں انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اُن سرکاری افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن کے دستخطوں سے مبینہ طور پر بھاری بل پاس ہوئے تھے؛ ان قومی مجرموں کی جائیدادیں ضبط کر کے نیلام کی جائیں اور رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے، اور انہیں سخت ترین سزائیں دلوانی جائیں۔

  • عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد

    عام آدمی کیفے سے اٹھنے والی آواز ۔۔۔ ایک نئی تحریک کی بنیاد
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    ڈیرہ غازی خان کی پہچان صرف جغرافیہ یا روایت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ خطہ اب پاکستان بھر کی اعلیٰ شخصیات کی فکری بیٹھکوں کا مرکز بن چکا ہے۔ آج بھی اس روایت کو قائم رکھتے ہوئے کامرس کالج کے قریب واقع "عام آدمی کیفے” میں ہونے والی حالیہ نشست اس بات کا بین ثبوت ہے، جہاں ملک کی قدآور اور تاریخ ساز شخصیات نے اپنی گفتگو سے نئے فکری دروازے کھول دیے۔

    اس نشست میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے نامور مرکزی رہنما اور مسلسل 40 سالوں سے ایوانوں میں عوامی آواز بلند کرنے والے صاحبزادہ رحیم آصف مجددی شریک ہوئے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف سیاست بلکہ علم، تاریخ اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہے اور آپ کی بے گراں خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اسی محفل میں علم و دانش کے سمندر، سابق وائس چانسلر اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر امین الدین، فکر و تحقیق کی علامت پروفیسر سردار نسیم خان چانڈیہ، اور سینئر جرنلسٹ و کالم نگار جواد اکبر بھٹی بھی موجود تھے۔

    گفتگو کا مرکزی نکتہ ڈیرہ غازی خان اور اردگرد کے علاقوں میں کینسر اور گردوں کے امراض کے بڑھتے ہوئے مسائل تھے۔ متفقہ طور پر یہ آواز بلند کی گئی کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس خطے میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک کینسر اور کڈنی ہسپتال قائم کیا جائے۔ اس تحریک کو ہر فورم پر اٹھانے اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حکومت وقت پر یہ مطالبہ بھرپور انداز میں سامنے آئے۔

    مزید برآں کشمور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ڈبل روڈ کی اشد ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ منصوبہ نہ صرف تجارت، سیاحت اور عوامی سہولت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا بلکہ پورے خطے کی ترقی کے نئے باب کھول دے گا۔

    صاحبزادہ رحیم آصف مجددی کی خدمات تو بے پناہ ہیں جن میں ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ ڈیرہ غازی خان کا گرلز کالج ماڈل ٹاؤن انہی کی محنت اور انتھک کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان کی عوامی خدمت اور تعلیمی وژن کی روشن مثال ہے جسے ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔

    نشست میں اس بات پر بھی سخت مذمت کی گئی کہ تعلیم اور صحت کو ایک صنعت (انڈسٹری) میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیم اور صحت کو کاروبار بنانا دراصل عوامی حق تلفی ہے اور اس سوچ کو ہر سطح پر چیلنج کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

    اسی طرح بارڈر ملٹری پولیس میں حالیہ بھرتیوں کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ خصوصاً میرٹ پر ہونے والی بھرتیاں اور خواتین کی شمولیت ایک مثبت قدم ہیں جو قبائلی سماج میں نئے امکانات پیدا کرے گا۔

    گفتگو کا سب سے اہم پہلو عوامی بیداری پر زور دینا تھا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند نہیں کریں گے، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ یہی شعور دراصل ڈیرہ غازی خان اور پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

    یہ نشست محض ایک فکری محفل نہیں تھی بلکہ ایک نئی تحریک کا آغاز تھا، ایک تحریک جو صحت، تعلیم، ترقی اور عوامی بیداری کے راستے روشن کرے گی۔

    📌 "ریاست کی اصل بقا صرف مضبوط ایوانوں یا بڑی شاہراہوں میں نہیں بلکہ ایسے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عوامی بیداری میں ہے جو ہر شہری کو باعزت زندگی جینے کا حق دے سکیں۔”

  • چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین ایک ترقی یافتہ ملک ہے جسے دیکھنے کا خواب شاید بہت سے لوگوں نے دل میں بسایا ہو۔پاکستان سمیت پوری دنیا چین کی ترقی کی معترف ہے۔چائنہ ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور سے صحافیوں اور شعبہ تعلیم سے وابستہ 12رکنی وفد میں مجھے بھی چین جانے کا موقع ملا۔دورہ چین میں ہم نے بیجنگ، ینچوان، گوئیانگ اور گوانگژوکا وزٹ کیا۔
    چین کے ہر شہر کی ترقی اور مثالی نظم و ضبط نے ہمیں ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ روبوٹک کام سے لے کر فاسٹ ٹرین کے سفر تک ہر لمحہ ایک نیا تجربہ تھا۔

    سب سے زیادہ متاثر کن پہلو وہاں کا ویسٹ مینجمنٹ سسٹم تھا، جہاں کچرے اور راکھ کو ضائع کرنے کے بجائے اینٹوں میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ تعمیرات میں استعمال ہو سکے۔ یہ وہ سوچ ہے جو نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ وسائل کے بہترین استعمال کی علامت ہے۔چین میں فیکٹریوں میں مزدور اور روبوٹ ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ ڈرائیور لیس گاڑیوں کا تجربہ بھی حیران کن تھا۔ بیجنگ سے گوانگژو کے سفر نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ چین اپنی ٹیکنالوجی کو کس طرح عوامی زندگی میں ضم کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کا Face Recognition System کمال کی رفتار سے کام کرتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے۔ نہ کوئی اضافی فورسز بنائی گئیں اور نہ ہی کسی ہنگامہ آرائی کی ضرورت ہے۔ چین کی پولیس تیز ترین، قانون نہایت سخت اور خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ وہاں کسی مرد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر شیک ہینڈ بھی کر سکے۔ یہ وہ فرق ہے جو چین کو مغربی معاشروں اور خاص طور پر برصغیر سے منفرد بناتا ہے۔

    چینی عوام اپنے رویوں میں بھی مختلف ہیں۔ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور دوست ممالک کے ساتھ نہ صرف حکومت بلکہ عوامی سطح پر بھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ چین میں سیکیورٹی نظام انتہائی فول پروف اور مؤثر ہے مگر مسافروں کی عزت نفس پر کوئی حرف نہیں آتا۔ سیلاب ہو یا کوئی قدرتی آفت، چین کا سیفٹی سسٹم ہمہ وقت ہنگامی بنیادوں پر تیار رہتا ہے۔چین نے اپنی ترقی اور تہذیب کو محفوظ بنانے اور اس قدیم و عظیم ورثے کو دکھانے کے لیے ہر شہر میں شاندار میوزیم قائم کر رکھے ہیں، جن میں غربت کا میوزیم، میٹرو میوزیم اور وار میوزیم شامل ہیں۔ وہاں ہمیں 7th China-Arab States Expo میں شرکت کا موقع بھی ملا، جہاں ہم نے عرب ممالک کو چین کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ چین تیزی سے ایک نئے عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔
    یقیناً آنے والے دس برسوں میں چین وہ سپر پاور ہوگا جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کی حیثیت مدھم پڑ جائے گی اور دنیا کے ممالک خود چین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس کی دوستی ایک ایسے ملک کے ساتھ ہے جو نہ صرف ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا کے لیے رول ماڈل بھی ہے۔

    چین کا پیغام سادہ ہے خواب حقیقت بن سکتے ہیں اگر سوچ وسیع، قانون سخت، قیادت وژنری اور عوام منظم ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی صبح کو بیجنگ کی صبح کی طرح روشن بنا سکتے ہیں؟ اگر ہم اس رفتار سے نا چل سکے تو شاید اندھیرا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہونا بہت بڑا المیہ ہے جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے

    پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے

    آخر کیا وجہ بنی کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس رپورٹ پر نہ خود عمل کیا اور نہ ہی عملدرآمد کروایا اور نہ ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیا؟

    وزراء اعلٰی پنجاب سندھ، بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان ڈچ رپورٹ منگوا کر اس پر ورک کریں اور ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائیں

    قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی سوچ کو بدل لیں۔نیدر لینڈ نے بدلا اور بچ گیا۔ ہم کب بدلیں گے؟ یا ہر سال اگلے سیلاب تک پھر صرف رونا اور انتظار کریں گے؟

    نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ نے 2022 کے سیلاب کے فورا بعد 16 مئی 2023 میں سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے وزٹ کے بعد نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے اور پانی سے متعلقہ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ آبی وسائل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ورکشاپ منقعد کی تھی جس میں بین الاقوامی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، غیر ملکی مشنز اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جس میں پانی کی بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن (DRR) ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس موقع پر ڈچ ماہرین کے تعاون کو سراہتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین مسٹر احمد کمال نے وزارت آبی وسائل کے ذریعے پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان آبی وسائل اور سیلاب کے انتظام پر طویل المدتی تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ ہالینڈ کی سفیر مسز ہینی ڈی وریس نے کہا تھا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈز میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کی حمایت کی تھی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبی آفات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہالینڈ کی جانب سے جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ساتواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے، اور حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت سے استفادہ کیا جا سکے، اور مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے لچکدار اور موافقت پذیر انفراسٹرکچر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میڈیا چند دن شور مچاتا ہے، حکومت امداد مانگتی ہے، بیرونی ایجنسیاں تھوڑا سا فنڈ دیتی ہیں اور پھر سب کچھ بھول کر ہم اگلے سیلاب کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ ڈیم بنائے جاتے ہیں۔ نہ دریاؤں کی صفائی ہوتی ہے۔ نہ حفاظتی بند مضبوط کیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہم نے نیدرلینڈز ماڈل کو کیوں نہیں اپنایا اور نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کیا؟ کیا ہم اپنے ملک کے عوام کو ہر بار کی طرح ایسے ہی سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں دیں گے؟ ہر سال اربوں کے نقصانات کرتے رہیں گے۔ مگر کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے ماہرین سے استفادہ حاصل نہیں کریں گے؟ نیدرلینڈ نے سیلاب کو شکست دی، پاکستان کب جاگے گا؟ فرق صرف سوچ کا ہے۔ نیدرلینڈ کا تقریباً 26 فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں کئی بار یہ ملک تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہوا، مگر وہاں کے لوگوں نے اپنی تقدیر کو بدلا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سب کچھ اللہ کے حوالے ہے اور بس انتظار کیا جائے۔ بلکہ انہوں نے محنت، منصوبہ بندی اور سائنس کا سہارا لیا۔ انہوں نے ڈیم اور بیریئرز بنائے جو سمندر کے پانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ڈیلٹا ورکس جیسا منصوبہ بنایا جو دنیا کا انجینئرنگ کا عجوبہ مانا جاتا ہے۔سٹروم سرج بیریئرز تیار کیے جو طوفانی پانی کو روک لیتے ہیں۔ پولڈرز سسٹم بنایا جس سے نیچے زمین کو خشک کر کے زراعت کے قابل بنایا۔ اور پھر ڈیجیٹل سسٹمز لگائے جو ہر وقت پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے ہیں۔ نیدر لینڈ دنیا کا وہ ملک جس کا ایک تہائی حصہ سمندر کے نیچے ہے، آج سیلاب پر قابو پا کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور ہم، جنہیں اللہ نے بڑے بڑے دریا، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل دیے ہیں، آج بھی ہر چند سال بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور بس یہی کہتے ہیں: “یہ اللہ کا عذاب ہے، آزمائش ہے۔ ہم نیدرلینڈ سے چند ایک چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہمیں سمندروں کے بجائے دریاوں کے اوورفلو پر نظر رکھنا ہوگی، اس کے لیے زیادہ محفوظ اور تگڑے بند بنائے جائیں، بیراج اپ گریڈ ہوں، نہروں کے پشتے مضبوط کیے جائیں۔نیدر لینڈز ماڈل کا فلسفہ (پانی کو جگہ دو اور انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ساتھ لے کر چلو) پاکستان میں فائدہ دے سکتا ہے، مگر پاکستان کو اپنی مقامی حقیقت (مون سون، بڑے دریا، زیادہ گاد، کمزور ادارے) کو دیکھتے ہوئے مقامی ایڈاپٹیڈ ماڈل بنانا ہوگا۔ جبکہ نیدرلینڈ ماڈل کے تین پہلو قابلِ عمل پہلو ہیں جیسے کہ دریاوں کے ساتھ فلڈ بفر زون بنانا۔ نشیبی علاقوں میں خاص طور سے ایسا کیا جائے کہ شہروں میں بارش کے پانی کی سمارٹ مینجمنٹ۔ برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی وسعت بڑھانا، سیوریج کی بہتری، نشیبی جگہوں پر پانی چوس کنوئیں کھودنا تاکہ پانی زیرزمین چلا جائے وغیرہ۔ جبکہ مقامی سطح پر واٹر بورڈ اور واٹر مینجمنٹ کےمضبوط، مستحکم ادارے، ویسے تو پاکستان میں یہ خواب ہی ہے، حب کہ نیدر لینڈ ماڈل کا ایک حصہ اندرون سندھ میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری پانی کے کٹاؤ میں کمی ہو اور ڈیلٹا بڑھ سکے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر نیدر لینڈ جیسے چھوٹے ملک نے پانی کو دشمن کے بجائے ایک منصوبے کے ذریعے دوست بنا لیا تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ہمیں نئے ڈیمز اور ریزروائرز بنانے چاہییں۔ دریاؤں کے کناروں پر مضبوط حفاظتی بند اور بیریئرز بنانے ہوں گے۔ آبی وسائل کی وزارت میں سیاستدان نہیں بلکہ ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔ دریاؤں کے قریب بے ہنگم آبادی روکنی ہوگی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعلٰی سندھ، وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان ڈچ ماہرین کی 2023 والی رپورٹ منگوائیں اور اس پر ورک کریں اور ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب نیدرلینڈز کے واٹر مینجمنٹ کے ماہرین کی ٹیم آئی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی مگر واٹر مینجمنٹ پاکستان نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی، اگر اس وقت اس رپورٹ کی روشنی میں عملدرآمد کیا جاتا تو آج جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے وہ ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔

  • سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت دوہری آفت کی لپیٹ میں ہے ایک طرف تباہ کن سیلاب اور دوسری طرف وحشیانہ دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ . مسلسل بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے شہروں، دیہاتوں، گاؤں اور کھیتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا جبکہ دہشت گردی کے تازہ حملوں نے عوام کے شعور اور جذبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ بحران نہ صرف جان و مال کو تباہ کر رہا ہے بلکہ قومی یکجہتی کے عزم کو بھی شدید زَک پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا خطرہ دراصل بین الصوبائی سیاسی انتشار اور تقسیم ہے جو ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد ہونے سے روک رہا ہے۔ سیلاب کی تباہی نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہوئی ہیں اور روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ یہ حالات شدت پسندوں کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں کیونکہ غربت اور مایوسی ہی شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ بحالی کے منصوبوں پر بھی فوری توجہ ضروری ہے. متاثرہ علاقوں میں فوری امداد، روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی نہ صرف عوام کے دکھ کم کریں گے بلکہ شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد دیں گے۔

    یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد سے عبارت ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے فوجی آپریشنز نے واضح کر دیا کہ جب ریاست نے پوری قوت سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تو ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ تاہم آج وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں میں تضاد اس کامیابی کو دُھندلا رہا ہے۔ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت گیر رویے کی حامی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے دروازے بند کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت مذاکرات اور محدود کارروائیوں پر زور دیتی ہے، یہ متضاد پالیسیاں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہیں اور عوام میں تذبذب پیدا کر رہی ہیں۔ جب صوبائی قیادت فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری قرار دیتی ہے تو عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کس پر بھروسہ کیا جائے ، ریاست کی فوج پر یا سیاسی قیادت پر؟ یہی الجھن دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑے کامیابی ہے کیونکہ انہیں انتشار کے ماحول میں پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

    ماضی کے تجربات ہمیں سبق دیتے ہیں کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی سے گفت و شنید اور جنگجوؤں کی واپسی کی پالیسی نے عارضی سکون تو دیا مگر طویل المدت امن برقرار نہ رہ سکا، ہزاروں جنگجوؤں کی واپسی اور انہیں بسانے کی کوشش نے بالآخر دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کیا۔ یہ تلخ سبق ثابت کرتا ہے کہ شدت پسندوں کے سامنے نرم رویہ اختیار کرنا بسا اوقات ملک کے مفاد میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف میں سختی اپنائی ہے، مگر کے پی کی قیادت کے بعض بیانات، مثلاً افغان طالبان سے براہِ راست رابطوں کے اعلانات، وفاقی موقف کو کمزور کر رہے ہیں اور آئینی دائرہ کار کو بھی الجھا رہے ہیں۔ ایسے بیانات محض سیاسی اختلاف کو وسیع نہیں کرتے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں. جب صوبائی سرکردہ شخصیات فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری یا انسانیت سوز قرار دیتی ہیں تو سادہ آدمی کے ذہن میں الجھن جنم لیتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کمزور پڑ جاتی ہے۔

    افغانستان کی موجودہ صورتحال اس پورے عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ بظاہر وہاں کی حکمتِ عملی میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں دکھائی جاتی ہیں مگر کئی بار یہ نمائشی نوعیت کی ثابت ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی حلقوں کے مطابق بعض اوقات طالبان نے کارروائیوں کا ڈرامہ رچا کر حقیقی مؤثر کارروائی سے گریز کیا اور اسی خلا سے دہشت گرد سرحد پار آ کر ہمارے اندرونی محاذوں کو ہدف بناتے رہے۔ اسی پس منظر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کا معاملہ بھی شدید تنازع بن گیا ہے، وفاق ان مہاجرین کو سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر ان کی واپسی پر زور دیتا ہے(جو پاکستان کے امن کیلئے واقعی حقیقی خطرہ ہیں ) جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت اسے انسانی بنیادوں پر زبردستی نکاسی قرار دے کر مخالفت کرتی ہے۔ یہ اختلاف انتہاپسند پروپیگنڈے کو مواد فراہم کرتا ہے اور وہ ریاستی رویے کو عوام دشمنی کے طور پر پیش کر کےدہشت گردوں کے لئے عوامی ہمدردی پیدا کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔

    ان تمام پیچیدگیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی محض صوبائی یا وفاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر سیاسی اختلافات اور پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی گئی تو یہ لڑائی کبھی مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکے گی۔ دہشت گرد کسی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو نہیں دیکھتے بلکہ ان کا واحد ہدف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اسی لیے وفاق اور صوبوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ایک جامع، شفاف اور مربوط پالیسی مرتب کرنا ہوگی جو عسکری اور سول اقدامات کا متوازن امتزاج ہو، عوام میں اعتماد بحال کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا خوف و خطر اپنا کام سر انجام دینے کے قابل بنائے۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب پاکستان متحد ہوا تو دشمن پسپا ہوا اور جب ہم منتشر ہوئے تو وہ دوبارہ نمودار ہو گیا۔ لہٰذا یہ وقت سیاسی انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم کی طرح کھڑے ہونے کا ہے۔ وفاق اور خیبرپختونخوا کو فوری طور پر ایک عملی اور آئینی طور پر ہم آہنگ حکمت عملی طے کرنی چاہیے، جس میں بحالی کے منصوبے بھی شامل ہوں تا کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو روزگار اور تحفظ ملے اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کے لیے مواقع کم ہوں۔ سیاسی جماعتیں اگر آج بھی قومی مفاد کی بجائے مخاصمت کا راستہ اپنائیں گی تو دہشت گردی اسی دراڑ سے گھس کر ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دے گی۔

    آخر میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر صوبائی رہنماؤں کو واضح پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گی۔ ریاستِ پاکستان، آئین اور قوم کی سلامتی سب سے مقدم ہیں۔ اس جنگ میں سمجھوتہ ممکن نہیں۔
    پاکستان زندہ باد،
    افواجِ پاکستان پائندہ باد۔

  • اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ ایک فتنوں سے بھرا دور ہے۔ گناہ عام ہو چکے ہیں، بے حیائی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں، اور سوشل میڈیا نے ہمارے ہاتھوں سے اخلاقی کنٹرول چھین لیا ہے۔ ہم سب اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "ہماری گورنمنٹ ٹھیک نہیں”، "معاشی حالات برے ہیں”، "امن و امان نہیں”، مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کتنے ٹھیک ہیں؟،آج مرد و عورت دن رات سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ حیا، شرم، اور اسلامی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے بات چیت کو فخر سمجھتے ہیں۔ تصاویر، ویڈیوز، اور لائکس کی دوڑ نے ہمیں اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ٹک ٹاک، انسٹا گرام، اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہے۔خواتین اپنے جسم کی نمائش کو آزادی کا نام دیتی ہیں۔مرد ان پلیٹ فارمز پر عورتوں کو تماشہ بنا کر تفریح لیتے ہیں۔نکاح مشکل، زنا آسان ہو گیا ہے۔

    ہم پنج وقتہ نماز چھوڑ کر دعا مانگتے ہیں کہ "یا اللہ ہمیں رزق دے”۔ ہم ماں باپ کی نافرمانی کرکے چاہتے ہیں کہ "اللہ ہماری اولاد کو نیک بنا دے”۔ ہم سود، جھوٹ، اور خیانت کے دھندوں میں ملوث ہو کر دعا کرتے ہیں کہ "اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے”۔کیا ہم اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟قرآن کہتا ہے:اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے،

    جب ہم ٹیکس چوری کرتے ہیں، رشوت لیتے اور دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش پر حق دار کا حق چھینتے ہیں ، تو کیا قصور صرف حکومت کا ہے؟اگر حکومت کرپٹ ہے، تو یاد رکھیں کہ وہ اسی معاشرے سے نکلی ہے۔ معاشرہ ہم ہیں۔ اگر ہم خود کرپٹ ہیں، تو ہمارے حکمران کیسے نیک ہو سکتے ہیں؟ہمیں حکومت بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیا پر شرم و حیا کو فروغ دیں،اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کریں،حلال کمائی کو ترجیح دیں،سچ بولیں، امانت دار بنیں،اللہ کے احکامات پر عمل کریں ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تو نہ نظام بدلے گا، نہ حکومت، نہ حالات۔ معاشرہ افراد سے بنتا ہے، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔آج کا وقت پکار رہا ہے،اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔

  • مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ اگر ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی اور بے نظیر بھٹو نے خواتین کو سیاست میں مقام دیا تو آج مریم نواز اسی سلسلے کی اگلی کڑی بن کر سامنے آئی ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر رہی ہیں جس نے مشکلات کا سامنا کیا، زمانے کی سختیاں جھیلیں اور اپنی ثابت قدمی کے ذریعے خود کو اس سطح پر لے آئیں جہاں انہیں ملک کی آئندہ قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ مریم نواز کی سیاست کا آغاز آسان نہیں تھا۔ پانامہ کیس کے دنوں میں وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنی ذات کو بھی کڑی تنقید اور الزامات کی زد میں پاتی رہیں۔ عدالتوں کے چکر، میڈیا ٹرائل اور مخالفین کے طعنے، یہ سب کسی عام شخص کو توڑ دینے کے لیے کافی تھے، لیکن مریم نواز نے ان حالات میں ہمت نہیں ہاری۔ عمران خان نے بارہا ان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی خاتون کے لیے انتہائی نامناسب تھے۔ جلسوں میں ان کے لیے مغلظ جملے بولے گئے، انہیں کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر مریم نواز نے جواب میں سیاست کے وقار کو گرنے نہیں دیا۔ انہوں نے صبر اور متانت کے ساتھ یہ طوفان جھیلا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ قیادت محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ برداشت اور وقار کا نام بھی ہے۔

    پانامہ کے دنوں میں ان کا عزم ان کے کارکنوں کے لیے حوصلہ تھا۔ وہ عدالتی کارروائیوں میں اپنے والد کے ساتھ پیش ہوتی رہیں، میڈیا کے کیمروں کے سامنے سر بلند رکھتیں، اور اس سب کے باوجود اپنی پارٹی کے بیانیے کو مضبوط کرتی رہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک وراثتی سیاست دان نہیں بلکہ ایک حقیقی لیڈر ہیں جو ہر مشکل کے سامنے ڈٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    وقت گزرا، سیاسی حالات بدلے، اور پھر وہ لمحہ آیا جب مریم نواز کو پنجاب کی ذمہ داری ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر انہوں نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے یہ واضح کر دیا کہ وہ صرف نعرے لگانے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے صوبے کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دی۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں اصلاحات متعارف کرائیں، ہسپتالوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، اور اسکولوں میں سہولتوں کو بڑھایا۔ ان کی پالیسیوں میں یہ واضح جھلک ملتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

    مریم نواز نے خواتین کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر معاشرے کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے انہوں نے خواتین کے روزگار کے منصوبے، ہنر سکھانے کے ادارے، اور مالی مدد کے پروگرام متعارف کرائے تاکہ خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ہنر کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے گئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں ترقی کریں۔

    ان کے اقدامات میں عوام کو ریلیف دینا بھی شامل رہا۔ مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے سبسڈی پروگرام متعارف کرائے گئے، سستا آٹا، مفت ادویات اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے مالی امداد جیسے اقدامات سے عوام کو سہولت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو محض طاقت کا کھیل نہیں سمجھتیں بلکہ اسے عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

    مریم نواز کی شخصیت کی ایک خاص بات ان کا اعتماد ہے۔ وہ کسی بھی فورم پر جب گفتگو کرتی ہیں تو ان کے الفاظ میں اثر ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کس طرح عوام کے دلوں کو اپنی بات سے چھوا جائے۔ ان کی تقریریں محض سیاسی جملے نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ ان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔

    پاکستانی سیاست میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملک کی قیادت کون کرے گا۔ اس سوال کا جواب اگر آج ڈھونڈا جائے تو مریم نواز ایک نمایاں نام کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے اندر وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک وزیراعظم میں ہونے چاہئیں۔ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی و عالمی سیاست کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہیں۔ ان کے پاس وہ تجربہ ہے جو انہیں اپنے والد کے ساتھ سیاست میں شامل رہ کر حاصل ہوا، اور ساتھ ہی وہ اپنی آزاد سوچ بھی رکھتی ہیں جس نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بڑے لیڈر نے اپنے حصے کی مشکلات جھیلی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور پھر شہادت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح مریم نواز نے بھی مشکلات دیکھیں اور ان پر قابو پایا۔ یہی مشکلات ایک لیڈر کو مضبوط بناتی ہیں اور یہی مشکلات مریم نواز کو بھی ایک مضبوط لیڈر میں ڈھال چکی ہیں۔

    مریم نواز کو مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر دیکھنا اب محض ایک خواب نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت، ان کا وژن، اور ان کے اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ وقت آنے پر ملک کی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ایک ایسی قیادت فراہم کر سکتی ہیں جو عوامی خدمت، شفافیت اور ترقی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔

    پاکستان کو اس وقت ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی قیادت جو نہ صرف عوام کے دکھ درد کو سمجھے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مریم نواز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ ان کا عزم، ان کی دانش فہم اور ان کا عوامی رابطہ انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان اور خواتین، مریم نواز کو اپنے مستقبل کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی لیڈر ہیں جو نہ صرف ان کے خوابوں کو سمجھتی ہیں بلکہ انہیں حقیقت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

    پاکستان کی سیاست میں مریم نواز کا بڑھتا ہوا کردار ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون کے طور پر سامنے آئی ہیں جنہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا، ہر طعنہ سہا، اور پھر بھی اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو انہیں مستقبل میں وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے امکانات کو تقویت دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امکانات حقیقت میں بدل سکتے ہیں، اور پاکستان ایک ایسی وزیراعظم دیکھ سکتا ہے جو اپنی بصیرت اور فہم سے قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر ہمیشہ سے ثالثی اور مذاکرات میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ فلسطینیوں اور اسرائیل یا دیگر گروپس کے بیچ ہو۔ موجودہ حملے نے قطر کو یہ محسوس کروایا ہو گا کہ چاہے وہ مذاکرات میں مصروف ہو اس کی سرزمین محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیل نے قطر میں ایک ہوائی حملہ کیا جس کا ہدف حماس کے رہنماء تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک امریکہ کی ثالثی کے تحت معاہدہ برائے جنگ بندی پر مذاکرات کر رہے تھے۔ امریکہ نے بھی اس حملے کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس حملے سے جیسا کہ خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تھی اس واقعہ نے اعتماد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ڈالی ہے۔ اس کے اثرات بہت وسیع اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر خلیجی ریاستیں قطر کے موقف کے ساتھ کھڑی ہوں گی عوامی سطح پر غم و غصہ زیادہ ہو جائے گا۔ قطر سمیت عرب ممالک میں یہ واقعہ اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی لہر کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دونوں اعتراف میں خلا پیدا کر سکتا ہے۔

    قطری حکام اور دیگر خلیجی ملکوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ امریکہ کس حد تک اپنے حفاظتی وعدوں اور اتحادی تعلقات کا تحفظ کرتا ہے خاص طور پر جب اس کا علاقائی مفاد ہو۔ امریکہ کی عالمی ساکھ اور خلیجی ریاستوں میں اس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک اسرائیل کی اس کاروائی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ قطر اور دیگر ممالک بین الاقوامی عدالتوں اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز میں اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی تلاش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ عوامی مظاہرے ہوں یا قطر میں شہری سطح پر رد عمل بڑھ جائے۔ شاید ایران اور اس کے حامی گروپوں کی اس واقعہ کے بعد سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ یمن، لبنان، ایران، شام وغیرہ میں جاری بحران اس واقعے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی کاروائیاں بین الاقوامی حدود کو عبور کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس واقعے نے خلیجی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہو سکتا ہے کہ قطر بین الاقوامی سطح پر شرکاء جمع کرے اور ممکنہ طور پر قانونی سفارتی چینلز اقوام متحدہ وغیرہ سے اقدام کی کوشش کرے۔ قطر اب خلیجی شراکت داروں سعودیہ، امارات، مصر وغیرہ کے ساتھ زیادہ قریب تعاون اور حملے کے اوپر مشترکہ پوزیشن بنائے۔ وائٹ ہاؤس نے حملے پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ فورم قطر کو تسلی دینے رابطہ اور سفارتی چینل کھولنے کی کوشش کرے تاکہ خلیجی تعلقات کمزور نہ ہوں۔ ایران اس واقعہ کی سخت مذمت کر رہا ہے وہ اس واقعہ کے بعد خود کو عرب دنیا میں زیادہ قابل اعتماد مخالف اسرائیل قوت ظاہر کر رہا ہے ایران قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی یا عوامی سطح پر حمایت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کے اس واقعے کے بعد اپنے دفاعی معاہدوں ہوائی حدود کی حفاظت اور حملوں کی روک تھام کے طریقہ کار پر دوبارہ توجہ دیں۔ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ مزید واضح اعتماد کی شرائط مانگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ کسی بڑے قدم کا امکان کمزور کر سکتا ہے امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ مزید ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ خلیجی ممالک کی تسلی کے لیے سفارتی مصالحت کی کوشش کرے گا تا ہم خطے میں سیاسی محاذ بندی سخت ہو سکتی ہے۔ کمزور ممالک ثالثی کے لیے متبادل ضمانتیں مانگیں گے مثلا بین الاقوامی یا قانونی گارنٹی۔ ABRAHAM STYLE پیش رفتوں کو دھچکا اور سعودی خلیجی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بڑے سیاسی قدم اٹھانے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کو اپنے عسکری سیاسی اتحاد اور خطے کے مفادات کے درمیان مزید توازن قائم رکھنا ہوگا اس کا اثر طویل مدتی شراکتوں اور اعتماد سازی پر پڑے گا۔ بین الاقوامی خرابی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو زیادہ احتیاطی رویہ اپنانا چاہیے شفافیت اور تلافی کے ذریعے سفارتی قیمت ادا کی جائے ورنہ امن کے راستے متاثر رہیں گے۔ نیتن یاہو کو ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔