Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ڈیلیور کریں یا گھر جائیں، تحریر: نوید شیخ

    ایک جانب پیٹرول ، چینی اور بجلی کے بعد آٹا بحران سر اٹھا رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات کو عنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے کمر کس لی ہے ۔ اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوب احتجاج کیا جائے ۔ بلکہ دسمبر میں لانگ مارچ بھی پلان کیا جا رہا ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قابل اور ذہین شخص ہی نہیں ہے جو موجود حالات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو پار لگا دے ۔ الٹا ایسے بیانات اور اقدامات مزید کیے جار ہے ہیں کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو ۔

    ۔ سب سے پہلے ایک نہایت ہی بھونڈا اور مضحکہ خیز قسم کا پرپیگنڈہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پتہ نہیں کس افلاطون کا یہ آئیڈیا ہے ۔ پر یہ بری طرح پٹ گیا ہے ۔ کہ اورسیز پاکستانیوں سے مہنگائی پر صبر کرنے کےبھاشن دلوائے جائیں ۔ اس پر لوگ حکومت کو مزید لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ اس پر بھی حکومت کے خلاف میمز کا طوفان شروع ہوچکا ہے ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ اورسیز پاکستانیوں نے تو پاؤنڈزیا ڈالر میں کما کر روپوں میں خرچ کرنے کا مزہ دیکھا ہوا ہے مگر وہ روپوں میں کما کر ڈالر کی قیمتوں سے اشیاء خریدنے کا دکھ نہیں جانتے۔ پھر عمران خان پانچ سال کا حوالہ تو ایسے دے رہے ہیں جیسے ابھی ان کے اقتدار کی مدت پانچ سال باقی ہے ۔ حالانکہ وہ ساڑھے تین سال گزار چکے ہیں اور بمشکل ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اب ان کا یہ فرمانا پانچ سال بعد دیکھیں گے غربت کم ہوئی یا زیادہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ ان کو یاد نہیں ہوگا میں پر یاد کروادیتا ہوں کہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کبھی سال اور کبھی چھ ماہ بعد تو کبھی تین ماہ بعد اچھے دنوں کی نوید سناتے رہے ہیں۔ یہاں تک عطااللہ عیسا خیلوی نے بھی اچھے دن آئیں گے ۔۔۔ پر گانا بنا دیا تھا ۔۔۔ اب پتہ نہیں اب وہ ان برے دنوں پر بھی کوئی بناتے ہیں یا نہیں ۔ کیونکہ اچھے دن تو نہیں آئے بلکہ الٹا برے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم در اصل پاکستانی عوام کو تکلیف اور آئی ایم ایف کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھیں بجٹ کے بعد صرف تین مہینوں میں پیٹرول ڈیزل بجلی گیس، ایل این جی ، دوائیوں ، اشیائے خورد نوش اور مختلف ٹیکس کے مد میں تقریبا 475ارب روپے عوام کے جیب سے نکلوائے ہیں ۔ پھر2018 میں جی ڈی پی 5.8تھی اور اگلہ ٹارگٹ تھا کہ آئندہ چند سالوں میں 7.8تک لیجایا جائے گا ۔ پر عمران خان جن کے پاس پتہ نہیں کتنے تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی انھوں نے 5.8 سے جی ڈی پی کو نیچے گرا کر 3.7 تک کردیا ۔ پھر 2018 میں ایکسپورٹ 28 بلین ڈالر تھی اور ٹارگٹ تھا
    40 بلین ڈالر تک لے جانا کا ۔ پر عمران خان نے ان ایکسپورٹس کو 28 بلین ڈالرز سے نیچے لا کر 25 بلین ڈالرز تک لے گرا دیا ۔ یہ ہے اس حکومت کی جادوگری ۔۔

    ۔ پھر حکومت کا مشیر خزانہ بتاتا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں نے 29 ارب نہ بھیجا ہوتا تو معیشت ختم تھی ؟ اس سے واضح ہوگیا کہ اس حکومت کا انحصار بیرونی قرضے، بیرونی امداد اور بیرونی وسائل پہ ہے اسکے پلے کچھ بھی نہیں۔ نہ ان کے پاس پلان ہے نہ ہی یہ ملک کواندسٹرلائزیشن کے طرف ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ الٹا انھوں نے تو پرانے چلتے کاروبار بند کروادیئے ہیں ۔ تو یہ ہے وہ کارکردگی ۔ جس پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے ۔ اور عوام ان کے گلے میں ہار بھی ڈالیں گے ۔ معذرت کے ساتھ تبدیلی کا جنون اب صرف ان لوگوں میں زندہ ہے جن کا جیب خرچ ابھی تک والدین دیتے ہیں یا وہ پاکستانی جو چھٹیاں گزارنے یا کسی فوتگی یا پھر کسی شادی پر ہی پاکستان آتے ہیں ۔ یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے اور یہ بھی اگر چند ماہ گرمیوں میں پاکستان آگئے تو حکومت کو گالیاں ہی نہیں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے گے ۔ اس لیے پی ٹی آئ والوں سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں یہ صرف آپ کے سامنے ڈٹے ہوتے ہیں۔ اکیلے میں یہ بھی خود کو کوستے ہی ہیں ۔ پھر دیکھا جائے تو اس حکومت نے مہنگائی ختم کرنے کی ساری امیدیں ہی ختم کر دی ہیں وزیر اعظم نے عملاً ہاتھ نہیں کھڑے کئے ۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے وہ ہار مان گئے ہیں۔ کیونکہ آج پھرعمران خان نے وہ گھسا پیٹا بیان دیا ہے کہ کورونا سے عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے۔ پھر انہوں نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے اٹک میں جو گفتگو کی وہ ایک بے بس حکمران کی تقریر تھی۔ جو ہار مان چکا ہو جو صرف یہ بتا رہا ہے میں نے یہ معلوم کیا، وہ معلوم کیا، جس سے دیکھائی دیا کہ چینی مافیا کے آگے انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔ اب اگر حکومت ایک مافیا کے سامنے بے بسی کا اظہار کرے گی تو باقی مافیاز خودبخود اپنے دانت تیز کر لیں گے۔

    ۔ پھر منصوبہ بندی کا یہ عالم ہےکہ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک میں ایل این جی کب اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ یوں حکومت جلد عوام پرگیس اور بجلی کی کمی کا بحران بھی نازل کرنے والی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے کہ جن چیزوں مثلا آٹا،چینی ،کاٹن میں پاکستان خود کفیل تھا خان صاحب کی حکومت اربوں ڈالر ان اشیا کی درآمد پر خرچ کررہی ہے۔ حالات یہی رہے تو ملک میں غریب نام کا کوئی شخص زندہ نہیں ملے گا۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے حکومت عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ آج ہر شخص یہ دہائی دے رہا ہے صرف بازاروں ہی میں نہیں سرکاری دفاتر میں بھی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی جتنی بے لگام اور بے خوف آج ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سرکاری افسر عوام کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم بہت تھوڑے دنوں کے لئے تعینات ہوتے ہیں، جتنی لوٹ مچا سکتے ہیں مچا لیں اس کے بعد ٹرانسفر تو ہونا ہی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف بھی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کو امید ہوچلی ہے کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور پھر اگلی باری ان کو بھی مل سکتی ہے ۔ یا کم ازکم نئی حکومت میں حصہ تو مل ہی جائے گا ۔ آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا۔ آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے۔ ۔ دھاندلی دھاندلی کا شور یہ مچاتے تھے اب پتہ چلا ہے کہ حکومت میں آکر پی ٹی آئی خود دھاندلی میں ملوث ہوگئی ہے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بعد تو اپوزیشن کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے کہ عمران خان بھی استعفی دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ کیونکہ یہ ہی پوائنٹ لے کر تو عمران خان نے کئی بار اسلام آباد پرچڑھائی کی تھی ۔ اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ڈسکہ رپورٹ آگئی ہے اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے۔ عمران نیازی بتائیں اب کس چیز کا انتظار ہے۔ اب کارروائی کی جائے۔ نواز شریف کی طرح وزیراعظم ہو کر قانون کا سامنا کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، اگر عمران نیازی طاقتور ہیں تو خود کو قانون کے نیچے لائیں۔
    ہم انتخابی اصلاحات، الیکڑانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان، عوام اور آئین کے خلاف سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائیں گے۔

    ۔ یہ بیان سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ماضی اپنے آپ کو دھرا رہا ہے ۔ عمران خان جو ماضی میں کہا کرتے تھے اب اپوزیشن بھی وہ ہی کہہ رہی ہے وہ ہی زبان استعمال کررہی ہے ۔۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئیں گے ۔ یہ چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں اور نیب سے اپنے اوپر فائلیں بند کروالیں ۔ جب ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں ہوگی تو بند فائلیں بھی کھول جائیں گی ۔ تب پتہ چلے گا کہ اس دور میں مافیاز کیوں اتنے پھلے پھولے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ عمران خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے۔ کیونکہ عوام میں حکومت کی حمایت کم نہیں بلکہ ختم ہوگئی ہے۔

  • علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری، پیار و محبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر

    فیصل آباد(عثمان صادق)ضلعی مسجد کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا محمد یوسف انور،صاحبزادہ فیض رسول رضوی،مفتی محمد ضیاء مدنی،سیدجعفر نقوی،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کے علاوہ دیگر علماء کرام،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فضل ربی چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر سٹی صاحبزادہ محمد یوسف بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے علماء کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے معاشرتی امن اورمذہبی رواداری کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے ان کی شاندارخدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے خوشی اوراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد ضلع میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام آپس میں متحد ومتفق ہیں تاہم اس نوعیت کے اجلاس خیروبرکت اورباہمی رابطے کے استحکام کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام اپنے محراب ومنبر سے مذہبی رواداری،پیارومحبت اور قانون کی پاسداری کا درس جاری رکھیں اور خصوصی طور پر جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں کورونا ویکسین لگوانے کی ترغیب دیں تاکہ اس وباء سے محفوظ رہا جاسکے۔انہوں نے علماء کرام کی طرف سے نشاندہی کئے گئے بعض مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مسجد کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔اس موقع پر علماء کرام نے امن وامان کے قیام اور رواداری کے فروغ کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔آخرمیں ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی،امن وسلامتی،اتحاد ویکجہتی اورخیروبرکت کی دعا کی گئی۔

  • ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ریٹائرمنٹ سے متعلق خبروں پر کرس گیل کا بیان سامنے آ گیا

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ ایک غیر معمولی کیریئر تھا ، میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر آئی سی سی کے ساتھ لائیو چیٹ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے اپنی ریٹائرمنٹ کے سے متعلق کہا ہے کہ میں نے ابھی تک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن اگر وہ مجھے میرے ہوم کراوڈ ’ جمیکا‘ میں میچ دیتے ہیں تو پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں ’آپ کا بہت بہت شکریہ دوستو‘۔

    کرس گیل کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ، اگر نہیں تو پھر میں اس کا اعلان طویل عرصہ سے کروں گا ، پھر میں بیک اینڈ پر براوو کو جوائن کروں گا اور ہر کسی کا شکریہ ادا کروں گا ، لیکن میں ابھی یہ کچھ کہہ نہیں سکتا ۔جو کچھ ہوااسے ایک طرف رکھ کر میں آج مزہ کر رہا تھا ، میں سٹینڈ میں موجود اپنے فینز کے ساتھ بات چیت کررہا تھا اور محظوظ ہو رہا تھا ، مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہے ، میں ایک اور ورلڈ کپ کھیلنا چاہتاہوں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کی اجازت ملے گی ۔

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعث اعزاز ہے ، میں اپنے ملک کیلئے بہت جذباتی ہوں ، جب ہم میچ ہارتے ہیں تو مجھے بہت تکلیف پہنچتی ہے ، میرے لیے میرے فینز بہت اہم ہیں کیونکہ میں ایک تفریح کار ہوں جب مجھے ان کو محظوظ کرنے کا موقع نہیں ملتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ، آپ کو ممکنہ طور پر وہ جذبات بظاہر مجھ میں نظر نہیں آئیں گے میں انہیں ظاہر بھی نہیں کرتا ، لیکن اندر سے مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے ، خصوصی طور پر ورلڈ کپ میں ۔

    کرس گیل نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ والے دن سے میرے والد کی طبیعت کافی خراب ہے اس لیے مجھے آج رات ہی جمیکا کیلئے واپس نکلنا ہو گا ، دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں ۔

    کرس گیل نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی بیٹنگ کر رہے ہیں ، ان کی عمر 91 برس ہے ، لیکن تھوڑی بہت جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ، مجھے واپس گھر جانا ہو گا ۔

    ٹی 20 ورلڈکپ کے اہم میچ سے قبل بھارت کے معروف کرکٹ کوچ چل بسے :بھارت پریشان

  • کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    کرس گیل کی ریٹائرمنٹ پر شاہد آفریدی کا خراج تحسین

    ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل اور آل راؤنڈر ڈیوائن براؤ نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل کر کرکٹ کے میدانوں کو الوداع کہہ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جہاں دنیائے کرکٹ کے معروف بلے باز کرس گیل کو دنیا بھر سے ان کے مداح انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں وہیں سابق پاکستانی کپتان پاکستانی سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی باز کرس گیل کو ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔


    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئےشاہد آفریدی نے ویسٹ انڈیز کے سٹار بلے باز کرس گیل کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرڈ ہونے پر خراج تحسین پیش کیا۔

    شاہد آفریدی نے کرس گیل کو شاندار کریئر پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے پوری دنیا میں نئی نسل کے کھلاڑیوں کو بہت متاثر کیا علاوہ ازیں اپنی ٹوئٹ میں شاہد آفریدی نے کرس گیل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔


    واضح رہے کرس گیل اور ڈیوائن براؤ نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آخری میچ میں آسٹریلیا کےخلاف کھیلا۔

  • قومی ہیرو کے ساتھ رویہ کیسا !  تحریر :  احسن ننکانوی

    قوم حیران ہے کہ نعمان نیاز نے قومی ہیرو شعیب اختر کے ساتھ کیا کردیا، اور میں حیران ہوں کہ قومی ہیرو کی بات کرنے والے لوگ حقیقت سے اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ پاکستان میں قومی ہیرو اسے سمجھاتا جاتاہے جو اقتدار کی کرسی پر براجمان ہواورغلاموں کی توہین کرکے اپنی رعونت کی تسکین کرتاہو۔میں پی۔ٹی۔وی نہیں دیکھتا، اس لیے مجھے علم نہیں تھا کہ نعمان نیاز کیا چیز ہے۔ شعیب اختر سے مگر ہر وہ شخص واقف ہے جو کرکٹ کی معمولی سی شد بد رکھتا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں جسے سومیل یا ایک سو اکسٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےگیند بازی کرنے کا منفرد ترین اعزاز حاصل ہے ۔ وہ اس فن کا ”اکلوتا” فنکار ہے اور اس کی شناخت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ نعمان نیاز کو اتنا منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے شاید سات جنم بھی کافی نہ ہوں۔ مجھے لکھنا نہیں چاہیے مگر لکھنا پڑ رہا ہے شعیب اختر کے ساتھ نعمان نیاز کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں”چہ پدی چہ پدی کا شوربہ” والی کہاوت یاد آرہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دونوں کے درمیان ہونے والے افسوس ناک واقعہ کی گونج سنائی دی تو میں نے بھی ”گیم آن ہے” نامی پروگرام کا کلپ دیکھا۔ مجھے شدید حیرانی ہے کہ شعیب اختر میں اتنی قوت برداشت کہاں سے آگئی؟ اس کا رویہ مگر قوت برداشت نہیں، انتہا درجے کی اعلیٰ ظرفی کا مظہر تھا۔ نعمان نیاز کی فرعونیت اور کمینگی کا واحد جواب ایک زوردار تھپڑ ہونا چاہیے تھا جو اس کی اصل اوقات یاد دلا دیتا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آج تک ایک قوم کی صورت متحد نہیں ہوسکے۔ ہم ایک منتشر گروہ ہیں اور قومی غیرت کے تقاضے نبھانے کے عادی بن ہی نہیں سکے۔ جو شخص قومی ہیرو کی توہین کرتا ہے، وہ پوری قوم کی توہین کرتا ہے کیونکہ ہیرو دراصل قوم کی تاریخ، ثقافت اور غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔قوم بہت دور کی بات ہے، ہم اپنے ساتھیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے سے بھی کتراتے ہیں۔ اس پروگرام میں شعیب اختر کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کرکٹرز بھی موجود تھے، انھوں نے کس دل گردے سے نعمان اعجاز کی فرعونیت برداشت کی؟ کس معاوضے نے انھیں شعیب اختر کا ساتھ دینے سے روکا۔ شعیب اختر نے معذرت چاہتے ہوئے پروگرام چھوڑ کر اٹھنے اور استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو نعمان نیاز نے ایک ثانیے کے لیے بھی توجہ دینا گوارا نہیں کیا اور انتہائی بے نیازانہ انداز میں اپنا سکرپٹ جاری رکھا۔ اس کے نزدیک شعیب کا اٹھ جانا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ کلپ دیکھ کر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز سرکاری ٹی۔وی کے بائیکاٹ کا اعلان کرچکے ہوں گے۔ ایسے اقدامات کے لیے مگر قومیت کا عنصر ضروری ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس عنصر کا فقدان ہے۔ ہم اگر قوم ہوتے تو اس سانحے کے فوراً بعد نعمان نیاز کو اپنا بستر گول کرنا پڑتا۔اُسے مگر علم ہے کہ پاکستان کے اصل ہیرو اہل اقتدار ہیں، اور وہ ان کی نمائندگی کررہا ہے۔ اس کی پشت پر یقیناً کوئی طاقتور شخصیت ہوگی، لہٰذا قومی ہیرو کی بات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ سنا ہے کہ قومی حکومت نے انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ کس چیز کی انکوائری؟ کیا پی۔ٹی۔وی انتظامیہ اندھی اور بہری ہے؟ جو کچھ ہوا آن ایئر ہوا، سب نے دیکھا، سب نے سنا، کمیٹی کس چیز کی تحقیق کرے گی۔ کیا نعمان نیاز کی زبان سے الفاظ اس کے ہمزاد نے ادا کیے تھے؟ یا یہ اس کی بدروح کی کارستانی تھی؟ اس نے شعیب اختر کے جس بیانیے پر اتنے مذموم رویے کا اظہار کیا، وہ کیا اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے، اسے سننے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ کچھ بزرجمہر پی۔ٹی۔وی اور شعیب اختر کے اختلافات کی بات کررہے ہیں، کچھ پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو کا رشتہ اس واقعے سے جوڑ رہے ہیں، معتبر صرف وہ ہے جو آن لائن نشر ہوا، اور سب نے دیکھا۔کسی ایک کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے پروگرام کی ریکارڈنگ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک سوال کافی ہے۔ کیا کسی ٹی وی اینکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہمان کو اختلاف رائے یا اندازِ گفتگو کی بنیاد پر پروگرام چھوڑنے کا حکم دے دے؟ انکوائری کے مثبت بتیجے کی توقع رکھنے والے مگر احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ قومی ہیرو صرف عوام کے دل میں رہتے ہیں، اور اہل اقتدار عوام کے دلوں کو کانچ کا کھلونا سمجھتے ہیں، جب تک چاہا ل بہلایا، جب چاہا تب توڑ دیا۔ ارباب اقتدار اگر شعیب اختر کی تذلیل کو انکوائری کی بھینٹ چڑھا کر پی جاتے ہیں تو شعب اختر کی حیثیت متاثر نہیں ہوگی، پی۔ٹی۔وی اور وزارت اطلاعات کا قد کاٹھ ضرور سکڑ جائے گا جسے دیکھنے کے لیے پہلے ہی خوردبین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے..
     

  • فیصلہ پارٹ نمبر 5 تحریر سکندر علی 

    پریشان نہ ہوں ۔ آپ اچھی طرح سے ڈھک گئے ہیں ۔

    نہیں جارج کی بات کاٹتے ہوئے اس کا باپ چیخ کر بولا۔ اس نے پوری قوت سے بل پر سے کمبل پرے پھینکے کہ وہ وہ فورا ہی 

    پرے جاگرے۔ پھر وہ بستر پرتن کر کھڑا ہوگیا۔ صرف ایک ہاتھ سہارے کے لیے معمولی سا چھت کو چھورہا تھا۔

    تم مجھے ڈھک دینا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں میرے چھوٹے بچے لیکن میں آسانی سے ڈھک دیئے جانے والا

    نہیں ہوں۔ اگر یہ میرے جسم کی قوت کی آخری لہر ہے تو بھی نبی نہیں سنبھالنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ

    ہی ہے۔ ہاں، میں تمھارے دوست کو جانتا ہوں۔ وہ میرا بیٹا ہوتا تو پسند بیرا بیٹا ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام برسوں میں تم

    مجھ سے دھوکہ کرتے رہے اور اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں مجھے اس کا دکھ نہیں ہے؟ تم خود کو اپنے دفتر

    میں بند کر لیتے تھے کہ چیف صاحب مصروف ہیں، انہیں پریشان نہ کیا جائے ۔ صرف اس لیے کہ تم روس میں جھوٹ کے

    پلندے کو لکھ کر یہ کولیکن خوش قسمتی سے کوئی کسی باپ کو نہیں سکھا سکتا کہ وہ کیسے اپنے بیٹے کے اندر جائے اور اب جب

    کہ تمھارا خیال ہے کہم اسے مات دے چکے ہو اور اتنا بیوگرا چکے ہو کہ اس پر سوار ہو سکو اور اس پر بیٹھ جاؤ اور وہ ذراسی چوں

    چراں بھی نہیں کرے گا تو اب میرا چالاک بیٹا فیصلہ کرتا ہے کہ شادی کر لینی چاہیے۔

    جارج اپنے باپ کے اس خوف زدہ کرنے والے روپ کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ سینٹ پیٹرز برگ میں اس کے دوست نے، جسے اس کا باپ اچانک اتنے اچھے طریقے سے جانتا تھا، اس کے حواس کو یوں اپنی گرفت میں لیا کہ پہلے کبھی

    ایسانہیں ہوا تھا۔ وہ اسے روس کی وسعت میں کم دکھائی دیا۔ وہ اسے ایک خالی، لئے پٹے گودام کے دروازے پرکھڑادکھائی

    دیا۔ اپنے شوکیسوں کے ملبے ، اپنے مال کی شکستہ باقیات گیس کے ٹوٹے پھوٹے بریکٹوں کے درمیان و سیدھا کھڑا دکھائی

    دیا۔ اسے کیوں اتنی دور جانا پڑ گیا۔

    میری طرف دیکھو اس کا باپ پکارا اور جارج تقریبا ایک دم سے چونکتے ہوئے بستر کی طرف بڑھا تا کہ اس

    معاملے سے نمٹ سکے لیکن پھر آدھے راستے ہی میں ٹھٹھر کا ۔

    کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوگا۔ اس کا باپ گنگناتے ہوئے بولا کیوں کہ اس نے اپنا سکرت

    اوپراٹھایا ہوگا اس طرح اس فاحشہ نے ۔ اور اس کی منگیتر ینقل اتارنے کے لیے اس نے ان میں آتی اور افعال کے

    جی کے زمانے کا اس کی ران کا زخم دکھائی دینے لگا ” کیوں کہ اس نے اپنا سکرٹ اوپر اٹھا لیا ہوا ہوں اور نہیں ، اور تم نے

    اس سے عشق بگھارا، اور اس سے کسی رکاوٹ کے بغیر بے تکلف ہونے کے لیے تم نے اپنی ماں کی یاد کو پامال کیا، اپنے

    دوست کو دھو کر دیا اور اپنے باپ کو یوں بستر میں لا چا که دوترکت کرنے کے قائل تیار ہے میں وہ حرکت کر سکتا ہے کیا میں

    کرسکتا اور وہ بغیر کسی سہارے کے کھڑا ہو گیا اور اپنی جان میں ہوا میں پلانے لگا۔ شدت جذبات سے اس کے چہر سے کہا

    سر کردیا تھا۔

    جارج ایک کونے میں سکڑ کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ سے کن حد تک فاصلے پر۔ بہت عرصہ پہلے اس نے کا ارادہ کیا تھا

    کہ ہر معاملے پر گہری نظر رکھے گا تا کہ اگر کوئی اس پر پیچھے سے یا کسی اور طرت سے بالواسط حملہ کر ے، اس پر بھی تو دان

    کے لیے تیار ہو۔ اب اسے پھر سے اتنے عرصے سے پھولا ہوا فیصلہ یاد آیا اور اسے وہ پھر سے کھول دیا جیسے کوئی سوئی کے

    ناکے میں دھاگہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

    لیکن تم اپنے دوست کو دھوکہ نہیں دے سکے۔ اس کے باپ نے چیخ کرکہا، اپنی شہادت کی انگلی کے اشارے سے

    اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے میں یہاں اس موقع پر اس کا نمائندہ ہوں ۔

    تم مسخرے جارج خودکوچنے سے روک نہیں سکا لیکن فورأی بی احساس ہونے پر کہ اس سے کیسی تھی سرزد ہوئی ، اس

    کی آنکھیں باہر بل پڑیں اور اس نے زبان دانتوں تلے دبلی لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔ تکلیف سے اس کے گھٹنے جواب دے گئے۔

    ہاں بے شک میں یہاں مسخره کین ہی کر رہا ہوں ۔ مسخرہ پن ۔ ایک عمدو لفظ ۔ ایک بوڑھے ریڈ وے کی تشفی کے لیے

    اور بچا ہی کیا ہے۔ مجھے بتا اور جواب دیتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ تم ابھی تک میرے اکلوتے بیٹے ہو ۔ میرے لیے بھائی

    کیا ہے، میرے پچھلے کمرے میں، بے ایمان نوکروں کے ہاتھوں تنگ، اپنی ہڈیوں کے گودے تک بوڑھا؟ اور میرا بیا ساری دنیا میں خوشی سے دندناتا پھرتا تھا، کاروباری معاملات نمٹاتا ہوا جنھیں میں نے ہی اس کے لیے تیار کیا ہوتا ہے۔

    فاتحانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا اور اپنے باپ کے سامنے سے ایک معزز کاروباری انسان کی طرح بھنچے ہوئے ہونٹوں

    والے چہرے کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ کیا تم سوچتے ہو کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، مجھے، جس سے تم پیدا ہوئے ۔

    اب آگے جھکے گا’ جارج نے سوچا کہیں پر خود کو گرانہ لے، اور ٹوٹ پھوٹ جائے ۔ یہ الفاظ اس کے دماغ

    میں سے سرسراتے ہوئے گزرے۔

    اس کا باپ آگے جھکا لیکن گرانہیں ۔ جب چارج قریب نہیں آیا جیسا کہ اسے توقع تھی تو اس نے پھر سے خودکو سیدھا

    وہیں شہر و جہاں ہو۔ مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے تمھیں غلط بھی ہے کہ تم میں اتنی طاقت ہے کہ یہاں تک آسکو

    اور یہ کیتم اپنی مرضی سے خود کو وہاں روکے ہوئے ہو کسی بھول میں مست رہنا۔ مجھ میں اب بھی تم سے زیادہ ہی طاقت

    ہے۔ صرف خود پر بھروسہ کرتا تو شاید گر چکا ہوتا لیکن تمھاری ماں نے اپنی طاقت میں سے تاحصہ حصہ مجھے دیا کہ میں نے

    تمھارے دوست کے ساتھ شان دا تعلق قائم کیا اور تمھارے سارے گا یک بھی میری جیب میں ہیں ۔

    اس کی قمیض میں جیبیں بھی ہیں ۔ جارج نے خود سے کہا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس بات سے وہ اسے دنیا بھر کے

    لیے ایک مشکل آدی کے طور پر پیش کر دے گا۔ یہ خیال بس لیے بھر کے لیے اس کے ذہن میں آیا اس لیے کہ وہ مستقل طور پر

    ہر بات بھولتا جارہا تھا۔

    ذرا اپنی منگیتر کو بانہوں میں لے کر میرے سامنے سے گزر کر تو دیکھو، میں اسے تمھارے پہلو سے اچک لوں گا۔تم مجھ ہی نہیں پا گئے کہ کیسے؟

    ( جاری ہے )

  • قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    قبر کی پہلی رات تحریر : ساجد علی

    حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ اے امام علی

    قبر میں انسان کی پہلی رات کیسے گزرتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ  انسان کی سب سے مشکل رات قبر کی پہلی رات ہوتی ہے ۔

    جب دوسرے انسان اس کے دوست عزیزواقارب رشتے دار اسے دفنا کے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ انسان روتا رہتا ہے ہر ایک دوست کے پاس آتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ لیکن افسوس اس کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں اپنی موت کو یاد کیا کرو ۔

    قبر ہر دن اپنے مُردوں سے اعلان کرتی ہے کہ میں غربت اور تنہائی کا گھر ہوں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں مٹی کا ڈھیر ہوں۔ 

    جب مؤمن کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا کہ کر خوشخبری دیتی ہے کہ میری پشت پر چلنے والوں میں سے تو بڑا محبوب تھا آج میں تیری ہو گئی اور تو میرے پاس آ گیا آج میرا احسان دیکھ ۔

    یہ کہہ کر قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اس کو تازی ہوا آتی ہے 

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ ایک قبر پر بیٹھ گئے اور فرمایا :

    کہ یہ قبر ہر روز با آواز بلند کہتی ہے کہ آدم کی اولاد تو کیوں مجھے بھول گیا، کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ میں تنہائی کا گھر غربت کا گھر وحشت کا گھر اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔

    مگر اللہ جس کے لئے کشادگی کا حکم فرمائے گا اس کے لیے کشادہ ہو جاؤں گی ۔

    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے قبر تو یا تو جنت کا چمن ہے یا تو پھر آگ کا ایک تندور ہے ۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے اے ابن آدم تو ہلاک ہو تجھے کس چیز نے مجھ سے دھوکے میں رکھا۔

     کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں تجھے کس چیز نے مجھ سے بہکا کر نڈر کر دیا اور تو میری پشت پر بہت اکڑ کر چلتا تھا ۔

    اگر وہ مردہ نیک ہوگا تو جواب دینے والے اسے جواب دیں گے ،کہ اے قبر تو دیکھ تو سہی اس کے اعمال کیسے ہیں یہ اچھائی اختیار کرتا تھا اور برائی سے دور رہتا تھا یہ سن کر قبر کہتی ہے بے شک یہ نیک تھا اب میں اس کے لئے سرسبز ہو جاتی ہوں۔

      مُردے کا جسم اس وقت منور ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالی کی طرف بھیج دی جاتی ہے ۔

    حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    کے مردہ قبر میں پیشتا ہے اور ان لوگوں کے گھروں کی آواز بھی سنتا ہے جو اس کے ساتھ جنازے میں گئے ہوں مردے سے اس کی قبر کہتی ہے کہ ابن آدم تیری ہلاکت ہو ۔

    تو نے میری تنگی بدبو اور کیڑے مکوڑوں کا خوف نہیں کیا اس لئے تو نے ان چیزوں سے بچنے کے لیے تیاری نہ کی بد اعمال مردے سے قبر کہتی ہے ،

    کہ تو نے میری تاریکی، میری وحشت، میری تنہائی اور تنگی، میرا غم تجھے یاد نہیں رہا۔

     اس کے بعد قبر اس کو جکڑ لیتی ہے  اور  فرشتے اسکو  ہتھوڑوں سے ایسے مارتے ہیں کے اس کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں   پھر دوزخ کی کھڑکی اس پر کھول دی جاتی ہے اور وہ مردہ حشر تک اس عذاب میں مبتلا رہتا ہے ۔

    مرنے کے بعد ہر مردے کو صبح اور شام  اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے ، فرشتے جنتی کو جنت دکھا کر خوشخبری دیتے ہیں، اور دوزخی کو دوزخ دکھا کر اس کی حسرت اڑاتے ہیں ۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو  مسلمان اس دنیا سے جا چکے ہیں ان کی بخشش فرمائے آمین ۔

  • 6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام!   تحریر: محمد اختر

    6نومبر 1947: مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام! تحریر: محمد اختر

    قارئینِ کرام!6  نومبر 1947 مقبوضہ جموں و کشمیرکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یوں کہا جائے کہ یہ دن دورِ  جدید کی تاریخ میں مسلم نسل کشی کا بھی ایک سیاہ باب ہے تو قطعَ غلط نا ہوگا، اِس دن دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اُس وقت شہید کیا گیا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔اس کے علاوہ ریاست جموں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے 6 نومبر 1947 کا دن ایک علامتی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ان شہداء کی یاد میں آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان قربانیوں نے پوری دنیا کو بتایا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیرکے لوگوں پر ظلم و جبر کے باوجودکشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ قربانیاں اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہیں کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔قارئین، اگر تاریخ کے سیاہ اوراق کو پرکھا اور سمجھا جائے تو یہ بات باآسانی آیاں ہوتی ہے کہ مسلم نسل کشی کی منصوبہ بندیقیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ پہلے ہی دن شروع کر دی گئی تھی۔ چونکہ، 19 جولائی کو مسلم کانفرنس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔ جس کے دردِ عمل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں نے جشن منایااور بے حد خوشی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں، کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ اس ہی جذبہ اور محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندو اور ڈوگرہ حکومت ہل گئی اور انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔ اس ضمن میں ادھم پور، ریاسی، کھٹیا، رامسو، رام نگر، یانی ہور کوٹلی، قصبوں میں مسلمانوں کا خون بہایا۔ انتہا پسند ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں دیہاتیوں کو دھوکے سے گھروں سے باہر نکال کر گولیاں برسانا شروع کر دی۔قارئین کرام! یہاں یہ بات واضح رہے کہ راشٹریہ سویم سیاک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکنوں نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا جو سلسہ تاحال ایک منظم سازش کے تحت جاری ہے۔اس کے علاوہ اسی دوران  ہزاروں معصوم بچیوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا۔ حیران کن پہلو یہ ہے کہ قتل عام اتنا منظم تھا کہ جب نومبر کے ابتدائی دنوں میں جموں میں یہ قتل عام ہوا تو سری نگر میں کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔ دراصل یہ سب کانگریس حکومت کے کہنے پر ہوا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 74 سالوں سے ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کو ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے، آج بھی بھارتی قابض افواج نت نئے طریقہ کاراپنائے ہوے،  آبادیاتی تبدیلی، جبری گمشدگیاں، حراستی قتل و دیگر حربوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک ِ آزادی کو کچلنے کی کوشش پر عمل پیرا ہے۔ قارئین کرام، یاد رکھیں! مسئلہ کشمیر کا حل اسی وقت ممکن ہے جب مسئلہ کے دو اہم فریق پاکستان، بھارت مل کر باوقار حل تلاش کریں۔ اس ضمن میں ریاستِ پاکستان بارہا اقوامِ عالم کو واضح کر چُکا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں  کے مطابق حل طلب چاہتا ہے جبکہ اس کے بر عکس بھارت مسئلہ کشمیر کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔خیال رہے،بھارت کے پہلے وزیراعظم نے عالمی برادری اور خود کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ لیکن، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا موقف بدلتا گیا اور وعدہ اب تک پورا نہہو سکا۔ اقوامِ عالم کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب دو جوہری مسلح ممالک کے درمیان یہ دیرینہ تنازعہ حل ہو جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں عالمی برادری کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارت ہے، جوغیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر قابض ہے اور رائے شماری کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھاگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ وادی پر بھارت کے جارحانہ قبضے اور اس کے جارحانہ رویے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی ہندوتوا فاشست سرکا ر نے بھی معاملات کو اس سمت میں لے جانے کے انتظامات کر لیے ہیں اور آئے روز بھارتی افواج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے جیسا کہ گزشتہ کل مزید پانچ ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اگرچہ، مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر یہ مسئلہ جوہری طاقت کے استعمال کی طرف جاتا ہے تو اِس کے عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچنے کی کوشش کرے۔

  • مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    اپنے کالے کرتوت اور ناکامیاں چھپانے کے لیے مودی سرکار ہمیشہ سے مسلمانوں کو نشانے پر رکھتی آئی ہے۔ اور اس بار بی جے پی کے نشانے پر بالی ووڈ پر راج کرنے والے خانز اور ان کی فیملیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب آریان خان کا کیس شروع ہوا تھا تو میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے یہ کیس صرف مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف جو نفرت ہے اس کی تسکین کے لئے بنایا گیا ہے اوریاد کریں میں نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ شاہ رخ خان کے بعد اب باقی خانز اور ان کے بچوں کی بھی باری آنے والی ہے۔ اور صرف پاکستان میں ہی یہ ڈسکس نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود انڈینز بھی یہی کہہ رہے تھےجس کی ایک مثال بھارتی اداکار اور فلمی ناقد کمال راشد خان یعنی کے آر کے کی ٹوئیٹس بھی ہیں جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا اگلا شکار بالی وڈ کے دو مزید خانز کو بنانے والی ہے۔ ان کی اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کے مزید 2 خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ اور وہ ستارے بی جے پی کا اگلا ہدف ہوسکتے ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز ہیں۔

    کمال راشد خان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ آریان خان کی گرفتاری کے بعد شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کے بچے ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے بچوں کا ماننا ہے کہ اگر آریان خان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور اب یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اس بار ٹرول ہونے والی اور کوئی نہیں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ہیں۔ اور ان کو ایک بالکل نئے طریقے سے سازش کرکے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کیا سازش ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو بتاوں گا ۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ 90 کی دہائی سے اب تک بالی وڈ انڈسٹری پر خانز ہی راج کرتے آئے ہیں۔ کئی دوسرے فنکار بھی آئے اور گئے لیکن کوئی بھی وہ جگہ نہیں بنا سکا جو مقام خانز کو حاصل رہا ہے۔ اور خانز کی وجہ سے بالی وڈ کی فلمیں انڈیا سے نکل کر ساری دنیا میں پروموٹ ہونا شروع ہوئیں۔ جس کی وجہ سے بالی وڈ کا بزنس اتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا۔لیکن انڈیا کو اتنی شہرت اور پیسہ کما کر دینے کے باوجود بھی مودی جیسے جنونی انسان کی نظر میں یہ خانز اپنی اہمیت نہ بنا سکے۔ ماضی میں جیسے سلمان خان پر کیسز بنتے رہے اس کو جیل کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑیں اور ابھی بھی کوئی نہ کوئی کیس اس پر چل ہی رہا ہے اس کی جان نہیں چھوڑی جا رہی کسی نہ کسی بات پر اس کے خلاف کوئی نہ کوئی Contrversyچلتی ہی رہتی ہے۔پھر عامرخان کو ہم نے دیکھا کہ جب ان کی فلمیں چین اور ترکی میں سپر ہٹ جا رہی تھیں تو انڈیا میں ان پر الزامات لگائے جا رہے تھے کہ یہ انڈیا کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اسی وجہ سے دشمن ممالک میں ان کی فلمیں اتنی زیادہ ہٹ ہو رہی ہیں۔ عامر خان کی شہرت ان کو بری لگ رہی تھی لیکن وہ پیسہ جو ان کی وجہ سے انڈیا آ رہا تھا وہ برا نہیں لگ رہا تھا اور یہ نفرت اس حد بڑھ گئی تھی کہ ان کی بیوی نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں کی حفاظت کا خدشہ ہے۔

    اور شاہ رخ خان جو کبھی کسی سکینڈل میں نہیں رہے کبھی کسی Controversyکا حصہ نہیں بنے ان کا کیرئیر ہمیشہ سے ہی بہت صاف ستھرا رہا ہے۔ لیکن جب مودی سرکaر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو انھوں نے ان کے بیٹے پر حملہ کر دیا اور جب وہ اس کے خلاف بھی منشیات کا کوئی ثبوت لانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب این آئی اے کو ٹاسک دے دیا کہ کسی طرح آریان اور شاہ رخ دونوں کو کسی نئے شکنجے میں پھنسایا جائے شاہ رخ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اور یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا کہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ہی بری طرح سے ٹرول کیا جا رہا ہے۔ویسے تو شاہ رخ کی طرح سیف علی خان کا بھی کیرئیر بھی ہمیشہ Controversiesسے دور ہی رہا ہے۔ لیکن کیونکہ اب ان دونوں خانز کے بچے بڑے ہو چکے ہیں تو دراصل بالی وڈ میں ہندوتوا سوچ رکھنے والے لوگوں کو یہ ڈر پڑ گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان خانز کے بعد ان کے بچے بالی وڈ پر اپنا راج قائم کر لیں اور پچھلے کئی سالوں سے انڈیا میں کیونکہ حکومت بھی بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کی ہے تو ان خانز کو دبانے اور ان کو پریشان کرنے کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع اور کون سا ہو سکتا تھا۔اس لئے اب خانز کے بچوں کے خلاف سازشیں ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ چند ہفتے پہلے سارہ علی خان کو اس لئے ٹرول کیا جاتا رہا کہ اس نے امیت شاہ کو سالگرہ کی کبارکباد دی تھی اس نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ٹوئیٹ کی تھی کہ Warmest birthday wishes and regards to the Hon’ble Union Home Minister Amit Shah ji۔۔جسے یہ رنگ دیا گیا کہ شاید اس نے این سی بی سے خود کو بچانے کے لئے اور امیت شاہ کی خوشامد کرنے کے لئے یہ ٹوئیٹ کی ہے۔ کیونکہ سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے ہی پورا بالی وڈ این سی بی کے ریڈار پر آیا ہوا ہے۔ان بالی وڈ سٹارز اور ان کی فیملیز کی کیونکہ آپس میں دوستیاں ہوتی ہیں تو مختلف کیسز میں این سی بی کا جب دل چاہتا ہے کسی نہ کسی سٹار کو اور اس کے دوستوں کو پکڑ کر انویسٹی گیشن میں شامل کر لیتی ہے اور جو ان کو مال کھلا دے تو اس کی جان چھٹ جاتی ہے ورنہ وہ این سی بی کے چکر ہی لگاتا رہتا ہے لیکن مسلمان سٹارز کے لئے تو مشکل یہ ہے کہ ان سے بھتہ بھی بہت زیادہ مانگا جاتا ہے اور بی جے پی کی نظر میں نمبر بنانے کے لئے ان کو لمبے عرصے تک ذلیل بھی کیا جاتا ہے۔

    خیر ابھی سارہ علی خان کی وہ ٹوئیٹ لوگوں کو بھولی بھی نہیں تھی اب اس نے جھانوی کپور جو کہ ماضی کی معروف اداکارہ سری دیوی کی بیٹی ہیں اس کے ساتھ کیدرناتھ مندر جانے کی خبر اور مندر میں بنائی گئیں مختلف تصویریں اپنے انسٹاگرام پر شئیر کیں تو سارہ علی خان پر پھر مختلف طرح کے طنز اور تانے شروع ہو گئے کہ کیا تم مسلمان ہو۔۔۔مسلمان ہوکر ایسا کام کرنے پر شرم آنی چاہیے استغفراللہ۔۔ڈرو خدا کو خوف کرو۔۔۔اور اس کو مندر جانے پر خوب ٹرول کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو سازش ہو رہی ہے اب میں آپ کو وہ سمجھاتا ہوں اور سازش یہ ہے کہ سارہ علی خان پر زیادہ تر ان سوشل میڈیا اکاونٹس سے حملہ کیا جا رہا ہے جو کہ مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے ہیں اور سارہ کے مذہب کو ہی اس میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں آپ کوبتاوں کہ یہ سارے اکاونٹس بی جے پی اور آر ایس ایس کے اپنے سوشل میڈیا ونگز سے چلائے جا رہے ہیں۔اور اس کے پیچھے اصل مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ کیونکہ آریان کے کیس میں سب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ شاہ رخ خان کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ سب برداشت کرنا پڑا ہے خود بالی وڈ کے ہندو لوگ اپنی ٹوئیٹس میں یہ بات کہہ چکی ہیں تو مودی سرکار کو محسوس ہوا کہ ان کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے اکاونٹس سے اس طرح کے گندے ریمارکس دئیے جا رہے ہیں تاکہ پوری دنیا کے سامنے یہ دکھایا جائے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی بلکہ یہاں پر تو مسلمان خود بہت زیادہ مشتعل اور انتہا پسند ہیں اور وہ اپنے ساتھی مسلمانوں پر ہندووں کے ساتھ دوستی کی وجہ سے خود تنقید کرتے ہیں۔اس طرح یہ مسلمانوں کو بھی بدنام کرنے کے اپنے پراپیگنڈے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی خانز کے بچوں کو ڈرانے اور دھمکانے میں بھی تاکہ وہ یہ سب حالات دیکھ کر انڈیا چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور ان کے بالی وڈ میں سٹار بن کر آنے کے چانسز بھی ختم ہو جائیں

  • خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،تحریر: م ۔م ۔مغلؔ

    خط بنام ،وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،
    جناب عمران احمد خان نیازی

    اگر آپ قدیم دور کے بادشاہ ہوتے یا پھر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تو میں جان کی امان چاہ کر کچھ عرض کرتا… مگر مجھے امید ہے ساری زندگی تنقید کی تحریک چلانے والا اپنے ہی عوام کی بے لاگ باتیں ضرور سنے گا… اعلامیے اور بیانیے کے مطابق آپ ہمارے ووٹوں سے ہمارے لیے اقتدار میں آئے تھے… آپ اپنی شاہانہ و خانگی زندگی تج کر قریباً دو دہائیاں عوام الناس کے لیے متحرک رہے… ہر طرح کے مسائد و نامسائد حالات سے گزر کر آپ نے بمشکل تمام یہ منصبِ اعلیٰ پایا ہے… اس پچیس سالہ سفر میں آپ اکیلے نکلے ضرور تھے مگر اکیلے رہے نہیں… تب آپ کا حوالہ چراغ تھا… روشنی کی طلب میں لوگ جوق در جوق آپ کے ساتھ آتے گئے… خالص نظریات کی بنیاد پر لوگ آپ پر اعتبار کرنے لگے کہ سیاسی سماجی معاشی نا انصافی کے جوہڑ میں تیس تیس سال سے اقتدار سے چمٹی ہوئی جونکیں ملک و ملت کا خون چوس رہیں ہیں ان جونکوں سے نجات آپ دلا سکتے ہیں…

    پستی میں گھرے ہوئے عوام نے آپ کو ہر طرح سے طاقت بخشی وہ شوکت خانم ہسپتال کا معاملہ ہو یا سیاسی تحرک کا… آپ نے اسلامی شعائر اور معائیر کو اپنی گفتگو کی زینت بنانا شروع کیا تو سیاست سے غیر متعلق قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ کی گردان کرنے والے بھی آپ کی جانب لپکے آپ کو طاقت فراہم کی… پھر آپ کے بیانیے کو فروغ اور ابلاغی سطح پر رائج کرنے کے لیے ہزاروں کارکنوں اور لاکھوں رضاکاروں نے اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا وقت اور سکون خرچ کرکے محاذ مکمل گرم رکھا…

    جلسے ہوں یا دھرنے یہ سب آپ کے لیے لڑ بھڑ جاتے تھے… اس لیے کہ یہ سب عامۃ الناس گزشتہ ادوار کے رہبر و رہزن کے ستائے ہوئے تھے… عوام اس غلیظ مسلط شدہ سیاسی نظام اور مقتدر پارٹیوں سے نجات چاہتے تھے… آپ نے اسے سونامی کا نام دیا کہ سب خس و خاشاک کی طرح اڑا کر رکھ دیں گے… پھر تبدیلی کا خواب دکھایا کہ تعبیر امید کی سحر کی طرح روشن ہے… بعد ازاں آپ نے سات ملکوں کی معاشی و سماجی معیارات پر عوام کو ترغیب دلائی… بالآخر یہ تحریک ‘ ریاستِ مدینہ ‘ کے نعرے پر منتج ہوئی اور آپ اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے… عامۃ الناس نے دن گننے شروع کر دیے کہ اب ان کے حق میں فیصلے ہوں گے اب ان کی زندگیوں میں بہتری آنا شروع ہوگی… ہوا وہی کہ بیٹی بیاہنے کے بعد بسانی بھی پڑتی ہے… اب آپ کے اقتدار کا چوتھا سال جاری ہے…

    جناب وزیرِ اعظم…
    آپ کی محنتِ شاقہ ہو یا آپ کی طلسماتی شخصیت اس کا احاطہ کرنا محض ایک خط میں ناممکن ہے… کتاب ہی درکار ہوگی اس عرصہ کے خد و خال اور اتار چڑھاؤ بیان کرنے میں… قصہ مختصر یہ کہ اقتدار کے حصول کے بعد آپ انہی عوام سے الگ ایک محدود گنبدِ بے در میں مقید ہوگئے… جہاں آپ کے ساتھ کھڑے رہنے والے عوام کی آہیں سسکیاں آوازیں نہیں پہنچ سکتی ہیں… آپ کو منظر دکھانے والی آنکھیں اور پکار سنانے والے کان بھی عامۃ الناس سے نہیں بلکہ مخصوص اشرافیائی اور اشرافیائی سوچ کے پروردہ ہیں… ریاستِ مدینہ کی بنیاد جن خطوط پر استوار ہے ان میں لنگر خانے نہیں ہیں بلکہ مواخات مساوات عدل اور انصاف ہے… لنگر خانے خانقاہی سلسلہ ہے جو مقتدر حلقے نہیں تھے بلکہ عام لوگوں میں رہتے تھے… مدینہ کی ریاست کا کام ایسا مربوط مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہے کہ جس میں لنگر خانے کی نوبت ہی نہ آئے…

    آپ نے کہا فرات کے کنارے کتا بھی مرجاتا تو حاکمِ وقت جواب دہ ہوتا تھا… سیدنا عمرؓ یعنی وقت کے خلیفہ سے کُرتے کی بابت سوال ہوتا تھا… آپ یہ سب باتیں عوام کے دماغوں میں راسخ کرنے کے بعد تخت پر تشریف فرما ہوئے تھے… مگر معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ آپ کے گرد افسر و نوکر شاہی ہو یا بہی خواہی کا مسلط طبقہ انہوں نے عام آدمی سے سوال کا حق بھی چھین لیا ہے… آپ عالمی مُحلوں کے جھگڑے نمٹانے میں اپنی شناخت تو بناتے چلے گئے مگر اپنے ہی ملک کے باسیوں کے مسائل کی طرف سے آپ کی توجہ معدوم ہوتی چلی گئی… اقتدار کے حصول کے بعد اپنی حکومت کی ہر کوتاہی کمزوری اور خرابی کو گزشتہ حکومتوں کے سر منڈھ کر چار سال آپ کی حکومت کو بھی ہونے کو ہیں… کبھی اٹھارہویں ترمیم کی یاجوج ماجوج کی فصیل کے پیچھے چھپنا تو کبھی دو تہائی اکثریت نہ ہونے کا رونا رونا… کبھی بیوروکریسی کی اکڑیں تو کبھی میڈیا کے جھوٹ کا واویلا… کبھی کچھ تو کبھی کچھ…

    کورونا کی تو خیر دوسری سالگرہ ہے اقتدار سوا سال مزید پہلے کا ہے… حالانکہ سارے دعوے دلیلیں پوری تحریک اور الیکشن کمپین میں مشروط نہیں تھے کہ اٹھارہویں ترمیم ہوئی تو یہ وعدے کارآمد نہ ہوں گے… دو تہائی اکثریت نہ ہوئی تو قانون سازی نہ کروں گا… فلاں قانون اور فلاں عالمی تناظر اور فلاں معائدے… عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد آپ کے تقرر کردہ تمام ترجمان آپ کے تئیس سالہ بیانیے کو غلط ثابت کرنے پر مصر ہیں… ہر بار نئے بے تکے دلائل اور اس اگلی بار مزید نئے… یوں اعتبار کے دھاگے کچے ہوتے جارہے ہیں… سارا ملبہ مافیا مافیا کہہ کر پچھلوں پر ڈال دینا آسان راستہ ہے… مہنگائی عالمی مسئلہ ہے مانتے ہیں ہم… مگر بد انتظامی نا اہلی تو داخلی معاملہ ہے اور اس میں آپ اور آپ کے متعین کردہ وزیر مشیر مکمل ناکام ہیں… عالمی تغیرات و تبدل سے مہنگائی اگر سات فیصد بڑھی ہے تو بد انتظامی بلکہ بے انتظامی کی وجہ سے ایک سو سات فیصد بڑھی ہے… آپ کے پونے دو کروڑ ووٹرز اب روبوٹ بننے سے تو رہے کہ مزید چارج کیا اور کام چل گیا۔۔۔ سوال کرنا سکھایا ہے تو جواب دینا آپ اور آپ کی حکومت پر فرض ہے… سوال کا گلا گھونٹنے سے وہی فکری نسلیں پروان چڑھیں گی جن کے خلاف آپ نے دو دہائیاں سدھار کی کوشش میں گزار دیں ہیں… آپ کا کہنا تھا کہ اوپر اگر کپتان ٹھیک ہو تو پوری ٹیم کو ٹھیک کر دیتا ہے… آپ کی تو ٹیم ہی ٹھیک نہیں ہوئی ملکی انتظامی انصرامی حالات تو کجا…

    جناب وزیرِ اعظم پاکستان
    آپ کے بقول دو لاکھ میں ماہانہ میں آپ کا گزارا نہیں ہوتا تو سوچیئے کہ ملک کی تین چوتھائی سے زائد آبادی کی تخواہ بجٹ میں کم از کم بیس ہزار رکھی گئی ہے (ہر چند وہ بھی ملتی نہیں ہے) جو آپ کے دو لاکھ سے بیس گنا کم ہے… ریاستِ مدینہ میں خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ کی تنخواہ طے ہونے کا واقعہ آپ نے سن ہی رکھا ہوگا… اس میں تو کوئی آئین اور قانون آڑے نہیں آتا… اپنی تنخواہ عام مزدور کی اجرت کے برابر کر لیجیے شاید آپ کو حقائق کا علم ہو کہ ملک کی اکثریت کس حال میں ہے… آقائے دوجہاں کی مثالیں دیتے ہوئے خندق کا ذکر بھی آپ نے ہی کیا تھا… عام اصحاب کے پیٹ پر اگر ایک پتھر تھا تو سرکار ﷺ کے شکمِ اطہر پر دو پتھر بندھے تھے… ریاستِ مدینہ کے اصول کے تحت آپ اور آپ کی کابینہ بھی اس سنتِ نبوی ﷺ سے ابتدا کیجیے… یاد رکھیں دلائل (فیکٹس اینڈ فیگرز) پیٹ نہیں بھرتے ہیں… کیا آپ نہیں جانتے کہ عسرت کفر کے قریب لے جاتی ہے… کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں… خان صاحب وجہ کچھ بھی ہو… لوٹا ہوا پیسہ آپ واپس نہیں لاسکے… انتظامی امور میں آپ ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں کہ وفاق صرف اسلام آباد ہے اور باقی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی معاملات…

    ہم مہنگائی بد انتظامی پر بات کریں تو آپ کے گرد جال بننے والا اشرافیہ حصار اور اس جال پر بیٹھے بد دیانت فکری منافق شکاری مکڑے فرماتے ہیں کہ ایک کما کر گھر پورا نہیں ہوتا تو چار کماؤ… ٹماٹر نہ کھاؤ پیٹرول نہ خرچ کرو… بجلی نہ خرچ کرو… انہی انقلاباتی تحاریک کا ذکر پر جو آپ کیا کرتے تھے جب بل جلا دو اور ٹیکس نہ دو کے نعرے لگائے گئے تھے… وہ سب کچھ آپ اور آپ کے مصاحبین کیسے بھول جاتے ہیں… خیر قصہ کوتاہ مدعا بتصریفِ وقت… تحریکِ انصاف سے ہمارا پہلا انصاف کا مطالبہ ہے کہ ہم آپ کے ووٹرز ہیں اس سے بڑھ کر ہم پاکستان کے عوام ہیں ہم سے بلا تفریق جبراً نچوڑے ہوئے ٹیکس پر وزیروں مشیروں مصاحبوں کی مظفر موج کی عیاشیاں ختم کی جائیں ان کو ملنے والی تمام مراعات واپس لی جائیں ان کے فون پیٹرول گاڑی یوٹیلٹی بلز سکیورٹی سب واپس لی جائے… ان کو اس حال میں لایا جائے جس میں یہ الیکشن کی مہم میں تھے… ہم سے نچوڑے ہوئے ٹیکس پر ان کے کام کیا ہیں ماسوائے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے پریس کانفرنسیں کرنے اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے نتھنوں میں پھونکیں مارنے کے…

    وزیرِ اعظم صاحب ہمارا غم و غصہ ان سطور میں سما نہیں سکتا… سلسلے بہت دراز ہیں لاکھوں دلیلیں اور جواز آپ کی حکومت کی نااہلی کے خلاف ہیں ہمارے گلے دبانے اور ہمیں آنکھیں دکھانے سے ہماری آوازیں کم نہیں ہوں گی… یہ خط بھی آپ کے دعووں کا امتحان کے کہ وقت کے خلیفہ سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے اور سائل کی طرف سے جواب طلبی کی راہ میں کوئی مصاحب یا وظیفہ خوار نہیں آئے گا… عمران خان صاحب جھوٹ اور چاپلوسی کے شہتیر دیوار اور چھت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں حکومت کے حق میں صرف وہی بول رہے جن کے کالے دھن کے سامنے یہ مہنگائی بد انتظامی بد سلوکی رائی کے برابر ہے یا پھر امید کے کشکول سنبھالے پھرتے ہیں… مرسڈیز میں سفر کرنے والا جب چنگچی میں سفر کرنے والے پر فیصلے دے گا اور اس کا تمسخر اڑائے گا تو معاشرہ اشتعال کی حدوں سے نکل کر انارکی کی طرف چلا جاتا ہے… موجودہ حکومت اسی اصول کے تحت گزشتہ حکومت کے بعد اقتدار میں آئی تھی…

    وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی

    ہمارے پاس لکھنے کو اتنے دلائل حکومت کی کمزوری نااہلی اور اشرفیائی عیاشی کی بنیاد پر ہیں کہ دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں ہماری اس تھوڑی سی ہی عرضی سے اندازہ کر لیجیے… عام عوام (اشرافیہ بالا دست طبقہ ہرگز ہرگز نہیں) کے مسائل کو سمجھیں… اونٹ کے منھ میں زیرہ دینے سے کچھ حاصل نہیں نہ ہی تھپکیاں دینے سے گرد بیٹھتی ہے… قربانیاں اب آپ دیں… حکمران قربانیاں دیں … عوام لاغر اور مردار ہونے کے قریب ہے اسے ذبح نہ کریں… حکومتی اللے تللے ختم کیے جائیں اور عام (ستاسی فیصد) غریب کی سطح پر آئیں… یہ کیا کہ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں… وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے جناب… تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے انصاف کی اینٹ رکھیں تاکہ عوام کو معلوم ہو اور یقین ہو کہ مہنگائی عالمی وجہ سے ہی ہے… ہم نے آپ کی حکومت کی طرح راستے میں پروٹوکول اور سکیورٹی کے نام پر دیوار نہیں حائل رکھی ہم معاشرے میں مثبت رویوں کے قائل ہیں سو مکالمہ کی سطح پر آپ کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہم سے بات کر سکتا ہے…

    والسلام
    از: ملکِ خدا داد پاکستان کا ایک باسی
    مملکتِ پاکستان کے عوام کا اور حکومت کا خیر خواہ

    م ۔م ۔مغلؔ
    Twitter @Mughazzal