Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    تمام خواب چکنا چور، تحریر:نوید شیخ

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    ۔ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    ۔ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔
    ۔ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔

  • ورلڈ ٹی 20: پاکستان کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ورلڈ ٹی 20: پاکستان کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان کی آسڑیلیا کے خلاف بیٹنگ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان نے 5اوورز کے اختتام پر بغیر کسی نقصان پر 38 رنز بنالیے دبئی میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دےدی ۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے اپنے ہی بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    بابر اعظم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار چوکے سے اپنا کھاتا کھولا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھو ہیڈن کو پیچھے چھوڑ دیا بابر کو میچ سے قبل ہیڈن کا ریکارڈ توڑنے کیلئے صرف ایک دو رنز درکار تھے۔

    میتھو ہیڈن نے 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 265 رنز بنائے تھے جس سے زیادہ اب بابر کے رنز ہوگئے ہیں۔

    اس کے علاوہ بابر اعظم نے ڈیبیو ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی توڑدیا ہے، ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی آسٹریلیا کے میتھو ہیڈن کے پاس ہی تھا۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یو اے ای میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا دوسرا سیمی فائنل پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جائے گا دبئی میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دےدی پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف بھی اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔

    واضح رہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 16 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناقابل شکست ہے البتہ آسٹریلیا آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے خلاف تمام 4 ناک آؤٹ میچز جیتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ قومی ٹیم کے دو کھلاڑی شعیب ملک اور محمد رضوان فلو میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ان کی آج کے میچ میں شرکت مشکوک ہوگئی تھی۔

    رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انہیں معمولی بخار ہے تاہم ان کی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی تھی جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

    آج پی سی بی کے میڈیکل پینل نے معائنہ کرنے کے بعد رضوان اور شعیب ملک کو تندرست قرار دیا ہے اور وہ آج میچ کا حصہ ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان  ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے؟

    وزیراعظم عمران خان ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے؟

    وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی جیت کی صورت میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی مینز ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دبئی میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوینٹی ورلڈ کے سیمی فائنل میں آج پاکستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہے، اور اگر پاکستان سیمی فائنل میں فتح حاصل کرلیتا ہے تو وزیراعظم عمران خان ایونٹ کا فائنل میچ دیکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے دبئی جائیں گے، وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وفاقی وزیر فواد چوہدری بھی ہوں گے

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف آج کا میچ جیتنا ضروری ہے کیونکہ ہم نے فائنل میں نیوزی لینڈ سے سکیورٹی کا مسئلہ بھرپور طریقے سے حل کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ دو بڑی اور تگڑی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہے، وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ اگر ہم فائنل میں پہنچے تو وہ میچ دیکھنے ضرور جائیں۔
    https://twitter.com/FawadPTIUpdates/status/1458697052997799945?s=20
    فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم جس طریقے سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایسی کارکردگی بہت کم رہی ہے امید ہے اس تسلسل کو برقرار رکھیں گے پوری قوم اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑی ہے اور جیت کے لئے دعا گو ہے. انشاءاللہ آج کا میچ ضرور جیتیں گے-

    انہوں نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ جیت کر ہم نے فائنل میں نیوزی لینڈ سے سیکیورٹی کا مسئلہ بھرپور طریقے سے حل کرنا ہے، اس لیے آج کا میچ جیتنا ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام کھلاڑیوں کے پاس سپر اسٹار بننے کا موقع ہے، 5 مختلف پلیئرز کو مین آف دی میچ کا اعزاز ملا ہے، اب دیکھتے ہیں چھٹے میچ میں کس کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرداخلہ شیخ رشید بھی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ فائنل دیکھنے دبئی جائیں گے، اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے دبئی جانے کی اجازت مانگ لی ہے۔

    شیخ رشید گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھنے دبئی گئے تھے، تاہم ٹی ایل پی کے دھرنوں اور احتجاج کے باعث ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث وزیراعظم نے شیخ رشید کو میچ سے پہلے وطن واپس بلا لیا تھا اور وفاقی وزیر کو وطن واپس لوٹنا پڑا تھا، تاہم اب شیخ رشید فائنل میچ دیکھنے دبئی جائیں گے۔

    سابق فاسٹ باولر شعیب اختر اور سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی قومی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے-

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل ہے پاکستانی عوام ،سیاسی ، سماجی اور شوبز شخصیات اور کھلاڑیوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے وقمی ٹیم کے لئے نیک خواہشات کا اظہات کیا جا رہا ہے شاہد آفریدی اور قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے –


    شعیب اختر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آج بڑا دن ہے۔ اپنی رفتار اور بھرپور توانائی کے ساتھ انشا اللہ آپ ہی فتح حاصل کریں گے۔

    انہوں نے لکھا کہ 100 فیصد کارکردگی دکھا کر مثبت سوچ کے ساتھ جارحانہ کھیلیں۔ کامیابی دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ شاباش اور گڈ لک۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ آل دی بیسٹ پاکستان!


    انہوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل سے قبل ٹوئٹر پر لکھا کہ میرے لیے آج کا میچ فائنل جیسا کھیل ہے۔ ہم نے سال 2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابل یقین سیمی فائنل کھیلا تھا۔

    شاہد خان آفریدی نے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور اور ان کے کھلاڑی آج پہلے سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔

    واضح رہے کہ ستمبر میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلا میچ شروع ہونے سے قبل ‘سیکیورٹی خدشات’ کی وجہ بتا کر دورہ پاکستان منسوخ کردیا تھا نیوزی لینڈ 2003 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہا تھا اور اس کا دورہ منسوخ کرنے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے اکتوبر کے دورہ پاکستان کے بارے میں حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں کریں گے۔

    انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل حل ہو جائیں گےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کرکٹ کے لیے یہ شرم کی بات ہے، آخری لمحات کا یہ فیصلہ کھیل کو بہت زیادہ مالی نقصان پہنچائے گا، امید ہے کہ پاکستان میں دوبارہ کرکٹ کھیلنے کے لیے سیکیورٹی کے مسائل حل کیے جا سکیں-

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    گلہ کریں تو کس سے؟ تحریر:نوید شیخ

    وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔

    ۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    ۔ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    ۔ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    ناکامیوں کی فہرست، تحریر:عفیفہ راؤ

    جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔
    ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔
    ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    نیویارک :میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی بطخ کے سوشل میڈیا پر چرچے-

    باغی ٹی وی : میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی ایک بطخ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس سے صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور بطخ کی ریس لگاتے ہوئے ویڈیو کو خوب سراہا جا رہا ہے –

    وزیر خارجہ کا ماحولیاتی تبدیلی سے آگاہی دینے کا انوکھا طریقہ

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹی سی رنکل نامی بطخ سُرخ جوتے پہنے نیویارک میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ہمراہ دوڑ لگاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

    یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ "رنکل نے نیو یارک میراتھن میں دوڑ لگائی، اگلے سال یہ اس سے بھی اچھا پرفارم کرے گی۔”

    انسٹاگرام پوسٹ میں میراتھن ریس میں حصّہ لینے پر بطخ کو سراہنے والے صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

    "ٹائم آؤٹ ” کے مطابق اگرچہ ہم اب مشہور شخصیت کی بطخ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کافی عرصے سے جانوروں کی حرکات کو دائمی بنا رہا ہے۔

    لیکن یہ NYC میراتھن میں بطخ کی ظاہری شکل ہے جس نے واضح طور پر سب سے زیادہ توجہ مبذول کرائی ہے۔ نیویارک کے باشندے، برانڈز اور جانوروں سے محبت کرنے والوں نے رنکل کے بعد کی دوڑ کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ہمارا پسندیدہ تبصرہ TikTok کے بشکریہ آیا، جہاں Adidas نے لکھا: "”ہم ہماری ڈیزائنر ٹیم کو بھیج رہے ہیں تاکہ بطخ کے جوتوں کے نئے مجموعہ کی درخواست کی جا سکے۔

    بطخ کے سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق، رنکل کی ماں جسٹن ووڈ ہے جبکہ اس کے والد اس کے پیارے اسسٹنٹ کے طور پر درج ہیں۔

    میراتھن ایپی سوڈ پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-


    https://twitter.com/jwuless/status/1458487606644256777?s=20


    https://twitter.com/RunsNat/status/1458115003911966730?s=20
    https://twitter.com/gpommen/status/1457972552114999296?s=20


    علاوہ ازیں یہ بطخ بشوک فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر بھی اپنے جلوے بکھیر چکی ہے-

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    واضح رہے کہ آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہےآسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہےبطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

  • ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟

    ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟

    ٹی 20 سیمی فائنل ،پاکستان کے جیتنے کی کس نے کی پیشنگوئی؟
    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آج پاکستان اور آسٹریلیا آمنے سامنے ہوں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بڑے ایونٹ کے بڑے مقابلے میں آج ناقابل شکست پاکستان اور آسٹریلیا مد مقابل ہوں گے میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے دبئی میں شروع ہوگا سیمی فائنل میں پاکستان کی فتح کے لئے جہاں تمام قوم دعاگو ہے اور قومی ٹیم کی فتح کے لئے پُرجوش ہے وہیں وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ہونے والے ورلڈ کپ ٹی 20 کے سیمی فائنل کیلئے قومی ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے- شیخ رشید نے کہا کہ میری دعا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم سیمی فائنل جیتے، قومی کرکٹ ٹیم کے سارے کھلاڑی پر امید ہے،اگر فائنل میں پہنچے تو دعا ہے فائنل بھی جیتیں۔

    امریکی سفارتخانے نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے ٹی 20ورلڈ کپ دوسرا سیمی فائنل کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے ،امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ ہمارے ذہنوں پر کرکٹ سوار ہے ہم نے اپنی کمیونٹی سے پوچھا کہ آپ کی پسندیدہ ٹیم کون سی ہے؟ ہمیں جواب ملا، اسلام آباد کی پسندیدہ ٹیم واضح ہے ،ہماری کمیونٹی نے تو یہ بھی کہاہے کہ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟

    سابق کرکٹر وسیم اکرم کی آسٹریلوی اہلیہ شنیرا اکرم آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو سپورٹ کریں گی شنیرا اکرم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کی جیت کو پسند کروں گی کرکٹ کے جنونی ملک کو جیتتا ہوئے دیکھ کر زیادہ خوشی ہوگی پاکستان کے ہاتھ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی دیکھ کر خواب پورا ہوگا اگر آسٹریلیا سیمی فائنل میں جیت جاتا ہے تب بھی بہت خوشی ہوگی جوبھی نتیجہ نکلے امید ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کامیچ زوردارہوگا

    ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ آج ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی کا پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیمی فائنل میچ ہے،پاکستانی کرکٹ ٹیم فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھے گی، گرین شرٹس فائنل میں پہنچ کر ٹرافی پاکستان لائےگی،کے ایم سی نے کراچی کے مختلف علاقوں میں بڑی اسکرینز نصب کی ہیں،پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح کو ہم ملکر منائیں گے،

    پنجاب کے صوبائی وزیر صحت رائے تیمورنے کہا ہے کہ ٹی20ورلڈ کپ کے پاکستان اور آسٹریلیا کے سیمی فائنل میچ کے لئے قومی شاہینوں کے لئے دعا گو ہوں۔پوری قوم بھی پاکستان ٹیم کی کامیابی کے لئے دعا کرے۔نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں آج سیمی فائنل پاکستان کی سب سے بڑی سکرین پر دکھایا جارہا ہے۔شائقین اور فیمیلیز کے لئے انٹری فری ہے۔

    گلگت کی ضلعی انتظامیہ نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں آج پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل میچ کو گلگت سٹی پارک میں بڑی سکرین نصب کرکے دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سردی کے پیش نظر رات کو بون فاٸر کا اہتمام بھی کیا جائے گا

    ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان اور سٹار بلے باز برائن لارا نے پیش گوئی کی ہے کہ سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کو شکست دے گی میری پیشگوئی ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل جیت جائے گا

    دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپربیٹر محمد رضوان اور آلراؤنڈر شعیب ملک کی صحت پہلے سے بہتر ہوئی ہے ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کہ محمد رضوان اور شعیب ملک بہت بہتر محسوس کررہے ہیں میڈیکل پینل دوپہر کو دوبارہ معائنہ کریگا،محمد رضوان اور شعیب ملک فُلو کے باعث گزشتہ روز پریکٹس نہیں کرسکے تھے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے گزشتہ روز 2 گھنٹے پریکٹس کی تھی۔

    آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل 14نومبر کو دبئی میں ہی کھیلا جائے گاآج ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے فائنلسٹ کا فیصلہ ہوجائے گا

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

  • ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    فلوریڈا: تھوڑی زیادہ قیمت میں مریخی ماحول میں کاشت کردہ ٹماٹروں کا کیچپ جلد ہی فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ انسان ابھی تک مریخ پر قدم نہ رکھ سکا لیکن اتنا ضرور ہے کہ کیچپ بنانے والی مشہور کمپنی ہائینز نے ’مارز‘ کےنام سے کیچپ تیار کیا ہے جس کی آزمائشی فروخت شروع ہوچکی ہے-

    "بزنس وائر” کے مطابق سرخ ٹماٹروں کو سرخ سیارے کے عین ماحول میں کاشت کیا گیا ہے اور بہترین ٹماٹروں سے انہیں تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی کے مطابق اس عمل میں بہت سی ناکامیاں بھی ہوئی ہیں اور دو سال تک شبانہ روز محنت کی گئی ہے۔

    فلوریڈا ٹیک کے ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ میں نو مہینوں کے دوران 14 افراد پر مشتمل آسٹروبائیولوجی ٹیم کے ساتھ تعاون کے ذریعے،ہائینز نے مریخ پر اگنے والے ٹماٹروں کی نقل تیار کی۔ ٹیم نے کامیابی کے ساتھ برانڈ کے ملکیتی ٹماٹر کے بیجوں سے ہائینز ٹماٹروں کی فصل حاصل کی، جو کہ اس کا مشہور کیچپ بننے کے لیے سخت کوالٹی اور ذائقہ کے معیارات کو پورا کرتی ہے۔

    اس ضمن میں فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں واقع آلڈرن اسپیس انسٹی ٹیوٹ کے فلکی ماہرینِ حیاتیات نے دوسال تک تحقیق کی ہے۔ سائنسدانوں نے ہائینز کمپنی کی رہنمائی کی کہ مریخ کی مٹی کیسی ہوتی ہے؟ اس کے بعد وہاں ٹماٹر کی کاشت کئی گئی اور ان میں سے کیچپ کشید کیا گیا۔

    ہائینز کے مطابق یہ دنیا کی پہلی خوردنی شے ہے جسے دوسرے سیارے کے حالات میں زمین کے لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی نے اس کا نام ’مارز ایڈیشن‘ رکھا ہے۔ اگرچہ اس کی فروخت ابھی شروع نہیں کی گئ ہے لیکن چند اولین بوتلیں کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں پیش کی گئی ہیں جو پٹس برگ میں واقع ہے۔

    ماہرین کی 14 رکنی ٹیم نے ڈاکٹر اینڈریو پامر کی نگرانی میں کام کیا ہے اور اس پر تین تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں۔ تمام ماہرین آلڈرِن انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ادارے کو 2015 میں مریخ پر انسانی مشن کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    خود سائنسداں بھی ہائینزکی اس کاوش سے خوش ہیں کیونکہ وہ مریخی ماحول میں کسی ایک پھل یا سبزی کی کامیاب کاشت کرنا چاہتے تھے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ عمل انسانوں کی دیگر سیاروں پر رہائش کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ان ٹماٹروں کو عین وہی نمی، حرارت اور روشنی دی گئی ہے جو مریخ پر موجود ہوتی ہے جبکہ اس تجربے سے خود دنیا میں نامساعد حالات میں فصلیں کاشت کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    کرفٹ ہائینز انٹرنیشنل زون کی چیف گروتھ آفیسر کرسٹینا کینز کہتی ہیں کہ”ہم بہت پرجوش ہیں کہ ہمارے ماہرین کی ٹیم دوسرے سیارے پر پائے جانے والے حالات میں ٹماٹر اگانے اور اپنی تخلیق کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ دو سال پہلے مریخ کے حالات سے لے کر اب تک کی فصل کا تجزیہ کرنے تک، یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں،ہائینز ٹماٹو کیچپ اب بھی آنے والی نسلوں کے لیے لطف اندوز ہوں گے۔

    ڈاکٹر اینڈریو پامر، ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ کہتے ہیں کہ "ابھی سے پہلے، مریخ کی نقلی حالات میں نشوونما کے طریقے دریافت کرنے کی زیادہ تر کوششیں پودوں کی نشوونما کا مختصر مدتی مطالعہ ہیں۔ اس منصوبے نے کیا کیا ہے طویل مدتی خوراک کی کٹائی پر نظر ڈالنا ہے۔ ایک ایسی فصل حاصل کرنا جو ہائینزٹماٹو کیچپ بننے کے لیے معیار کی ہو خواب کا نتیجہ تھا اور ہم نے اسے حاصل کر لیا۔ اورہائینز کے ساتھ کام کرنے سے ہمیں یہ دیکھنے کی اجازت ملی ہے کہ زمین سے باہر طویل مدتی خوراک کی پیداوار کے کیا امکانات ہیں-

    ہائینز ٹماٹو کیچپ پہلے ہی اسے زمین سے آگے ہمارے نظام شمسی میں بنا چکا ہے اور کئی سالوں سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر موجود خلانوردوں نے اس کا لطف اٹھایا ہے جن میں سے ایک ناسا کے سابق خلاباز اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر مائیک ماسیمینو ہیں، جو کہ ایک تجربہ کار ہیں۔ دو خلائی پروازیں، چار اسپیس واک، اور خلا سے ٹویٹ کرنے والا پہلا خلاباز۔ Massimino HEINZ Tomato Ketchup Marz Edition کے سفیر کے طور پر کام کرتا ہے اور ایک خود اعتراف ہائینز ٹماٹو کیچپ کا سپر فین ہے۔

    ناسا کے سابق خلاباز مائیک میسیمینو نے کہا کہ”خلا میں ہمارے پاس ایک کہاوت ہے، ‘یہ کھانے کے بارے میں نہیں ہے یہ چٹنی کے بارے میں ہے’ – ہم یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ ہم وہاں کون سا کھانا کھانا چاہتے ہیں لیکن بہت سے پکوان پانی کی کمی سے دوچار ہو گئے اور تھوڑا سا ملاوٹ ہو گیا، لہذا چٹنی کا ایک اچھا گڑیا آپ کے کھانے کو ہمیشہ لذیذ بنایا، جس سے ہائنز ٹماٹو کیچپ سے میری محبت کا آغاز ہوا،”۔

    مریخ جیسے حالات میں ٹماٹر کیسے اگائے جائیں اس کا مطالعہ کرنے کے علاوہ، Kraft Heinz کمپنی ماحولیاتی سماجی نظم و نسق (ESG) کے اہداف کے لیے اپنے وعدوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے جس میں 2025 تک 100% پائیدار طریقے سے حاصل کیے جانے والے ہینز کیچپ ٹماٹر کا استعمال شامل ہے۔