Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا     ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا ازقلم :غنی محمود قصوری

    نظریہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا –

    ازقلم غنی محمود قصوری

    اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خواب پاکستان دیکھا اور دو قومی نظریہ پیش کیا کیونکہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلمانوں کی ہندوستان میں خطرناک صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے

    قائد اعظم محمد علی جناح کو اقبال نے کہا تھا کہ ایک ایسا ملک حاصل کیا جائےجہاں مسلمان بغیر کسی خوف و خطر اپنی عبادات کر سکیں اور ان کے جان و مال محفوظ ہو

    دو قومی نظریہ کی پیش کی گئی کانفرنس سے پہلے ہی اقبال خالق حقیقی سے جا ملے تھے مگر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم نے ولی کامل علامہ محمد اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور دو قومی نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا
    جس کی بنیاد پر ارض پاکستان حاصل کیا گیا

    وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے

    وَاللَّهِ، إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ.( رواہ الترمذی:3925 وصححہ الالبانی رحمہ اللہ تعالی )

    اللہ کی قسم (اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہیں نکالتی میں کبھی نہیں نکلتا

    چھوڑے گئے وطن کی یاد انسان کو فطری طور پر رلاتی رہتی ہے اسی لئے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے

    أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ

    وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ

    اے کاش۔ کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گھاس والی وادیوں میں رات گزارونگا ؟

    کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جاسکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہونگے؟ (صحیح بخاری حدیث:3926 )وغیرہ۔

    رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو فرمایا تھا

    اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ

    اے اللہ جس طرح ہماری ( اپنے وطن مکہ ) کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہماری دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے-

    یقیناً ہمارے آباؤ اجداد بھی چھوڑے گئے وطن ہندوستان کو یاد کرکے غمگین ہوا کرتے تھے مگر ہجرت کرنا مجبوری تھی کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نا تھا سو اسی لئے دو قومی نظریہ ضروی تھا جس کیلئے ہجرت کرکے الگ وطن حاصل کرنا لازم تھا تاکہ مسلمان آزادی سے رہ کر زندگیاں گزاریں اور اپنے رب کی عبادت بلا روک ٹوک اور خوف و خطر کر سکیں-

    نیز اس کے علاوہ دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اس کیلئے تاریخ ہندوستان لازمی پڑھیں کہ کس قدر ہندوؤں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے اگر تاریخ نہیں پڑھ سکتے تو موجودہ دنوں میں ہی انڈین تری پورہ،حیدر آباد،گجرات و دیگر ہندوستانی علاقوں میں مسلمانوں پر ہندوؤں کی طرف سے کئے گئے مظالم ہی دیکھ لیجئے کہ ہر روز مسلمانوں کی مسجدوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ناحق شہید کیا جاتا ہے اور ان کی املاک پر قبضہ کیا جاتا ہے ان کو گائے کا گوشت کھانے نہیں دیا جاتا اور ایک اچھوت قوم سمجھا جاتا ہے حالانکہ مسلمان دنیا کی سردار قوم ہے جس کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے

    دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا اور پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں میں کیا فرق ہے اس کی مثال راقم ذاتی طور پر بیان کرتا ہے-

    بطور جرنلسٹ راقم سے انڈین علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان جرنلسٹ نے واٹس ایپ پر رابطہ کیا سلام دعا کے بعد سخت شکایت کی کہ آپ مقبوضہ کشمیر کے حامی اور سخت ہندوستان مخالف ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہم مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا آپ ہندستان کے خلاف لکھنا چھوڑ دیجئے-

    راقم نے برملا کہا کہ ہاں اس میں کوئی شک نہیں میں اس لئے ہندوستان مخالف ہوں کہ ہندوستان نے ریاست کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور 75 سالوں سے مظلوم نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے نیز میں نے اپنے بچپن میں گجرات کا مسلم کش فساد بھی بذریعہ میڈیا دیکھا ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو ہندو پلید نے آگ میں جلا دیا تھا اور اب تک روزانہ کی بنیاد پر یہ سلسلہ جاری و ساری ہے مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں بدلا جا رہاہے اور تو اور تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا مسلمان عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں جس کا جب جی چاہتا ہے مسلمانوں کو سرعام قتل کر دیا جاتا ہے دنیا کونسا ایسا ظلم نہیں جو ہندوستانی مسلمانوں پر نہیں کیا جاتا ؟

    اس پر انڈین صحافی صاحب لاجواب تو ہوئے اور کہنے لگے ارے صاحب ایسا کچھ بھی نہیں ہم بھی آزاد ہیں اپنے دھرم پر پورے اطمینان سے قائم ہیں اور اپنی عبادات بخوبی کرتے ہیں کوئی ہمیں روکتا نہیں میں آپکو آج شام ایک مسلمانوں کا جلسہ دکھاؤنگا تب دیکھ لیجئے گا کسطرح مسلمان آزاد ہیں ہندوستان میں سو آپ مسلمانوں کو ہندوستان و پاکستان میں یکجا کیجئے نا کہ کشمیر کے نام پر مزید تقسیم کیجئے –

    شام ہوئی حسب وعدہ صاحب نے واٹس ایپ کال کی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جلسہ کر رہے تھے اور سارے کا سارا عنوان ہی وطن سے محبت اور عام واجبی سی رسومات کی فرضیت پر تھا اور ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے مگر کشمیر و فلسطین،عراق و افغانستان کے مظلوم مسلمانوں کے وطنوں میں انہی پر قابضین کی کوئی مذمت تک نا تھی نا ہی لفظ جہاد و قتال اور مظلوم کی مدد کی حرمت تھی

    خیر میں نے کہا حضور وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے بشرطیکہ اس وطن میں آپ کو مذہبی آزادی حاصل ہو بصورت دیگر میرے نبی ذیشان نے مکہ چھوڑا اور ہجرت کرکے مدینہ سکونت اختیار کی جس کی احادیث اوپر بیان کی جا چکی ہیں اگر مکہ والے نبی ذیشان کو دکھ نا دیتے ،عبادات سے نا روکتے ،فرمان الہی کو مانتے تو میری نبی اپنا آبائی وطن مکہ کیوں چھوڑتے ؟سو دو قومی نظریہ اور ہجرت ہند ہمارے بڑوں کی ضرورت تھی اور یہی ضرروت اب آپکی بھی ہے آپ غلام ہیں ہندو کے آپ پر ظلم ہوتا ہے مگر حیرت ہے غلامی کی حد کی کہ آپ پھر بھی مطمئن ہیں؟ حالانکہ میرے نبی نے غلامی کو سخت ناپسند کیا ہے میں نے انہیں بتایا کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں میرے نبی ذیشان کا وقت گزرا دعوت پیش کی اور کفار کے خلاف خود و اپنے اصحاب کو مضبوط کرکے اپنا وطن مکہ واپس لیا سو آپ بھی مسلمان ہونے کے ناطے ہندو کے ظلم پر سیرت نبوی کا مظاہرہ کریں اور غلام بننے کی بجائے آزاد بنیں –

    انڈین صحافی صاحب یہ بات بھی نا مانے اور ہندوستان کے گن گاتے رہے خیر میں ان کی اصلاح کی خاطر انہیں احادیث نبویہ پیش کرتا رہا مگر صاحب حیل و حجت سے کام لیتے رہے اور مسلمانوں و ہندوؤں کے اکھٹا رہنے کے فوائد پر روز بیان فرماتے اور مجھے کشمیر کاز سے منع کرتے رہتےخیر وہ صاحب اپنے عقیدے پر قائم رہے اور ہم اپنے پر –

    کچھ وقت گزرا راقم نے واٹس ایپ پر روٹین کے مطابق احادیث نبویہ و منہج سلف پر مبنی تحریریں سینڈ کی جس کا بہت دنوں تک نا کوئی جواب آیا اور نا ہی انہیں پڑھا گیا راقم شدید پریشان ہوا کہ زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے شاید ان سے زندگی نے وفا نا کی ہو یا اللہ نا کرکے کچھ اور معاملہ ہو گزرا ہو

    خیر بیس سے بائیس دن بعد انہی صاحب نے خود ہی میسج کیا اور سوال جواب شروع کر دیئے میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور غائب رہنے کا پوچھا تو گویا ہوئے کہ مجھے کس ضرروی کام کے سلسلے میں ممبئی جانا پڑا سو آپکا نمبر کانٹیکٹ لسٹ سے کاٹا اور واٹس ایپ کی بلاک لسٹ میں لگا دیا-

    میں حیران ہوا بھئی کیا ہوا میں نے تو آپ کو سوائے حدیث نبویہ کے کوئی غلط بات ہی نہیں سینڈ کی صاحب گویا ہوئے کہ ممبئی میں ہندو انتہاہ پسند جماعتوں کا راج ہے وہ جب چاہیں جس بھی مسلمان کو روکتے ہیں ان کا موبائل چیک کرتے ہیں اگر ہمارا کسی پاکستانی سے رابطہ ہو سوشل میڈیا پر تو ہماری جان کو خطرہ بن جاتا ہے-

    میں شدید ہنسا اور ان صاحب سے بولا جناب میں بھی اپنے وطن کا باشندہ ہوں اور آپ سے اپنے دشمن ملک کا باشندہ ہو کر آپ سے آزادنہ بات کرتا ہوں مجھے تو کسی کا ڈر نہیں تو پھر آپ خود کو کیسے آزاد مسلمان کہتے ہیں ؟حالانکہ ہمارے ملک میں بھی ہندو ،سکھ،عیسائی و دیگر مذاھب کے لوگ بخوبی آزادانہ زندگیاں گزار رہے ہیں اور ہمارے ہاں بھی مذہبی جماعتیں ہیں مگر اس کے باوجود ایسا کبھی نہیں ہوا تو پھر آپ مان لیجئے آپ آزاد نہیں غلام ہیں صاحب اتنی سی بات کا غصہ کر گئے اور مجھے بلاک کر گئے-

    میں سوچنے لگا اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگا کہ نظریہ اقبال درحقیقت نظریہ ریاست مدینہ تھا اقبال رحمتہ اللہ علیہ تجھ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہو تم نے ہمارے بڑوں کو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دکھا کر دو قومی نظریہ پیش کرکے وطن پاکستان دلوایا ورنہ آج ہم بھی ہندو کے غلام ہوتے-

  • میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے    بابر اعظم

    میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے بابر اعظم

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ سے میچ میں فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا کہ میچ کے پاور پلے میں توقعات کے مطابق رنز نہیں بنا سکے مگر اچھی شراکتوں کی وجہ سے بڑے اسکور کیلیے پْر امید تھے-

    کپتان نے کہا کہ پہلے محمد حفیظ نے میرا اچھا ساتھ نبھایا اور بولرز کی کمزور گیندوں کا بھرپورفائدہ اٹھایا، اس کے بعد شعیب ملک نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کی ضرورت کے مطابق اننگز کا بہترین انداز میں اختتام کیا،سینئر آل راؤنڈر ایسی ہی پرفارمنس کیلیے مشہور ہیں۔

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    انہوں نے کہا کہ بطور کپتان میرے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش بات ٹیم کا ایک یونٹ بن کر کھیلنا ہے،سب ایک دوسرے کی صلاحیت کو جانتے اور اس پر اعتماد کرتے ہیں، ہر میچ میں کوئی نہ کھلاڑی چیلنج قبول کرتے ہوئے اچھی پرفارمنس میں کامیاب ہورہا ہے-

    بابر اعظم نے کہا کہ کارکردگی میں تسلسل کی وجہ بھی یہی ہے، ابھی تک معیاری کرکٹ کھیلنے سے ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،آسٹریلیا کیخلاف سیمی فائنل میں بھی اسی کارکردگی کو دہرانے کیلیے پْرعزم ہیں۔

    کپتان نے کہا کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا ماحول شاندار ہے،سارا کراؤڈ جب آپ کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہو تو پرفارمنس کیلئے جوش و خروش اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔


    بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بابر اعظم نے قومی ٹیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آگے بڑھتے رہیں، ایک وقت میں ایک قدم آگے-


    شعیب ملک نے گذشتہ روز میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پوری ٹیم کے نام کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میں آج کا "مین آف دی میچ” پاکستان اسکواڈ کے تمام ٹیم ممبران کو وقف کرتا ہوں، چلو لڑکوں، ہم یہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ!


    شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان زندہ باد کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ خواب کو زندہ رکھنے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہم سے جو کچھ ہو سکا وہ کریں گے-


    آصف علی نے کہا کہ مجھے اس ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر ہے، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

  • ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے      ویرات کوہلی

    ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے ویرات کوہلی

    ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی سے بھارت کا سفر ختم ہو گیا ہے پہلے ہی دو میچوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنے والے بھارتی ٹیم سیمی فائنل میں اپنی جگہ نہ بنا سکی، اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز نمیبیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد بھی بھارتی ٹیم افسردہ نظر آئی، جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے پہلی ٹوئٹ کی۔


    انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں بھارتی ٹیم کی تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    اس سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا تھا کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں-

    یاد رہے ٹی 20 ورلڈ کے پہلے ہی میچ میں بھارت کو پاکستان سے 10 وکٹوں سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد بھارت کو سنبھلنے میں اتنا وقت لگا کہ ٹورنامنٹ ہاتھ سے نکل گیا-

  • مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ کی سروسز میں تعطل کے سبب صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل مختلف ممالک میں آیا ہے ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل پاکستانی وقت کے مطابق شب گیارہ بجے آیا ٹوئٹر سروسز برطانیہ، سوئزر لینڈ، واشنگٹن اور نیویارک میں زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    امریکہ میں ٹوئٹر صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ’ٹوئٹر‘ کی جانب سے تاحال اس ضمن میں مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب گوگل، فیس بُک اور انسٹاگرام کی طرز پر ٹوئٹر نے بھی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کےلیے پیسہ کمانے کے مواقع متعارف کروا دیئے ہیں مطلب یہ کہ اب آپ بھی دنیا کے سب سے بڑے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم سے پیسہ کما سکتے ہیں، بشرطیکہ ٹوئٹر پر آپ کے چاہنے والوں یعنی ’’فالوورز‘‘ کی تعداد زیادہ ہو۔
    https://twitter.com/SuperFollows/status/1433128787210739717?s=20
    فی الحال ٹوئٹر پر پیسہ کمانے یا ’’مونیٹائزیشن‘‘ کےلیے چند ایک پروگرام ہی موجود ہیں جو حالیہ چند مہینوں کے دوران آزمائشی طور پر شروع کیے گئے ہیں۔
    اگرچہ ان کا دائرہ کار ابھی صرف امریکا تک محدود ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے ملکوں میں رہنے والے بھی ان سے مستفید ہوسکیں گے ٹوئٹر سے پیسہ کمانے کےلیے ایسا ہی ایک پروگرام ’’سپر فالوز‘‘ کہلاتا ہے جو اس سال یکم ستمبر سے شروع کیا گیا ہے۔

    اگر کسی ٹوئٹر صارف کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو، اس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تین ماہ یا اس سے پرانا ہو، اس کے فالوورز کی تعداد کم از کم دس ہزار ہو اور وہ پورے مہینے میں 25 یا زیادہ ٹویٹس کرتا ہو تو وہ اس پروگرام سے پیسہ کما سکتا ہے۔

    اس کے تحت آپ اپنی کچھ ٹویٹس کو دیکھنے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں، یعنی آپ کے فالوورز میں سے صرف وہی فرد ان ٹویٹس کو دیکھ سکے گا جو آپ کو ماہانہ فیس دے گا یہ فیس 2.99 ڈالر، 4.99 ڈالر، یا 9.99 ڈالر ماہانہ ہوسکتی ہے۔

    ٹوئٹر بلاگ کے مطابق، اگر اس پروگرام کے ذریعے آپ کی آمدنی 50 ہزار ڈالر سے کم ہے تو ٹوئٹر اس میں سے صرف 3 فیصد حصہ رکھے گا، لیکن اگر یہ 50 ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ ہے تو پھر ٹوئٹر کا حصہ 20 فیصد ہوجائے گا۔

    البتہ یہ پروگرام فی الحال صرف آئی او ایس (آئی فون) صارفین کےلیے ہے جو امریکی شہری ہوں۔ لہذا انہیں ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام سے ہونے والی آمدنی میں ایپل کے ’’ایپ اسٹور‘‘ کو بھی حصہ دینا پڑے گا جو 33 فیصد تک ہوسکتا ہے یعنی اس پروگرام سے پیسہ کمانے والوں کو عملاً اپنی کمائی ہوئی رقم کا صرف 65 فیصد حصہ ہی ملے گا۔

    اگر یہ ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام اپنے اس ابتدائی اور آزمائشی مرحلے میں کامیاب رہا تو اسے اینڈروئیڈ کے علاوہ دوسرے ملکوں کےلیے بھی شروع کردیا جائے گا۔

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چیزوں کو ٹھیک طرح سے سامنے رکھنا ہو گا ، یہ میرے لیے اپنا ورک لوڈ کم کرنے کا صحیح وقت ہے ۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق بھارتی سابق کہتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ چھ سات سال سے بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہا ہوں ،جب بھی آپ کھیلنے کے لیے میدان میں جاتے ہیں تو یہ آپ کے اندر سے بہت کچھ نکال لیتا ہے۔

    ورلڈ کپ میں نمیبیا سے جیت کے بعد ویرات کوہلی نے کہا کہ یہ بہت زبردست تھا اور میرے لیے اعزاز کی بات ہے ،ہم ایک ٹیم کے طرح بہت اچھا کھیلے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس ورلڈ کپ میں آگے نہیں جا سکے لیکن ہم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بہت میچ جیتے ہیں اور ایک ساتھ کھیل کر لطف اندوز ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پہلے دو میچوں میں صرف دو اوور اپنی توقعات کے مطابق کھیل لیتے تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔

    ویرات کوہلی نے کہا کہ جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں ، ہم اتنی بہادری سے نہیں کھیلے،ہم وہ ٹیم نہیں ہیں جو ٹاس کا بہانہ بنائیں ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف جیتا ہے تاہم پھر بھی بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

  • ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا    وقار یونس

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ وقار یونس نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کو انڈیا کیلئے بہترین سفیر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اے سپورٹس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا، اس کی پرفارمنس کا تو کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے ٹورنامنٹ سے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کپتانی چھوڑ دیں گے، انہوں نے ایسا کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ہے، "اسے خود محسوس ہوا کہ اگر وہ ابھی نہیں جائے گا تو نیا کپتان کیسے آئے گا؟ –

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    وقار یونس نے مزید کہا کہ ویرات کی جتنی فٹنس ہے اتنی کسی کی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عروج پر کپتانی چھوڑی ، لوگ اسے اس کی خدمات کیلئے یاد رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

  • پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت بابر اعظم کریں گے جب کہ شاداب خان ان کے نائب ہوں گے۔ اس کے علاوہ آصف علی ، فخر زمان، حیدر علی، حارث رؤف، حسن علی اور افتخار احمد کو بھی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

    عماد وسیم، خوش دل شاہ، محمد نواز ، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شاہ نواز دھانی اور عثمان قادر بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔


    سینئر کھلاڑی شعیب ملک کو بھی بنگلہ دیش کے خلاف سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے تاہم ان کی فٹنس اور پرفارمنس دیکھ کر یوں ہی لگتا ہے کہ وہ مزید بھی کھیلیں گے۔

    دوسری جانب کرکٹر محمد حفیظ نے خود ہی معذرت کرلی تھی جس کے باعث انہیں سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

  • پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    پہلا ون ڈے: ویسٹ انڈیزویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 45 رنز سے شکست دے دی

    ویسٹ انڈیز کی ویمن کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی ویمن ٹیم کو پہلے ون ڈے میچ میں 45 رنز سے شکست دے دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کراچی میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈین ویمن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 253 رنز بنائے جس کے جواب میں گرین شرٹس نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 208 رنز ہی بنا پائیں۔

    ویسٹ انڈیز ویمن کرکٹ ٹیم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اوپنر آنے والی ڈینڈرا ڈاٹن نے 132 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ آل راؤنڈر ہیلی میتھیوز نے 57 رنز بنائے، انہوں نے تین وکٹیں بھی لیں۔

    پاکستان کی طرف سے انعم امین نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹس لیں اس کے علاوہ فاطمہ ثنا نے دو اور نشرح سندھو نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

    پاکستان کی طرف سے عالیہ جاوید 46 اور ارم جاوید 40 رنز سکور کرکے نمایاں رہیں اس کے علاوہ اوپننگ بیٹر منیبہ علی نے 28، کائنات امتیاز نے 24 اور سدرہ نواز نے 23 رنز بنائے-

    ویسٹ انڈیز کی طرف سے ہیلی میتھیوز سب سے کامیاب باؤلر رہیں جنہوں نے 10 اوورز میں 31 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اس کے علاوہ شکیرا سلمان نے دو، انیسہ محمد اور کیانا جوزف نے ایک ایک بیٹر کو پویلین کی راہ دکھائی۔

  • ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے پرانڈین ہیڈ کوچ روی شاستری کا انوکھا جواز

    دبئی: انڈین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری کا کہنا ہے کہ مسلسل کھیلنے کی وجہ سے انڈین ٹیم ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انڈین چینل سٹار سپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انڈین ٹیم بائیو سکیور ببل میں ہے، پورا سٹاف اور ٹیم ذہنی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آئی پی ایل کے درمیان زیادہ لمبا وقفہ ہونا چاہیے تھا تاکہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع مل سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی ایل اور ورلڈ کپ میں وقفہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہماری ٹیم ہارنے سے خوفزدہ نہیں ہے، جیت کی کوشش میں آپ یقیناً ہارتے بھی ہیں زند گی میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے کیا کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کبھی یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے کن خامیوں پر قابو پایا۔

    ورلڈ کپ سے باہرہونے پر پاکستانی فنکاروں کی بھارتی ٹیم پر ٹرولنگ

    اپنی کوچنگ کے حوالےسے روی شاستری کا کہنا تھا کہ ان کا یہ تجربہ شاندار رہا، جب انہوں نے کوچنگ کیلئے حامی بھری تو اپنے ذہن میں کہا کہ وہ فرق پیدا کریں گے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرق ڈالا ہے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹیم انڈیا نے جو کچھ حاصل کیا ، جس طرح انہوں نے تمام فارمیٹس میں پوری دنیا میں پرفارمنس دکھائی ہے ، یقیناً یہ سب اسے دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین ٹیم بنا دے گا۔

    خیال رہے کہ بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں آج اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیل رہی ہے لیکن اس میچ میں فتح یا شکست سے قطع نظر بھارت کی ٹیم ٹی20 ورلڈکپ سے باہر ہو چکی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے اور اس میچ کے بعد روی شاستری کی بطور ہیڈ کوچ چھٹی ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کپتان ویرات کوہلی بھی ٹیم کی قیادت سے فارغ ہو جائیں گے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست خوردہ بھارتی ٹیم کی مرمت کے لیے”گندے انڈے…

    پاکستان نے بھارت کو پہلے میچ میں 10 وکٹوں سے شکست دی اور پھر اگلے میچ میں نیوزی لینڈ نے بھی بھارتی ٹیم کو 8 وکٹوں سے مات دے کر ایونٹ کے اگلے مرحلے تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی تھی بھارت کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے افغانستان کی مدد درکار تھی لیکن نیوزی لینڈ نے افغان ٹیم کو شکست دے کر سیمی فائنل میں خود جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ارمانوں پر بھی پانی پھیر دیا بھارت کے ورلڈ کپ سے اخراج پر عوام اور سابق کرکٹرز کے غم و غصے کے ساتھ ساتھ شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

  • امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکی دوغلا پن سامنے آنے لگا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک طرف امریکہ تشویش میں مبتلا ہے اور چین کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھا رہا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب سے کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کی جا رہی ہے یہ ہے امریکہ کا وہ دوغلا پن جو اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ پینٹاگون نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق چین بہت زیادہ تیزی سے جوہری ہتھیاروں پر کام کر رہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو 2027تک چین کے پاس700Delivery able neuclear war heads
    ہو سکتے ہیں اور2030تک یہ تعداد ایک ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹاگون کے مقابلے میں چین کے پاس ڈھائی گنا زیادہ جوہری ہتھیار تیار ہو جائیں گے۔دراصل امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے سامنے ایک سالانہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں چینی فوجی پیش رفت کے حوالے سے صاف بتایا گیا کہ چین کسی ایک سمت میں نہیں بلکہ اپنے زمینی، سمندری اور فضائی تمام ایٹمی ترسیل کے پلیٹ فارمز کی تعداد میں سرمایہ کاری اور توسیع کر رہا ہے اور اپنی ایٹمی طاقت کی اس توسیع کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ چند ہفتوں پہلے کئی امریکی ریسرچرز مغربی چین میں نئے جوہری میزائل سائلوس کی سیٹیلائٹ تصاویر پہلے ہی شائع کر چکے ہیں۔

    اور اس تمام پیش رفت کی وجہ سے امریکی دفاعی اہلکار چین کو مستقبل کے حوالے سے ایک تشویش ناک ملک قرار دے رہے ہیں اور اس کے ارادوں کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
    اس طرح کی باتیں اس لئے بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ چین نے اپنے سرکاری منصوبے کے مطابق 2049تک پیپلز لبریشن آرمی کو عالمی معیار کی افواج میں تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ اور اگر چین اپنے جوہری ہتھیاروں پر اسی طرح تیزی سے کام کرتا رہا تو وہ یہ مقصد بہت پہلے یعنی2027 تک ہی حاصل کرلے گا جس کے بعد چین بہت آرام سے انڈو پیسیفک خطے میں امریکی فوج کا بھی مقابلہ کرسکے گا اور تائیوان کی قیادت کو بھی مجبور کر لے گا کہ وہ بیجنگ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پرآجائیں اور انڈیا کو توبہت پہلے ہی چین اس کی اوقات دکھا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس وقت چین کے جوہری ہتھیاروں پر سوالات اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔چین کے مقابلے میں امریکہ کی ہار کے حوالے سے تو پہلے ہی باتیں ہونا شروع ہو چکی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی عہدیداران بھی کر رہے ہیں اس کی ایک حالیہ مثال امریکی محکمہ دفاع کے سابق چیف سافٹ ویئر افسر نکولس شیلان کا استعفی بھی ہے جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ Artificial Intellignceپر مشتمل ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا چین سے ہار چکا ہے اور آنے والے 15 سے 20 برسوں تک امریکا کی جیت کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

    دراصل سپ پاور بننے کی دوڑ میں چین نے امریکہ کو اسی لئے اب پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ وہArtificial Intellignceمیں بہت زیادہ جدت اور ترقی کر چکا ہے۔ چین اس وقت مشین لرننگ، سائبر صلاحیتوں اور ٹیکنالوجیکل ٹرانسفارمیشن میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔نکولس نے اپنے ایک انٹرویومیں صاف کہا کہ چین کے سامنے امریکی ٹیکنالوجی اب ایسی ہی ہے جیسے کے جی کلاس میں پڑھتا ایک بچہ۔جس کی ایک وجہ انہون نے یہ بھی بتائی کہ گوگل جیسی کمپنی امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہے جبکہ دوسری طرف چین میں دیکھیں تو ہر چائنیز کمپنی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے اور بھاری سرمایہ کاری بھی کی جا رہی ہے، چین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس میں بے پناہ سرمایہ لگایا ہے۔ حالانکہ امریکا چین کے مقابلے میں اپنے دفاع پر تین گنا زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کا فائدہ اس لیے نہیں ہو رہا کیونکہ امریکا غلط شعبہ جات پر سرمایہ لگا رہا ہے۔ اپنے استعفے میں نکولس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ براہ مہربانی کسی ایسے میجر یا کرنل کو ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ لگانے یا ایک سے چار ملین صارفین کے ڈیٹا کا کلاؤڈ حوالے مت کریں جسے اس کام کا تجربہ ہی نہ ہو، کروڑوں ڈالر مالیت کا طیارہ بنانے کے بعد اسے اڑانے کے لیے بھی تو ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جسے سینکڑوں گھنٹے پرواز کا تجربہ ہو۔ تو آخر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے آئی ٹی کا تجربہ ہی نہ ہو اسے ٹیکنالوجی کے شعبے کا سربراہ بنا دیا جائے؟ ایسے شخص کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کرنا کیا ہے اور کس چیز کو ترجیح دینا ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے اصل کام سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔یعنی ایک طرف امریکہ کی پریشانی اور ہار ہے جو کہ اب نظر آنا شروع ہو چکی ہے خود امریکی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کا دوغلاپن دیکھیں کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ کروڑوں ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈیل کر لی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کو تقریبا 65 کروڑ امریکی ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کے ایک سودے کو منظوری دے دی گئی ہے اور اس سودے کے تحت امریکا سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے 280 جدید میزائل فراہم کرے گا۔ یہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کسی خلیجی ملک سے اب تک ہتھیاروں کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے یہ کہتے ہوئے اس سودے کی منظوری بھی دے دی ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سعودی عرب کے خلاف سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اس سودے کے زریعے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں ریاض کی مدد کی جا سکے گی۔ یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کی قومی سلامتی کو ایک دوست ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی، جو مشرق وسطی میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت کے لیے ایک اہم قوت ہے۔یعنی چین اپنے ہتھیاروں پر کام کرے تو نا جائز ہے لیکن اپنے دوست سعودیہ عرب کی مدد اور ایران کی مخالفت کے لئے امریکہ خود جو بھی کرے وہ سب جائز ہے۔یہاں تک کہ بعض امریکی حلقوں میں بھی سعودی عرب کے ساتھ میزائیلوں کے اس سودے پر اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ یہ کہہ کر اپنا دفاع کررہے ہیں کہ یہ ہتھیار زمینی حملے کے لیے نہیں ہیں اور میزائل صرف فضائی دفاع کے لیے ہیں۔ اور امریکی انتظامیہ نے یمن میں جنگ بندی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی قیادت کرنے کا جو عہد کیا ہے یہ سودا اس سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ تاکہ سعودی عرب کے پاس ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے فضائی حملوں سے اپنے دفاع کے ذرائع موجود ہوں۔ماضی میں ہم نے دیکھا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کو ہر طرح کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی لیکن جوبائیڈن نے اپنی الیکشن کمپئین میں بھی اور صدر بن جانے کے بعد بھی اس پالیسی پر نظر ثانی کا اعلان کیا تھا۔ کیونکہ انھیں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے حوالے سے ہمیشہ ہی کافی تشویش رہی ہے۔ اور ابھی کچھ دن پہلے تک بھی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یمن میں سعودی عرب کے حملوں کی حمایت بند کرنے کے ساتھ ہی اسے ہتھیاروں کی فروخت پر بھی روک لگا دے گی۔ کیونکہ 2015 سے جب سعودی عرب نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف عسکری کارروائیاں شروع کی تھیں اور حوثیوں کے ٹھکانوں کومیزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا تھا تب سے لیکر اب تک تقریبا چھ برس سے جاری اس جنگ میں تقریبا ڈھائی لاکھ افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے یمن اس وقت دنیا کے بد ترین انسانی بحران سے دو چار ہے۔

    لیکن نہیں کیونکہ یمن کے مقابلے میں دوسری طرف امریکہ کا دیرینہ دوست سعودیہ عرب ہے تو اس کے لئے سب جائز ہے اس کو ہتھیار دینے سے یہومن رائٹس کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن یہ صرف ایک وجہ ہے اس ڈیل کی لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور وجہ ہے جس کے لئے امریکہ یہ ڈیل کرنے جا رہا ہے اور وہ ہے امریکہ کی کرونا کی وجہ سے گرتی ہوئی معیشت۔۔۔ دراصل اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لئے امریکی حکومت نے امریکی ریاستMassachusettsکی ہتھیار بنانے والی کمپنیRaytheonجو کہ ایڈوانس قسم کے اے آئی ایم 120 سی/7 سی- 8 درمیانی رینج کے میزائل بناتی ہے جو فضا سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پینٹاگون کی طرف سے اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جا رہا ہے تاکہ امریکہ میں کروڑوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ آئے اور اس کی معیشت کو سہارا ملے اور دوستی بھی نبھائی جا سکے ویسے بھی جب سے امریکہ کا افغانستان سے انخلاء ہوا ہے تو امریکہ کی یہ ہتھیار بنانے والی انڈسٹری کا کاروبار کافی متاثر ہوا تھا اس لئے اپنی دفاعی انڈسٹری کو دوبارہ اٹھانے کے لئے جو بائیڈن انتظامیہ کے لئے بہت ضروری تھا کہ اس طرح کا کوئی بڑا معاہدہ کیا جائے جو ان کی معیشت کو بھی سہارا دے اور ساتھ کے ساتھ دوستی نبھائی گئی۔