Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟

    یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟

  • آل انڈیا مسلم لیگ   سے  مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    آل انڈیا مسلم لیگ سے مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    30 دسمبر کا دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو وہ سیاسی شعور عطا کیا جس نے بالآخر قیامِ پاکستان کی صورت ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصدصرف اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنی شناخت، وقار کو زندہ رکھنا تھا جو اسلامی تہذیب ، دینی ثقافت اور اسلاف کے تمدن سے مستعار تھا۔

    مسلم لیگ کی قیادت نے اس دور میں جس بصیرت، قربانی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے دلیل، قانون اور اخلاقی قوت کے ذریعے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کا نام آج بھی نظریۂ پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ سیاست نظریے سے ہٹ کر مفادات، گروہ بندیوں اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کا وہ فکرجو قوم کو ایک نصب العین پر جمع کرتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات دب تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہوتےوہ نئے ناموں اور نئی صفوں کے ساتھ دوبارہ ابھرتے ہیں۔

    اسی تناظر میں مرکزی مسلم لیگ کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ کے اسی اصل نظریاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔وہی تصور جو مسلم لیگ کی بنیاد میں شامل تھا۔آج اگر ہم مرکزی مسلم لیگ کو دیکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جماعت مسلم لیگ کی اصل روح یعنی مسلمانوں کی اجتماعی خدمت، اتحاد، خودداری اور قومی بقاکو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو محض اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھتی ہے، جو کہ مسلم لیگ کے ابتدائی نظریے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں اور سماجی بحرانوں میں جس منظم، بے لوث اور فوری کردار کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیں مسلم لیگ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھی۔ یہ عملی خدمت دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی۔

    سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، اصلاح اور خدمت ہے۔ اگر مسلم لیگ نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا، تو مرکزی مسلم لیگ اسی آزادی کو بامقصد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں سیاست اخلاقیات سے جڑی ہو اور قیادت عوام کی خادم ہو۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناموں سے آگے بڑھ کر نظریات کو دیکھیں۔ مسلم لیگ ایک نظریہ تھی، اور مرکزی مسلم لیگ اسی نظریے کی عملی تصویرہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے غلامی کے دور میں قوم کو آزادی دلائی، اور دوسری آزادی کے بعد قوم کو خوددار، باخبر اور متحد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
    ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہیے، 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ۔ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.
    یومِ تاسیس مسلم لیگ کے موقع پر اگر ہم اس فکری ربط کو سمجھ لیں، تو یہی شعور ہماری سیاست کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے—وہی سمت جس کا خواب علامہ اقبال اورقائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔

  • قومی شناخت  پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    قومی شناخت پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    19 مئی 2013 کو شہباز شریف صاحب کے دیے گئے بیان پر نظر ڈالیں جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔
    ” V will unveil a plan to steer national institutions ( PIA , Pakistan Railways and Pakistan steel Mills etc ) out of crisis soon ”
    آج پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کی حیثیت سے پی آئی اے فروخت کرنے کے بعد کا بیان: "قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا قوم کو مبارکباد ہو” واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف قوم کے ساتھ وعدہ خلافی ہے بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ پی آئی اےسمیت ریلوے اور اسٹیل ملزکو بحران سے نکالنے کا دعوی کرنے والے شہباز شریف صاحب نے آج پی آئی اے کے 30 جہاز 64 بین الاقوامی روٹس 8 بلڈنگز 10 ارب کے سپیئر پارٹس 20 ارب کا فنڈ محض 10 ارب روپے میں پیج ڈالے ۔

    135 ارب کا شور کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو صرف 10 ارب موصول ہوئے 125 ارب خریدنے والی کمپنی کے مرضی ہے کہ وہ پی آئی اے کی بحالی پر اسے استعمال کریں یا نہ کریں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہے بلکہ پونے 700 ارب روپے کا قرضہ بھی حکومت ادا کرے گی جو کہ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا ،پی آئی اے بیچ کر قوم کو مبارک ہو! مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قومی شناخت بیچنے پر کون سی مبارکباد بنتی ہے؟
    جس ادارے نے کبھی دنیا میں پاکستان کا نام روشَن کیا، آج اسے یوں بیچ دیا گیا جیسے کوئی بھٹکا ہوا شخص اپنی باپ دادا کی نشانی کو چند ٹکوں کے لیے گروی رکھ دے۔

    یہ وہی پاکستان ہے جسے بنانے میں لاکھوں لوگوں نے جانیں دی تھیں… مگر چلانے والوں نے اسے بازار کی دکان بنا دیا۔ کبھی اسٹیل مل بکتی ہے، کبھی ایئرپورٹ، اب قومی ایئرلائن بھی۔ کل کو شاید ہم بھی بیچ دیے جائیں ۔کیونکہ جو قوم اپنی پہچان بیچنے پر خاموش رہتی ہے، اس کے شہریوں کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ سودا صرف پی آئی اے کا نہیں، قوم کے اعتماد، ٹیکس، خون پسینے اور مستقبل کا سودا ہے۔ جب عوام بھوکی ہو، مہنگائی گلے تک پہنچ جائے، ٹیکس جیب کا آخری سکہ بھی نگل جائے اور حکمران جشن منائیں تو یہ خوشخبری نہیں، قوم سے دشمنی ہے۔

    آپ بتائیں: پی آئی اے کی فروخت قوم کی جیت ہے یا حکمرانوں کی بے ایمانی؟
    اپنی شناخت اپنی پہچان کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

  • سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    چکوال میں ہلکی پھلکی بوندا باندی جارہی ہے۔ ہاسٹل کے قدرے روشن ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔ باہر صحن گیلا ہے۔ کبھی کبھار مٹی کی خوشبو نتھنوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔اور دل کسی پرانی کہانی کو لے کر بیٹھا جارہا ہے۔ بارش جیسے ہی تیز ہوتی ہے، تو کھڑکی کے شیشے پر لکیریں سی بن جاتی ہیں۔ یہ لکیریں کسی بد بخت آدم زاد کے نصیب سی لگتی ہیں، آڑی ترچھی، الجھی ہوئی۔
    آج دسمبر کی آخری تاریخ ہے۔ میرے حلقہ احباب کے ایک بزرگ ادیب اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ دسمبر کے آخری دن حساب مانگتے ہیں۔اور یہ حساب مجھے مشکلات میں ڈالے بیٹھا ہے ۔ نئی دیوار پر لگے پرانے کیلنڈر کا آخری ورق چند گھنٹوں بعد اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔ 2025 کا واحد دسمبر ہے جو چکوال میں گزرا ہے۔ ابن آدم کی خود کو بے حد مصروف رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی، خنک راتوں میں کلیجہ چیرتی یادوں کی ادھ بجھی آگ کی راکھ کریدتے ہوئے کئی بار دل بے قرار کو قرار دینے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہا، مگر یہ ابن آدم ناکام رہا۔ مزاجا تو ہم آوارہ گرد ہیں، مگر جاڑے میں مجبورا۔۔۔۔۔ بقول شاعر

    ؎یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
    کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

    دسمبر نہ جانے کب اور کیسے اداسی کی علامت بن گیا۔ حالانکہ اسی ماہ، کئی خوش نصیب نئے سال سے پہلے نئے سفر کی شروعات کرتے ہیں۔ ڈھول بجتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مگر یہ دسمبر ہم جیسوں کے لیے ہر دور میں بھری رہا۔ ہمارے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے بھی،دسمبر کے آخری دنوں کے بارے میں کچھ یونہی کہا تھا۔
    وہ آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    سائنسی بنیادوں پر بھی سردیوں اور اداسی کا گہرا تعلق ہے۔ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے والا کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) سیروٹونن (Serotonin) بھی اس موسم میں کم پیدا ہوتا ہے، جو کہ اداسی کا سبب بنتا ہے۔ساتھ ہی، کم دھوپ کی وجہ سے دوسرا کیمیائی مادہ میلاٹونن (Melatonin) بھی متاثر ہوتا ہے، جو ہمارے موڈ اور نیند کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور اس اداسی کو ماہرین "سیزنل ایفکٹو ڈس آرڈر” کہتے ہیں۔ اور یہ موسمی اداسی حساس لوگوں کو قدرے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ خیر بارش جاری ہے، چپ ہے، 31 دسمبر ہے، رات کے 10 بج چکے ہیں،بقول سیماب سحر ، "سال کا اختتام اچھا ہے”-
    ؎سال کا اختتام اچھا ہے
    سرد موسم تمام اچھا ہے

    کہر میں چھپ چکی ہے باد سموم
    موسموں کا نظام اچھا ہے

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔

    نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے

  • ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

    سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

  • جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار

    جاز نیٹ ورک کی لوٹ مار؟ گرتا معیار، بڑھتے نرخ اور پی ٹی اے کا غیر مؤثر کردار
    تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفےٰبڈانی
    پاکستان کی سب سے بڑی سیلولر کمپنی جاز (موبی لنک) اس وقت ملک بھر میں صارفین کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق نیٹ ورک سروس کے معیار میں مسلسل گراوٹ، پیکیجز کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک صارف نے حال ہی میں شکایت کی کہ جاز کا ویکلی فریڈم پیکیج، جو ابتدا میں 350 روپے میں متعارف کرایا گیا تھا، اب بڑھ کر 700 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس کے برعکس سروس کا معیار دن بدن مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک فرد کی شکایت نہیں بلکہ ملک بھر میں لاکھوں صارفین اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس آرٹیکل میں جاز نیٹ ورک کی مجموعی صورتحال، صارفین کی شکایات، ریگولیٹری اداروں کے کردار اور ممکنہ حل کا جائزہ مختلف مستند ذرائع کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹس کے مطابق جاز 2025 میں بھی سب سے زیادہ شکایات موصول کرنے والی ٹیلی کام کمپنی رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں ملک بھر سے ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے تقریباً 5000 شکایات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے 1522 شکایات صرف جاز کے خلاف تھیں، جو مجموعی شکایات کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جاز کے خلاف شکایات کی تعداد بڑھ کر 1619 ہو گئی، جبکہ جنوری 2025 کی رپورٹ میں جاز کے خلاف 5070 شکایات سامنے آئیں، جو تمام آپریٹرز میں سب سے زیادہ تھیں۔

    ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شکایات میں نیٹ ورک ڈاؤن ہونا، سگنلز کی کمی، انٹرنیٹ کی انتہائی سست رفتار اور کال ڈراپس جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ اسلام آباد کے ایک صارف کے مطابق کئی علاقوں میں جاز کے سگنلز مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر نیٹ ورکس نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاز کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین اسے بدترین سروس فراہم کرنے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ کالز درست طریقے سے ملتی ہیں، نہ انٹرنیٹ قابلِ استعمال رہتا ہے اور نہ ہی کسٹمر کیئر تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔

    ٹرسٹ پائلٹ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی جاز کی ریٹنگ محض ایک اسٹار تک محدود ہے، جہاں صارفین نے غیر مجاز سبسکرپشنز اور بیلنس چوری کی متعدد شکایات درج کر رکھی ہیں۔ ریڈٹ پر ایک صارف نے انکشاف کیا کہ اس کے نمبر پر بغیر اجازت ایک سروس ایکٹیو کی گئی اور بیلنس کاٹ لیا گیا۔ یہ شکایات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دیہی علاقوں سے بھی نیٹ ورک کی خراب صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اوپن سگنل کی فروری 2025 کی رپورٹ کے مطابق جاز نے نومبر 2024 میں اپنا 3G نیٹ ورک بند کیا، جو “4G فار آل” منصوبے کا حصہ تھا، تاہم اس فیصلے کے بعد سروس میں بہتری کے بجائے صارفین کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    سروس کے معیار میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ جاز کے پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے صارفین کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک ویکلی فریڈم پیکیج کی قیمت ٹیکس سمیت 565 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں 50 جی بی ڈیٹا، 1000 جاز منٹس، 300 دیگر نیٹ ورک منٹس اور 1000 ایس ایم ایس شامل ہیں۔ بعض ذرائع میں اس قیمت کو 547 روپے بھی بتایا گیا ہے، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ یہی پیکیج چند برس قبل کہیں کم قیمت پر زیادہ ڈیٹا کے ساتھ دستیاب تھا۔ ایک صارف کے مطابق جاز کا ہفتہ وار پیکیج جو ابتدا میں 200 روپے میں 12 جی بی دیتا فراہم کرتا تھا، اب 350 روپے میں صرف 6 جی بی تک محدود ہو چکا ہے۔

    آڈٹ جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جاز نے مالی سال 2023-24 کے دوران صارفین سے پی ٹی اے کی منظور شدہ قیمتوں سے زائد 6.58 ارب روپے وصول کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافی وصولی 9 مختلف پیکیجز میں کی گئی، جن میں ہفتہ وار اور ماہانہ بنڈلز شامل تھے۔ مثال کے طور پر ایک پیکیج جس کی منظور شدہ قیمت 955 روپے تھی، اسے 1043 روپے میں فروخت کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس عمل کو کھلی لوٹ مار قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

    غیر مجاز کٹوتیوں کے حوالے سے بھی صارفین کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس سے بیلنس خودبخود کٹ جاتا ہے، جبکہ انہیں کسی قسم کی سروس ایکٹیویشن کا علم تک نہیں ہوتا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے اس نوعیت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد بعض صارفین نے جاز کے بائیکاٹ کی بھی اپیلیں شروع کر دی ہیں۔

    اس تمام صورتحال میں پی ٹی اے کا کردار بھی تنقید کی زد میں ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ریگولیٹری ادارہ کمپنیوں کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ اگرچہ پی ٹی اے نے 2025 میں سروس کے معیار پر جاز پر 30 ملین روپے جرمانہ عائد کیا اور کوالٹی آف سروس سروے کے ذریعے بہتری کی ہدایات جاری کیں، تاہم قیمتوں میں اضافے کو آپریٹرز کی بڑھتی لاگت کے تناظر میں جائز قرار دیا گیا۔ سینیٹ پینل نے 2024 میں ٹیلی کام پیکیجز میں 19 فیصد اضافے پر سوالات ضرور اٹھائے، مگر اس کے باوجود کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ جاز نے بھی اوورچارجنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام قیمتوں میں اضافہ پی ٹی اے کی منظوری سے کیا گیا۔

    مجموعی طور پر جاز نیٹ ورک کی گرتی ہوئی سروس، بڑھتے ہوئے نرخ اور غیر مجاز کٹوتیوں نے صارفین کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ ریگولیٹری اداروں کی کمزور نگرانی عوامی بے چینی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اگر اداروں میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس اور جواب طلبی کا نظام موجود ہوتا تو شاید صارفین کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹرز کو فوری اور عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ہوگا، قیمتوں پر مؤثر کنٹرول اور سروس کے معیار میں بہتری کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔

  • نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
    وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

    یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔

    شعر
    مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
    سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی

  • دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی، انسان سے انسان تک کا خاموش سفر.تحریر:جان محمد رمضان

    دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ نہ یہ چہروں کی کشش پر رکتی ہے، نہ عمروں کے فرق پر ٹھہرتی ہے، اور نہ ہی دولت و غربت کے ترازو میں تولی جا سکتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو نظر سے پہلے دل میں اترتا ہے اور لفظوں سے پہلے احساس میں بولتا ہے۔ دوستی دراصل انسان کے اندر موجود انسانیت کو پہچان لینے کا نام ہے۔اس معاشرے میں جہاں اکثر رشتے فائدے اور ضرورت کے سہارے پنپتے ہیں، وہاں دوستی ایک ایسا نازک مگر سچا جذبہ ہے جو کسی شرط کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں نہ لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، نہ گھر کی وسعت دیکھی جاتی ہے۔ بس سامنے والے کا رویہ، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے۔ شائستگی وہ پہلا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی دوستی کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    دیانتداری دوستی کی وہ بنیاد ہے جو نظر نہیں آتی مگر پوری عمارت کو سنبھالے رکھتی ہے۔ جھوٹ کے سہارے قائم ہونے والا تعلق وقتی ہو سکتا ہے، مگر دیرپا نہیں۔ سچا دوست وہ ہوتا ہے جو مشکل بات بھی سچ کے ساتھ کہہ دے، مگر انداز ایسا رکھے کہ سامنے والا ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائے۔ یہی دیانت رشتے کو مضبوط بناتی ہے اور اعتماد کو وقت کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے۔خلوص دوستی کی روح ہے۔ یہ وہ خاموش کیفیت ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں۔ خلوص نہ بلند آواز میں بولتا ہے، نہ تعریف کا طالب ہوتا ہے۔ یہ بس موجود رہتا ہے ہر حال میں، ہر موڑ پر۔ خلوص ہی وہ قوت ہے جو دو اجنبی دلوں کو آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا مانوس بنا دیتی ہے۔ جہاں خلوص نہ ہو، وہاں قربت بھی بے معنی لگتی ہے۔باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی تعلق زیادہ دیر سانس نہیں لے سکتا۔ احترام وہ حد ہے جو دوستی کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔ اختلاف رائے ہو سکتا ہے، مگر لہجے کی شائستگی، سوچ کی وسعت اور دل کی نرمی رشتے کو سلامت رکھتی ہے۔ سچا دوست وہ نہیں جو ہر بات پر متفق ہو، بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجود عزت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

    دوستی میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ کبھی کوئی ہم سے بہت بڑا ہو کر بھی ہمارے دل کی بات سمجھ لیتا ہے، اور کبھی ہم سے چھوٹا ہو کر بھی ہمیں جینے کا ہنر سکھا دیتا ہے۔ تجربہ اور معصومیت جب ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو دوستی کا رنگ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ خاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اسی طرح دولت کی کمی یا فراوانی بھی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ امیر کا خلوص غریب کے خلوص سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل فرق نیت کا ہے۔ وہ دوست جو خالی جیب کے ساتھ بھی مسکرا کر ساتھ بیٹھ جائے، اس سے قیمتی کوئی دولت نہیں۔ کیونکہ دوستی سکوں سے نہیں، سکون سے خریدی جاتی ہے۔سچی دوستی میں مقابلہ نہیں ہوتا، ساتھ چلنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ وہاں کامیابی پر حسد نہیں، بلکہ دل سے نکلنے والی خوشی ہوتی ہے۔ وہاں ناکامی پر طعنے نہیں، بلکہ سہارا ہوتا ہے۔ ایک اچھا دوست وہ سایہ ہے جو دھوپ میں لمبا اور اندھیرے میں قریب ہو جاتا ہے۔

    یہ رشتہ وقت کے ساتھ بدلتا ضرور ہے، مگر ختم نہیں ہوتا۔ کبھی باتیں کم ہو جاتی ہیں، کبھی ملاقاتیں، مگر دل کا رشتہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خاموشی بھی اگر اعتماد سے بھری ہو تو دوستی کا حسن بڑھا دیتی ہے۔ دوستی کسی معیار، کسی شکل، کسی حیثیت کی پابند نہیں۔ یہ بس ایک احساس ہےصاف، سچا اور بے لوث۔ اگر شائستگی، دیانتداری، خلوص اور احترام موجود ہوں تو دوستی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ کیونکہ اصل میں دوستی انسان کو انسان سے جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔