Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کتنی ضروری ؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    نیند کا ہماری عمرکے زیادہ یا کم ہونے، جسمانی صحت کے اچھے یا برے ہونے اور زندگی میں کئے گئے مختلف فیصلوں کی کامیابی یا ناکامی سے کیا تعلق ہے۔۔۔ اور وہ کون سی خطرناک بیماریاں ہیں جن سے بچاو میں ہماری نیند کی روٹین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔آپ نے اپنے آس پاس بہت سے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو بہت فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ ہم توپورے دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں یا پھر یہ کہ ہماری تو نیند بہت کم ہے ہم زیادہ دیر تک سو نہیں سکتے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اس عادت کی وجہ سے ان کے دماغ اور جسم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ اور سونے کے دوران ہمارے جسم کے ساتھ کیا عمل ہوتا ہے؟

    بھوک لگنے پر کھانا کھانے، پیاس محسوس ہونے پر پانی پینے اور سانس لینے کی طرح نیند بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی دن نہ سوئیں تو پہلے پہل ہمارا جسم تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم کم سونے کو اپنی روٹین کا حصہ بنا لیں تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دراصل جب ہم سوتے ہیں تو نیند کے دوران ہمارے جسم میں کچھ ایسے خاص مادے پیدا ہوتے ہیں جو پورے دن جسم میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کی ایک طرح سے تعمیر شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی آفس میں پورے دن کام ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں صفائی کا عمل کیا جاتا ہے چیزوں کو دوبارہ ترتیب سے لگایا جاتا ہے۔ ہمارے جسم اور نیند کا بھی کچھ ایسا ہی حساب ہے پورے دن کام کاج کے بعد جب ہم رات کو سوتے ہیں تو نیند کا عمل ہمیں آنے والے دن کے لئے تیار کرتا ہے تاکہ ہم اپنا اگلا دن اچھا گزار سکیں۔ اگر نیند اچھی ہوگی تو آنے والا وقت بہت اچھا گزرے گا لیکن اگر نیند پوری نہیں ہوگی تو ظاہری بات ہے کہ آپ کا وقت بھی برا گزرے گا۔ اور اگر کسی انسان کی روٹین بن جائے اور وہ لمبے عرصے تک کم نیند لے تو پھر مختلف بیماریوں کا اس پر حملہ ہونا ایک لازمی بات ہے۔ اور اگر آپ کا جسم اور دماغ صحت مند نہیں ہے تو سوچ لیں کہ آپ کیسے کوئی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ دراصل آج کل لوگ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور تھوڑے وقت میں بہت کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے نیند ان کی Priorities میں سب سے آخر میں آتی ہے۔ پچھلے سو برس کے دوران ترقی یافتہ ملکوں میں نیند میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہم کام زیادہ کرتے ہیں، پھر سفر میں بھی خاصا وقت گزرتا ہے۔ ہم صبح جلدی گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو دیر سے گھر آتے ہیں۔اس کے بعد ہم اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ بھی وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال الگ ہے اور آخر میں ہمارے پاس نیند کے لئے وقت ہی بہت کم بچتا ہے۔اور آپ کو حیرت کی بات بتاوں کہ مختلف Age groupsکے لئے ہم نے نیند کا Required timeمختلف بنایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے اگر آپ کسی سے کہیں کہ نو گھنٹے کی نیند ضروری ہے تو وہ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھے گا۔کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں اتنی دیر تو کوئی کاہل اور سست شخص ہی سوتا ہے۔ زیادہ سونے کی عادت اتنی بدنام ہو گئی ہے کہ لوگ فخریہ بتاتے ہیں کہ وہ کتنا کم سوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جب کوئی بچہ زیادہ سوتا ہے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ بچوں میں زیادہ نیند کو نشوونما کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔اب کسی انسان کو کتنی نیند چاہیے تو اس کا مختصر جواب ہے سات سے نو گھنٹےسات گھنٹے سے کم نیند ہماری جسمانی اور ذہنی کارکردگی اور ہمارے Immune systemکو متاثر کرتی ہے۔بیس گھنٹے تک مسلسل جاگتے رہنے کا اثرکسی بھی انسان پر ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کسی نشہ آور چیز کے قانونی حد سے زیادہ لینے کا۔جبکہ نیند کی کمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو فوری طور پر اس کے برے اثرات کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی نشہ میں دھت انسان خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک سمجھتا ہے۔ مگر آس پاس والے جانتے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

    وہ کونسی بیماریاں ہیں جو نیند کی کمی سے ہوتی ہیں۔ کچھ باتیں تو عام طور پر ہر کوئی جانتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے طبیعت میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد حلقے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں درد رہنے لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی بیماریاں ہیں جن کا تعلق نیند سے بنتا ہے جس میں موٹاپا، نظر کی کمزوری، کمزور مسلز، انفیکشنز سے جلد متاثر ہونے کا خطرہ، ویکسینینشن کا اثر کم ہونا، بولنے میں مشکلات، نزلہ زکام رہنا، پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہونا، ہر وقت بھوک لگنا، قبل از وقت بڑھاپا، ڈپریشن، ہر وقت بھوک لگنا وہ عام مسائل ہیں جو کہ نیند کی کمی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ الزائمر امراض، بانجھ پن، ذیابیطس، کینسر اور فالج جیسی خطرناک بیماریوں کی شروعات ہونے کی بھی ایک وجہ نیند کا پورا نہ ہونا ہی ہے۔ اور خودکشی کے رجحان میں اضافہ کی بھی ایک وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے۔عام الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیند کا directlyتعلق ہماری عمر کے ساتھ ہے۔ نیند جتنی کم ہوگی عمر بھی اتنی ہی کم ہوگی۔

    پچاس سال پر مبنی سائنسی تحقیق کے بعد نیند کے ماہرین کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں ہے کہ نیند کے فائدے کیا ہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے جس کو نیند سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ اب تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی جس کے لیے نیند کو مفید نہ پایا گیا ہو۔بلکہ ایک حالیہ تحقیق میں تو یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دل کی صحت کے لیے رات کو دس سے گیارہ بجے کے درمیان کا وقت سونے کے لیے بہترین وقت ہو سکتا ہے۔ اور یہ نتیجہ 88 ہزارلوگوں پر تحقیق کے بعد نکالا گیا ہے۔ یہ ریسرچ Europian Heart Journalمیں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق
    UK bio bankکے لیے کام کرنے والی ٹیم کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کے مطابق مکمل نیند لیں تو اس سے دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    اس ریسرچ میں شامل لوگوں کو ایک گھڑی نما ڈیوائس کلائی پر باندھی گئی اور ان کے سونے اور جاگنے کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اور تقریبا چھ سال تک اس ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ اور اس دوران تین ہزار سے زیادہ لوگوں میں دل کی بیماریاں ظاہر ہوئیں۔اور یہ تمام وہ افراد تھے جو یا تو سونے میں دیر کرتے تھے یا پھر وہ میعاری وقت دس اور گیارہ بجے سے پہلے سو جاتے تھے۔ اور سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوئے جو کہ آدھی رات کے بعد سوتے تھے۔یعنی اس ریسرچ کے مطابق ہر انسان کے جسم کے اندر قدرتی طور پر بھی ایک گھڑی فٹ ہوئی ہوئی ہے جس کا نیند سے بہت گہرا تعلق ہے اگر وہ گھڑی ٹھیک چلتی رہے تو سب اچھا ورنہ اس کا ٹائم خراب ہو جائے تو انسان کی صحت اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے۔یعنی نیند خود کو صحت مند رکھنے کا ایسا نسخہ ہے جس پر کچھ خرچ نہیں آتا اور نہ ہی یہ کوئی کڑوی دوا ہے جسے پینے سے انسان ہچکچائے لیکن اس کے فائدے بے شمار ہیں۔

    لیکن اس تمام معاملے میں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نیند کو سٹور نہیں کر سکتے۔ اس لئے اگر آپ یہ سوچیں کہ پورا ہفتہ آپ خوب کام کریں اور چھٹی والا پورا دن سو کر گزار دیں تو یہ کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ نیند کی نہ تو کوئی قضا ہے اور نہ ہی ایڈوانس ادائیگی۔ اس کا سرکل روزانہ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اگر آپ نے ایک دن نیند پورا کئے بغیر گزار دیا تو اس کو جو نقصان ہے وہ آپ آنے والے دن میں پورا نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لئے بہترین یہی ہے کہ جو نیند کا ٹائم ہے اس پر سوئیں اور جاگنے کے وقت پر جاگیں۔اپنی زندگی کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور کوشش کریں کہ اس پر پورا عمل بھی کریں۔ کیونکہ کوئی بھی کام آپ تب تک ہی کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ کی صحت ہے اور زندگی ہے۔

  • بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    سرینگر: بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشددکا استعمال کررہا ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکی فائرنگ سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو اپا ہج بنانے کیلئے انتہائی ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں پر امن مظاہروںاور سوگواران پرگولیوں ،پیلٹ گنز ، پا وا اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیں جبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔

  • جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔

    درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا

    اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔

    ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔

    اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت
    22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زندہ خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ “زینوبوٹ” اب افزائش نسل بھی کر سکے گا یہ روبوٹ اہم کام سرانجام دینے کے ساتھ خود کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔

    پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے مل کر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو ارتقائی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے سپرکمپیوٹر پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ دوا یا کسی اور چیز کو اپنے ہدف تک پہنچا سکتے ہیں یہ روایتی روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی زندہ مشینیں ہیں اور یہ زندہ روبوٹس اپنی مزید نقول تیار کرسکتے ہیں۔

    ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

    ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

    اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    واضح رہے کہ امریکی سائنسدانوں نے مینڈک کے جنین کے خلیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا زینوبوٹ بنایا تھا جسے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جا سکتا ہے تاہم اب یہ روبوٹ افزائش نسل بھی کر سکے گا۔

    ان زینوبوٹس کو ایک مخصوص محلول میں رکھا جاتا ہے جہاں اگر ان کی کافی تعداد موجود ہو تو ان کی حرکت سے مینڈک کے جنین کوئی ڈھیلا خلیہ ان کے ‘پیک مین’ ویڈیو گیمز کی شکل والے منہ میں جمع ہوجاتا ہے جس کے بعد مزید خلیے جمع ہو کر ایک نیا زینو روبوٹ بنا لیتے ہیں۔

    کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

  • سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نے بالآخر پاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے ہیں اس سے صنعت اور حکام کو امید ملی ہے کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں ملک کا درآمدی بل کم ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت منگل کو کمپنی کے اعلیٰ مینیجرز کی سینیٹرز کے ساتھ ایک اجلاس میں سامنے آئی جنہوں نے پروڈکشن سائٹ کا دورہ کیا تھا اور اس کا مقصد پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے بڑھتے ہوئے نئے شعبے اور آنے والے چیلنجز کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنا تھا-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین فیصل سبزواری نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سام سنگ نے باقاعدہ طور پر اپنی پیداوار شروع کردی ہے، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کمپنی نے 4 ماہ کی قلیل مدت میں پیداوار بھی شروع کردی۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    فیصل سبزواری نے سام سنگ پروڈکش یونٹ اور گاڑیوں کے ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ کا دورہ کرنے والی سینیٹ کمیٹی کے وفد کی سربراہی کی اور ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے ساتھ اجلاس بھی کیا –

    انہوں نے بتایا کہ نے بتایا کہ ہم نے پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا جو جدید خطوط پر استوار ہے اور ظاہر ہے کہ مقامی افرادی قوت، مقامی صنعت کی سپورٹ اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سازگار ماحول اس کامیابی کا سبب بنا لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ ہمیں صرف اسمبلنگ میں ترقی سے آگے بڑھ کر صنعت کو مقامی بنانے تک جانا چاہیے۔

    خیال رہے کہ ملک میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار کو بہت فروغ ملا ہے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران مقامی مینوفیکچرنگ پلانٹ سے موبائل فونز کی پیداوار دگنی ہو کر ایک کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار کی سطح پر جا پہنچی جبکہ درآمد شدہ فونز کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ تھی۔

    تاہم موبائل فونز کی مقامی پیداوار میں اضافے کے باوجود درآمدت اس سے بھی بلند سطح پر رہی۔

    پی ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 64 کروڑ 46 لاکھ 70 ہزار ڈالرز مالیت کے فونز درآمد کیے گئے جس میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 55 کروڑ 79 لاکھ 61 ہزار ڈالر کے مقابلے 15.54 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    بلدیاتی ملازمین کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ

  • ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے صارفین پر بغیر رضامندی کسی کی تصاویر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کمپنی کی جانب سے عام صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ عام افراد کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683093436739588?s=20
    رپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے تحت وہ لوگ جو عوامی شخصیت(Public Figure) نہیں ہیں، ٹوئٹر سے ان کی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جنھیں ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کیا گیا ہو۔

    بیان کے مطابق اگرچہ ہر فرد میڈیا فائلز کو شیئر کرنے پر متاثر ہوسکتا ہے مگر اس کا اثر خواتین، سماجی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے افراد پر زیادہ ہوتا ہے۔

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683094581792771?s=20

    کمپنی نے بتایا کہ اگر کوئی صارف کسی تصویر یا ویڈیو کو رپورٹ کرتا ہے جس میں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹوئٹر کی جانب سے میڈیا فائلز کو ہٹا کر مختلف آپشنز کے تحت ایکشن لیا جائے گا ان اقدامات میں صارفین کے مواد کو ریپلائیز اور سرچ رزلٹس میں نیچے لایا جاسکتا ہے یا اس فرد کو ٹوئٹ ڈیلٹ کرنے کا کہا جائے گا۔

    ٹوئٹر کے پاس پالیسی کی خلاف ورزی پر صارفین کو ہمیشہ کے لیے معطل کرنے کا اختیار بھی ہوگا اس پالیسی میں کچھ استثنیٰ بھی ہے جیسے عوامی شخصیات کے پرائیویٹ میڈیا کو اس میں کور نہیں کیا جائے گا یا ایسی تصویر، ویڈیو کو ٹوئٹ میں شیئر کیا جائے گا جو عوامی مفاد میں ہوآسان الفاظ میں اگر وہ میڈیا فائلز اہم ہے تو ٹوئٹر کی جانب سے اسے پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جائے گا۔

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    کمپنی کی جانب سے مختلف عناصر جیسے ٹی وی یا اخبارات میں تصاویر کی موجودگی کو بھی مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا مگر کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر عوامی شخصیات یا دیگر افراد کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد ان کو ہراساں کرنا یا چپ کرانا ہوگا تو ٹوئٹر کی جانب سے ان فائلز کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

    ٹوئٹر میں کافی عرصے سے صارفین کی جانب سے دیگر افراد کی نجی تفصیلات جیسے رہائشی پتے، فون نمبر، شناختی دستاویزات یا مالیاتی تفصیلات پر پابندی عائد کررکھی ہےاب لوگوں کی نجی میڈیا فائلز کے حوالے سے پالیسی کا نفاذ 30 نومبر سے ہورہا ہے جس کا مقصد سیفٹی پالیسیوں کو انسانی حقوق کے معیار کے مطابق لانا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے نیٹ ورک پالیسی اور قوانین میں نئی پابندیاں سی ای او کی تبدیلی کے ایک دن بعد سامنےآئی ہیں۔

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

  • محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    محنت اور توازن ،تحریر: فضیلت اجالہ

    کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے محنت لازمی ہے محنت کے بغیر کامیابی حاصل کرنا نا ممکن ہے لیکن محنت کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور اس میں توازن کا کیا عمل دخل ہے اس پر بات کرتے ہیں

    کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کی جانی والی کوشش محنت کہلاتی ہے کامیابی اور محنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے قسمت سے زیادہ محنت پر کامیابی کا انحصار ہے کیوں کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی اور قسمت آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتی

    انسان سچے دل سے جو کام کرے اس میں کامیاب ہوتا ہے محنت انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا بہانہ نہیں ہو سکتا جب انسان بہانہ بنانے کی بجائے محنت کرنے لگے تو کامیابی اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے محنت انسان کو عزم مصمم سکھاتی ہے

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محنت کا پھل اسی وقت نہیں ملتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ محنت ضائع ہو گئی کیوں کہ محنت ضائع نہیں ہوتی وقتی طور پر اگر محنت کا ثمر نہ بھی ملے تو زندگی میں آگے جا کر ضرور محنت کا پھل مل جاتا ہے

    محنت اثر رکھتی ہے اور اثر ثمر پیدا کرتی ہے محنت سے ملنے والا ثمر پر تاثیر ہوتا ہے جتنی محنت کرو گے اس سے ملنے والے ثمر میں اتنی تاثیر ہو گی دوسرے الفاظ میں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا محنت انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے جب انسان محنت کو اپنا مددگار بناتا ہے اسے ثمر ملتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر میں محنت کروں گا تو کوئی طاقت مجھے میرے ثمر سے محروم نہیں کر سکتی یہ خود اعتمادی اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے خود اعتمادی ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو ہار نہ ماننے کا درس دیتی ہے اور محنت کرنے پر آمادہ کرتی ہے کیوں کہ محنت اور خود اعتمادی آپس میں جڑے ہوتے ہیں

    محنت سبق دیتی ہے ہار نا ماننے کا اور جو شخص ہار نا ماننا سیکھ لے اسے کبھی ہرایا نہیں جا سکتا یہ جذبہ انمول ہوتا ہے یہ جذبہ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب آپ کو اپنی محنت پر یقین ہو محنت پر یقین نہیں ہو گا تو یہ جذبہ نہیں مل سکتا محنت انمول چیز ہے جو انسان کو نا قابل یقین ہمت عطاء کرتی ہے انسان میں جرات پیدا کرتی ہے ایسی جرات کہ انسان خود پر یقین کرتا ہے کہ سب کر سکتا ہوں
    محنت انسان کو بتاتی ہے کہ وہ اس وقت کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب اس میں لگن ہو چھا جانے کی جب اسے پتا ہو کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے سب کر سکتا ہے جب اسے پتا ہو کہ اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر وہ اپنے ہنر کو پہچان لے کیوں کہ خود کو پہچانے بغیر انسان کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو جانچ لیتا ہے تو وہ ان کو استعمال کرنے لگتا ہے اور اس محنت سے وہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے

    محنت کرتے ہوئے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے میں اس قدر مگن نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ان لوگوں ان چیزوں سے دور ہو جائیں جو آپ کی طاقت ہیں ذہنی سکون انتہائی لازمی ہے کسی بھی کام کو اس حد تک کیا جاۓ کہ ذہنی سکون برباد نہ ہو جسمانی حالت آپ کی طاقت ہوتی ہے انسان کو کبھی بھی اپنی فٹنس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے اپنے آپ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے جسمانی صحت انتہائی ضروری ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ محنت کرتے ہوئے زندگی کا توازن برقرار رہے زندگی کا توازن بگڑنا نہیں چاہیے
    @_Ujala_R