Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گی

    سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
    اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔

    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے
    Dimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگرDimorphosکے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000
    میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
    ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • بھارتی فوج  کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2019سے اب تک گزشتہ تین سال میں13خواتین سمیت 651کشمیریوں کو شہید کیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 99کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حراست کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ اتحقیقاتی ادارے این آئی نے مقبوضہ علاقے میں کم سے کم 12ہزار694 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں 18سے زائد حریت رہنمائوں، کارکنوں،کشمیری نوجوانوں، طلبا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کو گرفتار کیا۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم وتشدد اور بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے ہرگز دستبردار نہیں ہو ں گے اور اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور فوجی اہلکار ترقی اور انعامات کی لالچ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہے ۔

    خواجہ فردوس نے کہا کہ بھارتی فوج چھاپوں کے دوران دانستہ طورپرچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی حق پر مبنی تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اوریہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قام ہوسکے۔

    حریت رہنما نے جموںو کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظر بند وں کو جیل مینول کے مطابق کوئی سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کشمیری قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی فوری رہائی کیلئے اپنی آوازبلند کریں ۔

     

  • گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے، رمیز راجا  ،ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے  عابد علی

    گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے، رمیز راجا ،ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے عابد علی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین رمیزراجا نے بنگلا دیش کے خلاف چٹاگانگ ٹیسٹ جیتنے پرکرکٹ ٹیم کومبارکبا د دی ہے۔

    باغی ٹی وی : چئیرمین پی سی بی رمیز راجا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں ٹیم کومبارکبا د دیتے ہوئے کہا کہ ٹرننگ پچ پر200 رنزکے ہدف کا تعاقب کرنا ایک طرح کا امتحان تھا زبردست بات یہ ہے کہ ہدف کا تعاقب عمدہ طریقے سے کیا گیا گھرسے دورجیتنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔


    دوسری جانب قومی ٹیم کے ٹیسٹ اوپنرعابد علی کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے پاکستان نے بنگلا دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیت لیا ہے اب دوسرے ٹیسٹ کودیکھ رہے ہیں ہمارے لئے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ اہم ہے۔کوشش ہے کہ ٹیسٹ چمپئین شپ کے پوائنٹس ٹیبل میں اوپرجائیں یہ پرفارمنس ماضی کا حصہ بن چکی ہے ڈھاکا میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ کھیلنا ہےکوشش ہوگی کہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی مومنٹم کولے کرچلوں۔

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    عابدعلی نے کہا کہ عبداللہ شفیق بہت اعتماد سے کھیلے ہم دونوں کا پلان یہی تھا کہ وکٹ پرٹھہرنا ہے بیٹنگ کے دوران ایک دوسرے کی غلطیاں بتاتے رہے۔ مین آف دا میچ جیتنے کی بہت خوشی ہے۔مین آف دا میچ بننے کا کریڈٹ ڈومیسٹک میں کھیلنے کوجاتا ہے۔ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے اعتماد ملا ہے۔پہلی اننگز میں سنچری مکمل کی دوسری میں نہ کرسکا لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے۔

    پاکستان نے بنگلہ دیش کو 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں شکست دے دی ہےبنگلہ دیش کو پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست دینے کے بعد قومی ٹیم دوسرے نمبر پر آگئی ہے بنگلہ دیش کی طرف سے دیا گیا 202 رنز کا ہدف پاکستان نے 2وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا آخری اننگز میں پاکستان کی طرف سے عبداللہ شفیق اور عابد علی کے درمیان ایک اور سنچری شراکت قائم ہوئی عبداللہ شفیق 73 مہیدی حسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے اور پاکستان کی دوسری وکٹ 171 رنز پر گری اور عابد علی نروس نائنٹیز کا شکار ہوکر 91 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

    ٹی 20 سیریز ،پاکستان کی شاندار کامیابی

    اوپنر کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابراعظم اور اظہر علی نے میچ کو آگے بڑھایا اور میچ جتوایا بابراعظم 13 اور اظہر علی 24 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں قومی ٹیم کو 0-1 کی برتری حاصل ہوگئی ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 4 دسمبر سے شرو ع ہوگا۔

    اس سے قبل پہلی اننگز میں بنگلہ دیش نے 330 رنز بنائے تھے لٹن داس نے 114 رنز کی اننگز کھیلی حسن علی نے 5 وکٹیں حاصل کیں پاکستان کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 286 رنز بنا سکی عابد علی نے 133 اور عبداللہ شفیق نے 52 رنز بنائے۔

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے بنگلادیش سے میچ جیت لیا

    تیج الاسلام نے 7 وکٹیں حاصل کی بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 157 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان کو 202 رنز کا ہدف ملا پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے دوسری اننگز میں 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا-

    عالمی جونیئر ہاکی کپ،جرمنی پہلے میچ میں فاتح

    وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے بنگلہ دیش کے خلاف چٹا گانگ ٹیسٹ جیتنے پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی،اور کہا کہ عابد علی نے دونو ں اننگز میں شاندار بلے بازی کر کے پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا- بہترین بیٹنگ پر عابد علی کو خصوصی طورپر مبارکباد دیتا ہوں -عبداللہ شفیق نے بھی دوسری اننگز میں عمدہ بیٹنگ کی-پاکستانی بالرز شاہین آفریدی اورحسن علی نے بھی چٹا گانگ ٹیسٹ میں شاندار باؤلنگ کی -بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی بہترین ٹیم ورک اور کھلاڑیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ امید ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم فتوحات کا یہ سلسلہ برقرار رکھے گی-

  • زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا تو آپ نے دیکھا ہوگا مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ سائنس نے اس کا بہت دلچسپ جواب دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : زیبرا کی کھال کے نیچے جلد سیاہ ہوتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پٹیوں کی سیاہ یا سفید رنگت کا اس سے کچھ لینا دینا ہے زیبرا کے زیادہ تر بال سفید ہوتے ہیں بشمول پیٹ اور ٹانگ کے اندرونی حصے میں، جہاں پٹیوں کا اختتام ہوتا نظر آتا ہے۔

    اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھال کی رنگت سفید ہے جبکہ پٹیاں سیاہ، مگر لائیو سائنس کے مطابق یہ اس سوال کو دیکھنے کا غلط نظریہ ہے اصل جواب میلا نوسائٹس نامی خلیات میں چھپا ہوا ہے یہ خلیات رنگت بنانے والے ہارمون میلانین کو بناتا ہے جو زیبرا اور تمام جانداروں کے بالوں اور جلد کی رنگت کا تعین کرتا ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    جب زیبرا کی کھال اگتی ہے تو میلانوسائٹس جڑوں کو حکم دیتا ہے کہ بالوں کی رنگت ہلکی ہونی چاہیے یا گہری، یہ تعین جسم کے حصوں کی بنیاد پر کرتا ہے یہ خلیات زیادہ میلانین والی سیاہ کھال کو تشکیل دیتا ہے جس سے زیبرا کا مخصوص پیٹرن ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔

    زیبرا کے سفید بالوں میں میلانین نہیں ہوتا اور میلانوسائٹس سے بنتے ہیں جو ٹرن آف ہوجاتا ہے آسان الفاظ میں زیبرا کے اگنے والے بال قدرتی طور پر سیاہ ہوتے ہیں جو اس جانور کو سیاہ جلد کے ساتھ سفید پٹیاں فراہم کرتے ہیں یہ تو زیبرا کی پٹیوں کے معمے کا ایک جواب ہے، سائنسدان اب تک نہیں جان سکے کہ یہ پٹیاں ہوتی کس لیے ہیں۔

    ایک عام خیال تو یہ ہے کہ اس سے زیبرا کو شکاریوں کو الجھن میں ڈالنے میں مدد ملتی ہےایک تحقیق میں بھی اس خیال کو سپورٹ کیا گیا تھا کہ یہ پٹیاں حشرات الارض کو دور رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ اسٹائلش انداز اضافی بونس ہے۔

    بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی…

    دہائیوں سے کچھ سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دھاریاں اس چرندے کو درندوں سے بچانے کے لیے کیموفلاج کا کام کرتی ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ کیڑوں کو دور رکھتی ہیں ہنگری کے سائنسدانوں نے 2019 میں اس معمے کا حل جاننے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کے مطابق یہ سیاہ و سفید دھاریاں نہ صرف زیبرا کو خون چوسنے والی ہارس فلائی (گھڑ مکھی یا خرمگس) سے تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ مختلف جنگلی قبائل نے بھی اس سے یہ ٹرک سیکھ کر جسم کو رنگ کر خون چوسنے والے کیڑوں کے تکلیف دہ ڈنک سے خود کو بچانا سیکھا۔

    اس خیال کو آزمانے کے لیے محققین نے مختلف پتلوں کو ایسی سفید دھاریوں سے رنگ دیا جو کہ دنیا بھر میں قبائلی افراد اپنے جسم پر بناتے ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ ایسا کرنے پر ہارس فلائی پتلوں سے دور رہیں۔

    یہ تجربات ہنگری میں کیے گئے جہاں ہارس فلائی کی متعدد اقسام موسم گرما میں عام ہوتی ہیں اور محققین کے مطابق ان دھاریوں سے روشنی بے ترتیب ہوجاتی ہے جس سے ان کیڑوں کے لیے اپنے ہدف کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    رائل سوسائٹی جرنل میں شائع تحقیق کےمطابق انسانی ماڈل ان خون چوسنے والے کیڑوں کے لیے سفید دھاریوں والے ماڈل کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ پرکشش ثابت ہوتے ہیں ایوٹووس یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ممالیہ جانداروں میں سب سے نمایاں دھاریاں زیبرا میں ہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہارس فلائی کی نظر میں ان کی کشش بہت کم ہوجاتی ہے

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

  • حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    حکومت ،اپوزیشن عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام ،تحریر: نوید شیخ

    2018ء انتخابات کے بعد عمران خان اقتدار میں ہیں اور ان کے مخالفوں کی ہر رات کانٹوں پر بسر ہو رہی ہے تو حکومت و اقتدار کے باوجود چین کی نیند عمران خان اور اس کے ہمدردوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔ اب اگلے ایک برس بارے کہا جا رہا ہے کہ یہ ہنگامہ خیز سیاست سے بھر پور ہوگا ۔ آج وزیراعظم عمران خان نے معروف امریکی اسکالر شیخ حمزہ یوسف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب سیاست میں آیا تو طاقتور لوگوں نے میری کردار کشی کی لیکن آپ اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں، میں نے 22 سال تک جدوجہد کی۔ پھر یہ بھی کہا کہ کوئی بھی معاشرہ قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا اور پاکستان کو مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانا میری زندگی کا مقصد ہے۔ باتیں ہمارا کپتان بہت اچھی کرتا ہے مگر عمل اس کے بالکل الٹ کرتا ہے ۔ ان کی جو بھی کردار کشی ہوئی اس سے ہٹ کر عمران خان کے اس دور میں جو مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ پھر جو عمران خان اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہتے ہیں اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ریاست مدینہ بناوں گا تو جو اس وقت ملک میں فرشتوں کی حکومت ہے اس بارے بھی سب ہی جانتے ہیں ۔

    ۔ اس دور حکومت میں بھی کرپشن ویسے ہی خوب پھیلی پھولی ہے اور بڑھی ہے جیسے پہلا ہوا کرتی تھی ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس اس حوالے سے سب بڑا ثبوت ہے ۔ جس کے بارے شہباز گل کا دعوی تھا کہ یہ پرانے اعداد وشمار پر بنائی گئی ہیں ۔ مگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس وقت ہی حکومت کو جھوٹا قرار دیے دیا تھا ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن کے ریٹ دوگنا ہو چکے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک لمبی فہرست ہے جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ ۔ روالپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل ۔ ۔ حالیہ جو شوگر مافیا کے ساتھ سودے بازی ہوئی جس میں مافیا نے تقریباً ایک سو پچاس ارب کی دیہاڑی لگائی مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔۔ پھر کرونا فنڈ میں 40 ارب کا جو حساب ہی نہیں ملا ۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہوگی ۔۔ حلیم عادل شیخ ، عثمان بزدار، نورالحق قادری ،غلام سرور خان ، ڈاکٹر ظفر مرزا ، عامر محمود کیانی، زلفی بخاری ، فیصل واڈا، سبطین خان، مالم جبہ اراضی کیس، ہیلی کاپٹر کیس ، چینی ، آٹا ، گیس ، بجلی ، پیڑول ، ادویات اسکینڈل ، بی آر ٹی کون کون سے نام اور کون سے کون اسکینڈل گنواوں ۔۔۔

    ۔ اس حوالے سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نے کل ہی سلیم صحافی کے پروگرام میں بیٹھ کر انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری دفاتر میں انتہا کی کرپشن ہورہی ہے۔ انکا کہنا کہ کوئی نیا پاکستان نہیں ہے۔ وہی پرانا پاکستان ہے ۔ ضلعی دفاتر اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن عروج کو پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کرپشن سے آگاہ کرنے کے لئے وقت مانگا تھا مگر وقت نہیں دیا گیا۔۔ پھر جو پی ٹی آئی کے ماتھے جھومر ہے اس کا نام ہے فارن فنڈنگ کیس۔۔ جس میں غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ہنڈی کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ پھر جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے۔ اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔ اکبر ایس بابر نے یہ معاملہ اٹھایا ہوا ہے ۔ اور پی ٹی آئی اس سے چیز سے کنی کتراتی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی جانچ پڑتال نہ کرے ۔ اس لیے بار بار عدالتوں سے اسٹے لیا جاتا ہے ۔ ۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا اعزاز یہ ہے کہ کوئی بھی ہائی پروفائل کیس اس حکومت کے دور میں منطقی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ کرپشن کے خلاف جنگ صرف میڈیا تک محدود ہے۔ اخبارات میں خبریں چھپتی اور چند دن بعد فراموش کر دی جاتی ہیں۔۔ اسکینڈل تو یہ بھی ہے کہ کپاس کی پیداوار نصف سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً دس من فی ایکڑ کم ہے۔ گنے کی فصل کے کسان کو پیسے زیادہ ملے کیونکہ فصل اور فی ایکڑ کاشت پچھلے سال سے کم تھی لیکن انہیں شاندار پیداوار قرار دیا جارہا ہے۔ جس طرح جی ڈی پی کی شرح کو اچانک بڑھانا اس حکومت کے کوئی کام نہیں آسکا اس طرح زرعی پیداوار کے غلط اعدادوشمار چینی اور آٹے کی قلت اور مہنگا ہونے سے روک نہیں پائے ۔

    ۔ دوسری جانب آئی ایم ایف والا معاملہ تو اس حکومت میں مذاق ہی بن کر رہ گیا ہے۔ عمران خان کی پرانی باتیں اب میں کیا یاد کرواں ۔ مگر جو سچ ہے وہ یہ ہے کہ جیسے حکومت لیٹی ہوئی ہے اور کشکول لے کر کھڑی ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے کبھی آصف زرداری اور نواز شریف کے کرپٹ ادوار میں بھی نہیں ہوا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کی گئے شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔۔ اب حکومت نے 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول چھ کو ختم کرنا ہے ۔ پھر حکومت برآمدات کے علاوہ زیرو ریٹنگ سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ واپس لے گی ۔ مخصوص شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے مقرر کرنےکا تجویز ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام میں200 ارب روپے کمی کرنے کی تجویز بھی ترمیمی بل کا حصہ ہے۔ اب جلد ہی ترمیمی بل کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کو 12 جنوری 2022 سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہے۔۔ یہاں بس یاد کروادوں کہ مشیر خزانہ شوکت ترین نے چند روز پہلے ہی بتایا تھا کہ ہمارا مسئلہ مہنگائی ہے، لوگ پس گئے ہیں ۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد نیا ٹیکس لگائیں گے نہ بڑھائیں گے۔ ڈالر
    8،9 روپے نیچے آئےگا۔ جلد تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوگی۔ آئی ایم ایف کو ٹیکس لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ شوکت ترین کتنا سچ اس ملک وقوم سے بولتے ہیں ۔ ۔ پھر مجھے یہ کہنے میں زرا برابر بھی ججھک محسوس نہیں ہوتی کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے جوہری اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی کئی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف چونکہ امریکہ کے زیر اثر عالمی ادارہ ہے اور وہ امریکی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے قرض لینے والے ملکوں پر دباؤ بھی بڑھاتا رہتا ہے۔ حکومت پاکستان کو غیرملکی قرضوں پر انحصار کی بجائے خو د انحصاری کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی ایسا ماڈل موجود نہیں کہ کسی ملک کی آئی ایم ایف کے قرض سے معیشت ٹھیک ہوئی ہو بلکہ آئی ایم ایف کے قرض کے باعث معاشی تباہی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ویسے اس سے ملتی جلتی تمام باتیں جب عمران خان اپوزیشن میں ہوتے تھے تو خوب کیا کرتے تھے ۔ آپ دیکھیں ملائشیا کی معیشت کو آئی ایم ایف نے تباہ کر دیا تھا لیکن مہاتیر محمد کی بے باک لیڈرشپ نے آئی ایم ایف سے جان چھڑائی اور ملائشیا کو دوبارہ ترقی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان بلندبانگ تقاریر تو کرتے ہیں لیکن وہ ان پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ ۔ تحریک انصاف حکومت کا توکوئی ترجیحی ایجنڈا ہی نظر نہیں آتا۔ پھر تماشا یہ ہے کہ قوم کوکفایت شعاری کا درس دینے والوں نے گزشتہ چار ماہ کے دوران صرف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 72کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ۔ کھانے پر 4کروڑ 39لاکھ روپے اور اوور ٹائم پر
    82 لاکھ،پٹرول پر 83لاکھ، 12کروڑ 87لاکھ اعزازی تنخواہوں کی مد میں اور دوروں پر 3کروڑ 48لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس لیے میں مجبور ہوں یہ کہنے پر کہ موجودہ حکمران بھی تبدیلی کے نام پر ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہیں۔ جو اقتدار سے لطف اُٹھانے کے سوا کچھ نہیں کررہے۔ ۔ اس حوالے سے آپ جماعت اسلامی کی سیاست سے متفق ہوں یا نہیں ہوں ۔ پر اسلام آباد میں یوتھ مارچ سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بات بالکل ٹھیک کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کو تیس سال پیچھے لے گئی ہے۔ 2023ء میں عوام عمران خان کو آئینہ دکھائیں گے، جو نوجوان انہیں اقتدار میں لائے وہی بھگائیں گے۔۔ پھر کل مولانا نے لاڑکانہ میں اچھے خاصے مجمعے میں کافی دھواں دار بیٹنگ کی ہے ۔ ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو بین الاقوامی کالونی نہیں بننے دینگے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے ماتحت ہوچکا ہے۔ فاٹا اور کشمیر دونوں کا اس وقت کوئی وارث نہیں ۔ پاکستان کے بقاءکی جنگ خون کے آخری قطرے تک لڑینگے ۔ پھر یہ بھی کہا کہ ہمارا نوجوان بہت مظلوم ہے، اسکو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دے کر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار کیا گیا ،پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا لیکن پچاس لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا گیا ،نعروں سے ملک نہیں چل سکتا ،جو حکومت خود دھاندلی کے ذریعے آئی وہ خود دھاندلی کے متعلق قانون سازی کروا رہی ہے حالانکہ اس مشین کو پوری دنیا مسترد کر چکی ہے۔ میں آپکو بتاوں کہ پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمٰن اور قوم پرست جماعتیں تحریک کو فیصلہ کن مرحلے کی طرف لے جانا چاہتی تھیں لیکن مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے اس بارے میں مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت پی ڈی ایم کی جماعتیں مسلم لیگ ن کی سیاست سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پا رہیں کیونکہ کبھی مسلم لیگ ن کی سیاست میں یک دم تیزی آجاتی ہے پھر اچانک اس میں ٹھہرائو آجانے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کہیں کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اور شاید ان کو اس بات چیت کے نتائج کا انتظار ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق قوم پرست جماعتوں نے اس پر شکوہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنے میں پنجاب کی بھرپور شرکت ہی تحریک کو نتیجہ خیز بنا سکتی ہے۔ فی الحال میری نظر میں عوام ہر طرف سے پس رہے ہیں کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام دیکھائی دیتی ہے ۔

  • موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    ایلن مسک جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے وہ خود کوکئی فیلڈز میں منوا چکا ہے اس پر تنقید کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایلن مسک میں بچپن سے ہی کاروبار اور نت نئے تجربے کرنے صلاحیت تھی۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ اب وہ کیا نیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ کونسی انڈسٹری ہے جس میں اب ایلن مسک انقلاب لانے والا ہے۔بارہ سال کی عمر میں ایک ویڈیو گیم بنا کر پانچ سو ڈالرز میں فروخت کرنے سے ایلن مسک نے اپنے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پھر سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایکArcadeبنانے کی کوشش بھی کی۔ پھر کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نےZip 2نامی کمپنی بنائی، پھرPayPalSpace Xوغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ اس نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔لیکن ایلن مسک کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ جو سوچتا ہے یا جس چیز کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے پھر وہ اسے کرکے دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جتنے بھی کاروبار ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ اس کی کمپنیوں کے بلند عزائم ہیں وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ایلن مسک اس وقت جو مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی مسائل نہیں ہیں۔ وہ دراصل انسانیت کو لاحق کو تین خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جو انسانوں کی زندگیوں کو آئے روز کم کرتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست الیکٹرک کاروں سے کرنا چاہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے اس کے خیال میں اگر ہم صرف اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچ کر وہاں نئی آبادیاں بسانے کے لئے کام کر رہی ہے۔تیسرا خطرہ جس کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ اس کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے اس نے 2015 میں ایک فلاحی تنظیمOpen AIبنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

    لیکن اس دنیا میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ایلن مسک کو اس کے متنازع بیانات کی وجہ سے نا پسند کرتے ہیں مگر آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہے جس کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ اس کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔اس لئے جب ایلن مسک کسی بھی نئی صنعت میں داخل ہوتا ہے تو سب کو پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے کہ اب یہ اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود بڑے بڑے Giantsکو ہلانے والا ہے۔ اور اب ایلن مسک جس انڈسٹری میں داخل ہو رہا ہے وہ ہے سمارٹ فون کی انڈسٹری۔ بہت جلد ایلن مسک کی مشہور و معروف ٹیسلا کمپنی اپنا سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی تک یہ تینوں اسمارٹ فون کے بادشاہ ہیں یہ تینوں کمپنیاں ہر تین ماہ بعد لاکھوں فون بناتی ہیں اور بے تحاشا منافع کماتی ہیں۔ ایپل کا آئی فون، لیب ٹاپ اور دیگر پرسنل الیکٹرانکس دنیا بھرمیں ایکStatus symbolبن گئی ہیں اور یہاں تک بھی خبریں رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ ان مہنگے فونز کو حاصل کرنے کے شوق میں کئی لوگوں نے اپنا گردہ تک بیچ ڈالا تاکہ اپنی پسند کا iphone
    خرید سکیں۔Samsungکے فونز کی اپنی خوبیاں ہیں جو لوگ ٹیبلٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں وہ آجکل Samsungخریدتے ہیں تاکہ فون کی جگہ بھی استعمال ہو جائے اور اسی کو ٹیبلیٹ بنا کر بھی استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے فونز اپنے بہترین کیمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اس کا بھی ایکFolding phoneحالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اسےAndroid operating systemکو تبدیل کرکے اپنا سسٹم لگانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی یہ دنیا میں فونز بیچنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ان تینوں کے لئے امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اپنے فونز پر ٹیسلا کےنئے سمارٹ فون کا حملہ کیسے برداشت کریں گے۔

    ٹیسلا کے سمارٹ فون کا نام ہے Tesla Model Piاور اس فون کی جو بھی انفارمیشن سامنے آئی ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اس میں جو ٹیکنالوجی ٹیسلا متعارف کروانے جا رہی ہے وہ اب سے پہلے کسی سمارٹ فون میں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں تو اس کی شکل کافی حد تک آئی فون سے ملتی جلتی ہے لیکن اپنے فیچرز کے حساب سے یہ مارکیٹ میں موجود اب تک کے سمارٹ فونز سے کافی مختلف ہو گا۔ اور اس سمارٹ فون کی جو سب سے بڑی کوالٹی ہو گی وہ یہ کہ یہ سٹارلنک کے ساتھ Intigratedہوگا۔ سٹارلنک دراصل ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ جس کا مقصد پوری دنیا کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ساٹھ فیصد userہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ
    connectہوتے ہیں اور ہر ایک انسان جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ سب سے تیز ہو۔ ابھی تک تو انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے زیادہ تر کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس نےLow Earth Orbitمیں کئی ہزار سیٹلائٹس لانچ کی ہیں۔ جو زمین کے قریب ہونے کی وجہ سےرابطہ کرنے کیلئے کم Latency استعمال کرتی ہیں جو 25 یا 35 ملی سیکنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے- سٹار لنک
    Faster laser transmission کواستعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں چالیس ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دکھا سکتا ہے- جس کا مطلب ہے کہ سٹار لنک انٹرنیٹ کی سپیڈ تقریبا 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عامUserکی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں پہاڑوں پر ہوں ریگستانوں میں ہوں یا سمندر کے بیچ میں ہوں۔ آپ ٹیسلا کے پائی فون سے تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اور یہ ایک ایسا فیچر ہے جواس فون کو باقی تمام فونز سے منفرد بنا رہا ہے۔اس کے علاوہ جو اس فون کی سب سے Different qualityہو گی وہ نیورالنک ہے۔ ابھی تک ہم فونز کو ٹچ کرکے یا بول کر آپنی آواز کے زریعے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جو صرف آپ کی سوچ سے ہی چلنے لگے تو یہ کتنا حیران کن ہے۔ اس فون میں ایک Brain computer interfaceاستعمال کیا جارہا ہے جو کہ آپ کے Mindکو پڑھ کر کام کرنے کے قابل ہوگا۔

    اس کے علاوہ اس فون میں تیسری سب سے منفرد چیز یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنی ٹیسلا کار کو بھی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ ابھی لوگ ٹیسلا کاروں کو اپنے فون میں موجود ٹیسلا ایپ سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں جب آپ کے پاس فون بھی ٹیسلا کا ہوگا اور آپ کی کار اس کے ساتھ Integratedہوگی تو اس کی سروس کا کیا معیار ہو گا۔اور اس میں ایک اور جو حیرت انگیز چیز ہے وہ سولر چارجنگ ہے یعنی آپ اگر اپنے فون کا سولر چارجنگ موڈ آن کرتے ہیں تو وہ خود بخود چارج ہوتا رہے گا آپ کو بیٹری Lowہونے یا ہر جگہ چارجر ڈھونڈنے کی بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ یہ فون آپ کا Source of earning بھی بن سکے گا کیونکہ اس میں کرپٹو کرنسی Mining abilitiesبھی موجود ہوں گی جس سے آپ Mars coinsکی Mining
    کر سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا Revolutionry phoneہوگا جس کو آپ زمین کے علاوہ مریخ پر بھی استعمال کر سکیں گے۔ٹیسلا پائی فون کا caseبنانے کے لئے Photo chroming coating
    کا استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی میں مختلف رنگوں کے ساتھ چمکے گا۔اس کی بیک پر چار کیمرے ہوں گے۔ فرنٹ پر بھی کیمرہ ہوگا لیکن وہ نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکرین کے نیچے ہو گا لیکن اس کا رزلٹ ویڈیوز کالز اور سیلفی کے لئے بہترین ہو گا۔ کیمروں کے ساتھ بیک پر ٹیسلا کا لوگو بھی ہوگا۔یعنی یہ ایکTruely revolutionary smart phoneہوگا۔یہ اس فون کے بارے میں اب تک ہونے والی تمام لیکس اور انفارمیشن ہیں جو کہ اس کے ٹریلر سے ملتی ہیں جو ٹیسلا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اور یقینا یہ تمام خوبیاں ٹیسلا کے اس پائی فون میں موجود بھی ضرور ہوں گی کیونکہ جب ٹیسلا راکٹس بنا سکتا ہے لوگوں کو خلا کی سیر کروا سکتا ہے مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کا فون بنانا ایلن مسک کے لئے کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر انھوں نے خود کو اپ گریڈ کرکے مقابلے کے لئے تیار نہ کیا تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جوNokiaBlackberryاورمائیکروسافٹ کے فونز کا ہوا ہے

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

     

     

     

     

  • چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟   بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    بات ہے 2020 کے شروع کی میں جو کہ چائنا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں طالب علم ہوں معمول کے مطابق چھٹیاں ہوئی تھی تو میں اپنے گھر ملنے کے لیے آیا تھا۔ میں پاکستان آیا تو بیس یا پچیس دن کے بعد خبریں آنا شروع ہوگئی کہ چائنہ میں بہت زیادہ کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے کافی لوگ بھی پوچھتے تھے کہ اب ادھر کیسے حالات ہیں تو میں کہتا پھرتا تھا کہ حالات نارمل ہی ہیں اور کچھ دنوں تک ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم سب کو یہی تھا کہ حالات معمول کے مطابق ایک دو مہینے میں ٹھیک ہوجائیں گے اور ہم واپس چلے جائیں گے۔ حالات بدلتے گئے اور ہر ٹی وی چینل پہ آنا شروع ہو گیا کہ حالات بہت زیادہ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

    ہم اپنی یونیورسٹی کی مینجمنٹ کے ساتھ بھی رابطے میں تھے وہ ہمیں یہی کہہ رہے تھے آپ کا یہ والا سمسٹر آن لائن ہے اگلے سمسٹر سے آپ کو یونیورسٹی واپس بلا لیا جائے گا اور معمول کے مطابق آپ کی کلاسز شروع کروا دی جائیں گی۔

    تو جناب کرتے کرواتے ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ تو جب اگلا سال شروع ہونا تھا تو یونیورسٹی نے ہم سے فیس کا مطالبہ کیا تو ہم جو کہ پاکستان میں تھے اور کورونا وائرس کی وجہ سے سب کے معاشی حالات جو تھے وہ اتنے زیادہ اچھے نہیں تھے۔ تو ہم نے یونیورسٹی سے بولا کہ ہمیں فیس میں رعایت دی جائے اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں واپس بھی بلایا جائے۔ یونیورسٹی نے ہماری ایک نہ سنی اور ہم سے پوری کی پوری فیس چارج کی۔ خیر کرتے کرواتے وہ سال بھی گزر گیا یا اور ہم ابھی تک پاکستان میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اب مسئلہ یہ بنا ہوا ہے ہم سب کے لیے کہ ہم چوتھے سال میں یا پانچویں سال میں ہو چکے ہیں اور ہماری کلاسز آن لائن ہی چل رہی ہیں۔ اور ہم جب بھی اپنی یونیورسٹی سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کب واپس بلایا جائے گا ؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ ہماری حکومت کرے گی ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ صرف سٹوڈنٹ ویزے والے ہی ہیں جو ملک میں واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ وہاں پر کام کرتے ہیں ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں اور کدھر جائیں؟

    ہم جتنے بھی اسٹوڈنٹس ہیں ہم نے سوشل میڈیا پر بھی بڑی کوشش کی ہے اور اپنا پوائنٹ سب کے سامنے رکھا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی۔ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ہم تعلیم بے شک بیرون ملک حاصل کر رہے ہیں لیکن ہمارا دل پاکستان میں ہی ہے۔ اور ہم پاکستانی ہی ہیں۔ تو خدارا ہمارے فیوچر کے ساتھ نہ کھیلا جائے اور کوئی نہ کوئی بات کی جائے تاکہ چینی حکومت ہمیں جلد از جلد اپنے ملک میں واپس بلا لے۔

    ہم میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جنہوں نے وزیروں اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو سارا کا سارا قصہ بتایا۔ لیکن بڑے دکھ کی بات ہے اور نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے بھی اس معاملے میں ہماری کوئی بھی مدد نہیں کی اب تک۔

    اور دوسری جانب جو پاکستان کے میڈیکل کا ادارہ ہے جس کو ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کہتے ہیں۔ اس ادارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ جو بچے آن لائن ڈگری حاصل کر رہے ہیں ہم ان کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ یہ تو ہمارے ساتھ ظلم ہے۔ ہمارے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں کہ اپنے دکھ اور کیفیت کو کیسے بیان کریں۔ ہمارے والدین بھی بہت زیادہ صدمے سے دوچار ہو رہے ہیں انہی حالات کی وجہ سے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا ہمارے جینے کی بھی وجہ بچتی ہے ؟ ہمارے والدین جو کہ بہت زیادہ خواب سجائے بیٹھے تھے ان سب کی آنکھیں بہت افسردہ نظر آتی ہیں۔

    انہی حالات کی وجہ سے ہم ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارا نہ صرف پیسے کا نقصان ہوتا جا رہا ہے بلکہ وقت کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ کی بات تو یہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا کہ کس طرف جائے گا۔ حالانکہ پاکستان میڈیکل کمیشن کو سوچنا تو یہ چاہیے کہ کرونا کے دوران ساری دنیا کے حالات اس طرح کے تھے کہ سٹوڈنٹس نے آن لائن کلاسز لیں ہیں۔ اگر پاکستان میڈیکل کمیشن ہمارا اتنا خیر خواہ ہے تو ہمیں پاکستان کے جو ٹیچنگ ہوسپٹلز ہیں ان میں روٹیشنز کی آفیشلی اجازت دے۔ یا پھر ہماری حکومت ایسے کرے کہ ہمیں کسی بھی طرح چین میں واپس بھیجے تاکہ ہم ادھر جا کے اپنی تعلیم باقاعدگی سے حاصل کر سکیں۔

    اور ہماری پاکستانی حکومت سے اور پاکستان میڈیکل کمیشن سے یہی گزارش ہے کہ جو بچے کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے آخری سال آن لائن لے چکے ہیں ان کی ڈگری کو تسلیم کیا جائے اور ان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہوسکیں۔

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    بیجنگ: چین نے خلا میں استعمال کےلیے ایٹمی بجلی گھر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جس میں ایک میگاواٹ بجلی بنائی جا سکے گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اب تک کا طاقتور ترین خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے زیرِ تکمیل خلائی ایٹمی بجلی گھر سے بھی 100 گنا زیادہ بجلی پیدا کرسکتا ہے ناسا اپنا نیا ایٹمی بجلی گھر 2030 تک چاند کی سطح پر اُتارنا چاہتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    خبر کے مطابق، اس خلائی ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ چینی حکومت نے اپنے خلائی پروگرام میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی ہوئی ہیں البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ اس ایٹمی بجلی گھر کا مقصد چاند، مریخ اور دور دراز سیاروں پر بھیجے جانے والے مجوزہ خلائی جہازوں کو لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرنا ہے۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس منصوبے پر چینی حکومت کی فنڈنگ سے 2019 میں کام شروع ہوا تھا جبکہ حالیہ چند دنوں میں اس نے اپنے پہلے پروٹوٹائپ کی شکل میں پہلا سنگِ مِیل (مائل اسٹون) عبور بھی کرلیا ہے یہ خاص طور پر ان حالات اور مقامات کےلیے مفید ہوگا جہاں سورج کی روشنی یا تو زمین کے مقابلے میں بہت مدھم ہوتی ہے یا پھر اس میں بار بار اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    چین کا منصوبہ 2023 سے 2030 تک بالترتیب چاند کے تاریک حصے پر (جو ہمیشہ زمین کے مخالف سمت میں رہتا ہے) اور مریخ تک بڑی تعداد میں خلائی جہاز بھیجنا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پہلے ہی 2030 تک اوّلین انسان بردار پرواز بھی مریخ تک بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

    خبر میں ایک چینی ایٹمی سائنسدان کی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلائی ایٹمی بجلی گھر کو مختصر جسامت کے ساتھ زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانے کےلیے ٹیکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی دی گئی ہے۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    واضح رہے کہ اب تک خلا میں استعمال کےلیے جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں وہ صرف چند سو واٹ بجلی بنانے کے قابل رہے ہیں جبکہ 10 کلوواٹ سے 300 کلوواٹ بجلی بنانے کے بیشتر منصوبے اب تک اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں اس لحاظ سے یہ دنیا کا پہلا خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو ایک میگاواٹ (1000 کلوواٹ) جتنی بجلی بنائے گا-

    چینی خلائی ایٹمی بجلی گھر کا انکشاف ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے اپنے نمائندہ بیجنگ اسٹیفن چین کی ایک تازہ خبر میں کیا ہے-

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت