Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    خطے میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم ۔۔۔ ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں ۔ حالانکہ بھارت کی اپنی حالت کافی پتلی ہے ۔ معیشت سے لے کر ہر چیز کا بٹھہ بیٹھا ہوا ہے ۔ مگر جنونی مودی کے سر پراکھنڈ بھارت کا بھوت سوار ہے ۔ اس وقت کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب بھارت کو اپنے بارڈرز سمیت انٹرنیشنل سطح پر ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہو۔ کبھی پاکستان تو کبھی چینی بھارتی فوجیوں کی خوب تواضع کرتے ہیں ۔ تو کبھی کشمیری ، نکسلی ، ماؤ اور دیگر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو اب یوں لگتا ہے کہ مودی کے آنے کی وجہ سے شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان سے لے کر کھیل کے میدان تک بھارت کو صرف مار ہی مار پڑی رہی ہے ۔ پر انڈیا امریکی آشیرباد اور طاقت کے زعم میں اس خطہ میں جو کھیل کھیل رہا ہے۔ اسکے نتائج اس خطہ کو ہی نہیں۔ پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اسوقت ہندوستانی قیادت پاگل ہوچکی ہے دنیا جہاں کا اسلحہ خرید رہی ہے اور بڑی تیزی سے امریکہ فرانسیسی اور اسرائیلی ساختہ اسلحہ سرحد کے ساتھ ساتھ لگایا جا رہا ہے ۔ جس میں میزائل ، ڈرون ، نئے طیارے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کسی نئی جنگ کی تیاری میں ہے ۔

    ۔ بھارت کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں ہونے والی افغان سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے خطے میں پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا ریاستی موقف کیا ہے ۔ ہم بھارت بارے کیا سوچتے ہیں اور انڈیا کااصل چہرہ ہے کیا ۔۔۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغل میں آپ نے چھری رکھی اور منہ سے رام رام کہہ رہے ہوں۔ پھر بھارت افغانستان میں قیام امن کا کسی طور پر بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ الٹا خطے میں بگاڑ اور بد امنی کی تما م راہیں ہندوستان سے نکلتی ہیں۔ ہندوستان کی جنونی سرکار کے منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں اگر کوئی ملک سامنے کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل، یورپی یونین ہو یا عرب لیگ، ہر جگہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوؤں نے قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کو ناکام ریاست بنانے اور ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کبھی اثاثہ جات کی تقسیم پر، کبھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر، کبھی سیاچن، کبھی کارگل اور اب افغانستان کے مسئلے پر ہندوستان پاکستان کو نیچا دکھانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت سرکار ایک بار پھر افغانستان کے حوالے سے لیڈ لینے۔ بلکہ پنگا لینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے پر اس کی دال نہیں گلنی ۔ سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پر یاد رکھیں پاکستان کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی حیثیت اور ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی پاکستان نے اس لئے اس میں شرکت سے انکار کر کے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

    ۔ پر آپ مودی کی دونمبریاں تو چیک کریں ایک جانب یہ افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کے ڈر کو بھارت میں الیکشنز میں خود بیچا جا رہا ہے ۔ اگر آپک یاد ہو تو چند روز پہلے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ تھا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ یہاں تک اس فراڈیے نے تو افغانستان پر فضائی بمباری تک کی دھمکی لگائی تھی ۔ تو اب بھارت کس منہ سے افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے ۔ چلتے چلتے میں یوگی ادتیہ کو بھارت کی اوقات بتا دوں ۔ کہ گزشتہ ایک ہزار سال سے افغانستان سے آنے والے بنا کسی طیارے ، ٹینک کے میزائل اور جدیدہتھیاروں کے کئی مرتبہ گھڑسوار اور پیدل مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بھارت کو روند چکا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمدشاہ ابدالی تک افغانستان سے آنے والے لشکروں نے راس کماری سے لے کر بنگال تک دہلی سے لے کر کرناٹک تک کو فتح کیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ خاندان غزنوی ہو یا لودھی ، غلاماں ہوں یا خلجی، تغلق یا غوری یا مغل یہ سینکڑوں برس ہندوستان کے فاتح اور حکمران رہے۔ ۔ اگر آدتیہ یوگی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ ہوتا تو کبھی ایسی بڑ نہ مارتا جس کے جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ آدتیہ یوگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بدبخت شخص کو مسلمانوں سے اسلام سے نفرت ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے کہ دہلی ، آگرہ ، ڈھاکہ ، کلکتہ ، بہار، حیدر آباد ، لکھنو، بنارس ، تلنگانہ ، کیرالہ اوڑیسہ تک پھیلی کسی بھی ہندو ریاست میں یا ان کے مہاراجوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں میل دور افغانستان سے آنے والے ان مٹھی بھر مسلانوں کا مقابلہ کر کے انہیں نست ونابود کر دیتے۔الٹا لاکھوں کے لشکر، ہاتھی گھوڑوں ، اونٹوں کے باوجودیہ ہندوستانی ریاستیں ہر بار مسلمانوں کے حملے میں کاغذ کی کشتی کی طرح برساتی پانی میں بہہ جاتیں۔ یوگی ڈھونگی شایدبھول رہا ہے کہ مرہٹوں جن کی طاقت پر ہندوستانیوں کو بہت گھمنڈتھا وہ بھی بار بار زیر ہوئے۔ چھپ کر مسلم حکمرانوں پر حملے کرتے رہے مگر انہیں بھی پورے ہندوستان پر کبھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکوئوں کی طرح آتے اور چوروں کی طرح بھاگ جاتے رہے۔ حتیٰ کہ پانی پت کے میدان میں لاکھوں مراٹھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر احمد شاہ ابدالی نے مراٹھا سامراج کا خواب چکنا چور کر دیا تھا ۔ کیا یہ سب حقائق صرف فسانے ہیں ۔ کیا یو گی ڈھونگی نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو ضرور اس سے سبق سیکھتے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک شرانگیز ملک ہے جو امن قائم نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے ہونے والی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے کی تھانیداری کا خواہشمند ہے جس کے لئے اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی لیے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک ہمیشہ بھارت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس وقت بھارت اعلانیہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان مخالفت کی وجہ سے ہی ماضی میں افغانستان کو سپورٹ کیا ۔ وہاں پاکستان مخالف عناصر کی مالی امداد کر کے انہیں خوب پالا پوسا مگر جب سے افغان طالبان نے حکومت سنبھالی ہے۔ بھارت کی ساری سرمایہ کاری نالی میں بہہ گئی ہے۔ اب اسے خطرہ ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں مضبوط ہوئی تو اس کا اثر مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک آزادی پر بھی پڑے گا اور افغان طالبان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اور کشمیریوں کی حمایت کریں گے۔ آپ دیکھیں پاکستان دشمنی میں مودی سرکار اس حد تک چلی گئی ہے کہ روسی وزیر کے بقول اب پاکستان کے انکار کے بعد بھارتی امریکہ کو فضائی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ جہاں سے امریکہ افغانستان میں ڈرون حملے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ویسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے امیدہے بھارت سرکار ماضی کے واقعات سے ضرور سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارت میں مسلم کش فسادات کروا کر اگر بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دبا دیںگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف کشمیر کی مثال ہی کافی ہے جہاں 72سالوں سے بھارت اپنی لاکھوں مسلح افواج کے بل بوتے پر ہر ممکن جبر و تشددکے باوجود ان آزادی پسند کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں کچل سکا تو وہ بھلا بھارت میں پھیلے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا بربادکرے گا۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش جاری رہی تو پھر یہ داستان خودبھارت کی بربادی پر ہی ختم ہو گی۔ یہ ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔

    ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دلت ہندوئوں سمیت کسی بھی اقلیت کو جان مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں نہ صرف غصب کی جا چکی ہیں بلکہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت ہندو انتہاء پسندوں کے حملوں اور دوسری پرتشدد کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان انتہاء پسندوں کو بھارت کی مودی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی ہند سرکار سے نفرت کرتے ہیں مودی سرکار کی ہندو توا نے دیگر اقلیتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے سکھ، خالصتان بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے 630 اضلاع میں سے 220 اضلاع پہ اس وقت آزادی پسندوں کا قبضہ ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ ۔ ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام سے لیکر بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال اس وقت بھارت کے لیے سردرد بن چکے ہیں۔ آدھا بھارت فوجی چھاونی بن چکا ہے یہاں جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی فوج کے مظالم یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتی ہیں تو بھارت کی سرپرست عالمی طاقتیں انھیں خاموش کرادیتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب کچھ بھی چھپنا ناممکن ہو چکا ہے۔ آسام میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے قتل پر عرب سوشل میڈیا پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی مہم چلی کہ جو پھر پھیلتی ہی چلی گئی۔ پھر مودی جس بھی ملک جاتا ہے وہاں بھارت اور اسکے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ کبھی سکھ ، تو کبھی کشمیری تو کبھی ماؤ تو کبھی نکسلی خوب بیرون ملک بھی مودی کی بینڈ بجاتے ہیں ۔ ویسے مودی کسی بھی ملک کا پہلا سربراہ ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اتنی ہی زلالت کا سامنا رہتا ہے۔ پھر ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ہندو آبادی کو خطرناک حد تک ہندوتوا ذہنیت کے نشے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندوتوا قوتیں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانا اپنا مقدس فرض سمجھتی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے عروج کے دوران بھارتی مسلمانوں پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا گیا تاکہ بھارت میں نظام صحت کی تباہی کو چھپایا جا سکے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہاپسندوں نے تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

  • پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر شوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا

    بھارت : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کا جشن منانے پرشوہر نے بیوی اور سسرالیوں پر مقدمہ درج کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہری نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ 24 اکتوبر کو پاکستان نے بھارت کو بد ترین شکست دی تو ان کی بیوی رابعہ شمسی اور سسرالیوں نے پاکستان کی جیت کا پٹاخے پھوڑ کر جشن منایا اور واٹس اپ اسٹیٹس بھی لگائے۔

    پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیریوں کے قتل کے نعروں پر محبوبہ مفتی کی مذمت

    اس ضمن میں پولیس ٹیم کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا مذاق اڑایا گیا جس پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے،شادی کے فوراً بعد میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی تھی بیوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتی ہے اس قبل بیوی نے بھی شوہر کے خلاف جہیز کا مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

    بھارت: مسلمان اسکول ٹیچر پاکستان کی جیت پر خوشی منانے پر نوکری سے فارغ

    یاد رہے کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد بھارت میں قسم کی ایف آئی آرز درج کروانے کا سلسلہ جاری ہے اس سے پہلے بھی خاتون ٹیچر کو پاکستان کی جیت کا جشن منانے پر کیس کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا ریاست راجھستان میں مسلمان خاتون ٹیچر نفیسہ عطاری نے بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست پر واٹس ایپ پر اسٹیٹس اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستانی کھلاڑیوں کی تصاویر کو شئیر کیا تھا۔

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    علاوہ ازیں بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئیں تھیں بھارتی میڈیا کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز کے طلبا نے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منایا تھا آئی جی پولیس مقبوضہ کشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیری طلبہ کیخلاف یو اے پی اے ایکٹ کےتحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

    بھارتی پنجاب کے ضلع سنگور کے ایک انجینئرنگ کالج میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی تاریخی شکست کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو غصّے میں آئے اور انہوں نے معصوم کشمیری طلبا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ پولیس نے اس واقعے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

    پاکستان کی جیت کا جشن: کشمیری طلبا کیخلاف ایف آئی آر درج

  • پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

    پاک بھارت میچ ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 انٹرنیشنل بن گیا

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ میچ کو ریکارڈ 167 ملین ناظرین نے ٹی وی پر دیکھا۔

    باغی ٹی وی : پاک بھارت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ 2021 اب تک کی تاریخ کا ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی 20 میچ ہے، گزشتہ ہفتے تک ورلڈ کپ کے مجموعی ناظرین کی تعداد 238 ملین تک پہنچی تھی، اس میں کوالیفائرز اور سپر 12 راؤنڈ کے ابتدائی12 میچز شامل ہیں۔

    اس سے قبل سب سے زیادہ ٹی وی پر دیکھے جانے والے ٹی 20 میچ کا اعزاز بھارت اور ویسٹ انڈیز کے 2016 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل کو حاصل ہوا، اسے 136 ملین ناظرین نے دیکھا تھا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    واضح رہے کہ 24اکتوبر کو پاکستان نے بھارت کو دس وکٹوں سے شکست دے کر میچ اپنے نام کیا تھا۔ پاکستان نے سپر 12 مرحلے میں ناقابل شکست رہ کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا جبکہ بھارت کا ایونٹ میں سفر سوموار کو تمام ہو گیا جبکہ پاکستان میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں کل آسٹریلیا سے مد مقابل ہوگا۔

    دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا فائنل میچ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا قومی کرکٹ ٹیم اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست رہی ہے جبکہ آسٹریلیا کو ایک میچ میں شکست ہوئی ہے۔

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    دوسری جانب آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا یہ بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

  • فیصلہ پارٹ نمبر آخری 6 تحریر سکندر علی 

    جارج نے ایسے منہ بنایا جیسے اسے باپ کی بات پر اعتماد نہ ہو۔ اس نے جارج کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جیسے اپنی بات

    کی سچائی پر اصرار کر رہا ہو۔

    کتنی مزے کی بات ہے کہ آج تم میرے پاس آئے، یہ پوچھے کہ کیا دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں

    لکھوں ۔ بیوقوف لڑکے، وہ یہ بات پہلے سے جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ میں اسے خط لکھتا رہا ہوں کیوں کہ تم میرا لکھنے

    کا سامان مجھ سے چھینا بھول گئے تھے۔ اسی لیے تو اتنے برسوں سے وہ یہاں نہیں آیا ۔ وہ ان باتوں کو تم سے بھی کئی ہزار گنا

    بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تمھارے خطوں کو پڑھے بغیر مر کر دیتا ہے۔ اس کی دائیں ہاتھ میں

    میرے خط ہوتے ہیں جنھیں وہ پڑھتا ہے ۔”

    جوش جذبات میں اس کے باپ نے اپنا بازو سر کے اوپر جھلایا۔” وہ ہر بات تم سے ہزار گنا بہتر طرح سے جانتا

    ہے۔ وہ چلایا۔

    دس ہزار گنا بہتر جارج نے اپنے باپ کے احمقانہ پن سے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

    برسوں میں نے انتظار کیا کہ تم ایسا کوئی سوال لے کر میرے پاس آو کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے کسی اور بات کی پرواو

    ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں میں اخبار پڑھتا رہتا ہوں؟ دیکھ لو

    ، اس نے جارج کی طرف اخبار کا ایک صفی اچھالا

    جیسے وہ کسی طور اپنے ساتھ ہی بستر تک لے آیا تھا۔ ایک پرانا اخبار جس کا نام جارج کے لیے بالکل غیر اجنبی تھا۔

    بڑے ہونے میں کتنے سال اور لو گے تمھاری ماں اس انتظار میں مر گئی ۔ اسے یہ خوشی کا دن دیکھنا نصیب نہیں

    ہوا تمھارا دوست روس میں خراب ہورہا ہے ۔ حتی کہ تین سال پہلے وہ اتنا زرد تھا کہ چھینک دیئے جانے کے قابل، اور

    جہاں تک میرا تعلق ہے ہم جانتے ہو کی حالت میں ہوں ۔ بیردیکھنے کے لیے تمھارے پاس آنکھیں بھی ہیں ۔

    تو آپ یہاں لیٹے میرا انتظار کرتے رہتے تھے ۔’ جار چلایا۔

    غیر دوستانہ لہجے میں اس کے باپ نے افسوس کے ساتھ کہا : میرے خیال میں یہ بات تم بہت پہلے کہہ دینا چاہتے

    ہے لیکن اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پھر اونچی آواز میں بولا اس لیے کہ اب تم جانتے ہو تمھارے اردگرد دنیا میں

    اور کیا کچھ ہے۔ اب تک تمھیں صرف اپن کریں۔ ایک معصوم بچہ ہاں، یہی ہوتی ، یہی ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا یہ

    ہے کہ تم ایک شیطان صفت انسان ہو اور اس لیے جھلو

    ، میں تمھیں ڈوب کر مر جانے کی سزاسناتا ہوں ۔

    جارج نے محسوس کیا کہ اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔ جس دھماکہ خیز آواز کے ساتھ اس کا باپ پچھے کمرے میں

    اپنے بستر پرگرا تھا وہ باہر کرتے ہوئے اس کی کانوں میں گونج رہی تھی۔ زینے پر وہ بھاگتا ہوا نیچے اترا جیسے کوئی نشیب ہو وہاں

    اس کی ٹر تھیٹر صفائی کرنے والی عورت سے ہوئی جو پچھلی رات کے بعد سے اب اس کے کمرے میں صفائی کرنے آئی تھی ۔

    د خدایا وہ چینی اور اپنا چہرہ ایپرن میں چھپا لیالیکن وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔ صدر دروازے سے نکل کر وہ بھاگا،

    سڑک پر دریا کی طرف بڑھتے ہوئے۔ وہ شئے کو یوں زور سے پڑے ہوئے تھا جیسے کوئی بھوکا آدی خوراک کوٹھی میں

    دبائے ہو۔ وہ جنگل کو پلا نگا جمناسک کے ایک غیر معمولی باہر کی طرح جیسا کہ وہ اپنی نوجوانی میں تھا، اپنے والدین کا

    فتار کمزور ہوتی ہوئی گرفت کے ساتور های تک خشگل کو پڑھے ہوئے تھا، جب اس نے جنگلوں کے درمیان میں سے

    ایک بس کو

    آتے دیکھا جو آسانی سے اس کے گرنے کے شور کور با لے گی ۔ وہ خاموی سے اور عزیز والدہ کی ، میں نے ہمیشہ

    آپ سے محبت کی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اور پھر خودکو پنچ گرالیا۔

    اس لیے پل پر سے ٹریفک کا غیرفتم سیلاب گزررہا تھا۔

    ختم شد

  • اولاد کی تربیت کیسے کریں   تحریر: فضیلت اجالہ 

    اولاد کی تربیت کیسے کریں  تحریر: فضیلت اجالہ 

    آپ میں سے اکثر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ابابیل (پرندہ) کنویں میں اپنا گھونسلہ بناتی ہے ،بچوں کو اڑان کی تربیت دینے کے لیے نا تو اس کے پاس وسیع احاطہ میسر ہوتا ہے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کو نا کافی تربیت کے ساتھ اڑنے کی اجازت دے سکتی ہے ،کیونکہ وہ جانتی ہے کہ دوسرے پرندوں کی طرح اس کے بچوں کو گر کے سنبھلنے اور دوبارہ اڑان بھرنے کا موقع نہیں ملے گا، بلکہ اگر پہلی اڑان نا کام ہوئ تو اسکا نتیجہ موت ہوگا۔ بچوں کو اس درد ناک موت سے بچانے کے لیئے ابابیل تربیت کی یہ مشقیں بھی اپنی زات پہ کرتی ہے ،بچوں کی ولادت سے پہلے جو ابابیل دن میں 25 اڑانیں بھرتی تھی بچوں کی ولادت کے بعد وہ اپنی اڑانوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 75 کر دیتی ہے ،اور یوں ایک مکمل دن میں دونوں والدین 150 اڑانیں بھرتیں ہیں جس سے بچوں کے دل میں یہ عقیدہ راسخ ہو جاتا ہے کہ یہاں سے اڑ کہ سیدھا باہر جانا ہے کیونکہ بچے انسان کے ہو یا حیوان کہ وہ وہی عادات و انداز اپناتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں ۔اسی طرح ہمارے بچے بھی کل کو وہی کریں گے جو آج ہم انہیں اپنے عمل سے سکھائیں گے ۔

    اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اور اچھی اولاد اچھی تربیت سے بنتی ہے،

    بچے کی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے کیونکہ ماں کی گود بچے کے لیئے پہلی درسگاہ ہوتی ہے ،بچوں کو اسکول ،کالج یا مدرسہ بھیج کر آپ اسکی تربیت سے بری الزماں نہیں ہو سکتے ،اسے نمازی،پرہیزگار ،سچا اور اچھا انسان نہیں بنا سکتے۔

    اگر ہمیں اپنے بچوں کو نمازی بنانا ہے تو اسکے لیئے سختی کرنا یا زبردستی مسجد بھیجنا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں انہیں نماز پڑھ کے دکھانا ہے انکے لیئے ایک مثال بننا ہے کہ نماز ہر کام سے ضروری ہے ۔

    بچوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے سچ بولنے کی پریکٹس کریں ۔

    بچوں کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں بلکہ اللہ سے محبت پیدا کریں ،انہیں بتائیں کہ اللہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن جس طرح کوئ بھی غلط کام کرنے پر ہم آپ سے ناراض ہو سکتے ہیں بلکل اسی طرح اللہ تعالی بھی ناراض ہو جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اللہ پاک انتہائ رحیم و کریم ہیں اگر تم ان کے سامنے سچ بولو گے اپنے گناہ پہ شرمسار ہو گے تو وہ آپ کو معاف کر دیں گے، یقین کیجیئے آپکا بچہ سچ بولنے کا عادی ہوتا جائے گا ۔

    سارے دن کے بعد رات سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں ان سے دن بھر ہونے والے واقعات کے متعلق پوچھیں اس سے آپ کافی حد تک اپنے بچے کی سر گرمیںوں سے آگاہ رہیں گے ،بچوں سے تمام دن میں ملنے والی کوئ سی تین نعمتوں کے باریں میں پوچھیں تاکہ ان میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے متعلق احساس شکر گزاری پیدا ہو۔

    بچوں کو ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں وہ دن بھر ہونے والے اچھے اور غلط کام لکھیں ،اس سے ان میں اپنی کوتاہیوں کو قبول کرنے کا اور انہیں سدھارنے کا وصف پیدا ہوگا ۔

    بچوں کو زرا زرا سی بات پر روک ٹوک نا کریں ،دینی یا دنیاوی جو بھی معاملات ہوں کبھی بھی بچوں سے بہت زیادہ پرفیکشن کا مطالبہ نہ کریں،خاص کر عبادات کے سلسلے میں بہت زیادہ حدود و قیود نا لگائیں کیونکہ یہ باتیں اسے دین سے متنفر کر دیں گی ،پہلے بچے کو اس کام کا یا عبادت کا عادی بنائیں ،جب اس کی عادت پختہ ہو جائے گی ِتو وہ اپنا تجزیہ خود کرے گا۔جب سکول میں تمام سلیبس ایک ساتھ نہیں پڑھایا جاتا تو ہم سارا دین ،سارے ادب و آداب اسے ایک ساتھ کیسے پڑھا سکتے ہیں ۔

    آج کے فتنہ پرور دور میں جب قدم قدم پہ بہکنے کا سامان موجود ہے تو بحیثیت والدین آپ کی ڈیوٹی مزید سخت ہو جاتی ہے ،آپ انہیں برائ سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن برائ اختیار کرنے سے روک سکتے ہیں ،لیپ ٹاپ ،موبائل نا دینا مسلے کا حل نہیں ہے آج کے دور میں ان چیزوں تک رسائ مشکل نہیں،آپکا کام ان کے دل میں حرام اور حلال کا فرق واضح کر دینا ہے ،ان کہ اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرنا ہے پھر وہ خود ان چیزوں سے دوری اختیار کریں گے جن کی اسلام میں ممانعت ہے ۔

    بچے میں یہ احساس پیدا کیجیئے کہ اس کا ہر عمل اللہ اور اس کے درمیان ہے اور وہ ہر عمل کے لیئے خالص اللہ کے آگے جواب دہ ہیں ،جب وہ اس بات کو سمجھ لے گا تو پھر دنیا کہ ڈر سے کوئ کام چھپ کر نہیں کرے گا بلکہ وہ اللہ کے ڈر سے کوئ غلط کام کرے گا ہی نہیں ۔

    یاد رکھیئے قانون قدرت ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ،اس کےقلب میں اللہ سے لگاؤ کا شعلہ ٹمٹا رہا ہوتا ہے 

    ہمیں اس شعلے کو جلا دے کر مشعل بنانے کی ضرورت ہے ۔چھوٹے بچے کی پرورش کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ کہ نرم و نازک پودے کی کانٹ چھانٹ کرنا ،معاشرے میں نمو پاتی مزہب سے دوری اور نسل نوجواں کو بے راہ روی کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیئے دیا بننے کی کوشش کیجیئے اپنی اور دوسروں کی اولاد کے لیئے صراط مستقیم کی دعا ضرور کیجیئے ۔

    @_Ujala_R

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سیمی فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کا باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بن گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سیمی فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کا باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بن گیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارتی ٹیم کا سیمی فائنل سے پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہو جانا شدید مالی نقصان کا سبب بنے گا۔

    باغی ٹی وی : ایک رپورٹ کے مطابق 50اوورز کے ورلڈکپ میں ایسی ہی صورتحال میں کرکٹ سے وابستہ معاشی سرگرمیاں بْری طرح متاثر ہوئی تھیں، سرمایہ آدھا رہ گیا تھا بعد ازاں بحالی کا سفر بتدریج جاری رہا،اس بار بھی اسپانسر کمپنیز، ایڈورٹائزر اور دیگر متعلقہ ادارے ہاتھ کھینچنے لگے ہیں،اس صورتحال میں مضبوط بھارتی کرکٹ بورڈ کو کم ازکم ایک بڑا جھٹکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    واضح رہے کہ بھارت نے سپر 12 مرحلے میں ورلڈ کپ کا اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیلا اور جیت حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں-

    جس کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہ ہم ایک ساتھ مل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے لیکن بدقسمتی سے پیچھے رہ گئے اور ہم سے زیادہ مایوس کوئی نہیں ہے۔

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    بھارتی شائقین کو مخاطب کرتے ہوئےبھارتی کپتان نے لکھا تھا کہ آپ نےہمارا بھر پور ساتھ دیا اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ آخر میں انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ ہم سب کا اب یہی مقصد ہیں کہ ہم مضبوطی سے واپس آئیں گے۔

    یاد رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

  • انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں صرف پاکستانی ٹیم سے خوف محسوس کرنا چاہیئے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرااکرم نے آسٹریلوی اور انگلینڈ ٹیم کو پاکستان میں خطرے سے خبردار کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں شنیرا اکرم نے کہا کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کو پاکستان میں کرکٹ کھیلنے میں جس چیز سے خوف محسوس کرنا چاہیے وہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم ہے۔


    انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں آسٹریلوی اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ٹیگ کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم یعنی پاکستان اور پاکستانی کرکٹ بورڈ ہمیشہ کھلے دل سے سب کو خوش آمدید کہیں گے-

    واضح رہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے دورے کا اعلان کیا ہے، گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ سے انگلش کرکٹ بورڈ(ای سی بی) چیف ایگزیکٹیو اور ڈپٹی چیئرمین نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے مابین سیریز سے متعلق گفتگو ہوئی۔

    انگلش ٹیم آئندہ سال پاکستان کا ضرور دورہ کرے گی:کتنے ٹی 20 میچ ہوں گے یہ بھی…

    انگلش کرکٹ بورڈ کے حکام نے لاہور قذافی سٹیڈیم کا دورہ کی ملاقات کے دوران انگلینڈ نے اگلے سال دو اضافی ٹونٹی میچز کھیلنے کی حامی بھر لی۔ آئندہ سال آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان اور انگلینڈ 7 ٹی ٹونٹی میچز کھیلیں گے۔ اس دوران آئندہ سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم تین ٹیسٹ میچز کھیلنے پاکستان آئیگی۔

    انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیرسن کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ شاندار تعلقات کا خواہاں ہے۔

    جبکہ دو روز قبل آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے، 1998 کے بعد یہ آسٹریلیا کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔

    انگلینڈ کرکٹ بورڈ چیف ایگزیکٹواچانک لاہور پہنچ گئے:رمیزراجہ سے اہم ملاقات

    پی سی بی کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ ٹیم آئندہ سال مارچ اپریل میں پاکستان کا دورہ کرے گی ، دورے میں تین ٹیسٹ، تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ شامل ہیں۔

    سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 3 مارچ سے کراچی میں شروع ہوگا،دوسرا ٹیسٹ میچ 12 تا 16 مارچ تک راولپنڈی میں کھیلاجائے گا، تیسرا میچ21 تا 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سیمی فائنل، آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج نیوزی لینڈ اور انگلینڈ آمنے سامنے ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 7 بجے شروع ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بڑا ٹاکرا آج بوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں ہوگا دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے گروپ میں سپر 12 مرحلے کے چار چار میچ جیت کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

    گروپ بی میں نیوزی لینڈ کوصرف پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ انگلینڈ کو اپنے آخری میچ میں جنوبی افریقہ سے شکست ہوئی تھی۔

    سیمی فائنل میچ سے قبل انگلینڈ کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے اوپننگ بلے باز جیسن رائے انجری کے سبب ورلڈکپ سے باہر ہوگئے ہیں انگلینڈ 2010 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اپنے نام کر چکا ہے جبکہ 2016 میں اسے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے شکست دی تھی۔

    واضح رہے کہ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان کل آسٹریلیا سے مد مقابل ہو گا دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا فائنل میچ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا قومی کرکٹ ٹیم اب تک ایونٹ میں ناقابل شکست رہی ہے جبکہ آسٹریلیا کو ایک میچ میں شکست ہوئی ہے۔

  • فیس بک  نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا مقابلہ اگر پاکستان سے کیا جائے تو وہ رقبے کے لحاظ سے ہم سے کافی بڑا ہے اس لئے وہاں کی آبادی بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور آجکل زیادہ آبادی کا مطلب ہے بہت بڑی مارکیٹ ۔ لیکن اسی مارکیٹ میں بزنس سے زیادہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ہندوتوا سوچ کو بڑھانے کے لئے ہندو انتہا پسند ہر حد پار کرتے جا رہے ہیں۔ ویرات کوہلی، عامر خان سے لیکر ایک عام بریانی والا تک ان سے محفوظ نہیں ہے۔

    مودی سرکار اپنی اس بڑی مارکیٹ کو کس طرح سے کیش کروارہی ہے۔ کیسے بڑے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی انتہا پسند سوچ کے پھیلاو کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کمپنیز بھی ایسا ہونے دے رہی ہیں کیونکہ ظاہری بات ہے ان کا مطلب صرف اپنے بزنس اور منافع سے ہے۔ لیکن نقصان کی بات یہ ہے کہ ان کی خاموشی اور مودی سرکار کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈیا میں اب نفرت اور انتہا پسندی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے حامی لوگوں کے دماغوں میں اب یہ بات پوری طرح بیٹھ چکی ہے کہ جب بڑی بڑی کمپنیوں سے ہم اپنی بات منوا لیتے ہیں تو چھوٹے کاروبار کرنے والوں سے بات منوانا کیا مشکل ہے جس کی وجہ سے حالات یہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ انڈیا میں اس دیوالی پر جشن سے زیادہ سوشل میڈیا ٹرولنگ ہوتی رہی ہے کبھی کسی سٹار کی کبھی کسی برانڈ کی۔ یعنی انڈین عوام جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم تو تھی ہی لیکن اب زبانوں اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگز لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں کافی عرصے سے حکومت فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو اپنی مرضی سے استعمال کر رہی تھی وہیں اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیر بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ مسلمان تو مسلمان عیسائیوں اور سکھوں پر بھی زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ انکشاف ہوا کہ سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی فیس بک استعمال کرکے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا بیج بویا گیا جبکہ انسانوں کے سمگلرز نے لوگوں کو پھانسنے کے لئے فیس بک کااستعمال کیا۔ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس نہ صرف بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ 17میڈیا ہاؤسز کا ایک کنسورشیم ہے جس نے فیس بک کی یہ متنازع پالیسیاں بے نقاب کرنا شروع کی ہیں۔ اور فیس بک پر یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ فیس بک کی ہی ایک Ex-employ Frances Haugen
    نے لگایا ہے بلکہ اس نے فیس بک سے Resignبھی اسی لئے کیا کہ فیس بک Hate speech and voilenceکو پروموٹ کرتی ہے۔ اور یہ صرف الزام نہیں ہے بلکہ اس نے پروف کے طور پر ہزاروں ڈاکیومنٹس بھی پیش کئے ہیں جن کوان میڈیا ہاوسز کے کنسورشیم نے Studyکیا۔ امریکی کانگریس اور برطانیہ کی پارلیمنٹ دونوں کے سامنے یہ پیش ہوئی ہیں۔ جہاں اس نے فیس بک پلیٹ فارم کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اس کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو دنیا میں مزید فسادات اور نسل کشی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ ان ڈاکیومنٹس کے مطابق چھ جنوری کو امریکی کیپیٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ اور میانمار اور ایتیھوپیا جسے ممالک میں ہونے والی نسل کشی جیسے واقعات میں تو فیس بک کا ہاتھ ہے ہی لیکن پاکستان اور انڈیا کے حوالے بھی جو Factsان ڈاکیومنٹس میں سامنے آئے ہیں وہ کافی خطرناک ہیں۔ فروری دو ہزار انیس میں ایک ریسرچرز کی ٹیم نے ایک Dummy account createکیا انڈین یوزر کا Experienceمعلوم کرنے کے لئے۔ اس اکاونٹ میں خود سے کوئی فرینڈز نہیں تھے نہ ہی کوئی Prefrences set کی گئی تھیں تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ فیس بک خود سے اس اکاونٹ کو کیا Recommendکرتی ہے۔ اور تین ہفتوں تک اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پرجو کچھ سامنے آیا وہ کافی حیران کن تھا۔ اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پر جو کچھ فیس بک الگورتھم کی وجہ سے Recommend کیا گیا اس میں زیادہ تر فیک نیوز، اشتعال دلانے والا اور نفرت پھیلانے والاContentتھا۔ یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کی ایسی تصاویر بھی تھیں جن کے سر تن سے جدا تھے خون خرابہ ہوا ہوا تھا اس کے علاوہ پورن مٹیریل بھی دکھایا جا رہا تھا۔ یہ اکونٹ ان دنوں میں بنایا گیا تھا جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو اس انڈین یوزر اکاونٹ کو وہ فیک نیوز اور Images
    دکھائے جا رہے تھے جو کہ پاکستان کے خلاف تھے۔ ایسی پوسٹ تھیں جن میں پاکستانی عوام کو گندی گالیاں دی گئیں تھیں۔

    فیس بک کی طرف سے کہا گیا کہ انھون نے اس ریسرچ ٹیسٹ کے بعد اپنے الگورتھم میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہے کہ فیس بک نے تبدیلیاں کیں فیک نیوز کو کاونٹر کرنے کے لئے کافی بجٹ خرچ کیا گیا لیکن اس میں بھی فیس بک نے Fair dealنہیں کی۔ فیک نیوز کے خلاف جتنا بجٹ تھا اس کا 87%تو صرف امریکہ پر خرچ کر دیا گیا باقی کا
    13%دوسرے تمام ممالک پر خرچ کیا گیا۔ اور دوسری بات یہ کہ ہندی اور بنگالی کے خلاف فیس بک کی طرف سے Classifiersبھی نہیں Createکئے گئے جو کہ ان زبانوں میں فیک نیوز کو
    Detectکرسکیں۔ ان میں سے کچھ الگورتھم اب دو ہزار اکیس میں بنائے گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہیں کیونکہ انڈیا میں فیس بک بیس زبانوں میں استعمال کی جاتی ہے اور
    Classifiersصرف پانچ زبانوں کے موجود ہیں۔ جس کا انھوں نے یہ حل نکالا کہ پندرہ ہزار لوگوں کی ٹیم بنا دی جو خود سے فیس بک پوسٹس کو چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ فیک نیوز تو نہیں ہے یا پھر Hate speech and voilenceتو نہیں پھیلا رہے۔ اور یہ ہی فیس بک کا وہ کام ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا کیسے فیس بک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور فیس بک ایسا ہونے بھی دے رہا ہے۔ کیونکہ ان کی یہ ٹیم ان پوسٹس کو فلیگ ہی نہیں کرتی جو کہ آر ایس ایس بجرنگ دل اور بی جے پی کی طرف سے کی جاتی ہیں جو کہ زیادہ تر پاکستان کے خلاف ہوتی ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔ اور اس کی وجہ Political senstivitiesبتائی جاتی ہیں یعنی اگر فیس بک نے ان گروپس کی پوسٹس ہٹائیں تو انڈین حکومت کی طرف سے ان پر پابندیاں لگ جائیں گی اور ان کا بزنس متاثر ہو گا۔ اس پر انٹرنیشنل میڈیا میں بھی کئی آرٹیکلز لکھے گئے جس میں انڈیا اور فیس بک کی اس ملی بھگت اور دو نمبری کو ایکسپوز کیا گیا لیکن آج تک اس کا کوئی حل نہیں ہو سکا کیونکہ فیس بک کے لئے بات پیسے اور بزنس کی ہے اور مودی سرکار ویسے ہی پاکستان کے خلاف کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

    اور صرف پاکستان ہی نہیں مودی سرکار اور انڈیا میں موجود دوسری انتہا پسند تنظیمیں انڈین مسلمانوں اور دوسری اکثریتوں کے بھی خلاف ہیں وہ انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔
    اور اب انتہا پسندوں کی ایک کی اور کارستانی بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیرانڈیا میں بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے کہ کیسے نئی دلی میں ایک ہندو انتہا پسند شخص بریانی بیچنے والے کو دکان بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نئی دہلی میں سانت نگر کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس انتہا پسند شخص کا نام نریش کمار سوریاونشی ہے جو خود کو انتہا پسند بجرنگ دل کا کارکن بتا رہا ہے۔ اور یہ شخص بریانی بیچنے والے سے کہتا ہے کہ یہ ہندوؤں کا علاقہ ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ یہاں بریانی بیچے اور ساتھ ہی اسے دکان بند کرنے کی بھی دھمکی دیتا ہے گالیاں بھی دیں اور کہا کہ تم نے دکان کیسے کھولی؟ کس نے تمھیں اس کی اجازت دی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہندوؤں کا علاقہ ہے؟ اس نے یہ بھی کہا کہ ’آج دیوالی ہے، اس دکان کو بند کرو، تم کیا سوچ رہے ہو؟ کیا یہ تمھارا علاقہ ہے؟ کیا یہ جامع مسجد ہے؟ یہ مکمل طور پر ہندوؤں کا علاقہ ہے۔ جس کے بعد دکان میں کام کرنے والے اس میں لگی میز اور کرسیاں اٹھاتے ہیں اور دکان بند کر دیتے ہیں۔

    ویسے تو انڈیا میں ایسی کارروائیاں نئی بات نہیں بلکہ روز کا معمول بن چکی ہیں لیکن اس دیوالی پرایسے واقعات کچھ زیادہ ہی ہوئے ہیں۔ پہلے ویرات کوہلی نے کہہ دیا کہ وہ دیوالی منانے کی کچھ ٹپس شیئر کرنا چاہتے ہیں تو اس کو ٹرول کیا گیا۔ پھر فیب انڈیا کو ان کی جشن ریواز کے نام سے لانچ کی گئی دیوالی کی نئی کولیکشن کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ ہندو تہوار کے لئے اردو نام کیوں؟ پھر عامر خان کو ٹرول کیا گیا ان کے اشتہار کی وجہ سے جس میں عامر خان نے یہ کہا کہ پٹاخے سوسائٹی میں بجائیں سڑکوں پر نہیں۔ لیکن ان کو یہ کہہ کر ٹرول کیا گیا کہ مسلمان سڑک پر نماز پڑھیں تو وہ نہیں بولتے پٹاخے سڑکوں پر کیوں بج رہے ہیں بس یہی نظر آتا ہے۔ اور اس کے بعد اب بریانی والی ویڈیو یعنی اب کپڑوں، زبان اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگ لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی مثالیں آئے دن سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی انڈیا میں نفرت انگیز سلوک بڑھتا جا رہا ہے۔ جس پر کسی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ نہیں ہے انہوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں لیکن اگر مودی سرکار اسی طرح نفرت پھیلنے دیتی رہی تو ایک دن آئے گا جب پوری دنیا کو یہ سب دیکھنا بھی پڑے گا اور مودی سراکر سے اس کا جواب بھی مانگنا ہو گا۔

  • بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    بھارت کا اگلا کپتان کون ہو گا ؟ ویرات کوہلی نے بتا دیا

    ٹی ٹوئنٹی میں بطور کپتان آخری میچ کھیلنے والے ویرات کوہلی نے بھارت کے اگلے کپتان کا بتادیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے افغانستان کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا اورگزشتہ روز بھارت نے سپر 12 مرحلے میں ورلڈ کپ کا اپنا آخری میچ نمیبیا کے خلاف کھیلا اور جیت حاصل کی، لیکن پھر بھی سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جہاں بھارتی ٹیم کا سفر ختم ہوا، وہیں ویرات کوہلی کا ٹی 20 میں بطور کپتانی کا سفر بھی ختم ہو گیا ٹاس جیتنے کے بعد جب ویرات کوہلی سے ان کی کپتانی سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کپتانی کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی اور وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں یہ موقع ملا، انہوں نے کہا کہ میں نے اس ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی تاہم اب یہ ذمہ داری کسی اور کو دینے کا وقت آگیا ہے۔

    ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد ویرات کوہلی کا بیان

    انہوں نے سوال کے جواب میں نائب کپتان روہیت شرما کا نام بھی لیا اور کہا کہ بھارت محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وقت آگیا ہے کہ میں مختصر فارمیٹ میں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے، اب وقت آگیا ہے کہ نئے آنے والے اس ٹیم کو لے کر آگے بڑھیں اور ویسے بھی روہیت شرما یہاں موجود ہیں جو تمام چیزوں کو اچھے سے دیکھ رہے ہیں۔

    واضح رہے ویرات کوہلی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل ہی مختصر فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

    ویرات کوہلی بطور کپتان اپنے ملک کا بہترین سفیر تھا وقار یونس